Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-060

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 132
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی آگے سبق دیکھیے۔ أخى ثقة لا ينأى عن ذريبة إذا قيل مهلا قال حاجزه قدي إذا ابتدر القوم السلاح وجدتني منيعا إذا بلت بقائمه يدي وبرك هجود قد أثارت مخافتي بواديها أمشي بعضب مجرد طرفۃ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور گزشتہ اشعار کے آخر میں آیا تھا فعليت لا ينفك كشح بطانة کہ میں نے قسم اٹھا لی ‏ہے کہ میرا پہلو جو ہے وہ ایک دو دھاری تیز تلوار کا استر بنا رہے گا ہمیشہ یعنی ہمیشہ میرے پہلو کے ساتھ تلوار لگی ‏رہے گی، میں نے یہ قسم اٹھا لی ہے، ہر وقت میرے پاس تلوار رہے گی۔ وہ ایسی تلوار ہوگی حسام جو تیز ہوگی، کاٹنے والی ہوگی، جب میں اس سے بدلہ لینے کے لیے اٹھوں گا تو اس کا پہلا ‏وار ہی دوسرے وار سے کفایت کر جائے گا، یعنی دوسرے وار کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ لیس بمعصد اور وہ تلوار ‏درخت کاٹنے والی تلوار کی طرح نہیں ہوگی۔ آگے کہتا ہے أخى ثقة لا ينأى عن ذريبة إذا قيل مهلا قال حاجزه قدي أخى ثقة ثقہ کہتے ہیں قابل اعتماد بھئی جس پر اعتماد ہو، جس پر بھروسہ ہو، اس کو ثقہ کہتے ہیں۔ اور یہ مفرد، تثنیہ، ‏جمع سب کے لیے بولا جاتا ہے۔ ھو ثقہ، ھما ثقہ اور ھم ثقہ مفرد، تثنیہ، جمع سب کے لیے یہی لفظ بولا جاتا ہے قابل ‏اعتماد۔ اور یہاں آیا اخى ثقہ، یاد رکھو یہ اخ کا لفظ بھی بسا اوقات نسبت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص بہت زیادہ ‏سفر کرنے والا ہو تو عربی میں کہتے ہیں ھو أخو الأسفارِ۔ ھو أخو الأسفارِ کیا معنی؟ وہ بہت زیادہ سفر کرنے والا ہے، دیکھا، سفروں کی طرف نسبت کی جا رہی ہے تو یہ اخ کا ‏لفظ نسبت کے لیے آتا ہے بسا اوقات۔ تو یہاں پر بھی أخى ثقہ قابل اعتماد وہ چیز جو اعتماد والی ہو، جس پر اعتماد ہو۔ اور مراد تلوار ہے، کیا مراد ہے؟ تلوار کہ وہ تلوار ذکر کی اس نے ذکر کیا کہ تلوار ہمیشہ میرے پہلو سے لگی رہے گی ‏اور وہ تیز تلوار ہوگی، دو دھاری ہوگی، وہ درخت کاٹنے والی تلوار کی طرح نہیں ہوگی، أخى ثقہ قابل اعتماد ہوگی۔ لا ينأى انساناً ينأى کا معنی ہے پلٹنا، مڑنا، واپس ہونا۔ عن ذريبة ذريبةً بمعنی مضروبہ کے ہے وہ چیز جس پر ضرب ‏لگائی جائے تلوار سے۔ وہ چیز جس پر تلوار سے ضرب لگائی جائے اسے ذريبةً کہتے ہیں۔ إذا قيل مهلا مهلا یہ مفعول مطلق ہے اور یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے جیسے عربی میں کسی کا شکریہ ادا کرنا ہو تو آپ ‏کہتے ہیں شکراً شکراً یہ شکراً کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے اصل جملہ کیا ہے شکرتو شکراً تو شکراً کبھی بھی ساتھ نہیں ‏بولتے بس شکراً عرب بات بولتے ہی اس طرح ہیں بھئی بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ مہلا یہ مفعول مطلق ہے بھئی أمهل مہلاً۔ اور یہ کسی شخص کو کسی کام سے روکنا ہو یا کہنا ہو جلدی نہ کرو تو تب استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں مہلاً يا ‏زيدُ مہلاً يا زيدُ یعنی اے زید ٹھہرو، اطمینان سے کام کرو یعنی جلدی نہ کرو۔ مہلاً يا زيدُ اے زید جلدی نہ کرو، اے زید ‏ٹھہرو یا مہلاً يا زيدُ اے زید سکون سے، اطمینان سے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ قال حاجزه قدي حجز يَحجُزُ کا معنی ہے منع کرنا، روکنا تو حاجز کا معنی ہوا روکنے والا، منع کرنے والا اور حاجزه ‏یہاں ضمیر راجع ہے سیف کو تلوار کو جس کا پیچھے ذکر چل رہا ہے۔ تو حاجز کا ایک معنی کیا؟ حاجزه اس تلوار کو روکنے والا، اس تلوار کو منع کرنے والا اور ایک حاجز کا معنی ہے ‏تلوار کی دھار بھئی حاجزُ السَّيفِ تلوار کی دھار۔ تو دونوں معنی یہاں ہم کریں گے۔ بھئی قدی قَدْ جو ہے یہ اسم فعل ہے ‏بھئی۔ اسم فعل ہے اور یہ یا جو ہے ساتھ متکلم کی جڑی ہوئی ہے۔ تو یہ قَدْ اسم فعل ہے بمعنی يكفى کے يكفى کے۔ عربی میں کہتے ہیں قَدنى درهمن اى حسبى درهمن یا يكفينى درهمن قَدنى ‏توجہ ہے؟ قَدنى درهمن اى يكفينى درهمن میرے لیے ایک درہم کافی ہے یا حسبى درهمن میرے لیے ایک درہم کافی ہے تو ‏یہ يكفى کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور حسبو کے معنی میں بھی اتا ہے یعنی دونوں طرح۔ दोनों‏ کا معنی کافی ہونا، پھر فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ جب یہ يكفى کے معنی میں ہوگا تو يكفى ایک فاعل چاہتا ہے، ‏ایک مفعول چاہتا ہے۔ کافی ہو، کیا کافی ہو اور کس چیز کے لیے کافی ہو؟ تو مثلاً میں کہتا ہوں قَدنى درهمن کافی ہے، کیا ‏چیز کافی ہے؟ درہم کافی ہے تو درہم ہوا فاعل اور کس کے لیے کافی ہے؟ میرے لیے کافی تو یہ یا ضمیر جو ہے یہ ‏مفعول کی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ قَدنى درهمن یا یوں کہیں قَدْ زيداً درهمن اب اعراب سمجھ میں آ رہے ہیں؟ قَدْ زيداً درهمن اى يكفى ‏زيداً درهمن زید کے لیے درہم کافی ہے تو یہ جب يكفى کے معنی میں ہوگا تو یہ ایک مفعول چاہے گا آگے جو آئے گا وہ ‏مفعول ہوگا منسوب ہوگا اور آگے فاعل بھی آئے گا۔ اور جب یہ حسبو کے معنی میں ہو تو حسبو آگے مضاف إليه چاہتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں حسبو كا ھذا تو دیکھو کاف ‏مضاف إليه ہے آپ کے لیے یہ کافی ہے۔ پھر اس صورت میں یوں پڑھیں گے قَدْ زيدينِ درهمن اى حسبو زيدينِ درهمن ‏فرق سمجھ میں آیا؟ اس کے بعد جو اسم آئے گا وہ منسوب بھی ہو سکتا ہے اور مجرور بھی۔ اگر منسوب ہے معلوم ہوا یہ يكفى فعل کے معنی میں ہے اور آگے مفعول ہے اور اس سے آگے فاعل اور اگر یہ حسبو کے ‏معنی میں ہے تو اس سے آگے جو اسم آئے گا وہ مجرور ہوگا اى حسبو زيدينِ درهمن اور وہ یہ مبتدا بن جائے گا اور ‏درهمن اس کی خبر بن جائے گا۔ تو قَدِى کافی ہے میرے لیے یہ یا متکلم کی ہے۔ أخى ثقة لا ينأى عن ذريبة إذا قيل مهلا قال حاجزه قدي وہ تلوار جو ہے أخى ‏ثقة اعتماد والی ہوگی۔ میں نے قسم اٹھا لی ہے کہ ہمیشہ ایک دو دھاری تلوار جو ہے میرے پہلو پر لگی رہے گی، میں ہمیشہ اپنے ساتھ تلوار ‏رکھوں گا اور وہ تلوار کیسی ہوگی؟ پیچھے آیا تھا حسام تیز ہوگی، کاٹنے والی ہوگی، لیس بمعصد درخت کاٹنے والی تلوار ‏کی طرح نہیں ہوگی، أخى ثقہ اور تلوار کیسی ہوگی؟ قابل اعتماد ہوگی۔ لا ينأى عن ذريبة جو پلٹے گی نہیں جس چیز پر وار کیا جائے وہ چیز جس پر تلوار سے ضرب لگائی جائے اس سے ‏پلٹے گی نہیں۔ بھئی دیکھیے بسا اوقات کوئی چیز سخت ہو، آپ اس سے تل- آپ تلوار سے اس پر وار کریں گے، مثلاً ‏کوئی لوہے وغیرہ کی چیز ہے یا کوئی سخت چیز ہے تو تلوار اس کو کاٹے گی نہیں بسا اوقات تلوار مڑ جاتی ہے، اُچٹ ‏جاتی ہے، اسے پھسل جاتی ہے بھئی، ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی ایک طرف وار اس پر پھسل گیا، صحیح طرح وہ چیز کٹی نہیں، یہ معنی ہے پھسل گئی، ‏مڑ گئی ایک طرف کچل گئی۔ شاعر کہتا ہے أخى ثقة وہ جو میرے پہلو میں تلوار لگی ہوگی وہ قابل اعتماد ہوگی لا ينأى عن ذريبة وہ جس چیز پر تلوار ‏سے ضرب لگائی جائے اس سے پلٹے گی نہیں، یعنی وہ چیز نہیں بچے گی، اس کو کاٹ دے گی، إذا قيل مهلا اور جب کہا ‏جائے گا کہ بھئی ٹھہرو۔ مثلاً میں کسی کو تلوار سے مارنے لگا، دشمن سے لڑائی ہو رہی ہے، میں تلوار سے مارنے لگا اسے، کسی نے کہا کی- ‏جب اس کہا جائے گا کہ ٹھہر جاؤ، یعنی رک جاؤ، نہ مارو اسے تو قال حاجزه قدی تو اس کو روکنے والا کہے گا قَدِی کہ ‏یہ میرے لیے کافی ہے۔ توجہ ہے یہ مشکل ترجمہ ہے یہاں قال حاجزه تو اس کو روکنے والا کہے گا قَدِی کہ یہ میرے لیے کافی ہے۔ کیا معنی؟ ‏روکنے والا کون؟ روکنے والا بھئی خود طرفہ، طرفہ ظاہر سی بات ہے جو تلوار چلا رہا ہے، وہی روکے گا نا تلوار کو۔ تو قال حاجزه تلوار کو روکنے والا کہے گا یعنی میں کہوں گا قَدِی کہ یہ میرے لیے کافی ہے یعنی ایک بار تو میں کر ‏چکا ہوں، تم نے مجھے کہا ٹھہر و، مجھے روٹنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک بار میں کر چکا ہوں اور یہ اس سے پہلے ‏بتایا ایسی تلوار ہو جو پہلے ہی وار میں کیا کر دے؟ دشمن کا کام تمام کر دے، دوسرے وار کی ضرورت ہی نہیں تو جب ‏میں پہلا وار کر چکا ہوں وہی کافی ہے، دشمن کا کام تمام ہو چکا ہے، دشمن ختم ہو چکا ہے، اب میں ٹھہر بھی جاؤں تو ‏کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ معنی ہے إذا قيل مهلا وہ ایسی تلوار ہو کہ جب کہا جائے گا کہ ٹھہر جاؤ، صبر کرو تو قال حاجزه تو اس کو روکنے ‏والا کہے گا قَدِی کہ اس کا ایک بار ہی میرے لیے کافی ہو گیا، دوسرے وار کی مجھے ضرورت ہی نہیں، آپ مجھے ‏روک رہے ہیں دوسری وار سے؟ بھئی دوسرے کی مجھے ضرورت ہی نہیں ہے، پہلے وار ہی میں دشمن کا کام تمام ہو ‏چکا۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ یا حاجز کا دوسرا ترجمہ کر لیں تلوار کی دھار حاجزُ السَّيف حاجزُہ ہے نا، ہا ضمیر سیف کو راجع تو حاجزُ السَّيف کسے ‏کہتے ہیں؟ تلوار کی دھار تو إذا قيل مهلا جب کہا جائے کہ ٹھہر جاؤ، صبر کر لو قال حاجزه تو تلوار کی دھار کہے گی ‏قَدِی کہ یہ میرے لیے کافی ہے۔ تلوار کی دھار کہے گی کہ ایک ہی بار، پہلی دفعہ ہی جو مجھے استعمال کر لیا گیا وہ میرے لیے کافی ہے، دشمن کا کام ‏میں نے تمام کر دیا ہے، اب دوبارہ مجھے چلانے کی ضرورت نہیں۔ یہ معنی ہے أخى ثقة لا ينأى عن ذريبة إذا قيل مهلا قال حاجزه قدى کہ وہ ایسی تلوار ہوگی جو قابل اعتماد ہوگی جو پلٹے ‏گی نہیں اس چیز سے جس کو اس پر جس کی اس پر ضرب لگائی جائے، إذا قيل مهلا اور جب کہا جائے کہ ٹھہر جاؤ قال ‏حاجزه قدى تو اس کو روکنے والا کہے گا کہ یہ تو میرے لیے کافی ہے یعنی اس کا پہلا وار ہی میرے لیے کافی ہے یا ‏قال حاجزه قدی یا اس تلوار کی دھار کہے گی قدی کہ یہی پہلا وار ہی کافی ہے یعنی اسی میں میں دشمن کا کام تمام کر ‏چکی ہوں، دوسرے وار کی ضرورت ہی نہیں۔ إذا ابتدر القوم السلاح وجدتنى منيعاً إذا بلت بقائمه يدى ابتدر يبْتَدِرُ کے معنی ہیں کسی چیز کی طرف دوڑنا، کسی چیز کی طرف جلدی کرنا۔ السلاح، سلاح اسلحہ کو کہتے ہیں ‏بھئی اسلحہ اور یہ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور مونث بھی بھئی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے یہ لفظ۔ وجدتني منيعاً، منيع کا معنی ہے محفوظ بھئی محفوظ جس پر کوئی غالب نہ آ سکے بھئی یعنی طاقتور ہو بھئی، محفوظ ہو، ‏مضبوط ہو۔ بقافمه یہ قائه کی ہا ضمیر بھی سیف یعنی تلوار کو راجع، قائمُ السَّيفِ قائمُ السَّيف کہتے ہیں تلوار کا جو دستہ ہے، تلوار کا ‏جو قبضہ ہے جہاں سے تلوار کو پکڑتے ہیں اس کو کہتے ہیں قائمُ السَّيفِ۔ إذا ابتدر القوم السلاح وجدتني منيعا إذا بلت بقائمه يدى إذا ابتدر القوم السلاح جس وقت قوم یعنی وہ لوگ میرے قوم والے دوڑیں گے اسلحے کی طرف وجدتني منيعاً تو مجھے ‏محفوظ پائے گا میں تجھے کس حال میں ملوں گا کہ میں محفوظ ہوں گا کب؟ إذا بلت بقائمه، ہاں بَلَّ۔ بَلَّ یا بلو کے معنی ہیں کسی چیز کو پا لینا، پا لینا إذا بلت بقائمه، إذا بلت جب پا لے جب پہنچ جائے يدی میرا ہاتھ بقائمه ‏کہاں پر؟ تلوار کے دستے پر۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ إذا بلت جب پا لے جب پہنچ جائے يدی یہ فاعل ہے، پہنچ جائے ‏میرا ہاتھ بقائمه اس تلوار کے دستے پر۔ تو وجدتني منيعاً تو مجھے محفوظ پائے گا إذا بلت بقائمه يدی جب میرا ہاتھ اس تلوار کے دستے تک پہنچ جائے۔ شاعر کہتا ‏ہے جب اگر کوئی دشمن حملہ کر دے اور میری قوم بدحواس ہو کر سارے لوگ اسلحہ وغیرہ کی طرف دوڑیں، خوفزدہ ہو ‏جائیں تو اس وقت بھی مجھے پائے گا کہ میں محفوظ ہوں اور کوئی مجھے مغلوب نہیں کر سکتا جب میرا ہاتھ اس تلوار ‏کے دستے تک پہنچ جائے۔ ایک دفعہ میرا ہاتھ اس تلوار کے دستے تک پہنچ جائے پھر مجھے کسی کا خوف نہیں ہوگا، کسی کی فکر نہیں ہوگی اور ‏میں دشمن کا مقابلہ کروں گا اور ان کو کبھی بھی غالب نہیں آنے دوں گا۔ إذا ابتدر القوم السلاح وجدتني منيعا إذا بلت بقائمه يدي جس وقت میری قوم اسلحے کی طرف دوڑے گی کسی دشمن کی وجہ سے تو تو مجھے محفوظ پائے گا جس وقت میرا ہاتھ ‏جو ہے اس تلوار کے دستے تک پہنچ جائے یعنی مجھے نہیں کسی کی فکر ہوگی، بھئی تلوار تو ہر وقت میرے ساتھ ہوتی ‏ہے تو تلوار کے دستے تک ہاتھ پہنچانے میں کوئی وقت لگے گا؟ نہیں، باقی لوگ تو دشمن سے دہشت زدہ ہو گئے، ‏خوفزدہ ہو گئے، وہ اسلحہ اسلحہ لانے کے لیے گھروں کی طرف دوڑ رہے ہیں اور پریشانی اور تکلیف اور مصیبت کا ‏عالم ہے، لیکن میرے تلوار تو میرے پاس ہوگی اور فورا ہی میرا ہاتھ دستے تک پہنچے گا اور جیسے ہی میرا ہاتھ دستے ‏تک پہنچے گا اس کے بعد یعنی لمحوں کے اندر یہ ہوگا اور پھر تو مجھے محفوظ پائے گا، کوئی دشمن مجھ پر غالب نہیں ‏آ سکے گا اور میری قوم تو خوفزدہ ہوگی لیکن مجھے کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا کیونکہ میرا اسلحہ میرے پاس ہے۔ ‏معنی سمجھ میں آیا؟ یہ معنی ہے إذا ابتدر القوم السلاح وجدتنى منيعاً إذا بلت بقائمه يدى جس وقت میری قوم اسلحے کی طرف دوڑے گی تو تو ‏مجھے محفوظ پائے گا جس وقت میرا ہاتھ اس تلوار کے دستے تک پہنچ جائے۔ وبرك هجود قد أثارت مخافتي بواديها أمشي بعضب مجرد وبركين یہ واؤ بمعنی رب کے ہے اى رب برکین۔ اسی لیے جر دے رہا ہے بھئی۔ وبركين، برك کہتے ہیں اونٹوں کا گلا بھئی، اونٹوں کا ریوڑ، اونٹوں کا ریوڑ۔ جبکہ اسی طرح یاد رکھیے بارك يبركو کے معنی ہیں اونٹ کا زمین پر بیٹھنا، اونٹ زمین پر بیٹھتا ہے اپنا سینہ لگاتا ہے ‏زمین پر بھئی اس کا سینہ زمین پر لگا ہوتا ہے تو یہ جو اس کے مخصوص بیٹھنے کی حالت ہے اس کو اس کے لیے ‏عربی میں کہتے ہیں بارك يبركو۔ اور برك کا معنی کیا میں نے بتلایا؟ اونٹوں کا گلا، اونٹوں کا ریوڑ۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ برك وہ سارے ‏اونٹ جو زمین پر بیٹھے ہوئے ہوں، ان سب کو کیا کہتے ہیں؟ برق۔ جبکہ بعضوں نے کہا مطلقاً اونٹوں کا ریوڑ ہو اسے ‏برق کہتے ہیں، چاہے زمین پر بیٹھے ہوں یا نہ بیٹھے ہوں۔ هُجُودٍ، هَجَدَ يَهْجُدُ کا معنی ہے سونا، سونا۔ اسی سے تہجد ہے، ‏جو رات کو جاگتے ہیں بھئی، سوتے نہیں ہیں بھئی۔ تہجد الناص، وہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ وہ جاگ رہے ہیں رات کو، ‏تہجد پڑھ رہے ہیں۔ هُجُودٍ، تو هَجَدَ يَهْجُدُ کا معنی ہے سونا، نیند کرنا۔ اور اسی سے اسمِ فاعل آئے گا حَاجِدٌ، حَاجِدٌ۔ اور حَاجِدٌ ‏کی جمع ہے هُجُودٌ۔ تو هُجُودٌ کا معنی سوئے ہوئے، سوئے ہوئے۔ قَدْ أَثَارَتْ، أَثَارَ يُثِيرُ کا معنی بھڑکانا، بھڑکانا، مشتعل ‏کرنا۔ کسی چیز کو بھڑکا دینا، مشتعل کر دینا۔ مَخَافَتِي، مَخَافَةٌ یہ مصدر ہے، معنی ہے ڈرنا۔ اور یہ یا متکلم کی ہے مَخَافَتِي، ‏مجھ سے ڈرنا، مجھ سے ڈرنا، یہ مفعول کی طرف اضافت ہے۔ بَوَادِيَهَا، بَوَادِي، بَوَادِي جمع ہے بَادِيَةٌ کی، علامہ زوزنی ‏فرماتے ہیں کہ بَوَادِي کا معنی ہے آگے والے اونٹ ہیں، وہ ہیں بَوَادِي بھئی۔ گلے کے جو شروع کے آگے والے اونٹ ہیں، ‏ان کو کیا کہتے ہیں؟ بَوَادِي کہتے ہیں۔ جبکہ دیگر علماء نے یہ بَوَادِي کے لفظ کے بجائے نَوَادِي لکھا ہے بھئی، نَوَادِيَهَا۔ ‏اور اس کا بھی یہی معنی بیان کیا ہے جو بَوَادِيَهَا کا ہے۔ تو نَوَادِي اور بَوَادِي کا معنی ہے وہ اونٹ جو گلے کے ریوڑ کے ‏آگے ہوں، اگلے حصے میں ہوں۔ جبکہ بعضوں نے لکھا، بعضوں نے لکھا کہ نَوَادِي وہ اونٹ جو دور ہیں، جو کیا ہیں؟ ایک قریب ہیں، ایک ذرا دور، باقی ‏اونٹوں سے جو ذرا کچھ الگ ہوں، علیحدہ ہوں، ان کو نَوَادِي کہتے ہیں۔ تو بعضوں نے کہا جو آگے والے اونٹ ہیں ان کو ‏کہتے ہیں، اور بعضوں نے کیا کہا؟ جو گلے سے الگ ہیں، دور ہیں ذرا ان کو نَوَادِي کہتے ہیں بھئی۔ أَمْشِي، مَشَى يَمْشِي کا ‏معنی چلنا۔ بِعَضْبٍ، عَضْبٌ کا لفظ پہلے بھی گزرا تھا چند اشعار قبل اور اس کا معنی ہے تیز تلوار بھئی، تیز تلوار۔ مُجَرَّدِ، ‏مُجَرَّدٌ کا معنی ہے ننگی بھئی، ننگی۔ عَضْبٍ مُجَرَّدٍ وہ تلوار جو ننگی ہے یعنی جو نیام سے نکالی گئی ہے۔ تو عَضْبٍ مُجَرَّدٍ ‏کا معنی کر لیں بے نیام تلوار، نیام سے نکالی ہوئی ننگی تلوار۔ وَبَرْقٍ هُجُودٍ قَدْ أَثَارَتْ مَخَافَتِي ... بَوَادِيَهَا أَمْشِي بِعَضْبٍ مُجَرَّدِ شاعر کہتا ہے وَبَرْقٍ، أَيْ رُبَّ بَرْقٍ هُجُودٍ کہ بہت سے اونٹ هُجُودٍ جو کہ سوئے ہوئے تھے، قَدْ أَثَارَتْ بھڑکا دیا ان کو ‏مَخَافَتِي میرے خوف نے۔ قَدْ أَثَارَتْ بھڑکا دیا مَخَافَتِي میرے خوف نے، یعنی مجھ سے جو ڈر رہے تھے، میرا جو خوف تھا ‏اس نے بھڑکا دیا۔ کن کو بھڑکا دیا؟ بَوَادِيَهَا یہ مفعول آیا۔ اونٹ جو ریوڑ کے اگلے حصے کے اونٹ ہیں ان کو بھڑکا دیا، یا ‏بَوَادِيَهَا اس گلے سے جو دور کے اونٹ تھے ان کو بھڑکا دیا میرے خوف نے۔ یاد رکھیے یہ مَخَافَتِي یہ فاعل ہے أَثَارَتْ ‏کا، بھڑکایا۔ کس نے بھڑکایا؟ میرے خوف نے بھڑکایا، اور کس کو بھڑکایا؟ بَوَادِيَهَا گلے کے جو آگے والے اونٹ ہیں یا ‏گلے سے جو دور کے اونٹ ہیں ان کو بھڑکا دیا۔ آگے أَمْشِي فعل ہے، یہ حال بنے گا بھئی، حال مَخَافَتِي کی یا ضمیر سے۔ ‏اس حال میں کہ میں چل رہا تھا بِعَضْبٍ مُجَرَّدِ بے نیام تلوار کے ساتھ۔ میں بے نیام تلوار، ننگی تلوار لے کر چل رہا تھا تو میرے خوف نے اس گلے کے اگلے اونٹوں کو بھڑکا دیا یا دور کے ‏اونٹوں کو بھڑکا دیا۔ بھئی یہ واقعہ ذکر کر رہا ہے، کسی موقع پر اس نے اپنے ساتھیوں کے لیے اونٹ کو ذبح کیا بھئی۔ ‏تو تلوار لے کر کہتا ہے میں گلے میں گیا اور میرا اپنا مال تھا اس گلے کے اندر، میں تلوار لے کر گیا۔ گلے میں اونٹ آرام ‏کر رہے ہوں گے، بیٹھے ہوں گے، کوئی سویا ہوگا، سیب وغیرہ میں جیسے حیوان بیٹھ جاتا ہے۔ تو میں تلوار لے کر گیا ‏تو میری ننگی تلوار دیکھ کر اونٹ بھڑک اٹھے، تتّر بتّر ہو گئے، کوئی ایک طرف بھاگا، کوئی دوسری طرف بھاگا، جو ‏گلے کے اگلے حصے کے اونٹ ہیں۔ ظاہر سی بات ہے اگلے حصے کے اونٹ ہی پہلے بھاگیں گے جب آپ کو ننگی تلوار ‏لاتا دیکھیں گے، بعد والے تو پیچھے بیٹھے ہیں ان کو تو ابھی پتہ ہی نہیں معاملے کا، تو آگے والے اونٹ دیکھتے ہی ‏بھاگ اٹھے، مجھے بھڑک اٹھے اور خوفزدہ ہو گئے کہ یہ کہیں ہمیں اس میں سے کسی کو ذبح نہ کر دے، اور اس کا ‏ارادہ بھی یہی تھا کہ ساتھیوں کے لیے کسی ایک اونٹ کو میں کیا کروں گا؟ ذبح کروں گا، تو وہ اونٹ بھاگ گئے۔ یا معنی ‏یہ ہے، پہلا معنی کیا کیا؟ جو گلے کے اگلے حصے کے اونٹ ہیں وہ بھڑک اٹھے، بھاگ گئے۔ دوسرا معنی کیا؟ جو دور ‏کے اونٹ تھے وہ بھڑک اٹھے، بھاگ اٹھے۔ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ وہ سب اونٹ میری دسترس میں تھے، میں ‏جسے چاہتا ذبح کر سکتا تھا، قریب والے تو چھوڑو، دور والے بھی بھڑک اٹھے اور بھاگے اس خوف سے کہ کہیں ہمیں ‏ذبح نہ کر دے۔ جب دور والے بھاگے ہیں، دور والے بھی ڈر گئے ہیں، اس کا مطلب ہے وہ بھی اس کے قابو میں تھے ‏بھئی، جبھی ڈر گئے کہ یہ ہمیں کہیں ذبح نہ کر دے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو جو دور والے اونٹوں کو ذکر کیا خاص طور پر اس مقصد کے لیے، بتلانا یہ چاہتا ہے کہ سارے اونٹ میرے قابو میں ‏تھے، میں جس کو چاہتا میں ذبح کر سکتا تھا، قریب والے تو چھوڑو، دور والے بھی مجھ سے ڈر کر بھڑک اٹھے اور ‏مشتعل ہو گئے، ادھر ادھر بھاگ رہے تھے کیونکہ ان کو اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ جب دور والے بھڑک کر ‏بھاگ رہے ہیں، معلوم ہوا وہ میرے قابو میں ہیں، ان کو میرا خوف ہے، تو قریب والے تو بطریقِ اولیٰ میرے قابو میں ‏تھے۔ کہتا ہے:‏ وَبَرْقٍ هُجُودٍ قَدْ أَثَارَتْ مَخَافَتِي ... بَوَادِيَهَا أَمْشِي بِعَضْبٍ مُجَرَّدِ اور بہت سے ایسے اونٹ جو کہ سوئے ہوئے تھے، تحقیق اور برانگیختہ کر دیا ان کو، مشتعل کر دیا، بھڑکا دیا ان کو ‏مَخَافَتِي میرے خوف نے، میرے خوف نے بھڑکا دیا بَوَادِيَهَا اس گلے کے اگلے اونٹوں کو، یا میرے خوف نے بھڑکا دیا ‏اس گلے کے جو دور کے اونٹ ہیں ان کو، أَمْشِي بِعَضْبٍ مُجَرَّدِ اس حال میں کہ میں شمشیرِ بے نیام کے ساتھ چل رہا تھا، ‏یعنی ان کے درمیان چل رہا تھا۔ فَمَرَّتْ كَهَاةٌ ذَاتُ خَيْفٍ جُلَالَةٌ ... عَقِيلَةُ شَيْخٍ كَالْوَبِيلِ يَلَنْدَدِ فَمَرَّتْ، مَرَّ يَمُرُّ کے معنی ہیں گزرنا۔ كَهَاةٌ، كَهَاةٌ کہتے ہیں بوڑھی موٹی اونٹنی۔ كَهَاةٌ، بوڑھی موٹی اونٹنی۔ ذَاتُ خَيْفٍ، خَيْفٍ ‏کہتے ہیں دودھ سے خالی تھن کی جو لٹکی ہوئی کھال ہے۔ اونٹنی ہے، دودھ وغیرہ نہیں ہے، تو اس کے تھن کی خالی ‏کھال جو لٹکی ہوئی ہے اس کو کہتے ہیں خَيْفٍ بھئی۔ اور ذَاتُ خَيْفٍ یعنی وہ خالی تھن والی، یا یوں کہیں بڑے تھن والی۔ ‏ذَاتُ خَيْفٍ بڑے تھن والی۔ بھئی یہ ذَاتُ یہ مؤنث ہے ذُو کی۔ آپ کہتے ہیں هُوَ رَجُلٌ ذُو مَالٍ، تو ذُو مَالٍ کا کیا معنی؟ مال ‏والا۔ یہ تو مذکر کے لیے بولتے ہیں، اور مؤنث ہو تو پھر ذَاتُ مَالٍ، اِمْرَأَةٌ ذَاتُ مَالٍ، مال والی عورت بھئی۔ تو یہاں بھی یہ ‏چونکہ ناقہ کا ذکر چل رہا ہے اونٹنی کا، اس لیے کیا کہا؟ ذَاتُ خَيْفٍ، بڑے تھن والی۔ جُلَالَةٌ، جُلَالَةٌ کا معنی بھی وہی فربہ ‏بھئی، فربہ، موٹی۔ عَقِيلَةٌ، عَقِيلَةٌ کا لفظ پہلے بھی گزر چکا بھئی، عمدہ اور نفیس مال، عَقِيلَةٌ۔ شَيْخٍ، بوڑھے آدمی کو کہتے ‏ہیں۔ كَالْوَبِيلِ، وَبِيلٌ کہتے ہیں موٹا بھاری ڈنڈا۔ موٹا بھاری ڈنڈا، یا اسی طرح موٹی لاٹھی جو ہو اس کو بھی وَبِيلٌ کہتے ہیں، ‏وَبِيلٌ۔ يَلَنْدَدِ، يَلَنْدَدٌ کا معنی ہے خوب جھگڑالو بھئی، سخت جھگڑنے والا۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں آ گئے؟ فَمَرَّتْ كَهَاةٌ ذَاتُ خَيْفٍ جُلَالَةٌ ... عَقِيلَةُ شَيْخٍ كَالْوَبِيلِ يَلَنْدَدِ اچھا، شاعر بتلا رہا تھا کہ میں شمشیرِ بے نیام لے کر اونٹوں کے گلے میں گھسا اور گلے کے اگلے اونٹ یا دور والے ‏اونٹ مجھے دیکھ کر بدک اٹھے، ادھر ادھر دوڑنے لگے اپنی جان بچانے کے لیے۔ فَمَرَّتْ تو گزری كَهَاةٌ ایک موٹی ‏بوڑھی اونٹنی، ذَاتُ خَيْفٍ یہ صفت ہے كَهَاةٌ کی، کہ جو بڑے تھنوں والی تھی، جُلَالَةٌ موٹی تھی، خوب موٹی صحت مند ‏تھی، عَقِيلَةُ شَيْخٍ اور ایک بوڑھے شخص کا وہ عمدہ اور نفیس مال تھی۔ عمدہ اور نفیس مال تھی۔ تو كَهَاةٌ کو صفت بنا لیں ‏موصوف محذوف ہے، أَيْ فَمَرَّتْ نَاقَةٌ كَهَاةٌ، ایک بوڑھی موٹی اونٹنی گزری، دوسری صفت آ گئی ذَاتُ خَيْفٍ جو بڑے تھن ‏والی تھی، تیسری صفت آ گئی جُلَالَةٌ اور وہ خوب فربہ تھی، خوب موٹی تھی، چوتھی صفت آ گئی عَقِيلَةُ شَيْخٍ وہ کس کا ‏عمدہ اور نفیس مال تھی؟ ایک بوڑھے شخص کا عمدہ اور نفیس مال تھی۔ كَالْوَبِيلِ، شَيْخٍ آیا اور شَيْخٍ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد كَالْوَبِيلِ جار مجرور آیا تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ ایسا بوڑھا ‏كَالْوَبِيلِ جو موٹے بھاری ڈنڈے کی طرح تھا۔ جو کس کی طرح تھا؟ موٹے ڈنڈے کی طرح تھا۔ بھئی اب وہ بوڑھا آدمی ‏تھا، وہ چونکہ بوڑھا ہو گیا، ضعیف ہو گیا اور کمزور ہو گیا، ہڈیاں اس کی نکل آئیں، تو اس کو تشبیہ دے رہا ہے ایک ‏موٹے ڈنڈے کے ساتھ، ایک موٹی لاٹھی کے ساتھ کہ وہ عَقِيلَةُ شَيْخٍ كَالْوَبِيلِ، وہ ایک ایسے بوڑھے کا نفیس مال تھی وہ ‏اونٹنی، كَالْوَبِيلِ کہ وہ بوڑھا کس جیسا تھا؟ وہ موٹی لاٹھی کی طرح تھا، يَلَنْدَدِ اور بڑا سخت جھگڑالو تھا۔ بڑا سخت ‏جھگڑالو تھا۔ بعضوں نے لکھا کہ بوڑھے سے مراد طرفہ کا باپ ہے بھئی۔ طرفہ کا باپ ہے، بوڑھا ہے اور تو اس کو تشبیہ دے رہا ‏ہے کس کے ساتھ؟ کمزور ہو چکا ہے، سوکھ چکا ہے بدن اور بڑا سخت جھگڑالو ہے، غصے والا ہے، تو اس کو تشبیہ ‏دے رہا ہے، اس کا ذکر کر رہا ہے۔ جبکہ بعضوں نے کہا نہیں، یہ اس کے چچا وغیرہ کے بیٹے یا کوئی ہیں وہ مراد ہیں ‏یہاں پر۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ فَمَرَّتْ كَهَاةٌ ذَاتُ خَيْفٍ جُلَالَةٌ ... عَقِيلَةُ شَيْخٍ كَالْوَبِيلِ يَلَنْدَدِ فَمَرَّتْ كَهَاةٌ ذَاتُ خَيْفٍ جُلَالَةٌ، تو میرے پاس سے ایک... اچھا، كَهَاةٌ کا ترجمہ کر لیں بوڑھی اونٹنی بھئی، کیونکہ جُلَالَةٌ ‏آگے موٹی کا ذکر علیحدہ آ رہا ہے تو اس کو علیحدہ کر دیں۔ تو كَهَاةٌ کا معنی کر لیں بوڑھی اونٹنی اور جُلَالَةٌ کا معنی ‏موٹی۔ فَمَرَّتْ كَهَاةٌ ذَاتُ خَيْفٍ جُلَالَةٌ، پس گزری ایک بوڑھی، بڑے تھن والی، موٹی اونٹنی، وہ میرے پاس سے گزری، ‏عَقِيلَةُ شَيْخٍ كَالْوَبِيلِ يَلَنْدَدِ، جو کہ عمدہ اور نفیس مال تھا، وہ اونٹنی جو ہے عمدہ اور نفیس مال تھا ایک ایسے بوڑھے کا جو ‏موٹی لاٹھی کی طرح تھا اور سخت جھگڑالو تھا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ يَقُولُ وَقَدْ تَرَّ الْوَظِيفُ وَسَاقُهَا ... أَلَسْتَ تَرَى أَنْ قَدْ أَتَيْتَ بِمُؤْيِدِ يَقُولُ وَقَدْ تَرَّ، تَرَّ يَتِرُّ کے معنی ہیں عضو کا کٹ جانا، الگ ہو جانا۔ کسی عضو کا کٹ جانا، الگ ہو جانا۔ الْوَظِيفُ، وَظِيفٌ ‏کہتے ہیں یہ کلائی یا پنڈلی کا جو پتلا حصہ ہے اس کو کہتے ہیں وَظِيفٌ بھئی۔ وَسَاقُهَا، اور سَاقٌ پنڈلی کو کہتے ہیں۔ تو ‏سَاقٌ کا چونکہ علیحدہ ذکر آ رہا ہے تو معلوم ہوا یہاں پر وَظِيفٌ کا معنی کر لیں گے صرف کلائی بھئی، کلائی کا پتلا ‏حصہ۔ أَلَسْتَ تَرَى أَنْ قَدْ أَتَيْتَ، أَنْ، یہ أَنْ جو ہے مخففہ من المثقلہ ہے۔ بھئی آپ نے نحو میں پڑھا ہے اِنَّ اور اَنَّ، یہ کیا ہیں؟ ‏حروفِ مشبہ بالفعل۔ البتہ ان دونوں میں نون جو ہے وہ ثقیل ہے یعنی اس پر شد ہے، شد ہے، مشدد ہے۔ لیکن اسی میں ‏بعض اوقات تخفیف کرتے ہوئے ایک نون کو حذف کر لیتے ہیں، تو اِنَّ کو پڑھتے ہیں اِنْ اور اَنَّ کو پڑھتے ہیں اَنْ، اور ‏اس کو پھر کہتے ہیں أَنْ مُخَفَّفَةٌ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ، أَنْ مُخَفَّفَةٌ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ۔ تو یہ بھی أَنْ مخففہ من المثقلہ ہے، اصل میں تھا اَنَّ۔ اور یاد ‏رکھیے جہاں بھی اَنَّ کو مخفف کیا جاتا ہے وہاں پر اس کا اسم بھی محذوف ہوتا ہے، تو یہ اصل میں تھا أَنَّهُ، اور یہ هُ ‏ضمیر ضمیرِ شان ہے۔ شان یہ ہے، شان کا کیا معنی؟ حال حال، حالت یہ ہے، حالت حال یہ ہے، یوں کہو حالت یہ ہے۔ قَدْ ‏أَتَيْتَ بِمُؤْيِدِ، قَدْ أَتَيْتَ بِمُؤْيِدِ۔ مُؤْيِدٌ کہتے ہیں زبردست مصیبت کو، بڑی مصیبت کو۔ طرفہ کہتا ہے يَقُولُ کہ وہ بوڑھا کہہ رہا تھا، وَقَدْ تَرَّ الْوَظِيفُ وَسَاقُهَا اس حال میں کہ تحقیق اس اونٹنی کی جو کلائی ہے ‏اور اس کی جو پنڈلی ہے وہ کٹ گئی تھی، الگ ہو گئی تھی۔ میں نے جاتے ہی کیا کیا تھا؟ عرب کا طریقہ تھا بھئی، اونٹ ‏وغیرہ کو ذبح کرنے لگیں تو اس کی پنڈلی پر، اگلے پاؤں پر تلوار مارتے وہ کٹ جاتی تو وہ بھاگنے کا موقع پھر نہ رہتا ‏اور اس کو پھر فوراً ذبح کر لیا کرتے تھے۔ تو وہ بوڑھا جو ہے، وہ جو سخت جھگڑالو بوڑھا تھا، وہ غصے کا اظہار کر ‏رہا ہے، کہتا ہے اس حال میں کہ اس اونٹنی کی جو کلائی اور پنڈلی ہے وہ اس کو میں کاٹ چکا تھا، وہ کٹ کر الگ ہو ‏چکی تھی۔ يَقُولُ وہ کہہ رہا تھا وَقَدْ تَرَّ الْوَظِيفُ وَسَاقُهَا اس حال میں کہ اس کی کلائی اور اس کی پنڈلی جو ہے وہ کٹ چکی ‏تھی، الگ ہو چکی تھی، وہ بوڑھا کیا کہہ رہا تھا؟ یہ آگے مقولہ آ رہا ہے: أَلَسْتَ تَرَى أَنْ قَدْ أَتَيْتَ بِمُؤْيِدِ، کیا تو دیکھتا نہیں ‏کہ تحقیق تو لایا ہے بِمُؤْيِدِ ایک بڑی مصیبت؟ وہ بوڑھا اس سے کہہ رہا تھا: کیا تجھے دکھائی نہیں دے رہا تو ایک بڑی ‏مصیبت ہمارے اوپر لے آیا ہے؟ یعنی ہماری اتنی عمدہ اور قیمتی مال کو تو نے ذبح کر دیا اپنے ساتھیوں اور دوستوں ‏کے لیے، اس کو اس کو ہلاک کر دیا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ يَقُولُ وَقَدْ تَرَّ الْوَظِيفُ وَسَاقُهَا ... أَلَسْتَ تَرَى أَنْ قَدْ أَتَيْتَ بِمُؤْيِدِ وہ بوڑھا کہہ رہا تھا اس حال میں کہ اس اونٹنی کی کلائی اور پنڈلی جو ہے وہ کٹ چکی تھی، وہ کہہ رہا تھا: أَلَسْتَ تَرَى ‏أَنْ قَدْ أَتَيْتَ بِمُؤْيِدِ، کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ تو ہمارے اوپر ایک بڑی مصیبت لے آیا ہے؟ ایک زبردست مصیبت ہم پر لے آیا ‏ہے؟ یعنی ہمارا یہ نقصان کر دیا تو نے اونٹنی کو ذبح کر دیا اپنے دوستوں کے لیے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس ‏کریں، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 60 of 62