Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-044

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 129
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی!‏ خَذُولٌ تُراعِي رَبْرَباً بِخَمِيلَةٍ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ وَتَرْتَدِي وَتَبْسِمُ عَنْ أَلْمى كَأَنَّ مُنَوِّراً تَخَلَّلَ حُرَّ الرَّمْلِ دِعْصاً لَهُ نَدِي سَقَتْهُ إِياةُ الشَّمْسِ إِلّا لِثاتِهِ أُسِفَّ وَلَمْ تَكْدِمْ عَلَيْهِ بِإِثْمِدِ گزشتہ سبق کے آخر میں شاعر اپنی معشوقہ کے حسن و جمال کو بیان کر رہا تھا اور اس کو تشبیہ دی اس نے ایک ہرن ‏کے ساتھ۔ آگے وہ کہتا ہے:‏ خَذُولٌ تُراعِي رَبْرَباً بِخَمِيلَةٍ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ وَتَرْتَدِي خَذُولٌ: یاد رکھیے خَذُولٌ کہتے ہیں ایسی مادہ ہرنی جو بچوں کی نگہداشت کرنے والی ہو۔ مادہ ہرنی جو بچوں کی نگہداشت ‏کرنے والی ہو، بچوں کی حفاظت کرنے والی ہو۔ اسی طرح خَذُولٌ ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ہرنی کو بھی کہتے ہیں بھئی، ‏خَذُولٌ۔ اور دونوں کے مطابق ہم ترجمہ کریں گے بھئی۔ تُراعِي رَبْرَباً: رَاعَى يُراعِي مُراعاةً کا ایک معنی ہے نظر رکھنا، حفاظت کرنا۔ اور اس کا ایک معنی ہے کسی کے ساتھ ‏چرنا۔ رَعَى يَرْعَى کا معنیٰ تو ہے نہ چرنا، اور رَاعَى يُراعِي باب مفاعلہ میں لے جائیں تو معنیٰ ہے کسی کے ساتھ چرنا۔ ‏مثلاً عربی میں کہتے ہیں رَاعَى الجَمَلُ الشَّاةَ، اونٹ چرا الشَّاةَ کس کے ساتھ؟ بھیڑ بکری کے ساتھ۔ شاہ بھیڑ بکری کو کہتے ‏ہیں بھئی یاد رکھنا۔ ہمارے ہاں رائج غلطی ہے شاہ کا ترجمہ صرف بکری کے ساتھ کیا جاتا ہے، شاہ صرف بکری کو ‏نہیں کہتے، بھیڑ بکری دونوں جنسوں پر یہ بولا جاتا ہے اور دونوں میں سے چاہے مذکر ہو چاہے مونث سب اس میں ‏شامل ہیں بھئی۔ تو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ رَاعَى الجَمَلُ الشَّاةَ، اونٹ جن کے ساتھ چرا؟ بھیڑ بکریوں کے ساتھ، تو رَاعَى ‏کا معنیٰ کسی کے ساتھ چرنا۔ تو رَاعَى کے بھی میں نے دو ترجمے کر دیے بھئی، ایک کیا؟ حفاظت کرنا، نظر رکھنا، اور ایک معنیٰ ہے کسی کے ‏ساتھ چرنا، دونوں ترجمے کریں گے ہم بھئی معنیٰ بیان کرتے ہوئے۔ رَبْرَباً: رَبْرَبٌ کہتے ہیں ریوڑ کو بھئی، ہرن یا یہ جنگلی گائے وغیرہ کا جو ریوڑ ہو اس کو رَبْرَبٌ کہتے ہیں۔ خَمِيلَةٍ: خَمِيلَةٌ کہتے ہیں عمدہ زمین بھئی جس پر جا بجا درخت اگے ہوئے ہوں، عمدہ اور اعلیٰ زمین جس میں جگہ جگہ ‏درخت اگے ہوئے ہوں۔ تَناوَلُ: تناول کا معنیٰ ہے ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو پکڑنا، ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو لینا، اس کو کہتے ہیں تناول۔ أَطْرافَ البَرِيرِ: اطراف جمع ہے طرف کی، کنارے کو کہتے ہیں کنارہ، جانب۔ بَرِيرٌ کہتے ہیں یہ پیلو کے پھل جو ہیں ان ‏کو بَرِيرٌ کہتے ہیں۔ پیلو کا درخت ہے اس پر بیر نما پھل وغیرہ لگتے ہیں، کھائے تو نہیں جاتے لیکن جو پھل ہیں ان کے ‏بیر نما ان کو بَرِيرٌ کہتے ہیں بھئی بَرِيرٌ۔ وَتَرْتَدِي: اِرْتَدَى يَرْتَدِي یہ رداء سے ہے رِداءٌ، رداء کسے کہتے ہیں؟ چادر کو، تو اسی سے ہے ترتدی اِرتدى يرتدي، اس ‏کا معنیٰ ہے چادر اوڑھنا، چادر اوڑھنا۔ خَذُولٌ تُراعِي رَبْرَباً بِخَمِيلَةٍ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ وَتَرْتَدِي خَذُولٌ: تو اس کا عطف کر لیں اَحْوٰى پر، وَفِي الحَيِّ خَذُولٌ، قبیلے میں ایک ایسی ہرنی ہے جو ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ہے۔ ‏یا اس کو خبر بنا لیں مبتدائے محذوف کے لیے، اَيْ هِيَ خَذُولٌ، میری معشوقہ کیا ہے؟ وہ ایک مادہ ہرنی ہے جو بچوں کی ‏نگہداشت کرنے والی ہے یا ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ہے۔ تُراعِي رَبْرَباً: اچھا پہلا ترجمہ ہم خذول کا کر لیتے ہیں بچوں کی نگہبانی کرنے والی مادہ ہرنی۔ تو قبیلے میں ایک ایسی ‏بچوں کی نگہبانی کرنے والی مادہ ہرنی ہے تُراعِي رَبْرَباً جو ریوڑ کے ساتھ چر رہی ہے، جو ریوڑ کے ساتھ چر رہی ‏ہے۔ بِخَمِيلَةٍ: کہاں پر؟ ایک عمدہ زمین میں۔ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ: وہ ہاتھ بڑھا کر پیلو کے پھلوں کے کناروں کو پکڑ رہی ہے۔ اب ہرنی کے تو ہاتھ وغیرہ نہیں، مراد ‏یہ ہے یہاں ہاتھ بڑھا کر پکڑنے سے مراد، میں نے گزشتہ سبق میں بھی بیان کیا تھا، آپ نے اگر بکری وغیرہ کو دیکھا ‏ہو، غور کیا ہو، وہ درخت کی شاخیں نیچے ہوں تو ان سے تو کبھی تو ویسے پتے وغیرہ کھاتی ہے، اور کبھی وہ جو ‏شاخ ہے اس کے اوپر دو پاؤں رکھ کر پھر پتے کھاتی ہے بھئی۔ تو وہ صورت مراد ہے، تناول سے کیا مراد ہے؟ وہ ‏صورت وہ جو دونوں پاؤں شاخ یا تنے کے اوپر رکھ کر بکری پتے کھا رہی ہو، وہ ہے تناول بھئی، وہ مراد ہے بھئی۔ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ: اور وہ ہرنی کیا کر رہی ہے؟ شاخ پر دونوں پاؤں رکھ کر پتوں کو اس کے پیلو کے پھلوں کے ‏کنارے کھا رہی ہے۔ وَتَرْتَدِي: اور اس نے چادر اوڑھ رکھی ہے، چادر اوڑھ رکھی ہے۔ کیا معنیٰ چادر اوڑھ رکھی ہے؟ مراد یہ ہے کہ جب اس ‏نے شاخ پر دونوں پاؤں رکھے ہوئے ہیں تو شاخ کے پتوں میں اس کا اوپر کا آدھا بدن چھپ جائے گا بھئی، ظاہر سی بات ‏ہے جب پتے وغیرہ زیادہ ہوں گے تو اس اور اس نے دونوں پاؤں کہاں پر رکھے ہیں؟ شاخ پر، تو آدھا بدن اس کا اوپر ‏والا شاخ کے پتوں وغیرہ میں چھپ جائے گا، اس کو چادر پہننے سے تعبیر کر دیا کہ گویا اس نے کیا کیا ہوا ہے؟ چادر ‏پہنی ہوئی ہے، چادر اوڑھی ہوئی ہے جس میں اس کا آدھا اوپر والا بدن چھپ گیا، یعنی ان پتوں کو چادر سے تشبیہ دے ‏دی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ خَذُولٌ تُراعِي رَبْرَباً بِخَمِيلَةٍ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ وَتَرْتَدِي اور میری معشوقہ جو ہے وہ ایک بچوں کی نگہبانی کرنے والی ایسی مادہ ہرنی ہے تُراعِي رَبْرَباً جو کس کے ساتھ چر ‏رہی ہے؟ ریوڑ کے ساتھ یعنی ہرنوں کے ریوڑ کے ساتھ چر رہی ہے۔ یہاں پر اشکال ہوتا ہے سب سے پہلے بھئی، کہ پیچھے کہا تھا کہ قبیلے میں ایک ہرن ہے، تو معشوقہ کو تشبیہ دی تھی ‏ہرن کے ساتھ، اور یہاں اس کو تشبیہ دے رہا ہے خذول یعنی ہرنی کے ساتھ، تو یہ کیا؟ یا تو ہرن کے ساتھ تشبیہ دے یا ‏ہرنی کے ساتھ تشبیہ دے، ایک جگہ ہرن کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے، شاید دوسری جگہ ہرنی کے ساتھ۔ تو جواب آسان ہے بھئی، کہ بھئی یہ تشبیہ بیان ہو رہی ہے، اور مختلف صفات میں انسان ایک چیز کو مختلف چیزوں ‏کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے۔ مثلاً آپ زید کی شہرت بیان کرنا چاہتے ہیں اور اس کے فوائد بیان کرنا کہ وہ لوگوں کو بہت نفع ‏دینے والا ہے، تو شعراء پھر ایسے شخص کی تشبیہ دیتے ہیں سورج کے ساتھ، کہ یہ شخص کس کی طرح ہے؟ یعنی ‏شہرت کے اندر سورج کی طرح ہے، جیسے ساری دنیا کے اوپر سورج چمکتا ہے، اسی طرح یہ بھی ساری دنیا میں ‏چمکتا ہے اور سب کو دکھائی دیتا ہے، سب کی نظروں میں ہے، یعنی بڑا مشہور و معروف ہے۔ اور پھر جب اسی کی ‏سخاوت بیان کرنی ہو، تو اس کو سمندر کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ زید کس کی طرح سخی ہے؟ سمندر کی طرح، اور ‏کبھی جب شجاعت بیان کرنی ہو تو کہتے ہیں زید شیر کی طرح بہادر ہے، تو دیکھو ایک ہی چیز کی مختلف چیزوں کے ‏ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے مختلف اعتبار سے۔ یہاں پر بھی شاعر نے کچھ چیزوں کے اعتبار سے تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ ‏ہرن کے ساتھ، اور اب کچھ چیزوں کے اعتبار سے تشبیہ دے رہا ہے ہرنی کے ساتھ، تو یہ الگ الگ تشبیہات ہیں تو کوئی ‏اعتراض واقع نہیں ہوتا۔ دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ پیچھے صفت بیان کی تھی شَادِنٌ، کہ میری معشوقہ کیا ہے؟ کم عمر ہے، جوان ہے۔ اور اب ‏تشبیہ دے رہا ہے بچوں کی حفاظت کرنے والی مادہ ہرنی کے ساتھ، وہ تو بڑی عمر کی ہو گی؟ تو جواب یہ کہ وہاں عمر ‏کے اندر تشبیہ تھی، اور یہاں تشبیہ کا مقصد اور ہے، یہاں عمر وغیرہ بیان کرنا نہیں، مادہ بچوں والی مادہ ہرنی کے ساتھ ‏تشبیہ دی ہے اپنی معشوقہ کی چوکنی ہونے کے اندر، جیسے جس ہرنی کے جس حیوان کے بچے ہوں گے، یقیناً وہ جو ان ‏کی ماں ہے وہ ہر وقت باقی حیوانات کے مقابلے میں زیادہ مستعد اور چوکنا ہو گا وہ حیوان، ہر طرف اس کی نظر ہو گی ‏کہ کوئی چیز آ کر میرے بچوں کو نقصان نہ پہنچا دے، تو شاعر بھی یہی کہنا چاہتا ہے کہ میری معشوقہ بھی بڑی چوکنی ‏ہے اور ہر وقت مستعد اور بیدار رہتی ہے کہ کوئی چیز اس کو نقصان نہ پہنچا دے، ہر خطرے پر اس کی نظر ہوتی ہے ‏اور اپنی حفاظت وہ بخوبی کرتی ہے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو وہ بچوں کی نگہبانی کرنے والی ایک ایسی مادہ ہرنی ہے تُراعِي رَبْرَباً جو کس کے ساتھ چر رہی ہے؟ ریوڑ کے ساتھ ‏یعنی ہرنوں کے ریوڑ کے ساتھ چر رہی ہے، اور لیکن بچوں کی نگہبانی کرنے والی ہے، اور جب بچوں کی نگہبانی ‏کرنے والی ہے تو وہ ہرنی بھی بڑی چاق و چوبند، ہوشیار، بیدار اور ہر خطرے پر اس کی نظر ہو گی تاکہ اپنے بچوں ‏کی حفاظت کرے، تو اسی طرح میری معشوقہ بھی بڑی بیدار، مستعد اور ہوشیار اور ہر چیز پر کی طرف اس کی توجہ ‏ہے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یا خَذُولٌ کا دوسرا ترجمہ کر لیں بھئی، ریوڑ سے بچھڑنے والی ہرنی۔ تو میری معشوقہ جو ہے خَذُولٌ کیا ہے؟ ریوڑ سے ‏بچھڑی ہوئی ہرنی کی طرح ہے، وہ ہرنی جو ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ہو تُراعِي رَبْرَباً اور ریوڑ کے ساتھ چر رہی ہو۔ ‏بھئی یہ کیا معنیٰ؟ ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ہے اور ریوڑ کے ساتھ چر رہی ہے؟ معنیٰ یہ ہے کہ اپنے ریوڑ سے یعنی ‏ہرنوں کے ریوڑ سے بچھڑ گئی ہے، جدا ہو گئی ہے، اور گائے وغیرہ کے ریوڑ کے ساتھ چر رہی ہے بھئی۔ میں نے ‏بتایا رَبْرَبٌ ہرنوں کے ریوڑ کو بھی کہتے ہیں اور جنگلی گائے کے ریوڑ کو بھی کہتے ہیں، تو اپنے ریوڑ سے ہرنوں ‏کے ریوڑ سے وہ بچھڑ گئی ہے، جدا ہو گئی ہے اور گائے کے ریوڑ کے پاس چر رہی ہے۔ اب اس کا معنیٰ کیا کیا ہم نے ‏خذول کا؟ ریوڑ سے بچھڑی ہوئی، اب بچوں کی نگہبانی کرنے والی نہیں، بلکہ ریوڑ سے بچھڑی، اور اس کے اندر بھی ‏دیکھو جب ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ہے تو یقیناً وہ بڑی چوکنی ہو گی اور اس نے اپنے چوکنی ہو گی، پریشان ہو گی، بار ‏بار گردن اٹھا کر دائیں بائیں دیکھ رہی ہو گی کہ میرا ریوڑ کس طرف چلا گیا، میرے باقی ساتھی کہاں چلے گئے بھئی، ‏تو اس میں بھی وہی چوکنا ہونے کا معنیٰ ہے بھئی۔ اور یا تُراعِي کا معنیٰ کر لیں حفاظت کرنا، نظر رکھنا، کہ وہ جو ہے خَذُولٌ ریوڑ سے بچھڑی ہوئی ایسی مادہ ہرنی ہے ‏تُراعِي رَبْرَباً جس نے ریوڑ پر نظر رکھی ہوئی ہے، جس نے ریوڑ پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ معنیٰ یہ اپنے ریوڑ سے جدا ‏ہو گئی ہے، ریوڑ چرتے چرتے ذرا دور چلا گیا ہے، اور یہ ریوڑ سے جدا ہے، یہ علیحدہ چر رہی ہے، لیکن اپنے ریوڑ ‏پر بھی اس نے نظر رکھی ہوئی ہے کہ وہ کہیں زیادہ دور نہ چلا جائے، تو ریوڑ سے ذرا جدا ہے تو یقیناً یہ بھی باقی ‏ریوڑ والوں کی بنسبت زیادہ چوکنی ہو گی، ہوشیار ہو گی اور متوجہ ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور شاعر نے خاص طور پر ریوڑ سے جدا اور بچھڑی ہوئی ہرنی کے ساتھ اپنی معشوقہ کو تشبیہ دی، ایک وجہ تو کیا؟ ‏چوکنی ہونے میں، اور دوسری وجہ یہ کہ جب یہ ہرنی ریوڑ سے جدا ہو گی تو پھر ہی اس کا حسن و جمال پوری طرح ‏نظر آئے گا بھئی، اگر اور ہرنوں کے ساتھ اور ریوڑ کے ساتھ ہو تو اس کا حسن و جمال اتنا نمایاں نہیں ہو گا، لیکن جب ‏سب سے الگ ہے اب اس کا حسن و جمال اور خوبصورتی پوری طرح سامنے ہو گی بھئی۔ بِخَمِيلَةٍ: اور کہاں پر چر رہی ہے؟ عمدہ زمین میں جس میں جا بجا درخت اگے ہوئے ہیں۔ تَناوَلُ أَطْرافَ البَرِيرِ: اور وہ وہ شاخوں پر پاؤں رکھ کر وہ پیلو کے پھلوں کے کنارے جو ہیں ان کو کھا رہی ہے۔ وَتَرْتَدِي: اور درختوں کے پتوں کی چادر اس نے اوڑھ رکھی ہے۔ وَتَبْسِمُ عَنْ أَلْمى كَأَنَّ مُنَوِّراً تَخَلَّلَ حُرَّ الرَّمْلِ دِعْصاً لَهُ نَدِي بَسَمَ يَبْسِمُ کے معنیٰ ہیں مسکرانا بھئی، ہنسنا جس میں صرف دانت دکھائی دیں بھئی، آواز نہ ہو، آواز نہ ہو۔ اور اگر آواز ‏بھی ہو تو اس کو ضِحْكٌ کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ تبسم پسندیدہ ہے خاص طور پر عورتوں وغیرہ میں تبسم پسندیدہ ہے، ‏ضحک پسندیدہ نہیں ہے بھئی۔ عَنْ أَلْمَى: أَلْمَى جو ہے یہ لَمَى سے ہے اور لمى کہتے ہیں ہونٹوں کا پسندیدہ گندمی رنگ۔ تو أَلْمَى، أَلْمَى کا ترجمہ ہو گا ‏ہونٹوں کے پسندیدہ گندمی رنگ والا، ہونٹوں کے پسندیدہ گندمی رنگ والا۔ كَأَنَّ مُنَوِّراً: بھئی منور یہ نور سے نہیں ہے بلکہ یہ نَوْرٌ سے ہے۔ نور روشنی کو کہتے ہیں، اگر نور سے ہو تو منور کا ‏معنیٰ ہے روشن کر دینے والا، منور کا کیا معنیٰ؟ روشن۔ لیکن یہ نور سے نہیں ہے یہ نَوْرٌ سے ہے، اور نَوْرٌ پھول کی ‏کلی کو کہتے ہیں بھئی، وہ پھول کی ابتدائی حالت جب اس کی پتیاں بند ہیں ابھی کھلی نہیں ہیں تو اس کو کہتے ہیں کلی ‏بھئی، اور عربی میں اس کو کہتے ہیں نَوْرٌ، اور جس درخت پر کلیاں ہوں اس کو منور کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ ‏منور۔ اور یہاں منور سے مراد ہر کلیوں والا پودا مراد نہیں ہے بلکہ گلِ بابونہ مراد ہے، گلِ بابونہ، اور یہ آپ کے حاشیے ‏میں بھی دیا ہوا ہے:‏ كَأَنَّ مُنَوِّراً یعنی أُقْحُواناً مُنَوِّراً أُقْحُوانٌ مراد ہے أُقْحُوانٌ، اور اقحوان وہ گلِ بابونہ کو کہتے ہیں۔ گلِ بابونہ یہ کوئی چھوٹا سا پودا ہے جس پر سفید رنگ ‏کے پھول لگتے ہیں بھئی، چھوٹے چھوٹے پھول اور بڑے خوبصورت اور حسین و جمیل معلوم ہوتے ہیں، اور ان کی ‏خوشبو بھی ہوتی ہے بڑے خوبصورت سفید رنگ کے، اور حکماء وغیرہ اس اسے اپنی دوائیوں میں استعمال کرتے ہیں، ‏اور عرب جو ہیں دانتوں کے حسن و جمال میں اس کے ساتھ تشبیہ دیا کرتے ہیں۔ تو شاعر بھی اپنی معشوقہ کے دانتوں کو ‏گلِ بابونہ کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے کہ جس طرح وہ سبز گہرے سبز رنگ کے اندر اس کے سفید پھول چمکتے ہوئے ‏روشن اور نمایاں دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح میری معشوقہ کے دانت بھی کیا ہیں؟ بڑے حسین و جمیل، سفید اور چمکدار ‏ہیں۔ تو منور کا کیا ترجمہ ہوا؟ کلیوں والا۔ تَخَلَّلَ: تخلل کا معنیٰ ہے بیچ میں ہونا، بیچ میں ہونا۔ حُرَّ الرَّمْلِ: حُرٌّ کا ایک معنیٰ تو ہے آزاد۔ اور اسی طرح حر ہر شئے کہتے ہیں کسی شئے کا عمدہ حصہ۔ حر خالص شئے ہو، عمدہ شئے ہو، تو اس کو حر کہتے ہیں بھئی۔ ہر چیز کا جو عمدہ حصہ ہے، تو حر الرمل کا کیا ‏معنیٰ؟ ریت کا عمدہ حصہ۔ یعنی عمدہ قسم کی ریت جس میں کسی قسم کی آمیزش، مٹی وغیرہ یا اور چیزوں کی آمیزش نہ ‏ہو بھئی۔ خالص ریت، عمدہ ریت اس کو حر الرمل کہیں گے۔ رمل، ریت بھئی ریت۔ دعص۔ دعص کہتے ہیں ریت کا گول ٹکڑا بھئی، ریت کا چھوٹا سا ٹیلا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دعص۔ لہ ندی۔ ندی کہتے ہیں بھئی گیلا، بھیگا ہوا، تر۔ ندی۔ وتبسم عن ألمى كأن منورا تخلل حر الرمل دعص له ندی۔ وتبسم اور میری معشوقہ جو ہے وتبسم وہ مسکراتی ہے۔ عن ألمى، أي عن ثغر ألمى موصوف محذوف ہے بھئی۔ عن ثغر، ‏ث، غ اور ر اور ثغر دانتوں کو کہتے ہیں، دانتوں کو۔ میری معشوقہ جو ہے وہ مسکراتی ہے عن ثغر۔ کیسے دانتوں کے ‏ساتھ؟ ألمى، کہ پسندیدہ گندمی رنگ کے ہیں ان کے ہونٹ بھئی۔ ان کے ہونٹ کیا ہیں؟ بھئی یہ صفت، یہ ثغر ہے ‏موصوف اور ألمى اس کی صفت ہے اور یہ صفت بحال متعلقہ ہی ہے۔ ایک صفت بحالہ ہوتی ہے جس میں موصوف کی صفت بیان ہوتی ہے اور ایک صفت بحال متعلقہ ہی ہوتی ہے وہ صفت ‏تو موصوف کی ہے لیکن حقیقت میں وہ موصوف کے متعلق کی صفت ہوتی ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں جاءنی رجل شجاع، ‏میرے پاس ایک ایسا آدمی آیا شجاع جو کہ بڑا بہادر ہے۔ دیکھو رجل ہے موصوف اور شجاع ہے صفت، توجہ ہے؟ رجل ‏موصوف اور شجاع صفت اور یہ شجاعت کس کے اندر ہے؟ اسی آدمی میں ہے، تو یہ صفت بحالہ ہے۔ یوں کہیں آسان لفظوں میں، لفظوں میں بھی یہ شجاعت رجل کی صفت اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی یہ شجاعت کس کی ‏صفت ہے؟ رجل کی۔ جبکہ صفت بحال متعلقہ ہی میں لفظوں میں تو صفت ہوتی ہے وہ ایک چیز کی اور معنیٰ کے اعتبار ‏سے وہ صفت ہوتی ہے اس کے متعلق کی یعنی دوسری چیز کی۔ مثلاً میں کہتا ہوں جاءنی رجل شجاع ابنه، میرے پاس ‏ایک ایسا آدمی آیا شجاع ابنه جس کا بیٹا بہادر ہے۔ اب مجھے بتائیے، یہ شجاعت اس رجل میں ہے یا اس کے بیٹے میں ‏ہے؟ بیٹے میں ہے۔ تو لفظوں میں تو شجاع ابھی بھی رجل کی صفت ہے، رجل موصوف، شجاع اس کی صفت، اگر رجل ‏منسوب ہوتا تو ہم یوں کہتے رأيت رجلا شجاعا ابنه، یا یوں کہتے مررت برجل شجاع ابنه۔ دیکھو موصوف کا جو اعراب ‏ہوتا ہے وہی اعراب کس پر آتا ہے؟ صفت پر، تو یہ شجاع اس کی صفت ہے، شجاع لفظوں میں تو رجل کی صفت، لیکن ‏معنیٰ کے اعتبار سے رجل کی نہیں بلکہ اس کے متعلق یعنی اس کے بیٹے کی صفت ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے عن ثغر ألمى، ألمى لفظوں میں تو صفت ہے ثغر یعنی دانتوں کی، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے ‏دانتوں کی صفت نہیں بلکہ دانتوں سے جو متعلق ہے یعنی ہونٹوں کی یا مسوڑوں کی، شارحین نے کیا ذکر کیا یہ کس کی ‏صفت ہے؟ وہ پسندیدہ گندمی رنگ کس چیز کا پسندیدہ گندمی رنگ مراد ہے؟ کیا چیز مراد ہے؟ مسوڑے مراد ہیں یا ہونٹ ‏مراد ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وتبسم عن ثغر ألمى اللثات اور وہ مسکراتی ہے عن ثغر ایسے دانتوں کے ساتھ ألمى اللثات جن کے مسوڑے ‏گندمی رنگ والے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یا وتبسم عن ثغر وہ مسکراتی ہے ایسے دانتوں کے ساتھ ألمى الشفتين ‏اور جس کے دونوں ہونٹ کیا ہیں؟ پسندیدہ گندمی رنگ والے ہیں۔ کأن منورا، یہ منورا یہ کأن کا اسم ہے اور خبر محذوف ہے کأن به منورا، توجہ ہے؟ کأن به منورا اور به کی ہا ضمیر ‏راجع ہے ثغر کو، گویا کہ ان دانتوں میں ایک کلیوں والا گل بابونہ ہے۔ کأن به گویا کہ ان دانتوں میں ایک کلیوں والا گل ‏بابونہ ہے۔ تخلل، کہ بیچ میں ہے وہ، وہ جو گل بابونہ ہے وہ بیچ میں ہے، کس کے بیچ میں؟ حر الرمل، عمدہ خالص ریت کے۔ وہ گل ‏بابونہ کہاں پر اگا ہوا ہے؟ عمدہ خالص ریت کے بیچ میں۔ اور یہ دعص یا دعص، دعص پڑھیں تو یہ بدل ہے الرمل سے، ‏اور بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو الرمل مجرور تو دعص بھی کیا ہے؟ مجرور۔ تو بیچ میں ہے عمدہ ریت کے، یعنی اس کے ٹیلے کے۔ ریت کے بیچ میں ہے یعنی اس کے ٹیلے کے بیچ میں ہے۔ معنیٰ ‏سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ رمل سے یہ بدل ہے حر الرمل، عمدہ ریت یعنی اس کا ٹیلا بھئی۔ بھئی یہ ذرا مشکل شعر ہے، ‏توجہ سے سمجھ لیں۔ گویا کہ وہ ایسا کلیوں والا گل بابونہ ہے۔ اچھا منورا کیا بن رہا ہے؟ کأن کا اسم ہے، کأن کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع، اور خبر اس ‏کی محذوف ہے ماقبل میں کأن به منورا، تو یہ منورا کأن کا اسم ہے اور یہ دراصل صفت ہے، اس کا موصوف محذوف ‏ہے جیسے میں نے ابھی بیان کیا کأن أتحوانا منورا، کأن به أتحوانا منورا، گویا کہ اس کے دانتوں میں ایک کلیوں والا گل ‏بابونہ ہے۔ تو أتحوان ہوا موصوف جو کأن کا اسم ہے اور منورا یہ ہوئی اس کی صفتِ اول، اور تخلل حر الرمل یہ فعل آ گیا اور نکرہ ‏کے بعد فعل آ جائے تو یہ اس کے لیے صفت بنتا ہے، تو یہ صفتِ ثانی ہوئی، أتحوان موصوف نکرہ ہے، منورا صفتِ ‏اول اور تخلل حر الرمل یہ کیا ہے صفتِ ثانی، یہ پورا جملہ اس کی صفتِ ثانی ہے۔ ترجمہ سنیں، کأن به منورا گویا اس کے دانتوں میں ایسا گل بابونہ ہے جو کہ تخلل حر الرمل دعص جو بیچ میں ہے عمدہ ‏ریت کے یعنی اس کے ٹیلے کے، اس کے دانتوں میں ایسا کلیوں والا گل بابونہ ہے جو عمدہ ریت یعنی اس کے ٹیلے کے ‏بیچ میں ہے۔ له ندی، اچھا یہ تو تھا دعص پڑھیں اگر اس کو، دعص۔ اور اگر آپ چاہیں تو اس کو دعص پڑھیں، یہ بھی روایات میں آیا ‏ہے، اس صورت میں یہ خبر بنے گا ہوا کے لیے، ہوا دعص، ہوا دعص، ہوا مبتدا محذوف ہے اور دعص اس کی خبر ہے ‏اور خبر مرفوع ہوتی ہے، اور پھر اس صورت میں اس کو حال بنا دیں، حال بنا دیں، کیونکہ الرمل ہے معرفہ اور معرفہ ‏کے بعد جملہ آیا، اور معرفہ کے بعد جملہ آئے تو وہ کیا بنتا ہے؟ حال بنتا ہے۔ بہرحال ترجمہ اسی طرح رہے گا، ترجمے ‏میں فرق نہیں پڑے گا۔ اور له ندی، یہ له ہے خبرِ مقدم اور ندی یہ ہے مبتدا مؤخر، مبتدا مؤخر۔ اور یہ بھی اسی طرح حال بنا لیں دعص سے، اس ‏حال میں کہ وہ جو ریت ہے اس میں تری ہے، وہ گیلی ہے، بھیگی ہوئی ہے۔ وتبسم عن ألمى كأن منورا تخلل حر الرمل دعص له ندی۔ اور وہ میری معشوقہ جو ہے مسکراتی ہے ایسے دانتوں کے ساتھ جو کہ گندمی رنگ کے مسوڑوں والے ہیں، گویا کہ اس ‏کے دانتوں میں ایک ایسا گل بابونہ ہے جو کہ بیچ میں ہے عمدہ خالص ریت کے یعنی اس کے ٹیلے کے، له ندی اور وہ ‏جو ریت کا ٹیلا جو ہے وہ اس میں تری ہے یعنی وہ گیلا ہے، بھیگا ہوا ہے۔ تو شاعر نے اپنے معشوقہ کے دانتوں کو تشبیہ دی گل بابونہ کے ساتھ سفید ہونے میں، چمکدار ہونے میں اور خوشبودار ‏ہونے میں۔ وتخلل حر الرمل اور بتلایا، ایک تو عام گل بابونہ ہے، وہ اتنا حسین و جمیل ہوتا ہے، اور یہ گل بابونہ جس ‏کے ساتھ وہ تشبیہ دے رہا ہے، کہاں پر اگا ہوا ہے؟ خالص ریت میں، اور یقیناً وہ جو گل بابونہ جو خالص ریت میں اگا ‏ہوا ہو وہ اور عمدہ اور اعلیٰ اور خوبصورت ہو گا۔ اور کہا اس کا ریت کا ٹیلا جس پر وہ اگا ہوا ہے وہ بھیگا ہے، گیلا ‏ہے یعنی اس میں گیلا ہے، تری موجود ہے، پانی موجود ہے، تو یقیناً اس طرح کا گل بابونہ اور زیادہ تر و تازہ اور ‏سرسبز و شاداب ہو گا بھئی۔ تشبیہ سمجھ میں آ گئی؟ سقته إيائة الشمس إلا لثاته أصف ولم تقدم عليه بإثمد۔ سقى يسقي کے معنیٰ ہیں سیراب کرنا، پانی پلانا۔ إيائة الشمس، إيائة الشمس کہتے ہیں سورج کی روشنی کو، سورج کی ‏روشنی کو، سورج کی شعاع کو اور اسی طرح سورج کی کرن جو ہے اس کو إيائة الشمس کہتے ہیں۔ إيائة الشمس بھی ‏کہتے ہیں اور إياء الشمس بغیر گول تا کے، إياء الشمس یعنی الفِ مقصورہ کے ساتھ۔ إلا لثاته، لثات جمع ہے لثة کی، اور یہ مسوڑے کو کہتے ہیں۔ لثة کسے کہتے ہیں؟ مسوڑے کو۔ أصف، أصف يسف کے ‏معنیٰ ہیں سفوف چھڑکنا۔ یہ سفوف بھی اسی سے ہے بھئی، کسی چیز پر سفوف چھڑکنا، پاؤڈر چھڑکنا۔ ولم تقدم عليه، قدم يقدم کے معنیٰ ہیں دانتوں سے کسی چیز کو چبانا، کاٹنا، کسی چیز پر دانتوں سے نشان لگانا۔ إثمد، إثمد ‏کہتے ہیں سرمے کو بھئی، سرمہ۔ تو شاعر کہتا ہے سقته إيائة الشمس کہ میری معشوقہ کے جو دانت ہیں سقته ان کو سیراب کیا ہے إيائة الشمس سورج کی ‏شعاعوں نے، سورج کی کرنوں نے، اس کے دانتوں کو سورج کے کرنوں نے سیراب کیا ہے یعنی خوب چمکدار دانت ہیں ‏إلا لثاته سوائے اس کے مسوڑوں کے، کہ ان دانتوں کے جو مسوڑے ہیں ان کو، ان کا استثناء کر دیا کیونکہ دانتوں کا سفید ‏ہونا یہ تو پسندیدہ ہے، مسوڑوں کا سفید ہونا تو پسندیدہ نہیں، اس لیے اس کا استثناء کر دیا کہ مسوڑے ایسے نہیں ہیں، ‏مسوڑے سفید نہیں ہیں۔ سقته إيائة الشمس ان دانتوں کو سیراب کیا ہے إيائة الشمس سورج کی کرنوں نے إلا لثاته سوائے سوائے ان کے مسوڑوں ‏کے، أصف کہ ان پر سفوف چھڑکا گیا ہے بإثمد، یہ با زائد ہے بھئی اور یہ إثمد یہ دراصل نائب فاعل ہے أصف کا، ان پر ‏سرمہ چھڑکا گیا ہے۔ ایسے مسوڑے جن پر سرمہ، ہاں اس کے مسوڑے جو ہیں ان کا استثناء کر دیا اور کہا کہ ان پر ‏سرمہ چھڑکا گیا ہے، بھئی کیا معنیٰ سرمہ چھڑکا گیا ہے؟ بھئی یہ عرب کے ہاں طریقہ تھا بھئی، یوں سمجھیں اس ‏زمانے کی عورتوں کے میک اپ کا کوئی حصہ ہو گا، وہ اپنے مسوڑوں پر تھوڑا سا سرمہ چھڑک لیتی تھیں۔ اس کا فائدہ ‏یہ ہوتا تھا کہ مسوڑے تھوڑے سیاہی مائل ہو جاتے اور پھر دانت خوب سفید، چمکدار اور نمایاں نظر آتے تھے بھئی۔ تو کہتا ہے أصف بإثمد اس کے مسوڑوں پر سرمہ چھڑکا گیا ہے ولم تقدم عليه اور ان دانتوں سے اس نے چبایا نہیں، کسی ‏چیز کو کاٹا نہیں، کیونکہ ظاہر سی بات ہے، کیونکہ صاف ستھرے دانت ہوں اگر کسی کی کسی بھی چیز کو اس سے ‏چبائیں گے یا کاٹیں گے تو ان کا اثر دانتوں پر پڑے گا اور دانتوں کی چمک دمک میں کمی آ جائے گی، تو شاعر کہتا ہے ‏نہیں، اس نے دانتوں سے کس چیز کس چیز، کسی چیز کو چبایا یا کاٹا بھی نہیں، یعنی بڑے خوبصورت، سفید، چمکدار ‏دانت ہیں۔ سقته إيائة الشمس إلا لثاته أصف ولم تقدم عليه بإثمد، کہ اس کے دانتوں کو سورج کے کرنوں نے سیراب کیا ہے سوائے اس ‏کے مسوڑوں کے کہ ان پر سرمے کو چھڑکا گیا ہے اور اس نے ان دانتوں سے کسی چیز کو چبایا بھی نہیں۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اس کے دانتوں کو سورج کی کرنوں نے سیراب کیا ہے، کہتے ہیں یہ عرب کا دراصل ‏ایک یوں کہیں ان کے توہمات میں سے ایک چیز تھی اس کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے۔ عرب کے ہاں کسی بچے کا ‏کوئی دانت وغیرہ ٹوٹ جاتا تو صبح جب سورج طلوع ہوتا وہ اپنے اس دانت کو سورج کی طرف پھینک دیتا، اچھال دیتا ‏اور سورج سے کہتا کہ میرا یہ دانت ٹوٹ گیا ہے، اب مجھے جو تم اگلا دانت دو وہ خوب روشن اور چمکدار ہونا چاہیے ‏جس طرح تم چمکدار ہو، اسی طرح میرا دانت بھی کیا ہو؟ چمکدار ہو، یا یوں کہتا کہ یہ دانت میرا ٹوٹ گیا ہے، اگلا دانت ‏مجھے خوب خوبصورت دینا چاہے سونے کا یا چاندی کا دانت مجھے دینا بھئی۔ تو یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے ‏دانت کیا ہیں؟ خوب چمکدار ہیں جیسے ان کو کس نے سیراب کیا ہو؟ سورج کی کرنوں نے سیراب کیا ہو، وہ جو اچھال دیا ‏تھا اور سورج نے جواب میں کس طرح کا گویا دانت دے دیا اس کو بڑا ہی چمکدار جو اس کی کرنوں سے سیراب ہو چکا ‏ہے بھئی۔ اور شاعر نے اپنے معشوقہ کے تبسم کو ذکر کیا، کیونکہ تبسم یہ عورتوں کے اندر پسندیدہ ہے، وہ ہنسی جس میں صرف ‏دانت نظر آئیں اور ان میں آواز اور اس میں آواز نہ ہو، جبکہ ضحک آواز کے ساتھ جو ہنسی ہے وہ پسندیدہ نہیں۔ اور نیز ‏اس میں اشارہ کیا اپنی معشوقہ کے اپنی معشوقہ کے خندہ روئی کی طرف، گویا اس کے چہرے پر ہر وقت بشاشت اور ‏خندہ روئی رہتی ہے اور یہ پسندیدہ ہے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ اشعار ہیں بھئی، بڑی مشکل اور پیچیدہ الفاظ استعمال کرتا ہے یہ شاعر اور بڑی مشکل اور پیچیدہ تشبیہات ذکر کرتا ‏چلا جاتا ہے بھئی۔ چلیے بس هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
62 approved lectures · 44 of 62