Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 146
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَتُغْلِلْ لَكُمْ مَا لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ لَعَمْرِي لَنِعْمَ الْحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ بِمَا لَا يُؤَاتِيهِمْ حُسَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ وَكَانَ طَوَى كَشْحًا عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ فَلَا هُوَ أَبْدَاهَا وَلَمْ يَتَقَدَّمِ فَتُغْلِلْ لَكُمْ مَا لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ أَغَلَّ يُغِلُّ کا معنی ہے زمین کا غلہ اگانا۔ عربی میں کہتے ہیں أَغَلَّتِ الْأَرْضُ، زمین نے غلہ اگایا، زمین نے پیداوار دی۔ لِأَهْلِهَا، ھا ضمیر راجع ہے آگے لفظِ قُرًى آ رہا ہے بھئی قُرًى، اور قُرًى یہ جمع ہے قَرْيَةٌ کی، قَرْيَةٌ۔ اور قریہ جو ہے وہ ‏قصبے کو کہتے ہیں، قصبہ اور بستی بھئی۔ قصبہ کسے کہتے ہیں؟ جو دیہات سے ذرا بڑا ہو اور شہر سے چھوٹا ہو۔ تو ‏یہ دیہات کی بہ نسبت بڑی ذرا بستی ہو اس کو قریہ کہتے ہیں اور اس میں ضرورت کی تمام چیزیں میسر ہوتی ہیں۔ تو ‏قُرًى جمع ہے کس کی؟ قَرْيَةٌ کی۔ اور میں نے بتلایا یہ لِأَهْلِهَا کی ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ قُرًى کو۔ قُرًى جمع ہے نا اور جمع بتاویلِ جَمَاعَةٌ کس کے حکم ‏میں ہے؟ واحد مونث۔ تو لِأَهْلِهَا کے آخر میں واحد مونث کی ضمیر آ رہی ہے ھا ضمیر، یہ اس قُرًى کو راجع ہے۔ اس پر ‏آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ یہ تو ضمیر پہلے آ گئی اور مرجع بعد میں آ رہا ہے۔ تو یاد رکھیے گا، یہ قُرًى جو ہے ‏یہ فاعل ہے لَا تُغِلُّ کے لیے جو پیچھے فعل آیا بھئی۔ تو یہ لَا تُغِلُّ کے لیے فاعل ہے اور فعل کے فوراً بعد فاعل کا درجہ ہوتا ہے، فاعل کا مقام ہوتا ہے۔ تو قُرًى دیکھنے میں تو ‏یہاں ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے یہ لِأَهْلِهَا سے مقدم ہے، یعنی لَا تُغِلُّ قُرًى لِأَهْلِهَا۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ‏رتبے کے اعتبار سے یہ مقدم ہے۔ قُرًى لفظوں میں تو مؤخر لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم۔ اگر یہ رتبے کے اعتبار ‏سے بھی مؤخر ہوتا، لفظوں میں بھی مؤخر ہوتا، رتبے میں بھی مؤخر ہوتا تو پھر یہ تھا اضمار قبل الذکر اور یہ جائز ‏نہیں۔ لیکن یہ لفظوں میں تو مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے تو لہٰذا یہ کامل طور پر اضمار قبل الذکر نہیں، ‏یہ جائز ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اضمار قبل الذکر نہیں ہے، یہ جائز ہے بھئی۔ لِأَهْلِهَا یعنی أَهْلُ الْقُرَى، بستیوں والے۔ بِالْعِرَاقِ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ۔ قفیز بھئی آپ فقہ میں پڑھ چکے ہوں گے، خاص پیمانہ ہوتا ‏جس کے اندر غلے وغیرہ کو ماپا جاتا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ چیزوں کو مختلف طریقوں سے بیچا جاتا ہے، بعض چیزوں ‏کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے ایک کلو، دو کلو۔ بعض چیزوں کو گن کر بیچا جاتا ہے ایک درجن، دو درجن لیں۔ اور بعض ‏چیزوں کو ناپا جاتا ہے، ان کی پیمائش کی جاتی ہے مثلاً زمین خریدتے ہیں اتنے گز یا اتنے فٹ چوڑائی، اتنی لمبائی، یا ‏کپڑا خریدتے ہیں ایک گز یا دو گز، تو دیکھو لمبائی اس کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اور بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں ‏مقدار کو دیکھا جاتا ہے، مثلاً آپ دودھ خریدتے ہیں تو وہ ایک خاص برتن کے اندر آپ کو ماپ کر دیتا ہے کہ ایک لیٹر ‏اتنے کا ہے، دو لیٹر اتنے کا، یا پٹرول لینے جاتے ہیں تو وہ بھی اسی طرح خاص اس برتن کے حساب سے پیمائش کر ‏کے دیا جاتا ہے۔ تو اسی طرح یہ جو قفیز ہے، یہ خاص برتن تھا جس میں غلے کو ماپ کر بیچا جاتا تھا کہ ایک قفیز ایک درہم کا ہے، دو ‏قفیز لوگے دو درہم، تین قفیز لوگے تین درہم کے۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں آ گئے بھئی؟ فَتُغْلِلْ لَكُمْ مَا لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ۔ شاعر بھئی جنگ کی ‏ہولناکیاں بیان کر رہا ہے اور صلح ہوئی ہے، اس صلح کے اندر اب لوگوں کو منع کر رہا ہے کہ دیکھو تم میں سے کوئی ‏غدر نہ کرے بھئی، جنگ کی ہولناکی کو یاد رکھے، جنگ ایک چکی کی طرح ہے جو انسان کو، پورے قبیلوں کو پیس ‏کر رکھ دیتی ہے، ختم کر دیتی ہے، جنگ کی ہولناکیاں اور تباہ کاریاں بہت زیادہ ہیں۔ اور اب بطورِ استہزا کے اور بطورِ مذاق کے ان سے کہتا ہے فَتُغْلِلْ لَكُمْ کہ یہ اگر جنگ کرو گے تو یہ جنگ تمہارے لیے ‏غلہ اگائے گی، تمہارے لیے پیداوار لائے گی، مَا وہ پیداوار لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ کہ اتنا غلہ نہیں ‏اگاتیں قُرًى بستی، کون سی بستی؟ بِالْعِرَاقِ جو کہاں پر ہیں؟ عراق میں ہیں۔ عراق کو بالخصوص ذکر کیا کیونکہ عرب کا ‏علاقہ ریگستانی ہے، پیداوار بہت ہی کم یا بالکل ہے ہی نہیں، اور جبکہ عراق کا علاقہ تو بڑا ہی سرسبز و شاداب اور ‏دریا وہاں بہتے ہیں، وہاں کی سرسبزی و شادابی مشہور ہے، خوب فصلیں وہاں ہوتی ہیں تو خاص طور پر اس علاقے کو ‏ذکر کیا جہاں خوب پیداوار ہوتی ہے۔ تو کہتا ہے مَا لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا کہ اتنا غلہ نہیں اگاتیں عراق کے اندر بھی بستیاں لِأَهْلِهَا بستی والوں کے لیے، مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ ‏قفیز اور درہم کا۔ یاد رکھیے یہ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ، یہ مِنْ جو ہے یہ زائد ہے۔ کلامِ منفی ہے نا، لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ مِنْ ‏قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ۔ اور کلامِ منفی کے اندر یہ مِنْ کو زائد لے آتے ہیں بھئی، جیسے مثلاً آپ کہتے ہیں لَا أَضْرِبُ أَحَدًا، میں کسی ‏کو نہیں ماروں گا۔ لیکن یہ لَا أَضْرِبُ کلامِ منفی ہے تو اسی کے اندر عرب بعض اوقات مِنْ زائد لے آتے ہیں اور یوں ‏بولتے ہیں لَا أَضْرِبُ مِنْ أَحَدٍ۔ لَا أَضْرِبُ مِنْ؟ تو یہ مِنْ أَحَدٍ اگرچہ اس وقت مِنْ کی وجہ سے مجرور ہے لیکن معنیٰ کے ‏اعتبار سے یہ منصوب ہے، مفعول ہے، اصل کلام کیا ہے؟ لَا أَضْرِبُ أَحَدًا، توجہ ہے؟ لَا أَضْرِبُ أَحَدًا، تو معنیٰ کے اعتبار ‏سے یہ مفعول ہے اور یہ مِنْ کیا ہے؟ زائد۔ تو یہاں پر بھی مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ، یہ مِنْ زائد ہے اور قفیز اور درہم یہ معنیٰ کے ‏اعتبار سے یہ مفعول ہیں کہ لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ، کہ نہیں اگاتیں وہ بستیاں جو عراق میں ہیں بستی والوں کے لیے، ‏کیا نہیں اگاتیں؟ قفیز اور درہم۔ عراق میں جو بستیاں ہیں وہ بستی والوں کے لیے اتنے قفیز اور درہم نہیں اگاتیں جو یہ جنگ تمہارے لیے جتنے قفیز اور ‏درہم اگائے گی۔ یعنی تو جنگ تمہارے لیے جو کچھ پیدا کرے گی، جو بربادیاں، ہولناکیاں اور تباہ کاریاں پیدا کریں گی، ان ‏کی گنتی جیسے عراق کے اندر بستیاں جو اپنے بستی والوں کے لیے جتنے قفیز اور درہم اگاتی ہیں، ان کی گنتی بھی ان ‏کے سامنے ماند پڑ جائے گی، معلوم ہی نہیں ہو گی بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ بھئی زمین سے انسان پیداوار لیتا ہے تو پھر یا تو پیداوار کو خود استعمال کرتا ہے، تو دیکھو اس کو قفیز حاصل ہو رہے ‏ہیں اس غلے کے، یا اس کو بیچ کر درہم حاصل کر لیتا ہے، اس کے ذریعے اپنی دوسری ضرورتیں پوری کر لیتا ہے، تو ‏گویا زمین کی پیداوار دو طرح کی ہو گئی یا قفیز ہیں یا درہم ہیں بھئی۔ تو شاعر کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ دیکھو یہ جنگ اتنی خوفناک چیز ہے اور اس سے تم غدر نہ کرنا، معاہدہ ہو گیا ہے، صلح ‏ہو گیا ہے، اب اس صلح کو خراب کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اگر تم نے اس جنگ کو بیدار کیا اور پھر دوبارہ جنگ ‏شروع کی تو یہ جنگ تمہارے لیے اتنا غلہ اگائے گی کہ عراق کی جو بستیاں ہیں وہ بھی اپنے رہنے والوں کے لیے اتنے ‏قفیز اور درہم نہیں اگاتیں جتنا غلہ کیا اگائے گی؟ یہ جنگ اگائے گی۔ اور غلے سے کیا مراد ہے یہاں؟ کیا اگائے گی یہ ‏جنگ؟ یعنی تباہیاں، ہولناکیاں، بربادیاں اور نقصانات جو یہ پیدا کرے گی، ان کی گنتی اتنی زیادہ ہو گی کہ عراق کی ‏بستیاں جتنے قفیز اور درہم پیدا کرتی ہیں ان کی گنتی بھی ان کی گنتی کے سامنے کچھ معلوم نہیں ہو گی بھئی۔ معنیٰ سمجھ ‏میں آ گیا؟ تو یہ استہزا کر رہا ہے کہ دیکھو جنگ سے بچنا بھئی، اگر تم نے اس کو برانگیختہ کیا اور شروع کیا تو یہ اتنی پیداوار ‏تمہیں دے گی کہ اور کوئی دنیا کی کوئی زمین اپنے مالکوں کو اتنی پیداوار نہیں دیتی، لیکن وہ تو پیداوار دیتی ہیں قفیز ‏اور درہم کی اور یہ جنگ کس طرح کی پیداوار دے گی؟ تباہیوں کی اور بربادیوں کی پیداوار دے گی۔ یا معنیٰ یہ ہے استہزا، یہ بھی استہزا ایک معنیٰ میں نے بیان کر دیا۔ کہ یہ جنگ تمہیں کیا کرے گی؟ پیداوار دے گی، لیکن ‏پیداوار سے کیا مراد ہے؟ کوئی نفع مراد ہے یا نقصان مراد ہے؟ نقصان۔ دوسری صورت کہ نفعے سے نفعے سے نفع ہی ‏مراد لے لیں بطورِ استہزا کے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر تم نے اس جنگ کو بیدار کیا تو یہ تمہیں اتنے فائدے دے دے گی کہ ‏وہ زمینیں جو سرسبز و شاداب ہیں وہ بھی اپنے مالکوں کو اتنا نفع نہیں دیتیں۔ اس کی وجہ سے تمہیں اتنے قفیز اور درہم ‏حاصل ہو جائیں گے کہ وہ درہم زمینوں سے حاصل نہیں ہوتے۔ کیسے؟ کہ اس جنگ، جب جنگ تم شروع کر دو گے تو ‏ظاہر سی بات ہے کہ تمہارے سینکڑوں ہزاروں لوگ اس کے اندر مارے جائیں گے اور تمہیں ان کی دیتیں حاصل ہوں گی ‏اور سینکڑوں کے حساب سے تمہیں اونٹ حاصل ہوں گے۔ تو اگر تم نے یہ جنگ شروع کی تو تمہیں اس سے اتنا مال و ‏دولت مل جائے گا کہ وہ زمینیں بھی اپنے مالکوں کو اتنا مال و دولت نہیں دیتیں بھئی، تو یہ بطورِ استہزا کے کہہ رہا ہے ‏کہ تمہیں اس سے مال تو بہت زیادہ ملے گا کہ اس مال کے سامنے اس زمینوں کی پیداوار بھی کسی قابل نہیں، لیکن یہ مال ‏دیتوں کی شکل میں تمہیں ملے گا بھئی۔ اور مقصد وہی ہے استہزا کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ استہزا کر رہا ہے، مذاق ‏اڑا رہا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو ایسا ہو گا، مال تو بہت ملے گا لیکن سب کچھ تباہ ہو جائے گا اور سب کچھ ملیا میٹ ‏ہو جائے گا۔ اور جتنے مردے زیادہ ہوں گے تمہاری دیتیں بھی اتنی زیادہ ہوں گی، بڑا مال حاصل ہو گا بھئی، یہ جنگ ‏ایسی چیز ہے بھئی۔ تو یہ بطورِ استہزا کے کہہ رہا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ فَتُغْلِلْ لَكُمْ مَا لَا تُغِلُّ لِأَهْلِهَا قُرًى بِالْعِرَاقِ مِنْ قَفِيزٍ وَدِرْهَمِ۔ تو یہ جنگ تمہارے لیے پیداوار لائے گی، ‏اتنا غلہ لائے گی کہ اتنا غلہ عراق کی بستیاں بھی اپنے رہنے والوں کے لیے نہیں لائیں قفیز اور درہم کا۔ لَعَمْرِي لَنِعْمَ الْحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ بِمَا لَا يُؤَاتِيهِمْ حُسَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ لَعَمْرِي، یہ ہے مبتدا اور قَسَمِي، یہ خبر محذوف ہے۔ اور یہ عرب کے ہاں طریقہ رائج ہے، وہ کلام کو حسین بنانے کے ‏لیے یہ قسم لاتے ہیں کلام کے اندر بھئی۔ البتہ شریعت میں خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں۔ خالق کے ‏لیے جائز ہے وہ جس چیز کی بھی قسم کھائے، لیکن مخلوق کے لیے جائز نہیں کہ وہ خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم ‏اٹھائے بھئی۔ اور عمر سے مراد عمر ہے، انسان وہ جو حصہِ زندگی دنیا میں گزارتا ہے جو اس کی عمر ہے، اسی کو ‏بعض اوقات عین کے فتحہ کے ساتھ بطورِ تخفیف کے، عین کے فتحہ کے ساتھ اس کو بولا جاتا ہے۔ تو لَعَمْرِي، قسم فتحہ ‏کے ساتھ پڑھتے ہیں تخفیف کے طور پر لَعَمْرِي، تو لَعَمْرِي میری عمر، قَسَمِي یہ خبر محذوف ہے کہ میری قسم کس چیز ‏کی ہے؟ میری عمر کی ہے، یعنی میں اپنی عمر کی قسم کھاتا ہوں۔ میں اپنی عمر کی، میں نے بتلایا یہ عمر، یہ وہی عمر ‏ہے جس کو انسان دنیا میں جتنا عرصہ رہتا ہے، آپ بھی اردو میں استعمال کرتے ہیں آپ کی عمر کتنی ہے؟ یعنی اس دنیا ‏میں آپ کا عرصہِ حیات اب تک کتنا ہوا ہے؟ اسی کی قسم عربی کلام میں اٹھائی جاتی ہے اور تو اور پھر قسم کی صورت ‏میں اس کو عُمر نہیں پڑھتے عَمْر، عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں تخفیف کے لیے کیونکہ فتحہ اخف الحركات ہے۔ تو ‏لَعَمْرِي، یہ شاعر اپنی عمر کی قسم اٹھا رہا ہے، میں اپنی عمر کی قسم کھاتا ہوں لَنِعْمَ الْحَيُّ۔ حیّ، حیّ قبیلے کو کہتے ہیں قبیلے کو بھئی۔ جَرَّ عَلَيْهِمُ، جَرَّ عَلَيْهِمُ کا معنی ہے کسی کے خلاف جنایت کرنا، کسی کے ‏خلاف جرم کرنا، کسی کے خلاف گناہ کرنا بھئی۔ لَا يُؤَاتِيهِمْ، آسَى يُؤَاتِي کے معنی ہیں موافقت کرنا، موافقت کرنا، کسی ‏کے موافق ہونا۔ حُسَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ۔ یاد رکھیے یہ جو جنگ ہوئی تھی، قبیلہ عبس اور ذبیان میں ہوئی تھی۔ تو یہ حسین ابن ضمضم جو ہے، یہ قبیلہ ذبیان سے ‏تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بھئی حریم ابن ضمضم کو جنگ میں کسی شخص نے قتل کر دیا تھا، ظاہر سی بات ہے جنگ ہو ‏رہی ہے، دونوں طرف کے افراد قتل کر رہے ہیں، تو اس کے بھئی کو بھی اس جنگ میں کسی نے قتل کر دیا۔ تو اس نے ‏عہد کر لیا کہ میں اپنے بھئی کے قتل کا بدلہ ہر حال میں لوں گا۔ اور پھر اسی دوران صلح کی باتیں شروع ہو گئیں، صلح ‏ہوئی قبیلوں کے اندر تو یہ صلح کے اندر بھی شامل نہیں ہوا، چھپ گیا کہ مجھے معاہدہ نہ کرنا پڑے، میں نے اپنے بھئی ‏کے قاتل کو کسی صورت نہیں چھوڑنا، اس کا بدلہ میں ضرور لوں گا، چاہے اس قاتل کو مار دوں یا اس قبیلے کے کسی ‏اور خاص آدمی کو میں مار دوں کہ بھئی کے برابر خون کا بدلہ ہو جائے۔ چنانچہ یہ چھپ گیا اور ادھر یہ صلح کی باتیں چل رہی تھیں، قبیلہ عبس وغیرہ کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے وہ جو ‏حارث ابن عوف سردار تھا بھئی، ایک دو سرداروں کی تعریف میں ہے نا یہ قصیدہ، ایک حریم ابن سنان اور ایک حارث ‏ابن عوف۔ تو یہ حارث ابن عوف کے پاس غالباً قبیلہ عبس کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے صلح کی بات چیت چل رہی ہے، ‏تقریباً صلح ہو چکی ہے تو کچھ باتیں چل رہی ہوں گی، اور اسی دوران اس شخص نے موقع پا کر قبیلہ عبس کے ایک ‏آدمی کو وہاں پر قتل کر دیا۔ اب جب قتل کیا تو پھر اسی طرح آگ کی چنگاری بھڑک اٹھی، قبیلہ عبس والے سارے لڑنے ‏کے لیے نکل آئے تلواریں لے کر کہ اب ہم اس شخص کا بدلہ ضرور لیں گے اور وہاں سے نکلے اور چل پڑے کہ ہم نے ‏جا کر اس حارث ابن عوف جو سردار ہے اس کو قتل کرنا ہے۔ ہمارے لوگ اس کے پاس گئے ہوئے تھے، یہ اس نے ‏سازش کی اور ان کو بلوایا اور قتل کروا دیا۔ تو چنانچہ حارث ابن عوف کو پتہ چلا تو اس نے اپنے بیٹے کو 100 اونٹ دے کر قبیلہ عبس کی طرف بھیجا۔ وہ تو اس ‏غداری کے اندر شریک نہیں تھا، وہ تو صلح کی بات کر رہا تھا۔ اسے کیا پتہ تھا کہ فلاں آدمی نے دل کے اندر کینہ چھپا ‏رکھا ہے، وہ چھپ کر حملہ کرے گا اور کسی کو قتل کر دے گا۔ چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو 100 اونٹ دے کر قبیلہ ‏عبس کی طرف بھیجا اور وہ جنگ کے لیے نکل رہے ہیں۔ تو بیٹا وہ 100 اونٹ لے کر ان کے پاس پہنچا اور اس حارث ابن عوف کا پیغام بھی پہنچایا گیا ان کو، قبیلہ عبس والوں ‏کو۔ حارث ابن عوف نے ان کو پیغام بھیجا کہ دیکھو، اگر تم تمہارا یہ خیال ہے کہ میں غداری میں شریک ہوں اور تم اپنے ‏مقتول کا بدلہ لینا چاہتے ہو، تو میں اپنا بیٹا بھیج رہا ہوں، اس کو قتل کر کے تم اپنا بدلہ لے سکتے ہو۔ اور اگر تم دیت لینا ‏چاہتے ہو، تو میں 100 اونٹ بھی بھیج رہا ہوں، اگر تم وہ لینا چاہو تو وہ لے لو۔ تو چنانچہ ان لوگوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہاں، معلوم ہوا یہ شخص قتل میں شریک نہیں تھا، ورنہ وہ ‏اپنے بیٹے کو اس طرح نہ بھیجتا۔ چنانچہ انہوں نے اونٹوں کی دیت وہ لے قبول کر لی اور اس کے بیٹے کو چھوڑ دیا۔ تو ‏اسی پر تعریف کر رہا ہے شاعر اس قبیلے والوں کی اور وہ واقعے کی طرف اشارہ کر رہا ہے بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ لَعَمْرِي لَنِعْمَ الحَيُّ جُرَّ عَلَيْهِمُ بِمَا لاَ يُؤَاتِيهِمْ حُصَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ جُرَّ عَلَيْهِمُ، یہاں پھر میم پر اشباع کرنا ہے، ضمہ پڑھنا ہے اور ساتھ واؤ بھی، تو اس پر الٹا پیش ڈال لیں بھئی۔ لَعَمْرِي لَنِعْمَ الحَيُّ جُرَّ عَلَيْهِمُ میری عمر کی قسم، یعنی میری زندگی کی قسم، لَنِعْمَ الحَيُّ، کیا ہی خوب اچھا قبیلہ ہے وہ! قبیلہ عبس کی تعریف کر رہا ہے ‏شاعر بھئی۔ کیا ہی خوب اچھا قبیلہ ہے۔ دیکھو جنگ پھر بھڑکنے لگی تھی، ابھی جنگ ختم نہیں، صلح پوری ہوئی نہیں، ‏پھر ایک آدمی مارا گیا اور وہ جنگ کے بجائے 100 اونٹ لے کر پھر بھی کہہ دیں چلو ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔ تو یہ ‏اچھائی ہے یا نہیں ہے اس قبیلے کی؟ ابھی تو دلوں کی آگ پوری طرح بجھی نہیں ہے اور پھر کوئی آ کر قتل کر جائے تو ‏یقیناً کوئی اور قبیلہ ہوتا وہ کہتا جو بھی ہو جائے ہم نے اب جنگ، اب صلح ختم، اب ہم جنگ پھر کریں گے ان لوگوں ‏سے۔ تو کہتا ہے: لَعَمْرِي، میری عمر کی قسم، لَنِعْمَ الحَيُّ، کیا ہی خوب قبیلہ ہے وہ، یعنی قبیلہ عبس۔ جُرَّ عَلَيْهِمُ، ان کے خلاف ‏جرم کا ارتکاب کیا، ان کے خلاف جنایت کی۔ کس نے جنایت کی؟ آگے فاعل آ رہا ہے: حُصَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ، حسین ابن زمزم ‏نے ان کے خلاف جنایت کی، جرم کا ارتکاب کیا۔ بِمَا لاَ يُؤَاتِيهِمْ، ایسی چیز کے ساتھ لاَ يُؤَاتِيهِمْ کہ وہ ان کے موافق نہیں ‏ہے۔ وہ ان کے موافق نہیں ہے۔ یعنی وہ لاَ يُؤَاتِي یہ هِمْ ضمیر، یہ جو هُمْ ضمیر ساتھ جڑی ہوئی ہے، یہ مفعول ہے، لاَ يُؤَاتِي، ‏وہ موافق نہیں ہے هُمْ، ان کے۔ کون موافق نہیں ہے؟ حسین ابن زمزم۔ حسین ابن زمزم، لاَ يُؤَاتِي کے اندر ضمیر ہے جو ‏کس کو لوٹ رہی ہے؟ حسین ابن زمزم کو۔ اور یہ حسین ابن زمزم مرفوع ہے، یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ جُرَّ عَلَيْهِمُ، ابھی ‏میں نے بتایا، جُرَّ عَلَيْهِمُ، یہ جُرَّ فعل جو آیا، یہ حسین ابن زمزم اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔ اور آگے فعل آ رہا ہے لاَ ‏يُؤَاتِيهِمْ، یہ لاَ يُؤَاتِي کے اندر فاعل کی جو ضمیر ہے، هُوَ ضمیر، وہ بھی کس کو راجع؟ حسین ابن زمزم۔ اس پر پھر آپ کے ذہنوں میں وہی اشکال آئے گا کہ یہ تو ضمیر پہلے آ گئی، مرجع بعد میں آ رہا ہے، تو جواب گزر چکا ‏کہ بھئی حسین ابن زمزم لفظوں میں اگرچہ مؤخر ہے لیکن یہ کس کے لیے فاعل ہے؟ جُرَّ کے لیے، تو اس کا مقام جُرَّ کے ‏فوراً بعد ہے، تو لفظوں میں مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، لہٰذا اس کی طرف ضمیر کا لوٹانا ٹھیک ہے۔ تو وہ موافق نہیں تھا، حسین ابن زمزم موافق نہیں تھا هُمْ، ان لوگوں کے۔ ان لوگوں کے موافق نہیں تھا۔ اب هُمْ ضمیر سے ‏کیا مراد ہے؟ دونوں احتمال لے سکتے ہیں آپ۔ اپنے قبیلے والے، هُمْ ضمیر سے کون مراد ہیں؟ اس حسین ابن زمزم کے ‏اپنے قبیلے والے یعنی قبیلہ ذبیان والے۔ حسین ابن زمزم اپنے قبیلے والوں کے موافق نہیں تھا، توجہ ہے؟ کیا معنی موافق ‏نہیں تھا؟ یعنی اس نے تو جنایت کی ہے، اس نے تو دل میں کینہ چھپایا ہوا تھا، یہ تو صلح نہیں کرنا چاہ رہا تھا، لیکن یہ ‏اپنے قبیلے کے موافق نہیں ہے۔ معلوم ہوا وہ تو صلح ہی چاہ رہے ہیں، انہوں نے کسی قسم کی غداری نہیں کی، یہ ان سے ‏ہٹ کر اس نے خود اپنی مرضی سے ایک فعل کیا ہے۔ تو یہ ان کے موافق نہیں ہے، یہ تو غدر کر گیا لیکن انہوں نے ‏کوئی غدر نہیں کیا۔ یا هُمْ ضمیر لوٹا دیں قبیلہ عبس کو کہ حسین ابن زمزم یہ قبیلہ عبس والوں کے موافق نہیں ہے، وہی معنی۔ یعنی اس نے تو ‏غدر کیا ہے لیکن قبیلہ عبس والے اس کے موافق نہیں، یعنی ان کے دلوں میں کسی قسم کا کوئی غدر، کینہ وغیرہ نہیں ہے ‏کہ وہ غدر کر جائیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ ان کے موافق نہیں ہے، یعنی اس نے تو غدر کیا ہے لیکن وہ لوگ غدر ‏والے نہیں ہیں، انہوں نے غدر نہیں کیا، یہ اس کا اپنا ذاتی فعل ہے۔ لَعَمْرِي لَنِعْمَ الحَيُّ جُرَّ عَلَيْهِمُ بِمَا لاَ يُؤَاتِيهِمْ حُصَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ میری عمر کی قسم، کیا ہی اچھا قبیلہ ہے وہ، یعنی قبیلہ عبس۔ جُرَّ عَلَيْهِمُ، ان پر جنایت کی حسین ابن زمزم نے ایسی چیز ‏کے ساتھ کہ وہ اس کے ساتھ موافق کہ حسین ابن زمزم ان کے ساتھ اس چیز میں موافق نہیں ہے، یعنی اس غدر میں۔ معنی ‏سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ وَكَانَ طَوَى كَشْحاً عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا وَلَمْ يَتَقَدَّمِ طَوَى يَطْوِي کے معنی ہیں لپیٹنا، لپیٹنا۔ اور قرآن میں بھی ہے: وَيَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ، جس دن ہم آسمان کو کیا کر لیں گے؟ ‏لپیٹ لیں گے۔ كَشْحٌ، كَشْحٌ پہلو کو کہتے ہیں بھئی، پہلو۔ یہ پسلیوں کے نیچے والا حصہ بھئی، میں نے بتلایا تھا، ذکر کیا تھا، کوکھ کو ‏بھئی۔ تو بہرحال پہلو اور جانب مراد۔ طَوَى كَشْحاً، تو طَوَى کا کیا معنی؟ لپیٹنا۔ اور كَشْحٌ کا کیا معنی؟ پہلو۔ عربی میں ‏کہتے ہیں: طَوَيْتُ عَنْهُ الْكَشْحَ، میں نے پہلو کو اس سے موڑ لیا۔ میں نے پہلو کو، یعنی میں نے اس سے پہلو تہی کی، ‏اعراض کیا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ اور اگر اس کا صلہ عَلَى آ جائے، طَوَى كَشْحاً عَلَى كَذَا، جیسے یہاں پر ہے: طَوَى كَشْحاً عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ، اگر اس کا صلہ عَلَى آ ‏جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے کوئی چیز چھپانا، کوئی چیز دل میں رکھنا۔ مُسْتَكِنَّةٌ، یاد رکھو كَنَّ يَكِنُّ كَنّاً کے معنی ہیں چھپنا بھئی، چھپنا۔ چھپنا، كَنَّ يَكِنُّ، ضَرَبَ يَضْرِبُ۔ اور كَنَّ يَكُنُّهُ باب نَصَرَ، تو ‏اس کا معنی ہے چھپانا۔ میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ مضاعف اگر باب ضَرَبَ سے آئے تو وہ لازم ہوگا اور اگر ‏باب نَصَرَ سے آئے تو وہ متعدی ہوگا۔ دو لفظ یاد رکھیں، ضابطہ یاد رہے گا۔ فَرَّ يَفِرُّ، دیکھو باب ضَرَبَ سے ہے اور اس ‏کا معنی ہے بھاگنا اور یہ ہے فعل لازم۔ اور مَدَّ يَمُدُّ، یہ ہے باب نَصَرَ سے اور یہ ہے متعدی۔ مَدَّ يَمُدُّ کا معنی لمبا کرنا، ‏کھینچنا، تو مفعول چاہیے، کس چیز کو لمبا کیا، کس چیز کو کھینچا؟ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو كَنَّ يَكِنُّ اگر باب ضَرَبَ سے ‏ہو تو کیا معنی؟ چھپنا، لازمی ہے، خود چھپنا۔ اور كَنَّ يَكُنُّ اگر باب نَصَرَ سے ہو تو کیا معنی؟ چھپانا، اس کے لیے مفعول ‏چاہیے۔ اور اسی سے ہے مَكْنُون بھئی، قرآن میں آتا ہے: فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ۔ مَكْنُون کہتے ہیں چھپائی ہوئی چیز۔ مَكْنُون کا کیا معنی؟ ‏چھپائی ہوئی چیز، یعنی جو پوشیدہ ہو، پوشیدہ ہو۔ اور اسی سے ہے اِسْتَكَنَّ۔ اِسْتَكَنَّ کے معنی بھی چھپنے کے ہیں، چھپنے ‏کے۔ تو اسی سے ہے مُسْتَكِنٌّ، چھپنے والا، اور مُسْتَكِنَّةٌ، چھپی ہوئی چیز۔ اور یہ کینے اور بغض کو کہتے ہیں، کینہ اور ‏بغض۔ اور اس کو مُسْتَكِنَّةٌ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ کینہ اور بغض بھی دل میں چھپا ہوا ہوتا ہے، بظاہر معلوم نہیں ‏ہوتا، دکھائی نہیں دیتا، پتہ نہیں چلتا۔ فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا، أَبْدَى يُبْدِي کے معنی ہیں ظاہر کرنا، ظاہر کرنا۔ وَلَمْ يَتَقَدَّمِ، تقدم کا معنی ہے پیش قدمی کرنا، پیش قدمی کرنا۔ وَكَانَ طَوَى كَشْحاً عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا وَلَمْ يَتَقَدَّمِ وَكَانَ، هُوَ ضمیر اس میں راجع ہے حسین ابن زمزم کو۔ اور وہ جو حسین ابن زمزم تھا، طَوَى كَشْحاً عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ، اس نے ‏کینے کو دل میں چھپایا۔ اس نے کیا کیا تھا؟ کینے کو دل میں چھپایا تھا، فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا، نہ تو اس نے اس کو ظاہر کیا، وَلَمْ ‏يَتَقَدَّمِ، اور نہ اس پر کوئی پیش قدمی کی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ شاعر کہہ رہا ہے کہ بھئی دیکھو غدر نہ کرنا، حسین ابن زمزم نے آگ بھڑکانے کی کوشش ‏کی، جنگ کی آگ لگانے کی کوشش کی لیکن اس میں اس کا قبیلہ اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس نے اپنے دل میں کینہ ‏چھپا کر رکھا تھا، نہ تو اس نے اس کو ظاہر کیا، کسی کے سامنے اس کا ذکر بھی نہیں کیا، ظاہر کر دیتا، کسی کے ‏سامنے ذکر کر دیتا تو پتہ چل جاتا اور ہم خیال رکھتے ایسا واقعہ پیش نہ آتا، اور وَلَمْ يَتَقَدَّمِ، اس نے کوئی پیش قدمی بھی ‏نہیں کی، یعنی کوئی اپنے عمل کے ذریعے بھی اس کا پتہ نہیں چلنے دیا، اگر اس نے زبان کے بجائے عمل سے ہی کسی ‏طرح کوئی ایسا قدم پہلے اٹھانے کی کوشش کی ہوتی تو ہمیں پتہ چل جاتا اور اس واقعے سے جو قتل کی، جو قتل ہو گیا، ‏اس سے بچاؤ ممکن ہوتا، لیکن نہ تو اس نے کسی سے زبان سے ذکر کیا اور نہ ہی اپنے کسی عمل کے ذریعے اس کینے ‏کا اظہار کیا اور اسی لیے کسی کو پتہ نہ چلا اور یہ واقعہ پیش آیا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَكَانَ طَوَى كَشْحاً عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا وَلَمْ يَتَقَدَّمِ اور اس نے، حسین ابن زمزم نے اس کینے اور بغض کو اپنے دل میں چھپا کر رکھا، نہ تو فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا وَلَمْ يَتَقَدَّمِ، نہ تو ‏اس نے اس کو ظاہر کیا یعنی زبان وغیرہ سے، وَلَمْ يَتَقَدَّمِ، اور نہ اس پر پیش قدمی کی یعنی عمل وغیرہ کے ذریعے سے۔ وَقَالَ سَأَقْضِي حَاجَتِي ثُمَّ أَتَّقِي عَدُوِّي بِأَلْفٍ مِنْ وَرَائِيَ مُلْجَمِ قَضَى يَقْضِي کے معنی ہیں پورا کرنا۔ حاجت کہتے ہیں ضرورت کو۔ أَتَّقِي، اِتَّقَى يَتَّقِي کے معنی بچنا۔ عَدُوِّي، میرا دشمن۔ ‏وَرَائِي، وَرَائِي کا معنی میرے پیچھے۔ وَرَاء کا معنی ہوتا ہے پیچھے، کسی چیز کے پیچھے، چاہے وہ سامنے کی طرف ‏ہو یا پیچھے کی طرف، مثلاً کوئی شخص آپ کے سامنے دیوار کے پیچھے ہے تو کہیں گے: هُوَ وَرَاءَ الْجِدَارِ، وہ دیوار ‏کے پیچھے۔ تو وَرَاء کا معنی کسی چیز کے پیچھے جو ہو۔ تو وَرَائِي، میرے پیچھے۔ مُلْجِم یا مُلْجَم، أَلْجَمَ يُلْجِمُ، اس کا معنی ہے لگام پہنانا، لگام۔ عربی میں چونکہ گاف نہیں ہے تو وہ گاف کو کس سے بدل دیا ‏جاتا ہے؟ جیم سے۔ تو لجام عربی میں لگام کو کہتے ہیں، فارسی سے یہ لفظ آیا ہے۔ اسی سے فعل بنا لیا: أَلْجَمَ يُلْجِمُ، لگام ‏پہنانا، کسی جانور اور حیوان کو لگام پہنانا۔ تو أَلْجَمَ يُلْجِمُ، اس میں فاعل کیا آئے گا؟ مُلْجِم، لگام پہنانے والا۔ اور اس میں مفعول کیا آئے گا؟ مُلْجَم، جس کو لگام پہنائی ‏گئی۔ اور یاد رکھیے شعر میں دونوں روایتیں آئی ہیں، مُلْجِم بھی اور مُلْجَم بھی۔ اگر یہ مُلْجِم ہو تو معنی ہے لگام پہنانے ‏والا، یعنی وہ سوار مراد ہے۔ سواری کو لگام کون پہناتا ہے؟ وہی سوار، تو وہ سوار مراد ہے، شہسوار۔ اور اگر مُلْجَم ‏پڑھیں تو جس کو لگام پہنائی گئی، یعنی وہ گھوڑے مراد ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَقَالَ سَأَقْضِي حَاجَتِي ثُمَّ أَتَّقِي اور حسین ابن زمزم نے کہا کہ عنقریب میں اپنی حاجت پوری کر لوں گا۔ کس نے کہا؟ ہاں، تو پیچھے تو آیا تھا کسی سے ‏اس نے ذکر ہی نہیں کیا، اب آگے آ رہا ہے اس نے کہا میں اپنی حاجت پوری کر لوں گا۔ بھئی معنی یہ ہے اس نے اپنے ‏دل میں کہا ہے، اپنے آپ سے کہا ہے، یعنی سوچا اس نے کہ سَأَقْضِي حَاجَتِي، یعنی اس نے یہ سوچا ہوگا۔ شاعر کیا بتلا ‏رہا ہے کہ اس نے یہ سوچا ہوگا: وَقَالَ، اور اس نے کہا: سَأَقْضِي حَاجَتِي، میں عنقریب اپنی حاجت پوری کر لوں گا۔ کون ‏سی حاجت؟ وہ جو میں نے اپنے بھئی کے قتل کا بدلہ لینا ہے، وہ اس نے اپنے دل میں سوچا ہوگا۔ وَقَالَ سَأَقْضِي حَاجَتِي، اور اس نے کہا اپنے دل میں کہ میں عنقریب اپنی حاجت پوری کر لوں گا، ثُمَّ أَتَّقِي، پھر میں بچ جاؤں ‏گا، عَدُوِّي، اپنے دشمن سے، بِأَلْفٍ، ایک ہزار کے ذریعے، مِنْ وَرَائِيَ، میرے پیچھے جو ہیں، مُلْجِمِ، شہسوار۔ تو میں اب بچ جاؤں گا اپنے دشمن سے ایک ہزار شہسواروں کے ذریعے جو میرے پیچھے ہیں، یعنی میرے قبیلے والے۔ ‏یہ اس صورت میں مُلْجِم کیا معنی کیا؟ شہسوار۔ کس کے ذریعے میں بچوں گا؟ ایک ہزار شہسواروں کے ذریعے یعنی جو ‏میرے قبیلے والے ہیں۔ یا مُلْجَم پڑھ لیں، میں بچ جاؤں گا اپنے دشمن سے ایک ہزار گھوڑوں کے ذریعے جن کو لگام ‏پہنائی گئی ہے، یعنی میرے قبیلے والے جو ہیں ان کے جو گھوڑے تیار کیے ہوئے ہیں ایک ہزار جو میری پشت پر ہیں ‏وہ میری مدد کریں گے، ان کے ذریعے میں بچ جاؤں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَقَالَ سَأَقْضِي حَاجَتِي ثُمَّ أَتَّقِي عَدُوِّي بِأَلْفٍ مِنْ وَرَائِيَ مُلْجِمِ اور اس نے کہا عنقریب میں اپنی حاجت پوری کر لوں گا، پھر میں اپنے دشمن سے بچ جاؤں گا اپنے پیچھے ایک ہزار ‏شہسواروں کے ذریعے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
62 approved lectures · 35 of 62