Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-047

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 127
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فَطَوْرًا بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ وَتَارَةً ‏‎‏ عَلَى حَشَفٍ كَالشَّنِّ ذَاوٍ مُجَدَّدِ‏ لَهَا فَخِذَانِ أُكْمِلَ النَّحْضُ فِيهِمَا ‏‎‏ كَأَنَّهُمَا بَابَا مُنِيفٍ مُمَرَّدِ‏ وَطَيُّ مَحَالٍ كَالْحَنِيِّ خُلُوفُهُ ‏‎‏ وَأَجْرِنَةٌ لُزَّتْ بِدَأْيٍ مُنَظَّدِ‏ طرفۃ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور تشبیہ کے بعد شاعر اپنی اونٹنی کی تعریف کر رہا ہے اور اس کی مختلف صفات ‏بیان کرتا جا رہا ہے۔ اور آگے وہ کہتا ہے، فَطَوْرًا بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ وَتَارَةً عَلَى حَشَفٍ كَالشَّنِّ ذَاوٍ مُجَدَّدِ۔ طَوْرًا، طور وقت کے لیے آتا ہے بمعنی ‏کبھی کے اور مرتبہ کے۔ کبھی یا مرتبہ۔ خَلْفَ الزَّمِيلِ، خلف کا معنی پیچھے، زمیل، زمیل کہتے ہیں سواری پر پچھلا سوار ‏جو ہو اس کو زمیل کہتے ہیں۔ مثلاً سواری پر دو آدمی سوار ہیں، تو جو پیچھے بیٹھا ہوا ہے اس کو زمیل کہیں گے۔ اسی ‏طرح زمیل کے لیے ایک اور لفظ ہے ردیف بھئی، ردیف۔ ردیف بھی جو پچھلا سوار ہو اس کو کہتے ہیں بھئی۔ وَتَارَةً، تارۃ کا بھی وہی معنی جو طوراً کا تھا، وقت کے لیے آتا ہے بمعنی کبھی کے یا مرتبہ کے۔ عَلَى حَشَفٍ، حشف ‏کہتے ہیں سوکھے تھن کو، خشک تھن جو ہے، سوکھا تھن، اس کو حشف کہتے ہیں۔ كَالشَّنِّ، شن کہتے ہیں پرانے مشکیزے ‏کو، پرانا مشکیزہ، مشکیزہ جس میں پانی وغیرہ بھرا جاتا ہے چمڑے کا، تو پرانا مشکیزہ شن۔ ذَاوٍ، ذوی یذوی کے معنی ‏ہیں خشک بھئی، خشک، دبلا پتلا، سوکھا ہوا، ذَاوٍ اسم فاعل ہے۔ مُجَدَّدِ، مجدد جس کا دودھ خشک ہو گیا ہو، جس کا دودھ ‏منقطع ہو گیا ہو، یعنی وہ تھن جس کا دودھ خشک ہو گیا ہے، منقطع ہو گیا ہے۔ فَطَوْرًا بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ وَتَارَةً عَلَى حَشَفٍ كَالشَّنِّ ذَاوٍ مُجَدَّدِ۔ گزشتہ شعر کے اندر شاعر بیان کر رہا تھا کہ میری جو اونٹنی ‏ہے، اس کی دم کے اطراف پر بال یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے کہ اس کے اطراف میں بڑے گدھ کے دو پر جو ہیں ستالی ‏کے ساتھ سی دیے گئے ہوں۔ اور آگے کہتا ہے فَطَوْرًا بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ، تو کبھی کبھار تو وہ اس بهِ اس دم کے ذریعے خَلْفَ الزَّمِيلِ، پچھلے سوار کے ‏پیچھے، کبھی تو اس دم کے ذریعے پچھلے سوار کے پیچھے وَتَارَةً عَلَى حَشَفٍ كَالشَّنِّ ذَاوٍ مُجَدَّدِ اور کبھی خشک تھن جو ‏پرانے مشکیزے کی طرح ہیں سوکھے ہوئے ہیں اور جن کا دودھ منقطع ہو چکا ہے ان کے پیچھے۔ کبھی پچھلے سوار ‏کے پیچھے اور کبھی خشک تھنوں کے پیچھے، اور فعل ذکر نہیں کیا، فعل خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی کبھی اس ‏دم کو مارتی ہے پچھلے سوار کے پیچھے اور کبھی اپنے خشک تھنوں پر وہ دم مارتی ہے بھئی۔ تو فعل ضرب کو حذف کر دیا۔ فَطَوْرًا يَضْرِبُ بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ فَطَوْرًا يَضْرِبُ بِهِ، تو کبھی کبھار ‏تو وہ اس دم کے ساتھ مارتی ہے خَلْفَ الزَّمِيلِ، کس کے پیچھے؟ پچھلے سوار کے پیچھے۔ پچھلے سوار کے پیچھے مراد ‏اونٹنی کے اپنے بدن کا حصہ ہے، یہ معنی نہیں کہ اس پر کوئی سوار پچھلا بیٹھا ہوا ہے، ایک سوار آگے اور ایک سوار ‏پیچھے، نہیں۔ ظاہر سی بات ہے اونٹنی پر دو سوار بیٹھ گئے، پچھلے سوار کے پیچھے جو اس کے بدن کا آخری حصہ ہے وہ مراد ہے ‏کہ کبھی اپنے اپنی دم کو اپنے بدن کے اس حصے پر مارتی ہے اور کبھی کبھار اپنی دم کو اپنے خشک تھنوں پر مارتی ‏ہے، یعنی خوب نشاط والی اور مستعد اونٹنی ہے اور طاقتور اونٹنی ہے، یہ نہیں کہ سست ہو بلکہ ہر وقت اس کی دم بھی ‏حرکت میں رہتی ہے، اتنی مضبوط اور طاقتور اونٹنی ہے بھئی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو یہ معنی نہیں کہ وہاں کوئی سوار ہے اور اس سوار کے پیچھے جو بدن کا حصہ ہے پھر اس پر، نہیں نہیں، بس بتلانا ‏یہ ہے کہ سوار سے پیچھے جو بدن کا آخری حصہ رہ جاتا ہے وہاں پر وہ اپنی دم مارتی ہے۔ فَطَوْرًا بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ، تو کبھی کبھار تو وہ پچھلے سوار کے پیچھے جو اس کے بدن کا حصہ ہے وہاں پر دم مارتی ہے ‏وَتَارَةً، اور کبھی کبھار عَلَى حَشَفٍ، کس پر؟ سوکھے تھن، كَالشَّنِّ، جو کس کی طرح ہیں؟ پرانے مشکیزے کی طرح ہیں، ‏ذَاوٍ، سوکھے ہوئے ہیں، دبلے پتلے ہیں، مُجَدَّدِ، جن کا دودھ خشک ہو چکا ہے، کبھی کبھار ان پر دم مارتی ہے بھئی۔ معنی ‏سمجھ میں آ گیا؟ حشف کا کیا معنی؟ خشک تھن۔ کالشن، جو کس کی طرح ہے؟ یاد رکھیے حشف ہے موصوف، نکرہ ہے اور میں نے آپ ‏کو بتلایا تھا نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آ جائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو وہ بھی اس کی صفت بنتا ہے۔ تو یہ ‏کالشن یہ جار مجرور حشف کے بعد آیا، تو یہ اس کی صفت اول ہے۔ اور یہ ذواٍ اس کی صفت ثانی ہے اور یہ ذواٍ کو شن ‏کی صفت نہ سمجھنا بھئی، اس لیے کیونکہ شن اس پر تو الف لام داخل ہے اور ذواٍ پر الف لام نہیں ہے اور موصوف ‏صفت میں تو تعریف و تنکیر میں مطابقت ہوتی ہے، تو یہ ذواٍ دراصل حشف کی صفت ثانی ہے اور مجدد یہ کیا ہے؟ اسی ‏حشف کی صفت ثالث ہے۔ فَطَوْرًا بِهِ خَلْفَ الزَّمِيلِ وَتَارَةً عَلَى حَشَفٍ كَالشَّنِّ ذَاوٍ مُجَدَّدِ، پس کبھی کبھار تو وہ اس دم کو پچھلے سوار کے پیچھے یعنی ‏اپنے بدن پر مارتی ہے وَتَارَةً عَلَى حَشَفٍ كَالشَّنِّ ذَاوٍ مُجَدَّدِ اور کبھی کبھار ایسے خشک تھن جو کہ مشکیزے کی طرح ہیں، ‏سوکھے ہوئے ہیں، جن کا دودھ منقطع ہو چکا ہے، ان پر مارتی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ لَهَا فَخِذَانِ أُكْمِلَ النَّحْضُ فِيهِمَا كَأَنَّهُمَا بَابَا مُنِيفٍ مُمَرَّدِ۔ فخذان، فخذ ران کو کہتے ہیں، ران۔ تثنیہ ہے بھئی، فخذان دو رانیں۔ ‏اکمل، اکمل یکمل کے معنی ہیں پورا کرنا، تام کرنا، مکمل کرنا۔ النحض، نحض کہتے ہیں گوشت کو بھئی، گوشت کو۔ ‏خاص طور پر ٹھکا ہوا اور گٹھا ہوا گوشت جو ہے۔ بھئی بعض افراد کو آپ نے دیکھا ان کو اللہ نے بڑی اچھی صحت دی ہوتی ہے بھئی اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ‏بدن میں گوشت کو خوب دبا کر بھرا گیا ہے۔ پھولا ہوا جسم نہیں، پھولا ہوا نہیں ہوتا، مضبوط جسم ہوتا ہے اور مضبوط، ‏یوں لگتا ہے ان کے اندر مضبوطی سے گوشت کو بھرا گیا ہے۔ اور بڑے طاقتور لوگ ہوتے ہیں، ایسے لوگ جن کو اللہ ‏نے ایسا بدن دیا ہو، آپ تھوڑا سا کام کر کے تھک جائیں گے اور جس کو اللہ نے ایسا بدن دیا ہو، وہ کتنا ہی زیادہ کام کر ‏کے بھی اس کو تھکن محسوس نہیں ہو گی۔ تو یہ اللہ کی نعمت ہے بھئی جس کو اللہ نے ایسا مضبوط بدن دے دیا۔ اور اس ‏کو اردو میں بھی آپ پڑھتے ہیں بھئی، گٹھے ہوئے بدن والا، گٹھے ہوئے بدن والا، یہ وہ جو مضبوط جسم ہے اس کو ‏کہتے ہیں بھئی۔ تو نحض وہ گوشت بھئی گٹھا ہوا گوشت۔ كَأَنَّهُمَا بَابَا مُنِيفٍ، بابا، یہ تثنیہ ہے باب کی، باب دروازے کو کہتے ہیں۔ اصل میں تھا بابانِ، دو دروازے اور نون اضافت ‏کی وجہ سے گر گیا۔ منیف، منیف کا معنی ہے بلند و بالا، یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، ای قصرٍ منیفٍ، بلند و بالا ‏محل۔ ممرد، ممرد کا معنی ہے ملائم بھئی، ہموار، ہموار، ملائم۔ لَهَا فَخِذَانِ أُكْمِلَ النَّحْضُ فِيهِمَا كَأَنَّهُمَا بَابَا مُنِيفٍ مُمَرَّدِ۔ لَهَا فَخِذَانِ، اس اونٹنی کی دو ایسی رانیں ہیں، دیکھو فخذان نکرہ آیا اور ‏اکمل اس کے بعد فعل آ گیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ ‏کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا نکرہ کے اندر۔ لَهَا فَخِذَانِ، اس اونٹنی کی دو ایسی رانیں ‏ہیں أُكْمِلَ النَّحْضُ فِيهِمَا، جن میں گوشت کو مکمل کیا گیا ہے یعنی پوری طرح بھرا گیا ہے، خوب دبا کر بھرا گیا ہے۔ ‏كَأَنَّهُمَا، گویا کہ وہ جو دو رانیں ہیں بَابَا مُنِيفٍ ای بَابَا قَصْرٍ مُنِيفٍ مُمَرَّدِ، وہ ایک بلند و بالا ہموار محل کے دو دروازے ہیں۔ ‏وہ دو رانیں کیا ہیں؟ بلند و بالا محل کے دو دروازے ہیں۔ تو یہ اپنی اونٹنی کے مختلف صفات ذکر کرتا جا رہا ہے اور بتلا رہا ہے کہ اس کی رانیں بڑی مضبوط، اونچی، بلند و ‏بالا، بڑی طاقتور اور اونچے قد والی اونٹنی ہے، اس کے جو دو رانیں ہیں یوں معلوم ہوتی ہیں جیسے بلند و بالا محل کے، ‏بلند و بالا اور ہموار محل کے دو دروازے ہیں بھئی، یعنی بڑی مضبوط اور اونچی رانیں ہیں۔ لَهَا فَخِذَانِ أُكْمِلَ النَّحْضُ فِيهِمَا كَأَنَّهُمَا بَابَا مُنِيفٍ مُمَرَّدِ، کہ اس اونٹنی کی دو ایسی رانیں ہیں جن میں گوشت بھرا گیا ہے، گویا ‏کہ وہ بلند و بالا ہموار محل کے دو دروازے ہیں۔ وَطَيُّ مَحَالٍ كَالْحَنِيِّ خُلُوفُهُ وَأَجْرِنَةٌ لُزَّتْ بِدَأْيٍ مُنَظَّدِ۔ طی، طی کا معنی ہے لپیٹنا، اسی طرح تہہ کو بھی کہتے ہیں اندر والے ‏حصے کو بھئی۔ اور محال، محال جمع ہے محالۃ کی، اور محالہ کہتے ہیں کمر کے مہرے کو بھئی، کمر کا جو مہرہ ‏ہے، خاص طور پر اونٹ کی کمر کے مہروں کو محال کہتے ہیں بھئی محال۔ اور یہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف، عربی میں کبھی کبھار کیا کر دیتے ہیں صفت کی اضافت ‏موصوف کی طرف، موصوف پہلے آتا ہے نہ اور صفت بعد میں، لیکن کبھی کیا کرتے ہیں صفت کو اٹھا کر موصوف پر ‏مقدم کر دیتے ہیں اور اس کی طرف اضافت کر دیتے ہیں، تو گویا یہ عبارت یوں ہے، ومحالٌ مطویۃٌ، ومحالٌ مطویۃٌ، ‏ایسے مہرے مطویۃ جو تہہ بہ تہہ ہیں بھئی۔ کالحنی، حنی جمع ہے حنیۃ کی، اور یہ کمان کو کہتے ہیں، حنیۃ کمان بھئی، جس کے لیے تیر چلایا جاتا ہے۔ خلوفہ، ‏خلوف جمع ہے خلف کی، اور خلف پسلی کو کہتے ہیں بھئی، پسلی۔ واجرنۃ، اجرنہ جمع ہے جیران کی، جیران، اور جیران کہتے ہیں اونٹ کی گردن کے اندرونی حصے کو، جیران کسے ‏کہتے ہیں؟ بھئی دیکھو ایک ہے گردن کا ظاہر، ایک ہے باطن، یہ جو آپ گردن کے جس جو آپ کی گردن کا جو حصہ ‏کمر کی جانب ہے جس پر آپ وضو کے دوران مسح کرتے ہیں، یہ ہے ظاہر گردن، اور جو گردن کا حصہ سینے کی ‏طرف ہے یہ کیا ہے؟ باطن گردن، تو اونٹ کی گردن کا اندر والا، باطن والا یعنی سینے کی جانب والا حصہ اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ جیران۔ اور یہاں ذکر کیا اجرنۃ، جمع ذکر کیا۔ حالانکہ ہر اونٹ یا اونٹنی کا ایک ہی جیران ہوتا ہے، ایک ہی اگلا حصہ ہوتا ہے، ‏تو پھر جمع استعمال کرنے کا کیا معنی؟ تو جواب یہ کہ چونکہ یہ بات واضح تھی، لہٰذا جمع کا لفظ استعمال کر لیا شعر کے ‏وزن کے لیے، اور یوں سمجھیں کہ وہ جو جیران اور اس کے آس پاس کی ہر جگہ کو جیران قرار دے دیا، تو کیا بن گئی؟ ‏جمع بن گئی بھئی، بہرحال ہوتا ایک ہی جیران ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جیران اور اس کے ارد گرد کی جو جگہ ‏ہے، ہر ایک کو الگ الگ جیران قرار دے دیا، تو یہ مجموعہ بن گیا۔ لزت، لزا یلزو کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ چپکانا، جوڑنا۔ بدأی، دای، یہ بھی کمر کے اور گردن کے ‏مہروں کو کہتے ہیں بھئی، کمر اور گردن کی جو ہڈی ہے اس کے جو مہرے ہیں ان کو دای کہتے ہیں۔ منظم، منظم کا ‏معنی ہے تہہ بہ تہہ، تہہ بہ تہہ، ترتیب سے رکھے ہوئے۔ وَطَيُّ مَحَالٍ كَالْحَنِيِّ خُلُوفُهُ وَأَجْرِنَةٌ لُزَّتْ بِدَأْيٍ مُنَظَّدِ۔ وطی محال، یہ عطف ہے ماقبل میں فخذان پر، ای ولھا طی محال، اور ‏اس اونٹنی کے، میں نے بتلایا یہ طی محال صفت کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ موصوف کی طرف، گویا اصل ‏عبارت یوں ہے، ولھا محالٌ مطویۃٌ، اور اس اونٹنی کے کمر کے مہرے تہہ بہ تہہ ہیں، تہہ بہ تہہ ہیں۔ اور کالحنی خلوفہ، کالحنی یہ ہے خبر مقدم، اور خلوفہ یہ ہے مبتدائے مؤخر، تو گویا عبارت یوں ہے، خلوفہ کالحنی، اس ‏کی جو پسلیاں ہیں کالحنی، کس کی طرح ہیں؟ کمانوں کی طرح ہیں، اس کی پسلیاں کمانوں کی طرح ہیں۔ اور یہ پورا جملہ صفت ہے محال کی، میں نے بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، کیوں ‏صفت کیوں بنتا ہے؟ کیونکہ وہ پورا جملہ بنے گا اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر، تو اور جملہ کس کے حکم میں؟ ‏نکرہ کے حکم میں، تو اور تو نکرہ کے بعد گویا نکرہ آیا تو وہ موصوف صفت، اسی طرح جملہ اسمیہ بھی کس کے حکم ‏میں؟ نکرہ کے حکم میں، یاد رکھو ایک جملے کے اندر چاہے بیس معرفہ آ جائیں لیکن جب پورا جملہ بن جائے گا، جڑ ‏جائے گا، اب یہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ، تو کالحنی خلوفہ، یہ پورا جملہ نکرہ کے حکم میں۔ تو یہ پورا جملہ صفت ہے محال کی اور موصوف صفت کا ترجمہ نکرہ ہو تو کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا ‏یا ایسی۔ دیکھو اسی کے مطابق ہم ترجمہ کرتے ہیں۔ وطَیُّ مَحَالٍ کَالْحَنِیِّ خُلُوفُهُ اور میری اس اونٹنی کی اس کے ایسے تہ بہ ‏تہ محکمر کے مہرے ہیں کہ جن کی پسلیاں کمانوں کی طرح ہیں۔ ایسے کمر کے مہرے ہیں جن کی پسلیاں کمانوں کی ‏طرح ہیں۔ پسلیاں کس سے جڑی ہوتی ہیں؟ کمر کے مہروں سے، کمر کی ہڈی سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں، تو وہ میری ‏اونٹنی کے کمر کے مہرے ایسے ہیں جن کی پسلیاں کس کی طرح ہیں؟ کمانوں کی طرح ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ‏وَأَجْرِنَةٌ اور اس کے جو گردن کا اندر والا حصہ ہے، لُزَّتْ اس کو جوڑا گیا ہے بِدَعْیٍ مُنَضَّدِ ترتیب سے رکھے ہوئے، تہ ‏بہ تہ مہروں کے ساتھ۔ اور وَأَجْرِنَةٌ لُزَّتْ اور اس کی گردن کے اندر والے حصے کو جوڑا گیا ہے، کس کے ساتھ؟ بِدَعْیٍ ‏مُنَضَّدِ ترتیب سے تہ بہ تہ جو اس کی گردن اور کمر کے مہرے ہیں ان کے ساتھ۔ بلکہ ہاں، کمر کے مہرے گردن کو تو ‏جوڑا گردن کو جوڑا گیا ہے کس کے ساتھ؟ کمر کے مہروں کے ساتھ۔ وَأَجْرِنَةٌ لُزَّتْ بِدَعْیٍ مُنَضَّدِ اور اس کے ایسی گردن ‏کا باطنی حصہ ہے جس کو جوڑا گیا ہے تہ بہ تہ کمر کے مہروں کے ساتھ۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو؟ تو یہ طرفۃ بن العبد جو ہے، یہ اپنے اشعار کے اندر پیچیدہ الفاظ لاتا ہے، مشکل الفاظ لاتا ہے، پیچیدہ اور مشکل تشبیہات ‏و استعارات وغیرہ استعمال کرتا ہے۔ تو یہ اب اس اونٹنی کی صفات ذکر کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی دم کی صفات بیان ‏کیں، اس کی چوکنا ہونے کو اس کا ذکر کیا، اس کی رانوں کی تعریف کی اور اب اس کی پسلیاں وغیرہ اور ہڈیوں کی ‏تعریف کر رہا ہے۔ کہنا یہ چاہتا ہے، بڑی مضبوط اور طاقتور اونٹنی ہے، اس کی ایک ایک ہڈی جو ہے بڑی مضبوط ‏اور قوت والی ہے۔ وطَیُّ مَحَالٍ کَالْحَنِیِّ خُلُوفُهُ وَأَجْرِنَةٌ لُزَّتْ بِدَعْیٍ مُنَضَّدِ اور اس کے تہ بہ تہ ایسے کمر کے مہرے ہیں کہ جن کی پسلیاں جو ‏ہیں وہ کمانوں کی طرح ہیں اور اس کی ایسی گردن کا اندرونی حصہ ہے جس کو جوڑا گیا ہے تہ بہ تہ ترتیب سے رکھے ‏ہوئے کمر کے مہروں کے ساتھ۔ کَأَنَّ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ یَکْنُفَانِهَا وَأَطْرَ قِسِیٍّ تَحْتَ صُلْبٍ مُؤَیَّدِ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ کِناسٌ کہتے ہیں جنگل میں جو ہرن کی پناہ گاہ ہو بھئی۔ ‏جنگل میں جو ہرن کی پناہ گاہ ہو اس کو کِناسٌ کہتے ہیں۔ ہرن نے جو جگہ جھاڑیوں میں، درختوں کی جڑوں میں مقرر ‏کی ہو، جہاں وہ رات گزارتا ہو یا جہاں سخت گرمی وغیرہ کی وجہ سے وہ پناہ لیتا ہو اس کو کِناسٌ کہتے ہیں اور یہ تثنیہ ‏ہے کِنَاسَیْ، نون اصل میں تھا کِنَاسَیْنِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ ظَالَةٌ ظَالَةٌ کہتے ہیں جنگلی بیری کو بھئی۔ جنگلی بیری کا جو درخت ہے اس کو ظَالَةٌ کہتے ہیں۔ یَکْنُفَانِهَا كَنَفَ يَكْنِفُ اور ‏كَنَفَ يَكْنُفُ اس کا معنی ہے گھیرنا، حفاظت کرنا۔ حفاظت کرنا۔ كَنَفَ يَكْنِفُ باب ضرب سے بھی استعمال ہوتا ہے اور باب ‏نصر سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ پیچھے ایک شعر میں آیا تھا دو چار شعر پہلے كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ تَكَنَّفَا، دیکھو یہاں بھی ‏وہی مادہ استعمال ہوا تھا۔ تكنف کا معنی بھی میں نے بتلایا تھا حفاظت کرنا بھئی۔ تو یَکْنُفَانِهَا حفاظت کرتے ہیں۔ وَأَطْرَ قِسِیٍّ أَطْرٌ موڑ کو کہتے ہیں موڑ، أَطْرٌ۔ کسی چیز میں جو موڑ ہو، خم ہو۔ قِسِیٌّ جمع ‏ہے قَوْسٌ کی، قَوْسٌ، قَوْسٌ کمان کو کہتے ہیں بھئی، کمان۔ تَحْتَ صُلْبٍ مُؤَیَّدِ تَحْتَ کا معنی نیچے، صُلْبٌ کہتے ہیں پشت کو ‏بھئی، پشت، کمر، کمر، صُلْبٌ۔ مُؤَیَّدٌ کا معنی ہے مضبوط اور طاقتور بھئی، مُؤَیَّدٌ، مضبوط اور طاقتور۔ کَأَنَّ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ یَکْنُفَانِهَا وَأَطْرَ قِسِیٍّ تَحْتَ صُلْبٍ مُؤَیَّدِ کَأَنَّ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ گویا کہ جنگلی بیری کی جنگلی بیری کی جڑ میں ‏بنائی ہوئی ہرن کی دو پناہ گاہیں، یوں ترجمہ کر لیں۔ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ جنگلی بیری کی دو ہرن کی پناہ گاہیں۔ یعنی اس کی ‏جڑوں میں جو اس کی جھاڑیوں میں جو ہرن نے جو دو پناہ گاہیں بنائی ہوئی ہوں۔ کَأَنَّ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ گویا کہ جنگلی بیری کی ‏دو ہرن کی پناہ گاہیں کیا معنی جنگلی بیری کی ہرن کی دو پناہ گاہیں؟ یعنی ہرن کی ایسی پناہ گاہ جو اس نے کہاں بنائی ‏ہو؟ جنگلی بیری کی جڑوں میں اور اس کی جھاڑیوں میں۔ کَأَنَّ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ گویا کہ جنگلی بیری کی دو ہرن کی پناہ گاہیں جو ہیں، یَکْنُفَانِهَا وہ میری اس اونٹنی کی حفاظت کرتی ہیں۔ ‏جنگلی بیری کی جڑوں میں بنائی ہوئی ہرن کی دو پناہ گاہیں وہ میری اونٹنی کی حفاظت کرتی ہیں، ایک دائیں جانب سے ‏اور ایک بائیں جانب سے۔ یَکْنُفَانِهَا وہ دونوں کیا کرتی ہیں؟ میری اونٹنی کی حفاظت کرتی ہیں۔ وَأَطْرَ قِسِیٍّ یہ پھر صفت کی ‏اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف۔ أَیْ قِسِیًّ مَعْطُورَةً ایسی کمانیں مَعْطُورَةً جن میں خم ہیں، جن میں موڑ ہیں۔ بھئی، ‏کمان کے اندر آپ جانتے ہیں کمان کے دائیں طرف بھی موڑ ہوتا ہے اور بائیں طرف بھی، پھر جو اس کو وہ مضبوط ‏دھاگے کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ درمیان سے تو ہاتھ سے پکڑتے ہیں نہ اس کو؟ اور دائیں طرف بھی موڑ ہے اس کے ‏اور ایک یا یوں کہیں اوپر والے حصے میں بھی موڑ اور نیچے والے حصے میں بھی موڑ ہے۔ تو وہ موڑ مراد ہیں، وہ ‏خم مراد ہیں۔ وَأَطْرَ قِسِیٍّ أَیْ قِسِیًّ مَعْطُورَةً وہ کمانیں جن میں کیا ہیں؟ خم ہیں، موڑ ہیں، تَحْتَ صُلْبٍ مُؤَیَّدِ وہ اس کی مضبوط ‏کمر کے نیچے ہیں۔ دائیں بائیں سے کیا حفاظت کر رہی ہے میری اونٹنی کی؟ جنگلی بیری کی دو ہرن کی پناہ گاہیں۔ ایک جنگلی بیری کی ہرن ‏کی پناہ گاہ میری اونٹنی کی دائیں طرف سے حفاظت کر رہی ہے اور ایک پناہ گاہ بائیں جانب سے میری اونٹنی کی ‏حفاظت کر رہی ہے اور میری اونٹنی کی پشت، کمر کے نیچے خم دار کمانیں ہیں۔ وَأَطْرَ قِسِیٍّ تَحْتَ صُلْبٍ مُؤَیَّدِ اور اس کی ‏مضبوط کمر کے نیچے، توجہ ہے؟ اس کی مضبوط کمر کے نیچے خم دار کمانیں ہیں، کیا ہیں؟ مراد پسلیاں ہیں، پسلیوں ‏میں بھی خم ہوتا ہے نہ، مڑی ہوئی ہوتی ہیں تو ان کو کمانوں سے تشبیہ دے رہا ہے۔ کمر کے نیچے سے کیا حفاظت کر ‏رہی ہیں؟ خم دار کمانیں حفاظت کر رہی ہیں اور دائیں بائیں دائیں جانب اور بائیں جانب سے ہرن کی پناہ گاہیں اس کی ‏حفاظت کر رہی ہیں۔ کمر کے نیچے کیا حفاظت کر رہی ہیں؟ خم دار کمانیں، یہ تشبیہ تو واضح ہے کہ اس کی یعنی بڑی مضبوط پسلیاں ہیں جو ‏کیا کرتی ہیں اس کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ دائیں بائیں جانب سے ہرن کی پناہ گاہیں اس کی حفاظت کر رہی ہیں اس کا ‏کیا معنی؟ بھئی، یہ دراصل تعریف کر رہا ہے اپنی اونٹنی کی، عرب چونکہ ان کا دن رات یہ اونٹ اور اونٹنیوں میں ‏گزرتا تھا اور یہی ان کا سب یہی ان کی سب سے بڑی دولت تھی۔ تو وہ اس کی معمولی معمولی صفات کو بھی وہ جانتے ‏تھے کہ کیا صفت پسندیدہ ہے اور کون سی صفت پسندیدہ نہیں۔ انہی صفات میں سے ایک صفت یہ تھی کہ اونٹنی کے ‏اگلے دو پاؤں جو ہیں ان میں فاصلہ ہو بھئی، کیا ہو؟ ایک یہ کہ وہ قدم دونوں ایک دوسرے کے پاؤں قریب ہوں اور ایک ‏یہ ہے کہ دور ہوں، تو ان کا دور ہونا پسندیدہ پسندیدہ تھا، جتنا ان میں فاصلہ زیادہ ہوتا اتنا ہی پسندیدہ تھا، کیونکہ اس سے ‏کہتے ہیں اونٹنی کے چلنے میں بھی سہولت ہوتی تھی، وہ تیز چلتی تھی اور دوسرا اس کے ٹھوکر کھا کر گرنے کا اندیشہ ‏بھی کم ہوتا تھا۔ تو یہ ان کے ہاں جب وہ جیسے دیہات کے لوگ ہوتے ہیں، حیوان خریدتے ہیں، وہ مختلف قسم کی صفات اس میں دیکھتے ‏ہیں، تو ہم تو ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے، ہاں جو ان ماحول میں رہنے والا ہو، ان چیزوں کو جاننے والا ہو، وہ ‏باریک سے باریک صفات کو بھی جانتے ہیں کہ کون سی صفت پسندیدہ ہے اور کون سی صفت پسندیدہ نہیں۔ تو یہ ‏اونٹنیوں کے اندر، اونٹوں میں خاص صفت ہوتی کہ ان کے اگلے قدموں میں فاصلہ زیادہ ہو، وہ پسندیدہ ہوتا تھا۔ اور پھر ‏خاص طور پر جب وہ بیٹھتے، اونٹ کو بیٹھتے ہوئے دیکھا ہے آپ نے؟ جی؟ ہاں، وہ صورت ذرا ذہن میں لے کر آئیں۔ ‏جیسے دیکھو، انسان کے اندر یہ بازو اور بدن کے درمیان کا حصہ بغل کہلاتا ہے۔ اسی طرح جب اونٹنی یا اونٹ زمین پر ‏بیٹھا، تو اس کے جو بغل ہے، یہ اگر قدموں میں فاصلہ زیادہ ہوگا، تو یہ بیٹھتے ہوئے بھی یہ جو اگلے پاؤں ہیں بدن سے ‏تھوڑے الگ ہوں گے۔ جب تھوڑے سے بدن سے یہ بغلوں سے یہ پاؤں الگ ہوں گے، تو یہ بالکل ایسی ہی صورت بن گئی ‏جیسے جنگلی بیری کی جڑ کے اندر ہرن نے کیا بنائی ہو اپنی پناہ گاہ بنائی ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہ وہ جو ‏بیٹھتے ہوئے اس کے پاؤں بغلوں میں جو فاصلہ تھوڑا سا آیا، اس کو جنگلی بیری کے ہرن کی پناہ گاہوں کے ساتھ تشبیہ ‏دے دی۔ صورت ذہن میں آگئی اچھی طرح؟ کَأَنَّ کِنَاسَیْ ظَالَةٍ یَکْنُفَانِهَا وَأَطْرَ قِسِیٍّ تَحْتَ صُلْبٍ مُؤَیَّدِ گویا کہ جنگلی بیری کی ہرن کی دو پناہ گاہیں اس کی حفاظت کر رہی ‏ہیں اور گویا کہ وَأَطْرَ قِسِیٍّ اس کا عطف اسی کِنَاسَیْ پر ہے، توجہ ہے؟ اور کِنَاسَیْ کیا بن رہا ہے؟ کَأَنَّ کا اسم ہے، کَأَنَّ کیا ‏کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، اسی لیے کِنَاسَیْ دیکھو حالت نصبی، جری میں تثنیہ کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ‏ساتھ، تو یہ منصوب ہے۔ اور اسی پر عطف ہے وَأَطْرَ قِسِیٍّ، اس لیے وہ بھی منصوب ہے۔ اور گویا کہ اور گویا کہ خم دار ‏کمانیں جو ہیں وہ اس کی مضبوط کمر کے نیچے ہیں۔ لَهَا مِرْفَقَانِ أَفْتَلاَنِ كَأَنَّهَا تَمُرُّ بِسَلْمَیْ دَالِجٍ مُتَشَدِّدِ مِرْفَقَانِ مِرْفَقٌ کہنی کو کہتے ہیں، کہنی اور مراد مراد اونٹنی کے اگلے پاؤں پہ ‏جو گھٹنے ہیں گھٹنے ہیں اگلے پاؤں کے، وہ مراد ہیں۔ أَفْتَلاَنِ فَـتَـلَ یَفْتِلُ کے معنی ہوتے ہیں پھیرنا، بہرحال یہاں أَفْتَل کا ‏معنی کر لیں مضبوط کے بھئی، مضبوط، قوت والی۔ كَأَنَّهَا تَمُرُّ مَرَّ یَمُرُّ کے معنی ہیں گزرنا، جانا۔ بِسَلْمَیْ دَالِجٍ مُتَشَدِّدِ سَلْمٌ ‏کہتے ہیں ڈول کو بھئی، وہ ڈول جس کے ذریعے کنویں سے پانی نکالا جائے، اس کو سَلْمٌ کہتے ہیں۔ دَالِجٌ دَالِجٌ کنویں سے ‏پانی نکالنے والا، کنویں سے پانی نکالنے والا۔ اور مُتَشَدِّدٌ یہ شدت سے ہے، تو مُتَشَدِّدٌ کا معنی قوت والا، طاقتور۔ بِسَلْمَیْ ‏دَالِجٍ یہ بھی اصل میں تثنیہ ہے بھئی، اصل میں تھا سَلْمَیْنِ، پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ بِسَلْمَیْ دَالِجٍ۔ تو کہتا ہے لَهَا مِرْفَقَانِ أَفْتَلاَنِ میری اس اونٹنی کی دو مضبوط کہنیاں ہیں، مضبوط کہنیاں ہیں یعنی اگلے قدم کے مضبوط ‏گھٹنے ہیں اس کے، كَأَنَّهَا گویا کہ وہ اونٹنی جو ہے، تَمُرُّ وہ چلتی ہے، بِسَلْمَیْ دَالِجٍ مُتَشَدِّدِ ترجمہ آخر سے ہوگا، ایک ‏طاقتور پانی نکالنے والے کے دو ڈولوں کے ساتھ، ایک طاقتور پانی نکالنے والے کے كَأَنَّهَا تَمُرُّ بِسَلْمَیْ دَالِجٍ مُتَشَدِّدِ گویا کہ ‏وہ اونٹنی جو ہے ایک طاقتور پانی نکالنے والے کے دو ڈولوں کے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ یہ وہی صفت بیان کر رہا ہے بھئی ابھی جو میں نے بیان کی، کہ اونٹنی کے اگلے دو قدموں میں فاصلہ زیادہ ہو تو یہ کیا ‏ہے؟ پسندیدہ ہے۔ تو دیکھو جیسے کنویں سے کوئی شخص پانی نکالتا ہے، اب اس کے ایک ہاتھ میں بھی ڈول ہو اور ‏دوسرے ہاتھ میں بھی ڈول ہو، تو ظاہر سی بات ہے وہ ڈول کو کیا کرے گا؟ بدن سے علیحدہ رکھ کر چلے گا یا ساتھ جوڑ ‏کر چلے گا؟ ظاہر سی بات ہے پانی سے بھرے ہوئے ڈول ہیں تو ان کو بدن سے تھوڑا سا جدا کر کے چلے گا۔ تو کہتا ہے ‏میری یہ اونٹنی جو ہے اس کے قدموں کے اندر بھی اسی طرح فاصلہ ہے، یوں معلوم ہوتا ہے میری یہ اونٹنی دو ڈولوں ‏پانی کے دو بھرے ہوئے ڈول اٹھا کر چل رہی ہو، اس طرح اس کے اگلے قدموں کے درمیان خوب فاصلہ ہے۔ صورت ‏سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ وہی صفت بیان کر رہا ہے اور جتنا وہ فاصلہ زیادہ، اتنی ہی پسندیدہ، تو اب اس میں خوب مبالغہ کر رہا ہے۔ اب ‏صورت تو ایسی تو نہیں ہوتی کہ جیسے ڈول والے کے بازو، بازو تو بدن سے بالکل دور دور ہوتے ہیں دائیں اور بائیں، ‏لیکن مبالغہ کرتے ہوئے بتلا رہا ہے یعنی میری اونٹنی کے دو قدموں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ بھی خوب زیادہ ہے، ‏اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے بھئی، معنی سمجھ میں آگیا؟ لَهَا مِرْفَقَانِ أَفْتَلاَنِ میری اس اونٹنی کی دو مضبوط کہنیاں ہیں، كَأَنَّهَا تَمُرُّ بِسَلْمَیْ دَالِجٍ مُتَشَدِّدِ گویا کہ وہ چلتی ہے ایک طاقتور ‏پانی نکالنے والے کے دو ڈولوں کے ساتھ، ایک طاقتور پانی نکالنے والے کے دو ڈولوں کو لے کر وہ چلتی ہے، یوں ‏معلوم ہوتا ہے کہ دو ڈول پانی کے لے کر چل رہی ہو۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 47 of 62