Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-040

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 15 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 126
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی، وَمَنْ يَعْصِ أَطْرَافَ الزِّجَاجِ فَإِنَّهُ ... يُطِيعُ الْعَوَالِيَ رُكِّبَتْ كُلَّ لَهْذَمِ وَمَنْ لَمْ يَذُدْ عَنْ حَوْضِهِ بِسِلَاحِهِ ... يُهَدَّمْ وَمَنْ لَا يَظْلِمِ النَّاسَ يُظْلَمِ وَمَنْ يغْتَرِبْ يَحْسِبْ عَدُوًّا صَدِيقَهُ ... وَمَنْ لَمْ يُكَرِّمْ نَفْسَهُ لَمْ يُكَرَّمِ زہیر ابن ابی سلمیٰ کا معلقہ ہم پڑھ رہے ہیں۔ اور تشبیب کے بعد پھر دو سرداروں کی تعریف اور اس کے بعد لوگوں کو ‏جنگ کی ہولناکیوں پر تنبیہ کرنے کے بعد، اب شاعر جو ہے وہ اپنی زندگی کے بعض تجربات اور قیمتی باتیں اور قیمتی ‏نصیحتیں ذکر کر رہا ہے بھئی۔ تو آگے وہ کہتا ہے: وَمَنْ يَعْصِ أَطْرَافَ الزِّجَاجِ فَإِنَّهُ ... يُطِيعُ الْعَوَالِيَ رُكِّبَتْ كُلَّ لَهْذَمِ عصى يعصي کے معنی ہیں نافرمانی کرنا، بات نہ ماننا۔ اطراف، اطراف جمع ہے طرف کی، اور طرف جانب کو کہتے ‏ہیں، کنارے کو۔ جانب اور کنارہ۔ الزجاج، یہ بعض کتابوں میں الزُّجاج لکھا ہوگا، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، زاء پر ‏کسرہ ہے، الزِّجاج۔ اور زجاج جمع ہے زجّن کی بھئی، زاء پر ضمہ ہے، زجّن۔ اس کی جمع ہے زجاج۔ اور زجّن یہ نیزہ جو ہے نیزہ بھئی، ‏جس کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے، لڑائی کی جاتی ہے، اس نیزے کا ایک حصہ تو نوکیلا ہوتا ہے نوکدار اور نوکدار تیز ‏دھار والا لوہا اس پر لگا ہوتا ہے، اسی طرح یاد رکھیے نیزے کا جو دوسرا کنارہ ہے اس پر بھی لوہا لگایا جاتا ہے تاکہ ‏لکڑی پھٹ نہ جائے بھئی۔ تو جو تیز دھار والا سرا ہے اس پر جو لوہا لگا ہوا ہے اس کو کہتے ہیں سنان بھئی، سنانٌ۔ تیز دھار جو ہے جو نیزے کا ‏پھل ہے۔ اور اسی طرح جو دوسرے کنارے پر لوہا لگا ہوا ہے جو نوکدار نہیں ہے اس کو کہتے ہیں زجّن بھئی، زجّن۔ تو سنان کون سا حصہ ہے نیزے کا؟ تیز حصہ کاٹنے والا، اور زجّن کون سا حصہ ہے؟ دوسرا حصہ۔ يطيع، أطاع يطيع کے معنی ہیں فرماں برداری کرنا، اطاعت کرنا۔ تو یہ ضد ہے عصى يعصي کی۔ العوالي، عوالي جمع ہے عالیہٌ کی، عالیہٌ کی، اور عالیہٌ نیزے کا جو پھل والے جانب ہے نصف، نیزہ جو ہے ایک حصہ ‏نوکدار، دوسرا حصہ غیر نوکدار، تو جو نوکدار ہے تیز پھل والا حصہ ہے وہ والا نصف حصہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏عالیہٌ، اور اسی کی جمع ہے عوالي۔ جبکہ دوسرا حصہ جس پر لوہا تو لگا ہے لیکن تیز نوک والا نہیں، اس کو کہتے ہیں ‏سافلہٌ بھئی۔ تو عالیہ نیزے کا اگلا آدھا حصہ اور سافلہ نیزے کا پچھلا حصہ۔ جبکہ بعض شارحین اور اہل عربیت فرماتے ہیں کہ اگلے نصف حصے کو عالیہ نہیں کہتے بلکہ نیزے کا تقریباً شروع کا ‏تیز حصہ جو ہے ایک ذراع کے لگ بھگ جو اگلا حصہ ہے، اس کو عالیہ کہتے ہیں یعنی ڈیڑھ فٹ کے لگ بھگ حصہ۔ ‏بعضوں نے تو کیا کہا؟ اگلے آدھے حصے کو عالیہ کہتے ہیں اور بعض کیا کہتے ہیں؟ آدھے حصے کو نہیں بلکہ اگلے ‏ایک ذراع جو تھوڑا سا حصہ ہے ڈیڑھ فٹ کے قریب، صرف اس کو عالیہ کہتے ہیں بھئی۔ رُكِّبَتْ، ركّب يركّب تركيب کا معنی ہے جوڑنا بھئی، جوڑنا، مرکب بنانا۔ كلّ لہذم، لہذم کہتے ہیں ہر کاٹنے والی چیز کو، ‏تیز دھار والی چیز، کاٹنے والی چیز، اس کو کہتے ہیں لہذمٌ۔ تلوار ہو تیز کاٹنے والی ہو تو عربی میں کہتے ہیں سیفٌ لہذمٌ، ‏سیفٌ لہذمٌ۔ اسی طرح اگر تیز زبان ہے، تکلیف دینے والی زبان ہے تو اس کو بھی کہتے ہیں لسانٌ لہذمٌ بھئی۔ وَمَنْ يَعْصِ أَطْرَافَ الزِّجَاجِ فَإِنَّهُ ... يُطِيعُ الْعَوَالِيَ رُكِّبَتْ كُلَّ لَهْذَمِ يُطِيعُ الْعَوَالِيَ، یہ عوالی یہ مفعول ہے یطیع کے لیے، اور مفعول منصوب ہوتا ہے تو اس کو یوں پڑھنا چاہیے: يُطِيعُ ‏الْعَوَالِيَ، لیکن شعر کے اندر یاد رکھیے یہ یاء کو ساکن پڑھنا ہے، يُطِيعُ الْعَوَالِي، فتحہ نہیں پڑھنا اگرچہ یہ مفعول ہے۔ اور ‏یہ ضرورت شعری کی بناء پر، کیونکہ میں نے اپ کو بتلایا تھا شعر کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں، ایک حرف یا ایک ‏حرکت بھی ادھر ادھر ہو جائے پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے، تو یہاں پر اگر فتحہ پڑھا جائے تو شعر کا وزن ‏خراب ہو جاتا ہے، تو اس لیے اس کو یہاں ساکن پڑھا جائے گا بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: وَمَنْ يَعْصِ أَطْرَافَ الزِّجَاجِ فَإِنَّهُ ... يُطِيعُ الْعَوَالِيَ رُكِّبَتْ كُلَّ لَهْذَمِ اور جو کوئی نافرمانی کرتا ہے اطراف الزجاج، نیزے کے غیر نوکدار کنارے کی، یعنی نیزے کے نچلے کنارے کی جو ‏نافرمانی کرتا ہے، فإنه يطيع العوالي، تو وہ فرماں برداری کرتا ہے نیزے کے تیز حصے کی، پھل والے حصے کی، ‏ركبت كل لہذم، یہ العوالی معرفہ ہے بھئی، اور معرفہ کے بعد ركبت فعل آیا، میں نے اپ کو بتلایا تھا نکرہ کے بعد اگر ‏فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنے گا، نکرہ کے بعد اگر کیا آئے؟ فعل آئے تو اس کے لیے صفت بنے گا، جملہ ‏بنے گا وہ فعل، پورا جملہ فعلیہ اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، تو نکرہ کے بعد نکرہ آیا تو وہ اس کے لیے صفت ‏بنے گا۔ لیکن اگر معرفہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے حال بنے گا، حال بنے گا، صفت تو بن نہیں سکتا کیونکہ وہ ‏جملہ ہے، جملہ نکرہ ہے اور ماقبل میں معرفہ ہے، اور موصوف صفت میں تو تعریف و تنکیر میں مطابقت ضروری ہے۔ ‏تو یہاں پر بھی العوالی یہ ہے ذوالحال اور ركبت كل لہذم یہ پورا جملہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ تو معرفہ کے ‏بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ حال بنتا ہے۔ جیسے قال الله تعالى، جگہ جگہ اپ پڑھتے ہیں، لفظ اللہ آیا معرفہ ہے، بلکہ اعرف المعارف ہے بھئی، سب سے زیادہ ‏تعریف لفظ اللہ کے اندر ہے بھئی، تمام لفظوں سے سب سے زیادہ تعریف لفظ اللہ میں ہے۔ اور تعالىٰ اس کے بعد فعل آیا، ‏اور ابھی میں نے ضابطہ بتایا، معرفہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتا ہے؟ حال، تو یہ تعالىٰ بھی کیا بنے گا؟ حال بھئی، قال ‏الله، اللہ نے فرمایا، تعالىٰ، اس حال میں کہ اس کی ذات بڑی بلند ہے بھئی۔ تو جو کوئی نافرمانی کرتا ہے نیزے کے نچلے کنارے کی، تو یقیناً وہ اطاعت کرتا ہے، فرماں برداری کرتا ہے نیزے ‏کے اوپر والے حصے کی، اس حال میں کہ اس کو جوڑا گیا ہے ہر تیز چیز کے ساتھ، یعنی اس کے بعد اس پر نیزے کا ‏پھل لگا ہوا ہے، اس حال میں کہ اس پر کیا لگا ہے؟ نیزے کا پھل لگا ہوا ہے، اس کو اس کی فرماں برداری کرنا پڑتی ‏ہے۔ شاعر کیا کہہ رہا ہے کہ جو شخص نیزے کے نچلے کنارے کی نافرمانی کرتا ہے اسے نیزے کے اگلے تیز پھل والے ‏حصے کی فرماں برداری کرنا پڑتی ہے، معنی یہ ہے جو شخص چھوٹی بات کی پروا نہیں کرتا اور اس پر راضی نہیں ‏ہوتا اسے بڑی بات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا یوں کہیں کہ جو شخص نرمی سے بات نہیں مانتا اسے سختی کا سامنا کرنا ‏پڑتا ہے۔ یا یوں کہیں جو شخص صلح پر آمادہ نہیں ہوتا اسے جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جنگ اسے ذلیل کر دیتی ‏ہے، اسے جھکا دیتی ہے اور اسے اس کی اطاعت کرنا پڑتی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یاد رکھو عرب کے اندر طریقہ یہ تھا کہ جب کسی سے دشمن وغیرہ سے یا کسی سے آمنا سامنا ہوتا، جب لوگوں کا آمنا ‏سامنا ہوتا کسی کے پاس آتے تو نیزے کے تیز پھل کو پچھلی طرف رکھتے تھے، اور وہ جو غیر نوکدار حصہ ہے، نچلا ‏حصہ ہے اس کو آگے کی طرف رکھتے تھے، یہ اشارہ ہوتا تھا کہ ہم اپ سے جنگ نہیں چاہتے، صلح چاہتے ہیں بھئی، ‏صلح چاہتے ہیں۔ اور پھر اگر صلح پر بات نہ بنتی اور جنگ ناگزیر ہو جاتی تو پھر نیزے کے اگلے حصے کو آگے کی ‏طرف کر دیا جاتا تھا بھئی، صورت ذہن میں اگئی اچھی طرح؟ تو شاعر کہتا ہے جو شخص نرمی سے بات نہیں مانتا اسے سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو شخص نیزے کے نچلے ‏کنارے پر راضی نہیں ہوتا اس کی فرماں برداری نہیں کرتا اسے نیزے کے اگلے تیز پھل والے حصے کی اطاعت کرنا ‏پڑتی ہے، فرماں برداری کرنا پڑتی ہے اور اس کے سامنے اسے جھکنا پڑتا ہے بھئی۔ معنی بتلانا، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ صلح بہتر چیز ہے انسان کو صلح پر راضی ہو جانا چاہیے، بات کو جنگ کی طرف ‏نہیں لے جانا چاہیے ورنہ جنگ بڑے بڑوں کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے بھئی، وہاں پھر سر جھکانا ہی پڑتا ہے ‏اور کوئی صورت ہی نہیں ہوتی کیونکہ پھر قتل کا خوف ہوتا ہے بھئی، نیزے کا تیز نوکدار پھل اس کے سامنے ہے اگر ‏وہ فرماں برداری نہیں کرے گا تو اسے اب قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یطیع العوالی کا یہ معنی نہیں کہ اسے جھکنا پڑتا ہے، معنی یہ ہے کہ اسے پھر جنگ ‏کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جنگ کے اندر اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اور تو جب اسے قتل کر دیا گیا تو گویا وہ نیزے ‏کے سامنے جھک گیا، بس ہو گیا، اب مقابلے کی طاقت ہی نہ رہی، تو اطاعت سے کیا مراد ہے؟ قتل مراد ہے یہاں پر ‏بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟ تو گویا اس نے پھر نیزے کی اطاعت کر لی، اب تو مقابلے کی طاقت ہی نہ رہی ختم ہو چکا۔ وَمَنْ يَعْصِ أَطْرَافَ الزِّجَاجِ فَإِنَّهُ ... يُطِيعُ الْعَوَالِيَ رُكِّبَتْ كُلَّ لَهْذَمِ اور جو کوئی نیزے کے نچلے کنارے کی نافرمانی کرتا ہے تو اس کو نیزے کے اگلے حصے کی اطاعت کرنا پڑتی ہے ‏جس کو جوڑا جاتا ہے تیز کاٹنے والے پھل کے ساتھ۔ اور یاد رکھیے بھئی، یہ جو شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ کے اخری اشعار شروع ہوئے جن میں وہ اپنے تجربات بیان کر رہا ‏ہے اور قیمتی نصیحتیں کر رہا ہے، یہ اشعار بہت مشہور ہیں اور زبان زد عام ہیں، لوگ ان کو عام مواقع پر بولتے ہیں ‏بھئی، جہاں بھی اس قسم کا موقع ا جائے جو شعر کے مطابق ہو وہ شعر وہاں پر پڑھتے ہیں، اور خاص طور پر یہ شعر ‏جو ہے یہ تو ضرب المثل کی طرح ہے، جب کوئی شخص نرمی سے بات نہ مان رہا ہو تو اس موقع پر عرب یہ شعر ‏بولتے ہیں کہ بھئی نرمی سے یہ شخص بات نہیں مان رہا، لیکن اگر بات جنگ تک گئی تو پھر اس کو جھکنا پڑے گا اور ‏یہ خود اپنے لیے مصیبت اور تکلیف جو ہے وہ کھڑی کر رہا ہے، بات سمجھ میں اگئی؟ تو یہ سارے اشعار عام اشعار، ‏عام کلام میں عرب بولتے ہیں جگہ جگہ ضرب المثل کی طرح۔ بڑی قیمتی باتیں اس نے جمع کیں بھئی۔ تو ہر معاملے میں بے انتہا سختی درست نہیں ہے بھئی، ہاں بعض جگہ کچھ سختی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن حد سے ‏زیادہ سختی نقصان دہ ہے بھئی۔ وَمَنْ لَمْ يَذُدْ عَنْ حَوْضِهِ بِسِلَاحِهِ ... يُهَدَّمْ وَمَنْ لَا يَظْلِمِ النَّاسَ يُظْلَمِ زاد يذود ذوداً کے معنی ہیں ہٹانا، دور کرنا، دفاع کرنا۔ دفاع کرنا، دور کرنا۔ حوض، حوض کہتے ہیں پانی کا تالاب، پانی ‏کی جگہ۔ پانی کا بند وغیرہ جہاں پانی کو روکا جائے۔ سلاح، سلاح اسلحے کو کہتے ہیں۔ یھدم، ہدم یہدم کے معنی ہیں کسی چیز کو ‏گرانا، توڑنا۔ اسی کو باب تفعیل میں لے گئے ہدم یہدم، تو ایک حرف بڑھ گیا بھئی، دال مشدد ہو گیا ایک حرف بڑھ گیا۔ ‏اور حرف بڑھ گیا تو معنی بھی بڑھ گیا۔ ہدم یہدم کا معنی تھا توڑنا اور گرانا اور ہدم یہدم کا معنی ہے پوری طرح توڑ ‏دینا، پوری طرح گرا دینا۔ و من لا یظلم الناس یظلم، ظلم یظلم کے معنی ظلم کرنا۔ و من لم یذد عن حوضہ بسلاحہ یھدم و من لا یظلم الناس یظلم۔ اور جو ‏کوئی ہٹاتا نہیں دور نہیں کرتا، یعنی دشمنوں وغیرہ کو، عن حوضہ اپنے حوض سے، اپنے پانی کے تالاب سے، بسلاحہ ‏اپنے اسلحے کے ذریعے، یھدم تو اس کے تالاب کو توڑ دیا جاتا ہے، پوری طرح توڑ دیا جاتا ہے، پوری طرح گرا دیا ‏جاتا ہے۔ و من لم یذد عن حوضہ بسلاحہ یھدم اور جو کوئی دفاع نہیں کرتا اپنے تالاب کا، اپنے اسلحے کے ذریعے اس کے تالاب ‏کو پوری طرح توڑ دیا جاتا ہے، پوری طرح توڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں حوض سے مراد ہے انسان کی عزت اور جان و مال ‏وغیرہ بھئی۔ حوض سے کیا مراد ہے؟ انسان کی عزت اور جان و مال وغیرہ بھئی، اس کی اپنی ذات۔ معنی یہ ہے کہ انسان کو اپنی عزت اور جان و مال کی خود حفاظت کرنا پڑتی ہے اور جو شخص اپنے حوض کی اسلحے ‏کے ذریعے حفاظت نہیں کرتا، یعنی حد سے زیادہ نرمی کا مظاہرہ کرتا ہے ہر جگہ، ہر جگہ عاجزی کا مظاہرہ کرتا ہے ‏تو لوگ آج کل وہ ایسے شخص، کمزور شخص کے اوپر، ہر شخص ظلم کرتا ہے، حملہ آور ہوتا ہے اور اس کو نقصان ‏پہنچاتا ہے۔ تو انسان اگر اپنی عزت اور جان و مال کی حفاظت چاہتا ہے تو اسے خود جو ہے اس کی حفاظت کرنا پڑے ‏گی اور جو اس پر چھیننے، جو اس کو چھیننے کی کوشش کرے یا اس پر حملہ آور ہو، اسے خود اس سے دور کرنا ہوگا، ‏ہٹانا ہوگا، ورنہ اس طرح دنیا میں زندگی گزارنا اس کے لیے بڑا مشکل ہے۔ و من لا یظلم الناس یظلم، اور جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، یظلم تو اس پر ظلم کیا جاتا ہے۔ جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، اس ‏پر ظلم کیا جاتا ہے۔ جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، ظلم سے ظلم نہیں مراد، معنی یہ ہے کہ انسان کو انسان کو اپنے جان و ‏مال کی حفاظت کے لیے خود ڈٹ کر رہنا ہوگا اور خوب رعب و داب کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا پڑے گی اور لوگوں ‏کے سامنے اپنی طاقت اور قوت کا اظہار کرنا ہوگا۔ لوگوں کو پتہ چلے یہ مضبوط، طاقتور آدمی ہے، اگر ہم نے اسے ‏کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہمیں اس کی طرف سے ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو و من لم یظلم الناس، جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، یعنی جو لوگوں کے سامنے عاجزی سے ‏رہتا ہے، جھک کر رہتا ہے، بڑی نرمی سے رہتا ہے، بڑا میٹھا بن کر رہتا ہے، یظلم تو لوگ اس پر کیا کرتے ہیں؟ ظلم ‏کرتے ہیں، لوگ اس کا سب کچھ چھیننے کی، سب کچھ ہڑپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہر شخص بھیڑیا بن جاتا ہے ‏کیونکہ وہ جانتا ہے یہ بڑا نرم اور بڑا کمزور انسان ہے۔ لہذا دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے کس طرح رہنا پڑے گا؟ ‏بڑے رعب و قوت، رعب و داب کے ساتھ اور طاقت کے ساتھ رہنا پڑے گا اور خود اپنے آپ کو بنا کر، لوگوں کے ‏سامنے اپنی قوت کا اظہار کرتے ہوئے رہنا پڑے گا۔ جس کا یہ معنی بھی نہیں کہ دوسروں پر ظلم کیا جائے، نہیں بھئی کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے لیکن کم از کم ‏دوسروں کو اتنا پتہ ہو کہ اگر ہم نے اس کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی کسی بھی طریقے سے تو یہ خاموش نہیں ‏رہے گا، ہمیں جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تو اب وہ لوگ جو بھیڑیا نما لوگ جو ہیں، جو دوسروں کی عزتوں اور مالوں ‏پر حملہ آور ہوتے ہیں، ان کو نقصان پہنچاتے ہیں، اب وہ بھی سنبھل کر رہیں گے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر ہم نے اس ‏کو کسی طرح کا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی یہ خاموش نہیں رہے گا، ہمارے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا بھئی۔ ‏بات سمجھ میں آگئی؟ و من لم یذد عن حوضہ بسلاحہ یھدم و من لا یظلم الناس یظلم۔ اور جو کوئی دفاع نہیں کرتا اپنے حوض کا اپنے اسلحے کے ‏ذریعے تو اس کے حوض کو پوری طرح گرا دیا جاتا ہے اور جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا تو اس پر ظلم کیا جاتا ہے۔ و من یغترب يحسب عدوا صديقہ و من لم یکرم نفسہ لم یکرم۔ و من یغترب، اغترب یغترب کے معنی ہیں تارکِ وطن ہونا، ‏تارکِ وطن ہونا، وطن سے دور ہونا، اپنی قوم سے دور ہونا۔ يحسب گمان کرنا، خیال کرنا۔ عدو دشمن کو کہتے ہیں۔ صدیق ‏دوست کو کہتے ہیں۔ ایک ہے صدیق اور ایک ہے صدیق بھئی، صدیق فعیل وزن ہے یہ مبالغے کا صیغہ ہے، صدیق کا ‏معنی ہے بہت سچا، صادق کے اندر مبالغہ ہے صدیق۔ تو اس میں صاد کے نیچے بھی زیر ہے اور دال مشدد ہے اور زیر ‏ہے۔ جبکہ صدیق، دوست کو صدیق کہتے ہیں بھئی، صدیق۔ صدیق یہ بھی صداقت سے ہے، یعنی وہ شخص جو آپ کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کا اظہار کرتا ہے، وہ اس کے اندر ‏سچا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ صدیق کہتے ہیں۔ و من لم یکرم نفسہ، اور جو کوئی اپنی ذات کی عزت نہیں کرتا، ‏لم یکرم تو اس کی عزت نہیں کی جاتی۔ و من یغترب يحسب عدوا صديقہ، اور جو کوئی شخص وطن سے دور ہوتا ہے، يحسب عدوا تو وہ گمان کرتا ہے دشمن کے ‏بارے میں بھی، صديقہ کہ وہ اس کا دوست ہے۔ جو شخص وطن سے دور ہوتا ہے وہ اپنے دشمن کو بھی اپنا دوست ‏سمجھتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ انسان جب سفر میں ہوتا ہے تو یقیناً تکالیف میں، پریشانیوں میں اور مصیبتوں میں ہوتا ‏ہے کیونکہ جو راحتیں اور سہولتیں گھر کے اندر ہوتی ہیں وہ دوسری جگہ نہیں ہو سکتیں۔ تو سفر کے اندر انسان تکلیف اور پریشانی میں ہوتا ہے اور وہاں پر اس کو لوگوں کو آزمانے کا موقع کم ملتا ہے، تو وہ ‏اپنے دشمن کو بھی اپنا دوست سمجھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پھر کسی وقت جا کر اس کو پتہ لگتا ہے کہ یہ تو میرا دشمن ‏تھا، میں اس کو آج تک اپنا دوست سمجھتا رہا۔ تو سفر میں چونکہ تجربات کا اور لوگوں کو آزمانے کا موقع نہیں ملتا، تو ‏وہ دشمنوں کو بھی کیا سمجھتا رہتا ہے؟ اپنا دوست ہی سمجھتا ہے۔ و من لم یکرم نفسہ، اور جو کوئی اپنی ذات کی عزت نہیں کرتا، لم یکرم تو اس کی عزت نہیں کی جاتی۔ جو شخص خود ‏اپنی عزت نہیں کرتا، دوسرے بھی اس کی عزت نہیں کرتے۔ بھئی اپنی عزت کرنے کا کیا معنی؟ معنی یہ ہے کہ جو ‏شخص ادنیٰ اور گھٹیا کام کرتا ہے، وہ اپنی عزت خود خراب کر رہا ہے۔ اللہ نے تو اس کو معزز بنایا ہے، بڑی عزت والا ‏بنایا ہے اور اسے اپنی، اپنی خود عزت کرنا پڑے گی یعنی اپنے آپ کو ادنیٰ اور گھٹیا کاموں سے بچانا پڑے گا۔ اگر وہ ‏اپنے آپ کو ادنیٰ اور گھٹیا اور بد اخلاقیوں سے اور برائیوں سے نہیں بچائے گا، تو گویا وہ اپنی عزت خود ہی خراب کر ‏رہا ہے، وہ اپنی عزت کر ہی نہیں رہا اپنی ذات کی اور لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جب وہ اپنی عزت نہیں کر رہا تو لوگ بھی ‏اس کی عزت نہیں کریں گے، کسی کے سامنے اس کی کوئی قدر باقی نہیں رہے گی۔ لوگ دیکھیں گے کہ یہ اتنے گھٹیا، ‏اتنے برے افعال کرنے والا آدمی ہے، تو کوئی شخص اس کی عزت نہیں کرے گا۔ اور یہ لوگوں نے اس کی عزت نہیں خراب کی، اس نے خود اپنی عزت خراب کی، اس، وہ تو معزز تھا، اللہ نے تو اس کو ‏اشرف المخلوقات بنایا، انسان بنایا لیکن اس نے خود ہی ادنیٰ اور گھٹیا کام کیے اور اپنے آپ کو خراب کر دیا۔ عجیب ‏نصیحت کر رہا ہے شاعر، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ تو اپنے آپ کو معزز بناؤ بھئی، ادنیٰ کاموں سے اپنے آپ کو ‏بچاؤ بھئی، ادنیٰ کاموں سے بچاؤ۔ جتنا آپ ادنیٰ کاموں سے اپنے آپ کو بچائیں گے، اتنے ہی آپ معزز ہوتے چلے جائیں ‏گے بھئی۔ تو اپنی عزت خود بناؤ بھئی، اپنے آپ کو مکرم بناؤ۔ و من یغترب يحسب عدوا صديقہ و من لم یکرم نفسہ لم یکرم، اور جو کوئی تارکِ وطن ہوتا ہے، اپنی قوم سے، اپنے وطن ‏سے دور ہوتا ہے تو وہ دشمن کو بھی اپنا دوست سمجھتا ہے اور جو کوئی اپنی ذات کی، اپنے نفس کی عزت خود نہیں ‏کرتا، لم یکرم تو اس کی عزت نہیں کی جاتی، یعنی لوگ بھی اس کی عزت نہیں کرتے۔ و مهما تکن عند امرئ من خلیقۃ و إن خالها تخفی علی الناس تعلم۔ امرؤٌ آدمی بھئی اور امرأۃٌ عورت۔ خلیقہ، خلیقہ کہتے ہیں ‏عادت کو بھئی، عادت کو۔ خال یخال کے معنی ہیں خیال کرنا، سمجھنا۔ و مهما تکن عند امرئ من خلیقۃ، اور جو کوئی بھی کسی آدمی کے پاس من خلیقۃ کوئی عادت ہو، جو بھی کسی آدمی کی ‏کوئی عادت ہو، من خلیقۃ، یہ من زائدہ ہے اور یہ تکن کا فاعل ہے خلیقۃ، یہ کان تامہ ہے اور ایک کان ناقصہ ہوتا ہے جو ‏ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر اور ایک کان تامہ ہوتا ہے جہاں صرف فاعل پر بات پوری ہو جاتی ہے، وہاں دو اسم ‏نہیں چاہیے، یعنی اسم اور خبر نہیں چاہیے۔ ای و مهما تکن خلیقۃٌ، ای ثبتت خلیقۃٌ، کوئی بھی عادت کسی کی ہو، عند امرئ کسی آدمی کے پاس یعنی کسی آدمی کی۔ و ‏مهما تکن عند امرئ من خلیقۃ، اور جو کوئی بھی کسی آدمی کی کوئی عادت ہو، و إن خالها اگرچہ وہ اس کے بارے میں یہ ‏خیال کرتا ہے، ھا ضمیر راجع ہے خلیقہ کو، وہ اگرچہ اس کے بارے میں یہ خیال کرتا ہے، تخفی علی الناس کہ وہ لوگوں ‏پر مخفی رہے گی، چھپی رہے گی، تعلم اس کو جان لیا جائے گا۔ اور جو کوئی بھی کسی آدمی کی کوئی عادت ہو اگرچہ وہ ‏یہ سمجھتا ہو کہ یہ لوگوں پر مخفی رہے گی، لوگوں سے چھپی رہے گی، تعلم اس کو جان لیا جائے گا، جان لیا جائے گا۔ یعنی کسی شخص کی کوئی بھی کسی میں کوئی اخلاقی خرابی ہو، کوئی بد اخلاقی ہو اور کوئی خرابی ہو، وہ یہ سمجھتا ‏ہے شاید لوگوں پر چھپی رہے گی لیکن ایسا نہیں ہے۔ کسی کے اندر جو بھی بد اخلاقی یا خرابی ہوتی ہے وہ، وہ کچھ ‏عرصے تک تو چھپی رہتی ہے لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کو اس کا پتہ چل جاتا ہے، لوگ اس کو جان لیتے ہیں۔ بات سمجھ ‏میں آرہی ہے؟ بالفاظِ دیگر یوں کہیے کہ کسی میں کوئی خرابی ہوتی ہے، لوگوں سے چھپاتا پھرتا ہے تو ایک عرصہ تک تو اللہ اس پر ‏پردے ڈالتے رہتے ہیں، لیکن پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب اس کی جرات بڑھتی چلی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ پردے ہٹا ‏دیتے ہیں اور لوگوں پر اس کو آشکارا فرما دیتے ہیں۔ جیسے کوئی چوری کر رہا ہے، چوری کی عادت ہے، وہ چوری ‏کرتا رہتا ہے، اللہ پردے ڈالتے رہتے ہیں، لیکن پھر ایک وقت آتا ہے جب اس کی جرات حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ سب ‏لوگوں کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا فرما دیتے ہیں۔ اللہ ہم سب کی برے اخلاق سے، بری عادتوں سے ہم سب کی ‏حفاظت فرمائے بھئی۔ و مهما تکن عند امرئ من خلیقۃ و إن خالها تخفی علی الناس تعلم، اور کسی آدمی کے پاس کوئی بھی ایسی کوئی بھی عادت ‏ہو اگرچہ وہ یہ سمجھتا ہو کہ یہ لوگوں پر چھپی رہے گی، تعلم اس کو جان لیا جائے گا، یعنی لوگوں کو اس کا پتہ چل ‏جائے گا بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الکلام۔
62 approved lectures · 40 of 62