کقنطرة الرومي أقسم ربها # لتقتنفن حتى تشاد بقنمد
صهابية العثنون موجدة القرا # بعيدة وخد الرجل موارة اليد
أمرت يداها فتلا شزرا وأجنحت # لها عضداها في سحيف مسند
طرفہ بن العبد اپنی اونٹنی کی صفات ذکر کر رہا ہے بھئی۔
تو آگے کہتا ہے: کقنطرة الرومي أقسم ربها، لتقتنفن حتى تشاد بقنمد۔
قنطره، قنطره کہتے ہیں بڑے پل کو۔
بڑا پل بھئی، دریا عبور کرنے کے لیے جو پل بنائے جاتے ہیں تو بڑا پل جو ہے اس کو قنطره کہتے ہیں۔
الرومي، رومی کسے کہتے ہیں؟
جی؟
روم والا، ہاں یاد رکھو بھئی، رومی عربی زبان میں انگریز کو کہتے ہیں۔ ہم اردو میں کیا کہتے ہیں؟ انگریز اور عرب کیا کہتے ہیں؟ رومی، رومی۔
روم چونکہ ان کا بڑا علاقہ تھا، مرکز تھا، اس وجہ سے عرب ان کو کیا کہتے ہیں؟ رومی، روم والے یعنی انگریز مراد ہے، انگریز۔
اور یہ رومی یہاں مفرد اور جمع میں فرق یا کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایک ہو تو کہیں گے رومیٌ، یا کے ساتھ اور اگر جمع ہو تو یا کو گرا دیں گے، روم بھئی۔
تو مفرد کے لیے یا ملاتے ہیں اور جمع کے لیے یا کو گرا دیتے ہیں، رومیٌ اور روم بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے عربیٌ اور عرب، ایک ہو تو عربیٌ، جمع ہو تو عرب۔ یا یہ اسی طرح ہے جیسے زنجیٌ اور زنج بھئی، زنجی حبشی کو کہتے ہیں۔ مفرد ہو تو زنجیٌ، جمع ہو تو زنج بھئی۔
أقسم ربها، أقسم يقسم کے معنی ہیں قسم اٹھانا۔
ربها، أي رب القنطرة، ها ضمیر راجع ہے قنطره کو۔
اور رب یہاں بمعنی مالک کے ہے۔ فقہ کی کتابوں میں بھی آپ پڑھتے ہوں گے رب المال بھئی، کیا معنیٰ؟ مال والا یعنی مال کا مالک بھئی جو ہے۔ تو رب القنطره، پل کا مالک۔
لتقتنفن، إقتنف يقتنف کے معنی ہیں حفاظت کرنا بھئی، حفاظت کرنا۔
اور یہ اس پر لام تاکید کا داخل ہے اور آخر میں نون خفیفہ ہے، یہ بھی تاکید کے لیے ہے۔ لتقتنفن کہ اس کی ضرور حفاظت کی جائے گی۔ حتى تشادا، شاد يشاد کے معنی ہیں بلند کرنا، بلند کرنا۔ اسی طرح اس کا معنیٰ ہے پلستر کرنا، دیوار پر سیمنٹ وغیرہ یا مصالحے سے جو پلستر کیا جائے اس کے لیے بھی یہ لفظ بولتے ہیں۔
تو شاد يشاد کا کیا معنیٰ ہوا؟ بلند کرنا اور پلستر کرنا۔
قرمد، قرمد اس کا مفرد ہے قرمدةٌ بھئی۔ بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مفرد اور جمع میں فرق تا کے ذریعے، گول تا کے ذریعے کرتے ہیں۔ آخر میں گول تا ہو تو یہ مفرد اور گول تا کو ہٹا دیں تو یہ جمع بھئی۔
تو یہ قرمد جمع ہے قرمدةٌ کی۔ اور قرمدہ کہتے ہیں پکی اینٹ کو بھئی۔
وہ اینٹ جسے پکایا جائے، یہ جو آپ بھی اپنی عمارتوں کی تعمیر میں اینٹیں استعمال کرتے ہیں، ان کو کیا کیا جاتا ہے؟ بھٹے کے اندر پکایا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ جو پکی اینٹ ہے، اس کو قرمد کہتے ہیں بھئی۔
اور جبکہ بعضوں نے لکھا کہ قرمد اس مصالحے کا نام ہے جس سے عمارت بنائی جائے۔ آج کل تو عمارتیں جو ہیں وہ سیمنٹ سے بنائی جاتی ہیں، سیمنٹ سے۔ اور قدیم زمانے میں چنونے، چونے کو ملا کر ایک خاص مصالحہ تیار کیا جاتا تھا، اس سے عمارتیں بنائی جاتی تھیں اور وہ مصالحہ بڑا ہی مضبوط ہوتا تھا بھئی۔ یہ سیمنٹ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سیمنٹ کی عمارت زیادہ سے زیادہ سو ڈیڑھ سو سال شاید گزار سکے بھئی، پھر اس کے بعد اس کو گرانا پڑے گا کیونکہ خطرہ ہوگا کسی بھی وقت گر نہ جائے۔ تو یہ عمارت، یہ سیمنٹ کی جو عمارت ہے زیادہ وقت نہیں گزار سکتی۔
جبکہ قدیم لوگ وہ چونے سے جو مصالحہ تیار کرتے تھے وہ اتنا زبردست ہوتا تھا کہ آج بھی آپ ان کی عمارتیں دیکھتے ہیں سینکڑوں سال گزر گئے، ان کی عمارتیں اسی طرح مضبوط اور زبردست کھڑی ہیں بھئی۔ جیسے یہ آپ کے لاہور میں بادشاہی مسجد ہے اور اسی طرح شاہی قلعہ ہے، دیکھو سینکڑوں سال گزر گئے یہ عمارتیں اسی طرح مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں بھئی۔ اور یہ تو بلکہ ان کو تو شاید 300 سال کے لگ بھگ ہوا ہو اور اور بھی دنیا کے اندر عمارت ہے قدیم، کئی کئی چھ چھ سات سات سو سال پرانی یا اس سے بھی زیادہ قدیم عمارتیں ہیں اور وہ ایسے مصالحے سے تیار کی گئی، بنائی گئی ہیں کہ آج بھی بڑی ہی مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہیں، تو سیمنٹ اتنا مضبوط نہیں ہے۔ سائنس اتنی ترقی کر گئی لیکن پھر بھی ان کے مقام اور ان کی بنائی ہوئی چیزوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی بھئی۔
تو اس کو بعضوں نے کہا اس کو قرمد کہتے ہیں۔ بعضوں نے کیا کہا؟ پکی اینٹ جو ہے اس کو قرمد کہتے ہیں اور بعضوں نے کہا وہ جو مصالحہ ہے چونے سے بنایا ہوا اس کو قرمد کہتے ہیں۔
الفاظ کے معنیٰ سمجھ میں آ گئے بھئی؟ جی، کقنطرة الرومي أقسم ربها لتقتنفن حتى تشاد بقنمد۔
کقنطرة الرومي، میری وہ جو اونٹنی ہے وہ ایسی ہے جیسے کہ کسی رومی کا پل ہو، کسی انگریز کا بنایا ہوا بڑا پل ہو۔
الرومي، الرومي پر جو الف لام آیا، یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے۔
یہ کون سا الف لام ہے؟ اور الف لام عہدِ ذہنی جس لفظ پر داخل ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے تو اسے معرفہ بنا دیتا ہے، البتہ معنیٰ کے اعتبار سے وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔
میں نے الف لام کی قسمیں پہلے بیان کی ہیں؟ جی؟ ہاں، دوبارہ سن لیں بھئی، الف لام کی قسمیں آپ کو آنی چاہئیں بھئی، ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونی چاہئیں۔
یاد رکھیے! الف لام جو ہے دو قسم پر ہے، ایک الف لام اسمی ہے اور ایک الف لام حرفی ہے۔ الف لام اسمی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے اسم والا، اسم کی طرف جو منسوب ہو اور الف لام حرفی، الف لام حرف والا جو حرف کی طرف منسوب ہو۔
تو الف لام اسمی وہ الف لام ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو۔
کس پر داخل ہو؟ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول۔ بھئی، ایک ہوتا ہے فاعل اور ایک ہوتا ہے اسمِ فاعل، دونوں میں فرق کا پتہ ہے؟ فاعل وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے۔
اور اسمِ فاعل وہ مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے گردانوں کے اندر پڑھا ہے ضاربٌ، مانعٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ وغیرہ۔
ضرب زیدٌ، یہ زید کیا ہے؟ فاعل ہے، اس کو ضرب نے رفع دیا، وہ اسم جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے اس کو کیا کہتے ہیں؟ فاعل۔ تو ضرب زیدٌ، یہ زیدٌ کیا ہے؟ فاعل۔ ضرب بکرٌ، یہ بکرٌ کیا ہے؟ فاعل۔ ضرب خالدٌ، یہ خالد کیا ہے؟ فاعل ہے۔ فاعل کوئی بھی لفظ ہو سکتا ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، جبکہ اسمِ فاعل وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا۔
ضرب کی گردان میں کیا پڑھا؟ ضاربٌ، یہ ہے اسمِ فاعل۔ فتح میں کیا پڑھا؟ فاتحٌ۔ نصر میں کیا پڑھا؟ ناصرٌ۔ اکرم میں کیا پڑھا؟ مکرمٌ۔ استخرج میں کیا پڑھا؟ مستخرجٌ، وہ خاص صیغے کا نام ہے اسمِ فاعل۔
اسی طرح ایک ہے مفعول اور ایک ہے اسمِ مفعول، مفعول وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، ضربت زیداً، یہ زید کیا ہے؟ مفعول۔ ضربت خالداً، یہ خالد کیا ہے؟ مفعول۔ ضربت بکراً، یہ بکر کیا ہے؟ مفعول۔ تو مفعول وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، یہ کوئی بھی لفظ ہو سکتا ہے، جبکہ اسمِ مفعول وہ خاص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا مضروبٌ، ممنوعٌ، مفتوحٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ، مختلف اوزان آپ نے مختلف بابوں میں پڑھے، یہ سارے کیا ہیں؟ اسمِ مفعول۔
تو یہ جو اسمِ فاعل، توجہ ہے؟ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر جو الف لام آئے وہ الف لام اسمی ہے۔ جیسے ضارب پر الف لام آ گیا الضارب، یا مضروب پر الف لام آ گیا المضروب، تو یہ الف لام کون سا ہے؟ اسمی۔
یاد رکھو، یہ جو الف لام اسمی ہے یہ دراصل اسم ہے۔ اسی لیے اس کو الف لام اسمی کہتے ہیں، اسم والا الف لام، یہ اسم ہے، یہ اسمِ موصول ہے دراصل، یہ کیا ہے؟ اسمِ موصول آپ نے پڑھا ہے معرفہ ہوتا ہے اور کسی معین ذات پہ دلالت کرتا ہے۔
تو یہ جو الضارب پر الف لام آیا یہ کون سا الف لام ہے؟ اسمی اور المضروب پر جو الف لام آیا یہ کون سا الف لام ہے؟ اسمی۔ یہ دراصل اسم ہے، اسم ہے، یہ حرف نہیں ہے اور اسمِ موصول ہے، چنانچہ آپ نے قافیہ میں پڑھا ہو گا، اسی طرح شرح جامی کے اندر بھی، کہ جہاں پر صاحبِ قافیہ اسمِ موصول کی بحث کرتے ہیں وہاں اسمائے موصولہ گنواتے ہیں کہ اسمِ موصول الذی ہے، اللذان ہے، الذین ہے وغیرہ، اللتی ہے، وہاں پر وہ آپ کو بتاتے ہیں الف لام، کیا بتلاتے ہیں؟ دیکھا، یہ الف لام وہ وہاں شمار کرواتے ہیں کہ یہ اسمِ موصول ہے۔
تو الضارب، یہ الف لام کون سا ہے؟ اسمی ہے بھئی، یہ اسمِ موصول ہے دراصل، تو الضارب بمعنی الذی یضرب کے ہے، الضارب کس معنیٰ میں ہے؟ الذی یضرب، وہ جو پٹائی کرتا ہے اور المضروب، یہ بمعنی الذی یضرب کے ہے، وہ جس کی پٹائی کی جاتی ہے۔
تو یہ الف لام کیا ہے؟ اسمی۔
اور دوسرا الف لام حرفی ہے بھئی، الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی لفظ کو معرفہ بنایا جاتا ہے، جس لفظ پر داخل ہوتا ہے اس کو معرفہ بنا دیتا ہے، رجل، اس پر الف لام لے آئیں الرجل، کیا بن گیا؟ معرفہ۔ قلمٌ، اس پر الف لام لے آئیں القلم، کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اب مجھے بتائیے، الرجل میں الف لام نے کیا کیا؟ لفظِ رجل کو معرفہ بنا دیا۔ القلم میں الف لام نے قلم لفظ کو کیا بنایا؟ معرفہ، اور اس کی بہترین تعبیر یاد رکھنا، الف لامِ حرفی وہ ہے جو جب کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو معرفہ بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ یہ تعبیر آپ کو ہر جگہ کام آئے گی، بہترین تعبیر ہے کہ الف لام حرفی وہ ہے جو کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو معرفہ بناتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
اچھا اب مجھے بتاؤ الضارب، یہ الف لام نے جو اسمِ فاعل پر داخل ہوا الضارب، کیا اس نے لفظِ ضارب کو معرفہ بنایا؟ جی؟ ہاں شاباش، نہیں! کیونکہ یہ تو الف لام خود اسمِ موصول ہے، یہ خود معرفہ ہے، اسمِ موصول خود معرفہ ہوتا ہے، دوسروں کو معرفہ نہیں بناتا، جبکہ الرجل میں جو الف لام ہے اس نے لفظِ رجل کو کیا کیا؟ معرفہ بنایا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی لفظ کو معرفہ بنایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، اب اشارہ یا تو جنس اور حقیقت کی طرف ہو گا یا افراد کی طرف ہو گا۔
جنس اور حقیقت یا ماہیت جس سے کوئی چیز بنی ہے، جو اس کے اجزاء ہیں، وہ جو اجزاء ملے تو وہ چیز بنی، جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، حیوان اور ناطق یہ دو چیزیں ملیں گی تو انسان کا وجود ہو گا، ان میں سے ایک چیز بھی کم ہو گئی تو انسان کا وجود نہیں ہو سکتا۔
تو کسی چیز کے جو اجزاء جس سے وہ بنے، وہ کیا ہے؟ اس کے جنس اور حقیقت ہے اور ماہیت ہے۔
تو لہٰذا الف لام کے ذریعے اگر اشارہ ہو کسی چیز کی جنس کی طرف یا اس کی حقیقت اور ماہیت کی طرف جس سے وہ چیز بنی ہے، تو اس کو کہتے ہیں الف لام جنسی، کیا کہتے ہیں؟ الف لام جنسی، دیکھو اشارہ ہو رہا ہے جنس کی طرف، ماہیت کی طرف۔
اور اگر اشارہ ہو افراد کی طرف پھر یا تو تمام افراد کو اشارہ ہو گا یا بعض افراد کو، اگر تمام افراد کو اشارہ ہے تو اس کو الف لام استغراقی کہتے ہیں، استغراق کا معنیٰ گھیر لینا، احاطہ کر لینا، دیکھو اس نے بھی کیا کیا، سارے افراد کا احاطہ کر لیا۔
تو اگر تمام افراد کو اشارہ ہو تو یہ الف لام استغراقی ہے، اگر بعض افراد کو اشارہ ہو تو پھر وہ بعض خارج میں متعین ہوں گے یا خارج میں متعین نہیں، اگر خارج میں وہ افراد متعین ہیں تو اس کو کہتے ہیں عہدِ خارجی، کیا کہتے ہیں؟ عہد کا معنیٰ ہے متعین ہونا، مقرر ہونا، تو عہدِ خارجی ترجمے سے ہی پتہ چل رہا ہے، کیا معنیٰ؟ جو خارج میں متعین ہے، مقرر ہے، مثلاً میں نے کہا الرجل، دیکھو کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور میں نے کہا جس کے لیے بعض افراد کی طرف اشارہ ہو، خارج میں، اگر جنس کی طرف اشارہ ہو تو وہ الف لام جنسی، اگر افراد کی طرف اشارہ ہو پھر تمام افراد کو اشارہ ہو گا یا بعض، اگر تمام کو اشارہ ہو تو الف لام استغراقی اور اگر بعض کو اشارہ ہو تو وہ الف لام عہدِ، وہ خارج میں متعین ہوں تو الف لام عہدِ خارجی، اور پھر وہ بعض ایک بھی ہو سکتا ہے، دو بھی ہو سکتے ہیں، زیادہ بھی، الرجل، دیکھو وہ ایک آدمی، الرجلانِ، دیکھو کتنے آدمی؟ وہ دو آدمی، الرجالُ، وہ سارے آدمی، وہ سارے آدمی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جیسا لفظ ہو گا اس کے مطابق اشارہ ہو گا، مفرد لفظ پر الف لام آیا تو ایک فرد کی طرف اشارہ، تثنیہ پر یہ والا الف لام آیا تو دو کی طرف، جمع والا آیا تو جمع کی طرف۔
اور اگر وہ افراد خارج میں متعین نہیں ہیں تو پھر اس کو کہتے ہیں الف لام عہدِ ذہنی، کیا کہتے ہیں؟ یعنی جو ذہن میں متعین ہے، کیسے؟ بھئی کسی، کوئی ایک فرد ذہن میں سوچ کے اس کی طرف اشارہ کر دیا، خارج میں متعین نہیں ہے، لیکن ذہن میں کسی ایک فرد کا تصور کر کے اس کی طرف کیا کر دیا الف لام کے ذریعے؟ اشارہ کر دیا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو الف لام کتنی قسم پر؟ دو، ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی، الف لام اسمی کیا ہے؟ جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو اور یہ دراصل کیا ہوتا ہے؟ اسمِ موصول ہوتا ہے، اور دوسرا الف لام حرفی ہے جو کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو معرفہ بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ، اگر اشارہ جنس، حقیقت اور ماہیت کی طرف ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام جنسی، اگر افراد کی طرف ہو تو پھر تمام افراد کو اشارہ ہو گا یا بعض، اگر تمام کو اشارہ ہے تو الف لام استغراقی، اور اگر بعض کی طرف اشارہ ہے تو وہ خارج میں متعین ہوں گے یا نہیں، اگر خارج میں متعین ہے تو الف لام عہدِ خارجی، اور اگر متعین نہیں تو الف لام عہدِ ذہنی ہے، یہ قسمیں ہو گئیں۔
اب ان کی مثالیں بھی بھئی، جیسے دیکھو، الف لام حرفی، اگر جنس اور حقیقت، جنس، حقیقت اور ماہیت کی طرف اشارہ ہو تو وہ الف لام جنسی کہلاتا ہے، مثلاً:
الرجل خير من المرأة، الرجل خير من المرأة، ترجمہ کیا کریں گے؟
جنسِ رجل، الف لام کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہو رہا ہے؟ جنس، جنسِ رجل یا یوں کہو حقیقتِ رجل، وہ افضل ہے کس سے؟ حقیقتِ امراة سے، افراد نہیں مراد، افراد نہیں مراد، افراد مراد ہوں تو پھر تو یہ ہر جگہ درست نہیں رہے گا، مثلاً ایک ایمان والی عورت ہے اور ایک کافر مرد ہے، کون افضل؟ ایمان والی عورت، حالانکہ کہا تو کیا جا رہا ہے الرجل خیر من المرأة، حالانکہ یہاں پر عورت افضل ہو گئی، تو یہاں افراد نہیں مراد کیونکہ افراد تو عورت کے مرد سے افضل ہو سکتے ہیں، بلکہ جنس اور حقیقت مراد ہے کہ یہ جو رجل کی ماہیت اور جنس ہے اس کو اللہ نے جنسِ امراة پر فضیلت عطا کی ہے، آپ بھی دنیا میں دیکھتے ہیں بھئی۔
جنس رجل کو اللہ نے فضیلت، تو یہاں جنس مراد ہے۔ "الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ"، الرجل پر بھی الف لام داخل، المرأة پر بھی الف لام داخل، کیا یہ الف لام اسمی ہے؟ نہیں۔ اس میں فاعل یا مفعول کے صیغے ہیں؟ نہیں۔ تو یہ الف لام حرفی ہے اور الف لام حرفی کے ذریعے تو کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو یہ یہاں کس کی طرف اشارہ ہو؟ جنس کی طرف، تو یہ الف لام جنسی ہوا۔
اور کبھی تمام افراد کو اشارہ ہو گا جیسے قرآن میں اپ پڑھتے ہیں، "وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ"، "إِنَّ الْإِنسَانَ"، الإنسان پر الف لام آیا، یہ الف لام استغراقی ہے۔ ترجمہ کیسے ہو گا؟ تمام انسان خسارے میں ہیں۔ تو یہ الف لام استغراقی ہے، تمام انسان کے افراد کی طرف اشارہ ہے۔
لہٰذا اپ ترجمہ کرتے ہیں "إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ"، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ کوئی اپ کو کہے گا: بھئی یہ تمام کا لفظ کہاں سے لے آئے، کہاں ہے یہاں پر تمام؟ یہاں تو "الْإِنسَانَ" ہے، تو اپ فوراً کہیں گے کہ یہ میں کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ الف لام کا، یہ الف لام استغراقی ہے، اس کا ترجمہ تمام اور کل کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
اور کبھی کبھار الف لام کے ذریعے خارج میں کسی فرد کی طرف اشارہ ہو گا، عہدِ خارجی ہے، مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں کہ کل رات میرے پاس ایک ادمی آیا تھا، "جَاءَنِي رَجُلٌ"، نکرہ میں لایا، کیونکہ اپ کو اس کی پہچان نہیں ہے۔ نکرہ جس کی پہچان نہ ہو، معرفہ وہ ہے جس کی کیا ہو؟ پہچان ہو۔
تو میں نے کہا "جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ"، کل میرے پاس کوئی ایک ادمی آیا تھا، کیونکہ اپ اس کو نہیں جانتے۔ جانتے بھی ہوں، میں نے ذکر نہیں کیا کون تھا، کون نہیں تھا۔ تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ کل میرے پاس کوئی ادمی آیا تھا، کوئی ایک ادمی آیا تھا۔
اب میں اپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اس ادمی کا اکرام کیا، تو میں کہوں گا "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ"، الف لام لے آؤں گا، تو میں نے اکرام کیا اس ادمی کا، دیکھو الف لام کے ذریعے کیا ہو رہا ہے؟ اشارہ ہو رہا ہے اور اپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے میں کس کے اکرام کی بات کر رہا ہوں؟ ہاں وہ جو کل آیا تھا، حالانکہ نہ اپ کو اس کے نام کا پتہ، نہ چہرے کا پتہ، نہ کپڑوں کا پتہ، کوئی پہچان نہیں، لیکن ایک دفعہ جب ذکر ہو گیا، متعین ہو گیا یا نہیں؟ اب اپ اس کو پہچان رہے ہیں، میں نے کہا "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ" تو میں نے اس ادمی کا اکرام کیا۔
الرجل کے ذریعے اس کی طرف اشارہ ہو گیا، تو اب ترجمہ یوں نہیں کریں گے "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ"، میں نے کسی ادمی کا اکرام کیا، نہیں نہیں، میں نے اس ادمی کا، دیکھو ایک متعین کی طرف اشارہ ہو رہا ہے اور اپ سمجھ رہے ہیں کس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، وہی جس کا ابھی ذکر چل رہا تھا۔
تو معرفہ کا یہ معرفہ ہونے کا یہ معنی ہے نا کہ اپ نے اس کو دیکھا ہو، جانتے پہچانتے ہوں، نام کا پتہ ہو، نہیں نہیں، اپ کو اتنا پتہ ہو کس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، کس کی بات ہو رہی ہے بس، اس کا مطلب ہے معرفہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو میں نے کہا، تو میں نے اس ادمی کا اکرام کیا۔
اگر وہ دو تھے تو میں کہوں گا "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَيْنِ"، میں نے ان دو ادمیوں کا اکرام کیا، اگر وہ زیادہ تھے تو میں کہوں گا "فَأَكْرَمْتُ الرِّجَالَ"، تو میں نے ان ادمیوں کا اکرام کیا، اپ سمجھ رہے ہیں کن کی بات ہو رہی ہے۔ تو یہ خارج میں متعین تھے جو میرے پاس آئے تھے۔
اور اگر خارج میں متعین نہیں، تو پھر یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے اور اس کی بہترین مثال قرآن میں ہے۔ قرآن میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس ان کے بیٹے آئے اور کہا، حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہ ان کو ہمارے ساتھ بھیج دیں جنگل میں، کھیلے گا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ان سے بڑی محبت تھی، فرمانے لگے "أَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ"، "أَخَافُ" مجھے خوف ہے "أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ" کہ ان کو بھیڑیا کھا جائے گا، "الذِّئْبُ" الف لام آیا۔
اب الذئب الف لام، الف لام یہ اسمی تو ہے نہیں، کیونکہ اس میں فاعل یا اسم مفعول کے صیغے پر تو داخل نہیں ہو رہا، تو حرفی ہے، اب حرفی میں کون سا ہے، ہم دیکھ لیتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام فرما رہے ہیں "أَخَافُ"، مجھے خوف ہے "أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ"، ان کو بھیڑیا کھا جائے گا۔
اب الف لام سے جنس مراد ہو سکتی ہے؟ کیا مجھے یہ خوف ہے کہ بھیڑیے کی جو حقیقت ہے اور ماہیت ہے وہ ان کو کھا جائے گی؟ مجھے بتائیے، بھیڑیے کی حقیقت اور ماہیت چیزوں کو کھاتی ہے یا خارج میں جو بھیڑیے کے افراد ہیں وہ کھاتے ہیں؟ خارج میں جو افراد ہیں وہ کھاتے ہیں، معلوم ہوا یہ الذئب میں الف لام جنسی نہیں ہے۔
اچھا، پھر الف لام استغراقی تو نہیں ہے، یہ بھی ہم دیکھ لیتے ہیں۔ مجھے یہ خوف ہے "أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ" کہ ان کو تمام بھیڑیے کھا لیں گے؟ یہ بھی نہیں ہو سکتا، کیا تمام دنیا کے بھیڑیے وہاں اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ تمام دنیا کے تو اکٹھے بھی نہیں ہو سکتے، تو معلوم ہوا الف لام استغراقی بھی نہیں ہے۔
اچھا، پھر دیکھتے ہیں کہ الف لام عہدِ خارجی تو نہیں، کوئی خارج میں کوئی متعین بھیڑیا ہو؟ حضرت یعقوب علیہ السلام فرما رہے ہیں، مجھے خوف ہے کہ ان کو وہ والا بھیڑیا کھا جائے گا، کوئی متعین بھیڑیا ہے؟ نہیں، کوئی متعین بھیڑیا بھی نہیں ہے، تو معلوم ہوا یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے۔
کوئی ایک فرد بھیڑیے کا ذہن میں تصور کر لیا اور الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ اور میں نے بتایا، یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہے، یہ جس اسم پر داخل ہوتا ہے، لفظوں میں تو اس کو معرفہ بنا دیتا ہے، کیونکہ الف لام آ گیا نا، تو وہ لفظ کیا بن گیا؟ معرفہ۔
لیکن معنی کے اعتبار سے وہ نکرہ کا نکرہ ہی ہے، تو ذئبٌ کا جو، ذئبٌ اگر نکرہ ہو، کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ کوئی ایک بھیڑیا۔ تو الذئبُ، اس پر الف لام عہدِ ذہنی ہے، تو اب بھی کیا ترجمہ ہو گا؟ کوئی ایک بھیڑیا، وہی نکرہ والا ترجمہ کریں گے، کیونکہ الف لام عہدِ ذہنی جس لفظ پر داخل ہوتا ہے، لفظوں میں معرفہ بنتا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ نکرہ کا نکرہ رہتا ہے۔
تو اب ترجمہ بہترین ہو جائے گا "أَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ"، مجھے خوف ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھی طرح؟
تو یہ الف لام کی قسمیں، بھئی! اور جیسے وہ مشہور مثال ہے بھئی، اصولِ الشاشی کے اندر اپ پڑھتے ہیں، خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، الدار لے کر آیا، "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، عموماً طلباء ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ اگر تو گھر میں داخل ہوئی۔
گھر میں، گھر، گھر تو نکرہ، کوئی بھی گھر ہو سکتا ہے، یہاں تو الدار آ رہا ہے، الف لام آ رہا ہے، اگر تو اس گھر میں، کسی خاص گھر کی طرف اشارہ کیا، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق۔ اب دیکھو، ترجمہ بہترین ہو گیا یا نہیں؟ تو یہ الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
تو یہاں پر بھی الرومی بھئی، الرومی میں جو الف لام آیا، یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے، یعنی لفظوں میں تو یہ معرفہ بن گیا، لیکن معنی میں وہی نکرہ کا نکرہ ہے، "كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ"، جیسے کہ کسی رومی کا کوئی پل ہو، کسی انگریز کا بنایا ہوا کوئی پل، ترجمہ وہی نکرہ والا۔
تو شاعر کہتا ہے "كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ أَقْسَمَ رَبُّهَا لَتُكْتَنَفَنْ حَتَّى تُشَادَ بِقَرْمَدِ"، کہ میری اونٹنی جو ہے "أيْ هِيَ كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ"، میری اونٹنی جو ہے وہ کسی انگریز کے، کسی رومی کے ایسے بڑے پل کی طرح ہے۔
بھئی "كَقَنْطَرَةِ"، یہ بھی ہے نکرہ، اور "الرُّومِيِّ"، یہ بھی کیا ہے؟ معنی کے اعتبار سے نکرہ ہے، تو گویا "كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ"، یہ نکرہ کی نکرہ اضافت کے باوجود کیا ہے یہ؟ نکرہ، اور نکرہ کے بعد "أَقْسَمَ" فعل آ گیا، تو اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ نکرہ میں، موصوف سے پہلے پھر کیا لے آتے ہیں؟ ایسا یا ایسے، تو میری اونٹنی کسی انگریز کے، کسی رومی کے ایسے بڑے پل کی طرح ہے "أَقْسَمَ رَبُّهَا"، جس کے مالک نے یہ قسم اٹھا لی ہو کہ "لَتُكْتَنَفَنْ"، "أيْ وَاللَّهِ لَتُكْتَنَفَنْ"، یہاں قسم محذوف ہے، کہ واللہ! جو ہے اس پل کی ضرور حفاظت کی جائے گی "حَتَّى تُشَادَ"، یہاں تک کہ اس کو اونچا کر دیا جائے "بِقَرْمَدِ"، کس کے ساتھ؟ پکی اینٹوں کے ساتھ، یہاں تک کہ اسے اونچا کر دیا جائے پکی اینٹوں کے ساتھ، یا "حَتَّى تُشَادَ"، یہاں تک کہ اس پر پلستر کر دیا جائے "بِقَرْمَدِ"، اس مصالحے کے ساتھ۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو تشاد کے بھی، تو تشاد کے دو معنی تھے بھئی، بلند کرنا اور پلستر کرنا، دونوں کے مطابق ہم نے ترجمہ کر لیا، اور قرمد کے بھی دو ترجمے تھے۔
تو کہتا ہے کہ میری اونٹنی جو ہے، کسی رومی کے اس بڑے پل کی طرح ہے جس کے مالک نے یہ قسم اٹھا لی ہو کہ اس پل کی ضرور حفاظت کی جائے گی، یہاں تک کہ پکی اینٹوں کے ساتھ اس کو اونچا کر دیا جائے۔
رومی کے پل کو ذکر کیا، انگریزوں کے پل کو، روم والوں کے پل کو، وجہ یہ کہ عرب صحرائی علاقہ ہے بھئی، صحرا ہے، اور وہاں اتنی تعمیرات وغیرہ جو ہیں نہیں ہیں، جبکہ روم وغیرہ جو ہے وہ اس صحرا وغیرہ کا علاقہ نہیں ہے، تو یقیناً ان کی تعمیرات اور ان کی عمارتیں بہتر اور مضبوط ہوتی ہیں، اس لیے بالخصوص اس کو ذکر کیا کہ ان کا خیال یہ تھا کہ روم والے جو ہیں ان کی عمارتیں اور تعمیرات وغیرہ کیا ہیں؟ بڑی مضبوط ہوتی ہیں۔ تو میری اونٹنی بھی کس کی طرح ہے؟ روم والوں کے کسی بڑے پل کی طرح ہے، اور پل کی طرح کہا کیونکہ دیکھو، جیسے پل میں ستون ہوتے ہیں اور درمیان والا حصہ اونچا ہوتا ہے، اسی طرح میری اونٹنی کے بھی اگلے اور پچھلے پاؤں ہیں اور درمیان میں پیٹ کیا ہے؟ اونچا ہے، تو جیسے پل جیسی صورت ہے بھئی۔
اور کہا کسی بڑے پل کی طرح، روم کے روم والوں کے بڑے پل، مضبوط پل کی طرح، یعنی میری اونٹنی بھی ان کی طرح مضبوط اور طاقتور ہے، بڑا سفر کرنے والی ہے، بڑا بوجھ اٹھانے والی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
یہ تو ایک معنی ہوا رومی کا، جبکہ بعض قدیم شارحین فرماتے ہیں کہ الرومی سے مراد دریائے دجلہ اور دریائے فرات ہیں بھئی، یہ عراق میں بہنے والے دو بڑے اور مشہور و معروف دریا ہیں بھئی، اور ان کو شاعر نے رومی کہا بھئی، یہ بعض شارحین نے لکھا، کہ رومی سے مراد وہ دو دریا ہیں عراق کے بھئی، اور ان کو رومی کہا کیونکہ وہ روم کی طرف سے آتے ہیں عراق کے اندر بھئی، تو "كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ"، جیسے کہ دریائے دجلہ اور فرات کے بڑے پل ہوں، یہ دریا چونکہ بڑے ہیں، تو ظاہر سی بات ہے کہ ان پر جو پل ہوں گے وہ بھی بڑے پل ہوں گے، تو کیا کہتا ہے؟ کہ میری اونٹنی جو ہے "كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ"، وہ دریائے دجلہ اور فرات کے بڑے پل کی طرح ہے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعض شارحین نے یہ معنیٰ کیا کہ رومی سے مراد دریائے دجلہ اور فرات ہیں اور قنطرہ سے مراد ان کا پل ہے بھئی، لیکن عام شارحین نے رومی سے مراد رومی انسان ہی مراد لیا ہے، جیسے کسی روم والے کا بڑا پل ہو بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو یہ بعضوں نے ذکر کیا بھئی، بہرحال پہلا ترجمہ آسان ہے، وہ وہ آپ یاد رکھیں، جیسے کسی روم والے کے بڑے پل کی طرح جس کے مالک نے، اس کے مالک نے قسم، بھئی دیکھو! روم والوں کے پل اور عمارتیں ویسے ہی بڑی مضبوط ہوتی ہیں، اور پھر بالخصوص اگر مالک قسم اٹھا لے کہ اس پل کی کیا کی جائے گی؟ حفاظت کی جائے گی، یہاں تک کہ اس کو پکی اینٹوں سے اونچا کر دیا جائے، معنی یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے گی، یعنی اس پر تعمیر مسلسل جاری رہے گی، رکے گی نہیں جب تک کہ پوری طرح اینٹوں سے بن کر تیار نہ ہو جائے بھئی، مسلسل یعنی اس پر کام ہوتا رہے گا۔
تو جب مالک قسم اٹھا لے، پھر تو بالخصوص وہ پل کتنا مضبوط اور بہترین ہو گا، تو میری اونٹنی بھی اسی طرح مضبوط اور طاقتور ہے بھئی۔
"كَقَنْطَرَةِ الرُّومِيِّ أَقْسَمَ رَبُّهَا لَتُكْتَنَفَنْ حَتَّى تُشَادَ بِقَرْمَدِ"، جیسے کہ کسی روم والے کا بڑا پل جس کے مالک نے قسم اٹھا لی ہو کہ ضرور اس کی حفاظت کی جائے گی، یہاں تک کہ اس کو اونچا کر دیا جائے پکی اینٹوں سے، یا یہاں تک کہ اس پر پلستر کر دیا جائے اس چُونے کے مصالحے کے ساتھ۔
"صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ مُوجَدَةُ القَرَى بَعِيدَةُ وَخْدِ الرِّجْلِ مَوَّارَةُ اليَدِ"، "صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ"، صہابیہ کہتے ہیں بھورا رنگ بھئی، وہ سرخی جس کے ساتھ سفیدی ملی ہوئی ہو۔
سفیدی، بھورا رنگ، اور اونٹوں کے اندر یہ رنگ پسندیدہ، یہ جو عام اونٹوں کا رنگ اپ نے دیکھا ہے، یہ ہے بھورا رنگ بھئی، تو اس کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ صہابیہ۔
العثنون بھئی، بھئی مردوں کے اندر ٹھوڑی پر جو بال ہیں اس کو لحیۃ کہتے ہیں، داڑھی بھئی داڑھی، ٹھوڑی پر جو بال ہیں عربی میں کیا کہتے ہیں؟ مردوں، مردوں میں ہوں تو اس کو کہتے ہیں لحیہ، انسانوں میں ہوں تو کیا کہتے ہیں؟ لحیۃٌ، اور اگر یہی بال ہوں اونٹوں میں یا بکرو ں وغیرہ میں، تو اس کو عثنون کہتے ہیں، عثنون، عثنون، اس کے لیے باقاعدہ الگ لفظ ہے عربی میں بھئی۔
تو اونٹ یا بکرے کی ٹھوڑی کے نیچے کے بال: عثنون۔
موجدة القرى، موجدہ کا معنی ہے مضبوط بھئی، مضبوط، طاقتور، قوت والا۔
القرى، قرى کہتے ہیں کمر کو بھئی، کمر، پشت۔
بعيدة وخد الرجل، وخد يخد کا معنی ہے اونٹ کا لمبے قدم اٹھا کر تیز چلنا۔
وخد يخد کا کیا معنی ہے؟ اونٹ کا لمبے قدم اٹھا کر تیز چلنا، تو وخد وہ جو اونٹ کا لمبا قدم ہے، اس کو وخدٌ کہتے ہیں۔
تو کہتا ہے "بَعِيدَةُ وَخْدِ الرِّجْلِ"، اس کے پاؤں کے قدم بڑے لمبے ہیں، یعنی ان میں فاصلہ زیادہ ہے، فاصلہ، لمبے لمبے قدم اٹھاتی ہے۔
موارۃ الید، موارۃ، یہ مبالغہ ہے مائرہ میں۔
مار يمور مورا کا معنی ہے اضطراب کے ساتھ چلنا، آنا جانا بھئی، بے چینی کے ساتھ آنا جانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مورٌ، بے چینی اور اضطراب کے ساتھ آنا جانا، اور اسی سے اسم فاعل بنے گا مائرٌ، اور مونث بنے گا مائرۃٌ، اور انہی سے مبالغے کا صیغہ ہے موارۃ بھئی، تو یہ موارۃٌ، یہ مبالغے کا صیغہ ہے مائرۃٌ بھئی، اضطراب کے ساتھ چلنے والا، آنے جانے والا۔
اور موارۃ الید، یاد رکھیے! عربی زبان میں جو حیوان کے اگلے دو پاؤں ہوتے ہیں، ان پر ید کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جو پچھلے پاؤں ہوتے ہیں، ان پر رجل کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسے انسانوں کے دو ہاتھ ہیں اور دو پاؤں، تو حیوانات میں بھی اگلے پاؤں کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ ید، اور پچھلے پاؤں کو رجل کہتے ہیں۔
تو موارۃ الید یاد رکھیے، اس حیوان کو کہتے ہیں جو بڑا ہی تیز رفتار ہو۔
جو حیوان تیز رفتار ہو تو کہتے ہیں موارۃ الید، موارۃ کا معنیٰ تیزی سے حرکت دینے والا، یہ بھی اپنے پاؤں کو کیا کرنے والا ہے؟ بڑی تیزی سے حرکت دینے والا ہے، یعنی وہ خوب تیز چلنے والا ہے۔
"صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ مُوجَدَةُ القَرَى بَعِيدَةُ وَخْدِ الرِّجْلِ مَوَّارَةُ اليَدِ"، "صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ"، میری جو وہ اونٹ، میری جو اونٹنی ہے، وہ اس کی ٹھوڑی کے جو بال ہیں وہ بھورے رنگ کے ہیں، یعنی پسندیدہ بھورے رنگ کے ہیں۔
موجدة القرى، اور وہ مضبوط کمر والی ہے، یعنی بڑی طاقتور ہے، خوب وزن اٹھانے والی ہے۔
بعيدة وخد الرجل، اور اس کے قدموں کے جو، میں فاصلہ جو ہے، وہ بڑا بعید بڑا لمبا ہے، یعنی لمبے قدم اٹھا کر چلنے والی ہے۔
موارۃ الید، اور بڑی تیز رفتار ہے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
"صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ"، اپ چاہیں تو اس پر رفع پڑھیں "صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ"، اور چاہیں تو جر پڑھ لیں "صُهَابِيَّةِ العُثْنُونِ"।
جر پڑھیں گے تو پیچھے وہ جو صفات بیان ہو رہی تھیں، "وَإِنِّي لَأُمْضِي الهَمَّ عِنْدَ احْتِضَارِهِ بِعَوْجَاءَ مِرْقَالٍ تَـرُوحُ وَتَغْتَدِي"، "بِعَوْجَاءَ"، عوجاء پر با جارّہ داخل تھی، تو یہ ساری صفات کیا ہیں؟ مجرور، تو یہاں پر بھی اپ "صُهَابِيَّةِ العُثْنُونِ" پڑھ سکتے ہیں مجرور بھئی۔
وہی صفات بیان ہو رہی ہیں، اور اپ چاہیں تو رفع پڑھ لیں، رفع کی صورت میں یہ خبر بن جائے گی، مبتدا محذوف نکال لیں گے "أيْ هِيَ صُهَابِيَّةُ العُثْنُونِ"।
تو میری اونٹنی جو ہے وہ اس کی ٹھوڑی کے بال بھورے رنگ کے ہیں، وہ مضبوط کمر والی ہے، لمبے لمبے قدم اٹھانے والی ہے، تیز رفتار ہے۔
چلیے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔