Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 144
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
یُنَجِّمُهَا قَوْمٌ لِّقَوْمٍ غَرَامَةً وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا بَیْنَهُمْ مِّلْءَ مِحْجَمِ فَأَصْبَحَ یَجْرِیْ فِیْهِمُوْ مِنْ تِلَادِكُمْ مَغَانِمُ شَتَّی مِنْ إِفَالٍ مُّزَنَّمِ أَلَا أَبْلِغِ الْأَحْلَافَ عَنِّیْ رِسَالَةً وَذُبْیَانَ هَلْ أَقْسَمْتُمُوْ کُلَّ مُقْسَمِ معلقہ چل رہا ہے زہیر ابن ابی سلمیٰ کا بھئی!‏ اور یہ جو دو شعر میں نے پڑھے:‏ ‏"فَأَصْبَحَ یَجْرِیْ فِیْهِمُوْ"‏ یہاں میم پر ضمہ پڑھنا ہے اور اشباع کرنا ہے، اس کو کھینچنا ہے۔ ‏"فَأَصْبَحَ یَجْرِیْ فِیْهِمُوْ مِنْ تِلَادِكُمْ"‏ اور اسی طرح اگلے شعر کا دوسرا مصرع ہے:‏ ‏"وَذُبْیَانَ هَلْ أَقْسَمْتُمُوْ کُلَّ مُقْسَمِ"‏ یہاں بھی "أَقْسَمْتُمُوْ" میم پر ضمہ پڑھیں گے اور اشباع کریں گے، اس کو کھینچیں گے تھوڑا سا۔ یہ وزنِ شعری کے لیے یہاں ضروری ہے بھئی!‏ شعر کے اپنے خاص اوزان ہوتے ہیں۔ ایک حرف ادھر ادھر ہو جائے، سارے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ تو یہاں ‏شعر کے وزن کو صحیح رکھنے کے لیے یہاں ضمہ پڑھیں گے، یعنی یہ ضمہ کے ساتھ ہے بھئی!‏ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ھم، تم اور کم ضمیریں، ان کے ساتھ اگر کوئی اور ضمیر جڑ جائے تو واؤ پڑھتے ہیں۔ ‏"ضَرَبْتُمُوْهُ"، "ضَرَبْتُمْ" تھا۔ اس کے ساتھ "ه" جوڑیں تو کیسے پڑھیں گے؟‏ ‏"ضَرَبْتُمُوْهُ"، دیکھو میم پر ضمہ پڑھتے ہیں اور واؤ ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہاں بھی اسی طرح پڑھنا ہے۔ ‏"فِیْهِمُوْ مِنْ تِلَادِکُمْ"‏ ‏"هَلْ أَقْسَمْتُمُوْ کُلَّ مُقْسَمِ"‏ تو یہاں ضمیر تو ساتھ نہیں جڑی، لیکن وزنِ شعری برقرار نہیں رہتا اگر اس کو اس طرح نہ پڑھیں بھئی! سارا شعر کا ‏وزن خراب ہو جاتا ہے۔ تو اس کا آپ نے خاص خیال رکھنا ہے۔ اس کے لیے ہمارے ہاں الٹا پیش استعمال ہوتا ہے بھئی! تو اس پر الٹا پیش لگا لیں، یہ دونوں میم جو ہیں۔ زہیر ابن ابی سلمیٰ کا معلقہ ہم پڑھ رہے ہیں۔ اور اس نے تشبیب کے بعد وہ جو دو سردار ہیں، حارث ابن عوف اور ہرم ابن سنان، جنہوں نے صلح کروائی دو قبیلوں ‏میں، ان کی تعریف کر رہا ہے۔ تو آگے کہتا ہے:‏ یُنَجِّمُهَا قَوْمٌ لِّقَوْمٍ غَرَامَةً وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا بَیْنَهُمْ مِّلْءَ مِحْجَمِ نَجَّمَ یُنَجِّمُ تنجیم کا معنی ہوتا ہے: کوئی چیز قسط وار ادا کرنا، تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کرنا۔ اس کو کہتے ہیں تنجیم بھئی، تنجیم۔ غَرَامَةً، غرامت کہتے ہیں تاوان کو بھئی، جرمانے کو۔ اور یہاں یہ مفعول لہ واقع ہو رہا ہے بھئی! مصدر ہے اور مفعول لہ واقع ہو رہا ہے، اور آپ نے پڑھا ہے مفعول لہ وہ ‏مصدر ہوتا ہے جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے: "ضَرَبْتُهُ تَأْدِیْبًا"، میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے۔ تو ‏یہاں یہ مفعول لہ ہے، ماقبل فعل کی علت بیان کر رہا ہے۔ وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا ‏"لَمْ یُهَرِیْقُوْا" میں ہا پر فتحہ ہے بھئی!‏ یاد رکھیے! أَرَاقَ یُرِیْقُ کا معنی ہوتا ہے: پانی کو زمین پر گرا دینا، بہا دینا۔ مثلاً آپ کے پاس برتن میں پانی ہے، آپ اس ‏کو زمین پر انڈیل دیتے ہیں، زمین پر گرا دیتے ہیں، زمین پر بہا دیتے ہیں، تو اس کے لیے عربی میں لفظ بولتے ہیں أَرَاقَ۔ ‏‏"أَرَاقَ الْمَاءَ"، اس نے پانی کو زمین پر بہا دیا۔‏ اور یہ جو أَرَاقَ فعل ہے، اسی میں بعض اوقات یوں کرتے ہیں کہ ہمزہ کو ہا سے بدلتے ہیں۔ تو شروع میں ہمزہ ہے، أَرَاقَ ‏کے بجائے پھر پڑھتے ہیں هَرَاقَ، هَرَاقَ۔ تو کبھی ہمزہ کی جگہ کیا لے آتے ہیں؟ ہا۔ تو ہا اس ہمزہ کے بدلے میں ہوئی، عوض میں ہوئی۔ اور لیکن کبھی عوض اور معوض دونوں ہی کو جمع کر دیتے ہیں: أَهَرَاقَ۔ أَرَاقَ کے بجائے کیا کہہ دیتے ہیں؟ أَهَرَاقَ۔ تو ‏یہ تین لغتیں ہیں اس کے اندر: أَرَاقَ، هَرَاقَ، اور أَهَرَاقَ۔ تینوں طرح استعمال ہوتا ہے، آپ نے یاد رکھنا ہے بھئی!‏ تو یہ ہمزہ کو ہا سے بدلا یا ہا درمیان میں لے آئے خلافِ قیاس بھئی!‏ اچھا! وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا ‏"یُهَرِیْقُوْا" اصل میں کیا تھا؟‏ کونسے صیغہ ہے؟ جمع مذکر غائب۔ أَکْرَمَ یُکْرِمُ بابِ افعال ہے، کیا بنے گا؟ لَمْ یُکْرِمُوْا ‏"لَمْ یُکْرِمُوْا" اور "یُکْرِمْ" اصل میں کیا تھا؟‏ اصل میں "یُؤَکْرِمْ"۔ کیا تھا؟ أَکْرَمَ ماضی ہے نا، ماضی پر ہی کیا لے آتے ہیں علامتِ مضارع، تو کیا بن گیا تھا "یُؤَکْرِمُ"۔ ‏پھر متکلم کے صیغے میں دو ہمزہ جمع ہو رہے تھے "أُؤَکْرِمُ"، اور ہمزہ کی ادائیگی ثقیل ہے، تو ایک ہمزہ کو خلافِ ‏قیاس حذف کر لیا گیا۔ جب وہاں ہمزہ گرایا، تو پورے باب میں گرا دیا۔ تو "یُؤَکْرِمُ" سے کیا بن گیا؟ "یُکْرِمُ"، "یُکْرِمُ"۔ تو یہ اصل میں کیا تھا؟ ‏"یُؤَکْرِمُ" وزن پر لے جائیں اس کو ذرا۔ "یُؤَرْوِقُوْا"، پہلے ہمزہ لے آؤ۔ کیا تھا؟ أَرَاقَ ہے نا، شروع میں ہمزہ ہے، تو پہلے ‏ہمزہ کے ساتھ بنا لو۔ اور أَرَاقَ، را کے بعد الف ہے۔ یہ الف دراصل واؤ تھا۔ واوی ہے، واوی۔ قَالَى میں یہ الف کیا تھا؟ قَوَلَ ‏واؤ تھا۔ تو أَرَاقَ میں بھی یہ الف کیا تھا؟ واؤ۔ تو کیا بن گیا؟ ‏"یُکْرِمُ" وزن پر اس کو بنا لو: "یُؤَرْوِقُ"، "لَمْ یُؤَرْوِقُوْا"۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر اس ہمزہ کو کس سے بدلا؟ ہا سے، کیا ‏بن گیا؟ "لَمْ یُهَرْوِقُوْا"، "لَمْ یُهَرْوِقُوْا"۔ پھر واؤ اور یا، ان پر ضمہ بھی ثقیل ہوتا ہے اور کسرہ بھی۔ تو واؤ پر کسرہ ثقیل تھا، تو وہ ماقبل را کو دے دیا، اور پھر ماقبل کسرہ کی وجہ سے واؤ جو ہے وہ یا سے بدل گیا، تو ‏کیا بن گیا؟ "لَمْ یُهَرِیْقُوْا"۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہی صیغہ شعر میں بھی ہے "لَمْ یُهَرِیْقُوْا"۔ پھر دہراؤ! اصل میں کیا تھا؟ ‏‏"لَمْ یُؤَرْوِقُوْا"۔ اصل میں کیا تھا؟ "لَمْ یُؤَرْوِقُوْا"۔ پھر اس کے بعد ہمزہ کو ہا سے بدلا "لَمْ یُهَرْوِقُوْا"۔ پھر واؤ کا کسرہ را کو ‏دیا، اور پھر را کے کسرہ کی وجہ سے واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے، تو کیا بن گیا؟ "لَمْ یُهَرِیْقُوْا"۔‏ وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا بَیْنَهُمْ مِّلْءَ مِحْجَمِ اور مِلْءٌ جو ہے نا مِلْءٌ، کسی چیز کو بھر دینے والی مقدار۔ وہ مقدار جو کسی چیز کو بھر دے، اس کو مِلْءٌ کہتے ہیں، ‏مِلْءٌ۔ ‏"مِلْءُ الْفَمِ" کیا پڑھا ہے آپ نے؟ منہ بھر۔‏ برتن کوئی پانی سے بھرا ہوا ہو تو... جمع اس کی أَمْلَاءٌ ‏आती‏ ہے بھئی، أَمْلَاءٌ۔ اور مِحْجَمٌ، مِحْجَمٌ کہتے ہیں بھئی وہ سینگی جس کے ذریعے خون نکالا جاتا ہے بدن سے بھئی۔ حجامہ جس کو آپ کہتے ‏ہیں، تو یہ کوئی خاص آلہ ہوتا تھا ان کا، مختلف طریقے ہوں گے ان میں سے ایک طریقہ یہ، کہ خاص آلہ ہوتا تھا یہ کوئی ‏سیخ وغیرہ کی شکل کا ہوگا، یعنی ایک سر باریک ہوگا ایک سر موٹا، تو اس وجہ سے اس کو سینگی بھی کہتے تھے۔ تو اس آلے کو جس کے لیے وہ خون نکالا جاتا تھا، اس کو سینگی کہتے بھئی، سینگی۔ اچھا! تو کہتے ہیں:‏ یُنَجِّمُهَا قَوْمٌ لِّقَوْمٍ غَرَامَةً وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا بَیْنَهُمْ مِّلْءَ مِحْجَمِ بھئی انہوں نے... میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ قبیلہ عبس اور ذبیان میں جنگ تھی، اور پھر ان کے درمیان صلح کروائی ‏اور سارا دیت کا مال کس نے اپنے سر لے لیا؟ عوف ابن حارث اور ہرم ابن سنان نے۔ تو وہی ذکر کر رہا ہے کہ "یُنَجِّمُهَا"، یہ ہا ضمیر راجع ہے ماقبل میں جو اونٹوں کا ذکر آیا تھا "بِالْمِئَتَیْنِ مِنَ الْإِبِلِ"، ‏سینکڑوں اونٹ بھئی۔ دیت میں کیا دیے جاتے ہیں؟ اونٹ دیے جاتے ہیں سینکڑوں کے حساب سے۔ تو "یُنَجِّمُهَا"، ان اونٹوں ‏کو ادا کر رہا ہے، ان اونٹوں کو ادا کر رہی ہے "قَوْمٌ"، ایک ایسی قوم یعنی لوگ، لوگ۔ "یُنَجِّمُهَا"، ان اونٹوں کو ادا کر رہے ‏ہیں "قَوْمٌ"، ایسے لوگ "لِّقَوْمٍ"، ایک قوم دوسری قوم کو، یوں کہیں۔ ‏"غَرَامَةً"، بطورِ جرمانے کے، بطورِ جرمانے کے۔‏ یہ علت ہے، یہ مفعول لہ ہے بھئی، مفعول لہ کیا کرتا ہے ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے، کہ ایک قوم دوسری قوم کو ‏قسط وار ادا کر رہی ہے "غَرَامَةً"، بطورِ جرمانے کے، جرمانے کی وجہ سے۔ ‏"وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا بَیْنَهُمْ مِّلْءَ مِحْجَمِ"‏ اور حال یہ ہے کہ نہیں بہایا انہوں نے، یعنی وہ جو ادا کرنے والے ہیں انہوں نے نہیں بہایا "بَیْنَهُمْ"، آپس میں "مِّلْءَ ‏مِحْجَمِ"، سینگی بھر۔ یعنی سینگی بھر خون بھی نہیں بہایا۔ جو ادا کرنے والے ہیں، وہ جنگ میں شریک تھے؟ نہیں، وہ تو جنگ میں شریک ہی ‏نہیں تھے! تو حال یہ ہے کہ وہ لوگ وہ دیتیں ادا کر رہے ہیں جنہوں نے اس جنگ میں ایک سینگی بھر یعنی تھوڑی سی ‏مقدار خون بھی نہیں بہایا بھئی۔ یُنَجِّمُهَا قَوْمٌ لِّقَوْمٍ غَرَامَةً وَلَمْ یُهَرِیْقُوْا بَیْنَهُمْ مِّلْءَ مِحْجَمِ قسط وار ادا کر رہے ہیں ان اونٹوں کو لوگ، دوسری قوم، دوسرے لوگوں کو، بطورِ جرمانے کے۔ اور حال یہ ہے کہ نہیں ‏بہایا انہوں نے آپس میں ایک سینگی بھر مقدار خون بھی۔ فَأَصْبَحَ یَجْرِیْ فِیْهِمُوْ مِنْ تِلَادِکُمْ مَغَانِمُ شَتَّی مِنْ إِفَالٍ مُّزَنَّمِ فَأَصْبَحَ، اصبح افعال ناقصہ میں سے بمعنی صار۔ یَجْرِیْ، جری یجری کے معنی بہنا، چلنا، چلنا۔ فِیْهِمْ، یاد رکھیے یہاں فِیْهِمْ، فِیْهِمُوْ پڑھنا ہے آپ نے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ میم پر ضمہ اور اس کو کھینچنا ہے، یہ وزنِ ‏شعری کے لیے ضروری، اس کے بغیر شعر کا وزن درست نہیں رہتا: "فِیْهِمُوْ"۔ مِنْ تِلَادِکُمْ تلاد اور تلید کہتے ہیں قدیم موروثی مال بھئی! کسی شخص کا جو پرانا مال ہے، وراثت میں ملا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جو ‏پرانا وراثت کا مال ہے، اس کو تلاد اور تلید کہتے ہیں بھئی۔ مَغَانِمُ، مغانم جمع ہے مغنم کی، یہ غنیمت کو کہتے ہیں بھئی۔ کس کی جمع ہے؟ مغنم کی، اور یہ غنیمت کو کہتے ہیں۔ غنیمت کسے کہتے ہیں؟ جنگ میں طاقت سے حاصل کیا ہوا مال۔ اسی طرح بلا مشقت حاصل شدہ مال کو بھی کیا کہتے ‏ہیں؟ غنیمت کہتے ہیں بھئی۔ شَتَّی، شتّى جمع ہے شتیت کی.شتيت شین تا یا اور پھر تا شتيت۔ اور شتيت کا معنی ہے متفرق بھئی، متفرق یعنی مکس ‏مکس مختلف قسم کے، تو اس کو تو شتيت اور جمع ہے اس کی شتیٰ۔ من إفال، إفال جمع ہے أفيل کی أفيل، اور أفيل کہتے ہیں اونٹ کا بچہ، اسی طرح بکری کا بچہ وغیرہ ہو اس کو بھی کیا ‏کہتے ہیں؟ أفيل کہتے ہیں، تو یہاں بہرحال اونٹوں کے بچے مراد ہیں کیونکہ دیت کے طور پر کیا ادا کیے جاتے ہیں؟ ‏اونٹوں کے بچے۔ تو إفال۔ اور خصوصاً اونٹ کے بچوں کو ذکر کیا کیونکہ آپ جانتے ہیں دیت میں عموماً اونٹ کے بچے دیے جاتے ہیں بھئی۔ آپ ‏پڑھ چکے ہوں گے قدوری وغیرہ میں بنت مخاض، بنت لبون وغیرہ، تفصیل وہاں ہے جی۔ مزنم، زنم یزنم تزنیم کا معنی ہے عرب اونٹوں کے کانوں پر علامت کوئی لگاتے تھے۔ مثلاً سینکڑوں ہزاروں اونٹ ہوتے ‏تھے تو دوسروں کے اونٹ کے ساتھ مل نہ جائیں، پہچان ہو سکے، تو وہ ان کے کان کو تھوڑا سا کٹ لگا دیتے تھے ‏بھئی، کچھ حصہ اس کا کاٹ دیا وہ اسی کے ساتھ لٹکا ہوا ہے یا بس کٹ وغیرہ، کوئی نشانی بس جس سے پہچان ہو ‏سکے کہ یہ، تو اگر دوسرا بھی لگاتا تھا اس کا اپنے انداز کا کٹ ہوگا ایک دوسرے کا، تو اس طرح ایک دوسرے سے ‏اونٹ پہچان لیتے تھے کہ یہ ہمارے اونٹ ہیں یا نہیں۔ یا ایک ہی آدمی اپنے اونٹوں میں بعضوں پر کٹ لگاتا یعنی جو عمدہ اور اعلیٰ اونٹ ہوتے، اب ان کے بھی بچے ہیں ‏دوسرے اونٹوں کے بھی بچے ہیں تو پھر کہیں ایسا نہ ہو پتہ ہی نہ چلے یہ کون سے بھی عالی قسم کے اونٹ ہیں، اعلیٰ ‏ہیں یا عام ہیں، تو وہ جو اعلیٰ ہوتے تھے پھر اس پر کیا کرتے تھے؟ نشان لگا دیتے تھے کانوں پر کٹ لگاتے تھے تاکہ ‏پہچان ہو جائے کہ یہ عمدہ نسل والا اونٹ ہے بھئی۔ تو وہ جس کو وہ کٹ لگا ہوا ہے، جس کا کان کاٹا گیا ہے، نشان زدہ ‏ہے اس کو کہتے ہیں مزنم، مزنم۔ فأصبح يجري فيهم من تلادكم مغانم شتى من إفال مزنم فأصبح أي فصار، پس ہو گئے، کیا ہوا؟ کہ مغانم شتى، یہ اسم ہے أصبح کا، توجہ ہے؟ مغانم شتى یہ کیا ہے؟ اسم، اور یہ ‏يجري فيهم یہ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے بھئی مقدم۔ افعال ناقصہ ہیں نہ، ایک اسم چاہتے ہیں اور ایک کیا چاہتے ہیں؟ خبر، ‏تو اسم آگے آ رہا ہے۔ تو ہو گئی کہ مغانم شتى متفرق قسم کی غنیمتیں من إفال مزنم، یہ کس میں سے؟ نشان زدہ اونٹ کے بچوں میں سے، يجري ‏فيهم، ان میں چل رہی تھیں، من تلادكم، تمہارے موروثی مال میں سے، تمہارے قدیم مال میں سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ‏ہے؟ فأصبح ہو گیا، کیا ہوا؟ کہ مغانم شتى مختلف قسم کی غنیمتیں من إفال مزنم نشان زدہ اونٹوں کے بچوں میں سے، يجري فيهم ‏ان لوگوں میں انہوں نے اپنے دیت میں اونٹ کے بچے دیے یا نہیں دیے؟ اب یہ تو ان کا پرانا مال تھا موروثی مال تھا، ‏لیکن ان کا یہی پرانا اور موروثی مال اب دوسرے لوگوں کے درمیان جن کو دے دیا وہاں چل رہے ہیں بھئی۔ تو یہ ‏غنیمتیں ان کو مل گئیں، اور کیا ملی غنیمت میں؟ یہ اونٹوں کے نشان زدہ بچے اور جو ان لوگوں میں چل رہے تھے، ‏حالانکہ یہ ان کے موروثی مال میں سے تھے، تو تمہارے موروثی مال میں سے نشان زدہ اونٹوں کے بچے ان لوگوں کے ‏بیچ چل رہے تھے، یعنی ان کو مل گئے بھئی، اور حالانکہ تم نے کوئی جرم بھی نہیں کیا۔ یہ معنی ہے۔ فأصبح يجري فيهم من تلادكم مغانم شتى من إفال مزنم پس مختلف قسم کی غنیمتیں تمہارے نشان زدہ اونٹ کے بچوں میں سے وہ ان ان کے درمیان چل رہی تھیں من تلادكم ‏تمہارے موروثی مال میں سے۔ ألا أبلغ الأحلاف عني رسالة وذبيان هل أقسمتم كل مقسم ألا حرف تنبیہ ہے، أبلغ يبلغ کا معنی ہے پہنچا دینا۔ الأحلاف، أحلاف جمع ہے حليف کی، حليف۔ حليف کہتے ہیں اتحادی کو ‏اتحادی، جس نے آپ کے ساتھ مدد کا معاہدہ کیا ہو کہ جنگ وغیرہ ہوئی تو میں آپ کا ساتھ دوں گا، تو وہ جو اتحادی ہے ‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ حليف، اور جو مخالف ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حریف بھئی، حریف۔ عني رسالة، رسالة کہتے ہیں خط کو، خط کو، اسی طرح پیغام کو۔ وذبيان، یہ وہ قبیلے کا نام جو جنگ میں جنگ کر رہا ‏تھا۔ هل أقسمتم، یہاں یاد رکھیے یہ هل یہاں بمعنی قد کے ہے، سوال کے لیے نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ قد کے ‏معنی میں ہے، اور کلام میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح بھئی۔ أقسمتم قسم کھانا بھئی، كل مقسم پوری قسم، کامل قسم۔ ألا أبلغ الأحلاف عني رسالة وذبيان هل أقسمتم كل مقسم أقسمتم، یہاں پھر میم پر وہ ضمہ پڑھنا ہے اشباع کے ساتھ وزن شعری کے لیے بھئی، اس کے بغیر شعر کا وزن درست ‏نہیں رہتا۔ اب یہ شاعر جو ہے، یہ جن قبیلوں نے صلح کی ہے، ان کو ان کو سمجھا رہا ہے کہ دیکھو تم نے صلح کی ہے، اور اب ‏دوبارہ اس میں غدر نہ کرنا بھئی، معاہدہ نہ توڑنا۔ بعض اوقات لوگ کیا کرتے ہیں؟ بظاہر صلح کر لیتے ہیں، لیکن دل ‏میں اسی طرح کیا رکھی ہوتی ہے انہوں نے؟ بغض اور نفرت ہوتی ہے، تو بعد میں موقع جب موقع ملتا ہے وہ معاہدہ توڑ ‏دیتے ہیں اور دوسرے کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں بھئی۔ تو یہ اب ان لوگوں کو ترغیب دے رہا ہے، نصیحت کر رہا ‏ہے اور کہتا ہے: ألا أبلغ الأحلاف، سنو! أبلغ الأحلاف، پہنچا دو الأحلاف حلیفوں کو، حلیف کی جمع ہے نہ، حلیفوں کو ‏اتحادیوں کو پہنچا دو۔ اتحادی کون کون تھے؟ قبیلہ ذبیان کے اتحادی تھے بنو اسد اور بنو غطفان۔ احلاف سے کون مراد ہیں؟ بنو اسد اور بنو غطفان، اور یہ کس کے حلیف تھے؟ آگے ذبیان کا ذکر آ رہا ہے، ان کے ساتھی ‏تھے، ان کے ساتھ ان کے اتحادی تھے۔ تو کہتے ہیں ألا سنو! أبلغ الأحلاف عني رسالة، پہنچا اے مخاطب تو پہنچا دے ‏حلیفوں کو اتحادیوں کو عني میری طرف سے رسالة ایک خط، ایک خط ان کو میری طرف سے پہنچا دے یا ایک پیغام ان ‏کو میری طرف سے پہنچا دے، وذبيان اور قبیلہ ذبیان کو، قبیلہ ذبیان کو اور اس کے اتحادیوں کو یہ پیغام پہنچا دے: هل ‏أقسمتم كل مقسم أي قد أقسمتم كل مقسم، کہ تحقیق تم نے قسمیں کھائی ہیں پوری قسم بھئی، کامل قسم کھائی ہے، کس چیز ‏کی؟ کہ جنگ نہیں کریں گے اور آپس میں صلح کے ساتھ اب رہیں گے، کہ تحقیق تم نے پوری کامل قسم کھائی ہے، تو ‏لہذا اب اس کو توڑنا نہیں۔ فلا تکتمن الله ما فی نفوسکم لیخفی و مهما یکتم الله يعلم کتم یکتم کے معنی ہوتے ہیں چھپانا، چھپانا۔ تو یہ نہی ہے، فلا تکتمن، اور نون ثقیلہ ساتھ تاکید کے لیے، تم ہرگز نہ ‏چھپانا، اور یہ بعض اوقات دو مفعول اس کے لیے آتے ہیں، مثلاً کتمت زیداً الحديث، کتمت زیداً میں نے زید سے چھپا لی ‏الحديث وہ والی بات، تو یہ بعض اوقات دو مفعول چاہتا ہے، تو یہاں یہ لفظ اللہ مفعول اول ہے اور ما مفعول ثانی ہے۔ خفي ‏يخفى کا معنی ہے چھپے رہنا، ومهما جو بھی۔ فلا تکتمن الله ما فی نفوسکم، پس تم ہرگز نہ چھپاؤ اللہ سے ما فی نفوسکم وہ چیز جو تمہارے دلوں میں ہے، یعنی اللہ سے ‏ہرگز اپنے دلوں میں بغض کو چھپانے کی کوشش نہ کرو، بغض کو ختم کر دو ليخفى تاکہ وہ چھپا رہے۔ تم اللہ سے تم ‏ہرگز وہ بغض یا کوئی غدر اگر تمہارے دلوں میں ہے تو تم اس کو ہرگز نہ چھپاؤ ليخفى تاکہ وہ چھپا رہے، ومهما یکتم ‏الله اور جو کچھ بھی تم اللہ سے چھپاؤ گے يعلم وہ اس کو جان لے گا، وہ تو دلوں کی باتیں جان لیتا ہے، تو تم جو کچھ بھی ‏اللہ سے چھپاؤ گے اللہ اس کو جان لے گا۔ دیکھا، معلوم ہوا کہ یہ پہلے بھی میں ذکر کر چکا کہ یہ شاعر اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے والا، اور کہتے ہیں یہ دین ‏عیسوی پر تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے دین عیسوی حق ‏تھا، دیکھیے اگلے شعر میں وہ پھر قیامت کے دن کا بھی ذکر کرتا ہے۔ يؤخر فيوضع في کتاب فيدخر ليوم الحساب أو يعجل فينقم يؤخر، اس کا عطف اسی يعلم پر ہے۔ ومهما يكتم يكتم، یہ اصل میں يكتم تھا اور کیونکہ مجزوم ہے نہ، مهما جزم دیتا ہے ‏شرط کو بھی اور جزا کو بھی، تو پھر إذا حرك حرك بالكسر، کسرہ دیا، اسی طرح يعلم یہ بھی کیا ہے؟ مجزوم، اور يؤخر ‏آگے فيوضع، فيدخر اور يعجل، فينقم سب کا انہی پر عطف ہے۔ تو کہتے ہیں يؤخر، اور جو کچھ بھی اللہ سے چھپایا جائے اللہ اس کو جان لیتا ہے، يؤخر تو مؤخر کر دیتا ہے۔ فيوضع في ‏كتاب، تو اس کو رکھ دیا جاتا ہے ایک کتاب میں، بعض اوقات اللہ سزا کو کیا کر دیتے ہیں؟ مؤخر کر دیتے ہیں اور اس کو ‏ایک کتاب میں، ایک رجسٹر میں، نامہ اعمال کے اندر لکھ لیا جاتا ہے، فيدخر ليوم الحساب، پس اس کو ذخیرہ کر لیا جاتا ‏ہے یوم حساب یعنی قیامت کے دن کے لیے، اس دن پھر اللہ سزا دیں گے، أو يعجل، یا جلدی کی جاتی ہے یعنی جلدی سزا ‏دنیا میں دی، أو يعجل یا جلدی کی جاتی ہے فينقم تو سزا دے دی جاتی ہے، یعنی اسی دنیا میں، اسی دنیا۔ تو نقم ینقم کے معنی سزا دینا، فينقم تو سزا دی جاتی ہے۔ يؤخر فيوضع في كتاب فيدخر ليوم الحساب أو يعجل فينقم کہ مؤخر کر دی جاتی ہے یعنی سزا، فيوضع في كتاب تو اس کو رکھ دیا جاتا ہے کتاب میں یعنی لکھ دیا جاتا ہے نامہ ‏اعمال میں، فيدخر تو اس کو ذخیرہ کر لیا جاتا ہے ليوم الحساب قیامت کے دن کے لیے، أو يعجل یا جلدی کی جاتی ہے یعنی ‏سزا کے اندر، فينقم تو دنیا میں ہی تو سزا دے دی جاتی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 33 of 62