Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-046

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 137
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے دیکھیے بھئی۔ تباری عتاقاً ناجیاتٍ و اتبعت وظیفاً وظیفاً فوق مورٍ معبدِ تربعت القفین فی الشول ترتعی حدائق مولی الاسرة اغیدِ تریع الی صوت المہیب و تتقی بذی خصلٍ روعاتِ اکلف ملبدِ طرفہ ابن العبد جو ہے وہ اپنی اونٹنی کی صفات ذکر کر رہا ہے۔ اور اگے کہتا ہے: تباری عتاقاً ناجیاتٍ و اتبعت و ظیفاً و ‏ظیفاً فوق مورٍ معبدِ بارا یباری کا معنی ہے مقابلہ کرنا۔ مقابلہ کرنا۔ اسی سے لفظ ہے مبارات بھئی۔ بارا یباری مباراتًا۔ مبارات جو ہے وہ میچ ‏کو کہتے ہیں۔ میچ۔ عتاقاً۔ عتاق جمع ہے عتیق کی بھئی۔ عمدہ نسل والے اونٹ بھئی۔ عمدہ نسل والے۔ ناجیات۔ ناجیات جمع ہے ناجیۃٌ کی اور یہ تیز رفتار اونٹنیوں کو کہتے ہیں بھئی۔ تیز رفتار اونٹ جو ہیں ناجیات۔ اتبع۔ اتبَع یتبع کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے پیچھے لانا۔ ایک چیز کو دوسری چیز کے بعد لانا۔ وظیفاً۔ وظیف کہتے ہیں یہ کہنی سے لے کر کلائی کے جوڑ تک یہ ہاتھ کا جو حصہ ہے۔ کہاں سے لے کر؟ کہنی سے ‏لے کر کلائی کے جوڑ تک یہ جو ایک ہڈی ہے، یہ حصہ کلائی کا اس کو وظیف کہتے ہیں۔ یعنی یہ کلائی والا سارا ‏حصہ، یہ وظیف کہلاتا ہے۔ اسی طرح گھٹنے سے لے کر نیچے ٹخنے کے جوڑ تک جو حصہ ہے اس کو بھی وظیف ‏کہتے ہیں یعنی پنڈلی والا سارا حصہ۔ فوق مورٍ معبدِ۔ مورٌ راستے کو کہتے ہیں بھئی، مورٌ۔ معبد۔ معبد کا معنی ہے ہموار۔ مورٌ معبدٌ، ہموار راستہ۔ معبد یعنی جس کو خوب روندھا گیا ہو بھئی، خوب روندھا گیا ہو۔ ‏اور یہ بات ظاہر ہے جس راستے کو جتنا زیادہ روندھا جائے گا یعنی جس پر جتنے لوگ وغیرہ زیادہ چلیں گے، وہ اتنا ‏ہی ہموار ہو گا۔ تو مورِ معبد کا کیا معنی؟ ہموار راستہ۔ تباری عتاقاً ناجیاتٍ و اتبعت و ظیفاً و ظیفاً فوق مورٍ معبدِ طرفہ کہتا ہے کہ میری وہ اونٹنی ایسی ہے، تباری کہ وہ مقابلہ کرتی ہے عتاقاً، یہ صفت ہے موصوف محذوف ہے۔ ای ‏تباری نوقاً عتاقاً۔ ناقۃٌ کی جمع کیا ہے؟ نوق بھئی، نوق۔ تباری نوقاً عتاقاً ناجیاتٍ کہ میری وہ اونٹنی ایسی ہے کہ وہ مقابلہ ‏کرتی ہے نوقاً عتاقاً اعلیٰ نسل کی اونٹنیوں کا ناجیاتٍ ایسی اعلیٰ نسل والی اونٹنیاں جو بڑی تیز رفتار ہوں۔ میری اونٹنی جو ہے وہ اعلیٰ نسل والی تیز رفتار اونٹنیوں کا مقابلہ کرتی ہے و اتبعت وظیفاً وظیفاً اور وہ پیچھے لاتی ہے ‏ایک پاؤں کے دوسرا پاؤں یعنی یوں کہیں ایک پنڈلی کے پیچھے دوسری پنڈلی لاتی ہے۔ بھئی حیوانات میں اگر اپ نے ‏غور کیا ہو جب وہ چلتے ہیں تو جہاں پر حیوان کا اگلا پاؤں پڑتا ہے وہاں سے جب وہ اگلا قدم اٹھا لیتا ہے تو پچھلا قدم ‏بعینہٖ تقریباً اسی جگہ کے اوپر ا کر اس کا پچھلا قدم بھی پڑتا ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ایک پنڈلی کے پیچھے دوسری ‏پنڈلی لاتی ہے۔ یعنی ایک قدم کو جہاں سے اٹھایا، پچھلا قدم بعینہٖ وہاں لا کر رکھا بھئی۔ تو بہرحال مراد ہے قدم کے پیچھے قدم لاتی ہے۔ کیا کرتی ہے؟ قدم کے پیچھے قدم لاتی ہے یعنی بڑی تیز رفتار ہے، ‏چلتی رہتی ہے بھئی۔ ہر وقت سفر میں رہتی ہے۔ و اتبعت وظیفاً وظیفاً اور وہ پیچھے لاتی ہے وظیفاً ایک پنڈلی کے کیا پیچھے لاتی ہے ایک پنڈلی کے؟ وظیفاً دوسری ‏پنڈلی۔ وہ ایک پنڈلی کے پیچھے دوسری پنڈلی یا یوں کہیں ایک قدم کے پیچھے دوسرا قدم لاتی ہے فوق مورٍ معبدِ ایک ‏ہموار راستے کے اوپر۔ وہ ایک ہموار راستے کے اوپر ایک قدم کے پیچھے دوسرا قدم لاتی ہے یعنی بڑی مضبوط طاقتور ہے، ہر وقت چلتی ‏رہتی ہے، سفر میں رہتی ہے اور اسے ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ تباری عتاقاً ناجیاتٍ و اتبعت و ظیفاً و ظیفاً فوق مورٍ معبدِ۔ میری اونٹنی جو ہے وہ مقابلہ کرتی ہے عمدہ نسل کی تیز رفتار ‏اونٹنیوں کا اور وہ ایک قدم کے پیچھے دوسرا قدم لاتی ہے ہموار راستے کے اوپر۔ تربعت القفین فی الشول ترتعی حدائق مولی الاسرة اغیدِ تربع۔ تربُّع کا معنی ہے موسمِ بہار میں چرنا۔ یہ ربیع سے ہے، ربیع کسے کہتے ہیں؟ موسمِ بہار کو۔ تو موسمِ بہار میں ‏حیوان کا چرنا اس کو تربُّع کہتے ہیں۔ القفین۔ قفین یہ تثنیہ ہے قفٌّ کی۔ اور قفٌّ کہتے ہیں سخت اور اونچی زمین جو پہاڑ سے کم ہو یعنی اس کو یوں کہیں اردو ‏میں ٹیلا بھئی، ٹیلا۔ تو قفٌّ کسے کہتے ہیں؟ ٹیلے کو یعنی جو سخت زمین ہو اور اونچی ہو۔ اور یہاں پر معین خاص جگہ ہے، وہ مراد ہے بھئی، قفٌّ۔ جگہ کا نام ہے کوئی۔ کوئی اونچی جگہ ہو گی اس علاقے کے ‏اندر ٹیلے جیسی، تو اس کا نام ہی کیا پڑ گیا قفٌّ، وہ مراد ہے۔ اور وہ ایک ہے لیکن یہاں شاعر نے قفین تثنیہ استعمال کیا ‏شعر کے وزن کو برقرار رکھنے کے لیے۔ کیونکہ مفرد استعمال کریں تو شعر کا وزن صحیح نہیں رہتا، تو پھر بھئی ‏تثنیہ کا کیا معنی؟ وہ تو ایک ہے وہ قف، تو معنی یہ کہ وہ قف اور اس کے پاس پاس والی جگہ کو بھی قف ہی قرار دے ‏دیا، تو کتنے قف ہو گئے؟ دو ہو گئے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ تو خاص ٹیلا مراد ہے۔ فی الشول۔ شول جمع ہے شائلۃٌ کی اور شائلہ وہ اونٹنی جس کے بچے کو جنم دیے سات اٹھ ماہ گزر گئے ہوں یعنی اس کا ‏دودھ تقریباً خشک ہو گیا ہو۔ تو اس کو کہتے ہیں شائلۃٌ بھئی، شائلہ اور جمع کیا ہے؟ شول ہے بھئی۔ ترتعی۔ ترتعی یہ رعی یرعی سے کیا معنی ہے؟ چرنا، اسی سے ہے یہ ترتعی بھئی، چرنا اس کا معنی۔ حدائق بھئی، حدائق جمع ہے حدیقۃٌ کی اور حدیقہ باغیچے کو کہتے ہیں، باغ کو بھئی باغ۔ اسی طرح جو سبزہ زار ہو ‏جہاں خوب سبزہ وغیرہ ہو اس کو بھی حدیقہ کہتے ہیں بھئی اور حدیقہ کی جمع ہے حدائق۔ مولی الاسرة۔ مولیٌّ یہ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے۔ مولیٌّ بر وزنِ مرمِیٌّ، رما یرمی سے اسمِ مفعول کیا آتا ہے؟ مرمِیٌّ۔ تو یہ ‏مولیٌّ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے۔ اور یہ ولیٌّ سے ہے ولیٌّ۔ ولیٌّ کہتے ہیں کسی موسم میں ایک کے بعد جو دوسری بارش ہو ‏اس کو ولیٌّ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ایک موسم میں ایک کے بعد دوسری بارش ہو تو اس دوسری بارش کو ولیٌّ کہتے ‏ہیں۔ یہ ولی یلی سے ہے، ولی یلی کا معنی آتا ہے ملا ہونا۔ دیکھو ایک بارش کے ساتھ دوسری بارش ملی ہوئی ہے بھئی۔ ‏تو مولیٌّ جس پر دوسری بارش ہوئی ہو، اس میں مفعول ہے نا، جس کو دوسری بارش نے سیراب کیا ہو، جس پر دوسری ‏بارش برسی ہو۔ الاسرة۔ اسرہ جمع ہے سرٌّ اور سراۃٌ کی۔ سرٌّ اور سراۃٌ کی جمع ہے اسرہ۔ اور سرٌّ اور سراۃٌ کہتے ہیں سب سے عمدہ اور ‏اعلیٰ زمین کا جو حصہ ہو اس کو کہتے ہیں سرٌّ اور سراۃٌ۔ زمین کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ حصہ یعنی سبزے گھاس ‏وغیرہ کے اعتبار سے جہاں سب سے زیادہ سبزہ گھاس وغیرہ ہو اس کو سرٌّ اور سراۃٌ کہتے ہیں۔ اغید۔ اغید کا معنی ہے نرم و نازک۔ نرم و نازک۔ اور یہاں صرف نرم کے معنی میں ہے، زمین مراد ہے وہ زمین جو نرم ‏مٹی والی ہو یا خوب سبزے والی ہو تو وہ مراد ہے اغید سے۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں آ گئے؟ تربعت القفین فی الشول ترتعی حدائق مولی الاسرة اغیدِ تربعت القفین۔ میری اس اونٹنی نے موسمِ بہار مقامِ قف میں چرتے ہوئے گزارا۔ فی الشول۔ ایسی اونٹنیوں میں جن کے تھن ‏خشک ہو چکے ہیں۔ شائلہ وہ اونٹنی جس کے بچے کو جنم دیے سات اٹھ ماہ گزر گئے ہوں اور دودھ اس کا تقریباً خشک ‏ہو چکا ہے، تو اس نے مقامِ قف میں میری اونٹنی نے موسمِ بہار کو مقامِ قف میں چرتے ہوئے گزارا فی الشول، کس قسم ‏کی اونٹنیوں میں؟ جن کے تھن خشک ہو چکے ہیں، جن کا دودھ خشک ہو چکا ہے۔ موسمِ بہار میں چرنے کو ذکر کیا، اس لیے کیونکہ یہ وہ موسم ہے جس کے اندر یہ گھاس وغیرہ یہ حیوان کے بدن کو ‏خوب فائدہ دیتی ہے۔ تو معنی یہ ہے کہ میری اونٹنی خوب مضبوط اور طاقتور ہے۔ اور پھر ذکر کیا فی الشول۔ کن اونٹنیوں میں چرتے ہوئے بہار گزاری اس نے؟ جن کے تھن خشک ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ‏قوت کی طرف اشارہ ہے۔ اس لیے کیونکہ حیوان کا جب دودھ نکالیں گے تو اس کا اثر بدن پر پڑتا ہے، بدن کے اندر ‏ضعف آئے گا۔ اور جب دودھ خشک ہو چکا، دودھ نہیں نکالا جا رہا تو معلوم ہوا اس میں کسی قسم کی کمزوری وغیرہ ‏نہیں، خوب طاقتور حیوان ہے بھئی۔ اور نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک تو موسمِ بہار اس نے چرتے ہوئے گزارا، گھاس نے اس کے ‏بدن کو خوب نفع دیا اور نیز وہ اور اونٹنیوں کے ساتھ چرتی تھی اور ظاہر سی بات ہے ایک حیوان اکیلا چرنے والا ہو ‏اور ایک صورت یہ ہے کہ بہت سے حیوان چرنے والے ہوں۔ جب حیوان بہت سارے چرنے والے ہوتے ہیں تو ان کو ‏دیکھ کر کوئی بھی حیوان جو ہے وہ اور زیادہ چرتا ہے، وہ جب اپنے سب ساتھیوں سب کو دیکھ رہا ہے کہ سب چرنے ‏میں مصروف ہیں تو وہ بھی کس میں لگا رہتا ہے؟ چرنے میں، تو یہ اس کے لیے اور زیادہ نفع والی بات ہو گئی کہ خوب ‏سبزہ کھایا، خوب گھاس وغیرہ کھائی اور بدن کو خوب نفع ہوا۔ تو اس نے موسمِ بہار جو ہے مقامِ قف کے اندر چرتے ہوئے گزارا ایسی اونٹنیوں کے بیچ میں جن کے تھن خشک ہو ‏چکے تھے ترتعی وہ چرتی ہے حدائق کہاں پر؟ حدائق، سبزہ زاروں میں۔ اور اگے مولی الاسرة، یہ صفت ہے اور یہاں موصوف محذوف ہے۔ حدائق وادٍ، ایسی وادی کے سبزہ زار مولی الاسرة ‏جس وادی کے عمدہ زمین کو ایک کے بعد دوسری بارش نے سیراب کیا ہو اغیدِ اور وہ وادی کیسی ہو؟ خوب نرم مٹی ‏والی، خوب عمدہ سبزے والی ہو۔ تو حدائق مضاف اور مولی الاسرہ مضاف الیہ، لیکن یہاں صفت محذوف ہے، گویا اصل مضاف الیہ یہاں لفظِ وادی ہے ‏حدائق وادٍ ایسی وادی کے سبزہ زار۔ اور مولی الاسرہ یہ ہے وادی کی صفتِ اول، توجہ ہے؟ مولی الاسرہ یہ کیا ہے؟ وادی ‏کی صفتِ اول ہے اور اس میں بھی میں نے کل ذکر کیا تھا کہ ایک اضافتِ لفظی ہوتی ہے، ایک اضافتِ معنوی، یہ مولی ‏الاسرہ اضافتِ لفظی ہے اور اضافتِ لفظی ہے تو اس کا معنی ہے یہ بھی نکرہ ہے بھئی، کیا ہے؟ نکرہ، تو جب نکرہ ہے ‏تو وادی بھی نکرہ، مولی الاسرہ یہ بھی نکرہ اور اغید یہ بھی نکرہ، تو یہ دونوں اس کی صفات ہیں بھئی، مولی الاسرہ ‏صفتِ اول اور اغید صفتِ ثانی۔ حدائق وادٍ مولی الاسرة اغیدِ ترتعی وہ چرتی ہے حدائق وادٍ ایسی وادی کے سبزہ زاروں میں مولی الاسرة جس کے عمدہ اور اعلیٰ زمین کو ایک کے ‏بعد دوسری بارش نے سیراب کیا ہو اغیدِ اور وہ وادی کیسی ہے؟ خوب نرم مٹی والی ہے یا نرم سبزے والی ہے یعنی ‏خوب سبزہ ہے اس کے اندر۔ تربعت القفین فی الشول ترتعی حدائق مولی الاسرة اغیدِ میری اس اونٹنی نے مقامِ قف میں موسمِ بہار چرتے ہوئے گزارا فی الشول ایسی اونٹنیوں کے بیچ میں جن کے تھن خشک ‏ہو چکے ہیں ترتعی وہ چرتی ہے حدائق ای حدائق وادٍ ایسی وادی کے سبزہ زاروں میں مولی الاسرة جن کی عمدہ زمین جو ‏ہے اس کو ایک کے بعد دوسری بارش نے سیراب کیا ہو اغیدِ اور وہ وادی جو ہے نرم مٹی والی، نرم سبزے والی ہے۔ تریع الی صوت المہیب و تتقی بذی خصلٍ روعاتِ اکلف ملبدِ راع یريع کا معنی ہے لوٹنا، واپس آنا۔ الی صوت المہیب، صوتٌ آواز کو کہتے ہیں۔ مہیب، اہاب یہيب کے معنی ہیں بلانا، بلانا۔ تو مہیب ہوا بلانے والا، بلانے ‏والا۔ اور خاص طور پر عرب کے ہاں یہ اونٹ وغیرہ ان کو بلانے کے لیے چرواہے خاص آواز نکالتے تھے۔ جیسے بھئی ‏اپ نے اج کل بھی اپنے ہر علاقے کے چرواہوں کا اپنا خاص انداز ہوتا ہے، حیوانات کو بلانے کے لیے وہ خاص طرح ‏کی آوازیں نکالتے ہیں مثلاً خاص طور پر جب اپ نے دیکھا ہو، پانی پلانا ہو حیوان کو تو خاص آواز نکال کر ان کو پانی ‏کی طرف بلاتے ہیں۔ تو اسی طرح وہاں عرب میں بھی ان کے چرواہوں کے خاص طریقے تھے، وہ اونٹ وغیرہ کو ‏بلانے کے لیے ہابا ہابا یا ہوبا ہوبا اس جیسی کوئی خاص آوازیں نکالتے تھے، تو وہ ہابا کی آواز کے ساتھ جو بلانے والا ‏ہے، وہ ہے مہیب بھئی، اسی ہابا سے فعل بنا لیا، تو وہ مہیب ہے بلانے والا۔ و تتقی، اتقى يتقی کے معنی ہیں بچنا، بچنا، اپنا بچاؤ کرنا۔ بذی خصلٍ، خصل جمع ہے خصلۃٌ کی اور خصلہ کہتے ہیں بالوں کے گچھے کو، بالوں کے گچھے کو۔ ذی خصل، بھئی ‏ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا، تو اسی اس کی طرح ہے یہ بھی ذو خصل، ذا خصل، ذی خصل، تینوں حالتوں میں الف، واؤ ‏اور یا آئیں گے بھئی۔ تو ذو خصل کا کیا معنیٰ؟ بالوں کے گچھوں والا۔ اور یہ دراصل صفت ہے، موصوف محذوف ہے۔ أي بِذَنَبٍ ذِي خُصَلٍ۔ ‏ذَنَب، ایک ہے لفظ ذَنب اور ایک ہے ذَنَب۔ ذَنْبٌ نون ساکن ہو تو یہ گناہ کو کہتے ہیں، اور ذَنَبٌ نون پر فتحہ ہو تو یہ دم کو ‏کہتے ہیں۔ أي بِذَنَبٍ ذِي خُصَلٍ، ایسی دم ذِي خُصَلٍ جو بالوں کے گچھوں والی ہے۔ بِذَنَبٍ ذِي خُصَلٍ، ایسی دم جو بالوں کے ‏گچھوں والی ہے۔ رَوْعَات، رَوْعَات جمع ہے رَوْعَةٌ کی۔ اور یہ خوف کو کہتے ہیں، خوف اور گھبراہٹ۔ یہاں مراد حملہ ہے، حملہ یا خطرہ۔ ‏کیونکہ حملہ بھی خوف کا باعث ہوتا ہے بھئی۔ اَكْلَف، اَكْلَف کہتے ہیں، اَكْلَف وہ سرخ اونٹ جس کی سرخی سیاہی مائل ہو۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اَكْلَف۔ تو سیاہی مائل ‏سرخ اونٹ، وہ ہے اَكْلَف۔ یہ دراصل صفت ہے، موصوف محذوف ہے۔ أي فَحْلٍ اَكْلَفَ۔ فَحْل کہتے ہیں نر کو، نر۔ فَحْلٍ ‏اَكْلَف، ایسا نر اونٹ جس کی سرخی سیاہی مائل ہو۔ مُلْبِد، مُلْبِد یہ لِبْدَةٌ سے ہے، لِبْدَةٌ۔ اور لِبْدَة کہتے ہیں ایال کو، ایال۔ ایال جانتے ہیں بھئی؟ ایال، آپ نے دیکھا ہوگا شیر، جو ‏نر شیر ہے، ببر شیر، اس کی گردن پر بڑے بڑے بال ہوتے ہیں بھئی، ان کو ایال کہتے ہیں، ایال اردو میں، عربی میں ‏لِبْدَةٌ بھئی۔ اسی طرح نر اونٹ جو ہے، اس کی گردن پر بھی کچھ تھوڑے سے بال ہوتے ہیں، تو یہ اس کو لِبْدَة کہتے ہیں۔ ‏اور جس کی گردن پر وہ لِبْدَة ہو، یعنی وہ نر اونٹ، اس کو کہیں گے مُلْبِد بھئی، لِبْدے والا، ایال والا، ایال دار بھئی۔ الفاظ کے معنیٰ سمجھ میں آ گئے؟ تَرِيعُ إِلَى صَوْتِ الْمُهِيبِ وَتَتَّقِي، بِذِي خُصَلٍ رَوْعَاتِ أَكْلَفَ مُلْبِدِ۔ تَرِيعُ، میری جو اونٹنی ہے وہ لوٹتی ہے إِلَى صَوْتِ الْمُهِيبِ، بلانے والے کی آواز کی طرف۔ یعنی چرواہے کی آواز کی ‏طرف میری اونٹنی لوٹتی ہے، واپس آتی ہے۔ بتلانا یہ چاہتا ہے میری اونٹنی بڑی چوکس ہے، ہر وقت بیدار رہتی ہے، یہ ‏نہیں کہ چرنے میں مصروف ہے اور آوازیں دیتے رہو وہ توجہ ہی نہ دے، نہیں۔ وہ بڑی چوکس ہے، بیدار ہے، جیسے ‏ہی چرواہا اس کو بلاتا ہے وہ فوراً اس کی آواز کی طرف لپکتی ہے۔ تَرِيعُ إِلَى صَوْتِ الْمُهِيبِ، وہ لوٹتی ہے بلانے والے کی آواز کی طرف، وَتَتَّقِي، اور وہ اپنا بچاؤ کرتی ہے بِذِي خُصَلٍ أي ‏بِذَنَبٍ ذِي خُصَلٍ، ایک گچھے دار بالوں والی دم کے ذریعہ۔ وہ اپنا بچاؤ کرتی ہے گچھے دار بالوں والی دم کے ذریعہ، کس ‏چیز سے؟ رَوْعَاتِ أَكْلَفَ مُلْبِدِ۔ میں نے بتلایا روعات سے مراد ہے حملے۔ سیاہی مائل سرخ رنگ کے ایال دار نر اونٹوں کے حملوں سے، توجہ ہے؟ ‏سیاہی مائل سرخ رنگ کے ایال دار نر اونٹوں کے حملوں سے وہ اپنا بچاؤ کرتی ہے، کس کے ذریعہ؟ بالوں کے گچھوں ‏والی دم کے ذریعہ وہ اپنا بچاؤ کرتی ہے۔ بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میری اونٹنی بڑی طاقتور ہے، نر اونٹ اس سے جفتی کرنا چاہتا ہے تو وہ دم کے ذریعہ اپنا بچاؤ ‏کرتی ہے اور حاملہ نہیں ہوتی، اور ظاہر سی بات ہے حیوان جب حاملہ ہوگا تو وہ کمزور ہوگا، ضعیف ہوگا۔ اور جب ‏حاملہ نہیں تو ضعیف بھی نہیں۔ تو کہنا چاہتا ہے بڑی طاقتور ہے۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ نر اونٹ جب جفتی کرنا چاہے اور مادہ اپنے آپ کو بچانا چاہے، وہ حاملہ ہو، حاملہ ‏ہو، تو وہ اپنی دم ہلاتی ہے بھئی۔ اس دم کے ہلانے سے وہ نر اونٹ سمجھ جاتا ہے کہ یہ حاملہ ہے، وہ پھر اس کے ساتھ ‏جفتی نہیں کرتا بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو اس، یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دم ہلا کر اپنے آپ کو نر اونٹ ‏سے بچاتی ہے، تو یہ حاملہ نہیں ہوتی، اور جب حاملہ نہیں ہوتی تو یہ بڑی طاقتور ہے۔ تَرِيعُ إِلَى صَوْتِ الْمُهِيبِ وَتَتَّقِي، بِذِي خُصَلٍ رَوْعَاتِ أَكْلَفَ مُلْبِدِ۔ وہ لوٹتی ہے بلانے والے چرواہے کی آواز کی طرف اور وہ ‏اپنا بچاؤ کرتی ہے ایک بالوں، بالوں کے گچھوں والی دم کے ذریعہ سیاہی مائل سرخ رنگ کے ایال دار نر اونٹوں کے ‏حملوں سے۔ كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ تَكَنَّفَا، حِفَافَيْهِ شُكَّا فِي الْعَسِيبِ بِمِسْرَدِ۔ كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ، جَنَاحٌ پر کو کہتے ہیں، پر۔ اور یہ جَنَاحَيْهِ، جَنَاحَيْ، یہ تثنیہ ہے، اصل میں تھا جَنَاحَيْنِ، نون اضافت کی ‏وجہ سے گر گیا۔ مَزْرَحِيٌّ، مَزْرَحِيٌّ کہتے ہیں سفید رنگ کے گدھ کو بھئی، گدھ۔ جبکہ بعضوں نے لکھا کہ بڑے گدھ کو ‏مَزْرَحِي کہتے ہیں۔ گدھ ایک مردار خور پرندہ ہے بھئی، اور بہت بلندی پر یہ اڑتا ہے۔ اور اللہ کی قدرتیں ہیں، انسان ‏حیران رہتا ہے۔ جوں جوں سائنس ترقی کرتی جا رہی ہے، اللہ کی قدرت اور اللہ کی قدرت کی مزید رنگینیاں سامنے آ رہی ‏ہیں، انسان دیکھتا حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ یہ اب ایک چھوٹا سا پرندہ ہوتا ہے گدھ، بے انتہا بلندی پر یہ اڑتا ہے، اتنی بلندی پر کہ تقریباً دکھائی بھی مشکل سے دیتا ‏ہے۔ لیکن اس کی نظر اتنی تیز ہوتی ہے کہ جنگل کے اندر کہیں پر کوئی حیوان مرتا ہے، فوراً اس کو نظر آ جاتا ہے کہ ‏فلاں حیوان مر گیا ہے، اس کی روح نکل گئی ہے بھئی، اور یہ پھر فوراً اس کو کھانے کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ زندہ کو یہ ‏کچھ نہیں کہتا، مردہ جو حیوانات ہیں ان کو کھاتا ہے۔ تو جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے اور نئی نئی چیزیں، حیوانات نئے نئے بھئی، ہر سال سینکڑوں نئے حیوانات کو ‏دریافت کر رہے ہیں سائنسدان۔ اللہ کی بنائی ہوئی مخلوقات اتنی زیادہ ہیں بھئی، ابھی تک سائنس والے یہ دنیا کے اندر جو ‏حیوانات ہیں ان کا احاطہ بھی نہیں کر سکے بھئی۔ ہر سال سینکڑوں نئے حیوانات کا پتہ چل رہا ہے، کہیں کوئی جنگلوں ‏میں، کہیں سمندروں میں، کہیں کی فضاؤں میں، تو نئے نئے حیوانات کا پتہ چل رہا ہے۔ اور پھر ان کی زندگیوں پر وہ ‏لوگ تحقیق کرتے ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے کہ وہ کس طرح زندگیاں گزارتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک نظریہ ہے کہ یہ تمام، وہ انسانوں کو کہتے ہیں انسان سائنسدان کہتے ہیں بندر سے بنے ہیں۔ پہلے آبا و ‏اجداد کیا تھے؟ بندر تھے، اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے کیا بن گئے؟ انسان بن گئے بھئی، انسان بن گئے۔ حیرت ‏کی بات ہے، حیرت کی بات ہے بھئی۔ اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان، یہ بندر ترقی کرتے کرتے انسان بنا ہے تو یہ ابھی تک بندر کیوں موجود ہے ‏بھئی؟ یہ جو ابھی تک موجود ہے، اس نے کیوں نہیں ترقی کی؟ اور بندر سے اگر انسان بنا ہے تو بندر اور انسان کے بیچ ‏کے بھی تو کوئی نسلیں ہونی چاہیے تھیں، کچھ نے ترقی کی پوری طرح، کچھ نے ابھی ترقی، درمیان میں بھی تو کوئی ‏واسطے والی بھی تو صورتیں ہونی چاہیے تھیں۔ حالانکہ انسان، انسان کو دنیا میں آئے ہوئے ابھی بڑا تھوڑا عرصہ ہوا ہے، بہت تھوڑا عرصہ ہوا ہے، چند ہزار سال۔ اور ‏بعض سائنسدانوں نے اس پر بھی اب کتابیں لکھی ہیں، وہ کہتے ہیں انسان کو چند ہزار سال ہی ہوئے ہیں دنیا میں، کیونکہ ‏انسان ایسا ہے کہ وہ بڑا سہولت پسند ہے، وہ فوراً اپنی سہولت کی چیزیں بناتا چلا جاتا ہے۔ اور یہ چند سالوں کے اندر اس ‏نے کتنی ترقی کر لی، آپ نے بھی دیکھا بھئی، سواریاں، میں گاڑیاں بن گئیں، جہاز بن گئے، قسم قسم کی گاڑیاں، جہاز، ‏گھر، ہر چیز سہولت سے سہولت وہ اپنے لیے بناتا جا رہا ہے، ٹیلیفون بن گئے بھئی، بیٹھے بیٹھے جہاں جس سے ‏مرضی رابطہ کرنا ہو دنیا کے، رابطہ کر لیتا ہے۔ تو انسان بڑا ہی سہولت پسند ہے، وہ اپنے لیے سہولتیں بناتا چلا جاتا ‏ہے۔ اگر انسان لاکھوں سال پرانا ہوتا، لاکھوں سال سے اس دنیا میں ہوتا، وہ تو پتہ نہیں کب کی ترقی اتنی کر چکا ہوتا۔ یہ ‏اب ترقی کر کے یہاں تک پہنچا ہے، معلوم ہوا اس کو کوئی زیادہ عرصہ دنیا میں نہیں ہوا بھئی۔ لاکھوں سال کا اگر یہ ‏دنیا میں ہوتا تو اتنا عرصہ وہ ویسے ہی نہ گزارتا بھئی، وہ تو اپنی سہولت کے لیے چیزیں بناتا چلا جاتا ہے، بناتا چلا ‏جاتا ہے۔ اور بھی اس طرح کی بہت سی، انہوں نے باقاعدہ کتابوں میں لکھا کہ یہ سب چیزیں بتلاتی ہیں کہ انسان کو دنیا ‏میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اچھا جی! جی، دیکھیے کتاب پر بھئی۔ تو مَزْرَحِي میں نے بتایا گدھ کو کہتے ہیں، مردار خور پرندہ۔ بعضوں نے لکھا سفید ‏رنگ کا گدھ، اور بعضوں نے لکھا کہ بڑے گدھ کو مَزْرَحِي کہتے ہیں۔ تَكَنَّفَا، تکنف کا معنیٰ ہے کسی کو اپنی حفاظت میں ‏لینا۔ حفاظت میں لینا۔ حِفَافَيْهِ، حِفَافٌ کنارے کو کہتے ہیں بھئی۔ حِفَافٌ کنارہ، اور یہ بھی تثنیہ ہے، حِفَافَيْهِ اصل میں تھا ‏حِفَافَيْنِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ حِفَافَيْهِ، اس کے دو کنارے۔ شُكَّا، شک یا شکّو کا معنیٰ ہے سینا، کسی چیز کو ‏سوئی وغیرہ سے سینا، ٹانکے لگانا، اس کو کہتے ہیں شک یا شکّو۔ فِي الْعَسِيبِ، عَسِيب کہتے ہیں حیوان کی دم کی ہڈی ‏بھئی، اس کو عَسِيب کہتے ہیں۔ اسی طرح دم پر بال اگنے کی جو جگہ ہو، اس کو بھی عَسِيب کہتے ہیں، عَسِيب۔ مِسْرَد، ‏مِسْرَد کہتے ہیں بھئی سوتالی کو، سوتالی، سین تا الف لام یا، سوتالی، سوتالی۔ سوتالی بھئی خاص آلہ ہوتا ہے جس کے ‏ذریعہ چیز میں سوراخ بھی کیا جاتا ہے اور اس کو سیا بھی جاتا ہے۔ اگر آپ نے موچی کو دیکھا ہو جوتے سیتے ہوئے، ‏اس کے پاس خاص ایک نوکدار آلہ ہوتا ہے، اس کو چمڑے میں سے گزارتا ہے، دوسری طرف اس کے اندر وہ دھاگا ‏پھنساتا ہے اور پھر کھینچ کر دھاگا اس طرف نکال لیتا ہے، یہ ہے سوتالی بھئی، دیکھا، اس کے ذریعہ کیا کیا جاتا ہے؟ ‏سوراخ کیا جاتا ہے اور سلائی کی جاتی ہے بھئی۔ تو یہ ہے مِسْرَد۔ كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ تَكَنَّفَا، حِفَافَيْهِ شُكَّا فِي الْعَسِيبِ بِمِسْرَدِ۔ كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ، گویا کہ سفید گدھ کے دو پر، كَأَنَّ جَنَاحَيْ ‏مَزْرَحِيٍّ گویا کہ سفید گدھ کے دو پر، یا یوں کہیں، گویا کہ بڑے گدھ کے دو پر جو ہیں، تَكَنَّفَا، وہ دو حفاظت کرتے ہیں ‏حِفَافَيْهِ، اس کی دم کے دو کناروں کی۔ حِفَافَيْهِ، اس کی دم کے دو کناروں کی۔ بھئی اونٹ کی دم اگر آپ نے دیکھی ہو، اس کی دم کے دونوں جانب میں بال ہوتے ہیں، درمیان میں جو بال ہیں وہ چھوٹے ‏چھوٹے ہوں گے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اطراف میں دائیں اور بائیں اس کے بڑے بڑے بال ہوں گے دم پر ‏بھئی۔ جیسے بھئی جیسے اس کے بدن پر، ایک تو ہے نہ گائے، گھوڑا وغیرہ، ان کے بدن پر آپ نے بال دیکھے ہیں، ‏چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں۔ بھیڑ کے بدن پر بڑے بڑے بال ہوتے ہیں، اور یہ گھوڑے کے بدن پر چھوٹے بال۔ اسی ‏طرح یہ جو اونٹ ہے، اس کی دم پر بال تو ہر طرف ہوتے ہیں، لیکن درمیان میں چھوٹے بال اور جو دم کی جانبیں ہیں، ‏دائیں اور بائیں اس پر بڑے بڑے بال ہوتے ہیں۔ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میری اونٹنی بڑی مضبوط اور طاقتور ہے، ‏اس کی دم پر بڑے بڑے بال ہیں، وہ دم کے دونوں جانب میں جو بڑے بڑے بال ہیں وہ یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے بڑے ‏گدھ کے دو پر ہوں، ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف، تشبیہ سمجھ میں آ رہی ہے؟ كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ، گویا کہ بڑے گدھ کے دو پر جو ہیں، تَكَنَّفَا، انہوں نے حفاظت میں لیا ہوا ہے، وہ دو حفاظت کر رہے ‏ہیں حِفَافَيْهِ اس کی دم کے دو کناروں کی، شُكَّا، ان کو جیسے کہ ان کو سیا گیا ہو فِي الْعَسِيبِ، کس میں؟ دم کی ہڈی میں، وہ ‏جو دو پر ہیں گویا کہ ان کو سیا گیا ہو فِي الْعَسِيبِ دم کی ہڈی میں، بِمِسْرَدِ، کس کے ذریعہ؟ سوتالی کے ذریعہ، گویا اس ‏کے دو پروں کو سوتالی کے ذریعہ اس کی دم پر سیا گیا ہو بھئی، تشبیہ سمجھ میں آ گئی؟ كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ تَكَنَّفَا حِفَافَيْهِ شُكَّا فِي الْعَسِيبِ بِمِسْرَدِ، گویا کہ بڑے گدھ کے دو پر جو ہیں انہوں نے حفاظت میں لیا ہوا ہو ‏اس کی دم کے دو کناروں کو اس حال میں کہ ان کو، ان کو سیا گیا ہو دم کی ہڈی کے اندر بِمِسْرَدِ سوتالی کے ذریعہ۔ كَأَنَّ، یہ حرف مشبہ بالفعل ہے، یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر۔ تو جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ، یہ ہے اس کا اسم۔ اور تَكَنَّفَا حِفَافَيْهِ، ‏یہ ہے اس کی خبر اول۔ اور شُكَّا فِي الْعَسِيبِ بِمِسْرَدِ، یہ ہے خبر ثانی۔ ایک ہی مبتدا کی بعض اوقات کئی کئی خبریں آتی ہیں ‏نا؟ تو یہ ایک اس کا اسم اور آگے دو خبریں آ گئیں۔ یا، آپ پہلی کو خبر بنا لیں تَكَنَّفَا حِفَافَيْهِ، اور شُكَّا کو حال بنا لیں۔ ماقبل ‏میں جو تثنیہ کی ضمیر آ رہی ہے تَكَنَّفَا کے اندر اسی سے کیا بنا لیں؟ حال بنا لیں۔ اور تیسری ترکیب یہ ہے کہ جَنَاحَيْ ‏مَزْرَحِيٍّ، جَنَاحَيْ نکرہ ہے اور مَزْرَحِيٍّ یہ بھی نکرہ ہے، اور نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو بھی وہ نکرہ ہی رہتا ‏ہے، تو یہ نکرہ ہوا، اور تَكَنَّفَا فعل آ گیا نکرہ کے بعد، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ ‏صفت۔ تو جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ یہ ہوا موصوف، اور تَكَنَّفَا حِفَافَيْهِ یہ ہوئی اس کی صفت، اور شُكَّا فِي الْعَسِيبِ بِمِسْرَدِ یہ ہوئی خبر ‏كَأَنَّ کی۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھیں، موصوف صفت ہو تو پھر کیسے ترجمہ ہوگا: كَأَنَّ جَنَاحَيْ مَزْرَحِيٍّ تَكَنَّفَا حِفَافَيْهِ، گویا کہ بڑے گدھ کے دو ایسے ‏سفید پر تَكَنَّفَا حِفَافَيْهِ کہ جنہوں نے حفاظت میں لیا ہوا ہے اس کی دم کے دونوں اطراف کو، شُكَّا فِي الْعَسِيبِ بِمِسْرَدِ، ان دو ‏پروں کو ٹانکے لگائے گئے ہیں، سیا گیا ہے دم کی ہڈی میں بِمِسْرَدِ کس کے ذریعہ؟ سوتالی کے ذریعہ۔ ترجمہ اچھی طرح ‏سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 46 of 62