آگے دیکھیے بھئی،
وَقَدْ قُلْتُمَا إِنْ نُدْرِكِ السَّلْمَ وَاسِعًا بِمَالٍ وَمَعْرُوفٍ مِنَ القَوْلِ نَسْلَمِ
فَأَصْبَحْتُمَا مِنْهَا عَلَى خَيْرِ مَوْطِنٍ بَعِيدَيْنِ فِيَهَا مِنْ عُقُوقٍ وَمَأْثَمِ
عَظِيمَيْنِ فِي عُلْيَا مَعَدٍّ هُدِيتُمَا وَمَنْ يَسْتَبِحْ كَنْزًا مِنَ المَجْدِ يَعْظُمِ
زہیر ابن ابی سلمیٰ کا معلقہ چل رہا ہے اور تشبیب کے بعد پھر وہ دو سردار جنہوں نے قبیلہ عبس اور ذبیان کے درمیان جنگ بند کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور ساری دیتیں اپنے ذمے لے لیں، یعنی حارم ابن سنان اور حارث ابن عوف، اب پھر ان کی تعریف اور مدح شروع کر دی۔
تو گزشتہ شعر میں آیا تھا:
يَمِينًا لَنِعْمَ السَّيِّدَانِ وَجِدْتُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ مِنْ سَحِيلٍ وَمُبْرَمِ
کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ تم دونوں بہترین سردار پائے گئے ہو ہر حال میں، چاہے وہ نرمی والے حالات ہوں اور سختی والے حالات، تم ہر قسم کے حالات میں۔
تَدَارَكْتُمَا عَبْسًا وَذُبْيَانَ بَعْدَمَا تَفَانَوْا وَدَقُّوا بَيْنَهُمْ عِطْرَ مَنْشِمِ
تم نے اصلاح کی قبیلہ عبس اور ذبیان کی بعد اس کے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو ہلاک کر دیا تھا اور انہوں نے آپس میں منشم عورت کا عطر لگا لیا تھا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اور وہ عطر جو ہے، منشم عورت کا عطر، وہ نحوست میں عرب کے اندر ضرب المثل ہے۔ یعنی اس کا وہ منحوس عطر تم نے لگا لیا تھا یا معنیٰ یہ ہے کہ کہ تم نے آپس میں سخت لڑائی کی تھی بھئی، سخت لڑائی کی، یعنی سخت لڑائی کا ارادہ کر لیا تھا جس کے رکنے کی کوئی صورت نہیں تھی، ایک دوسرے کو ہلاک بھی کر دیا، اس کے بعد تم دونوں سرداروں نے کیا کیا؟ درمیان میں پڑھ کر ان کی اصلاح کر دی۔
آگے دیکھیے بھئی:
وَقَدْ قُلْتُمَا إِنْ نُدْرِكِ السَّلْمَ وَاسِعًا، بِمَالٍ وَمَعْرُوفٍ مِنَ القَوْلِ نَسْلَمِ
أَدْرَكَ يُدْرِكُ کے معنی ہیں پا لینا، حاصل کر لینا؛ السَّلْمُ، سلم یاد رکھیے صلح کو کہتے ہیں، صلح؛ وَاسِعًا، واسع پھیلی ہوئی، عام بھئی، عام، مراد یہاں ہے کامل، پھیلی ہوئی ہو یعنی پورے طور پر؛ بِمَالٍ، مال کے ذریعے سے، مال کے بدلے میں، مال کے ذریعے سے؛ وَمَعْرُوفٍ مِنَ القَوْلِ، اور اچھے قول کے ذریعے؛
وَقَدْ قُلْتُمَا إِنْ نُدْرِكِ السَّلْمَ وَاسِعًا، اور تحقیق تم دونوں نے کہا تھا کہ اگر ہم حاصل کر لیں کامل صلح کو، ایسی صلح جو پھیلی ہوئی ہو یعنی کامل ہو، پوری ہو، یہ صلح کو اگر ہم حاصل کر لیں بِمَالٍ وَمَعْرُوفٍ مِنَ القَوْلِ مال اور اچھے قول کے ذریعے سے، نَسْلَمِ تو ہم سالم ہو جائیں گے یعنی امن میں ہو جائیں گے، مامون ہو جائیں گے ہر قسم کے جنگ کے خطرے سے۔
یہ جنگ کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ اگر ہم صلح کو حاصل کر لیں کامل صلح کو مال اور اچھے قول کے ذریعے، نَسْلَمِ تو ہم سلامت ہو جائیں گے۔
تو وَقَدْ قُلْتُمَا، تحقیق کہ تم نے کہا تھا، یعنی تعریف کر رہا ہے کہ تم نے کتنی اچھی بات کہی تھی کہ اگر ہم مال اور قول کے ذریعے کامل صلح حاصل کر لیں تو ہم ہلاکت سے کیا ہو جائیں گے؟ مامون ہو جائیں گے، سلامت ہو جائیں گے، تم نے کتنی اچھی بات کی تھی۔
فَأَصْبَحْتُمَا مِنْهَا عَلَى خَيْرِ مَوْطِنٍ، بَعِيدَيْنِ فِيَهَا مِنْ عُقُوقٍ وَمَأْثَمِ
فَأَصْبَحْتُمَا، اصبح یہاں بمعنی صار کے ہے، صار؛ خَيْرِ مَوْطِنٍ، موطن کہتے ہیں وطن کو بھئی، جگہ، اقامت گاہ بھئی، مقام؛ بَعِيدَيْنِ فِيَهَا مِنْ عُقُوقٍ، حقوق کہتے ہیں نافرمانی کو بھئی، بدسلوکی کو؛ مَأْثَم بِمَعْنَى اِثْمٍ کے ہے یعنی گناہ بھئی، گناہ۔
فَأَصْبَحْتُمَا مِنْهَا، ھا ضمیر راجع ہے سلم کو اور سلم کسے کہتے ہیں؟ صلح کو، تو یہ سلم مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور مونث بھی، تو یہ ھا ضمیر اسی کو راجع۔ اور یہ 'من' تعلیلیہ ہے، علت بیان کر رہا ہے بھئی، یاد رکھیے یہ من بھی کبھی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔
فَأَصْبَحْتُمَا، پس تم دونوں ہو گئے، مِنْهَا، ای لِأَجْلِهَا، اس صلح کی وجہ سے، عَلَى خَيْرِ مَوْطِنٍ بہترین مقام پر، تم دونوں اس صلح کی وجہ سے بہترین مقام پر فائز ہو گئے، یعنی تم بڑے، تم نے بڑا عزت والا مقام حاصل کر لیا، اتنا عظیم کارنامہ سرانجام دیا کہ دو قبیلوں کے درمیان کیا کروا دی؟ صلح کروا دی اور سارا تاوان اپنے ذمے لے لیا۔
تو فَأَصْبَحْتُمَا مِنْهَا عَلَى خَيْرِ مَوْطِنٍ، تم دونوں ہو گئے اس صلح کی وجہ سے بہترین مقام پر، بہترین مرتبے پر، بَعِيدَيْنِ فِيَهَا اس حال میں کہ تم دونوں دور ہو اس صلح کے اندر، مِنْ عُقُوقٍ وَمَأْثَمِ ہر قسم کی نافرمانی سے اور ہر قسم کے گناہ سے۔
یعنی اس صلح کے اندر پھر تم نے کسی قسم کی کوئی نافرمانی نہیں کی، کوئی گناہ نہیں کیا، کوئی معاہدہ وغیرہ اس کے بعد نہیں توڑا، تو تم دونوں اس صلح کے اندر کس سے دور ہو؟ نافرمانی اور ہر قسم کی نافرمانی اور گناہ سے دور ہو، دور ہو۔
تو یہ بعید، تو یاد رکھیے بھئی! یہ فَأَصْبَحْتُمَا، اصبحتما اس کے لیے ایک اسم چاہیے، ایک خبر بھئی۔ تو یہ تمُا ضمیر ساتھ ملی ہوئی ہے یہ ہوا اس کا اسم، اور عَلَى خَيْرِ مَوْطِنٍ یہ کیا ہوئی اس کی خبر، افعال ناقصہ میں سے ہے نا! اس کے لیے کیا چاہیے؟ اسم اور خبر۔
اور یہ بَعِيدَيْنِ، بعضوں نے اس کو خبر ثانی بنایا کہ تم ہو گئے اس صلح کی وجہ سے بعیدین، لیکن علامہ ابن الانباری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بعیدین یہ حال ہے بھئی، حال۔ فَأَصْبَحْتُمَا، یہ تمُا ضمیر سے کیا ہے؟ حال۔ تم دونوں ہو گئے بہترین مرتبے پر اس حال میں کہ تم دونوں دور ہو اس صلح کے اندر مِنْ عُقُوقٍ وَمَأْثَمِ ہر قسم کی نافرمانی اور ہر قسم کے گناہ سے، یعنی خوب اچھی طرح تم نے اس کو نبھایا۔
آگے دیکھیے:
عَظِيمَيْنِ فِي عُلْيَا مَعَدٍّ هُدِيتُمَا وَمَنْ يَسْتَبِحْ كَنْزًا مِنَ المَجْدِ يَعْظُمِ
عَظِيمَيْنِ، اس کا عطف اسی بعیدین پر ہے، جیسے وہ حال تھا یہ بھی حال ہے بھئی۔ عظیمین، دو عظیم بھئی؛ فِي عُلْيَا مَعَدٍّ، معد یہ قبیلے کا نام ہے، اور علیا یہ تانیث ہے اعلیٰ کی، اعلیٰ کی؛ هُدِيتُمَا، یہ درمیان میں دعا دی ان دونوں کو بھئی کہ تم دونوں کی رہنمائی کی جائے یعنی ہر طرح کی خیر اور کامیابی کی طرف، اللہ تمہاری رہنمائی فرمائے؛ وَمَنْ يَسْتَبِحْ كَنْزًا مِنَ المَجْدِ يَعْظُمِ، اِسْتَبَاحَ يَسْتَبِيحُ کے معنی ہیں مباح پانا، مباح سمجھنا، کسی چیز کو حلال اور جائز سمجھنا، یہاں مراد حاصل کر لینے کے معنیٰ میں ہے۔ کنز، خزانے کو کہتے ہیں بھئی، جمع کنوز؛ مجد، بزرگی کو کہتے ہیں، بزرگی اور عظمت بھئی؛ عَظُمَ يَعْظُمُ کے معنی ہیں بڑا ہونا بھئی، عظیم ہونا۔
عَظِيمَيْنِ فِي عُلْيَا مَعَدٍّ هُدِيتُمَا وَمَنْ يَسْتَبِحْ كَنْزًا مِنَ المَجْدِ يَعْظُمِ
اس حال میں کہ تم دونوں دو عظیم آدمی ہو فِي عُلْيَا مَعَدٍّ
یاد رکھیے، یہ خبر ہے، وہ کہہ سکتا ہے: "آپ سچ بول رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔" اور ایک ہے انشاء مدح۔ "نعم الرجل زيد" زيد کتنا اچھا آدمی ہے! اس میں وہ سچا اور جھوٹا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ آپ کوئی خبر نہیں دے رہے، بلکہ کیا کر رہے ہیں؟ انشاء کر رہے ہیں، اس کی تعریف کو وجود دے رہے ہیں، مدح کر رہے ہیں اس کی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ فرق ہے۔ اس کا بھی یہی معنی: "کیا زيد کتنا اچھا آدمی!" اس کا اور وہ آپ نے خبر دی تھی: "زيد بڑا اچھا آدمی ہے۔" تو دونوں میں یہ فرق ہے کہ خبر دی جائے، تو اس میں سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ کیا ہے؟ انشاء مدح، اس میں سچا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔
سید، سردار کو کہتے ہیں، سیدانِ: دو سردار بھئی۔
وجدتُما علی کل حالِِ من سحیلِِ و مبرمِِ
سحل یسحل سحلا کے معنی ہیں: ایک بل پر رسی کو بٹنا۔ ایک بل پر رسی بٹنا۔ اور جو ایک لڑِی پر بٹی ہوئی رسی ہے، اس کو کہتے ہیں سحیل۔ اسی طرح کچے دھاگے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ سحیل۔ بھئی رسی میں اگر آپ نے غور کیا ہو، ایک لڑی بٹی ہوئی الگ ہوتی ہے اور دوسری لڑی بٹی ہوئی الگ، پھر ان دونوں کو آپس میں، عام رسی جس میں آپ دیکھتے ہیں، دو لڑیاں بٹی ہوئی ہوں گی بھئی، دو لڑیاں۔ تو یہ عام بٹی ہوئی، اس کو مبرم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مبرم بھئی، دو یا زیادہ لڑیوں سے بٹی ہوئی جو رسی ہو، اس کو مبرم کہتے ہیں، اور جو صرف ایک لڑی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو سحیل کہتے ہیں، سحیل بھئی، سحیل۔ اور ظاہر سی بات ہے، سحیل جو ایک لڑی پر بٹی ہوئی رسی ہوگی، وہ کمزور ہوگی اور مبرم جو دو لڑیوں پر بٹی ہوئی ہوگی، وہ مضبوط ہوگی بھئی۔
تو سحیل سے مراد یہاں ہے ضعیف بھئی۔ ویسے تو اس رسی کو کہتے ہیں، لیکن مراد یہاں کیا ہے؟ کمزور، ضعیف۔ اور مبرم جو ہے، مبرم جو ہے، مضبوط بھئی اور قوی۔
تو کہتے ہیں:
یمینا لنعم السيدان وجدتُما
علی کل حالِِ من سحیلِِ و مبرمِِ
کہ میں قسم کھاتا ہوں: "لنعم السيدان" اور نعم فعل مدح میں سے ہے، السيدان اس کا فاعل ہے، اور اس کے لیے ایک مخصوص بالمدح بھی آگے چاہیے بھئی۔ تو وہ محذوف ہے، ضمیر جس سے مراد وہ دو سردار ہیں بھئی ضمیر۔ "لنعم السيدان أنتما" تم کیا ہی سردار ہو! تو وہ دو سردار کون ہیں؟ حارث ابن عوف اور ہرم ابن سنان بھئی، ہرم ابن سنان۔
تو یمینا، میں قسم اٹھاتا ہوں: "لنعم السيدان" کہ تم دونوں کیا ہی خوب اچھے سردار ہو "وجدتُما علی کل حالِِ" جو تم پائے گئے ہو ہر حال میں "من سحیلِِ و مبرمِِ" چاہے وہ حال کس قسم کا ہو؟ کمزوری والا ہو "و مبرمِِ" اور چاہے، یعنی یوں کہو، سختی اور نرمی، چاہے وہ نرمی والی حالت ہو اور چاہے سختی والی حالت ہو، ہر حال میں تم بہترین سردار پائے گئے ہو، ہر حال میں تم بہترین سردار ثابت ہوئے ہو۔
یمینا لنعم السيدان وجدتُما
علی کل حالِِ من سحیلِِ و مبرمِِ
میں قسم کھاتا ہوں کہ تم دونوں کیا ہی خوب اچھے سردار پائے گئے ہو "علی کل حالِِ من سحیلِِ و مبرمِِ" ہر قسم کے حال میں، یعنی کہ نرمی میں اور سختی میں۔
تدارکتُما عبسا و ذبیانا بعدما
تفانوا و دقوا بينہم عطر منشمِ
تدارکتُما، تدارک کا معنی ہوتا ہے: تلافی کرنا۔ تلافی کرنا۔ یہ ایک شے کے بعد دوسری شے کو لانا، درست کرنا، اصلاح کرنا۔ اصلاح کرنا۔ عبس و ذبیان، یہ قبیلوں کے نام ہیں۔
تفانوا، تفانوا فنا سے ہے، فنی یفنی فناء کے معنی ہیں: فنا ہونا، مٹ جانا، ختم ہو جانا، ہلاک ہو جانا۔ اور اسی سے باب تفاعل ہے: تفانوا، اور باب تفاعل جانبين سے فعل چاہتا ہے کہ وہ آپس میں باہم کیا ہوئے؟ باہم انہوں نے ایک دوسرے کو فنا کیا۔ ضرب کا معنی مارنا، اور تضارب کا معنی باہم ایک دوسرے کو مارنا، تو تفانیٰ کا کیا معنی ہوا؟ باہم ایک دوسرے کو ہلاک کرنا، ختم کرنا۔ تفانوا، انہوں نے باہم ایک دوسرے کو ختم کیا، ہلاک کیا۔
و دقوا بينہم عطر منشمِ، منشم بر وزن مجلس ہے بھئی، مجلس۔ اچھا، دق یدق دقا کا معنی ہوتا ہے: توڑنا، باریک کرنا اور ٹکڑے کرنا، اسی طرح اس کا معنی ہے: ظاہر کرنا، ظاہر کرنا۔ عطر خوشبو کو کہتے ہیں۔ منشم بھئی، منشم۔ ودقوا بينہم عطر منشم، یہ محاورہ ہے عرب میں بھئی، محاورہ ہے۔
اور مختلف وجہیں بیان کیں علماء نے اس کی۔ جب کہیں آپس میں سخت لڑائی ہو، تو پھر کہتے ہیں: "دقوا بينہم عطر منشم" کہ انہوں نے آپس میں منشم کا عطر لگا لیا ہے، یا اس کو پیس لیا ہے، مختلف خوشبوئیں ہیں جیسے یہ مہندی وغیرہ اس کو پیسا جاتا ہے، اس طرح کوئی خوشبو ہوگی جس کو پیسا جاتا ہوگا، لگایا جاتا ہوگا۔ تو جب کہیں سخت اور شدید لڑائی ہو، تو پھر کہتے ہیں: "دقوا بينہم عطر منشم"، انہوں نے آپس میں منشم کا یہ عطر لگا لیا ہے، اور مختلف اس کے بارے میں اقوال ہیں بھئی۔
بعضوں نے کہا کہ منشم جو ہے ایک قسم کی خوشبو ہے، جس کا کوٹنا اور پیسنا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے، بڑا ہی مشکل ہوتا ہے۔ تو اس لیے، جب سخت اور مشکل، سخت لڑائی ہو، تو پھر کہتے ہیں: "دقوا بينہم عطر منشم"۔ جبکہ زیادہ علماء نے یہ لکھا کہ یہ منشم کوئی عورت تھی بھئی، کسی قبیلے کی، مکہ میں البتہ رہتی تھی، اور یہ خوشبوئیں بیچتی تھی بھئی، عطر وغیرہ فروخت کرتی تھی۔
اور تو ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے کہیں لڑنا تھا، جنگ کرنی تھی۔ تو انہوں نے اس سے عطر خریدا اور اس کو ایک تھال میں ڈالا اور پھر اس تھال میں ہاتھ رکھ کر آپس میں عہد و پیمان کیا کہ اس جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے آخر دم تک، یہاں تک کہ دشمن کو بالکل نیست و نابود کر دیں۔ تو وہ جو تھال کے اندر، خوشبو کے اندر ہاتھ رکھا تھا، حلف اٹھایا تھا اس پر، قسم اٹھائی تھی، عہد کیا تھا۔ اور پھر اس کے بعد کہتے ہیں وہ لڑنے کے لیے چلے گئے بھئی۔ کہتے ہیں ایسی ایسی ہونا کیا ایسا ہوا کہ اس لڑائی میں جتنے یہ جنہوں نے حلف اٹھایا تھا اور لڑنے گئے تھے، سارے کے سارے مارے گئے بھئی، ایک بھی ان میں سے نہیں بچا۔ تو اس پر یہ عورت جو ہے، یا اس کا یہ عطر منحوست میں بطورِ ضرب المثل کے مشہور ہو گیا، کہ انہوں نے کیا کیا؟ منشم اس عورت کا نام تھا، اس منشم عورت کا منحوس عطر انہوں نے آپس میں لگا لیا ہے، "دقوا بينہم عطر منشم"، انہوں نے کیا کیا ہے؟ اس منحوس اس عورت کا منحوس عطر آپس میں لگا لیا ہے بھئی، لگا لیا ہے۔
بہرحال یہ بولتے جنگ لڑائی وغیرہ کے موقع پر ہیں بھئی، اور یقیناً جنگ بھی برا، خوفناک ہوتی ہے، قبیلوں کو مٹا دیتی ہے، عورتوں کو بیوہ کر دیتی ہے، بچوں کو یتیم کر دیتی ہے، تو اس موقع پر یہ بولتے ہیں بھئی۔
جبکہ بعضوں نے لکھا کہ یہ عورت تھی عطر بیچنے والی، اور اس جنگ، جب آپس میں جنگیں ہوتیں، تو مردوں کے لیے وہ اس عورت سے لوگ عطر خریدتے تھے، جو مردوں کو خوشبو وغیرہ لگائی جاتی، جیسے کافور لگاتے ہیں، تو جو خوشبو وغیرہ مردوں کو لگائی جاتی تھی، وہ اس عورت سے خریدی جاتی تھی، تو اس وجہ سے اس کا نام یہ ضرب المثل بن گیا بھئی، بطورِ منحوست کے ذکر کیا جاتا ہے کہ مردوں والا عطر کیا کیا جاتا ہے؟ اس سے خریدا جاتا ہے۔
اچھا بھئی:
تدارکتُما عبسا و ذبیانا بعدما
تفانوا و دقوا بينہم عطر منشمِ
تم دونوں نے تلافی کر دی، تم دونوں نے درست کر دیا، صحیح کر دیا، تم دونوں نے اصلاح کر دی عبس و ذبیان، قبیلہ عبس اور ذبیان کی، بعدما تفانوا، بعد اس کے کہ جب انہوں نے باہم ایک دوسرے کو ہلاک کر دیا تھا "و دقوا بينہم عطر منشمِ" اور بعد اس کے کہ انہوں نے آپس میں منشم کا منحوس عطر لگا لیا تھا، یا بعد اس کے کہ جب ان کے درمیان سخت لڑائی ہو گئی تھی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
چلیے بس بھئی بس، ھذا ہو المرام واللہ اعلم بالصواب، السلام۔