Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-059

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 127
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے:‏ فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ امْرَأً هُوَ غَيْرُهُ ... لَفَرَّجَ كَرْبِي أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي وَلَكِنَّ مَوْلَايَ امْرُؤٌ هُوَ خَانِقِي ... عَلَى الشُّكْرِ وَالتَّسْآلِ أَوْ أَنَا مُفْتَدِي وَظُلْمُ ذَوِي القُرْبَى أَشَدُّ مَضَاضَةً ... عَلَى المَرْءِ مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ گزشتہ اشعار میں طرفۃ بن العبد اپنے چچازاد بھئی نے اس کے ساتھ جو بے رخی کی اور اس کو ملامت وغیرہ کیا، اس ‏کی وجہ سے اس کو شدید تکلیف اور غم پہنچا، اس کو وہ ذکر کر رہا تھا اور ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ اس نے تو میرے ‏ساتھ اس طرح کیا لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اس پر کبھی مصیبت آئے تو میں اس کی مدد نہیں کروں گا۔ میں ہر لمحے ‏اس کی مدد کے لیے تیار رہوں گا اور وہ جب بھی مجھے پکارے گا کسی مشکل میں، میں فوراً اس کی مدد کے لیے ‏پہنچوں گا۔ آگے کہتا ہے:‏ فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ امْرَأً هُوَ غَيْرُهُ ... لَفَرَّجَ كَرْبِي أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ، مَوْلَايَ یہ یائے متکلم کی ہے، میرا مولا۔ اور مولا کے عربی میں بہت سے معانی آتے ہیں۔ اسی مولا کا ‏معنی ہے آقا، اسی طرح اس کا معنی غلام کے بھی آتے ہیں، اسی طرح آزاد کیا ہوا جو غلام ہے اس کو بھی مولا کہتے ‏ہیں، اور تو بہت سے معانی ہیں اس کے۔ ایک اس کا معنی ہے باپ کی طرف سے جو کسی کا رشتہ دار ہو اس کو بھی ‏مولا کہتے ہیں، جیسے چچا یا چچا کا بیٹا۔ تو باپ کی طرف سے جو کسی آدمی کا رشتہ دار ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ‏مولا۔ تو یہاں اس مولا سے مراد چچا کا بیٹا ہے بھئی۔ تو اس کا ترجمہ ہم کیا کریں گے؟ چچا کا بیٹا۔ امْرَأً، یاد رکھیے یہ امْرَأً کے شروع میں جو ہمزہ ہے، ہمزۂ وصلی ہے، ہمزۂ وصلی۔ لہٰذا یہ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے، ‏تو شعر کے اندر ہم اس کو یوں پڑھیں گے: فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ امْرَأً، مَوْلَايَ امْرَأً، یہ ہمزۂ وصلی ہے بھئی۔ اور یہ جو امْرُؤٌ کا ‏لفظ ہے بھئی امْرُؤٌ، اس پر جب الف لام داخل ہوتا ہے تو یہ ہمزۂ وصلی کتابت سے بھی گر جاتا ہے۔ ویسے تو ہمزۂ ‏وصلی تلفظ سے گرتا ہے کتابت سے نہیں گرتا، لیکن اس پر جب الف لام داخل ہو جائے تو یہ ہمزۂ وصل کتابت سے بھی ‏گر جاتا ہے اور پھر کیسے پڑھیں گے؟ المَرْءُ، المَرْءُ۔ اور نیز جب اس کے شروع میں ہمزۂ وصل ہو تو اس وقت یہ جو ‏اس کی را ہے، اس کو تین طرح پڑھا جا سکتا ہے، تین لغتیں ہیں اس کے اندر۔ ایک صورت یہ کہ را پر ہمیشہ فتحہ ‏پڑھیں، اعراب تو ہمزہ پہ آئے گا نا، آخر میں آخری حرف پر آتا ہے اور امْرُؤٌ کے آخر میں کیا ہے؟ ہمزہ۔ تو اعراب تو ‏ہمزہ پہ آئے گا، تو اس میں را پر فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں، را پر فتحہ ہی ہمیشہ پڑھیں ایک لغت یہ ہے: امْرَأٌ، امْرَأً، امْرَإٍ۔ ‏صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک لغت یہ ہے کہ را پر ہمیشہ ضمہ پڑھیں: امْرُؤٌ، امْرُؤً، امْرُؤٍ۔ اور ایک لغت اس میں یہ ‏ہے کہ اس میں را پر بھی وہی حرکت آئے گی جو اعراب ہمزہ پر ہوگا۔ ہمزہ پر پیش تو را پر بھی پیش، ہمزہ پر زبر تو را ‏پر بھی زبر، ہمزہ پہ زیر تو را پر بھی زیر: امْرُؤٌ، امْرَأً، امْرِإٍ۔ تو یہ تین لغتیں ہیں اس کے اندر، اور امْرُؤٌ کہتے ہیں آدمی ‏کو، آدمی، مرد بھئی۔ اور اسی لفظ سے اس کی جمع نہیں آتی، اس کی جمع غیر لفظ سے رِجَالٌ پھر استعمال ہوتی ہے، ‏رِجَالٌ بھئی، اس لفظ کی جمع نہیں۔ هُوَ غَيْرُهُ، میری کتاب میں غَيْرَهُ ہے بھئی، یہ غَيْرَ را پر فتحہ درست نہیں ہے، را پر ضمہ کریں بھئی: هُوَ غَيْرُهُ، یہ خبر ‏ہے هُوَ کی اور خبر مرفوع ہوتی ہے تو هُوَ غَيْرُهُ۔ آگے آیا فَرَّجَ، فَرَّجَ يُفَرِّجُ تفریج کا معنی ہے کھولنا، کشادہ کرنا، تکلیف اور پریشانی کو دور کرنا، کشادگی پیدا کرنا۔ كَرْبِي، کرب کہتے ہیں دکھ اور تکلیف کو بھئی۔ اردو میں بھی آپ استعمال کرتے ہیں کہ فلاں بڑے کرب میں مبتلا ہے ‏بھئی، تو کرب کسے کہتے ہیں؟ دکھ، غم اور تکلیف۔ أَوْ لَأَنْظَرَنِي، أَنْظَرَ يُنْظِرُ انظار کا معنی ہے مہلت دینا، مہلت دینا۔ غَدِي، یہ وہ غد ہے بھئی غد، آنے والا کل، آنے والا کل۔ فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ امْرَأً هُوَ غَيْرُهُ ... لَفَرَّجَ كَرْبِي أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ، اگر میرا چچا کا بیٹا جو ہے، امْرَأً وہ ایسا شخص ہوتا، دیکھو امْرَأً نکرہ آیا اور اس کے بعد هُوَ غَيْرُهُ پورا ‏جملہ اسمیہ آیا، هُوَ مبتدا غَيْرُهُ اس کی خبر، اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور ‏موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں؟ ایسا یا ایسی۔ فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ امْرَأً هُوَ غَيْرُهُ، اگر میرا چچا کا بیٹا ایسا آدمی ہوتا جو اس ‏مالک کے علاوہ ہوتا، هُوَ غَيْرُهُ جو اس مالک کے علاوہ، یعنی میرے چچا کا بیٹا اگر مالک کے علاوہ کوئی اور ہوتا، ‏لَفَرَّجَ كَرْبِي تو البتہ وہ میرے دکھ اور غم کو دور کر دیتا، میری پریشانی کو دور کر دیتا، أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي یا وہ مجھے ‏مہلت دے دیتا کل تک۔ چچے کے بیٹے کا نام مالک تھا نا، گزشتہ اشعار میں آیا تھا۔ تو کہتا ہے اگر میرے چچا کا بیٹا ‏مالک کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو وہ میری تکلیف اور غم مجھ سے دور کرتا، أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي یا وہ مجھے کل تک کے ‏لیے مہلت دے دیتا، یعنی فوراً ہی مجھے ملامت کرنا نہ شروع کر دیتا، فوراً ہی مجھ پہ میری شکایتیں نہ شروع کر دیتا، ‏مجھے برا بھلا نہ کہتا بلکہ مجھے مہلت دے دیتا کہ اگر مجھ میں کوئی کمی ہے، کوئی غلطی ہے بھی تو میں اس کی ‏اصلاح کر لوں، وہ مجھے ملامت وغیرہ نہ کرتا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ فَلَوْ كَانَ مَوْلَايَ امْرَأً هُوَ غَيْرُهُ ... لَفَرَّجَ كَرْبِي أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي، اگر میرے چچا کا بیٹا کوئی ایسا آدمی ہوتا جو اس مالک کے ‏علاوہ ہوتا تو لَفَرَّجَ كَرْبِي تو وہ میری تکلیف کو دور کرتا، یعنی وہ میری مدد وغیرہ کرتا، أَوْ لَأَنْظَرَنِي غَدِي یا وہ مجھے ‏مہلت دے دیتا کل تک کے لیے، یعنی مجھے ملامت وغیرہ نہ کرتا، مجھے برا بھلا نہ کہتا بلکہ مجھے اصلاح کا موقع ‏دیتا۔ وَلَكِنَّ مَوْلَايَ امْرُؤٌ هُوَ خَانِقِي ... عَلَى الشُّكْرِ وَالتَّسْآلِ أَوْ أَنَا مُفْتَدِي وَلَكِنَّ مَوْلَايَ، یہاں پر بھی امْرُؤٌ کا ہمزہ وصلی ہے وہ نہیں پڑھیں گے، وَلَكِنَّ مَوْلَايَ امْرُؤٌ هُوَ خَانِقِي۔ خَنَقَ يَخْنُقُ خنق کے ‏معنی ہیں کسی کا گلا گھونٹنا، کسی کا گلا دبانا، اس کا سانس روکنا، اس کو کہتے ہیں خَنَقَ يَخْنُقُ۔ عَلَى الشُّكْرِ وَالتَّسْآلِ، تَسْآل یہ تفعال وزن میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ یہ مصدر ہے، مصدر ہے اور یہ مبالغے کا ‏وزن ہے مصدر کے اندر۔ تو سوال، یہ اس سوال کا کیا معنی ہے؟ مانگنا، درخواست کرنا، پوچھنا۔ تو یہ اسی سوال کے ‏اندر تَسْآل مبالغے کا وزن ہے مصدر میں بھئی، یعنی خوب سوال کرنا، خوب درخواست کرنا، خوب مانگنا۔ أَوْ أَنَا مُفْتَدِي، اِفْتَدَى يَفْتَدِي کے معنی ہیں فدیہ دے کر مال وغیرہ دے کر چھڑانا بھئی، فدیہ دے کر چھڑانا۔ وَلَكِنَّ مَوْلَايَ امْرُؤٌ هُوَ خَانِقِي ... عَلَى الشُّكْرِ وَالتَّسْآلِ أَوْ أَنَا مُفْتَدِي وَلَكِنَّ مَوْلَايَ، لیکن میرا چچا کا بیٹا جو ہے، امْرُؤٌ وہ ایسا شخص ہے، هُوَ خَانِقِي جو میرا گلا دبانے والا ہے، جو میرا گلا ‏گھونٹنے والا ہے، عَلَى الشُّكْرِ شکر پر بھی، وَالتَّسْآلِ اور مانگنے پر بھی۔ میں اس کا شکریہ ادا کروں تو بھی ہر حال میں ‏وہ کیا کرنے والا ہے؟ میرا گلا دبانے والا ہے، مجھے تکلیف دینے والا ہے۔ وَالتَّسْآلِ اور سوال کرنے اور مانگنے پر ‏بھی، یعنی میں اس سے اگر معافی وغیرہ بھی مانگوں تو بھی وہ خوش نہیں ہوتا، پھر بھی کیا کرتا ہے؟ مجھے تکلیف دیتا ‏ہے، میرا گلا دبانے والا ہے۔ أَوْ أَنَا مُفْتَدِي یا میں فدیہ دوں، یا یا میں فدیہ دینے والا ہوں یعنی مال، یعنی مال وغیرہ دے کر ‏میں اس سے اپنے آپ کو چھڑا لوں، پھر بھی وہ میرا گلا دبانے والا ہے یعنی مجھے تکلیف دینے والا ہے ہر حال میں۔ ‏معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتا ہے: وَلَكِنَّ مَوْلَايَ امْرُؤٌ هُوَ خَانِقِي ... عَلَى الشُّكْرِ وَالتَّسْآلِ أَوْ أَنَا مُفْتَدِي، لیکن میرے چچا کا بیٹا وہ ایسا آدمی ہے جو ‏میرا گلا دباتا ہے شکر کرنے پر بھی اور معافی مانگنے پر بھی اور فدیہ دینے پر بھی، فدیہ دینے پر بھی۔ یعنی کسی حال ‏میں وہ مجھ سے راضی نہیں ہوتا، ہر حال میں مجھے وہ تکلیف دیتا رہتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَظُلْمُ ذَوِي القُرْبَى أَشَدُّ مَضَاضَةً ... عَلَى المَرْءِ مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ ذَوِي القُرْبَى، رشتہ دار بھئی، قرابت والے رشتہ دار۔ أَشَدُّ مَضَاضَةً، مَضَاضَة بھئی، مَضَّ يَمَضُّ مَضَاضَةً کے معنی ہیں دکھ میں مبتلا ہونا، تکلیف پہنچنا۔ عَلَى المَرْءِ مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ، وَقَعَ يَقَعُ وَقْعًا کا معنی ہے واقع ہونا، واقع ہونا۔ تو اسی طرح یہ ضرب اور وار کو بھی ‏کہتے ہیں، ضرب اور وار، تلوار وغیرہ کا وار ہو، تلوار کی جو ضرب ہو اس کو بھی وَقْعٌ کہتے ہیں۔ الحُسَام، حسام کہتے ہیں تیز تلوار کو، تیز تلوار۔ المُهَنَّد، مہند یہ ہند سے ہے ہند، یعنی ہندوستان کا۔ تو ہندوستان کی جو تلوار تھی وہ بڑی مشہور ہوتی تھی اس زمانے میں، ‏کیونکہ وہاں کا لوہا بڑا عمدہ ہوتا تھا تو اس سے جو تلوار بنائی جاتی تھی وہ بڑی عمدہ اور اعلیٰ ہوتی تھی، تو اس کو ‏مہند کہتے تھے، یعنی ہندوستانی لوہے کی بنی ہوئی تلوار، یعنی خوب تیز تلوار۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو شاعر کہتا ہے: وَظُلْمُ ذَوِي القُرْبَى أَشَدُّ مَضَاضَةً ... عَلَى المَرْءِ مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ، اور رشتہ داروں کا ظلم جو ہے أَشَدُّ ‏مَضَاضَةً وہ تکلیف کے اعتبار سے بہت سخت ہے، تو رشتہ داروں کا ظلم جو ہے أَشَدُّ مَضَاضَةً سب سے زیادہ تکلیف دہ ‏ہے، سب سے زیادہ تکلیف دینے والا ہے، عَلَى المَرْءِ کسی آدمی پر، مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ تیز ہندی تلوار کے وار سے بھی۔ تیز ہندی تلوار سے بھی، یعنی اس کے مقابلے میں بھی۔ پھر سنیں ترجمہ: وَظُلْمُ ذَوِي القُرْبَى أَشَدُّ مَضَاضَةً، کہ رشتہ داروں ‏کا ظلم جو ہے وہ تکلیف کے اعتبار سے زیادہ سخت ہے آدمی پر مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ تیز ہندی تلوار کے وار کے مقابلے ‏میں۔ تیز ہندی تلوار کے وار کے مقابلے میں بھی رشتہ داروں کا ظلم کیا ہے؟ زیادہ تکلیف دہ ہے، تیز ہندی تلوار بھی ‏کسی کو اتنی تکلیف نہیں دیتی جتنا رشتہ داروں کا ظلم تکلیف دیتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ یہ ‏من جو آیا نا، یہ پیچھے جو اسمِ تفصیل آیا أَشَدُّ مَضَاضَةً، میں کہتا ہوں: زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو، تو اسمِ تفصیل کے ساتھ کیا ‏آتا ہے؟ من، مقابلے کے لیے، زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے مِنْ عَمْرٍو، عمر سے یعنی عمر کے مقابلے میں، عمر کے ‏مقابلے میں۔ تو یہاں پر بھی من اسی طرح ہے، یہ أَشَدُّ مَضَاضَةً سے متعلق ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: وَظُلْمُ ذَوِي القُرْبَى أَشَدُّ مَضَاضَةً ... عَلَى المَرْءِ مِنْ وَقْعِ الحُسَامِ المُهَنَّدِ، کہ رشتہ داروں کا ظلم جو ہے کسی ‏آدمی پر وہ زیادہ تکلیف دینے والا ہے تیز ہندی تلوار کے وار سے بھی۔ آگے دیکھیے:‏ فَذَرْنِي وَخُلْقِي إِنَّنِي لَكَ شَاكِرٌ ... وَلَوْ حَلَّ بَيْتِي نَائِيًا عِنْدَ ذَرْغَدِ ‏”فَذَرْنِي“؛ "فَذَرًا - یَذَرُ" کے معنی ہیں: چھوڑنا۔ ”فَذَرْنِي“: پس تو مجھے چھوڑ دے! امر ہے، امر ہے۔ یا متکلم کی ہے۔ ‏”وَخُلْقِي“: خلق کہتے ہیں اخلاق، عادت، عادت، خصلت، طبیعت، مزاج کسی کا۔ اس کو کہتے ہیں خلق۔ اسی کی جمع ہے ‏اخلاق بھئی۔ اخلاق آپ اردو میں بھی بولتے ہیں بھئی کہ فلاں بڑے اچھے اخلاق والا ہے۔ تو یہ اسی خلق کی جمع ہے۔ ‏”إنَّنِي لَكَ شَاكِرٌ“: شاکر: شکر گزار بھئی، شکریہ ادا کرنے والا۔‏ ‏”وَلَوْ حَلَّ بَيْتِي“: "حلّ - یحلّ" کے معنی نازل ہونا، اترنا۔ ”بَيْتِي“: میرا گھر۔ ‏”نَائِيًا“: "ناء - یناء" کے معنی ہیں دور ہونا۔ اسی سے اسمِ فاعل بنے گا: نائی۔ وہ جو دور ہو، دور ہو، وہ ہے نائی۔ اور یہ ‏یہاں ”نَائِيًا“ یہ حال ہے بھئی، حال۔ یہ ”بَيْتِي“ سے حال ہے۔ وہ گھر اس حال میں ”نَائِيًا“ کہ وہ دور ہو۔ ‏”عِنْدَ زَرْغَدِ“: زرغد، یہ ایک پہاڑ کا نام ہے، یا بعضوں نے لکھا ہے جگہ کا نام ہے جو اس شاعر، جو شاعر طرفۃ بن ‏العبد کی... کا علاقہ تھا، اس سے بہت دور تھا بھئی، بہت دور۔ تو اس کو ذکر کیا۔ تو شاعر کہتا ہے: ”فَذَرْنِي وَخُلْقِي، إنَّنِي لَكَ شَاكِرٌ، وَلَوْ حَلَّ بَيْتِي نَائِيًا عِنْدَ زَرْغَدِ“.‏ شاعر اپنے چچا زاد کو کہہ رہا ہے: ”فَذَرْنِي“: تو مجھے چھوڑ دے، ”وَخُلْقِي“: اور میرے مزاج اور میرے اخلاق کو ‏بھی چھوڑ۔ یہ جیسے ہیں، ان کو تو ان کے حال پر چھوڑ دے، بس تو میرے بارے میں برا بھلا نہ کہا کر، مجھے ملامت ‏نہ کیا کر، مجھے اپنے حال پر چھوڑ دے۔ ‏”إنَّنِي لَكَ شَاكِرٌ“: میں تیرا شکر گزار رہوں گا۔ میں تیرا شکر گزار... بس تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دے، میری ‏مخالفت چھوڑ دے، میں تیرا اسی پر شکریہ ادا کروں گا۔ اسی پر میں خوش رہوں گا، میں تجھ سے اور کچھ نہیں چاہتا۔ ‏”فَذَرْنِي وَخُلْقِي، إنَّنِي لَكَ شَاكِرٌ“: پس تو مجھے بھی چھوڑ دے اور میری خصلت و عادت کو بھی چھوڑ دے، میں تیرا شکر ‏گزار رہوں گا۔ ‏”وَلَوْ حَلَّ بَيْتِي نَائِيًا عِنْدَ زَرْغَدِ“: اگرچہ میرا گھر ہو جائے ”عِنْدَ زَرْغَدِ“: کہاں پر؟ مقامِ زرغد کے پاس ہی کیوں نہ میرا ‏گھر ہو جائے! ”نَائِيًا“: اس حال میں کہ بہت دور ہو۔ یعنی چاہے میں تجھ سے دور ہوتے ہو... ہوتے ہوتے میرا گھر کہاں ہو جائے؟ مقامِ زرغد پر بھی ہو جائے، تب بھی میں ‏تیرا شکر گزار رہوں گا۔ بس تو میرے برا بھلا کہنا چھوڑ دے، مجھے تکلیف نہ دے، میں تیرا شکر... مجھے اپنے حال ‏پر چھوڑ دے، میرا مزاج جو ہے وہ رہنے دے، میری طبیعت جیسی ہے اس کو اسی حال پر رہنے دے، بس آپ مہربانی ‏کریں، مجھے برا بھلا نہ کہیں، مجھے ملامت نہ کریں، مجھے تکلیف نہ دیں، میں آپ کا بس شکر گزار رہوں گا اس بات ‏پر بھی، آپ کا شکریہ ہی ادا کروں گا، چاہے میرا گھر کتنا ہی دور کیوں نہ ہو۔ کہتا ہے: ”فَذَرْنِي وَخُلْقِي، إنَّنِي لَكَ شَاكِرٌ، وَلَوْ حَلَّ بَيْتِي نَائِيًا عِنْدَ زَرْغَدِ“. پس تو مجھے چھوڑ دے اور میرے مزاج کو اور ‏میری عادت کو بھی چھوڑ دے، میں تیرا شکر گزار رہوں گا، اگرچہ میرا گھر جو ہے وہ تجھ سے بہت دور مقامِ زرغد ‏کے پاس ہی کیوں نہ ہو جائے۔ فَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ، وَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ عَمْرَو بْنَ مَرْثَدِ.‏ ‏”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ“: اگر میرا رب چاہتا تو میں قیس بن خالد ہوتا۔‏ ‏”وَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ عَمْرَو بْنَ مَرْثَدِ“: اور اگر میرا رب چاہتا تو میں عمرو بن مرثد ہوتا۔ یہ اس زمانے کے دو بڑے مشہور و معروف سردار تھے اور جو بڑے ہی مالدار تھے، بڑے ہی معزز تھے اور اللہ نے ‏ان کو خوب مال دیا تھا اور ان کو اللہ نے خوب اولاد بھی دی تھی اور ان کے بیٹے بھی سارے بڑے اور سردار لوگ تھے۔ ‏تو ان دو کو ذکر کیا۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے... اگر میرا رب چاہتا تو میں ان کی طرح کا... مجھے اللہ سردار بناتا، مجھے بھی مال دیتا، مجھے ‏بھی خوب اولاد دیتا، پھر لوگ میری شکایتیں نہ کرتے، کیونکہ لوگ عموماً اسی پر شکایت کرتے ہیں، کیونکہ ایک... جب ‏ان کی مدد نہ کی جائے، آپ کے پاس مال وغیرہ نہیں ہے، آپ کسی کو دے نہیں سکتے تو وہ بھی آپ سے پھر خوش نہیں ‏ہے بھئی۔ ہاں، آپ مالدار ہیں، ہر ایک کو مال دیتے ہیں تو سب آپ سے راضی ہوں گے۔ تو میرا رب اگر چاہتا تو وہ مجھے کس کی طرح کرتا؟ جی؟ تو اگر میرا رب چاہتا تو وہ مجھے قیس بن خالد کی طرح بنا ‏دیتا یا مجھے عمرو بن مرثد کی طرح بنا دیتا جو بڑے سردار ہیں، بڑے نامور ہیں، جن کے پاس بڑا مال ہے اور خوب ‏اولاد ہے۔ لیکن میرے رب نے ایسا چاہا نہیں، تو میں بھی ان کی طرح نہیں ہوں۔ یاد رکھیے! جو ”لو“ ہے نا ”لو“... ”لو“، یہ بھی شرط کے لیے آتا ہے اور ”إن“ بھی شرط کے لیے آتا ہے، لیکن ‏‏”إن“ جو ہے، وہ ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے۔ "إن ضربتني ضربتك"، دیکھو "ضربتني"، "ضربت" ‏ماضی کا صیغہ ہے، لیکن ترجمہ مستقبل والا کریں گے۔ "إن ضربتني"، اگر تو میری پٹائی کرے گا، "ضربتك"، تو میں ‏بھی تیری پٹائی کروں گا۔ تو ”إن“ ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے۔ جبکہ ”لو“ جو ہے وہ اس کے برعکس ہے، وہ مستقبل کو بھی ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے۔ "لو جئتني لأكرمتك"، ‏اگر تو میرے پاس آیا ہوتا تو میں نے تیرا اکرام کیا ہوتا۔ دیکھو، ماضی کی بات ہے۔ اگر تو میرے پاس آیا ہوتا تو میں نے ‏تیرا اکرام... "لأكرمتك"، یہ تو مستقبل کا صیغہ ہے بھئی، حال یا استقبال والا ترجمہ کریں گے، لیکن یہاں ماضی والا ‏ترجمہ کر رہے ہیں۔ "لو جئتني"، اگر تو میرے پاس آیا ہوتا، "لأكرمتك"، تو میں نے تیرا... میں نے بھی تیرا اکرام کیا ہوتا۔ تو ”لو“ ایک تو ماضی کے لیے آتا ہے، یعنی مستقبل کو بھی کس معنی میں کر دے گا؟ ماضی کے معنی میں کر دے گا۔ ‏اور دوسرا یہ کہ ”لو“ جو ہے، وہ معنی کو الٹ دیتا ہے۔ مثبت ہو تو اس کو منفی کر دیتا ہے، اور منفی ہو تو مثبت کر دیتا ‏ہے۔ توجہ ہے؟ ”لو“ کیا کرتا ہے؟ ایک تو ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے اور دوسرا مثبت جملہ ہو تو اس کو منفی کر ‏دیتا ہے اور منفی ہو تو مثبت کر دیتا ہے۔ دیکھو، آپ ترجمے پر غور کریں۔ "لو جئتني"، اگر تو میرے پاس آیا ہوتا... کہیں نفی آ رہی ہے؟ جی؟ نہیں! "لأكرمتك"، تو ‏میں نے تیرا... "لو جئتني"، اگر تو میرے پاس آیا ہوتا، "لأكرمتك"، تو میں نے تیرا اکرام کیا ہوتا۔ کہیں نفی آئی؟ نہیں، ‏‏"ما"، "لا" وغیرہ کچھ نہیں آیا، لیکن ترجمہ نفی والا ہے۔‏ معنی یہ ہے: "لو جئتني"، اگر تو میرے پاس آیا ہوتا... یعنی آپ آئے نہیں میرے پاس، آئے ہوتے تو میں نے آپ کا اکرام ‏کیا ہوتا، لیکن آپ آئے نہیں تو میں نے اکرام بھی نہیں کیا۔ بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ“، اگر میرا رب چاہتا تو میں کیا ہوتا؟ قیس بن خالد ہوتا، ‏لیکن میرے رب نے چاہا نہیں تو میں بھی قیس بن خالد نہیں، اس کی طرح مالدار اور اولاد والا نہیں۔ اور اگر میرا رب ‏چاہتا تو میں عمرو بن مرثد ہوتا، لیکن میرے رب نے چاہا نہیں تو میں بھی عمرو بن مرثد نہیں۔ تو یہ عرب کے میں نے بتلایا، دو بڑے سردار تھے، بڑے مالدار تھے اور خوب عزت، شہرت اور بڑے نامور تھے۔ ‏بڑے معزز تھے، ان کی اولاد بھی تھی اور اولاد بھی ان کی فرمانبردار اور بڑے بڑے سردار بھئی۔ عجیب صفات تھیں ‏عرب کی بھئی!‏ تو کہتے ہیں: عمرو بن مرثد کو یہ طرفہ کا شعر پہنچا، یہی والا، کہ اگر میرا رب یہ چاہتا تو میرے پاس مال ہوتا، پھر ‏کوئی میری برائی نہ کرتا، تو میرے خلاف... اے میرے چچا زاد بھئی! تو بھی میرے خلاف نہ ہوتا۔ تو عمرو بن مرثد کو ‏یہ شعر پہنچا طرفہ کا، تو اس نے طرفہ کو بلوايا بھئی! طرفہ اس کے پاس گیا۔ تو وہ طرفہ سے کہنے لگا کہ جہاں تک تو نے اولاد کی بات کی ہے، تو اللہ تجھے خوب اولاد نصیب فرمائے! اور جہاں ‏تک تو نے مال کی بات کی ہے، تو مال کے اندر البتہ تو ہمارے جیسا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس کے سات بیٹے تھے، سب کو بلوايا اور ان میں سے ہر ایک سے کہا کہ تم طرفہ کو 10 اونٹ دو، تو ہر بیٹے ‏نے 10، 10 اونٹ طرفہ کو دیے۔ اور اپنے تین پوتوں کو بھی بلوايا اور ان سے کہا کہ تم بھی 10، 10 اونٹ طرفہ کو دو، ‏چنانچہ 100 اونٹ طرفہ کو اس نے دے دیے بھئی! اندازہ لگاؤ، یہ سخاوت کا حال عرب کی! ایک شعر پہنچا، ایک شعر ‏میں اس نے عمرو بن مرثد کا ذکر کیا، بطورِ تعریف کے ذکر کیا کہ وہ اگرچہ کیسا اللہ نے اس کو مال دیا ہے، اولاد دی ‏ہے، عزت و شہرت دی ہے، اگر اللہ مجھے بھی اس جیسا بنانا چاہتا تو بنا دیتا، لیکن اللہ نے چاہا نہیں اور مجھے بنایا ‏نہیں۔ تو اس نے پھر بلا کر 100 اونٹ انعام میں دیے بھئی!‏ اور پھر سات بیٹوں نے دیے اور تین پوتوں نے۔ تو وہ عمرو بن مرثد کے وہ جو تین پوتے تھے، وہ بعد میں اس پر بڑا ‏فخر کیا کرتے تھے، جنہوں نے اونٹ دیے تھے، بڑا فخر کرتے تھے، اپنے... عمرو بن مرثد کے باقی پوتوں کے مقابلے ‏میں فخر کرتے اور کہتے کہ تمہیں پتا ہے؟ ہمارے دادا نے ہمیں بھی اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے ہوئے، ہمیں... بیٹوں ‏کو جو حکم دیا تھا، وہ ہمیں بھی دیا، لیکن تم باقیوں کو وہ حکم نہیں دیا۔ معلوم ہوا انہوں نے... دادا نے ہمیں کس کی طرح ‏سمجھا؟ اپنے بیٹوں کی طرح ہی سمجھا، ان جیسا ہی رویہ ہمارے ساتھ اختیار کیا۔ تو کہتا ہے: ”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ، وَلَوْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ عَمْرَو بْنَ مَرْثَدِ“، اگر میرا رب چاہتا تو میں قیس بن خالد ‏ہوتا، اور اگر میرا رب چاہتا تو میں عمرو بن مرثد ہوتا۔ ‏”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، یہ ہے شرط۔ ”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، یہ ہے شرط، اور ”كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ“، یہ ہے جزا۔ اسی طرح اگلے ‏مصرعے میں ہے: ”وَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، یہ ہے شرط، اور ”كُنْتُ عَمْرَو بْنَ مَرْثَدِ“، یہ ہے جزا، جزا۔ ‏”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، اگر میرا رب چاہتا، ”كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ“، تو میں قیس بن خالد ہوتا۔ ”وَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، اور اگر میرا رب ‏چاہتا، ”كُنْتُ عَمْرَو بْنَ مَرْثَدِ“، تو میں عمرو بن مرثد ہوتا۔ تو یہ شرط اور جزا ہیں۔ اور یاد رکھیے! یہ ”شَاءَ“، ”شَاءَ“ فعل کا مفعول محذوف ہے، أي "فلو شاء ربي أن يجعلني مثل ‏قيس بن خالد"، ”فَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، اگر میرا رب چاہتا، کیا چاہتا؟ "أن يجعلني مثل قيس بن خالد"، کہ وہ مجھے قیس بن خالد ‏جیسا بنا دے، ”كُنْتُ قَيْسَ بْنَ خَالِدٍ“، تو میں کیا ہوتا؟ قیس بن خالد ہوتا۔ ”وَلَوْ شَاءَ رَبِّي“، اور اگر میرا رب چاہتا، "أن ‏يجعلني مثل عمرو بن مرثد"، کہ وہ مجھے عمرو بن مرثد کی مثل بنا دیتا، ”كُنْتُ عَمْرَو بْنَ مَرْثَدِ“، تو میں کس کی طرح ‏ہوتا؟ عمرو بن مرثد کی طرح ہوتا بھئی!‏ فَأَصْبَحْتُ ذَا مَالٍ كَثِيرٍ وَزَارَنِي، بَنُونَ كِرَامٌ سَادَةٌ لِمُسَوَّدِ.‏ ‏”فَأَصْبَحْتُ“: "أصبح - يصبح" افعالِ ناقصہ میں سے ہے، اس کا ایک معنی ہے صبح کے وقت میں داخل ہونا، اور کبھی ‏افعالِ ناقصہ ایک دوسرے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، تو یہاں یہ "صار" کے معنی میں ہے۔ أي "فصرت ذا مال ‏كثير"، تو میں بھی بڑے مال والا ہوتا۔ ‏”وَزَارَنِي“: "زار - يزور" کا معنی ہے زیارت کرنا، ملاقات کرنا۔ ‏”بَنُونَ“: ”بَنُونَ“، یہ جمع ہے "ابن" کی بھئی، بیٹے!‏ ‏”كِرَامٌ“: جمع ہے "کریم" کی، معزز۔‏ ‏”سَادَةٌ“: یہ جمع ہے "سید" کی، سردار بھئی، سردار۔‏ ‏”لِمُسَوَّدِ“: مسود کا معنی بھی سردار، مسود: وہ جس کو لوگوں نے اپنا سردار بنا لیا ہو، اسمِ مفعول کا صیغہ ہے، تو بمعنی ‏سردار کے ہے یہ بھی۔ تو شاعر طرفہ کہتا ہے: اگر میرا رب چاہتا تو میں قیس بن خالد ہوتا یا عمرو بن مرثد ہوتا، ”فَأَصْبَحْتُ ذَا مَالٍ كَثِيرٍ“، تو ‏میں بڑے، کثیر مال والا ہو جاتا، ”وَزَارَنِي“، اور میری زیارت کرتے، میری ملاقات کو آتے، کون آتے؟ ”بَنُونَ“، ایسے ‏بیٹے! ”كِرَامٌ“، جو معزز ہوتے، ”سَادَةٌ“، سردار ہوتے، ”لِمُسَوَّدِ“۔ ‏”سَادَةٌ لِمُسَوَّدِ“، یہ ”لِمُسَوَّدِ“ یہ متعلق ہے "سادۃ" سے، "سادۃ" سے۔‏ یعنی یہ کہتے ہیں، شارحین فرماتے ہیں: یہ ایسا ہی کلام ہے جیسے کہیں: "شریف لشریف"، شریف کے لیے شریف... ‏یعنی اردو والا شریف نہیں، اردو میں تو شریف آدمی سادہ آدمی کو کہتے ہیں، عربی میں شریف کا معنی ہے معزز، معزز۔ ‏‏"شریف لشریف"، معزز کے لیے معزز، یعنی یوں سمجھو، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی کو کہیں کریم بن کریم، ‏معزز کا بیٹا معزز، یعنی باپ بھی معزز اور بیٹا بھی... شریف بن شریف، یعنی باپ بھی معزز اور بیٹا بھی معزز۔ تو یہاں ‏پر بھی ”سَادَةٌ لِمُسَوَّدِ“، سردار کے لیے سردار، یعنی سردار بن سردار! سید بن سید! تو یعنی بیٹے بھی سردار اور وہ کس ‏کے بیٹے ہیں؟ سردار ہی کے بیٹے ہیں، دیکھا!‏ تو یہ شعر جو یہ دو شعر جو اس کو پہنچے تو اس نے پھر 100 اونٹ انعام میں دیے بھئی۔ اس کی بھی تعریف کر دی کہ ‏خود بھی سردار ہے اور بیٹے بھی کیسے ہیں سردار اور بیٹے بھی سارے کیا ہیں معزز ہیں اور سارے کے سارے سردار ‏ہیں بھئی۔ فَأَصْبَحْتُ ذَا مَالٍ كَثِيرٍ وَزَارَنِي، بَنُون كِرَامٌ سَادَةٌ لِلْمُسَوَّدِ. تو میں کثیر مال والا ہو جاتا اور یعنی اگر میرا رب مجھے ایسا کرتا ‏تو میں کثیر مال والا ہوتا اور میری زیارت کرتے ایسے بیٹے جو معزز ہوتے اور سردار ابن سردار ہوتے، معنی سمجھ ‏میں آگیا بھئی؟ أَنَا الرَّجُلُ الضَّرْبُ الَّذِي تَعْرِفُونَهُ، خَشَاشٌ كَرَأْسِ الحَيَّةِ المُتَوَقِّدِ. أَنَا الرَّجُلُ الضَّرْبُ، رجل ضرب کہتے ہیں، یہ ضرب صفت ہے ‏رجل کی۔ رجل ضرب کہتے ہیں دبلے پتلے بدن کا قد آور آدمی۔ بہترین قد ہو اور دبلا پتلا بدن ہو یعنی سوکھا ہوا نہیں، سوکھا ہوا نہیں، دبلا پتلا ہو یعنی جسم پر گوشت وغیرہ زائد نہ ہو، ‏کیونکہ جسم پر گوشت وغیرہ زائد ہوگا تو وہ انسان کے اٹھنے بیٹھنے میں سستی کا باعث بنتا ہے۔ وہ آدمی چست زیادہ ‏نہیں ہوتا جس کا جتنا جسم وزنی ہوتا ہے۔ تو جو دبلا پتلا فُرتِیلا اور قد آور آدمی ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ رجل ضرب ‏کہتے ہیں، رجل ضرب۔ خَشَاشٌ، خشاش کا معنی ہے چالاک، ہوشیار اور پختہ کار آدمی۔ توجہ ہے؟ چالاک، ہوشیار اور پختہ کار آدمی بھئی، ‏چالاک ہے، ہوشیار ہے، ذہین ہے اور کاموں کو بڑی بہترین طریقے سے سرانجام دینے والا ہے، ہر کام میں داخل ہوتا ‏ہے اور بہترین طریقے سے کرتا ہے، اس کو کہتے ہیں خشاش۔ كَرَأْسِ الحَيَّةِ، حية سانپ کو کہتے ہیں۔ رأس الحية سانپ کا سر۔ المُتَوَقِّدِ، یہ لفظ پہلے بھی گزرا ہے، توقُّد کا معنی آگ کا جلنا ‏بھی اور آگ کا جلانا بھی۔ یہ لازمی بھی ہے اور متعدی بھی ہے۔ البتہ یہاں اس کا دوسرا معنی ہوگا۔ توقد کا ایک معنی ہے فُرتِیلا ہونا، تیز ہونا۔ تو یہاں متوقد بمعنی فُرتِیلے کے ہے بھئی، ‏جو بہت تیز ہو، برق رفتار ہو بھئی، ہر کام جلدی کرنے والا ہو۔ سانپ بھی دیکھو بڑا فُرتِیلا ہوتا ہے اور کوئی اس تک ‏پہنچ نہیں سکتا تو وہ کیا ہوا؟ متوقد ہوا، تیز رفتار بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: أَنَا الرَّجُلُ الضَّرْبُ الَّذِي تَعْرِفُونَهُ، خَشَاشٌ كَرَأْسِ الحَيَّةِ المُتَوَقِّدِ. کہ میں ایسا چاق و چوبند اور فُرتِیلا قد آور ‏انسان ہوں، الَّذِي تَعْرِفُونَهُ جس کو تم لوگ جانتے ہو۔ میں ایسا ایسا چاق و چوبند اور فُرتِیلا قد آور انسان ہوں الَّذِي تَعْرِفُونَهُ ‏جس کو تم سب لوگ جانتے ہو، خَشَاشٌ اور کیسا ہوں؟ بڑا ہی چالاک اور ہوشیار اور پختہ کار آدمی ہوں، چالاک اور ذہین، ہوشیار بھی ہوں اور کاموں میں داخل ہوتا ہوں اور ان ‏کو بڑی برق رفتاری سے سرانجام دیتا ہوں۔ چالاک، ہوشیار اور پختہ کار آدمی ہوں كَرَأْسِ الحَيَّةِ جیسے کہ سانپ کا ایسا ‏سر المُتَوَقِّدِ جو بڑا فُرتِیلا ہو۔ یہ المتوقد صفت ہے رأس کی بھئی، رأس الحية، سانپ کا ایسا سر جو کیا ہو؟ فُرتِیلا ہو۔ تو ‏عرب کسی شخص کی تیز رفتاری بیان کرنا چاہتے تو سانپ کے سر کے ساتھ اس کی تشبیہ دیتے۔ بھئی جب سانپ فُرتِیلا ‏ہے، ظاہر سی بات ہے اس کا سر بھی کیا ہے؟ فُرتِیلا اور عموماً کام تو سارا سر کے ذریعے وہ لیتا ہے، کسی کو ڈسنا ‏بھی ہو تو بڑی برق رفتاری سے اس کو سر کے ذریعے ڈس لیتا ہے، کسی بل وغیرہ میں بھی داخل ہو تو برق رفتاری ‏سے وہ سر کس میں داخل کر دیتا ہے؟ بل میں، اور اندر چلا جاتا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو اس لیے فُرتِیلے آدمی کو ‏سانپ کے سر کے ساتھ تشبیہ دی جاتی۔ أَنَا الرَّجُلُ الضَّرْبُ الَّذِي تَعْرِفُونَهُ، خَشَاشٌ كَرَأْسِ الحَيَّةِ المُتَوَقِّدِ. میں ایسا چاق و چوبند اور فُرتِیلا آدمی ہوں جس کو تم لوگ ‏جانتے ہو اور چالاک اور ہوشیار اور پختہ کار آدمی ہوں جیسے کہ سانپ کا فُرتِیلا سر ہوتا ہے، تیز رفتار سر ہوتا ہے۔ فَآلَيْتُ لاَ يَنْفَكُّ كَشْحِي بِطَانَةً، لِعَذْبٍ رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ مُهَنَّدِ. آلَى يُؤْلِي إِيلاَءً کا معنی ہے قسم اٹھانا، قسم اٹھانا۔ آپ ایلاء کے بارے ‏میں پڑھ چکے ہیں، ایلاء۔ کہ کوئی خاوند اپنی بیوی کے پاس چار ماہ نہ جانے کی قسم اٹھائے تو اس کو ایلاء کہتے ہیں ‏اور اس کو اپنی یہ قسم توڑنا پڑے گی، توڑنا پڑے گی۔ اگر قسم پر وہ عمل کرے گا تو بیوی، بیوی کو طلاق ہو جائے گی، ‏بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھائے، یہ بیوی پر ظلم ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ شریعت نے اس کو آپ کے تابع ‏کر دیا، آپ کے اختیار میں دے دیا اور پھر آپ اس کو تنگ کرنے کے لیے جان کر اس کے پاس نہیں جاتے، تو نہ جانا ‏ظلم ہے اور پھر قسم اٹھاتے ہیں تو وہ بھی ظلم ہے کہ اتنا عرصہ نہیں جاؤں گا اور پھر خاص طور پر چار مہینے تک ‏کی قسم اٹھا لیتے ہیں تو یہ بڑا ظلم ہے، تو شریعت نے سزا مقرر کر دی کہ بھئی بیوی کے پاس جانا پڑے گا یا پھر طلاق ‏ہو جائے گی، تو جس نے ایلاء کیا چار مہینے کی نہ جانے کی قسم اٹھائی تو اسے دو ناپسندیدہ چیزوں میں سے ایک کا ‏اسے سامنا کرنا پڑے گا، یا قسم توڑنا پڑے گی یا عورت کے طلاق ہو جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ لاَ يَنْفَكُّ، یہ افعالِ ناقصہ میں سے ہے، مَا زَالَ، مَا بَرِحَ، مَا انْفَكَّ، پڑھا یا نہیں پڑھا آپ نے؟ تو یہ افعالِ ناقصہ میں سے ‏ہے، وہی ما کو لا سے بدل دیا اور ماضی کو مضارع سے بدل دیا۔ كَشْحِي، كَشْحٌ پہلو کو کہتے ہیں، كَشْحِي میرا پہلو۔ ‏بِطَانَةً، بطانہ کہتے ہیں استر کو، استر کو بھئی۔ ایک چیز کوئی کپڑا وغیرہ کوئی چیز بنائیں تو ایک کپڑا باہر کی طرف ‏ہو، جو اندر کی طرف کپڑا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استر کہتے ہیں، بطانہ، دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے بطن، بطن ‏اندر کی طرف ہے جو۔ لِعَذْبٍ، یہ لِعَذْبٍ بھئی، یہ تنوین ہونی چاہیے۔ عذب کہتے ہیں تیز تلوار کو، تیز تلوار کو۔ رَقِيق، رقیق کہتے ہیں باریک ‏بھئی، باریک۔ شَفْرَتَيْنِ، شفرة کہتے ہیں دھار کو، تلوار کی جو دھار ہے جس کے ذریعے چیز کو وہ کاٹتی ہے، تو وہ ‏دھار کو شفرة کہتے ہیں، تو یہ تثنیہ ہے۔ رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ، جس کی دونوں دھاریں باریک ہوں، بھئی عام تلواریں جو ہوتی ‏ہیں ان میں ایک طرف دھار ہوتی ہے، دوسری طرف کا لوہا موٹا ہوتا ہے بھئی، لیکن بعض تلواریں ایسی ہوتی ہیں جس ‏میں دونوں طرف دھار بنی ہوئی ہوتی ہے بھئی، وہ ہے رقيق الشفرتين، جس کی دونوں دھاریں کیا ہیں؟ باریک ہیں، ‏کاٹنے والی ہیں۔ مُهَنَّد، وہی بھئی ہندی تلوار، تیز تلوار، اعلیٰ درجے کی تلوار۔ فَآلَيْتُ لاَ يَنْفَكُّ كَشْحِي بِطَانَةً، لِعَذْبٍ رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ مُهَنَّدِ. پس میں نے قسم اٹھا لی، لاَ يَنْفَكُّ، ای ما زال، کس معنی میں ہے؟ کہ ‏جدا نہیں ہو گا، یعنی ہمیشہ رہے گا، كَشْحِي میرا پہلو، یہ اس کا اسم ہے، بِطَانَةً یہ اس کی خبر ہے، افعالِ ناقصہ ایک اسم ‏چاہتے ہیں اور ایک خبر چاہتے ہیں نا؟ تو لا ینفک فعلِ ناقص، كَشْحِي اس کا اسم اور بِطَانَةً اس کی خبر، تو میرا پہلو ‏ہمیشہ جو ہے، ما زال کشحی بطانة، میرا پہلو ہمیشہ استر بنا رہے گا۔ توجہ ہے؟ میرا جو پہلو ہے، وہ کیا بنے گا؟ وہ پہلو استر بنے گا، پہلو استر رہے گا، کس چیز کے لیے استر رہے گا؟ ‏لِعَذْبٍ رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ مُهَنَّدِ، ایسی تیز ہندی تلوار، رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ جس کی دونوں دھاریں بڑی باریک ہوں۔ ایسی عمدہ اعلیٰ ‏لوہے کی بنی ہوئی ہندی تلوار جس کے لیے دونوں دھاریں بڑی باریک ہوں، ان کے لیے میرا پہلو ہمیشہ استر بنا رہے گا، ‏میں نے یہ قسم اٹھا لی ہے، یعنی میں ہمیشہ اپنے ساتھ تلوار رکھوں گا، معنی یہ ہے۔ پہلو تلوار کے لیے استر بنے گا، یعنی ہمیشہ اس پہلو پر کیا رہے گی؟ تلوار رہے گی، جب تلوار باہر کی طرف ہے تو ‏پہلو اندر کی طرف، اس کے لیے بطانہ کی طرح ہوا، معنی سمجھ میں آگیا؟ فَآلَيْتُ لاَ يَنْفَكُّ كَشْحِي بِطَانَةً، لِعَذْبٍ رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ مُهَنَّدِ. پس میں نے قسم اٹھا لی ہے کہ ہمیشہ میرا پہلو جو ہے وہ بطانہ یعنی ‏استر ہوگا لِعَذْبٍ ایسی تیز تلوار کے لیے، رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ جس کی دونوں دھاریں بڑی باریک ہوں، مُهَنَّدِ اور وہ ہندی تلوار ‏ہو، یعنی اعلیٰ لوہے کی بنی ہوئی تلوار ہو۔ یاد رکھیے عذبٍ ہے موصوف اور رقیق الشفرتین صفتِ اول اور مہند صفتِ ثانی۔ آپ کے ذہن میں آئے گا رقیق الشفرتین ‏تو مضاف مضاف الیہ ہیں؟ بھئی یہ اضافتِ لفظی ہے، رقیق صفتِ مشبہ ہے، باریک ہے، کیا چیز باریک ہے؟ وہ دو ‏دھاریں، تو وہ فاعل کے درجے میں ہے، تو صفتِ مشبہ کی اضافت اپنے معمول یعنی فاعل کی طرف ہو رہی ہے اور ‏صفتِ مشبہ کی اضافت اپنے معمول کی طرف ہو تو یہ اضافتِ لفظی کہلاتی ہے۔ اس میں فاعل، اسم مفعول اور صفتِ ‏مشبہ، ان کی اضافت جب اپنے معمول کی طرف ہو تو اس کو اضافتِ لفظی کہتے ہیں اور اضافتِ لفظی کا معنی یہ کہ ‏صرف لفظوں میں اس اضافت نے فائدہ دیا، مضاف سے تنوین گر گئی یا نونِ تثنیہ، نونِ جمع گرے گا، بس، باقی نہ اس ‏کے اندر تعریف آئے گی، نہ اس کے اندر تخصیص آئے گی، تو رقیق جیسے اضافت سے پہلے نکرہ تھا، ابھی کیا ہے؟ ‏نکرہ، تو یہ نکرہ کی صفت بنے۔ آگے دیکھیے: حُسَامٍ إِذَا مَا قُمْتُ مُنْتَصِراً بِهِ، كَفَى العَوْدَ مِنْهُ البَدْءُ لَيْسَ بِمِعْضَدِ. حسام، تیز تلوار۔ إذا ما قمت، قام يقوم کھڑے ‏ہونا۔ منتصرا به، انتصر ينتصر انتصار کے معنی ہیں بدلہ لینا، بدلہ لینا، تو منتصر بدلہ لینے والا، اسم فاعل ہے۔ كَفَى ‏العَوْدَ، كفى معنی کافی ہونا، کافی ہونا، كفى يكفي۔ العَوْدَ، عاد يعود عوداً کا معنی ہے لوٹنا، لوٹنا، پلٹنا۔ البَدْءُ، بدأ يبدأ بدءاً کا ‏معنی ہے آغاز کرنا، شروع کرنا۔ مِعْضَد، معضد کا معنی انہوں نے درانتی کے لکھا ہے، وہ وہ چیز جس کے ذریعے ‏پودوں وغیرہ کو کاٹا جاتا ہے بھئی، کسان کیا کرتے ہیں؟ فصل کو وہ کاٹتے ہیں، وہ ہے درانتی۔ شاعر کہتا ہے: حُسَامٍ، وہ تلوار کیسی ہو؟ یہ بھی اسی عذب کی صفت ہے، تیز تلوار ہو، إِذَا مَا قُمْتُ مُنْتَصِراً بِهِ، جب میں ‏کھڑا ہوں منتصرا به اس حال میں کہ میں اس کے ذریعے کیا کروں؟ بدلہ لوں، بدلہ لوں یعنی اپنے دشمن سے مقابلہ کروں، ‏بدلہ لوں، كَفَى العَوْدَ مِنْهُ البَدْءُ، یہ البدء فاعل ہے كفى کا، تو کافی ہو جائے البدء آغاز۔ آغاز یعنی شروع کرنا کافی ہو جائے، ‏کس چیز سے؟ العود، کس سے؟ واپس ہونے سے۔ یعنی پہلی ضرب سے ہی دشمن کا کام تمام ہو جائے، دوسری ضرب کی ضرورت ہی نہ پڑے، ایسی تیز تلوار ہو۔ یہ معنی ‏ہے: كَفَى العَوْدَ مِنْهُ البَدْءُ، کہ کافی ہو جائے آغاز ہی، آغاز ہی کافی یعنی پہلی ضرب ہی کافی ہو جائے العود منه اس کو ‏دوبارہ اس کے دوبارہ لوٹنے سے، یعنی اس کو دوسرا وار نہ کرنا پڑے، لَيْسَ بِمِعْضَدِ اور وہ تلوار درانتی نہ ہو۔ پہلی صفت ذکر کر دی: حُسَامٍ، وہ تلوار بڑی تیز ہو، لَيْسَ بِمِعْضَدِ اور درانتی کی طرح نہ ہو، کیونکہ درانتی، انہوں نے ‏درانتی لکھا ہے لیکن یہاں علامہ زوزنی نے اس کا ترجمہ کیا: سَيْفٌ يُقْطَعُ بِهِ الشَّجَرُ، وہ تلوار جس سے درختوں کو کاٹا ‏جائے۔ درختوں کو، تو میرے خیال میں یہ معضد عام شروع عام لغت میں درانتی لکھا ہے، لیکن یہ درانتی نہیں ہوگی، ہوگی تلوار ‏جیسی کوئی چیز جس سے درختوں، جھاڑیوں وغیرہ کو کاٹا جاتا ہو، ردی سی تلوار۔ آپ نے مالی کے پاس بھی یہاں دیکھا ‏ہوگا، وہ تلوار سی ہوتی ہے چھوٹی سی، اس کے ذریعے بعض اوقات وہ گھاس وغیرہ کو کاٹتا ہے اور وہ سب سے ردی ‏تلوار ہوتی ہے، تو غالباً وہ مراد ہوگی، درانتی مراد نہیں کیونکہ درانتی کی تو تلوار کے ساتھ مشابہت ہے ہی نہیں بھئی، ‏بات سمجھ میں آگئی؟ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ حُسَامٍ وہ اعلیٰ درجے کی تلوار ہو، لَيْسَ بِمِعْضَدِ جملہ ہے نا، اور جملہ ‏بھی کیا ہوتا ہے؟ نکرہ کی صفت، وہ اعلیٰ درجے کی تیز تلوار ہو کہ جس کے ایک ہی وار کافی ہو جائے، دوسرے وار ‏کی ضرورت ہی نہ پڑے، لَيْسَ بِمِعْضَدِ اور وہ سب سے ردی درجے کی درخت کاٹنے والی تلوار نہ ہو، اعلیٰ درجے کی ‏تلوار ہو، معنی سمجھ میں آگیا؟ حُسَامٍ إِذَا مَا قُمْتُ مُنْتَصِراً بِهِ، كَفَى العَوْدَ مِنْهُ البَدْءُ لَيْسَ بِمِعْضَدِ. کہ وہ ایسی تیز تلوار ہو کہ جب میں کھڑا ہوں اس کے ذریعے ‏بدلہ لینے کے لیے، فكفى العود منه تو دوسرا وار جو ہے اس سے کفایت کر جائے البدء پہلا وار ہی یعنی آغاز ہی، ليس ‏بمعضد اور وہ تلوار درخت کاٹنے والی تلوار کی طرح ردی تلوار نہ ہو بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا ‏هو المراد والله اعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 59 of 62