Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 125
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے دیکھیے بھئی۔ کأن البورين والدماليج علقت ، علی عشر او خروع لم يخضد ، كريم يروی نفسه فی حياته ، ستعلم ان متنا غدا اينا الصدی ، ارى ‏قبر حام بخيل بماله ، كقبر غوی فی البطالة مفسد۔ طرفۃ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے بھئی۔ گزشتہ سبق میں اس نے وہ تین خصلتیں ذکر کیں، جو نوجوان کی زندگی میں لذت پیدا کرنے والی ہیں۔ آگے کہتا ہے: کأن ‏البورين والدماليج علقت ، علی عشر او خروع لم يخضد۔ بورین۔ بھئی برا يبرو بروا کے معنی ہیں ناک میں کڑا ڈالنا۔ برا يبرو بروا۔ اس کا معنی ہے ناک میں کڑا ڈالنا۔ کڑا یعنی لوہے کا ‏حلقہ، لوہے کا چھلا۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ جو بیل وغیرہ ہیں، ان کی ناک میں رسی ڈالی جاتی ہے قابو کرنے کے لیے اور ‏بعض اوقات ناک کے اندر وہ لوہے کا کڑا اور چھلا ڈال دیتے ہیں بھئی، اور اس کے ساتھ پھر رسی کو باندھ دیتے ہیں۔ ‏اسی طرح اونٹ اور اونٹنی جو ہیں، ان کی ناک میں مہار ڈالی جاتی ہے، اور بعض اوقات اس مہار کے اگلے سرے پر وہ ‏ان کی ناک میں لوہے کا یا تانبائے وغیرہ کا کڑا ڈالا جاتا ہے، چھلا ڈالا جاتا ہے۔ تو یہ جو ناک میں کڑا ڈالنا ہے، اس کو ‏کہتے ہیں عربی میں برا يبرو بروا۔ اور چونکہ ناک جو ہے، یہ بڑا نازک مقام ہوتا ہے، اس لیے وہ حیوان دیکھو بیل وغیرہ یا اونٹ کتنے طاقتور ہیں، لیکن ‏پھر وہ زیادہ زور نہیں لگاتے، کیونکہ تکلیف، وہ جب کھینچیں گے اس رسی کو، تو اس میں تکلیف ہوتی ہے، تو وہ آرام ‏سے قابو میں آ جاتا ہے۔ تو برا يبرو بروا کا معنی ہے ناک میں کڑا ڈالنا۔ اور برۃ، با، را اور گول تا۔ با، را اور گول تا، برۃ۔ برۃ وہ ناک کے کڑے ‏کو کہتے ہیں بھئی، وہ ناک کا جو چھلا ہے لوہے یا پیتل وغیرہ یا تانبے کا۔ اور اس برۃ کی جمع برات، جمع مؤنث سالم ‏برات آتی ہے۔ اور اسی طرح اس کی جمع برن بھی آتی ہے، اور اسی طرح اس کی جمع مذکر سالم، جمع مذکر سالم بورون، ‏واؤ نون کے ساتھ بھی آتی ہے۔ بورون، اور وہی بورون حالت نصبی جری میں کیسے پڑھیں گے؟ بورین، بورین۔ دیکھیے ‏شعر کے اندر کیا ہے؟ بورین، یہ اس کی جمع مذکر سالم ہے، حالت نصبی میں ہے کیونکہ کأن کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو ‏نصب دیتا ہے۔ اور بورین سے یہاں مراد جو ہیں، وہ بعضوں نے لکھا کہ صرف پازیب مراد ہے۔ پازیب۔ پازیب وہ زیور جو عورت زیب ‏و زینت کے لیے پاؤں میں پہنتی ہے بھئی، پندلی کے نچلے کنارے پر۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اس کو پازیب کہتے ہیں۔ ‏اور بعض شارحین نے پازیب کے ساتھ ساتھ اس میں کنگن بھی شامل کیے ہیں۔ کہ بورین سے کیا مراد ہے؟ پازیب بھی ‏مراد ہے جو پاؤں میں پہنی جاتی ہے اور کنگن بھی مراد ہیں جو ہاتھ میں، کلائی میں عورت پہنتی ہے زیب و زینت کے ‏لیے۔ والدماليج۔ دماليج جمع ہے دملج اور دملوج کی۔ دملج یا دملوج، دونوں طرح بولا جاتا ہے، واؤ کے ساتھ بھی اور بغیر واؤ ‏کے بھی۔ اور یہ بازو بند کو کہتے ہیں۔ بازو بند بھئی۔ یہ بھی زیور ہے۔ بازو بند۔ اور یہ عموماً جو ہے، یہ بازو پر پہنتی ‏ہیں عورتیں زیب و زینت کے لیے بھئی۔ یہ جو کندھے سے لے کر کہنی تک حصہ ہے، یہ ہے عضد بھئی، بازو۔ اس ‏کے اوپر وہ پہنتی ہیں زیب و زینت کے لیے بھئی، اور یہ عموماً چووڑا ہوتا ہے، کافی چووڑا بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ‏ہے؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دملوج بھی کہتے ہیں اور دملج بھی کہتے ہیں۔ علقت۔ علق يعلق تعليق کا معنی ہے کسی چیز کو لٹکانا، کسی چیز کو دوسری چیز کے ساتھ لٹکانا، جوڑنا۔ علی عشر۔ عشر، بھئی عشر یہ ایک پودے کا نام ہے اور یہ دیہات وغیرہ میں، برصغیر میں عام ہوتا ہے، خصوصاً جو ‏ذرا ریگستانی علاقہ ہو، وہاں پر زیادہ ہوتے ہیں۔ اردو میں اس کو مدار کہتے ہیں، مدار، عشر کو۔ مدار بھی کہتے ہیں اور ‏بعض علاقوں میں اس کو آک کہتے ہیں۔ الف مد آ اور کاف، آک، چھوٹا کاف، آک۔ یا بعض آکھ، آکھ کہتے ہیں، آکھ۔ بات ‏سمجھ میں آرہی ہے؟ اور یہ آپ نے بھی دیکھا ہو گا بھئی۔ چھوٹا پودا ہوتا ہے، کوئی ایک ڈیڑھ گز تک اونچا ہوتا ہے بھئی، ڈیڑھ گز تک۔ اور ‏اس کے چوڑے چوڑے پتے ہوتے ہیں، یہ آپ اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے انگلیاں بند کر کے پھیلائیں، سیدھی کریں، یہ ‏اتنے پتے ہوتے ہیں اس کے تقریباً، اور اسی طرح گول سے ہوتے ہیں، یعنی ہاتھ کی انگلیاں اور ہتھیلی جتنے ملا کر، ‏اتنے اتنے پتے ہوتے ہیں، اور سفید رنگ کے پھول ہوتے ہیں اس کے، کچھ جامنی رنگ بھی ان میں ہوتا ہے تھوڑا سا ‏اوپر کنارے پر، اور اس کے پتے توڑیں، تو اس میں سے سفید دودھ سا نکلتا ہے بھئی۔ جی سر۔ اب ذہن میں آگیا؟ دودھ سا ‏نکلتا ہے، اور اس پر ان کا جو پھل سا لگتا ہے، وہ گول سبز سا ہوتا ہے جس کے اندر روئی سی ہوتی ہے بھئی۔ خالی ‏ہوتا ہے اور روئی سی تھوڑی سی اس کے اندر ہوتی ہے، چھوٹے، تو وہ سبز سا اس کے اوپر اس کا پھل سا لگتا ہے۔ تو یہ دیہات وغیرہ میں عام ہوتا ہے بھئی۔ اور اردو میں میں نے بتلایا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدار بھی کہتے ہیں اور آک ‏یا آکھ بھی کہتے ہیں بھئی، آکھ۔ اور پشتو میں غالباً اس کو سپلمے کہتے ہیں بھئی، سپلمے، اور یہ تو بعض علاقوں میں، ‏اور بعض علاقوں میں اس کو، مطلب ہماری پشتو میں اس کو سلمکہ کہتے ہیں، سلمکہ۔ تو بعض پشتو علاقے کے اعتبار ‏سے فرق ہے، تو سپلمے کہتے ہیں اور بعض۔ اچھا۔ تو یہ عشر، تو یہ نرم و نازک پودا ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ چھوٹا سا پودا ہے، اس کی شاخیں یقیناً سخت نہیں ہوتیں، ‏نرم ہوتی ہیں، آرام سے ٹوٹ جاتی ہیں اور توڑا جائے تو اس میں سے دودھ کی طرح سفید مادہ نکلتا ہے۔ اس کو عربی ‏میں کہتے ہیں عشر، عشر۔ او خروع۔ خروع، خروع جو ہے، یہ بھی ایک عام دیہات میں اگنے والا پودا ہے اور اس کو اردو میں ارنڈ کہتے ہیں، ‏ارنڈ، جبکہ یا بعض کہتے ہیں ارینڈ بھئی، را کے اوپر فتحہ بعض پڑھتے ہیں، بعض کسرہ بھئی، ارنڈ، الف را نون ڈال، ‏ارنڈ یا ارینڈ۔ جبکہ بعض علاقوں میں اس کو ہرنولی کہتے ہیں بھئی، ہرنولی۔ اور اس کے جو پتے ہوتے ہیں، اس کے ‏پتے، میں نے بتایا عشر کے پتے کس طرح کے ہیں؟ آپ انگلیوں کو سیدھا کریں اور ملا کر رکھیں۔ تو یہ دیکھو، یہ اتنے ‏چوڑے چوڑے پورے ہاتھ جتنے اس کے تقریباً پتے ہوتے ہیں۔ اور یہ جو خروع ہے نا، اس میں بھی اسی طرح ہتھیلی کو ‏سامنے رکھیں ذرا، انگلیوں کو سیدھا کریں اور انگلیوں کو آپس میں کھول لیں، دور دور کر دیں۔ تو یہ جو، اس کے پتے ‏اس طرح، درمیان میں ایک مرکزی حصہ ہوتا ہے پتے کا، اور اس سے پھر آگے پانچ پتوں کے نوکیں وغیرہ، پانچ نہیں ‏بلکہ اٹھ نو نوکیں نکلتی ہیں اس پتے سے۔ سمجھ میں آیا؟ اور اس کا جو پھل ہوتا ہے، وہ گول گول سے پھل ہوتے ہیں، ‏کھائے تو نہیں جاتے، وہ ان کے اوپر کانٹوں کی طرح نوک دار چیزیں ہوتی ہیں بھئی۔ یعنی وہ پھل گول ہے اور اس کے ‏اوپر کانٹے سے بھرے ہوئے ہیں ہر طرف بھئی، لیکن وہ کانٹے نرم سے ہوتے ہیں بھئی، بڑے نرم سے، چبھنے والے ‏نہیں بھئی، تکلیف دینے والے نہیں۔ اردو میں اس کو ارنڈ یا ارینڈ کہتے ہیں بھئی۔ اور عربی میں خروع۔ اور پشتو میں اس کو رنڈہ کہتے ہیں، رنڈہ۔ پتہ نہیں ‏اب آپ کے علاقے میں کیا کہتے ہوں گے۔ اور اس کا پودا کوئی دو تین گز تک اونچا ہوتا ہے، ہوتا چھوٹا ہی ہے، لیکن یہ ‏تھوڑا سا اونچا ہوتا ہے، اس کی بنسبت جو عشر ہے، اس کی بنسبت یہ دو تین گز تک کم از کم اونچا ہوتا ہے بھئی۔ ذہن ‏میں صورت آگئی؟ عام دیہات میں اگتا ہے بھئی۔ اور اس کے جو بیج ہیں، بیج اس کے، یہ چھوٹی انگلی کے سر کے برابر یا اس سے بھی تھوڑے سے چھوٹے ہوتے ہیں ‏اور اس پر بڑے خوبصورت نقش و نگار سے بنے ہوتے ہیں بھئی۔ اس کے یہ بیج وغیرہ، دوائیوں میں بھی عام استعمال ‏کرتے ہیں، دیہات والے بھی استعمال کرتے ہیں بھئی، درد وغیرہ کے لیے یا ان چیزوں کے لیے، ان کے پتوں اور بیجوں ‏کو استعمال کرتے ہیں۔ ذہن میں صورت آگئی، پہچان لیے پودے؟ اچھا، تو یہ ہے خروع بھئی۔ لم يخضد۔ خضد يخضد تخضيد کا معنی ہے کاٹنا، کاٹنا، لیکن یہاں یہ موڑنے کے معنی میں ہے، اس کا دوسرا معنی ہے ‏موڑنا، کسی چیز کو موڑنا، بل دینا۔ خضد يخضد تخضيدا۔ تو شاعر کہتا ہے: کأن البورين والدماليج علقت ، علی عشر او خروع لم يخضد۔ گویا کہ البورين، یعنی پازیب اور کنگن جو ہیں، والدماليج، اور بازو بند جو ہیں، علقت، لٹکا دیے گئے ہوں، علی عشر او ‏خروع، ایسے آک کے یا مدار کے درخت پر، او خروع، یا ایسے ارنڈ یا ہرنولی کے پودے پر، لم يخضد، جس کو موڑا ‏نہیں گیا۔ جس کو موڑا نہیں گیا۔ شاعر بیان کر رہا تھا پیچھے کہ: وتقتصر يوم الدجن والدجن معجب ، ببهكنة، بہکنہ کا معنی میں نے آپ کو بتلایا تھا، حسین ‏و جمیل، خوبصورت، موٹی عورت جو ہے، اس کو کہا جاتا ہے، اور ببهكنة، یہ بہکنہ کیا ہے؟ نکرہ، اور کأن البورين، یہ ‏پورا جملہ جو ہے، یہ اس کی صفت ہے۔ ایسی نرم و نازک حسینہ، کأن البورين، گویا کہ کنگن اور پازیب جو ہیں، ‏والدماليج، اور بازو بند جو ہیں، علقت علی عشر او خروع، کہ ان کو لٹکا دیا گیا ہو ایسے آک یا ایسے ارنڈ کے درخت پر، ‏لم يخضد، جس کو بل نہ دیا گیا ہو، جس کو موڑا نہ گیا ہو۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے، وہ ایسی نرم و نازک حسینہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو کنگن وغیرہ ‏اور بازو بند ہیں، اور اسی طرح اس کے پاؤں میں جو پازیب ہیں، وہ اس طرح معلوم ہوتے ہیں جیسے ان زیورات کو ارنڈ ‏یا آک یا ارنڈ کے پودے پر لٹکا دیا گیا ہو، ایسا آک یا ارنڈ جس کی شاخوں کو بل نہ دیا گیا ہو، موڑا نہ گیا ہو۔ تو یہ تشبیہ دے رہا ہے ان پودوں کی شاخوں کے ساتھ اس حسینہ کی کلائیوں کو، بازو کو اور پاؤں کو بھئی۔ جیسے یہ ‏پودے چھوٹے سے ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں بڑی نرم و نازک ہوتی ہیں، ذرا سا ہی آپ بل وغیرہ دیں گے، موڑیں گے، ‏تو یہ ٹوٹ جائیں گی آرام سے، تو ان کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے کہ اس حسینہ کے ہاتھ اور پاؤں میں وہ زیور اسی طرح ‏معلوم ہوتے ہیں جیسے ان درختوں کی شاخوں پر کسی نے وہ زیور لٹکا دیے ہوں، اور وہ شاخیں بھی، وہ پودے بھی ‏ایسے ہوں جن کو بل نہ دیا گیا ہو، موڑا نہ گیا ہو۔ اس لیے کیونکہ یہ نرم پودے ہیں، آپ جب شاخ اس کی توڑنا چاہیں گے ‏تو ظاہر سی بات ہے شاخ کو توڑنے کے لیے پہلے آپ اس کو موڑتے ہیں، اس کو کچھ بل دیتے ہیں تاکہ آرام سے وہ ‏ٹوٹ جائے، اور جب آپ اس کو موڑیں گے اور بل دیں گے تو اس کی موٹائی کم ہو جائے گی بھئی، جس جگہ سے مڑے ‏گی اور بل دیں گے تو ظاہر سی بات ہے موٹائی کیا ہو جائے گی؟ کچھ کم ہو جائے گی، تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ اس ‏درخت کی، ان پودوں کی شاخوں میں زیور لٹکائے گئے ہوں، لیکن ان کی شاخیں ایسی نہ ہوں جن کو بل دیا گیا ہو، یعنی ‏کمزور، پتلی نہ ہوں، موٹی ہوں بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں وہ حسین و جمیل جو ہے، وہ عورت ایسی ہو کہ کأن البورين والدماليج علقت ، علی عشر او خروع لم يخضد، ‏کہ گویا کہ پازیب اور کنگن جو ہیں والدماليج اور بازو بند جو ہیں ان کو لٹکا دیا گیا ہو ایسے آک یا ایسے ارنڈ کے پودے ‏پر لم يخضد جن کو بل نہیں دیا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بل دینے سے وہ شاخ کیا ہو گی؟ جہاں سے بل دیں گے، موڑیں گے تو ظاہر سی بات ہے وہ اس میں ‏بل آئے گا تو وہ کچھ، اس کی موٹائی کم ہو جائے گی بھئی۔ صورت ذہن میں آگئی اچھی طرح؟ كريم يروی نفسه فی حياته ، ستعلم ان متنا غدا اينا الصدی۔ کریم، کریم کہتے ہیں سخی آدمی، معزز آدمی بھئی، دونوں ترجمے اس کے کر سکتے ہیں آپ، سخی بھی کر سکتے ہیں ‏اور معزز بھی۔ یروی، اروی يروی اور روى يروی دونوں کا معنی ہے سیراب کرنا، پانی پلانا۔ ان متنا، مات يموت کا معنی ہے مرنا، مرنا۔ غدا، کل، آنے والا کل۔ صدی، صدى يصدى کا معنی ہے سخت پیاس لگنا۔ صاد کے ساتھ، صدى يصدى کا معنی ہے سخت پیاس لگنا، اور صدی ‏سخت پیاسا، اسی سے صفت مشبہ ہے صدی۔ فعِل وزن ہے، فعِل بھئی، صفت مشبہ ہے، سخت پیاسا۔ شاعر کہتا ہے: كريم يروی نفسه فی حياته ، ستعلم ان متنا غدا اينا الصدی۔ کریم، ای انا کریم، انا مبتدا محذوف ہے اور کریم اس کی خبر، اور کریم نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد یروی فعل آیا تو وہ ‏اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ نکرہ میں پھر کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے 'ایسا' ‏یا 'ایک' کا لفظ لے آتے ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے کہ میں ایسا معزز آدمی ہوں، میں ایسا سخی آدمی ہوں، یروی نفسہ، جو اپنی ‏ذات کو، اپنے آپ کو سیراب کرتا ہے، فی حیاتہ، اپنی زندگی میں ہی۔ اے ملامت کرنے والے، تو مجھے شراب سے روکتا ہے، حالانکہ میں تو وہ سخی ادمی ہوں جو شراب پلا کر اپنے اپ کو ‏کیا کرتا ہوں؟ سیراب کرتا ہوں۔ کہتا ہے "کريم يروي نفسه في حياته" کہ میں ایسا سخی ادمی ہوں جو اپنی زندگی میں ہی ‏اپنے اپ کو سیراب کرتا ہے، یعنی خوب شراب پیتا ہے۔ "ستعلم ان قريب" تو جان لے گا "ان متنا" اگر ہم مر گئے "غدا" ‏کل، کل یعنی انے والے زمانے میں اگر ہم جب مر جائیں گے تو تو پھر جان لے گا "اينا الصدي" کہ ہم میں سے ہم میں ‏سے کون شدید پیاسا ہے۔ میں تو اپنے اپ کو سیراب کرتا ہوں زندگی میں ہی شراب سے، جب مریں گے پھر تمہیں پتہ ‏چلے گا میں تو اپنے اپ کو سیراب کر چکا ہوں، میں تو سیراب ہی مروں گا اور تو کیسا مرے گا اے ملامت کرنے والے ‏تو؟ پیاسا مرے گا۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ ‏"کريم يروي نفسه في حياته ستعلم ان متنا غدا اينا الصدي" میں ایسا معزز ادمی ہوں جو اپنی ذات کو سیراب کرتا ہے اپنی ‏زندگی میں ہی، عنقریب تو جان لے گا اگر کل ہم مر جائیں کہ تو ہم میں سے کون شدید پیاسا ہے۔ ‏"ارا قبر نحام بخيل بماله كقبر غوي في البطالة مفسد"‏ نحام، نحام کا معنی ہے بخیل بھئی، بخیل بھئی۔ جو مال کو جمع کرتا ہے۔ جس کو لالچی بھئی، مال کو جمع کرتا ہے کسی ‏کو دیتا نہیں ہے، لالچی اور بخیل ہے۔ بخیل، بخیل کا معنی وہی کنجوس بھئی، بخیل۔ "کقبر غوی"، غوی کہتے ہیں گمراہ ‏بھئی، گمراہ، گمراہ۔ "فی البطالة"، بطالة کہتے ہیں بیکار ہونا، بیکار ہونا، بغیر مشغلے کے ہونا۔ یعنی جسے کوئی کام ‏وغیرہ نہ ہو، کام وغیرہ نہ ہو، بیکار ہو۔ مفسد، "افسد يفسد"، بھئی "افسد يفسد" کا معنی بگڑنا بھی اور "افسد يفسد" کا معنی ‏بگاڑنا بھی۔ یہ لازمی بھی ہے اور متعدی بھی۔ تو رجل مفسد، بگڑا ہوا ادمی، یا رجل مفسد وہ شخص جو بگاڑنے والا ہے، ‏یعنی اپنے مال کو، اپنے مال کو۔ تو لازمی ترجمہ بھی اپ کر سکتے ہیں اور متعدی بھی کر سکتے ہیں۔ میں نے بتایا مفسد کا ایک معنی کیا ہے؟ بگڑنا اور ایک معنی ہے بگاڑنا، یعنی ایک صورت میں یہ لازمی ہے اور ایک ‏صورت میں متعدی۔ جب متعدی ہو تو پھر اس کا مفعول یہاں "ما له" محذوف ہے۔ "فی البطالة مفسد ما له" اپنا مال بگاڑنے ‏والا، اپنا مال بگاڑنے، تو اس کا "ما له" اس کا مفعول محذوف نکال لیں گے بھئی۔ اور یاد رکھیں یہ "فی البطالة" یہ مفسد ‏سے متعلق ہے۔ مفسد، وہ شخص جو اپنا مال بگاڑتا ہے یعنی اس کو برباد کرتا ہے "فی البطالة" کس میں؟ بیکاری کے ‏اندر، اور کام وغیرہ بھی نہیں کرتا اور اس کے اندر کیا کرتا ہے؟ اپنے مال کو بگاڑتا ہے یعنی اجاڑتا ہے، خرچ کرتا ہے ‏بھئی۔ ‏"ارا قبر نحام بخيل بماله" شاعر کہتا ہے میں دیکھتا ہوں کہ وہ شخص جو لالچی ہے، بخیل ہے اپنے مال کے ساتھ، یعنی ‏مال میں بخل کرنے والا ہے، میں دیکھتا ہوں کہ اس کی قبر جو ہے "کقبر غوی" گمراہ ادمی کی قبر کی طرح ہے۔ وہ ‏شخص جو لالچی ہے اور بخیل ہے، اپنا مال کسی کو دیتا نہیں، روکتا ہے، جمع کرتا ہے، اس کی قبر بھی اسی شخص کی ‏قبر کی طرح ہے جو گمراہ ہے، مفسد ہے۔ گمراہ ہے اور مفسد ہے، کس میں؟ بیکاری کے اندر۔ گمراہ ہے یعنی عشق و محبت میں پڑا ہوا ہے یا اور اس طرح کے کام کرتا ہے جسے دوسرے لوگ روکتے ہیں۔ یا یوں ‏کہیں جو شراب پینے والا ہے جس کو لوگ کیا کرتے ہیں؟ ملامت کرتے ہیں، تو وہ گمراہ، وہ جو شراب وغیرہ پہ شراب ‏وغیرہ پینے والا ہے اس میں اپنی زندگی گزارتا ہے، لذتوں کے اندر اپنی زندگی گزارتا ہے تو غوی سے وہ مراد ہے۔ اور ‏وہ ادمی مفسد فی البطالة جو کیا کرنے والا ہے؟ اپنے مال کو اجاڑنے والا ہے، بگاڑنے والا ہے، کس چیز کے اندر؟ ‏بیکاری میں۔ کہتے ہیں شاعر کہتا ہے دونوں قبریں ایک جیسی ہیں۔ ایک وہ شخص جو بخل کرتا ہے، زندگی میں اپنا مال بچا بچا کے ‏رکھتا ہے، جمع کرتا ہے، کسی کو دیتا نہیں ہے، لالچی ہے، بخیل ہے، حریص ہے، اس کی قبر، اور ایک وہ ادمی جو ‏اپنے مال کو کیا کرتا ہے؟ خرچ کرتا ہے، مہمانوں پہ خرچ کرتا ہے، لوگوں کو کھلاتا پلاتا ہے، غریبوں کی مدد کرتا ہے ‏اور نیز وہ شخص ایسا ہے جو کس میں؟ لذتوں کے اندر زندگی گزارنے والا ہے، میں دیکھتا ہوں مرنے کے بعد دونوں ‏کی قبریں ایک جیسی ہیں۔ دونوں کی قبریں، جس نے مال کو جمع کیا تھا اس کی بھی قبر اسی طرح کی ہے، جس جو ‏شخص گمراہ تھا جسے سارے گمراہ کہتے تھے، جو اپنے مال کو اجاڑتا تھا، خرچ کرتا تھا، اس کی قبر بھی ایسے ہی ‏ہے۔ جب مرنے کے بعد دونوں کا حال ایک جیسا ہے تو پھر بخل کرنے کا کیا فائدہ؟ کیا کرنا چاہیے؟ اپنے مال کو خرچ ‏کرنا چاہیے دوسروں کی مدد کے لیے، بات سمجھ میں اگئی؟ تو کہتا ہے "ارا قبر نحام بخيل بماله كقبر غوي في البطالة مفسد" میں دیکھتا ہوں کہ وہ شخص جو لالچی ہے، بخیل ہے ‏اپنے مال کے ساتھ، یعنی مال میں بخل کرنے والا ہے "کقبر غوی فی البطالة مفسد" میں اس کی قبر کو دیکھتا ہوں کہ اس ‏کی قبر ایسی ہی ہے جیسے کہ اس گمراہ ادمی کی قبر جو اپنے مال کو بیکاری کے اندر بگاڑنے والا ہے، اجاڑنے والا ‏ہے، یعنی دونوں کی قبریں ایک جیسی ہیں۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو نحام کا معنی؟ بخیل، اس کا بھی وہی معنی ہے بخیل، ‏اور بخیل کا بھی وہی، تو اس لیے میں نے ایک کے لیے لالچی کا لفظ استعمال کر لیا۔ کیونکہ جو بخیل ہوگا ظاہر سی بات ‏ہے وہ لالچی ہوگا۔ آگے دیکھئے بھئی "ارا جسوتين من تراب عليهما صفائح صم من صفيح منظم" "ارا جسوتين"، جسوة کہتے ہیں مٹی کے ‏ڈھیر کو۔ مٹی کا ڈھیر، اسی طرح قبر کو بھی جسوة کہتے ہیں۔ جسوة، اور یہ تثنیہ ہے: جسوتين۔ اور یاد رکھیے یہ لفظ جو ‏ہے جسوة، مثلث الفاء ہے۔ کیا ہے؟ مثلث الفاء، کیا معنی؟ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں بھئی، وہ لفظ جس کے فاء میں ‏تینوں طرح کی حرکات ائی ہوں، عرب استعمال کرتے ہوں، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ جُسوة، جَسوة، جِسوة، جیم پر تینوں ‏حرکات پڑھی جا سکتی ہیں، تو ایسا لفظ جس میں فاء پر تینوں حرکات ہوں اس کو کیا کہتے ہیں؟ مثلث الفاء۔ "من تراب"، ‏تراب مٹی کو کہتے ہیں۔ صفائح، صفائح جمع ہے صفیحة کی، اور صفیحة کہتے ہیں پتھر کی سل، پتھر کی سل جو ہے، ‏چوڑا پتھر بھئی، چوڑا پتھر۔ صم، صم جمع ہے اصم کی۔ اصم بھئی، الف، صاد، میم: اصم۔ اور اصم کا ایک معنی ہے ‏بہرا، اور اس کی جمع ہے صم، قران میں بھی اپ پڑھتے ہیں: "صم بكم عمي"۔ تو وہ جن کو سنائی نہ دے، وہ ہے اصم ‏اور جمع ہے صم۔ لیکن یہاں صم کا دوسرا معنی ہے بھئی، اصم کا ایک معنی اتا ہے سخت اور ٹھوس۔ تو یہاں یہ صم کا ‏معنی سخت اور ٹھوس کے ہیں بھئی۔ اصم، اصم کا معنی ہے سخت اور ٹھوس، اس کی جمع بھی صماتی ہے۔ "من صفيح"، ‏صفیح وہی ابھی جو میں نے بتایا، صفیح اور صفیحة کا معنی ہے پتھر کی سل۔ منظم، نضد ينضد تنضيد کا معنی ہے ترتیب ‏سے رکھنا یا تہہ بہ تہہ رکھنا، تہہ بہ تہہ یا ترتیب وار یا مرتب بھئی۔ ‏"ارا جسوتين من تراب عليهما صفائح صم من صفيح منظم" شاعر کہتا ہے "ارا جسوتين من تراب" میں دو مٹی کے ڈھیر ‏دیکھتا ہوں "عليهما" کہ ان کے اوپر جو ہیں "صفائح صم" سخت ٹھوس پتھر کی سلیں ہیں "من صفيح منظم" تہہ بہ تہہ ‏رکھی ہوئی سلوں میں سے۔ کہتے ہیں دونوں کی قبریں ایک جیسی ہیں بھئی! وہ مال کو بچانے والا اور مال کو خرچ ‏کرنے والا، مٹی کے دو ڈھیر ہیں جن کے اوپر پتھر کی سخت سلیں رکھی گئی ہیں تہہ بہ تہہ بھئی، ترتیب کے ساتھ۔ ‏صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ کہتا ہے "ارا جسوتين من تراب عليهما صفائح صم من صفيح منظم" میں دیکھتا ہوں مٹی کے دو ڈھیر کہ ان کے اوپر جو ‏ہیں "صفائح صم" سخت ٹھوس پتھر کی سلیں ہیں "من صفيح منظم" تہہ بہ تہہ سلوں میں سے، تہہ بہ تہہ سلوں میں سے ‏پتھر کی ٹھوس سلیں ان دونوں کی قبروں پر پڑی ہیں، دونوں قبریں ایک جیسی ہیں بھئی، معنی سمجھ میں اگیا؟ تو جسوة ‏میں نے بتلایا کسے کہتے ہیں؟ مٹی کا ڈھیر، یا قبر کو بھی کہتے ہیں۔ تو چاہے اس کا معنی مٹی کے ڈھیر کے کر لیں کہ ‏‏"ارا جسوتين من تراب" مٹی کے دو ڈھیر میں دیکھتا ہوں، اور مراد وہی قبر کے اوپر جو مٹی ہوتی ہے۔ یا "ارا جسوتين من ‏تراب" یعنی میں مٹی کی دو قبریں دیکھتا ہوں۔ اگے دیکھیے: "ارا الموت يعتام الكرام ويصطفي عقيلة مال الفاحش المتشدد" اعتام يعتام کے معنی ہیں چن لینا، چھانٹ لینا، ‏منتخب کرنا۔ الكرام جمع ہے كريم کی، سخی اور معزز ادمی۔ اصطفى يصطفي کا معنی بھی چن لینا، چھانٹ لینا، "عقيلة مال ‏الفاحش"، عقيلة کہتے ہیں عمدہ اور اعلی مال، عقيلة کسے کہتے ہیں؟ عمدہ اور اعلی مال۔ فاحش، فاحش کے کئی معنی آتے ‏ہیں: خراب، برا، حد سے تجاوز کرنا، اور تو فاحش کا کیا معنی؟ جو خراب ہو، برا ہو، حد سے تجاوز، حد سے بڑھا ہوا ‏ہو۔ اور یہاں انہوں نے اس کا معنی لکھا ہے کہ اس کا معنی بخیل ہے بھئی، کیا ہے؟ علامہ زوزنی نے فاحش کا معنی ‏بخیل کے کیے ہیں۔ المتشدد، متشدد کا معنی ہے تشدد کا معنی ہے سختی کرنا، معاملات وغیرہ میں سختی کرنا، تو متشدد ‏سختی کرنے والا، وہ شخص جو معاملات وغیرہ میں خوب سختی کرتا ہے۔ ‏"ارا الموت يعتام الكرام ويصطفي عقيلة مال الفاحش المتشدد" شاعر کہتا ہے میں دیکھتا ہوں موت کو "يعتام الكرام" کہ وہ ‏معزز سخی لوگوں کو چن لیتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ موت کیا ہے؟ معزز اور سخی لوگوں کو چن لیتی ہے، یعنی کوئی ‏شخص باقی نہیں رہتا، ہر ایک کو موت لے جاتی ہے۔ "ارا الموت يعتام الكرام" میں دیکھتا ہوں کہ موت جو ہے وہ سخی ‏ادمیوں کو، معزز ادمیوں کو چن لیتی ہے "ويصطفي عقيلة مال الفاحش المتشدد" اور میں دیکھتا ہوں کہ موت جو ہے وہ چن ‏لیتی ہے "عقيلة مال الفاحش" بخیل ادمی کے عمدہ اور نفیس مال کو، وہ بخیل ادمی "المتشدد" جو بڑی ہی سختی کرنے والا ‏ہے، یعنی بڑا ہی سخت بخیل ہے۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ وہ ادمی جو بڑی سختی کرتا ہے مال کے معاملے میں، بڑا ‏سخت بخیل ہے، موت اس کے مال کو بھی چن لیتی ہے۔ اب کیا معنی موت اس کے مال کو چن لیتی ہے؟ شاعر نے کیا کہا؟ میں دیکھتا ہوں کہ موت معزز ادمی کو بھی چن لیتی ‏ہے اور سخت بخیل ادمی کے عمدہ اور نفیس مال کو بھی چن لیتی ہے۔ تو بعضوں نے ترجمہ یہ کیا کہ معنی یہ ہے کہ ‏سخی ادمی پر موت اتی ہے اور وہ فنا ہو جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے۔ اور جو بخیل ادمی ہے اس کے مال کو موت چن لیتی ‏ہے، یعنی اہستہ اہستہ وہ جتنا بھی مال بچا کر رکھے، سنبھال کر رکھے، اہستہ اہستہ اس کا وہ نفیس مال بھی کیا ہے؟ وہ ‏اس کے ہاتھ سے نکلتا ہے، فنا، ختم ہوتا چلا جاتا ہے، تو معنی یہ ہے کہ اس کے مال کو موت کیا کر دیتی ہے؟ فنا کرتی ‏ہے۔ سخی اور معزز ادمی ہوتا ہے، لوگ چاہتے ہیں یہ زیادہ زندہ رہے بھئی، یہ لوگوں کی مدد کرتا ہے، لوگوں کے کام ‏اتا ہے، موت اس کو بھی لے جاتی ہے۔ اور بخیل ادمی ہے، وہ اپنے عمدہ نفیس مال کو خوب بچا بچا کر رکھتا ہے کہ ‏کسی کی کسی تک وہ نہ پہنچے، اس کے پاس ہمیشہ رہے اور اس کو دیکھ کر وہ خوش ہوتا رہے، لیکن موت اس کے مال ‏کو کیا کرتی ہے؟ اہستہ اہستہ ختم کرتی ہے، کبھی ایک چیز اس کی خراب ہو کر ختم ہو جاتی ہے، کبھی دوسری چیز ‏خراب ہو جاتی ہے، تو موت اس کے عمدہ اور نفیس مال کو اہستہ اہستہ کیا کرتی ہے؟ ختم کر دیتی ہے، معنی سمجھ میں ‏اگیا؟ بعضوں نے یہ ترجمہ کیا۔ جبکہ بعضوں نے یہ ترجمہ کیا کہ موت سخی ادمی کو چن لیتی ہے، یعنی سخی ادمی بھی مر جاتا ہے۔ اور سخت بخیل ‏ادمی کے مال کو بھی موت چن لیتی ہے، یعنی اس کے مال کو باقی رکھنے کے لیے چن لیتی ہے، بخیل ادمی بھی چلا جاتا ‏ہے۔ سخی ادمی کو موت چنتی ہے، یعنی اس پر کیا اتی ہے؟ موت، اور بخیل ادمی کے مال کو چن لیتی ہے باقی رکھنے ‏کے لیے، سخی ادمی کو چنتی ہے فنا کرنے کے لیے، اور بخیل ادمی کے مال کو چنتی ہے باقی رکھنے کے لیے، وہ ‏بخیل بھی چلا جاتا ہے، سارا کچھ یہی رہ جاتا ہے بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟ تو ایک کو موت فنا کے لیے چنتی ہے، ‏اور دوسری چیز عمدہ نفیس مال جو ہے اس کو بقا کے لیے چن لیتی ہے، وہ باقی رہ جاتا ہے، اس کو مال کے بغیر ہی ‏جانا پڑتا ہے، بات سمجھ میں اگئی؟ تو میں نے دو معنی بیان کیے، ایک معنی بعض شارحین نے کیا کیا؟ کہ موت سخی ادمی کو بھی چن لیتی ہے اور بخیل ‏ادمی کے مال کو بھی چن لیتی ہے، یعنی سخی ادمی کو موت چنتی ہے فنا کے لیے، اور بخیل ادمی کے مال کو چنتی ہے ‏بقا کے لیے، بات سمجھ میں اگئی؟ یعنی بخیل ادمی تو چلا جاتا ہے، لیکن اس کا مال پیچھے باقی رہ جاتا ہے۔ یا بعضوں نے معنیٰ یہ کیے ہیں کہ دونوں کو فنا کے لیے چنتی ہے۔ معزز آدمی بھی مر جاتا ہے، اس کو بھی موت فنا کر ‏دیتی ہے۔ اور بخیل آدمی کا مال بھی فنا ہو جاتا ہے۔ وہ جتنا بھی مال کو حفاظت کے ساتھ رکھے اور محفوظ رکھے۔ اس کا ‏عمدہ اور نفیس ترین مال بھی آہستہ آہستہ کیا ہوتا چلا جاتا ہے؟ فنا ہوتا چلا جاتا ہے۔ تو دو معنیٰ ہوئے۔ یا تو معزز آدمی ‏کو موت چن لیتی ہے فنا کے لیے، اور بخیل آدمی کے مال کو موت چن لیتی ہے بقا کے لیے۔ یا دونوں کو موت چن لیتی ‏ہے فنا کے لیے، یعنی دونوں کو فنا کر دیتی ہے۔ بھئی، آدمی چاہے سخی ہو یا غیر سخی، موت تو سب پر آتی ہے۔ اور مال چاہے عمدہ ہو چاہے غیر عمدہ، چاہے بخیل کا ہو ‏چاہے کسی اور کا ہو، وہ سب بھی فنا ہو جاتے ہیں۔ تو فنا تو سب پر آتی ہے، پھر کیا معنیٰ کہ موت ان کو چن لیتی ہے؟ ‏بھئی، دراصل بات یہ ہے، شاعر اس لیے ان دونوں کو ذکر کر رہا ہے کہ ان دو یہ دو جو چیزیں ہیں، ایک کیا؟ معزز اور ‏سخی آدمی، اور دوسرا عمدہ اور نفیس مال، اس پر عموماً اپنے اور پرائے سارے ہی افسوس کرتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ ‏آپ کا کوئی مال چلا گیا، عام مال ہو تو کوئی لوگ اتنا افسوس نہیں کریں گے، لیکن عمدہ اور نفیس مال ہو تو سارے ‏ساتھی وغیرہ سب کیا کریں گے اس پر؟ افسوس کریں گے کہ دیکھو فلاں کی قیمتی چیز چلی گئی بھئی۔ تو چونکہ سخی آدمی ‏اور نفیس اور عمدہ مال، ان دونوں کی فنا مشہور و معروف ہے، اس لیے شاعر نے ان دونوں کو ذکر کیا کہ ان کی فنا تو ‏گویا فنا ہے، باقیوں کی فنا تو گویا کوئی چیز ہی نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے کہ موت سخی آدمی کو بھی چن لیتی ہے اور ‏بخیل آدمی کے عمدہ اور نفیس مال کو بھی چن لیتی ہے، تو یہ دونوں ذکر کے قابل ہیں باقی تو قابل ذکر ہی نہیں، تو اس ‏لیے ان کو خاص طور پر ذکر کیا۔ أَرَى الْمَوْتَ يَعْتَامُ الْكِرَامَ وَيَسْتَفِي عَقِيلَةَ مَالِ الْفَاحِشِ الْمُتَشَدِّدِ میں دیکھتا ہوں موت کو کہ وہ سخی اور معزز لوگوں کو چن لیتی ہے، اور سخت بخیل آدمی کے عمدہ اور نفیس مال کو ‏بھی وہ چھانٹ لیتی ہے۔ أَرَى الْعَيْشَ كَنْزاً نَاقِصاً كُلَّ لَيْلَةٍ وَمَا تَنْقُصِ الأَيَّامُ وَالدَّهْرُ يَنْفَدِ عیش کہتے ہیں زندگی کو۔ کنز، کنز کہتے ہیں خزانے کو بھئی، خزانے کو۔ ناقص، نقص ینقص کا معنیٰ ہے کم ہونا، تو ‏ناقص جو کم ہو، تھوڑا ہو۔ جس میں کمی آ رہی ہو۔ ینفد، نفد ینفد کے معنیٰ ہیں ختم ہونا، ختم ہونا، فنا ہو جانا۔ أَرَى الْعَيْشَ كَنْزاً نَاقِصاً كُلَّ لَيْلَةٍ وَمَا تَنْقُصِ الأَيَّامُ وَالدَّهْرُ يَنْفَدِ شاعر کہتا ہے، میں دیکھتا ہوں العیش زندگی کو، کنزاً ناقصاً کہ وہ ایک ایسا خزانہ ہے، ناقصاً جو کم ہو رہا ہے، کل لیلۃ ‏ہر رات۔ میں دیکھتا ہوں کہ زندگی جو ہے وہ ایسا خزانہ ہے جو ہر رات کم ہو رہا ہے، وما تنقص الأيام والدهر اور وہ ‏چیز جس کے اندر ایام یعنی دن یعنی شب و روز، والدهر اور زمانہ، اور وہ چیز جس میں شب و روز اور زمانہ کمی کر ‏دیں، ینفد وہ چیز ختم ہو جاتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ چیز کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی خزانہ ہے، کوئی ‏چیز آپ کے پاس ہے، جب زمانہ اس میں کمی لاتا جا رہا ہے تو ایک وقت آئے گا وہ چیز ختم ہو جائے گی، مٹ جائے گی ‏بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ أَرَى الْعَيْشَ كَنْزاً نَاقِصاً كُلَّ لَيْلَةٍ وَمَا تَنْقُصِ الأَيَّامُ وَالدَّهْرُ يَنْفَدِ میں دیکھتا ہوں کہ زندگی وہ ایک ایسا خزانہ ہے جو ہر رات کم ہو رہا ہے، وما تنقص الأيام والدهر ینفد اور وہ چیز جس ‏میں جس میں دن اور زمانہ جو ہیں کمی کمی لے کر آئیں، کمی اس میں پیدا کریں، ینفد وہ چیز ختم ہو جاتی ہے، فنا ہو ‏جاتی ہے۔ لَعَمْرُكَ إِنَّ الْمَوْتَ مَا أَخْطَأَ الْفَتَى لَكَالطِّوَلِ الْمُرْخَى وَثِنْيَاهُ بِالْيَدِ لعم رک یہ پہلے بھی گزر چکا ہے بھئی، اور یہ ہے مبتدا، لعم رک، عمرو مضاف اور کاف ضمیر مضاف الیہ۔ اور عمر یہ ‏وہی عمر ہے جسے آپ اردو میں عمر کہتے ہیں، آپ اردو میں بھی بولتے ہیں آپ کی عمر کتنی ہے، یعنی دنیا میں آپ کا ‏عرصہِ حیات کتنا ہے، کتنا عرصہ آپ دنیا میں رہے ہیں۔ اور قسم کے لیے جب اس کو استعمال کرتے ہیں، پھر عین پر ‏ہمیشہ فتحہ پڑھتے ہیں، لعم رک، تو یہاں لعم رک پڑھنا صحیح نہیں، یہاں کیا پڑھیں گے؟ لعم رک، تو تخفیف کے لیے، ‏کیونکہ ضمہ ثقیل ہے اور فتحہ خفیف ہے، تو خفت کے لیے یہاں فتحہ پڑھیں گے۔ تو یہ ہے مبتدا، اور قسمی یہ خبر محذوف ہے، قسم مضاف، یا ضمیر مضاف الیہ، لعم رک قسمی، لعم رک کہ آپ کی عمر ‏جو ہے، قسمی وہ میری قسم ہے، یعنی میں آپ کی عمر کی قسم کھاتا ہوں، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ میں آپ کی عمر کی قسم ‏کھاتا ہوں، تو لعم رک یہ ہے مبتدا، اور قسمی مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہے کہ میں آپ کی عمر کی قسم اٹھاتا ہوں۔ ‏اور یہ جو لام آیا، یہ لام تاکید کے لیے ہے، اس کو لامِ ابتداء کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ لامِ ابتداء۔ لامِ ابتداء وہ لام ہے جو ‏جملے کی تاکید کے لیے لایا جاتا ہے، جیسے ان جملے کی تاکید کے لیے لایا جاتا ہے۔ إن زیداً قائمٌ، دیکھو، اس نے ان نے ‏کلام میں کیا پیدا کر دی؟ تاکید اور ذرا زور پیدا کر دیا۔ ایک آپ ویسے کہیں زیدٌ قائمٌ، اس کا معنیٰ ہے زید کھڑا ہے، اور ‏ایک ہے إن زیداً قائمٌ، اب اس میں ان کی وجہ سے تاکید آ گئی، زور آ گیا بھئی اس کلام کے اندر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی پر اگر قسم بھی لے آئیں، پھر تو اور بھی کلام کے اندر زور آ جائے گا کہ واللہ زید کھڑا ہے بھئی، صورت سمجھ ‏میں آ گئی۔ تو یہ لامِ ابتداء تاکید کے لیے آتا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ چلیے، یہی بیان کر دیتا ہوں، آگے آ رہا ‏ہے، لکالطول، لکالطول، یہ لام یہ وہی لامِ ابتداء ہے، اور اصل میں ہے کالطول، توجہ ہے؟ کالطول، کاف جارہ اور الطول ‏مجرور بھئی، جیسے میں کہتا ہوں زیدٌ کالأسد، یہ کاف کس لیے ہے؟ تشبیہ کے لیے، یہ جار دیتا ہے، تو یہاں پر بھی ہے ‏کالطول، طول جیسا، اس پر یہ جو لام آیا، یہ وہی لامِ ابتداء ہے۔ لیکن اب اس کو کہتے ہیں لامِ مزحلقہ، لامِ مزحلقہ، یہ جگہ جگہ لفظ آئے گا، ابھی سے اچھی طرح سمجھ لیں۔ زحلق یزحلق ‏کا معنیٰ ہوتا ہے کسی چیز کو پھسلانا، پھسلا دینا، یعنی یوں سمجھ لیں بدل دینا، پھسلا دینا، لڑھکا دینا۔ تو یہاں پر بھی یہ ‏لامِ مزحلقہ ہے، مزحلقۃ، گول تا ہے آخر میں، وہ لام جس کو پھسلا دیا گیا ہے، لڑھکا دیا گیا ہے، یعنی اس کی جگہ بدل ‏دی گئی ہے۔ یہ وہی لامِ ابتداء ہے، میں نے بتایا لامِ ابتداء کس لیے آتا ہے؟ کلام میں، جملے میں تاکید پیدا کرتا ہے۔ اسی ‏طرح ان بھی کس لیے آتا ہے؟ جملے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے آتا ہے۔ تو جب لامِ ابتداء آپ لے آئے اور پھر جملے پر ‏ان بھی لے آئے، تو ان بھی شروع میں آتا ہے، لام بھی شروع میں مبتدا پر آتا ہے، تو یہ پسندیدہ نہیں کہ دو ایک جیسے ‏عمل والے، ایک جیسے فائدے والے حروف اکٹھے ہو جائیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پھر اس صورت میں اس لام کو ‏اٹھا کر خبر پر لے آتے ہیں، ان کی خبر پر۔ کس پر لے آتے ہیں؟ تو وہی لامِ ابتداء چونکہ اب شروع میں ان آ گیا وہ بھی تاکید پیدا کر رہا ہے، لام بھی تاکید پیدا کر رہا ‏تھا، تو اس لام کو اٹھا کر ان کی خبر پر لے آتے ہیں، یہ ہے وہی لامِ ابتداء، لیکن اب اس کا نام کیا ہے؟ لامِ مزحلقہ، ‏مزحلقہ۔ تو چاہے آپ لامِ ابتداء بھی کہہ دیں، لامِ ابتداء بھی اس کو کہہ دیتے ہیں، لیکن کہیں یہ مزحلقہ لفظ آئے تو آپ ‏پریشان نہ ہوں کہ یہ کون سا لام ہے۔ اور لامِ مزحلقہ، چاہے آپ اس کو لامِ مزحلقہ کہیں، چاہے لامِ ابتداء، بعض علماء اس ‏کو پھر بھی لامِ ابتداء ہی کہتے ہیں۔ دیکھیے، یہ لکالطول یہ ان کی خبر ہے، إن الموت لکالطول، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ‏تو یہ وہی لامِ ابتداء ہے۔ اور پھر یہ جو ان کی خبر پر آ گیا، اور ان کی خبر مبتدا تو ہمیشہ اسم ہوتا ہے، خبر، خبر تو آپ جانتے ہیں اسم بھی ہو ‏سکتا ہے، زیدٌ قائمٌ، یہ قائمٌ کیا ہے؟ اسم ہے، خبر ہے۔ اور کبھی فعل بھی ہو سکتا ہے، زیدٌ یقومُ، یقومُ دیکھو، فعل ہے، اور ‏کبھی خبر جار مجرور بھی ہو سکتی ہے، زیدٌ فی الدارِ، دیکھو فی الدارِ کیا ہے؟ خبر ہے۔ تو پھر یہ لامِ مزحلقہ پھر وہ اسم ‏پر بھی داخل ہو سکتا ہے، فعل پر بھی داخل ہو سکتا ہے، اور جار مجرور پر بھی داخل ہو سکتا ہے، یعنی جو بھی خبر ہو ‏گی اس پر یہ آ جائے گا، جیسے یہاں پر یہ کالطول جار مجرور پر یہ لام داخل ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لعم رک إن الموت ما أخطأ الفتی، خطأ یخطئ اور أخطأ یخطئ کا معنیٰ ہے خطا کرنا، خطا کرنا۔ تو خطأ یخطئ خطأً و خطأً ‏کا معنیٰ ہے خطا کرنا، غلطی کرنا، چوک جانا۔ اسی طرح أخطأ یخطئ بابِ افعال میں لے جائیں تو بھی اس کا یہی معنیٰ ‏ہے، خطا کرنا، غلطی کرنا، چوک جانا۔ فتی کہتے ہیں جوان کو۔ لکالطول، یہ لام وہی مزحلقہ ہے، کاف جارہ ہے، اور ‏الطول، طول طویل سے ہے، وہ لمبی رسی جس کے ساتھ حیوان کو باندھا جاتا ہے۔ لمبی رسی، بھئی بعض اوقات ایسا ‏کرتے ہیں کہ جو حیوان چرانے والا ہوتا ہے وہ لمبی رسی کے ساتھ حیوان کو باندھ کر رکھتا ہے، لمبی رسی، اس کے ‏پاؤں میں باندھ دی اور خوب لمبی رسی ہے اور اس کے دونوں سرے اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں، تاکہ یہ چرتا رہے اور ‏جب میں اس کو لے جانا چاہوں تو آرام سے لے جاؤں بھئی، کیونکہ رسی میرے ہاتھ میں ہے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ ‏اس لمبی رسی کو کیا کہتے ہیں؟ طول۔ المرخی، أرخی یرخی کے معنیٰ ہیں ڈھیلا کرنا، نرم کرنا، تو مرخی وہ ڈھیلی کی ‏ہوئی جو رسی ہے، طول المرخی وہ وہ ڈھیلی رسی جو حیوان کو کے ساتھ باندھی ہوئی ہے اور وہ چر رہا ہے۔ وثنیاہ، ثنیا ‏الثنیُ، الثنیُ کا معنیٰ ہے طرف اور کنارہ، اسی کی تثنیہ ہے ثنیان، دو کنارے، اور یہ تثنیہ ہے نون اضافت سے گر گیا۔ ‏ثنیان، نون گر نون گر گیا تو ثنیاہ، دو کنارے، اس کے دو کنارے، بالید ہاتھ میں۔ لَعَمْرُكَ إِنَّ الْمَوْتَ مَا أَخْطَأَ الْفَتَى لَكَالطِّوَلِ الْمُرْخَى وَثِنْيَاهُ بِالْيَدِ شاعر کہتا ہے کہ تیرے عمر کی قسم، إن الموت ما أخطأ الفتی، اچھا یہ جو ما ہے نا ما، بظاہر شبہ ہوتا ہے شاید یہ ما نافیہ ‏ہے، لیکن یہ ما نافیہ نہیں، یہ ما مصدریہ ہے۔ جو فعل پر داخل ہو تو اس کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنیٰ ‏میں، اور کبھی اس میں وقت والا معنیٰ بھی ہوتا ہے تو پھر اس ما کو کہتے ہیں ما مصدریہ ظرفیہ۔ ما مصدریہ ظرفیہ۔ تو ‏ما أخطأ ذرا مصدر بناؤ، إخطاء، أخطأ یخطئ إخطاءً، اچھا، اور اس پر وقت بھی لے آؤ بھئی، وقت إخطائہ، بات سمجھ میں آ ‏رہی ہے؟ تو ما أخطأ کس معنیٰ میں ہے؟ أخطأ کے اندر ھو ضمیر تھی، اسی کو مضاف الیہ بنا دو، إخطائہ، وقت إخطائہ، ‏تو ما أخطأ کس معنیٰ میں ہے؟ وقت إخطائہ، اور یہ ما کیا ہے؟ مصدریہ ظرفیہ ہے، کبھی صرف ما مصدریہ ہوتا ہے، ‏صرف مصدر بناتا ہے، وقت کا معنیٰ نہیں ہوتا، اور کبھی اس میں وقت کا معنیٰ بھی ہوتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ما ‏مصدریہ ظرفیہ بھئی۔ لعم رک تیری عمر کی قسم، إن الموت یہ کہ موت جو ہے ما أخطأ الفتی أي وقت إخطائہ الفتی، جس وقت جوان سے چوک ‏جاتی ہے، جس وقت جوان کے معاملے میں غلطی کر جاتی ہے، لکالطول تو وہ کس کی طرح ہوتی ہے؟ اس لمبی رسی کی ‏طرح، المرخی جس کو ڈھیلا چھوڑ دیا گیا ہو، وثنیاہ بالید اور اس کو دونوں اس کے دونوں کنارے ہاتھ میں ہوں۔ اس ڈھیلی ‏رسی کی طرح، اس ڈھیلی لمبی رسی کی طرح جس کے دونوں کنارے ہاتھ بھئی، جیسے وہ حیوان کا مالک جو ہے اس کو ‏چرانے والا اس کے ہاتھ میں رسی کے جب دو سرے ہوں گے، جو اس حیوان کے گلے میں یا پاؤں میں باندھے ہوئے ہیں، ‏وہ جب چاہے گا حیوان کو قابو میں کر لے گا، اس کو کھینچ لے گا۔ اسی طرح اگر موت کسی جوان کو چھوڑتی ہے، آپ ‏دیکھتے ہیں کہ جوان زندہ پھر رہا ہے، بوڑھا مر گیا ہے، اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ موت سے وہ بچ گیا ہے، نہیں، جوان ‏بھی اسی طرح ہے کہ اس کی گویا اس کے اندر ایک رسی ڈھلی ہوئی ہے اور اس رسی کے دونوں کنارے ہاتھ میں ہیں، ‏موت جب چاہے گی اس کو کھینچ کر قابو کر لے گی، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں بہت سے لوگ جوانی کے اندر ہی چلے ‏جاتے ہیں، تو موت جب لے جانا چاہتی ہے اس کو لے جاتی ہے، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو شاعر یہ کہہ رہا ہے کہ إن الموت لکالطول المرخی کہ موت جو ہے وہ اس ڈھیلی لمبی رسی کی طرح ہے، تو موت کو ‏کس کے ساتھ تشبیہ دے دی؟ لمبی ڈھیلی رسی کے ساتھ جس کے دونوں سرے کسی انسان کے ہاتھ میں ہوں، یعنی اگر ‏موت سے کوئی جوان بچ بھی جاتا ہے اور کچھ مہلت اس کو مل بھی جاتی ہے، اس کی جلدی موت نہیں آتی تو اس کا یہ ‏مطلب نہیں کہ موت سے وہ بچ گیا ہے، بلکہ موت جو ہے وہ ایک رسی کی طرح اس کی گلے میں پڑی ہوئی ہے جس کے ‏سرے کسی کے ہاتھ میں ہیں اور وہ جب چاہے گا اس کو کھینچ لے گا اور اس کو موت لے جائے گی بھئی، معنیٰ سمجھ میں ‏آ گیا؟ لَعَمْرُكَ إِنَّ الْمَوْتَ مَا أَخْطَأَ الْفَتَى لَكَالطِّوَلِ الْمُرْخَى وَثِنْيَاهُ بِالْيَدِ آپ کی عمر کی قسم کہ موت وقت إخطائہ الفتی موت جس وقت جوان سے چوک جاتی ہے یعنی اس سے خطا کر جاتی ہے، ‏اس کو چھوڑ دیتی ہے، لکالطول المرخی تو وہ اس لمبی رسی کی طرح ہے، المرخی جس کو ڈھیلا چھوڑ دیا گیا ہو، وثنیاہ ‏بالید اور اس کے دونوں کنارے ہاتھ میں ہوں۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 57 of 62