پیشِ خدمت ہے:
آگے سبق دیکھیے۔
أَلَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي أَحْضُرُ الْوَغَى
وَأَنْ أَشْهَدَ اللَّذَّاتِ هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي
فَإِنْ كُنْتَ لَا تَسْتَطِيعُ دَفْعَ مَنِيَّتِي
فَدَعْنِي أُبَادِرْهَا بِمَا مَلَكَتْ يَدِي
وَلَوْلَا ثَلَاثٌ هُنَّ مِنْ عِيشَةِ الْفَتَى
وَجَدِّكَ لَمْ أَحْفِلْ مَتَى قَامَ عُوَّدِي
طرفۃ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور وہ اپنی صفات اور خصوصیات ذکر کر رہا ہے۔ گزشتہ اشعار میں آیا تھا کہ میں ہمیشہ شراب پیتا رہا، لذتوں میں مشغول رہا، اپنا عمدہ نفیس مال بیچتا رہا، اسی طرح اپنا جدید مال اور قدیم موروثی مال اس کو بھی خرچ کرتا رہا، یہاں تک کہ مجھے میرے سارے خاندان والوں نے چھوڑ دیا، مجھ سے الگ ہو گئے اور مجھے خارشی اونٹ کی طرح تنہا کر دیا۔
لیکن کوئی حرج نہیں کیونکہ جو غریب لوگ ہیں وہ بھی مجھے اجنبی نہیں سمجھتے اور اسی طرح جو مالدار ہیں، جو بڑے خیموں والے ہیں، وہ بھی مجھے اجنبی نہیں سمجھتے۔ غریب بھی میرے ساتھ محبت کرتے ہیں اور مالدار بھی میری مجلس میں شرکت کو غنیمت سمجھتے ہیں۔ غریب اس لیے کیونکہ میں ان کی مدد کرتا ہوں، ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور مالدار اس لیے میری مجلس میں شرکت کو غنیمت سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ بڑا معزز آدمی ہے، بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، تو اس کا ہماری مجلسوں میں شریک ہونا ہمارے لیے غنیمت ہے۔
آگے کہتا ہے:
أَلَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي أَحْضُرُ الْوَغَى
وَأَنْ أَشْهَدَ اللَّذَّاتِ هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي
’أَلَا‘ حرفِ تنبیہ ہے، سنو یا آگاہ رہو۔ ’أَيَّهُذَا اللَّائِمِي‘ بھئی، آپ جانتے ہیں کہ ’یا‘ حرفِ ندا جس لفظ پر داخل ہو، اس کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ ’رَجُلٌ‘ نکرہ ہے لیکن اس پر ’یا‘ داخل کر دی ’يَا رَجُلُ‘، تو یہ ’رجل‘ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ ظاہر سی بات ہے کسی خاص شخص کو آپ ندا دے رہے ہیں، اے آدمی!
اسی طرح الف لام جو ہے یہ بھی آلۂ تعریف ہے، یہ بھی کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو معرفہ بنا دیتا ہے، جیسے ’الرَّجُلُ‘۔ تو ’الرَّجُلُ‘ بھی معرفہ اور ’يَا رَجُلُ‘ میں بھی ’رجل‘ جو ہے وہ معرفہ۔ تو ’یا‘ یہ بھی آلۂ تعریف ہے، کسی لفظ کو معرفہ بنانے کا آلہ ہے، الف لام بھی آلۂ تعریف ہے، تو یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔
تو اگر آپ نے حرفِ ندا استعمال کرنا ہو اور جو منادیٰ ہے اس پر الف لام داخل ہے، تو پھر اس میں کبھی یوں کرتے ہیں کہ ’أَيُّهَا‘ درمیان میں لے آتے ہیں۔ کیا لے آتے ہیں؟ ’أَيُّهَا‘۔ مثلاً ’الرَّجُلُ‘، اس پر آلۂ تعریف الف لام داخل ہے، اس پر ’یا‘ حرفِ ندا داخل کرنا چاہتے ہیں تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اس پر پہلے ہی آلۂ تعریف الف لام داخل ہو چکا، تو پھر درمیان میں ’أَيُّهَا‘ لے آتے ہیں اور یوں کہیں گے: ’يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ‘۔
توجہ ہے؟ ’يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ‘۔ ’أَيُّ‘، یہ ’أَيُّ‘ یہ ہے منادیٰ بھئی، اور ’ہا‘ جو ہے یہ تنبیہ کے لیے ہے متنبہ کرنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور ’الرَّجُلُ‘ جو ہے یہ صفت ہے ’أَيُّ‘ کی۔ ’الرَّجُلُ‘ کیا بن جائے گی ترکیب کے اعتبار سے؟ صفت بن جائے گی ’أَيُّ‘ کی۔ ’يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ‘۔
تو درمیان میں کیا لے آئے؟ ’یا‘ اور الف لام کے درمیان کیا لے آئے؟ ’أَيُّهَا‘، ’يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ‘۔ اور کبھی کبھار صرف ’هَذَا‘ درمیان میں لے آتے ہیں: ’يَا هَذَا الرَّجُلُ‘۔ اور کبھی کبھار ’أَيُّهَذَا‘ دونوں کو ہی جمع کر کے لے آتے ہیں: ’يَا أَيُّهَذَا الرَّجُلُ‘۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دونوں کو جمع کیا گیا ہے۔ اور ’یا‘ حرفِ ندا محذوف ہے: ’أَلَا يَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي‘۔ تو ’یا‘ حرفِ ندا یہاں محذوف ہے۔
’اللَّائِم‘، لائم کہتے ہیں ملامت کرنے والا، برا بھلا کہنے والا۔ تو اصل کلام کیا ہے؟ ’يَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي‘۔ اور ’اللَّائِم‘ مضاف ہے اور ’یا‘ متکلم کی جو ہے مضاف علیہ ہے۔ ’اللَّائِمِي‘ میں ’اللَّائِم‘ مضاف ہے اور ’یا‘ ضمیر کیا ہے؟ مضاف علیہ۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ یہاں تو مضاف پر الف لام داخل ہے، حالانکہ مضاف پر تو الف لام داخل نہیں ہوتا۔
تو بھئی، اگر آپ کو یاد ہو، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اضافت دو قسم کی ہے: ایک اضافتِ لفظی اور ایک اضافتِ معنوی۔ اضافتِ لفظی اسے کہتے ہیں کہ صیغہ صفت کا ہو اور وہ مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف۔ توجہ ہے؟ صفت کا صیغہ یعنی اسمِ فاعل، اسمِ مفعول یا صفتِ مشبہ۔
اسمِ فاعل، وہ جو گردانوں میں مخصوص صیغے آپ نے پڑھے: ضَارِبٌ، مَانِعٌ، فَاتِحٌ، مُكْرِمٌ، مُسْتَخْرِجٌ، یہ سب کیا ہیں؟ اسمِ فاعل۔ اور اسمِ مفعول، وہ جو گردانوں میں مخصوص صیغے آپ نے پڑھے: مَضْرُوبٌ، مَمْنُوعٌ، مَفْتُوحٌ، مُكْرَمٌ، مُسْتَخْرَجٌ وغیرہ بھئی۔ تو یہ کیا ہیں؟ اسمِ مفعول۔ اور جبکہ صفتِ مشبہ جو ہے، جیسے باب کَرُمَ سے آتی ہے: شَرِيفٌ، فَعِيلٌ، كَرِيمٌ، یہ اس کا سب سے مشہور وزن ہے۔ اسی طرح اس کے اور بھی کئی اوزان ہیں بھئی، صفتِ مشبہ کے بھئی، جیسے حَسَنٌ، یہ کیا ہے؟ صفتِ مشبہ۔ خَشِنٌ، یہ بھی کیا ہے؟ صفتِ مشبہ۔ تو صفتِ مشبہ کے کئی اوزان ہیں۔
تو یہ جو صفت کے صیغے ہیں، یعنی اسمِ فاعل، اسمِ مفعول اور صفتِ مشبہ، یاد رکھو یہ بھی اپنے فعل کی طرح عمل کرتے ہیں۔ جیسے ان کا فعل فاعل کو رفع دیتا ہے اور بعض اوقات مفعول کو نصب بھی دیتا ہے اگر وہ متعدی ہو۔ فعلِ لازم کے لیے تو مفعول نہیں چاہیے، لیکن فعلِ متعدی کے لیے تو مفعول بھی آتا ہے، تو فعل اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے تو اپنے مفعول کو نصب۔ اسی طرح یہ صفت کے صیغے بھی عمل کرتے ہیں، یعنی یعنی یہ بھی اپنے فاعل یا نائب فاعل کو رفع دیتے ہیں اور مفعول کو نصب دیتے ہیں۔
تو جس کو یہ رفع دیں، وہ ہوا ان کا فاعل یا نائب فاعل، اور وہ ان کا معمول ہوا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ’ضَرَبَ زَيْدٌ‘، یہ ’زَيْدٌ‘ پر رفع کس کی وجہ سے آیا؟ ’ضَرَبَ‘ کی وجہ سے۔ تو ’ضَرَبَ‘ ہوا عامل اور ’زَيْدٌ‘ کیا ہوا؟ معمول۔ اسی طرح یہ صفت کے صیغے جو ضَارِبٌ، مَضْرُوبٌ وغیرہ ہیں، یہ بھی اپنے فاعل یا نائب فاعل کو رفع دیتے ہیں اور اپنے مفعول کو نصب دیتے ہیں، تو وہ ان کے معمول ہوئے۔ کیا ہوئے؟
تو یہ جو صفت کے صیغوں کا معمول ہو، اس کی طرف صفت کے صیغے کی اضافت کر دیں، تو یہ کیا ہے؟ اضافتِ لفظی ہے۔ صفت کا صیغہ مضاف ہو اپنے معمول کی طرف، تو یہ اضافتِ لفظی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور یاد رکھو، جب صفت کا صیغہ مضاف ہو اپنے معمول کی طرف، تو یہ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتا ہے، تخفیف کا۔ یعنی تنوین وغیرہ مضاف سے گر جاتی ہے یا تنوین کے جو قائم مقام ہو، یعنی نونِ تثنیہ یا نونِ جمع، وہ مضاف سے گر جاتا ہے اور مضاف میں کوئی اور کوئی فائدہ مضاف کو نہیں ہوتا، یعنی تعریف و تخصیص نہیں آتی۔
جبکہ دوسری قسم ہے اضافتِ معنوی۔ اضافتِ معنوی، جس میں صفت کا صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو۔ صفت کا صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو، تو یہ کیا ہے؟ اضافتِ معنوی۔ اس میں ساری اضافتیں آ گئیں، صرف وہ اضافت نکل گئی جب صفت کا صیغہ کس کی طرف مضاف ہو؟ اپنے معمول کی طرف، وہ ہے اضافتِ لفظی۔ باقی ساری اضافتیں کیا ہیں؟ وہ اضافتِ معنوی ہیں، اور اضافتِ معنوی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، معنیٰ میں فائدہ دیتی ہیں۔
اضافتِ لفظی تو صرف لفظوں میں فائدہ کہ تخفیف کا فائدہ دیا، اور اضافتِ معنوی وہ ہے جو معنیٰ میں فائدہ دیتی ہے اور اس میں وہ کبھی پھر تعریف کا فائدہ دیتی ہے اور کبھی تخصیص۔ اگر نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے، تو وہ نکرہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، تو دیکھو تعریف کا فائدہ دیا۔ مثلاً دیکھو: ’غُلَامُ زَيْدٍ‘، ’غُلَامُ‘ ہے نکرہ اور ’زَيْدٍ‘ کیا ہے؟ معرفہ۔ تو ’غُلَامُ‘ کی اضافت جب ’زَيْدٍ‘ کی طرف کی تو ’غُلَامُ‘ بھی معرفہ بن گیا۔ تو دیکھو اس اضافتِ معنوی نے تعریف کا فائدہ دیا، ایک لفظ کو معرفہ بنا دیا۔
اور اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو، تو پھر اضافتِ معنوی تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ جیسے ’غُلَامُ‘ کی اضافت کر دی ’رَجُلٍ‘ کی طرف، ’غُلَامُ‘ بھی نکرہ، ’رَجُلٍ‘ بھی نکرہ، تو نکرہ کی طرف اضافت کی، اب اس نے تخصیص کا فائدہ دیا۔ تخصیص کا معنیٰ یہ ہے کہ دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا۔ تو ’غُلَامُ رَجُلٍ‘، دیکھا؟ اس میں عورتوں کے غلام نکل گئے یا نہیں؟ نکل گئے، افراد کم ہو گئے، یہ ہے تخصیص بھئی، یہ کیا ہے؟
تو اضافتِ لفظی صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے اور اضافتِ معنوی یا تو تعریف کا فائدہ دیتی ہے یا تخصیص۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں پر بھی ’اللَّائِمِي‘، کتاب پر دیکھیے بھئی، ’اللَّائِمِي‘، یہ ’لائم‘ جو ہے اسمِ فاعل ہے، ملامت کرنے والا۔ ملامت کرنے والا کوئی شخص ہو گا اور شاعر کیا کہتا ہے کس کو ملامت کر رہا ہے؟ مجھے، ’اللَّائِمِي‘، ’یا‘ آ رہی ہے۔ تو کوئی شخص جو ملامت کرتا ہے مجھے، اور تو یہ ’یا‘ کیا ہوئی؟ مفعول کی۔ تو یہ معمول ہوا ’لائم‘ کا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ مفعول ہوا اور اس مفعول کی طرف ’لائم‘ کی اضافت کر دی، تو دیکھو صیغہ ہے صفت کا اور مضاف ہو رہا ہے اپنے معمول کی طرف، تو یہ اضافتِ لفظی ہوئی اور یہ نہ تعریف کا فائدہ دیتی ہے اور نہ تخصیص کا۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ ’لائم‘ جیسے اضافت سے پہلے نکرہ تھا، اب بھی اسی طرح نکرہ کا نکرہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جب یہ نکرہ ہے، تو اس پر الف لام کا لانا ٹھیک ہے، کیونکہ نکرہ پر کیا لایا جاتا ہے؟ الف لام داخل کیا جاتا ہے اور اس کو معرفہ بنایا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اس لیے ’اللائم‘ پر الف لام داخل کیا گیا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
تو ’اللَّائِمِي‘، مجھے ملامت کرنے والا۔
’أَحْضُرُ‘، ’حَضَرَ يَحْضُرُ‘ کے معنیٰ ہیں حاضر ہونا، حاضر ہونا۔ اور اس میں رفع بھی آیا ہے روایات کے اندر ’أَحْضُرُ‘، اور نصب بھی آیا ہے ’أَحْضُرَ‘۔ توجہ ہے؟ ’أَحْضُرُ‘ متکلم کا صیغہ ہے اور عام حالت میں یہ مرفوع ہی ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی نصب دینے والا عامل آئے تو پھر نصب آئے گا۔
اور دراصل عبارت یوں ہے: ’أَلَا يَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي أَنْ أَحْضُرَ الْوَغَى‘، تو یہاں ’أَنْ‘ مقدر ہے۔ ’أَنْ‘ مقدر۔ اب جب ’أَنْ‘ کو مقدر کر دیا، اس کو لفظوں سے حذف کر دیا، تو اب کیا ’أَحْضُرُ‘ پر رفع پڑھیں گے یا نصب پڑھیں گے؟ جب ’أَنْ‘ موجود تھا تب تو نصب دے رہا تھا ’أَنْ أَحْضُرَ‘، لیکن اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا، تو اس میں پھر کوفہ اور بصرہ والے علماء کا اختلاف ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کوفہ اور بصرہ میں بڑے بڑے علماء گزرے ہیں، بڑے بڑے نحوی، صرفی حضرات گزرے ہیں، تو کچھ مسائل میں تقریباً 110 کے لگ بھگ مسائل ہیں جن کے اندر ان کا اختلاف تھا بھئی، اور ہر ایک کے اپنے دلائل تھے۔
تو یہاں پر کوفہ والے کہتے ہیں کہ ’أَنْ‘ کو حذف کر دیا لیکن وہ ’أَنْ‘ مقدر جو ہے وہ اب بھی عمل کرے گا اور ’أَحْضُرَ‘ پڑھیں گے، را پر زبر پڑھیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جبکہ بصرہ والے کہتے ہیں کہ نہیں، ’أَنْ‘ جو ہے یہ عاملِ ضعیف ہے، جب اس کو حذف کر دیا تو اب اس کا عمل بھی ختم ہو جائے گا اور ’أَحْضُرُ‘ پڑھیں گے بھئی۔ تو دونوں روایتیں اس شعر کے اندر ہیں۔
تو ’حَضَرَ يَحْضُرُ‘ کا معنیٰ حاضر ہونا۔ ’الْوَغَى‘، وغا کہتے ہیں جنگ کو بھئی، جنگ۔
’وَأَنْ أَشْهَدَ‘، دیکھو یہاں ’أَنْ‘ موجود ہے تو یہ نصب دے رہا ہے: ’أَشْهَدَ‘۔ ’شَهِدَ يَشْهَدُ‘ کے معنیٰ ہے حاضر ہونا، موجود ہونا۔ ’اللَّذَّاتِ‘، لذتیں۔ توجہ ہے عبارت پر؟
’هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي‘، ’أَخْلَدَ يُخْلِدُ‘ کا معنیٰ ہے دوسرے کو ابدی زندگی دینا، دوسرے کو ہمیشہ کی زندگی دینا، دائمی زندگی دینا۔ تو ’مُخْلِد‘، دائمی زندگی دینے والا، اور ’یا‘ متکلم کی ہے: ’مُخْلِدِي‘، کہ مجھے کیا دے؟ دائمی، مجھے دائمی زندگی دینے والا۔ تو یہ اسمِ فاعل کی اضافت ہو رہی ہے مفعول کی طرف۔
أَلَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي أَحْضُرُ الْوَغَى
وَأَنْ أَشْهَدَ اللَّذَّاتِ هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي
سنو! اے مجھے ملامت کرنے والے! ’أَلَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي‘، اے ’يَا أَيَّهُذَا اللَّائِمِي‘، اے وہ شخص جو مجھے ملامت کرتا ہے! کس بات پر؟ ’أَنْ أَحْضُرَ الْوَغَى‘، کہ میں جنگوں میں حاضر ہوتا ہوں۔ اے وہ شخص جو مجھے اس بات پر ملامت کرتا ہے کہ میں جنگوں میں حاضر ہوتا ہوں، جنگوں میں شریک ہوتا ہوں، ’وَأَنْ أَشْهَدَ اللَّذَّاتِ‘، اور میں لذتوں کے میں موجود ہوتا ہوں، یعنی لذتوں کے مواقع میں بھی میں موجود ہوتا ہوں، لذتوں میں میں حاضر ہوتا ہوں۔ ’هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي‘، کیا تو مجھے ابدی زندگی دے سکتا ہے؟ ’مُخْلِد‘، ہمیشہ کی زندگی دینے والا۔ ’هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي‘، کیا تو مجھے ہمیشہ کی زندگی دے سکتا ہے؟
شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ بعض لوگ جو مجھے ملامت کرتے ہیں، اس بات پر ملامت کرتے ہیں کہ میں جنگوں میں شریک ہوتا ہوں اور جنگیں تو ہلاکت کا اور تباہی اور نقصان کا باعث ہوتی ہیں، تو یہ نہ ہو کہیں تم اپنے آپ کو ہلاک کر لو، تباہ کر لو۔ اور اس بات پر مجھے ملامت کرتے ہیں کہ میں لذتوں میں حاضر رہتا ہوں، یہ لذتیں، یہ شراب نوشی وغیرہ یہ چیزیں بھی انسان کو کیا کر دیتی ہیں؟ برباد کر دیتی ہیں۔ تو وہ لوگ جو مجھے اس بات پر ملامت کرنے والے ہیں، یہ مجھے یہ بتلائیں، کیا یہ مجھے ابدی زندگی دے سکتے ہیں؟ ہمیشہ کی زندگی دے سکتے ہیں؟ ہمیشہ کی زندگی تو کسی کی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب ہمیشہ کسی نے نہیں رہنا، تو پھر ان چیزوں سے مجھے روک، مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب ہمیشہ رہنا ہی نہیں ہے، تو پھر جنگوں اور لذتوں سے کنارہ کشی کا کیا فائدہ بھئی؟ یا تو ہمیشہ رہنا ہوتا، پھر تو چلو کنارہ کشی میں کر لیتا، لیکن جب ہمیشہ رہنا نہیں، تو لہٰذا میں ان سے کنارہ کش بھی نہیں ہو سکتا۔
أَلاَ أَيُّهَا اللَّائِمِي أَشْهَدُ الوَغَى، وَأَنْ أَشْهَدَ اللَّذَّاتِ هَلْ أَنْتَ مُخْلِدِي؟ اے وہ شخص جو مجھے ملامت کرتا ہے اس بات پر کہ میں جنگوں میں حاضر رہتا ہوں اور میں لذتوں میں موجود ہوتا ہوں، کیا تو مجھے ابدی زندگی دے سکتا ہے؟
فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَسْطِيعُ دَفْعَ مَنِيَّتِي، فَدَعْنِي أُبَادِرْهَا بِمَا مَلَكَتْ يَدِي. لاَ تَسْطِيعُ اصل میں تھا لاَ تَسْتَطِيعُ، یہاں ایک تاء دی گئی، لاَ تَسْتَطِيعُ۔ اِسْتَطَاعَ يَسْتَطِيعُ باب استفعال ہے اور یہ جو اِسْتَطَاعَ يَسْتَطِيعُ خاص طور پر اس باب کے اندر، یہ جو مادہ ہے، مادہ کیا ہے اس کا؟ اِسْتَطَاعَ، اِسْتَفْعَلَ، مادہ نکالو، جلدی کرو۔ طاء، واو، اور عین، طَاعَ، وہ واو الف سے بدل گیا۔ طاء، واو اور عین۔ اب اس میں دیکھو، ایک طاء خود موجود ہے اور پھر تاء بھی ساتھ جمع ہو جائے، تو دونوں کا جمع ہونا ثقیل ہے، تو لہٰذا پھر تاء کو حذف کرنا بھی جائز ہے، تو یہ بھی اس کے اندر ایک لغت ہے۔ چاہے تاء کے ساتھ پڑھیں وہ بھی عرب استعمال کرتے ہیں اور چاہے تاء کو حذف کر لیں، عرب اس طرح بھی استعمال کرتے ہیں اور قرآن میں بھی دونوں طرح استعمال ہوا ہے، تو یہ صرف اسی باب کے اندر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَسْطِيعُ اگر تو استطاعت نہیں رکھتا، یعنی ایسا نہیں کر سکتا۔ دَفْعَ مَنِيَّتِي، دفع کا معنی ہے دور کرنا، ہٹانا۔ مَنِيَّتِي، یہ مَنِيَّةٌ موت کو کہتے ہیں اور ياء متکلم کی ہے، مَنِيَّتِي میری موت۔ فَدَعْنِي، دَعْنِي، وَدَعَ يَدَعُ کا معنی ہے چھوڑنا، چھوڑنا۔ تو یہ امر ہے، دَعْنِي تو مجھے چھوڑ دے۔ أُبَادِرْهَا، بَادَرَ يُبَادِرُ کے معنی ہیں کسی سے مقابلہ کرنا، سبقت لے جانا، کسی سے آگے نکلنا۔ اور أُبَادِرْهَا، یہ هَا ضمیر راجع ہے مَنِيَّةٌ جو پیچھے گزرا، موت۔ بِمَا مَلَكَتْ يَدِي، بِمَا مَلَكَتْ يَدِي وہ چیز کہ جس کا میرا ہاتھ مالک ہے، یعنی وہ چیز جو میری مملوک ہے۔
فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَسْطِيعُ دَفْعَ مَنِيَّتِي، فَدَعْنِي أُبَادِرْهَا بِمَا مَلَكَتْ يَدِي. اے مجھے ملامت کرنے والے! اوپر ذکر ہوا، جنگوں میں حاضر ہونے پر اور لذتوں میں موجود ہونے پر، کیا تو مجھے ابدی زندگی دے سکتا ہے؟ فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَسْطِيعُ اگر تو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تو ایسا نہیں کر سکتا، کیا نہیں کر سکتا؟ آگے مفعول آ رہا ہے، دَفْعَ مَنِيَّتِي میری موت کو، میری موت کو دور کرنا، دفع کرنا۔ اگر تو میری موت کو دفع نہیں کر سکتا، دور نہیں کر سکتا مجھ سے، فَدَعْنِي تو تو مجھے چھوڑ دے، أُبَادِرْهَا کہ میں اس موت سے کیا کروں؟ مقابلہ کروں، اس سے آگے نکل جاؤں، اس پر سبقت کر جاؤں، بِمَا مَلَكَتْ يَدِي اس چیز کے ساتھ جو اس کا میرا دایاں ہاتھ مالک ہے، یعنی اس کو خرچ کر کے۔ یعنی موت سے میں آگے نکل جاؤں، موت کے آنے سے پہلے پہلے میرے میری جو جو مملوک چیزیں ہیں، میرا جو مال ہے، میں اس کو خرچ کر لوں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ موت سے آگے نکلنے کا کیا معنی؟ موت کے آنے سے پہلے پہلے میں اس مال کو کیا کر لوں؟ خرچ کر لوں، کیونکہ ہمیشہ کی تو زندگی ہے نہیں، یہی زندگی ہے اور اسی کے اندر یہ مال وغیرہ ہے، تو مجھے خرچ کرنے دو اس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے دو۔
فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَسْطِيعُ دَفْعَ مَنِيَّتِي، فَدَعْنِي أُبَادِرْهَا بِمَا مَلَكَتْ يَدِي. اگر تو استطاعت نہیں رکھتا کہ مجھ سے میری موت کو دور کر دے، تو تو مجھے چھوڑ دے کہ میں آگے نکل جاؤں موت سے، اس چیز کے ذریعے جس کا میرا دایاں ہاتھ مالک ہے، یعنی ان کو خرچ کر کے، موت کے آنے سے پہلے پہلے ان کو میں خرچ کر لوں، مجھے خرچ کرنے دے، مجھے لذتوں میں مشغول رہنے دے، جنگوں میں مشغول رہنے دے۔
وَلَوْلاَ ثَلاَثٌ هُنَّ مِنْ عِيشَةِ الفَتَى، وَجَدِّكَ لَمْ أَحْفِلْ مَتَى قَامَ عُوَّدِي. وَلَوْلاَ ثَلاَثٌ، أي خِلاَلٌ ثَلاَثٌ، تین خصلتیں، تین عادتیں۔ ثَلاَثٌ صفت ہے خِلاَلٌ کی، أي وَلَوْلاَ خِلاَلٌ ثَلاَثٌ، اور خلال جمع ہے خَلَّةٌ کی اور خَلَّةٌ کہتے ہیں خصلت اور عادت کو۔ وَلَوْلاَ خِلاَلٌ ثَلاَثٌ اور اگر تین عادتیں، تین خصلتیں نہ ہوتیں۔ مِنْ عِيشَةِ الفَتَى، عيشة کہتے ہیں زندگی کو، عيشة کہتے ہیں زندگی کو۔ فَتَى، فتى کہتے ہیں جوان کو۔ وَجَدِّكَ، جَدٌّ کہتے ہیں قسمت کو، یہاں قسمت کے معنی میں ہے، قسمت، نصیب، بخت۔ وَجَدِّكَ اور یہ واو قسم کے لیے ہے، وَجَدِّكَ تیرے نصیب کی قسم ہے، تیری قسمت کی قسم ہے۔ تو یہ واو کس لیے ہے؟ قسم کے لیے ہے، جیسے عام استعمال ہوتا ہے کلام عرب میں وَاللهِ، یہ واو کس لیے ہے؟ قسم کے لیے۔ اور واو قسمیہ جر دیتا ہے، اسی لیے وَجَدِّكَ، جد پر کسرہ پڑھ رہے ہیں آپ۔
لَمْ أَحْفِلْ، حَفَلَ يَحْفِلُ کے معنی ہیں کسی چیز پر توجہ دینا، اس کا اہتمام کرنا۔ حَفَلَ يَحْفِلُ، تو لَمْ أَحْفِلْ توجہ نہ دینا، پروا نہ کرنا۔ عُوَّدِي، عُوَّدٌ جمع ہے عَائِدٌ کی۔ عَادَ يَعُودُ عِيَادَةً، اس کا معنی ہے کسی کی عیادت کرنا۔ عَادَ يَعُودُ عَوْداً کا معنی لوٹنا بھی ہے اور اسی طرح عَادَ يَعُودُ عَوْداً وَعِيَادَةً کا معنی کسی کی عیادت کرنا، کسی بیمار کی تیمارداری کرنا، تو اسی سے اسم فاعل ہے عَائِدٌ، عیادت کرنے والا اور اس عائد کی جمع ہے عُوَّدٌ، عُوَّدٌ عیادت کرنے والے۔ اور یہ جو ياء ہے، یہ ياء متکلم کی ہے، مضاف الیہ ہے، عُوَّدِي میری عیادت کرنے والے۔
وَلَوْلاَ ثَلاَثٌ هُنَّ مِنْ عِيشَةِ الفَتَى، وَجَدِّكَ لَمْ أَحْفِلْ مَتَى قَامَ عُوَّدِي. وَلَوْلاَ ثَلاَثٌ اور اگر تین خصلتیں نہ ہوتیں، اگر تین ایسی خصلتیں نہ ہوتیں، هُنَّ مِنْ عِيشَةِ الفَتَى جو جوان کی زندگی ہیں، اگر تین ایسی خصلتیں نہ ہوتیں جو جوان کی زندگی ہیں، یعنی جن کو جو جوان کی زندگی میں لذت پیدا کرنے والی ہیں، اگر وہ تین چیزیں نہ ہوتیں، وَجَدِّكَ تو قسم ہے تیرے نصیب کی، تیری قسمت کی، لَمْ أَحْفِلْ، لَمْ أَحْفِلْ میں پروا بھی نہ کرتا، مَتَى قَامَ عُوَّدِي کہ کب اٹھ گئے میری عیادت کرنے والے۔ میں پروا بھی نہ کرتا کہ میری عیادت کرنے والے کب اٹھتے ہیں۔
شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ جوان کی زندگی میں تین چیزیں جو ہیں، وہ لذت پیدا کرنے والی ہیں اور اس کو زندگی کا شوق اس کو دلانے والی ہیں، اگر وہ تین چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے ذرا بھی پروا نہیں تھی کہ میں کب مرتا ہوں۔ وہ تین چیزیں جو جوان کی زندگی میں لذت پیدا کرنے والی ہیں، اگر وہ نہ ہوتیں تو مجھے پروا بھی نہ ہوتی کہ میں کب مرتا ہوں۔ یہ وہ تین چیزیں ہیں جو میری زندگی، جو کہ زندگی کا سہارا ہیں اور مجھے جینے کی، جینے کا شوق دلانے والی ہیں اور جینے کی لگن پیدا کرنے والی ہیں۔ وہ آگے ذکر کرے گا وہ تین چیزیں کیا ہیں اگلے اشعار میں۔
تو کہتا ہے: وَلَوْلاَ ثَلاَثٌ هُنَّ مِنْ عِيشَةِ الفَتَى اور اگر وہ تین خصلتیں نہ ہوتیں جو کہ جوان کی زندگی ہیں، یعنی اس کی زندگی میں لذت پیدا کرنے والی ہیں، وَجَدِّكَ قسم ہے تیرے نصیب کی، یہ کلام عرب میں قسم اٹھائی جاتی ہے بعض اوقات کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے، کلام میں تاکید پیدا کرنے کے لیے، تو یہ اسی نوع سے ہے، قسم ہے تیرے نصیب کی۔ تو بعضوں نے لکھا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ قسم ہے تیری ذات کی، کیونکہ تیرا نصیب تیرے ساتھ جڑا ہوا ہے، تو قسم ہے تیری ذات کی۔ یا بعضوں نے کہا کہ معنی یہ ہے، قسم ہے تیرے باپ کی، یعنی وہ اسی کی طرح معنی، اسی معنی میں ہے کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے اور تاکید پیدا کرنے کے لیے۔ تو قسم ہے تیرے نصیب کی، لَمْ أَحْفِلْ میں پروا بھی نہ کرتا، مَتَى قَامَ عُوَّدِي کہ کب میری عیادت کرنے والے کھڑے ہو جاتے، اٹھ جاتے۔ کیا معنی؟ بھئی! انسان جب تک زندہ ہوتا ہے، بیماری کے اندر ہوتا ہے، عیادت کرنے والے آتے ہیں اور جب موت آ جاتی ہے، تو عیادت کرنے والے اٹھ جاتے ہیں بھئی، پھر عیادت کے لیے کوئی نہیں آتا، تو یہ معنی ہے کہ میں پروا بھی نہیں کرتا، مَتَى قَامَ عُوَّدِي کب میری عیادت کرنے والے اٹھ جاتے، یعنی میری موت آ جاتی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
فَمِنْهُنَّ سَبْقِي العَاذِلاَتِ بِشَرْبَةٍ، كُمَيْتٍ مَتَى مَا تُعْلَ بِالمَاءِ تُزْبِدِ. سَبْقِي، سَبَقَ يَسْبِقُ کا معنی ہے سبقت کرنا، کسی سے آگے نکلنا۔ سَبْقِي میرا سبقت کرنا، یہ ياء متکلم کی ہے، مضاف الیہ ہے، تو یہ مصدر کی اضافت ہو رہی ہے فاعل کی طرف، میرا سبقت کرنا۔ العَاذِلاَتِ، عاذلات جمع ہے عَاذِلَةٌ کی، ملامت کرنے والی، عَاذِلَةٌ کہتے ہیں ملامت کرنے والی اور عَاذِلاَتِ جمع ہے، ملامت کرنے والیاں۔ بِشَرْبَةٍ، شربة کہتے ہیں ایک مرتبہ جو مقدار کسی مشروب کی پی جائے ایک وقت کے اندر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شربة۔ ایک وقت میں آپ پانی پیتے ہیں، تو وہ شربة کہلائے گی بھئی اور یہاں شاعر کی مراد شراب ہے بھئی، شراب کی وہ مقدار جو ایک وقت پی جائے۔
كُمَيْتٍ، کمیت کہتے ہیں سیاہی مائل سرخ گھوڑے کو، تو سیاہی مائل سرخ گھوڑے کو کمیت کہتے ہیں اور اسی طرح سیاہی مائل سرخ شراب جو ہو، اس کو بھی کمیت کہتے ہیں۔ تو یہ گھوڑے کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور شراب کی صفت کے طور پر بھی، کمیت۔ اور یہ صفت ہے شَرْبَةٍ کی، وہ مشروب، وہ شراب كُمَيْتٍ جو کس رنگ کی ہو؟ سیاہی مائل سرخ رنگ کی ہو۔ تو یہ کمیت شراب کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، اسی طرح گھوڑے کی صفت بھی بھئی، یہ جو عام گھوڑے آپ دیکھتے ہیں، دیکھیں ان کا رنگ بھی سیاہی مائل سرخ ہے بھئی۔ تو كُمَيْتٍ یہاں شعر میں صفت ہے شَرْبَةٍ کی، شَرْبَةٍ موصوف اور كُمَيْتٍ اس کی صفت اور یہ کمیت مذکر مونث کے لیے اسی طرح رہتا ہے، تو شَرْبَةٍ کے آخر میں گول تاء ہے، آپ یہ نہ کہیں کمیت کے آخر میں تو گول تاء نہیں، تو یہ کمیت اسی طرح مذکر مونث کے لیے یکساں رہتا ہے۔
مَتَى مَا تُعْلَ، عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً کے معنی ہیں اوپر چڑھنا، اوپر اٹھنا اور یہاں پر تُعْلَ بِالمَاءِ کے معنی ہیں پانی کے ذریعے اوپر اٹھانا، یعنی پانی کو شراب میں ملانا، مراد کیا ہے؟ معنی لفظی ترجمہ تو یہ ہے، تُعْلَ بِالمَاءِ اس کو بلند کیا گیا کس کے ذریعے؟ پانی کے ذریعے، لیکن مراد ہے پانی کا ملانا، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ شراب خوب تیز ہو، اس طرح کی جو شراب اس نے ذکر کی، اس میں جب پانی کو ملائیں تو وہ بہت تیزی سے اس میں جھاگ بنتی ہے اور وہ اوپر کی طرف اٹھتی ہے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ مرادی معنی ہے مَتَى مَا تُعْلَ بِالمَاءِ جس میں پانی کو ملایا جائے، تُزْبِدِ، أَزْبَدَ يُزْبِدُ کا معنی ہے جھاگ لانا، جھاگ نکالنا، کسی چیز کے اوپر جھاگ آنا۔
فَمِنْهُنَّ سَبْقِي العَاذِلاَتِ بِشَرْبَةٍ، كُمَيْتٍ مَتَى مَا تُعْلَ بِالمَاءِ تُزْبِدِ. اب وہ تین چیزیں ذکر کر رہا ہے کہ وہ تین چیزیں جو نوجوان کی زندگی میں لذت پیدا کرتی ہیں، اگر وہ نہ ہوتیں تو مجھے کوئی فکر نہیں تھی کہ میں کب مرتا ہوں، تو کہتا ہے: فَمِنْهُنَّ تو ان تین میں سے ایک جو ہے، سَبْقِي میرا سبقت کر لینا، العَاذِلاَتِ ملامت کرنے والیوں پر، العَاذِلاَتِ یہ مجرور کیوں ہے بھئی؟ جی؟ مجرور کیوں ہے؟ جر تو دو ہی وجہ سے آتا ہے، یا مضاف الیہ ہو یا اس پر کوئی حرف جر داخل ہو، جی؟ ہاں! شاباش! یہ منصوب ہے، مجرور نہیں ہے، ہاں! اس کا نصب آتا ہی کس شکل میں ہے؟ جر جیسی صورت ہوتی ہے، یعنی کسرہ ہوتا ہے، تو یہ نصب ہے اور یہ مفعول ہے سَبْقِي کے لیے، میرا سبقت کرنا، کس پر سبقت کرنا؟ العَاذِلاَتِ وہ جو ملامت کرنے والیاں ہیں۔ تو یہ العَاذِلاَتِ یہ مفعول ہے سَبْقِي، سبق جو پیچھے مصدر گزرا اس کے لیے اور یہ چونکہ جمع مونث سالم ہے اور جمع مونث سالم کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے، تو یہ اس وقت منصوب ہے بھئی۔
کس چیز کے ساتھ سبقت کرنا؟ بِشَرْبَةٍ كُمَيْتٍ ایک ایسی شراب جو کس رنگ کی ہو؟ سیاہی مائل سرخ رنگ کی ہو۔ مَتَى مَا تُعْلَ بِالمَاءِ کہ جب اس میں پانی کو ملایا جائے، تُزْبِدِ تو وہ جھاگ دینے لگتی ہے، وہ جھاگ دینے لگتی ہے۔
تو ان چیزوں میں سے ایک کیا ہے؟ ان چیزوں میں سے کیا ہے ایک ہے؟ تین خصلتیں کہ میں ملامت کرنے والیوں سے سبقت کر جاؤں۔ اصل میں ہوتا یوں کہ رات کے وقت، شام کے وقت کوئی شخص شراب پی لیتا، تو پھر تو نشے میں رہتا اور اسی نشے کے اندر سو جاتا، صبح جب اٹھتا تھا تو پھر نشہ اترا ہوتا تھا، تو اس وقت اس کو ملامت کیا جاتا، برا بھلا کہا جاتا، منع کیا جاتا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیوں کر رہے ہو؟ تو اس لیے اس نے کیا کہا کہ ان میں سے ایک یہ ہے، سَبْقِي العَاذِلاَتِ کہ میں سبقت کر جاؤں کن پر؟ ملامت کرنے والیوں پر، بِشَرْبَةٍ كُمَيْتٍ کس چیز کے ساتھ؟ یعنی وہ سرخ شراب پینے کے ساتھ، یعنی میں ان پر سبقت کر جاؤں، ان کے اٹھنے سے بھی پہلے میں اٹھ جاؤں اور کیا پی لوں؟ سرخ رنگ کی شراب پی لوں بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ ان پر سبقت کر جاؤں، یعنی ان سے بھی پہلے صبح اٹھ کر شراب پی لوں، ان کی ملامت سے پہلے۔
فمنهن سبق العاذلات بشربة كميت، تو ان خصلتوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں ملامت کرنے والیوں پر سبقت کر جاؤں اس سیاہی مائل سرخ رنگ کی شراب پی کر۔ متى ما تعل بالماء تزبد، اور وہ ایسی شراب کہ جب اس میں جب اس میں پانی کو ملایا جائے تزبد تو وہ جھاگ دینے لگتی ہے یعنی اتنی تیز ہے۔
تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ صبح بھی جب میں اٹھوں تو ملامت کرنے والیوں کے اٹھنے سے پہلے ہی کیا پی لوں؟ شراب پی لوں۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ رات کو شراب پی کر انسان سوتا ہے اور صبح جب اٹھتا ہے تو پھر نشے میں نہیں ہوتا تو اس وقت لوگ اس کو منع کرتے ہیں، سمجھاتے ہیں، ملامت کرتے ہیں۔ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ گویا رات کو سوتے وقت بھی میں نشے میں ہوں، میری شام بھی نشے کے اندر ہو، کوئی مجھے صبح کا انتظار کریں کہ صبح اس کو سمجھائیں گے، اور صبح بھی میں سب کے اٹھنے سے پہلے ہی اٹھ کر کیا پی لوں؟ شراب پی لوں، گویا ہر وقت شراب کے نشے میں اور لذتوں کے اندر مدہوش رہوں، کسی کو مجھے ملامت کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔
وكرى إذا نادى المضاف محنبا كسيد الغضا نبهته المتورد، وكرى کر يكر كرا، اس کا مصدر کر بھی آتا ہے اور کرور بھی آتا ہے۔ توجہ ہے؟ کر يكر كرا اور کر يكر كرورا۔ کر يكر كرا ہو تو اس کا معنی ہے پلٹانا، موڑنا، موڑنا، اور کر يكر كرورا ہو تو اس کا معنی ہے خود پلٹنا، واپس ہونا۔ تو ایک لازمی ہے اور ایک کیا ہے؟ متعدی۔
تو کہتا ہے وكرى اور میرا پلٹانا، كرى یہ یاء متکلم کی ہے، وكرى اور میرا پلٹانا، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ لفظ پہلے بھی گزرا ہے امرؤ القیس کے معلقے میں، مكر مفر مقبل مدبر كجلمود صخر حطه السيل من عل، تو مكر، پلٹنے والا، بار بار پلٹنے والا، یا تیزی سے پلٹنے والا۔
إذا نادى، نادى ينادى کے معنی نداء دینا، پکارنا۔ المضاف، مضاف کا معنی ہے وہ شخص جو ڈرا ہوا ہو، خوفزدہ ہو، دشمن وغیرہ سے۔ محنبا، محنبا، محنب وہ گھوڑا جس کے اگلے پاؤں میں تھوڑا سا ٹیڑھا پن ہو۔ محنب وہ گھوڑا جس کے اگلے پاؤں میں تھوڑا سا ٹیڑھا پن ہو۔ اور یہ تھوڑا سا یہ پسندیدہ ہے، یہ گھوڑے کے دوڑنے میں کہتے ہیں معاون ہوتا ہے، اس کی رفتار بڑھتی ہے اس سے، لیکن تھوڑا سا، اعتدال کے درجے میں ہو، زیادہ نہ ہو، زیادہ ہو تو وہ پسندیدہ نہیں ہے۔
تو ایک ہے تحنیب، توجہ ہے؟ ایک ہے تحنیب، اسی سے ہے محنب، تحنیب کا معنی ہے پاؤں میں پاؤں کا ٹیڑھا ہونا ہلکا سا، اور ایک ہے تجنیب بھئی جيم کے ساتھ، اور اس کا معنی بھی پاؤں کا ٹیڑھا ہونا، اور ایک ہے، ایک کا معنی ہے اگلے پاؤں کا ٹیڑھا ہونا ہلکا سا، اور ایک کا معنی ہے پچھلے پاؤں کا تھوڑا سا ٹیڑھا ہونا۔
تو ایک عالم سے کسی نے پوچھا بھئی کہ کہ ما الفرق بين التحنيب والتجنيب، تحنیب اور تجنیب میں کیا فرق ہے؟ ان میں سے کون سا اگلے پاؤں کے لیے آئے گا اور کون سا پچھلے پاؤں کے لیے؟ تو انہوں نے عجیب جواب دیا، فرمایا: الجيم مع الجيم، الجيم مع الجيم، یعنی پوچھنے والے نے سوال یہ کیا تھا کہ ما الترحيب والتجنيب، ترحیب اور تجنیب کیا ہے؟ أيهما في اليدين وأيهما في الرجلين، ان میں سے ہاتھوں میں کون سا ہوتا ہے اور رجلین میں کون سا ہوتا ہے؟ میں نے بتایا حیوان کے اگلے دو پاؤں پر کس ان کو کیا کہتے ہیں؟ ہاتھ، ید بولتے ہیں، اور پچھلے پاؤں پر رجل، تو اس نے پوچھا أيهما في اليدين وأيهما في الرجلين، تو کہنے لگے الجيم مع الجيم، جيم کس کے ساتھ ہے؟ جيم، یعنی تجنیب جو ہے وہ رجلین کے اندر اس کے لیے ہے اور تحنیب یدین کے لیے۔
كسيد الغضا، سید کہتے ہیں بھیڑیے کو بھئی، سید بھیڑیے کو کہتے ہیں، جمع اس کی سیدان۔ غضا، غضا یہ جھاؤ کا درخت بھئی، لغت وغیرہ میں اس کا معنی لکھا ہے جھاؤ کا درخت، کوئی درخت ہے اس کا نام ہے۔ یہ جھاؤ کا درخت جو ہے غضا، یہ اور اشعار وغیرہ میں بھی ذکر آتا ہے بھئی۔ یہ عرب کے ریگستانوں میں، صحراؤں میں پایا جانے والا ایک درخت ہے اور یہ زیادہ اونچا نہیں ہوتا اور زیادہ تر یہ جھاڑیوں کی صورت میں زمین پر پھیلتا ہے، جھاڑیوں کی صورت میں پھیلتا جاتا ہے زمین پر، اور کبھی کبھی تھوڑے سے بعض شاخیں اس کی اوپر تک بھی بیس پچیس فٹ تک بھی چلی جاتی ہیں بعض اس کے تنے وغیرہ، اور تو چھوٹا سا بہرحال درخت ہوتا ہے اور زمین پر خوب پھیلتا ہے، اس کے پتے جو ہیں وہ نوکدار سے ہوتے ہیں، باریک سے۔ بعض درخت آپ نے یہاں بھی دیکھے ہوں گے بھئی ان کے پتے نوکدار سے ہوتے ہیں جیسے پتوں کی جگہ جیسے گھاس سی لگی ہوئی ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یہ اس طرح کا ایک درخت ہوتا ہے اور یہ جلانے کے کام آتا ہے، اس کی لکڑی بڑی سخت ہوتی ہے، بہت بہترین جلتا ہے، تو اس کی جلانے کے لیے لوگ لکڑی لیتے ہیں اور عام لکڑی کی بنسبت یہ لکڑی کئی گنا زیادہ مہنگی ہوتی ہے کیونکہ جلتی بہت زبردست ہے بھئی، تو اس کو کہتے ہیں غضا، غضا۔
نبهته، نبه ينبه تنبيه کا معنی ہے کسی کو متوجہ کرنا، متوجہ کرنا، کسی کو تنبیہ کرنا، تنبیہ کرنا۔ المتورد، متورد ورد سے ہے، ورد کہتے ہیں پانی کے گھاٹ کو، تالاب یا نہر یا دریا پر جو پانی پینے کی جگہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ گھاٹ، تو متورد کا معنی ہے ورد پر آنے والا، وہ شخص یا وہ حیوان جو پانی کی طلب میں کہاں پر آئے؟ پانی کے گھاٹ پر آنے والا ہو اس کو متورد کہتے ہیں۔
تو شاعر کہتا ہے: وكرى إذا نادى المضاف محنبا كسيد الغضا نبهته المتورد، دوسری چیز، بتلایا تھا نا تین خصلتیں ہیں، ایک خصلت کیا؟ صبح سویرے تیز نشہ آور شراب پینا، اور دوسری خصلت اب ذکر کر رہا ہے وكرى، اور میرا واپس پلٹانا إذا نادى المضاف، جب پکارے المضاف، وہ شخص جو خوفزدہ ہے یعنی دشمن وغیرہ سے خوفزدہ ہے، وہ پکارے۔ وكرى، میرا اور میرا پلٹانا، کس چیز کو موڑنا میرا، کس چیز کو پلٹانا، کس چیز کو موڑنا؟ محنبا، ایک ایسے گھوڑے کو، یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، فرسا محنبا، ایسا گھوڑا جس کے اگلے پاؤں میں تھوڑا سے تھوڑی سی کجی ہو، یعنی تیز رفتار گھوڑا ہو، كسيد الغضا، جیسے کہ غضا کا بھیڑیا ہوتا ہے، نبهته، جس کو آپ تنبیہ کر دیں، یعنی جس کو آپ چوکننا کر دیں، جس کو کیا کر دیں؟ ہاں، چوکننا کر دیں، چوکس کر دیں، اور یا اور کیا ترجمہ کر لیں اس کا؟ ہاں، جس کو آپ ابھاریں بھئی، جس کو کیا کریں آپ؟ برانگیختہ کریں، ابھاریں، اس کو چوکس کر دیں، اس کو چوکننا کر دیں، المتورد، اور وہ بھیڑیا کیسا ہو؟ پانی طلب کرنے والا ہے، پانی کی طلب میں گھاٹ پر آنے والا ہے، یعنی وہ پیاسا ہے۔
تو اپنے گھوڑے کی رفتار کو تشبیہ دے رہا ہے اس اس بھیڑیے کے ساتھ۔ میں نے بتلایا محنبا صفت ہے کس کی؟ فرسا، موصوف محذوف ہے، فرسا محنبا، تو محنبا ہے صفت اول، اور كسيد الغضا یہ جار مجرور نکرہ کے بعد آئے تو یہ اس کی صفت ثانی ہے۔ تو محنب کا معنی میں نے بتلایا، کیا معنی؟ جس کے اگلے پاؤں میں کچھ ٹیڑھا پن، اور یہ پسندیدہ ہے، کیوں؟ اس کی وجہ سے گھوڑا تیز دوڑتا ہے۔ تو محنب کا مرادی ترجمہ کر لیں، تیز رفتار گھوڑا، کیا معنی؟ تیز رفتار گھوڑا۔
تو جب جب میں واپس موڑتا ہوں کس کو؟ محنبا، ایک ایسے تیز رفتار گھوڑے کو، كسيد الغضا، جو کس کی طرح ہے؟ غضا درخت کے بھیڑیے کی طرح ہے، نبهته، جس کو آپ نے چوکس کر دیا ہو، اور المتورد، اور وہ پیاسا ہو، یعنی پانی کی طلب میں آ رہا ہے معلوم ہوا وہ کیا ہے؟ پیاسا ہے، تو مرادی ترجمہ پیاسا ہے۔
اور بھیڑیے کی تین صفات ذکر کیں: ایک تو یہ کہ وہ غضا کا بھیڑیا ہو، وجہ یہ کہ ایک عام بھیڑیا ہے اور ایک یہ غضا میں رہنے والا بھیڑیا ہے، اس کو اپنا مسکن بنانے والا، تو کہتے ہیں یہ جو غضا میں رہنے والا بھیڑیا ہوتا ہے، اس کی جھاڑیوں میں رہنے والا، یہ سب سے خطرناک ہوتا ہے بھئی۔ اور نیز دوسری صفت تھی نبهته کہ آپ نے اس کو چوکس کر دیا، برانگیختہ کر دیا، اب یہ اور زیادہ خطرناک ہو گیا، پہلے تو ہو سکتا ہے اس کی توجہ وغیرہ نہ ہو لیکن اب اور زیادہ خطرناک بن گیا۔ اور المتورد اور کہا کہ یہ پانی کی طلب میں گھاٹ پر آنے والا ہے یعنی پیاسا بھی ہے، تو یہ اور بھی زیادہ خطرناک اور تیز رفتار ہے کیونکہ آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ ابھار دیا، چوکننا کر دیا، اور زیادہ تیز دوڑنے والا ہے، اور المتورد پیاسا بھی ہے، تو یہ تینوں صفات یہ بتلانے کے لیے کہ وہ بھیڑیا جو بڑا ہی خطرناک اور بڑا ہی تیز رفتار ہو بھئی۔
وكرى إذا نادى المضاف محنبا كسيد الغضا نبهته المتورد، اور میرا پلٹانا جس وقت کہ کوئی خوفزدہ شخص پکارے، اس وقت میرا واپس موڑنا محنبا ایک ایسے گھوڑے کو جس کی اگلے پاؤں ٹیڑھے ہیں یعنی وہ تیز رفتار ہے، جیسے کہ غضا کا بھیڑیا ہوتا ہے جس کو آپ نے چوکس کر دیا ہو اور وہ پیاسا ہو۔
تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ کوئی مجھے تکلیف میں مصیبت کے اندر پکارے تو میں ایک گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی مدد کے لیے پہنچوں، اور وہ گھوڑا بڑا ہی خوفناک ہو اور انتہائی تیز رفتار ہو جیسے کہ غضا کا بھیڑیا ہوتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
وتقصير يوم الدجن والدجن معجب ببهكنة تحت الخباء المعمد، تقصير، قصر يقصر تقصيرا کا معنی ہے چھوٹا کرنا، لمبی چیز کو چھوٹا کرنا۔ يوم الدجن، يوم الدجن کہتے ہیں وہ دن کہ آسمان پر ہر طرف بادل چھائے ہوئے ہوں اور ہلکی بارش بھی ہو بھئی، اور یقیناً یہ بڑا پسندیدہ ہے اور ہر شخص کو یعنی یہ اچھا لگتا ہے کہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہوں اور ہلکی بارش ہو۔
تو يوم الدجن کا کیا معنی؟ آسمان پر ہر طرف گھٹائیں چھائی ہوئی ہوں اور ہلکی بارش ہو۔ والدجن معجب، معجب کا معنی پسندیدہ بھئی جو اچھا لگے، ببهكنة، بهكنة، بهكنة کہتے ہیں وہ عورت جو حسین و جمیل ہو، نرم و نازک اور موٹی ہو بھئی، وہ عورت جو حسین و جمیل، نرم و نازک اور موٹی ہو اس کو بهكنة کہتے ہیں۔ تحت الخباء المعمد، خباء کہتے ہیں خیمے کو، خیمے کو، معمد، معمد عمود سے ہے، عمود یعنی ستون، معمد وہ خیمہ جس کو ستونوں پر کھڑا کیا گیا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خباء معمد۔
وتقصير يوم الدجن والدجن معجب ببهكنة تحت الخباء المعمد، تیسری چیز ذکر کر رہا ہے جو نوجوان کی زندگی ہے بھئی، تیسری چیز کیا؟ وتقصير يوم الدجن، چھوٹا کرنا گھٹا اور بارش والے دن کو، گھٹا اور بارش والے دن کو چھوٹا کرنا، مختصر کرنا۔ بھئی کیا معنی مختصر کرنا؟ بتلانا یہ چاہتا ہے کہ بھئی خوشی کا جو وقت ہے، لذت کا جو وقت ہے، بڑی جلدی گزر جاتا ہے، اور تکلیف کا جو وقت ہے وہ گزرتا ہی نہیں، آپ بھی دیکھتے ہیں کبھی بیمار ہوں تو وہ دن یا رات گزرنے میں ہی نہیں آتا بھئی، البتہ خوشی کا جو وقت ہے بڑی جلدی گزر جاتا ہے۔ تو تقصير يوم الدجن، کیا معنی؟ دن کو لذتوں کے ساتھ چھوٹا کرنا، لذتوں میں مشغول ہوئے تو دن کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ کہتے ہیں وتقصير يوم الدجن، اور بادلوں اور بارش والے دن کو چھوٹا کرنا، والدجن معجب، اس حال میں کہ یہ گھٹا اور بارش والا دن جو ہے وہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ تو وتقصير يوم الدجن، اس بادل اور بارش والے دن کو چھوٹا کرنا ببهكنة، کس کے ذریعے؟ ایک نرم و نازک، حسین و جمیل، موٹی عورت کے ذریعے، تحت الخباء المعمد، کس کے نیچے؟ ستونوں والے، ستونوں والے خیمے کے نیچے، یعنی اس کے ساتھ لذتوں میں مشغول ہوں اور اسی میں دن گزر جائے، اس کے گزرنے کا پتہ ہی نہ چلے۔ یہ تین لذتیں ہیں جو نوجوان کو زندگی دینے والی اور اس میں زندگی کا شوق پیدا کرنے والی ہیں: ایک تو یہ کہ صبح سویرے تیز نشہ آور شراب پیوں، دوسرا یہ کہ میں جو مجھے مدد کے لیے پکارے میں اس کی مدد کے لیے فوراً پہنچوں اور اس کو دشمنوں سے اس کی جان چھڑاؤں، اور تیسرا یہ کہ حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ میں مشغول رہوں، معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو طرفۃ بن العبد نے آپ کو بتلایا کہ اگر تین خصلتیں نہ ہوتیں جو نوجوان کی زندگی کی لذت ہیں، تو پھر مجھے اپنی موت کی پروا بھی نہ ہوتی، اور پھر وہ تین خصلتیں بیان کیں کہ ایک تو یہ کہ شراب کے نشے کی لذت اٹھائے، دن رات اس شراب کے نشے میں مدہوش رہے، اور دوسرا جب اس کو کوئی مدد کے لیے پکارے تو فوراً اس کی مدد کو پہنچے اپنی شجاعت، جرات اور ہمت اور بہادری کو دنیا کے سامنے اس کا اظہار کرے، اور تیسرا، تیسرا جو اس کی زندگی میں لذت پیدا کرنے والی ہیں اور اسے زندگی کا شوق دلانے والی ہیں، وہ حسین و جمیل عورتوں سے لطف اندوز ہونا۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔