آگے کتاب پر دیکھیے!
اِذَا رَجَّعَتْ فِي صَوْتِهَا خِلْتَ صَوْتَهَا
تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ عَلَى رُبَعٍ رَدِي
وَمَا زَالَتْ تَشْرَابِي الْخُمُورَ وَلَذَّتِي
وَبَيْعِي وَإِنْفَاقِي طَرِيفِي وَمُتْلَدِي
إِلَى أَنْ تَحَامَتْنِي الْعَشِيرَةُ كُلُّهَا
وَأُفْرِدْتُ إِفْرَادَ الْبَعِيرِ الْمُعَبَّدِ
طرفہ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور شاعر اپنی صفات بیان کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ ایک باندی ہے اس کی، گانا گانے والی، وہ اس کی صفات بھی بیان کرنے لگا اس کی خوبیاں۔ کہتا ہے: اِذَا رَجَّعَتْ فِي صَوْتِهَا خِلْتَ صَوْتَهَا تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ عَلَى رُبَعٍ رَدِي۔
رَجَّعَ، رَجَّعَ يُرَجِّعُ تَرْجِيع، بھئی ایک تو آپ نے فقہ کے اندر ترجیعِ اذان پڑھا ہوگا بھئی۔ ترجیعِ اذان یہ ہے اذان میں ترجیع کرنا، کہ یہ جو شہادتین ہیں ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ اور ”أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“ صلی اللہ علیہ وسلم، جی؟ ہاں، یہ پہلے آہستہ آواز سے پڑھا جاتا ہے اور پھر بلند آواز سے پڑھا جاتا ہے اور یہ ترجیع ہے بھئی، ترجیع۔
لوٹانا، دہرانا، دیکھو اس کو دہرایا جاتا ہے، پہلے آہستہ آواز کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور پھر دہرایا جاتا ہے اونچی آواز میں۔
اچھا، یہاں پر ترجیع کا معنی ہے آواز کو لوٹانا یعنی آواز کو لہرانا بھئی۔ گانا گانے والے گلے کے اندر آواز کو موڑتے ہیں بھئی، اس میں ترنم پیدا کرتے ہیں، اس کو لہراتے ہیں اور یا جیسے آپ دیکھ لیں قراء حضرات بھئی، قاری حضرات جب کہیں پر مد آتا ہے، آواز کو لمبا کرنا ہے، تو اس کو سیدھا نہیں رکھتے بلکہ آواز کو ذرا ہلاتے ہیں بھئی، یہ ہے ترجیع بھئی۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو وہ جو آواز کو تھوڑا سا اس میں ترنم پیدا کرنے کے لیے اور خوبصورت بنانے کے لیے آواز کو موڑتے ہیں، اس کو ترجیع کہتے ہیں۔
خِلْتَ، خَالَ يَخَالُ کے معنی ہیں خیال کرنا، گمان کرنا۔ صَوْت آواز کو کہتے ہیں۔ تَجَاوُب، تَجَاوُب یہ جواب سے ہے، جواب سے۔ تو بابِ تفاعل ہے اور بابِ تفاعل کا ایک خاصہ کیا ہے؟ یہ جانبین سے فعل چاہتا ہے، اس میں جانبین سے فعل ہوتا ہے۔ تو تَجَاوُب کا معنی ہے باہم ایک دوسرے کو جواب دینا۔
باہم، جیسے تَضَارُب کا کیا معنی ہے؟ ضرب کا معنی ہے مارنا، اور تَضَارُب کا معنی ہے باہم ایک دوسرے کو مارنا۔ یعنی زید عمر کی پٹائی کر رہا ہے، تو عمر زید کی کر رہا ہے، تو اس وقت تَضَارُب کہیں گے بھئی۔
أَظْئَار بھئی، أَظْئَار جمع ہے ظِئْرٌ کی بھئی۔ ط ظ ہے بھئی ظ، ظِئْرٌ۔ اور ظِئْرٌ کہتے ہیں وہ عورت جو دوسرے کے بچے کی پرورش کرے، یعنی وہ جو دایہ وغیرہ ہے اور جو بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے۔ اسی طرح وہ اونٹنی، وہ اونٹنی جو دوسری اونٹنی کے بچے پر مہربان ہو اور اسے دودھ پلائے، اسے دودھ پینے دے، اس کو بھی ظِئْرٌ کہتے ہیں۔
عَلَى رُبَعٍ، رُبَع کہتے ہیں وہ بچہ جو موسمِ بہار میں پیدا ہو، یہ ربیع سے ہے، ربیع۔ تو موسمِ بہار میں پیدا ہونے والا بچہ۔ جبکہ یہاں پر علامہ زوزنی نے رُبَع کا معنی کیا ہے: پہلی مرتبہ جو بچہ پیدا ہو، پہلے حمل سے جو بچہ پیدا ہو، پہلی مرتبہ جو اونٹنی وغیرہ کا پہلا بچہ ہو، اس کو رُبَع کہتے ہیں۔
اور رَدِي، رَدِي جو ہے رَدِي، یہ صفتِ مشبہ ہے۔ رَدِيَ يَرْدَى کا معنی ہے ہلاک ہونا۔ اسی سے صفتِ مشبہ ہے رَدِي بھئی۔ رَدِي بر وزنِ فَعِل، فَعِلٌ۔ فَعِل جیسے خَشِن بھئی، خَشِنٌ۔ خَشِن کا معنی کھردرا، یہ بھی صفتِ مشبہ ہے۔ تو اسی طرح یہ رَدِي ر، د، اور ی بھئی۔
تو رَدِي کا معنی وہ ہلاک ہونے والا، وہ جو ہلاک ہو جائے بھئی، وہ ہے رَدِي، صفتِ مشبہ ہے۔ اور یہاں یہ شعر میں یہ صفت ہے رُبَع کی بھئی، رُبَع کی صفت، رُبَع موصوف اور رَدِي اس کی صفت۔
تو رُبَعٍ رَدِي کا معنی ہوا ہلاک ہونے والا بچہ، وہ بچہ جو ہلاک ہو گیا ہے، مر گیا ہے۔
الفاظ کے معانی سمجھ میں آ گئے؟ تو شاعر کہتا ہے: اِذَا رَجَّعَتْ فِي صَوْتِهَا خِلْتَ صَوْتَهَا تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ عَلَى رُبَعٍ رَدِي۔
اِذَا رَجَّعَتْ فِي صَوْتِهَا، جب وہ ترجیع کرتی ہے فِي صَوْتِهَا اپنی آواز میں، جب وہ آواز کو لہراتی ہے تو خِلْتَ تو تو گمان کرے گا، تو یہ سمجھے گا صَوْتَهَا اس کی آواز کے بارے میں کہ وہ کیا ہے؟ تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ عَلَى رُبَعٍ رَدِي۔ تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ عَلَى رُبَعٍ رَدِي، میں نے بتایا أَظْئَار جمع ہے کس کی؟ ظِئْرٌ۔ اور ظِئْرٌ کسے کہتے ہیں؟ وہ عورت جو دوسرے کے بچے کی کیا کرے؟ پرورش کرے، اسے دودھ وغیرہ پلائے یا اسی طرح وہ اونٹنی جو دوسرے کے بچے کی پرورش کرے، اس کو دودھ وغیرہ پلائے۔
لیکن یہاں وہ اونٹنی یا وہ عورت جس کا بچہ ہو، وہ مراد ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں اس کی آواز کے بارے میں جب وہ ترجیع کرے تو اس کی آواز کے بارے میں تو یوں گمان کرے گا جیسے کہ وہ تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ، کہ وہ بچوں والیاں جو ہیں، وہ باہم آپس میں جواب دے رہی ہوں، اس کی طرح ہے۔
توَجُّہ ہے؟ یہ ذرا مشکل ہے اس کا ترجمہ۔ تو گمان کرے گا اس کی آواز کے بارے میں کہ وہ کیا ہے؟ تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ، وہ جو بچوں والی اونٹنیاں ہیں، وہ باہم ایک دوسرے کو جواب دے رہی ہیں، کس چیز پر؟ عَلَى رُبَعٍ رَدِي، ایسے بچے پر رَدِي جو کیا ہو چکا؟ ہلاک ہو چکا۔
رَدِيَ يَرْدَى کا کیا معنی ہے؟ ہلاک ہونا، اور اسی سے جو ہلاک ہو جائے، وہ کیا ہے؟ رَدِي ہے، رَدِي۔
تو وہ باہم ایک دوسرے کو جواب دے رہی ہیں عَلَى رُبَعٍ رَدِي، ایسے بچے پر جو ہلاک ہو چکا ہے، تو باہم جواب دے رہی ہیں یعنی آپس میں رو رہی ہیں، کیا کر رہی ہیں؟ رو رہی ہیں۔ بچے کے مرنے پر آپس میں جواب دینے سے کیا مراد ہے؟ رونا مراد ہے۔
وہ باندی میری جب وہ گاتی ہے، گلے میں آواز کو لہراتی ہے، ترنم سے پڑھتی ہے، تو تو یوں سمجھے گا جیسے اس کی آواز ان اونٹنیوں کی طرح ہے جو جن کا بچہ مر چکا ہے اور وہ آپس میں رو رہی ہیں، روتے ہوئے ایک دوسرے کو جواب دے رہی ہیں، یعنی ایک روتی ہے، دوسری بھی ساتھ روتی ہے، تیسری بھی ساتھ روتی ہے، تو یہ ہے رونے میں ایک دوسرے کو جواب دینا، معنی سمجھ میں آیا؟
اور خاص طور پر اس حالت کو ذکر کیا کیونکہ ظاہر سی بات ہے، جب بچہ مر گیا ہے تو وہ جو آواز ہوگی، اس میں غم ہوگا بھئی، اور غم کے وقت جو آواز ہوتی ہے، اس میں بہت زیادہ تاثیر ہوتی ہے بھئی۔ آپ بھی دیکھتے ہیں، جو شخص غمزدہ ہو، دکھ میں مبتلا ہو، وہ جب کوئی آپ کو بات بھی سناتا ہے، اس کی باتوں سے کس طرح غم چھلک رہا ہوتا ہے اور دوسرے کے دل پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے بھئی۔
اور پھر نیز اس آواز میں نرمی بھی ہوگی بھئی کہ بچے پر رو رہی ہیں بھئی، غم کا احساس، تو نرمی بھی ہوگی اور غم بھی ہوگا اس آواز میں، تو اس کو ذکر کیا۔
تو مراد وہ اونٹنیاں ہیں جن کا بچہ مر چکا ہے اور وہ آپس میں ایک رو رہی ہے تو دوسری بھی اس کو جواب دے رہی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یا اس سے مراد عورتیں ہیں بھئی، وہ جو بچہ کوئی مر گیا، اس پر بین کر رہی ہیں، رو رہی ہیں آپس میں اور تو ان کی وہ جو آواز ہے، ان کی طرح تو سمجھے گا۔
میری یہ باندی جو ہے، جب وہ گانا گاتے ہوئے آواز کو گلے میں لہراتی ہے تو تجھے ایسے ہی معلوم ہوگا جیسے عورتیں ہیں، وہ آپس میں مل کر رو رہی ہیں کسی بچے کے مرنے پر، کوئی بچہ جو مر چکا ہے، اس کے مرنے پر آپس میں رو رہی ہیں۔ تو یقیناً اس آواز میں بھی بڑی نرمی اور غم ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اِذَا رَجَّعَتْ فِي صَوْتِهَا خِلْتَ صَوْتَهَا تَجَاوُبَ أَظْئَارٍ عَلَى رُبَعٍ رَدِي۔ جب وہ لہراتی ہے آواز کو، وہ ترنم سے لوٹاتی ہے آواز کو، تو اس کے بارے میں تو گمان کرے گا کہ وہ عورتیں جو ہیں، وہ اونٹنیاں مل کر رو رہی ہیں، یوں ترجمہ کر لیں۔ تو گمان کرے گا اس کی آواز کے بارے میں کہ اونٹنیاں جو ہیں، کسی بچے کے ہلاک ہونے پر آپس میں مل کر رو رہی ہیں۔
یا تو گمان کرے گا اس کی آواز کے بارے میں کہ وہ ایسی عورتیں ہیں جو کسی بچے کے ہلاک ہونے پر آپس میں مل کر رو رہی ہیں اور بین کر رہی ہیں، معنی سمجھ میں آ گیا؟ بچے کے ہلاک ہونے پر آپس میں مل کر وہ رو رہی ہیں، ایک دوسرے کے رونے کا جواب دے رہی ہیں۔
وَمَا زَالَتْ تَشْرَابِي الْخُمُورَ وَلَذَّتِي وَبَيْعِي وَإِنْفَاقِي طَرِيفِي وَمُتْلَدِي۔
مَا زَالَتْ، یہ افعالِ ناقصہ میں سے ہے بھئی، بمعنی ہمیشہ کے۔ تَشْرَابِي، تَشْرَابِي یہ یاء جو آخر میں ہے، یہ متکلم کی ہے اور تَشْرَاب بمعنی شرب کے ہے، لیکن یہ مصدر کا، مبالغے کا وزن ہے بھئی۔ شرب کا معنی تو ہے پینا، مطلقاً، شرب کا معنی پینا، اور یہ جو تَشْرَاب یعنی تَفْعَال وزن ہے، یہ مصدر کے مبالغے کا وزن ہے۔
اس وزن پر مبالغے کے لیے مصدر کو لے کر جاتے ہیں۔ تو شرب کا معنی ہے پینا، اور تَشْرَاب کا معنی ہے خوب پینا، خوب پینا۔
تو تَشْرَابِي، میرا خوب پینا۔
الْخُمُور جمع ہے خَمْر کی، شراب بھئی۔
وَلَذَّتِي، لذت اٹھانا۔ وَبَيْعِي، بیع بیچنے کو کہتے ہیں، بیع میرا بیچنا۔ وَإِنْفَاقِي، أَنْفَقَ يُنْفِقُ إِنْفَاق کا معنی ہے خرچ کرنا۔ طَرِيفِي، طَرِيف کہتے ہیں جدید مال، نیا مال، نیا مال جو حاصل ہو۔
وَمُتْلَدِي، مُتْلَد کہتے ہیں قدیم موروثی مال، یعنی وہ مال جو وراثت میں کسی کو ملا ہو، پرانا اس کے آباؤ اجداد کا مال چلا آ رہا ہے، اس کو مُتْلَد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مُتْلَد کہتے ہیں اور اسی طرح تِلَاد کہتے ہیں۔ تو مُتْلَد وہ قدیم موروثی مال، یعنی جو پرانا وراثت میں چلا آ رہا ہے، وہ مال جو ہے مُتْلَد ہے۔
اور طَرِيف، جو نیا مال، خود کمائے، خود جمع کرے، وہ کیا ہے؟ طَرِيف ہے۔
مُتَلَد: قدیم موروثی مال۔ یہ آپ نے زہیر بن ابی سلمیٰ کے معلقے میں بھی پڑھا تھا:
فَأَصْبَحَ يَجْرِي فِيهِمُ مِنْ تِلادِكُمْ
مَغَانِمُ شَتَّى مِنْ إِفَالٍ مُزَنَّمِ
تِلَادِكُمْ، تلاد: وہی قدیم موروثی مال۔ تلاد بھی کہتے ہیں اور متلد بھی کہتے ہیں، بھئی۔ اور یہ سب کے ساتھ متکلم کی ’یا‘ ملی ہوئی ہے۔
وَمَا زَالَ تَشْرَابِيَ الْخُمُورَ وَلَذَّتِي
وَبَيْعِي وَإِنْفَاقِي طَرِيفِي وَمُتْلَدِي
اور ہمیشہ جو ہے میرا تَشْرَابِيَ الْخُمُورَ، تشرابی: یہ ’یا‘ متکلم کی ہے۔ تشرابی: میرا خوب پینا، کس چیز کو؟ الخمور: یہ مفعول ہے بھئی مصدر کے لیے۔ اور ہمیشہ میرا شراب کو خوب پینا، وَلَذَّتِي: اور ہمیشہ میرا لذت اٹھانا، لذت حاصل کرنا، وَبَيْعِي: اور ہمیشہ میرا بیچنا، یعنی نفیس اور اعلیٰ چیزوں کو بیچنا اور خرچ کرنا، وَإِنْفَاقِي: اور ہمیشہ میرا جو خرچ کرنا ہے، کس چیز کو خرچ کرنا؟ طریفی: یہ مفعول ہے انفاق کے لیے۔ طریفی: میرا جدید مال جو ہے، وَمُتْلَدِي: اور میرا جو قدیم موروثی مال ہے۔ آگے یہ ’ما زال‘ کی خبر آرہی ہے: إِلَى أَنْ تَحَامَتْنِي الْعَشِيرَةُ، یہ جاری رہا یہاں تک کہ سارے قبیلے نے مجھے چھوڑ دیا۔ آگے جواب آرہا ہے، اگلے شعر میں۔
ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ ’ما زال‘ یہ افعال ناقصہ میں سے ہے، یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر۔ تو یہ تشرابی الخمور، تشرابی: یہ ہے اس کا اسم، اور اسی پر عطف ہے ’لذتی‘ کا بھی، اسی پر عطف ہے ’بیعی‘ بھی، اور اسی پر عطف ہے ’انفاقی‘ بھی۔ اور انفاق کے لیے آگے ’طریفی ومتلدی‘ یہ کیا ہیں؟ مفعول ہیں بھئی۔
وَمَا زَالَ تَشْرَابِيَ الْخُمُورَ وَلَذَّتِي
وَبَيْعِي وَإِنْفَاقِي طَرِيفِي وَمُتْلَدِي
اور ہمیشہ میرا شراب کو خوب پینا، اور لذتیں حاصل کرنا، اور میرا بیچنا، یعنی عمدہ اور نفیس چیزوں کو بیچنا، اور میرا خرچ کرنا، کس چیز کو خرچ کرنا؟ طریفی ومتلدی: میرے نئے مال کو اور میرے قدیم موروثی مال کو، یعنی یہ ہمیشہ جاری رہا۔
إِلَى أَنْ تَحَامَتْنِي الْعَشِيرَةُ كُلُّهَا
وَأُفْرِدْتُ إِفْرَادَ الْبَعِيرِ الْمُعَبَّدِ
تحامى یتحامى کے معنی ہیں چھوڑ دینا۔ تحامتنی: مجھے چھوڑ دیا۔ العشیرۃ: عشیرہ کہتے ہیں قبیلے والے، خاندان والے۔ یہ فاعل ہے تحامت کا۔ مجھے چھوڑ دیا العشیرۃ: کس نے؟ میرے خاندان والوں نے، کلہا: سب کے سب نے۔ وأفردت: افرد یفرد کا معنی ہے اکیلا اور تنہا ہونا، افراد اسی سے مصدر ہے۔ بعیر: بعیر وہ اونٹ جو بڑا ہو جائے، سواری اور بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے، اس کو بعیر کہتے ہیں۔ المعبد: معبد کہتے ہیں خارشی اونٹ، وہ اونٹ جس کو خارش کا مرض ہو۔ اور معبد اس لیے کہتے ہیں کہ اس پر، اس پر قطران ایک دوائی ہے، وہ اس کے سارے جسم پر ملی جاتی ہے۔ کالے رنگ کی، جیسے یہ تارکول ہے نا جس سے سڑک بنتی ہے، جس کو آپ لک کہتے ہیں، یہ لک کی طرح کی، کالے رنگ کی کوئی دوائی ہوتی ہے، کسی اونٹ کو خارش کا مرض لاحق ہو جائے تو اس کے پورے بدن پر وہ دوائی کالے رنگ کی ملی جاتی ہے۔ تو وہ دیکھو، اس پوری دوائی نے کیا کر لیا؟ اس اونٹ کو مغلوب کر لیا، تو معبد کا معنی بھی ہے مغلوب۔ اس پر غالب آگئی وہ دوائی، سارے جسم پر آگئی۔ اور اس دوائی کا نام ہے قطران بھئی، ق، دو نقطوں والا، ط، ط، ظ، اور ر، ا، ن، قطران۔
تو وہ اونٹ جس پر قطران لگائی جائے، وہ ہے بعیر معبد۔ توجہ ہے؟ وہ اونٹ جس کے بدن پر کیا لگائی جائے؟ قطران لگائی جائے، اس کو بعیر معبد کہتے ہیں۔ اور ظاہر سی بات ہے قطران تو خارشی اونٹ پر لگائی جاتی ہے، اس لیے بعیر معبد کا کیا ترجمہ کیا؟ خارشی اونٹ، وہ اونٹ جس کو خارش کا مرض ہو بھئی۔
تو شاعر کہتا ہے: إِلَى أَنْ تَحَامَتْنِي الْعَشِيرَةُ كُلُّهَا، یہاں تک کہ الگ ہو گیا مجھ سے سارا کا سارا خاندان، سارا کا سارا قبیلہ، وَأُفْرِدْتُ: اور میں تنہا کر دیا گیا، إِفْرَادَ الْبَعِيرِ الْمُعَبَّدِ: جس طرح خارشی اونٹ جو ہے، اس کو جدا کیا جاتا ہے۔ جس طرح خارشی اونٹ کو باقی سارے اونٹوں کے ریوڑ سے الگ رکھتے ہیں، تاکہ کہیں اور اونٹوں کو بھی یہ مرض نہ لگ جائے، تو جیسے اس اونٹ کو بالکل الگ کر دیتے ہیں، اسی طرح میرے قبیلے والوں نے دیکھا کہ میں تو شراب پینے پلانے میں لگا ہوا ہوں، لذتوں میں مشغول ہوں، اپنا مال جو ہے میں خرچ کر رہا ہوں، تو قبیلے والے سمجھاتے رہے، اور جب دیکھا کہ یہ تو باز ہی نہیں آتا، تو سارے قبیلے والے آہستہ آہستہ مجھ سے جدا ہو گئے، الگ ہو گئے۔ اب دیکھو دونوں اشعار کو ملاؤ بھئی، اور یہ جو ’إلى أن تحامتنی‘ یہ ’ما زال‘ کی خبر ہے۔ اب دیکھیے ترجمہ بھئی دونوں اشعار کا:
وَمَا زَالَ تَشْرَابِيَ الْخُمُورَ وَلَذَّتِي
وَبَيْعِي وَإِنْفَاقِي طَرِيفِي وَمُتْلَدِي
إِلَى أَنْ تَحَامَتْنِي الْعَشِيرَةُ كُلُّهَا
وَأُفْرِدْتُ إِفْرَادَ الْبَعِيرِ الْمُعَبَّدِ
اور ہمیشہ میرا شراب کو پینا، اور لذتیں حاصل کرنا، اور میرا چیزوں کو بیچنا، اور نئے اور قدیم موروثی مال کو خرچ کرنا جاری رہا، إِلَى أَنْ تَحَامَتْنِي الْعَشِيرَةُ كُلُّهَا: یہاں تک کہ چھوڑ دیا مجھے میرے سارے خاندان والوں نے، اور میں اسی طرح اکیلا اور تنہا کر دیا گیا جس طرح کہ خارشی اونٹ کو تنہا کیا جاتا ہے۔
رَأَيْتُ بَنِي غَبْرَاءَ لا يُنْكِرُونَنِي
وَلا أَهْلُ هَذَاكَ الطِّرَافِ الْمُمَدَّدِ
بنی غبرا، غبرا: زمین کو کہتے ہیں بھئی، اور یہ غبار سے ہے، غبار سے۔ چونکہ زمین پر بھی گرد و غبار اور مٹی وغیرہ ہوتی ہے، تو اسی کا نام کیا ہو گیا؟ غبرا بھئی، غبرا۔ اور بنی غبرا: زمین کے بیٹے۔ تو بنو غبرا یا بنی غبرا، یہ فقرا اور مفلس اور غریب لوگوں کو کہتے ہیں بھئی، کیونکہ یہ بھی گویا صرف اس زمین کے گرد و غبار اور مٹی وغیرہ تھی، ان کے پاس ہے اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ تو غریب فقرا کو کیا کہتے ہیں؟ بنو غبرا کہتے ہیں۔
لا ینکروننی: أنكر ينكر کے معنی ہیں انکار کرنا، اجنبی سمجھنا، اجنبی سمجھنا۔ وَلا أَهْلُ هَذَاكَ، أهل هذاك، توجہ ہے؟ بھئی آپ جانتے ہیں اسم اشارہ، تو اسم اشارہ قریب کے لیے ہے ’ھذا‘، اور بعید کے لیے ہے ’ذالک‘، اور متوسط کے لیے ہے ’ذاک‘، ’ذاک‘۔ ھذا، ذاک، اور ذالک۔ اور یہ جو ’ھذا‘ ہے، اس میں یہ جو ’ہا‘ ہے، یہ اسم اشارہ نہیں، یہ تنبیہ کے لیے ہے، دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے ہے، اور ’ذا‘ جو ہے، یہ ہے اسم اشارہ۔ تو یہ ’ذا‘ پر اکثر یہ ’ہا‘ داخل کرتے ہیں تنبیہ کی۔
اور ’ذالک‘ جو ہے، ’ذالک‘ جس میں درمیان میں ’لام‘ آگیا، اس پر کبھی بھی یہ ’ہا‘ تنبیہ داخل نہیں کرتے۔ جبکہ ’ذاک‘ جو ہے، اس پر بھی کبھی یہ ’ہا‘ تنبیہ داخل کرتے ہیں، لیکن پورے کلام عرب میں یہ نہایت قلیل ایسا ہوا ہے کہ ’ذاک‘ پر یہ ’ہا‘ تنبیہ کی داخل کر دی جائے، اور انہی میں سے ایک یہ مقام ہے جہاں طرفۃ بن العبد نے ’ذاک‘ جو اسم اشارہ ہے، اس پر ’ہا‘ تنبیہ کی داخل کی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
الطراف: الطراف کہتے ہیں چمڑے کا جو خیمہ ہو، اس کو طراف کہتے ہیں، طراف۔ چمڑے کا جو خیمہ ہو، اور چمڑے کا جو خیمہ ہوتا تھا، وہ صرف مالدار اور خوشحال لوگ ہی لگا سکتے تھے، عام غربا وغیرہ یہ نہیں لگا سکتے تھے۔ تو یہ مالداروں کی علامت تھی، یوں کہیے۔ یہ چمڑے کا خیمہ کس کی علامت تھی؟ مالداروں اور خوشحال لوگوں کی۔ الممدد: ممدد: لمبا کیا ہوا، پھیلایا ہوا، پھیلایا ہوا۔
شاعر کہتا ہے: رَأَيْتُ بَنِي غَبْرَاءَ لا يُنْكِرُونَنِي وَلا أَهْلُ هَذَاكَ الطِّرَافِ الْمُمَدَّدِ، کہ میں دیکھتا ہوں بنی غبرا کو کہ جو فقیر اور مسکین لوگ ہیں، لا ینکروننی: وہ مجھے اجنبی نہیں سمجھتے، وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، کیونکہ میں ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرتا ہوں اور ان پر خرچ کرتا ہوں۔ تو غریب فقرا جو ہیں وہ مجھے اجنبی نہیں سمجھتے، وَلا أَهْلُ هَذَاكَ الطِّرَافِ الْمُمَدَّدِ: اور نہ وہ لوگ جو ایسے چمڑوں کے خیموں والے ہیں جو خوب پھیلے ہوئے ہیں۔
وہ لوگ بھئی، جو ایسے چمڑوں کے خیموں والے ہیں کہ جن کے خیمے خوب پھیلے ہوئے ہیں، یعنی بڑے ہیں، وسیع ہیں۔ توجہ ہے؟ ’اہل‘ ہے مضاف، اور یہ ’ذاک‘ کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور یہ جو ’طراف‘ ہے، یہ ’ذاک‘ اسم اشارہ سے یا تو بدل ہے، یا اس سے عطف بیان ہے، اور بدل اور عطف بیان کا وہی اعراب ہوتا ہے جو مبدل منہ یا معطوف علیہ کا ہو۔ اور ’الممدد‘ یہ صفت ہے ’طراف‘ کی، چمڑے کا ایسا خیمہ جو پھیلا ہوا ہو، خوب وسیع ہو۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو ’ھذاک‘، ترجمے میں اس کو ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اہل ذاک: ان چیزوں والے، اور ان چیزوں سے کیا مراد ہیں؟ چمڑے کے خیمے، وسیع چمڑے کے خیمے مراد ہیں، تو وہ آگے خود ذکر ہو رہے ہیں، تو ’ذاک‘ کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ میرے خاندان والوں نے تو مجھے چھوڑ دیا ہے، مجھ سے جدا ہو گئے ہیں، لیکن کوئی بات نہیں، غریب مسکین لوگ وہ میرے ساتھ محبت کرتے ہیں، کیونکہ میں ان پر خرچ کرتا ہوں، وہ مجھے اجنبی نہیں سمجھتے، اور اسی طرح جو پھیلے ہوئے، وسیع چمڑوں کے خیموں والے لوگ ہیں، وہ بھی میرے، اجنبی نہیں سمجھتے، وہ بھی میرے ساتھ محبت رکھتے ہیں، میں ان کی مجلسوں میں شریک ہوتا ہوں، اور وہ میرے ساتھ تعلق رکھنے کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں، خوشی کا باعث سمجھتے ہیں، کیونکہ میں بڑا عظیم انسان ہوں، بڑے عظیم خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، تو اگر میرے خاندان والوں نے، اگر میرے قبیلے والوں نے مجھے چھوڑ بھی دیا ہے، تو کوئی پروا نہیں، غریب اور مسکین لوگ، اور مالدار لوگ، خیموں والے کون ہیں؟ مالدار، غریب اور مسکین اور مالدار لوگ سب مجھ سے محبت کرتے ہیں، غریب لوگ جو ہیں اس لیے کیونکہ میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور مالدار لوگ اس لیے کہ میں بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، ان کی مجلسوں میں بیٹھتا ہوں، اور وہ میرے ساتھ بیٹھنے کو خوشی کا باعث سمجھتے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔