Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 135
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، آگے سبق دیکھیے:‏ وَإِنْ يَلْتَقِ الْحَيُّ الْجَمِيعُ تُلاَقِنِي... إِلَى ذُرْوَةِ الْبَيْتِ الرَّفِيعِ الْمُصَمَّدِ نَدَامَايَ بِيضٌ كَالنُّجُومِ وَقَيْنَةٌ... تََرُوحُ عَلَيْنَا بَيْنَ بُرْدٍ وَمُجْسَدِ رَحِيبٌ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا رَقِيقَةٌ... بَِجَسِّ النَّدَامَى بََضَّةُ الْمُتَجَرَّدِ اچھا بھئی، طرفۃ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور تشبیب کے بعد اس نے اپنی اونٹنی کی صفات ذکر کیں اور پھر اس کے ‏بعد اپنی صفات، اپنی خصوصیات اور عادات وغیرہ بیان کر رہا ہے۔ تو آگے میری کتاب میں ہے، آج کے سبق کا جو پہلا شعر ہے، میری کتاب میں کچھ یوں ہے: وَإِنْ يَلْتَقِ الْحَيُّ الْجَمِيعُ ‏تُلاَقِنِي... إِلَى ذُرْوَةِ الْبَيْتِ الرَّفِيعِ الْمُصَمَّدِ۔ اور دیگر روایات کے اندر اور دیگر کتابوں کے اندر یہاں ایک اور شعر بھی ہے ‏اس سے پہلے، وہ بھی آپ لکھ لیجیے بھئی۔ جن کی کتابوں میں نہیں ہے، وہ لکھ لیں وَإِنْ يَلْتَقِ الْحَيُّ الْجَمِيعُ تُلاَقِنِي اس سے ‏پہلے ایک شعر لکھ لیں بھئی۔ جلدی جلدی لکھیں بھئی۔ مَتَى تَأْتِنِي مَتَى تَأْتِنِي تاء، الف اور الف کے اوپر ہمزہ تَأْتِنِي۔ أَصْبَحْكَ أَصْبَحْكَ الف، صاد، با، حا ‏اور کاف بھئی، چھوٹا کاف، أَصْبَحْكَ۔ كَأْسًا كَأْسًا۔ رَوِيَّةً رَوِيَّةً را، واو، یا مشدد ہے اور گول تا، رَوِيَّةً۔ پہلا مصرع مکمل ‏ہوا۔ مَتَى تَأْتِنِي أَصْبَحْكَ كَأْسًا رَوِيَّةً۔ اگلا مصرع: وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا ظَاغِنًا کیسے لکھیں گے؟ ذال اور الف اور آگے لکھیں گے غناء: غین، ‏نون، یا۔ غین، نون، یا اور نون پر تنوین ڈال دیں گے، دو زبریں ڈال دیں گے، ظَاغِنًا۔ غناء کہتے ہیں مالداری کو بھئی، ‏استغناء کو۔ تو ظَاغِنًا، غناء والا بھئی۔ جیسے ذو مال کا کیا معنی ہے؟ مال والا۔ اور حالت نصبی میں کیا کہیں گے؟ ذا ‏مال، تو یہاں بھی اسی طرح ہے ظَاغِنًا یعنی غناء والا، جو بے نیاز ہو بھئی جس کو کسی چیز کی حاجت نہ ہو۔ آگے ہے: فَأَغْنَ فا، الف، غین اور نون، فَأَغْنَ، لکھ لیا؟ ہاں، یہ اصل میں ہے فغَنَ فغَنَ، ہمزہ وصلی ہے، امر ہے، امر کا ‏ہمزہ کیا ہوتا ہے؟ وصلی ہوتا ہے سوائے باب افعال کے اور تو یہ گر جائے گا، پڑھیں گے نہیں۔ تو لکھا کیسے ہے؟ فا، ‏الف، غین اور نون اور نون پر زبر، فَأَغْنَ۔ وَازْدَدِ واو، الف، زا، را، زا، واو، الف، زا اور دال اور دوبارہ پھر دال بھئی، وَازْدَدِ۔ یہ ہمزہ بھی وصلی ہے، امر ہے، گر ‏جائے گا۔ اصل میں کیا ہے؟ اِزْدَدِ، واو عاطفہ آیا تو وہ ہمزہ گر گیا، وَازْدَدِ۔ تو دوسرا مصرع کیا ہوا؟ وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا ‏فَأَغْنَ وَازْدَدِ۔ پھر شعر سن لیں:‏ مَتَى تَأْتِنِي أَصْبَحْكَ كَأْسًا رَوِيَّةً... وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا فَأَغْنَ وَازْدَدِ اچھا، اب ترجمہ سنیں بھئی۔ مَتَى تَأْتِنِي، أَتَى يَأْتِي کا معنی ہے آنا اور یہ مجزوم ہے، تَأْتِي تھا اصل میں، یا گر گئی جزم کی ‏وجہ سے، تَأْتِنِي۔ کیونکہ مَتَى شرط کے لیے آیا اور جزم دیا اس نے تو یا گر گئی۔ أَصْبَحْكَ، أَصْبَحَ يُصْبِحُ کا ایک معنی ہے ‏کسی کو صبوح پلانا، کسی کو صبوح، صاد کے ساتھ، صبوح پلانا۔ یہ بات پہلے ذکر ہو چکی کسی جگہ پر کہ صبح کے ‏وقت جو شراب پیتے عرب اس کو صبوح کہتے، اور شام کے وقت جو شراب پیتے اس کو غبوق کہتے، غبوق: غین، با، ‏واو اور قاف دو نقطوں والا۔ تو ان کے ہاں الگ الگ نام تھے بھئی۔ تو صبوح صبح کے وقت جو شراب پی جائے، غبوق جو شام کے وقت شراب پی ‏جائے۔ اسی طرح دوپہر کو پی جانے والی شراب کا الگ نام تھا، رات کو پی جانے والی شراب کا الگ نام تھا، سحری کے ‏وقت صبح سویرے پی جانے والی شراب کا الگ۔ تو یہ جو شراب پی جاتی اس کو بھی کہتے، اسی طرح اس وقت کے اندر ‏جو بھی مشروب پیا جاتا چاہے دودھ ہے یا پانی وغیرہ اس کو بھی صبوح کہتے۔ صبح جو بھی مشروب پیا جائے اس کو ‏بھی کیا کہتے؟ صبوح، اور شام کو جو بھی مشروب پیا جاتا اس کو کیا کہتے؟ غبوق۔ كَأْسًا، كَأْسٌ کسی مشروب کا جام بھئی، جب اس میں وہ مشروب موجود ہو اس کو كَأْسٌ کہتے ہیں، كَأْسٌ، شراب کا جام ‏بھئی جب اس میں شراب موجود ہے۔ اگر شراب اس میں نہیں، خالی برتن ہے تو اس کو انا، برتن وغیرہ تو کہیں گے، كَأْسٌ ‏نہیں کہیں گے۔ كَأْسٌ تبھی کہیں گے جب اس کے اندر مشروب موجود ہو بھئی۔ رَوِيَّةً، رَوِيٌّ کا ایک معنی ہے سیراب کر دینے والی مقدار، کسی مشروب کی وہ مقدار جو انسان کو سیر کر دے، سیراب کر ‏دے۔ البتہ یہاں رَوِيٌّ بمعنی ہے بھرا ہوا بھئی، اور كَأْسًا یہ مونث ہے۔ مونث ہے، تو اس لیے اس کی صفت رَوِيَّةً مونث ‏لائی گئی بھئی، مونث، یہ تو كَأْسٌ مونث سماعی ہے، رَوِيَّةً اس کی صفت مونث لائی گئی۔ كَأْسًا ایسا شراب کا جام، رَوِيَّةً ‏جو بھرا ہوا ہو۔ بھرا ہوا ہو۔ وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا اور اگر تو اس سے مستغنی ہے، غناء والا ہے یعنی تجھے اس کی حاجت نہیں، ضرورت ‏نہیں، فَأَغْنَ یہ امر ہے، تو تو مستغنی رہ، اس سے بے نیاز رہ، وَازْدَدِ، اِزْدَادَ يَزْدَادُ کا معنی ہے بڑھنا، وَازْدَدِ اور تو بڑھ جا ‏یعنی مجھ سے بھی بڑھ جا۔ تو شاعر کہتا ہے: مَتَى تَأْتِنِي أَصْبَحْكَ كَأْسًا رَوِيَّةً... وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا فَأَغْنَ وَازْدَدِ۔ مَتَى تَأْتِنِي جب تو میرے پاس آئے گا، ‏گزشتہ شعر میں شاعر نے کیا کہا تھا کہ میں صاحب جد و ہزل ہوں، میں سنجیدہ مجلسوں میں بھی موجود ہوتا ہوں اور لہو ‏و لعب اور شراب وغیرہ کی مجلسوں میں بھی موجود ہوتا ہوں، تو تو وہاں بھی مجھے پا لے گا۔ مَتَى تَأْتِنِي جب تو میرے ‏پاس آئے گا، أَصْبَحْكَ كَأْسًا رَوِيَّةً تو میں تجھے صبوح پلاؤں گا، كَأْسًا رَوِيَّةً صبوح کا ایسا جام جو لبالب بھرا ہوا ہوگا۔ أَصْبَحْكَ كَأْسًا رَوِيَّةً تو تجھے میں صبح کے وقت شراب کا لبالب بھرا ہوا جام پلاؤں گا، وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا اور اگر تو اس ‏سے بے نیاز ہے یعنی تجھے اس کی ضرورت نہیں، تیرے پاس اپنا مال وغیرہ ہے، تیرے پاس اپنا شراب کا جام موجود ‏ہے، وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا اور اگر تو اس سے بے نیاز ہے، فَأَغْنَ تو تو بے نیاز رہ، وَازْدَدِ اور بڑھ جا یعنی بے نیازی میں ‏مجھ سے بھی بڑھ جا بھئی یعنی جیسے میں کسی کا، میں سب سے بے نیاز ہوں، میرے پاس خود سب کچھ ہے، تو مجھ ‏سے بھی بڑھ جا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ مَتَى تَأْتِنِي أَصْبَحْكَ كَأْسًا رَوِيَّةً جب تو میرے پاس آئے گا تو تجھے میں صبوح کا ایسا جام پلاؤں گا ‏جو لبالب بھرا ہوگا، وَإِنْ كُنْتَ عَنْهَا ظَاغِنًا فَأَغْنَ وَازْدَدِ اور اگر تو اس سے بے نیاز ہے، تجھے اس کی حاجت نہیں ہے، ‏فَأَغْنَ تو تو بے نیاز رہ، وَازْدَدِ اور بڑھ جا یعنی مجھ سے بھی آگے بڑھ جا بے نیازی میں۔ وَإِنْ يَلْتَقِ الْحَيُّ الْجَمِيعُ تُلاَقِنِي... إِلَى ذُرْوَةِ الْبَيْتِ الرَّفِيعِ الْمُصَمَّدِ وَإِنْ يَلْتَقِ، اِلْتَقَى يَلْتَقِي کا معنی ہے ملنا، جمع ہونا، اکٹھے ہونا۔ الْحَيُّ، حَيٌّ کہتے ہیں قبیلے کو بھئی، قبیلے کو۔ الْجَمِيعُ، ‏سارے کے سارے۔ تُلاَقِنِي، لاَقَى يُلاَقِي کا معنی ہے ملاقات کرنا، تُلاَقِنِي تو مجھ سے ملاقات کرے گا۔ إِلَى ذُرْوَةِ الْبَيْتِ، ذُرْوَةٌ ‏ذال کے ضمہ کے ساتھ اور اسی طرح ذال کے کسرہ کے ساتھ ذِرْوَةٌ، ذُرْوَةٌ اور ذِرْوَةٌ کہتے ہیں کسی چیز کا اوپر والا ‏حصہ، کسی چیز کی چوٹی بھئی، پہاڑ وغیرہ کی چوٹی، اوپر والا حصہ۔ الرَّفِيعِ، رَفِيعٌ کہتے ہیں بلند بھئی، اونچا۔ الْمُصَمَّدِ، ‏مُصَمَّدٌ وہ جو مقصود ہو، جس کا ارادہ کیا جائے، یعنی مشکل، تکلیف اور پریشانی میں جس کی طرف رجوع کیا جائے، ‏جس کا قصد کیا جائے۔ تو صَمْدٌ کا معنی ہے قصد کرنا، اسی سے ہے قرآن میں بھئی: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ۔ کیا معنی؟ اللَّهُ الصَّمَدُ، اللہ بے نیاز ہے یعنی اس کو کسی کی طرف رجوع کی حاجت نہیں اور ساری چیزیں کیا ہیں؟ اسی ‏کی طرف رجوع کرتی ہیں، ہر چیز میں اسی کو پکارتی ہیں، اسی سے مدد چاہتی ہیں بھئی۔ تو صَمْدٌ کا کیا معنی؟ جس کا ‏ارادہ کیا جائے، جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ تو مُصَمَّدٌ کا معنی ہے مقصود بھئی مقصود، جس کا قصد کیا جائے۔ وَإِنْ يَلْتَقِ الْحَيُّ الْجَمِيعُ تُلاَقِنِي... إِلَى ذُرْوَةِ الْبَيْتِ الرَّفِيعِ الْمُصَمَّدِ وَإِنْ يَلْتَقِ اور اگر اکٹھا ہو جائے الْحَيُّ قبیلہ، وہ قبیلہ الْجَمِيعُ سارا کا سارا، یعنی اگر وہ سارا قبیلہ اکٹھا ہو جائے، الْجَمِيعُ أي ‏جَمِيعُهُمْ، جَمِيعُهُمْ تو یہ الف لام عوض ہے کس سے؟ مضاف الیہ سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا الف لام کے ذریعے ‏اشارہ ہے کس کی طرف؟ الْجَمِيعُ کے ذریعے اشارہ ہے جَمِيعُهُمْ کی طرف۔ اور اگر قبیلہ اکٹھا ہو جائے سارا کا سارا، ‏تُلاَقِنِي تو تو مجھ سے ملاقات کرے گا إِلَى ذُرْوَةِ الْبَيْتِ أي فِي ذُرْوَةِ الْبَيْتِ، کہاں پر ملاقات کرے گا؟ اس گھر کی چوٹی پر، ‏الرَّفِيعِ وہ گھر جو بلند و بالا ہے، الْمُصَمَّدِ جس کا لوگ کیا کرتے ہیں؟ ارادہ کرتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں۔ اور بَیْت سے یہاں مراد عزت اور شرف اور حسب و نسب ہے بھئی۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ حسب و نسب کے اعتبار ‏سے بھی تو مجھے سب سے اونچا پائے گا۔ اگر تو میرے حسب و نسب اور خاندان پر نظر کرے تو میرا خاندان تو سب ‏سے اونچا پائے گا۔ توَجہ ہے؟ اگر قبیلہ سارا کا سارا اکٹھا ہو جائے کس چیز میں؟ شرف اور عزت اور حسب نسب کے معاملے میں، سب ایک ‏دوسرے سے مقابلہ کرنے لگیں، اکٹھے ہو جائیں۔ تو تلاقنی، تو تو مجھ سے ملاقات کرے گا، تو مجھے پائے گا، کہاں پر؟ ‏فی ذروۃ البیت، اس گھر کے چوٹی پر الرفيع المصمد، جو اونچا ہے اور مقصود ہے، جو مقصود ہے۔ ترجمہ سمجھ بھی آ ‏رہا ہے کہ نہیں؟ گھر سے کیا مراد ہے؟ حسب و نسب، خاندانی شرافت۔ تو تو مجھے وہ جو اونچ مقصود اور اونچا گھر ‏ہے، یعنی وہ جو خاندانی خاندانی شرافت اور حسب و نسب ہے، اس کی چوٹی پر تو مجھے پائے گا۔ یعنی میرا خاندان سب ‏سے اونچا اور اعلیٰ تجھے ملے گا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وإن يلتق الحي الجميع تلاقني إلى ذروة البيت الرفيع المصمد، اور اگر سارا قبیلہ جو ہے وہ اکٹھا ہو جائے تو تو مجھ سے ‏ملاقات کرے گا حسب و نسب کے اس اونچے مقصود گھر کی چوٹی پر۔ اور اگر اکٹھا ہو جائے سارا کا سارا قبیلہ، سارا کا سارا قبیلہ جمع ہو جائے تو تو مجھ سے ملاقات کرے گا فی ذروۃ البیت، ‏میں نے آپ کو بتلایا یہ إلى کس معنی میں ہے؟ فی کے معنی میں۔ تو تو مجھ سے ملاقات کرے گا فی ذروۃ البیت، اس گھر ‏یا اس کمرے کی چوٹی پر۔ وہ کون سا کمرہ؟ کون سا گھر؟ الرفيع المصمد، وہ جو اونچا ہے، بلند و بالا ہے، المصمد، اور ‏جو مقصود ہے، جس کا لوگ قصد کرتے ہیں، ارادہ کرتے ہیں۔ یعنی بڑا بلند و بالا اور اعلیٰ خاندان ہے میرا اور لوگ ‏چاہتے ہیں کہ ان کا بھی ایسا خاندان ہوتا بھئی۔ تو بعضوں نے یہ إلى کو فی کے معنی میں لیا۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ إلى اپنے ہی معنی میں ہے۔ تو پھر تو یہ ‏تلاقنی سے نہیں جڑتا بھئی۔ تو وہ شارحین فرماتے ہیں کہ یہ إلى کا جو فعل ہے وہ محذوف ہے اور وہ ہے یہاں پر ‏أعتزي۔ الف، عین، تا، زا بھئی، زا، را، زا اور یا، أعتزي۔ اور اعتزى يعتزي کے معنی ہوتے ہیں نسبت ہونا، منسوب ہونا۔ ‏یا فعل یہاں نکال لیں أنتمي، متکلم کا صیغہ، انتمى ينتمي بھئی۔ تو انتمى ينتمي کا معنی بھی نسبت ہونا، منسوب ہونا۔ تو اس صورت میں عبارت یوں بن جائے گی، وإن يلتق الحي الجميع، اور اگر سارا کا سارا قبیلہ اکٹھا ہو جائے، تلاقني، تو ‏تو مجھ سے ملاقات کرے گا، أعتزي إلى ذروة البيت، اور یہ اور یہ حال ہے۔ تو أعتزي إلى ذروة البيت، اس حال میں کہ ‏میں منسوب ہوں گا، میری نسبت ہوگی اس بلند و بالا مقصود گھر کی چوٹی کی طرف۔ میری نسبت کس کی طرف ہوگی؟ ‏اس بلند و بالا مقصود گھر کی چوٹی کی طرف ہوگی۔ یعنی میں خاندانوں میں سے سب سے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا ‏ہوں، آپ کو یہ معلوم ہوگا بھئی۔ تو مرادی ترجمہ وہی ہے بھئی، البتہ ترکیب کے اعتبار سے چاہے اس إلى کو فی کے معنی میں لے لیں تو بھی بات ٹھیک ‏ہو جاتی ہے اور چاہے تو یہاں أعتزي یا أنتمي فعل نکال لیں، دونوں کا ایک معنی ہے نسبت ہونا، منسوب ہونا، اور یہ حال ‏ہو جائے گا۔ تو مجھ سے ملاقات کرے گا اس حال میں کہ أعتزي إلى ذروة البيت، کہ میں منسوب ہوں گا اس گھر کی چوٹی ‏کی طرف۔ ندامای بيض كالنجوم وقينة تروح علينا بين برد ومجسد ندامای جمع ہے ندمان کی، اور ندمان کہتے ہیں ندیم کو بھئی، ہم نشیں، ہم نشیں۔ یعنی کسی کے ساتھ بیٹھنے والا جو ہے ‏مجلس کے اندر تو وہ مراد ہے۔ اور یہاں خاص طور پر شراب وغیرہ کی مجلسوں میں کہتے ہیں جو میرے ہم نشیں ہیں، ‏میرے ساتھ بیٹھنے والے ہیں وہ مراد ہیں بھئی، یا عام رکھیں چاہے معنی، ساتھ بیٹھنے والے۔ ندامای، میرے ہم نشیں جو ‏ہیں۔ بيض، بیض جمع ہے ابیض کی بھئی، سفید کو کہتے ہیں۔ ابیض کون سا صیغہ ہے؟ جی؟ ہاں، یہ صفتِ مشبہ ہے، اسمِ ‏تفضیل نہ سمجھنا اس کو بھئی۔ ابیض کا معنی سفید، زیادہ سفید نہیں اس کا معنی۔ كالنجوم، نجوم جمع ہے نجم کی، ستارے کو کہتے ہیں۔ وقينة، قینۃ مؤنث ہے قینٌ کی۔ اور قینٌ عرب میں لوہار کو کہتے ہیں، ‏لوہار۔ اصلاً تو یہ لوہار کو کہتے ہیں، لیکن توسعاً ہر کاریگر پر یہ بولا جاتا ہے، ہر کاریگر پر۔ اور قینۃ کہتے ہیں باندی ‏بھئی، باندی۔ اسی طرح وہ باندی جو گانا گانے والی ہو، اس کو بھی قینۃ کہتے ہیں اور وہی یہاں مراد ہے۔ تو قینۃ کا کیا ‏معنی؟ باندی یا اسی طرح گانا گانے والی باندی۔ اور اس کو قینۃ کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی گانا گاتے ہوئے اپنے ہاتھ ہلاتی ‏ہے بھئی، مختلف انداز میں اپنے ہاتھ ہلاتی ہے گانا گاتے ہوئے اور عرب جو شخص بھی ہاتھوں سے کوئی کام سرانجام ‏دینے والا ہو، یعنی جو کاریگر ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قین۔ تو یہ بھی ہاتھوں کے ساتھ، ہاتھوں کو حرکت دیتی ہے اس ‏لیے اس کو بھی کیا کہہ دیا؟ قینۃ۔ تروح علينا، راح يروح کا معنی شام کے وقت نکلنا بھئی، سفر پر چلنا۔ بين برد ومجسد، برد کہتے ہیں دھاری دار چادر کو ‏بھئی، دھاری دار، اوڑھنے والی دھاری دار چادر بھئی، اوڑھنے والی۔ مجسد، أجسد يجسد إجساد کا معنی ہے کپڑے کو ‏زعفران کے ساتھ خوب اچھی طرح رنگنا، اس کو زرد رنگ دینا۔ زعفران آپ جانتے ہیں؟ ایک زرد رنگ کی، سرخ مائل ‏زرد رنگ کی گھاس نما چیز ہے، گھاس ہے، اور وہ خوشبو کے لیے اور رنگ دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ‏کھانے پینے میں بھی اور اسی طرح رنگ دینے کے لیے بھی بھئی۔ تو مجسد کسے کہتے ہیں؟ جس کو زعفرانی رنگ دیا گیا ہو۔ اسی طرح مجسد وہ کپڑا جس کو تیز زرد یا تیز سرخ رنگ ‏دیا گیا ہو اس کو بھی مجسد کہتے ہیں۔ اسی طرح مجسد وہ کپڑا جو بدن کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ ایک تو آپ کپڑا اوپر پہنتے ‏ہیں، قمیض کے اوپر کچھ پہن لیا، اور ایک جو کپڑا بدن کے ساتھ لگا ہو جیسے نیچے بنیان وغیرہ آپ نے پہنی، وہ بدن ‏کے ساتھ لگی ہوئی ہے، تو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مجسد کہتے ہیں۔ اسی طرح جو بھی کپڑا بدن کے ساتھ لگا ہوا ہو اس ‏کو مجسد کہتے ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے: ندامای بيض كالنجوم وقينة تروح علينا بين برد ومجسد۔ ندامای، میرے جو ہم نشیں ہیں، بيض، وہ سفید ‏ہیں، كالنجوم، جیسے کہ ستارے ہوتے ہیں۔ تو اپنے ہم نشینوں کو سفید کہا۔ یاد رکھیے عرب کے ہاں کسی کو جب سفید کہا ‏جائے تو وہ تین چار مقاصد ہی کے لیے ہوتا ہے۔ سفید ہونے کا معنی یا تو یہ ہوتا ہے کہ ان کے چہرے بڑے منور اور ‏روشن ہیں بھئی، روشن، سفید، خوبصورت چہروں والے ہیں، یعنی بڑے خاندانوں کے لوگ ہیں بھئی۔ یا سفید کا معنی یہ ‏ہوتا ہے کہ وہ ہر عیب سے پاک ہیں، سفید ہیں، صاف ستھرے ہیں بھئی، ہر عیب سے پاک ہیں۔ یا سفید کا معنی یہ کہ وہ ‏مشہور ہیں بھئی، مشہور ہیں۔ تو سفید کس معنی میں لیتے ہیں؟ مشہور ہیں، ہر ایک ان کو جانتا ہے، وہ سفید ہیں، چمکتے ‏دمکتے ہیں، ہر شخص ان کی چمک دمک سے واقف ہے بھئی۔ اچھا، تو یہ چند ایک معانی ہیں، یہ جو آپ کے حاشیے میں بھی تفصیل دی ہوئی ہے، وہاں بھی آپ تفصیل دیکھ سکتے ‏ہیں، تو ان معانی کے لیے کسی پر ابیض کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: ندامای بيض كالنجوم، میرے جو ہم نشیں ہیں وہ سفید ہیں، وہ یعنی مشہور لوگ ہیں یا بڑے خاندان والے ‏ہیں یا بیض کا معنی ہوتا ہے جو آزاد ہیں، آزاد ہیں، معزز لوگ ہیں۔ وہ معزز لوگ جو ہیں كالنجوم، جیسے کہ ستارے ‏ہوتے ہیں، وہ ستاروں کی طرح معزز لوگ ہیں۔ وقينة، أي ولنا قينة، اور ہماری ایک ایسی گانا گانے والی باندی بھی ہے، ‏تروح، تروح صفت ہے، قینۃ نکرہ آیا اور تروح اس کے بعد فعل آیا تو وہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ أي ولنا قينة تروح، ‏اور ہماری ایک ایسی باندی ہے تروح علينا، جو شام کے وقت ہم پر نکلتی ہے، یعنی ہمارے پاس آتی ہے، بين برد ومجسد، ‏کس کے بیچ میں ہوتی ہے؟ ایک دھاری دار چادر اور زعفرانی کپڑوں کے بیچ میں ہوتی ہے، یعنی اس نے دھاری دار ‏چادر اور زعفرانی کپڑے پہنے ہوتے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تروح علينا، وہ شام کے وقت ہم پر نکلتی ہے، ‏بين برد ومجسد، دھاری دار چادر اور زعفرانی کپڑوں کے بیچ میں وہ ہم پر نکلتی ہے، یعنی وہ اس نے پہنے ہوتے ہیں۔ ندامای بيض كالنجوم وقينة تروح علينا بين برد ومجسد، میرے ہم نشیں جو ہیں وہ ستاروں کی طرح چمکدار ہیں، یعنی معزز ‏لوگ ہیں، مشہور لوگ ہیں، حسیں و جمیل لوگ ہیں، معزز خاندانوں والے ہیں، وقينة، اور ہماری ایک ایسی باندی ہے گانا ‏گانے والی، تروح علينا، جو ہمارے پاس شام کے وقت آتی ہے، بين برد ومجسد، ایک دھاری دار اور زعفرانی کپڑوں کے ‏بیچ میں، یعنی ان کو پہنے ہوئے۔ رحيب كتاب الجيب منها رقيقة بجس الندامى بغتة المتجرد رحيب، رحب يرحب رحباً کا معنی ہے کشادہ ہونا، وسیع ہونا، وسیع ہونا۔ تو رحیب، وہ چیز جو وسیع ہو، کشادہ ہو۔ كتاب ‏الجيب منها، کتاب بھئی، كتب يكتب كتباً کے معنی ہیں کسی چیز کا جمع کرنا، كتب يكتب کا معنی کسی چیز کو جمع کرنا۔ ‏اور الجيب، جیب کہتے ہیں گریبان کو بھئی، یہ قمیض کا وہ حصہ جہاں سے سر اور گردن باہر نکالتے ہیں، یہ کیا ہے؟ ‏جیبٌ۔ تو كتب يكتب کا معنی ہے جمع کرنا، تو اسی سے کیا ہے؟ كتاب الجيب۔ کتاب الجیب کہتے ہیں گریبان کے ملنے کی ‏جگہ، یہ سامنے گلے پر دائیں اور بائیں سے جو گریبان کے حصے آئے اور آپس میں مل گئے، یہ کیا ہے؟ کتاب الجیب ‏ہے۔ رقيقة، یہ بعض کتابوں میں لفظ ہے رفيقة، رفیقہ کا پھر معنی ہوگا نرمی کرنے والی، نرم خو، نرم مزاج والی۔ اور بعض ‏کتابوں میں ہے رقيقة، قاف ہے دونوں جگہ، تو رقیقہ کا معنی ہے نرم و نازک بھئی، نرم و نازک۔ بجس الندامى، جسّ يجسّ جسّاً کا معنی ہے چھونا، ہاتھ لگانا، ہاتھ سے کسی چیز کو ٹٹولنا، اس کو کہتے ہیں جسٌّ۔ اور ندامیٰ ‏ندی گزرے بھئی، ندامیٰ ہم نشین بھئی۔ بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ بَظَّ، بَظَّ يَبَظُّ بَظَاظَةً کا معنی ہے، جسم کا بھرا ہوا اور ملائم ہونا۔ بَظَّ يَبَظُّ بَظَاظَةً کا معنی ہے، جسم کا بھرا ہوا اور ملائم ہونا۔ ‏ایک ہے جسم بھرا ہوا ہو، ایک ہے جسم کے میں ہڈیاں نکلی ہوئی ہوں، کیا پسندیدہ ہے؟ جسم بھرا ہوا ہو۔ اور ملائم ہونا ‏یعنی بالوں سے خالی ہونا۔ الْمُتَجَرِّدِ، متجرد کا معنی ہے جو ننگا ہو۔ یعنی کپڑوں سے، یعنی جس پر کپڑا نہ ہو بھئی، کپڑا نہ ہو، کپڑوں سے عاری ‏ہو، اس کو کہتے ہیں متجرد۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ رَحِيبٌ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا رَقِيقَةٌ... بِجَسِّ النَّدَامَى بَظَّةُ الْمُتَجَرَّدِ رَحِيبٌ یہ خبر مقدم ہے۔ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا یہ ہے مبتدا، قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا۔ شاعر کہتا ہے کہ رَحِيبٌ کشادہ ہے، قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا اس کے گریبان کے ملنے کی جگہ۔ اس باندی کے گریبان کے ملنے ‏کی جگہ کشادہ ہے۔ رَقِيقَةٌ وہ نرم و نازک ہے، بِجَسِّ النَّدَامَى ہم نشینوں کے چھونے سے۔ یا وہ نرم مزاج والی ہے، بِجَسِّ ‏النَّدَامَى ہم نشینوں کے چھونے سے۔ بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ اور اس کے جسم کا وہ حصہ جو کپڑوں سے عاری ہے، یعنی جو کپڑے میں چھپا ہوا نہیں ہے، جو کپڑے ‏میں چھپا ہوا نہیں ہے اس کے جسم کا وہ حصہ بھرا ہوا اور ملائم ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: رَحِيبٌ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا کہ اس کے گریبان کے ملنے کی جگہ کشادہ ہے۔ رَحِيبٌ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا اس ‏کے گریبان کے ملنے کی جگہ کشادہ ہے۔ کیا معنی؟ معنی یہ ہے کہ اس کا گریبان خوب کشادہ ہے۔ میرے ہم نشین جو ہیں ‏ان کے سامنے وہ گانا گانے کے لیے آتی ہے اور اس کے گریبان جو ہے خوب کشادہ ہے تاکہ اگر ان میں سے کوئی جو ‏ہے وہ اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس کے جسم کو ٹٹولنا چاہے تو وہ آسانی سے ٹٹول سکے، تو اس لیے اس کا ‏گریبان کیا ہے؟ کھلا ہے اور وسیع ہے بھئی۔ بلکہ کہتے ہیں یہ باندی جو ہوتی تھی، گانا گانے والی باندی، اس کی آستین ‏میں چاک ہوتا تھا بھئی۔ چاک ہوتا تھا کلائی اور ہتھیلی تک بھئی، تاکہ کوئی بھی ہاتھ ڈال کر اس کے بدن کو ٹٹولنا چاہے ‏تو ٹٹول سکے، اس کو چھو سکے بھئی۔ رَقِيقَةٌ بِجَسِّ النَّدَامَى اور اس کا بدن جو ہے وہ نرم و نازک ہے، بِجَسِّ النَّدَامَى، جس کا معنی ہے چھونا، ہاتھ لگانا۔ اور یہ ‏مصدر ہے اس کی اضافت ہو رہی ہے فاعل کی طرف۔ جس النَدَامَى کا کیا معنی؟ ہم نشینوں کا چھونا اور ہاتھ لگانا۔ رَقِيقَةٌ ‏اور وہ نرم و نازک ہے، بِجَسِّ النَّدَامَى ہم نشینوں کے چھونے سے، یعنی ہم نشین جب اس کے جسم کو چھوتے ہیں تو اس ‏کو کیسا پاتے ہیں؟ نرم و نازک۔ یا رَفِيقَةٌ نرم، وہ نرم مزاج ہے، بِجَسِّ النَّدَامَى ہم نشینوں کے چھونے سے، یعنی ہم نشین اس کے بدن کو ہاتھ لگاتے ہیں، اس ‏کو چھوتے ہیں تو وہ نرم مزاج ہے، یعنی غصہ یا ناراضگی اس پر نہیں کرتی۔ بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ، بَظَّةُ ہے مضاف، الْمُتَجَرِّدِ ہے مضاف الیہ۔ اور یہ بَظَّةُ صفت مشبہ ہے، تو اور الْمُتَجَرِّدِ جو ہے وہ اس کا فاعل ‏ہے۔ تو بَظَّةُ کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ جسم کا بھرا ہوا اور ملائم ہونا۔ تو بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ بھئی جسم کا حصہ بھرا ہوا اور ‏ملائم ہے، کون سا بھئی؟ کیا چیز کون سا حصہ بھرا ہوا اور ملائم ہے؟ بتلا دیا الْمُتَجَرِّدِ وہ حصہ جو کپڑوں سے خالی، ‏بدن کا وہ حصہ جو کپڑوں سے خالی ہے وہ نرم اور بھرا ہوا اور ملائم ہے، تو جو چھپا ہوا ہے اس کا کیا حال ہوگا؟ خود ‏ہی آپ اس سے اندازہ لگا لیں۔ رَحِيبٌ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا رَقِيقَةٌ... بِجَسِّ النَّدَامَى بَظَّةُ الْمُتَجَرَّدِ کہ وہ جو گانے والی باندی ہے اس کے گریبان جو ہے وہ کھلا ہے، رَقِيقَةٌ بِجَسِّ النَّدَامَى اور وہ نرم و نازک ہے ہم نشینوں ‏کے چھونے سے، یعنی وہ اس کو چھوتے ہیں تو نرم و نازک پاتے ہیں۔ بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ اور اس کے جسم کا وہ حصہ جو ‏کپڑوں سے عاری ہے وہ بھرا ہوا اور ملائم ہے، نرم و نازک ہے۔ میں نے بتلایا جَسُّ مصدر ہے اور النَّدَامَى یہ مضاف الیہ ہے، یہ دراصل اس کا فاعل ہے۔ جَسُّ النَّدَامَى ہم نشینوں کا چھونا، ‏ان کا ہاتھ لگانا۔ بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ، بَظَّةُ ہے مضاف، الْمُتَجَرِّدِ ہے مضاف الیہ۔ اور یہ بَظَّةُ صفت مشبہ ہے، تو اور الْمُتَجَرِّدِ جو ‏ہے وہ اس کا فاعل ہے۔ تو بَظَّةُ کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ جسم کا بھرا ہوا اور ملائم ہونا۔ تو بَظَّةُ الْمُتَجَرِّدِ بھرا ہوا اور ‏ملائم ہے۔ الْمُتَجَرِّدِ کیا بھرا ہوا اور ملائم ہے؟ الْمُتَجَرِّدِ جسم کا وہ حصہ جو کپڑے سے عاری ہے، جو کپڑے سے ظاہر ‏ہے، دکھائی دے رہا ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو یہ صفت مشبہ کی اضافت ہو رہی ہے اپنے فاعل کی طرف۔ اچھا، ایک تو یہ میں نے معنی کیا رَحِيبٌ قِطَابُ الْجَيْبِ مِنْهَا کہ اس کا گریبان وسیع ہے تاکہ جو ہم نشین ہیں کوئی اس کے ‏گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس کے بدن کو چھونا چاہے تو چھو سکے۔ جبکہ بعض شارحین نے معنی یہ کیا کہ اس کا گریبان ‏وسیع ہے، اس کا گریبان وسیع ہے تاکہ اس کے سینے کا اچھا خاصا حصہ دکھائی دے اور دیکھنے والے اس سے لذت ‏حاصل کریں بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں میں بھئی؟ اس کا گریبان وسیع ہے تاکہ سینے کا حصہ لوگوں کو دکھائی دے ‏اور دیکھنے والے گانا سننے والے جو ہیں اس سے لذت حاصل کریں۔ اسی طرح رَقِيقَةٌ بِجَسِّ النَّدَامَى کہ وہ نرم و نازک ہے، بِجَسِّ النَّدَامَى ہم نشینوں کے چھونے پر، ہم نشینوں کے چھونے پر ‏اس کا بدن وہ کیسا پاتے ہیں؟ نرم و نازک پاتے ہیں۔ یا رَفِيقَةٌ بِجَسِّ النَّدَامَى، اس کو رَفِيقَةٌ پڑھ لیں۔ تو پھر وہ نرم مزاج ہے، ‏بِجَسِّ النَّدَامَى ہم نشینوں کے چھونے پر، ہم نشینوں کے چھونے پر اور اسے چھیڑ چھاڑ کرنے پر بھی وہ ناراضگی اور ‏غصے کا اظہار نہیں کرتی، نرم مزاج ہے۔ تو بعض شارحین نے یہ ترجمہ کیا۔ جَسِّ النَّدَامَى کا کیا معنی کیا؟ ہم نشینوں کا چھونا۔ جبکہ بعضوں نے جَسِّ النَّدَامَى کا معنی کیا کہ ہم نشینوں کا بار بار اس سے گانے کا مطالبہ کرنا۔ تو اس صورت میں پھر ‏رَفِيقَةٌ پڑھیں گے، رَفِيقَةٌ بِجَسِّ النَّدَامَى کہ وہ جو باندی ہے وہ نرم مزاج ہے، بِجَسِّ النَّدَامَى ہم نشینوں کے مطالبے پر، بار ‏بار کے مطالبے پر۔ کبھی وہ اس سے کہتے ہیں فلاں گانا سناؤ، کبھی کہتے ہیں فلاں گانا سناؤ، کبھی کہتے ہیں فلاں گانا ‏سناؤ، تو وہ نرم مزاج ہے، یعنی وہ بار بار مطالبے کرتے ہیں مختلف گانوں کے اور وہ گاتی ہے اور ذرا بھی ناراضگی ‏کا اظہار نہیں کرتی۔ تو جَسُّ النَّدَامَى پھر یہاں پر چھونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ مختلف گانے جو اس سے طلب کرتے ‏ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا اچھی طرح؟ إِذَا نَحْنُ قُلْنَا أَسْمِعِينَا امْبَرَتْ لَنَا... عَلَى رِسْلِهَا مَطْرُوقَةً لَمْ تَشَدَّدِ أَسْمِعِينَا، سَمِعَ يَسْمَعُ کے معنی ہیں سننا، اور أَسْمَعَ يُسْمِعُ کے معنی ہیں سنانا، دوسرے کو سنانا۔ اسی سے امر آئے گا أَسْمِعْ، ‏تو سنا، مخاطب واحد مذکر کے لیے۔ اور مونث کے لیے کیا آئے گا؟ أَسْمِعِي، تو سنا، یعنی مونث چونکہ باندی ہے تو مونث ‏کا صیغہ لائے بھئی۔ أَسْمِعِينَا، تو أَسْمِعِي تو سنا، نَا ہمیںـ امْبَرَتْ لَنَا، اِمْبَرَى يَمْبَرِي کے معنی ہیں سامنے آنا، سامنے آنا۔ عَلَى رِسْلِهَا، رِسْل کہتے ہیں نرمی سے، صبر سے، آرام ‏سے۔ عربی میں کہتے ہیں کسی کو کہنا ہو کہ یہ کام آرام سے اور صبر سے کرو، سکون سے کرو، جلدی نہ کرو، تو ‏کہتے ہیں اِفْعَلْ عَلَى رِسْلِكَ۔ اِفْعَلْ عَلَى رِسْلِكَ، یہ کام اطمینان سے کرو۔ اسی طرح کوئی کسی کام میں مصروف ہو، آپ اس ‏کو کہنا چاہتے ہیں کہ ذرا ٹھہرو بھئی، صبر سے کرو، اطمینان سے کرو، آہستہ آہستہ کرو، تو آپ اس کو کہیں گے عَلَى ‏رِسْلِكَ۔ کیا کہیں گے؟ عَلَى رِسْلِكَ، کہ یہ کام اطمینان سے، صبر کے ساتھ کرو۔ مَطْرُوقَةً، یہ بعض نسخوں میں مَطْرُوقَةً ہے اور بعض نسخوں میں مَطْرُوفَةً ہے۔ اگر مَطْرُوفَةً ہو فا کے ساتھ، تو مَطْرُوفَةً کا ‏معنی ہے نشیلی آنکھوں والی بھئی، وہ باندی جو کیا ہو؟ نشیلی آنکھوں والی ہو، خمار آلود نگاہوں والی ہو۔ یعنی آنکھ سے ‏کسی کو دیکھ رہی ہے اور پلکیں وغیرہ نہیں جھپکا رہی، گویا مدہوش ہو کر کسی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اور اگر یہاں ‏قاف ہو مَطْرُوقَةً، تو مَطْرُوقَةً کا معنی ہے نرم اور ڈھیلی بھئی۔ مردوں کے اندر سختی اور شدت پسند ہے، جبکہ عورتوں ‏کے اندر سختی پسندیدہ نہیں بھئی، تو مَطْرُوقَةً کا معنی نرم اور ڈھیلی جس میں سختی نہ ہو۔ لَمْ تَشَدَّدِ، اصل میں تھا لَمْ تَتَشَدَّدْ، دو تا تھیں، اور آپ صرف میں پڑھ چکے ہیں کہ باب تفعل اور باب تفاعل کے شروع میں ‏دو تائے مفتوحہ جمع ہو جائیں، دو تا ہوں اور دونوں پر فتحہ ہو، تو ایک کو تخفیف کے لیے حذف کرنا جائز ہے بھئی۔ تو ‏تشدد کا معنی ہے سختی کرنا، سختی کرنا، اور لَمْ تَشَدَّدْ کا کیا معنی ہے؟ سختی نہ کرنا۔ إِذَا نَحْنُ قُلْنَا أَسْمِعِينَا امْبَرَتْ لَنَا... عَلَى رِسْلِهَا مَطْرُوقَةً لَمْ تَشَدَّدِ إِذَا نَحْنُ قُلْنَا جب ہم اس سے کہتے ہیں، أَسْمِعِينَا کہ تو ہمیں سنا، یہ نَا مفعول اول ہے اور غِنَاءَكِ مفعول ثانی محذوف ہے، ‏یعنی ہمیں گانا سنا۔ أَسْمِعِينَا غِنَاءَكِ تو ہمیں اپنا گانا سنا، امْبَرَتْ لَنَا تو وہ ہمارے سامنے آتی ہے، عَلَى رِسْلِهَا اطمینان سے۔ ‏یعنی اطمینان اور صبر اور وقار کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے، جلدی نہیں کرتی۔ اور سامنے آنے سے مراد ہے یعنی ‏ہمارے سامنے وہ اپنا گانا پیش کرتی ہے، وہ گانا شروع کرتی ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جب ہم اسے کیا کہتے ہیں؟ ‏کہ تو ہمیں اپنا گانا سنا، تو وہ ہمارے سامنے اطمینان سے آتی ہے، یعنی اطمینان سے وہ گانا گانا شروع کرتی ہے بھئی۔ مَطْرُوفَةً اس حال میں کہ وہ نشیلی آنکھوں والی، خمار آلود نگاہوں والی ہوتی ہے، لَمْ تَشَدَّدِ اور سختی کرنے والی نہیں ہوتی۔ ‏یا قاف پڑھ لیں مَطْرُوقَةً اس حال میں کہ وہ نرم اور ڈھیلی ہوتی ہے، لَمْ تَشَدَّدِ سختی کرنے والی نہیں، وہ سختی نہیں کرتی ‏بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 54 of 62