Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-051

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 139
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ملاحظہ کیجیے:‏ تَحُورَانِ عُوَّارَ القَذَى فَتَرَاهُمَا كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ أُمِّ فَرْقَدِ وَصَادِقَتَا سَمْعِ التَّوَجُّسِ لِلسُّرَى لِهَجْسٍ خَفِيٍّ أَوْ لِصَوْتٍ مُنَدَّدِ مُؤَلَّلَتَانِ تَعْرِفُ العِتْقَ فِيهِمَا كَسَامِعَتَيْ شَاةٍ بِحَوْمَلَ مُفْرَدِ۔ طرفہ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے، اور وہ اپنی اونٹنی کی مختلف صفات بیان کرتا چلا جا رہا ہے۔ اور میں نے بتلایا کہ ‏عرب کا سب سے بڑا خزانہ یہ اونٹ ہوتے تھے، تو انہی کے اندر ان کی زندگی گزرتی تھی۔ تو وہ اس جو ایک ایک ‏صفت یہ بیان کرتا چلا جا رہا ہے، وہ اس کو بہتر طور پر وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی اونٹوں میں گزری ‏ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان صفات وغیرہ یہ صفات اس نے جو ذکر کیں اور تشبیہات و استعارات وغیرہ استعمال کیے، ان ‏لوگوں کو اس میں اتنا لطف محسوس ہوا اور ان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے کہ آج تک ان اشعار کو انہوں نے یاد ‏رکھا ہے۔ ان کے دیہات میں، بچوں بچوں کی زبان پر یہ اشعار ہوتے ہیں۔ تو آگے وہ کہتا ہے طرفہ بن العبد:‏ تَحُورَانِ عُوَّارَ القَذَى فَتَرَاهُمَا، كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ أُمِّ فَرْقَدِ تَحُورَانِ، یہ تثنیہ ہے تحور کی، اور تحور مبالغے کا صیغہ ہے طاحر میں، اور طحر یطحر کا معنیٰ ہے دور کرنا، دور ‏کرنا کسی چیز کو، دور دھکیلنا، اپنے سے ہٹانا کسی چیز کو۔ تو طحر سے طاحر، طاحر کا معنیٰ دور ہٹانے والا، اور ‏تحور اسی میں فعول مبالغے کا وزن آ گیا، تو خوب دور ہٹانے والا۔ تَحُورَانِ، اور یہ تثنیہ ہے بھئی، اور یہ صفت ہے انہی ‏آنکھوں کی بھئی۔ اچھا، پہلے لفظوں کا ترجمہ دیکھ لیں۔ تو تَحُورَانِ، خوب دور کرنے والی دو آنکھیں۔ عُوَّارَ، عوار جو ہے، یہ آنکھ میں کوئی میل کچیل، تنکا وغیرہ پڑ جائے، اس ‏کو عوار کہتے ہیں۔ اور قذیٰ، قذیٰ کا بھی یہی معنیٰ ہے۔ عوار اور قذیٰ کا ایک معنیٰ، آنکھ کے اندر کوئی ذرہ، کوئی میل ‏کچیل، کوئی تنکا وغیرہ پڑ جائے، اس کو قذیٰ کہتے ہیں، قذیٰ۔ فَتَرَاهُمَا كَمَكْحُولَتَي، مكحولتَي یہ اصل میں تثنیہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، اصل میں ہے مکحولتین۔ اور مکحولةٌ ‏کُحلٌ سے ہے، اور کُحلٌ سرمے کو کہتے ہیں، تو مکحولةٌ وہ آنکھ جس میں سرمہ لگایا گیا ہو، جس میں سرمہ لگایا گیا ہو، ‏وہ ہے مکحولةٌ بھئی۔ مَذْعُورَةٍ، زعر یزعر کے معنیٰ ہوتے ہیں کسی کو ڈرانا، خوفزدہ کرنا۔ تو مذعورةٌ جس کو ڈرایا گیا ہو، جس کو خوفزدہ کیا ‏گیا ہو۔ أُمِّ فَرْقَدِ، فرقد کہتے ہیں گائے کے بچھڑے کو بھئی، گائے کا جو بچہ ہو، اس کو فرقد کہتے ہیں۔ أم فرقد سے مراد ‏گائے ہے، بچوں کی ماں جو بچوں والی ہے بھئی۔ تَحُورَانِ عُوَّارَ القَذَى فَتَرَاهُمَا، كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ أُمِّ فَرْقَدِ اور یہ میں نے بتلایا یہ تحورانِ یہ صفت ہے عینانِ کی، پیچھے لفظ پچھلے شعر میں آیا تھا: و عینانِ کالمؤویتینِ، اس کی ‏صفات ذکر ہو رہی ہیں۔ اور میری اس اونٹنی کی ایسی دو آنکھیں ہیں تَحُورَانِ جو دور کرنے والی ہیں اپنے آپ سے، ہٹانے ‏والی ہیں عُوَّارَ القَذَى، میں نے بتلایا دونوں کا ایک معنیٰ ہے، تو دور کرنے والی ہیں یعنی میل کچیل کو۔ آنکھوں سے میل ‏کچیل یا ذرات جو ہیں ان کو اس کی دو ایسی آنکھیں ہیں جو ذرات، میل کچیل، خس و خاشاک کو آنکھوں سے دور کرنے ‏والی ہیں، یعنی کہنا یہ چاہتا ہے اس کی آنکھیں بڑی صاف ستھری ہیں۔ بڑی صاف ستھری ہیں، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ عوار جو ہے وہ آشوبِ چشم کو کہتے ہیں۔ آشوبِ چشم آنکھ کی بیماری، بھئی آنکھوں ‏کی بیماری کبھی لگ جاتی ہے، آنکھ پھیل جاتی ہے وباء کی طرح، آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، سوج جاتی ہیں، تو اس کو ‏کہتے ہیں عوار بھئی۔ بعض شارحین کیا فرماتے ہیں یہ آشوبِ چشم یا آنکھوں کی بیماری کو کیا کہتے ہیں؟ عوار۔ اور یہ ‏آنکھوں کی بیماری میں آنکھوں میں میل جمع ہوتا ہے بھئی، تو کہا عُوَّارَ القَذَى، عوار القذیٰ مضاف الیہ سے ترجمہ ہو گا ‏نا؟ میل کچیل کا آشوبِ چشم، میل کچیل کا... تو معنیٰ یہ ہو گا تَحُورَانِ عُوَّارَ القَذَى، میری جو اونٹنی ہے وہ دور کرنے والی ‏ہے، وہ ہٹانے والی ہے میل کچیل کے آشوبِ چشم کو۔ میل کچیل کا جو آشوبِ چشم ہے، آنکھ جو بیماری ہے، اس کو یہ ‏اونٹنی دور کرنے والی ہے، تو کہنا یہ چاہتا ہے کہ میری اونٹنی کی آنکھیں تندرست ہیں، صحیح ہیں، ان میں یہ آشوبِ چشم ‏والی بیماری نہیں ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ ایک صورت میں ترجمہ کیا بنتا تھا؟ آنکھیں صاف ستھری ہیں۔ دوسری ‏صورت میں کیا ہے کہ آنکھیں تندرست ہیں بھئی۔ فَتَرَاهُمَا پس تو ان کو دیکھتا ہے كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ أُمِّ فَرْقَدِ، جیسے کہ جیسے کہ دو آنکھیں ہوں بھئی دیکھو، یہ مذعورةٍ ‏جو ہے نا، یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، أي بقرةٍ مذعورةٍ، بقرةٍ مذعورةٍ۔ اور مراد بقرہ وحشیہ ہے، جنگلی گائے ‏بھئی، نیل گائے۔ بقرةٍ وحشيةٍ مذعورةٍ، ایسی جنگلی گائے جو ڈری ہوئی ہو، جس کو ڈرایا گیا ہو، یعنی شکاری وغیرہ سے ‏وہ ڈر گئی، شکاری وغیرہ سے ڈر گئی ہو، تو میری جو اونٹنی ہے، اس کی آنکھیں ایسی ہی ہیں كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ، ‏جیسے کسی شکاری سے ڈری ہوئی نیل گائے کی دو سرمہ لگی ہوئی آنکھیں ہوں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مکحولتَی، ‏مکحولہ کسے کہتے ہیں؟ سرمہ لگی ہوئی آنکھ۔ كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ، یہ تثنیہ ہے، مکحولتین تھا اصل میں۔ كَمَكْحُولَتَي ‏مَذْعُورَةٍ، أي بقرةٍ مذعورةٍ، جیسے کہ کسی شکاری سے ڈری ہوئی جنگلی گائے کی دو سرمہ لگی ہوئی آنکھیں ہوتی ہیں۔ بھئی جنگلی گائے کی آنکھوں میں تو سرمہ نہیں ہوتا، تو مکحولہ سے مراد مطلقاً آنکھیں مراد ہیں، کیونکہ سرمہ کہاں ‏لگایا جاتا ہے؟ آنکھوں میں، تو مکحولہ بول کر آنکھیں مراد ہیں، اور ان کو پھر مکحولہ سے تعبیر کیا، کیونکہ جنگلی ‏گائے کی آنکھیں، کیونکہ جنگلی گائے کی آنکھیں جو ہیں، وہ خوبصورتی میں ضرب المثل ہیں بھئی، تو اس لیے ان کو ‏کس کے ساتھ تعبیر کیا؟ گویا کہ وہ پیدائشی ہی ان میں کیا لگا ہوا ہے؟ سرمہ لگا ہوا ہے، جیسے سرمہ لگانے سے آنکھ ‏بڑی حسین و جمیل معلوم ہوتی ہے، تو ان کی آنکھیں بھی جیسے پیدائش سے ہی ان میں کیا لگا ہو؟ سرمہ لگا ہوا ہو، یعنی ‏بڑی حسین و جمیل آنکھیں ہیں۔ تو کہتا ہے: فَتَرَاهُمَا كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ، پس تو ان کو دیکھتا ہے اس حال میں کہ وہ ایسی ہوتی ہیں جیسے کسی ڈری ہوئی ‏جنگلی گائے کی دو سرمہ لگی ہوئی آنکھیں ہوں۔ أُمِّ فَرْقَدِ، یہ دوسری صفت آ گئی بقرہ کی، بقرةٍ مذعورةٍ أمِ فرقدٍ، ایک صفت ‏مذعورةٍ اور دوسری کیا آئی؟ أمِ فرقدٍ۔ اور وہ بقرہ بھی کیسی ہے؟ أمِ فرقد ہے، بچوں والی ہے، یعنی اس کے بچے بھی ہیں۔ اب پھر ترجمہ دیکھیں: تَحُورَانِ عُوَّارَ القَذَى فَتَرَاهُمَا، كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ أُمِّ فَرْقَدِ، میری اونٹنی کی دو ایسی آنکھیں ہیں جو ‏میل کچیل کو خوب دور کرنے والی ہیں، یا وہ آشوبِ چشم کے میل کچیل کو خوب دور کرنے والی ہیں، فَتَرَاهُمَا، پس تو ان ‏کو دیکھتا ہے كَمَكْحُولَتَي مَذْعُورَةٍ أُمِّ فَرْقَدِ، تو اس کی آنکھیں ایسی ہی ہیں جیسے کہ بچوں والی اور ڈری ہوئی ایک جنگلی ‏گائے کی دو سرمہ لگی ہوئی آنکھیں ہوتی ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ خصوصاً ایسی بقرہ وحشیہ کی آنکھوں کے ساتھ تشبیہ دی جو کیا ہے؟ شکاری سے ڈری ہوئی ہے۔ شکاری سے ڈری ‏ہوئی ہے، وجہ یہ کہ اس حالت میں جب وہ شکاری سے ڈر گئی تو اس وقت اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک اور ‏تیزی پیدا ہو جاتی ہے کہ اسے اپنی جان کی فکر ہو جاتی ہے کہ شکاری مجھ پر کسی طرف سے حملہ آور نہ ہو جائے، ‏تو خوب چوکس ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں خاص تیزی اور چمک آ جاتی ہے، اس لیے اس کو ذکر کیا بھئی، اور اس ‏وقت وہ اور زیادہ حسین معلوم ہوتی ہیں آنکھیں۔ اور پھر کہا أمِ فرقد کہ بچوں والی جنگلی گائے ہو، اس لیے کیونکہ جب ‏بچوں والی ہے تو اسے اپنے بچوں کی بھی فکر ہو گی، تو وہ اس کی آنکھوں میں وہ وہ چوکس ہو گی، تیزی اور چمک ‏آئے گی اس کی آنکھوں میں، اور بچے بھی ساتھ ہیں تو بچوں کی وجہ سے آنکھوں میں ایک خاص قسم کی شفقت بھی ہو ‏گی بھئی، تو وہ اس لیے اس بقرہ وحشیہ کی آنکھوں سے تشبیہ دی بھئی، تو یہ سب سے خوبصورت اس کی آنکھیں اس ‏وقت معلوم ہوتی ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: وَصَادِقَتَا سَمْعِ التَّوَجُّسِ لِلسُّرَى، لِهَجْسٍ خَفِيٍّ أَوْ لِصَوْتٍ مُنَدَّدِ وَصَادِقَتَا، یہ بھی تثنیہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، اصل میں تھا صادقتانِ۔ اور صادقتانِ تثنیہ ہے کس کی؟ ‏صادقةٌ کی۔ اور صادقةٌ یہ موصوف محذوف ہے، أي ولها أذنانِ، أذنان موصوف ہے اور صادقتان اس کی صفت۔ اور آپ حیران ہوں گے کہ صادقةٌ یہ تو مؤنث ہے، اور أذن کا لفظ کیا ہے؟ مذکر ہے، تو یاد رکھیے انسان کے جو اعضاء ‏دو دو ہیں، جو اعضاء دو دو ہیں، جیسے دو ہاتھ ہیں، دو آنکھیں ہیں وغیرہ، یہ اعضاء عموماً عربی میں مؤنث استعمال ‏ہوتے ہیں، تو یہ أذن کا لفظ مؤنث ہوا، تو اس کی صفت بھی مؤنث لائی گئی۔ اور تو صادقةٌ کا کیا معنیٰ؟ سچی بھئی، سچی۔ سمعٌ کا معنیٰ سننا۔ توجسٌّ، توجس کا معنیٰ ہے توجہ سے سننا، سمع کا معنیٰ ‏ہے سننا، اور توجس کا معنیٰ توجہ سے سننا، اسی طرح توجس کا معنیٰ ہے ہلکی آواز کو توجہ سے سننا، صرف توجہ ‏سے سننا یا ہلکی آواز کو توجہ سے سننا۔ لِلسُّرَى، سریٰ کہتے ہیں رات کو نکلنا، رات کو سفر پر روانہ ہونا، رات کو سفر ‏پر جانا، اس کو سریٰ کہتے ہیں۔ قرآن میں بھی آپ نے پڑھا ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ، اسریٰ کا کیا معنیٰ؟ رات کو لے ‏جانا بھئی۔ تو سریٰ کہتے ہیں رات کو سفر پر نکلنا۔ لِهَجْسٍ، ہجسٌ کہتے ہیں ہلکی آواز بھئی، بہت ہلکی آواز جو ہو، جو ‏سنائی تو دے سمجھ میں نہ آئے، اس کو ہجسٌ کہتے ہیں، ہجسٌ۔ خَفِيٍّ، خفی کا معنیٰ ہے پوشیدہ۔ صَوْتٌ، آواز کو کہتے ہیں۔ ‏مُنَدَّدِ، ندّد یندّد تندید کا معنیٰ ہے آواز کو اونچا کرنا، آواز کو بلند کرنا، تو اسی سے اسمِ فاعل آئے گا منِدّد، آواز کو اونچا ‏کرنے والا، اور اسمِ مفعول آئے گا منَدَّد، وہ آواز جس کو کیا کیا گیا؟ اونچا کیا گیا، اور اس شعر میں دونوں روایتیں ہیں، ‏منَدَّد بھی آیا ہے اور منِدّد بھی آیا ہے، لیکن فرق سمجھ لو، اگر پڑھیں منِدّد، تو پھر لِصَوْتِ مُنَدِّدٍ مضاف مضاف الیہ پڑھیں ‏گے، لِصَوْتِ مُنَدِّدٍ، ترجمہ کیا ہو گا؟ آواز اونچا کرنے والے کی آواز، لِصَوْتِ مُنَدِّدٍ، آواز اونچا کرنے والے کی آواز، اور ‏اگر اس کو منَدَّد پڑھیں تو پھر یہ موصوف صفت بنیں گے، صَوْتٍ مُنَدَّدٍ، وہ آواز جو کیا ہے؟ اونچی کی گئی ہے۔ وَصَادِقَتَا سَمْعِ التَّوَجُّسِ لِلسُّرَى، لِهَجْسٍ خَفِيٍّ أَوْ لِصَوْتٍ مُنَدَّدِ اور میری اس اونٹنی کے دو ایسے کان ہیں وَصَادِقَتَا سَمْعِ التَّوَجُّسِ، توجس کا کیا معنیٰ میں نے کیا؟ ہلکی آواز کو غور سے ‏سننا، لیکن یہاں اس سے ہلکی آواز مراد ہے، مراد کیا ہے؟ ہلکی آواز مراد ہے بھئی، یعنی مصدری معنیٰ یہاں مراد نہیں ‏ہے ورنہ تو اضافت درست نہیں رہتی۔ وَصَادِقَتَا سَمْعِ التَّوَجُّسِ، ہلکی آواز کو سننے میں جو بڑے سچے ہیں، اس کے دو ‏ایسے کان ہیں جو ہلکی آواز کو سننے میں بڑے سچے ہیں، لِلسُّرَى، یہ لام بمعنیٰ فی کے ہے، أي في السُّرىٰ، رات کے وقت ‏سفر کے میں، رات کے وقت سفر میں، رات کے وقت سفر میں اس کے جو دو کان ہیں وہ ہلکی آواز کو سننے میں بڑے ‏سچے ہیں، یعنی کبھی غلطی نہیں کرتے۔ آواز کے سننے میں کبھی غلطی نہیں کرتے۔ رات کا وقت ہے ظاہری بات ہے، اب رات کے وقت خصوصاً اگر چاند ‏وغیرہ بھی نہ ہو تو پھر تو کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا، تو اس وقت سارا انحصار کس پر ہو جائے گا؟ کانوں پر ہو جائے ‏گا، کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے آواز سے ہی پتہ چلے گا کہ کس طرف خطرہ ہے اور کس طرف خطرہ نہیں ‏ہے بھئی، اس لیے کہا: وَصَادِقَتَا سَمْعِ التَّوَجُّسِ لِلسُّرَى، کہ میری اس اونٹنی کے دو ایسے کان ہیں جو ہلکی آواز کو سننے ‏میں بڑے ہی سچے ہیں لِلسُّرَى أي في السرى، رات کے وقت سفر میں۔ لِهَجْسٍ خَفِيٍّ، ہجسٌ میں نے بتلایا کسے کہتے ہیں؟ ‏ہلکی آواز، لِهَجْسٍ خَفِيٍّ، پوشیدہ ہلکی آواز کو، جو بڑے ہی سچے ہیں رات کے وقت سفر میں، ہلکی آواز کو سننے میں ‏یعنی لِهَجْسٍ خَفِيٍّ، کس کو؟ ہلکی آواز کو، أَوْ لِصَوْتٍ مُنَدَّدِ، یا يا بلند آواز، یعنی چاہے آواز ہلکی ہو یا اونچی ہو، اس کو ‏سننے میں اس کے دونوں کان بڑے ہی سچے ہیں۔ یا لِهَجْسٍ خَفِيٍّ أَوْ لِصَوْتِ مُنَدِّدٍ، مضاف مضاف الیہ پڑھ لیں، لِهَجْسٍ خَفِيٍّ، ہلکی پوشیدہ آواز کو، أَوْ لِصَوْتِ مُنَدِّدٍ، یا کسی آواز ‏بلند کرنے والے کی آواز کو سننے میں بڑے ہی سچے ہیں، مراد وہی ہے ہلکی آواز ہو چاہے اونچی آواز ہو، اس کو سننے ‏میں بڑے ہی سچے ہیں، اس میں کبھی غلطی نہیں کرتے۔ معنیٰ سمجھ میں آگیا؟ وصادقتا سمع توجس للسریٰ لہجس خفي أو لصوت مندد اور میری اس اونٹنی کے ایسے کان ہیں جو ہر آواز کو سننے میں بڑے ہی سچے ہیں رات کے وقت سفر میں۔ لحجس خفي ‏أو لصوت مندد، چاہے وہ ہلکی پوشیدہ آواز ہو یا کوئی بلند آواز۔ مؤللتان تعرف العتق فيهما کسامعتي شاة بحومل مفرد مؤللتان، اللّ یوؤلّل تحلیل کا معنیٰ ہے کسی چیز کو نوک دار بنانا، تیز نوک والا بنانا۔ اللّ یوؤلّل تحليلا۔ یہ لفظ ہے دراصل ‏اللۃ سے، اللۃ، گول تا ہے آخر میں اور اللۃ عربی میں کہتے ہیں نیزے کو، نیزے۔ اور نیزے کا بھی اگلا سرا بڑا ہی نوک ‏دار اور تیز ہوتا ہے، تو اسی سے فعل بنا لیا۔ اللّ یوؤلّل تحليلا، کسی چیز کو نوک دار بنانا، تیز نوک والا بنانا۔ تو اسی سے ‏مؤلل اسم مفعول آ گیا، مؤلل، وہ چیز جس کی نوک تیز بنائی گئی ہو اور یہ تثنیہ ہے مؤللتان۔ مؤللتان۔ مؤللتان تعرف العتق فيهما کسامعتي شاة بحومل مفرد تو مؤللتان مراد اس کے کان ہیں بھئی، اس کے دو کان جو کیا ہیں، بڑے نوک دار ہیں۔ تعرف العتق، عتق کہتے ہیں خاندان ‏کا اعلیٰ ہونا یا جانوروں میں ہو تو نسل کا اعلیٰ ہونا، نسل کا اعلیٰ ہونا۔ اور اسی سے صفت مشبہ، عتیق۔ عتیق اس شخص ‏کو کہیں گے جو بڑے عمدہ، اعلیٰ خاندان والا ہو۔ اسی طرح جانوروں کے اندر جو عمدہ نسل والا ہو اس کو کہیں گے ‏عتیق، جس کو اپ اصیل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ بھئی مرغے مرغیاں ہوں آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ اصیل مرغہ ہے یعنی ‏بڑے اعلیٰ نسل والا ہے۔ کسامعتي شاة، یہ پھر تثنیہ آ گیا، اصل میں تھا سامعتینِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ اور سامعہ کان کو کہتے ہیں، ‏سننے والا یعنی کان۔ شاة، شاة کا معنیٰ میں نے بتلایا تھا کسے کہتے ہیں؟ بھیڑ بکری دونوں جنسوں پر بولا جاتا ہے۔ عام ‏طور پر کتابوں کے اندر، فقہ وغیرہ میں آپ جب شاة کا لفظ پڑھیں تو اس کا معنیٰ یہی بھیڑ بکریاں ہیں اور دونوں جنسیں ‏ہیں، دونوں جنسیں ہیں، ایک نہیں۔ عموماً طلباء اس کا ترجمہ بکری کے ساتھ صرف کرتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ بھیڑ ‏اور بکری دونوں جنسیں اس میں شامل ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے غنم، غنم۔ غنم کا لفظ بھی بھیڑ بکری دونوں جنسوں کو ‏شامل ہوتا ہے، اسی طرح شاة کا لفظ بھی بھیڑ اور بکری دونوں جنسوں کو شامل ہے۔ نیز، یہی شاة کا لفظ ہرن یا ہرنی پر بھی بولا جاتا ہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں اور جنگلی گائے اور جنگلی بیل، یہ بھی ‏اس کے اندر داخل ہیں۔ لیکن میں نے بتایا عام فقہ کی کتابوں میں اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ بھیڑ اور بکریاں۔ لیکن ہرن ‏اور جنگلی گائے مذکر مونث، وہ بھی اس کے اندر داخل ہیں۔ اور یہاں پر شاة سے مراد جنگلی گائے ہے اور وہ بھی نر، ‏یعنی بیل، جنگلی بیل مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ جنگلی بیل، جنگلی بیل مراد ہے۔ اور وجہ اس کی یہ کیونکہ وہ کانوں کے تیز ہونے کو بیان کر رہا ہے اور عموماً اس کے کان بڑے تیز ہوتے ہیں۔ پھر ‏اس میں بھی جنگلی گائے مراد نہیں ہے، جنگلی بیل مراد ہے کیونکہ آگے صفت آرہی ہے، مفرد، اور مفرد مذکر کی صفت ‏ہے، معلوم ہوا یہاں شاة سے مونث مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ مذکر مراد ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور حومل جگہ کا نام ہے بھئی، جگہ کا نام۔ اور اس پر با جارہ داخل ہے لیکن اس پر کسرہ نہیں آیا کیونکہ یہ غیر ‏منصرف ہے بھئی اور غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ تو اس میں دو اسباب منع صرف کیا ‏ہیں؟ بحومل میں۔ یہ غیر منصرف ہے، دو اسباب منع صرف کیا ہیں؟ نمبر ایک تو علم، جگہ کا نام ہے۔ دوسرا سبب؟ یاد ‏رکھو، یہ جگہوں کے جتنے نام ہیں، یہ عموماً غیر منصرف ہوتے ہیں، ایک ان میں علمیت ہوتی ہے، دوسری تانیث ہوتی ‏ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ تانیث، تو حومل میں بھی تانیث ہے۔ اب تانیث کیسے ہے؟ بھئی دیکھو، تانیث اس میں تاویل کے ‏ذریعے لاتے ہیں۔ یہ بقعۃ کی تاویل میں ہے۔ کس میں؟ کس تاویل میں؟ بقعۃ کے آخر میں گول تا آرہی ہے یا نہیں؟ تو یہ ‏حومل ایک جگہ کا نام ہے اور بقعہ کا کیا معنیٰ؟ زمین کا ایک ٹکڑا، تو یہ بھی زمین کا ایک ٹکڑا ہے کہ نہیں؟ تو یہ زمین ‏کا ایک ٹکڑا ہوا، تو یہ بقعۃ ہوا، تو ایک تو اس میں تانیث ہے اور ایک اس میں علمیت ہے۔ جگہوں کے جتنے نام ہیں وہ ‏عموماً غیر منصرف ہوتے ہیں، ایک سبب کیا ہوتا ہے، علمیت اور دوسرا سبب عموماً کیا ہوگا؟ تانیث ہوگا۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ مؤللتان تعرف العتق فيهما کسامعتي شاة بحومل مفرد کہ میری اونٹنی جو ہے، میری اونٹنی جو ہے اس کے دو کان جو ہیں بڑے نوک دار ہیں۔ یاد رکھو اونٹ اور اونٹنیوں میں ‏کانوں کا نوک دار ہونا اور بالوں سے خالی ہونا یعنی اس کے اندر بال کم ہوں کیونکہ کان کے اندر بال زیادہ ہوں گے تو ‏سننے میں رکاوٹ ہوگی بھئی، تو کانوں کا نوک دار ہونا اور اندر سے بالوں سے خالی ہونا، یہ ان کے عمدہ اور اعلیٰ ‏ہونے کی نشانی ہوتی تھی بھئی اور اس کو پسند کیا جاتا تھا۔ تو کہتا ہے:‏ مؤللتان تعرف العتق فيهما میری اونٹنی کے دو ایسے کان ہیں جو نوک دار ہیں، تعرف العتق فيهما، تو ان کے اندر نسل کے عمدہ، نسل کے عمدہ ‏ہونے کو پہچانے گا۔ دو نوک دار کان ہیں اس اونٹنی کے اندر، تو نسل کے عمدہ ہونے کو پہچانے گا، ان کانوں سے ‏تجھے پتہ چل جائے گا کہ یہ اعلیٰ نسل والی اونٹنی ہے، عام اونٹنی نہیں ہے۔ کسامعتي شاة بحومل مفرد اور وہ کان کس کی طرح ہیں؟ جنگلی بیل کے کانوں کی طرح ہیں، وہ جنگلی بیل بحومل، جو کہاں پر ہو؟ مقامِ حومل میں ‏ہو، مقامِ حومل کو ذکر کیا۔ شاید اس وجہ سے کہ وہاں پر یہ جنگلی گائے، بیل وغیرہ بکثرت ہوتے ہوں گے یا اس وجہ ‏سے کہ وہاں کے جنگلی گائے اور بیل وغیرہ وہ ذرا عمدہ اور اعلیٰ ہوتے ہوں گے، اس لیے مقامِ حومل کو ذکر کیا بھئی۔ مفرد، اور وہ جنگلی بیل کیا ہو؟ اکیلا ہو، اکیلا ہو۔ کسامعتي شاة بحومل مفرد، جیسے کہ مقامِ حومل کے ایک اکیلے جنگلی ‏بیل کے کانوں کی طرح۔ میری اس اونٹنی کے دو کان کس کی طرح ہیں؟ مقامِ حومل کے ایک تنہا، اکیلے جنگلی بیل کے ‏کانوں کی طرح بھئی۔ اور جنگلی بیل کے کان ذکر کیے کیونکہ اس کے کان سننے میں بڑے تیز ہوتے ہیں بھئی۔ اور پھر ‏خصوصاً بیل کو ذکر کیا، بیل کو، کیونکہ بیل جو ہے، وہ زیادہ بیدار چوکنا ہوتا ہے اور اس کی قوتِ سماعت بہتر ہوتی ‏ہے۔ اور نیز، مفرد ہونے کو ذکر کیا کہ ایسا بیل جو تنِ تنہا ہو، اکیلا ہو، اس لیے کیونکہ اگر ساتھ اور بیل وغیرہ اور ‏گائے ہوں گی تو پھر یقیناً وہ اتنا مستعد نہیں ہوگا، شور وغیرہ ہوگا، توجہ ان کی طرف ہوگی لیکن جب اکیلا ہوگا تو وہ ‏خوب چوکنا ہوگا اور ہر آواز کی طرف اس کی توجہ ہوگی بھئی، معنیٰ سمجھ میں آگیا؟ مؤللتان تعرف العتق فيهما کسامعتي شاة بحومل مفرد میری جو اونٹنی ہے اس کے ایسے دو کان ہیں جو نوک دار ہیں، تعرف العتق فيهما، نسل کے عمدہ ہونے کو تو اس میں ‏پہچان لے گا، کسامعتي شاة بحومل مفرد، جیسے کہ مقامِ حومل کے کسی تنِ تنہا جنگلی بیل کے دو کان ہوتے ہیں۔ وأروع نباض أحذ ململم كمرداة صخر في صفيح مصمد أروع، بھئی راع یروع روعاً کا معنیٰ ہے ڈرنا لیکن یہ بابِ سمع سے ہے، ویسے راع یروع روعاً کا کیا معنیٰ ہے؟ ڈرنا، ‏لیکن یہ بابِ سمع سے ہے بھئی، روع یروع روعاً، اس کا معنیٰ ہوتا ہے خوب سمجھدار ہونا، خوب سمجھدار ہونا۔ تو ‏أروع، جو خوب سمجھدار ہو اس کو أروع کہیں گے، أروع۔ نباض، نبض ینبض نبضاً کے معنیٰ ہیں حرکت کرنا، نبض ینبض کا معنیٰ ہے حرکت کرنا۔ اور اسی طرح دل کی جو ‏دھڑکن ہے، حرکت ہے، اس کو بھی نبض کہتے ہیں۔ اسی طرح بھئی، اردو میں بھی آپ دیکھتے ہیں کہ ہاتھ پر جو نبض ‏ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ نبض کہتے ہیں کیونکہ اس میں بھی ہر وقت حرکت ہوتی ہے بھئی، ہلتی رہتی ہے، بات سمجھ ‏میں آگئی؟ تو نبض ینبض کا کیا معنیٰ میں نے بتلایا؟ حرکت کرنا۔ اور اسی سے حرکت کرنے والا، نابض، حرکت کرنے ‏والے کو کیا کہیں گے؟ نابض۔ اور اسی میں مبالغے کا صیغہ ہے، نباض، خوب حرکت کرنے والا، خوب حرکت کرنے ‏والا۔ اور یاد رکھیے، یہ صفات ذکر کر رہا ہے قلب کی، أی ولھا قلب، أروع سے پہلے قلب موصوف محذوف ہے، أی ولھا ‏قلب أروع نباض۔ یعنی خوب دھڑکنے والا دل ہے، خوب حرکت کرنے والا دل ہے۔ أحذ، أحذ، قلبِ أحذ کہتے ہیں، قلب أحذ، وہ دل جو تیز حس والا ہو، جس کی حس بڑی تیز ہو یعنی جلدی باتوں کا ادراک کر ‏لیتا ہے، جلدی بات کو سمجھ لیتا ہے، جلدی بات کو سمجھ لیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قلب أحذ، أحذ۔ ململم، بھئی رجل ململم وجمل ململم، ایسے مرد یا ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جس کا جسم خوب گٹھا ہوا ہو یعنی خوب ‏مضبوط جسم ہو اور گوشت سے پر ہو اور طاقتور ہو بھئی، پھولا ہوا جسم نہیں، طاقتور جسم مراد ہے، تو اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ ململم۔ اور یہاں یہ قلب کی صفت بیان ہو رہی ہے، تو قلبِ ململم کا کیا معنیٰ؟ بڑا مضبوط اور طاقتور دل، معنیٰ ‏سمجھ میں آگیا؟ كمرداة صخر، مرداۃ، ردی یردی کا معنیٰ ہے پتھر کو توڑنا، پتھر کو توڑنا، ردی یردی ردیاً، پتھر کو توڑنا۔ اسی سے اسمِ ‏آلہ کا صیغہ ہے مرداۃ، وہ آلہ جس کے ذریعے پتھر کو توڑا جائے اور پتھر کو کس سے توڑیں گے؟ یا تو پتھر ہی سے ‏توڑا جاتا ہے یا کسی ہتھوڑے وغیرہ کے ذریعے، تو چاہے پتھر سے توڑیں تو جس سے توڑ رہے ہیں وہ ہے مرداۃ، ‏توڑنے کا آلہ، یا ہتھوڑے سے توڑیں تو وہ ہتھوڑا کیا ہے؟ مرداۃ، توڑنے کا آلہ ہے۔ لیکن یہاں پر کیا کہا؟ کمرداۃ صخر، ‏صخر کہتے ہیں چٹان کو، بڑے پتھر کو بھئی، اور یہ بھی خاتم فضۃ کی قبیل سے ہے۔ خاتم فضۃ، خاتم فضۃ کا کیا معنیٰ ‏تھا؟ خاتم من فضۃ یعنی ایسی انگوٹھی جو کس سے بنی ہو؟ چاندی سے بنی ہو، تو یہاں پر بھی ہے کمرداۃ من صخر، ایسا ‏پتھر توڑنے کا آلہ من صخر جو کس سے بنا ہو؟ چٹان یعنی پتھر سے بنا ہو، کس سے بنا ہو؟ پتھر سے بنا ہو۔ في صفيح مصمد، صفیح کہتے ہیں کوئی چوڑی چیز ہو اس کو صفیح کہتے ہیں۔ اسی طرح پتھر کی چوڑی سل جو ہو، ‏چوڑی سل، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ صفیح کہتے ہیں جیسے سل جس پر مصالحہ وغیرہ کوٹا جاتا ہے اور تو وہ صفیح ‏ہے بھئی۔ مصمد، مصمد کا معنیٰ ہے مضبوط اور سخت بھئی، مصمد۔ الفاظ کے معنیٰ سمجھ میں آگئے؟ کہتا ہے:‏ وأروع نباض أحذ ململم كمرداة صخر في صفيح مصمد أی ولھا قلب، اور میری اونٹنی جو ہے اس کا ایسا دل ہے أروع، جو بڑا ہی سمجھدار ہے یعنی باتوں کو فوراً سمجھ لیتی ‏ہے، نباض، اور خوب دھڑکنے والا، خوب حرکت کرنے والا ہے وہ دل، أحذ، اور وہ دل چیزوں کا جلدی ادراک کرنے ‏والا ہے، ململم، اور بڑا ہی مضبوط، طاقتور دل ہے، کمرداۃ صخر، جیسے کہ پتھر کا بنا ہوا کوئی پتھر توڑنے کا آلہ ہو، ‏پتھر سے بنا ہوا پتھر توڑنے کا کوئی آلہ ہو، کہاں پر؟ في صفيح مصمد، مضبوط سلوں کے بیچ میں۔ کس کے بیچ میں؟ ‏کہنا یہ چاہتا ہے دیکھو یہ دل جو ہے نا یہ پسلیوں کے بیچ میں ہوتا ہے، تو پسلیوں کو تشبیہ دے دی پتھر کی سل کے ‏ساتھ، پتھر کی سل کے ساتھ کہ اس اونٹنی کا دل جو ہے پتھر کی سلوں کے بیچ میں ہے اور خود یہ پتھر کی سلوں میں ہے ‏دل، اور دل خود کتنا مضبوط ہے، کتنا سخت ہے کہ اس کے ذریعے اور پتھروں کو توڑا جاتا ہے، اتنا مضبوط ہے بھئی، ‏تشبیہ سمجھ میں آگئی بھئی؟ ایسا سخت پتھر کہ جس کے ذریعے اور پتھروں کو توڑا جائے بھئی۔ وأروع نباض أحذ ململم كمرداة صخر في صفيح مصمد اور میری جو اونٹنی ہے اس کا دل جو ہے بڑا ہی سمجھدار ہے، بڑی تیزی سے دھڑکنے والا ہے، أحذ، چیزوں کا جلدی ‏ادراک کرنے والا ہے، ململم، بڑا طاقتور اور مضبوط ہے، کمرداۃ صخر، جیسے کہ پتھر سے بنا ہوا کوئی پتھر توڑنے کا ‏آلہ ہو، في صفيح مصمد، مضبوط سلوں کے بیچ میں۔ معنیٰ سمجھ میں آگیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 51 of 62