Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 129
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی سبق۔ إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا مَنْ فَتًى خِلْتُ أَنَّنِي عُنِيتُ فَلَمْ أَكْسَلْ وَلَمْ أَتَبَلَّدِ أَحَلْتُ عَلَيْهَا بِالْقَطِيعِ فَأَجْذَمَتْ وَقَدْ خَبَّ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ فَذَالَتْ كَمَا ذَالَتْ وَلِيدَةُ مَجْلِسٍ تُرِي رَبَّهَا أَذْيَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ طرفہ ابن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور قصیدے کے آغاز میں تشبیب تھی یعنی اس نے اپنے عشق و محبت کو ذکر کیا، ‏اپنی عاشقہ کے حسن و جمال کو بیان کیا اور پھر اس کے بعد اپنی اونٹنی کی صفات بیان کرنا شروع کیں اس نے اور وہ ‏صفات بیان کرتا چلا جا رہا ہے۔ اب درمیان میں اپنی صفات بھی ساتھ ساتھ ذکر کر رہا ہے کہ میں کیسا انسان ہوں، میری ‏کیا کیا صفات ہیں، تو کہتا ہے: إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا مَنْ فَتًى خِلْتُ أَنَّنِي عُنِيتُ فَلَمْ أَكْسَلْ وَلَمْ أَتَبَلَّدِ۔‏ فتاً، فتاً کہتے ہیں جوان کو بھئی، جوان۔ خِلْتُ، خالَ یَخالُ کے معنی ہیں خیال کرنا، گمان کرنا۔ عُنِيتُ، عَنَى یَعْنِی کے معنی ‏ہیں ارادہ کرنا، ارادہ کرنا۔ اسی سے لفظ ہے معنیٰ، معنیٰ، آپ کہتے ہیں نا یہ اس لفظ کا معنیٰ ہے یعنی جس کا اس سے ‏ارادہ کیا جاتا ہے جو اس سے مراد ہوتی ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معنیٰ۔ تو عَنَى یَعْنِی کا معنیٰ ہوتا ہے ارادہ کرنا۔ ‏عُنِيتُ، میرا ارادہ کیا جاتا ہے۔ فَلَمْ أَكْسَلْ، کَسِلَ یَكْسَلُ کَسَلًا کے معنی ہیں سست ہونا، سست ہونا، سستی کرنا۔ وَلَمْ أَتَبَلَّدِ، اَ تَبَلَّدِ ‏بَلِید سے ہے، بَلِیدٌ، با، لام، یا اور دال، بَلِیدٌ۔ اور بلید کہتے ہیں کند ذہن، کند ذہن، وہ شخص جس کا ذہن کمزور ہو بھئی، ‏کمزور ہو۔ اس کو کند ذہن کہتے ہیں۔ اسی کو باب تفعل میں لے گئے۔ تَبَلَّدَ یَتَبَلَّدُ تَبَلُّدًا، اور باب تفعل کا خاصہ ہے تصنع اور ‏بناوٹ بھئی۔ تو تبلد کا معنیٰ ہوا بتکلف جو ہے وہ کند ذہن بننا۔ یعنی ایسا بننا جیسے کوئی شخص کیا ہو؟ کند ذہن ہو، ‏بتکلف بھئی، بناوٹی طور پر اپنے آپ کو کند ذہن ظاہر کرے، اپنے آپ کو بے وقوف ظاہر کرے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏تبلد بھئی، تبلد۔ تو شاعر کہتا ہے: إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا مَنْ فَتًى خِلْتُ أَنَّنِي عُنِيتُ فَلَمْ أَكْسَلْ وَلَمْ أَتَبَلَّدِ۔ إِذَا الْقَوْمُ، جس وقت کہ وہ قوم، وہ قوم، الف لام آیا ‏خاص قوم مراد ہے اور مراد شاعر کی قوم ہے، کس کی قوم مراد ہے؟ شاعر کی قوم۔ تو چنانچہ پھر اس میں علماء کے دو ‏گروہ ہیں۔ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا، بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہ الف لام عوض ہوتا ہے مضاف ‏علیہ سے، اصل میں تھا قَوْمِي، میری قوم، قوم مضاف تھا اور یا مضاف علیہ، پھر مضاف علیہ کو حذف کیا اور اس کے ‏عوض الف لام لے آئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اَلْقَوْمُ اور مراد کیا ہے؟ میری قوم، تو یہ الف لام عوض ہے مضاف علیہ ‏سے۔ جبکہ علماء کا دوسرا گروہ وہ فرماتے ہیں کہ الف لام جو ہے وہ مضاف علیہ کا عوض نہیں ہو سکتا، وہ کہتے ہیں ‏الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو اَلْقَوْمُ کے ذریعے شاعر کا اپنی قوم کی طرف اشارہ ہے، یعنی ‏اَلْقَوْمُ سے قومی مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ اس کی طرف اشارہ ہے، فرق سمجھ میں آیا؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ تھا ہی کیا ‏قومی، دوسرے کہتے ہیں نہیں قومی تھا ہی نہیں، ہاں قومی کی طرف اشارہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا، جب میری قوم یہ کہتی ہے، دیکھو یہ اذا شرط کے لیے ہے۔ اذا ظرفیت کے لیے بھی صرف کبھی آتا ہے اور ‏کبھی شرط اور ظرفیت دونوں، تو یہ شرط کے لیے ہے اور آپ جانتے ہیں کہ شرط کے اندر پھر چاہے ماضی کے ‏صیغے بھی آئیں وہ کس معنیٰ میں ہوتے ہیں؟ مستقبل کے، مضارع کے معنیٰ، ماضی بھی کس معنیٰ میں؟ مضارع کے ‏معنیٰ میں، جیسے یہاں پر ماضی کے صیغے آئیں گے اور ترجمہ ہم مستقبل والا کریں گے، پیچھے بھی جگہ جگہ اس ‏طرح ہوتا رہا ہے شاید آپ نے غور کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ دیکھیے! شاعر کہتا ہے: إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا، کہ جب میری قوم یہ کہتی ہے: مَنْ فَتًى، کون جوان ہے؟ یعنی میری قوم پر جب ‏کوئی بڑا مشکل وقت آ جاتا ہے یا وہ کسی تکلیف میں گھر جاتی ہے تو اس وقت وہ پکار کر کہتے ہیں کون جوان ہے جو ‏اس مشکل میں کام آئے گا، جو اس تکلیف کو قوم سے دور کرے گا، جو ہماری اس مشکل کو حل کرے گا؟ تو إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا ‏مَنْ فَتًى، جب میری قوم کہتی ہے کہ کون جوان ہے یعنی اس مصیبت یا اس تکلیف کے لیے، خِلْتُ، تو میں خیال کرتا ہوں، ‏أَنَّنِي عُنِيتُ، کہ یقیناً میرا ہی ارادہ کیا گیا ہے، گویا کس کو بلایا جا رہا ہے؟ مجھے بلایا جا رہا ہے، میں ہی مراد ہوں، ‏میرے بارے میں ہی پوچھا جا رہا ہے کون جوان ہے۔ تو خِلْتُ أَنَّنِي عُنِيتُ، تو میں خیال کرتا ہوں کہ بے شک میں ہی مراد ‏ہوں، فَلَمْ أَكْسَلْ، تو پھر میں سستی نہیں کرتا، پھر میں سست نہیں ہوتا، وَلَمْ أَتَبَلَّدِ، اور نہ ہی میں بتکلف کند ذہن بنتا ہوں، نہ ‏ہی میں بتکلف بے وقوف بنتا ہوں، یعنی یہ نہیں کہ بے وقوف بن گیا، کند ذہن بن گیا، مثلاً یہ کہنے لگا بھئی یہ کیا کہہ ‏رہے ہیں یہ لوگ؟ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آئی انہوں نے کیا کہا، یہ یہ کیا کس لیے آوازیں دے رہے ہیں، کس کو آوازیں ‏دے رہے ہیں؟ نہیں، میں کند ذہن نہیں بنتا، میں سستی بھی نہیں کرتا اور یہ بھی نہیں کہتا کہ مجھے تو بات سمجھ میں ہی ‏نہیں آئی، میں فوراً مدد کے لیے پہنچ جاتا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا مَنْ فَتًى خِلْتُ أَنَّنِي عُنِيتُ فَلَمْ أَكْسَلْ وَلَمْ أَتَبَلَّدِ، جس وقت میری قوم کہتی ہے کہ کون جوان ہے یعنی اس مصیبت ‏کے لیے یا اس تکلیف کے لیے، خِلْتُ أَنَّنِي عُنِيتُ، تو میں خیال کرتا ہوں کہ میرا ہی ارادہ کیا گیا ہے، میں ہی مراد ہوں، فَلَمْ ‏أَكْسَلْ، تو میں سستی نہیں کرتا، وَلَمْ أَتَبَلَّدِ، اور میں بتکلف کند ذہن بھی نہیں بنتا، میں دکھانے کے لیے کند ذہن بھی نہیں بنتا۔ أَحَلْتُ عَلَيْهَا بِالْقَطِيعِ فَأَجْذَمَتْ وَقَدْ خَبَّ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ۔ أَحَلْتُ عَلَيْهَا، احال علی الشیء کا معنیٰ ہے کسی چیز کی طرف متوجہ ‏ہونا، احال علی الشیء، کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا۔ قَطِيعٌ، قطیع کہتے ہیں کوڑا بھئی، کوڑا، جس کے ذریعے کسی کی ‏پٹائی کی جاتی ہے بھئی وہ چمڑے کا ٹکڑا۔ فَأَجْذَمَتْ، اجذم یجذم کے معنی ہیں تیز چلنا بھئی، رفتار بڑھانا، تیز چلنا، تیز ‏چلنا۔ وَقَدْ خَبَّ، خَبَّ، خَبَّ یَخُبُّ کا معنیٰ ہے عربی میں کہتے ہیں خَبَّ الْبَحْرُ، جب سمندر جوش مارتا ہے، اس کی لہریں ‏جوش میں آتی ہیں یا جب سمندر خوب موجزن ہوتا ہے تو عربی میں کہتے ہیں خَبَّ الْبَحْرُ، سمندر موجیں مار رہا ہے ‏بھئی، سمندر جوش میں ہے بھئی، تو خب کا معنیٰ جوش مارنا، موجیں مارنا۔ آلُ الأَمْعَزِ، آل کہتے ہیں آل، آل کے کئی ‏معانی ہیں، خاندان والوں کو بھی کہتے ہیں، پیروی کرنے والوں کو بھی کہتے ہیں، لیکن یہاں آل کا معنیٰ ہے سراب بھئی، ‏سراب۔ آپ نے اگر کبھی ریگستان میں سفر کیا ہو بھئی، بلکہ آج کل، آج کل یہ جو سڑکیں ہیں ان پر بھی آپ اس کو دیکھ سکتے ‏ہیں بھئی۔ سڑک پر اگر آپ سفر کر رہے ہوں دوپہر کے وقت بھئی گرمیوں میں، تو آپ کو دور سڑک پر پانی سا نظر آتا ‏ہے بھئی، یہ ہے سراب بھئی، سراب۔ یوں لگتا ہے شاید سڑک پر پانی بہہ رہا ہے، کوئی دریا بہہ رہا ہے، تو اسی طرح ‏صحرا کے اندر بھی صحرا کے اندر تو یہ بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہر طرف ریت چمک رہی ہوتی ہے اور ‏دوپہر کا وقت ہو، شدید حرارت ہو، سورج اوپر ہو تو دور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی دریا بہتا ہوا جا رہا ہے بھئی، ‏اس کو کہتے ہیں سراب بھئی، سراب، یعنی یہ جو نظر کا دھوکہ ہے اس کو سراب کہتے ہیں۔ تو آل کا کیا معنیٰ؟ سراب۔ اَلْأَمْعَزُ، امعز کہتے ہیں وہ سخت پتھریلی زمین جس میں ریت ہو یا یوں کہیں وہ سخت زمین جس ‏کی ریت میں پتھر ملے جلے ہوں یا کنکریاں ملی جلی ہوں بھئی، اس کو امعز کہتے ہیں۔ مُتَوَقِّدِ، توقعّد یتوقّد توقّداً کا معنیٰ ‏ہے آگ جلانا، اسی طرح آگ کا جلنا اس کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس کا معنیٰ آگ جلنا بھی اور آگ جلانا بھی ‏بھئی، یعنی یہ لازمی بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو متوقد کا معنیٰ ہے جو جل رہا ہو بھئی، ‏جل رہا ہو۔ اسی طرح متوقد کا ایک معنیٰ ہے جو چمکدار ہو، چمک رہا ہو۔ أَحَلْتُ عَلَيْهَا بِالْقَطِيعِ فَأَجْذَمَتْ وَقَدْ خَبَّ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ۔ أَحَلْتُ عَلَيْهَا، تو میں متوجہ ہوتا ہوں، یہ اسی پچھلے پر ہی عطف ہے، ‏جس وقت قوم کہتی ہے کہ کون جوان ہے تو میں کیا سمجھتا ہوں کہ میرا ہی ارادہ کیا گیا ہے، پھر میں سستی نہیں کرتا اور ‏بتکلف اپنے آپ کو کند ذہن ظاہر نہیں کرتا اور پھر میں أَحَلْتُ عَلَيْهَا، میں متوجہ ہوتا ہوں اپنی اس اونٹنی کی طرف بِالْقَطِيعِ، ‏کوڑا لے کر، کوڑا لے کر میں اپنی اونٹنی کی طرف متوجہ ہوتا ہوں یعنی اس کو مارنے کے لیے اس کی طرف متوجہ ‏ہوتا ہوں، فَأَجْذَمَتْ، تو وہ اونٹنی تیز ہو جاتی ہے۔ أَحَلْتُ عَلَيْهَا بِالْقَطِيعِ، تو میں اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کوڑا لے کر، ‏فَأَجْذَمَتْ، تو وہ تیز ہو جاتی ہے، وَقَدْ خَبَّ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ، اور یہ حال ہے، حال ہے، اس حال، یہ واؤ حالیہ ہے، اس حال ‏میں کہ موجیں مار رہا ہوتا ہے آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ، یہ متوقد صفت ہے امعز کی، وہ سخت ریتلی پتھریلی زمین جو جل رہی ‏ہو، سورج کی حرارت کی وجہ سے وہ شدت حرارت کی وجہ سے جو جل رہی ہوتی ہے یعنی خوب گرم ہوتی ہے اس کا ‏سراب۔ وَقَدْ خَبَّ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ، تو وہ اونٹنی تیز ہو جاتی ہے اس حال میں کہ موجیں مار رہا ہوتا ہے، کیا موجیں مار ‏رہا ہے؟ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ، وہ شدت حرارت سے جلتی ہوئی سخت پتھریلی زمین کا سراب، جس وقت سخت گرمی کی شدت ‏سے جلتی ہوئی سخت ریتلی زمین کا سراب موجیں مار رہا ہوتا ہے اس وقت میں اس اونٹنی کی طرف کوڑا لے کر متوجہ ‏ہوتا ہوں اور یہ تیز ہو جاتی ہے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ أَحَلْتُ عَلَيْهَا بِالْقَطِيعِ فَأَجْذَمَتْ وَقَدْ خَبَّ آلُ الأَمْعَزِ الْمُتَوَقِّدِ، تو میں متوجہ ہوتا ہوں اس اونٹنی کی طرف کوڑا لے کر تو وہ تیز ‏ہو جاتی ہے اس حال میں کہ موجیں مار رہا ہوتا ہے شدت حرارت سے جلتی ہوئی سخت پتھریلی ریتلی زمین کا سراب۔ فَذَالَتْ كَمَا ذَالَتْ وَلِيدَةُ مَجْلِسٍ تُرِي رَبَّهَا أَذْيَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ۔ فَذَالَتْ، ذَالَ یَذِیلُ ذَیْلًا کا معنیٰ ہے متکبرانہ چال چلنا، تکبر سے چلنا، ‏تکبر سے چلنا، ناز اور نخروں کے ساتھ چلنا، اتراتے ہوئے چلنا، اتراتے ہوئے چلنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ بعض لوگ ‏بڑے ناز اور نخروں کے ساتھ چلتے ہیں بھئی، شاعر کہتا ہے بھئی: فتنہ برپا کر دیا یار کی رفتار نے۔ اچھا، زالت کا کیا ‏معنیٰ ہے؟ ناز اور نخروں سے چلنا۔ کَمَا ذَالَتْ وَلِیْدَةُ، اچھا۔ ولیدہ کا معنی ہے ولیدہ کا معنی ہے لڑکی اور اسی طرح ولیدہ کا معنی ہے باندی بھئی، باندی۔ اور ولیدہ مجلس کہا مجلس کی باندی، مراد ہے مجلس میں ناچنے والی اور گانے والی باندی بھئی۔ تو یہاں ولیدہ سے لڑکی مراد نہیں ہے باندی ‏مراد ہے اور ولیدہ مجلس کا یعنی وہ جو مجلس کے اندر ناچنے والی اور گانے والی باندی ہے وہ مراد ہے۔ تُرِیْ رَبَّھَا، اَرَا یُرِیْ کا معنی ہے دکھانا۔ رَاٰ یَرَى کا معنی ہے خود دیکھنا اور باب افعال میں لے گئے اَرَا یُرِیْ اس کا کیا معنی ہے؟ دوسرے کو دکھانا۔ رَبَّھَا، ھَا ضمیر راجع ہے ولیدہ کو۔ اور رب یہاں بمعنی مالک کے ہے۔ رب المال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا یعنی مال کا مالک۔ تو یہاں ربھا یعنی رب ‏الولیدہ، اس باندی کا جو مالک ہے۔ جو اس کا آقا ہے۔ اَذْیَالْ، اذَیال جمع ہے ذیل کی اور ذیل کہتے ہیں کپڑے کے دامن کو بھئی، نچلے کنارے کو، دامن۔ سَحْلٍ، سحل کہتے ہیں سفید باریک کپڑا، سفید باریک کپڑا۔ یا اسی طرح سفید سوتی کپڑا جو ہو، کپاس کا بنا ہوا سفید سوتی کپڑا، اس کو بھی سحل کہتے ہیں۔ مُمَدَّدٍ، ممدد کا معنی ہے لمبا، طویل بھئی، طویل، لمبا، دراز۔ فَذَالَتْ کَمَا ذَالَتْ وَلِیْدَةُ مَجْلِسٍ تُرِیْ رَبَّھَا اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ شاعر کہتا ہے تو پھر میں کوڑا لے کر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تو وہ تیز رفتار سے چلنے لگتی ہے۔ فَذَالَتْ پھر، تو ‏پھر وہ ناز و نخروں کے ساتھ چلتی ہے، اتراتے ہوئے چلتی ہے۔ کَمَا ذَالَتْ جیسے کہ اتراتے ہوئے چلتی ہے۔ وَلِیْدَةُ مَجْلِسٍ ‏مجلس میں رقص کرنے والی باندی۔ مجلس میں رقص کرنے والی باندی جیسے وہ اتراتے ہوئے اور ناز و نخروں کے ساتھ چلتی ہے تو میری اونٹنی بھی اس ‏طرح ناز و نخروں کے ساتھ چلتی ہے۔ تُرِیْ رَبَّھَا اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ تو یہ ولیدہ مجلس ہے موصوف، کیونکہ نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو رہی ہے اور جب نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو بھی وہ نکرہ ہی رہتا ‏ہے۔ تو نکرہ کے بعد فعل آ گیا تُرِیْ رَبَّھَا، تو وہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آتے ‏ہیں؟ ایسا یا ایسی۔ تو میری وہ اونٹنی ناز و نخروں کے ساتھ چلتی ہے جیسے کہ ناز و نخروں کے ساتھ چلے ولیدہ مجلس ایسی مجلس کی رقص کرنے والی باندی، تُرِیْ رَبَّھَا جو دکھا رہی ہو اپنے مالک ‏کو، اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ کیا دکھا رہی ہو؟ اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ، لمبے سفید کپڑوں کے دامن۔ جو اپنے مالک کو کیا کر رہی ہو؟ لمبے سفید کپڑوں کے دامن دکھا رہی ہو بھئی۔ ناچتے ہوئے وہ اس کے کپڑے لمبے ‏ہیں، سفید ہیں تو ناچتے ہوئے کبھی ایک طرف کا دامن اپنے آقا کو دکھاتی ہے اور کبھی دوسری طرف کا دامن۔ تو اس کی ‏طرح میری اونٹنی چلتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ فَذَالَتْ کَمَا ذَالَتْ وَلِیْدَةُ مَجْلِسٍ تُرِیْ رَبَّھَا اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ، پس میری اونٹنی ایسے ہی اتراتے ہوئے چلتی ہے جیسے کہ کسی ‏مجلس کی رقص کرنے والی باندی اتراتے ہوئے چلتی ہے۔ تُرِیْ رَبَّھَا اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ، جو دکھا رہی ہو اپنے مالک کو، ‏اَذْیَالَ سَحْلٍ مُمَدَّدِ، لمبے سفید کپڑوں کے دامن۔ وَلَسْتُ بِحَلَّالِ التِّلَاعِ مَخَافَةً وَلٰکِنْ مَتَى یَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ اَرْفِدِ وَلَسْتُ بِحَلَّالِ التِّلَاعِ، حلال، حل یحل حلول کا معنی ہے کسی جگہ پر نازل ہونا، قیام کرنا، پڑاؤ ڈالنا۔ اور اسی سے اسم فاعل آئے گا حالّ۔ حل یحل حلولا، اسم فاعل کیا آئے گا؟ ضرب یضرب ضربا فھو ضارب۔ اور یہاں حل یحل حلولا فھو حالّ، لام مشدد ہے ‏بھئی۔ اور اسی سے مبالغے کا صیغہ ہے حلال بھئی، خوب پڑاؤ ڈالنے والا، خوب قیام کرنے والا۔ بہر حال یہاں صرف پڑاؤ کرنے والے کے معنی میں ہے۔ تلاع جمع ہے طلعۃ کی، اور طلعۃ کہتے ہیں وہ حصہ پہاڑ کا جہاں سے پانی بہہ کر نیچے کی طرف آتا ہے۔ یعنی وہ اونچی جگہ جہاں سے پانی بہہ کر نیچے کی ‏طرف آتا ہے اس کو طلعۃ کہتے ہیں، طلعۃ۔ تو اس کی جمع ہے تلاع۔ مخافۃً، یہ لفظ گزشتہ سبق میں بھی آیا تھا، یہ مصدر ہے بھئی اور یہاں مفعول لہ واقع ہو رہا ہے۔ اور مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے۔ ضربتہ تادیباً، میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔ وَلٰکِنْ مَتَى یَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ اَرْفِدِ، استرفد، باب استفعال سے ہو تو اس کا معنی ہے مدد مانگنا، کسی سے مدد چاہنا، مدد طلب ‏کرنا۔ ارفد، ارفد باب، ارفد یرفد، یہ باب افعال سے ہو تو اس کا معنی ہے مدد کرنا۔ باب استفعال سے ہو تو مدد مانگنا، اور باب افعال سے ہو تو مدد کرنا۔ وَلَسْتُ بِحَلَّالِ التِّلَاعِ مَخَافَةً وَلٰکِنْ مَتَى یَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ اَرْفِدِ وَلَسْتُ بِحَلَّالِ التِّلَاعِ، اور میں نہیں ہوں کہ ان پانی کے جو راستے ہیں، وہ جو پہاڑ کے اندر، ان پر قیام کرنے والا، ان میں قیام کرنے والا میں نہیں ہوں۔ مخافۃً، کس کی وجہ سے؟ خوف کی، میں خوف کی وجہ سے وہ پانی آنے کے جو راستے ہیں ان میں قیام کرنے اور پڑاؤ ‏ڈالنے والا نہیں ہوں۔ ولکن متى یسترفد القوم، لیکن جب بھی مدد مانگتی ہے القوم میری قوم، ارفد تو میں ان کی مدد کرتا ہوں۔ میری قوم جب بھی ‏مدد مانگتی ہے، جب بھی مجھے مدد کے لیے پکارتی ہے تو میں کیا کرتا ہوں ان کی؟ مدد کرتا ہوں۔ ولست بحلال التلاع مخافۃ، میں خوف کی وجہ سے پہاڑ کے ان جگہوں پر جہاں سے پانی آتا ہے نیچے کی طرف، ان پر ‏قیام کرنے والا نہیں ہوں۔ کیا معنی؟ معنی یہ ہے، بھئی دیکھیے یہ جو پہاڑ ہیں، ان پر جب بارش ہوتی ہے تو ان کا پانی جمع ہو کر پہاڑوں سے نکلتا ہے ‏بھئی۔ اور ظاہر سی بات ہے پہاڑی پر جب پانی ہو گا پانی نیچے کی طرف آئے گا اور پھر نیچے پہاڑ کے اندر تنگ ‏گھاٹیاں اور راستے ہوتے ہیں ان میں پھر پانی نیچے کو آتا ہے اور پھر اکٹھا ہو کر ایک طرف کو نکلتا ہے بھئی۔ تو وہ ‏جو پہاڑ کے اندر گھاٹیاں ہیں، وہ پہاڑ کے مقابلے میں تو گہری جگہ ہیں لیکن پھر بھی عام زمین کے مقابلے میں وہ کیا ہیں؟ کچھ نہ کچھ اچھی خاصی ‏اونچی ہوتی ہیں کہ وہیں سے پھر پانی نیچے کی طرف وادی کی طرف آتا ہے۔ اور وہ چونکہ گھاٹیاں ہیں، ارد گرد چوٹیاں، درمیان میں وہ ٹیڑھی میڑھی گھاٹیاں اور یقیناً ان کے اندر جب کوئی آدمی چلا ‏جاتا ہے وہ لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ تو شاعر کہتا ہے میں ان گھاٹیوں کے اندر، یہ جو پانی کے راستے ہیں، میں ان ‏کے اندر قیام کرنے والا نہیں ہوں یعنی میں لوگوں سے چھپ کر نہیں رہتا۔ میں اس وجہ سے وہاں اس خوف سے وہاں جا کر چھپ جاتا ہوں کہ کوئی مہمان نہ آ جائے، مجھے کھلانا پلانا پڑے گا ‏بھئی، اس کو چائے پلانا پڑے گی بھئی۔ یا اس کی خدمت کرنا پڑے گی یا کوئی مسافر آ جائے مجھے اس کی مدد کرنا پڑے گی، یا میری قوم والے مجھے جنگ ‏وغیرہ کے لیے پکاریں تو مجھے ان کی مدد کے لیے جانا پڑے گا تو میں چھپ کر وہاں رہوں، ایسا نہیں ہے۔ میں ایسی ‏جگہوں پر چھپ کر نہیں رہتا، میں کھلی فضاؤں میں رہتا ہوں اور میری قوم جب بھی مدد کے لیے پکارتی ہے میں فوراً ‏ان کی مدد کے لیے پہنچ جاتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ میں نے بتایا کہ ان جگہوں میں جو جاتا ہے، وہ جو گھاٹیاں ہیں، وہ تو پھر دکھائی نہیں دیتا۔ ارد گرد پہاڑیاں ہیں، یہ ‏درمیان میں گہرے تنگ راستے ہوتے ہیں، ٹیڑھے میڑھے ہوتے ہیں، اس کے اندر جو چلا گیا وہ تو باہر کبھی بھی کسی ‏کو نظر نہیں آئے گا بھئی۔ وَلَسْتُ بِحَلَّالِ التِّلَاعِ مَخَافَةً وَلٰکِنْ مَتَى یَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ اَرْفِدِ، اور میں نہیں ہوں پانی کے بہنے کی جگہوں کے اندر پڑاؤ ڈالنے ‏والا کسی خوف کی وجہ سے، وَلٰکِنْ مَتَى یَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ اَرْفِدِ لیکن میری قوم جب مدد مانگتی ہے ارفد تو میں ان کی مدد کرتا ‏ہوں۔ فَاِنْ تَبْغِنِیْ فِیْ حَلْقَةِ الْقَوْمِ تَلْقَنِیْ وَاِنْ تَقْتَنِصْنِیْ فِی الْحَوَانِیْتِ تَصْطَدِیْ فان تبغنی، بغى یبغی کا معنی ہے طلب کرنا، تلاش کرنا۔ فی حلقۃ القوم، حلقہ کہتے ہیں دائرے کو، دائرے کو۔ اور حلقۃ القوم سے مراد ہے قوم کی مجلس بھئی۔ قوم کی مجلس، مجلس میں بھی کس طرح لوگ بیٹھتے ہیں عموماً؟ دائرے کی صورت میں حلقہ بنا کر۔ تلقنی، لقی یلقى کا معنی ہے ملاقات کرنا، ملنا۔ وان تقتنصنی، اقتنص یقتنص اقتنص یقتنص کے معنی ہیں شکار کرنا، شکار کرنا، شکار کھیلنا۔ فی الحوانیت، حوانیت جمع ہے خانوت کی، خانوت۔ اور خانوت عام دکان کو بھی کہتے ہیں، اسی طرح جو شراب خانہ ہو ‏جہاں شراب فروخت ہوتی ہے یا بنتی ہے اس کو بھی خانوت کہتے ہیں۔ تو یہاں شراب خانہ مراد ہے جہاں شراب فروخت ‏ہوتی ہے۔ تصطدی، اصطاد يصطاد کے معنی بھی ہیں شکار کرنا، شکار کرنا۔ شاعر کہتا ہے، فَاِنْ تَبْغِنِیْ فِیْ حَلْقَةِ الْقَوْمِ تَلْقَنِیْ وَاِنْ تَقْتَنِصْنِیْ فِی الْحَوَانِیْتِ تَصْطَدِیْ فان تبغنی، پس اگر تو مجھے تلاش کرے گا، فی حلقۃ القوم میری قوم کی مجلس میں، تلقنی تو تو وہاں مجھ سے ملاقات ‏کرے گا یعنی تو مجھے وہاں پا لے گا۔ اگر تو مجھے قوم کی مجلس میں تلاش کرے گا تو تو مجھے وہاں پا لے گا۔ وان تقتنصنی فی الحوانیت اور اگر تو مجھے ‏شکار کرے گا شراب خانوں کے اندر، تصطدی تو تو مجھے وہاں شکار کر لے گا۔ اگر تو مجھے شراب خانوں کے اندر شکار کرنا چاہے تو تو مجھے وہاں شکار کر لے گا۔ شکار کرنے سے مراد ہے طلب ‏کرنا، پا لینا، تلاش کرنا اور اگر تو مجھے شراب خانوں میں تلاش کرے گا تو تجھے میں وہاں ملوں گا، تو مجھے وہاں پا ‏لے گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے، شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میں صاحبِ جد و ہزل ہوں۔ صاحبِ جد بھی ہوں، صاحبِ ہزل بھی ہوں۔ سنجیدہ مجلسوں کی بات اگر ہے تو تو مجھے اپنی قوم کی مجلسوں کے اندر ‏وہاں بھی تو مجھے پائے گا، میں بڑا صاحبِ رائے آدمی ہوں، بڑی زبردست رائے رکھنے والا ہوں ہر معاملے کے اندر، ‏تو میری قوم کی جو والے جو ہیں وہ مجلسوں کے اندر مجھے بھی شامل رکھتے ہیں اور میں ان کی مجلسوں میں شامل ہو ‏کر اپنی رائے دیتا ہوں مختلف مسائل کے بارے میں۔ تو میں صاحبِ رائے انسان ہوں، سنجیدہ مجلسوں میں شریک ہونے ‏والا ہوں۔ اور اسی طرح میں صاحبِ ہزل بھی ہوں یعنی لہو و لعب جیسی کاموں کے اندر بھی مشغول رہتا ہوں، چنانچہ اگر ‏تو مجھے شراب خانوں کے اندر ڈھونڈے گا تو وہاں بھی میں تجھے ملوں گا، میں خود بھی پیتا ہوں اور دوسروں کو بھی ‏پلاتا ہوں یعنی اپنی سخاوت کی بھی تعریف کر رہا ہے اور اپنے صاحبِ ہزل اور جد ہونے کو بھی بیان کر رہا ہے۔ معنی ‏سمجھ میں آ گیا؟ فَاِنْ تَبْغِنِیْ فِیْ حَلْقَةِ الْقَوْمِ تَلْقَنِیْ وَاِنْ تَقْتَنِصْنِیْ فِی الْحَوَانِیْتِ تَصْطَدِیْ، پس اگر تو مجھے تلاش کرے گا قوم کی مجلس میں تو تو ‏وہاں مجھ سے ملاقات کرے گا، وَاِنْ تَقْتَنِصْنِیْ فِی الْحَوَانِیْتِ تَصْطَدِیْ اور اگر تو مجھے شراب خانوں میں شکار کرے گا تو ‏تو مجھے وہاں شکار کر لے گا یعنی میں تجھے وہاں مل جاؤں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ حل ہو گیا سارا؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
62 approved lectures · 53 of 62