Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-045

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 120
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اور وَجۡہٍ کَاَنَّ الشَّمۡسَ اَلۡقَتۡ رِدَاءَہَا عَلَیۡہِ نَقِیِّ اللَّوۡنِ لَمۡ یَتَخَدَّدِ وَّ اِنِّیۡ لَاُمۡضِی الۡہَمَّ عِنۡدَ احۡتِضَارِہِ بِعَوۡجَاءَ مِرۡقَالٍ تَرُوۡحُ وَ تَغۡتَدِی اَمُوۡنٍ کَاَلۡوَاحِ الۡاِرَانِ نَصَئۡتُہَا عَلَی لَاحِبٍ کَاَنَّہُ ظَہۡرُ بُرۡجُدِ طرفہ ابن العبد کا معلقہ چل رہا ہے بھئی۔ اور آغاز میں تشبیہ ہے، وہ اپنی معشوقہ کے حسن و جمال کو اور اس کی صفات ‏کو ذکر کر رہا ہے۔ اور آگے کہتا ہے: وَجۡہٍ کَاَنَّ الشَّمۡسَ اَلۡقَتۡ رِدَاءَہَا عَلَیۡہِ نَقِیِّ اللَّوۡنِ لَمۡ یَتَخَدَّدِ۔ وجہ چہرے کو کہتے ہیں۔ کأن الشمس ألقت، القى ‏یلقی کے معنی ہیں ڈال دینا۔ رداءھا، رداء چادر کو کہتے ہیں۔ نقی اللون، نقی اللون کا معنی ہے صاف ستھرے رنگ والا۔ ‏صاف ستھرے رنگ والا۔ نقی اللون، صاف ستھرے رنگ والا۔ لم یتخدد، تخدد کا معنی ہے جھریوں پڑنا، جلد پر جھریوں ‏پڑ جانا، اس کو عربی میں تخدد کہتے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں: تخدد جلدہ، اس کی جلد میں جھریاں پڑ گئی ہیں۔ وقت یوں بدل دے گا تمہارے خد و خال، اپنی صورت جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے۔ تخدد، تو عربی میں کہتے ہیں تخدد ‏جلدہ، اس کی جلد میں جھریاں پڑ گئی ہیں۔ وَّ جۡہٍ کَاَنَّ الشَّمۡسَ اَلۡقَتۡ رِدَاءَہَا عَلَیۡہِ نَقِیِّ اللَّوۡنِ لَمۡ یَتَخَدَّدِ۔ اس میں دونوں روایتیں ہیں: وجہن اور وجہن بھی بھئی۔ وجہن پڑھیں ‏تو اس کا عطف ہے المیٰ پر۔ و تبسم عن المیٰ، وہ ایسے دانتوں کے ساتھ مسکراتی ہے جو پسندیدہ گندمی رنگ کے ‏مسوڑوں والے ہیں۔ اسی طرح وہ وجہن، اور وہ مسکراتی ہے ایسے چہرے کے ساتھ کأن الشمس ألقت رداءھا، گویا کہ ‏سورج نے اس پر اپنی چادر ڈال دی ہے۔ سورج کی چادر سے مراد سورج کا حسن و جمال اور اس کی چمک دمک ہے۔ تو وہ ایسے چہرے کے ساتھ مسکراتی ہے جیسے سورج نے اس پر اپنی چادر ڈال دی ہے، یعنی اپنا حسن و جمال اور ‏اپنی چمک دمک اس پر ڈال دی ہے۔ نقی اللون، اور وہ چہرہ صاف ستھرے رنگ والا ہے۔ لم یتخدد، اور وہ چہرہ ایسا ہے ‏جس پر جھریاں نہیں پڑھیں۔ تو شاعر نے تین صفات ذکر کر دیں اس شعر کے اندر چہرے کی: و وجہن، و تبسم عن وجہن، وہ مسکراتی ہے ایسے ‏چہرے سے، اور چہرہ ہے نکرہ۔ اور میں نے بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ ‏صفت۔ اور صفت کس طرح بنتا ہے؟ کہ وہ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بنے گا اور جملہ نکرہ کے حکم ‏میں ہوتا ہے، تو وہ نکرہ کے بعد گویا نکرہ آگیا، تو وہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ اور جس طرح جملہ فعلیہ جو ہے وہ صفت بنتا ہے، اسی طرح جملہ اسمیہ وہ بھی صفت بنتا ہے، وہ بھی نکرہ کے حکم ‏میں ہے۔ تو کأن، کأن آپ نے پڑھا ہے حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے، یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر، اور یہ پورا ‏جملہ۔ تو وجہن کے بعد پورا ایک جملہ آگیا جملہ اسمیہ، تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے میں نے طریقہ بتلایا تھا کہ نکرہ میں موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آؤ؟ ایسا ‏یا ایسی۔ و وجہن، اور وہ مسکراتی ہے ایسے چہرے سے کأن الشمس ألقت رداءھا علیہ، گویا کہ سورج نے اس پر اپنی ‏چادر ڈال دی ہے۔ اور نقی اللون، یہ صفت ثانی آگئی وجہن کی بھئی، وجہن کی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا نقی اللون، مضاف مضاف الیہ ہیں، اور یہ نقی نکرہ ہے، اور ‏اللون الف لام اس پر داخل ہے معرفہ ہے، اور نکرہ کی معرفہ کی طرف اضافت ہو جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ تو ‏یہ معرفہ وجہن کی صفت کیسے بنے گا؟ تو جواب یاد رکھیے بھئی! اس میں جو اضافت ہے وہ اضافت لفظی ہے۔ کونسی اضافت ہے؟ اضافت لفظی ہے، ایک ‏اضافت کی دو قسمیں: ایک اضافت لفظی، ایک اضافت معنوی۔ اور اضافت لفظی اسے کہتے ہیں کہ صیغہ صفت کا مضاف ‏ہو اپنے معمول کی طرف۔ یاد رکھو جس طرح فعل عمل کرتا ہے، اسی طرح یہ صفت کے صیغے یعنی اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ بھی اسی ‏طرح عمل کرتے ہیں۔ ضرب کے لیے ایک فاعل چاہیے اور ایک مفعول: ضرب زید عمرا۔ پٹائی کی، کس نے کی؟ زید ‏نے، اور کس کی کی؟ عمرو کی، تو ایک فاعل چاہیے اور ایک مفعول۔ اسی طرح ضارب کے لیے بھی ایک فاعل چاہیے ‏اور ایک مفعول۔ تو جس طرح جس فعل سے صفت کا صیغہ بنتا ہے، ویسا ہی عمل کرتا ہے۔ ضرب زید، ضرب کے لیے ‏نائب فاعل چاہیے، تو مضروب جو اس سے اسم مفعول بنا اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ نائب فاعل کہ کون ہے مضروب، ‏کوئی چاہیے یا نہیں چاہیے؟ اور اس ضرب سے ضارب بنا، تو ضارب کے لیے بھی ایک پٹائی کرنے والا فاعل چاہیے ‏کون ہے ضارب بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ صفت کے صیغے بھی فعل کی طرح عمل کرتے ہیں، یعنی فاعل کو رفع دیتے ہیں اور ‏مفعول کو۔ تو فاعل ان کا معمول ہوا۔ مجھے بتائیے: ضرب زید عمرا، یہ زید کو رفع کس نے دیا؟ ضرب نے، تو زید ‏معمول ہوا کس کا؟ ضرب کا۔ اور ضرب زید عمرا، یہ عمرا کو نصب کس نے دیا؟ ضرب نے، تو یہ ضرب کا، تو زید ‏بھی ضرب کا معمول اور عمرا بھی ضرب کا معمول۔ تو صفت کا صیغہ بھی اسی طرح ایک فاعل چاہے گا اور ایک ‏مفعول۔ تو صفت کے صیغے کی اپنے فاعل یا مفعول کی طرف اضافت کر دیں، تو یہ اپنے معمول کی طرف اضافت ہوئی۔ ‏کیا ہوئی؟ اور اپنے معمول کی طرف صفت کے صیغے کی اضافت ہو تو اس کو اضافت لفظی کہتے ہیں۔ یہ صرف تنوین ‏گرانے کا فائدہ، تنوین یا تنوین کے جو مشابہ ہو، تنوین کے قائم مقام ہو، یعنی نون تثنیہ یا نون جمع، صرف ان کو گراتا ‏ہے اور تخصیص یا تعریف کا فائدہ نہیں۔ تفصیل اور سن لو: غلام زید، غلام کی اضافت کس کی طرف ہوئی؟ زید کی طرف۔ تو زید ہے معرفہ، تو غلام بھی کیا بن ‏گیا؟ معرفہ۔ اب غلام زید سے ہر غلام مراد نہیں، خاص زید کا غلام مراد ہے۔ تو یہ بھی معرفہ بن گیا، ایک متعین غلام پر ‏یہ دلالت کر رہا ہے۔ یہ تو تھا نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف کریں، اور اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف کریں تو پھر وہ تخصیص کا ‏فائدہ دیتی ہے اضافت: غلام رجل۔ دیکھو غلام بھی نکرہ اور رجل بھی۔ لیکن اس نے تخصیص کا فائدہ دیا: مرد کا غلام، ‏معلوم ہوا عورت کا غلام نہیں، عورت کے غلام اس سے نکل گئے۔ تو افراد کم ہو گئے یا نہیں؟ فرض کرو دنیا میں ایک ‏لاکھ مردوں کے غلام ہیں، ایک ہی لاکھ عورتوں کے غلام تھے، تو جب میں نے کہا تھا غلام، کتنے احتمال تھے؟ ہاں! دو ‏لاکھ احتمال، ہر غلام پر یہ لفظ بولا جا سکتا ہے، چاہے مرد کا غلام ہو چاہے عورت کا۔ لیکن جب میں نے کہہ دیا غلام ‏رجل، اب صرف کتنے پر بولا جائے گا؟ اب صرف ایک لاکھ پر، احتمال کم ہو گیا، اس کو کہتے ہیں تخصیص۔ کیا کہتے ‏ہیں؟ تو یہ جو عام اضافت ہوتی ہے یہ تخصیص یا تعریف کا فائدہ دیتی ہے۔ معرفہ کی طرف اضافت ہو تو یہ تعریف کا ‏فائدہ دیتی ہے، اور نکرہ کی طرف اضافت ہو تو۔ غلام زید، میں نے کس کی طرف اضافت کی؟ زید یعنی معرفہ کی ‏طرف، تو یہ تعریف کا فائدہ دے گی، یعنی اس نے غلام کو بھی معرفہ بنا دیا۔ اور غلام رجل، میں نے کس کی طرف ‏اضافت کی؟ نکرہ کی طرف، تو یہ تعریف کا فائدہ تو نہیں دے گی، ہاں! تخصیص کا فائدہ دے گی۔ تو یہ جو یہ جو عام ‏اضافت ہے، یہ تعریف یا تخصیص کا فائدہ دیتی ہے بھئی۔ جب بھی اضافت کرو گے یا تعریف آئے گی یا تخصیص، اس ‏کو کہتے ہیں اضافت معنوی۔ دیکھو معنیٰ کے اندر فائدہ دے رہی ہے تخصیص کا یا تعریف کا۔ جبکہ دوسری اضافت، اضافت لفظی ہے۔ اضافت لفظی جس میں صفت کا صیغہ مضاف ہو کس کی طرف؟ اپنے معمول ‏کی طرف۔ اور یہ نہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے اور نہ تعریف کا۔ یہ صرف لفظوں کے اندر تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اس ‏لیے اس کو اضافت لفظی کہتے ہیں۔ یعنی لفظوں میں کیا تخفیف آئی؟ مضاف پر سے تنوین ہو تو تنوین گر جاتی ہے، تثنیہ ‏یا جمع والا نون ہو تو وہ گر جائے گا، بس! اور کوئی فائدہ نہیں اس کا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ نقی اللون، یہ نقی صفت کا صیغہ ہے بھئی، صفت مشبہ ہے، اور اللون اس کا معمول ہے، ‏صاف ستھرا، کیا چیز ہے صاف ستھری؟ رنگ ہے، رنگ ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ صفت کی اضافت ہو رہی ‏ہے کس کی طرف؟ اپنے معمول کی طرف، تو یہ نکرہ ہی ہے۔ دیکھنے میں شاید آپ کو لگے یہ معرفہ ہے، لیکن یہ نکرہ ‏کا نکرہ ہے کیونکہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ اپنے معمول کی طرف۔ تو نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو ‏وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً؟ صفت۔ تو وجہن نکرہ تھا، کأن الشمس ألقت رداءھا علیہ، یہ پورا جملہ آیا اور یہ بھی ‏نکرہ، تو یہ بھی صفت بنے گا۔ اور نقی اللون، یہ بھی کیا بنے گا؟ صفت، یہ بھی صفت ثانی بن گیا۔ اور لم یتخدد، پھر فعل ‏آگیا نکرہ کے بعد، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہ تینوں صفات ہیں چہرے کی۔ وَّ جۡہٍ کَاَنَّ الشَّمۡسَ اَلۡقَتۡ رِدَاءَہَا عَلَیۡہِ نَقِیِّ اللَّوۡنِ لَمۡ یَتَخَدَّدِ۔ اور وہ مسکراتی ہے ایسے چہرے کے ساتھ گویا کہ سورج نے اس ‏پر اپنی چادر ڈال دی ہے، نقی اللون، وہ چہرہ ایسا ہے کہ صاف ستھرے رنگ والا ہے، لم یتخدد، وہ چہرہ ایسا ہے جس ‏پر جھریاں نہیں پڑیں۔ تو وجہن جو ہے اس میں دونوں روایتیں آئی ہیں: مجرور بھی آیا ہے اور مرفوع بھی، وجہن بھی آیا ہے بھئی۔ مجرور ‏پڑھیں تو اس کا عطف کس پر ہے؟ المیٰ پر، اور وہ مجرور ہے کہ اس کیونکہ اس پر عن داخل ہے، تو وجہن بھی کیا ‏ہوگا؟ مجرور۔ اور چاہیں تو اس کو مرفوع پڑھیں، اس صورت میں یہ مبتدا ہے اور خبر محذوف ہے: ای ولھا وجہن۔ ولھا؟ ‏تو لھا خبر مقدم، اور وجہن مبتدا مؤخر، اور مبتدا مرفوع ہوتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ آگے دیکھیے بھئی: وَّ اِنِّیۡ لَاُمۡضِی الۡہَمَّ عِنۡدَ احۡتِضَارِہِ بِعَوۡجَاءَ مِرۡقَالٍ تََرُوۡحُ وَ تَغۡتَدِی۔ امضیٰ ‏یمضی کا معنی ہے نافذ کرنا، پورا کرنا۔ الهم، همّ، همّ کا ایک معنی ہے غم بھئی، غم۔ اور اسی طرح همّ کا ایک معنی ہے ‏ارادہ، ارادہ۔ عند احتضارہ، احتضار کا معنی ہے حاضر ہونا، حاضر ہونا۔ بعوجاء، عوجاء عوج سے ہے، عوج ٹیڑھے پن ‏کو کہتے ہیں بھئی، ٹیڑھا پن، ٹیڑھا ہونا۔ اور یہ عوجاء، یہ صفت ہے ای بالناقة العوجاء۔ اس پر با جارّہ داخل ہے اور چونکہ یہ غیر منصر ف ہے بھئی، اس لیے ‏اس پر کسرہ اور تنوین نہیں کیونکہ الف تانیث ہے نا، آپ نے پڑھا الف تانیث کیا ہے؟ دو سببوں کے قائم مقام ہے، اور ‏الف تانیث دو طرح پر ہے: ایک الف ممدودہ ہے اور ایک الف مقصورہ، یہ الف ممدودہ ہے الف کے بعد ہمزہ ہے، یہ الف ‏ممدودہ۔ تو اصل میں کیا ہے؟ یہ صفت ہے اور موصوف کیا ہے؟ ناقہ، بالناقة العوجاء۔ تو عوجاء عوج سے ہے، عوج کا کیا ‏معنی؟ ٹیڑھا پن۔ تو عوجاء، وہ اونٹنی جو ٹیڑھی چال چلنے والی ہو، یعنی مستانہ چال چلنے والی ہو۔ ایک ہے سیدھا ‏راستے پر چلنا، اور ایک حیوان مستی میں طاقتور، خوب طاقتور اور مست حیوان ہے، جانور ہے، سواری ہے، وہ ظاہر ‏سی بات ہے مستی کے اندر وہ عام رفتار سے بھی نہیں چلے گا بھئی، دوڑنے کی طرح چل رہا ہوگا، ایک آدھ سوار تو ‏اس کے لیے کوئی وزن ہے ہی نہیں بھئی۔ تو وہ مستی کے اندر دوڑتا ہوا کبھی ایک طرف تھوڑا سا ہو جائے گا، کبھی ‏دوسری طرف، جیسے انسان نشاط کے اندر ہوتا ہے، تو اسی طرح وہ حیوان بھی کیا ہے وہ اونٹنی بھی کیا کہتا اونٹنی بھی ‏میری بڑی مست ہے اور ٹیڑھی چال چلنے والی ہے، یعنی مستی کے اندر کبھی ایک طرف ہو جاتی ہے راستے سے اور ‏کبھی دوسری طرف ہو جاتی ہے۔ مرقال، مرقال کا معنی ہے تیز رفتار بھئی، تیز رفتار۔ اور یہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے یہ صفت اسی طرح استعمال ‏ہوتی ہے۔ اونٹ بھی تیز رفتار ہو تو عربی میں کہتے ہیں: جمل مرقال، اونٹنی تیز رفتار ہو تو بھی اسی طرح بولتے ہیں: ‏ناقة مرقال۔ تروح و تغتدی، راح یروح کا معنی ہے شام کے وقت نکلنا بھئی، شام کے وقت سفر وغیرہ پر روانہ ہونا۔ اور تغتدی، ‏اغتدى يغتدي کے معنی صبح سویرے نکلنا، صبح سویرے روانہ ہونا۔ اور راح یروح کا معنی؟ شام کو روانہ ہونا، جیسے ‏گزشتہ معلقے میں آیا تھا:‏ ورحنا یکاد الطرف یقصر دونہ متیٰ ما ترق العین فیہ تسفل تو راح یروح کا معنی شام کے وقت نکلنا، شام کو روانہ ہونا، شام کو سفر پر چلنا۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں آگئے؟ تو شاعر کہتا ہے: وَّ اِنِّیۡ لَاُمۡضِی الۡہَمَّ عِنۡدَ احۡتِضَارِہِ بِعَوۡجَاءَ مِرۡقَالٍ تََرُوۡحُ وَ تَغۡتَدِی۔ اور ‏یقیناً میں البتہ پورا کرتا ہوں الهمّ ارادے کو، همّ کا یہاں معنی کر لیں ارادے کے۔ امضیٰ یمضی کا معنی پورا کرنا، میں ‏اپنے ار، میں ارادے کو پورا کرتا ہوں عند احتضارہ جب وہ حاضر ہو جائے۔ جب ارادہ کیا ہو جائے؟ ارادے کے حاضر ‏ہونے کا معنی ہے ارادہ بن جانا، ارادہ بن جانا۔ اور میں پورا کرتا ہوں ارادے کو جب میرا ارادہ بن جائے بعوجاء ایک ‏مست چال چلنے والی اونٹنی پر مرقال جو تیز رفتار ہے تروح و تغتدی شام کو بھی سفر پر نکلتی ہے و تغتدی اور صبح ‏بھی سفر پر نکلتی ہے، یعنی بڑی طاقتور اونٹنی ہے، دن رات سفر میں رہتی ہے اور اس کو پروا بھی نہیں مستانہ چال ‏چلنے والی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ عوجاء کا میں نے معنی کیا ٹیڑھی چال چلنے والی بھئی، مست چال چلنے والی۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں عوجاء ‏سے مراد ہے دبلی پتلی بھئی۔ دبلی پتلی۔ انہوں نے عوجاء کا ترجمہ کیا کیا؟ دبلی پتلی۔ یہ کہ اس سے شاعر کی مراد ہے دبلی پتلی بھئی کہ میری اونٹنی بڑی دبلی ‏پتلی ہے، یعنی اس کا پیٹ کمر کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ تو بھئی، پھر اس کو عوجاء کے ساتھ کیسے تعبیر کیا؟ دبلی پتلی اس کا کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں: معنیٰ یہ ہے کہ میری اونٹنی ‏کا جو پیٹ ہے، کمر کے ساتھ لگا ہوا ہے، خوب چھوٹا پیٹ ہے، تو جس کی وجہ سے اس کی ساخت کچھ ٹیڑھی سی معلوم ‏ہوتی ہے۔ کیا معلوم ہوتی ہے؟ ٹیڑھی سی ساخت ٹیڑھی سی معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ دراصل اس کی مضبوطی اور دبلی ‏پتلی اور چست ہونے کی علامت ہے، یہ ہر وقت سفر وغیرہ میں رہتی ہے، اس کی عادی ہے اور اس کو ان چیزوں کی ‏ذرا بھی پروا نہیں۔ دبلی پتلی بدن والی ہے، اس کو کس سے تعبیر کیا؟ عوجاء سے۔ اسی طرح میں نے ترجمہ کیا "تروح وتغتدي" کہ وہ شام کو بھی سفر پر نکلتی ہے اور صبح بھی سفر پر نکلتی ہے۔ شام کا یہ معنیٰ نہیں بالکل شام کو، بس نصفِ یوم کے بعد جو ہے جو سفر ہو سفر پر روانہ ہوں نکلیں، وہ سارا "راح ‏يروح" کے اندر داخل ہے بھئی۔ اس کو کیا کہیں گے؟ شام کو سفر پر نکلنا۔ اور ایک ہوتا ہے صبح، بالکل آغازِ یوم یعنی ‏بالکل صبح سویرے منہ اندھیرے سفر پر نکلنا، اس کو کہتے ہیں اغتداء بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو میں نے کیا ترجمہ کیا؟ "تروح وتغتدي"، وہ شام کو بھی سفر پر نکلتی ہے اور صبح بھی ‏سفر پر نکلتی ہے، یعنی ہر وقت سفر میں رہتی ہے، خوب خوب مضبوط اور خوب سفر کرنے والی اونٹنی ہے۔ جبکہ بعض شارحین نے لکھا کہ معنیٰ یہ ہے، شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ وہ میری اونٹنی اتنی تیز رفتار ہے کہ جب وہ ‏صبح کو سفر پر نکلتی ہے تو شام کا سفر بھی صبح ہی میں کر لیتی ہے، اور جب شام کو سفر پر نکلتی ہے تو اگلے دن ‏صبح کا سفر بھی وہ اسی شام میں کر لیتی ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ صبح سفر پر نکلتی ہے تو شام کا سفر بھی اسی صبح ‏میں وہ کر لیتی ہے، اور شام کو جب سفر پر نکلتی ہے تو اگلی صبح کا سفر بھی وہ اسی شام میں کر لیتی ہے۔ معنیٰ سمجھ ‏میں آیا؟ تو یہ دو معنیٰ بھی بعض شارحین نے کیے بھئی، یہ بھی یاد رکھیے گا۔ اور یہ عام شارحین کے ترجمے میں نہیں ‏کر رہا، یہ قدیم شارحین سینکڑوں سال پہلے جنہوں نے شروحات کی ہیں، ان کی شروحات بیان کر رہا ہوں بھئی، آج کل ‏کے شارحین کی نہیں۔ وإني لأمضي الهم عند احتضاره بعوجاء مرقال تروح وتغتدي اور میں اپنے ارادے کو پورا کرتا ہوں جب وہ میرا ارادہ بن جائے، ایک ایسی مستانہ چال چلنے والی تیز رفتار اونٹنی پر ‏جو شام کو بھی سفر پر نکلتی ہے اور صبح بھی سفر پر نکلتی ہے۔ یا ہمّ کا دوسرا ترجمہ کر لیں، ہمّ کا دوسرا ترجمہ کیا تھا؟ غم۔ "وإني لأمضي الهم" اور میں غم کو پورا کرتا ہوں، یعنی میں ‏غم سے چھٹکارا پاتا ہوں، اس سے اپنے آپ کو دور لے جاتا ہوں، اس غم کو میں ختم کرتا ہوں، "عند احتضاره" جب کوئی ‏جب وہ غم حاضر ہو جائے، یعنی میرے اوپر کوئی غم آ جائے، میرے آس پاس کوئی غم آ جائے، تو اس سے میں اپنے آپ ‏کو اس سے بچا، اس سے دور کرتا ہوں، "بعوجاء" کس کے ذریعے؟ ایک مست چال چلنے والی اونٹنی کے ذریعے، جو ‏تیز رفتار ہے، شام کو بھی سفر پر نکلتی ہے اور صبح بھی سفر پر روانہ ہوتی ہے۔ أمون كألواح الإران نصأتها على لاحب كأنه ظهر برجدي بھئی، یہ تشبیہ کے بعد شاعر نے اب اپنی اونٹنی کی تعریف شروع کر دی، پہلے اپنی معشوقہ کے حسن و جمال کو ذکر ‏کیا اور اب اپنی اونٹنی کی صفات ذکر کر رہا ہے بھئی۔ اور عرب کا سب سے بڑا خزانہ ان کے یہ اونٹ تھے بھئی، کیونکہ وہاں پر وہاں پر کوئی زراعت وغیرہ تو ہوتی نہیں، ‏ریگستانی علاقہ ہے، شدید گرمی پڑتی ہے، فصلیں وغیرہ نہیں ہوتی، یہی اونٹنی اور اونٹ وغیرہ جو ہیں، ان کا سب سے ‏بڑا خزانہ، انہی پر وہ سفر کرتے ہیں، انہی کے دودھ پی کر وہ گزر بسر کرتے ہیں، انہی کا گوشت کھا کر وہ زندگی ‏گزارتے ہیں، تو یہ ان کا سب سے بڑا خزانہ، تو لہٰذا اب معشوقہ کے حسن و جمال کے بعد کس کو ذکر کیا؟ اپنی اونٹنی کی ‏صفات ذکر کر رہا ہے۔ اور عموماً شعراء اس کے تشبیہ کے بعد اپنے اونٹ وغیرہ کی صفات ذکر کرتے ہیں، اس میں اس بات کی طرف بھی ‏اشارہ ہوتا ہے کہ میری معشوقہ اگرچہ یہاں سے کوچ کر کے جا چکی ہے سفر پر، لیکن فکر کی کوئی بات نہیں، میرے ‏پاس ایک بڑی مضبوط، طاقتور سواری اور اونٹنی موجود ہے اور یہ مجھے وہاں فوراً ہی اس کے پاس پہنچا دے گی ‏بھئی۔ تو آگے کہتا ہے:‏ أمون كألواح الإران نصأتها على لاحب كأنه ظهر برجدي امون۔ امون، امن سے ہے، امن سے۔ امونین، امن والی، یعنی بے خطر۔ وہ سواری جس میں یہ خطرہ نہ ہو کہ وہ اپنے سوار کو گرا دے گی یا پھسل کر گر پڑے گی اور سوار کو چوٹ لگے گی، ‏تو ایسی بے خطر سواری کو عربی میں امون کہتے ہیں بھئی، امون، امن والی، بے خطر۔ کالواح۔ الواح کہتے ہیں تختوں کو بھئی، لکڑی وغیرہ کے چوڑی، بڑے بڑے تختے ہوں، ان کو الواح کہتے ہیں بھئی۔ ایران۔ ایران کہتے ہیں بڑے تابوت کو بھئی۔ وہ لکڑی کا صندوق جس کے اندر میت کو دفنایا جاتا ہے، اس کو تابوت ‏کہتے ہیں۔ اور عرب کے ہاں، عرب کے ہاں میت کو تابوت میں نہیں دفناتے تھے، لیکن کوئی ان کا بڑا سردار ہوتا تھا اور ‏عظیم انسان ان کا ہوتا، تو اس کو وہ بڑے تابوت کے اندر دفنایا کرتے تھے بھئی۔ تو ایران، وہ بڑا سا تابوت بھئی۔ نصأتها۔ نصأت صاد کے ساتھ بھی ہے اور سین کے ساتھ بھی ہے، نسأتها۔ نصأت اور نسأت کا معنیٰ ہے: سواری کو تیز ‏چلانا، ڈانٹ کر یا لاٹھی کے ذریعے مار کر سواری کو تیز چلانا، اس کے لیے نصأت لفظ بولتے ہیں بھئی، سین کے ساتھ ‏بھی یہ ہے اور صاد کے ساتھ بھی، دونوں کا ایک ہی معنیٰ ہے۔ على لاحب۔ لاحب کہتے ہیں کھلے اور واضح راستے کو، کھلا اور واضح، نمایاں جو راستہ ہو، اس کو لاحب کہتے ہیں۔ کأنه ظهر برجدي۔ ظهر کہتے ہیں پشت کو بھئی، پشت۔ برجُد، برجُد کہتے ہیں دھاری دار موٹی چادر کو بھئی، دھاری دار ‏موٹی چادر۔ امونین، بھئی یہ مجرور ہے، کیونکہ یہ صفت ہے عوجاء کی بھئی، اور عوجاء دراصل صفت کس کی ہے؟ ناقہ کی، ‏بنِاقةٍ عوجاء، تو عوجاء اس کی ایک صفت، مرقال دوسری صفت، تروح وتغتدي بھی اس کی صفت، امونین یہ بھی ‏مجرور، اس کی صفت بھئی۔ میری وہ جو اونٹنی ہے، امونین، بے، بڑی بے خطر ہے، بڑی امن والی ہے، كألواح الإران، ‏جیسے کہ بڑے تابوت کے تختے ہوتے ہیں۔ جیسے بڑے تابوت کے تختے ہوتے ہیں بھئی، بھئی تابوت بڑا ہے، اس کے خوب چوڑے چوڑے تختے ہوں گے، اسی ‏طرح میری اونٹنی کی جو پشت ہے اور کمر ہے، وہ بھی اسی طرح خوب مضبوط اور ٹھوس اور چوڑی ہے، یعنی اس پر ‏سوار بیٹھا ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے اس سے جیسے میں کسی چوڑے سے تختے پر بیٹھا ہوں، بڑے اطمینان اور سکون ‏سے، کسی قسم کی تکلیف اسے نہیں ہوتی بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ كألواح الإران، جیسے کہ تابوت کے تختے ہوتے ہیں، نصأتها، تو نصأت ماضی ہے، ماضی بمعنیٰ مضارع کے بھئی، ‏نصأتها، میں اس کو دوڑاتا ہوں، على لاحب، کھلے، وسیع راستے پر، كأنه ظهر برجدي، گویا کہ وہ ایک موٹی دھاری دار ‏چادر کی پشت ہو۔ لاحب نکرہ آیا، اور نکرہ کے بعد پھر پورا جملہ اسمیہ آ گیا، كأنه ظهر برجدي، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ تو میں اس کو دوڑاتا ہوں علی لاحب ایسے کھلے راستے پر گویا کہ وہ موٹی دھاری دار چادر کی پشت ہے۔ وہ راستہ کس ‏کی طرح ہے؟ دھاری دار چادر کی طرح ہے۔ کیا معنیٰ راستہ دھاری دار چادر کی طرح ہے؟ بھئی دیہات میں خصوصاً ‏اس کا مشاہدہ آپ کر سکتے ہیں، اور خصوصاً ریتلے علاقے کے اندر اور زیادہ مشاہدہ ہوگا کہ راستہ ہو، کھلا، چوڑا ‏راستہ ہو، اس پر آپ دیکھیں گے، ایک طرف اگر بکری کے پاؤں کے نشانات ہیں، دوسری طرف گائے کے پاؤں کے ‏نشانات ہیں، تیسری طرف کسی انسان کے قدموں کے نشانات ہیں، چوتھی طرف ایک اور انسان کے قدموں کے نشانات ‏ہیں، تو مختلف قسم کے یعنی اس پر نشانات بنے ہوتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے دھاریاں بنی ہوں بھئی، صورت سمجھ ‏میں آ گئی؟ تو وہ میری اونٹنی جو ہے:‏ أمون كألواح الإران نصأتها على لاحب كأنه ظهر برجدي وہ اونٹنی ایسی ہے جو بڑی ہی بے خطر ہے، جیسے کہ بڑے تابوت کے تختے ہوتے ہیں، میں اس کو چلاتا ہوں ایسے ‏کھلے وسیع راستے پر گویا کہ وہ دھاری دار چادر کی پشت ہو۔ جمالية وجناء تردي كأنها سفنجة تبری لأزعر أربد جمالية۔ یہ نسبت ہے جمل کی طرف، جمل کی طرف، اور یہ نسبت یہ تشبیہ کے لیے ہے کہ وہ میری اونٹنی جو ہے، نر ‏اونٹ جیسی ہے بھئی۔ ظاہر سی بات ہے، آپ بھی جانتے ہیں ایک نر حیوان ہے، ایک مادہ، نر کے اندر قوت زیادہ ہوتی ‏ہے بھئی، زیادہ قوت والا ہے، زیادہ مضبوط ہوتا ہے، تو کہتا ہے: میری یہ اونٹنی بھی کس کی طرح ہے؟ نر اونٹ کی ‏طرح طاقتور اور مضبوط ہے۔ تو جمالیۃ نسبت ہے کس کی طرف؟ جمل کی طرف، جمل نر اونٹ کو کہتے ہیں، نر اونٹ جیسی ہے۔ وجناء۔ وجناء کہتے ہیں بڑے رخسار والی، بڑے جبڑوں والی، یعنی خوب گوشت سے پر بدن ہے اس کا، خوب مضبوطی ‏سے گوشت اس کے جسم پر بھرا ہوا ہے۔ تردي۔ ردى يـردي کے معنیٰ ہیں دوڑنا بھئی، ہلکی رفتار سے دوڑنا۔ ردى يـردي اصل میں کہتے ہیں، وہ رفتار جو دوڑ ‏اور چلنے کے بیچ کی ہو۔ چلنے سے تیز اور دوڑنے سے کم، لیکن بہرحال یہاں مطلقاً دوڑنے کے معنیٰ میں ہے۔ تردي، ‏دوڑتی ہے۔ كأنها سفنجة۔ سفنجہ کہتے ہیں مادہ شتر مرغ کو بھئی، مادہ شتر مرغ کو۔ تبری۔ برى يـبري کے معنیٰ ہیں سامنے آنا، سامنے آنا۔ لأزعر۔ ازعر کہتے ہیں کم اور بکھرے ہوئے پروں والا، ازعر، جس کے پر تھوڑے ہوں، بکھرے ہوئے ہوں، اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ ازعر، ازعر۔ اور اربد، اربد کہتے ہیں خاکستری رنگ والا، اربد خاکستری رنگ والا۔ خاکستری رنگ کون سا ہے بھئی؟ جی؟ ہاں ‏بھئی، راکھ راکھ جیسا رنگ ہو، اس کو خاکستری رنگ کہتے ہیں۔ اردو میں بھی آپ پڑھتے ہیں، وہ چیز جل کر خاکستر ‏ہو گئی، پڑھتے ہیں یا نہیں؟ ہاں یعنی راکھ بن گئی، جل کر راکھ بن گئی، تو راکھ جیسا جو رنگ ہے، اس کو خاکستری ‏رنگ کہتے ہیں، تو اربد خاکستری رنگ والا۔ جمالية وجناء تردي كأنها سفنجة تبری لأزعر أربد میری وہ اونٹنی جو ہے، نر اونٹ کی طرح ہے، بڑی مضبوط اور طاقتور، وجناء، اور بڑے جبڑوں والی ہے، یعنی خوب ‏گوشت سے اس کا جسم پر ہے، بھرا ہوا ہے، تردي، وہ دوڑتی ہے، كأنها سفنجة، گویا کہ وہ ایک مادہ شتر مرغ ہے، ‏دیکھو سفنجۃ نکرہ آیا، اور تبری اس کے بعد فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو عموماً اس کے لیے صفت، اور ‏موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی نکرہ کے اندر، كأنها سفنجة، ‏گویا کہ وہ ایک ایسی مادہ شتر مرغ ہے، تبری، جو سامنے آ گئی ہے، لأزعر أربد، ایک ایسے کم، بکھرے ہوئے پروں ‏والے خاکستری رنگ کے شتر مرغ کے سامنے، جو سامنے آ گئی ہے بھئی جیسے جیسے جوان شتر مرغ مستی کے اندر ‏مادہ کے پیچھے دوڑ لگاتا ہے، اور مادہ جو ہے، وہ اس سے اپنی جان بچانے کے لیے تیزی سے دوڑتی ہے، تو کہتا ہے: ‏میری یہ اونٹنی بھی ہے رفتار کے اندر اسی طرح ہے، جیسے وہ مادہ شتر مرغ بڑی رفتار سے دوڑتی ہے اپنی جان ‏بچانے کے لیے، میری یہ اونٹنی بھی اسی طرح بڑی برق رفتار ہے اور بڑی تیزی سے اس راستوں کو طے کرنے والی ‏ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ تو گویا تشبیہ دی یہاں پر ایک تو اونٹ کے ساتھ، طاقتور اور مضبوط ہونے میں، اور شتر مرغ، مادہ شتر مرغ کے ساتھ ‏تشبیہ دی تیز دوڑنے کے اندر اور رفتار کے اندر۔ جمالية وجناء تردي كأنها سفنجة تبری لأزعر أربد میری اونٹنی جو ہے، وہ نر اونٹ کی طرح ہے، بڑے رخسار والی ہے، تردي، وہ دوڑتی ہے، گویا کہ وہ ایسی مادہ شتر ‏مرغ ہے، تبری لأزعر أربد، جو سامنے آ گئی ہو کم بکھرے ہوئے پروں والے خاکستری رنگ کے شتر مرغ کے، یعنی ‏اس کے سامنے آ گئی ہو۔ شتر مرغ جو ہے، اس کا بچہ جب انڈے سے نکلتا ہے، تو زرد رنگ کا ہوتا ہے اور اس کے پر ‏بھی اس پر زیادہ ہوتے ہیں، لیکن جوں جوں بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، اس کے پر کم ہوتے چلے جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ‏خاکستری رنگ کے ہو جاتے ہیں اس کے پر، تو یہ کم اور بکھرے ہوئے پروں والا اور خاکستری رنگ کو ذکر کیا، مراد ‏جوان شتر مرغ ہے، کیا مراد ہے؟ ہاں جوان، جیسے کہ شتر مرغ مادہ شتر مرغ جو کسی جوان شتر مرغ کے سامنے آ ‏جائے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ اور امونین، یہ مجرور ہے بھئی، کیونکہ ماقبل میں اولِ صفت بعوجاء، وہ کیا آئی تھی؟ مجرور، با جارہ داخل ہے نا؟ با ‏جارہ کیا کرتا ہے؟ جر دیتا ہے، اور عوجاء، میں نے بتلایا کہ یہ مجرور ہے، لیکن اس پر کسرہ اور تنوین نہیں آئے گی، ‏کیونکہ یہ غیر منصر ف ہے، کیونکہ اس کے ساتھ الفِ تانیث ملا ہوا ہے، تو جتنی بھی آگے صفات آئیں گی، وہ مجرور ‏ہوں گی بھئی، جیسے عوجاء یہ بھی مجرور ہے، مرقال یہ بھی کیا ہے؟ مجرور، امونین، امن والی، یہ بھی مجرور ہے، ‏اور آگے جمالیۃ یہ بھی مجرور ہے، وجناء یہ بھی مجرور ہے، یہ بھی غیر منصر ف ہے بھئی، اس کے آخر میں بھی ‏الفِ تانیث ہے۔ تو یہ ساری صفات مجرور ہیں بھئی، عوجاء صفت ہے: أی بناقة عوجاء، تو موصوف مجرور تو ساری صفات بھی کیا ‏ہیں؟ مجرور ہیں۔ سبق اچھی طرح حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔
62 approved lectures · 45 of 62