عَدَوْلِيَّةٌ أَوْ مِنْ سَفِينِ ابْنِ يَامِنٍ
يَجُورُ بِهَا الْمَلَّاحُ طَوْراً وَيَهْتَدِي
يَشُقُّ حَبَابَ الْمَاءِ حَيْزُومُهَا بِهَا
كَمَا قَسَمَ التربَ الْمُفَايِلُ بِالْيَدِ
وَفِي الْحَيِّ أَحْوَى يَنْفُضُ الْمَرْضَ شَادِنٌ
مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ
گزشتہ سبق میں ہم نے طرفة بن العبد کا معلقہ شروع کیا تھا، اور آغاز میں تشبیب شاعر اپنی عاشقہ کا ذکر کر رہا ہے۔ اور ایک اور بات بھی یاد رکھیں کہ یہ شاعر جو عاشقہ وغیرہ کا آغاز میں ذکر کرتا ہے، اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کی حقیقت میں بھی کوئی عاشقہ ہو۔ ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو۔ بس ایک فرضی عاشقہ یعنی عورتوں کے حسن و جمال اور محبت کی باتیں شروع میں ذکر کر دیتا ہے۔ تو مقصد صرف کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کروانا بھئی!
تو یہ نہیں کہ یہ شاعر کی کوئی خولہ نامی عاشقہ تھی، ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے فرضی ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، آگے دیکھیے بھئی!
عدولية أو من سفين ابن يامن، يجور بها الملاح طورا ويهتدي.
عدولية، یہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہ نسبت ہے کسی قبیلے کی طرف۔ بحرین وغیرہ یا یمن کا کوئی قبیلہ تھا، تو اس کی طرف نسبت ہے بھئی۔ اور جبکہ بعضوں نے لکھا کہ یہ کسی جزیرے کا نام ہے، تو وہ جزیرے والے جو ہیں اس جزیرے کی طرف نسبت ہے۔ اور یہ جو عدولی، یاد رکھیے یہ روایات میں مرفوع بھی آیا ہے اور مجرور بھی۔ عدولية بھی آیا ہے اور عدولية بھی آیا ہے اس شعر کے اندر۔
تو اگر اس کو مرفوع پڑھیں، تو پھر یہ صفت ہے خلايا کی، کس کی صفت ہے؟ وہ بڑی کشتیاں، کس کی ہیں؟ قبیلہ عدولی قبیلے والوں کی کشتیوں کی طرح۔ بھئی خلايا مرفوع ہے نا مرفوع، تو اس کی صفت بھی کیا ہوگی؟ مرفوع، کیوں؟ کیونکہ كأن، كأن کس میں سے ہے؟ حروف مشبہ بالفعل، کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ إن زيدا قائم، توجہ ہے؟ اسی طرح كأن زيدا أسد، گویا کہ زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے۔ تو كأن اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع، تو پیچھے خدوج المالكية یہ كأن کا اسم ہے اور خلايا اس کی خبر ہے، تو یہ مرفوع ہے۔ تو اس کی صفت عدولية یہ بھی کیا ہوگی؟ مرفوع۔
تو مرفوع ہونے کی ایک وجہ یہ ہے، یا مرفوع اس لیے ہے کہ اس کو خبر بنا دیں مبتدائے محذوف کے، أي هي عدولية، وہ کشتیاں کس جیسی ہیں؟ قبیلہ عدولی والی ہیں یعنی ان جیسی ہیں بھئی وہ کشتیاں۔
اور یا اس کو مجرور پڑھیں، عدولية، اگر اس کو مجرور پڑھا جائے، تو اس صورت میں یہ سفين کی صفت ہے اور سفين مضاف الیہ ہے مجرور ہے، تو اس کی صفت بھی کیا؟ مجرور۔ اور پھر اپ کے ذہن میں آئے گا کہ سفين مذکر ہے عدولية مؤنث ہے، بھئی سفين جمع ہے اور جمع بتاویل جماعة کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث، اس لیے اس کی صفت عدولية کیا لائی گئی؟ واحد مؤنث۔
أو من سفين ابن يامن، یا یہ ابن یامن کی کشتیاں ہیں۔ سفين وہی کشتیاں، ابن یامن یہ ابن یامن یہ کسی شخص کا نام ہے اور یہ کوئی کشتیاں چلانے والا ہے، تو اس کے پاس کوئی بڑی کشتیاں ہوں گی اس لیے اس کو ذکر کیا، یا وہ کشتیاں بنانے والا ہوگا جو بڑی بڑی کشتیاں بناتا ہوگا، تو بہرحال کوئی خاص وجہ اس کی کشتیاں مشہور ہوں گی یا کچھ اس وجہ سے اس کو ذکر کیا۔ یہ میری عاشقہ والوں کے جو کجاوے ہیں یہ بڑی کشتیوں کی طرح معلوم ہو رہے ہیں، وہ بڑی کشتیاں جو کس کی ہوں؟ ابن یامن کی۔ تو یہ قبیلہ عدولی یا جزیرہ عدولی کی طرف نسبت کی یا ابن یامن کی کشتیوں کی طرف نسبت کی بڑا ہونے کے اندر۔ اس قبیلے کی کوئی کشتیاں ہوں گی یا اس جزیرے والوں کی جو کشتیاں ہوں گی وہ بڑی بڑی ہوں گی، اسی طرح یہ جو ابن یامن ہے یہ کوئی کشتیاں بنانے والا اسی قبیلے کا یا اس جزیرے کا، تو اس کی بھی کشتیاں بڑی بڑی ہوں گی، اعلیٰ ہوں گی، اس لیے ان کے ساتھ تشبیہ دی جیسے اس کی کشتیاں ہوں بھئی۔
يجور بها الملاح طورا ويهتدي، جار يجور کے معنی ہوتے ہیں راستے سے ہٹنا۔ عربی میں کہتے ہیں جار فلان عن الطريق، وہ راستے سے ہٹ گیا۔ تو جار عن الطريق کا کیا معنی؟ راستے سے ہٹنا، لازم ہے۔ لیکن با لائے اور با کے ذریعے فعل کو کیا کرتے ہیں؟ متعدی، تو يجور بها الملاح، یہ ها ضمیر راجع ہے پیچھے جو خلايا اور سفين کا ذکر تھا کہ ان کشتیوں کو ملاح کیا کرتے ہیں؟ ہٹاتے ہیں، جار يجور کا معنی ہٹنا اور با کے ساتھ معنی کیا ہو جائے گا؟ ہٹانا۔ يجور بها الملاح کہ ان کشتیوں کو ملاح کبھی کیا کرتے ہیں؟ ہٹاتے ہیں راستے سے۔ يجور بها الملاح، ملاح کشتی چلانے والا، طورا کبھی، مرتبہ کے لیے آتا ہے طورا۔ ويهتدي، اور اہتداء کا معنی ہے راستے پر ہونا، راستے پر چلنا۔ ایک ہے ہادی اور ایک ہے مہتدی، مہتدی جو خود راستے پر ہو اور ہادی جو دوسروں کو راستہ دکھائے بھئی، تو اہتدی کا معنی ہے راستے پر چلنا سیدھا۔
عدولية أو من سفين ابن يامن، يجور بها الملاح طورا ويهتدي، کہ وہ ان کی کشتیاں جو ہیں یوں معلوم ہوتی ہیں جیسے قبیلہ عدولی کی کشتیاں ہوں یا ابن یامن کی کشتیاں ہوں کہ يجور بها الملاح طورا کہ کبھی تو ملاح ان کو راستے سے ہٹا دیتا ہے ويهتدي اور کبھی راستے پر چلاتا ہے، کبھی راستے سے ہٹاتا ہے اور کبھی راستے پر چلاتا ہے۔
اور میں نے بتلایا وجہ کیا ذکر کی؟ یہ ملاح ان کو راستے سے ہٹاتا ہے اور کبھی چلاتا ہے۔ وہی مسافت کو کم کرنے کے لیے، اگر راستہ ٹیڑھا ہے تو اس کے لیے پہلے سے ہی اونٹوں کو اس کی طرف موڑ دیا راستے سے ہٹا دیا، تو کبھی وہ راستے پر چلاتا ہے اور کبھی ان کو راستے سے ہٹاتا ہے۔ تو کبھی ان کو ملاح راستے سے ہٹاتا ہے اور کبھی راستے پر چلاتا ہے۔
يشق حباب الماء حيزومها بها، كما قسم الترب المفايل باليد.
شق يشق کا معنی ہے پھاڑنا، پھاڑنا۔ حباب الماء، حباب کہتے ہیں موجوں کو بھئی، پانی کی موجیں جو ہیں، اور اس کا مفرد ہے حبابة۔ حيزومها، حیزوم کہتے ہیں سینے کو بھئی یا سینے کا درمیان والا حصہ۔ حیزوم کا معنی ہے سینہ، سینہ۔ اور یہ مفرد ہے، اس کی جمع آتی ہے حیازیم بھئی۔ حيزومها بها، یہ ضمیروں کے مرجع سمجھ لیں بھئی ورنہ اپ کے لیے ترجمہ مشکل ہو جائے گا۔ حيزومها، یہ ها ضمیر جو پہلی ہے یہ راجع ہے خلايا کو۔ خلايا، حيزومها ان کشتیوں کے سینے جو ہیں۔ اور خلايا ہے جمع اور ها ضمیر واحد مؤنث کی راجع کی بتاویل جماعة کے واحد مؤنث کے حکم میں۔
اور بها، بها کی ها ضمیر راجع ہے نواصف کو، نواصف کو۔ حيزومها، میں نے بتلایا حیزوم مفرد ہے اور ها ضمیر کس کو راجع؟ خلايا، وہ جمع ہے۔ تو ان کشتیوں کا ایک سینہ ہوگا یا کئی سینے؟ سینے سے مراد ہے کشتیوں کا اگلا حصہ، اگلا حصہ۔ تو حیزوم ہے مفرد اور ها ضمیر خلايا کو راجع ہے۔ تو ان کشتیوں کا ایک سینہ ہوگا یا کئی سینے ہیں؟ کئی سینے، کئی اگلے حصے ہیں۔ تو سوال پھر یہ مفرد کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ حيزومها، ان کشتیوں کا سینہ، ان کشتیوں کا اگلا حصہ۔ جواب یہ کہ ہاں، جب کشتیاں کہیں ان کے اگلے حصے بھی کئی ہو گئے لیکن شعر کے اندر مفرد کا لفظ استعمال کر لیا کیونکہ اگر جمع کا لفظ استعمال کیا جائے تو شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے شاعر نے مفرد کا لفظ استعمال کیا۔ اور چونکہ کوئی اشتباہ بھی نہیں، اشکال بھی نہیں، بات بالکل واضح ہے۔ ایک کشتی ہوگی تو ایک اگلا حصہ، زیادہ ہیں تو زیادہ اگلے حصے ہوں گے، چونکہ بات بالکل واضح تھی اس لیے شاعر نے مفرد کا لفظ استعمال کر لیا کہ مفرد بھی استعمال کر لیا جائے تو کسی کو کوئی اشتباہ نہیں ہوگا، بات بالکل واضح ہے کہ کئی کشتیاں ہیں تو ان کے اگلے حصے بھی کئی ہوں گے۔
كما قسم الترب، قسم يقسم کے معنی ہیں تقسیم کرنا۔ ترب، ترب اور تراب یہ مٹی کو کہتے ہیں بھئی، مٹی۔ المفايل، مفایل مفايلة سے ہے، مفايلة دیہات میں کھیلا جانے والا کھیل ہے، بچے کھیلتے ہیں کہ کوئی چیز چھوٹی سی چیز جو ہے اپنے سامنے مٹی کی ڈھیری بناتے ہیں مٹی یا ریت کی اور اس کے اندر وہ چیز چھپا دیتے ہیں اور پھر اس کو دائیں بائیں پہلے ہلاتے ہیں تھوڑا سا اور پھر ایک دم اس کے دو حصے کر دیتے ہیں اور پھر سامنے والے سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ وہ چیز کس حصے میں ہے، دائیں حصے میں یا بائیں حصے میں بھئی۔ کھیل سمجھ میں آیا؟ جی، تو یہ اس کھیل کو مفايلة کہتے ہیں مفايلة۔ اور یہ جو کھیلنے والا ہے اور یہ جو مٹی میں چیز چھپانے والا ہے اور پھر اس کی دو ڈھیریاں کر دینے والا ہے اس کو کہتے ہیں مفایل، مفایل۔
تو کہتے ہیں يشق حباب الماء حيزومها بها، يشق پھاڑ رہا ہے حباب الماء ان پانی کی موجوں کو حيزومها ان کشتیوں کے سینے، ان کے اگلے حصے جو ہیں وہ پانی کو پھاڑ رہے ہیں بها ان وادی کے گہرے حصوں میں۔ تشبیہ دی بھئی ان کے کجاوں کو کس کے ساتھ؟ کشتی کے ساتھ، اور کشتی پانی میں کیسے چلتی ہے؟ ظاہر سی بات ہے پانی میں جب چلتی ہے وہ کشتی کا اگلا حصہ پانی کے پھاڑتا ہوا دو حصے کرتا ہے، کچھ پانی دائیں طرف ہو جاتا ہے کشتی کے اور کچھ بائیں طرف بھئی۔ تو اس کو تشبیہ دے دی مفايلة اس کھیل کے ساتھ تشبیہ دے دی، جیسے مفایل کیا کرتا ہے؟ اس مٹی کی ڈھیری کو تقسیم کر کے اس کے دو حصے کر دیتا ہے، اسی طرح کشتی کا اگلا حصہ بھی جو ہے وہ پانی کو پھاڑ کر اس کے دو حصے کر دیتا ہے۔
يشق حباب الماء حيزومها بها، پھاڑ رہا ہے حباب الماء پانی کی موجوں کو حيزومها ان کشتیوں کے سینے، ان کشتیوں کے اگلے حصے پانی کی موجوں کو پھاڑ رہے ہیں بها اس وادی کے گہرے حصوں میں كما قسم الترب جیسا کہ مٹی کو تقسیم کرتا ہے المفايل وہ کھیل کھیلنے والا باليد ہاتھ کے ذریعے، باليد کا تعلق قسم سے ہے، جیسے ہاتھ کے ذریعے مٹی کو تقسیم کر دیتا ہے المفايل کون؟ وہ کھیل کھیلنے والا، اسی طرح یہ کشتیاں بھی پانی کو پھاڑ کر اس کے دو حصے کر دیتی ہیں بھئی۔ تشبیہ سمجھ میں آ گئی؟
وفِي الْحَيِّ أَحْوَى يَنْفُضُ الْمَرْدَ شَادِنٌ مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ
وفِي الْحَيِّ، حَيٌّ کہتے ہیں قبیلے کو۔ أَحْوَى، أَحْوَى، أَحْوَى کا معنی بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہ جو ہرن ہے اس کے ہونٹ جو ہیں وہ گندمی رنگ کی طرف مائل ہوتے ہیں، گندمی رنگ کے ہوتے ہیں۔ تو یہ مراد ہے یہاں پر اور یہ صفت صرف ہرنوں میں پائی جاتی ہے، تو احویٰ سے کیا مراد ہے؟ ہرن۔ أي ظبيٌ أحوى، ظبی ہرن کو کہتے ہیں بھئی، تو موصوف محذوف ہے۔
تو احویٰ کا کیا معنیٰ؟ ہرن جس کے ہونٹ کس رنگ کی طرف مائل ہوں؟ گندمی رنگ کی طرف مائل ہوں بھئی، گندمی رنگ جیسے ہوں۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ احویٰ وہ چیز جس کا رنگ سیاہی کی طرف مائل ہو، تو سبز رنگ ہو یا سرخ رنگ ہو اور وہ سیاہی کی طرف مائل ہو تو اس کو احویٰ کہتے ہیں۔ تو مراد ہرن ہے کہ اس کے ہونٹ جو ہیں کس کی طرف مائل ہیں؟ سیاہی کی طرف مائل ہیں۔ ایسا سرخ جو سیاہی کی طرف مائل ہو۔
اور بعض شارحین نے لکھا ہے کہ احویٰ جو ہے احویٰ وہ ہرن جو ہے اس پر کچھ سیاہ نشان یا دھاریاں کچھ ہوتی ہیں تو اس ہرن کو احویٰ کہتے ہیں بھئی، اور مراد اس سے یہ آنکھوں کی سیاہی مراد ہے۔ وہ دھاریاں وغیرہ مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ آنکھوں کی سیاہی مراد ہے اور یہ ہرن کی آنکھیں خوبصورتی کے اندر ضرب المثل ہیں بھئی، تو وہ مراد ہے بھئی۔
نَفَضَ يَنْفُضُ کے معنی ہیں جھاڑنا بھئی، درخت سے پتے وغیرہ جھاڑنا یا پھل جھاڑ کر نیچے گرانا، اس کو نفض کہتے ہیں۔ مَرْدٌ کہتے ہیں پیلو کا تروتازہ درخت بھئی، پیلو کا تروتازہ درخت اس کو مردٌ کہتے ہیں بھئی، جس سے مسواکیں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ اور شَادِنٌ، شادن کہتے ہیں ہرنی کا جوان بچہ بھئی، جو مضبوط ہو گیا اور اب ماں کا محتاج نہ رہا۔ ابتدا میں تو ماں کا محتاج ہے اس کا دودھ وغیرہ پیتا ہے اس پر گزارا کرتا ہے، لیکن جب ذرا کچھ بڑا ہو جائے، ذرا مضبوط ہو جائے، ماں کی حاجت نہ رہی اس کو زندگی گزارنے کے لیے، تو اس کو شادن کہتے ہیں بھئی، جوان بچہ۔
مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ، مظاہر، ظَاهَرَ يُظَاهِرُ مُظَاهَرَةً، اس کے کئی معانی ہیں، یہاں پر معنی ہے اس کا دو چیزوں کو اوپر نیچے ملا کر پہننا۔ ظاہر یظاہر کا یہاں کیا معنی ہے؟ دو چیزوں کو اوپر نیچے اوپر تلے پہننا، مثلاً ایک شخص نے ایک قمیص کے اوپر دوسری قمیص پہن لی تو اس کو مظاہر کہیں گے۔ یا ایک ہار کے اوپر دوسرا ہار پہن لیا کسی نے تو وہ مظاہر ہے، یا اسی طرح ایک زرہ جو جنگی لباس ہے، ایک زرہ کے اوپر دوسرا دوسری زرہ پہن لی تو اس کو کیا کہیں گے؟ مظاہر کہیں گے۔
سِمْطَيْ، اصل میں یہ تھا سِمْطَيْنِ، تثنیہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ اور سِمْطٌ کہتے ہیں ہار کو بھئی، ہار۔ اور اسی طرح سمطٌ اس دھاگے کو بھی کہتے ہیں جس میں موتی وغیرہ پروئے ہوتے ہیں۔ لیکن دھاگے کو عام حالت میں سمطٌ نہیں کہتے، اسی حالت میں سمطٌ اس کو کہیں گے جب اس پر موتی وغیرہ اس میں پروئے ہوئے ہوں، تو یہاں یوں کہیں اس صورت میں معنی ہو گیا لڑی بھئی۔ سمطٌ کا معنی ہار بھی اور وہ لڑی، وہ دھاگا جس پر موتی پروئے جائیں بھئی۔ لُؤْلُؤٌ موتی کو کہتے ہیں۔ زَبَرْجَدٌ یہ کوئی قیمتی پتھر ہے بھئی، زمرّد اس کو کہتے ہیں زمرّد۔
معنی سمجھ میں آیا؟ زبرجد کا کیا معنیٰ؟ زمرّد۔
وفِي الْحَيِّ أَحْوَى يَنْفُضُ الْمَرْدَ شَادِنٌ مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ
اور اس قبیلے کے اندر احویٰ ایک گندمی رنگ کے ہونٹوں والا ہرن ہے، یعنی تشبیہ دے رہا ہے شاعر اپنے معشوقہ کو، اپنے حبیبہ کو کس کے ساتھ؟ ہرن کے ساتھ، کہ قبیلے کے اندر میری معشوقہ ہے جو کس کے مشابہ ہے؟ ایک ایسے ہرن کے جس کے ہونٹ کس رنگ کے ہوں؟ گندمی رنگ کے ہوں، یا جس کے ہونٹ کس جانب مائل ہوں؟ سیاہی کی طرف مائل ہوں، یا ایسا ہرن جس کی آنکھیں خوب سیاہ ہیں بھئی، خوب سیاہ ہیں۔ تو اپنے معشوقہ کو اس کے ساتھ تشبیہ دی آنکھوں کے خوبصورت ہونے میں، آنکھوں کے، یا ہونٹوں کے خوبصورت ہونے میں۔
یَنفُضُ المَردَ، اور وہ جھاڑ رہا ہو ہرن جو ہے وہ پیلو کے درخت جھاڑ رہا ہو، اس میں سے پتے یا پھل گرا رہا ہو، پتے جھاڑ رہا ہو یعنی اپنے سینگ وغیرہ کے ذریعے کیا کر رہا ہو؟ اس کے پتے جھاڑ رہا ہو۔ بھئی ہرن ہے درخت کی شاخ وغیرہ نیچے آئی ہوئی ہو، اس میں سے پتے کھا رہا ہو، کبھی ظاہر سی بات ہے اس کے اندر سینگ بھی مارے گا، تو اور یا دوسرا یہ کہ شاخ اگر نیچے ہو، آپ نے دیکھا ہوگا بکری وغیرہ کو بھی، کبھی تو وہ ویسے ہی گردن لمبی کر کے پتے وغیرہ کھائیں گی اور بعض اوقات اپنے پاؤں وہ تنے یا اس شاخ کے اوپر رکھ کر پتوں کو کھائیں گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی طرح وہ ہرن بھی جو ہے وہ پیلو کے پتے وغیرہ بھی کھا رہا ہے اور کبھی کبھار اپنی گردن لمبی کر کے ان کے پتوں کو جھاڑتا بھی ہے، یعنی سینگ وغیرہ ان کے اندر مارتا ہے بھئی۔
اور اس حال میں ظاہر سی بات ہے، جب اپنی گردن آگے کرے گا ان پتوں کو جھاڑنے کے لیے یا پتے کھانے کے لیے، تو گردن اوپر کی ہوگی، لمبی کی ہوگی اور پوری گردن واضح نظر آئے گی بھئی۔ تو یہاں تشبیہ دے رہا ہے اپنی معشوقہ کی گردن کو ہرن کی گردن کے ساتھ حسن و جمال کے اندر، کیونکہ جب ہرن نے پتے وغیرہ کھانے یا جھاڑنے کے لیے سر اٹھائے گا تو گردن لمبی کی ہوگی اور وہ خوب نمایاں ہوگی، تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میری معشوقہ کی گردن بھی اسی طرح اعتدال کے درجے میں لمبی ہے اور بڑی حسین معلوم ہوتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
شَادِنٌ، میں نے بتلایا ہرن کے جوان بچے کو کہتے ہیں، تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میری معشوقہ بھی کیا ہے؟ جوان ہے یعنی کم عمر ہے بھئی، کم عمر ہے۔ مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ، اور اس نے دو ہار جو ہیں موتی اور زمرّد کے اوپر تلے پہن رکھے ہیں، اوپر تلے پہن رکھے ہیں۔
معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ بتلانا یہ چاہتا ہے، کہاں پیچھے کہا نا کہ قبیلے میں ہرن ہے، گندمی ہونٹوں والا، سیاہ آنکھوں والا ہے اور وہ پیلو کے درخت جھاڑ رہا ہے، جوان ہے اور آگے بتلانا یہ چاہتا ہے، مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ، کہ بھئی میری مراد حقیقی ہرن نہیں بلکہ میں اپنی معشوقہ کی بات کر رہا ہوں، اس کو اس ہرن کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہوں اور ہرن کی گردن تو خالی ہوتی ہے اس میں تو کوئی ہار وغیرہ نہیں ہوتے، لیکن میری معشوقہ ایسی نہیں ہے اس کی گردن میں کیا موجود ہیں؟ ہار، بلکہ ایک ہار نہیں دو ہار ہیں، یعنی خوب آسودہ حال ہے اور نعمتوں والی زندگی گزار رہی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو تشبیہ کس چیز میں؟ احویٰ کہا، آنکھوں کے سیاہ ہونے میں اور ہونٹوں کے گندمی رنگ کے ہونے میں تشبیہ۔ یَنفُضُ المَردَ، پیلو کے پتوں کو وہ جھاڑ رہا ہے، تشبیہ کس چیز میں ہے؟ گردن کے خوبصورت ہونے میں اور لمبا ہونے میں۔ شَادِنٌ، یہاں کس کس کو بیان کرنا چاہ رہا ہے؟ کہ وہ کم عمر ہے، جوان ہے۔ مُظَاهِرُ سِمْطَيْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدِ، اور یہاں سے کیا بیان کرنا چاہ رہا ہے؟ کہ وہ آسودہ حال ہے۔
تو یہاں سے اس کی آسودگی کو بیان کر رہا ہے اور میں نے بتلایا یہ احویٰ دراصل صفت ہے موصوف محذوف ہے، أي ظبيٌ أحوى۔ تو گویا اصل میں کہنا یہ چاہتا ہے کہ وفِي الْحَيِّ، وفِي الْحَيِّ حَبِیْبَتِی أَوْ عَشِیْقَتِی يُشْبِهُ ظَبْيًا أَحْوَى، کہ قبیلے کے اندر میری حبیبہ ہے جو کس کے مشابہ ہے؟ ظبیاً احویٰ، ایسے ہرن کے جو گندمی رنگ کے ہونٹوں والا ہے، سیاہ آنکھوں والا ہے اور ینفض المرد اور کیا کر رہا ہے؟ پیلو کے درختوں کو جھاڑ رہا ہے، شادنٌ جوان ہے اور اس نے اوپر تلے دو ہار پہن رکھے ہیں۔
تو ظبیٌ موصوف جو ہے محذوف ہے اور احویٰ اس کی صفت اول اور ینفض المرد یہ صفت ثانی، کیونکہ نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتا ہے؟ صفت۔ شادنٌ یہ تیسری صفت اور مظاہر سمطے یہ چوتھی صفت بیان کی بھئی۔ یہاں اور بھی ترکیبیں ہو سکتی ہیں لیکن بہرحال یہ ترکیب یاد رکھیں آپ۔
دوبارہ پھر سن لیں بھئی، میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ احویٰ صفت ہے موصوف محذوف ظبیٌ کی اور پھر دوبارہ میں نے آپ کو بتلایا کہ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے، وفِي الْحَيِّ حَبِیْبَتِی أَوْ عَشِیْقَتِی يُشْبِهُ ظَبْيًا أَحْوَى، تو آپ کے ذہنوں میں اشکال نہ آئے کہ ایک مرتبہ تو میں نے کہا ظبیٌ احویٰ، مرفوع پڑھا اور ایک دفعہ میں نے ظبیاً احویٰ، منصوب پڑھا بھئی۔ تو یاد رکھنا یہ جو میں نے مرفوع پڑھا یہ اصل ترکیب میں بیان کر رہا ہوں، کہ یہ وفِي الْحَيِّ یہ ہے خبر مقدم اور ظبیٌ احویٰ یہ کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، تو دراصل یہاں جو موصوف ہے وہ مرفوع ہے اور احویٰ یہ بھی مرفوع، ینفض المرد یہ پورا جملہ بھی مرفوع، شادنٌ دیکھو یہ بھی مرفوع اور مظاہر سمطے لؤلؤ و زبرجد یہ بھی کیا ہے؟ مرفوع۔
تو اصل میں یہ کیا ہیں؟ مرفوع ہیں بھئی سارے، اور جو میں نے منصوب نکالا وہ میں دراصل شاعر کی مراد بیان کر رہا تھا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو لفظی ترجمہ یہ ہوگا، وفِي الْحَيِّ اور قبیلے کے اندر ظبیٌ احویٰ ایک ایسا ہرن ہے جو گندمی رنگ کے ہونٹوں والا ہے، یا قبیلے کے اندر ایک ایسا ہرن ہے جو سیاہ آنکھوں والا ہے یعنی خوبصورت آنکھوں والا ہے، یا قبیلے کے اندر ایک ایسا ہرن ہے جو سیاہی مائل سرخ ہونٹوں والا ہے، ینفض المرد اور وہ پیلو کے درخت کو یعنی اس کے پتوں کو جھاڑ رہا ہے، شادنٌ اور جوان ہے، کم عمر ہے، مظاہر سمطے لؤلؤ و زبرجد اور اس نے موتی اور زمرّد کے دو ہار اوپر تلے پہن رکھے ہیں، یہ ہے لفظی ترجمہ۔
اور دوسری جو منصوب میں نے نکالا تھا وہ میں شاعر کی مراد بیان کر رہا تھا، کہ یہ ہرن بول کر دراصل وہ تشبیہ دے رہا ہے ہرن کے ساتھ کس کو؟ اپنی معشوقہ کو، تو گویا وہ کہہ یہ رہا ہے کہ وفِي الْحَيِّ حَبِیْبَتِی أَوْ عَشِیْقَتِی يُشْبِهُ ظَبْيًا، کہ قبیلے میں میری ایک معشوقہ ہے جو کس کے مشابہ ہے؟ اس ہرن کے جس کی یہ یہ صفات ہیں بھئی، تو یہ میں اس کی مراد بیان کر رہا تھا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظی ترجمہ میں نے الگ بیان کر دیا بھئی۔
چلیے بس کریں بھئی، معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔