معلقۃ طرفۃ بن العبد البکری۔
آج ہم طرفہ ابن العبد کا معلقہ پڑھیں گے اور قبیلہ بکر سے اس کا تعلق ہے۔ یہ بھی عرب کے ان مشہور و معروف سات قصیدوں میں سے قصیدہ ہے جن کو سوق عکاظ میں لٹکایا گیا تھا ان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے اور جس کی بناء پر ان کو معلقات کہا جاتا ہے۔
اور یہ طرفہ ابن العبد اس کے بارے میں انسان پڑھتا ہے حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کتنا ذہین و فطین شخص تھا! یاد رکھو، یہ جو اس کے اشعار ہیں جن پر عرب ناز کرتے ہیں، جو عرب کی فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہیں اور جو عرب کے دیہات میں بچوں بچوں کی زبان پر یہ اشعار ہوتے ہیں، 1500 سال گزر گئے لیکن ان کی ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
تو حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جو اشعار ہیں طرفہ ابن العبد کے، یہ اس کی جوانی کے اشعار ہیں بلکہ نوجوان کے اشعار ہیں بھئی، نوجوانی۔ کیونکہ اس کو 26 سال کی عمر میں قتل کر دیا گیا تھا بھئی۔
تو یہ 26 سال سے بھی پہلے کے اس کے اشعار ہیں۔ حالانکہ یہ تو وہ عمر ہوتی ہے جو بے فکری کی عمر ہوتی ہے، بے توجہی کی عمر ہوتی ہے، لیکن اس عمر کے اندر اس کی فصاحت و بلاغت کا یہ حال تھا تو اگر یہ اور آگے کچھ زندہ رہتا اور مزید اشعار کہتا تو اس کی فصاحت و بلاغت کس درجے کی ہوتی؟ انسان سوچتا ہے، حیران رہ جاتا ہے بھئی۔
یہ بڑا ذہین و فطین تھا بھئی۔ ذہین بھی تھا اور بڑا تیز بھی تھا، تیز زبان والا تھا۔
تو ایک مرتبہ کوئی شاعر تھا اس زمانے کا، وہ اپنے اشعار سنا رہا تھا مجلس میں بھئی، لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اشعار کے اندر وہ اونٹ کی تعریف کر رہا تھا۔
تو اس نے کوئی ایسی صفت ذکر کر دی جو عموماً اونٹنیوں میں ہوتی۔ اپنے اونٹ کی صفات بیان کر رہا ہے اور ایسی صفت ذکر کر دی جو عموماً اونٹنیوں میں ہوتی تو طرفہ وہاں موجود تھا۔
اب باقی لوگ تو خاموش ہیں، اتنی باریک باتوں کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہوتی، تو یہ فوراً بول پڑا کہ اسْتَنْوَقَ الْجَمَلُ، کہ یہ اونٹ تو اونٹنی بن گیا۔ اونٹنی بن گیا۔
تو وہ شاعر بڑے غصے میں آ گیا، ظاہر سی بات ہے، مجمعے کے اندر کسی کو اس طرح ٹوک دیں، اس کی غلطی نکال دیں، تو بڑے غصے میں آیا، ناراض ہوا اور یہ محاورہ بن گیا، ضرب المثل بن گیا عرب کے اندر بھئی۔ جب کوئی کسی شخص سے کوئی بہادر آدمی ہے اور کوئی بزدلی والا کام کر جائے تو عرب کہتے ہیں: اسْتَنْوَقَ الْجَمَلُ بھئی۔
تو چنانچہ شاعر نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ یہ کون بولا ہے؟ لوگوں نے اس کو بتایا کہ یہ طرفہ ابن العبد ہے۔ تو شاعر کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے اس کی زبان کی یہ تیزی اسے موت تک پہنچا دے گی۔ اور واقعی ایسا ہوا، زبان کی تیزی اسے موت تک لے گئی بھئی۔
اس کے قتل کا واقعہ یوں ہوا کہ یہ چونکہ جوان تھا، بے فکری کا زمانہ تھا، اس نے اس زمانے کے ایک بادشاہ کے بارے میں کچھ اشعار کہے اس کے خلاف بھئی، ہجو کی، اس کی مذمت بیان کی بھئی۔
اور عرب کا حافظہ تو بڑا قوی تھا، عرب کے ہاں تو اشعار اس طرح پھیل جاتے جس طرح جنگل کی آگ اور پورے عرب کی زبانوں پر اب وہ اشعار پھیل جایا کرتے تھے، چنانچہ عرب قومیں جو ہیں وہ اپنے شاعروں کا بے انتہا اعزاز و اکرام کرتی تھیں۔ شاعر قوم میں اس طرح ہوتا جیسے بادشاہ ہوتا ہے بھئی۔ اور اس کا خوب خیال کرتے، اس کی خوب عزت کرتے جیسے بادشاہوں کی عزت کی جاتی ہے کہ یہ ہمارے قوم کا شاعر ہے، یہ ہمارے بارے میں اچھے اشعار کہے گا ہمارے قوم کے بارے میں اور پھر پورے عرب کے اندر ہماری صفات پھیل جائیں گی۔
اور پھر ان کے آپس میں فخر کے مقابلے ہوتے تھے، ایک شاعر اپنے قوم کی صفات بیان کرتا اشعار کے اندر، دوسرا شاعر اپنے قوم کی۔ تو شاعر کا وہ بے انتہا خیال رکھتے تھے۔ تو اس نے اس زمانے کے اندر ایک بادشاہ کی ہجو اور مذمت کے اندر کچھ اشعار کہہ دیے اور وہ اشعار پھر پورے عرب میں پھیل گئے اور بادشاہ تک بھی وہ اشعار پہنچ گئے۔
اور اس کا ایک ماموں تھا، اس نے بھی کسی زمانے میں اس بادشاہ کے خلاف اشعار کہے تھے اور پھر کچھ عرصہ گزر گیا تو بادشاہ نے ان دونوں کو پھر بلوایا بھئی۔ اس نے بدلہ لینے کا سوچا کہ انہوں نے میرے خلاف اشعار کہے ہیں، ان دونوں کو بلوایا اور بڑا انعام و اکرام دیا بھئی ان کو اور پھر ان کو خطوط لکھ کر دیے کہ فلاں علاقے میں میرا گورنر ہے، جاؤ یہ میرے خط اس کو دے دو، میں نے اس کو لکھ دیا ہے وہ تمہیں خوب انعام دے دے گا اور زیادہ وہاں پر۔
اور قدیم زمانے میں جب بادشاہ خطوط لکھا کرتے تھے تو ان خطوط کو مہر لگا کر بند کر دیا جاتا تھا کہ کوئی کھول نہ سکے، اگر کھولے گا تو پتہ لگ جائے گا کہ یہ خط کھولا جا چکا ہے۔ چنانچہ ان کے خطوط میں مہر لگا کر بادشاہ نے ان کے حوالے کر دیے اور خط کے اندر گورنر کو لکھ دیا کہ یہ لوگ جب یہ دونوں آدمی تمہارے پاس پہنچیں تو ان دونوں کو قتل کروا دینا۔
ایک خط ماموں کے لیے لکھ دیا اور ایک خط اس طرفہ ابن العبد کے لیے لکھ دیا۔ اب یہ وہاں سے چل پڑے، سفر کرتے ہوئے جا رہے ہیں، یہ وہ زمانہ ہے جس میں لکھنے پڑھنے والے لوگ بہت کم ہوتے تھے۔
یہ دونوں بھی، ماموں بھی شاعر ہے اور یہ طرفہ ابن العبد بھی بڑے زبردست چوٹی کے شاعر ہیں، عربی زبان ان کی مادری زبان ہے، اس کے ماہر ہیں، اس کے بڑے فصیح و بلیغ شاعر ہیں، لیکن دونوں لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے بھئی۔ اشعار تو زبردست کہتے تھے لیکن لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔
تو یہ دونوں بادشاہ سے خط لے کر چل پڑے گورنر کی طرف۔ راستے میں اس کے ماموں کو کچھ شک ہوا، خیال آیا ہوگا میں نے تو اس بادشاہ کی مذمت میں ایک دفعہ اشعار کہے تھے اور اس نے ان کے بارے میں یہ اس نے تو مجھ سے کوئی بات بھی نہیں کی ان اشعار کے بارے میں اور ہمیں اس گورنر کے پاس بھیج رہا ہے انعامات دینے کے لیے، بھئی انعام دینا تھا تو اپنے پاس ہی انعام دے دیتا، یہ گورنر کے پاس ہمیں کیوں بھیج رہا ہے؟ کچھ شک وغیرہ ذہن میں کچھ باتیں آئیں۔ چنانچہ اس نے وہ بادشاہ کی مہر توڑی، خط کھول لیا، لیکن لکھنا پڑھنا تو جانتا نہیں تھا، اب سفر میں ادھر ادھر پوچھتا جا رہا ہے کہیں کوئی آدمی مل جائے جو کچھ بتا دے کہ خط میں لکھا کیا ہے۔ آخر ایک غلام ان کو پڑھا لکھا ملا، اس غلام کو اس نے اپنا خط دیا اور کہا کہ پڑھو اس میں کیا لکھا ہے۔ غلام نے خط کھولا اور کہنے لگا، وہ جو اس کا ماموں تھا، کہ آپ متلمس ہیں، آپ کا نام؟ اس نے کہا: ہاں۔
کہتے ہیں: پھر اپنی جان بچاؤ، اس میں تو تمہارے قتل کا حکم دیا ہے بادشاہ نے کہ جیسے یہ پہنچے فوراً اس کو قتل کر دو۔
چنانچہ اس کے ماموں نے وہ وہاں سے بھاگ گیا بھئی کہ یہ تو مجھے قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے بادشاہ۔ اور ادھر اس کو بھی کہا کہ بھئی تمہارے لیے بھی قتل کا حکم ہوگا، تم مت جاؤ۔ اس نے کہا: نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اور یہ چلا گیا، چنانچہ گورنر نے اس کو پھر قتل کر دیا بھئی۔
بلکہ کہتے ہیں وہاں گورنر نے بھی اس کو موقع دیا، رات کے وقت کہیں یہ خط لے کر پہنچا، اس نے خط کھول کر پڑھا تو قتل کا حکم تھا تو کہنے لگا بھئی: میرے قبیلے وغیرہ کے تمہارے ساتھ تعلقات ہیں، تمہارے قبیلے کے ساتھ، بادشاہ نے مجھے تمہارے قتل کا حکم دیا ہے، تم راتوں رات یہاں سے جتنا دور بھاگ سکتے ہو بھاگ جاؤ، صبح اگر لوگوں کو پتہ چلا تو بادشاہ کا حکم ہے مجھے تمہیں قتل کروانا پڑے گا۔
تو یہ کہنے لگا: نہیں نہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے، بادشاہ نے قتل کا، لگتا ہے بادشاہ نے میرے لیے زیادہ انعامات لکھے ہیں تو مجھے دینا نہیں چاہتے۔
چنانچہ پھر صبح لوگوں کو بھی اطلاع ہوئی، بادشاہ کا خط آیا اور اس میں دیکھا گیا تو قتل کا حکم تھا، پھر اس کو قتل کر دیا گیا بھئی۔
تو یہ 26 سال کی عمر میں اس کو قتل کر دیا گیا بھئی۔ دیکھیے بھئی، اب اس کا معلقہ:
مُعَلَّقَةُ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ الْبَكْرِيِّ
لِخَوْلَةَ أَطْلَالٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ
تَلُوحُ كَبَاقِي الْوَشْمِ فِي ظَاهِرِ الْيَدِ
وُقُوفاً بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ
يَقُولُونَ لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ
كَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ غُدْوَةً
خَلَايَا سَفِينٍ بِالنَّوَاصِفِ مِنْ دَدِ
یہ قصیدہ دالیہ ہے بھئی، ہر شعر کے آخر میں دال آ رہا ہے بھئی۔
تو شاعر کہتا ہے: لِخَوْلَةَ أَطْلَالٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ تَلُوحُ كَبَاقِي الْوَشْمِ فِي ظَاهِرِ الْيَدِ
خولہ، خولہ یہ شاعر کی عاشقہ کا نام اور میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ عرب شعراء کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عموماً قصیدے کی ابتداء کے اندر اپنی عاشقہ کا ذکر کرتے ہیں، اس کے حسن و جمال کو ذکر کرتے ہیں، اپنی جوانی کے ایام کا تذکرہ کرتے ہیں، اپنے عشق و محبت کو ذکر کرتے ہیں اور اس کو تشبیب کہتے ہیں۔
اور وجہ اس کی یہ کہ لوگ اس طرح کی باتیں بڑی پسند کرتے ہیں تو جب اس طرح کے اشعار شروع میں آتے ہیں لوگ متوجہ ہو جاتے ہیں اشعار کی طرف اور پھر جب ان کی کامل توجہ ہو جاتی ہے تو پھر اس کے بعد وہ شاعر اپنے مقصد کی طرف عدول کرتا ہے۔
تو خولہ شاعر کی عاشقہ کا نام۔
أَطْلَالٌ، اطلال جمع ہے طَلَل کی، طَلَل۔ اور طلل کھنڈر کو کہتے ہیں بھئی، مکانوں کے بچے کھچے جو نشانات رہ جائیں ان کھنڈرات کو اطلال کہتے ہیں، تو یہ جمع ہے طلل کی۔
بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، برقہ کہتے ہیں ایسی سخت زمین جس میں پتھر، ریت اور مٹی ملے جلے ہوں۔ ایسی سخت زمین جس میں پتھر، ریت اور مٹی ملے جلے ہوں بھئی، ملے جلے ہوں۔
اب دیکھو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت بھئی! ایسی زمین جس میں ریت بھی ہو، پتھر بھی ہوں، مٹی وغیرہ بھی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ برقہ۔ اب اس کا اردو میں کوئی مترادف نہیں، کوئی مترادف نہیں۔
تو پھر ہم اس کا ترجمہ پتھریلی زمین وغیرہ کے ساتھ کرنا پڑتا ہے لیکن آپ جانتے ہیں پتھریلی زمین کا یہ معنی نہیں بھئی، پتھریلی زمین میں تو سخت اور پتھروں والی زمین ہو اس کو کہا جاتا ہے لیکن اس میں کیا ہے؟ پتھر بھی، ریت بھی اور مٹی سب ملے جلے ہوں، اس کو برقہ کہتے ہیں۔
تو عربی زبان میں بہت سے ایسے الفاظ آپ کو ملیں گے کہ اردو زبان میں ان کا کوئی مترادف نہیں، جیسے ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا، اس کے لیے اردو میں کوئی مترادف نہیں، عربی میں کہتے ہیں استنشاق بھئی۔
فقہ کی کتابوں میں آپ پڑھتے ہوں گے، کسے کہتے ہیں؟ ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا۔ اور اردو میں کوئی مترادف نہیں، اردو میں پھر ہم اس کا ترجمہ کرتے ہیں ناک میں پانی ڈالنا، دیکھو کوئی الگ لفظ نہیں ہے۔
اور اسی طرح منہ میں پانی ڈالنا اور اس کو گرا دینا اس کو عربی میں کہتے ہیں مضمضہ، اس کے لیے اردو میں باقاعدہ ایک الگ لفظ ہے، وہاں آپ یوں نہیں کہتے منہ میں پانی ڈالا اور پھر گرا دیا، نہیں، آپ وہاں کہتے ہیں کلی کر لی، دیکھا؟ تو اس کے لیے باقاعدہ ایک لفظ الگ لفظ ہے کلی کرنا۔
تو مضمضہ کے لیے تو الگ لفظ ہے لیکن استنشاق کے لیے اردو میں کوئی علیحدہ لفظ نہیں، اسی طرح یہ برقہ ہے اور بھی بہت سی مثالیں آپ کو ملیں گی کہ جہاں پر عربی زبان کی عربی زبان میں الفاظ ہیں لیکن اردو میں ان کا کوئی مترادف نہیں ملتا آپ کو۔
ثَهْمَدِ، ثہمد جو ہے یہ جگہ کا نام ہے بھئی، جگہ کا نام ہے۔
تَلُوحُ، لاح یلوح کا معنی روشن ہونا، چمکنا، واضح ہونا، ظاہر ہونا۔
كَبَاقِي الْوَشْمِ، وشم کہتے ہیں، وَشَمَ یَشِمُ کہتے ہیں کھال گدوانا۔ کھال گدوانا، عرب کے ہاں زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ تھا، عموماً عورتوں کے اندر کہ وہ اپنے جسم پر وہ سوئی کے ذریعے سوراخ کیے جاتے اور اس میں وہ سیاہی وغیرہ، آج کل بھی دنیا میں یہ کیا جاتا ہے اور اس میں وہ نیلے رنگ کی یا سبز رنگ کی سیاہی وغیرہ بھر دی جاتی، چنانچہ وہ نشانات سالہا سال تک اور بعض اوقات تمام عمر باقی رہتے تھے بھئی، تو وہ کھال گدوانا بھئی، وہ ہے وشم۔
اور حدیث میں آتا ہے، یہ آپ کے حاشیے میں بھی حدیث دی ہوئی ہے: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کھال گودنے والی پر والمسنوشمۃ اور کھال گدوانے والی پر۔ واشمہ کھال گودنے والی اور مستوشمہ جس نے کھال گدوائی بھئی۔
تو یہ عموماً دیکھو، واشمہ، مستوشمہ لفظ سے بھی پتہ چل رہا ہے مونث کے الفاظ استعمال ہوئے حدیث میں، معلوم ہوا یہ زیادہ رائج کس کے اندر تھا؟ عورتوں کے اندر یہ طریقہ رائج تھا، یوں سمجھیں اس زمانے کا فیشن ہوگا بھئی، تو عورتیں زیب و زینت کے لیے اس طرح کیا کرتی تھیں۔
فِي ظَاهِرِ الْيَدِ، ہاتھ کا ظاہر بھئی۔ ایک ہی ہاتھ کی ہتھیلی والی جانب ہے، یہ ہے باطن ید اور ایک ہتھیلی کے باہر کی طرف جانب جو ہے، یہ ہے ظاہر ید اور ظاہر ید پر عموماً یہ وشم وغیرہ کروایا جاتا تھا، کھال گدوائی جاتی تھی۔
لِخَوْلَةَ أَطْلَالٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ تَلُوحُ كَبَاقِي الْوَشْمِ فِي ظَاهِرِ الْيَدِ
لِخَوْلَةَ أَطْلَالٌ، یہ لخولۃ یہ ہے خبر مقدم اور اطلالٌ یہ ہے مبتدا مؤخر۔
تو لِخَوْلَةَ أَطْلَالٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، میری عاشقہ خولہ جو ہے اس کے گھر کے کھنڈرات ہیں ببُرْقَةِ ثَهْمَدِ، یہ با بمعنی فی کے ہے، ای فِي بُرْقَةِ ثَهْمَدِ، مقام ثہمد کی، مقام ثہمد کی پتھر، ریت اور مٹی ملی ہوئی زمین کے اندر۔
میری عاشقہ کے گھر کے کھنڈرات ہیں کہاں پر؟ مقام ثہمد کی پتھر، ریت اور مٹی ملی ہوئی زمین میں یا یوں کہیں پتھریلی زمین کر لیں، معنی تو آپ کو سمجھ میں آ گیا، میری عاشقہ کے گھر کے کھنڈرات ہیں مقام ثہمد کی پتھریلی زمین میں۔
تَلُوحُ كَبَاقِي الْوَشْمِ فِي ظَاهِرِ الْيَدِ، اور وہ اس طرح چمک رہے ہیں یعنی اس طرح ظاہر ہیں كَبَاقِي الْوَشْمِ جیسے گدوائی کے باقی نشانات ہوتے ہیں فِي ظَاهِرِ الْيَدِ ہاتھ کے ظاہر میں۔ چمکنے سے کیا مراد ہے؟ خوب ظاہر ہیں، خوب واضح ہیں۔ ہاتھ پر گدوائی کی، بیل بوٹے، نقش و نگار وغیرہ بنوا لیے، اب ان کے جو نشانات باقی رہ جاتے ہیں، کچھ آہستہ آہستہ کم ہو جاتے ہیں لیکن بہرحال نمایاں طور پر، واضح طور پر وہ نظر آتے ہیں اگرچہ کچھ کم بھی ہو جائیں لیکن دور سے ہی دکھائی دیتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: جیسے ہاتھ پر یہ باقی نشانات دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح میری عاشقہ کے گھر کے کھنڈرات بھی مقام ثہمد کی پتھریلی زمین میں نمایاں اور ظاہر ہیں۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
لِخَوْلَةَ، یہ غیر منصرف ہے بھئی، اس لیے اس پر کسرہ نہیں آیا بھئی اور تنوین۔
لِخَوْلَةَ أَتْلَالٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، تَلُوحُ كَبَاقِي الْوَشْمِ فِي ظَاهِرِ الْيَدِ
میں نے بتلایا لِخَوْلَةَ ہے خبر مقدم اور أَتْلَالٌ ہے مبتدا مؤخر، اور بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ یا تو آپ اس کو صفت بنا لیں أَتْلَالٌ کی، أَتْلَالٌ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد جار مجرور آیا تو وہ اس کے لیے عموماً صفت بنتا ہے، أَيْ أَتْلَالٌ ثَابِتَةٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، ایسے کھنڈرات جو کس مقام پر ہیں؟ مقام ثہمد کی پتھریلی زمین میں ہیں۔
اور تَلُوحُ یہ صفت ثانی بنا لیں، نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، تو بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ یہ صفت اول ہے أَتْلَالٌ کے لیے اور تَلُوحُ یہ صفت ثانی ہے۔
یا یوں کر لیں کہ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ یہ با بمعنی فی کے ہے، اس کو جوڑ دیں تَلُوحُ کے ساتھ، أَيْ تَلُوحُ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، وہ کھنڈرات چمک رہے ہیں یعنی ظاہر ہیں، دکھائی دے رہے ہیں، کہاں پر؟ مقام ثہمد کی پتھریلی زمین میں، معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو دوسری ترکیب یہ ہو گئی کہ بِبُرْقَةِ جار مجرور کو کس سے جوڑ دیں؟ تَلُوحُ فعل کے ساتھ جوڑ دیں۔
یا یہ تَلُوحُ جو ہے، اس کو صفت بنانے کے بجائے حال بنا دیں، ثَابِتَةٌ جو پیچھے آیا تھا، أَتْلَالٌ ثَابِتَةٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، تو ثَابِتَةٌ کے اندر هِيَ ضمیر جو أَتْلَالٌ کو راجع، وہ ہوئی ذوالحال اور تَلُوحُ اس سے حال آ گیا بھئی، تو کئی ترکیبیں یہاں ہو سکتی ہیں۔
تو کہتے ہیں: میری عاشقہ خولہ جو ہیں، اس کے گھر کے کھنڈرات ہیں مقام ثہمد کی پتھریلی زمین میں اور وہ اس طرح ظاہر اور نمایاں ہیں جیسے کہ ہاتھ کے ظاہر پر، ہاتھ کے باہر والی جانب پر گدوائی کے باقی نشانات نظر آتے ہیں، ان کی طرح نمایاں ہیں۔
وُقُوفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ، يَقُولُونَ لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ
وُقُوفًا یہ جمع ہے واقف کی، کھڑا ہونے والا، رکنے والا۔ صَحْبِي جمع ہے صاحب کی، میرے ساتھی۔ مَطِيَّهُمْ جمع ہے مطیۃ کی، سواری کو کہتے ہیں۔ لَا تَهْلِكْ، هلک یهلک کے معنی ہلاک ہونا۔ أسی یاسی أساً، اس کا معنی ہے غمزدہ ہونا، أسی یاسی أساً۔ تَجَلَّدِ، تجلد کا معنی ہے ہمت سے کام لینا، دلیری دکھانا، صبر سے کام لینا۔
وُقُوفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ، يَقُولُونَ لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ
اور یہ وُقُوفًا منصوب ہے، یہ ماقبل سے حال ہے۔ تَلُوحُ کے اندر جو هِيَ ضمیر، اس سے حال بنا لیں، یا جو ثَابِتَةٌ بِبُرْقَةِ ثَهْمَدِ، اس کے اندر جو ضمیر ہے، اس سے حال چاہے بنا لیں۔ اس حال میں کہ وُقُوفًا بِهَا، کہ وہاں پر کھڑے ہوئے ہیں، بِهَا کی ها ضمیر أَتْلَالٌ کو راجع، کیونکہ أَتْلَالٌ جمع ہے اور جمع بتاویلِ جماعتٌ کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث۔ اس حال میں کہ میرے ساتھی جو ہیں، وہ انہوں نے روکی ہوئی ہیں عَلَيَّ میرے اوپر مَطِيَّهُمْ اپنی سواریاں، انہوں نے اس مقام پر میرے پاس اپنی سواریاں روکی ہوئی ہیں، يَقُولُونَ اس حال میں کہ وہ کہہ رہے ہیں، لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ، کہ تو ہلاک نہ ہو غم کرتے ہوئے، یعنی اتنا زیادہ غم نہ کر کہ اپنے آپ کو ہلاک کر لے، وَتَجَلَّدِ اور ہمت سے اور دلیری سے کام لے، صبر و استقامت سے کام لے۔
لَا تَهْلِكْ نہی ہے اور أسی یاسی أساً اس کا معنی ہے غمزدہ ہونا، دکھی ہونا۔ اور یاد رکھیے، یہ یہاں پر جو أساً آ رہا ہے، یہ مفعول لہ ہے۔ مفعول لہ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت اور وجہ بیان کرتا ہے، ضربت زیداً تادیباً، میں نے زید کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے، ادب کی وجہ سے، ادب کی وجہ سے۔ تو یہاں بھی اسی طرح یہ مفعول لہ ہے، اور میرے ساتھی مجھ سے کہہ رہے ہیں: لَا تَهْلِكْ أَسًى، کہ تو غم کرنے کی وجہ سے ہلاک نہ ہو۔ غم کی وجہ سے ہلاک نہ ہو، یعنی اتنا غم نہ کر کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لے، وَتَجَلَّدِ اور ہمت سے کام لے، جرات سے کام لے، صبر سے کام لے۔
وُقُوفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ، يَقُولُونَ لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ
اس حال میں کہ میرے ساتھیوں نے، انہوں نے اپنی سواریاں مجھ پر روکی ہوئی ہیں، یعنی میرے پاس روکی ہوئی ہیں، بِهَا أَيْ بِأَتْلَالٍ، کہاں پر؟ ان ان اتلال میں، ان کھنڈرات میں، تو یہ با بمعنی فی کے ہے، أَيْ فِي الْأَتْلَالِ، ان اتلال کے اندر۔ اس حال میں کہ میرے ساتھیوں نے ان کھنڈرات کے اندر روکی ہوئی ہیں مجھ پر اپنی سواریاں، اپنی سواریاں۔ اس حال میں کہ يَقُولُونَ وہ کہہ رہے ہیں، لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ، کہ تو غم کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر، اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال، وَتَجَلَّدِ اور ہمت سے کام لے!
وُقُوفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ، يَقُولُونَ لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَلَّدِ
اس حال میں کہ وہاں پر میرے ساتھیوں نے میرے اوپر اپنی سواریاں روکی ہوئی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ تو غم کرتے ہوئے ہلاک نہ ہو، غم کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال، وَتَجَلَّدِ اور تو ہمت اور جرات سے کام لے!
كَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ غُدْوَةً، خَلَايَا سَفِينٍ بِالنَّوَاصِفِ مِنْ دَدِ
حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ، حُدُوجَ جمع ہے حِدْجٌ کی، حِدْجٌ، اور حِدْجٌ کہتے ہیں عورتوں کی سواری بھئی، جیسے کجاوہ، ڈولی وغیرہ کوئی عورتوں کی سواری ہو، اس کو حِدْجٌ کہتے ہیں، جیسے پیچھے ہودج گزرا تھا بھئی، ہودج، تو وہ عورتوں کے لیے جو ہو، اس کو کہتے ہیں حِدْجٌ۔
اور مالکیۃ، مالکیۃ نسبت ہے قبیلہ مالک کی طرف بھئی، مالکیۃ، قبیلہ مالک والی، قبیلہ مالک والی۔ غُدْوَةً، یاد رکھیے غُدْوَةً یا غدوةُ جو ہے، یہ صبح کا وقت طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب کے درمیان کا وقت، اس کو غدوةُ کہتے ہیں، غدوةُ۔
اور یہ غیر منصرف ہے بھئی، یہ اس وقت کا نام ہے، علم ہے علم، تو ایک علمیت آ گئی اور ایک تانیث آ گئی، کیونکہ تائے تانیث بھی ساتھ جڑی ہوئی ہے، تو یہ غیر منصرف ہے۔ اور آپ نے پڑھا، غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے، لیکن یہاں پر اس پر تنوین لائی گئی ضرورتِ شعری کی بنا پر۔
اور دلیل اس کی علماء یہ دیتے ہیں کہ یہ علم ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ نہ اس کی اضافت کرتے ہیں عرب اور نہ اس پر الف لام داخل کرتے ہیں۔ اگر یہ معرفہ نہ ہوتا تو اس پر الف لام لا کر معرفہ کبھی بناتے، کبھی استعمال کرتے، یا اس کی اضافت کرتے، لیکن عرب نہ اس پر الف لام داخل کرتے ہیں اور نہ اس کی اضافت کرتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ معرفہ ہے، معرفہ۔ اور عرب اس کو غیر منصرف پڑھتے ہیں، کسرہ اور تنوین اس پر نہیں پڑھتے، اور یہاں جو تنوین آئی، کس وجہ سے آئی؟ ضرورتِ شعری کی بنا پر۔ اور اگر کبھی اس کی اضافت کی ضرورت پیش آ جائے تو پھر یہ لفظ نہیں بولتے، اس کی جگہ غداۃ بولتے ہیں، غداۃ۔ غدوہ اور غداۃ کا ایک ہی معنیٰ، دیکھو مادے سے بھی پتہ چل رہا ہے۔
چنانچہ آپ نے امرؤ القیس کے شعر میں پڑھا تھا:
كَأَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوا، لَدَى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
دیکھو، غَدَاةَ الْبَيْنِ، وہاں اضافت کی ضرورت تھی تو امرؤ القیس نے غدوہ کا لفظ نہیں بولا بلکہ غداۃ کا لفظ استعمال کیا۔
خَلَايَا سَفِينٍ، خَلَايَا جمع ہے خَلِيَّةٌ کی، اور خَلِيَّةٌ بڑی کشتی کو کہتے ہیں بھئی، بڑی کشتی۔ سَفِينٍ، سَفِينٍ جمع ہے سَفِينَةٌ کی، اور یہ عام کشتی کو کہتے ہیں، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، جو بھی کشتی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سَفِينٍ کہتے ہیں، اور کبھی یہ مفرد کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
تو خَلَايَا مضاف ہے اور سَفِينٍ مضاف الیہ، تو خَلَايَا ہوئی بڑی کشتی، اور سَفِينٍ عام کشتیاں، چاہے چھوٹی ہوں چاہے بڑی، تو سَفِينٍ ہے عام، اس میں چھوٹی بڑی سب کشتیاں داخل، اور خَلَايَا ہے خاص، کیونکہ اس میں صرف کون سی کشتیاں آئیں؟ بڑی، تو یہ خاص کی اضافت ہو رہی ہے عام کی طرف، بہرحال مراد کشتیاں ہی ہیں، خَلَايَا سَفِينٍ سے کیا مراد ہیں؟ بڑی کشتیاں مراد ہیں۔
بِنَّوَاصِفِ، نواصف جمع ہے ناصفۃ کی، اور ناصفۃ کہتے ہیں وادی کے کناروں کو، وادی کے اندر جو کھلی جگہ ہیں، وادی کے کھلے کنارے جو ہیں، ان کو کہتے ہیں ناصفۃ۔ یا اسی طرح ناصفۃ جو ہے، وادی کے اندر وہ گہری جگہ جہاں پانی بہتا ہے، وادی دو پہاڑوں کے درمیان کا علاقہ نا؟ تو پہاڑوں پر جب بارش وغیرہ ہوتی ہے تو وہاں سے پانی جو ہے، وہ سیلابی ریلوں کی صورت میں نکلتا ہے اور وادی کے جو گہرے حصے ہیں، ان سے گزرتا ہوا دوسری طرف نکل جاتا ہے، یا کہیں گہری جگہ ہو تو وہاں جمع ہو جاتا ہے۔ تو جو وادی کے جو گہرے حصے ہیں جن میں پانی بہتا ہے، ان کو بھی ناصفۃ کہتے ہیں۔
مِنْ دَدِ، دد یہ کسی وادی کا نام ہے بھئی، نام ہے، کوئی وادی ہے، اس کا نام کیا ہے؟ دد۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ دد جو ہے، وہ لہو و لعب کو کہتے ہیں، کھیل تماشا، لہو و لعب۔
كَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ غُدْوَةً، خَلَايَا سَفِينٍ بِالنَّوَاصِفِ مِنْ دَدِ
گویا کہ قبیلہ مالک والی کی کے کجاوے جو ہیں غُدْوَةً صبح کے وقت، خَلَايَا سَفِينٍ وہ کس کی طرح معلوم ہو رہے ہیں؟ جیسے بڑی کشتیاں ہوں، بِالنَّوَاصِفِ أَيْ فِي النَّوَاصِفِ، تو یہ با بمعنی فی کے ہے، کہاں پر؟ وادی کے وادیِ دد کے کناروں میں، یا وادیِ دد کے گہرے حصے جہاں پانی بہتا ہے، یوں کہیں وادیِ دد کے نالے کہہ لیں بھئی، نالے تو نہیں ہے، معنیٰ آپ سمجھ گئے، گہرے حصے، نالہ تو وہ ہوا نا جہاں پانی بہتا رہتا ہے، نہیں، لیکن یہاں صرف بارش کے دنوں میں پانی چونکہ جگہ ذرا گہری ہوتی ہے تو پانی یہاں نکلتا ہے۔
تو ترجمہ کیا ہوا؟ کَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ، گویا کہ میری عاشقہ جو قبیلہ مالک والی ہے، اس کے کجاوے جو ہیں، سوال: اس کا تو ایک کجاوہ ہوگا، یہ جمع کیوں لے کر آئے؟ تو بھئی مراد یہ ہے کہ وہ اور اس کی سہیلیاں یا اور عورتیں جو ہیں، ان کے کجاوے بھئی۔
كَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ غُدْوَةً، گویا کہ قبیلہ مالک والی کے کجاوے اور ان کے ہودج اور ان کی ڈولیاں جو ہیں، غُدْوَةً صبح کے وقت، خَلَايَا سَفِينٍ یوں تھیں جیسے کہ وہ بڑی کشتیاں ہوں، بِالنَّوَاصِفِ مِنْ دَدِ وادیِ دد کے کناروں میں یا وادیِ دد کے گہرے حصوں میں اس طرح معلوم ہو رہی تھیں جیسے کہ وہ بڑی کشتیاں جا رہی ہوں بھئی، چل رہی ہوں۔
كَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ غُدْوَةً، گویا کہ قبیلہ مالک والی کے کجاوے، غُدْوَةً صبح کے وقت، عرب کا طریقہ یہ تھا صبح صبح سفر پر نکلتے تھے، تو صبح کے وقت اس نے ان کو دیکھا تو اس کو بیان کر رہا ہے، گویا کہ قبیلہ مالک والی کے کجاوے جو ہیں، صبح کے وقت، خَلَايَا سَفِينٍ وہ بڑی کشتیاں ہیں وادی کے گہرے حصوں میں، مِنْ دَدِ کون سی وادی؟ وادیِ دد۔
تو یہ تشبیہ دے رہا ہے ان کجاووں کو، ان ہودجوں کو بڑی کشتیوں کے ساتھ بھئی، بڑا ہونے کے اندر، کہ یہ بھی بڑی بڑی کشتیوں کی طرح بڑے بڑے کجاوے اور ہودج تھے جو اس وادی کے گہرے حصوں میں یوں حرکت کرتے ہوئے معلوم ہو رہے تھے جیسے پانی پر بڑی بڑی کشتیاں چل رہی ہوں بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
یا دد کا دوسرا ترجمہ کر لیں: لہو و لعب۔ تو گویا کہ قبیلہ مالک والی کے کجاوے جو ہیں، صبح کے وقت، وہ بڑی کشتیاں ہیں وادی کے گہرے حصوں میں، مِنْ دَدِ أَيْ مِنْ أَجْلِ دَدِ، لہو و لعب کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ لہو و لعب کی وجہ سے وہ بڑی کشتیوں کی طرح معلوم ہو رہے تھے، توجہ ہے؟ کس کی طرح معلوم ہو رہے تھے؟ بڑی کشتیوں کی طرح، یعنی لہو و لعب کی وجہ سے وہ ہودج جو تھے، وہ ایک، ایک تو ہے اونٹ سیدھا راستے پر چلے، اور ایک یہ ہے کبھی دائیں طرف تھوڑا ہو جائے، کبھی بائیں طرف تھوڑا ہو جائے، تو اس کو کہہ دیا یہ جو ان کے اونٹ دائیں بائیں ہوتے ہوئے چل رہے ہیں، یہ کس کی وجہ سے ہے؟ لہو و لعب کی وجہ سے، کھیل تماشے کی وجہ سے ہے۔
یعنی یہ جو میری عاشقہ ہے اور اس کی سہیلیاں وغیرہ، یہ آپس میں ہنسی مذاق اور تفریح میں مشغول ہیں، تو ظاہر سی بات ہے کبھی ایک کی سواری ایک طرف ہو جائے گی، کبھی دوسری طرف ہو جائے گی، تو یہ گویا کھیل تماشے میں مشغول ہیں، یہ معنیٰ ہے۔ گویا کہ قبیلہ مالک والیوں کی کجاوے جو ہیں، صبح کے وقت، وہ بڑی کشتیاں ہیں وادی کے کناروں میں، لہو و لعب کی وجہ سے۔
یا راستے سے، دائیں بائیں ہونے سے مراد یہ ہے، جیسے آگے بھی وہ ذکر کریں گے، بعض شارحین نے فرمایا کہ راستے سے دائیں بائیں ہونے سے مراد یہ ہے کہ راستہ تو سیدھا نہیں ہے وادی کے اندر، ظاہر سی بات ہے راستہ کبھی تھوڑا سا ایک طرف مڑا ہوگا، کبھی دوسری طرف مڑا ہوگا، لیکن بسا اوقات انسان کیا کرتا ہے جب سفر کر رہا ہوتا ہے، تو وہ سیدھا راستے پر سواری کو نہیں چلاتا، اونٹ وغیرہ کو، کیونکہ راستے پر چلائے گا تو راستہ آگے چل کے پھر تھوڑا سا بائیں طرف مڑے گا، تو وہ درمیان میں سے ہی شارٹ کٹ لے لیتا ہے، راستے سے ہٹ کر سیدھا جو جہاں جس طرف کو راستہ مڑ رہا ہے، ادھر کو پہلے سے ہی مڑ جاتا ہے اور راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ تو یہ بھی جب سفر پر جا رہی تھیں، تو ان کے جو اونٹوں کو لے جانے والے تھے، وہ کبھی شارٹ کٹ کے لیے راستے کے ایک طرف اونٹوں کو نکال کر سیدھا لے جاتے، کبھی دوسری طرف نکال کر سیدھا لے جاتے، تو یہ ہے وہ راستے سے دائیں بائیں جو ہو رہی تھیں ان کی سواریاں بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
تو بہرحال دونوں احتمال ہیں، ہو سکتا ہے ہنسی مذاق کی وجہ سے اونٹ دائیں بائیں ہو رہے ہوں، اور ہو سکتا ہے یہ راستے کو مختصر کرنے کے لیے تاکہ مسافت کم ہو جائے، وہ راستے سے کبھی ایک طرف ہٹنا پڑتا ہے ان کو، کبھی دوسری طرف ہٹنا پڑتا ہے۔
كَأَنَّ حُدُوجَ الْمَالِكِيَّةِ غُدْوَةً، خَلَايَا سَفِينٍ بِالنَّوَاصِفِ مِنْ دَدِ، گویا کہ قبیلہ مالک والی کے کجاوے جو ہیں، صبح کے وقت، وہ بڑی کشتیاں ہیں وادی کے گہرے حصوں میں، مِنْ دَدِ، لہو و لعب کی وجہ سے۔
معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے، بس کریں بھئی، بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔