Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-041

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 126
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھئیے، بھئی!‏ وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ لِسَانُ الْفَتَى نِصْفٌ وَنِصْفٌ فُؤَادُهُ فَلَمْ يَبْقَ إلَّا صُورَةُ اللَّحْمِ وَالدَّمِ وَإِنَّ سَفَاهَةَ الشَّيْخِ لَا حِلْمَ بَعْدَهُ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ اچھا بھئی! زہیر ابن ابی سلمیٰ کا معلقہ آج ختم ہو رہا ہے۔ ان معلقات کے بارے میں ایک بات تو یہ یاد رکھیے کہ روایات میں ان کے الفاظ کے اندر بعض جگہ فرق ملتا ہے۔ بعض ‏روایات میں کسی شعر میں ایک لفظ ہوتا ہے اور دوسری روایت میں دوسرا لفظ ہوتا ہے۔ تو جگہ جگہ اس طرح الفاظ کا ‏فرق ملتا ہے۔ اور اسی طرح یہ جو قصیدہ ہے، یہ جو معلقہ ہے، یہ جو زہیر ابن ابی سلمیٰ کا معلقہ ہے، اس کے اندر بھی اسی طرح ‏الفاظ کا فرق ملتا ہے۔ بعض روایات میں الفاظ اور ذکر کیے ہیں علماء نے اور بعض دوسرے علماء نے اور الفاظ ذکر ‏کیے بعض اشعار میں۔ لیکن خاص طور پر اس معلقے کے اندر اشعار میں تقديم و تاخير میں بڑا فرق ہے۔ بعض علماء ذکر کرتے ہیں، ان میں ‏اشعار کی ترتیب بالکل اور طرح ہے۔ کوئی شعر پہلے ہے، کوئی بعد میں ہے۔ دوسرے کوئی روایت کرتے ہیں، وہ بعد ‏والے شعروں کو پہلے ذکر کر رہے ہیں اور پہلے والوں کو بعد میں۔ تو لہذا، آپ اس کی شروحات وغیرہ قدیم اٹھائیں گے ‏تو بہت زیادہ تقديم و تاخير آپ کو ملے گی چونکہ بہت قدیم اشعار ہیں، بھئی!‏ تو یہ کہیں پر اس طرح فرق نظر آئے تو آپ نے پریشان نہیں ہونا کہ ہم نے تو اور طرح پڑھا تھا یا یاد کیا تھا، بھئی! یہ ‏ان کی روایات میں تقديم و تاخير ہے۔ بہرحال، آپ اسی طرح یاد کرتے رہیں جیسا آپ کی کتاب میں ہے۔ تو زہیر ابن ابی سلمیٰ جو ہے، وہ دو سرداروں کی تعریف کے بعد پھر اپنی زندگی کے تجربات ذکر کر رہا تھا، بھئی! ‏اور مختلف بے انتہا قیمتی باتیں اس نے ذکر کی، بھئی!‏ آگے دیکھئیے، بھئی!‏ وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ وَكَائِنْ، وَكَائِنْ، یہ دراصل مرکب ہے کافِ تشبیہ اور اَيٌّ سے۔ کافِ تشبیہ اور اَيٌّ سے۔ تو اَيٌّ پر کافِ تشبیہ آیا، اس کے ‏ساتھ جڑ گیا تو کیا بن گیا؟ كَأَيِّنْ۔ کاف جر دیتا ہے نا، كَأَيِّنْ۔ اور اس میں تین لغتیں ہیں، بھئی! یہ علامہ زوزنی کی شرح میں تینوں لغات درج ہیں۔ ایک لغت تو یہی جو میں نے ابھی ‏بیان کی، كَأَيِّنْ۔ دوسری لغت جو شعر کے اندر ہے، وَكَائِنْ۔ كَائِنْ، یہ دوسری لغت ہے۔ وہی لفظ ہے كَأَيِّنْ، تو بعض عرب ‏کس طرح پڑھتے ہیں؟ كَائِنْ۔ اور تیسری لغت ہے كَئِنْ، كَئِنْ۔ تو كَأَيِّنْ، كَائِنْ اور كَئِنْ، تین لغتیں ہیں۔ اور دو لغتیں ان میں ‏اعلیٰ ہیں، بھئی! ایک كَأَيِّنْ اور ایک جو شعر میں ہے كَائِنْ، یہ دو اعلیٰ لغتیں ہیں، بھئی!‏ اَيٌّ کیسے لکھتے ہیں؟ ہمزہ اور یا، یا پر شد ہو گا اور تنوین، تو كَأَيِّنْ۔ تو كَأَيِّنْ کے آخر میں یہ جو نون ہم پڑھ رہے ہیں، یہ ‏تنوین ہے دراصل۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ تو كَأَيِّنْ۔ اور تنوین ہے۔ اور لیکن اس لفظ کے اندر تنوین کو بھی نون کی ‏شکل میں لکھا جاتا ہے، جیسے آپ دیکھ رہے ہیں اس وقت وَكَائِنْ، یہ نون دراصل کس چیز کا ہے؟ تنوین کا ہے۔ اور كَأَيِّنْ، اصل لفظ ہے كَأَيِّنْ، میں نے بتایا کافِ تشبیہ اور اَيٌّ سے مرکب ہے۔ اور یہ "کم" کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ آپ ‏نے نحو کے اندر پڑھا ہے کہ کم دو قسم پر ہے: ایک کم خبریہ جو خبر دینے کے لیے آتا ہے، کسی چیز کی کثرت بتلانے ‏کے لیے آتا ہے؛ اور ایک کم استفہامیہ جو سوال کے لیے آتا ہے، سوال کے لیے۔ تو یہ كَأَيِّنْ بھی اسی طرح ہے، یہ خبر ‏دینے کے لیے بھی آتا ہے اور استفہام کے لیے بھی آتا ہے، لیکن زیادہ تر یہ خبر دینے کے لیے آتا ہے، استفہام کے لیے ‏بہت کم استعمال ہوتا ہے۔ اور کثرت بتلاتا ہے، کثرت، بھئی!‏ اور اس کے بعد تمیز آتی ہے جو منصوب ہوتی ہے۔ كَأَيِّنْ رَجُلًا لَقِيتُ۔ كَأَيِّنْ، رَجُلًا دیکھو آگے تمیز آ گئی اور لَقِيتُ خبر آ ‏گئی۔ كَأَيِّنْ ہے مبتدا اور آگے لَقِيتُ کیا ہے اس کی؟ خبر۔ تو كَأَيِّنْ رَجُلًا لَقِيتُ، ترجمہ کیا ہو گا؟ خبر دے رہا ہے اور کثرت ‏بتلا رہا ہے، یعنی میں بہت سے مردوں سے، بہت سے لوگوں سے ملا ہوں۔ كَأَيِّنْ رَجُلًا لَقِيتُ، میں بہت سے لوگوں سے ملا ‏ہوں، کثرت بیان کر رہا ہے۔ اور کبھی کبھار استفہام کے لیے بھی آئے گا، بھئی! تو کبھی کبھار استفہام کے لیے آئے گا، ‏مثلاً آپ کہتے ہیں: كَأَيِّنْ تَقْرَأُ هٰذِهِ السُّورَةَ؟ کہ آپ یہ سورت کتنی مرتبہ پڑھتے ہیں، بھئی؟ تو استفہام، لیکن استفہام کے لیے ‏یہ قلیل استعمال ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو استفہام کے لیے البتہ یہ نہایت قلیل استعمال ہوتا ہے، عموماً خبر دینے کے لیے اور کثرت ‏بیان کرنے کے لیے۔ تو اس کے بعد کیا آتی ہے؟ تمیز آتی ہے۔ كَأَيِّنْ رَجُلًا لَقِيتُ، میں بہت سے لوگوں سے ملا ہوں۔ اور عموماً اس کی جو تمیز ‏ہے، اس پر "من" داخل کر دیتے ہیں۔ كَأَيِّنْ مِنْ رَجُلٍ لَقِيتُ، اور یہ "من" زائدہ ہے، بھئی! من زائدہ۔ آپ نے پڑھا ہے کچھ ‏حروف کلام کے اندر زائد آتے ہیں۔ زائد کا یہ معنی نہیں کہ بالکل بیکار ہوتے ہیں، یعنی وہ اپنے معنی کا اثر نہیں دیتے، ‏اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے، یہ نہیں کہ بالکل بیکار ہیں، ان کا فائدہ بھی ہوتا ہے، ایک تو وہ کلام میں ذرا تاکید اور زور ‏پیدا کر دیتے ہیں اور دوسرا کلام میں حسن پیدا کر دیتے ہیں۔ تو زائد ان کو اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے معنی ‏کا فائدہ نہیں دیتے۔ تو كَأَيِّنْ مِنْ رَجُلٍ لَقِيتُ، تو یہ "من" کیا ہے؟ زائد۔ رَجُلٍ مجرور ہے لفظاً، لیکن منصوب ہے محلاً کیونکہ ‏تمیز ہے کس کے لیے؟ كَأَيِّنْ کے لیے، اور تمیز منصوب ہوتی ہے۔ دیکھیے کتاب پر، بھئی! وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ۔ یہ تَرَى جو ہے، یہ ہے خبر۔ كَائِنْ ہے مبتدا اور تَرَى اس کی ‏خبر، اور اس کا عائد محذوف ہے، أَيْ تَرَاهُ۔ اور اس کی تمیز آگے آ رہی ہے، مِنْ صَامِتٍ۔ كَائِنْ مِنْ صَامِتٍ، تو یہ تَرَى کو ‏آخر میں ہونا چاہیے لیکن مقدم کر دیا۔ تو یہ مِنْ صَامِتٍ، یہ ہے اس کی تمیز جو مؤخر ہے۔ صَامِتٍ، بھئی! صَمَتَ يَصْمُتُ صَمْتًا وَصُمُوْتًا کے معنی ہیں خاموش رہنا۔ صَامِت کہتے ہیں خاموش کو، بھئی! خاموش۔ جو ‏بولتا نہیں، خاموش رہے، وہ کیا ہے؟ صَامِت۔ ایک ہے سَاكِت، بھئی! سَاكِت کہتے ہیں جو بولنے کے بعد خاموش ہو ‏جائے، کیا کہیں گے؟ سَكَتَ فُلَانٌ، وہ کیا ہوا؟ خاموش ہوا۔ اور صَامِت جو ویسے ہی خاموش ہے، اس میں ضروری نہیں کہ ‏پہلے بات کی اور پھر خاموش ہوا، نہیں نہیں، جو خاموش ہے اسے کیا کہیں گے؟ صَامِت کہیں گے، صَامِت۔ مُعْجِبٍ، بھئی! أَعْجَبَ يُعْجِبُ إِعْجَابٌ کا معنی ہے کسی چیز کا پسند آنا، بھلا لگنا، اچھا لگنا۔ زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ۔ زيادت، زیادتی، بھئی! نقص، کمی، کمی۔ تکلم، بات کرنا۔ وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ تو اصل عبارت یوں ہوئی: وَكَائِنْ مِنْ صَامِتٍ مُعْجِبٍ لَكَ تَرَاهُ۔ عبارت پر نظر ہے؟ وَكَائِنْ مِنْ صَامِتٍ، اور یہ صَامِتٍ یہ ‏صفت ہے موصوف محذوف "رجل" کی، تو گویا دراصل تمیز وہ "رجل" ہے۔ وَكَائِنْ مِنْ رَجُلٍ صَامِتٍ مُعْجِبٍ لَكَ، تو یہ ‏صَامِتٍ اس رجلِ موصوفِ محذوف کی یہ پہلی صفت ہے اور مُعْجِبٍ لَكَ یہ اس کی صفتِ ثانی ہے، اور یہ لَكَ متعلق ہے ‏مُعْجِبٍ سے، لہذا اس کو مؤخر کر دیں۔ تو عبارت یوں بن گئی: وَكَائِنْ مِنْ صَامِتٍ مُعْجِبٍ، یا رجل کا لفظ بھی درمیان میں لے ‏آئیں، وَكَائِنْ مِنْ رَجُلٍ صَامِتٍ مُعْجِبٍ لَكَ تَرَاهُ۔ عبارت پر نظر ہے، سمجھ میں آ رہی ہے؟ وَكَائِنْ مِنْ رَجُلٍ صَامِتٍ مُعْجِبٍ لَكَ ‏تَرَاهُ۔ اور ترجمہ کیسے ہو گا؟ میں نے بتلایا ہے یہ تکثیر، یہ كَأَيِّنْ عموماً خبر دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کثرت بیان ‏کرنے کے لیے، اور کتنے ہی، دیکھو کثرت بیان ہو رہی ہے، یا بہت سے۔ بہت سے، اور بہت سے مِنْ رَجُلٍ صَامِتٍ مُعْجِبٍ ‏لَكَ، بہت سے ایسے آدمی جو خاموش ہوں اور تجھے پسند ہوں، تَرَاهُ، تو ان کو دیکھتا ہے۔ کتنے ہی ایسے مرد جو خاموش ‏ہیں اور تجھے بھلے لگنے والے ہیں کہ تو ان کو دیکھتا ہے، زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ، ان کی زیادتی یا کمی جو ہے گفتگو ‏میں ہوتی ہے۔ وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ، اور کتنے ہی ایسے خاموش لوگ ہیں، خاموش مرد ہیں جو تجھے اچھے لگتے ہیں، ‏بھلے لگتے ہیں، تو ان کو دیکھتا ہے، زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ، اس کی زیادتی یا اس کی کمی جو ہے فِي التَّكَلُّمِ بولنے میں ‏ہے، گفتگو میں ہے۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ بہت سے لوگ، بہت سے مرد، بہت سے آدمی ایسے ہیں جو آپ کو بڑے ‏بھلے لگتے ہیں، دیکھتے ہیں تو بڑا ان کی بڑی شخصیت نظر آتی ہے اور بڑا اللہ نے حسن و جمال دیا ہوتا ہے اور بڑی ‏شخصیت بظاہر دیکھنے میں لگتی ہے اور مضبوط جسم دیا ہے، لیکن ان کی زیادتی یا کمی کا پتہ بولنے سے چلتا ہے۔ وہ جب تک خاموش ہیں، وہ آپ کو بھلے لگ رہے ہیں، لیکن جب وہ بولے گا تو آپ دیکھیں گے یہ تو بڑے عقلمندی کی ‏باتیں کر رہا ہے، بڑی کمال کی گفتگو کر رہا ہے، تو اس کا مقام اور رتبہ آپ کی نظر میں اور بڑھ جائے گا۔ اور بعض ‏اوقات جب وہ بولے گا تو آپ دیکھیں گے یہ ایسی شخصیت ہے لیکن بات تو بالکل اس نے بے وقوفوں والی کر دی، تو اس ‏کے دیکھو رتبہ اور مقام آپ کی نظر میں گر جاتا ہے، بھئی! تو یہ جو گفتگو ہے، اس کے ذریعے انسان کی عقل کا پتہ ‏چلتا ہے، گفتگو کا۔ جب تک انسان خاموش ہے، آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ یہ عقلمند انسان ہے یا بے وقوف ہے، لیکن جب وہ ‏بولتا ہے پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ عقلمند انسان ہے یا یہ نادان انسان ہے۔ تو کہتا ہے:‏ وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ زِيَادَتُهُ أَوْ نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ اور بہت سے لوگ، بہت سے خاموش لوگ جو تجھے بھلے دکھائی دیتے ہیں، ان کی زیادتی یعنی یہ کہ وہ دوسروں سے ‏بڑھ کر ہیں، أَوْ نَقْصُهُ یا ان کی کمی کہ وہ دوسروں سے کم ہیں درجے اور رتبے اور مقام کے اعتبار سے، فِي التَّكَلُّمِ وہ ‏گفتگو میں ہوتی ہے۔ جب بات کرتا ہے تو بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زیادہ ہے یعنی دوسروں سے بڑھ کر ہے، اس ‏کے اندر کمال ہے، یا بات کرتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ یہ دوسروں سے ناقص ہے یعنی کم درجے کا ہے، اس میں ‏کوئی کمال وغیرہ نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ لِسَانُ الْفَتَى نِصْفٌ وَنِصْفٌ فُؤَادُهُ فَلَمْ يَبْقَ إلَّا صُورَةُ اللَّحْمِ وَالدَّمِ فَتَى، فَتَى، فَتَى جوان کو کہتے ہیں۔ فُؤَاد دل کو کہتے ہیں، بھئی!‏ لِسَانُ الْفَتَى نِصْفٌ وَنِصْفٌ فُؤَادُهُ فَلَمْ يَبْقَ إلَّا صُورَةُ اللَّحْمِ وَالدَّمِ لِسَانُ الْفَتَى نِصْفٌ، جوان کی زبان اس کا نصف ہے، وَنِصْفٌ فُؤَادُهُ، اور نصف اس کا دل ہے، فَلَمْ يَبْقَ، پس باقی نہیں بچتا، ‏إلَّا صُورَةُ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، مگر ایک گوشت اور خون کی صورت، ایک گوشت اور خون کی صورت۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ ‏کسی آدمی کا پتہ اس کی زبان اور دل سے چلتا ہے کہ یہ کس درجے کا آدمی ہے۔ ورنہ باقی اگر یہ زبان اور دل کو نکال ‏دیں تو پھر باقی تو صرف ایک گوشت اور خون کی ایک صورت ہی رہ جاتی ہے، بھئی! اور ہر شخص گوشت سے ہی ‏بنا ہے، خون ہی ہے اس کے بدن کے اندر، لیکن کسی شخص کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا پتہ اس کے دل اور زبان ‏سے چلے گا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے، بھئی؟ تو کسی شخص کا پتہ اس کی زبان اور دل کے ذریعے چلتا ہے۔‎ ‎بعض لوگوں کو اللہ نے زبان کی بڑی شیرینی اور بڑی ‏لطافت اللہ نے نصیب فرمائی ہوتی ہے۔ اور اسی طرح دل بھی اللہ نے بڑا دیا ہوتا ہے۔ تو بس یاد رکھیے بھئی، کسی آدمی ‏کی پہچان یہ زبان اور دل ہیں بھئی، زبان اور دل بھئی۔ عربی میں کہتے ہیں کہ آدمی کی پہچان دو چھوٹی چیزوں کے ذریعے ہوتی ہے، ایک زبان دیکھو چھوٹی سی ہے اور ایک ‏اس کا دل۔ بدن کے اندر دیکھیں، دل بھی چھوٹا سا حصہ ہے، زبان بھی چھوٹی سی ہے لیکن اسی کے ذریعے کسی انسان ‏کا پتہ چلتا ہے کہ یہ کس مقام کا انسان، کس درجے کا انسان ہے، کیسا انسان ہے۔ مثلاً، مثلاً آپ بھی دیکھتے ہیں، بعض ‏اوقات آپ کسی شخص کے پاس جاتے ہیں بھئی، اور اس کے مہمان ہوتے ہیں، وہ آپ کے ساتھ ایسے خوش اخلاقی سے ‏پیش آتا ہے، ایسے اچھے طریقے سے ملتا ہے، ایسی گفتگو کرتا ہے کہ آپ کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ واپس آتے ہیں ‏تو تعریفیں کرتے ہیں کہ کیسا زبردست انسان بھئی، اس نے اتنی میری مہمان نوازی کی، اتنا اکرام کیا، میں نے تو سوچا ‏بھی نہیں تھا کہ اس طریقے سے وہ کوئی میرے ساتھ ملے گا۔ یہ دراصل اللہ نے اس کو دیکھو ایک تو دل اچھا دیا اور ‏دوسری زبان کی شیرینی اللہ نے اس کو نصیب فرمائی تھی۔ اور بعض لوگوں کے پاس جب آپ ایک دفعہ مہمان بن جائیں، دوبارہ کوئی آپ کو زبردستی بھی لے کے جائے، آپ نہیں ‏جاتے بھئی۔ آپ کہتے ہیں بھئی، اس سے تو ملیں تو اس کے تو چہرے پر بارہ بج رہے ہوتے ہیں کہ یہ کہاں سے مہمان ‏آ گئے۔ تو یہ دراصل اللہ نے، یہ تو ایک صفت میں نے بیان کی بھئی۔ بعض کے پاس مہمان آئے تو ان کا دل خوشی سے ‏بھر جاتا ہے کہ اللہ نے مہمان بھیجے ہیں، اللہ کی رحمت آئی ہے۔ اور بعض ہیں وہ تنگ دل ہو جاتے ہیں۔ تو یہ، یہ تو ‏ایک صفت میں نے سخاوت کی بیان کی۔ اسی طرح جس کو اللہ نے دل دیا ہوتا ہے، ہر معاملے کے اندر پتہ لگتا ہے کہ یہ ‏بڑا انسان ہے، چاہے اس کے پاس مال ہو یا نہ ہو بھئی۔ تو انسان مال کے ذریعے بڑا نہیں بنتا۔ آج کے زمانے میں اگرچہ مال کو زیادہ سمجھا جاتا ہے، جس کے پاس مال ہو لوگ ‏اس کو بڑا سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ بالکل ہی احمق اور نادان کیوں نہ ہو بھئی۔ لیکن مال نے اس کی حماقت پر اور نادانی ‏پر پردے ڈالے ہوتے ہیں۔ تو عرب کی یہ باتیں انسان پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ کیسی کیسی انہوں نے باتیں کی ‏ہیں! خلاصہ نکال کر بتلا دیا کہ کسی شخص کو جانچنا ہو، پرکھنا ہو تو بس دو چیزیں دیکھ لو، اس کا دل دیکھ لو اور اس ‏کی زبان دیکھ لو بھئی۔ زبان اور دل سے خود ہی پتہ چل جاتا ہے کس قسم کا انسان ہے۔ جس کو اللہ نے کھلا دل دیا ہوتا ہے، وہ ہر موقع پر کم ظرفی سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، دوسروں کے کام آتا ہے، ‏دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ اور جس کو تنگ دل دیا ہوتا ہے، وہ ہر موقع پر صرف اپنی ہی فکر کرتا ہے اور کسی کی ‏پرواہ ہی نہیں کرتا بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ آپ سب کو بھئی، بڑے آدمیوں کی صفات اللہ نصیب فرمائے۔ (آمین)‏ تو باقی گوشت اور خون، یہ تو ہر شخص میں ہے بھئی، ہر شخص گوشت اور خون ہی کا بنا ہوا ہے۔ لیکن بڑے آدمی کی ‏پہچان کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ زبان اور دل کے ذریعے ہوتی ہے۔ ورنہ باقی اعتبار سے تو سب انسان برابر ہیں آپس ‏میں۔ لسَانُ الفَتَى نِصفٌ وَنِصفٌ فُؤَادُهُ ۔۔ فَلَم يَبقَ إِلَّا صُورَةُ اللَّحمِ وَالدَّمِ جوان کی زبان جو ہے اس کا نصف ہے وَنِصفٌ فُؤَادُهُ اور نصف اس کا دل ہے۔ فَلَم يَبقَ إِلَّا صُورَةُ اللَّحمِ وَالدَّمِ تو پس باقی ‏نہیں بچتا، یعنی ان دونوں کے علاوہ تو پھر باقی نہیں بچتا، صرف ایک گوشت اور خون کی صورت ہی رہ جاتی ہے۔ تو ‏عجیب بات بھئی! لِسَانُ الفَتَى نِصفٌ وَنِصفٌ فُؤَادُهُ، آدمی کی زبان اس کا نصف ہے اور نصف اس کا دل ہے۔ باقی تو ‏گوشت اور خون کی ایک صورت ہی ہے اور وہ تو ہر ایک کے پاس ہوتی ہے۔ وَإِنَّ سَفَاهَ الشَّيْخِ لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ ۔۔ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ سَفُهَ يَسْفُهُ سَفَاهًا وَّ سَفَاهَةً کے معنی ہیں بے وقوف ہونا، نادان ہونا، کم عقل ہونا۔ شَيْخٌ کہتے ہیں بوڑھے شخص کو۔ حِلْمٌ، حلم ‏کا ایک معنی ہے برداشت بھئی، تحمل، بردباری۔ اور حلم کا ایک معنی ہے عقل۔ حلم کا دوسرا معنی کیا ہے؟ عقل ہے ‏بھئی عقل، اور یہاں یہی دوسرا معنی مراد ہے۔ وَإِنَّ سَفَاهَ الشَّيْخِ لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ ۔۔ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ اور یقیناً بوڑھے کی نادانی کے بعد لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ اس کے بعد کوئی عقل نہیں، اس کے بعد کوئی عقل مندی نہیں۔ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ ‏السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ اور یقیناً جوان جو ہے بَعْدَ السَّفَاهَةِ کم عقلی کے بعد، بے وقوفی کے بعد يَحْلُمِ عقل مند ہو جاتا ہے۔ شاعر کہنا یہ ‏چاہتا ہے کہ کم عقلی اور نادانی ناپسندیدہ ہے۔ اور نوجوان سے اگر یہ کم عقلی اور نادانی ہو تو بھی یہ ناپسندیدہ ہے، لیکن ‏پھر بھی بہرحال امید ہے کہ آہستہ آہستہ آگے چل کر یہ سیکھتا چلا جائے گا اور نادانیوں کے بعد عقل مند بن جائے گا۔ ‏لیکن اگر نادانی اور کم عقلی بوڑھے سے ہو، بوڑھا ہو جانے کے باوجود کوئی شخص کم عقلی والے کام کرتا ہے، ‏نادانیوں والے کام کرتا ہے، تو اب اس کے بعد تو موت ہی آگے آنے والی ہے، اب آگے اس کے کوئی ٹھیک ہونے کی امید ‏اور عقل مند ہونے کی کوئی امید نہیں ہے بھئی۔ تو بوڑھے کے اندر کم عقلی اور نادانی والے کام، یہ بہت ہی زیادہ ‏ناپسندیدہ ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَإِنَّ سَفَاهَ الشَّيْخِ لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ ۔۔ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ اور بوڑھے شخص کی نادانی کے بعد لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ اس کے بعد کوئی عقل مندی نہیں ہے، یعنی اس کے بعد کوئی عقل مندی ‏کی امید نہیں ہے، اب تو یہ موت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ اور جوان جو ہے وہ بے وقوفی کے ‏بعد يَحْلُمِ عقل مند ہو جاتا ہے، یعنی اس کو عقل آ جاتی ہے۔ شروع میں بے شک نادانیاں ہوں بھی لیکن پھر بھی امید ہوتی ‏ہے کہ یہ عقل سیکھ لے گا بھئی، عقل آ جائے گی اس کو۔ تو خصوصاً آپ خصوصاً خیال رکھیں بھئی، آپ علماء ہیں۔ آپ اہل منبر و محراب ہیں۔ جہلاء کے کاموں سے ہمیشہ اپنے ‏آپ کو محفوظ رکھیں۔ صحابہ کی صفات اپناؤ بھئی، صحابہ کی صفات۔ آج کل جہالت کا دور ہے، جاہلوں کی صفات نہ ‏اپناؤ بھئی۔ لوگ مخالفت کسی کی کرتے ہیں تو حد سے زیادہ مخالفت پر اتر آتے ہیں بھئی۔ اور زبان سے کیا بول رہے ‏ہیں پرواہ بھی نہیں کرتے۔ تو انسان زبان کی پرواہ بھی نہیں کرتا، حالانکہ یہ زبان ہی سب سے زیادہ انسان کو جہنم میں ‏لے جانے والی ہے بھئی، زبان ہی۔ کوئی بھی بات کرتے ہوئے بے انتہا خیال رکھیں۔ تو اختلاف میں کبھی بھی حد سے تجاوز نہ کریں بھئی۔ اور بعض اوقات ‏غصے میں انسان ایک بات کر دیتا ہے، بعد میں اس کو خود بھی افسوس ہوتا ہے کہ یہ میں نے کیا کہہ دیا، کیوں کہہ دیا۔ ‏تو کیا ہی اچھا ہو کہ پہلی مرتبہ ہی انسان سوچ لیتا اور اس وقت اس طرح نہ کرتا تو بعد میں اس کو ندامت نہ اٹھانی پڑتی۔ ‏تو لہٰذا جب بھی بولیں اپنی زبان کو بہت، زبان جو ہے یہی انسان کو بناتی ہے، یہی انسان کی عزت بھی بناتی ہے اور یہی ‏انسان کی عزت بھی خراب کرتی ہے۔ اگر آپ ہر موقع پر سوچ سمجھ کر اپنی زبان، اس پہ اعمال کریں گے تو آہستہ آہستہ ‏لوگوں میں آپ کی عزت بڑھتی چلی جائے گی۔ اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں کوئی بھی موقع آتا ہے، آپ بلا سوچے سمجھے ‏بھئی غصے میں کوئی باتیں شروع کر دیتے ہیں یا برا بھلا کسی کو کہنا شروع کر دیتے ہیں تو لوگ بھی آپ کی باتوں ‏کی پرواہ نہیں کریں گے بھئی۔ وَإِنَّ سَفَاهَ الشَّيْخِ لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ اور یقیناً بوڑھے کی کم عقلی کے بعد لاَ حِلْمَ بَعْدَهُ اس کے بعد کوئی عقل مندی نہیں ہے۔ یعنی بوڑھا اگر عقل مند، بوڑھا ‏اگر نادانی والے کام کرے تو آگے اس سے کوئی عقل مندی والے کام کی امید نہ رکھو۔ وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمِ اور جوان ‏جو ہے وہ یقیناً بے وقوفی کے بعد عقل مند ہو جاتا ہے۔ جوانی میں یقیناً نادانیاں ہوتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ انسان انسان ‏سیکھتا چلا جاتا ہے اور عقل مند بن جاتا ہے۔ تو جوان کی نادانی کے بعد آگے عقل مندی کی امید ہے، لیکن بوڑھے کی ‏نادانی کے بعد آگے عقل مندی کی کوئی امید نہیں ہے۔ آگے دیکھیے بھئی:‏ سَأَلْنَا فَأَعْطَيْتُمْ وَعُدْنَا فَعُدْتُمُ ۔۔ وَمَنْ أَكْثَرَ التِّسْئَالَ يَوْماً سَيُحْرَمِ سَأَلْنَا ہم نے مانگا فَأَعْطَيْتُمْ تو تم نے عطا کیا۔ یعنی ہم نے مانگا تو تم نے عطا کیا، ہم نے تم سے سوال کیا، کچھ مانگا، ‏کوئی عطیہ، کوئی چیزیں، کوئی مال وغیرہ مانگا، کوئی ضرورت کی چیزیں مانگیں فَأَعْطَيْتُمْ تو تم نے ہمیں عطا کیا۔ ‏وَعُدْنَا فَعُدْتُمُ اور ہم لوٹے فَعُدْتُمُ تو تم بھی لوٹے۔ یعنی ہم پھر لوٹے اس سوال کی طرف، ہم نے پھر مانگا فَعُدْتُمُ تو تم پھر ‏لوٹے اسی عطا اور بخشش کی طرف، تم نے پھر ہماری ضرورت پوری کی۔ سَأَلْنَا فَأَعْطَيْتُمْ وَعُدْنَا فَعُدْتُمُ اور ہم نے مانگا تو تم نے عطا کیا وَعُدْنَا اور ہم نے دہرایا فَعُدْتُمُ تو تم نے بھی دہرایا، یعنی ہم نے سوال کو دہرایا اور تم ‏نے اعطاء کو دہرایا بھئی۔ وَمَنْ أَكْثَرَ التِّسْئَالَ يَوْماً سَيُحْرَمِ وَمَنْ أَكْثَرَ التِّسْئَالَ، تِسْئَال بمعنی سوال کے ہے بھئی، سوال کے، یہ مصدر ہے اور یہ مصدر کے مبالغے کا وزن ہے ‏بھئی، تو یہ سوال کے معنی میں۔ وَمَنْ أَكْثَرَ التِّسْئَالَا ای وَمَنْ أَكْثَرَ السُّؤَالَ اور جو زیادہ مانگتا ہے يَوْماً سَيُحْرَمِ تو کسی روز ‏اس کو محروم کر دیا جائے گا بھئی۔ جو شخص زیادہ مانگتا ہے، کسی روز اس کو محروم کر دیا جائے گا، اس کو جواب ‏میں نفی سننے کو ملے گی، اس کو جواب دے دیا جائے گا، اس کو محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ لوگ مانگنے کو پسند ‏نہیں کرتے۔ آپ کا کسی کے ساتھ سالہا سال کا تعلق ہی کیوں نہ ہو، لیکن آپ زیادہ سوال کریں گے تو وہ بھی آپ سے تنگ ‏آ جائے گا بھئی۔ ایک آدھ دفعہ، دو چار دفعہ تو شاید وہ آپ کی مدد کرے لیکن جب وہ دیکھے گا یہ تو بار بار مانگتا ہے، ‏کبھی ایک چیز کا سوال کرتا ہے کبھی دوسری چیز کا، تو وہ بھی کسی روز آپ کو انکار کر دے گا۔ تو شاعر کہتا ہے: سَأَلْنَا فَأَعْطَيْتُمْ وَعُدْنَا فَعُدْتُمُ وَمَنْ أَكْثَرَ التِّسْئَالَ يَوْماً سَيُحْرَمِ، ہم نے مانگا تو تم نے عطا کیا اور ہم پھر پلٹے، ‏یعنی اس مانگنے کی طرف، فَعُدْتُمُ تو تم بھی لوٹے، یعنی اس اعطاء کی طرف، اور جو شخص زیادہ مانگتا ہے تو ایک دن ‏وہ محروم ہو جاتا ہے، اس کو محروم کر دیا جاتا ہے۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ مانگنے والا کسی کو پسند نہیں بھئی، مانگنے والا کسی کو نہیں پسند۔ یہ صرف ایک اللہ کی ذات ‏ہے جتنا مانگیں اللہ خوش ہوتے ہیں بھئی، اور نہ مانگیں تو اللہ ناراض ہوتے ہیں بھئی۔ تو یہ اللہ کی رحمت ہے بھئی، ‏رحمت ہے۔ اللہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اللہ سے جس قدر مانگا جائے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے بھئی، جس شخص ‏کو اللہ نے دعا کی توفیق دے دی، یعنی زیادہ دعا کی، اللہ نے اس کو بڑی خیر نصیب فرما دی۔ عموماً لوگ دعا کرتے ہی ‏نہیں ہیں بھئی، یا بڑی مختصر دعا کرتے ہیں۔ حالانکہ دعا آپ اللہ سے مانگ رہے ہیں اور اللہ کو عاجزی پسند ہے، ‏مانگنا پسند ہے، تو جس قدر زیادہ مانگ سکیں، جتنی زیادہ دعا کر سکیں۔ تو حدیث میں آتا ہے، جس کو اللہ نے دعا کی صفت نصیب فرما دی، اس کو اللہ نے بڑی خیر نصیب فرما دی۔ والد صاحب ‏رحمہ اللہ بڑی طویل دعائیں فرماتے تھے بھئی۔ ہر نماز کے بعد آٹھ دس منٹ تک ان کی دعا ہوتی تھی۔ یعنی ہر نماز میں ‏ان کا یہ معمول تھا، یہ نہیں کہ کسی ایک نماز میں لمبی دعا کر لی، کسی میں نہیں کی۔ ہر نماز میں بڑی لمبی دعا ان کی ‏ہوتی تھی۔ چنانچہ نماز پوری کرنے کے بعد، سنتیں وغیرہ پڑھنے کے بعد، پھر ان کی دعا ہوتی اور عموماً جب وہ مسجد ‏سے نکلتے تھے تو مسجد تقریباً خالی ہو چکی ہوتی تھی بھئی۔ اتنی طویل دعا فرماتے، اور پھر خاص خاص مواقع پر تو ‏بہت ہی زیادہ طویل دعا فرماتے، ختم ترمذی کے موقع پر ادھا پونا پونا گھنٹے کی دعائیں عموماً ہوتی تھیں بھئی، پونا ‏گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ۔ ان کے شاگرد بتلاتے ہیں کہ ہر روز درس ترمذی کے اختتام پر بڑی لمبی دعا ہوتی تھی، کئی منٹ تک دعا ہوتی تھی ‏بھئی۔ تو جس کو اللہ نے مانگنے کی اور دعا کرنے کی صفت دے دی، اللہ نے اس کو بڑی خیر نصیب فرما دی۔ تو کہتے ہیں: سَأَلْنَا فَأَعْطَيْتُمْ، ہم نے مانگا تو تم نے عطا کیا، وَعُدْنَا فَعُدْتُمُ، اور ہم پھر پلٹے تو تم بھی، ہم پھر لوٹے تو تم ‏بھی لوٹے۔ کیا معنی لوٹنا؟ یعنی لوٹ کر ہم نے پھر وہی کام کیا، مانگا، پھر ہم نے لوٹ کر مانگا تو تم نے پھر لوٹ کر ‏بخشش کی۔ وَمَنْ أَكْثَرَ التِّسْئَالَ يَوْماً سَيُحْرَمِ، اور جو شخص زیادہ مانگتا ہے تو ایک دن وہ محروم کر دیا جائے گا، یعنی اس ‏کو انکار کرنے لگیں گے سب لوگ۔ معنی سمجھ میں آ گیا، اچھی طرح؟ اچھا! اور یاد رکھیے، یہ جو چار آخری اشعار آج ہم نے پڑھے:‏ وَكَائِنْ تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ سے لے کر:‏ سَأَلْنَا فَأَعْطَيْتُمْ وَعُدْنَا فَعُدْتُمُ یہ چاروں اشعار عام علماء فرماتے ہیں کہ یہ اشعار یہ اس شاعر، یعنی زہیر بن ابی سلمیٰ کے نہیں ہیں بھئی۔ یہ کسی اور ‏شاعر کے ہیں۔ کیونکہ اور جو روایات ہیں اس قصیدے کی، اس معلقے کی، اس میں علماء نے یہ چاروں اشعار ذکر نہیں ‏کیے۔ ہاں، علامہ زوزنی کی روایت میں یہ چار اشعار ہیں۔ یہ جو جنہوں نے حاشیہ لکھا ہے، یہ جو شرح لکھی ہے اشعار ‏کی بھئی، صرف ان کی اس روایت کے اندر یہ چار اشعار ہیں، جبکہ دوسری روایات جو ہیں ان کے اندر یہ چاروں اشعار ‏ذکر نہیں۔ تو علامہ زوزنی نے جہاں سے یہ قصیدہ سنا یا اخذ کیا تو وہاں کس نے روایت کر دیا، انہوں نے اس کو اسی ‏طرح نقل کر دیا، لیکن عام علماء فرماتے ہیں یہ شاعر زہیر بن ابی سلمیٰ کے اشعار نہیں ہیں بھئی۔ چلیے جی، الحمدللہ! یہ معلقہ ہمارا مکمل ہوا بھئی۔ بس ان کو یاد کرو بھئی، خوب اچھی طرح۔ ان اشعار کا فائدہ ہی جب ‏ہے کہ آپ کو زبانی یاد ہوں، ایک تو عربی زبان میں مہارت آپ کی بڑھتی جائے گی اور پھر دوسرا عربی زبان کے الفاظ ‏جو ہیں وہ آپ کے ذہن میں محفوظ ہوتے چلے جائیں گے۔ اور پھر خاص طور پر یہ عرب کا وہ کلام ہے جو صدیوں سے ‏ان کے ہاں بڑا ہی اعلیٰ و ارفع سمجھا جاتا ہے، ان کی شاعری کی معراج ہیں یہ اشعار بھئی، اور پھر اس میں بڑی حکمت ‏کی باتیں شاعر نے ذکر کیں بھئی۔ چلیے جی، اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔‏
62 approved lectures · 41 of 62