سبق آگے دیکھیے بھئی۔
فَشَدَّ فَلَمْ يُفْزِعْ بُيُوتًا كَثِيرَةً
لَدَى حَيْثُ أَلْقَتْ رَحْلَهَا أُمُّ قَشْعَمِ
لَدَى أَسَدٍ شَاكِي السِّلاَحِ مُقَذَّفٍ
لَهُ لِبَدٌ أَظْفَارُهُ لَمْ تُقَلَّمِ
جَرِيءٍ مَتَى يُظْلَمْ يُعَاقِبْ بِظُلْمِهِ
سَرِيعًا وَإِلاَّ يُبْدَ بِالظُّلْمِ يَظْلِمِ
زہیر ابن ابی سلمىٰ کا معلقہ چل رہا ہے اور تشبیب کے بعد شاعر نے وہ دو سردار جن کی وجہ سے دو قبیلوں میں جنگ ختم ہو گئی اور صلح ہو گئی، ان کی تعریف کی، ان کی مدح کی اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حسین ابن ضمضم نامی ایک شخص جو کہ قبیلہ ذبیان سے تعلق رکھتا تھا اور اس جنگ میں اس کا بھئی قتل ہوا تھا، اس نے عہد کیا تھا کہ میں اپنے بھئی کے خون کا بدلہ ضرور لوں گا۔
ادھر جب صلح کی باتیں چل پڑیں تو وہ چھپ گیا، معاہدے میں شریک نہ ہوا اور پھر اس نے اسی دوران موقع پاتے ہی کہیں حارث ابن عوف جو سردار تھا، اس کے پاس کہیں قبیلہ عبس والے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے، اس نے وہاں پر موقع پاتے ہی ایک عبسی کو قتل کر دیا۔
اور اس پر قبیلہ عبس والے دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ حارث ابن عوف جو ہے اس کی سازش تھی، اس کے پاس ہمارا آدمی قتل ہوا ہے، اس نے بلوایا تھا، معلوم ہوا یہ بھی ان کے ساتھ ملا ہوا ہے، لہذا اس کو قتل کریں گے۔ سارا قبیلہ اکٹھا ہو کر چل پڑا۔
حارث ابن عوف کو اطلاع ملی کہ ان کا تو یہ خیال ہے کہ آپ بھی اس سازش میں ان کے ساتھ شریک تھے، حالانکہ وہ بیچارہ تو صلح کی کوششوں میں مصروف تھا، تو اس نے اپنے بیٹے کو سو اونٹوں کے ہمراہ اس لشکر کی طرف بھیجا جو جنگ کے لیے تیار تھا اور ان سے کہا کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے میں اس سازش میں شریک تھا تو میں اپنے اس بیٹے کو بھیج رہا ہوں، اگر تم قتل کا بدلہ قتل کی صورت میں لینا چاہتے ہو تو یہ میرا بیٹا حاضر ہے، اس کو قتل کر دو، اور اگر تم دیت لینا چاہتے ہو تو میں یہ سو اونٹ بھجوا رہا ہوں، اب ان میں سے جو بھی لینا چاہو اس قتل کی وجہ سے تم، تم فیصلہ کر لو۔
تو پھر قبیلہ عبس والوں نے آپس کے مشورے سے دیت لے لی اور اس کے بیٹے کو قتل نہیں کیا۔ اب اسی بات کو شاعر اپنے اس معلقے کے اندر ذکر کر رہا ہے اور گزشتہ اشعار میں اس نے کہا تھا:
لَعَمْرِي لَنِعْمَ الْحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ
بِمَا لاَ يُوَاتِيهِمُ حُصَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ
میں نے بتلایا یہ عمرو، یہ وہی عمر ہے جس کو انسان دنیا میں جتنا عرصہ رہتا ہے، آپ بھی اردو میں استعمال کرتے ہیں آپ کی عمر کتنی ہے، یعنی اس دنیا میں آپ کا عرصۂ حیات اب تک کتنا ہوا ہے، اسی کی قسم عربی کلام میں اٹھائی جاتی ہے اور تو اور پھر قسم کی صورت میں اس کو عمر نہیں پڑھتے، عمرو، عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں تخفیف کے لیے، کیونکہ فتحہ اخف الحركات ہے۔
تو لَعَمْرِي، یہ شاعر اپنی عمر کی قسم اٹھا رہا ہے اور اس نے کہا:
لَعَمْرِي لَنِعْمَ الْحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ
بِمَا لاَ يُوَاتِيهِمُ حُصَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ
میں اپنی عمر کی قسم اٹھاتا ہوں، کیا ہی خوب اچھا قبیلہ ہے وہ قبیلہ، یعنی قبیلہ عبس، کہ ان پر جرم کیا ہے، جنایت کی ہے حسین ابن ضمضم نے ایک ایسی چیز کے ساتھ جس میں وہ ان کے موافق نہیں ہیں۔
وَكَانَ طَوَى كَشْحًا عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ
فَلاَ هُوَ أَبْدَاهَا وَلَمْ يَتَقَدَّمِ
اور اس نے جو ہے وہ اپنے دل میں چھپایا ہوا تھا کینے کو، نہ تو اس نے اس کو ظاہر کیا کسی پر، یعنی زبان کے ذریعے، وَلَمْ يَتَقَدَّمِ اور نہ اس پر کوئی پیش قدمی کی، یعنی کوئی عمل بھی ایسا نہیں کیا جس سے اندازہ ہو جاتا۔
وَقَالَ سَأَقْضِي حَاجَتِي ثُمَّ أَتَّقِي
عَدُوِّي بِأَلْفٍ مِنْ وَرَائِيَ مُلْجَمِ
اور اس نے اپنے دل میں کہا، یعنی اپنے دل میں سوچا کہ میں عنقریب اپنی حاجت پوری کر لوں گا، یعنی وہ جو میں نے اپنے بھئی کے قتل کا بدلہ لینا ہے، میں اپنی وہ حاجت پوری کر لوں گا پھر اس کے بعد میں اپنے دشمن سے ایک ہزار شہ سواروں کے ذریعے بچ جاؤں گا، یعنی اپنی قوم والوں کے ذریعے بچ جاؤں گا۔
آگے اسی بات کو شاعر مزید بیان کرتا ہوا کہتا ہے:
فَشَدَّ فَلَمْ يُفْزِعْ بُيُوتًا كَثِيرَةً
لَدَى حَيْثُ أَلْقَتْ رَحْلَهَا أُمُّ قَشْعَمِ
شَدَّ يَشُدُّ کے معنی ہیں حملہ کرنا، حملہ کرنا۔
فَلَمْ يُفْزِعْ، أَفْزَعَ يُفْزِعُ کے معنی ہیں ڈرانا، خوفزدہ کرنا۔
لَدَى، لَدَى بمعنی عِنْدَ کے ہے بھئی، عِنْدَ۔
حَيْثُ، حَيْثُ یہ مکان کے معنیٰ میں ہے بھئی، مکان کے معنیٰ میں اور یہ مبنی ہے، مضاف ہے جملے کی طرف تو یہ مبنی ہے اس وقت بھئی، مبنی على الضم۔ ورنہ تو یہ مضاف الیہ ہے، لَدَى مَكَانٍ، لَدَى مضاف، مَكَانٍ مضاف الیہ، تو یہ حَيْثُ مضاف الیہ ہے، مجرور ہونا چاہیے تھا لیکن یہ مضاف ہو رہا ہے جملے کی طرف، اس صورت میں اس کو مبنی پڑھا گیا ہے بھئی۔ تو چونکہ یہ جملے کی طرف مضاف ہے اس لیے یہ مبنی علی الضم ہے۔
أَلْقَتْ، أَلْقَى يُلْقِي کے معنی ہیں ڈال دینا، رکھ دینا۔
رَحْلَهَا، رَحْلَهَا، رحل کہتے ہیں کجاوے کو بھئی، وہ جو سامان وغیرہ چیزیں رکھنے کے لیے اونٹ پر رکھا جاتا ہے، رَحْلَهَا اور ھا ضمیر راجع ہے آگے جو آ رہا ہے أُمُّ قَشْعَمِ، أُمُّ قَشْعَمِ کو راجع۔ اس پر آپ کے ذہن میں آئے گا کہ یہ تو اضمار قبل الذکر ہے، ضمیر پہلے اور مرجع بعد میں، جواب یہ کہ أُمُّ قَشْعَمِ فاعل ہے أَلْقَتْ کا۔ تو اس وقت لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ یہ مؤخر ہے لیکن اس کا رتبہ کہاں پر ہے، مقام کہاں پر ہے؟ أَلْقَتْ کے فوراً بعد، أَيْ أَلْقَتْ أُمُّ قَشْعَمٍ رَحْلَهَا، تو اس کا مقام رحل سے پہلے ہے۔ تو لہذا یہ لفظوں کے اعتبار سے تو اضمار قبل الذکر ہے لیکن رتبے اور مقام کے اعتبار سے اضمار قبل الذکر نہیں ہے اور یہ جائز ہے بھئی۔
اور یاد رکھیے أُمَّ قَشْعَمٍ بھئی، أُمَّ قَشْعَمٍ یہ سخت لڑائی، سخت جنگ کو بھی کہتے ہیں، سخت جنگ کو، اور اسی طرح یہ موت کو بھی کہتے ہیں بھئی۔ یہ موت کی بھی کنیت ہے اور سخت جنگ، لڑائی نہیں، جنگ کہیں، سخت جنگ کی بھی یہ کنیت ہے بھئی۔
الفاظ کے معنی سمجھ میں آ گئے؟ فَشَدَّ، تو اس نے حملہ کیا، یعنی حسین ابن ضمضم نے حملہ کیا۔ فَشَدَّ، تو اس نے حملہ کیا، فَلَمْ يُفْزِعْ بُيُوتًا كَثِيرَةً، تو اس نے گھبراہٹ میں نہ ڈالا بہت سے گھروں کو، اس نے ڈرایا نہیں بہت سے گھروں کو۔ کیا معنی بہت سے گھروں کو نہیں ڈرایا؟ معنیٰ یہ ہے کہ اس نے تنِ تنہا حملہ کیا۔ اگر اپنے ساتھ اور لوگوں کو بھی ملایا ہوتا تو ظاہر سی بات ہے جتنے لوگ بھی حملے میں شریک ہیں، جنگ کی وجہ سے دلوں میں خوف آئے گا یا نہیں آئے گا؟ آئے گا، بے شک ایک آدمی حملہ بھی کر رہا ہو لیکن جنگ کے لیے جب وہ حملہ کر رہا ہے دل میں خوف تو ہے بھئی، کیونکہ سامنے دشمن ہے، ایک آدمی اس کی جان لینا چاہتا ہے لیکن خود اسے اپنی جان کے جانے کا بھی تو خوف ہے، تو جو حملہ کرتا ہے اس پر بھی کیا طاری ہوتا ہے؟ خوف طاری ہوتا ہے، لیکن اس نے اور ساتھیوں کو نہیں ملایا اپنے ساتھ، اور ساتھیوں کو ملاتا تو وہ بھی خوف میں پڑ جاتے حملہ کرتے ہوئے، کیونکہ جنگ کرنے لگے ہیں، یہ معنیٰ ہے، تنِ تنہا حملہ کیا۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ کہ تو اس نے حملہ کیا فَلَمْ يُفْزِعْ بُيُوتًا كَثِيرَةً تو اس نے بہت سے گھروں کو خوف میں نہیں ڈالا، بہت سے گھروں کو نہیں ڈرایا۔
یا معنیٰ یہ ہے کہ اس نے ایک ہی آدمی پر حملہ کیا، بہت سوں پر حملہ نہیں کیا، اگر بہت سوں پر حملہ کرتا تو بہت سے گھروں کو خوف میں مبتلا کر دیتا، اس نے تو کس پر حملہ کیا؟ ایک ہی آدمی پر، تو بہت سے گھروں کو نہیں ڈرایا، اس سے اس کے اپنے ساتھی بھی مراد ہو سکتے ہیں اور مخالف بھی، اپنے ساتھی مراد ہوں تو کیا معنیٰ؟ کہ اس نے اکیلا حملہ کیا، اور ساتھیوں کو خوف میں نہیں ڈالا کہ حملہ کرنا ہے ورنہ وہ حملہ کرتے ہوئے وہ بھی کچھ نہ کچھ خوف میں تو مبتلا ہوتے، یا معنیٰ یہ ہے کہ اس نے ایک ہی عبسی پر حملہ کر کے اس کو قتل کیا اور زیادہ پر حملہ کر کے زیادہ کو قتل نہیں کیا، زیادہ پر حملہ کرتا تو بہت سے گھروں کو خوف میں ڈال دیتا لیکن اس نے بہت سے گھروں کو خوف میں نہیں ڈالا، ایک ہی آدمی پر حملہ کیا۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
لَدَى، اور کہاں پر حملہ کیا؟ یہ لَدَى ظرف ہے شَدَّ کے لیے، أَيْ عِنْدَ مَكَانٍ ایسی جگہ کے پاس أَلْقَتْ رَحْلَهَا أُمُّ قَشْعَمِ کہ جہاں پر کجاوا رکھ دیا تھا موت نے، جہاں پر جہاں پر موت نے کجاوا رکھ دیا تھا، أُمُّ قَشْعَمِ کے میں نے دو معنیٰ بیان کیے ہیں، یہ موت کو بھی کہتے ہیں اور سخت جنگ کو بھی، پہلے موت کے اعتبار سے ہم ترجمہ کر لیتے ہیں۔
حَيْثُ اس جگہ پر کہ أَلْقَتْ رَحْلَهَا أُمُّ قَشْعَمِ جہاں پر موت نے اپنا کجاوا رکھ دیا تھا، کجاوا رکھنا کنایہ ہے پڑاؤ ڈالنے سے، توجہ ہے؟ مسافر اونٹ پر کجاوا رکھا ہوا ہے، سفر کر رہا ہے تو وہ اونٹ سے کجاوا وہی اتارے گا جہاں اس نے پڑاؤ کرنا ہے، رات گزارنی ہے تو اب آرام سے اونٹ کو بٹھائے گا، کجاوا اتار کر رکھ دے گا، اب اگلے دن پھر کجاوا رکھے گا اور پھر سفر پر روانہ ہو گا، تو کجاوا رکھنا کنایہ ہے کس سے؟ پڑاؤ ڈالنے سے، تو اس نے حملہ کیا اس جگہ کے پاس جہاں پر موت نے پڑاؤ ڈالا تھا، جہاں پر موت نے کیا کیا؟ پڑاؤ ڈالا، کیا معنیٰ موت نے پڑاؤ ڈالا؟ بھئی معنیٰ جہاں موت نازل ہوئی، موت آئی، دیکھو اس نے آدمی کو قتل کیا یا نہیں کیا؟ تو موت نے وہاں گویا ڈیرہ ڈال لیا، موت آ گئی وہاں پر، موت حاضر ہو گئی، تو یہ معنیٰ ہے، تو اس نے حملہ کیا تھا لَدَى حَيْثُ أَلْقَتْ رَحْلَهَا أُمُّ قَشْعَمِ اس جگہ کے پاس جہاں پر موت نے اپنا پڑاؤ ڈالا، جہاں موت نے اپنا پڑاؤ ڈالا وہاں اس نے حملہ کیا۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
یا أُمُّ قَشْعَمِ کا معنیٰ کر لیں سخت جنگ بھئی، تو اس نے حملہ کیا اس جگہ کے پاس جہاں جنگ نے پڑاؤ ڈالا تھا، توجہ ہے؟ جہاں جنگ نے پڑاؤ ڈالا تھا، کیا معنیٰ جنگ نے پڑاؤ ڈالا تھا؟ معنیٰ یہ ہے جنگ ٹھہر گئی تھی، رک گئی تھی بھئی، اب صلح کی بات چیت چل رہی ہے، جنگ ختم ہو گئی، اب آپس میں صلح وغیرہ کی باتیں چل رہی ہیں، اس دوران اس نے کیا کیا؟ حملہ کر کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، تو اس نے کہاں پر حملہ کیا؟ کہاں ایک آدمی کو قتل کیا؟ جہاں پر جنگ نے پڑاؤ ڈالا تھا، یعنی اب پڑاؤ ڈالنے کا معنیٰ کر لیں جہاں جنگ ٹھہر گئی تھی، رک گئی تھی، اس کو قرار آ گیا تھا، مسافر بھی جہاں پر پڑاؤ ڈال لیتا ہے اس کو کیا آ گیا وہاں پر؟ قرار آ گیا وہاں، یعنی بیٹھ گیا آرام سے، تو جنگ بھی وہاں یعنی بیٹھ گئی تھی، جنگ کے شعلے بجھ گئے تھے، یعنی ساکن ہو گئی تھی، ٹھہر گئی تھی، معنیٰ سمجھ میں آیا؟
فَشَدَّ فَلَمْ يُفْزِعْ بُيُوتًا كَثِيرَةً لَدَى حَيْثُ أَلْقَتْ رَحْلَهَا أُمُّ قَشْعَمِ، تو اس نے حملہ کیا، پس بہت سے گھروں کو اس نے نہیں ڈرایا، حملہ اس نے کیا ایسی جگہ کے پاس جہاں پر موت نے اپنا پڑاؤ ڈال دیا تھا، یہ دوسرا ترجمہ کر لیں۔
تو اس نے حملہ کیا، پس اس نے بہت سے گھروں کو خوف میں مبتلا نہیں کیا ایسی جگہ کے پاس جہاں پر جنگ ٹھہر گئی تھی، جنگ ساکن ہو گئی تھی، وہاں پر اس نے حملہ کیا۔
لَدَى أَسَدٍ شَاكِي السِّلَاحِ مُقَذَّفٍ، لَهُ لِبَدٌ أَظْفَارُهُ لَمْ تُقَلَّمِ
اسد، اسد شیر کو کہتے ہیں بھئی۔ شاکی السلاح، سلاح اسلحے کو کہتے ہیں بھئی، اسلحہ۔ شاکی، شاکی یہ اسم فاعل ہے۔ اصل میں تھا شائک، توجہ ہے؟ شائک۔ یہ دراصل ہے شاک یشوک شوکاً، توجہ ہے؟ یہ فعل کیا ہے؟ شاک یشوک شوکاً و شوکۃً، شوکت اردو میں بھی اپ استعمال کرتے ہیں، کہتے ہیں فلاں بادشاہ بڑی شان و شوکت والا ہے، تو شوکت کہتے ہیں طاقت، رعب اور دبدبے کو بھئی، بڑی طاقت والا، بڑے دبدبے والا بادشاہ ہے۔
تو اسی سے یہ شاک یشوک شوکاً، شوکاً اور شوکۃً کا ایک معنی رعب اور دبدبے والا ہونا، طاقت والا ہونا۔ تو شاک یشوک شوکاً ہفت اقسام میں کیا ہے؟ شوکاً، اجوف ہے شاباش، اجوف ہے درمیان میں واؤ آ رہا ہے۔ اور شاکی، اس پہ ذرا نظر کریں، یہ کیا ہے؟ یہ ناقص ہے یا آخر میں ہے۔ تو یاد رکھیے گا کہ یہ دراصل اجوف تھا، اس میں پھر قلب ہوا۔ واؤ کاف کی جگہ لے گئے اور کاف کو واؤ کی جگہ لے آئے بھئی، تو یہ قلب ہوا ہے، آپ پڑھتے ہیں عربی زبان میں قلب ہوتا رہتا ہے بھئی۔
قلب ہوتا ہے جیسے اسم، اس کی اصل کیا بتلاتے ہیں؟ ایک تو ہے وسم، اور بعض کیا کہتے ہیں؟ سمو، واؤ آخر میں تھا، آخر سے اٹھا کر شروع میں لے آئے، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو یہ جگہ بدل دیتے ہیں کسی حرف کی دوسرے حرف کے ساتھ اور اس کو قلب کہتے ہیں، تو یہاں پر بھی قلب ہوا ہے بھئی۔
تو شاکی السلاح کیا معنی؟ معنی یہ ہے کہ اس کا اسلحہ بڑی شان و شوکت والا ہے۔ شاکی السلاح، اسلحہ، السلاح ذو شوکۃ، اس کا اسلحہ بڑی شوکت والا ہے یعنی بڑی طاقتور اور رعب والا ہے، دیکھتے ہی انسان پر رعب طاری ہو جاتا ہے ایسا اسلحہ ہے اس کے پاس، معنی سمجھ میں آ گیا؟
مقذف، مقذف، قذف یقذف کے معنی ہوتے ہیں پھینکنا، پھینکنا۔ اور اسی سے مبالغہ ہے قذف، خوب پھینکنا۔ اور اسی سے اسم مفعول ہے مقذف، مقذف کہتے ہیں خوب موٹا آدمی، خوب موٹا آدمی۔ لیکن عام موٹا نہیں، آپ نے دیکھا ہوگا بعض لوگوں کا جسم بڑا مضبوط ہوتا ہے بھئی، اور جسم پر خوب گوشت ہوتا ہے لیکن پھولا ہوا جسم نہیں ہوتا، خوب مضبوط کام کاج کرنے والے بھئی، تو وہ جو ہے، وہ ہے مقذف۔ گویا اس کے جسم پر گوشت بھرا ہوا ہے اور مضبوط طریقے سے یوں ہے جیسے گوشت اس کے اوپر پھینکا گیا ہو بھئی، خوب اس کے اوپر ہے۔ تو وہ ہے مقذف، خوب موٹا، طاقتور، مضبوط آدمی بھئی۔
اور یہاں مراد ہے وہ شخص جو خوب حوادثات ہر طرح کے حالات وغیرہ کا وہ مقابلہ کرتا ہے، مقذف ہے، یعنی اس کو پھینکا گیا ہے ہر طرح کے حوادثات اور مشکل معاملات میں اور وہ سب کا مقابلہ کرنے والا ہے، یعنی خوب تجربہ کار حوادثات کا مقابلہ کرنے والا اور آزمودہ کار شخص بھئی، تجربہ کار شخص جو ان سب چیزوں کا تجربہ کر چکا ہو، ہر طرح کے حالات میں اس کو پھینکا گیا ہے، ہر طرح کے حالات کو وہ دیکھ چکا ہے بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو خوب تجربہ کار طاقتور آدمی بھئی۔ لہ لبد، لبد جمع ہے لبدۃ کی، لبد اور لبدۃ کہتے ہیں شیر کی گردن پر جو بال ہوتے ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا نر شیر جو ہے اس کی گردن پر بڑے بڑے بال ہوتے ہیں اور تو اس کو لبدۃ کہتے ہیں بھئی، لبدۃ، اردو میں اس کو کہتے ہیں ایال بھئی، ایال۔ الف، یا، الف، لام، ایال بھئی، ایال۔
تو اس لبدۃ کی جمع ہے لبد۔ اظفارہ، اظفار جمع ہے ظفر کی یا ظفر کی، ناخن کو کہتے ہیں بھئی۔ لم تقلم، قلم یقلم کے معنی ہیں کاٹنا، قلم یقلم، اور اسی کو مبالغے کے لیے باب تفعیل میں لے گئے قلم یقلم کا معنی ہے پھر خوب کاٹنا، خوب کاٹنا۔
لَدَى أَسَدٍ شَاكِي السِّلَاحِ مُقَذَّفٍ، لَهُ لِبَدٌ أَظْفَارُهُ لَمْ تُقَلَّمِ
اب اسد سے کیا مراد ہے؟ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اسد یعنی شیر سے مراد وہ حسین ابن زمزم ہے، شاعر اس کی شجاعت کی تعریف کر رہا ہے۔ اور بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اسد سے مراد لشکر ہے بھئی، لشکر۔ اور لشکر قبیلہ عبس کا لشکر مراد ہے بھئی، کس کا لشکر مراد ہے؟ ہاں، قبیلہ عبس کا لشکر مراد ہے۔
پہلے ہم اس کا ترجمہ کر لیتے ہیں کہ اسد سے مراد کون، اسد سے کون مراد ہو؟ حسین ابن زمزم، وہی ترجمہ ہم کر لیتے ہیں۔ لدى اسد، تو وہ کس کے پاس؟ وہ موت نے یا وہ موت نے پڑاؤ ڈالا یا وہ جنگ ٹھہر گئی کس کے پاس؟ لدى اسد، ایک ایسے شیر کے پاس، شاکی السلاح، جو کیا تھا؟ جس کا اسلحہ بڑی شوکت والا تھا یعنی خوب، بڑا خوفناک اسلحہ تھا جس کے پاس۔ مقذف، اور وہ کس قسم کا آدمی ہے؟ حوادثات کا مقابلہ کرنے والا آدمی ہے، ہر طرح کے حوادثات کو پرکھ چکا ہے، ان کا سامنا کر چکا ہے۔
لہ لبد، اور اس کی ایال ہے، لہ لبد، اس کی ایال ہے۔ بھئی دیکھو، شیر پر ایال ہوتی ہے، ایک عام شیر ہے جس کے بال نہیں ہوتے اور ایک وہ شیر، نر شیر جس کی گردن پر بڑے بڑے بال ہوتے ہیں، کون زیادہ خوفناک ہوتا ہے دیکھنے میں؟ ہاں، جس کے بال زیادہ ہوں، یقیناً وہ دیکھنے میں زیادہ خوفناک ہے، تو معنی یہ ہے کہ یہ بھی جنگجو جو ہے بڑا خوفناک ہے، طاقتور انسان ہے، اس کو دیکھتے ہی لوگوں پر رعب طاری ہو جاتا ہے۔ لہ لبد، اس کی ایال ہے یعنی بڑا با رعب ہے، طاقتور ہے۔
اور لہ خبر مقدم اور لبد یہ کیا ہے؟ اسم مؤخر۔ بھئی دیکھو، اسد ہے موصوف، شاکی السلاح یہ اس کی ایک صفت ہے۔ مقذف، یہ دوسری صفت ہے۔ لہ لبد، یہ پورا جملہ ہے اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ عموماً اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت، تو یہ تیسری صفت ہے۔ اظفارہ لم تقلم، یہ اظفارہ مبتدا اور لم تقلم خبر، مبتدا خبر مل کر پھر جملہ، یہ چوتھی صفت آ گئی اسد کی، شاکی السلاح یہ صفت اول، مقذف صفت ثانی، لہ لبد صفت ثالث، اظفارہ لم تقلم یہ صفت رابع آ گئی بھئی۔
تو یہ جنگ ٹھہر گئی یا اس موت نے پڑاؤ ڈالا لدى اسد ایک ایسے شیر کے پاس، شاکی السلاح جس کا اسلحہ جو ہے بڑی شوکت والا تھا، مقذف وہ شخص جو ہے ہر طرح کے حوادثات کو دیکھ چکا ہے، ان کا سامنا کر چکا ہے، لہ لبد وہ بڑا ہی خوفناک ہے، اظفارہ لم تقلم اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے، اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے۔
بھئی ایک شیر ہے، جنگلی درندہ ہے، اس کے ناخن کاٹ دیے جائیں، دیکھو اس کا، اس کا، ناخن کاٹ دیے، وہ تو بڑا ضعیف ہو گیا، ایک ناخنوں والا شیر ہے، ایک بغیر ناخنوں کے، ظاہر سی بات ہے زیادہ خطرناک کون سا ہے؟ ناخنوں والا ہے بھئی، معنی یہ ہے کہ یہ ایسا شیر ہے جس کے ناخن نہیں کاٹے گئے یعنی بڑا ہی طاقتور، بڑا ہی خوفناک ہے، بہت زیادہ نقصان کرنے والا ہے، اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے، اس میں کسی قسم کی کمزوری اور ضعف نہیں ہے، معنی سمجھ میں آ گیا؟
لَدَى أَسَدٍ شَاكِي السِّلَاحِ مُقَذَّفٍ، لَهُ لِبَدٌ أَظْفَارُهُ لَمْ تُقَلَّمِ
تو لدى کا کیا معنی؟ عند، شیر کے پاس، بھئی شیر کے پاس کیا ہے؟ میں نے بتلایا پچھلے شعر میں سے، وہ جو موت نے اپنا، موت نے اپنا پڑاؤ ڈالا اس کو جوڑ لیں یہاں، یا جنگ جو ٹھہر گئی اس کو جوڑ لیں، کہ موت نے پڑاؤ ڈالا ایک ایسے شیر کے پاس جس کا اسلحہ بڑی شوکت والا تھا، جو بڑا حوادثات کا سامنا کرنے والا تھا، بڑا ہی خوفناک تھا، بڑا با رعب تھا، اور اس میں کسی قسم کی کمزوری بھی نہیں تھی۔ یا جنگ ٹھہر گئی، کہاں پر؟ لدى اسد، ایک ایسے شیر کے پاس، شاکی السلاح جس کا اسلحہ بڑی شوکت والا تھا، مقذف اور وہ بڑا حوادثات کو دیکھنے والا اور ان کا سامنا کرنے والا تھا، لہ لبد اور اس کی ایال تھی یعنی وہ بڑا ہی خوفناک تھا کہ دیکھنے ہی دیکھنے سے ہی رعب طاری ہو جاتا تھا، اظفارہ لم تقلم اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے تھے یعنی اس میں کسی قسم کی کمزوری اور ضعف نہیں تھا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
آگے دیکھیے بھئی۔
جَرِيءٍ مَتَى يُظْلَمْ يُعَاقِبْ بِظُلْمِهِ سَرِيعاً وَإِلَّا يُبْدَ بِالظُّلْمِ يَظْلِمِ
جری، جرات والا، جرات والا۔ یعاقب، عاقب یعاقب کے معنی ہیں سزا دینا، بدلہ لینا، کسی نے کسی کو نقصان دیا اور اس نے بدلہ لیا تو اس کو کہتے ہیں معاقبہ بھئی۔ سریعاً، تیز۔ یبدا، بدا یبدو کے معنی بھی ظاہر ہونا یعنی آغاز ہونا، اور ابدا یبدی کا معنی بھی آغاز کرنا۔
جری، یہ صفت ہے اسد کی، تو لہٰذا اس لیے یہ بھی مجرور بھئی۔ وہ شیر کیسا ہے؟ جرات والا ہے، متى یظلم جب اس پر ظلم کیا جاتا ہے یعاقب بظلمہ تو وہ بدلہ لیتا ہے اپنے ظلم کا، یعاقب بظلمہ وہ اپنے ظلم پر بدلہ لیتا ہے سریعاً اس حال میں کہ بہت تیز ہو یعنی بڑی جلدی سے کیا کرتا ہے وہ بدلہ، یعنی فوراً ہی بدلہ لیتا ہے۔
جَرِيءٍ مَتَى يُظْلَمْ يُعَاقِبْ بِظُلْمِهِ سَرِيعاً وَإِلَّا يُبْدَ بِالظُّلْمِ يَظْلِمِ
وہ بڑی جرات والا ہے، جب اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ سزا دیتا ہے اپنے ظلم پر فوراً ہی، و الا، و الا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی اس پر ظلم نہ کیا جائے، و الا، یہ الا سے پہلے جب واؤ آ جائے تو یاد رکھیں۔ یہ حرف استثنا نہیں ہوتا، ایک الا کس لیے آتا ہے؟ استثنا، لیکن اس سے پہلے جہاں بھی عبارت میں واؤ آ جائے تو پھر یہ حرف استثنا نہیں، یہ دراصل ہے و إن لا، إن اور لا سے مرکب ہے۔
و الا، و الا یبدا بالظلم اور اگر اس پر ظلم نہ کیا جائے یظلم تو وہ خود ظلم کرتا ہے۔ وہ شیر بڑی جرات والا ہے، جب اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے ظلم پر فوراً ہی سزا دیتا ہے، بدلہ لیتا ہے، ترجمے پہ نظر رکھیں، وہ شیر بڑی جرات والا ہے، جب اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے ظلم پر فوراً ہی سزا دیتا ہے، بدلہ لیتا ہے۔
وإن لا يجد بأي ظلم اور اگر اس پر ظلم کا آغاز نہ کیا جائے، يظلم، تو پھر وہ خود کیا کرتا ہے؟ ظلم کرتا ہے۔ یعنی بڑا ہی جنگجو انسان ہے، ہر وقت جنگوں کے اندر مصروف رہتا ہے۔ کبھی کسی سے بدلہ لے رہا ہے، اگر کوئی بدلہ نہیں لے، کسی نے اس پر ظلم نہیں کیا تو پھر خود جنگوں اور لڑائیوں میں مصروف رہتا ہے، لوگوں پر ظلم کرتا ہے۔ یعنی بڑا ہی جنگجو انسان ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
جريء، اس کو مجرور پڑھا، یہ صفت ہے کس کی؟ اسد کی۔ اسد مجرور، موصوف مجرور تو صفت بھی مجرور۔ اور چاہیں تو اس کو مرفوع پڑھیں، دونوں روایتیں ہیں اس میں۔ جريء، اس صورت میں بھی یہ صفت ہے اسد کی، لیکن اب یہ خبر بنے گا مبتدا کی، أي هو جريء، وہ شیر کیا ہے بڑا؟ جرات والا ہے۔ تو یہ خبر ہے اور خبر مرفوع ہوتی ہے، لیکن پورا جملہ پھر مل کر صفت بن جائے گا کس کی؟ شیر اسد کی بھئی، جیسے له لبد اور أظفاره لم تقلم اس کی صفت ہے۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟
تو شاعر نے ان اشعار میں حسین ابن ضمضم کی تعریف کی۔ کہ وہ ایسا شیر ہے جو اسلحے سے لیس ہے، شوکت، بڑی شوکت والا اسلحہ ہے، اور ہر طرح کے حوادثات کا وہ مقابلہ کر چکا ہے، اور بڑا ہی خوفناک ہے، اور اس میں کسی قسم کا ضعف اور کمزوری نہیں۔ اور وہ اتنی جرات والا ہے کہ اگر اس پر کوئی ظلم کرتا ہے تو وہ فورا ہی بدلہ لے لیتا ہے، اور اگر کوئی ظلم نہ کرے تو خود ظلم کرتا ہے، یعنی خود لڑائیوں میں مصروف رہتا ہے۔
یہ وہ صورت تھی جب ہم نے اسد سے وہ حسین ابن ضمضم مراد لیا، جبکہ میں نے بتایا بعض شارحین کیا فرماتے ہیں؟ اسد سے مراد لشکر ہے، کیا مراد ہے؟ اور کون سا لشکر؟ قبیلہ عبس کا لشکر، قبیلہ عبس کا۔ دیکھو اب اس صورت میں یہ لدى بدل بن جائے گا پچھلے لدى سے۔ کیا بن جائے گا؟ دیکھو صورت یہ ہے، ادھر دیکھو۔ دونوں قبیلے جنگ میں تھے، اب جنگ رک گئی، جنگ رک گئی۔ تو اس حسین ابن ضمضم نے ایک آدمی پر حملہ کر کے قبیلہ عبس کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ حالانکہ اس کے پاس ہی کس کا لشکر موجود ہے؟ اسی عبسی کا لشکر موجود ہے یا نہیں؟ وہ لشکر گاؤں، دیہات میں ہوگا، گاؤں میں ہوگا، جہاں اپنے گھروں میں ہوں گے، اب تو لڑائی ٹھہر گئی، لیکن لشکر تو تھا وہ جب چاہتے جنگ کے لیے دوبارہ کیا ہو سکتے تھے؟ فورا تیار ہو سکتے تھے، جیسے وہ نکل بھی آیا لڑنے کے لیے، لیکن پھر حارث ابن عوف نے اس لڑائی کو ختم کروا دیا۔
تو اب وہ لشکر مراد ہے، کہ اس حسین ابن ضمضم نے حملہ کیا ایسی جگہ پر جہاں جنگ ٹھہر گئی تھی، ایک ایسے لشکر کے پاس، لدى اسد، ایک ایسے لشکر کے پاس، دیکھو اس نے اس آدمی کو مارا اور پاس ہی کیا تھا؟ ان کا اپنا لشکر بھی تھا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو لدى اسد، ایک ایسے لشکر کے پاس شاك السلاح، جس کا اسلحہ بڑی ہی شان و شوکت والا ہے۔ مقذف، اور وہ لشکر بڑے ہی حوادثات کا مقابلہ کر چکا ہے، سالہا سال جنگ رہی تھی ان کے درمیان بھئی۔ له لبد، اور بڑا ہی خوفناک لشکر ہے، دیکھتے ہی رعب طاری ہو جاتا ہے، جیسے یال والے شیر کو دیکھتے ہی انسان پر رعب طاری ہو جاتا ہے۔ أظفاره لم تقلم، وہ لشکر ایسا ہے جس کے ناخن نہیں کاٹے گئے، یعنی اس میں کسی قسم کا ضعف نہیں ہے۔ جريء، وہ لشکر اتنی جرات والا ہے کہ اگر اس پر کوئی ظلم کرتا ہے تو وہ فورا ہی اس ظلم کا بدلہ لیتے ہیں، ان کو سزا دیتے ہیں، اور اگر ان پر ظلم نہ کیا جائے تو بھی وہ خود ظلم کرتے ہیں، یعنی جنگوں میں مصروف رہتے ہیں۔
تو اب دیکھو یہ ساری صفت کس کی بن گئی؟ اس قبیلے کی، لشکر کی، قبیلہ عبس۔ اور گویا بالفاظ دیگر یہ اب اس، وہ جو حسین ابن ضمضم ہے، اس کی مذمت بن گئی۔ کیا بن گئی؟ پہلے تعریف تھی اب مذمت بن گئی۔ معنی یہ کہ حسین ابن ضمضم نے حملہ کیا۔ اور اس نے تن تنہا ایک ہی آدمی پر حملہ کیا، وہ زیادہ پر حملہ کرتا تو اس کو پتہ چل جاتا کتنا خوفناک لشکر ہے، اس کو ابھی اندازہ نہیں تھا، وہ لشکر کوئی کمزور نہیں ہے، بڑا خوفناک لشکر ہے، بڑی جرات والا لشکر ہے، لیکن اس نے کینہ دل میں چھپا کر رکھا تھا، چھپ کر حملہ کیا، یہ کھلے عام حملہ کرتا، زیادہ گھروں کو ذرا ڈراتا، یعنی لوگوں پر حملہ سب پہ کرتا، تو پھر اس کو پتہ لگ جاتا کہ یہ جنگ کسے کہتے ہیں۔ خاموشی سے چپکے سے آیا، ایک آدمی پر حملہ کر کے بھاگ گیا، یہ کوئی بہادروں والا کام اس نے نہیں کیا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
آگے دیکھیے بھئی، ڕعوا ضمئہم حتی إذا تم أوردوا غمارا تفرى بالسلاح وبالدم، ڕعوا، ڕعى يرعى کے معنی ہوتے ہیں جانور کا چرنا، اور اسی طرح جانور کو چرانا، اس کے لیے بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ جانور کا چرنا، تو اس صورت میں ایک مفعول مانگے گا۔ وہ جانور جانور گھاس میں چرے، ڕعوا الكلاء، ڕعوا، وہ جانور چرے، کس میں؟ گھاس میں، دیکھو ایک مفعول چاہیے۔ اور اگر اس کا معنی کریں چرانا، تو پھر دو مفعول مانگے گا۔ ڕعوا إبلهم الكلاء، انہوں نے اپنے اونٹ چرائے کہاں پر؟ گھاس میں، معنی سمجھ میں آیا؟ تو اس کا معنی چرنا بھی اور چرانا بھی۔ ضمئہم، ضمئون کہتے ہیں، بھئی حیوان کو عموما دو دفعہ دن میں پانی پلایا جاتا ہے، ایک صبح اور ایک شام کو۔ تو یہ جو پانی کی دو باریوں کے درمیان کا وقت ہے اس کو ضمئون کہتے ہیں۔ ضمئون، یعنی یہ جو تھوڑا سا وقت ہے، صبح سے لے کر عصر تک کا جو وقت ہے، یہ ضمئون ہے ضمئون۔
تم يتم کے معنی پورا ہونا۔ أوردوا، أورد يورد کا معنی ہے لانا، لانا۔ غمارا، غمار کہتے ہیں ماء کثیر کو، ماء کثیر کو، یعنی زیادہ پانی، زیادہ پانی۔ اور ماء کثیر پر لانا، یہ کنایہ ہے، پانی کے پاس حیوان کو لانا، یہ کنایہ ہے جنگ کرنے سے۔ پانی پلانے کے لیے حیوان کو لانا، اس کو کنایہ بنایا کس چیز سے؟ جنگ کرنے سے۔ تفرى، تفرى، تفرى کا معنی ہے خوب پھاڑنا، خوب ٹکڑے کرنا۔ اس کا مجرد ہے فرى يفرى، فرى يفرى کا معنی ہے پھاڑنا اور ٹکڑے کرنا، ناقص ہے۔ اور اسی کو باب تفعیل میں لے گئے تو ایک حرف بڑھ گیا، فرى يفرى، اس کا معنی کیا ہے؟ خوب پھاڑنا، خوب ٹکڑے کرنا۔ سلاح، اسلحہ، دم، خون بھئی۔
ڕعوا ضمئہم حتى إذا تم أوردوا غمارا تفرى بالسلاح وبالدم، انہوں نے اپنے اونٹوں کو چرایا، ضمئہم، یہ ظرف ہے، مفعول فیہ ہے، مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ انہوں نے اپنے اونٹوں کو چرایا، ضمئہم، کتنی دیر؟ کتنا وقت؟ میں نے بتایا تھا ضمئون کسے کہتے ہیں؟ وہ وقت کا نام ہے جو دو پانی کی باریوں کے درمیان ہو۔ تو یہ مفعول فیہ بن رہا ہے، اسی لیے منصوب ہے، ضمئہم، انہوں نے چرایا اپنے اونٹوں کو، ضمئہم، کتنی مقدار؟ پانی کی دو باریوں کے درمیان کے وقت کی برابر بھئی۔ حتى إذا تم، یہاں تک کہ جب وہ وقت پورا ہو گیا، أوردوا، تو وہ لے آئے اپنے اونٹوں کو، لے آئے، غمارا، کہاں پر لے آئے؟ ماء کثیر پر لے آئے، تفرى، جو خوب پھٹ رہا تھا، بالسلاح وبالدم، اسلحے اور خون کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ اسلحے اور خون کی وجہ سے۔
ڕعوا ضمئہم حتى إذا تم أوردوا غمارا تفرى بالسلاح وبالدم، انہوں نے چرایا اپنے اونٹوں کو پانی کی دو باریوں کے درمیان کے وقت کی مقدار، یہاں تک کہ جب وہ وقت پورا ہو گیا تو وہ لے آئے اپنے اونٹوں کو غمارا ماء کثیر پر۔ بھئی دیکھو ادھر، یہ قبیلے والوں نے کیا کیا؟ ان میں جنگ ہوتی رہی، توجہ ہے؟ جنگ ہوتی رہی، پھر جنگ کے درمیان صلح کی بات چیت شروع ہوئی اور پھر جنگ رک گئی۔ اور پھر اس کے بعد دوبارہ وہ جنگ کے لیے آمادہ ہو گئے، لیکن پھر حارث ابن عوف نے کیا کیا اس جنگ کو؟ روکا۔ تو درمیان میں تھوڑی دیر کا وقفہ آیا وہ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو جنگ ہے، اس کو کہا پانی پلانے سے تعبیر کیا۔ کہ گویا حیوان کو انسان کس پر لے آئے؟ پانی پر لے آئے، اور درمیان میں جو وقفہ آیا اس کو درمیان میں وہ جو چرانے کا وقت ہے۔ اور پھر دوبارہ حیوان کو پانی پر لے آئے، ماء کثیر پر لے آئے، یعنی دوبارہ جنگ کے لیے آمادہ ہو گئے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ پانی پر لانے سے کیا مراد ہے؟ جنگ کرنا یا جنگ کے لیے آنا، اور یہ درمیان میں چرانے کا وقت، یہ کون سا وقت ہے؟ صلح کا وقت ہے جس میں جنگ ٹھہر گئی ہے۔
اور دیکھو کہا تفرى، جو اسلحے اور خون کی وجہ سے خوب پھٹ رہا ہے۔ دیکھو، پانی ہے، پانی میں اگر اپ کوئی پتھر وغیرہ پھینکیں، اپ دیکھتے ہیں پانی تھوڑا سا پھٹ جاتا ہے، پھر فورا ہی مل جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی حیوان یا انسان پانی کے اندر اترے گا، تیزی کے ساتھ یا چھلانگ لگائے گا، تو پانی تھوڑی دیر کے لیے پھٹے گا اور پھر کیا ہو جائے گا؟ اپس میں مل جائے گا۔ تو یہ تفرى سے مراد وہ پانی کا پھٹنا مراد ہے، پھٹنا مراد ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے، جب پانی کے اندر جنگ بہت سے لوگ اترے ہوں، تو پانی زیادہ پھٹے گا اور پھر جڑتا بھی چلا جائے گا اور بار بار پھٹتا بھی چلا جائے گا۔ تو وہ اس کو تعبیر کر رہا ہے جنگ سے بھئی۔ کہتے ہیں ڕعوا ضمئہم، انہوں نے چرایا اپنے اونٹوں کو ضمئہم، اس پانی کی دو باریوں کے وقت کی مقدار، حتى إذا تم، یہاں تک کہ جب وہ وقت پورا ہو گیا، أوردوا، تو وہ دوبارہ اپنے اونٹوں کو لے آئے غمارا کہاں پر؟ ماء کثیر پر، یعنی جنگ کے لیے دوبارہ تیار ہو گئے، تفرى بالسلاح وبالدم، اور وہ ماء کثیر کیا تھا؟ پھٹ رہا تھا، کس کی وجہ سے؟ اسلحے اور خون کی وجہ سے پھٹ رہا تھا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ دم سے مراد، خون سے مراد ہے خون کا بہانا۔ خون بہانا، یعنی خوب قتل و قتال، دم سے کیا مراد ہے؟ خوب قتل۔ یعنی تھوڑی دیر وقفہ کیا، اور پھر دوبارہ اونٹوں کو پانی، ماء کثیر پر لے آئے، یعنی دوبارہ جنگ کے لیے وہ آمادہ ہو گئے۔
ڕعوا ضمئہم حتى إذا تم أوردوا غمارا تفرى بالسلاح وبالدم، تو غمارا نکرہ ہے، اور تفرى اس کے بعد آیا، یہ اس کی صفت بنے گا۔ ڕعوا ضمئہم، انہوں نے چرایا اپنے اونٹوں کو پانی کی دو باریوں کے درمیان کی مقدار، یہاں تک کہ جب وہ وقت پورا ہو گیا، أوردوا غمارا، تو وہ لے آئے اپنے حیوانات کو، اپنے اونٹوں کو، غمارا، ایسے ماء کثیر پر، تفرى بالسلاح وبالدم، جو پھٹ رہا تھا اسلحے اور خون کی وجہ سے، یعنی بڑا ہی خوفناک تھا اگر جنگ کے اندر دوبارہ واقع ہو جاتے، تو یہ پانی تو پہلے بھی بہت زیادہ اسلحے اور خون کی وجہ سے پھٹ چکا تھا بھئی۔ پھر دوبارہ یہ اس کے لیے آمادہ ہو گئے، لیکن حارث ابن عوف نے کیا کیا؟ اس جنگ کو ختم کروا دیا، دوبارہ اس کے شعلے بھڑکنے نہیں دیے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ چلیے، بس بھئی هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الکلام۔