Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 149
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی، فَأَقْسَمْتُ بِالْبَيْتِ الَّذِي طَافَ حَوْلَهُ رِجَالٌ بَنَوْهُ مِنْ قُرَيْشٍ وَجُرْهُمِ يَمِينًا لَنِعْمَ السَّيِّدَانِ وَجِدْتُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ مِنْ سَحِيلٍ وَمُبْرَمِ تَدَارَكْتُمَا عَبْسًا وَذُبْيَانَ بَعْدَمَا تَفَانَوْا وَدَقُّوا بَيْنَهُمْ عِطْرَ مَنْشِمِ‏ کل آخری شعر آپ نے پڑھا تھا:‏ وَهَرْنَا مِنَ السُّوبَانِ ثُمَّ جَزَعْنَهُ عَلَى كُلِّ قَيْنِيٍّ قَشِيبٍ وَمُفْأَمِ اور آگے بعض کتابوں میں جو میں نے آج پڑھا:‏ فَأَقْسَمْتُ بِالْبَيْتِ الَّذِي طَافَ حَوْلَهُ رِجَالٌ بَنَوْهُ مِنْ قُرَيْشٍ وَجُرْهُمِ اسی طرح ہے؟ جی سر۔ لیکن یہاں اکثر نسخوں میں اس سے پہلے ایک اور شعر ہے بھئی وہ بھی لکھ لیجیے جن کی ‏کتابوں میں نہیں ہے فاقسمت سے پہلے ایک شعر اور لکھ لیں بھئی۔ بعض کتابوں میں ہوگا۔ سَعَى سَاعِيَا غَيْظِ بْنِ مُرَّةَ بَعْدَمَا تَبَزَّلَ مَا بَيْنَ العَشِيرَةِ بِالدَّمِ وہرنا من السوبان کے بعد اور فاقسمت سے سے فاقسمت سے پہلے ایک شعر لکھ لیں بھئی۔ سَعَى سَاعِيَا، سَعَى سین عین یا ‏ہے، یا کے اوپر کھڑی زبر لکھیں۔ سَعَى سَاعِيَا غَيْظِ، غین یا اور ظا بھئی طاء ظاء غَيْظِ، اعراب بھی لگاتے جائیں غَيْظِ، ‏ابْنِ ہمزہ نہیں لکھنا ابن کا، ابْنِ مُرَّةَ گول تا ہے۔ مُرَّةَ بَعْدَمَا یہ پورا ہو گیا پہلا مصرعہ بَعْدَمَا، بَعْدَمَا ملا کر پہلا مصرعہ ‏پورا ہو جائے گا۔ آگے لکھیں تَبَزَّلَ، زا ہے زا، را زا، تَبَزَّلَ مَا بَيْنَ العَشِيرَةِ، مَا بَيْنَ العَشِيرَةِ بِالدَّمِ، بالدم۔ لکھ لیا؟ جی سر۔ سَعَى سَاعِيَا غَيْظِ بْنِ مُرَّةَ بَعْدَمَا، پھر سن لیں، سَعَى سَاعِيَا غَيْظِ بْنِ مُرَّةَ بَعْدَمَا تَبَزَّلَ مَا بَيْنَ العَشِيرَةِ بِالدَّمِ۔ سَعَى سَاعِيَا غَيْظِ بْنِ مُرَّةَ بَعْدَمَا تَبَزَّلَ مَا بَيْنَ العَشِيرَةِ بِالدَّمِ۔ سعى يسعى کے معنی ہوتے ہیں کوشش کرنا، کوشش کرنا۔ سَاعِيَا یہ ‏اصل میں تھا سَاعِيَانِ، تثنیہ ہے دو کوشش کرنے والے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ غَيْظِ بْنِ مُرَّةَ یہ غیظ قبیلہ ہے، یہ ‏کوئی ان کا باپ، دادا، پردادا پیچھے جو گزرا تھا غیظ بن مرہ اس کے نام سے قبیلہ ہے۔ بنو غیظ بن مرہ بھئی، اس کی جو ‏اولاد ہے۔ تَبَزَّلَ، تبزل کا معنی ہے متفرق ہونا، ٹوٹنا بھئی، بکھرنا تبزل۔ عشیرہ، قبیلے کو کہتے ہیں بھئی۔ تشبیہ ختم ہوئی اب اپنے ‏مقصد کی طرف شاعر نے عدول کیا بھئی۔ سَعَى سَاعِيَا غَيْظِ بْنِ مُرَّةَ بَعْدَمَا کوشش کی غیظ بن مرہ کے دو کوشش کرنے ‏والوں نے، غیظ بن مرہ قبیلے کے دو کوشش کرنے والوں نے کوشش کی بھئی کل میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ ‏جب فاعل اسم ظاہر ہو فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد، دیکھو ساعیانِ تثنیہ فاعل آ رہا ہے لیکن سعى فعل کیا ہے؟ مفرد ‏ہے بھئی، مفرد ہے۔ سعى کی گردان آتی ہے بھئی؟ جی سر۔ کبیر، جی، سعى سعيا سعوا سعت سعتا سعين سعيت... شاباش ‏بھئی... سعیتِ سعیتما سعیتن سعیتُ سعینا... شاباش۔ تو کوشش کی غیظ بن مرہ قبیلے کے دو کوشش کرنے والوں نے بَعْدَمَا تَبَزَّلَ بعد اس کے کہ جب کہ ٹوٹ گئی تھی، بکھر ‏گئی تھی، متفرق ہو گئی تھی کیا چیز؟ یہ ما فاعل ہے۔ مَا بَيْنَ العَشِيرَةِ وہ چیز جو قبیلے کے بیچ تھی، کیا معنی؟ یعنی وہ جو ‏تعلق تھا، وہ جو صلہ رحمی تھی، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور تعلق تھا وہ بکھر گیا تھا، ٹوٹ گیا تھا بِالدَّمِ ‏خون کی وجہ سے یعنی قتل کی وجہ سے۔ دم سے کیا مراد ہے یہاں؟ قتل۔ قتل کی وجہ سے۔ کوشش کی غیظ بن مرہ کے دو کوشش کرنے والوں نے بعد اس کے جب کہ ٹوٹ گیا تھا قبیلے کے درمیان جو محبت اور ‏تعلق والا رشتہ تھا بِالدَّمِ کس کی وجہ سے؟ خون کی وجہ سے۔ یاد رکھیے میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ دو قبیلے تھے عبس ‏اور ذبیان، ان کے درمیان لڑائی اور جنگ ہوئی تھی اور سالہا سال تک یہ لڑائی چلتی رہی اور یہ دونوں قبیلے، یہ قبیلے ‏ان کا اوپر دادا، پردادا کوئی دور جا کر ایک ہی تھا بھئی، ایک ہی تھا۔ تو یہ آپس میں گویا دور پار کے رشتہ دار ہی تھے ‏لیکن انہی میں آپس میں یہ جنگ ہوئی۔ تو یہ معنی ہے کہ جو قبیل، ایک ہی قبیلے کی دو شاخیں تھیں نا عبس اور ذبیان، تو ‏کیا تھے ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے، دور پار کے یعنی باپ، پردادوں میں کہیں جا کر ملتا تھا نسب ان کا۔ تو یہ ایک ‏ہی قبیلے کے درمیان جو صلہ رحمی اور تعلق تھا وہ اس قتل کی وجہ سے کیا ہوا؟ ٹوٹ گیا، ختم ہو گیا بھئی۔ معنی سمجھ ‏میں آیا؟ تو اس عشیرہ سے مراد یہ دونوں جس کے اندر داخل تھے وہ، دونوں قبیلے عبس اور ذبیان۔ یہ معنی ہے کوشش ‏کی غیظ بن مرہ کے دو کوشش کرنے والوں نے بعد اس کی کہ جب ٹوٹ گیا تھا، متفرق ہو گیا تھا وہ تعلق جو قبیلے کے ‏درمیان تھا بِالدَّمِ قتل کی وجہ سے۔ فَأَقْسَمْتُ بِالْبَيْتِ الَّذِي طَافَ حَوْلَهُ، رِجَالٌ بَنَوْهُ مِنْ قُرَيْشٍ وَجُرْهُمِ فَأَقْسَمْتُ اقسم کے معنی ہیں قسم اٹھانا۔ بالبیت الذی، وہ گھر، طاف طواف کرنا بھئی، چکر لگانا۔ طاف يطوف۔ رجال بنوہ، ‏بنا يبني کے معنی ہیں بنانا، تعمیر کرنا۔ بنوہ، انہوں نے اس کو تعمیر کیا۔ من قریش و جرہم، قریش معروف قبیلہ حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اسی طرح جرہم جو ہے یہ ایک قدیم قبیلہ تھا یمن کا بھئی، اور انہی میں شادی ہوئی حضرت ‏اسماعیل علیہ السلام کی بھئی، تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا سسرالی قبیلہ تھا اور یہ بیت اللہ کے اولیں متولی تھے۔ ‏بیت اللہ کی، کا سارا انتظام وغیرہ ابتداءً کس کے ہاتھ میں تھا؟ قبیلہ جرہم کے ہاتھ میں۔ پھر اس کے بعد ایک مدت کے بعد ‏یہ منتقل ہوا اور بنو خزاعہ کے ہاتھ آیا بھئی، پھر کچھ عرصے تک ان کے ہاتھ رہا اور پھر آخر میں قریش کے ہاتھ یہ آیا ‏تو وہ متولی ہوئے خانہ کعبہ کے بھئی۔ اچھا فَأَقْسَمْتُ بِالْبَيْتِ الَّذِي طَافَ حَوْلَهُ، رِجَالٌ بَنَوْهُ مِنْ قُرَيْشٍ وَجُرْهُمِ تو میں نے قسم اٹھائی، ہے یہ ماضی کا صیغہ لیکن یہ بمعنی حال کے ہے۔ تو میں میں قسم اٹھاتا ہوں، معنی یہ ہے میں قسم ‏کھاتا ہوں بالبیت الذی اس گھر کی، بیت سے مراد بیت اللہ ہے بھئی، الذی طاف حولہ وہ گھر جس کے گرد طواف کیا ‏رجال نکرہ ہے اور بنوہ نکرہ کے بعد کیا آیا؟ فعل، تو نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ ‏صفت۔ طواف کیا اس کے گرد ایسے مردوں نے بنوہ جنہوں نے اس کو تعمیر کیا تھا اور من قریش و جرہم، یہ جار ‏مجرور آیا اور نکرہ کے بعد جار مجرور آئے اور کسی سے جڑ نہ رہا ہو تو وہ بھی اس کی صفت بنتا ہے، تو یہ صفت ‏ثانی ہوئی رجل کی، یعنی رجال ثابتون من قریش و جرہم، وہ لوگ، مرد جو کس قبیلے میں سے تھے؟ قبیلہ قریش اور قبیلہ ‏جرہم میں سے تھے۔ تو میں نے، تو میں قسم، پس میں قسم اٹھاتا ہوں، پس میں قسم اٹھاتا ہوں اس گھر کی جس کے گرد ‏طواف کیا ان لوگوں نے جنہوں نے اس کو بنایا تھا جو قبیلہ قریش اور جرہم سے تھے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ يَمِينًا لَنِعْمَ السَّيِّدَانِ وَجِدْتُمَا، عَلَى كُلِّ حَالٍ مِنْ سَحِيلٍ وَمُبْرَمِ یمیناً، یہ منصوب ہے، یہ مفعول مطلق ہے، ای حلفت یمیناً، یا وہی اقسمت یمیناً، اقسمت یمیناً، میں قسم کھاتا ہوں، لنعم ‏السيدان، نعم افعال مدح میں سے ہے، تعریف کے لیے آتا ہے، انشاء مدح کے لیے ہے۔ انشاء مدح کے لیے، ایک ہے آپ ‏زید کے بارے میں کسی کو بتلاتے ہیں کہ زید بڑا اچھا آدمی ہے۔ یاد رکھیے، یہ خبر ہے، وہ کہہ سکتا ہے: "آپ سچ بول رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔" اور ایک ہے انشاء مدح۔ ‏‏"نعم الرجل زيد" زيد کتنا اچھا آدمی ہے! اس میں وہ سچا اور جھوٹا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ آپ کوئی خبر نہیں دے رہے، ‏بلکہ کیا کر رہے ہیں؟ انشاء کر رہے ہیں، اس کی تعریف کو وجود دے رہے ہیں، مدح کر رہے ہیں اس کی، بات سمجھ ‏میں آ گئی؟ تو یہ فرق ہے۔ اس کا بھی یہی معنی: "کیا زيد کتنا اچھا آدمی!" اس کا اور وہ آپ نے خبر دی تھی: "زيد بڑا ‏اچھا آدمی ہے۔" تو دونوں میں یہ فرق ہے کہ خبر دی جائے، تو اس میں سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ کیا ہے؟ ‏انشاء مدح، اس میں سچا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ سید، سردار کو کہتے ہیں، سیدانِ: دو سردار بھئی۔ وجدتُما علی کل حالٍ من سحیلٍ و مبرمٍ سحل یسحل سحلا کے معنی ہیں: ایک بل پر رسی کو بٹنا۔ ایک بل پر رسی بٹنا۔ اور جو ایک لڑِی پر بٹی ہوئی رسی ہے، ‏اس کو کہتے ہیں سحیل۔ اسی طرح کچے دھاگے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ سحیل۔ بھئی رسی میں اگر آپ نے غور کیا ہو، ‏ایک لڑی بٹی ہوئی الگ ہوتی ہے اور دوسری لڑی بٹی ہوئی الگ، پھر ان دونوں کو آپس میں، عام رسی جس میں آپ ‏دیکھتے ہیں، دو لڑیاں بٹی ہوئی ہوں گی بھئی، دو لڑیاں۔ تو یہ عام بٹی ہوئی، اس کو مبرم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مبرم ‏بھئی، دو یا زیادہ لڑیوں سے بٹی ہوئی جو رسی ہو، اس کو مبرم کہتے ہیں، اور جو صرف ایک لڑی ہے، اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ اس کو سحیل کہتے ہیں، سحیل بھئی، سحیل۔ اور ظاہر سی بات ہے، سحیل جو ایک لڑی پر بٹی ہوئی رسی ‏ہوگی، وہ کمزور ہوگی اور مبرم جو دو لڑیوں پر بٹی ہوئی ہوگی، وہ مضبوط ہوگی بھئی۔ تو سحیل سے مراد یہاں ہے ضعیف بھئی۔ ویسے تو اس رسی کو کہتے ہیں، لیکن مراد یہاں کیا ہے؟ کمزور، ضعیف۔ اور ‏مبرم جو ہے، مبرم جو ہے، مضبوط بھئی اور قوی۔ تو کہتے ہیں:‏ یمینا لنعم السيدان وجدتُما وجدتُما علی کل حالٍ من سحیلٍ و مبرمٍ کہ میں قسم کھاتا ہوں: "لنعم السيدان" اور نعم فعل مدح میں سے ہے، السيدان اس کا فاعل ہے، اور اس کے لیے ایک ‏مخصوص بالمدح بھی آگے چاہیے بھئی۔ تو وہ محذوف ہے، ضمیر جس سے مراد وہ دو سردار ہیں بھئی ضمیر۔ "لنعم ‏السيدان أنتما" تم کیا ہی سردار ہو! تو وہ دو سردار کون ہیں؟ حارث ابن عوف اور ہرم ابن سنان بھئی، ہرم ابن سنان۔ تو یمینا، میں قسم اٹھاتا ہوں: "لنعم السيدان" کہ تم دونوں کیا ہی خوب اچھے سردار ہو "وجدتُما علی کل حالِِ" جو تم پائے ‏گئے ہو ہر حال میں "من سحیلِِ و مبرمِِ" چاہے وہ حال کس قسم کا ہو؟ کمزوری والا ہو "و مبرمِِ" اور چاہے، یعنی ‏یوں کہو، سختی اور نرمی، چاہے وہ نرمی والی حالت ہو اور چاہے سختی والی حالت ہو، ہر حال میں تم بہترین سردار ‏پائے گئے ہو، ہر حال میں تم بہترین سردار ثابت ہوئے ہو۔ یمینا لنعم السيدان وجدتُما وجدتُما علی کل حالٍ من سحیلٍ و مبرمٍ میں قسم کھاتا ہوں کہ تم دونوں کیا ہی خوب اچھے سردار پائے گئے ہو "علی کل حالِِ من سحیلِِ و مبرمِِ" ہر قسم کے ‏حال میں، یعنی کہ نرمی میں اور سختی میں۔ تدارکتُما عبسا و ذبیانا بعدما تفانوا و دقوا بينہم عطر منشمِ تدارکتُما، تدارک کا معنی ہوتا ہے: تلافی کرنا۔ تلافی کرنا۔ یہ ایک شے کے بعد دوسری شے کو لانا، درست کرنا، اصلاح ‏کرنا۔ اصلاح کرنا۔ عبس و ذبیان، یہ قبیلوں کے نام ہیں۔ تفانوا، تفانوا فنا سے ہے، فنی یفنی فناء کے معنی ہیں: فنا ہونا، مٹ جانا، ختم ہو جانا، ہلاک ہو جانا۔ اور اسی سے باب ‏تفاعل ہے: تفانوا، اور باب تفاعل جانبين سے فعل چاہتا ہے کہ وہ آپس میں باہم کیا ہوئے؟ باہم انہوں نے ایک دوسرے کو ‏فنا کیا۔ ضرب کا معنی مارنا، اور تضارب کا معنی باہم ایک دوسرے کو مارنا، تو تفانیٰ کا کیا معنی ہوا؟ باہم ایک دوسرے ‏کو ہلاک کرنا، ختم کرنا۔ تفانوا، انہوں نے باہم ایک دوسرے کو ختم کیا، ہلاک کیا۔ و دقوا بينہم عطر منشمِ، منشم بر وزن مجلس ہے بھئی، مجلس۔ اچھا، دق یدق دقا کا معنی ہوتا ہے: توڑنا، باریک کرنا اور ‏ٹکڑے کرنا، اسی طرح اس کا معنی ہے: ظاہر کرنا، ظاہر کرنا۔ عطر خوشبو کو کہتے ہیں۔ منشم بھئی، منشم۔ ودقوا بينہم ‏عطر منشم، یہ محاورہ ہے عرب میں بھئی، محاورہ ہے۔ اور مختلف وجہیں بیان کیں علماء نے اس کی۔ جب کہیں آپس میں سخت لڑائی ہو، تو پھر کہتے ہیں: "دقوا بينہم عطر منشم" ‏کہ انہوں نے آپس میں منشم کا عطر لگا لیا ہے، یا اس کو پیس لیا ہے، مختلف خوشبوئیں ہیں جیسے یہ مہندی وغیرہ اس ‏کو پیسا جاتا ہے، اس طرح کوئی خوشبو ہوگی جس کو پیسا جاتا ہوگا، لگایا جاتا ہوگا۔ تو جب کہیں سخت اور شدید لڑائی ‏ہو، تو پھر کہتے ہیں: "دقوا بينہم عطر منشم"، انہوں نے آپس میں منشم کا یہ عطر لگا لیا ہے، اور مختلف اس کے بارے ‏میں اقوال ہیں بھئی۔ بعضوں نے کہا کہ منشم جو ہے ایک قسم کی خوشبو ہے، جس کا کوٹنا اور پیسنا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے، بڑا ہی مشکل ہوتا ‏ہے۔ تو اس لیے، جب سخت اور مشکل، سخت لڑائی ہو، تو پھر کہتے ہیں: "دقوا بينہم عطر منشم"۔ جبکہ زیادہ علماء نے یہ ‏لکھا کہ یہ منشم کوئی عورت تھی بھئی، کسی قبیلے کی، مکہ میں البتہ رہتی تھی، اور یہ خوشبوئیں بیچتی تھی بھئی، ‏عطر وغیرہ فروخت کرتی تھی۔ اور تو ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے کہیں لڑنا تھا، جنگ کرنی تھی۔ تو انہوں نے اس سے عطر خریدا اور اس کو ایک تھال ‏میں ڈالا اور پھر اس تھال میں ہاتھ رکھ کر آپس میں عہد و پیمان کیا کہ اس جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے آخر دم ‏تک، یہاں تک کہ دشمن کو بالکل نیست و نابود کر دیں۔ تو وہ جو تھال کے اندر، خوشبو کے اندر ہاتھ رکھا تھا، حلف اٹھایا ‏تھا اس پر، قسم اٹھائی تھی، عہد کیا تھا۔ اور پھر اس کے بعد کہتے ہیں وہ لڑنے کے لیے چلے گئے بھئی۔ کہتے ہیں ایسی ‏ایسی ہونا کیا ایسا ہوا کہ اس لڑائی میں جتنے یہ جنہوں نے حلف اٹھایا تھا اور لڑنے گئے تھے، سارے کے سارے مارے ‏گئے بھئی، ایک بھی ان میں سے نہیں بچا۔ تو اس پر یہ عورت جو ہے، یا اس کا یہ عطر منحوست میں بطورِ ضرب المثل ‏کے مشہور ہو گیا، کہ انہوں نے کیا کیا؟ منشم اس عورت کا نام تھا، اس منشم عورت کا منحوس عطر انہوں نے آپس میں ‏لگا لیا ہے، "دقوا بينہم عطر منشم"، انہوں نے کیا کیا ہے؟ اس منحوس اس عورت کا منحوس عطر آپس میں لگا لیا ہے ‏بھئی، لگا لیا ہے۔ بہرحال یہ بولتے جنگ لڑائی وغیرہ کے موقع پر ہیں بھئی، اور یقیناً جنگ بھی برا، خوفناک ہوتی ہے، قبیلوں کو مٹا دیتی ‏ہے، عورتوں کو بیوہ کر دیتی ہے، بچوں کو یتیم کر دیتی ہے، تو اس موقع پر یہ بولتے ہیں بھئی۔ جبکہ بعضوں نے لکھا کہ یہ عورت تھی عطر بیچنے والی، اور اس جنگ، جب آپس میں جنگیں ہوتیں، تو مردوں کے لیے ‏وہ اس عورت سے لوگ عطر خریدتے تھے، جو مردوں کو خوشبو وغیرہ لگائی جاتی، جیسے کافور لگاتے ہیں، تو جو ‏خوشبو وغیرہ مردوں کو لگائی جاتی تھی، وہ اس عورت سے خریدی جاتی تھی، تو اس وجہ سے اس کا نام یہ ضرب المثل ‏بن گیا بھئی، بطورِ منحوست کے ذکر کیا جاتا ہے کہ مردوں والا عطر کیا کیا جاتا ہے؟ اس سے خریدا جاتا ہے۔ اچھا بھئی:‏ تدارکتُما عبسا و ذبیانا بعدما تفانوا و دقوا بينہم عطر منشمِ تم دونوں نے تلافی کر دی، تم دونوں نے درست کر دیا، صحیح کر دیا، تم دونوں نے اصلاح کر دی عبس و ذبیان، قبیلہ ‏عبس اور ذبیان کی، بعدما تفانوا، بعد اس کے کہ جب انہوں نے باہم ایک دوسرے کو ہلاک کر دیا تھا "و دقوا بينہم عطر ‏منشمِ" اور بعد اس کے کہ انہوں نے آپس میں منشم کا منحوس عطر لگا لیا تھا، یا بعد اس کے کہ جب ان کے درمیان سخت ‏لڑائی ہو گئی تھی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے بس بھئی بس، ھذا ہو المراد واللہ اعلم بالصواب، السلام۔
62 approved lectures · 31 of 62