Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 148
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی!‏ وَفِيهِنَّ مَلْهًى لِلَّطِيفِ وَمَنْظَرٌ ... أَنِيقٌ لِعَيْنِ النَّاظِرِ الْمُتَوَسِّمِ كَأَنَّ فُتَاتَ العِهْنِ فِي كُلِّ مَنْزِلٍ ... نَزَلْنَ بِهِ حَبُّ الفَنَا لَمْ يُحَطَّمِ فَلَمَّا وَرَدْنَ المَاءَ زُرْقًا جِمَامُهُ ... وَضَعْنَ عِصِيَّ الحَاضِرِ المُتَخَيِّمِ وَفِيهِنَّ مَلْهًى لِلَّطِيفِ وَمَنْظَرٌ أَنِيقٌ لِعَيْنِ النَّاظِرِ الْمُتَوَسِّمِ ملہاً، ملہا اس میں ظرف کا صیغہ ہے، لہا یلہو لہواً۔ جس کا معنی ہے جی بہلانا، جی لگانا، لہو لہو کرنا۔ تو ملہا، جی ‏بہلانے کی جگہ۔ دل لگانے کی جگہ۔ لطیف، لطیف کہتے ہیں خوش مزاج آدمی بھئی۔ خوش مزاج آدمی۔ أنيق، انق یعنی انق ینق انقاً و اناقۃً، اس کا معنی ہوتا ہے خوشنما ہونا۔ مرتب اور آراستہ ہونا۔ عین، آنکھ بھئی۔ الناظر، ‏دیکھنے والا۔ المتوسم، توسم کا معنی ہوتا ہے عقل و فراست سے کسی چیز کو جان لینا، علامت سے کسی چیز کو پہچان ‏لینا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ توسم بھئی، توسم۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ وَفِيهِنَّ مَلْهًى لِلَّطِيفِ وَمَنْظَرٌ ... أَنِيقٌ لِعَيْنِ النَّاظِرِ الْمُتَوَسِّمِ وفیہن، اور ان عورتوں میں، یہ جو ہودج میں بیٹھی ہوئی عورتیں، ہودج نشین عورتیں ہیں ان میں، ملہاً جی بہلانے کا مقام ‏ہے، دل لگانے کا مقام ہے، لللطیف، خوش مزاج آدمی کے لیے۔ وفيهن ملہاً لللطیف، ان ہودج نشین عورتوں میں خوش مزاج ‏آدمی کے لیے جی لگانے کا سامان ہے، دل بہلانے کا سامان ہے۔ ومنظر انیق، اور ان عورتوں میں منظر انیق، خوشنما ‏منظر ہے، لعین الناظر، دیکھنے والے کی آنکھ کے لیے۔ ناظر، دیکھنے والا۔ عین الناظر، دیکھنے والے کی آنکھ۔ اور اس ‏میں خوشنما، اور ان عورتوں میں خوشنما منظر ہے لعین الناظر، دیکھنے والی آنکھ کے لیے، المتوسم، وہ دیکھنے والا جو ‏علامتوں سے چیز کو پہچان لیتا ہو۔ جو علامتوں سے چیز کو پہچان لیتا ہو۔ کہتے ہیں: وفيهن ملہاً لللطیف، اور ان عورتوں میں دلاگی کا، جی بہلانے کا سامان ‏ہے خوش مزاج اور اور مردوں کے لیے، خوش مزاج آدمی کے لیے، ومنظر انیق لعین الناظر المتوسم، اور ان میں خوشنما ‏منظر ہے دیکھنے والے، علامتوں سے پہچاننے والے کی نگاہ کے لیے۔ كَأَنَّ فُتَاتَ العِهْنِ فِي كُلِّ مَنْزِلٍ ... نَزَلْنَ بِهِ حَبُّ الفَنَا لَمْ يُحَطَّمِ فتات، فتات کہتے ہیں بھئی ٹکڑے۔ ذرات، چورا۔ یہ لفظ پہلے بھی گزرا ہے اسی کے، اسی مادے سے۔ وَتُضْحِي فَتِيتُ المِسْكِ فَوْقَ فِرَاشِهَا ... نَؤُومُ الضُّحَى لَمْ تَنْتَطِقْ عَنْ تَفَضُّلِ عهن، عهن کہتے ہیں رنگی ہوئی اون یا اس کا ٹکڑا جو ہے۔ اور قرآن میں بھی آتا ہے: وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ، قیامت کے دن پہاڑ جو ہیں دھنکی ہوئی، رنگین اون کی طرح ‏اڑتے پھریں گے بھئی، اتنا خوفناک ہو گا اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی، ہر اور اس حال میں ہم اللہ کے سامنے ‏حاضر ہوں کہ اللہ ہم سے راضی ہو بھئی۔ آمین۔ قبر پہلی منزل ہے، جس کی پہلی منزل آسان ہو گئی اس کی سب منزلیں آسان ہو گئیں بھئی۔ اللہ ہم سب کی قبر منور ‏فرمائے اور ایمان والی قبر ہم سب کو نصیب فرمائے بھئی۔ آمین۔ اچھا جی! منزل، اترنے کی جگہ۔ اچھا۔ نزلن بہ، نزول کا معنی ہے اترنا، پڑاؤ ڈالنا۔ حب الفنا، حب الفنا یہ انہوں نے لکھا، ‏حب ویسے دانے کو کہتے ہیں، دانے کو۔ حب الفنا انہوں نے لکھا ہے یہ عنب الثعلب، یہ کوئی پودا ہے۔ اردو میں اس کا ‏معنی انہوں نے لکھا ہے مقو کے، مقو بھئی۔ فنا جو ہے مقو، کوئی پودا ہو گا اور اس کا کوئی سرخ رنگ کا خوشنما پھل ‏وغیرہ ہوتا ہے چھوٹا سا۔ سرخ رنگ کا ہوتا ہے، تو وہ ہے حب الفنا۔ لم یحتم، تحتم کا معنی ہے ٹکڑے کرنا یا توڑنا۔ كَأَنَّ فُتَاتَ العِهْنِ فِي كُلِّ مَنْزِلٍ، گویا کہ رنگین اون کے ٹکڑے جو ہیں فِي كُلِّ مَنْزِلٍ، ہر جگہ پر نَزَلْنَ بِهِ، بھئی منزل ہے ‏نکرہ اور نکرہ کے بعد نزلن فعل آیا، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ ہر ایسی جگہ میں، ہر ایسی جگہ میں نزلن بہ ‏جہاں پر وہ اتریں، یعنی جہاں پر انہوں نے پڑاؤ کیا۔ حب الفنا، تو وہ رنگین اون کے جو ٹکڑے ہیں، وہ حب الفنا کی طرح ‏ہیں، اس مقو کے پھل کی طرح سرخ جیسے اس کا پھل سرخ رنگ کا ہوتا ہے، اسی طرح جہاں جہاں یہ عورتیں اتریں تو ‏انہوں نے جو اپنے ہودج جو جس کو انہوں نے آراستہ کیا ہوا تھا اون کے ٹکڑوں وغیرہ کے ساتھ، تو جہاں یہ اترتیں، ‏پڑاؤ ڈالتیں، وہاں پر کچھ نہ کچھ اس کے ذرات وغیرہ، ٹکڑے بھی گر جاتے، تو وہ جو رنگی ہوئی اون کے ٹکڑے ہیں ہر ‏اس مقام پر جہاں پر وہ اتریں، جہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالا، وہ حب الفنا کی طرح ہیں، مقو کے پھل کی طرح ہیں سرخ رنگ ‏کی، وہ پھل بھی سرخ ہوتے ہیں۔ ایسا پھل لم یحتم جس کو توڑا نہ گیا ہو۔ اب کیا معنی توڑا نہ گیا ہو؟ بعضوں نے معنی یہ کیا کہ اس کو درخت سے نہ اتارا گیا ہو۔ وہ جو رنگی ہوئی اون کے ‏سرخ ٹکڑے ہیں، وہ کس کی طرح ہیں؟ مقو کے پھل کی طرح، لیکن وہ پھل اس حال میں کہ اس کو درخت سے اتارا نہ گیا ‏ہو، پودے سے اتارا نہ گیا ہو، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جب پودے سے اس کو اتار لیتے ہیں تو پھر اس پھل کی وہ چمک ‏دمک اور خوبصورتی نہیں رہتی۔ تو اس پھل کے ساتھ تشبیہ دی جو ابھی کس پر لگا ہوا ہو؟ وہ پودے پر لگا ہوا ہو اور ‏خوشنما نظر آ رہا ہو، سرخ رنگ کا ہو، اسی طرح ان کے جو سرخ رنگ کے اون کے ٹکڑے ہیں، یہ اس کے مشابہ ہیں۔ یا تحتم کا معنی ہے ٹکڑے کرنا۔ تو مراد یہ ہے اس مقو کے پھل کی طرح ہے جس کو ابھی ٹکڑے نہ کیا گیا ہو، درخت ‏سے اتارنا مراد نہیں ہے بلکہ خود اس پھل کا توڑنا کہ اندر والا حصہ ظاہر ہو جائے۔ تو وہ ایسے مقو کے پھلوں کی طرح ‏ہیں جن کو، جن پھلوں کو ابھی توڑا نہ گیا ہو، کیونکہ جب ان کو توڑ دیا جائے گا، اوپر سے تو یہ سرخ ہیں، اندر سے تو ‏سرخ نہیں ہیں، تو پھر ان کی وہ خوبصورتی برقرار نہیں رہتی۔ تو یہ جو اون کے سرخ ٹکڑے ہیں جہاں انہوں نے پڑاؤ ‏کیا، یہ ٹکڑے اسی طرح معلوم ہوتے ہیں جیسے مقو کے وہ پھل جن کو ابھی توڑا نہ گیا ہو، ٹکڑے نہ کیا گیا ہو۔ معنی ‏سمجھ میں آ گیا؟ كَأَنَّ فُتَاتَ العِهْنِ فِي كُلِّ مَنْزِلٍ ... نَزَلْنَ بِهِ حَبُّ الفَنَا لَمْ يُحَطَّمِ گویا کہ، اچھا! تو یہ كَأَنَّ، یہ کس میں سے ہے؟ حروف مشبہ بالفعلمیں سے ہے۔ اس کے لیے ایک اسم چاہیے اور ایک ‏خبر۔ تو فُتَاتَ العِهْنِ، یہ ہے اس کا اسم، اور حَبُّ الفَنَا، یہ کیا ہے اس کی خبر؟ گویا وہ اون، روئی کے ٹکڑے جو ہیں، حب ‏الفنا کی طرح ہیں، مقو کے پھل کی طرح ہیں۔ كَأَنَّ فُتَاتَ العِهْنِ فِي كُلِّ مَنْزِلٍ نَزَلْنَ بِهِ، گویا اس رنگی ہوئی اون کے ٹکڑے ہر اس مقام میں جہاں پر وہ عورتیں اتریں، وہ ‏حب الفنا، مقو کے پھل کی طرح ہیں لم یحتم جس کو توڑا نہ گیا ہو۔ فَلَمَّا وَرَدْنَ المَاءَ زُرْقًا جِمَامُهُ ... وَضَعْنَ عِصِيَّ الحَاضِرِ المُتَخَيِّمِ وردنا، ورود کا معنی ہوتا ہے اترنا، نازل ہونا۔ کسی جگہ پر پہنچنا۔ زرقاً، زرق جمع ہے ازرق کی، ازرق۔ جیسے اسود کی ‏جمع سود آتی ہے۔ تو زرق جمع ہے کس کی؟ ازرق، ازرق۔ اور ازرق نیلے کو کہتے ہیں، نیلا۔ اور اسی طرح ماء ازرق، ‏ماء کی صفت بھی ازرق استعمال کرتے ہیں۔ اور ماء ازرق کا معنی ہے شفاف پانی بھئی۔ جو پانی جتنا شفاف ہو گا، اس ‏میں نیلاہٹ آسمان جیسی دکھائی دیتی ہے یا نہیں؟ آسمان جیسی دکھائی دے رہا اس میں۔ جتنا صاف و شفاف ہو گا، اور ‏مٹیالا ہو گا، گندا میلا ہو گا تو وہ اس میں نیلاہٹ نہیں ہو گی بھئی۔ تو ماء ازرق کسے کہتے ہیں؟ خوب صاف اور شفاف ‏پانی، جس میں آسمان کی نیـ نیلگونی دکھائی دے بھئی۔ اچھا جی! اور جمامہ، جم یا جم یجم جموماً و جماً کے معنی ہیں کثیر ہونا۔ الجمع، جم کا معنی ہے کثیر بھئی، بہت زیادہ، ‏بہت زیادہ۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا، تم لوگ مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔ اسی طرح عربی ‏میں کہتے ہیں: جاءوا جماً غفیراً، وہ بہت کثیر تعداد میں آئے۔ تو جم کا کیا معنی ہے؟ کثیر، بہت زیادہ۔ اور اس کی جمع آتی ‏ہے جمام اور جموم۔ تو یہاں یہ جمام، یہ جم کی جمع ہے۔ تو جو پانی بہت زیادہ ہو، مثلاً تالاب ہے، بھرا ہوا ہے، تو کیا کہیں گے؟ ماء جم، بہت زیادہ پانی ہے، بھرا ہوا ہے۔ وَضَعْنَ عِصِيَّ الحَاضِرِ المُتَخَيِّمِ، وضع کا معنی رکھ دینا۔ عصي، عصي جمع ہے عصا کی، لاٹھی بھئی لاٹھی۔ اور عصي اصل میں تھا عصوو۔ عصا واوی ہے نا، تو اس کی جمع آتی ہے فعول وزن پر، عصوو۔ اور پھر عربی زبان کا ‏ضابطہ ہے کہ جس کے فعول وزن کے آخر میں اگر دو واؤ آ جائیں، جیسے یہاں ہے عصوو، دو واؤ آ جائیں فعول وزن ‏کے آخر میں، تو ان دونوں کو یا سے بدل کر ان کا آپس میں ادغام کرتے ہیں اور ماقبل کو کسرہ دے دیتے ہیں۔ تو ماقبل ‏یہاں دونوں عین اور صاد کو کسرہ دے دیا اور دونوں واؤ کو یا سے بدل کر ادغام کر دیا تو کیا بن گیا؟ عصي۔ تو یہ فعول ‏وزن ہے، یاد رکھنا بھئی۔ حاضر، حاضر یہ حذارت سے ہے یا حضارت، حا کے نیچے زیر بھی صحیح اور فتحہ بھی صحیح، حضارت ضاد کے ‏ساتھ۔ حضارت کا معنی ہے شہری ہونا، تو حاضر کہیں گے شہری کو۔ حاضر کسے کہیں گے؟ شہری۔ اور بادی، دیہات ‏والا، دیہات والا، بدو جو ہے۔ اچھا جی، تو حاضر، شہری۔ المتخیم، تخیم کا معنی ویسے ہے خیمے میں رہنا، خیمے میں قیام کرنا۔ یہ ہے تخیم کا معنی، لیکن یہاں مراد متخیم سے ‏خیمے میں رہنے والا نہیں مراد، یہاں متخیم کا معنی ہے خیمہ بنانے والا، یعنی خیمہ لگانے والا۔ وہ آدمی جو خیمہ لگا رہا ‏ہے، وہ کیا ہے؟ متخیم ہے۔ فَلَمَّا وَرَدْنَ المَاءَ زُرْقًا جِمَامُهُ، پس جب وہ عورتیں جو ہیں پہنچیں وردنا الماء، پانی پر زرقاً، اس حال میں کہ وہ پانی کیا ‏تھا؟ خوب صاف شفاف تھا۔ جمامہ، اور خوب کثیر تھا۔ یہ جمامہ یاد رکھیے بھئی! یہ مرفوع ہے، مرفوع ہے۔ اور یہ زرقاً کے لیے فاعل نہیں بن ‏سکتا۔ زرقاً صفت ہے نا صفت ہے، ابھی میں نے اپ کو بتایا، جیسے فعل عمل کرتا ہے، ویسے ہی صفت بھی عمل، صـ ‏فعل اپنے فاعل اور مفعول کو، فاعل کو رفع دیتا ہے اور مفعول کو نصب، اسی طرح صفت کے صیغے بھی اسی طرح ‏عمل کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: زید ضارب عمراً، زید ضارب، یا یوں کہیں: ضرب زید عمراً۔ یہ زید کو رفع کس نے دیا؟ ضرب نے۔ یہ عمراً کو نصب کس نے دیا؟ ضرب نے۔ تو ضرب کے لیے ایک فاعل چاہیے ‏اور ایک مفعول۔ اسی طرح اس سے ضارب جو صفت کا صیغہ بنے گا، اس کے لیے بھی ایک فاعل چاہیے ایک مفعول۔ ‏زید ضارب عمراً۔ تو یہ عمراً کو نصب کس نے دیا؟ ضارب نے۔ اور اس کے لیے فاعل بھی چاہیے، آگے فاعل تو ہے ‏نہیں تو پھر اسی کے اندر ضمیر نکالتے ہیں جیسے ضرب کے آگے فاعل نہ ہو تو ضرب کے اندر ہی کیا نکال لیتے ہیں؟ ‏ضمیر نکال لیتے ہیں۔ تو یہاں بھی زید ضارب عمراً، ضارب کے اندر ھو ضمیر ہے، وہ ہے فاعل، اور عمراً کیا ہے؟ ‏مفعول۔ اور ان دونوں کو رفع اور نصب کس نے دیا؟ ضارب نے دیا۔ اور یہ بھی آپ پڑھ چکے، جب فاعل اسمِ ظاہر آئے—اسمِ ظاہر جانتے ہیں؟ کسے کہتے ہیں؟ جو اسم ہو اور ضمیر نہ ہو۔ ‏دنیا کے سارے اسم آپ اکٹھے کر لیں، اس میں سے صرف ضمیروں کو نکال لیں، باقی سارے اسم اسمِ ظاہر کہلائیں گے۔ ‏کتاب ضمیر ہے؟ تو یہ اسمِ ظاہر ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جو بھی اسم آئے بس دیکھ لیں ضمیر ہے یا نہیں، ضمیر ‏نہیں تو پھر کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ تو یاد رکھیے، اسمِ ظاہر جو ہے نا، اسمِ ظاہر یہ فعل کے لیے فاعل ضرور چاہیے، ‏ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے، اور آئے گا دونوں میں سے ایک ہی۔ اگر ضمیر فاعل آ گئی تو ‏اسمِ ظاہر فاعل نہیں آ سکتا، اور اگر اسمِ ظاہر آ گیا تو ضمیر فاعل نہیں آ سکتی۔ اور پھر یاد رکھیے جو اسمِ ظاہر ہے، یہ صرف دو صیغوں کے لیے فاعل بنتا ہے: پہلا صیغہ اور چوتھا صیغہ، یعنی ‏واحد مذکر غائب اور واحد مؤنث غائب۔ میں کہنا چاہتا ہوں: "زید نے پٹائی کی"، تو کیا کہوں گا؟ ضرب زید۔ دیکھا یہ ‏ضرب کون سا صیغہ ہے؟ پہلا صیغہ۔ اور میں کہنا چاہتا ہوں: "ہند نے پٹائی کی"، تو کیا کہوں گا؟ ضربت ہند۔ تو دیکھا یہ ‏ضربت کون سا صیغہ ہے؟ چوتھا صیغہ ہے۔ اور زید یہ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ اور زینب ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ‏ہے؟ دیکھا تو اسمِ ظاہر کے لیے پہلا صیغہ آئے گا یا چوتھا صیغہ آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب میں کہنا چاہتا ہوں: ضرب زید۔ میں کہنا چاہتا ہوں: "وہ دو جو زید ہیں انہوں نے پٹائی کی"، وہ دو جو زید ہیں، زید کی ‏جگہ میں الزیدان لانا چاہتا ہوں، تو کیا کہوں گا؟ ضرب تسنیہ نہیں لانا، کیوں؟ کیونکہ الزیدان کو آپ کیا بنانا چاہتے ہیں؟ ‏فاعل۔ اور الزیدان چاہے مفرد ہو، تسنیہ ہو، جمع ہو، ہماری اس سے بحث نہیں۔ ہے کیا؟ اسمِ ظاہر ہے یا ضمیر ہے؟ اور ‏اسمِ ظاہر جب بھی فاعل ہو گا فعل کو ہمیشہ کیا رکھنا ہے؟ مفرد رکھنا ہے۔ تو ضرب اسی طرح رہے گا: ضرب الزیدان، ‏ضرب الزیدون۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسمِ ظاہر جب بھی فاعل ہو گا چاہے مفرد ہو، چاہے تسنیہ ہو، چاہے جمع ہو، ‏اس کو آپ نے نہیں دیکھنا، آپ نے فعل کو ہمیشہ کیا رکھنا ہے؟ مفرد۔ اسی طرح صفت کا صیغہ ہے، اس کے لیے بھی جب فاعل اسمِ ظاہر آئے گا صفت کے صیغے کو بھی کیا رکھنا ہے؟ ‏توجہ ہے؟ جب صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل کیا آئے؟ اسمِ ظاہر، ضمیر نہیں اسمِ ظاہر، صفت کے صیغے کو بھی ‏کیا رکھنا ہے؟ مفرد رکھنا ہے۔ اور یہاں پر کیا ہے؟ زرقاً جمامہ، یہ جمامہ کو فاعل بنانا چاہتے ہیں آپ کس کے لیے؟ ‏زرقاً کے لیے، نہیں بنا سکتے کیونکہ زرقاً جمع ہے۔ ازرق ہوتا پھر تو اس کے لیے جمامہ فاعل بن سکتا تھا، نیلا ہے، کیا ‏چیز نیلی ہے؟ جمامہ، وہ بہت زیادہ کثیر پانی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ تو زرقاً جمع آ گئی، تو اس کے لیے جمامہ فاعل نہیں بن سکتا، پھر کیا کریں؟ تو یاد رکھیے، پھر اس کے اس زرقاً ‏کے معنیٰ سے اس کو فاعل بنائیں گے۔ کس سے؟ زرقاً کے لفظ سے تو یہ فاعل نہیں بن سکتا، پھر کیا کریں گے؟ اس کے ‏معنیٰ سے فاعل بنائیں گے۔ بھئی معنیٰ سے فاعل کیسے بنائیں گے؟ یعنی اس کے مطابق یہاں فعل وغیرہ نکال لیں آپ ‏خود، تو زرقاً سے کیا نکال لو؟ یزرق، اور جمامہ کو اس کے لیے فاعل بنا دو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب لفظوں سے ‏فاعل بعض اوقات نہیں بنتا وہاں لکھا ہوتا ہے معنیٰ سے بن رہا ہے۔ معنیٰ سے بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو لفظ ہے، ‏اس کے مطابق کوئی فعل نکال لو یا اس کا کوئی لفظ اور پھر اس سے اس کو فاعل بنا دو۔ تو یہاں ہم کیا نکال لیتے ہیں؟ ‏یزرق جمامہ، کہ اس کی گہرائی کیا تھی؟ یزرق، شفاف تھا جمامہ اس پانی کی کثرت، یعنی وہ خوب سارا پانی کیا تھا؟ ‏خوب شفاف تھا، نیلے رنگ کا تھا۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جمامہ زرقاً ہی کے لیے فاعل ہے بھئی، زرقاً ہی کے لیے فاعل ہے کیونکہ زرقاً یہ ‏وزن مفرد میں بھی آتا ہے: زرق، قفل—قفل تالے کو کہتے ہیں—برد، برد چادر کو کہتے ہیں۔ تو یہ وزن مفرد میں بھی آتا ‏ہے، تو اس اعتبار سے چونکہ یہ وزن مفرد میں بھی آتا ہے، مفرد جیسا وزن ہو گیا تو اس لیے جمامہ اس کے لیے فاعل ‏بن سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے وراد حواشیہا، وراد چونکہ مفرد کا وزن تھا تو حواشیہا اس کے لیے فاعل ‏بن گیا تھا بھئی۔ فلما وردنا الماء زرقاً جمامه، پس جب وہ عورتیں اس پانی پر پہنچیں جو اس حال میں کہ زرقاً وہ شفاف تھا اور یزرق ‏جمامه اور اس پانی کی کثرت جو ہے وہ خوب شفاف تھی، نیل گونی تھی، وضعنا عصی الحاضر المتخیم، تو ان عورتوں ‏نے رکھ دیں۔ کیا رکھ دیں؟ عصی الحاضر المتخیم، خیمہ لگانے والے شہری کی لاٹھیاں۔ خیمہ لگانے والے شہریوں کی ‏لاٹھیاں، بھئی شہر والا، عام ویسے شہر والا ذکر کر دیا، عموماً پہلے سفر کیا ہوتا تھا؟ یا کوئی سواری ہوتی تھی یا پیدل ‏ہوتا تھا، تو سفر کے اندر عموماً وہ ایک لاٹھی وغیرہ ساتھ رکھتے تھے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ لاٹھی، اور ‏جہاں پڑاؤ ڈالنا ہے تو ظاہر سی بات ہے اب وہ لاٹھی انسان کیا کر دیتا ہے؟ ایک طرف ڈال دیتا ہے کہ اب تھک گیا ہے، ‏اب وہ آرام کرنا چاہتا ہے، تو لاٹھی ایک طرف رکھ دیتا ہے اور پھر جب سفر پہ نکلنا ہوتا ہے پھر لاٹھی لی اور چل پڑے ‏سفر پر۔ تو وہ شہری بھی کیا کرتے تھے اسی طرح جب سفر جب پڑاؤ ڈالتے تھے وہ لاٹھی ایک طرف رکھ دیتے تھے، ‏تو یہ عورتیں جب اس پانی پر پہنچیں اور پڑاؤ کا ارادہ تھا تو انہوں نے وہ شہری جو خیمے لگانے والا ہو جس کا ارادہ ‏کیا ہے کہ اب میں خیمہ لگاؤں گا اور پڑاؤ کروں گا، تو اس خیمے لگانے والے شہری کی لاٹھی کی طرح انہوں نے بھی ‏اپنی لاٹھیاں کیا کر دیں؟ رکھ دیں، ایک طرف ڈال دیں۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ تو وضعنا، تو ان عورتوں نے رکھ دیں عصی الحاضر المتخیم، خیمہ لگانے والے شہری کی لاٹھیاں۔ خیمہ لگانے والے ‏شہری کی لاٹھیاں رکھ دیں، یعنی ان کی طرح کی جو لاٹھیاں جیسے وہ لاٹھیاں رکھتے ہیں انہوں نے بھی کیا کر دیں؟ ‏لاٹھیاں رکھ دیں، ڈال دیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ لاٹھیوں کا رکھنا کنایہ ہے اقامت اختیار کرنے سے۔ میں نے ‏بتلایا کہ عرب کے لوگ خانہ بدوش تھے، جہاں پانی اور سبزہ ہوتا وہاں خیمے لگا لیتے اور جب سبزہ اور پانی ختم ہوتا ‏تو وہاں سے خیمے اکھاڑتے اور دوسری جگہ تلاش کرتے جہاں پانی اور سبزہ ہوتا بھئی۔ تو یہ بھی جب اس پانی پر جو ‏خوب کثیر تھا اور شفاف تھا، وہاں پہنچیں تو انہوں نے بھی کیا کر لی وہاں پر؟ اقامت اختیار کر لی بھئی۔ ظهرن من الصوبان ثم جزعنه، على كل قيني قشيب ومفأم. ظهرنا، ظهور کا معنیٰ ہے ظاہر ہونا۔ یہاں مراد ہے ظاہر ہوا، ‏ظهرن من الصوبان، صوبان وہ وادی ہے۔ ظاہر ہوئیں یعنی اس کو طے کر لیا، اس کو طے کر لیا۔ ثم جزعنه، جزع یجزع ‏کے معنیٰ ہیں وادی کو چوڑائی میں طے کر لینا۔ جزع یجزع کا کیا معنیٰ؟ وادی کو چوڑائی میں طے کر لینا، بھئی ‏دیکھیے نا وادی ایک لمبی ایک کلومیٹر تک لمبی وادی ہے، لیکن چوڑائی اس کی یوں سمجھو صرف سو گز ہے۔ تو آپ ‏اس کو چوڑائی سے میں سے گزر جاتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزع، جیسے آپ سڑک کراس کرتے ہیں، سڑک کے ‏اوپر درمیان میں چلتے ہیں یا ایک طرف سے دوسری طرف نکل جاتے ہیں؟ تو وادی میں بھی ایک طرف سے دوسری ‏طرف کو نکل جانا، یہ کیا ہے؟ جزع ہے بھئی۔ اچھا، على كل قيني، قین، قین اصل میں کہتے ہیں لوہار کو، لوہار۔ لیکن پھر یہ لفظ عام طور پر استعمال ہوتا ہے ہر کاریگر ‏کے لیے، ویسے تو یہ خاص ہے کس کے لیے؟ لوہار، لیکن ہر کاریگر کے لیے یہ لفظ بول دیا جاتا ہے۔ تو اور قینی، ‏کاریگر والا، دیکھو لاہوری کا کیا معنیٰ؟ لاہور والا، تو قینی کا کیا معنیٰ؟ کاریگر والا، یعنی وہ چیز جو اعلیٰ بنی ہوئی ہو ‏تو کیا کہتے ہیں؟ ایک تو ویسے خراب سی کسی نے کوئی چیز بنا لی اور ایک بڑی مہارت سے خوبصورت بنائی تو ‏کہتے ہیں یہ کسی اچھے کاریگر نے بنائی ہے، بہترین کاریگر نے۔ تو یہاں بھی وہ ان کے جو کجاوے وغیرہ ہیں، وہ ‏عمدہ اور اعلیٰ کجاوے تھے تو بتلانا چاہتا ہے وہ کاریگروں والے کجاوے ہیں یعنی بڑے عمدہ بنے ہوئے۔ قشیب، قشیب ‏کا معنیٰ ہے جدید بھئی، نیا، نیا، صاف ستھرا، چمکدار۔ مفأم، افأم یفئم کے معنیٰ ہوتے ہیں کشادہ، کشادہ کرنا۔ مفأم، کشادہ ‏کیا ہوا، یعنی کھلا، وسیع۔ ظهرن من الصوبان ثم جزعنه. اچھا ہاں، پچھلے شعر کا کیا معنیٰ؟ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ فلما وردنا الماء زرقاً جمامه وضعنا ‏عصی الحاضر المتخیم، پس جب وہ اس پانی پر پہنچیں جو خوب صاف اور اس حال میں کہ خوب شفاف تھا اور اس کی ‏کثیر مقدار خوب نیل گونی تھی، وضعنا عصی الحاضر المتخیم تو ان عورتوں نے بھی خیمہ لگانے والے شہری کی ‏لاٹھیوں کی طرح اپنی لاٹھیاں رکھ دیں۔ اور بعض علماء نے لکھا کہ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ ‏عورتیں جو ہیں، یہ بڑی ہی امن میں تھیں، ان کی حفاظت کا ایسا سامان تھا کہ ان کو کسی قسم کا خوف نہیں تھا، جہاں پر ‏بھی یہ نازل ہوتیں یا پڑاؤ ڈالتیں بڑے پر امن طریقے سے جس کو کسی قسم کا خوف نہ ہو، ان کی طرح یہ بھی کیا کرتیں؟ ‏پڑاؤ ڈالتی تھیں بھئی۔ اچھا، ظهرن من الصوبان ثم جزعنه، یہ عورتیں ظاہر ہوئیں وادیِ صوبان سے، کیا معنیٰ ظاہر ہوئیں؟ یعنی انہوں نے اس ‏کو طے کر لیا، اس میں سے گزر گئیں۔ ثم جزعنه، پھر اس کو دوبارہ چوڑائی میں طے کیا۔ پھر دوبارہ، ایک مرتبہ طے ‏کیا پھر دوسری مرتبہ دوبارہ طے کیا چوڑائی میں، بھئی کیا معنیٰ؟ بھئی معنیٰ یہ ہے کہ معلوم ہوا یہ جو وادی تھی یہ ‏کوئی بل کھاتی ہوئی ٹیڑھی وادی تھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب بل کھاتی ہوئی ٹیڑھی ہے، تو آپ سیدھا جانا ‏چاہتے ہیں تو ایک دفعہ بھی وادی کے اوپر کراس کریں گے، گزریں گے یا نہیں گزریں گے؟ اور پھر آگے جا کر پھر ‏اسی طرح دوبارہ اس میں سے گزریں گے چوڑائی کے اندر اس کو طے کرتے ہوئے، پھر سیدھا آگے کو نکل جائیں گے۔ ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، تو ظهرن من الصوبان یہ ظاہر ہوئیں یعنی انہوں نے طے کر لیا وادیِ صوبان کو، ثم جزعنه پھر اس کو چوڑائی میں ‏طے کیا على كل قيني قشيب ومفأم، ہر عمدہ قسم کے کاریگروں کے بنائے ہوئے قشیب، نئے اور کشادہ کشادہ کجاووں اور ‏ہودجوں پر، ان پر انہوں نے کیا کیا؟ اس وادی کو طے کیا۔ على كل قيني قشيب ومفأم، تمام نئے کاریگروں کے بنائے ہوئے ‏وسیع کجاووں پر انہوں نے اس کو طے کیا۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ تو ظهرن من الصوبان ثم جزعنه، معنیٰ کیا ہوا؟ ایک دفعہ طے کیا وادیِ صوبان کو اور پھر دوبارہ چوڑائی میں طے کیا، ‏جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ نہیں، ظهرن من الصوبان کا معنیٰ تو یہ ہے کہ وہ وادیِ صوبان سے ظاہر ہوئیں یعنی اس ‏کو طے کر لیا، اس سے نکل آئیں۔ اور ثم جزعنه، جزعنا کا معنیٰ تو یہی ہے چوڑائی میں طے کرنا، لیکن یہاں شاعر کی ‏یہ مراد نہیں ہے بلکہ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ وہ اس سے پھر آگے گزر گئیں، اس کو پیچھے چھوڑ آئیں۔ وہ کیا ہوئیں ‏وادیِ صوبان سے وہ وادیِ صوبان سے ظاہر ہوئیں یعنی اس کو طے کر لیا اس سے نکل آئیں، ثم جزعنه پھر اس وادی کو ‏پیچھے چھوڑ دیا، آگے نکل گئیں۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ على كل قيني قشيب ومفأم، ہر کاریگروں کے بنائے ہوئے عمدہ—کاریگر کے بنائے ہوئے کے بجائے عمدہ کر لو اس کا ‏ترجمہ، بات سمجھ میں آ گئی؟ ہر عمدہ قسم کے نئے، کشادہ کجاووں پر۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله اعلم بحقیقة الکلام۔
62 approved lectures · 30 of 62