Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 154
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جعلنا القنان عن يمين وحزنه وكم بالقنان من محل ومحرم علون بأنماط عتاق وكلة وراد حواشيها مشاكهة الدم ووركن في السوبان يعلون متنه عليهن دل الناعم المتنعم ہم تیسرا معلقہ پڑھ رہے ہیں زہیر ابن ابی سلمیٰ المزنی کا اور میں نے بتلایا کہ بہت سے علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ‏عربی شاعری کا بے تاج بادشاہ یہی شاعر ہے اور اس کو وہ امرؤ القیس پر بھی فضیلت دیتے ہیں، اور انہی کو حضرت ‏عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے شاعر الشعراء بھی فرمایا۔ اب ابتداء میں وہی تشبیب ہے، شاعر جو ہے وہ اپنے معشوقہ کے گھر کسی زمانے میں جہاں پر تھا وہاں سے گزرا تو ‏کہنے لگا کہ وہاں اس کے نشانات مٹ چکے ہیں البتہ کچھ میلے نشانات اس کے، سیاہ نشانات باقی تھے، بیس برس کے ‏بعد میں وہاں سے گزرا اور میں نے بڑی مشکل سے اس گھر کو پہچانا۔ اس کے بعد وہ شاعر جو ہے اسی زمانے میں وہی زمانہ اس کی نگاہوں کے سامنے آگیا اور وہ اپنے ساتھی سے کہنے ‏لگا:‏ تَبَصَّرْ خَلِيْلِي هَلْ تَرَى مِنْ ظَعَائِنٍ تَحَمَّلْنَ بِالْعَلْياءِ مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ کہ اے میرے گہرے دوست! ذرا غور سے دیکھ، کیا تجھے ہودج میں بیٹھی ہوئی کچھ ایسی عورتیں نظر آرہی ہیں جو سفر ‏پر روانہ ہو رہی ہیں جُرثُم سے اوپر اونچی زمین کے اندر؟ وہاں پر وہ سفر، اس مقام پر وہ سفر پر نکل رہی ہیں، کیا وہ ‏تجھے دکھائی دے رہی ہیں؟ آگے کہتا ہے:‏ جعلنا القنان عن يمين وحزنه وكم بالقنان من محل ومحرم قنان، یہ لفظ قنان پہاڑ کا نام ہے، یہ پہلے بھی گزر چکا پہلے معلقے میں، کیا آیا تھا؟ ومر على القنان من نفَيَانِه فأنزل منه العُصْمَ من كل منزلِ عن يمين، دائیں طرف۔ حزنه، یہ ھا ضمیر راجع ہے قنان کو، یعنی حزن القنان، اور حزن کہتے ہیں سخت پتھریلی زمین، ‏سخت پتھریلی زمین۔ توجہ ہے؟ حزنه، یہ ھا ضمیر اس کو 'ہو' نہ پڑھنا، اکثر لوگ کہتے ہیں 'ہو' ضمیر، نہیں۔ یاد رکھو ‏جو کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو حروف تہجی کے اندر ہے۔ کلمہ، کلمہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ ‏کلمہ کہتے ہیں با معنی لفظ کو، بات سمجھ میں آگئی؟ جس لفظ کا بھی کچھ معنی ہو اس کو کلمہ کہتے ہیں، اور ھا ضمیر کا ‏بھی معنی ہے یا نہیں؟ کسی معنی پہ دلالت کرتی ہے کہ نہیں کرتی؟ تو یہ کلمہ ہے۔ اور کلمہ جب ایک حرف پر مشتمل ہو ‏جیسے یہاں پر ہے تو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو حروف تہجی میں ہے، اور حروف تہجی میں اس حرف کو کیا کہتے ہیں؟ ‏ھا، ھا! جیسے 'بسم اللہ الرحمن الرحیم'، آپ کو کوئی کہے ترکیب کرو، آپ کیسے شروع کرتے ہیں؟ با جارّہ، یہ 'بی جارّہ' ‏کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ 'با' ایک حرف ہے اور معنی ہے یا نہیں؟ حرف جارّ ہے۔ تو اس کا کلمہ جب ایک حرف پہ ‏مشتمل ہو تو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو حروف تہجی میں ہے، اور حروف تہجی میں اس کو 'با' کہتے ہیں تو اس لیے کہا ‏‏'با جارّہ'۔ تو یہاں بھی کیا کہیں گے؟ ھا ضمیر، 'ہو ضمیر' نہیں یا 'ہی ضمیر'، بعض زیر ہو تو 'ہی' پڑھتے ہیں، نہیں، یہ ‏شائع غلطی ہے بھئی اس کا خیال رکھیں۔ تو یہ ھا ضمیر جو ہے 'حزنہ' کے ساتھ جو متصل ہے، یہ راجع ہے 'قنان' کو۔ وكم بالقنان من محل ومحرم، اور 'کم' جو ‏ہے، یہ 'کم' آپ نے پڑھا ہے یہ استفہام کے لیے بھی آتا ہے، خبر کے لیے بھی، دو قسم پر ہے، ایک کم استفہامیہ اور ایک ‏کم خبریہ۔ تو یہ کم خبریہ ہے بھئی۔ 'محل' اور 'محرم' سے کیا مراد ہے؟ تو بعض علماء نے لکھا کہ 'محل' حلال سے ہے، ‏یعنی وہ لوگ جن کا خون ہمارے لیے حلال ہے، یعنی جو ہمارے دشمن ہیں جن کا قتل کرنا ہمارے لیے حلال ہے، جائز ‏ہے۔ وہ ہمیں قتل کرنے کی تاک میں لگے ہیں تو ہم ان کو قتل کرنے کی تاک میں لگے ہیں بھئی۔ تو 'محل' حلال سے یعنی ‏جس کا خون حلال ہے، جس کے خون کی کوئی حرمت نہیں بھئی۔ اور 'محرم'، 'محرم' سے مراد وہ شخص ہے جس کے ‏خون کی حرمت ہے، یعنی ہمارا دوست ہے یا اس کے ساتھ کوئی معاہدہ وغیرہ ہوا ہے اور اس کے خون کی حرمت ہے ‏بھئی، تو وہ کون ہوا؟ محرم، محرم۔ تو کہتے ہیں:‏ جعلنا القنان عن يمين وحزنه وكم بالقنان من محل ومحرم جعل کے معنی کر دینا، چھوڑ دینا۔ ان عورتوں نے چھوڑا قنان کو، ان ہودج نشین عورتوں نے چھوڑا کوہ قنان کو عن يمين ‏اپنے دائیں طرف، وحزنه اس کا عطف اسی قنان پر ہے، اور اس کی سخت پتھریلی زمین کو۔ ان عورتوں، یعنی وہ اس رخ ‏پر چل رہی تھیں کہ انہوں نے کوہ قنان کو اور اس کی سخت پتھریلی زمین کو اپنے کس ہاتھ پر چھوڑا؟ دائیں ہاتھ پر ‏چھوڑا، دائیں طرف چھوڑا۔ وكم بالقنان من محل ومحرم، اور کتنے ہی کوہ قنان یا اس علاقے میں، کتنے ہی من محل ‏ومحرم، کتنے ہی ہمارے دشمن ہیں اور کتنے ہی دوست ہیں۔ حاصل معنی یہ ہوا نہ، جس کا خون حلال ہے معلوم ہوا وہ ‏کون ہے؟ دشمن، اور جن کا خون حرام ہے وہ کون ہیں؟ دوست، تو وہی مرادی معنی میں نے کر دیا۔ اور یا یوں کر لو، اور ‏کوہ قنان میں اور اس کے علاقے کے اندر کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے خون کی، جن کا خون ہمارے لیے حلال ہے، ‏ومحرم اور جن کے خون کی ہمارے لیے حرمت ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مرادی معنی وہی کہ کتنے ہی ہمارے ‏وہاں دوست ہیں اور کتنے ہی دشمن ہیں بھئی۔ تو کہنا یہ چاہتا ہے کہ وہ جو ہودج نشین عورتیں تھیں ان کی طلب میں اور ان میں شاعر کی معشوقہ بھی، ان سے ملاقات ‏کی طلب کے اندر شاعر کوہ قنان سے گزرا بھئی، کہاں سے گزرا؟ کوہ قنان سے۔ اور کہتا ہے کہ کوہ قنان میں اگرچہ ‏میرے دشمن بھی تھے، میری جان کو سخت خطرہ تھا، کسی کو بھی موقع مل جاتا اور وہ مجھے پا لیتا تو مجھے قتل کر ‏دیتا، لیکن میں نے اپنے عشق و محبت کے اندر اپنی جان کی بازی لگا دی اور اس خوفناک علاقے سے بھی میں کئی ‏مرتبہ گزرا بھئی، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی ان ہودج نشین عورتوں سے ملاقات کے لیے میں کتنی ہی مرتبہ اس ‏خوفناک اور خطرناک علاقے سے گزرا جہاں میری جان کو خطرہ تھا۔ جعلنا القنان عن يمين وحزنه وكم بالقنان من محل ومحرم ان عورتوں نے کوہ قنان کو اور اس کی سخت پتھریلی زمین کو اپنے دائیں ہاتھ چھوڑا، اور کتنے ہی کوہ قنان کے اندر ‏ہمارے ایسے لوگ ہیں جن کا خون ہمارے لیے حلال ہے اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا خون ہمارے لیے حرام ہے، ‏جس کی حرمت ہے۔ جبکہ بعضوں نے 'محل' اور 'محرم' سے بعض علماء نے مراد لیا، 'محل' حلت والے مہینوں میں داخل ہونا، اور 'محرم' ‏حرمت والے مہینوں میں داخل ہونا۔ حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟ چار ہیں: رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ رجب ‏الگ ہے اور باقی تینوں مہینے اکٹھے ہیں، رجب یہ جو شعبان سے قبل آتا ہے، اور ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم یہ تین ‏مہینے اکٹھے ہیں۔ عرب ان مہینوں کی بے انتہا عزت کرتے تھے۔ اتنی زیادہ عزت کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، وہ لوگ ‏جن کے ہاں قتل و غارت بالکل معمولی چیز تھی، کوئی ایک قتل کر دیتا تو دوسری طرف مقابلے میں جب تک کئی افراد ‏قتل نہیں کر دیتے تھے ان کو چین نہیں آتا تھا۔ لیکن جب یہ مہینے آتے تو اس میں قتل و قتال سے، ڈاکوؤں وغیرہ ہر چیز ‏سے رک جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ڈاکو ڈاکے نہیں ڈالتے تھے اس زمانے کے اندر بھئی، اتنی حرمت تھی، اتنی عزت کرتے ‏تھے ان مہینوں کی۔ اور حتیٰ کہ کسی کے باپ کا قاتل بھی اس کے سامنے گھوم رہا ہوتا، وہ اس کو ہاتھ نہیں لگاتا تھا ان ‏مہینوں کی وجہ سے بھئی۔ تو 'محل' سے کیا معنی ہوا؟ اشہرِ حلم میں، اشہرِ حلت میں داخل ہونا، کچھ مہینے حرمت والے ہیں نہ، باقی کون سے ‏ہوئے؟ حلت والے، تو حلت والے مہینوں میں داخل ہونا۔ اور 'محرم' کا کیا معنی؟ حرمت والے مہینوں میں داخل ہونا۔ تو ‏معنی یہ ہے، مراد یہ ہے کہ میں کتنی ہی مرتبہ وہاں سے حلت والے مہینوں میں بھی گزرا اور حرمت والے مہینوں میں ‏بھی میں گزرا، تو بعضوں نے یہ معنی کیا بھئی، بعضوں نے یہ معنی۔ علون بأنماط عتاق وكلة وراد حواشيها مشاكهة الدم علون، علا يعلو کے معنی اوپر چڑھنا، اوپر ہونا۔ بأنماط، اور با تعدیہ کے لیے ہے، متعدی بنانے کے لیے۔ تو علون کا ‏معنی خود اوپر ہونا، اور علون بأنماط با ساتھ آگئی تو کیا معنی ہے؟ اوپر کرنا، اوپر کرنا، متعدی ہو گیا۔ انماط جمع ہے ‏نمط کی، نمط کی، اور نمط کہتے ہیں ہودج پر کہتے ہیں ڈالا جانے والا جھالر دار رنگین اونی کپڑا بھئی۔ ہودج پر ڈالا ‏جاتا اونی کپڑا ہوتا اور جھالر دار بھئی، جھالر کناروں پر ہوتی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اور عتاق جمع ہے عتیق کی، ‏عمدہ اور اعلیٰ بھئی، اعلیٰ۔ وكلة، کلہ کہتے ہیں جالی دار کپڑا بھئی، باریک کپڑا باریک کپڑا، جالی والا، جیسے یہ مچھر ‏دانی نہیں ہوتی باریک سی جس کے آر پار سب کچھ دکھائی دیتا ہے، اس طرح کا جالی دار باریک کپڑا جو ہو اس کو كِلة ‏کہتے ہیں۔ وراد، وراد جمع ہے ورد کی، اور ورد کا ایک معنی تو ہے گلاب، اسی طرح خوشنما زردی مائل سرخ رنگ ‏جو ہو، سرخ رنگ والی چیز جو ہو اس کو بھی ورد کہتے ہیں بھئی۔ خوشنما سرخ رنگ والی چیز جو ہو اس کو بھی کیا ‏کہتے ہیں؟ ورد، اور اس کی جمع آتی ہے وراد، وراد۔ یاد رکھیے وردیّ، وردیّ عربی میں گلابی رنگ کو کہتے ہیں۔ اسود سیاہ رنگ، احمر سرخ رنگ، ابیض سفید، اصفر زرد ‏رنگ، اور اخضر سبز رنگ، اور ازرق نیلا رنگ، اور جو گلابی رنگ ہے اس کو کہتے ہیں وردیّ، وردیّ۔ اور یہ جو ‏لکڑی جیسا رنگ ہے اس کو کہتے ہیں بنّی، با نون یا، بنّی۔ اچھا جی، وراد، تو یہ جمع ہے ورد کی، خوشنما سرخ رنگ والے۔ حواشيها جمع ہے حاشیہ کی، کناروں کو کہتے ہیں، ‏حواشیہا، ھا ضمیر راجع ہے كِلة کو، ان جالی دار کپڑوں کے کنارے۔ مشاكهة الدم، دم خون کو کہتے ہیں، مشاکہہ، شاکہ ‏یشاکہ مشاکہہ کا معنی ہوتا ہے مشابہ ہونا۔ علون بأنماط عتاق وكلة وراد حواشيها مشاكهة الدم علون بأنماط عتاق، انہوں نے اوپر ڈال رکھے تھے عمدہ قسم کے اونی کپڑے بھئی، ان ہودجوں پر ان عورتوں نے عمدہ ‏قسم کے اونی کپڑے ڈال رکھے تھے، وكلة اور جالی دار کپڑے بھی، جالی دار پردے بھی۔ وراد، کیسے جالی دار کپڑے؟ ‏یاد رکھیے یہ كِلة یہ ہے موصوف، اور وراد ہے اس کی صفت، وراد ہے اس کی صفت۔ اور یہ كِلة ہے مفرد، اور وراد ‏ہے جمع، جمع۔ اور یاد رکھیے جو آگے حواشيها آ رہا ہے یہ فاعل ہے وراد کا، یہ کیا ہے؟ وراد کا۔ سرخ رنگ والا، تو یہ ‏اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ سرخ رنگ والے کیا ہیں؟ حواشيها، اس کے کنارے ہیں۔ ترکیب آتی ہے بھئی؟ ترکیب سیکھو ‏بھئی ترکیب بڑی ضروری ہے اور آسان ہے بھئی، تھوڑی سی انسان محنت کرے، بہترین سیکھ لیتا ہے۔ 'زیدٌ قائمٌ' کیا ‏ترکیب کریں گے؟ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ھو ضمیر اس کا فاعل، جو کس کو ‏راجع؟ زید۔ ہم 'ضربَ' میں تو ہم فعل میں تو ہم ہمیشہ ضمیر نکالتے ہیں صفت کے صیغوں میں نہیں نکالتے، یہ ہمارے ‏ہاں شائع غلطی ہے، ہمیشہ صفت کے صیغوں میں کیا نکالو؟ فاعل، جیسے فعل کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے۔ یا ضمیر ‏ہوگی یا اسم ظاہر ہوگا، اسم ظاہر جو بھی اسم ہے اور ضمیر نہیں وہ کیا ہے؟ اسم ظاہر۔ 'ضربَ زیدٌ'، یہ زیدٌ کیا ہے؟ فاعل ‏ہے، اور یہ اسم، یہ ضمیر ہے یا اسم ظاہر ہے؟ اسم ظاہر۔ تو فعل کے لیے فاعل ضرور چاہیے، یا تو اسم ظاہر آئے گا یا ‏ضمیر۔ 'ضربَ زیدٌ'، ضربَ فعل، زیدٌ مرفوع لفظاً فاعل، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ۔ آپ کا ایک ساتھی بولا ‏کہ بھئی 'ضربَ' کے اندر ھو ضمیر بھی ہوتی ہے وہ تو آپ نے نکالی نہیں، تو کیا جواب دیں گے؟ کہ فاعل ایک آتا ہے ‏دو نہیں، اگر زید کو فاعل بناتے ہو تو ھو ضمیر نہیں نکال سکتے، اور اگر ھو ضمیر نکالتے ہو تو زید کو فاعل نہیں بنا ‏سکتے۔ تو لہٰذا آپ کہیں گے اب ضمیر نہیں، لیکن اسی زید کو مقدم کر دو 'زیدٌ ضربَ'، تو کیا ترکیب ہوگی؟ زیدٌ مبتدا، ‏فاعل کبھی فعل پر مقدم نہیں ہوتا ہمیشہ بعد میں آتا ہے، تو یہ اب مبتدا بن گیا اب فاعل نہیں رہا، اور ضربَ فعل، اور فاعل ‏چاہیے یا نہیں چاہیے؟ آگے تو اور کچھ نہیں تو کیا کریں گے؟ اسی کے اندر ھو ضمیر نکالیں گے جو کس کو لوٹ رہی ‏ہے؟ زید کو ربط دے رہی ہے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ زید مبتدا کے لیے۔ ‏تو آپ فعل کے لیے تو ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل ضرور نکالتے ہیں، لیکن اسم فاعل کے لیے نہیں نکالتے، حالانکہ وہ بھی ‏ضروری ہے بھئی، ہمیشہ صفت کے جو صیغے ہیں ان کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل۔ 'زیدٌ ضاربٌ' کیا ‏ترکیب کریں گے؟ زیدٌ مبتدا، ضاربٌ صیغہ اسم فاعل، ھو ضمیر اس کے اندر فاعل بھئی، جو کس کو راجع؟ زید، اسم ‏فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ، فعل تو اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنتا ہے، صفت کا صیغہ کیا بنتا ہے؟ شبہ جملہ ‏ہو کر یہ خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل یا ‏نائب فاعل چاہیے۔ تو یہاں پر یہ جو حواشی ہے یہ فاعل ہے وراد کے لیے، کس کے لیے؟ وراد کے لیے، وراد کا کیا ‏معنی؟ سرخ رنگ والا۔ سرخ، رنگ والا صیغہ صفت کا صیغہ۔ اچھا، اور اک اور ضابطہ یاد رکھیے۔ فاعل جب اسمِ ظاہر ‏ہو، فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں۔ کیا؟ مفرد رکھتے ہیں۔ ضَرَبَ زَيْدٌ، فاعل ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر؟ اسمِ ظاہر، تو ضَرَبَ ‏مفرد ہی آئے گا۔ اب میں کہنا چاہتا ہوں وہ جو دو زید ہیں انہوں نے پٹائی کی۔ تو زید کی جگہ میں لانا چاہتا ہوں الزَّيْدَانِ، وہ دو جو زید ہیں۔ ‏تو ضَرَبَ کو بدلیں گے؟ نہیں بھئی، ضَرَبَ اسی طرح رہے گا۔ ضَرَبَ الزَّيْدَانِ، ضَرَبَ الزَّيْدَانِ۔ وجہ یہ کہ فاعل جب اسمِ ‏ظاہر ہو، فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد۔ میں لانا چاہتا ہوں الزَّيْدُونَ، تو ضَرَبُوا الزَّيْدُونَ نہیں کہوں گا بلکہ ضَرَبَ الزَّيْدُونَ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فاعل ‏جب بھی اسمِ ظاہر ہو، فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں، چاہے وہ اسمِ ظاہر مفرد ہو، چاہے تثنیہ ہو، چاہے جمع، اس سے ‏کوئی غرض نہیں۔ ہے تو اسمِ ظاہر، تو فعل کو کیا رکھو؟ مفرد۔ اچھا، اور صرف پہلا اور چوتھا صیغہ ہے جن کے لیے فاعل اسمِ ظاہر آ سکتا ہے۔ پہلا صیغہ کون سا؟ ضَرَبَ، اور چوتھا ‏صیغہ؟ ضَرَبَتْ، ماضی میں بھی، مضارع میں بھی۔ پہلا اور چوتھا صیغہ یعنی واحد مذكر غائب اور واحد مؤنث غائب۔ یہ ‏دو صیغے ہیں جن کا فاعل اسمِ ظاہر آ سکتا ہے۔ باقی 12 صیغوں کا فاعل انہی کے ساتھ جڑی ہوئی یا چھپی ہوئی اس میں ‏ضمیر ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ فاعل جب بھی کیا آئے؟ اسمِ ظاہر، فعل کو ہمیشہ کیا رکھیں گے؟ مفرد رکھیں گے، مفرد رکھیں ‏گے۔ اچھا، یہی ضابطہ ہے صفت میں بھی، صفت کا فاعل بھی جب کیا آئے؟ اسمِ ظاہر، صفت کو کیا رکھتے ہیں؟ مفرد ‏رکھتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اچھا، تو یہاں دو اعتراض ہوتے ہیں بھئی، ایک اعتراض یہ کہ كِلَّةٍ ہے موصوف اور وِرَادٍ ہے صفت، كِلَّةٌ ہے مفرد، وِرَادٍ ‏جمع ہے وَرْدٌ کی، یہ تو ہے جمع۔ تو اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ موصوف مفرد ہے اور صفت جمع۔ دوسرا اعتراض یہ، ‏وِرَادٍ یہ ہے جمع اور حَوَاشِيهَا یہ کیا ہے اس کے لیے؟ فاعل ہے، کیا ہے؟ فاعل ہے، اور فاعل اسمِ ظاہر ہے یا ضمیر ہے؟ ‏اسمِ ظاہر، اور اسمِ ظاہر جب فاعل ہو فعل اور صفت کو کیا رکھتے ہیں؟ مفرد، تو وِرَادٍ کو مفرد ہونا چاہیے۔ اعتراض ‏سمجھ میں آئے بھئی؟ جواب یہ کہ ہاں، ہونا ایسا ہی چاہیے لیکن عرب کبھی ایسا کرتے ہیں کہ جمع کا صیغہ اگر مفرد کے وزن پر آ رہا ہو تو ‏اسی کو استعمال کر لیتے ہیں، جیسے یہ وِرَادٍ، یہ مفرد کے وزن پر ہے۔ ہے تو جمع لیکن وزن کون سا ہے عام طور پر، ‏یہ کس کا وزن ہے؟ جیسے وِرَادٍ بر وزنِ كِتَابٌ، كِتَابٌ مفرد ہے یا نہیں؟ حِمَارٌ، حِمَارٌ کیا ہے؟ مفرد، تو یہ مفرد کا وزن ہے ‏اس لیے اس طرح جائز ہے بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں:‏ عَلَوْنَ بِأَنْمَاطٍ عِتَاقٍ انہوں نے ان ہودجوں پر چڑھا رکھے ہیں عمدہ قسم کے، رنگین، اونی پردے۔ وَكِلَّةٍ وِرَادٍ حَوَاشِيهَا اور ایسے باریک جالی دار کپڑے، ایسے، توجہ ہے؟ ایسے باریک جالی دار کپڑے، وِرَادٍ حَوَاشِيهَا، يرحمك الله، وِرَادٍ ‏حَوَاشِيهَا، جن کے کنارے سرخ رنگ کے ہیں۔ جن کے کنارے سرخ رنگ کے ہیں۔ یہ دوسری صفت آ گئی كِلَّةٍ کی، مُشَاكِهَةِ ‏الدَّمِ، اور وہ جالی دار کپڑے کیسے ہیں؟ خون کے مشابہ ہیں یعنی گہرے سرخ رنگ کے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا ‏بھئی؟ مُشَاكِهَةِ الدَّمِ، خون جیسے ہیں، خون کے مشابہ ہیں۔ تو یہ وِرَادٍ حَوَاشِيهَا یہ صفتِ اول ہے كِلَّةٍ کی، اور مُشَاكِهَةِ الدَّمِ یہ صفتِ ثانی ہے كِلَّةٍ کی۔ تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ مُشَاكِهَةِ الدَّمِ یہ تو معرفہ ہے، کیونکہ جس لفظ کی اضافت کس کی طرف ہو جائے؟ ‏معرفہ کی طرف ہو وہ معرفہ بن جاتا ہے، اور كِلَّةٍ یہ تو ہے نکرہ۔ تو نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے، كِلَّةٍ جیسے نکرہ ہے ‏مُشَاكِهَةِ الدَّمِ یہ بھی نکرہ ہے بھئی۔ یہ اضافتِ لفظی ہے، اضافتِ لفظی۔ اور اضافتِ لفظی تعریف کا اور تخصیص کا فائدہ ‏نہیں دیتی۔ اضافتِ لفظی اسے کہتے ہیں کہ صفت کا صیغہ مضاف ہو اپنے معمول کی طرف۔ کس کی طرف؟ بھئی جیسے فعل کے لیے فاعل اور مفعول وغیرہ چاہیے ہوتے ہیں، ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا، تو زَيْدٌ فاعل بھی ‏چاہیے اور عَمْرًوا مفعول بھی۔ اسی طرح جو صفت کے صیغے ہیں، اسی سے ضَرَبَ سے جو ضَارِبٌ بنا، اس کے لیے ‏بھی ضَارِبٌ کے لیے بھی فاعل چاہیے کہ کون ہے ضارب؟ اور اس کے لیے مجروب بھی چاہیے، مجروب نہیں تو ‏ضارب کیسے بن گیا بھئی؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس صفت کے، تو یہ جو ہیں اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ، یہ ‏صفت کے صیغے، ان کی جب اضافت ہو جائے اپنے معمول یعنی فاعل یا مفعول کی طرف، تو یہ اضافت کیا کہلاتی ہے؟ ‏اضافتِ لفظی، اور اضافتِ لفظی صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے یعنی تنوین وغیرہ گر جاتی ہے۔ تو یہاں بھی ‏مُشَاكِهَةٍ تنوین گر گئی، تو صرف لفظوں میں تخفیف آئی، معنی میں کوئی فائدہ نہیں ہوا، جیسے مُشَاكِهَةٍ کا لفظ پہلے نکرہ ‏تھا بغیر اضافت کے، اضافت کے بعد اب بھی کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ تو اس کی اضافت ہو رہی ہے اپنے مفعول کی طرف ‏یہاں پر، مشابہ ہے وہ پردہ، کس کے مشابہ ہے؟ الدَّمِ، خون کے، تو یہ مفعول ہے بھئی، تو صفت کی اضافت کس کی ‏طرف ہو رہی ہے اپنے؟ معمول کی طرف، تو یہ اضافتِ لفظی ہوئی تو یہ اسی طرح نکرہ ہے بھئی۔ تو ان عورتوں نے ان ہودجوں پر ایسے عمدہ، رنگین کپڑے پردے لٹکا رکھے ہیں اور ایسے جالی دار کپڑے جن کے ‏کنارے خوشنما سرخ رنگ کے ہیں، مُشَاكِهَةِ الدَّمِ، اور وہ جالی دار کپڑے خون جیسے ہیں یعنی ان کی طرح سرخ رنگ ‏کے ہیں۔ وُوَرَّكْنَ فِي السُّوبَانِ يَعْلُونَ مَتْنَهُ عَلَيْهِنَّ دَلُّ النَّاعِمِ الْمُتَنَعِّمِ وُوَرَّكْنَ، وُوَرَّكْنَ کا معنیٰ علامہ زوزنی نے لکھا کہ اس کا معنیٰ ہے جانور کے سرین پر سوار ہونا یعنی پچھلے حصے ‏پر۔ بھئی آپ جانور پر سوار ہیں، اونٹ وغیرہ پر، ظاہر سی بات ہے آپ جب وہ اونٹ چڑھائی کی طرف چڑھے گا تو ‏انسان تھوڑا سا پھسل کے پیچھے کی طرف ہو جائے گا یا نہیں؟ تو یہ کچھ جو پچھلے حصے کی طرف ہے یہ گویا کہ اس ‏کے پچھلے دھڑ پر سوار ہے، اس کی سرین پر سوار ہے۔ تو یہ وُوَرَّكْنَ وُرِكْ سے ہے، کس سے؟ وُرِكْ، وُرِكْ کولھوں کو ‏کہتے ہیں بھئی، کولھوں کو، سرین کو، انسان بیٹھتے ہوئے جو حصہ زمین پر رکھتا ہے، تو اسی سے ہے وُوَرَّكْنَ، وہ ‏عورتیں کہاں پر سوار ہیں؟ ان اونٹوں کے پچھلے حصوں پر، پچھلے دھڑ پر ہیں۔ فِي السُّوبَانِ، سوبان جگہ کا نام ہے، وادیِ اس وادی ہوگی یا جگہ، سوبان وادی کے اندر، سوبان وادی کے اندر یہ کہاں پر ‏سوار ہیں؟ ہاں، یہ اونچی کوئی اونچی زمین ہے، سوبان میں وہ جانوروں کے اونٹوں کے پچھلے حصے پر سوار ہیں، ‏يَعْلُونَ مَتْنَهُ، متن کہتے ہیں کسی چیز کا، زمین کا سخت اور اونچا حصہ جو ہو اس کو متن کہتے ہیں بھئی، متن الارض، ‏اور ھا ضمیر راجع ہے سوبان کو، ای متن السوبان۔ عَلَيْهِنَّ دَلُّ النَّاعِمِ، دَلٌّ یہ لفظ پہلے گزرا ہے بھئی کہیں پر؟ یہ اس کاادہ؟ کہاں گزرا ہے؟ أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ وَإِنْ ‏كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ صَرْمِي فَأَجْمِلِي۔ تو تو دَلَّ يَدُلُّ دَلَالَةً اور تدلل کا معنیٰ ہے ناز و نخرے دکھانا، اور اسی طرح یہ علامت کو ‏بھی کہتے ہیں، تو یہاں یہ علامت کے معنیٰ میں ہے۔ النَّاعِمِ، ناعم کا معنیٰ ہے نرم و نازک بھئی، نرم و نازک۔ الْمُتَنَعِّمِ، مت نعم کا معنیٰ ہے نعمتوں میں رہنے والا، آسودہ حال ‏بھئی، اچھی زندگی گزارنے والا، نعمتوں کے اندر زندگی گزارنے والا۔ وُوَرَّكْنَ فِي السُّوبَانِ يَعْلُونَ مَتْنَهُ عَلَيْهِنَّ دَلُّ النَّاعِمِ الْمُتَنَعِّمِ اور وہ جو ہودج نشین عورتیں تھیں، وہ مقامِ سوبان میں اونٹوں کے پچھلے حصے پر سوار تھیں، يَعْلُونَ مَتْنَهُ، اس حال ‏میں، یہ حال ہے، يَعْلُونَ مَتْنَهُ یہ پورا جملہ، اس حال میں کہ وہ چڑھ رہی تھیں کہاں پر؟ مَتْنَهُ، سوبان کی اونچی اور سخت ‏زمین پر، اس جب سوبان کی سخت اور اونچی زمین پر جب وہ چڑھ رہی تھیں تو اس وقت کہاں سوار تھیں؟ اونٹوں کے ‏پچھلے حصے پر۔ عَلَيْهِنَّ دَلُّ النَّاعِمِ الْمُتَنَعِّمِ، ان پر علامتیں تھیں کس چیز کی؟ نرم و نازک افراد کی، الْمُتَنَعِّمِ، وہ لوگ جو ‏کس میں رہنے والے ہوں؟ نعمتوں کے اندر، آسودہ حال لوگ ہوں، ان پر آسودہ حال لوگوں والی اور نرم و نازک ہونے کی ‏علامتیں ان میں موجود، ان پر موجود تھیں بھئی، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ ان میں یعنی علامتیں ان میں موجود تھیں یعنی وہ خود کیا تھیں؟ نرم و نازک تھیں اور آسودہ زندگی گزارنے والی ہیں، ‏جبکہ بعضوں نے لکھا کہ وَرَّكَ کا معنیٰ انہوں نے لکھا مائل ہونا، مائل ہونا ایک طرف کو جھکنا، ایک طرف کو مڑنا۔ ‏وُوَرَّكْنَ فِي السُّوبَانِ، اور وہ مائل ہو رہی تھیں کہاں پر؟ سوبان مقام میں، کوئی پہاڑی وغیرہ جیسی کچھ اونچی جگہ ہوگی، ‏وہ مائل ہو رہی تھیں یعنی مائل ہو رہی تھیں اونٹوں کے پچھلے حصے کی طرف اور پھر اس سے اتر گئیں، مراد یہ ہے۔ ‏پچھلے حصے کی طرف مائل ہو رہی تھیں یعنی مراد کیا ہے؟ وہ اس سے اتر گئیں، کب؟ يَعْلُونَ مَتْنَهُ، یا یوں کہیں، وہ مائل ‏ہو رہی تھیں سوبان مقام میں کس کی طرف؟ اونٹوں کے پچھلے حصے کی طرف وہ مائل ہو رہی تھیں، اور آگے يَعْلُونَ ‏مَتْنَهُ ای نَزَلْنَ، وہ نیچے اتر آئیں لَمَّا يَعْلُونَ مَتْنَهُ، جب وہ اس اونچے مقام پر چڑھ رہی تھیں۔ توجہ ہے؟ مقامِ سوبان، یہاں پر وہ مائل ہو رہی تھیں کس کی طرف؟ اونٹوں کے پچھلے حصے کی طرف، اور جس وقت ‏وہ اونٹ سوبان مقام کی اونچی جگہ پر چڑھ رہے تھے، سوبان مقام کے سخت اور اونچی جگہ پر، تو اس وقت وہ اس سے ‏نیچے اتر آئیں۔ اور یہ معنیٰ ہے عَلَيْهِنَّ دَلُّ النَّاعِمِ الْمُتَنَعِّمِ، ان پر نرم و نازک لوگوں، نرم و نازک افراد اور نعمتوں میں رہنے والے افراد ‏جیسی علامتیں تھیں۔ کیا معنیٰ؟ یعنی وہ خود نرم و نازک تھیں، کوئی تکلیف اٹھا نہیں سکتیں، کوئی مشقت کر نہیں سکتیں، ‏اور آسودہ زندگی گزارنے والی ہیں، تو جب وہ خود نرم و نازک ہیں تکلیف برداشت نہیں کر سکتیں تو دوسروں کا بھی اتنا ‏ہی خیال رکھتی ہیں، چنانچہ جب چڑھائی آ رہی تھی تو وہ چونکہ خود نرم و نازک ہیں، نعمتوں میں رہنے والی ہیں، تو ‏لہٰذا انہوں نے اونٹوں پر بھی اسی طرح شفقت کرتے ہوئے اور ترس کھاتے ہوئے کیا کیا؟ اس سے نیچے اتر آئیں۔ یہ تھیں ‏ان میں علامتیں کس چیز کی؟ نرم و نازک ہونے کی اور نعمتوں میں رہنے کی، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ بَكَرْنَ بُكُورًا وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ فَهُنَّ وَوَادِي الرَّسِّ كَالْيَدِ لِلْفَمِ بَكَرَ يَبْكُرُ بُكُورًا کا معنیٰ صبح سویرے، صبح سویرے اٹھنا یا کہیں آنا جانا اس کے لیے باکور بولتے ہیں عربی میں بھئی۔ ‏وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ، وَاسْتَحَرْنَ نہیں ہوگا بھئی یہ صیغہ، جی؟ ہاں کیسے ہوگی گردان؟ یہ باب کون سا ہے؟ إِفْتَعَلَ، اِسْتَحَرَ ‏اِسْتَحَرَا اِسْتَحَرُوا اِسْتَحَرَتْ اِسْتَحَرَتَا اِسْتَحَرْنَ، یہ را ساکن ہونی چاہیے اور حا پر زبر ہونی چاہیے، یہ درست کر لیں اپنی ‏کتابوں میں۔ وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ، جی، اِسْتَحَرَ کے معنیٰ ہوتے ہیں سحری کے وقت، یعنی رات کا جو آخری حصہ ہوتا ہے ‏فجر کے قریب قریب، اس حصے میں اٹھنا یا کہیں آنا جانا اس کے لیے اِسْتَحَرَ بولتے ہیں، اور سُحْرَةٍ وہی سحری کا وقت ‏بھئی۔ فَهُنَّ وَوَادِي الرَّسِّ، وادیِ رس یہ کوئی وادی کا نام ہے بھئی، كَالْيَدِ لِلْفَمِ، ید ہاتھ، فَم منہ۔ بَكَرْنَ بُكُورًا وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ اچھا، وہ عورتیں جو ہیں صبح سویرے اٹھیں، پہلے کا معنیٰ کر لیں اٹھنے کے، اور دوسرے کا معنیٰ کیا کر لیں؟ صبح ‏سویرے، سحری کے وقت چلنے کے، وہی اندھیرا صبح، فجر، اندھیرے کا وقت یا اور وہی کیا ہے؟ رات کا آخری حصہ ‏بھی اس کے ساتھ ہی ہوتا ہے نا، تو وہی بس صبح سویرے اٹھنا اور اسی کو سحری بھی کہہ دیا، اسی کو صبح سویرے ‏بھی کہہ دیا۔ بَكَرْنَ بُكُورًا، وہ صبح سویرے اٹھیں، وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ، اور سحری کے وقت وہ سفر پر نکلیں، فَهُنَّ وَوَادِي ‏الرَّسِّ كَالْيَدِ لِلْفَمِ، پس وہ ہودج نشین عورتیں اور وادیِ رس جو ہیں ایسے ہی ہیں جیسے کہ ہاتھ ہوتا ہے منہ کے لیے۔ یعنی ان عورتوں کا ارادہ تھا وادیِ رس میں جانے کا، جس طرف بھی جانا ہے وہ راستے میں آتا ہوگا یا اس رخ پہ جانا ‏ہوگا، تو یہ عورتیں وادیِ رس کا انہوں نے ارادہ کیا اور یہ عورتیں اور وادیِ رس اسی طرح تھیں جیسے ہاتھ اور منہ ‏ہوتے ہیں۔ جب آپ کوئی چیز کھاتے ہیں دیکھیے، تو آپ لقمہ بناتے ہیں اور سیدھا ہاتھ کے ذریعے لقمہ منہ میں ڈال لیتے ‏ہیں، دیکھیے اس میں کبھی ہاتھ غلطی نہیں کرتا، سیدھا لقمہ منہ تک جاتا ہے، حالانکہ آپ اس کی طرف نظر بھی نہیں کر ‏رہے، دیکھ بھی نہیں رہے ہوتے، تو جیسے ہاتھ منہ کی طرف جاتے ہوئے کوئی غلطی نہیں کرتا، اسی طرح یہ عورتیں ‏انہوں نے وادیِ سوبان کا جو ارادہ کیا ہے اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی یہ نہیں کرتی بھئی۔ بَكَرْنَ بُكُورًا وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ، صبح سویرے یہ عورتیں اٹھیں اور سحری کے وقت، یا ایک ہی معنیٰ کر لیں، صبح سویرے ‏سحری کے وقت یہ عورتیں جو ہیں سفر پر نکلیں، فَهُنَّ وَوَادِي الرَّسِّ كَالْيَدِ لِلْفَمِ، پس یہ عورتیں اور وادیِ رس ایسے ہی ہیں ‏جیسے کہ ہاتھ ہوتا ہے منہ کے لیے۔ چلیے، بس کریں۔ چلیے بس، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 29 of 62