وَأَلْقَى بِصَحْرَاءِ الْغَبِيطِ بَعَاعَهُ نُزُولَ الْيَمَانِي ذِي الْعِيَابِ الْمُحَمَّلِ
كَأَنَّ مَكَاكِيَّ الْجِوَاءِ غُدَيَّةً صُبِحْنَ سُلَافًا مِنْ رَحِيقٍ مُفَلْفَلِ
كَأَنَّ السِّبَاعَ فِيهِ غَرْقَى عَشِيَّةً بِأَرْجَائِهِ الْقُصْوَى أَنَابِيشُ عُنْصُلِ.
امرؤ القیس کا معلقہ، امرؤ القیس کا معلقہ آج ہم ختم کریں گے، انشاءاللہ۔ اور اس میں شروع میں شاعر نے اپنے جوانی کے ایام کا ذکر کیا اور اپنی معشوقہ کے حسن و جمال کو ذکر کیا اور اس کو تشبیب کہتے ہیں۔ اور عرب شعراء کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنے قصائد کی ابتدا تشبیب سے کرتے تھے۔
اس کے بعد امرؤ القیس نے اپنے اوپر آنے والی ایک رات کا ذکر کیا، غموں سے بھری ہوئی رات۔ اس کے بعد اپنے گھوڑے کی صفات ذکر کیں اور اب اس کے بعد ایک بارش کو بیان کر رہا ہے، بڑی ہی موسلا دھار بارش تھی، جس نے بہت زیادہ نقصان کیا، درختوں کو گرا دیا اور مکانات لوگوں کے اس میں گر گئے اور بہت زیادہ سیلاب آیا جس میں بہت سے حیوانات وغیرہ ڈوب گئے، ان کو اب وہ ذکر کر رہا ہے بھئی۔
وَأَلْقَى بِصَحْرَاءِ الْغَبِيطِ بَعَاعَهُ، نُزُولَ الْيَمَانِي ذِي الْعِيَابِ الْمُحَمَّلِ. القى القاء کا معنیٰ ہے ڈال دینا، گرا دینا۔ صحراء بھئی، صحراء ریگستان کو کہتے ہیں، یہ آپ کے حاشیے میں دیکھ لیں بھئی اگر آپ کے پاس مکتبۃ البشرىٰ والوں کی کتاب ہو، اس کا حاشیہ دیکھیں صحراء: الصحراء تجمع على الصحاري والصحارى، دیکھ رہے ہیں بھئی؟ ہاں، جن کے پاس یہ کتاب نہیں ہے وہ ساتھیوں کے پاس دیکھ لیں۔ الصحاري اور الصحارى بھی جمع ہے اس کی، اور الصحارى بھی اس کی جمع ہے۔
اور یاد رکھیے یہ عرب کا طریقہ ہے کہ عربی میں آپ جانتے ہیں کہ حروفِ علت کے اندر اعلال ہوتا ہے، واؤ اور یاء کبھی کبھار الف سے بدل جاتے ہیں، کبھی حذف ہو جاتے ہیں، گر جاتے ہیں۔ عربی کے اندر، عربی رسم الخط میں اگر یاء جو ہے الف سے بدل چکی ہو تو اس یاء کے نیچے نقطے نہیں لکھتے۔ اور اگر یاء الف سے نہیں بدلی تو پھر اس کے نیچے نقطے لکھتے ہیں۔ جیسے على، دیکھو ہم لکھتے کس طرح ہیں: عین، لام اور یاء، لیکن پڑھتے کیا ہیں؟ على، الف پڑھتے ہیں، یاء نہیں پڑھتے، معلوم ہوا یہ جو آخر میں یاء ہے یہ کس سے بدل چکی؟ الف سے بدل چکی، تو یہ جو یاء لکھیں گے تو اس کے نیچے نقطے نہیں ہوں گے، نقطوں کا نہ ہونا بتلا دے گا کہ یہاں یاء نہیں پڑھنی، الف پڑھنا ہے، على۔
اور في، في کے اندر تو ہم یاء پڑھ رہے ہیں، توجہ ہے؟ حرفِ جر جو ہے في، في میں ہم یاء پڑھ رہے ہیں کہ نہیں پڑھ رہے؟ معلوم ہوا لکھی بھی یاء اور پڑھ بھی یاء رہے ہیں، یعنی یہ یاء الف سے نہیں بدلی، جب نہیں بدلی تو اس یاء کے نیچے وہ دو نقطے لگا دیں گے۔ آپ جب بھی جدید عربی کی کتابیں دیکھیں گے، في کے نیچے آپ کو دو نقطے لگے ہوئے نظر آئیں گے، معنیٰ یہ ہے یہ یاء ہے اس کو یاء ہی پڑھنا ہے، اور جہاں یاء کے نیچے نقطے نہ ہوں تو سمجھ جائیں اس کو یاء نہیں پڑھنا بلکہ کیا پڑھنا ہے؟ الف پڑھنا ہے۔ تو یہاں پر بھی دیکھ لیں ایک لفظ الصحاري، یاء کے نیچے نقطے ہیں، معلوم ہوا اس کو یاء ہی پڑھنا ہے، تو کیسے پڑھیں گے؟ الصحاري، دیکھو میں یاء پڑھ رہا ہوں، الصحاري۔ اور ایک یاء کے نیچے نقطے نہیں، معلوم ہوا اس کو الف پڑھنا ہے تو کیسے پڑھیں گے؟ الصحارى، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تو یہ صحراء ریگستان کو کہتے ہیں اور اس کی جمع صحاری بھی آتی ہے اور صحارى بھی۔ الغبيط، غبیط بھئی ایک صحراء کا نام ہے، کوئی خاص صحراء ہے صحرائے غبیط، تو غبیط اس کا نام ہے۔ بعاعه، بعاعٌ کہتے ہیں بوجھ کو بھئی، بوجھ، وزن، ثقل، تو بعاع کسے کہتے ہیں؟ بوجھ کو۔ اسی طرح بادلوں کے اندر جو خوب پانی ہو، اس کو بھی بعاع کہتے ہیں، وہ جو بادلوں کا بوجھ ہے، وہ جو اس کا پانی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
نُزُولَ الْيَمَانِي، نزول کا معنیٰ ہے اترنا، کسی جگہ پر آنا، کسی جگہ پر نازل ہونا۔ اور یمانی، یمانی یہ نسبت ہے یمن کی طرف، یمن والا، اور یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، اي التاجر اليماني، کون سا تاجر؟ یمن کا تاجر، یمن والا یعنی یمن کا تاجر۔ تو یہ نزول جو ہے، یہ مصدر ہے اور اس کا معنیٰ ہے اترنا، اور یہ یہاں پر مفعولِ مطلق واقع ہو رہا ہے، کیا واقع ہو رہا ہے؟ مفعولِ مطلق۔ مفعولِ مطلق آپ نے پڑھا ہے، وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہو، ضربت زيداً ضرباً، ضربت زيداً ضرباً، تو یہ ضرباً دیکھو ماقبل میں فعل بھی کون سا ذکر؟ ضربت، تو یہ اسی کا ہم معنیٰ ہے، ضربت میں بھی ضرب اور یہ خود بھی ضرب، تو دیکھو، مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہو، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یہاں پر یہ جو نزول ہے، یہ مفعولِ مطلق ہے۔ اس پر آپ فوراً آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ پیچھے تو کہیں نزول کا ذکر ہی نہیں ہے، کوئی ایسا فعل ذکر ہی نہیں ہے: نزلت یا نزلنا یا نزل، فعل ہی نہیں ذکر، تو یہ مفعولِ مطلق کیسے ہے؟ تو جواب یاد رکھیے گا، کافیہ میں صاحبِ کافیہ نے آپ کو تفصیل بتلائی تھی کہ بعض اوقات جو ہے لفظوں کے اندر تو وہ فعل نہیں ہوتا لیکن وہ فعل وہاں سے مفہوم ہو رہا ہوتا ہے، اس جملے کے مضمون سے وہ سمجھ میں آ رہا ہوتا ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جیسے کوئی مسافر آتا ہے، وہ جہاں پر نازل ہوتا ہے، اتر، جہاں اپنا سامان رکھے گا، کیا مطلب ہے؟ وہ وہیں پر کیا ہو رہا ہے؟ نازل ہو رہا ہے، وہیں پر پڑاؤ کر رہا ہے، وہیں پر اتر رہا ہے۔ تو پیچھے یہی ذکر ہے کہ ان بادلوں نے اپنا بوجھ وہاں اس جگہ پہ ڈال دیا، یعنی وہاں پر وہ نازل ہوا، وہاں پر انہوں نے پڑاؤ کر لیا۔ مسافر کیا کرتا ہے؟ مسافر اپنا سامان کہاں اتارتا ہے؟ جہاں پڑاؤ کرنا ہے، ہر جگہ تو وہ سامان نہیں اتارے گا، تو بادلوں نے بھی اپنا بوجھ وہاں پر اس صحراء میں اتار دیا، یعنی سارا پانی وہاں آ گیا، گویا ان بادلوں نے وہاں پر کیا کر لیا؟ پڑاؤ کر لیا، وہ وہاں پر اتر آئے، نازل ہو گئے، تو اس لیے ماقبل کے جملے سے یہ مفعولِ مطلق کیا ہے؟ سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی ماقبل کے جملے کا مضمون جو ہے، یہ نزول ہے بھئی۔
اچھا، ذِي الْعِيَابِ، ذِي الْعِيَابِ، جیسے ہوتا ہے ذو مال، ذو مال کا کیا معنیٰ؟ مال والا، اور یہ حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ، حالتِ نصبی میں الف کے ساتھ، اور حالتِ جری میں یاء کے ساتھ: ذو مال، ذا مال، ذي مال، تو یہاں حالتِ جری میں ہے ذي، ذِي الْعِيَابِ۔ عیاب جمع ہے عیبہ کی، اور عیبہ کہتے ہیں تھیلی بھئی، کپڑے وغیرہ کی جو تھیلی ہو یا کپڑے کی جو گٹھڑی ہو اس کو عیبہ کہتے ہیں، اور اس کی جمع کیا ہے؟ عیاب، تو ذِي الْعِيَابِ کا کیا معنیٰ؟ تھیلوں والا، یا گٹھڑیوں والا۔ قدیم زمانے میں تاجر جو ہوتے تھے، وہ دیہات میں اپنا کپڑا لے کر جگہ جگہ گھومتے تھے، تو وہ سارے کپڑے جو ہیں انہوں نے ایک تھیلے میں ڈالے ہوتے، گٹھڑی کے اندر ڈالے ہوتے، تو وہ کیا ہے؟ عیبہ، وہ تھیلا اور وہ گٹھڑی کیا ہے؟ عیبہ، جس میں انہوں نے کپڑے ڈالے ہوئے ہیں اور گلی گلی گھوم رہے ہیں، لوگوں کو کپڑا دکھاتے ہیں، کوئی ان سے خریدتا ہے اور کوئی نہیں خریدتا، تو وہ تھیلے کے اندر اپنے کپڑے لے کر گھوم رہے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، تو ذِي الْعِيَابِ کا کیا معنیٰ؟ تھیلوں والا، گٹھڑیوں والا۔ الْمُحَمَّلِ، حمل يحمل تحميل کا معنیٰ ہے اٹھانا، محمل جن کو اٹھایا گیا ہو، یہ صفت ہے عیاب کی: العياب المحمل، وہ گٹھڑیاں جن کو اٹھایا گیا ہو۔ تاجر کیا کرتا ہے؟ وہ کپڑے والا وہ گٹھڑیاں اٹھا کر گھومتا ہے، تو وہ گٹھڑیاں کیا ہیں؟ محمل ہیں، اٹھائی گئی ہیں۔
تو اليماني کا کیا معنیٰ؟ یمن والا، اور اس کا موصوف محذوف ہے: نزول التاجر اليماني، جیسے کہ یمنی تاجر نازل ہوتا ہے، آتا ہے، اترتا ہے، ایسا یمنی تاجر ذِي الْعِيَابِ، دیکھو اليماني مجرور ہے، التاجر اليماني، یمانی کیا ہے؟ صفتِ اول، یہ مجرور ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ذِي الْعِيَابِ اسی کی صفت ہے، تو یہ بھی کیا ہوگا؟ مجرور، ایسا یمنی تاجر ذِي الْعِيَابِ الْمُحَمَّلِ جو گٹھڑیاں جس نے اٹھائی ہوئی ہیں، اٹھائی ہوئی گٹھڑیوں والا ہے، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
کہتے ہیں بڑی موسلا دھار بارش ہوئی اور آپ جانتے ہیں جب پہاڑوں میں بارش ہو تو وہ پھر سارا پانی اکٹھا ہو کر کسی ایک طرف کا رخ کرتا ہے سیلاب کی صورت میں، اور بارش زیادہ ہو تو وہ پانی بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے اور تباہی مچا دیتا ہے بھئی۔ پھر یہ پانی وادی کے گہرے حصوں کی طرف بہتا ہے، جس طرف گہرائی ہو ادھر کا رخ کرتا ہے اور پھر جہاں کوئی گہری جگہ وغیرہ ہو وہاں سارا اکٹھا ہو جاتا ہے۔
تو یہ جو کہتا ہے، "بارش ہوئی، اس کا سارا پانی صحرائے غبیط میں جا کر جمع ہو گیا۔" یعنی وہ کچھ ذرا گہرائی میں ہو گا تو سارا پانی وہاں جا کر جمع ہو گیا۔
تو کہتے ہیں:
وَأَلْقَى بِصَحْرَاءِ الغَبِيطِ بَعَاعَهُ
اور ڈال دیا اس بادل نے صحرائے غبیط کے اندر اپنا بوجھ، اپنا سارا بوجھ، اپنا سارا وزن اس بادل نے، یا یوں کہیں اپنا سارا پانی کہاں پر ڈال دیا؟ صحرائے غبیط میں۔
نُزُولَ اليَمَانِي
جیسے کہ ایک یمنی تاجر وہ نازل ہو۔ ایسا یمنی تاجر:
ذِي العِيَابِ المُحَمَّلِ
جس نے بہت سی، بہت سی گٹھڑیاں اٹھانے والا یمنی تاجر جیسے کسی جگہ پر نازل ہوتا ہے، اسی طرح اس بادل نے بھی اپنا سارا بوجھ، اپنا سارا پانی کہاں پر ڈال دیا؟ صحرائے غبیط میں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں:
وَأَلْقَى بِصَحْرَاءِ الغَبِيطِ بَعَاعَهُ
نُزُولَ اليَمَانِي ذِي العِيَابِ المُحَمَّلِ
اور ڈال دیا صحرائے غبیط میں اس بادل نے اپنے بوجھ کو جیسے کہ گٹھڑیاں اٹھانے والا ایک یمنی تاجر نازل ہوتا ہے، اس کی طرح یہ نازل ہوا۔ اس کی طرح اس نے اپنا سارا پانی وہاں ڈال دیا۔
كَأَنَّ مَكَاكِيَّ الجِوَاءِ غُدَيَّةً
صُبِحْنَ سُلاَفاً مِنْ رَحِيقٍ مُفَلْفَلِ
مکاکی جمع ہے مکاء کی۔ مکاء، مکاء ایک پرندے کا نام ہے، چھوٹا سا سفید رنگ کا ہوتا ہے بھئی، اور سیٹی نما اس کی آواز ہوتی ہے، سفید رنگ کا چھوٹا پرندہ۔ مکاءٌ، مکاءٌ اس کا، یہ جمع ہے مکاکی اس کی۔
اچھا، جواء یہ وادی کا نام ہے بھئی، وادی کا نام۔ غُدَيَّةً، غدیۃ کا کیا معنی؟ یہ لفظ گزرا ہے پہلے؟ غداۃ، ہاں:
كَأَنِّي غَدَاةَ البَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوا
لَدَى سَمُرَاتِ الحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
غداۃ بھی گزرا ہے اور غدوۃٌ، دونوں کا معنی کیا ہے؟ صبح۔ یہ غُدَيَّةٌ اسی کی تصغیر ہے، تصغیر ہے۔ اصل میں تھا غُدَيْوَةٌ، اور یا اور واؤ جمع ہو گئے تو واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کیا گیا۔
تو غدیۃً، صبح، مراد صبح ہی ہے بھئی۔ صُبِحْنَا۔ یاد رکھیے یہ صبحنا صبح سے ہے، اور اسی سے ہے صبوح بھئی صبوح۔ عرب کے ہاں قدیم زمانہ جاہلیت میں شراب عام پی جاتی تھی۔ تو صبح کے وقت جو شراب پی جاتی اس کو وہ صبوح کہتے، اسی طرح جو بھی چیز صبح کے وقت وہ پیتے یا اس کا معمول ہوتا اس کو کیا کہتے؟ صبوح کہتے بھئی۔ تو یہاں شراب مراد ہے بھئی، صبحنا جو پلائی گئی صبح کے وقت۔
اچھا، تو صَبَّحَ کے معنی وہ صبح کے وقت کوئی چیز کھانا پینا۔ سلافاً، سلاف کہتے ہیں عمدہ اور اعلیٰ قسم کی شراب بھئی، عمدہ اور اعلیٰ شراب، سلاف۔ رحیق، رحیق کہتے ہیں خالص شراب کو، خالص شراب کو۔ مفلفل، مفلفل، یہ لفظ کہیں گزرا ہے بھئی؟ کہاں پر؟
تَرَى بَعَرَ الأَرْآمِ فِي عَرَصَاتِهَا
وَقِيعَانِهَا كَأَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ
تو یہ فلفل یا فِلفِل میں نے بتایا تھا فُلفُل پڑھنا اعلیٰ ہے، اعلیٰ لغت ہے۔ تو یہ فلفل سے ہی فعل بنا لیا فَلْفَلَ۔ فلفل کسے کہتے ہیں؟ کالی مرچ کو۔ تو عرب کا یہ طریقہ تھا سردیوں کے اندر، سردیوں کے اندر یہ کالی مرچ کو پیس کر شراب میں ملاتے تھے تاکہ اس کے ذریعے حرارت ان کو حاصل ہو بھئی، سردی کی وجہ سے۔
تو اس جس کے اندر وہ کالی مرچ ملائی گئی وہ ہے مفلفل بھئی، مفلفل۔
كَأَنَّ مَكَاكِيَّ الجِوَاءِ غُدَيَّةً
صُبِحْنَ سُلاَفاً مِنْ رَحِيقٍ مُفَلْفَلِ
گویا کہ جواء وادی کے جو سفید پرندے ہیں، سفید چڑیاں ہیں جو وہاں کی، غدیۃً صبح کے وقت صبحنا سلافاً ان کو پلائی گئی ہے عمدہ قسم کی سلافاً من رحیق مفلفل، عمدہ قسم کی کالی مرچ ملائی گئی خالص شراب۔
عمدہ اور اعلیٰ کالی مرچ ملائی گئی خالص شراب۔ گویا کہ جواء مقام کے پرند، مکاکی پرندے جو ہیں، مکاکی پرندوں جو ہیں، ان کو صبح کے وقت کالی مرچ ملائی گئی خالص اور عمدہ شراب پلائی گئی ہے۔
معنی سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی یہ ہے کہ یہ پرندے جو ہیں، ان کی آواز سیٹی نما ہوتی ہے۔ اور یہ بارش ہوئی تھی اگلے دن یہ چہچہا رہے تھے اور ان کی آواز سیٹی نما ہوتی ہے، تو امرؤ القیس کہتا ہے یوں ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے ان کو کالی مرچ ملائی گئی شراب پلائی گئی ہے۔
بھئی دیکھیے، یہ کالی مرچ آپ جانتے ہیں بہت تیز ہوتی ہے۔ اور مرچیں تیز انسان کھا لے تو سی سی کرتا ہے یا نہیں بھئی؟ تو یہ کہتا ہے کہ یہ جو پرندے ان کی آواز بھی اس طرح تھی، یہ جو سیٹی کی آواز نکال رہے تھے صبح کے وقت، اور چونکہ بارش ہوئی تھی، پرندے چہچہا رہے ہیں، بڑے خوش ہیں، تو ان کی خوشی کو تعبیر کر رہا ہے گویا ان کو شراب پلائی گئی ہے، شراب پلائی گئی ہے۔
اور اس کی وجہ سے بڑے خوش ہیں اور چہچہا رہے ہیں۔ اور آواز اس کی کس کی طرح ہے؟ سیٹی کی طرح، تو جیسے کالی مرچ ملائی گئی شراب ان کو پلائی گئی ہے اور یہ اس کالی مرچ کی تیز اثر کی وجہ سے ایسی آوازیں نکال رہے ہیں اور نشے کے اندر مدہوش ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
كَأَنَّ مَكَاكِيَّ الجِوَاءِ غُدَيَّةً
صُبِحْنَ سُلاَفاً مِنْ رَحِيقٍ مُفَلْفَلِ
گویا کہ جواء وادی کے جو سفید پرندے ہیں صبح کے وقت ان کو خالص اور عمدہ کالی مرچ ملائی گئی شراب پلائی گئی ہو۔
كَأَنَّ السِّبَاعَ فِيهِ غَرْقَى عَشِيَّةً
بِأَرْجَائِهِ القُصْوَى أَنَابِيشُ عُنْصُلِ
سباع، درندے بھئی۔ غرقٰی، جمع ہے غریق کی، جیسے مرضٰی جمع ہے مریض کی، ڈوبے ہوئے، غرق ہوئے۔ عشِیۃً، عشیا کہتے ہیں زوال کے بعد کا وقت، زوال کے بعد کا وقت، اگلی فجر تک یہ سارا وقت کیا کہلاتا ہے؟ عشیہ۔
ارجاء کہتے ہیں کناروں کو، کناروں کو، یہ رجاء کی جمع ہے۔ قصوی، مؤنث ہے اقصٰی کی، اور یہ دور کو کہتے ہیں، دور بھئی، دور۔ انابیش کہتے ہیں جڑوں کو، انابیش، جڑیں۔ عنصل کہتے ہیں جنگلی پیاز کو بھئی۔
ایک تو یہ عام پیاز ہے آپ استعمال کرتے ہیں بھئی، اور ایک اسی طرح جنگلی پیاز کہتے ہیں، یہ ایک پودا ہوتا ہے اور یہ اسی کی نسل کا ہے لیکن اس کی جڑیں کچھ پیاز نما تھوڑی سی ہوتی ہیں لیکن پیاز وغیرہ نہیں اس میں لگا ہوتا، بس اس کا نام کیا ہے؟ جنگلی، ہے اسی نسل کا پودا، اور یہ زمینوں وغیرہ میں پھیلتا ہے، زمینوں کو نقصان پہنچاتا ہے بھئی، پھیلتا چلا جاتا ہے، جہاں آ جائے ہر طرف پھیل جاتا ہے یہ، تو لوگ اس کو اکھاڑتے ہیں، نکالتے ہیں بھئی۔
تو وہ ہے عنصل، جنگلی پیاز بھئی۔
كَأَنَّ السِّبَاعَ فِيهِ غَرْقَى عَشِيَّةً
گویا کہ درندے جو ہیں اس ارجاء مقام کے اندر غرقٰی، ڈوبے ہوئے، عشِیۃً شام کے وقت۔
بِأَرْجَائِهِ القُصْوَى
اس کے دور کے کناروں میں، اس ارجاء مقام کے دور کے کناروں میں وہ پرندے، وہ درندے جو پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، غرق ہوئے تھے، وہ اسی طرح تھے جیسے کہ:
أَنَابِيشُ عُنْصُلِ
جیسے جنگلی پیاز کی جڑیں ہوتی ہیں۔
کہتے ہیں بھئی، بارش ہوئی، سیلاب آیا، بہت موسلا دھار بارش تھی، درختوں کو گرا دیا، مکانوں کو گرا دیا، ہر طرف سیلاب آیا، تو بہت زیادہ درندے وغیرہ اس کے اندر ڈوب گئے۔ اور وہ سارے اس سیلابی پانی میں بہہ کر آئے، تو وہاں کون سی وادی؟ جواء، جواء وادی کے اندر اور صحرائے غبیط کے اندر وہ پانی جب جمع ہوا، تو اس پانی کے اندر وہ درندے ڈوبے ہوئے تھے اور اس کے دور کے کناروں میں۔
بھئی دیکھیے، جیسے جنگلی پیاز میں نے بتایا یہ زمین کو نقصان دیتا ہے، فصلوں کو نقصان دیتا ہے، تو لوگ اس کو اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتے ہیں، نکالتے ہیں۔ اور عموماً جہاں کہتے ہیں پانی وغیرہ زیادہ ہو، تھوڑا وہاں یہ اگ آتے ہیں۔
تو جیسے وہ جنگلی پیاز کی جڑیں جب ان کو اکھاڑا جائے تو ان پہ پانی، کیچڑ، مٹی وغیرہ لگی ہو گی، تو اسی طرح یہ درندے پانی کے اندر ڈوبے ہوئے تھے اور دور کے کناروں میں اور کیچڑ میں، مٹی وغیرہ میں لت پت تھے، اور تو یہ اسی طرح معلوم ہو رہے تھے جیسے کہ جنگلی پیاز کی جڑیں جیسے ان کو اکھاڑ کر پھینکا گیا ہو اور وہ کیچڑ میں لت پت ہوتے ہیں، اسی طرح یہ جو ڈوبے ہوئے درندے وغیرہ تھے یہ بھی کیچڑ میں لت پت تھے بھئی۔ اور یہ دور کے کناروں میں یہ حال تھا تو درمیان کس نے، درمیان میں کتنے زیادہ ہوں گے، آپ خود ہی اس کا اندازہ لگا لیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
كَأَنَّ السِّبَاعَ فِيهِ غَرْقَى عَشِيَّةً
بِأَرْجَائِهِ القُصْوَى أَنَابِيشُ عُنْصُلِ
گویا کہ درندے اس مقام میں، جواء کے کناروں میں ڈوبے ہوئے شام کے، اس کے دور کے کناروں میں شام کے وقت ڈوبے ہوئے اسی طرح معلوم ہو رہے تھے جیسے انابیش عنصر، جیسے جنگلی پیاز کی جڑیں ہوتی ہیں۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟