وَمَرَّ عَلَى الْقَنَانِ مِنْ نَفَيَانِهِ فَاَنْزَلَ مِنْهُ الْعُصْمَ مِنْ كُلِّ مَنْزِلِ
وَتَيْمَاءَ لَمْ يَتْرُكْ بِهَا جِذْعَ نَخْلَةٍ وَلَا اُطُمًا اِلَّا مَشِيدًا بِجَنْدَلِ
كَاَنَّ ثَبِيرًا فِي عَرَانِينِ وَبْلِهِ كَبِيرُ اُنَاسٍ فِي بِجَادٍ مُزَمَّلِ.
امرؤ القیس کا معلقہ چل رہا ہے اور تشبیہ کے بعد امرؤ القیس نے اپنے اوپر آنے والے غموں کو ذکر کیا اور ایک ایسی غم ناک رات کا ذکر کیا جو گزر ہی نہیں رہی تھی، اس کے بعد پھر امرؤ القیس نے اپنے گھوڑے کی تعریفات ذکر کیں۔ اور گھوڑے کی صفات ذکر کرنے کے بعد اب وہ ایک بارش کا منظر بیان کر رہا ہے اور اس کے خوب گہرے بادل اور ان میں چمکنے والی بجلی کو بیان کر رہا ہے اور بارش کو بیان کیا کہ بڑی ہی موسلا دھار بارش ہوئی جو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اور بڑے بڑے تناور درختوں کو اس بارش نے زمین پر گرا دیا، آگے کہتا ہے:
وَمَرَّ عَلَى الْقَنَانِ مِنْ نَفَيَانِهِ فَاَنْزَلَ مِنْهُ الْعُصْمَ مِنْ كُلِّ مَنْزِلِ
مرّ يمرّ کا معنیٰ ہوتا ہے گزرنا، قنان یہ ایک پہاڑ کا نام ہے، نفيان بارش کے چھینٹے بھئی، بارش کے چھینٹے کوئی پانی وغیرہ گرے اور اس سے جو چھینٹے اڑتے ہیں اس کو نفيان کہتے ہیں۔ اَنَزَلَ ينزل کا معنیٰ ہے اتارنا، العصم یہ جمع ہے اعصم کی، اعصم اس حیوان کو کہتے ہیں جس کے ایک پاؤں میں سفیدی ہو یعنی باقی حیوان کا رنگ تو کچھ اور ہے لیکن اس کے ایک یا دو پاؤں کس رنگ کے ہوں؟ سفید رنگ کے ہوں تو اس کو اعصم کہتے ہیں۔
من كلّ منزل، منزل جو ہے اترنے کی جگہ، ظرف کا صیغہ ہے بھئی۔ امرؤ القیس کہتا ہے: وَمَرَّ عَلَى الْقَنَانِ مِنْ نَفَيَانِهِ کہ وہ جو موسلا دھار بارش تھی، قنان پہاڑ پر بھی اس کے چھینٹے گزرے۔ وَمَرَّ عَلَى الْقَنَانِ قنان پہاڑ پر مِنْ نَفَيَانِهِ اس بارش کے چھینٹے۔ نَفَيَانِهِ ها ضمیر راجع ہے مطر کو، مطر بارش کے چھینٹے۔ فَاَنْزَلَ مِنْهُ الْعُصْمَ العصم میں نے بتایا جمع ہے اعصم کی، وہ حیوان جس کے پاؤں میں سفیدی ہو اور یہاں اس سے مراد پہاڑی بکرے ہیں بھئی، پہاڑی بکرے اور بالخصوص ان کو عصم کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ ان کے پاؤں میں بھی عموماً کیا ہوتی ہے؟ سفیدی ہوتی ہے، سفید رنگ ہوتا ہے، کچھ بال وغیرہ سفید ہوتے ہیں۔
اور پہاڑوں میں یہی حیوان پائے جاتے ہیں، اعصم، یہ پہاڑی بکرے بھئی۔ اگر آپ نے غور کیا ہو بھئی کہ یہ جو بکرے وغیرہ ہیں، یہ پہاڑوں میں یا ایسی جگہوں پر بڑی خطرناک جگہوں پر چڑھ جاتے ہیں، اتنی خطرناک جگہ کہ انسان کو دیکھ کر خوف آتا ہے کہ یہاں سے یہ اب اترے گی کیسے؟ لیکن ان کو پروا بھی نہیں ہوتی، آرام سے وہاں چڑھ بھی جاتی ہیں اور اتر بھی جاتی ہیں۔ تو شاید غالباً دنیا میں پہاڑوں پر چڑھنے میں سب سے زیادہ ماہر یہ بکرے اور بکریاں ہیں بھئی۔
بالکل سیدھی دیوار ہو، اس کو تھوڑا سا ترچھا کر دیں، میرا خیال ہے کوئی 15-20 درجے کے زاویے کے ساتھ تھوڑی سی وہ جھکی ہوئی، تھوڑی سی ڈھلوان ہو، تھوڑی سی کہ انسان تو اس پر چڑھنے کا سوچ بھی نہ سکے اور یہ اس پر بڑے آرام سے چڑھ جاتی ہیں، بس تھوڑی سی پاؤں رکھنے کی جگہ کہیں ملتی جائے یہ وہاں چڑھ جاتی ہیں بھئی۔ اور اگر ابھی تک غور نہیں کیا اب آپ غور کرنا، آپ دیکھیں گے یہ بکرے وغیرہ ایسی جگہوں پر چڑھ جاتے ہیں کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
تو امرؤ القیس کہتا ہے: وَمَرَّ عَلَى الْقَنَانِ مِنْ نَفَيَانِهِ اس بارش کے کچھ چھینٹے جو ہیں قنان پہاڑ پر بھی گزرے، فَاَنْزَلَ مِنْهُ الْعُصْمَ تو انہوں نے اتار دیا اس قنان پہاڑ سے ان پہاڑی بکروں کو، اس بارش کے چھینٹوں نے اس سے پہاڑی بکروں کو کیا کر دیا؟ نیچے اتار دیا یعنی نیچے اترنے پر مجبور کر دیا مِنْ كُلِّ مَنْزِلِ ہر اترنے کی جگہ سے یعنی جہاں جہاں سے بھی اترنے کا راستہ تھا وہاں سے ان کو اترنے پر مجبور کر دیا اور کیا کہا کہ اس بارش کے چھینٹے گزرے یعنی قنان پر پوری بارش نہیں برسی، اس بارش کے ہلکی فوار پڑی، کچھ معمولی بارش اس پر پڑی لیکن یہ بارش اتنی موسلا دھار تھی کہ اس کے معمولی چھینٹے بھی اتنے زیادہ تھے کہ وہ پہاڑی بکرے جنہیں کوئی خوف ہی نہیں ہوتا پہاڑوں کے اندر اونچائی وغیرہ کا، وہ بھی اس خوف سے نیچے اتر آئے کہ اتنی بارش ہے، اگر اور مزید بارش ہو گئی تو یہ نہ ہو کہیں ہمیں بہا کر نہ لے جائے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتا ہے: وَمَرَّ عَلَى الْقَنَانِ مِنْ نَفَيَانِهِ، فَاَنْزَلَ مِنْهُ الْعُصْمَ مِنْ كُلِّ مَنْزِلِ اور قنان پہاڑ پر بھی اس بارش کے چھینٹے گزرے تو انہوں نے اتار دیا اس قنان پہاڑ سے ان پہاڑی بکروں کو مِنْ كُلِّ مَنْزِلِ ہر اترنے کی جگہ سے۔ تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ اس بارش، یہ بارش کتنی موسلا دھار تھی، کتنی تیز تھی، اس کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ اس کی تھوڑی سی چھینٹے اور فوار جو ہے جب قنان پہاڑ پر آئی تو وہاں سے سارے پہاڑی بکرے نیچے اتر آئے، اتنی موسلا دھار بارش تھی۔
آگے کہتا ہے: وَتَيْمَاءَ لَمْ يَتْرُكْ بِهَا جِذْعَ نَخْلَةٍ، وَلَا اُطُمًا اِلَّا مَشِيدًا بِجَنْدَلِ. تیماء یہ بستی کا نام ہے بھئی، بستی کا نام اور اس کا عطف ہے قنان پر، قنان پر اور قنان پر علیٰ جارہ داخل ہے، وہ مجرور ہے تو تیماء یہ بھی مجرور ہے، البتہ آپ کو اس پر نصب نظر آ رہا ہے۔ تو یہ نصب نہیں ہے، یہ جر ہی ہے، اس کا جر نصب کی صورت میں آتا ہے کیونکہ یہ غیر منصرف ہے بھئی، غیر منصرف۔ آپ نے پڑھا غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے بھئی اور جر بھی کس صورت میں ہوتا ہے؟ نصب یعنی فتحہ کی صورت میں آتا ہے بھئی۔
لم يترك ترك يترك کا معنیٰ چھوڑ دینا، جذع نخلة، جذع تنے کو کہتے ہیں بھئی، تنے کو اور اس کی جمع اجذع اور جزوع آتی ہے۔ نخلة کھجور کے درخت کو کہتے ہیں اور اس کی جمع نخل آتی ہے بھئی۔ میں نے ذکر کیا بھئی یہ الفاظ جو آپ یاد کر رہے ہیں نا مفرد کی جمع اور جمع کی مفرد ضرور یاد کریں کیونکہ ہر جگہ کہیں مفرد کی ضرورت پڑتی ہے، کہیں جمع کی اور جمع کے مختلف اوزان ہیں تو دونوں لفظ آپ کے ذہن میں ہوں گے تو کہیں پر اگر مفرد آ جائے تو بھی آپ کو پتہ چل جائے گا اور جمع آ جائے تو بھی آپ کو پتہ چل جائے گا۔
وَلاَ اُطُمًا اُطم جو ہے اور اسی طرح اطُم جو ہے، یہ قلعے کو کہتے ہیں بھئی، قلعہ یا اسی طرح جو اونچی عمارت ہو، بلند عمارت ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اطم بھئی، اطم۔ الا مشيدًا بجندل شاد يشيد شيدًا کا معنیٰ ہوتا ہے عمارت کو پختہ کرنا، مضبوط کرنا۔ پختہ اور مضبوط کرنا، اونچا کرنا اور مشید یہ کون سا صیغہ ہے؟ یہ اسم مفعول ہے بھئی، باع يبيع بيعًا فهو بائع وبيع يباع بيعًا فذاك مبيع، اسی طرح شاد يشيد سے اسم مفعول کیا آیا؟ مشيد، مشيد۔ تو یہ اسم مفعول ہے، پختہ کیا ہوا، مضبوط کیا ہوا یا اس کا معنیٰ کر لیں اونچا کیا ہوا، بجندل، جندل کسے، جندل کسے کہتے ہیں؟ چٹان کو، چٹان، یہ لفظ کہاں گزرا تھا؟
فیالک من لیل کان نجومه بأمراس کتّان الی صمّ جندل، تو یہ چٹان کو کہتے ہیں۔
تو امرؤ القیس کہتا ہے: وَتَيْمَاءَ اور تیماء بستی پر بھی اس بارش کے چھینٹے گزرے لَمْ يَتْرُكْ بِهَا جِذْعَ نَخْلَةٍ تو اس نے نہیں چھوڑا وہاں پر کسی کھجور کے تنے کو یعنی سب کو زمین پر گرا دیا وَلَا اُطُمًا اور نہ ہی کسی قلعے کو یا کسی اونچی عمارت کو، کسی کو اس نے نہیں چھوڑا اِلَّا مَشِيدًا بِجَنْدَلِ مگر وہ جس کو مضبوط کیا گیا ہو چٹانوں کے ساتھ یا جس کو بلند کیا گیا ہو چٹانوں کے ساتھ۔ یعنی جو پختہ مکانات تھے، پکے، چٹانوں کے مضبوط پتھروں سے جو بنائے گئے تھے اور چونا وغیرہ کے ساتھ ان کو پلستر کیا گیا تھا، مضبوط مکانات تھے صرف وہ بچ گئے، باقی کسی مکان کو اس بارش نے نہیں چھوڑا، سب کو گرا دیا بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
وَتَيْمَاءَ لَمْ يَتْرُكْ بِهَا جِذْعَ نَخْلَةٍ، وَلَا اُطُمًا اِلَّا مَشِيدًا بِجَنْدَلِ اور تیماء بستی پر بھی اس بارش کے چھینٹے گزرے تو نہیں چھوڑا انہوں نے وہاں پر کسی کھجور کے تنے کو اور نہ کسی اونچی عمارت کو یعنی سب کو زمین پر گرا دیا اِلَّا مَشِيدًا بِجَنْدَلِ مگر وہ مکانات جو چٹان کے پتھروں کے ساتھ جن کو پختہ کیا گیا تھا یا چٹان کے پتھروں کے ساتھ جن کو بلند کیا گیا تھا، صرف وہ بچ گئے، باقی کوئی مکان نہیں بچا۔ تو اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ کوئی درخت وہاں بچا ہی نہیں، کوئی مکان بچا ہی نہیں کچا مکان کوئی بھی، نہیں یہ بس ایک مبالغے کے طور پر ہے کہ بڑی موسلا دھار بارش تھی، بڑے درختوں کو اس نے گرا دیا اور بہت سے گھر بھی گر گئے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
كَاَنَّ ثَبِيرًا فِي عَرَانِينِ وَبْلِهِ، كَبِيرُ اُنَاسٍ فِي بِجَادٍ مُزَمَّلِ. كَاَنَّ ثَبِيرًا ثبیر یہ پہاڑ کا نام ہے بھئی، فِي عَرَانِينِ وَبْلِهِ عرانين جمع ہے عرنین کی اور عرنین جو ہے یہ ناک کو کہتے ہیں بھئی، ناک۔ یہ ناک کی ہڈی جو ہے اونچی اس کو عرنین کہتے ہیں۔ اسی طرح بارش کے جو ابتدائی قطرات ہوں ان کو بھی عرنین کہتے ہیں بھئی اور جمع کیا ہے؟ عرانین بھئی۔ وبلِهِ وبلٌ جمع ہے وابل کی اور وابل بارش کو کہتے ہیں۔
کبیر أناسٍ، کبیر بڑا، أناس لوگ بھئی، کبیر أناسٍ لوگوں کا بڑا یعنی لوگوں کا سردار۔ فی بجادٍ مزمّلٍ، بجادٌ کہتے ہیں دھاری دار چادر، دھاری دار چادر وہ چادر جس میں کسی رنگ کی دھاریاں وغیرہ بنی ہوں بھئی۔ مزمّل، زمّل يزمّل تزميل کا معنیٰ ہے لپیٹنا، تو اسی سے اسم مفعول ہے مزمّل جس کو لپیٹا گیا ہو، لپیٹا گیا ہو۔
اور یاد رکھیے مزمّلٍ یہ بظاہر مجرور ہے اس وقت بھئی اور یوں معلوم ہوتا ہے یہ بجاد کی صفت ہے لیکن نہیں بھئی، یہ مجرور نہیں، یہ دراصل مرفوع ہے، یہ صفت ہے کبیر أناسٍ کی اور کبیر أناسٍ، کبیر أناسٍ مضاف دیکھیے مرفوع ہے، مرفوع۔ تو یہ کبیر کی صفت ہے بھئی اور کبیر مضاف ہے أناس مضاف الیہ اور آپ جانتے ہیں کوئی لفظ جب معرفہ کی طرف مضاف ہو تو وہ معرفہ بن جاتا ہے، غلام زیدٍ، غلام زیدٍ، زید کی طرف غلام کی اضافت ہوئی، زید معرفہ تھا تو غلام کا لفظ بھی معرفہ بن گیا۔ لیکن اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔
نکرہ ہی رہتا ہے مثلاً غلام رجلٍ، تو رجل نکرہ ہے اس کی طرف غلام کی اضافت کی تو یہ نکرہ ہی رہے گا بھئی معرفہ نہیں بنے گا۔ تو یہاں پر بھی کبیر أناسٍ یہ کیا ہے؟ یہ نکرہ ہے، لہٰذا اس کی صفت مزمّل وہ بھی کیا ہے؟ نکرہ اور یہ مرفوع تو مزمّل بھی مرفوع، لیکن پھر اس پر جر پڑھا گیا، بھئی اس کو کہتے ہیں جر جوار۔ کیا کہتے ہیں؟ جر جوار۔ جر جوار آپ آگے بھی پڑھتے رہیں گے، جگہ جگہ آئے گا۔ جر جوار یہ ہے کہ ایک لفظ کا اپنا اعراب تو کچھ اور ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ والے لفظ پر جر آتا ہے تو اس ساتھ والے یعنی پڑوسی کی وجہ سے اس لفظ پر بھی جر پڑھ دیا جاتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جر جوار۔ تو کبیر تو مرفوع ہے، تو مزمّلٌ اس کی صفت بھی کیا ہونی چاہیے؟ مرفوع، لیکن اس کے ساتھ بجادٍ مجرور آ رہا ہے تو اس بجاد کی وجہ سے اس پر بھی کیا پڑھ دیا گیا؟ جر پڑھ دیا گیا۔
جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے بھئی، حدیث میں۔ حدیث میں آتا ہے: من ملک ذا رحم محرم منه عتق عليه. من ملک جو شخص مالک ہوا ذا رحم رشتہ دار کا، قریبی رشتہ دار کا، محرم ایسا قریبی رشتہ دار محرم منه جو اس کا محرم بھی ہو، عتق عليه وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ دو شرطیں حدیث میں ذکر ہوئیں بھئی، جو شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک ہوا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا، قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو۔ محرم جانتے ہو بھئی؟ محرم وہ رشتہ دار جن سے شریعت نے نکاح کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا، جہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں جیسے جیسے بیٹی ہے، بہن ہے، ماں ہے، پھوپھی ہے وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ محرم یعنی جن سے شریعت میں نکاح کی کوئی گنجائش نہیں، ہمیشہ کے لیے شریعت نے ان کو حرام قرار دیا ہے تو یہ کیا ہیں؟ محرم ہیں، تو حدیث میں کیا آیا؟ من ملک ذا رحم محرم منه، جو شخص قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا عتق عليه وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ مثلاً ایک شخص ہے اس کا والد غلام ہے بھئی کہیں جنگ میں پکڑ کر لے گئے اور غلام بنا لیا، یہ گیا اور جا کر اس کو خریدتا ہے تو خریدتے ہی فوراً آزاد ہو جائے گا، آزاد کرنا نہیں پڑے گا، جیسے ہی خریدے گا جس لمحے میں ایجاب و قبول کرے گا تو جس لمحے میں ایجاب و قبول کرے گا ساتھ ہی اسی وقت مالک بنے گا اور مالک بنتے ہی اسی لمحے میں وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔
تو حدیث میں دو باتیں ذکر ہوئیں، جو مالک ہوا ذا رحم، ذا رحم بھئی جیسے ذو مال کیا معنیٰ؟ مال والا، ذا مال حالت نصبی میں، ذی مال حالت جری میں اور یہاں کیا آیا؟ ذا رحم، حالت نصبی میں ہے۔ اور آگے محرم اسی کی صفت ہے، ذا رحم محرمًا ہونا چاہیے۔ ایسا قریبی رشتہ دار، محرم من ہو جو اس کا کیا ہو؟ محرم ہو۔ لیکن محرم پر جر پڑھا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے ساتھ والے لفظ الرحم پر کیا پڑھا جا رہا ہے؟ الرحمین، وہ تو مضاف الیہ ہے، وہ مجرور۔ تو اس پر بھی کیا پڑھ دیا گیا؟ جر پڑھ دیا گیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جر جوار۔ حالانکہ محرم کا اپنا اعراب جو ہے وہ نصب ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، بجاد پر جر تھا، اس لیے مزمل پر بھی جر پڑھ دیا گیا۔
تو میں نے بیان کیا، نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ اور نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ کیا رہتا ہے؟ نکرہ۔
معرفہ کسے کہتے ہیں؟ معرفہ جانتے ہیں یا نہیں؟ میں نے بیان کیا تھا شاید پہلے بھی۔ معرفہ وہ ہے کہ بولتے ہی سننے والا اس کو سمجھ جائے۔ اگر سننے والا نہیں سمجھتا کہ اس سے کون مراد ہے، تو وہ معرفہ ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مثلاً زید کا ایک غلام ہے۔ اب میں اپ سے کہتا ہوں: جَاءَنِي غُلَامُ زَيْدٍ۔ اپ سمجھ گئے کہ زید کا فلاں وہ جو غلام ہے، وہ آیا ہے۔ لیکن اگر زید کے کئی غلام ہیں، اب میں اپ سے کہتا ہوں: جَاءَنِي غُلَامُ زَيْدٍ، میرے پاس زید کا غلام آیا۔ کچھ اپ کو پتہ چلا کون سا والا غلام ہے؟ نہیں، اب یہ نکرہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ معرفہ اسے کہتے ہیں جو کسی معین ذات پر دلالت کرے، اور یہاں یہ کسی بھی معین ذات پر دلالت نہیں کر رہا، پتہ ہی نہیں چل رہا کون سا والا غلام مراد ہے۔ تو اس صورت میں یہ کیا ہے؟ نکرہ ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی:
كَأَنَّ ثَبِيرًا فِي عَرَانِينِ وَبْلِهِ
كَبِيرُ أُنَاسٍ فِي بِجَادٍ مُزَمَّلِ
گویا کہ ثبیر پہاڑ جو ہے فِي عَرَانِينِ وَبْلِهِ، اس بارش کے ابتدائی قطرات میں كَبِيرُ أُنَاسٍ، یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے کہ وہ انسانوں کا سردار ہو۔ مُزَمَّلٌ فِي بِجَادٍ، ترتیب دے لیں عبارت کو: كَبِيرُ أُنَاسٍ مُزَمَّلٌ فِي بِجَادٍ، انسانوں کا ایسا سردار مُزَمَّلٌ جس کو لپیٹا گیا ہو فِي بِجَادٍ دھاری دار چادر میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
اس بارش کے ابتدائی قطرات میں کوہِ ثبیر یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے انسانوں کا کوئی سردار ہو جسے دھاری دار چادر میں لپیٹا گیا ہو۔
عموماً سردار اور بڑے لوگ چادر ضرور اوڑھتے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قدیم زمانے میں تو یہ کپڑا ہاتھ سے بُنا جاتا تھا اور چادر لینا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی بھئی، بلکہ کپڑے بھی لینا بڑا مشکل ہوتا تھا اور پھٹے پرانے جیسے بھی کپڑے ہوتے تھے، بہرحال اسی میں بیچارے لوگ گزارا کرتے تھے اور چادر لینا یا زیب و زینت والے مزید کپڑے لینا، یہ تو کوئی مالدار یا بڑے لوگ ہوتے، وہی لے سکتے تھے بھئی۔
تو سردار کی عموماً نشانی یہ بھی ہوتی تھی، وہ عموماً چادر اس کے پاس ہوتی تھی، چادر اوڑھتا تھا بھئی۔ تو اسی لیے کہا جیسے انسانوں کا سردار ہو جس کو لپیٹا گیا ہو فِي بِجَادٍ دھاری دار چادر میں، یا یوں ترجمہ کر لیں: ایسا سردار جس نے دھاری دار چادر اوڑھ رکھی ہو، جس نے دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی ہو۔
كَأَنَّ ذُرَى رَأْسِ المٌجَيْمِرِ غُدْوَةً
مِنَ السَّيْلِ وَالغُثَّاءِ فَلْكَةُ مِغْزَلِ
ذُرَى جمع ہے ذُرْوَةٌ کی، اوپر والا حصہ، ہر چیز کا اوپر والا حصہ، اس کو ذُرْوَةٌ کہتے ہیں بھئی، جمع ہے ذُرَى۔
مُجَيْمِر، مجیمر یہ پہاڑی کا نام ہے بھئی۔
غُدْوَةً، غدوۃ کا کیا معنی؟ صبح کا وقت بھئی۔ یہ لفظ کہاں گزرا؟ كَأَنِّي غَدَاةَ البَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوا لَدَى سَمُرَاتِ الحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ۔
مِنَ السَّيْلِ، سیل کہتے ہیں سیلاب کو۔ وَالغُثَّاءِ، غثاء کہتے ہیں یہ سیلاب کے پانی کے اوپر جو جھاگ وغیرہ ہوتی ہے بھئی، جس میں مٹی وغیرہ بھی شامل، تنکے، پتے، گھاس پھوس وغیرہ، اس طرح کی چیزیں اس میں ہوتی ہیں، اس کو غثاء کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہ صرف صرف جھاگ نہیں ہوتا، میں نے بیان کر دیا، اس میں کیا ہوتے ہیں؟ ہاں، تنکے، پتے، مٹی وغیرہ اور گھاس پھوس وغیرہ، وہ سارا جو ہے اس کو غثاء کہتے ہیں بھئی۔
اور فَلْكَةُ مِغْزَلِ، مغزل کہتے ہیں چرخے کو بھئی، جس پر دھاگا بنایا جاتا تھا اور پھر کپڑے بُنے جاتے تھے، تو اس کو مغزل کہتے ہیں اور اس کی مختلف صورتیں تھیں بھئی، مختلف صورتیں۔ بعض تو وہ تھا وہ پہیے نما صورت ہوتی تھی بھئی، اس پہیے کو گھمایا جاتا تھا اور پھر اس سے دھاگا بُنا جاتا تھا اور جبکہ بعض چرخے ایسے کہ اس میں پہیہ نما حصہ نہیں، عربی میں اس کو مغزل ہی کہتے ہیں، ایک سیدھی سی لکڑی جس کے کونے پر دھاگا باندھا ہوتا اور اس کو گھماتے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس نے کچھ تکون سی کچھ شکل ہوتی تھی اور اس کے ساتھ وہ جو روئی یا بھیڑ کی اون وغیرہ ہے، اس کو گھماتے تھے، اس کے ساتھ دھاگا لگا ہوا ہوتا اور وہ جب گھومتی جا رہی ہے تو دھاگے میں بل پڑتے جا رہے ہیں اور ادھر اون تھوڑی تھوڑی ساتھ لگاتے جا رہے ہیں اور وہ دھاگا بنتا چلا جا رہا ہے۔ کچھ صورت ذہن میں آ رہی ہے؟ نیچے ایک لکڑی ہو، گول حصہ ہو اور اسی پر پھر اس دھاگے کو لپیٹتے بھی جاتے، جوں جوں تیار ہوتا جا رہا ہے، تھوڑا سا لمبا ہو جاتا پھر لپیٹ دیتے، پھر اس کے بعد اور اون ساتھ ہاتھ کے ساتھ جوڑتے جا رہے ہیں اور اس کو گھماتے جا رہے ہیں، وہ نیچے گھوم رہا ہے بھئی اپنی جگہ پر، ہاتھ سے اس کو گھماتے جا رہے ہیں، اس اون میں یا اس روئی میں بل پڑتے جا رہے ہیں اور دھاگا بنتا جا رہا ہے، پھر تھوڑا لمبا ہو جائے، پھر اسی کے ساتھ اس کو لپیٹ دیا جاتا، پھر اس کو مزید چکر دیے جاتے بھئی۔
اور نیچے ایک حصہ ہوتا تھا گول سا جس کے ساتھ وہ اون یا روئی وغیرہ پڑی ہوتی تھی۔ توجہ ہے؟ نیچے ایک حصہ پڑا ہوتا ہے جس کے ساتھ روئی وغیرہ باندھی ہوتی، وہ جس سے دھاگا بنتا تھا، دھاگا کئی چیزوں سے بنتا ہے نا؟ روئی بھی ہو سکتی ہے، کپاس یا اسی طرح جو بھیڑ کے بال وغیرہ ہیں یا اور کسی حیوان کے ایسے بال یا اسی طرح کا اور کوئی ریشہ وغیرہ، ان سے وہ دھاگا بنایا جاتا، تو وہ جو روئی اور بال وغیرہ ہیں یا اون ہے، اس کو ایک دوسرے حصے کے ساتھ وہ نیچے باندھا ہوا رکھا ہوتا تھا، اس میں سے نکالتے تھے اور ہاتھ کے ذریعے ادھر جوڑتے جا رہے ہیں اور اس کو گھما رہے ہیں، دھاگا بنتا جا رہا ہے۔ تو وہ جو نیچے گول سا حصہ پڑا ہے، اس کے جس کے ارد گرد وہ روئی ہے یا اون وغیرہ پڑی ہوئی ہے، تو وہ گول سا حصہ درمیان میں سے نظر آ رہا ہے اور ارد گرد اس کے اون یا روئی وغیرہ پھیلی ہوئی ہے۔
تو وہ جو گول حصہ ہے، اس کو کہتے ہیں فَلْكَةٌ بھئی، فَلْكَةُ مِغْزَلِ۔ وہ چرخے کا وہ گول حصہ، اردو والوں نے اس کا نام لکھا ہے دمکڑا، دمکڑا اس کا نام لکھا ہے۔
تو دمکڑا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک حصہ تو ہاتھ میں ہے جو گھما رہے ہیں، سیدھی سی لکڑی ہے، اسی پر دھاگا بھی لپیٹ رہے ہیں اور اس کو گھما رہے ہیں، اور نیچے ایک حصہ پڑا ہے، اس پر کیا ہے؟ اون وغیرہ اس کے ساتھ ہے، اور وہ درمیان میں سے اون اون کے درمیان میں سے تھوڑا نظر آ رہا ہے، باقی کس کے اندر ڈوبا ہوا ہے؟ اس کے ارد گرد کیا ہے؟ اون وغیرہ ہے نا، تو وہ کیا ہے؟ فلکہ۔
اچھا، تو کہتے ہیں:
كَأَنَّ ذُرَى رَأْسِ المٌجَيْمِرِ غُدْوَةً
مِنَ السَّيْلِ وَالغُثَّاءِ فَلْكَةُ مِغْزَلِ
تو فلکہ جو ہے، چرخے کا وہ حصہ جس کے ساتھ اون یا روئی وغیرہ باندھی ہوئی ہے اور اسی میں سے تھوڑی تھوڑی روئی یا اون لیتے جا رہے ہیں اور اس کو دھاگا بنانے میں استعمال کرتے جا رہے ہیں۔
تو امرؤ القیس کہتا ہے: كَأَنَّ ذُرَى رَأْسِ المٌجَيْمِرِ غُدْوَةً مِنَ السَّيْلِ وَالغُثَّاءِ فَلْكَةُ مِغْزَلِ، گویا کہ مجیمر پہاڑی کے سر کی جو چوٹی ہے غُدْوَةً صبح کے وقت، بھئی بارش ہوئی، بڑی موسلا دھار بارش، درختوں کو زمین پر گرا دیا، عمارتوں کو زمین پر گرا دیا، تو ظاہر سی بات ہے ایسی موسلا دھار بارش ہوئی ہے، اس میں بہت سے حیوانات وغیرہ ڈوب جاتے ہیں۔ خصوصاً پہاڑوں کے اندر جب وہ پانی جمع ہو کر نکلتا ہے سیلابی صورت میں، تو جس طرف کا رخ کرتا ہے تباہی مچا دیتا ہے بھئی، کوئی انسان ہے، حیوان ہے، جو بھی اس کے راستے میں آئے، سب غرق ہو جاتے ہیں، درختوں کو گرا دیتا ہے۔ تو وہ سارا پانی کہتے ہیں اگلے دن مجیمر پہاڑی کے ارد گرد اکٹھا تھا، یہ پہاڑی کچھ ذرا گہری جگہ پر ہو گی، اس کے ارد گرد جمع ہو گیا تھا یہ سارا پانی، اور اس پانی کے اندر جو مختلف حیوانات وغیرہ تھے اور خس و خاشاک وغیرہ، وہ سارا اس پانی کے اندر ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں، پھیلے ہوئے ہیں، اور درمیان میں مجیمر پہاڑی کا سر نظر آ رہا ہے، کوئی چھوٹی سی پہاڑی ہو گی، تو اس کا سر نظر آ رہا ہے اور باقی وہ ساری پانی کے اندر ڈوبی ہوئی ہے اس خس و خاشاک میں اور سیلاب کے پانی میں۔ تو کہتے ہیں وہ پہاڑی ایسے ہی معلوم ہو رہی تھی جیسے کہ چرخے کا وہ دمکڑا جو ہوتا ہے، وہ اون میں اور کپاس کے اندر سے اس کا سر ظاہر ہو رہا ہوتا ہے اور باقی سارا اس اون کے اندر ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ تشبیہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو میں اس لیے تفصیل سے بیان کر رہا تھا، فلکہ وہ حصہ چرخے کا جس کے ارد گرد کیا موجود ہوتی ہے؟ اون یا کپاس وغیرہ موجود ہوتی ہے، تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا ہوتا ہے اور باقی سارا اس کے اندر اون کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ تشبیہ دے دی مجیمر پہاڑی کو، کہ مجیمر پہاڑی بھی مکمل طور پر پانی میں، سیلاب کے اندر اور ان خس و خاشاک اور وہ جانور پھیلے مرے ہوئے ہر طرف اس کے ارد گرد پانی میں موجود ہیں، اور اس میں سے وہ پہاڑی کا اوپر کا تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا ہے، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے چرخے کا وہ دمکڑا جو ہوتا ہے، وہ اون کے اندر ڈوبا ہوا ہو اور اس کا تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا ہو۔ تشبیہ سمجھ میں آ گئی؟
كَأَنَّ ذُرَى رَأْسِ المٌجَيْمِرِ غُدْوَةً
مِنَ السَّيْلِ وَالغُثَّاءِ فَلْكَةُ مِغْزَلِ
گویا کہ مجیمر پہاڑی کے سر کی جو چوٹی ہے غُدْوَةً صبح کے وقت، یا یوں کہیں گویا کہ مجیمر پہاڑی کی جو چوٹی ہے غُدْوَةً صبح کے وقت مِنَ السَّيْلِ وَالغُثَّاءِ وہ سیلاب کی وجہ سے وَالغُثَّاءِ اور جھاگ اور خس و خاشاک اور چیزوں کی وجہ سے ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے فَلْكَةُ مِغْزَلِ، جیسے چرخے کا دمکڑا ہو۔ بھئی، تشبیہ سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟
اللہ، یاد کر رہے ہیں اچھی طرح بھئی؟ ہاں۔
بخصوصاً یہ آخری حصہ، اس کو خوب پختہ کریں بھئی، آخری حصہ عموماً کمزور رہ جاتا ہے کیونکہ اس کو دہرانے کا موقع کم ملتا ہے، تو اس کو ذرا زیادہ دہرانا ہے۔
اور میں نے شاید اپ کو ذکر بھی کیا ہو، واقعہ سنایا ہو، امام اخفش رحمہ اللہ، آج بھی ان کا نام کتابوں میں اپ کو ملتا ہے، اور وہ ذکر کرتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا، مجھے سبق ملتا تھا، میں سارا دن اس کو یاد کرتا تھا گھر میں بیٹھ کر، اور سبق یاد، یاد رکھیں سبق ایسے نہیں یاد ہوتا، سبق اونچی آواز سے اس کو پڑھنا پڑتا ہے، اپ کوئی چیز یاد کرنا چاہتے ہیں، اونچی آواز کے ساتھ بیٹھ کر اونچا اونچا پڑھیں بھئی، اس سے چیز بہت زیادہ ازبر ہو جاتی ہے حافظے کے اندر، آہستہ پڑھیں گے، وہ اتنی جلدی یاد، اس پہ وقت بہت زیادہ لگے گا۔ اونچا اونچا کسی الگ کسی درخت کے نیچے بیٹھ گئے، ایک طرف کسی جگہ بیٹھ گئے اور وہاں اونچا اونچا پڑھنا شروع کر دیا۔ تو کہتے ہیں: میں گھر میں سبق اونچا اونچا یاد کرتا تھا، سارا دن میں سبق یاد کرتا رہتا تھا۔
تو سارا دن میں سبق یاد کرتا رہتا تھا اور تو ایک دن میرا پڑوسی مجھے کہنے لگا کہ بھئی ہمارے اور دوسرے بچے بھی پڑھتے ہیں اور وہ تو تھوڑی دیر میں سبق یاد کر لیتے ہیں، تم کیا سارا دن آسان سا تھوڑا سا سبق ہوتا ہے، سارا دن پڑھتے رہتے ہو؟
تو کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا کہ اس کا جواب میں پھر کبھی اپ کو دوں گا۔
تو کہتے ہیں: وقت گزرتا گیا، وہ ایک سبق پہ میں سارا دن لگاتا تھا، اتنی دفعہ اس کو میں دہرا لیتا تھا کہ وہ پھر کبھی حافظے سے نکلتا ہی نہیں تھا۔ عام لڑکے تو سبق یاد کر لیتے، آسان سا سبق ہے، تھوڑی دیر میں یاد ہوا، تھوڑی دیر لگایا، ادھا گھنٹہ لگایا، 15-20 منٹ لگایا، بہترین یاد ہو گیا، بس چھوڑ دیا۔ لیکن وہ تھوڑی دیر لگائی تھی، وہ چند دنوں کے بعد پھر بھول بھی جائیں گے، اور میں سارا دن یاد کرتا تھا، چنانچہ جو ایک دفعہ یاد ہو جاتا تھا، پھر وہ بھولتا نہیں تھا میں اتنی دفعہ اس کو دہرا لیتا۔ پھر ایک وقت آیا کہ لوگ دور دور سے میری طرف رجوع کرنے لگے علم کے لیے، دور دراز سے سفر کر کے آتے، اور ان کو اللہ نے پھر امامِ اخفش بنا دیا بھئی، امام کے نام سے جانے جانے لگے۔
تو کہتے ہیں: پھر ایک دن اس ہمسائے سے ملاقات ہوئی، تو میں نے کہا: میں اس لیے زیادہ یاد کیا کرتا تھا بھئی۔
تو علم یاد رکھو اپ کو بہت اوپر لے جائے گا، اپ نے ابھی صرف ایک معلقہ یاد کیا ہے، لیکن اپ دیکھنا اس کا فائدہ اتنا ہے، اگر تھوڑا اور کر لیں گے تو کتنا زیادہ فائدہ ہو گا، وہ بیان سے باہر ہے بھئی۔
چلیے جی چلیے، اللہ اپ میں سے ہر ایک کو بڑا عالم، بڑا مدرس بنائے۔ آمین۔