فعادى عداء بين ثور ونعجة دراكاً ولم ينضح بماء فيغسل.
فضلت طهاة اللحم من بين مصلخ صفيف شوء أو قدير معجل.
وراحت يكاد الطرف يقصر دونه متى ما ترق العين فيه تسفل.
امرىء القيس کا معلقہ ہم پڑھ رہے ہیں اور امرىء القيس اپنے گھوڑے کی صفات ذکر کر رہا تھا۔ اور گزشتہ سبق کے آخر میں وہ اپنے ایک شکار کا واقعہ ذکر کرنے لگا کہ ہمیں جنگلی گايوں کا ایک ریوڑ دکھائی دیا اور وہ ریوڑ کی گائے بڑی حسین و جمیل معلوم ہو رہی تھیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دوار کے گرد چکر لگانے والی کنواری لڑکیوں نے بڑی چادریں اوڑھی ہوئی ہوں۔
پھر جب ان گایوں کے ریوڑ نے ہمیں دیکھا، شکار کرنے والوں کو، تو وہ واپس مڑ کر بھاگیں اور وہ یوں حسین و جمیل معلوم ہو رہی تھیں جیسے کہ ایسے یمنی مہرے جن کے درمیان فصل ہو، جو ایک دوسرے سے جدا جدا ہوں۔ ایک ایسے بچے کی گردن میں جو بڑے معزز چچاؤں اور معزز ماموؤں والا ہے۔
اور پھر میرے اس برق رفتار گھوڑے نے آن کی آن میں ہمیں اس ریوڑ کے آگے جو دوڑنے والی ہادیات تھیں، یعنی آگے دوڑنے والی جو گائیں تھیں، ان تک پہنچا دیا اور یہ اتنی برق رفتاری سے ہمیں پہنچایا اس نے کہ جو ہادیات کے پیچھے رہ گئے اور ساتھ جو باقی گائے دوڑ رہی تھیں، انہیں بھی ابھی مڑنے کا موقع نہیں ملا تھا، وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ ہی دوڑ رہی تھیں۔ ہادیات آگے ہیں، ان کے ساتھ میرا گھوڑا ہے اور وہ جو پیچھے رہ جانے والیاں ہیں، وہ بھی ابھی ساتھ ہی دوڑ رہی ہیں کیونکہ اتنے لمحوں میں یہ، یہ سب کچھ ہوا کہ ابھی انہیں مڑنے کا موقع ہی نہیں ملا بھئی۔
اب آگے چل کے تو وہ مڑیں گی، لیکن جس لمحے اس نے ہمیں آگے والوں تک پہنچایا، وہ اتنی رفتار سے یہ پہنچایا کہ ابھی وہ مڑیں بھی نہیں تھیں بھئی، یعنی بڑی ہی رفتار سے اس نے ہمیں فوراً آگے والیوں تک پہنچا دیا۔ ورنہ ظاہر سی بات ہے، آگے تک پہنچنے کے لیے ساتھ دوڑتے دوڑتے دوڑتے پھر آگے تک پہنچیں گے نا۔ اور جب تک ساتھ دوڑ رہے ہوں گے تو ساتھ والی گائے جو ہیں، وہ تو ایک طرف کو مڑ جائیں گی، وہ تو ہادیات کے پیچھے پھر نہیں چلیں گی جب وہ دیکھیں گی شکاری ہمارے ساتھ پہنچ گیا ہے۔ تو وہ شکاری کے ساتھ تو نہیں دوڑتی رہیں گی، وہ تو ایک طرف کو مڑ جائیں گی، راستہ بدل لیں گی۔ لیکن کہتے ہیں اس گھوڑے نے اتنی رفتار سے ہمیں ہادیات تک پہنچا دیا کہ پیچھے رہ جانے والیاں بھی ابھی مڑی نہیں تھیں، ساتھ ہی دوڑ رہی تھیں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟
آگے کہتا ہے: فعادى عداء بين ثور ونعجة، دراكاً ولم ينضح بماء فيغسل. عادى يعادي، اچھا۔ یاد رکھو، عدا يعدو عدواً وعذواً کا معنی ہے بھاگنا، دوڑنا۔ عدا يعدو، عدواً اور عذواً۔
اور اسی سے باب مفاعلہ ہے، عادى يعادي معاداةً اور عداءً۔ آپ نے پڑھا ہے باب مفاعلہ کا ایک مصدر جو ہے وہ فعال وزن پر بھی آتا ہے۔ قاتل يقاتل مقاتلةً وقثالاً۔ مقاتلہ بھی ہے اس باب کا مصدر اور قتال یعنی فعال بھی ہے۔ تو یہ عداء بھئی، یہ اسی قتال فعال وزن پر ہے بھئی۔
تو عدا يعدو عدواً کا معنی ہے دوڑنا اور عادى يعادي کا معنی ہے مسلسل دوڑنا۔ مسلسل دوڑنا۔ عربی میں کہتے ہیں: عادى بين الصيدين.
کوئی اپنے گھوڑے کی تعریف کرتا ہے یا اپنے مسلسل دو شکار ذکر کرتا ہے، تو کہتا ہے: عادى بين الصيدين. دو شکار ایک ساتھ پکڑنے کے لیے مسلسل دوڑا۔ عادى وہ دوڑا، بين الصيدين، کس کے درمیان؟ دو شکاروں کے درمیان۔ اپنے گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ دو شکاروں کے درمیان مسلسل دوڑا، یعنی ایک کو شکار کیا پھر رکا نہیں، وقفہ نہیں کیا، دوڑتا دوڑتا دوسرا بھی شکار کر لیا۔ تو کس طرح کہتے ہیں؟ عادى بین الصیدین، وہ دو شکاروں کے درمیان مسلسل دوڑا، بغیر وقفہ کیے، بغیر رکے، بغیر آرام کیے۔
اور یہ عداءً یہ مفعول مطلق ہے، عادى عداءً. ضربت ضرباً. ضرباً کیا ہے؟ مفعول مطلق۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دیکھو ضربت ضرباً، یہ ضرباً کس معنی میں ہے؟ ماقبل میں جو ضربت فعل ذکر ہوا، اسی کا ہم معنی ہے۔ تو وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اس کو کہتے ہیں مفعول مطلق۔
اور ترجمہ کیسے کریں گے؟ ضربت ضرباً. ترجمہ کرو بھئی۔ ہاں، ضربت میں نے مارا، ضرباً مارنا۔ تو ترجمہ عموماً طلباء یوں کرتے ہیں: میں نے مارا مارنا۔ بھئی اس طرح کوئی اردو میں کسی سے آپ نے کبھی سنا ہے اس طرح کا جملہ؟ نہیں، کہ جملہ ذکر کرے اور اس کے بعد مصدر علیحدہ سے۔ نہیں، یہ عربی کا طریقہ ہے، عربی میں اس طرح ذکر کرتے ہیں۔ تو ترجمے میں آپ نے مارنا دوبارہ نہیں لے کر آنا۔
تو یہاں بھی عادى، وہ مسلسل دوڑا، عداءً دوڑنا، یوں ترجمہ نہیں کریں گے بھئی۔ تو یہ جو مفعول مطلق آتا ہے، یہ کبھی کبھار مجاز کے احتمال کو ختم کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ مجاز کے احتمال کو ختم کرتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ضربت زيداً ضرباً. میں نے زید کی پٹائی کی۔ آگے میں ضرباً لے آیا، مفعول مطلق۔ یہ مفعول مطلق کیا فائدہ دے رہا ہے؟ یہ بعض اوقات یہ فعل کی تعداد بیان کرتا ہے کہ ایک دفعہ پٹائی کی، یا دو دفعہ کی، یا تین دفعہ کی۔ بعض اوقات یہ ان کی قسم یا نوع بیان کرتا ہے کہ میں نے کس طریقے سے پٹائی کی۔ یا بعض اوقات یہ مجاز کے احتمال کو کیا کرتا ہے؟ ختم کرتا ہے۔
مثلاً زید بڑا آدمی ہے، تو آپ کے ذہن میں فوراً یہ آ سکتا ہے کہ زید کی پٹائی کہاں کی ہوگی، زید تو بڑا آدمی ہے، کوئی اس کی پٹائی نہیں کر سکتا۔ ہاں، اس کو کچھ سخت باتیں ایسی کہہ دی ہوں گی، ان سخت باتوں یا ڈانٹنے کو ہی کس سے تعبیر کر لیا؟ پٹائی سے تعبیر کر لیا۔ بس کہ میں نے اس کو ایسی ایسی سنائیں، یوں سمجھو بس میں نے اس کی پٹائی ہی کر دی بھئی۔
تو گویا یہاں ضرب اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہے، بلکہ کس معنی میں ہے؟ پٹائی کرنے کے معنی میں نہیں، بلکہ سخت ڈانٹنے کے معنی میں ہے۔ تو ضرب کا حقیقی معنی کیا؟ پٹائی کرنا، اور اس وقت مثلاً قائل کون سا معنی مراد لے رہا ہے؟ توجہ نہیں ہے میرا خیال ہے۔ بھئی، ایک لفظ کا حقیقی معنی آتا ہے جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہو، جیسے شیر کس کو کہتے ہیں؟ جنگلی درندے کو۔ لیکن کبھی بہادر آدمی کو بھی کہہ دیتے ہیں۔ تو جنگلی درندہ ہوا اس کا حقیقی معنی اور بہادر آدمی ہوا اس کا مجازی معنی۔
اسی طرح، جب میں نے کہا ضربت زيداً، میں نے زید کی پٹائی کی، تو سننے والے کے ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ بھئی پٹائی نہیں کی ہوگی، سخت ڈانٹا ہوگا، لیکن اس سخت ڈانٹنے کو کس سے تعبیر کر دیا؟ پٹائی۔ تو گویا لفظ تو بولا ضرب کا، لیکن مراد پٹائی نہیں ہے، بلکہ مراد کیا ہے؟ سخت ڈانٹنا۔ تو گویا لفظ اپنے اصل معنی میں نہیں استعمال ہو رہا، بلکہ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ مجازی۔
متکلم کا یہ ارادہ نہیں ہے، سننے والے کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ شاید ضرب نہیں مراد، بلکہ ضرب سے کیا مراد ہے؟ اس کا مجازی معنی مراد ہے۔ تو آگے پھر ایسے موقع پر مفعول مطلق لایا جاتا ہے۔ مثلاً میں کہوں گا: ضربت زيداً ضرباً. یہ جو آگے ضرباً میں مفعول مطلق لایا، یہ اب مجاز کے احتمال کو ختم کر دے گا۔ یعنی یہ بتلا دے گا کہ ضرب بول کر ضرب ہی مراد ہے، ڈانٹنا وغیرہ مراد نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاء أمير المؤمنين أمير المؤمنين. میں کہتا ہوں جاء أمير المؤمنين، جاءني أمير المؤمنين، میرے پاس حضرت امیر المؤمنین تشریف لائے تھے۔ آپ کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ بھئی امیر المؤمنین تو بہت بڑے آدمی ہیں، وہ نہیں، ان کا سیکرٹری یا ان کا کوئی قریبی آ گیا ہوگا، لیکن اسی کو کس سے تعبیر کر دیا؟ امیر المؤمنین، گویا وہ خود ہی آ گئے۔ جب ان کا اتنا قریبی آ گیا تو یوں سمجھو وہ خود ہی آ گئے۔ تو سننے والے کے ذہن میں یہ احتمال آ سکتا ہے کہ شاید یہاں حقیقت مراد نہیں ہے، بلکہ مجازی۔ تو آگے میں اس کی دوبارہ تاکید لے آتا ہوں: أمير المؤمنين، اور یوں بولتا ہوں: جاء أمير المؤمنين أمير المؤمنين. اب جب یہ دو دفعہ میں نے دوسری دفعہ امیر المؤمنین کہا، اس دوسرے نے پہلے کو پکا کر دیا اور مجاز کے احتمال کو کیا کر دیا؟ ختم کر دیا، کہ امیر المؤمنین سے امیر المؤمنین ہی مراد ہیں، کوئی ان کا قریبی وغیرہ مراد نہیں ہے۔
یہاں پر بھی دیکھو: ضربت ضرباً. اس فعل کے اندر بھی ایک مصدر موجود ہے، آگے ایک اور پھر مصدر آ گیا گویا۔ تو یہ جو مفعول مطلق ہے، یہ اسی کی تاکید ہے، یعنی اس کو پکا کر دیتا ہے اور بتلا دیتا ہے کہ پیچھے جو فعل ذکر ہے، اس سے وہی فعل مراد ہے، کوئی مجازی معنی مراد نہیں۔ یہ اسی طرح جیسے قدوری کے اندر آتا ہے کہ صلوۃ العید کا جہاں ذکر آتا ہے، وہاں صاحب قدوری فرماتے ہیں: وكبر تكبيرةً. وكبر تكبيرةً. دیکھو، كبر کا معنی بھی تکبیر کہنا، آگے تكبيرةً مفعول مطلق بھی لائے، وہاں بتلا دیا کہ یہاں تکبیر ہی کہنا پڑے گی، الرحمن اکبر وغیرہ یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا، یہاں حقیقی معنی تکبیر یعنی اللہ اکبر ہی کہنا پڑے گا۔
تو یہاں پر بھی: فعادى عداءً. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مسلسل دوڑا، تو یہ مجاز کے احتمال کو کیا کر دیتا ہے؟ ختم کر دیتا ہے۔ کیا معنی؟ یعنی یہ نہیں کہ تھوڑا سا چلو وقفہ کر لیا ہوگا، نہیں نہیں، عداءً بتلا دیا نہیں، مسلسل دوڑنے سے مسلسل دوڑنا ہی مراد ہے، بیچ میں وقفہ کیا ہی نہیں بھئی، تھوڑا سا بھی نہیں، کیونکہ تھوڑا وقفہ بھی یوں سمجھو نہیں ہے، لیکن کہتے ہیں نہیں نہیں، عادى عداءً، مسلسل دوڑا، یعنی یہاں کسی بھی درجے میں وقفہ نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا جی، ثور۔ ثور کہتے ہیں بیل کو، بیل۔ گائے اور بیل، تو بیل کو کہتے ہیں اور یہاں جنگلی بیل مراد ہے بھئی، کیونکہ جنگلی گائیں ہیں تو ان کے ساتھ کیا ہوں گے؟ جنگلی بیل ہوں گے۔ ونعجة، اور نعجہ سے یہاں مراد ہے جنگلی گائے بھئی، جنگلی گائے۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا، پہلے بھی آیا تھا: نعاجه. تو میں نے بتلایا تھا کہ نعاج یہ جمع ہے نعجة کی، یہ بھیڑ کو بھی کہتے ہیں اور جنگلی گائے کو بھی کہتے ہیں اور یہاں مراد جنگلی گائے ہے بھئی۔
دراكاً، دراک پھر وہی فعال وزن آ گیا، باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ دارك يدارك مداركةً ودراكاً. یہ فعال وزن ہے، قتال وزن ہے۔ اور دارك يدارك کا معنی ہے کسی چیز کو پا لینا، حاصل کر لینا۔ اور یہ حال ہے ماقبل سے، اسی لیے منصوب ہے۔ عادى کے اندر جو ضمیر ہے، اس سے یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ اور یہ کیا ہے؟ مصدر ہے، دراكاً. توجہ ہے؟ اس باب کا، باب مفاعلہ کا۔
تو عادى، وہ گھوڑا مسلسل دوڑا، دراكاً، اس حال میں کہ وہ دراكاً، مصدر ہے اور گھوڑا تو ذات ہے اور ذات پر تو مصدر کا حمل نہیں ہو سکتا، تو پھر یہ دراک بمعنی صفت کے، یعنی اسم فاعل کے معنی میں لے لیں گے، یعنی دراک بمعنی مدارک، پانے والا۔ گھوڑا جو ہے، گھوڑا، وہ حاصل کرنا ہے یا حاصل کرنے والا ہے؟ حاصل کرنا یہ تو مصدر ہے، تو گھوڑے، جیسے آپ کہتے ہیں: زيد عدل. تو عدل کس معنی میں؟ عادل کے معنی میں، بات صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو عدل کیونکہ مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا تو کس معنی میں؟ اسمِ فاعل کے معنی میں۔ تو یہاں بھی دراک مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر یعنی گھوڑے پر نہیں ہو سکتا تو یہ اور آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں آتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول، تو یہ دراک کس معنی میں ہو گا؟ اسمِ فاعل کے معنی میں یعنی اس حال میں کہ وہ پانے والا تھا، ان کو پکڑنے والا تھا۔
یا دراک کا دوسرا معنی آتا ہے کسی چیز کا پے در پے ہونا، مسلسل ہونا۔ تو دونوں معنی یہاں درست ہیں بھئی۔ چاہے مسلسل والا معنی کر لیں اور چاہے چاہے حاصل کرنا اور پا لینے کا معنی کر لیں۔
ولم ینضح بماء، نضح بالماء کا معنی ہے پانی ٹپکانا، یا اسی طرح کہتے ہیں نضح بالعرق، عرق پسینہ بھئی، پسینہ ٹپکنا بھئی۔ نضح بالعرق کا کیا معنی ہے؟ پسینے کا ٹپکنا، اور اسی تو یہ تو اور نضح بالماء کا کیا معنی ہوا؟ پانی کا ٹپکنا، تو پانی کا ٹپکنا ذکر ہے لیکن مراد وہی ہے پسینہ ٹپکنا، پسینہ ٹپکنا۔
فیغسل، غسل یغسل کا معنی ہوتا ہے دھونا، دھونا کسی چیز کو، اور یہ مجہول کا صیغہ ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا ایک ایک لفظ کا؟
فعادا عداء بین ثور و نعجة دراکاً ولم ینضح بماء فیغسلی
پس وہ گھوڑا مسلسل دوڑا بین ثور و نعجة، ایک جنگلی بیل اور ایک جنگلی گائے کے درمیان، دراکاً اس حال میں کہ وہ ان کو پا لینے والا تھا۔ یعنی یہ مسلسل دوڑا یہ نہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بچ کے نکل گیا، نہیں نہیں، ان دونوں کو اس نے کیا کیا؟ پا لیا، ان تک پہنچ گیا، ان کو شکار کر لیا۔
ولم ینضح بماء، اور پسینہ بھی نہیں ٹپکا اس سے، یا یوں کہو اس نے پسینہ بھی نہیں ٹپکایا فیغسلی، یہ یغسل کا عطف فی ینضح پر ہے۔ اور ینضح مجزوم ہے، اس پر لم داخل ہے۔ تو اسی تو یغسل بھی مجزوم ہے، اسی لیے آخر میں کسرہ دیا گیا کہ الساکن إذا حرک حرک بالکسر، تو کسرہ دیا گیا یہ قافیے کی رعایت کے لیے ورنہ یہ مجزوم ہے بھئی۔
تو گویا عبارت یوں ہے: ولم ینضح بماء فلم یغسل، اس نے پسینہ بھی نہیں ٹپکایا فلم یغسل تو اس کو دھویا بھی نہیں گیا۔ پس اس کو دھویا بھی نہیں، کیا معنی نہیں دھویا گیا؟ یعنی نہلایا گیا؟ نہیں نہیں، یہ معنی مراد نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ گھوڑے نے زیادہ مشقت نہیں اٹھائی، آن کی آن میں یہ دونوں شکار کر لیے، یہ نہیں کہ ایک کے پیچھے دوڑا پھر دوسرے کے پیچھے دوڑتا رہا، بڑی دیر لگ گئی اور گھوڑے کو خوب مشقت اٹھانی پڑی اور مشقت اٹھائی تو بہت پسینہ آیا، پورا گھوڑا تر ہو گیا، گیلا ہو گیا، یوں معلوم ہوتا ہو جیسے اس کو کس نے دھویا ہو بھئی، کہتے ہیں نہیں نہیں، گھوڑے کو ذرا بھی نہیں مشقت اٹھانی پڑی، آن کی آن میں یہ دونوں شکار ہوئے اور اس سے پسینہ بھی نہیں ٹپکا اور اس کو دھویا بھی نہیں گیا یعنی گھوڑا تر بھی نہیں ہوا، پسینے سے گیلا بھی نہیں ہوا، تو دھونے سے دھونا مراد نہیں بلکہ مراد کیا ہے کہ اتنا پسینہ آ جائے کہ گھوڑا اس سے پورا گیلا ہو جائے، تر ہو جائے اور یوں معلوم ہو جیسے اس کو کیا کیا گیا ہے؟ دھویا گیا ہے، نہلایا گیا ہے، حالانکہ ایسا نہیں، اس کو پسینہ آیا ہی نہیں۔ تو جب پسینہ آیا ہی نہیں تو بدن بھی گیلا نہیں، جب بدن گیلا نہیں تو گویا اس کو دھویا بھی نہیں گیا یعنی اس کو پسینہ آیا ہی نہیں، اس کا بدن تر ہوا ہی نہیں۔ حاصلِ معنی سمجھ میں آ گیا؟
فعادا عداء بین ثور و نعجة دراکاً ولم ینضح بماء فیغسلی، تو وہ مسلسل دوڑا ایک بیل اور ایک جنگلی گائے کے درمیان دراکاً اس حال میں کہ وہ ان کو پانے والا تھا۔ یا دوسرا ترجمہ کر لیں دراکاً مسلسل، اور پیچھے عداء کا کیا معنی تھا؟ مسلسل دوڑنا، تو اس کا معنی صرف کر لیں دوڑنا اور دراکاً کا معنی کر لیں مسلسل کے، ترجمہ پھر اسی طرح رہے گا: پس وہ مسلسل دوڑا ایک گائے اور بیل کے درمیان ولم ینضح بماء فیغسلی اور اس نے پسینہ بھی نہیں ٹپکایا تو تو وہ دھلا بھی نہیں، وہ گیلا بھی نہیں ہوا ۔
شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ دیکھو اگر اس کو پسینہ آتا تو یہ ایسے ہی تھا جیسے اس کو دھویا گیا ہو، پورا گیلا ہو جاتا یا نہ ہو جاتا پسینے میں؟ پسینہ آتا تو گویا یوں ہو جاتا جیسے اس کو دھویا گیا ہے، پورا گیلا ہو گیا ہے۔ لیکن اس بار پسینہ اسے ٹپکا ہی نہیں تو گویا اس کو دھویا بھی نہیں گیا یعنی یہ تر نہیں ہوا پورا اس کا بدن۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
فظل طهاة اللحم من بین منضج صفیف شوار أو قدیر معجل
ظل کا معنی ہے دن گزارنا، بات کا معنی ہے رات گزارنا۔ ظل زید کاتباً، توجہ ہے؟ ظل زید کاتباً، زید نے کتابت کرتے ہوئے دن گزارا۔ بات زید کاتباً، زید نے کتابت کرتے ہوئے رات گزاری۔
اور کبھی یہ ظل جو ہے کان اور صار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے تو چاہے آپ کان کے معنی میں کر لیں اور چاہے صار کے معنی میں، تو یہاں یہ کان یا صار کے معنی میں ہے۔ طهاة اللحم، طهاة، طهی یطهی طهواً کا معنی ہے پکانا، پکانا کسی چیز کو۔ اور اسی سے اسمِ فاعل آئے گا طاهی، اور طاهی کی جمع ہے طهاة بھئی، جو شعر میں ہے طهاة۔ توجہ ہے؟ جیسے قاضی کی جمع ہے قضاة بھئی، اسی طرح طاهی کی جمع طهاة، گوشت پکانے والے۔ لحم گوشت کو کہتے ہیں۔
من بین منضج، یہ من یہاں تقسیم کے لیے اور تفصیل کے لیے ہے بھئی۔ منضج، منضج کا معنی پکانے والے، انضج ینضج إنضاجاً۔ صفیف بھئی، صفیف کہتے ہیں بھئی گوشت کے باریک لمبے ٹکڑے، ان کو صفیف کہتے ہیں صفیف۔
گوشت کے باریک لمبے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں یا تو دھوپ میں خشک کرنے کے لیے۔ آج کل تو اللہ تعالیٰ نے آسانی فرما دی اور بجلی ہے، فریج وغیرہ کے اندر آپ کھانے پینے کی چیزیں کئی دنوں تک محفوظ کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں استعمال کر لیتے ہیں۔ لیکن قدیم زمانے میں تو ایسا نہیں تھا، تو وہ لوگ گوشت کو محفوظ کرنے کے لیے اس کے ٹکڑے کاٹ کر اس کو دھوپ میں خشک کر لیا کرتے تھے، کوئی نمک وغیرہ یا مصالحے لگا کر دھوپ میں ان کو خشک کر لیتے تھے اور وہ گوشت جو ہے پتھر کی طرح سخت ہو جاتا تھا، پتھر کی بالکل پتھر کی طرح سخت، اور پھر اس کو کافی عرصے تک وہ محفوظ رکھتے تھے اور جب پھر پکاتے تھے وہ پھر اسی طرح نرم ہو جاتا پانی کے اندر، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو وہ جو لمبے پتلے ٹکڑے کاٹے جاتے گوشت کو خشک کرنے کے لیے وہ ہے صفیف، یا اسی طرح توے وغیرہ پر گوشت پکانے کے لیے اس کے باریک پتلے ٹکڑے کاٹے جاتے بھئی، تو یہ جو گوشت کے پتلے باریک ٹکڑے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ صفیف۔
شواء، شواء کا معنی ہے بھنا ہوا، بھنا ہوا۔ شوى يشوي شياً، شوى يشوي شياً کا معنی ہے گوشت وغیرہ کو بھوننا آگ پر، ایک تو یہ ہے نا کسی برتن وغیرہ میں ہانڈی میں آپ گوشت پکاتے ہیں اور ایک ہے براہِ راست آگ کے اوپر اس کو بھونتے ہیں، گوشت کو براہِ راست آگ پر بھوننا یا اسی طرح توے وغیرہ کے ذریعے آگ پر گوشت کو بھوننا اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ تو اس کے لیے لفظ ہے شوى يشوي شياً بھئی، اور شواء وہ جو بھنا ہوا گوشت ہے اس کو شواء کہتے ہیں۔
اور جیسے توے پر گوشت کو بھونا جاتا ہے اسی طرح دیہات وغیرہ کے لوگ جانتے ہیں بعض اوقات کوئی ہموار پتھر بھی توے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے بھئی۔ ہموار باریک پتھر ہو اور توے کی صورت اس توے کی صورت خوب پھیلا ہوا ہو اور موٹائی کم ہو اس کو بھی توے کے طور پر استعمال کر لیا جاتا ہے۔
أو قدیر معجل، قدیر قدر سے ہے اور قدر کسے کہتے ہیں؟ ہانڈی کو، تو ہانڈی کے اندر جو پکایا ہوا گوشت ہے اس کو کہتے ہیں قدیر بھئی، ہانڈی والا، ہانڈی میں پکا ہوا۔ اور معجل، معجل کا معنی ہے جلدی کیا ہوا، اور قدیرِ معجل کہا، ہانڈی میں پکائے ہوئے گوشت کو جلدی تیار کیا ہوا کہا۔
اب دیکھیے ایک ہے ہانڈی کے اندر بنایا ہوا گوشت اور ایک ہے توے وغیرہ پر بنایا ہوا گوشت۔ ظاہر سی بات ہے توے وغیرہ پر جو گوشت بنائیں گے اس میں دیر لگے گی کیونکہ صرف نیچے کی طرف سے اسے آگ کی حرارت پہنچ رہی ہے، جبکہ ہانڈی کے اندر جب آپ گوشت بنائیں گے تو ہانڈی کے اندر وہ پانی بھی ہے وہ بھی ابل رہا ہے تو گوشت کو چاروں طرف سے حرارت پہنچ رہی ہے وہ جلدی تیار ہو جائے گا۔ اس لیے ہانڈی میں پکائے ہوئے گوشت کی صفت کیا ذکر کر دی؟ معجل، کہ جو جلدی پکایا گیا ہو، جلدی تیار کیا ہوا۔
فظل طهاة اللحم من بین منضج صفیف شوار أو قدیر معجل
پس ہو گئے، ظل بمعنی صار کے کر لیں، پس ہو گئے طهاة اللحم گوشت پکانے والے من بین منضج، کہنا یہ چاہتا ہے امرؤالقیس کہ گوشت وافر مقدار میں تھا کیونکہ ایک جنگلی گائے شکار کی تھی اور ایک جنگلی بیل شکار کیا تھا تو خوب گوشت موجود تھا، تو ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق گوشت کو پکا رہا تھا۔ کچھ لوگ اس کو دیگچیوں میں بنا رہے تھے ہانڈیوں کے اندر، تو کچھ لوگ اس کو آگ پر پتھروں کے اوپر بھون رہے تھے بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ کیونکہ شکار کھیلنے گئے ہوئے تھے نا، وہاں تو توے وغیرہ نہیں ہوں گے تو وہ یقیناً وہ جو باریک ہموار پتھر جو ہیں انہی کے اوپر اس گوشت کے باریک ٹکڑے کاٹ کر ان کو تیار کر رہے تھے تو وہ ہیں صفیفِ شواء بھئی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو کہنا چاہتا ہے کہ گوشت پکانے والے تقسیم ہو گئے، ایک وہ ہانڈی میں پکانے والے کچھ تھے اور کچھ کیا تھے؟ آگ پر بھوننے والے تھے۔
تو کہتا ہے فظل طهاة اللحم، تو ہو گئے گوشت پکانے والے من بین منضج دو قسموں میں، ایک تو منضج گوشت پکانے والے، صفیف شوار، یہ صفیف منصوب ہے یہ مفعول ہے منضج، منضج اسمِ فاعل ہے۔ منضج کیا ہے؟ أنضج ينضج إنضاجاً فهو منضج، اس کے لیے صفیف شوار یہ مفعول ہے۔
بھئی آپ نے ترکیب پڑھی ہو گی، ترکیب کیجیے بھئی: زید ضرب، ترکیب کیسے ہو گی؟ زید مرفوع لفظاً مبتدا، ضرب فعل اور اس کے اندر ھو ضمیر فاعل جو کس کو راجع؟ زید مبتدا کو۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر، توجہ ہے؟ زید ضرب، زید شروع میں آیا اور فاعل کبھی فعل پر مقدم نہیں ہوتا تو اس کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا، تو زید ہوا مبتدا اور ضرب پورا جملہ اس کی خبر، اور اس ضرب کی ترکیب کیسے ہے؟ ضرب فعل، اس اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، تو اس کے اندر ھو ضمیر فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
اچھا، اب ترکیب کیجیے ایک اور جملے کی: زید قائم، زید قائم، تو زید مبتدا اور قائم اس کی خبر، دیکھا سارے اسی طرح کرتے ہیں۔ جہاں ضرب آ جائے تو ضرب میں ضمیر ضرور نکالتے ہیں، جن کو ترکیب آتی ہے اب ان کی بات کر رہا ہوں، کہ وہ ضرب میں ضمیر ضرور نکالیں گے کیونکہ فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے۔ اور قائم، اب اسمِ فاعل آ جائے تو اس کے اندر وہ فاعل یا نائب فاعل نہیں نکالتے، حالانکہ یاد رکھو، جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری ہے بھئی، ضروری ہے۔
زید قائم، زید مبتدا، قائم صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ھو ضمیر اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو گا۔ فعل تو اپنے فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ، اور صفت کا صیغہ وہ شبہ جملہ ہے وہ جملہ تو نہیں ہاں اس کو شبہ جملہ کہتے ہیں جملے کے مشابہ ہے لیکن جملہ نہیں تو شبہ جملہ ہو کر خبر۔
تفسیر سن لو بھئی یاد رکھو فعل جب بھی آئے اس کے لیے فاعل ضرور چاہیے اگر وہ فعل معروف ہے اور اگر وہ فعل مجہول ہے تو اس کے لیے نائب فاعل ضرور چاہیے۔ ضربہ جب بھی آئے آپ نے اس کے لیے فاعل تلاش کرنا ہے آگے اگر کوئی نہیں فاعل تو اسی کے اندر ضمیر نکال لیں گے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے اور اگر فعل مجہول ہو تو پھر اسی کے اندر کیا کریں گے؟
اگر فعل مجہول ہے تو پھر اس کے لیے نائب فاعل ضرور چاہیے۔ تو فعل معروف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل اور فعل مجہول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب فاعل۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل معروف اجائے اور فاعل نہ آئے یا فعل مجہول اجائے اور نائب الفاعل نہ آئے۔ اسی طرح جن سے صفت کے صیغے بنتے ہیں فعل معروف سے بنتا ہے اسم فاعل اور فعل مجہول سے بنتا ہے اسم مفعول بھئی اسم مفعول۔ تو فعل معروف جو ہے جیسے اس کے لیے فاعل چاہیے تو جو اس سے صفت کا صیغہ بنا اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔
اور اس فعل مجہول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب الفاعل چاہیے تو اس سے جو صفت کا صیغہ بنا یعنی اسم مفعول اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ نائب الفاعل چاہیے۔
تو فعل معروف کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے اور فعل مجہول کے لیے ہمیشہ نائب اور ایک ہوتا ہے فاعل ایک ہوتا ہے اسم فاعل فرق جانتے ہو؟ ایک ہوتا ہے مفعول ایک ہوتا ہے اسم مفعول۔ یاد رکھو فاعل وہ ہے جس کو فعل رفع دے فعل معروف ضرب زید یہ زید کیا ہے؟ فاعل اس کو فعل نے رفع دیا ہے۔ تو یہ فاعل ہے اسم فاعل نہیں ہے۔ زید کیا ہے؟ فاعل اور اسم فاعل وہ صفت کا صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا زارب فاتح مانع مکرم مستخرج یہ سارے ہیں اسم فاعل۔
یہ کیا ہیں؟ اسم۔ تو فاعل وہ جسے فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے اور اسم فاعل وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے کس میں پڑھا؟ گردانوں میں پڑھا اور ایک ہوتا ہے مفعول اور ایک ہوتا ہے اسم مفعول مفعول کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل نصب دے ضربت زیدا یہ زیدا کیا ہے؟ مفعول اور ایک ہوتا ہے اسم مفعول اسم مفعول وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا مضروب ممنوع مفتوح مکرم مستخرج یہ سارے کیا ہیں؟ اسم مفعول۔ تو ایک ہے فاعل ایک ہے اسم فاعل فاعل وہ جس کو فعل رفع دے اسم فاعل وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے کہاں پڑھا؟ گردانوں میں ایک ہے مفعول ایک ہے اسم مفعول مفعول کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل نصب دے اور اسم مفعول وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے کہاں پڑھا؟ گردانوں میں پڑھا تو جس طرح فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے اسی طرح جو اس سے اسم فاعل بنا اس کے لیے بھی فاعل چاہیے۔ فعل مجہول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب الفاعل چاہیے اسی طرح اس سے جو اسم مفعول بنا اس کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب فاعل تو یہاں پر منضج اسم فاعل آیا اور یہ صفیف اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ مفعول۔ ایک ہے اسم فاعل۔ منضج کیا ہے اسم فاعل اور صفیفہ شواء یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ مفعول۔
اچھا تو وہ تقسیم ہو گئی من بین منضج صفیفہ شواء بھونے ہوئے گوشت کے باریک لمبے ٹکڑے پکانے والے اوقدی معجلی اوقدی معجلی۔
بھئی یہاں مضاف محذوف ہے اور وہی منضج یہاں مضاف محذوف نکال لیں او منضج قدیر ایک تو کیا پکانے والے تھے؟ منضج صفیف ایک تو صفیف شواء پکانے والے تھے اور دوسرے ہانڈی میں جلد تیار ہونے والا گوشت پکانے والے تھے تو یہاں ایک اور منضج اور یہ مضاف ہے اور قدیر کیا ہے؟ مضاف الیہ توجہ ہے تو مضاف حذف کر دیا اور مضاف الیہ پر جر اسی طرح برقرار رکھا۔ تو کیا نکالا؟ منضج منضج قدیر یا پکانے کو کیا کہتے ہیں؟ طبخ طبخ یطبخ تو طابخ قدیر طابخ نکال لیں۔
یا طہا یطہو طھون کا کیا معنی؟ پکانا اور طاہی پکانے والا اور طاہی قدیر یا پکانے والے کس کو؟ ہانڈیوں میں قدیر معجلی ہانڈیوں میں جلد تیار ہونے والے گوشت کو معنی سمجھ میں آرہا ہے۔
تو کہتے ہیں گوشت پکانے والوں کی دو جماعتیں بن گئیں کچھ تو وہ تھے جو جو بھونے ہوئے گوشت کو باریک لمبے ٹکڑے پکانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جو ہانڈی میں جلدی تیار ہونے والے گوشت کو پکانے والے تھے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا تو بتلانا گوشت کی کثرت ہے کہ وہ خوب کثیر گوشت تھا ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق تیار کر رہا تھا۔ فظل طحاط اللحم من بین منضج صفیفہ شواء اوقدی معجلی تو ہو گئے گوشت پکانے والے یعنی تقسیم ہو گئے ایک تو بھونے ہوئے گوشت کے لمبے ٹکڑے تیار کرنے والوں میں اور منضج قدیر معجلی یا ہانڈی کے اندر جلدی تیار ہو جانے والے گوشت کو پکانے والے ان میں تقسیم ہو گئے۔
آگے دیکھیے بھئی وروحنا یکاد الطرف یقصر دونه ماتا ما ترق العین فیہ تسفلی۔
بھئی غدا یغدو کا کیا معنی تھا؟ و قد اغتدى والطیر فی وقناتہا صبح کے وقت نکلنا صبح چلنا صبح روانہ ہونا اور راہ یا روح کا معنی ہے شام کو نکلنا شام کو روانہ ہونا۔
طرف طرف یاد رکھیے یہ جو آنکھ کے اوپر چمڑا ہے بھئی یہ جس میں پلکیں لگی ہوئی ہیں تو یہ جو باریک سا چمڑا آنکھ کے اوپر ہے اس کو طرف کہتے ہیں عربی میں طرف۔
اور تو اصل میں اس کو طرف کہتے ہیں پھر آنکھ پر بھی یہ طرف کا لفظ بول دیا جاتا ہے اور نگاہ پر بھی طرف کا لفظ بول دیا جاتا ہے تو یہاں نگاہ مراد ہے کیا مراد ہے نگاہ لیکن اصل میں یہ آنکھ کے اوپر جو چمڑا ہے یہ پپوٹا اس کو کہتے ہیں بھئی طرف بھئی۔ یقصر قصر یقصر کا معنی عاجز رہ جانا پیچھے رہ جانا۔
ماتا ما ترق۔ ترق یا ترق کے معنی ہیں اوپر چڑھنا۔
ترق کا کیا معنی ہے؟ اوپر چڑھنا اسی سے ہے ارتقاء اس کا معنی بھی اوپر چڑھنا اور اسی سے ہے رقیا یرقی اس کا معنی بھی اوپر چڑھنا۔
عین آنکھ کو کہتے ہیں بھئی۔ تسفل تسفل کا معنی ہے نیچے اترنا بھئی نیچے آنا۔
تو یہ ضد ہے ترقی کی۔ امر القیس کہتا ہے وروحنا یکاد الطرف یقصر دونه ماتا ما ترق العین فیہ تسفلی۔ اور ہم شام کو روانہ ہوئے یعنی ہم شام کو واپس چلے یکاد الطرف یقصر دونه اور قریب تھی کہ نگاہ اس سے عاجز رہ جاتی میرا گھوڑا ہم شام کے وقت واپس روانہ ہوئے اور میرا گھوڑا اتنا حسین و جمیل معلوم ہو رہا تھا کہ قریب تھا کہ نگاہ اس سے عاجز رہ جاتی یعنی نظر اس پر جمتی نہیں تھی اتنا حسین و جمیل تھا کہ اس پر نظر جمتی ہی نہیں تھی۔
میرا گھوڑا اتنا حسین و جمیل معلوم ہو رہا تھا ہم شام کے وقت واپس لوٹے اور وہ اتنا حسین و جمیل معلوم ہو رہا تھا کہ نگاہ بھی اس کے حسن و جمال کا احاطہ کرنے سے قاصر تھی۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ کہ آنکھ بھی اس سے عاجز تھی اس سے پیچھے رہ جاتی ماتا ما ترق العین فیہ۔
بھئی ماتا ما شرط کے لیے آیا ترق یہ مجزوم ہے۔ یہ کیا ہے؟ آپ کہیں گے قاف پر تو زبر ہے یاد رکھیے اگر حالت جزم میں ایک فعل کے آخر میں زبر یا زیر یا پیش آئے تو معلوم ہوا وہاں الف واؤ یا یا گری ہے اصل میں یہاں الف تھا ترق تو جزم کی وجہ سے الف گر گیا اسی طرح آخر میں تسفل وہ بھی مجزوم ہے اسی لیے آخر میں کسرہ جو دیا گیا اذا حرك حرك بالكسر۔
تو وہ جزم ہے اس لیے وہ بھی مجزوم ہے۔
اور ہم شام کے وقت واپس آئے قریب تھی کہ نگاہ جو ہے اس سے عاجز رہ جاتی یعنی اس کے حسن کا احاطہ نہ کر سکتی ماتا ما ترق العین فیہ جب بھی اس کے اندر نگاہ اوپر کو جاتی تھی عین سے مراد یہاں بھی نگاہ ہے۔
ماتا ما ترق العین فیہ جب بھی نگاہ اس پر اوپر کی طرف جاتی تھی تسفلی تو پھر نیچے آجاتی۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ کیا معنی؟ کہنا یہ چاہتا ہے جو بھی میرے گھوڑے پر نگاہ ڈالتا تھا اس کے بدن کے جس حصے پر بھی نظر پڑتی انسان اس کے حسن و جمال کی تعریف کرتا کمر دیکھی اتنی خوبصورت ہے پھر گردن دیکھی اتنی حسین و جمیل گردن ہے پھر اس کے سر کا دیکھا اگلا منہ دیکھا اتنا حسین و جمیل ہے نگاہ اوپر کی طرف جاتی تو پھر پھسل کر نیچے آجاتی کہ اوہو اس کے تو قدم بھی اتنے خوبصورت ہیں اس کی تو پنڈلی بھی اتنی خوبصورت ہے تو یعنی پورا ہی وہ سراپہ حسن و جمال تھا میرا گھوڑا بھئی بات سمجھ میں آرہی ہے۔
ورو حناد الطرف یقصر دونه اور ہم شام کو واپس آئے قریب تھی کہ نگاہ جو ہے اس سے عاجز رہ جاتی جب بھی نگاہ اس کے اس پہ اوپر کی طرف جاتی تھی تسفلی تو پھر نیچے کی طرف آجاتی۔ معنی سمجھ میں آگیا۔
فبات علیہ سرجہ ولجامہ و بات بعینی قائما غیر مرسلی۔ بات یا بیت کا معنی رات گزارنا۔
سرجہ سرج کہتے ہیں زین کو۔ زین گھوڑے کے اوپر جو رکھی جاتی ہے بیٹھنے کے لیے۔ لجام یہ لگام سے ہے بھئی لگام گھوڑے کی لگام۔ بات بعینی قائما عین آنکھ بھئی غیر مرسل۔ ارسل یرسل ارسال کا معنی ہے کھلا چھوڑ دینا۔ غیر مرسل جس کو کھلا نہ چھوڑا گیا ہو یعنی باندھا ہوا ہو۔
فباتت اس گھوڑے نے رات گزاری۔ بھئی یہاں ترجمہ غلط نہ کر لینا توجہ تو دیکھو شعر پر فبات علیہ تو را اس پر رات گزاری سرجہ اس کی زین نے ولجامہ اور اس کے ہاں دیکھا یہ ترجمہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس پر لگام اور زین نے اس گھوڑے کے اوپر رات گزاری تو یہ سرجہ اور لجامہ یہ فاعل معلوم ہوتے ہیں کس کے بات کے نہیں بھئی بات کے اندر ہوا ضمیر ہے جو گھوڑے کی طرف راجع ہے اور آگے یہ علیہ یہ ہے خبر مقدم اور سرجہ یہ ہے مبتدا اور خبر مبتدا خبر مل کر یہ جملہ اور یہ حال ہے بات کی ضمیر سے۔ اس گھوڑے نے فبات اس گھوڑے نے رات گزاری اس حال میں کہ علیہ سرجہ ولجامہ اس کی زین اور لگام اسی کے اوپر تھی۔ اس کی زین اور لگام اسی کے اوپر تھی وہ میں نے اس سے نہیں اتاری تو اس گھوڑے نے رات گزاری اس حال میں کہ اس کی زین اور لگام اس کے اوپر ہی تھی و بات اور اس گھوڑے نے رات گزاری اس حال میں کہ قائما بعینی وہ کھڑا ہوا تھا میری نظروں میں ہی۔ وہ میری نگاہوں کے سامنے ہی کھڑا تھا اس حال میں اس نے رات گزاری غیر مرسلی اس کو آزاد نہیں چھوڑا گیا تھا۔ یعنی آزاد نہیں چھوڑا گیا تھا کہ چراگاہ میں جا کر چر لے یا کچھ نہیں بلکہ میرے سامنے ہی اس نے کھڑے ہو کر رات گزاری بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا۔
فبات علیہ سرجہ ولجامہ و بات بعینی قائما غیر مرسلی۔ تو گھوڑے نے رات گزاری اس حال میں کہ اس کی زین اور اس کی لگام اس کے اوپر ہی تھی اور اس نے میری نگاہوں کے سامنے کھڑے ہو کر ہی رات گزاری کہ اس کو غیر مرسلی اس کو آزاد نہیں چھوڑا گیا تھا چراگاہ کے لیے۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔