Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 147
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَمَا ذَرَفَتْ عَيْنَاكِ إِلاَّ لِتَضْرِبِي ... بِسَهْمَيْكِ فِي أَعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّلِ وَبَيْضَةِ خِدْرٍ لاَ يُرَامُ خِبَاؤُهَا ... تَمَتَّعْتُ مِنْ لَهْوٍ بِهَا غَيْرَ مُعَجَّلِ تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيْهَا وَمَعْشَراً ... عَلَيَّ حِرَاصاً لَوْ يُسِرُّونَ مَقْتَلِي گزشتہ اشعار میں آیا تھا، امرؤالقیس کہتا ہے کہ ایک دن میری معشوقہ نے ریت کے ٹیلے پر مجھ پر بڑی سختی کی اور ‏مجھے چھوڑنے کی ایسی پکی قسم اٹھا لی جس میں اس نے کسی قسم کا کوئی استثناء نہیں کیا، کوئی حلال ہونے کی یا ‏کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ تو پھر امرؤالقیس نے اس سے کہا کہ اے فاطمہ! ذرا صبر سے کام لو اور یہ تو ناز و نخرے کچھ کم کر دو اور اگر تو ‏نے مجھے چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیا ہے تو اچھے طریقے سے چھوڑ۔ کیا تیرا یہ خیال ہے کہ تیری محبت مجھے مار ‏رہی ہے، قتل کر رہی ہے اور تو جو بھی میرے دل کو حکم دے گی وہ ویسا ہی کرے گا؟ تو بات ایسی ہی ہے۔ اور اگر ‏تجھے مجھ میں کوئی میری عادت بری لگی ہے تو میرے تو اپنے کپڑوں کو میرے کپڑوں سے جدا کر دے تو وہ جدا ہو ‏جائیں، یعنی میری ذات اپنی ذات کو میری ذات کو اپنی ذات سے جدا کر دے تو وہ جدا ہو جائے گی۔ آگے امرؤالقیس کہتا ہے:‏ وَمَا ذَرَفَتْ عَيْنَاكِ إِلاَّ لِتَضْرِبِي ... بِسَهْمَيْكِ فِي أَعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّلِ ذَرَفَتْ يَذْرَفُ کے معنی ہوتے ہیں آنسو بہانا، آنسو بہانا۔ عَيْنَاكِ اصل میں تھا عَيْنَانِكِ، عَيْنَانِ عَيْنٌ آنکھ کو کہتے ہیں یہ تثنیہ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ ذَرَبَ يَذْرِبُ کے معنی کا معنی ہے مارنا۔ سَهْمَيْكِ، سَهْمٌ تیر کو کہتے ہیں بھئی، یہ بھی تثنیہ تھا اصل میں سَهْمَيْنِكِ نون اضافت کی وجہ سے، یہ تو تثنیہ ہے نون ‏اضافت سے گر گیا ہے بھئی۔ اچھا، أَعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّلِ، أَعْشَارِ ٹکڑوں کو کہتے ہیں بھئی، ٹکڑے، ٹکڑے۔ اچھا، قَلْبٍ مُقَتَّلِ، قَلْبٍ مُقَتَّلِ کہتے ہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا دل، محبت کے اندر ٹکڑے ٹکڑے ہوا دل، محبت کے اندر پارہ ‏پارہ دل، پارہ پارہ ہو چکا دل۔ وَمَا ذَرَفَتْ عَيْنَاكِ بھئی آپ جانتے ہیں کہ جب عورت کے سارے حربے ناکام ہو جائیں، اس کا آخری حربہ یہ ہے کہ وہ رونا شروع کر دیتی ‏ہے اور آنسو بہانے لگتی ہے اور اس کا یہ حربہ پوری طرح کامیاب ہوتا ہے اور دوسرے کا دل نرم ہو جاتا ہے اور وہ ‏اس کی بات مان لیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی امرؤالقیس کی معشوقہ نے کچھ آنسو بہائے ہوں گے تو امرؤالقیس کہتا ہے: وَمَا ذَرَفَتْ عَيْنَاكِ اور تیری ‏دونوں آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے، إِلاَّ لِتَضْرِبِي مگر اس لیے تاکہ تو مارے، بِسَهْمَيْكِ اپنے دو تیروں کو، یعنی اپنی ‏نگاہوں کے دو تیروں کو، دو تیروں سے مراد نگاہوں کے دو تیر ہیں یا آنسوؤں کے جو دو تیر ہیں بھئی، تو اپنی نگاہوں ‏کے یا آنسوؤں کے دو تیروں کو مارنا چاہتی ہے، فِي أَعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّلِ، قَلْبٍ مُقَتَّلِ کے اعشار میں، قَلْبٍ مُقَتَّلِ کے ٹکڑوں ‏میں۔ وَمَا ذَرَفَتْ عَيْنَاكِ إِلاَّ لِتَضْرِبِي بِسَهْمَيْكِ فِي أَعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّلِ اور تیری دونوں آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے مگر اس لیے تاکہ ‏تو اپنی نگاہوں کے تیر مارے میرے پارہ پارہ دل کے ٹکڑوں میں یا تو اپنے آنسوؤں کے دو تیروں کو مارے میرے پارہ ‏پارہ دل کے ٹکڑوں میں۔ تو یہاں پر نگاہوں کو تشبیہ دی تیروں کے ساتھ یا آنسوؤں کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ تیروں کے ساتھ اور اس وجہ سے ‏کہ یہ نگاہیں اور یہ آنسو دلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جس طرح کہ تیر جو ہے بدن پر بڑا اثر انداز ہوتا ہے، تیر ‏مارے تو انسان دوسرا ختم ہو جاتا ہے، زخمی ہو جاتا ہے تو جیسے تیر بدن پر اثر کرتا ہے اسی طرح یہ جو نگاہیں ہیں ‏اور آنسو ہیں یہ کس پر اثر کرتے ہیں؟ یہ دل پر اثر کرتے ہیں بھئی۔ تو کہتا ہے وَمَا ذَرَفَتْ عَيْنَاكِ اور نہیں بہائے تیری دونوں آنکھوں نے آنسو، إِلاَّ لِتَضْرِبِي مگر اس لیے تاکہ تو مارے، ‏بِسَهْمَيْكِ اپنی نگاہوں کے دو تیروں کو، فِي أَعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّلِ محبت کے اندر میرا دل جو پارہ پارہ ہو چکا ہے اس کے ‏ٹکڑوں میں تاکہ اس کے ٹکڑوں میں تو اپنے نگاہوں کے دو تیر مارے، یعنی میں جو پہلے ہی تیرا محب تیری محبت کا ‏شکار ہو چکا ہوں، میرا دل جو پہلے ہی تیری محبت کا شکار ہو چکا ہے تاکہ اسے اور تو پوری طرح اپنے قابو میں کر ‏لے اس لیے تو کیا کر رہی ہے اپنے آنسوؤں اور نگاہوں کے تیر چلا رہی ہے۔ اچھا، یہ تو تھا مَا اور إِلاَّ کے ساتھ ترجمہ: اور نہیں بہائے تیری دونوں آنکھوں نے آنسو إلا مگر یہ کہ مگر یہ کہ تو ‏مارے۔ یہ مَا اور إِلاَّ کس لیے آتے ہیں؟ استثناء کے لیے، تو مَا اور إِلاَّ کو ختم کر دو اور حصر لے آؤ ویسے ہی لے آؤ۔ ‏کیسے کریں گے پھر ترجمہ؟ "تیری آنکھوں نے تو اسی لیے آنسو بہائے ہیں تاکہ وہ میرے محبت کے اندر پارہ پارہ دل ‏کو ٹکڑوں میں اور تیر مارے۔" معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو مَا اور إِلاَّ ختم کر دیا تو ترجمہ بڑا بہترین ہو گیا۔ وَبَيْضَةِ خِدْرٍ لاَ يُرَامُ خِبَاؤُهَا ... تَمَتَّعْتُ مِنْ لَهْوٍ بِهَا غَيْرَ مُعَجَّلِ یہ واؤ بمعنی رُبَّ کے ہے، أَيْ رُبَّ بَيْضَةِ، بَيْضَةِ کہتے ہیں انڈے کو بھئی۔ خِدْرٌ، خِدْرٌ کا کیا معنی؟ ہاں شاباش! دیکھا یہ اپ ‏کو اب جوں جوں آپ آگے بڑھتے جائیں گے آپ کو اندازہ ہو گا۔ خِدْرٌ ہودج کو بھی کہتے ہیں یاد رکھیے اور خِدْرٌ پردے ‏کو بھی کہتے ہیں اور یہاں یہ پردے کے معنی میں ہے۔ ہودج کو بھی ہودج اس لیے کیونکہ اس پر بھی دیکھتے ہیں آپ ‏چاروں طرف کیا لٹکے ہوتے ہیں؟ پردے لٹکے ہوتے ہیں۔ تو یہ خِدْرٌ پردے کو کہتے ہیں یہاں پردے کے معنی میں ہے۔ لاَ يُرَامُ، رَامَ يَرُومُ کا معنی ہوتا ہے ارادہ کرنا، ارادہ کرنا۔ خِبَاؤُهَا، خِبَاءٌ کہتے ہیں خیمے کو، خیمے کو۔ تَمَتَّعْتُ، تمتع کا ‏معنی ہے نفع اٹھانا، نفع اٹھانا۔ لَهْوٍ بِهَا، لَهْوٌ بِالشَّيْءِ کا معنی ہے کسی چیز سے دل بہلانا، کسی چیز سے دل لگی کرنا، کسی ‏چیز کے ساتھ کھیلنا۔ غَيْرَ مُعَجَّلِ، أَعْجَلَ يُعْجِلُ إِعْجَالاً کا معنی ہے جلدی کروانا، تو أَعْجَلَ يُعْجِلُ إِعْجَالاً فَهُوَ مُعْجِلٌ جلدی ‏کروانے والا مُعْجِلٌ اور مُعَجَّلٌ جس سے جلدی کروائی جائے تو یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے بھئی۔ وَبَيْضَةِ خِدْرٍ، جی یہ کون چھینکا ہے؟ الحمدللہ کیوں نہیں کہتے بھئی؟ اونچا کہو سب سنیں بھئی۔ جی چھینکا ہے کوئی کہ ‏نہیں چھینکا؟ ہاں تو اونچا کہیں نا الحمدللہ سب سنیں۔ اچھا جی، وَبَيْضَةِ خِدْرٍ، وَبَيْضَةِ خِدْرٍ اور بہت سے پردوں کے انڈے، یہ تو لفظی ترجمہ ہے۔ بَيْضَةِ کی اضافت ہو رہی ہے ‏خِدْرٍ کی طرف لیکن یاد رکھیے بیضہ عرب کے اندر وہ طریقہ ان کے اندر تھا کہ وہ حسین و جمیل عورت کو تشبیہ دیتے ‏ہیں بیضہ انڈے کے ساتھ اور عام انڈا نہیں شتر مرغ کے انڈے کے ساتھ اور تو حسین و جمیل عورت جو ہو اس کو تشبیہ ‏دی جاتی ہے شتر مرغ کے انڈے کے ساتھ اور تین وجہ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ایک تو صحیح اور سلامت ہونے کے اندر جیسے انڈا پرندے کے گھونسلے میں صحیح سالم ہوتا ہے اسی طرح حسین و ‏جمیل عورت جو ہے وہ بھی جب کہ وہ کنواری ہو تو وہ سلامت ہے کسی کے ہاتھ اس تک کسی کے ہاتھ اس تک نہیں ‏پہنچے۔ تو صحت اور سلامتی کے اندر۔ اور نیز تشبیہ دی جاتی ہے اس کے رنگ کے اندر بھئی، رنگ کے اندر۔ شتر مرغ کا جو انڈا ہے وہ کچھ زردی مائل ہوتا ‏ہے اور عورتوں کے اندر یہ رنگ پسندیدہ ہے کہ عورت کا رنگ سفید ہو، گورا ہو اور زردی مائل ہو بھئی زردی مائل، ‏جب کہ مردوں کے اندر سفید رنگ جو سرخی کی طرف مائل ہو وہ پسندیدہ ہے بھئی پسندیدہ۔ اور تیسرا جو تشبیہ دی جاتی ہے حفاظت کے اندر بھئی، جیسے پرندہ گھونسلے کے اندر اپنے انڈوں کی حفاظت کرتا ہے ‏اس طرح ان حسین و جمیل لڑکیوں اور عورتوں کی بھی کیا کی جاتی ہے؟ حفاظت کی جاتی ہے بھئی۔ تو امرؤالقیس کہتا ہے: وَبَيْضَةِ خِدْرٍ أَيْ رُبَّ بَيْضَةِ خِدْرٍ، میں نے بتلایا تھا اپ کو کہ رُبَّ کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے ‏وضع ہے لیکن یہ اب استعمال ہمیشہ تکثیر میں ہوتا ہے، کبھی کبھار تقلیل کے لیے آئے گا تو وہاں کوئی قرینہ موجود ہو ‏گا بھئی ورنہ ویسے یہ تکثیر کے لیے۔ أَيْ رُبَّ بَيْضَةِ اور بہت سی پردہ نشین حسین و جمیل عورتیں، اب معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اور پردہ نشین، خِدْرٍ کا ‏کیا معنی؟ پردوں میں جن کو چھپایا گیا ہو۔ اور بہت سی پردہ نشین حسین و جمیل عورتیں کہ لاَ يُرَامُ خِبَاؤُهَا جی، لاَ يُرَامُ کہ ‏ارادہ نہیں کیا جاتا خِبَاؤُهَا ان کے خیموں کا، یعنی کوئی ان کے خیموں تک نہیں جاتا اس لیے کیونکہ اس کو پتہ ہے اگر ‏میں نے وہاں جانے کی کوشش کی تو مجھے کوئی زندہ نہیں چھوڑے گا۔ اور یاد رکھیے لاَ يُرَامُ فعل ہے اور میں نے اپ کو ضابطہ بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو اس کے لیے کیا بنتا ‏ہے؟ صفت۔ اب ایک اور بات یاد رکھنا، نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو تو وہ معرفہ بنتا ہے، غُلاَمُ زَيْدٍ اب غُلاَمُ بھی ‏کیا بن گیا؟ معرفہ۔ لیکن اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ معرفہ نہیں بنتا وہ نکرہ ہی رہتا ہے، تو یہاں بھی ‏بَيْضَةِ خِدْرٍ نکرہ کی اضافت کیا ہے؟ نکرہ کی طرف ہے تو بیضہ ابھی بھی نکرہ ہے اور اس کے بعد کیا آ گئی؟ فعل، تو ‏یہ اس کے فعل آیا اس کے بعد تو یہ اس کے لیے صفت۔ ترجمہ کیسے کریں گے؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی، اور بہت سی ایسی حسین و جمیل پردہ نشین عورتیں کہ لاَ يُرَامُ ‏خِبَاؤُهَا جن کے خیموں کا ارادہ نہیں کیا جاتا، تَمَتَّعْتُ میں نے ان سے نفع اٹھایا، مِنْ لَهْوٍ بِهَا ان کے ساتھ دل لگی کا، میں نے ‏ان کے ساتھ دل لگی کا نفع اٹھایا غَيْرَ مُعَجَّلِ اس حال میں یہ غیر منصوب ہے حال ہونے کی بناء پر، اس حال میں کہ مجھ ‏سے جلدی نہیں کروائی گئی۔ مجھ سے جلدی نہیں کروائی گئی، امرؤالقیس اپنی جرات اور شجاعت بیان کر رہا ہے کہ اگر کوئی ایسے عورتوں کے ‏خیموں تک جانے کی کسی کی ہمت ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی ہمت کر بھی لے وہاں سے جلدی سے جلدی نکلنے کی ‏کوشش کرتا ہے لیکن میری ہمت اور جرات دیکھو میں ان خیموں تک بھی پہنچا اور مجھے کسی کا خوف بھی نہیں تھا، ‏میں بڑی دیر تک ان سے دل لگی کرتا رہا بھئی۔ اچھا جی، تو کہتے ہیں وَبَيْضَةِ خِدْرٍ لاَ يُرَامُ اور بہت سی ایسی حسین و جمیل پردہ نشین عورتیں کہ جن کے خیموں کا ارادہ ‏نہیں کیا جاتا میں نے ان سے دل لگی کا نفع اٹھایا غَيْرَ مُعَجَّلِ اس حال میں کہ مجھ سے جلدی نہیں کروائی گئی، با محاورہ ‏ترجمہ کر لیں بہت دیر تک، جلدی نہیں کروائی گئی معلوم ہوا بہت دیر، تو میں نے ان سے دل لگی کا نفع اٹھایا بہت دیر ‏تک۔ اور تو غَيْرَ میں نے بتایا منصوب پڑھیں اور اسی میں غَيْرِ روایت بھی آئی ہے، اس صورت میں یہ لَهْوٍ کی صفت بنے گی، ‏لَهْوٍ مجرور ہے تو غَيْرِ مُعَجَّلِ یہ بھی کیا ہوا؟ مجرور۔ میں نے ان سے نفع اٹھایا ایسی دل لگی کا جس میں مجھ سے جلدی ‏نہیں کروائی گئی تھی۔ جی؟ تَمَتَّعْتُ، تَمَتَّعْتُ کے اس سے حال بنے گا بھئی متکلم کی ضمیر سے، میں نے نفع اٹھایا اس حال میں کہ مجھ سے جلدی ‏نہیں کروائی۔ اچھا جی، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ آگے دیکھیے بھئی:‏ تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيْهَا وَمَعْشَراً ... عَلَيَّ حِرَاصاً لَوْ يُسِرُّونَ مَقْتَلِي تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيْهَا، تَجَاوَزَ إِلَى الشَّيْءِ کا معنی کسی چیز کی طرف تجاوز کرنا، کسی چیز کی طرف بڑھنا۔ أَحْرَاساً، أَحْرَاساً جمع ہے حَارِسٌ کی، محافظ کو کہتے ہیں بھئی۔ وَمَعْشَراً، مَعْشَرٌ جو ہے قوم کو کہتے ہیں بھئی، قوم والے، خاندان والے۔ عَلَيَّ، یہ لام پر شد غلط لگا ہوا ہے بھئی یاء پر شد ہونا چاہیے، عَلَيَّ۔ حِرَاصاً، حِرَاصٌ جمع ہے حَرِيصٌ کی، حرص کرنے والا، کوشش کرنے والا۔ لَوْ يُسِرُّونَ مَقْتَلِي، أَسَرَّ يُسِرُّ کے معنی ظاہر کرنا بھی اور اس کا معنی چھپانا بھی، أَسَرَّ يُسِرُّ اسرارا کا معنی ظاہر کرنا بھی ‏اور چھپانا بھی۔ اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ ایسا لفظ جس کے دو متضاد معانی آتے ہوں، دیکھو چھپانا اور ظاہر کرنا ایک دوسرے کی ‏ضد ہیں۔ تو ایسا لفظ جس کے دو متضاد معانی آتے ہوں، اس کے، اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ کس قبیل سے ہے؟ ‏اضداد کی قبیل سے۔ تو یہ "اسر" بھی اضداد کی قبیل سے ہے۔ ویسے تو ہر لفظ کے کئی کئی معنی آتے ہیں، لیکن ان کو اضداد نہیں کہتے۔ اضداد میں سے کب کہتے ہیں؟ جب وہ دو ‏معنی کیا ہوں ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ ‏"مقتلي"، "مقتل" یہ مصدرِ میمی ہے۔ مصدرِ میمی ہے۔ اپ نے پڑھا ہے صرف کے اندر کہ یہ جو اسمِ مفعول کا صیغہ ہوتا ‏ہے مزید فیہ میں "اکرم یکرم اکراماً فهو مکرمٌ"، "مکرمٌ"، یہی "مکرمٌ" اسمِ مفعول بھی آتا ہے اور یہی یہ اسمِ ظرف کا بھی ‏یہی صیغہ آتا ہے دیکھ لیں "مکرمٌ" اور یہی مصدرِ میمی بھی آتا ہے بعض اوقات بھئی۔ تو یہ جو اسمِ مفعول کا صیغہ ہوتا ‏ہے سارے مزید فیہ میں اپ دیکھ لیں اسی طرح ہے۔ وہ اسمِ مفعول اور ظرف کا ایک ہی صیغہ ہوگا اور اسی وزن پر ‏بعض اوقات ان کے مصادر بھی آتے ہیں۔ تو یہ "مقتل" بمعنی قتل کے ہے بھئی، قتل کے معنی میں۔ "أي قتلي"، میرا قتل ‏بھئی۔ امرؤ القیس کہتا ہے:‏ تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيْهَا وَمَعْشَراً میں اس تک پہنچا، "أَحْرَاساً" کن سے گزر کر؟ محافظوں سے۔ میں محافظوں سے تجاوز کر کے اس تک پہنچا، "وَمَعْشَراً" ‏اور قوم والوں سے گزر کر اس تک پہنچا۔ "عَلَيَّ حِرَاصاً"، یہ "عَلَيَّ" متعلق ہے "حِرَاصاً" سے، بہرحال اس کو "حِرَاصاً" ‏سے ذرا مؤخر کرو۔ "حِرَاصاً عَلَيَّ"، وہ مجھ پر حریص تھے، وہ مجھ پر یعنی میرے بارے میں حرص کرتے تھے، "لَوْ ‏يُسِرُّونَ مَقْتَلِي"، "لَوْ" بمعنی "أن" کے ہے، شرط کے لیے نہیں ہے بلکہ "أن" کے۔ "أن يُسِرُّونَ" کہ وہ کیا کریں؟ "أن يُسِرُّوا" ‏کہ وہ مجھے کچھ میرے قتل کو پوشیدہ کریں یعنی پوشیدہ طور پر مجھے قتل کریں۔ یا معنی کر لیں کہ وہ مجھے ظاہراً ‏جہاراً بھئی سب کے سامنے قتل کریں۔ تو امرؤ القیس کہتا ہے کہ بہت سی ایسی پردہ نشین عورتیں کہ ان کے خیموں کا کوئی ارادہ نہیں کرتا، میں نے بہت دیر ‏تک ان سے دل لگی کا نفع اٹھایا۔ اور یہ نہ سمجھنا کہ کوئی خطرہ نہیں تھا اور میں ویسے وہاں پہنچ گیا تھا، نہیں نہیں۔ ‏‏"تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيْهَا وَمَعْشَراً"، میں بڑے محافظوں اور حفاظت کرنے والوں اور اس کے خاندان والوں سے گزر کر اس ‏تک پہنچا تھا اور وہ سارے اس بات پر حریص تھے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ پوشیدہ طور پر مجھے قتل کر دیں، یا وہ ‏سب چاہتے تھے کہ ظاہراً جہاراً کیا کر دیں مجھے؟ قتل کر دیں بھئی۔ ‏"تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيْهَا وَمَعْشَراً عَلَيَّ حِرَاصاً لَوْ يُسِرُّونَ مَقْتَلِي"، تو میں بہت سے، اچھا پھر یہ "حِرَاصاً" یہ صفت ہے ‏‏"مَعْشَراً" اور "أَحْرَاساً" کی۔ یہ "حِرَاصاً" کس کی صفت ہے؟ "مَعْشَراً" اور وہ دونوں بھی نکرہ ہیں نہ؟ "أَحْرَاساً" بھی ‏نکرہ، "مَعْشَراً" بھی اور "حِرَاصاً" بھی کیا ہے؟ نکرہ۔ تو بہت سے ادھر دیکھیے، بہت سے ایسے محافظ اور ایسے قبیلے ‏والے "حِرَاصاً عَلَيَّ" جو مجھے قتل کرنے پر حریص تھے، جو مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ تو میں بہت سے ایسے محافظوں اور قوم والوں سے گزر کر اس تک پہنچا جو اس بات پر حریص تھے کہ وہ مجھے ‏پوشیدہ طور پر قتل کر دیں یا اس بات پر حریص تھے کہ مجھے جہاراً علانیہ جو ہیں وہ قتل کر دیں۔ بھئی جہاراً قتل کر ‏دیں، وہ اس بات پر حریص تھے کہ مجھے کھلم کھلا قتل کر دیں تاکہ سب کو عبرت ہو جائے، آئندہ کوئی ہماری عورتوں ‏تک آنے کی ہمت نہ کرے بھئی۔ اس لیے وہ چاہتے تھے مجھے علانیہ قتل کر دیں۔ اور اگر اپ چاہیں تو پوشیدہ کا معنی کر دیں، جو اس بات پر حریص تھے کہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں۔ کیوں؟ ‏کیونکہ اپ سب جانتے ہیں میں شہزادہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، بادشاہ کا بیٹا ہوں۔ اور بادشاہوں کو کوئی شخص علانیہ قتل ‏نہیں کر سکتا، کسی کی ہمت ہے؟ بادشاہ تک کوئی پہنچ نہیں سکتا تو علانیہ قتل کرے گا تو جائے گا کدھر پھر وہاں اس ‏کے محافظ ہوتے ہیں۔ تو بادشاہوں کو جب بھی قتل کیا جاتا ہے کیسے قتل کرتے ہیں؟ چھپ کر، پوشیدہ طور پر، کوئی ‏سازش کر کے اس کو قتل کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو یہاں تو دونوں معنی اپ کر سکتے ہیں کہ وہ چاہتے تھے مجھے علانیہ قتل کر دیں تاکہ کسی کی پھر ہمت نہ ہو۔ اور ‏چاہیں دوسرا ترجمہ کر لیں کہ وہ چاہتے تھے کہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں۔ اور یہ معنی زیادہ پسندیدہ کیونکہ اس ‏میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ میں کون ہوں؟ شہزادہ اور بادشاہ ہوں۔ إِذَا مَا الثُّرَيَّا فِي السَّمَاءِ تَعَرَّضَتْ تَعَرُّضَ أَثْنَاءِ الوِشَاحِ المُفَصَّلِ اچھا، ثریا، ثریا جو ہے یہ ستاروں کا ایک مجموعہ ہے بھئی، بہت چھوٹے اور باریک ستارے ہیں اور ایک گچھے کی ‏شکل میں ہیں۔ اور اردو میں اس کو پروین کہتے ہیں، ثریا بھی استعمال ہوتا ہے اور پروین بھی کہتے ہیں بھئی اور یہ ‏ستاروں کا ایک مجموعہ ہے۔ شہروں میں تو اج کل روشنی ہے ستارے نظر ہی نہیں آتے، ہاں وہ لوگ جو ایسے علاقوں ‏میں رہتے ہیں جہاں ابھی بجلی نہیں پہنچی یا کم ہے تو وہاں اگر اپ چلے جائیں اور آسمان کو دیکھیں تو اتنا حسین و جمیل ‏کہ بیان سے باہر ہے اور ایسے ستاروں سے بھرا ہوتا ہے کہ بہت ہی خوشنما معلوم ہوتا ہے۔ شہر میں تو آٹھ دس، بیس ‏سے زیادہ شاید ستارے نظر ہی نہیں آتے بھئی۔ تو یہ جو پروین ستاروں کا مجموعہ ہے، یہ تو شہر میں نظر ہی نہیں آئے گا، یہ بہت باریک ستارے ہیں، بہت چھوٹے ‏چھوٹے ہیں لیکن ہیں اکٹھے گچھے کی صورت میں۔ اور عرب لوگ اس کے ذریعے نظر کی تیزی دیکھ جانچا کرتے تھے ‏بھئی۔ عام آدمی کو اس میں سات ستارے نظر آتے ہیں بھئی، سات ستارے۔ کوئی تیز نظر والا ہو تو اس کو نو تک ستارے ‏نظر آتے ہیں بھئی، نو ستارے۔ اور غالباً غالباً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ اپ کو اس میں تیرہ ‏ستارے نظر آتے تھے بھئی، حضور علیہ السلام کی نگاہ اتنی تیز تھی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ غلو، اور ویسے قوت کے اندر حضور علیہ السلام کو چالیس جنتیوں کے برابر طاقت دی گئی تھی۔ اور ایک ‏جنتی کو دنیا کے سو آدمیوں کے برابر قوت حاصل ہوگی۔ ایک جنتی میں کتنی طاقت؟ دنیا کے سو۔ اور حضور کو کتنی ‏طاقت؟ چالیس جنتی۔ تو اس کو سو سے ضرب دیں کتنا ہو گیا؟ چار ہزار۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چار ہزار آدمیوں ‏جتنی طاقت دی گئی، چار ہزار۔ چنانچہ اپ نے وہ واقعہ پڑھا ہے؟ وہ رکانہ پہلوان تھا بھئی، عرب تھا، بہت بڑا پہلوان، پورے عرب میں اس کی شہرت ‏تھی۔ اتنا طاقتور اور اتنا ڈیل ڈول، جسم تھا اس کا کہ اپ صرف اس سے اندازہ لگائیں، باقی طاقت کو چھوڑیں، وہ اونٹ ‏کی کھال پر جم کر کھڑا ہو جاتا تھا، دس آدمی مل کر اس کھال کو کھینچتے تھے، وہ کھال پھٹ جاتی تھی، اس کے پاؤں ‏کے نیچے سے نہیں نکال سکتے تھے۔ یہ کتنا جسم ہوگا اور کتنی طاقت ہوگی، عام طاقت کو تو بیان ہی نہ کریں بھئی۔ ‏حالانکہ بڑا پہلوان بھی کھڑا ہو تو میرا خیال ہے دو آدمی کھینچیں تو وہ آرام سے کھینچ لیں گے پاؤں کے نیچے سے۔ تو ‏وہ اتنا طاقتور پہلوان تھا۔ اور اس کو حضور علیہ السلام نے دعوتِ ایمان دی۔ تو کہنے لگا کہ اپ میرے ساتھ کشتی لڑیں، اپ مجھے ہرا دیں تو میں ‏ایمان لے آؤں گا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "آ جاؤ بھئی، ابھی آ جاؤ، تیاری کی ضرورت نہ کچھ، ابھی آ جاؤ۔" چنانچہ ‏حضور علیہ السلام کے ساتھ وہ سامنے آیا بھئی، آیا دونوں نے ایک دوسرے کو پکڑا، حضور علیہ السلام نے اس کو اس ‏طرح پکڑا جیسے تین چار سال کا بچہ دیکھتے ہیں اپ بھئی، اپ کو کہیں اس کو گرانا ہے، اپ کیسے گرائیں گے اس کو؟ ‏آرام سے اس کو پکڑیں گے، آرام سے لٹا، حضور علیہ السلام نے اس طرح اس کو پکڑا، نیچے لٹا دیا۔ وہ گھبرا کر ایک دم کھڑا، کہتے ہیں: "یہ یہ کیا ہوا؟ دوبارہ آؤ، دوبارہ آؤ، پتہ نہیں کیا ہو گیا!" مجھے تو گمان بھی نہیں ‏تھا، دوبارہ آیا حضور علیہ السلام نے پھر بڑے آرام سے اس کو پکڑا، آرام سے نیچے لٹا دیا۔ پھر اس نے کہا: "نہیں، یہ ‏کیا، دوبارہ آؤ! مجھے نہیں پتہ چلا یہ کیا ہوا۔" تیسری دفعہ آیا پھر حضور علیہ السلام نے آرام سے لٹا دیا۔ میں نے کہا چار ‏ہزار آدمیوں جتنی قوت تھی بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھئی، چنانچہ پھر رکانہ ایمان لے آئے بھئی رضی ‏اللہ تعالی عنہ بھئی۔ اللہ، صحابہ عجیب لوگ ہیں، ان کا ذکر بھی کرو تو دل میں عجیب قسم کی لذت اور مٹھاس محسوس ہوتی ہے۔ الحمد للہ اللہ ‏نے ہمیں صحابہ کی محبت عطا فرمائی بھئی۔ تو "تَجَاوَزْتُ أَحْرَاساً إِلَيَّ"، "إِلَيْهَا وَمَعْشَراً عَلَيَّ حِرَاصاً"، اچھا جی، بات چل رہی تھی ثریا سے بھئی، ثریا وہ ستاروں کا ‏مجموعہ ہے بھئی۔ إِذَا مَا الثُّرَيَّا فِي السَّمَاءِ تَعَرَّضَتْ تعرض کا معنی ایک معنی ہے سامنے آنا، سامنے آنا۔ اسی طرح تعرض کا ایک معنی ہے کنارے ظاہر کرنا، کنارے ظاہر ‏کرنا۔ کیونکہ پھر یہی تعرض لفظ آ رہا ہے۔ "أثْنَاءَ" بھئی، "أثْنَاءَ" جمع ہے "ثِنَن" یا "ثَنَن" کی بھئی، یا کے ساتھ لکھتے ہیں ‏حاشیے میں دیکھ لیجیے گا، ث، ن، ی۔ اسی نون پر دو زبریں ڈال دیں، "ثِنَن" یا "ثَنَن"۔ تو اس کی جمع ہے اور "ثِنَن" یا "ثَنَن" اس کا معنی کنارے کے لیے آتے ہیں اور اس کا معنی درمیان کے لیے آتے ہیں، ‏دونوں معنی اس کے آتے ہیں بھئی۔ تو "أثْنَاءَ" کا کیا معنی ہوا؟ کنارے، یا کیا معنی ہوا؟ درمیان، دونوں معنی ہو سکتے ‏ہیں۔ اچھا، یہاں کنارے کا معنی کر لیں گے، وہ تعرض کے تاکہ تعرض کی طرح کیونکہ پیچھے تعرض کا ذکر آ رہا ہے۔ ‏"وِشَاح" بھئی "وِشَاح"، "وِشَاح" بھئی، یہ عورتیں زیب و زینت کے لیے ایک پیٹی پہنتی ہیں بھئی، جو ایک طرف تو ‏کاندھے پر سے گزرتی اور دوسری طرف سے پہلو پر سے گزرتی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پیٹی ہو، ایک طرف ‏کاندھے پر ہو اور دوسری جانب کہاں سے گزر رہی ہو؟ پہلو سے، یہ پیٹ کے پاس سے گزر رہی ہو، سینے پر سے ‏گزرتے ہوئے، تو یہ زیب و زینت کے لیے، اج بھی عورتیں استعمال کرتی ہیں اور اسی طرح بہت سے اپ نے یہ بعض ‏ملکوں کے بادشاہ وغیرہ ہیں وہ بھی اس طرح کی زینت والی ایک پیٹی پہنتے ہیں بھئی اگر اپ نے دیکھا ہو ان کا جو ‏خاص لباس ہوتا ہے۔ اور اس پیٹی پر پھر جواہرات وغیرہ اور سونا اور اس طرح کی چیزیں لگائی جاتی ہیں زیب و زینت کے لیے بھئی۔ تو اس ‏کو وشاح کہتے ہیں، وہ پیٹی کیا ہے؟ وشاح۔ اور وشاحِ مفصل، مفصل جس کے اندر فصل کیا گیا ہو۔ تو وشاحِ مفصل وہ ‏پیٹی جس کے اوپر جو جواہرات لگے ہیں وہ مسلسل نہیں لگے بلکہ درمیان میں فصل ہے، کچھ جواہرات لگے ہیں، پھر ‏سونا یا کوئی اور چیز لگی ہے، پھر کچھ جواہرات لگے ہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وشاحِ مفصل۔ تو "إِذَا مَا الثُّرَيَّا"، "إِذَا" ظرفیت کے لیے آتا ہے، یہ ظرف ہے "تَجَاوَزْتُ" کے لیے۔ میں اس کے پاس آیا، کس وقت؟ "إِذَا مَا ‏الثُّرَيَّا فِي السَّمَاءِ تَعَرَّضَتْ"، جس وقت کہ ثریا ستارے جو ہیں، آسمان میں "تَعَرَّضَتْ" انہوں نے اپنے کنارے ظاہر کیے۔ ‏جس وقت ثریا ستاروں، ثریا کے جھرمٹ نے اپنے کنارے ظاہر کیے۔ جب ثریا نے آسمان میں اپنے کنارے ظاہر کیے۔ بعض علماء نے لکھا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ بڑی دیر سے گیا، رات کو، نصف کے نصف یا اس سے زیادہ رات گزر ‏چکی تھی، تب گیا امرؤ القیس ان کے خیموں میں، بتلانا یہ چاہتا ہے میں اس وقت گیا ان کے خیموں میں، لیکن یہ معنی ‏نہیں۔ بلکہ معنی یہ ہے کہ ابتدائے رات میں، رات کے ابتدائی حصے میں ہی میں ان کے پاس پہنچ گیا یعنی جس وقت اور ‏بھی زیادہ خطرہ ہے، سب ابھی جاگ رہے ہیں۔ اور تو جس وقت ثریا نے اپنے کنارے ظاہر کیے یعنی پوری طرح ظاہر ابھی نہیں ہوئی ثریا، مشرق سے ستارے بھی ‏مشرق سے طلوع کرتے ہیں اور مغرب میں غروب ہو جاتے، تو ستارے جس وقت ثریا ابھی ظاہر ہی ہوا یعنی رات کا ‏ابتدائی حصہ ہی تھا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ اور آگے اس کی دلیل آگے اشعار میں بھی ا جائے گی کہ ابھی سوئے بھی ‏نہیں تھے کہ میں اس کے پاس پہنچ گیا بھئی۔ جس میں پہنچا اس کے پاس جس وقت ثریا نے آسمان میں اپنے کنارے ظاہر کیے، "تَعَرُّضَ أَثْنَاءِ الوِشَاحِ المُفَصَّلِ"، تعرض ‏کا کیا معنی؟ کنارے ظاہر کرنا، اور اثناء اثناء کناروں کو بھی کہتے ہیں اور وسط کو بھی کہتے ہیں، یہاں کناروں کے ‏معنی میں کر لیں، کس معنی میں؟ تو اثناء کا معنی ہوا کنارے، اور تعرض کا کیا معنی تھا؟ کنارے ظاہر کرنا، تو جب ‏کنارے کا لفظ آگے خود آ رہا ہے تو اس کو کنارے سے خالی کر لو، یعنی صرف اس کا معنی کر لو ظاہر کرنا، ظاہر ‏کرنا۔ ‏"تَعَرُّضَ أَثْنَاءِ الوِشَاحِ المُفَصَّلِ" جس طرح کہ وشاحِ مفصل کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں، جس طرح کیا ہوتے ہیں؟ وشاحِ ‏مفصل کے، جس وقت ثریا آسمان میں اس نے اپنے کنارے ظاہر کیے جیسے کہ وشاحِ مفصل کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں۔ ‏‏"تَعَرُّضَ أَثْنَاءِ الوِشَاحِ المُفَصَّلِ" جس طرح کہ وشاحِ مفصل، وہ جو پٹی ہوتی ہے جس کے جواہرات میں فصل کیا گیا ہوتا ‏ہے، جیسے وہ اپنے، جیسے اس کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسے اس پیٹی کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں، کیونکہ کناروں پر کیا لگے ہیں؟ جواہرات لگے ہیں تو وہ خوب واضح ظاہر ‏ہوتے ہیں۔ تو میں اس وقت آیا جب ثریا نے بھی اپنے کنارے اس کی طرح ظاہر کر دیے تھے یعنی نظر آنے لگی تھی ‏بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی رات کے ابتدائی حصے میں، میں اس کے پاس آیا بھئی۔ چلیں بس یہ، ھذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 11 of 62