Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-126

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل مولانا ہم نے پڑھا تھا کہ مجاز جو ہے یہ دراصل کیا ہے؟ مَفْعَلْ وزن پر ہے مَجْوَزْ۔ اور پھر اس میں دو قول پڑھے تھے شیخ عبدالقاہر کا اور صاحبِ تلخیص کا۔ شیخ عبدالقاہر کے نزدیک یہ مَجَازْ مَجْوَزْ جو وزن ہے یہ کس کا ہے؟ مصدرِ یہاں یہ مصدرِ میمی سے بنا ہے مولانا، یہ مجاز مصدرِ میمی ہے۔ اور مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے کبھی اسم مفعول کے معنی میں۔ تو یہاں یہ اسم فاعل کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے اور اسم مفعول کے معنی میں بھی۔ جَازَ الْمَكَانَ يَجُوزُهُ یہ کب بولتے ہیں؟ جب کوئی شخص کسی جگہ سے تجاوز کر جائے اور آگے بڑھ جائے۔ تو پھر اس کو نقل کر لیا گیا ایسے کلمے کی طرف جس نے تجاوز کر لیا کہاں سے؟ اپنے مکانِ اصلی یعنی معنی حقیقی سے۔ اور یا یہ مولانا یہ اسم مفعول ہے مَجُوزٌ بِهَا کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ وہ کلمہ ہے جس کو لے جایا گیا ہے کہاں سے؟ اس کے مکانِ اصلی سے، یعنی معنی اصلی سے۔ اور مصنف نے ذکر کیا کہ یہ کیا ہے؟ یہ اسم ظرف کا صیغہ ہے اور عرب کہتے ہیں جَازَ الْمَكَانَ کس وقت بولتے ہیں؟ جب کوئی اس جگہ پر چلے، اس راستے پر چلے۔ تو یہ مکان ظرفِ مکان ہے مولانا۔ تو مجاز کو بھی مجاز اس لیے کہتے ہیں کہ یہ طریقہ ہے، راستہ ہے، کس چیز کا؟ اس کے معنی کے تصور کا بھئی۔ اس کا جو معنی ہے وہ غیر موضوع لہ اس کے تصور کا یہ طریقہ ہے اور راستہ ہے بھئی۔ پھر مجاز کی دو قسمیں پڑھی تھیں مفرد اور مرکب بھئی۔ اور مفرد اور مرکب علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ دونوں کی ایک تعریف نہیں ہو سکتی تھی اس لیے مصنف نے کیا کیا؟ ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ تعریف کی بھئی۔ مجازِ مفرد کس کو کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو استعمال ہو غیر موضوع لہ کے اندر اس اصطلاح میں جس کے اندر تکلم ہوا ہے صحیح طریقے پر اور ساتھ قرینہ ایسا ہو کہ موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہ ہو۔ تو اس میں پانچ قیودات ذکر ہوئی تھیں: مستعملہ، غیر ما وضعت لہ، فی اصطلاح بہ التخاطب، علی وجہ یصح اور قرینہ مع قرینہ عدم ارادۃ الموضوع لہ بھئی۔ یہ پانچ۔ ہر ایک کا فائدہ علامہ تفتازانی نے بتلایا۔ مستعملہ کی قید کے ذریعے کس کو نکال دیا؟ وہ کلمہ جو قبل الاستعمال ہے کیونکہ یہ جو مجاز اور حقیقت ہیں یہ استعمال کے اعتبار سے ہیں اور قبل الاستعمال نہ یہ حقیقت ہے اور نہ مجاز ہے۔ اور غیر موضوع لہ کے ذریعے کس سے کہ استعمال ہو کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ۔ اس کے ذریعے کس کو نکال دیا؟ حقیقت کو نکال دیا چاہے حقیقتِ مرتجل ہو یا منقول ہو یا اس کے علاوہ یعنی مشترک وغیرہ ہو بھئی۔ مرتجل میں نے بتلایا تھا کس کو کہتے ہیں کہ کلمہ کو نقل کر لیا جائے ایک معنی سے کس کی طرف؟ دوسرے معنی کی طرف اور دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہ ہو، پہلا معنی متروک ہو بھئی۔ اور منقول کہتے ہیں کہ پہلے معنی سے دوسرے معنی کی طرف نقل کیا پہلے کو چھوڑ دیا لیکن اول اور ثانی میں کیا موجود ہے؟ مناسبت موجود ہے۔ اور مشترک وہ ہے جس کو کئی معانی کے لیے وضع کیا جائے۔ تو اس کے ذریعے یہ مرتجل، منقول اور مشترک ساری حقیقت کی اقسام ہیں تو ان سب سے احتراز کیا غیر موضوع لہ کے ذریعے۔ اور اسی طرح کہا فی اصطلاح بہ التخاطب، اس اصطلاح میں جس کے اندر تکلم ہو، اس قید یہ قید بعض چیزوں کو داخل کرنے والی ہے اور بعض کو خارج کرنے والی ہے۔ جس کلمے کو بھی استعمال کریں اگر آپ دیکھیں وہ اصطلاح جس کے اندر تکلم ہوا ہے اس اصطلاح کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے تو یہ کس میں داخل ہو جائے گا؟ مجاز میں۔ اور اگر اس اصطلاح کے مطابق یہ کیا ہے؟ اگر اس اصطلاح کے مطابق یہ موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے تو پھر یہ کیا کر دے گی اس کو؟ خارج کر دے گی اگرچہ دوسری اصطلاح کے اندر وہ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے لیکن جس میں ہم کلام مثلاً لفظِ صلاۃ ہے مولانا۔ اب لفظِ صلاۃ اگر یہ اہل شریعت سے گفتگو کرتے ہوئے یہ لفظ بولا جائے اور اس سے کیا مراد لیا جائے؟ اس سے ہاں نماز لے لیں۔ نماز لے لیں تو پھر دیکھیے اب نماز جس اصطلاح میں گفتگو کر رہے ہیں، کلام کر رہے ہیں اس کے مطابق یہ کیا ہے؟ معنی موضوع لہ، لہٰذا یہ مجاز کی تعریف سے خارج۔ اگرچہ اہل لغت کے نزدیک یہ کس معنی میں استعمال ہے اس وقت؟ اس وقت جب ہم نے نماز مراد لی اہل لغت کے نزدیک تو یہ وضع ہے کس کے لیے؟ دعا کے لیے۔ تو فی الحال اگرچہ یہ ان کے نزدیک معنی مجازی میں استعمال ہو رہا ہے لیکن جس اصطلاح میں ہم بات کر رہے ہیں اس کے مطابق تو یہ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی موضوع لہ میں۔ تو اس اصطلاح کے اعتبار سے دیکھیں گے بھئی۔ علی وجہ یصح، یہ جار مجرور کس سے متعلق ہے؟ مستعمل سے۔ یعنی وہ استعمال ایسے طریقے پر ہو جو صحیح بھی ہو یعنی معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ کے درمیان کوئی تعلق اور ربط بھی ہو، بغیر تعلق اور ربط کے نہ ہو بھئی۔ اس قید کے ذریعے غلط کو نکال دیا مولانا۔ کیونکہ غلط آپ ایک لفظ بولتے ہیں اور اس سے معنی موضوع لہ کے بجائے کوئی کسی اور معنی کا ارادہ کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تو پھر یہ کیا ہے؟ غلط ہے مولانا، کیا؟ غلط ہے بھئی۔ تو جب صحیح جب یہ قید لگا دی کہ صحیح طریقے پر ہو تو غلط خارج۔ اور پانچویں قید تھی مع قرینۃ عدم ارادتہ، معنی موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہ ہو سکے، ایسا قرینہ ہو کہ جس کے ساتھ معنی موضوع لہ کا ارادہ نہ ہو سکے۔ مثلاً میں نے کہا: رايت اسدا يرمی، میں نے ایسا شیر دیکھا جو تیر چلا رہا تھا۔ اب یہ يرمی قرینہ بتلا رہا ہے کہ اسد کس میں استعمال ہو رہا ہے، موضوع لہ میں یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں۔ تو لیکن یہ ایسا قرینہ ہے کہ یہاں پر ہمیں معنی موضوع لہ کا ارادہ نہیں کرنے دیتا۔ شیر کا ارادہ کر سکتے ہیں اس جملے میں؟ نہیں کر سکتے کیونکہ يرمی نے جو ہے یہ مانع ہے، یہ ہمیں معنی موضوع لہ کا ارادہ نہیں کرنے دیتا۔ تو ایسا قرینہ جو ہو ساتھ جو معنی موضوع لہ کا ارادہ کرنے سے روکے۔ یہ قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں کنایہ کو نکالنے کے لیے کیونکہ کنایہ کے اندر بھی لفظ استعمال ہوتا ہے غیر موضوع لہ کے اندر لیکن وہاں پر موضوع لہ کا وہاں ایسا قرینہ ہو اور اس کے لیے بھی قرینہ چاہیے لیکن وہ قرینہ ایسا ہوتا ہے کہ موضوع لہ کا ارادہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ مولانا کہ مجاز کے لیے علاقہ کا ہونا ضروری ہے بھئی، علاقہ کا ہونا ضروری ہے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بتلایا آپ کو کہ حقیقت اور مجاز ان میں سے ہر ایک کی چار چار قسمیں ہیں بھئی: حقیقتِ لغویہ اور مجازِ لغوی، حقیقتِ شرعیہ اور مجازِ شرعی، حقیقتِ عرفیہ خاصہ اور مجازِ عرفی خاص، اور حقیقتِ عرفیہ عامہ اور مجازِ عرفی عام۔ جی، تو حقیقتِ لغویہ کس کو کہتے ہیں؟ جی، ہاں عرفِ خاص اور عرفِ عام کے بارے میں بتلایا، عرفِ خاص مولانا جس کو خاص فن والوں نے کیا کیا ہو؟ کسی معنی کے لیے وضع کیا ہو۔ اور عرفِ عام جس کے نقل کرنے والے کون ہوں؟ جی، عام ہوں، عام جس کوئی متعین نہ ہو ناقل کون ہے؟ صرفی ہے، نحوی ہے، کوئی متعین نہ ہو مولانا۔ اب پتہ کیسے چلے گا مولانا کہ یہ حقیقتِ لغویہ ہے یا مجازِ لغوی ہے؟ کہتے ہیں بھئی حقیقت کا تو پتہ چلے گا واضع سے۔ اگر اس کا واضع کیا ہے؟ اہل لغت میں سے ہے تو اس معنی کے اندر یہ لفظ استعمال ہوا تو یہ کیا کہلائے گا؟ حقیقتِ لغویہ۔ اور اگر واضع کون ہے؟ شارع ہے اور اسی معنی کے اندر استعمال ہوا تو یہ کیا کہلائے گا؟ حقیقتِ شرعیہ، جیسے صلاۃ کا لفظ نماز کے لیے استعمال ہو بھئی، ارکانِ مخصوصہ کے لیے۔ اور اسی طرح اگر واضع کون ہو؟ عرفِ خاص والے ہوں مولانا جیسے فعل کا لفظ علمائے نحو نے کس کے لیے وضع کیا ہے؟ وہ کلمہ جو دلالت کرتا ہے اپنے معنی پر بذاتہٖ اور تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ تو اگر تو یہ واضع اس کے کون ہیں؟ اہل نحو۔ لہٰذا یہ کیا ہوا؟ حقیقتِ عرفیہ خاصہ بھئی، یا حقیقتِ نحویہ کہیں مولانا۔ اور اگر عرفِ عام والے ہوں واضع تو پھر یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عرفیہ عامہ، جیسے مثلاً مولانا دابۃ لغت میں تو زمین پر چلنے والے ہر جانور کو کہتے ہیں لیکن عرف والوں نے اس کو خاص کر دیا، وضع کر دیا کس معنی کے لیے؟ چار پاؤں والے کتنے جانور ہیں؟ تین بھئی: گھوڑا، گدھا اور خچر، ان تین کے لیے وہ اس انہوں نے اس کو وضع کر لیا تو یہ کیا بن گیا ان تین کے اندر استعمال ہو تو؟ حقیقتِ عرفیہ عامہ بن جائے گا بھئی۔ یہ تو تھا حقیقت، تو حقیقت کا پتہ واضع سے چلے گا، مجاز کا پتہ کیسے چلے گا؟ کہتے ہیں مجاز کا پتہ چلے گا اہل اصطلاح سے۔ جو جس اصطلاح والے اس اس کو استعمال کر رہے ہیں ان کے اعتبار سے دیکھا جائے گا کہ یہ ان کے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے یا معنی موضوع لہ میں استعمال نہیں ہو رہا۔ پھر ہر ایک کی مثال ذکر کی مولانا مصنف نے بھئی۔ جیسے مولانا حقیق اسد یہ درندے کے لیے بھی وضع ہے اور رجلِ شجاع کے لیے بھی۔ تو درندے کے اندر استعمال ہو تو یہ کیا ہے؟ حیوانِ مفترس کے لیے اسد کو کس نے وضع کیا؟ اہل لغت نے، کس نے؟ تو یہ حقیقتِ لغویہ ہوا حیوانِ مفترس میں۔ اور رجلِ شجاع میں کیا ہو گیا پھر؟ مجازِ لغوی ہوا۔ اسی طرح صلاۃ کا لفظ ارکانِ مخصوصہ کے لیے کس نے وضع کیا؟ تو یہ ان کے یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہو تو یہ کیا کہلائے گا؟ حقیقتِ شرعیہ۔ اور اگر یہ دعا کے معنی میں استعمال ہو بھئی تو پھر؟ مجازِ شرعی۔ اور اسی طرح فعل بھئی فعل کا لفظِ فعل اس کو وضع کیا کس کے لیے؟ وہ مخصوص کلمے کے لیے تو یہ کیا ہوا؟ حقیقتِ عرفیہ۔ اور اگر اس کو حدث کے معنی میں استعمال کریں یعنی معنی مصدری میں استعمال کریں تو پھر خاصہ۔ اور دابۃ اور اسی طرح دابۃ کو چار پاؤں والے تین مخصوص جانوروں کے لیے استعمال کریں تو یہ حقیقتِ عرفیہ عامہ۔ اور اگر اس کو کسی حقیر اور مہین انسان کے لیے استعمال کریں تو مجازِ عرفی عام بھئی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے مجازِ مرسل اور استعارے کے بارے میں آپ کو بتلایا بھئی۔ مجاز کس کو کہتے تھے بھئی؟ اور غیر موضوع لہ اور موضوع لہ کے درمیان کیا ہونا ضروری؟ علاقہ۔ اگر یہ علاقہ تشبیہ کا ہو تو کیا کہلائے گا؟ استعارہ۔ اور اگر تشبیہ کا نہ ہو تو؟ مجازِ مرسل کہلائے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا مولانا مجازِ مرسل یہ کلمے کا نام ہے اور اسی طرح استعارہ بھی کس کا نام ہے؟ کلمے کا نام ہے۔ تو کلم تو اب اسی سے تو استعارہ ہے مصدر، استعارہ کیا ہے؟ لیکن استعمال کس معنی میں ہوا؟ مستعار کے معنی میں، کس کے معنی میں؟ تو یہ استعارہ بمعنی مستعار کے ہے یعنی اسم مفعول کے معنی میں، اور اسم مفعول سے تو اشتقاق نہیں ہو سکتا۔ تو اس پر اشکال ہوتا تھا کہ بھئی اس سے تو اشتقاق بھی ہوا ہے، وہ جو متکلم ہے استعارہ کرنے والا وہ کیا کہلاتا ہے؟ مستعیر، اور جس معنی سے وہ لفظ لیا وہ معنی حقیقی کے وہ کیا کہلائے گا؟ مستعار منہ، اور جس معنی میں استعمال کر رہا ہے وہ کیا کہلائے گا؟ مستعار لہ، اور وہ لفظ کیا کہلائے گا؟ مستعار۔ تو یہاں تو اشتقاق ہو رہا ہے مولانا باقاعدہ۔ تو اگر استعارہ اسم مفعول کے معنی میں ہو تو پھر تو اشتقاق صحیح نہیں کیونکہ اشتقاق مصدر سے ہوتا ہے، اسم مفعول سے نہیں ہوتا۔ تو علامہ تفتاز مصنف نے آپ کو بتلایا کہ بسا اوقات یہ معنی مصدری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ معنی؟ معنی مصدری کے لیے بھی آتا ہے یعنی مشبہ بہٖ کا اسم آپ نے کس میں استعمال کیا؟ مشبہ میں استعمال کیا تو دیکھو استعمال کرنا، لفظِ مشبہ بہٖ کو کس میں استعمال کرنا؟ مشبہ بہٖ میں استعمال کرنا تو یہ استعمال کرنا کیا ہے؟ مصدر ہے، تو اس کو بھی استعارہ کہتے ہیں۔ اس صورت میں اب کیا ہوا مولانا؟ اشتقاق کیا ہے؟ صحیح ہے۔ اب مجازِ مرسل دیکھیے، صرف متن پہ نظر رکھنا مولانا۔ مجازِ مرسل میں کیا کہا؟ علاقہ تشبیہ کا ہوگا یا غیر تشبیہ کا؟ تشبیہ کا علاقہ نہیں ہوگا۔ مثلاً دیکھیے كَالْيَدِ فِي النِّعْمَةِ جیسے کہ ہاتھ ید کا لفظ ہے وہ کس میں استعمال ہو؟ نعمت۔ بھئی ید تو اصل میں وضع ہے اس مخصوص عضو کے لیے، ہاتھ کے لیے، لیکن اس کو استعمال عرب کبھی کبھار کس کے لیے کر لیتے ہیں؟ نعمت کے، نعمت میں، جیسے کہتے ہیں كَثُرَتْ أَيَادِي فُلَانٍ، فلاں کی نعمتیں کیا ہیں؟ زیادہ ہیں، یا كَثُرَتْ أَيَادِي فُلَانٍ عِنْدِي، میرے پاس یا مجھ پر فلاں کی نعمتیں زیادہ ہیں، فلاں کے انعامات زیادہ ہیں بھئی۔ تو دیکھیے ایادی جمع ہے ید کی مولانا اور ید بولا اور مراد اس سے کیا؟ نعمت۔ اب یہ معنی موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ۔ اور علاقہ تشبیہ کا ہے؟ علاقہ تشبیہ کا بھی نہیں ہے بلکہ علاقہ سبب مسبب کا ہے۔ علاقہ کیا ہے؟ سبب مسبب، کیونکہ ہاتھ سے صدور ہوتا ہے نعمت اور انعام وغیرہ کا اور دوسرے تک پہنچتا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ سبب ہے تو سبب بول کر مسبب نعمت مراد ہے وہاں۔ ہاتھ کیا ہے؟ سبب ہے اور نعمت مسبب ہے تو سبب بول کر مسبب، تو علاقہ سبب مسبب کا ہے۔ اسی طرح یا كَالْيَدِ فِي الْقُدْرَةِ، ید کا لفظ قدرت میں استعمال کرنا بھئی۔ ید تو قدرت میں استعمال کرنا یہ کس میں، معنی موضوع لہ ہے یا غیر موضوع لہ؟ غیر موضوع لہ۔ اور دونوں میں علاقہ کون سا ہے؟ یہاں بھی سبب مسبب کا ہے، اس لیے کہ ہاتھ سے ہی آثارِ قدرت ظاہر ہوتے ہیں مولانا۔ ہاتھ سے ہی کیا ہیں؟ آثارِ قدرت ظاہر ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ اس کتاب کے اٹھانے پر قادر ہیں یا قادر نہیں؟ قادر ہیں۔ یہ کس کے یہ کس کے ذریعے یہ قدرت کا اثر ظاہر ہوگا؟ ہاتھ سے آپ اٹھائیں گے تو یہ اثر قدرت کا ظاہر کس سے ہوتا ہے؟ ہاتھ سے۔ تو ید یہ سبب ہے مولانا اور قدرت کیا ہے؟ آثارِ قدرت مسبب ہیں تو سبب بول کر مسبب مراد ہے وہاں۔ یا وَالرَّاوِيَةِ فِي الْمَزَادَةِ، راویہ مولانا یہ اصل میں اس جانور کو کہتے ہیں جس پر پانی ڈھویا جائے، پانی لے جایا جائے مولانا، کیا کیا جائے؟ پانی لایا جائے، پانی پہنچایا جائے ایک جگہ سے دوسری جگہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ راویہ، راویہ۔ تو راویہ نام تو اس جانور کا ہے چاہے اونٹ ہو، چاہے خچر ہو، چاہے گدھا وغیرہ ہو، لیکن اس کا اطلاق کبھی کبھار وہ جو پانی کا اوپر مشکیزہ وغیرہ ہے، پانی کا مشکیزہ جو ہے یرحمک اللہ، جو پانی کا مشکیزہ ہے اس پر بھی کیا اطلاق کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ راویہ۔ تو یہ موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ اصل میں تو یہ جانور کے لیے وضع ہے لیکن استعمال کس کے اندر ہوا مولانا؟ مشکیزے کے اندر ہوا تو یہ بھی مولانا اور علاقہ تشبیہ کا نہیں بھئی، علاقہ کیا ہے؟ علاقہ یہاں حامل محمول کا ہے۔ جانور اٹھانے والا ہے، حامل ہے اور کس کو اٹھانے والا ہے؟ اس مشکیزے کو، تو حامل محمول کا علاقہ ہے، یا بعضوں نے اس کو کہا مجاورت ہے۔ علاقہ کون سا ہے؟ مجاورت کا معنی پڑوس ہے۔ بھئی وہ جانور نے اٹھایا ہوا ہے تو دونوں ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں یا نہیں مولانا؟ تو دونوں ایک دوسرے کے کیا ہیں؟ ملے ہوئے ہیں، پڑوس ہے بھئی، یا مولانا سمجھ میں آیا؟ آگے دیکھیے بھئی۔ یہ تو کچھ مصنف نے مثالیں ذکر کیں، اب باقاعدہ وہ علاقے ذکر کریں گے آگے بھئی، نو قسم کے علاقے وہ آپ کو بتلائیں گے مولانا۔ کبھی کبھی کیا کرتے ہیں مولانا؟ جز بول کر کل مراد لیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جز بول کر کل، جیسے عین بول کر جاسوس مراد لیتے ہیں بھئی۔ اب یہ عین تو آنکھ کو کہتے ہیں اور آنکھ جاسوس کی جاسوس کا جز ہے مولانا، اور تو جز بول کر ہم نے کیا مراد لیا؟ کل مراد لیا تو علاقہ تو کیا ہوا مولانا؟ کل، جزئیت کا علاقہ ہوا مولانا۔ تو اسی طرح یا اس کا عکس کرتے ہیں مولانا، کل بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ جز مولانا، جیسے اصابع انگلی بول کر انامل پورے مراد لینا، جیسے قرآن میں آیا ہے: يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ، وہ اپنی انگلیوں کو ڈالتے ہیں کس میں اپنے؟ تو بھئی یہاں لفظ تو انگلیاں ہیں، کیا پوری انگلی ڈالتے ہیں کان میں؟ نہیں بھئی، یہ صرف اگلے پورے مراد ہیں۔ تو دیکھو کل بول کر جز مراد ہیں۔ یا اسی طرح مولانا یہ دو علاقے ہوئے بھئی، تیسرا کبھی کبھار سبب بول کر کیا مراد ہوتا ہے؟ مسبب، جیسے رَعَيْنَا الْغَيْثَ، رَعَيْنَا الْغَيْثَ، ہم نے چرایا بارش میں۔ بھئی بارش میں چراتے ہیں یا گھاس یا سبزے پر چراتے ہیں بھئی؟ گھاس اور سبزے پر چراتے ہیں تو یہاں غیث بول کر سبزہ مراد ہے اور غیث کیوں کہا اور علاقہ کیا ہے دونوں کے اندر؟ سبب اور مسبب، کیونکہ بارش سبب ہے بھئی۔ یا کبھی کبھار مولانا مسبب بول کر سبب مراد ہوتا ہے، جیسے أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا، آسمان نے سبزہ برسایا بھئی۔ آسمان سبزہ برساتا ہے یا بارش بھئی؟ بارش، اور تو بارش سبب اور سبزہ مسبب، تو یہاں مسبب بول کر کیا مراد ہے؟ سبب مراد ہے بھئی۔ أَوْ مَا كَانَ عَلَيْهِ اور کبھی کبھار مولانا ایک چیز ماضی میں جس حالت پر تھی، ماضی میں؟ اس ماضی کے اسم کا اطلاق حال پر کر دیا جاتا ہے اس کے۔ مثلاً مولانا: وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ، یتیموں کو ان کا مال دو، اور یتیموں کو مال کب دیا جائے گا؟ جب وہ بالغ ہو جائیں، اور جب بالغ ہو گئے پھر تو وہ یتیم نہ رہے بھئی۔ یتیم کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جو نابالغ ہو اور اس کا باپ فوت ہو جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ یتیم کہتے ہیں، لیکن بالغ ہونے کے بعد اس کو یتیم نہیں کہتے۔ تو انسانوں کے اندر بلوغت سے پہلے جس کا باپ فوت ہو جائے اسے یتیم کہتے ہیں۔ عام جانوروں کے اندر کہتے ہیں بھئی جس کی ماں نہ ہو، مر جائے تو اس اس کو کیا کہتے ہیں؟ یتیم کہتے ہیں۔ پرندوں کے اندر جس کے ماں باپ دونوں ختم ہو جائیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ یتیم کہتے ہیں۔ اور جمادات وغیرہ کے اندر جن یہ پتھر وغیرہ یہ چیزیں ان کے اندر یتیم کا اطلاق ہوتا ہے اس پر جس کی مثال نہ ہو، جس کی نظیر نہ ہو۔ کہتے ہیں مولانا دُرَّۃٌ يَتِيمَۃٌ بھئی، بے نظیر موتی، یکتا موتی مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے یہاں یتامیٰ کا لفظ بولا گیا اور یتیم اس وقت ہیں یا ماضی کے اندر تھے؟ تو تو ماضی کے لفظ کا اطلاق کیا گیا ان پر حال کے زمانے میں۔ یا مولانا کبھی کبھار وہ چیز جو مستقبل میں اس نے جو ہونا ہوتا ہے، بننا ہوتا ہے اس کا اطلاق فی الحال کر دیا جاتا ہے۔ فی الحال اس حالت پر نہیں، اس کا اطلاق فی الحال نہیں ہو سکتا کیونکہ اس چیز نے کب حاصل ہونا ہے اور کب بننا ہے؟ مستقبل میں، لیکن فی الحال اس پر کیا کر دیا جاتا ہے؟ اس کا اطلاق، جیسے قرآن میں آیا ہے: إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا، میں نے بے شک میں نے دیکھا اپنے آپ کو کہ میں نچوڑ رہا ہوں شراب کو بھئی۔ بھئی شراب کو نچوڑ رہا ہے یا انگور کو نچوڑ رہا ہے؟ لیکن انگور سے کیا نکلے گا؟ رس، اور اس رس نے آگے جا کر مستقبل میں کیا بننا ہے؟ شراب، تو وہ جو چیز مستقبل میں بننی تھی اس سے اس کا اطلاق ابھی سے اس پر کر دیا بھئی۔ یا کبھی کبھار مولانا محل بول کر حال مراد ہوتا ہے، محل بول کر حال، جیسے فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ بھئی، چاہیے کہ وہ پکارے کس کو؟ مجلس کو، مجلس کو پکارے یا مجلس والوں کو پکارے بھئی؟ مجلس والوں کو۔ تو مجلس ہے محل اور مجلس والے ہیں حال، انہوں نے حلول کیا ہے۔ انہوں نے کیا کیا ہے اس میں؟ حَالٌّ مولانا، اسم فاعل کا صیغہ ہے بھئی، انہوں نے حلول کیا ہے تو محل بول کر حال مراد ہے۔ اور کبھی حال بول کر محل مراد ہوتا ہے، جیسے وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ، وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوئے، فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ وہ کس میں ہوں گے اللہ کی؟ رحمت میں ہوں گے۔ اللہ کی رحمت میں ہوں گے یا جنت میں ہوں گے بھئی؟ ہاں، لیکن جنت میں کیا ہے؟ اللہ کی رحمت ہے، تو دیکھیے حال بول کر کیا مراد ہے؟ محل مراد ہے بھئی۔ اور کبھی کبھار مولانا آلہ بول کر وہ شئے مراد ہوگی جو اس آلے سے حاصل ہوتی ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے: وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، فِي الْآخِرِينَ، فِي الْآخِرِينَ بھئی، اور اے اللہ بنا میرے لیے لسانَ صدقٍ، لسان آلہ ہے اور مراد ذکر ہے کیونکہ ذکر کس سے ہوتا ہے؟ تو اے اللہ میرا اچھا ذکر بنا آخر والوں میں، آخر والے لوگ کیا کریں؟ مجھے اچھے طریقے پر یاد کریں بھئی۔ تو دیکھیے لسان آلہ بول کر کیا مراد ہے؟ ذکر مراد ہے بھئی۔ یہاں تک سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ وَالْمُرْسَلُ وَهُوَ مَا كَانَ الْعَلَاقَةُ غَيْرَ الْمُشَابَهَةِ، مرسل وہ ہے جس کے اندر علاقہ مشابہت کے علاوہ ہو، كَالْيَدِ الْمَوْضُوعَةِ لِلْجَارِحَةِ الْمَخْصُوصَةِ، جیسے ید جس کو وضع کیا گیا ہے جارحہ مخصوصہ کے لیے، جارحہ کہتے ہیں عضو کو مولانا، جس کو ایک مخصوص عضو کے لیے وضع کیا گیا ہے، إِذَا اسْتُعْمِلَتْ فِي النِّعْمَةِ جب اس کو استعمال کیا جائے کس کے اندر مولانا؟ نعمت کے اندر، لِكَوْنِهَا بِمَنْزِلَةِ الْعِلَّةِ الْفَاعِلِيَّةِ اس لیے کہ کس کے درجے میں ہے مولانا؟ بھئی ید کو استعمال کیا نعمت کے اندر تو یہ ید نعمت کے لیے کس درجے میں ہے؟ یہ بمنزلۃ العلۃ الفاعلیۃ۔ یاد رکھو مولانا ہر چیز کے لیے چار علتوں کا ہونا ضروری ہے، آپ نے پڑھا ہوگا بھئی: علتِ فاعلی، علتِ مادی، علتِ صوری اور علتِ غائی۔ علتِ فاعلی اس چیز کو وجود دینے والی بھئی، علتِ مادی جس سے وہ چیز بنے اور مرکب ہو، وہ مادہ ہوگا، اور علتِ صوری جو اس کی صورت حاصل ہو، اور علتِ غائی جو اس کا مقصد ہو۔ مثلاً مولانا ترکھان لکڑی سے چارپائی بناتا ہے بھئی، تو یہ ترکھان اس چارپائی کے لیے کیا ہے؟ علتِ فاعلی ہے، اور یہ جو لکڑی ہے اور یہ رسی ہے یہ کیا ہے؟ علتِ مادی ہے، اور بنانے کے بعد جو اس کی صورت حاصل ہوئی یہ کیا ہے؟ علتِ صوری ہے، اور پھر اس کے بعد جو اس پر بیٹھنا اور سونا مقصد ہے وہ کیا کہلائے گا؟ علتِ غائی۔ تو علتِ غائی مقدم ہوتی ہے جی؟ علتِ غائی ویسے تو سب پر مقدم ہے لیکن اس کا حصول سب سے آخر میں ہوتا ہے۔ حصول کیا ہے؟ سب سے پہلے انسان یہ تصور کرتا ہے کہ میں نے بنانی کس لیے ہے، مقصد کیا ہے چارپائی کا بھئی؟ اگر مقصد ہی نہیں تو بلاوجہ کوئی بھی نہیں بنائے گا۔ تو یہ ید کا لفظ جب یہ نعمت کے اندر استعمال ہو تو یہ نعمت میں استعمال کیا جائے تو یہ مجازِ مرسل ہے، کیوں؟ لِكَوْنِهَا بِمَنْزِلَةِ الْعِلَّةِ الْفَاعِلِيَّةِ لِلنِّعْمَةِ، اس لیے کہ یہ علتِ فاعلی کے درجے میں ہے نعمت کے لیے، لِأَنَّ النِّعْمَةَ مِنْهَا تَصْدُرُ اس لیے کہ نعمت کا اس ہاتھ سے صدور ہوتا ہے، وَتَصِلُ إِلَى الْمَقْصُودِ اور یہ کہاں تک پہنچتی ہے؟ مقصود تک، جس کو دینی ہے وہاں اس تک پہنچتی ہے ہاتھ کے واسطے سے۔ بھئی علامہ تفتازانی نے بمنزلۃ العلۃ الفاعلیۃ فرمایا بھئی، یہ نہیں کہا کہ یہ علتِ فاعلی ہے بلکہ علتِ فاعلی کے درجے میں ہے، اس لیے کہ دراصل یہ علتِ فاعلی نہیں، علتِ فاعلی تو وہ شخص ہے مولانا اور یہ ہاتھ تو صرف آلہ ہے، ہاتھ کیا ہے؟ آلہ ہے۔ وَكَالْيَدِ فِي الْقُدْرَةِ، اور جیسے ید کا لفظ مولانا قدرت کے اندر استعمال ہو، جیسے مولانا عربی میں کہتے ہیں: لِلْأَمِيرِ يَدٌ أَيْ قُدْرَةٌ، امیر کے لیے امیر کو کیا حاصل ہے؟ قدرت حاصل ہے، لِأَنَّ أَكْثَرَ مَا يَظْهَرُ سُلْطَانُ الْقُدْرَةِ يَكُونُ فِي الْيَدِ، اس لیے کہ بسا اکثر ما مصدریہ ہے، اکثر ظہور جو ہوتا ہے، سلطان کہتے ہیں دلیل کو اور غلبے کو بھئی، یہاں مراد تاثیر ہے، اس لیے کہ اکثر ظاہر ہوتا ہے ظاہر ہوتی ہے قدرت کی تاثیر کس سے کس میں کس کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے مولانا؟ فِي الْيَدِ أَيْ بِالْيَدِ، ہاتھ کے ساتھ یہ قدرت کی تاثیر ظاہر ہوتی ہے بھئی۔ وَبِهَا يَكُونُ الْأَفْعَالُ الدَّالَّةُ عَلَى الْقُدْرَةِ اور اسی کے سبب سے وہ افعال جو دلالت کرتے ہیں قدرت پر وہ حاصل ہوتے ہیں، مِنَ الْبَطْشِ یعنی کہ پکڑنا کسی چیز کو، وَالضَّرْبِ مارنا، وَالْقَطْعِ کاٹنا، وَالْأَخْذِ لینا، وَغَيْرِ ذَلِكَ، یہ تمام قدرت کے آثار ہیں مولانا، کیا ہیں قدرت کے؟ اور یہ آثار کہاں سے ظاہر ہوں گے؟ ہاتھ سے۔ وَالرَّاوِيَةِ اور جیسے راویہ کا لفظ ہے الَّتِي هِيَ فِي الْأَصْلِ اسْمٌ لِلْبَعِيرِ، اصل کے اندر یہ مولانا یہ کس کا اسم ہے؟ لِلْبَعِيرِ، اونٹ کا مولانا، الَّذِي يَحْمِلُ الْمَزَادَةَ جو کس کو اٹھاتا ہے؟ مزادہ، وہ مشکیزے کو اٹھاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ علامہ تفتازانی پر یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا: لِلْبَعِيرِ کہ اونٹ اٹھا بھئی، حالانکہ یہ اونٹ بھی ہو سکتا ہے، خچر یا گدھا وغیرہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ الَّذِي يَحْمِلُ الْمَزَادَةَ، إِذَا اسْتُعْمِلَتْ جب اس راویہ لفظ کو استعمال کیا جائے کس کے اندر مولانا؟ مزادہ کے اندر، یہ وضع تو اس اونٹ یا گدھے یا خچر کے لیے تھا لیکن استعمال کس میں ہوا؟ مشکیزے میں ہوا، أَيِ الْمِزْوَدِ یعنی کس کے اندر؟ مزود کے اندر، مزود کیا ہے؟ کہتے ہیں الَّذِي يُجْعَلُ فِيهِ الزَّادُ، جس کے اندر توشہ ڈالا جائے، توشہ رکھا جائے بھئی۔ توشہ کیا ہے؟ کہتے ہیں أَيِ الطَّعَامُ الْمُتَّخَذُ لِلسَّفَرِ، وہ طعام جس کو لیا جائے کس کے لیے؟ وہ کھانا جو سفر کے لیے ساتھ آدمی لے جائے مولانا سفر کے دوران راستے میں جو کھائے گا، اٹا وغیرہ اور سامان ساتھ لے گیا یہ کیا کہلاتا ہے؟ توشہ کہلاتا ہے، توشہ۔ یہ علامہ تفتازانی کی تفسیر صحیح نہیں مولانا۔ مزادہ کا ترجمہ انہوں نے مزود سے کیا اور مزود کہتے ہیں توشے کو، اور میں نے آپ کو بتایا کہ یہ مزادہ کس کو کہتے ہیں؟ مشکیزے کو کہتے ہیں مولانا، مشکیزے کو۔ ہاں توشے کے لیے بھی توشے دان کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں پر اس کا معنی کیا کیا جائے گا؟ مشکیزے وغیرہ کے کیا جائے گا، یہاں توشے دان مراد نہیں ہے بھئی۔ وَالْعَلَاقَةُ، علاقہ کیا ہے مولانا؟ راویہ کا لفظ مزادہ میں استعمال کیا، کہتے ہیں كَوْنُ الْبَعِيرِ حَامِلًا لَهَا کہ وہ اونٹ کیا ہے؟ اس کو اٹھانے والا ہے تو علاقہ کیا ہے؟ حامل اور محمول کا ہے بھئی، یا کیا علاقہ ہے؟ مجاورت کا ہے، کیا علاقہ ہے؟ مجاورت کا ہے۔ وَبِمَنْزِلَةِ الْعِلَّةِ الْمَادِّيَّةِ، یہ دوسرا علاقہ ہے، یا یہ بمنزلہ یہ جو جانور ہے یہ اس کے لیے بمنزلہ علتِ مادی کے ہے۔ بھئی راویہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ جانور جو پانی کو اٹھاتا ہے۔ تو راویہ نام تو اس جانور کا ہے لیکن استعمال آپ نے کس کے اندر کر لیا؟ وہ مشکیزے کے اندر آپ نے، جو مشکیزہ اس نے اٹھایا ہوا ہے۔ بھئی آپ نے یہ اس کو مشکیزے کے لیے کیوں استعمال کیا؟ ایک علاقہ تو یہ کہ حامل محمول اور مجاورت کا علاقہ ہے، ساتھ ملا ہوا ہے اس کے ساتھ۔ دوسرا علاقہ کیا ہے؟ کہ یہ مولانا مزادہ تب کہلاتا ہے جب اس کو کیا کرے؟ راویہ جب اس کو وہ جانور اٹھائے بھئی۔ کیا کرے؟ جانور اٹھائے گا تو پھر ہی اس پر راویہ کا اطلاق ہو سکتا ہے ورنہ راویہ کا اس پر اطلاق نہیں ہو سکتا۔ تو جب تو گویا وہ جانور اس کے لیے علتِ مادی ہے، علتِ مادی۔ بمنزلۃ العلۃ المادی فرمایا مولانا، علتِ فاعلی کے درجے میں ہے، حقیقتاً میں تو وہ اس کے جز نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جانور اس مزادہ کا جز ہے؟ نہیں۔ وَلَمَّا أَشَارَ بِالْمِثَالِ إِلَى بَعْضِ أَنْوَاعِ الْعَلَاقَةِ، اور جب اشارہ کر دیا مثال کے ساتھ مولانا مصنف نے بعض انواعِ علاقہ کی طرف، دیکھو یہ کل ید ید کا استعمال نعمت میں اور قدرت میں اور راویہ کا استعمال مزادہ کے اندر، یہ بعض مثالیں ذکر کر دیں اور بعض انواع کی طرف اشارہ کر دیا۔ أَخَذَ فِي التَّصْرِيحِ، شروع ہوئے وہ تصریح کرنا بِالْبَعْضِ الْآخَرِ مِنْ أَنْوَاعِ الْعَلَاقَةِ، کچھ اور انواعِ علاقہ وہ آپ کو بتلانے لگے بھئی، وہ شروع کر دیا انہوں نے، نو ذکر کریں گے مولانا۔ وَمِنْهُ أَيْ مِنَ الْمُرْسَلِ، اور مجازِ مرسل میں سے ہے تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ جُزْئِهِ، کہ ایک چیز کا نام رکھا جائے اس کے جز کے نام کے ساتھ۔ فِي هَذِهِ الْعِبَارَةِ نَوْعُ تَسَامُحٍ، اس عبارت کے اندر ایک گونہ ایک گونہ تسامح ہے مولانا، ایک نوع کا تسامح ہے۔ بھئی مجازِ مرسل کیا پڑھا آپ نے؟ وہ کلمے کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ اور یہاں کہہ رہے ہیں مجازِ مرسل میں سے ہے تسمیہ، اور تسمیہ تو مصدر ہے، نام رکھنا۔ تو پہلے کیا بتلایا تھا؟ کلمے کا نام ہے بھئی، یہ کلمہ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے اور علاقہ مشابہت کا نہیں، مثلاً ید نعمت میں استعمال ہو رہا ہے تو یہ ید کیا ہے مولانا؟ مجازِ مرسل ہے، اور اب آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تسمیۃ الشیء، کسی چیز کا نام رکھنا کیا ہے؟ مجازِ مرسل، یہ تو معنی مصدری آپ نے لیا تو یہ صحیح نہیں، تو یہ کہتے ہیں عبارت میں ایک گونہ تسامح ہے، چشم پوشی کی ہے۔ وَالْمَعْنَى اور معنی دراصل یہ ہے مولانا خود بتلا رہے ہیں عبارت کیسے صحیح، أَنَّ فِي هَذِهِ التَّسْمِيَةِ مَجَازًا مُرْسَلًا کہ اس تسمیہ میں کیا ہے؟ اور یہ مولانا فی بمعنی مع کے ہے، اس تسمیہ کے ساتھ مجازِ مرسل ہے۔ اس تسمیہ کے؟ جب آپ یہ تسمیہ رکھیں گے، یہ نام رکھیں گے تو کیا آ جائے گا؟ مجازِ مرسل حاصل ہو جائے گا۔ وَهُوَ اللَّفْظُ الْمَوْضُوعُ وہ لفظ جس کو وضع کیا جائے لِجُزْءِ الشَّيْءِ کس کے لیے؟ چیز کے جز کے لیے، عِنْدَ إِطْلَاقِهِ عَلَى نَفْسِ ذَلِكَ الشَّيْءِ جب آپ اس کا اطلاق کریں اس چیز کے ذات پر بھئی۔ تو دیکھیے كَالْعَيْنِ، یہ عین کس کے لیے وضع ہے؟ جاسوس کے جز کے لیے، وَهِيَ الْجَارِحَةُ الْمَخْصُوصَةُ اور یہ مخصوص عضو ہے، اور اس کو آپ نے استعمال کیا فِي الرَّبِيئَةِ، کس کے اندر؟ جاسوس میں، وَهِيَ الشَّخْصُ الرَّقِيبُ یہ وہ شخص ہے جو جاسوس، وَالْعَيْنُ جُزْءٌ مِنْهُ اور عین اس کا کیا ہے؟ جز ہے۔ وَيَجِبُ أَنْ جی، یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ آپ نے جز بول کر کیا مراد لیا؟ کل۔ تو کہتے ہیں یہ جو آپ نے جز بولا اور اس سے کل مراد لیا، اس جز کا اس کل کے ساتھ خاص تعلق ہونا چاہیے، باقی اعضاء کی نسبت کیا ہونا چاہیے؟ یہاں دیکھیے مولانا کس کس معنی میں استعمال کر رہے ہیں؟ جاسوس، اور جاسوس کے ساتھ عین کا خاص تعلق ہے یا نہیں ہے بھئی؟ جاسوسی ہوگی کس سے بھئی؟ آنکھ سے ہوگی۔ وَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْجُزْءُ الَّذِي واجب ہے کہ وہ جز کہ جس کا اطلاق ہو کل پر مِمَّا ان اعضاء میں سے ہو يَكُونُ لَهُ مِنْ بَيْنِ الْأَجْزَاءِ مَزِيدُ اخْتِصَاصٍ کہ اس کے لیے اجزاء میں سے زیادہ اختصاص ہو بِالْمَعْنَى الَّذِي اس معنی کے ساتھ قُصِدَ بِالْكُلِّ جس کا ارادہ کس کے ساتھ کیا گیا ہے؟ کل کے ساتھ کیا گیا ہے، اس کے ساتھ زیادہ اختصاص ہو۔ مَثَلًا مثال کے طور پر لَا يَجُوزُ إِطْلَاقُ الْيَدِ جائز نہیں ہے کہ ید کا اطلاق کیا جائے أَوِ الْإِصْبَعِ یا انگلی کا اطلاق کیا جائے عَلَى الرَّبِيئَةِ، کس پر؟ جاسوس پر، کیونکہ ان کا اس کے ساتھ زیادہ تعلق نہیں ہے۔ وَعَكْسُهُ أَيْ وَمِنْهُ عَكْسُ الْمَذْكُورِ، اور مجازِ مرسل میں سے اس کا عکس بھی ہے، یہ جو مذکور ہوا، یعنی تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ كُلِّهِ کہ ایک چیز کا نام رکھا جائے اس کے کل کے ساتھ، ہے یہ تو جز ہے لیکن آپ کس کے ساتھ پکارتے ہیں اس کو؟ کل کے ساتھ۔ كَالْأَصَابِعِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي الْأَنَامِلِ جیسے اصابع جو استعمال ہو کس کے اندر؟ تو دیکھیے اصابع بولا اور مراد کیا لیے؟ پورے مراد۔ الَّتِي هِيَ أَجْزَاءٌ مِنَ الْأَصَابِعِ جو کہ انگلیوں کے اجزاء ہیں، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ کے اس قول میں: يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ، وہ ڈالتے ہیں اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں یعنی پوروں کو۔ وَتَسْمِيَتُهُ أَيْ وَمِنْهُ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ سَبَبِهِ، اور مجازِ مرسل میں سے ایک چیز کا نام رکھنا اس کے سبب کے نام کے ساتھ، یعنی سبب بول کر کیا مراد لینا؟ مسبب، نَحْوُ: رَعَيْنَا الْغَيْثَ، ہم نے چرایا بارش میں۔ بارش میں نہیں چرایا بلکہ کس میں چرایا؟ سبزے میں، تو چرایا سبزے میں جاتا ہے تو بارش بول کر کیا مراد؟ سبزہ، اور بارش اس سبزے کے لیے کیا ہے؟ سبب، تو سبب بول کر مسبب۔ أَيِ النَّبَاتَ الَّذِي سَبَبُهُ الْغَيْثُ، یعنی وہ سبزہ وہ پودے جن کا سبب جو ہے بارش ہے۔ أَوْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ مُسَبَّبِهِ، یا نام رکھنا ایک چیز کا اس کے مسبب کے ساتھ، جیسے أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا، آسمان نے مولانا کیا برسائی بھئی؟ بارش برسائی بھئی۔ ذکر نبات اور مراد کیا ہے؟ بارش بھئی، کیونکہ بارش سبب ہے اور نبات کیا ہے؟ مسبب، تو مسبب بول کر سبب۔ أَيْ غَيْثًا، دیکھا، غیر بارش مراد ہے، لِكَوْنِ النَّبَاتِ مُسَبَّبًا عَنْهُ، اس لیے کہ نبات اس سے کیا ہے؟ جی۔ وَأَوْرَدَ فِي الْإِيضَاحِ مولانا اور وارد کیا ہے کس کے اندر؟ ذکر کیا ہے یعنی ایضاح کے اندر مصنف نے فِي أَمْثِلَةِ تَسْمِيَةِ السَّبَبِ بِاسْمِ الْمُسَبَّبِ، تسمیۃ السبب باسم المسبب یعنی سبب کا نام رکھا جائے کس کے نام کے ساتھ؟ مسبب کے ساتھ۔ اس کی مثالوں میں یہ ذکر کیا ہے قَوْلَهُمْ: فُلَانٌ أَكَلَ الدَّمَ، فلاں نے کیا کھایا بھئی؟ خون۔ حالانکہ خون نہیں کھایا بھئی، أَيِ الدِّيَةَ بھئی، کیا کھائی؟ دیت کھائی مولانا، خون سے، قتل سے حاصل ہونے والی دیت کھائی مولانا۔ دِيَةٌ یہ یا مولانا پر شد نہیں ہے دِيَةٌ، اصل میں یہ کیا تھا؟ وِدْيٌ تھا وِدْيٌ مولانا۔ عِدَةٌ کے وزن پر ہے دِيَةٌ، وِعْدٌ جیسے تھا۔ جی، أَكَلَ الدَّمَ أَيِ الدِّيَةَ، دیت کھائی، أَيِ الدِّيَةَ الْمُسَبَّبَةَ عَنِ الدَّمِ، وہ دیت جو مسبب ہے کس سے مولانا؟ دم سے۔ بھئی ایک شخص نے دوسرے کو غلطی سے قتل کیا تو کیا دینی پڑے گی اس کو؟ دیت دینی پڑے گی۔ تو وہ قتل ہوا، خون ہوا، وہ خون سبب اور یہ دیت اس کے مسبب مولانا۔ تو یہاں سبب بول کر کیا مراد ہے؟ مسبب بھئی کہ اس آدمی نے خون کو کھایا یا دیت کو وصول کیا بھئی وارث نے؟ دیت کو۔ وَهُوَ سَهْوٌ اور یہ کیا ہے مولانا؟ یہ سہو ہے، بَلْ هُوَ مِنْ قَبِيلِ تَسْمِيَةِ الْمُسَبَّبِ بِاسْمِ السَّبَبِ، بلکہ یہ مسبب کا نام رکھنا ہے سبب کے اسم کے ساتھ بھئی۔ بھئی مصنف نے کہا تھا تسمیۃ السبب باسم المسبب، حالانکہ یہ تسمیۃ المسبب باسم السبب کے قبیل سے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اسی طرح ہے مولانا جیسے سبقتِ لسانی ہو جاتی ہے بسا اوقات، ایک آدمی بات کچھ کر رہا ہوتا ہے اور زبان پر کوئی اور لفظ جاری ہو جاتا ہے، تو مصنف بھی اسی طرح مثال وہ ذکر کرتے کرتے پتہ نہیں چلا مسبب کی جگہ سبب آ لکھ گئے اور سبب کی جگہ مسبب لکھ گئے بھئی۔ أَوْ مَا كَانَ عَلَيْهِ، یا وہ جس أَوْ مَا كَانَ عَلَيْهِ یا اس حالت کے ساتھ جس پر وہ چیز تھی، أَيْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ یعنی چیز کا نام رکھنا بِاسْمِ الشَّيْءِ الَّذِي اس چیز کے نام کے ساتھ الَّذِي كَانَ هُوَ عَلَيْهِ کہ جس پر وہ چیز تھی مولانا، کب؟ فِي الزَّمَانِ الْمَاضِي۔ ایک چیز زمانہ ماضی میں جس حالت پر تھی اسی حالت کے اسی حالت کے نام کا اطلاق کر دینا کس کے اندر؟ زمانہ حال کے اندر۔ اگرچہ فی الحال وہ چیز وہ نہیں ہے مولانا، لَكِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ الْآنَ لیکن فی الحال اگرچہ چیز اس حالت پر نہیں ہے، جیسے وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ، دو تم یتیموں کو ان کا مال، اور یتیموں کو مال کب دیا جاتا ہے؟ بالغ ہونے کے بعد، اور بالغ ہونے کے بعد اس پر یتیم کا اطلاق صحیح نہیں، یتیم بالغ ہونے سے پہلے۔ تو یہ دیکھو ماضی میں جس حالت پر تھا وہ وہ بچہ اسی کا اطلاق اب بالغ ہونے کے بعد بھی اس پر کر دیا گیا، أَيِ الَّذِينَ كَانُوا يَتَامَى قَبْلَ ذَلِكَ، وہ لوگ وہ بچے جو اس سے پہلے یتیم تھے بھئی، إِذْ لَا يُتْمَ بَعْدَ الْبُلُوغِ، اس لیے کہ یتیمی نہیں ہے بالغ ہو جانے کے بعد بھئی۔ أَوْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ مَا يَئُولُ ذَلِكَ الشَّيْءُ إِلَيْهِ، یا نام رکھنا کسی چیز کا کس کے ساتھ بھئی؟ بِاسْمِ مَا، آلَ يَئُولُ کا معنی ہوتا ہے لوٹنا، پھرنا، لوٹنا اور پھرنا۔ یعنی اس چیز کے نام کے ساتھ جس کی طرف وہ چیز پھر جائے گی زمانہ مستقبل میں، جس حالت کی طرف وہ پھرے گی کس میں؟ زمانہ یعنی جو حالت اسے زمانہ مستقبل میں حاصل ہونی ہے آپ نے ابھی سے اس کا اطلاق اس چیز پر کر دیا اگرچہ اس حال پر فی الحال نہیں، جیسے إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا، میں دیکھتا ہوں بے شک اپنے آپ کو کہ میں کیا کر رہا ہوں؟ نچوڑ رہا ہوں شراب کو، أَيْ عَصِيرًا، کس کو؟ رس کو نچوڑ رہا ہوں، يَئُولُ إِلَى الْخَمْرِ، جو کیا کس حالت کی طرف لوٹے گا؟ شراب کی ح شراب کی طرف بھئی۔ بہتر یہ مولانا جیسے علامہ دسوقی نے بھی حاشیے کے اندر تصریح کی ہے کہ کیا کہنا چاہیے تھا؟ أَعْصِرُ عِنَبًا بھئی، میں کس کو نچوڑ رہا ہوں؟ انگور کو نچوڑ رہا ہوں، اور اس سے عسیر حاصل ہوگا اور عسیر پھر آگے جا کر کیا بنے گا مولانا؟ شراب بنے گا۔ أَوْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ مَحَلِّهِ، اور کبھی کبھار کسی چیز کا نام رکھا جاتا ہے اس کے محل کے نام کے ساتھ، جیسے فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ، چاہیے کہ وہ پکارے مجلس کو، یعنی مجلس والوں کو۔ تو مجلس ہے مولانا محل اور مجلس والے کیا ہیں؟ حال، اس میں حلول کرنے والے مولانا، أَيْ أَهْلَ النَّادِي، کس کو پکارے؟ مجلس والوں کو، الْحَالَّةَ فِيهِ جو اس کے اندر کیا ہیں؟ حلول کرنے والے ہیں اس مجلس کے اندر، وَالنَّادِي الْمَجْلِسُ، اور نادی کیا ہے مولانا؟ نادی مجلس ہے بھئی۔ أَوْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ حَالِّهِ، تو یہ کیا تھا مولانا؟ محل بول کر کیا مراد تھا؟ حال۔ کبھی کبھار حال بول کر کیا مراد ہوتا ہے؟ محل ہوتا ہے۔ أَوْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ حَالِّهِ اور کبھی کبھار کسی چیز کا نام رکھا جاتا ہے اس کے حال کے نام کے ساتھ، أَيْ بِاسْمِ مَا يَحِلُّ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ، اس چیز کے نام کے ساتھ جو حلول کرے، جو نازل ہو اس چیز کے اندر، جیسے وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ، وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ کس کے اندر ہوں گے؟ وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوئے فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، أَيْ فِي الْجَنَّةِ، یعنی کس کے اندر ہوں گے؟ جنت کے اندر ہوں گے۔ تو جنت محل ہے مولانا، تو یہاں حال بول کر کیا مراد؟ محل، الَّتِي وہ جنت مولانا تَحِلُّ فِيهَا الرَّحْمَةُ جس کے اندر حلول کرے کیا؟ رحمت۔ أَوْ تَسْمِيَةُ الشَّيْءِ بِاسْمِ آلَتِهِ، اور کبھی کبھار نام رکھا جاتا ہے کسی چیز کا اس کے آلے کے نام کے ساتھ، جیسے وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: اے اللہ بنا دے میرے لیے لسانَ صدقٍ، أَيْ آگے بتلا رہے ہیں خود: ذِكْرًا حَسَنًا، اچھا ذکر بنا دے میرا کس کے اندر؟ بعد والوں میں، بعد والوں میں میرا کیا ہو ہمیشہ؟ اچھے طریقے سے ذکر کیا جائے بھئی۔ تو ذکر مراد اور لفظ کیا ہے؟ لسان۔ تو لسان آلہ ہے، ذکر کے لیے کیا ہے؟ آلہ۔ تو آلہ بول کر وہ شئے مراد ہے تو مولانا علاقہ آلیت کا ہے بھئی۔ وَاللِّسَانُ اسْمٌ لِآلَةِ الذِّكْرِ، اور لسان نام ہے ذکر کے آلے کا، تو آلہ بول کر وہ ذکر مراد۔ وَلَمَّا كَانَ، یہ ایک اشکال کا جواب، اشکال یہ مولانا کہ مصنف نے کئی مثالیں ذکر کیں لیکن کسی کے اندر بھی یہ نہیں بتلایا کہ اس سے کیا مراد ہے۔ آخری دو میں بتلایا: فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ أَيْ فِي الْجَنَّةِ، یہ مصنف نے بتلایا بھئی یہ متن۔ اور اس سے آخری میں بتایا ہے، کیا بتلایا؟ أَيْ ذِكْرًا، أَيْ ذِكْرًا بھئی پہلے آیا جیسے مولانا آیا رَعَيْنَا الْغَيْثَ، أَيِ النَّبَاتَ مصنف نے نہیں ذکر کیا۔ آگے آیا أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا أَيْ غَيْثًا، یہ مصنف نے ذکر نہیں کیا، یہ تو کون ذکر کر رہے ہیں؟ شارح۔ اسی طرح تمام کے اندر ہیں، البتہ آخری دو کے اندر فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ کے آگے أَيْ فِي الْجَنَّةِ، یہ بھی متن ہے مولانا، یہ مصنف فرما رہے ہیں۔ اسی طرح مولانا فِي الْآخِرِينَ أَيْ ذِكْرًا حَسَنًا، یہ بھی کیا ہے؟ متن۔ تو ان دو کے اندر انہوں نے کیوں بتلایا بھئی؟ کہتے ہیں لَمَّا كَانَ فِي الْأَخِيرَيْنِ کہ آخری دو جو ہیں مجاز، نَوْعُ خَفَاءٍ ان کے اندر کیا تھا؟ ایک درجے کا خفاء تھا، فَصَرَّحَ بِهِ فِي الْكِتَابِ، اسی لیے تصریح کی انہوں نے کس کے اندر؟ کتاب، متن۔ فَإِنْ قِيلَ، یہ اعتراض، اگر یہ اعتراض کیا جائے: قَدْ ذُكِرَ فِي مُقَدِّمَةِ هَذَا الْفَنِّ کہ تحقیق ذکر کیا گیا تھا اس اس فن کے مقدمے میں أَنَّ مَبْنَى الْمَجَازِ الِانْتِقَالُ مِنَ الْمَلْزُومِ إِلَى اللَّازِمِ، یہ مولانا یہ جہاں یہ باب شروع ہو رہا تھا دیکھیے بھئی، صفحہ تین سو 308 پر بھئی، 308 مولانا۔ متن دیکھو بھئی: وَشَرْطُهُ، وَشَرْطُهُ أَيِ الِالْتِزَامِ اللُّزُومُ الذِّهْنِيُّ، آگے متن دیکھیں: وَلَوْ لِاعْتِقَادِ الْمُخَاطَبِ بِعُرْفٍ أَوْ غَيْرِهِ، ہاں أَوْ غَيْرِهِ، کہ شرط ہے اس کے اندر مولانا کیا؟ لزومِ ذہنی، اگرچہ مخاطب کے اعتما عرف پر اعتقاد کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو یا کسی اور وجہ سے ہی کیوں نہ ہو، لیکن لزوم کیا ہے؟ ضروری ہے، لزوم ضروری ہے۔ کس کے اندر مولانا؟ معنی مجازی کے اندر لزوم ضروری ہے۔ تو آپ نے اور اسی کے بیچ میں علامہ تف ماتن نے بھی ذکر کیا، علامہ تفتازانی بھی ذکر کر چکے تھے کہ معنی حقیقی اور معنی مجازی میں کیا ضروری ہے؟ لزوم ضروری ہے۔ حالانکہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے اندر لزوم نہیں ہے مولانا۔ جہاں بھی آلہ ہو وہ شئے کا حاصل ہونا ضروری ہے؟ نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح جب بھی شراب انگور کو نچوڑا جائے تو اس سے شراب کا بننا ضروری ہے ہر رس سے؟ تو ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے اندر مولانا لزوم نہیں ہے۔ تو اور آپ نے تو کیا شرط لگائی تھی؟ لزوم کی شرط لگائی تھی۔ تو جواب آ گیا علامہ تفتازانی نے پہلے یہ ذکر کریں گے کہ یہ اعتراض نہ کرو بھئی، اس لیے کیونکہ لزوم سے یہ مراد نہیں ہے کہ ذہن میں دونوں میں جدائی نہیں، ایک آ گیا تو دوسرا بھی آئے گا بھئی۔ جب بھی انگور سے رس نچوڑا جائے گا تو پھر اس سے شراب بھی، یہ معنی نہیں ہے۔ بس دونوں کے اندر اتصال ہونا چاہیے کسی نہ کسی درجے میں، کبھی نہ کبھی اس سے کیا حاصل ہو؟ شراب بھی حاصل ہو، تو ارتباط آ گیا یا نہیں آ گیا؟ کہتے ہیں یہی کافی ہے بس۔ فَإِنْ قِيلَ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قَدْ ذُكِرَ فِي مُقَدِّمَةِ هَذَا الْفَنِّ کہ ذکر کیا گیا تھا اس فن کے مقدمے کے اندر أَنَّ مَبْنَى الْمَجَازِ کہ مجاز کی بنیاد جو ہے کس پر ہے؟ الِانْتِقَالُ مِنَ الْمَلْزُومِ إِلَى اللَّازِمِ، انتقال کرنا ہے ملزوم سے لازم کی طرف، تو اس میں لزوم ضروری ہے، وَبَعْضُ أَنْوَاعِ الْعَلَاقَةِ اور بعض انواعِ علاقہ بَلْ أَكْثَرُهَا بلکہ اکثر یہ جو آپ نے نو علاقے ذکر کیے ان میں سے اکثر جو ہیں لَا يُفِيدُ اللُّزُومَ، یہ لزوم کا فائدہ نہیں دیتے۔ قُلْنَا ہم جواب میں کہیں گے: لَيْسَ مَعْنَى اللُّزُومِ کہ لزوم کا معنی ہاں، معنی یہ نہیں ہے ہٰهُنَا یہاں پر امْتِنَاعُ الِانْفِكَاكِ فِي الذِّهْنِ أَوِ الْخَارِجِ کہ ذہن یا خارج کے اندر ان میں جدائی نہ ہو سکے۔ ایک چیز دوسری کے ساتھ لازم ہو تو ذہن میں جدا نہ ہو سکے یا خارج میں جدا، یہ معنی نہیں ہے لزوم کا، بَلْ تَلَاصُقٌ وَاتِّصَالٌ بھئی، دونوں دونوں معانی کے اندر کیا ضروری ہے؟ تعلق اور ربط ضروری ہے کہ اس تعلق اور ربط کی وجہ سے يَنْتَقِلُ بِسَبَبِهِ مِنْ أَحَدِهِمَا إِلَى الْآخَرِ فِي الْجُمْلَةِ، انتقال ہو ایک معنی سے کس کی طرف؟ دوسرے معنی کی طرف، فِي الْجُمْلَةِ مجموعی اعتبار سے، وَفِي بَعْضِ الْأَحْيَانِ اور بعض اوقات میں۔ بعض اوقات میں بھی دونوں کے اندر انتقال ہوتا ہے، اتصال ہوتا ہے، یہ بھی کافی ہے مولانا۔ وَهَذَا مُتَحَقِّقٌ فِي كُلِّ أَمْرَيْنِ بَيْنَهُمَا عَلَاقَةٌ وَارْتِبَاطٌ، اور یہ لزوم مولانا، یہ جو لزوم کا ہم نے کیا ترجمہ کیا؟ صرف تعلق ہو اور ارتباط ہو، بس یہ تعلق اور ارتباط مولانا یہ ثابت ہوتا ہے دونوں کے بیچ میں جی؟ ہاں یہ لزوم متحقق ہوگا ہر ان دو چیزوں کے درمیان بَيْنَهُمَا عَلَاقَةٌ وَارْتِبَاطٌ جن کے درمیان کچھ کوئی علاقہ اور کوئی ربط ہو تو ان میں کچھ نہ کچھ کیا آ جائے گا؟ انتقال بھی ہوگا ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف، لزوم بھی آ گیا مولانا۔ وَالِاسْتِعَارَةُ اور استعارہ جو ہے، وَهِيَ مَجَازٌ تَكُونُ استعارے کی بحث شروع کر رہے ہیں مولانا۔ یہ بھی مولانا مجاز ہے، تَكُونُ عَلَاقَتُهُ الْمُشَابَهَةَ، اس کا علاقہ کیا ہوگا؟ مشابہت ہوگا، أَيْ قَصْدُ جی، أَيْ قَصْدُ أَنَّ الْإِطْلَاقَ بِسَبَبِ الْمُشَابَهَةِ، یعنی یہ ارادہ کرنا کہ یہ اطلاق کس کی وجہ سے ہو رہا ہے؟ بھئی دیکھیے، استعارے کے اندر علاقہ کیا ہوگا؟ تشبیہ کا ہوگا، کس کا؟ مشابہت کا ہوگا۔ اور اس مشابہت کا آپ ارادہ بھی کریں، بغیر ارادے کے نہ ہو مولانا، جب آپ ارادہ بھی کریں۔ اسی لیے علامہ تفتازانی نے فرمایا کہ ان کے درمیان علاقہ مشابہت کا ہوگا یعنی ہونا نہیں چاہیے بلکہ آپ کا ارادہ بھی ساتھ ہونا چاہیے، أَيْ قَصْدُ أَنَّ الْإِطْلَاقَ بِسَبَبِ الْمُشَابَهَةِ، یہ ارادہ بھی ہو کہ یہ جو آپ نے اس دوسرے معنی پر اس لفظ کا اطلاق کیا ہے یہ کس کی وجہ سے ہے؟ آپ نے رجلِ شجاع پر یہ جو اسد کا اطلاق کیا ہے یہ کس وجہ سے ہے؟ مشابہت کی وجہ سے ہے۔ فَإِذَا أُطْلِقَ الْمِشْفَرُ عَلَى شَفَةِ، دیکھیے مولانا مشفر کہتے ہیں کس کو کہتے ہیں؟ اونٹ کے ہونٹ کو بھئی۔ اونٹ کا ہونٹ دیکھا ہے آپ نے کبھی بھئی؟ بڑا ہوتا ہے، سخت ہوتا ہے اور نیچے کو لٹکا ہوتا ہے بھئی، اس کو کہتے ہیں مشفر۔ اب اس مشفر کا اطلاق آپ کسی شخص کے ہونٹوں پر کرتے ہیں بھئی۔ آپ کسی شخص کے مشفر بول کر ایک شخص کے ہونٹوں کا تذکرہ کرنا ہے آپ مشفر بولتے ہیں اس کے لیے، کیا بولتے ہیں؟ مشفر۔ اب یاد رکھو یہاں اگر آپ کا ارادہ تشبیہ کا ہے کہ اس کے ہونٹ بڑے ہونے میں اور لٹکے ہوئے ہونے میں کس کی طرح ہیں؟ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح ہیں، پھر تو علاقہ آ گیا تشبیہ کا۔ لیکن اگر آپ کا ارادہ ہے مقید بول کر مطلق کا ارادہ تو پھر یہ مولانا مجازِ مرسل ہے۔ یہ کیا ہے؟ بھئی مشفر کس کو کہتے ہیں؟ مشفر کہتے ہیں ہونٹ کو لیکن یہ ہونٹ مقید ہے، کس کا ہوگا مولانا؟ اونٹ کا ہوگا۔ تو دیکھو مشفر یہ لفظ ہے جو اس کا اب آپ نے اطلاق کیا کس پر؟ ایک دوسرے ہونٹ پر۔ انسان کو چھوڑو، انسان انسان کے ہونٹ پر کیا لیکن اب انسان کی قید ہٹاؤ ذرا۔ آپ نے یہ جو ہونٹ اونٹ کا تھا کے لیے جو لفظ تھا مقید تھا مولانا، اس کا اطلاق کس پر کیا؟ ہونٹ پر کیا، کس پر؟ انسان کی قید نہ ساتھ لگاؤ ورنہ یہ بھی مقید ہو جائے گا۔ تو آپ نے اس مقید کلمے کا استعمال کیا کس کے اندر؟ مطلق کے اندر، کس کے اندر؟ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ کیسے بنائیں مثال؟ ہاں؟ بھئی یہ اونٹ کا ہونٹ ہے، نظر آ رہا ہے بھئی؟ اچھا، اونٹ کا ہونٹ ہے۔ اب اس کے لیے کیا لفظ وضع ہے؟ مشفر، تو مشفر ہونٹ کے لیے ہے لیکن یہ ہونٹ مطلق ہے یا مقید ہے؟ مقید ہے کہ کس کا ہو؟ لیکن اسی مشفر کو اب آپ مطلقِ ہونٹ میں استعمال کر رہے ہیں، کس کے اندر؟ مطلقِ ہونٹ کے اندر بھئی، اگرچہ وہ انسان کا ہے لیکن آپ کا ارادہ کیا ہے؟ مطلقِ ہونٹ کے اعتبار سے آپ نے اس پر بھی اس لفظ کا کیا کر دیا؟ اطلاق کر دیا۔ تو اب مولانا مقید کو استعمال کر لیا کس کے اندر؟ مطلق کے اندر، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ مرسل ہے کیونکہ ہر مقید کے ضمن میں کیا موجود ہوتا ہے؟ ہر مقید کے ضمن میں مطلق موجود ہوتا ہے مولانا۔ آپ نے کہا اونٹ کا ہونٹ، اس اونٹ کے ہونٹ کے کے اندر صرف ہونٹ موجود ہے یا نہیں؟ اور ہونٹ مطلق ہے یا مقید؟ تو اونٹ کا ہونٹ یہ مقید ہے لیکن اس کے اندر ہونٹ آ رہا ہے جو کیا ہے؟ مطلق ہے، تو ہر مقید کے اندر کیا موجود ہوتا ہے؟ مطلق، تو آپ نے مقید کلمہ بول کر اس کا کس کے لیے لے کر آئے اس کو؟ مطلق کے لیے، تو مجازِ مرسل۔ تو یہی دیکھا مشفر اگر آپ استعمال کرتے ہیں تشبیہ کے اعتبار سے تو یہ کیا ہے؟ استعارہ، اور اگر آپ اس کو استعمال کرتے ہیں کہ مقید کو میں کس کے لیے لے کر آیا ہوں؟ مطلق کے تو پھر یہ کیا ہے؟ مجازِ مرسل۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مولانا مرسن یا مرسن، یہ اونٹ کی ناک کو کہتے ہیں بھئی، اونٹ کی ناک کو کیا کہتے ہیں؟ مرسن۔ رسن اصل دراصل اصل میں مہار کو کہتے ہیں، مہار جانتے ہیں بھئی؟ اونٹ کی ناک میں سوراخ کیا جاتا ہے اور اس کے اندر رسی باندھ کر اونٹ کو اس سے پکڑ کر چلاتے ہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہار بھئی۔ تو یہ رسن اس رسی کا نام ہے، مہار کا نام ہے، اور مرسن یا مرسن وہ جائے مہار ہے، وہ ناک کیا ہے؟ جائے جہاں پر مہار لگی ہے مولانا۔ تو اب اس مرسن سے مراد ہے ناک، لیکن مطلق ناک یا اونٹ کی ناک؟ اونٹ کی ناک۔ اب اس مرسن کو اگر آپ استعمال کرتے ہیں کسی دوسری ناک کے لیے مثلاً انسان کی ناک ہے، تو اگر آپ کا ارادہ تھا تشبیہ دینے کا تو پھر یہ کیا ہو جائے گا؟ استعارہ، اور اگر آپ کا ارادہ ہے کہ میں نے مطلق مقید کو استعمال کر لیا کس کے لیے؟ مطلق کے لیے، تو پھر کیا بن جائے گا؟ مجازِ مرسل بھئی۔ فَإِذَا أُطْلِقَ الْمِشْفَرُ عَلَى شَفَةِ الْإِنْسَانِ، جب اطلاق کیا جائے مشفر کا مولانا انسان کے ہونٹ پر، فَإِنْ قُصِدَ تَشْبِيهُهَا بِمِشْفَرِ الْإِبِلِ، اگر ارادہ کیا جائے اس کی تشبیہ کا کس کے ساتھ مولانا؟ اونٹ کی نا اونٹ کے ہونٹ کے ساتھ، فِي الْغِلَظِ، کس کے اندر بھئی؟ کس کے اندر؟ فِي الْغِلَظِ، موٹا ہونے کے اندر، فَهُوَ اسْتِعَارَةٌ، تو یہ کیا ہے؟ استعارہ ہے، استعارہ۔ ابل کو مولانا ابل اس لیے کہتے ہیں فَإِنَّهُ يَبُولُ عَلَى فَخِذَيْهِ کیونکہ یہ کیا کرتا ہے؟ اپنی رانوں پر پیشاب کرتا ہے، تو بال یبول اس کے اس سے ابل مادہ یہ ہے جی۔ وَإِنْ أُرِيدَ اور اگر یہ ارادہ کیا جائے أَنَّهُ، تو اس سے اشتقاق ہوا ہے، کس سے؟ جی بول سے اس کا اشتقاق ہے مولانا۔ وَإِنْ أُرِيدَ أَنَّهُ مِنْ إِطْلَاقِ الْمُقَيَّدِ عَلَى الْمُطْلَقِ اور اگر یہ ارادہ کیا جائے کہ یہ کیا کس قبیل سے ہے؟ مطلق کا مقید کا اطلاق ہو رہا ہے کس پر؟ مطلق پر، كَإِطْلَاقِ الْمَرْسَنِ عَلَى الْأَنْفِ، جیسے اطلاق ہو مرسن یا مرسن کا کس پر؟ ناک پر، مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ إِلَى التَّشْبِيهِ، بغیر ارادہ کیے تشبیہ کا، فَمَجَازٌ مُرْسَلٌ، تو پھر یہ کیا ہے؟ مجازِ فَاللَّفْظُ الْوَاحِدُ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْمَعْنَى الْوَاحِدِ، تو ایک ہی لفظ ایک ہی معنی کی طرف نسبت کرتے ہوئے قَدْ يَكُونُ اسْتِعَارَةً وَقَدْ يَكُونُ مَجَازًا مُرْسَلًا، کبھی استعارہ ہوگا اور کبھی مجازِ مرسل ہوگا بھئی۔ ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
21 approved lectures · 26 of 21