Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-128

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں ہم نے پڑھا تھا کہ استعارہ تصریحیہ کو کبھی کبھار مقید کیا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ تحقیقیہ کے ساتھ۔ یعنی اسے استعارہ تحقیقیہ کہا جاتا ہے۔ کیوں استعارہ تحقیقیہ کہا جاتا ہے؟ کہ علامہ تفتازانی نے بتلایا آپ کو تاکہ استعارہ تخییلیہ اور استعارہ مکنیہ عنہا یعنی استعارہ بالکنایہ سے کیا ہے؟ جدا ہو جائے اور اس سے ممتاز ہو جائے، یرحمک اللہ، جدا ہو جائے۔ اس لیے کہ استعارہ بالکنایہ کس کو کہتے ہیں مصنف کے نزدیک؟ تشبیہ دینا ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ نفس کے اندر۔ تو متکلم اپنے نفس میں اپنے دل میں ایک چیز کو تشبیہ دیتا ہے دوسری چیز کے ساتھ۔ جیسے مثال میں نے ذکر کی تھی کہ موت نے فلاں میں اپنے پنجے گاڑ دیے۔ موت نے تو یہ موت کے تو پنجے نہیں ہوتے، معلوم ہوا کہ متکلم نے اپنے نفس کے اندر ہی موت کو تشبیہ دے دی ہے کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ۔ اور اسی لیے پھر اس کے لیے ثابت کر لیے کر دی وہ چیز جو درندے کے ساتھ لازم ہے یعنی پنجے۔ تو یہ تشبیہ جو کہ ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ اس نے اپنے نفس میں دی، یہ کیا کہلاتی ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ تو یہ تشبیہ دینا، اور اسی طرح استعارہ تخییلیہ کس کو کہتے ہیں کہ مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کرنا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے ثابت کرنا۔ تو استعارہ بالکنایہ تشبیہ کا نام ہے اور استعارہ تخییلیہ اثبات کا نام ہے، ایک چیز ثابت کر رہے ہیں کس کے لیے؟ دوسری چیز کے لیے۔ اور یہ دونوں قائم ہیں کس کے ساتھ مولانا؟ متکلم کی ذات کے ساتھ، متکلم کی ذات کے ساتھ قائم ہیں۔ تو متکلم نے ثابت کیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے یعنی موت کے لیے کیا ثابت کیے؟ پنجے ثابت کیے۔ اور ان پنجوں کا ثبوت نہ حساً ہے اور نہ عقلاً ہے۔ موت کے پنجے ہیں بھئی، آپ نے دیکھے ہیں؟ حساً بھی نہیں اور عقلاً بھی نہیں ہیں۔ تو اس کو تحقیقیہ کے ساتھ مقید کیا جاتا ہے استعارہ تصریحیہ کو تاکہ تخییلیہ اور مکنیہ نکل جائیں اس لیے کہ ان کا وجود نہ حساً ہوتا ہے اور نہ عقلاً ہوتا ہے۔ اور مصنف بتلا رہے ہیں کہ ان کو تحقیقیہ اس کو کیوں کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے معنی کا تحقق ہوتا ہے، یعنی وہ جس کا ارادہ کیا گیا اس کا کیا ہوتا ہے؟ تحقق ہوتا ہے، یا حساً تحقق ہوگا یا عقلاً تحقق ہوگا۔ حساً تحقق مثلاً جیسے اس شعر کے اندر: لَدَى أَسَدٍ شَاكِي السِّلَاحِ مُقَذَّفٍ تو یہاں شاعر کہتا ہے کہ میں کھڑا ہوا ایک ایسے شیر کے پاس جو پورے اسلحے والا تھا اور بڑا ہی بہادر تھا بھئی۔ بڑا ہی بہادر اور تجربہ کار تھا۔ تو یہاں اسد بول کر اس سے کیا مراد لیا؟ رجلِ شجاع مراد لیا۔ اور رجلِ شجاع اس کا تحقق کیا ہے؟ حساً ہے مولانا۔ ہم حس کے ساتھ اس کا ادراک کرتے ہیں اور اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اور کبھی کبھار اس کا تحقق عقلاً ہوتا ہے جیسے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ تو یہاں تشبیہ دی گئی ہے مولانا دینِ حق یعنی اسلام کو کس کے ساتھ؟ صراطِ مستقیم کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ تو صراطِ مستقیم بول کر یہاں دینِ حق مراد ہے اور دینِ حق کا تحقق کیا ہے؟ عقلاً ہے۔ تو استعارہ تصریحیہ کو تحقیقیہ کہتے ہیں اس لیے کہ اس کا تحقق ہوتا ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تو اسد کے اندر ارادہ کیا گیا تھا رجلِ شجاع کا، اس کا بھی تحقق ہے۔ اور صراطِ مستقیم سے ارادہ کیا گیا کس چیز کا؟ دینِ اسلام کا، اور اس کا بھی ہاں ایک کا تحقق حساً ہے اور دوسرے کا تحقق عقلاً ہے، جبکہ استعارہ تخییلیہ اور بالکنایہ کے اندر تحقق نہیں ہوتا، اس لیے اس کو تحقیقیہ نہیں کہتے بھئی۔ اس کے بعد مصن بتلایا کہ ایضاح کے اندر مصنف نے استعارہ کی تعریف کیا کی تھی کہ استعارہ وہ لفظِ مجاز ہے جس جو متضمن ہو کس کو؟ تشبیہ کو۔ کس کو متضمن ہو؟ تشبیہ کو متضمن ہو کہ آپ تشبیہ دیں معنی مستعمل کو کس کے ساتھ؟ معنی موضوع لہ کے ساتھ بھئی۔ معنی موضوع لہ کے ساتھ۔ دیکھیے آپ نے کہا: رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، میں نے ایک بہادر شخص کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ یہاں اسد کا لفظ استعمال کیا اور مراد اس سے کیا لیا؟ رجلِ شجاع۔ تو معنی مستعمل ہوا رجلِ شجاع اور معنی موضوع لہ کیا ہوا؟ حیوانِ مفترس۔ تو اب استعارہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر معنی مستعمل کو تشبیہ دی جائے کس کے ساتھ؟ معنی موضوع لہ کے ساتھ۔ تو دراصل یہ بحث علامہ تفتازانی شروع کر رہے تھے یہ بتلانے کے لیے کہ زَيْدٌ أَسَدٌ جیسی مثالیں جن کے اندر اداتِ تشبیہ کو حذف کر لیا جاتا ہے، مصنف فرماتے ہیں کہ یہ تشبیہِ بلیغ ہے۔ یہ کیا ہے؟ تشبیہِ بلیغ ہے۔ مصنف فرماتے ہیں زَيْدٌ أَسَدٌ یہ دراصل تھا زَيْدٌ كَالْأَسَدِ۔ اور اس میں سے پھر کاف کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا، تو دراصل یہ تشبیہ ہے۔ یہ تشبیہ ہے، یہ استعارہ ہے ہی نہیں۔ اور علامہ تفتازانی پھر آگے جا کر رد کریں گے اور بتلائیں گے کہ نہیں اس کے اندر یہ کیا ہے؟ استعارہ۔ تو علماء کے دو گروہ تھے، مصنف نے ایک گروہ کی تائید کی اور علامہ تفتازانی نے دوسرے گروہ کی تائید کی۔ تو مصنف فرماتے ہیں یہ تشبیہِ بلیغ ہے، اس لیے کہ استعارہ ان کے نزدیک اس کو کہتے ہیں کہ معنی مستعمل کو تشبیہ دی جائے کس کے ساتھ؟ معنی موضوع لہ کے ساتھ۔ اور یہ تعریف اس پر صادق نہیں آتی اس لیے کہ زَيْدٌ أَسَدٌ آپ نے کہا زید شیر ہے، اور زید شیر ہے، اور یہ بات تو قطعی ہے کہ زید تو شیر نہیں ہے۔ زید شیر نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ یہاں پر کیا حذف ہے؟ کاف حذف ہے۔ کیونکہ زید تو اسد نہیں ہو سکتا، تو زید شیر جیسا ہے، دراصل یہ جملہ یوں ہے۔ اور اسد جو ہے یہ اپنے معنی موضوع لہ کے اندر ہی استعمال ہو رہا ہے کیونکہ دراصل یہاں کیا موجود ہے؟ کاف حذف جو ہم نے حذف کیا۔ اور اس پر استعارہ کی تعریف صادق نہیں آتی، اس لیے کہ اسد یہاں حیوانِ مفترس ہی کے معنی میں ہے، اور استعارہ کی ابھی ہم نے کیا تعریف کی تھی کہ معنی مستعمل کو تشبیہ دی جائے کس کے ساتھ؟ معنی موضوع لہ کے ساتھ۔ اور یہاں معنی مستعمل بھی حیوانِ مفترس اور اور معنی موضوع لہ بھی حیوانِ مفترس، اور تَشْبِيهُ الشَّيْءِ بِنَفْسِهِ تو صحیح نہیں، معلوم ہوا کہ یہاں پر استعارہ بھی نہیں ہے۔ اور علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: وَفِيهِ بَحْثٌ بھئی، اس کلام کے اندر بحث ہے اس لیے کہ ہمیں یہ تسلیم نہیں ہے کہ یہاں پر اسد معنی موضوع لہ کے اندر استعمال ہو رہا ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہاں اسد کیا ہے کس کے اندر استعمال ہو رہا ہے؟ معنی غیر موضوع لہ کے اندر یعنی رجلِ شجاع کے اندر استعمال ہو رہا ہے، اور قرینہ کیا ہے؟ قرینہ یہاں پر اس کا حمل زید پر ہو رہا ہے: زَيْدٌ أَسَدٌ بھئی۔ مصنف نے کیا کہا؟ یہ کیا ہے؟ تشبیہِ بلیغ ہے، اصل میں کیونکہ اسد حیوانِ مفترس کو کہتے ہیں اور زید تو حیوانِ مفترس ہے نہیں، معلوم ہوا یہاں کاف حذف ہے اور یہ تشبیہ ہے استعارہ نہیں۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں بھئی یہاں اسد اپنے معنی میں استعمال ہی نہیں ہے بلکہ یہاں پر اسد کا حمل زید پر کیا گیا اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اسد اپنے معنی میں استعمال نہیں ہو رہا بلکہ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ غیر موضوع لہ یعنی رجلِ شجاع میں، اس لیے کہ واقعی زید حیوانِ مفترس تو نہیں وہ تو کیا ہے؟ رجلِ شجاع، تو اسد بھی کس معنی میں مستعمل ہوا؟ رجلِ شجاع کے معنی میں استعمال ہوا۔ جی، تو علامہ تفتازانی نے کہا کہ ان کا یہ کہنا، وہ جو دوسرا گروہ تھا ان کا یہ کہنا کہ دیکھو زَيْدٌ أَسَدٌ یہ اصل میں کیا ہے؟ زَيْدٌ كَالْأَسَدِ ہی ہے۔ کیوں؟ انہوں نے کیا دلیل ذکر کی تھی؟ جو ابھی میں نے ذکر کی بھئی، کہ اسد کا حمل ہو رہا ہے زید پر اور زید تو اسد ہے نہیں، معلوم ہوا کہ یہاں کیا حذف ہے؟ کاف حذف ہے، اور معلوم ہوا یہ استعارہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ تشبیہِ بلیغ ہے، تشبیہ ہے۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں ان کا یہ استدلال فاسد ہے، کیوں؟ کیونکہ کاف کے حذف کی طرف جانے کی ضرورت تب پیش آئے گی جب اسد اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو۔ اور یہ تو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو ہی نہیں رہا، یہ تو کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ رجلِ شجاع۔ جب رجلِ شجاع کے معنی میں استعمال ہے تو کاف کو لانے کی ضرورت ہے؟ کاف کو لانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پھر کہتے ہیں نیز ہماری تائید ہوتی ہے اور بہت سی مثالوں میں کہ جن کے اندر جار مجرور آتا ہے اور علماء لکھتے ہیں کہ جار مجرور وہ جو اسم جو کس کے اندر غیر موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے اس کے ساتھ متعلق ہے۔ جیسے دیکھیے یہ شعر تھا: أَسَدٌ عَلَيَّ وَفِي الْحُرُوبِ نَعَامَةٌ مجھ پر تو شیر ہے اور جنگوں میں کیا ہے؟ شتر مرغ ہے۔ تو مجھ پر شیر ہے، جار مجرور أَسَدٌ عَلَيَّ، هُوَ مبتدا محذوف ہے اور أَسَدٌ خبر۔ اور عَلَيَّ جار مجرور کس سے متعلق ہے؟ علماء کیا لکھتے ہیں؟ اسد، اسد سے متعلق ہے، حالانکہ جار مجرور تو آٹھ چیزوں سے متعلق ہو سکتا ہے اور ان آٹھ میں سے کوئی بھی اسم جامد نہیں بلکہ وہ فعل کے ساتھ یا معنی فعل کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔ تو یہاں پر معلوم ہوا أَسَدٌ بمعنی شجاعٍ کے ہے بھئی، کس کے معنی میں؟ شجاعٍ کے معنی میں۔ اور جب شجاعٍ کے معنی میں ہوا تو شجاع تو مشتق ہے مولانا، تو لہٰذا یہ اس سے متعلق ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا یہاں اسد اپنے معنی میں مستعمل نہیں، اگر اپنے معنی میں حیوانِ مفترس میں مستعمل ہوتا تو عَلَيَّ اس سے متعلق نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی طرح فِي الْحُرُوبِ جار مجرور یہ بھی نَعَامَةٌ کے ساتھ متعلق ہے، اور نَعَامَةٌ اگر اپنے اصلی معنی شتر مرغ کے معنی میں ہوتا تو پھر تو اس سے جار مجرور متعلق نہیں ہو سکتا تھا، بلکہ یہ بھی کس معنی میں ہے یہاں پر؟ جَبَانٌ کے معنی میں ہے، بزدل، اور جَبَانٌ بھی کیا ہے؟ مشتق صفتِ مشبہ ہے، لہٰذا اس سے جار مجرور متعلق ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا یہ اپنے معنی موضوع لہ میں مستعمل ہی نہیں ہے بلکہ کس میں مستعمل ہیں؟ غیر موضوع لہ میں، اور یہ استعارہ ہے نہ کہ تشبیہِ بلیغ بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟وَاعْلَمْ أَنَّهُمُ اخْتَلَفُوا یہاں سے اختلاف بتلائیں گے بھئی، یہاں پھر علماء کے دو گروہ ہیں مولانا۔ علماء کے دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے استعارہ مجازِ لغوی ہے۔ اور ایک گروہ کہتا ہے استعارہ مجازِ عقلی ہے۔ استعارہ؟ اور یہ بات یاد رکھنا یہاں مجاز کے ساتھ میں نے لغوی کی قید بڑھائی بھئی۔ اور مجاز کے ساتھ آپ نے پڑھا تھا کبھی کبھار کس کی قید بڑھاتے ہیں؟ لغوی کی قید بڑھاتے ہیں کس لیے؟ کس سے احتراز کرنے کے لیے؟ مجازِ عقلی سے۔ ہاں ایک اور مجازِ لغوی بھی تھا جو کس کے مقابلے میں تھا؟ شرعی کے مقابلے میں اور عرفِ عام اور خاص کے مقابلے میں، وہ والا مراد نہیں ہے بلکہ یہ کون سا مراد ہے؟ جو کس کے مقابلے میں ہو؟ عقلی۔ تو علماء کے دو گروہ ہیں: ایک کہتا ہے کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے اور ایک گروہ کہتا ہے کہ استعارہ مجازِ عقلی ہے، مجازِ عقلی۔ مجازِ لغوی کس کو کہتے ہیں بھئی؟ لفظ کو غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا بھئی۔ لفظ کو؟ غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، جیسے اسد بول کر کیا مراد لینا؟ رجلِ شجاع مراد لینا۔ تو یہ کہتے ہیں کہ استعارہ کے اندر مجازِ لغوی ہے یعنی لفظ کو غیر موضوع لہ کے اندر استعمال کیا گیا ہے۔ تو اسد اصل میں تو ہے حیوانِ مفترس لیکن ہم نے کس کے لیے استعمال کر لیا؟ رجلِ شجاع کے لیے۔ اور بعض علماء ہیں جو کیا فرماتے ہیں کہ یہ مجازِ عقلی ہے بھئی۔ مجازِ عقلی آپ جانتے ہیں، آپ نے تعریف پڑھی مولانا، مجازِ عقلی کس کو کہتے ہیں؟ اسناد فعل کی یا معنی فعل کی کس کی طرف؟ غیر ما ہو لہٗ کی طرف بھئی۔ تو یہ قسم ہے اسناد کی، لیکن اس کی ایک اور قسم تعریف قسم بھی ہے مولانا، دو چیزوں پر یہ بولا جاتا ہے مجازِ عقلی: ایک تو جو میں نے ابھی بیان کیا، إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَى الْفِعْلِ إِلَى غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک یہ معنی ہے، اور ایک اس کا معنی جو ہے کہ معانیِ عقلیہ میں تصرف کرنا، ایک اس کا کیا معنی ہے؟ معانیِ عقلیہ میں تصرف کرنا اور وہ چیز جو واقع میں نہیں اس کو واقع بتلانا، اس کو کیا بتلانا؟ واقع بتلانا بھئی۔ جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ توجہ سے بیٹھنا بھئی، مشکل مباحث ہیں۔ علماء کے دو گروہ ہیں، ایک گروہ کیا کہتا ہے کہ استعارہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی یعنی لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں است یہ دیکھیے یہ لفظِ اسد ہے، یہ اس کا معنی موضوع لہ ہے، کیا؟ حیوانِ مفترس، لیکن ہم نے اس اسد کے لفظ کو اٹھایا اور اس لفظ کو اٹھا کر اس معنی یعنی رجلِ شجاع کے لیے استعمال کر لیا، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی۔ علماء کا دوسرا گروہ کہتا ہے یہ مجازِ عقلی ہے، مجازِ عقلی کا ایک معنی تو آپ نے پڑھا تھا کہ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَى الْفِعْلِ إِلَى غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ، ایک اس کا اور معنی بھی ہے اور وہ کیا؟ تصرف کرنا معانیِ عقلیہ کے اندر اور وہ چیز جو واقع میں نہ ہو اس کو واقع بتلانا۔ وہ چیز جو واقع میں؟ اس کو کیا بتلانا؟ واقع بتلانا بھئی، اس کو بھی کہتے ہیں مجازِ عقلی۔ تو ان کہتے ہیں یہ مجازِ عقلی ہے یعنی تصرف کیا گیا ہے معانیِ عقلیہ کے اندر، کس طرح؟ دیکھو بھئی، یہ ہے رجلِ یہ کون سا معنی ہے اس کا؟ اسد کا کون سا معنی ہے؟ موضوع لہ، اور وہ کیا ہے؟ حیوانِ مفترس، اور یہ ہے الگ ایک معنی کیا؟ رجلِ شجاع۔ تو پہلے گروہ نے کیا کہا؟ صرف لفظِ اسد کو اٹھایا اور اس کا اطلاق کر دیا کس پر؟ اس معنی پر اطلاق کر دیا گیا تو لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال۔ دوسرا گروہ کہتا ہے نہیں بلکہ ہم نے دعویٰ کر دیا پہلے دعویٰ یہ کیا کہ یہ جو رجلِ شجاع ہے یہ بھی فرد ہے اسد کے افراد میں سے۔ رجلِ شجاع بھی کیا ہے؟ فرد ہے اسد کے افراد میں سے، یعنی یہ بھی اس کا معنی حقیقی ہے، یہ بھی کیا ہے؟ معنی حقیقی ہے۔ چنانچہ ہم نے ادھر سے کس کو اٹھایا؟ لفظِ اسد کو بھی اٹھایا اور ساتھ اس کے معنی کو بھی اٹھا لیا۔ پہلے میں کیا تھا؟ صرف لفظ اٹھاتے تھے معنی کو نہیں، اب اس میں لفظ اور معنی دونوں کو اٹھایا اور اب اطلاق کر دیا اسد کا کس پر؟ رجلِ شجاع پر، اور رجلِ شجاع کے بارے میں تو ہم پہلے دعویٰ کر چکے تھے کہ یہ بھی اسد کے افراد میں سے ہے، تو لفظ کا اطلاق موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ اب موضوع لہ میں ہو گیا کیونکہ ہم نے پہلے دعویٰ کر دیا تھا کہ یہ بھی کس میں سے ہے؟ اسد کے افراد، جب یہ اس کے افراد میں سے ہے تو لفظ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ اپنے معنی موضوع، تو دراصل یہ دعویٰ ہم نے کیا کہ بھئی اسد کے دو افراد ہیں: ایک تو وہ فرد ہے جو آپ جانتے ہیں اور وہ کیا ہے؟ شیر ہے، حیوانِ مفترس، اس اسد کا ایک اور فرد بھی ہے جس کی شکل و صورت ذرا مختلف ہے لیکن ہے وہ بھی اسی کے افراد میں سے اور آپ اس کو جانتے نہیں اور وہ کون ہے؟ رجلِ شجاع۔ تو اب ہم نے اس لفظ کو معنی سمیت اٹھایا اور اس کا اطلاق کس پر کر دیا؟ رجلِ شجاع پر۔ تو اسد کے دو افراد ہو گئے مولانا: ایک کیا؟ اور ایک وہ دوسرا معنی بھی اپ ساتھ لے آئے، کتنے ہو گئے؟ دو معنی، تو یہ دونوں اس کے افراد ہیں مولانا جن میں سے ایک کو آپ جانتے ہیں اور دوسرے کو آپ جانتے نہیں۔ تو دیکھو عقل نے کیا کیا؟ تصرف کیا کس کے اندر؟ معانی کے اندر۔ عقل نے تصرف کس کے اندر کیا؟ معانی کے اندر، رجلِ شجاع کے معنی کو ہم نے کس میں داخل کر دیا؟ اسد کا معنی، اس کو بھی کیا بنا دیا؟ اسد کا معنی بنا دیا، تو یہ کیا ہے؟ تصرفِ عقلی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو علماء کے دو گروہ، ایک گروہ کیا کہتا ہے؟ استعارہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی، دوسرا گروہ کیا کہتا ہے؟ مجازِ عقلی۔ مجازِ لغوی والے کیا کہتے ہیں کہ لفظ صرف لفظ کا استعمال ہوا کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ میں، اور دوسرا گروہ کیا کہتا ہے کہ مجازِ عقلی کے اندر تصرفِ عقلی ہے، کیا ہے؟ عقل نے تصرف کیا معنی کے اندر کس کس طرح تصرف کیا؟ کہ وہ جو چیز واقع نہیں تھی یعنی یہ رجلِ شجاع اس کے افراد میں سے نہیں تھا، آپ نے اس کو کیا بتلا دیا؟ یہ واقع ہے یعنی یہ اس کے افراد میں سے ہے اور آپ نے تو اس پر پہلے دعویٰ کر دیا کہ رجلِ شجاع بھی کس کے افراد میں سے ہے؟ اسد کے افراد میں سے ہے، اور پھر اس پر اسد کا اطلاق کر دیا۔ تو پہلے دعویٰ دخول کیا کہ یہ اس میں داخل ہے اور پھر اطلاق کر دیا، تو جب دعویٰ دخول کر دیا تو گویا کہ یہ یہ بھی اس کا معنی ہے، تو اب لفظ کا استعمال موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مجازِ لغوی والوں کے نزدیک لفظ استعمال ہے غیر موضوع لہ میں، اور مجازِ عقلی والوں کے نزدیک لفظ استعمال ہے موضوع لہ ہی کے اندر۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی۔ وَاعْلَمْ أَنَّهُمُ اخْتَلَفُوا، علماء نے اختلاف کیا، علمِ بیان والوں نے اختلاف کیا ہے فِي أَنَّ الِاسْتِعَارَةَ مَجَازٌ لُغَوِيٌّ أَوْ عَقْلِيٌّ، کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے یا عقلی ہے۔ فَالْجُمْهُورُ عَلَى أَنَّهَا مَجَازٌ لُغَوِيٌّ، جمہور اس بات پر ہیں کہ استعارہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی ہے۔ مجازِ لغوی کس کے مقابلے میں ہے بھئی یہاں؟ نہ کہ عرفی اور شرعی، یہی بات علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں: بِمَعْنَى، مجازِ لغوی بایں معنی أَنَّهَا لَفْظٌ، یہ ایسا لفظ ہے اسْتُعْمِلَ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ، جس کو کس کے اندر استعمال کیا گیا ہے؟ غیر موضوع لہ کے اندر، لِعَلَاقَةِ الْمُشَابَهَةِ، یہ لفظ درست کریں مولانا، غیر غلط ہے یہاں پر بھئی، کاتب کی غلطی ہے، لِعَلَاقَةِ الْمُشَابَهَةِ، کس وجہ سے؟ مشابہت کے علاقے کی وجہ سے، کیونکہ استعارہ میں مشابہت کا علاقہ ہوتا ہے نہ کہ غیر مشابہت کا بھئی۔ وَدَلِيلُ أَنَّهَا، اور دلیل اس کی کیا ہے بھئی؟ اب دلیلیں ذکر کریں گے دونوں گروہ والوں کی بھئی۔ بھئی استعارہ کے بھئی استعارہ کے مجازِ لغوی ہونے کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں دلیل یہ ہے کہ یہ وضع ہے حیوانِ مفترس کے لیے، نہ کہ رجلِ شجاع کے لیے اور نہ حیوانِ جری کے لیے، حیوانِ مجتری کے لیے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو تین لفظ ہیں، تین معانی ہیں مولانا، ادھر دیکھو: ایک ہے حیوانِ مفترس، ایک ہے رجلِ شجاع اور ایک ہے حیوانِ مجتری، جرات والا حیوان یعنی بہادر حیوان، بہادر حیوان، تو تین معنی ہیں۔ تو یہ جو تیسرا معنی میں نے بتلایا، حیوان جرات والا حیوان، بہادر حیوان، یہ عام ہے مولانا۔ اگر اسد کا معنی جرات والا حیوان ہوتا تو پھر اس کا اطلاق رجل رجلِ شجاع پر بھی ہو سکتا تھا اور حیوانِ کیونکہ رجلِ شجاع بھی کون ہے؟ جرات والا حیوان ہے، اور حیوانِ مفترس بھی کیا ہے؟ تو دونوں پر اس کا اطلاق کیا تھا؟ موضوع لہ میں استعمال ہوتا کیونکہ یہ عام ہے، دونوں کو شامل ہے مولانا۔ تو دلیل اس کی یہ کہ یہ مجازِ لغوی ہے کہ یہ جو لفظ تین معانی آپ کے سامنے پڑے ہیں مولانا، ان میں سے یہ اسد کا لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے؟ حیوانِ مفترس کے لیے، اور آپ کس کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ تو معلوم ہوا یہ موضوع لہ میں ہے یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر، معلوم ہوا اس کا معنی رجلِ شجاع بھی نہیں، اگر رجلِ شجاع اس کا معنی ہوتا تو یہ کیا بن جاتا؟ معنی موضوع لہ۔ اس کا معنی حیوانِ حیوانِ شجاع کر لو بھئی، حیوانِ شجاع بھی اس کا معنی نہیں، اگر حیوانِ شجاع اس کا معنی ہوتا تو تو پھر بھی یہ دونوں اس کے کیا بن جاتے؟ موضوع لہ بن جاتے، بات سمجھ میں آئی؟ تو نہ یہ تو رجلِ شجاع کے لیے وضع ہے نہ کسی ایسے عام معنی کے لیے جو دونوں کو شامل ہو۔ تو لہٰذا اس کا استعمال حیوانِ مفترس میں تو حقیقت ہے اور اس کا استعمال کس کے اندر رجلِ شجاع کے اندر؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہے، موضوع لہ کے اندر نہیں۔ وَدَلِيلُ أَنَّهَا، اور دلیل اس بات کی أَيِ الِاسْتِعَارَةَ کہ استعارہ جو ہے، مَجَازٌ لُغَوِيٌّ وہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی ہے، كَوْنُهَا مَوْضُوعَةً لِلْمُشَبَّهِ بِهِ، اس کا موضوع ہونا ہے کس کے لیے؟ مشبہ یہ اسد کا لفظ یہ مشبہ بہٖ کے لیے وضع ہے، لَا لِلْمُشَبَّهِ، نہ کہ وَلَا لِلْأَعَمِّ مِنْهُمَا، اور نہ ان دونوں سے کسی عام معنی کے لیے وضع ہے۔ یہ رجلِ شجاع کے لیے بھی وضع نہیں، یہ حیوانِ شجاع کے لیے وضع بھی نہیں، اگر ان میں سے کسی ایک کے لیے وضع ہوتا تو پھر ہم کہتے کہ یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ أَمَّا مِنْهُمَا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں: أَيْ مِنَ الْمُشَبَّهِ وَالْمُشَبَّهِ بِهِ، جی۔ فَأَسَدٌ فِي قَوْلِنَا، پس اسد کا لفظ ہمارے اس قول کے اندر: رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، میں نے ایک ایسا شیر دیکھا جو تیر چلا رہا تھا، مَوْضُوعٌ لِلسَّبُعِ الْمَخْصُوصِ، یہ مخصوص درندے کے لیے وضع ہے، لَا لِلرَّجُلِ الشُّجَاعِ، رجلِ شجاع کے لیے وضع نہیں، وَلَا لِمَعْنًى أَعَمَّ مِنَ الرَّجُلِ وَالسَّبُعِ، اور نہ ہی کسی ایسے معنی کے لیے وضع ہے جو عام ہو رجل سے بھی اور رجل کو بھی شامل ہو اور اور وہ کیا معنی تھا؟ حیوانِ شجاع اگر اس کا معنی کر لیں تو پھر یہ کیا ہوتا؟ دونوں کو اور یہ اس کے لیے بھی وضع نہیں ہے۔ تو یہ نہ ایسے معنی کے لیے جو عام ہو رجل اور شجاع سے اس کے لیے بھی وضع نہیں، جیسے کہ حیوانِ مجتری یعنی حیوانِ شجاع مولانا۔ مَثَلًا، مثال کے طور پر یہ اس کے لیے بھی وضع نہیں، لِيَكُونَ إِطْلَاقُهُ عَلَيْهِمَا حَقِيقَةً، کہ اس کا اطلاق ان پر کیا بن جاتا؟ حقیقت، اگر یہ اس کے لیے وضع ہوتا یا رجلِ شجاع کے لیے وضع ہوتا تو پھر حقیقت بن جاتا، كَإِطْلَاقِ الْحَيَوَانِ عَلَى الْأَسَدِ وَالرَّجُلِ الشُّجَاعِ، جیسے حیوان کا اطلاق مولانا اسد اور رجلِ شجاع، لفظِ حیوان ہے اس کا اطلاق کریں اسد پر، یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے یا غیر موضوع؟ موضوع لہ، اس کا اطلاق رجلِ شجاع پر کریں پھر بھی پھر بھی موضوع لہ میں، تو جیسے یہ حقیقت تھا وہ بھی حقیقت بن جاتا۔ وَهَذَا مَعْلُومٌ بِالنَّقْلِ عَنْ أَئِمَّةِ اللُّغَةِ، اور یہ بات معلوم ہے ساتھ نقل کے کس سے؟ ائمہ ائمہ لغت سے یہ بات منقول ہے قطعاً، قطعی طور پر، کیا معلوم ہے؟ کہ اسد کا لفظ وضع ہے کس معنی کے لیے؟ حیوانِ مفترس کے لیے وضع ہے، رجلِ شجاع کے لیے بھی وضع نہیں اور حیوانِ مجتری کے لیے وضع نہیں ہے۔ فَإِطْلَاقُهُ عَلَى الرَّجُلِ الشُّجَاعِ، پس اس کا اطلاق رجلِ شجاع پر إِطْلَاقٌ عَلَى غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ، یہ اطلاق ہے غیر موضوع لہ پر، مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ عَنْ إِرَادَةِ مَا وُضِعَ لَهُ، اور اس کے ساتھ ایسا قرینہ موجود ہے جو موضوع لہ کا ارادہ نہیں کرنے دیتا، اور وہ کیا ہے؟ يَرْمِي: رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، یہ يَرْمِي کا لفظ حیوانِ مفترس کا معنی کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ نہیں، اب یہاں حیوانِ مفترس کا معنی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ تیر نہیں چلا سکتا بھئی۔ فَيَكُونُ مَجَازًا لُغَوِيًّا، تو اس صورت میں یہ استعارہ کیا ہوا مولانا؟ مجازِ لغوی ہوا، مجازِ لغوی ہوا۔ دیکھا، دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ دلیل کیا دینی تھی؟ کہ لفظ کس میں استعمال ہوا؟ غیر اور دلیل یہ کہ یہ وضع ہی اس کے لیے ہے، جب وضع اس کے لیے ہے تو دوسرے کے اندر استعمال کیا ہوا؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا۔ وَفِي هَذَا الْكَلَامِ دَلَالَةٌ، یہاں سے علامہ تفتازانی یہ بتلانا چاہتے ہیں بھئی اگر لفظِ عام کو خاص میں استعمال کیا جائے تو یہ مجاز ہوگا یا حقیقت؟ مثلاً لفظِ حیوان ہے، یہ ہے عام، اور ایک ہے زید، یہ کیا ہے؟ اس سے شخصِ مسمیٰ مراد ہے مولانا۔ شخصِ مسمیٰ۔ اب مثلاً میں حیوان بولتا ہوں اور مراد لیتا ہوں زید، تو کیا یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے؟ کہتے ہیں بھئی دراصل اس کے دو رخ ہیں، دو حیثیتیں ہیں، حیثیت بدلنے سے حقیقت بن جائے گی اور پھر دوسری طرف بدلنے سے کیا بن جائے گا؟ مجاز، تو حیثیت کے اعتبار سے کبھی یہ حقیقت اور کبھی کبھار کس طرح؟ کہتے ہیں اگر حیوان بولا آپ نے اور مراد کیا لیا؟ زید، لیکن کس حیثیت سے؟ حیوان ہونے کے اعتبار سے کہ یہ بھی اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے، اپنے معنی ہی کے اعتبار سے زید پر اطلاق کر دیا کس چیز کا؟ حیوان کا۔ اس کے معنی خاص کا لحاظ نہیں رکھا، زید تو دراصل کیا ہے؟ شخصِ مسمیٰ ہے، اور حی تو حیوان بولا اور اس کا اطلاق زید پر کیا اور کس اعتبار سے کیا؟ حیوان ہونے ہی کے اعتبار سے کیا، شخصِ مسمیٰ ہونے کے اعتبار سے کہ یہ بھی اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے فرد ہے، تو یہ مولانا یہ حقیقت ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیونکہ ہم حیوان بول رہے ہیں اور مراد بھی کیا لے رہے ہیں؟ حیوان ہی مراد لے رہے ہیں بھئی، لیکن اگر اس کا استعمال ہو خاص کے اندر اس کے خاص ہونے کے اعتبار سے، بول تو حیوان رہے ہیں اور مراد زید ہے کس لحاظ سے؟ شخصِ مسمیٰ ہونے کے لحاظ سے، تو یہ مولانا مجاز ہے اس لیے کہ حیوان کا لفظ وہ وضع ہے جس میں نامی، متحرک، حساس، جس میں نامی، متحرک بالارادہ اور حساس کے لیے نہ کہ شخصِ حیوان کا لفظ شخصِ مسمیٰ کے لیے وضع ہے؟ بلکہ کس کے لیے وضع ہے؟ وہ جسم جو بڑھنے والا ہو، حساس ہو اور متحرک بالارادہ ہو، تو اس اعتبار سے زید پر اطلاق کریں کہ یہ بھی حیوان ہے، بس۔ شخصِ مسمیٰ کا ارادہ نہیں، تو پھر تو یہ حقیقت ہے، اور اگر عام بول کر اس کے معنی خاص کا ارادہ ہو، بول حیوان رہے ہیں اور ارادہ کس اعتبار سے ہے؟ اس کے خاص ہونے کے اعتبار سے اس پر اطلاق کر رہے ہیں تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز، کیونکہ یہ معنی موضوع لہ میں استعمال نہیں ہے۔ وَفِي هَذَا الْكَلَامِ دَلَالَةٌ، اور اس کلام میں دلالت ہے عَلَى أَنَّ لَفْظَ الْعَامِّ، کہ لفظِ عام جو ہے إِذَا أُطْلِقَ عَلَى الْخَاصِّ، جب اس کا اطلاق خاص پر ہو جائے، لَا بِاعْتِبَارِ خُصُوصِهِ، لیکن اس کے خاص ہونے کے اعتبار سے بَلْ بِاعْتِبَارِ عُمُومِهِ، بلکہ اس کے عموم کے اعتبار سے ہو، فَهُوَ لَيْسَ مِنَ الْمَجَازِ فِي شَيْءٍ، تو یہ مجاز میں سے نہیں ہے، كَمَا إِذَا لَقِيتَ زَيْدًا، جیسے کہ آپ کی زید سے ملاقات ہو، فَقُلْتَ، اور آپ کہیں: لَقِيتُ رَجُلًا، کیا میری ایک آدمی سے ملاقات ہوئی، أَوْ إِنْسَانًا، یا ایک انسان سے ملاقات ہوئی، أَوْ حَيَوَانًا، یا ایک حیوان، تو دیکھو آپ نے عام بولا اور کس پر اطلاق کیا؟ خاص پر، اور مراد بھی کیا ہے؟ کہ زید ان کس کے افراد میں سے ایک فرد ہے، ایک رجل سے ہی ملاقات ہوئی، رجل بول کر رجل ہی کا ارادہ ہے، انسان بول کر انسان ہی کا ارادہ کیا، تو یہ پھر مولانا حقیقت ہے۔ تو یہ مجاز نہیں، تو جب یہ آپ نے کہا: حیوان، بَلْ هُوَ حَقِيقَةٌ، بلکہ یہ کیا ہے؟ حقیقت ہے، إِذْ لَمْ يُسْتَعْمَلِ اللَّفْظُ إِلَّا فِي مَعْنَاهُ الْمَوْضُوعِ لَهُ، اس لیے کہ لفظ استعمال نہیں ہوا مگر کس کے اندر؟ معنی موضوع لہ ہی میں استعمال ہو رہا ہے۔ وَقِيلَ، اور یہ وہ دوسرا مذہب ہے وہ کہتے ہیں: إِنَّهَا، کہ یہ جو إِنَّهَا، أَيِ الِاسْتِعَارَةَ، کہ استعارہ جو ہے مَجَازٌ عَقْلِيٌّ، وہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے، بِمَعْنَى، بایں معنی أَنَّ التَّصَرُّفَ فِي أَمْرٍ عَقْلِيٍّ، کہ اس میں تصرف کیا گیا ہے کس کے اندر؟ امرِ امرِ عقلی کیا تھا مولانا؟ ہم نے رجلِ شجاع کو بھی کیا بنایا؟ اس کا فرد بنا دیا اور اس پر کیا کیا؟ دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کے افراد میں سے ہے اور اس پر کیا کیا؟ لفظ کا اطلاق کر۔ کہ تصرف کیا امرِ عقلی میں یعنی معانیِ عقلیہ میں تصرف کیا، لَا لُغَوِيٍّ، نہ کہ امرِ لغوی کے اندر بھئی۔ لِأَنَّهَا، اس لیے کہ استعارہ جو ہے لَمَّا لَمْ تُطْلَقْ عَلَى الْمُشَبَّهِ، جب اس کا اطلاق کس پر نہیں ہوا؟ بھئی دیکھو اسد کا لفظ ہے اور اس کا اطلاق ہم نے کس پر کیا؟ رجلِ شجاع پر، اور رجلِ شجاع پر کیا، تو یہ مولانا استعارہ ہے، تو یہ استعارہ جب اس کا اطلاق نہیں ہوا مشبہ پر، مشبہ کون ہے؟ رجلِ شجاع، اس کو تشبیہ دی ہے کس سے؟ حیوانِ مفترس، تو جب اس کا اطلاق نہیں ہوا مشبہ پر إِلَّا بَعْدَ ادِّعَاءِ دُخُولِهِ، مگر بعد اس کے کہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ اس کے بعد دخولہ ای دخول المشبہ فی جنس المشبہ بہٖ کہ مشبہ داخل ہے کس کے اندر؟ جنسِ مشبہ بہٖ کے اندر، بِأَنْ جُعِلَ الرَّجُلُ الشُّجَاعُ فَرْدًا مِنْ أَفْرَادِ الْأَسَدِ، بسب اس کے کہ رجلِ شجاع جو ہے وہ فرد ہے کس میں سے؟ افرادِ اسد میں سے، كَانَ اسْتِعْمَالُهَا، أَيِ الِاسْتِعَارَةِ فِي الْمُشَبَّهِ اسْتِعْمَالًا فِيمَا وُضِعَتْ لَهُ، تو یہ جو مش استعارہ کا استعمال ہوگا، یہ کس میں ہوگا؟ مشبہ میں جو استعمال ہوا استعارہ یہ استعمال ہے فِيمَا وُضِعَتْ لَهُ، کس کے اندر؟ موضوع لفظ موضوع لہ ہی میں استعمال ہو رہا ہے، غیر موضوع لہ کے اندر نہیں ہو رہا، یہ وہ دوسرے گروہ والے کہتے ہیں۔ وَإِنَّمَا قُلْنَا، اور یہ جو ہم ہم نے کہا أَنَّهَا لَمْ تُطْلَقْ عَلَى الْمُشَبَّهِ، کہ اس کا اطلاق مشبہ پر نہیں ہوا إِلَّا بَعْدَ ادِّعَاءِ دُخُولِهِ، مگر بعد اس کے کہ ہم نے دعویٰ کیا تھا کس چیز کا؟ مشبہ داخل ہے فی جنس المشبہ بہٖ، جنسِ مشبہ بہٖ میں، کیوں؟ لِأَنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ كَذَلِكَ، اگر ایسا نہ ہوتا، جی۔ مصنف نے کیا کہا؟ دوسرے گروہ والے کیا کہتے ہیں؟ استعارہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ ہم نے معانیِ عقلیہ کے اندر تصرف کیا کس طرح کہ رجلِ شجاع کو کس میں داخل کر دیا؟ اسد کے افراد میں، اور یہ کب ہوا؟ اب اس پر رجلِ شجاع پر اسد کا اطلاق تب ہوا کہ پہلے ہم نے دعویٰ کیا کہ یہ بھی اس کے افراد میں سے ہے، تو معلوم ہوا دا یہ ادعائے دخول کے بعد اس پر اطلاق کیا ہے۔ پہلے کیا کیا ہم نے؟ دعویٰ کیا، اور اس کے بعد رجلِ شجاع اس کے افراد میں سے ہے، پھر اس کے بعد اس پر اطلاق کیا لفظِ اسد کا، لفظِ اسد۔ کہتے ہیں اگر ایسا نہ ہو تو یہ یہ فلاں چیزیں لازم آئیں گی، آگے ذکر آگے دلیلِ خلف ذکر کریں گے مولانا۔ کیا ذکر کریں گے؟ دلیلِ خلف کہتے ہیں کہ دعوے کی نقیض کو باطل کر دینا۔ دعوے کی نقیض کو باطل کر دینا۔ دلیلِ خلف کسے کہتے ہیں؟ دعوے کی نقیض کو باطل کر دینا، اور جب دعوے کی نقیض باطل ہوئی تو دعویٰ خود بخود ثابت ہو گیا۔ دعویٰ خود بخود ثابت ہوا۔ اس کو دلیلِ استلزامی بھی کہتے ہیں بھئی۔ اس کو دلیلِ استلزامی بھی کہتے ہیں۔ اس لیے کہ لازم کے بطلان سے ملزوم کا باطل ہونا، ملزوم بھی باطل ہوگا۔ اس لیے کہ لازم کے بطلان سے ملزوم بھی باطل ہوگا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ دیکھو بھئی، دیکھو بھئی دوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ لفظِ استعارہ کی بات چل رہی ہے۔ پہلے گروہ والوں نے کہا تھا استعارہ استعمال لفظ کا ہے کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ میں۔ دوسرے گروہ والے کہتے ہیں یہ موضوع لہ پر ہی اطلاق ہے۔ کس طرح؟ پہلے ہم نے دعویٰ کیا کہ یہ لفظ کیا ہے اس کے افراد میں سے ہے اور بعد میں اطلاق ہوا، تو پہلے کیا ہے؟ دعوائے دخول ہے اور بعد میں اطلاق ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہتے ہیں اگر دعوائے دخول نہ ہو تو پھر تین چیزیں لازم آتی ہیں اور تینوں باطل ہیں، معلوم ہوا کہ دعوائے دخول کا نہ ہونا یہ بھی کیا ہے؟ باطل ہے۔ دیکھو دعویٰ ہمارا کیا ہے؟ دعویٰ کیا ہے؟ کہ پہلے دعویٰ ہوا پھر اطلاق ہوا۔ کیا دعویٰ ہوا پہلے؟ رجلِ شجاع فرد ہے کس کے افراد میں سے؟ اسد کے، تو پہلے دعویٰ پھر اطلاق۔ پہلے دعویٰ کیا یہ رجلِ شجاع بھی اسد کے افراد میں سے ہے، یہ دعویٰ کر کے اس کے بعد اب رجلِ شجاع پر ہی اسد ہی وہ اسد کا لفظ کیا کیا؟ اس کا اطلاق کیا اور بول دیا اس پر بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اب یہاں ادعائے دخول کے بعد اطلاق ہوا ہے، ادعائے دخول کے بغیر اطلاق نہیں ہوا۔ کیا بات ہوئی؟ ادعائے دخول کے بعد اطلاق ہوا ہے، اس کے بغیر اطلاق نہیں ہوا۔ تو دیکھیے ہمارا دعویٰ ہے ادعائے دخول کہ بعد اطلاق ہوا ہے، ہمارا دعویٰ کیا ہے؟ ادعائے دخول کے بعد اطلاق ہوا ہے۔ اور اس کی نقیض کیا ہے؟ ادعائے دخول کے بغیر اطلاق ہوا ہے۔ نقیض سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بھئی ہم نے کیا کہا؟ اطلاق ہوا ہے اسد کا رجلِ شجاع پر، دو صورتیں ہیں: یا تو ادعائے دخول ہوگا یا ادعائے دخول نہیں ہوگا۔ اور ہمارا کیا دعویٰ ہے؟ ہم نے ادعائے دخول کو ثابت کرنا ہے، تو اس کے لیے طریقہ یہ ہے کہ ہاں یہ طریقہ استعمال کریں گے کہ ادعائے دخول کے بغیر کو کیا کر دیں گے؟ باطل کر دیں گے، یہ اس کی نقیض ہے نا۔ دعویٰ کیا ہے؟ اچھا، تو یہ اطلاق کو ذرا الگ رکھو، یہ تو آپ کو بات سمجھ میں آ گئی نا، اطلاق تو ہونا ہی ہے اس نے، تو اب سوال یہ ہے کہ ادعائے دخول کے بعد ہے یا اس کے بغیر ہے؟ تو یہ ہے ادعائے دخول، یہ ہمارا دعویٰ ہے، اس کی نقیض کیا ہے؟ بغیر ادعائے دخول کے، یعنی اس میں داخل ہونے کے دعویٰ نہیں، اس کے بغیر ہی اس پر کیا کر دیا گیا؟ اسد کا اطلاق کر دیا گیا۔ سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ توجہ ہے آپ کی؟ توجہ سے بیٹھو بھئی۔ کس طرح کہہ رہے ہیں، کریں بھئی؟ سمجھ بھی آ رہی ہے بات کہ نہیں آ رہی؟ مشکل ہے؟ نہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے ادعائے دخول کے بعد اطلاق ہوا، اور اس کی نقیض کیا ہے؟ ادعائے دخول کے بغیر اطلاق ہو، اور ادعائے دخول کے بغیر اطلاق ہم نے اس کو باطل کرنا ہے تو ہمارا دعویٰ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا۔ کہتے ہیں دیکھو اس سے اگر ادعائے دخول کے بغیر اطلاق ہو تو تین چیزیں لازم آتی ہیں۔ اگر ادعائے دخول کے بغیر اس پر لفظِ اسد کا اطلاق ہو تو تین خرابیاں لازم آتی ہیں، تین چیزیں لازم آتی ہیں اور وہ تینوں باطل، اور جب لازم باطل تو ملزوم بھی باطل، معلوم ہوا نقیض باطل، جب نقیض باطل ہوئی تو دعویٰ ہمارا ثابت ہوا کہ اطلاق ہوا ہے بعد ادعائے دخول کے۔ سمجھ میں آئی بات؟ دیکھیے بھئی: لِأَنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ كَذَلِكَ لَمَا كَانَتِ اسْتِعَارَةً، اس لیے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ استعارہ نہ ہوتا۔ بھئی اسد کا لفظ کا اطلاق ہوا کس پر؟ رجلِ شجاع پر، اور نقیض کیا ہے؟ بغیر ادعائے دخول، بغیر ادعائے دخول کے رجلِ شجاع پر اسد کا اطلاق ہوا، اگر ایسا ہوتا تو یہ استعارہ نہ ہوتا۔ کیوں؟ لِأَنَّ مُجَرَّدَ نَقْلِ الِاسْمِ لَوْ كَانَ اسْتِعَارَةً لَكَانَتِ الْأَعْلَامُ الْمَنْقُولَةُ اسْتِعَارَةً، تو اس صورت میں اعلامِ منقولہ بھی استعارہ بن جاتے حالانکہ اس کا قائل کوئی بھی نہیں، اعلامِ منقولہ استعارہ نہیں۔ اعلامِ منقولہ کس کو کہتے ہیں؟ جی؟ ایک معنی سے لفظ کو نقل کر دیا دوسرے معنی کے لیے، جیسے علم ہو مولانا، علم کی بات چل رہی ہے۔ مثلاً لفظِ اسد ہے، اسد کا کیا معنی؟ ایک آدمی کا نام ہم نے اسد رکھ دیا، ایک آدمی کا؟ اب یہاں اس کے معنی اصلی کی رعایت ہے؟ معنی اصلی کی رعایت تو اگر تو یہ علمِ منقول ہوا، کیا ہوا؟ کہ ہم نے اس کو معنی ثانی کے لیے وضع کر لیا اور معنی اول کو بالکل ہی چھوڑ دیا بھئی۔ تو اگر بغیر دعویٰ کے، بغیر دعوائے دخول کے اطلاق استعارہ ہوتا تو یہ بھی استعارہ ہونا چاہیے تھا۔ بھئی ہم نے کس پر ایک شخص ہے اس کا کیا نام رکھ دیا؟ اسد رکھ دیا، تو اس شخص پر اسد کا لفظ بولا، اور کیا ہم نے دعویٰ کیا کہ یہ اس کے افراد میں سے ہے؟ اس کے افراد میں سے ہونے کا دعویٰ نہیں، تو بغیر دعوے کے بھی اگر استعارہ ہوتا تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ استعارہ ہونا چاہیے تھا، حالانکہ کسی بھی شخص کا نام اسد رکھ دیا جائے تو دنیا کا کوئی شخص اس کو استعارہ نہیں کہتا۔ معلوم ہوا کہ رجلِ شجاع پر جو اسد کا اطلاق ہوا وہ بعد بعدِ دعوائے دخول کے بعد ہوا۔ سمجھ میں آئی بات؟ اس لیے کہ اگر تو پھر یہ بھی است تو ورنہ استعارہ نہ ہوتا اگر لفظ کیا کیا جاتا؟ بات مشکل ہے ذرا بھئی، اس کو کیسے آسان بنائیں؟ مشکل ہے؟ آسان ہے؟ سمجھ میں آ رہی ہے بات کہ نہیں آ رہی؟ مشکل ہے؟ نہیں۔ بھئی دیکھو ہم نے رجلِ شجاع پر کس کا اطلاق کیا؟ اسد کا، ہم نے رجلِ شجاع پر کس کا اطلاق کیا؟ اسد کا۔ اس اسد کا اطلاق دو طرح سے ہو سکتا ہے: یا تو ہمارا دعویٰ ہوگا کہ اس کے افراد میں سے ہے یا اس کے افراد میں سے نہیں ہے۔ تو یہ کہتے ہیں یہ جو اطلاق ہوتا ہے یہ اس میں دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ اس کے افراد میں سے ہے۔ اگر یہ دعویٰ نہ ہو، اگر یہ دعویٰ نہ ہو تو اعلامِ منقولہ کو بھی کیا کہا جاتا؟ استعارہ، کیونکہ اس کے اندر بھی ایک شخص پر آپ نے اسد کا اطلاق کیا ہے لیکن وہاں دعویٰ نہیں ہے، اور دعوے کے بغیر بھی اطلاق کیا کہلاتا ہے؟ آپ کے کہنے کے مطابق کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ، تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ استعارہ، اور حالانکہ اس کو تو کوئی استعارہ نہیں کہتا۔ تو معلوم ہوا کہ بغیر دعوائے دخول کے اطلاق نہیں، بلکہ کس کے ساتھ اطلاق ہوتا ہے؟ دعوائے دخول کے بعد اطلاق ہو تو پھر کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلاتا ہے۔ ایک یہ لازم آیا مولانا، اور لازم باطل تو یہ ملزوم بھی باطل۔ دوسری بات یہ لازم آتی اگر بغیر دعوائے دخول کے ہوتا: لَمَا كَانَتِ الِاسْتِعَارَةُ أَبْلَغَ مِنَ الْحَقِيقَةِ، استعارہ حقیقت سے ابلغ نہ ہوتا، إِذْ لَا مُبَالَغَةَ، جی۔ بھئی یہ کہتے ہیں: الِاسْتِعَارَةُ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ، استعارہ کیا ہے؟ حقیقت سے ابلغ ہے، زیادہ بلیغ ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ آپ جب کہتے ہیں آپ نے کہا: رَأَيْتُ رَجُلًا شُجَاعًا يَرْمِي، میں نے ایک بہادر شخص کو دیکھا جو کیا کر رہا تھا؟ تیر چلا رہا تھا۔ اور یہ رجلِ شجاع یہ حقیقت ہے کیونکہ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ اور ایک یہی کلام میں استعارہ کے طرز پر کرتا ہوں، میں کہتا ہوں: رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، رَأَيْتُ أَسَدًا اور یہ کیا ہے؟ استعارہ ہے کیونکہ لفظِ مشبہ مشبہ بہٖ بول کر کیا مراد ہے؟ مشبہ مراد ہے، اور یہ زیادہ بلیغ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ رجلِ شجاع وہ معنی تھا اور اگر لاتے وہ حقیقت تھے اور یہ مجا یہ مجاز ہے، تو ہم نے گویا کہ یہاں پر رجلِ شجاع کو ملا دیا کس کے ساتھ؟ اسد کے ساتھ ملا دیا، کس کے ساتھ ملا دیا؟ تو بے انتہا بہادری اس کی ظاہر کرنے کے لیے اس فرد اس مشبہ بہٖ کے ساتھ ملایا جو بہادری کے اندر کیا ہے؟ انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ تو اس کی وجہ سے کس کیا آ گئی کلام کے اندر؟ وہ زیادہ کلام بلیغ ہوا کس بنسبت کس کے؟ حقیقت کے۔ بھئی دیکھو دو جملے ہیں: رَأَيْتُ رَجُلًا شُجَاعًا يَرْمِي اور ایک ہے رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، کون سا زیادہ بلیغ ہے؟ يَرْمِي، کیونکہ رجلِ شجاع کا تو وہ حقیقی معنی ہے، بہادر شخص کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اور لیکن جب آپ نے کہا رَأَيْتُ أَسَدًا تو آپ نے کیا کیا؟ رجلِ شجاع اور بول اسد رہے ہیں اور مراد ہے رجلِ شجاع، تو آپ نے رجلِ شجاع کو کس کے ساتھ ملا دیا؟ شیر کے ساتھ ملا دیا جو جرات اور بہادری کے اندر انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے۔ تو کس میں زیادہ مبالغہ آیا؟ صرف رجلِ شجاع میں یا اسد کہنے کے اندر؟ اسد کہنے کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں ورنہ پھر استعارہ زیادہ بلیغ نہ ہوتا حقیقت سے، إِذْ لَا مُبَالَغَةَ اس لیے کہ کوئی مبالغہ نہیں ہے فِي إِطْلَاقِ الِاسْمِ الْمُجَرَّدِ ایسے اسم کے اطلاق کرنے میں جو خالی ہو کس سے؟ دعوے سے کہ یہ اس کے افراد میں سے ہے، عَارِيًا عَنْ مَعْنَاهُ اور خالی ہو اس کے معنیِ حقیقی سے۔ بھئی دیکھو ادھر دیکھو پھر دیکھو، یہ ہے معنیِ حیو حیوانِ مفترس، یہ کون سا معنی ہے؟ معنی موضوع لہ، اور رجلِ شجاع یہ کیا ہے؟ غیر موضوع لہ۔ پہلے گروہ والوں کا دعویٰ ہے صرف لفظِ اسد کو لیا اور اس کا اطلاق کس پر کر دیا؟ رجلِ شجاع پر کیا، اور رجلِ شجاع کے اس کے افراد میں داخل ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں۔ تو یہ کیا ہوا مولانا؟ لفظ استعمال ہوا غیر موضوع لہ میں۔ دوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ صرف لفظ کو نہیں لیا، لفظ کے ساتھ اس کے معنی کو بھی لے لیا اور اب اس کا اطلاق ہوا کس پر؟ رجلِ اور ہم نے دعویٰ کیا تھا گویا پہلے دعویٰ کیا کہ یہ رجلِ شجاع بھی کس کے افراد میں سے ہے؟ اسد کے افراد میں سے، اور اب اس پر اطلاق کیا کیا؟ اسد کا اطلاق کیا مولانا۔ اسد کا تو دیکھیے پہلے دعوے پہلے قول والوں کے نزدیک صرف لفظ کا اطلاق ہوا ہے معنی کو نہیں چھیڑا گیا، اور دوسرے لفظ دوسرے قول والوں کے نزدیک اس لفظ کو معنی سمیت اس کا اطلاق کیا گیا، کس پر کیا گیا؟ رجلِ شجاع پر بھئی، رجلِ شجاع پر کیا گیا۔ تو یہاں اسی طرح مولانا استعارہ کے اندر بھی کیا ہے؟ کہتے ہیں: الِاسْتِعَارَةُ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ، استعارہ کیا ہے؟ حقیقت سے زیادہ بلیغ ہے۔ تو اگر صرف لفظِ اسد کو لیں مولانا اور اسد دیکھو ایک شخص کا ایک بیٹا ہے اس نے اس بیٹے کا نام اسد رکھا، یہاں لفظِ اسد کا اطلاق ہوا ہے کس پر؟ ایک شخص پر، لیکن کیا وہ حیوانِ مفترس والے معنی ساتھ اس کو بھی ملحوظ رکھا گیا یا اس کو ملحوظ نہیں رکھا گیا بھئی؟ اس کو ملحوظ نہیں رکھا گیا، تو اطلاق ہوا بغیر دعوے کے۔ اور ایک ہے کہ دعوے کے ساتھ رجلِ شجاع پر جب ہم اطلاق کرتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ دعوے کے ساتھ اطلاق کرتے ہیں۔ تو خالی اسد کا لفظ بولا جائے، کسی کا نام رکھ دیا جائے تو اس کے اندر کوئی مبالغہ ہے؟ ایک بچہ ہے اس کا نام کیا رکھ دیا؟ اس میں کوئی مبالغہ ہے؟ نہیں، مبالغہ نہیں، تو معلوم ہوا کہ حقیقت کے اندر مبالغہ نہیں بلکہ کس کے اندر مبالغہ ہے؟ استعارے میں، اور استعارے کے اندر کیا ہوتا ہے؟ دعویٰ ہوتا ہے کہ مشبہ داخل ہے کس کے اندر؟ مشبہ بہٖ کے اندر۔ تو اگر ہم کہتے کہ بغیر دعوے کے اطلاق ہوا تو استعارہ حقیقت سے زیادہ بلیغ نہ ہوتا بھئی، کیونکہ یہ تو عام اطلاق ہو جاتا اسم کا جو دعوے سے بھی خالی ہے اور معنی حقیقی سے بھی۔ وَلَمَا صَحَّ، یہ تیسرا لازم مولانا، اگر بغیر دعوے کے اطلاق ہوتا تو یہ بات صحیح نہ ہوتی: أَنْ يُقَالَ، یوں کہا جائے لِمَنْ قَالَ: رَأَيْتُ أَسَدًا، بھئی آپ نے ایک آدمی کو دیکھا، بہادر آدمی آ رہا ہے تو آپ نے کہا: رَأَيْتُ أَسَدًا، میں نے کس کو دیکھا؟ شیر کو دیکھا۔ آپ کے ساتھی نے کہا: بھئی اس نے تو زید کو شیر بنا دیا۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے بھئی؟ زید آ رہا تھا آپ نے کیا کہا؟ رَأَيْتُ أَسَدًا، میں نے ایک شیر دیکھا، یا الْأَسَدُ يَجِيءُ، شیر کیا ہے؟ آ رہا ہے۔ آپ کے ساتھی کیا کہتے ہیں؟ اس نے زید کو کیا بنا دیا؟ شیر بنا دیا۔ اور یہ اسی صورت میں کہا جا سکتا ہے کہ جبکہ آپ نے شیر کا اطلاق شیر کا جو لفظ زید پہ بولا تو شیر کے لفظ کے ساتھ اس کے معنی بھی ساتھ لے کر ائے۔ شیر کے لفظ کے ساتھ اس کے؟ صرف لفظِ اسد کا محض اطلاق نہیں ہوا بلکہ لفظِ اسد کے معنی سمیت کیا ہوا ہے؟ اطلاق۔ اگر محض اسد کا لفظ کا اطلاق ہوتا پھر تو وہ ایک بچے کا نام بچے پر بھی آپ نے کیا اطلاق کیا تھا؟ اسد کا لفظ، وہاں معنی کی رعایت تھی؟ نہیں، اور یہاں پر جو آپ نے کہا میں نے شیر کو دیکھا آتے ہوئے تو یہاں پر آپ نے کس کی رعایت رکھی؟ معنی کی بھی رعایت رکھی، اگر معنی کی رعایت نہ رکھی ہو تو پھر یہ کہنا کہ اس نے زید کو شیر بنا دیا یہ کہنا صحیح بچے کا نام باپ نے اسد رکھا تو کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ باپ نے بچے کو شیر بنا دیا؟ کوئی کہتا ہے بھئی؟ نہیں، یوں کوئی بھی نہیں کہے گا۔ ہاں جب اس کا اطلاق ایک شخص پر ہو آپ نے کہا: رَأَيْتُ أَسَدًا، اور اس اسد کے اندر آپ نے کس کی رعایت رکھی؟ اسد کے اپنے معنی کی بھی رعایت رکھی، تو پھر کہتے ہیں کہ اس نے اس کو شیر بنا دیا بھئی۔ وَلَمَا صَحَّ أَنْ يُقَالَ لِمَنْ قَالَ: رَأَيْتُ أَسَدًا وَأَرَادَ زَيْدًا، اور یہ بات بھی ورنہ صحیح نہ ہوتی کہ کہا جاتا اس شخص سے جس نے یہ کہا تھا رَأَيْتُ أَسَدًا اور ارادہ کیا تھا زید کا، تو اس کو یہ نہ کہا جاتا: إِنَّهُ جَعَلَهُ أَسَدًا، کہ اس نے اس کو کیا بنا دیا ہے؟ شیر بنا دیا ہے، كَمَا لَا يُقَالُ لِمَنْ سَمَّى وَلَدَهُ أَسَدًا، جیسے کہ نہیں کہا جاتا اس شخص سے جس نے نام رکھا اپنے بچے کا اسد نام رکھا، اسے یہ کوئی نہیں کہتا کہ اس نے اپنے بچے کو کیا بنا دیا ہے؟ شیر بنا دیا ہے۔ یہ کہ نہیں کہا جاتا کہ إِنَّهُ جَعَلَهُ أَسَدًا کہ اس نے اس کو شیر بنا دیا ہے۔ لِأَنَّ جَعَلَ إِذَا كَانَ مُتَعَدِّيًا إِلَى مَفْعُولَيْنِ كَانَ بِمَعْنَى صَيَّرَ، اس لیے کہ جَعَلَ جب متعدی ہو کس کی طرف؟ دو مفعولوں کی طرف، جیسے اوپر والے جملوں میں تھا جَعَلَهُ أَسَدًا میں، كَانَ بِمَعْنَى صَيَّرَ، تو یہ کس کے معنی میں ہے؟ صَيَّرَ کے معنی میں، اور صَيَّرَ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ حالت کا بدلنا، حالت کا بدلنا۔ تو دیکھو اس نے بھی اس چیز کی حالت بدل دی اور دوسری چیز میں اس کو داخل کیا۔ وَيُفِيدُ، اور یہ فائدہ دیتا ہے جَعَلَ: إِثْبَاتَ صِفَةٍ لِشَيْءٍ، کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ایک شئے کی صفت کو ایک چیز کے لیے صفت کا اثبات کرتا ہے۔ حَتَّى لَا يُقَالَ: جَعَلَهُ أَمِيرًا، یہاں تک کہ نہیں کہا جاتا: جَعَلَهُ أَمِيرًا، فلاں کو امیر بنا دیا، اس وقت تک نہیں کہا جاتا إِلَّا وَقَدْ أَثْبَتَ فِيهِ صِفَةَ الْإِمَارَةِ، مگر یہ کہ اس کے اندر ثابت کر دے کس چیز کو؟ امارت کی صفت کو بھی اس میں ثابت کر دے، پھر کہا جاتا ہے: جَعَلَهُ أَمِيرًا بھئی، ویسے یہ جملہ نہیں بولا جاتا بھئی۔ وَإِذَا كَانَ نَقْلُ اسْمِ الْمُشَبَّهِ بِهِ إِلَى الْمُشَبَّهِ تَابِعًا لِنَقْلِ مَعْنَاهُ إِلَيْهِ، اور یہاں سے پھر وہ بات کر رہے ہیں بھئی، وہ تین دلیل ختم ہوئی، تین دلیلیں ذکر کر دی مولانا اس پر کہ دیکھیے، ادھر دیکھو بھئی، یہ ہے حیوانِ مفترس، اس کے لفظ کیا وضع ہے؟ اسد، اس اسد کا اطلاق ہم نے کس پر کیا؟ رجلِ شجاع پر۔ تو یہ جو دعویٰ جن کی بات چل رہی ہے ان قائلین کے مطابق صرف لفظِ اسد لے کر اس کا اطلاق کیا ہے یا اس کے معنی کے بھی ساتھ؟ معنی بھی ساتھ ہے مولانا۔ جی؟ معنی بھی ساتھ ہے بھئی، تبھی تو وہ داخل ہوگا اسد کے افراد میں۔ وَإِذَا كَانَ نَقْلُ اسْمِ الْمُشَبَّهِ بِهِ إِلَى الْمُشَبَّهِ تَابِعًا لِنَقْلِ مَعْنَاهُ إِلَيْهِ، اور جب یہ نقل ہے جب اس مشبہ بہٖ کے اسم کو نقل کرنا کس کی طرف؟ مشبہ کی طرف نقل کرنا یہ تابع ہے کس کے؟ کہ اس کے معنی کو بھی نقل کیا جائے مشبہ کی طرف، بِمَعْنَى بایں معنی أَنَّهُ أَثْبَتَ لَهُ مَعْنَى الْأَسَدِ الْحَقِيقِيِّ، کہ اس نے اس کے لیے اسد حقیقی معنی اسدِ حقیقی کے معنی کو ثابت کیا ادعاءً، دعویٰ کرتے ہوئے، ثُمَّ أَطْلَقَ عَلَيْهِ اسْمَ الْأَسَدِ، پھر اطلاق کیا اس پر اسد اس پر اسد کے نام کا، كَانَ الْأَسَدُ مُسْتَعْمَلًا فِيمَا وُضِعَ لَهُ، تو اسد کا لفظ استعمال ہوا کس کے اندر؟ فَلَا يَكُونُ مَجَازًا لُغَوِيًّا بَلْ عَقْلِيًّا، تو یہ مجازِ لغوی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ عقلی ہے، بِمَعْنَى أَنَّ الْعَقْلَ جَعَلَ الرَّجُلَ الشُّجَاعَ مِنْ جِنْسِ الْأَسَدِ، بایں معنی کہ عقل نے رجلِ شجاع کو کس کی جنس میں سے بنایا؟ اسد کی جنس میں سے بنایا، وَجَعْلُ مَا لَيْسَ فِي الْوَاقِعِ وَاقِعًا مَجَازٌ عَقْلِيٌّ، اور بنانا ما اس چیز کو لَيْسَ فِي الْوَاقِعِ جو واقع میں اس کو کیا بنانا؟ وَاقِعًا، اس کو واقع بنانا مَجَازٌ عَقْلِيٌّ، یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ تو دیکھو رجلِ شجاع واقع میں اسد کے افراد میں سے نہیں، لیکن آپ کی عقل عقل نے کیا کیا اس کو؟ اسد کے افراد میں سے بنا دیا تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وَلِهَذَا، جی اسی وجہ سے، یہ مولانا تین دلیلیں اوپر ذکر ہوئیں بھئی، نقیض کے ساتھ تین چیزیں لازم تھیں مولانا ان تینوں کے اور وہ تینوں باطل، تو معلوم ہوا ہمارے اس دعویٰ کی نقیض بھی باطل، اور جب دعویٰ کی نقیض باطل ہوئی تو ہمارا دعویٰ ثابت ہوا۔ یہ یوں سمجھ لیں اب آسان لفظوں میں چوتھی دلیل ہے، یہ کیا ہے؟ چوتھی دلیل ہے۔ تو یہ بھی بطورِ دلیل کے اشعار ذکر ہو رہے ہیں: وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے، لِأَنَّ إِطْلَاقَ اسْمِ الْمُشَبَّهِ بِهِ عَلَى الْمُشَبَّهِ إِنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ ادِّعَاءِ دُخُولِهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، کہ یہ جو مشبہ بہٖ پر مشبہ کا مشبہ بہٖ کا اسم کا اطلاق ہوتا ہے مشبہ پر، یہ کب ہوتا ہے؟ کہ پہلے کہ دعویٰ بعد دعویٰ کرنے کے کہ مشبہ داخل ہے مشبہ بہٖ کی جنس میں، صَحَّ التَّعَجُّبُ، صحیح ہے یہ تعجب کرنا فِي قَوْلِهِ اس شعر کے اندر: قَامَتْ تُظَلِّلُنِي مِنَ الشَّمْسِ نَفْسٌ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْ نَفْسِي قَامَتْ تُظَلِّلُنِي وَمِنْ عَجَبٍ شَمْسٌ تُظَلِّلُنِي مِنَ الشَّمْسِ شاعر کہتا ہے کہ ایک دن میں دھوپ میں بیٹھا تھا، میرا غلام پاس کھڑا تھا، بڑا حسین و جمیل غلام تھا، اس نے دیکھا کہ مجھ پر دھوپ پڑ رہی ہے تو اس کو گوارا نہ ہوا، وہ کھڑا ہو گیا اور مجھ پر اپنا سایہ کر دیا بھئی۔ مجھ پر سایہ کر دیا، تو کہتے ہیں ایک ذات کھڑی ہوئی جو مجھ پر سایہ کر رہی تھی سورج سے، ایسی ذات جو مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ عزیز تھی، قَامَتْ تُظَلِّلُنِي وہ ذات کھڑی ہوئی مجھ پر سایہ کر رہی تھی، اور بڑی عجیب بات ہے کہ سورج مجھ پر سورج سے سایہ کر رہا تھا، کہ وہ غلام بھی کس کی مانند ہے؟ سورج، وہ غلام بھی سورج ہے اور وہ ایک سورج مجھ پر سایہ کر رہا تھا کس سے؟ سورج سے سایہ کر رہا تھا۔ تو دیکھو یہاں سورج سایہ کر رہا تھا، اس شمس سے کون مراد ہے؟ غلام مراد ہے، تو اگر غلام شمس بول کر غلام مراد لیا جائے تو تو یہاں شاعر نے غلام کو کس میں داخل کر دیا؟ شمس کے غلام پر شمس کا اطلاق کیا، غلام پر شمس کا لیکن یہ اطلاق تب ہوا کہ پہلے غلام کو دعویٰ کر دیا کہ غلام کس کے افراد میں سے ہے؟ سورج کے افراد میں سے ہے، پھر اس کے بعد شمس کا لفظ اس پر بولا، اسی وجہ سے یہ تعجب کرنا صحیح شاعر کا کہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ سورج مجھ پر سورج سے سایہ کر رہا ہے۔ اگر یہ دعویٰ نہ ہوتا کہ غلام سورج کے افراد میں سے نہیں، تو پھر تعجب کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ شمس بول کر کیا مراد ہے؟ غلام، اور غلام کسی پر سایہ کرے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، اور حالانکہ یہاں پر وہ کیا کر رہا ہے؟ غلام کو سورج کے افراد میں سے بنایا اور سورج کا سایہ کرنا جیسے حیرت کی بات ہے تو یہی حکم کس کے لیے ثابت کر دیا؟ غلام کے لیے بھی ثابت، کیونکہ سورج تو سایہ نہیں کرتا بلکہ تو وہ تو سائے کی ضد ہے، سائے کو ختم کرتا ہے بھئی۔ صَحَّ التَّعَجُّبُ، صحیح ہے تعجب اس قول کے اندر: قَامَتْ تُظَلِّلُنِي، جی قَامَتْ کا فاعل آگے نَفْسٌ آ رہا ہے مولانا، یہ مونثِ سماعی ہے اس لیے قَامَتْ کہا، کھڑی ہوئی ایک ذات تُظَلِّلُنِي جو کیا کر رہی تھی مجھ پر؟ أَيْ تُوقِعُ الظِّلَّ عَلَيَّ، واقع کر رہی تھی سائے کو مجھ پر، مِنَ الشَّمْسِ، کس سے؟ سورج سے۔ تو کھڑی ہوئی ایک ذات مولانا اس حال میں کہ وہ سایہ کر رہی تھی مجھ پر سورج سے، نَفْسٌ أَعَزُّ ایسی ذات أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْ نَفْسِي جو مجھے زیادہ عزیز ہے کس سے؟ اپنے نفس سے، قَامَتْ تُظَلِّلُنِي، کھڑی ہوئی ایسی ذات اس حال میں کہ وہ مجھ پر سایہ کر رہی تھی، وَمِنْ عَجَبٍ اور عجیب بات ہے، شَمْسٌ تُظَلِّلُنِي مِنَ الشَّمْسِ کہ ایک سورج جو ہے وہ مجھ پر سایہ کر رہا تھا کس سے؟ شَمْسٌ أَيْ غُلَامٌ كَالشَّمْسِ فِي الْحُسْنِ وَالْبَهَاءِ، یعنی ایک غلام جو کہ سورج کی طرح تھا حسن و جمال کے اندر وہ سایہ کر رہا تھا مجھ پر سورج سے، فَلَوْلَا أَنَّهُ ادَّعَى لِذَلِكَ الْغُلَامِ مَعْنَى الشَّمْسِ الْحَقِيقِيِّ وَجَعَلَهُ شَمْسًا عَلَى الْحَقِيقَةِ، اگر نہ ہوتا یہ دعویٰ اس غلام کے اگر اگر دعویٰ نہ کیا جاتا اس غلام کے لیے شمس معنیِ شمسِ حقیقی کا، اور نہ بنایا جاتا اس کو شمس حقیقتاً مولانا، لَمَا كَانَ لِهَذَا التَّعَجُّبِ مَعْنًى، تو اس تعجب کا کوئی معنی نہ تھا، إِذْ لَا تَعَجُّبَ اس لیے کہ اس میں کوئی تعجب نہیں ہے فِي أَنْ يُظَلِّلَ إِنْسَانٌ حَسَنُ الْوَجْهِ إِنْسَانًا آخَرَ، کہ سایہ کرے ایک ایسا انسان جو اچھے حسین چہرے والا ہو دوسرے انسان پر۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس شعر میں یہ تعجب اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ غلام کے لیے دعویٰ کیا جائے کہ وہ شمس کے افراد میں سے ہے۔ اسی طرح مولانا وَالنَّهْيُ عَنْهُ، أَيْ وَلِهَذَا صَحَّ النَّهْيُ عَنِ التَّعَجُّبِ، عطف بتلایا، نہی کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ تعجب پر، اور مولانا نَهْيُ عَنْهُ، ہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ تعجب کو راجع ہے، وَلِهَذَا صَحَّ اسی وجہ سے نہی عن التعجب بھی صحیح ہے اس شعر کے اندر، فِي قَوْلِهِ: لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَتِهِ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى الْقَمَرِ تم تعجب نہ کرو، جی تم تعجب نہ کرو۔ شاعر کا کوئی غلام ہے مولانا، وہ اس غلام نے بنیان پہنی ہوئی ہے اور وہ بنیان بڑی بوسیدہ ہے بھئی، تو شاعر کہتا ہے بھئی اور وہ قطان کپڑے کی ہے، کس کی ہے؟ قطان کپڑا، اور قطان کپڑے کی خاصیت ہے کہ اس پر چاند کی روشنی پڑے تو یہ بڑی جلدی کیا ہوتا ہے؟ بوسیدہ ہو جاتا ہے اور پرانا گل جاتا ہے، خراب ہو جاتا ہے مولانا۔ تو شاعر کہتا ہے کہ غلام نے کیا ہے؟ پہنی ہوئی ایک بنیان پہنی ہوئی ہے قطان کی اور وہ بڑی بوسیدہ ہے، پرانی ہے، پھٹی ہوئی ہے، تو تم تعجب نہ کرو مِنْ بِلَا غِلَالَتِهِ اس کی بنیان کے بوسیدہ ہونے سے، قَدْ زُرَّ تحقیق اس نے بند کیے گئے ہیں أَزْرَارُهُ اس کے بٹن عَلَى الْقَمَرِ کس پر؟ چاند پر۔ بھئی یہ غلام خود چاند کی روشنی جب پڑتی ہے قطان کپڑے پر تو وہ کیا ہو جاتا ہے؟ گل جاتا ہے اور بوسیدہ ہو جاتا ہے، تو یہ غلام بھی کس کی مانند ہے؟ چاند کی طرح، یہ بھی چاند ہے مولانا، اور جب چاند کے ساتھ یہ کپڑا لگا ہوا ہے تو یہ کیا ہوگا؟ یقیناً بوسیدہ ہوگا، گل جائے گا اور خراب ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو چاند کی وجہ سے قطان کا بوسیدہ ہونا باعثِ تعجب نہیں۔ چاند کی وجہ سے قطان کا بوسیدہ ہونا باعثِ تعجب نہیں، تو شاعر نے بھی اپنے غلام کے لیے دعویٰ کر دیا کہ یہ بھی کس کی جنس میں سے ہے؟ چاند کی جنس میں سے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور پھر اس پر لفظ اطلاق کس کا اطلاق کر دیا؟ اس پر چاند کا اطلاق کر دیا بھئی، قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى الْقَمَرِ، اس کے بٹن باندھے گئے ہیں کس پر؟ چاند پر، یعنی وہ خود چاند ہے مولانا۔ تو اس پر پہلے اس کے لیے پہلے دعویٰ کیا کہ یہ چاند کے افراد میں سے ہے اور پھر اس پر قمر کا لفظ بولا، تو دعویٰ کے بعد لفظ کا اطلاق کیا گیا، اور منع کیا کس چیز سے؟ کہ تعجب نہ کرو۔ تو وہ حکم جو چاند کے لیے ثابت تھا اب اس کے لیے ثابت کر دیا کہ چاند کی وجہ سے قطان کا بوسیدہ ہونا باعثِ تعجب نہیں تو اس غلام کے بھی بنیان کا بوسیدہ ہونا باعثِ تعجب نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہ تعجب سے منع کرنا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب دعویٰ کیا جائے غلام بھی کس کے افراد میں سے ہے؟ چاند کے افراد میں سے ہے، ورنہ تعجب سے منع کرنے کا کوئی معنی بنتا نہیں ہے۔ لَا تَعْجَبُوا، تم لوگ تعجب نہ کرو، مِنْ بِلَا، بِلَا مولانا بوسیدہ ہونا۔ غِلَالَةٌ، غلالہ کہتے ہیں بنیان کو بھئی، تم تعجب نہ کرو اس کی بنیان کے بوسیدہ ہونے سے، هِيَ شِعَارٌ، یہ شعار ہے، اسی کا غلالہ کا نام کیا ہے؟ اس کو شعار بھی کہتے ہیں۔ شعار کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ کہتے ہیں یہ بدن کے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے تو یہ بالوں کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے، بدن کے شَعْرٌ کے ساتھ ملی ہوئی ہے تو اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ شعار۔ اس لیے کہ یہ شعار ہے: تُلْبَسُ تَحْتَ الثَّوْبِ، اس کو پہنا جاتا ہے کپڑے کے نیچے، وَتَحْتَ الدِّرْعِ أَيْضًا، اور زرہ کے نیچے بھی پہنا جاتا ہے بھئی، وہ جو جنگوں میں زرہ پہنی جاتی ہے اس کے نیچے بھی پہنا جاتا ہے اس کو۔ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى الْقَمَرِ، تحقیق زُرَّ کا معنی مجہول کا صیغہ ہے، بند کرنا بھئی، زَرَّ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بند کرنا، بٹن بند کرنا۔ قَدْ زُرَّ تحقیق بند کیے گئے ہیں أَزْرَارُهُ، اَزْرَارْ جمع ہے زِرٌّ کی، یہ بٹن کو کہتے ہیں۔ اس کے بٹن بند کیے گئے ہیں عَلَى الْقَمَرِ، کس پر؟ چاند پر۔ تَقُولُ آپ کہتے ہیں: زَرَرْتُ الْقَمِيصَ عَلَيْهِ أَزُرُّهُ، کہ میں نے اس پر کیا کیا؟ قمیص کے بٹن بند کیے، إِذَا شَدَدْتَ أَزْرَارَهُ عَلَيْهِ، کب آپ کہتے ہیں؟ جب آپ باندھ دیں اس کے بٹنوں کو اس پر۔ فَلَوْلَا أَنَّهُ جَعَلَهُ قَمَرًا حَقِيقِيًّا، اس لیے کہ اگر شاعر نے اس کو قمرِ حقیقی نہ بنایا ہوتا، لَمَا كَانَ لِلنَّهْيِ عَنِ التَّعَجُّبِ مَعْنًى، تو تعجب سے منع کرنے کا کوئی معنی بنتا نہیں۔ لِأَنَّ الْكَتَّانَ، اس لیے کہ قطان سوتی کپڑا جو ہے، إِنَّمَا يُسْرِعُ إِلَيْهِ الْبِلَى، اس کی طرف لپکتی ہے بوسیدگی، بِسَبَبِ مُلَابَسَةِ الْقَمَرِ الْحَقِيقِيِّ، بسب ملنے کس کے ساتھ؟ قمرِ حقیقی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے بوسیدگی لپکتی ہے اور سبقت کرتی ہے، لَا بِمُلَابَسَةِ إِنْسَانٍ كَالْقَمَرِ فِي الْحُسْنِ، نہ کہ ایسے انسان کے ساتھ ملنے کی وجہ سے جو چاند کی طرح ہو کس کے کس میں؟ حسن میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ متکلم کا دعویٰ کیا؟ کہ یہ جو استعارہ کے اندر جس معنیِ ثانی پر اطلاق ہوتا ہے لفظ کا، پہلے اس معنیِ ثانی کے لیے دعویٰ کیا جاتا ہے یہ کس کے افراد میں سے ہے؟ معنیِ اول کے افراد میں سے ہے، اس کے بعد اطلاق کیا جاتا ہے۔ لَا يُقَالُ، یہ کسی نے اعتراض کیا بھئی، کوئی یہ اعتراض نہ کرے علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ اس شعر میں استعارہ ہے ہی نہیں، بٹن باندھے گئے ہیں عَلَى الْقَمَرِ کس پر؟ چاند پر، اور چاند بول کر کیا مراد ہے؟ وہ غلام مراد ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ تو استعارہ نہیں اس لیے استعارہ اس کو کہتے ہیں کہ مشبہ یا مشبہ بہٖ میں سے ایک چیز ذکر ہو اور یہاں مشبہ بھی ذکر اور مشبہ بہٖ بھی ذکر۔ مشبہ بہٖ کون؟ کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ چاند، تو مشبہ قمر بھی ذکر، اور مشبہ کون؟ غلام، اور غلام کا ذکر بھی ہے: غِلَالَتِهِ کی ضمیر بھی اس کو راجع، أَزْرَارُهُ کی ضمیر بھی اسی کو راجع، اور تو مشبہ بھی ذکر، مشبہ بہٖ بھی ذکر تو یہ استعارہ نہیں کیونکہ استعارہ میں ہم نے پڑھا تھا یا صرف مشبہ ہوگا یا صرف مشبہ بہٖ۔ کہتے ہیں یہ نہ کہا جائے: الْقَمَرُ فِي الْبَيْتِ لَيْسَ بِاسْتِعَارَةٍ، کہ قمر کا لفظ شعر کے اندر استعارہ نہیں ہے، کیوں؟ لِأَنَّ الْمُشَبَّهَ مَذْكُورٌ، کیونکہ مشبہ بھی مذکور ہے، وَهُوَ الضَّمِيرُ فِي غِلَالَتِهِ وَأَزْرَارِهِ، اور وہ ضمیر ہے غلالتہٖ کے اندر اور ازرارہٖ کے اندر۔ لِأَنَّا نَقُولُ، یہ اعتراض کیوں نہ کیا جائے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ہم یہ کہتے ہیں: لَا نُسَلِّمُ، ہمیں یہ تسلیم نہیں، أَنَّ الذِّكْرَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ يُنَافِي الِاسْتِعَارَةَ، کہ مشبہ کا ذکر کرنا اس طریقے پر جیسے کہ شعر میں ہے، یہ استعارہ کے منافی ہے۔ بھئی یہاں ٹھیک ہے مشبہ کا ذکر بھی ہے اور مشبہ بہٖ کا بھی، لیکن مشبہ کا ذکر اس طریقے پر نہیں ہے کہ جس سے تشبیہ کی طرف اشارہ ہو۔ جس سے کس کی طرف اشارہ ہو؟ بھئی زَيْدٌ أَسَدٌ، ٹھیک ہے زید مشبہ اور اسدٌ مشبہ بہٖ، لیکن یہاں پر کاف حرفِ تشبیہ لے آؤ تو کیا بن جائے گی؟ تشبیہ: زَيْدٌ كَالْأَسَدِ۔ لیکن اس شعر کے اندر آپ اداتِ تشبیہ کو لا کر کسی صورت میں بھی تشبیہ بنا نہیں سکتے: قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى كَالْقَمَرِ، نہیں بھئی یہ بنتا ہی نہیں ہے، تشبیہ نہیں بن سکتی یہاں۔ ایسے طریقے پر ذکر ہو، صرف ذکر نہیں ہونا چاہیے، ایسے طریقے پر مشبہ ذکر ہو جو اشارہ کر رہا ہو کس کی طرف؟ تشبیہ کی طرف، پھر وہ تشبیہ ہوتا ہے اور استعارہ نہیں بھئی۔ كَمَا فِي قَوْلِنَا، جیسے ہمارے اس قول میں ہے مولانا: سَيْفُ زَيْدٍ فِي يَدِ أَسَدٍ، زید کی تلوار کس کے ہاتھ میں ہے؟ شیر کے ہاتھ میں ہے، فَإِنَّ تَعْرِيفَ الِاسْتِعَارَةِ صَادِقٌ عَلَى ذَلِكَ، اس لیے کہ استعارہ کی تعریف کیا ہے؟ اس پر صادق آ رہی ہے بھئی، اس پر صادق۔ دیکھو سَيْفُ زَيْدٍ، زید کی تلوار کس کے ہاتھ میں ہے؟ شیر کے ہاتھ میں، تو یہاں مشبہ زید بھی ذکر ہے اور یہ اسد مشبہ بہٖ بھی ذکر ہے، لیکن اس کے باوجود یہ استعارہ ہے اس لیے کہ یہاں دونوں ذکر تو ہیں لیکن تشبیہ کے طریقے پر ذکر نہیں ہیں، یہاں تشبیہ اپ نہیں بنا سکتے، آپ بنائیں کوئی صورت ہے؟ زید شیر جیسا ہے بنانے کی کوشش کریں، نہیں بنتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے جی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ
21 approved lectures · 28 of 21