کل مولانا، ہم نے بحث شروع کی تھی تشبیہ کے بارے میں۔ تشبیہِ لغوی اور تشبیہِ اصطلاحی کی تعریف آپ نے پڑھی، بھئی۔ تشبیہِ لغوی کس کو کہتے ہیں؟ ”الدَّلَالَةُ عَلَى مُشَارَكَةِ أَمْرٍ لِأَمْرٍ آخَرَ فِي مَعْنًى“، دلالت کرنا اس بات پر کہ مشبہ شریک ہے مشبہ بہٖ کے ساتھ کس میں؟ وجہِ شبہ میں۔ اور پھر انہوں نے تشبیہِ اصطلاحی کی تعریف بتائی، صرف تین قیودات کا اضافہ کیا، باقی یہی تعریف: دلالت کرنا اس بات پر کہ شریک ہے مشبہ، مشبہ بہٖ کے ساتھ کس میں؟ وجہِ شبہ میں۔ لیکن ”لَا عَلَى وَجْهِ الِاسْتِعَارَةِ“، نہ تو یہ تشبیہ استعارہ تحقیقیہ کے طریقے پر ہو، استعارہ بالکنایہ کے طریقے پر بھی نہ ہو، اور تجرید کے طریقے پر بھی نہ ہو۔ جی، میں نے آپ کو بتایا تھا سب سے پہلے تو یہ پڑھا آپ نے: ایک ہوتا ہے کنایہ اور ایک ہے مجاز، بھئی۔ مجاز میں کیا ہوتا ہے؟ غیر موضوع لہ میں کلمہ استعمال ہوتا ہے۔ کنایہ میں بھی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، لیکن کنایہ کے اندر موضوع لہ کا ارادہ بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ مجاز میں موضوع لہ کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس کے بعد ایک ہوتی ہے تشبیہ، ایک ہوتا ہے استعارہ… ہاں، پھر مجاز، پھر مجاز کے اندر مولانا، مجاز جو ہے یا تو موضوع لہ اور غیر موضوع لہ کے درمیان علاقہ جو ہے، تعلق جو ہے وہ تشبیہ کا ہوگا یا غیر تشبیہ کا۔ اگر علاقہ غیر تشبیہ کا ہو تو یہ مجازِ مرسل ہے، اور اگر علاقہ تشبیہ کا ہو تو یہ استعارہ ہے۔ تو استعارہ اور تشبیہ میں یہ فرق ہے مولانا، کہ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں مذکور ہوتے ہیں لفظاً یا تقدیراً، جبکہ استعارہ کے اندر یا تو مشبہ مذکور ہوگا مشبہ بہٖ محذوف ہوگا، یا مشبہ بہٖ مذکور ہوگا اور مشبہ کیا ہوگا؟ محذوف ہوگا۔ اگر عبارت کے اندر مشبہ بہٖ مذکور ہے تو اس کو کہتے ہیں استعارہ تحقیقیہ اور استعارہ تصریحیہ۔ اور اگر مشبہ مذکور ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں مولانا۔ تو کہتے ہیں یہ جو تشبیہ ہے، یہ استعارہ تصریحیہ، استعارہ بالکنایہ اور تجرید کے طریقے پر نہ ہو تو یہ تشبیہِ اصطلاحی ہے مولانا۔ اور تجرید بھی نہ ہو، تجرید کس کو کہتے ہیں؟ یہ علمِ بدیع میں آپ پڑھیں گے کہ ایک چیز کو مبالغے کے طور پر ایک وصف میں اتنا کامل بنانا کہ اس میں سے مشبہ بہٖ کا اخراج کرنا، کیا کرنا؟ مشبہ بہٖ کا اخراج کرنا۔ اصل تو مشبہ بہٖ ہی ہوتا ہے، بہادری میں شیر اصل ہے نہ کہ زید، لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ زید کو اصل قرار دیتے ہوئے اس سے کس کو نکالتے ہیں؟ ایک شیر کو نکال کر ثابت کرتے ہیں۔ تو اس کے اندر مبالغہ ہوتا ہے زیادہ مولانا۔ اچھا، پھر انہوں نے بتایا استعارہ تخییلیہ کو نہیں نکالا۔ یاد رکھو مولانا، استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں: لفظ کو غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا کہ موضوع لہ اور موضوع کے درمیان علاقہ تشبیہ کا ہو اور کون عبارت میں ذکر ہو؟ مشبہ عبارت میں ذکر ہو اور مشبہ بہٖ مذکور نہ ہو۔ تو مشبہ بہٖ مذکور تو نہیں ہے، لیکن پھر آپ کو پتہ کیسے چلا، بھئی، تشبیہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی، وہاں استعارہ تخییلیہ ہوگا، یعنی مشبہ بہٖ کے کسی لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ مشبہ کے لیے۔ جیسے ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“، گاڑ دیے موت نے اپنے پنجے بھئی، اپنے ناخن گاڑ دیے۔ تو یہاں پر موت کو تشبیہ دی ہے درندے سے۔ بھئی، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تو موت مشبہ، درندہ کیا؟ مشبہ بہٖ۔ یہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کیا آپ عالم الغیب ہیں کہ آپ کو پتہ چل گیا مصنف نے یا کہنے والے نے اس کو تشبیہ دی ہے؟ تو جواب یہ ہے: قرینہ موجود ہے، موت کے کہہ رہے ہیں ناخن، موت نے کیا گاڑ دیے اپنے ناخن، اور موت کے تو ناخن ہوتے نہیں، ناخن اور پنجے تو کس کے ہوتے ہیں؟ درندے کے ہوتے ہیں۔ تو یہ درندے کے ایک لازم کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، اور یہ جو لازم ہوتا ہے یہ استعارہ تخییلیہ کہلاتا ہے مولانا۔ اس کو نہیں نکالا اس لیے کہ وہ اپنے اصل معنی کے اندر ہے، مصنف کے نزدیک وہاں تشبیہ کا دخل ہی نہیں ہے اس میں۔ تو لہٰذا اس کے اندر مولانا، ”زَيْدٌ أَسَدٌ“ جیسی مثال اور ”صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ“ جو قرآن میں آیا ہے یہ بھی داخل ہو گئے۔ اس لیے کہ یہاں مشبہ بھی مذکور ہے، مشبہ بہٖ بھی مذکور ہے: ”زَيْدٌ أَسَدٌ“۔ یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا تین چار چیزیں یاد رکھو:
”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ“، زید مشبہ، اسد کون؟ مشبہ بہٖ، کاف کیا؟ حرفِ تشبیہ یا اداتِ تشبیہ، اور ”فِي الشَّجَاعَةِ“ وجہِ تشبیہ ہے مولانا۔ تو کبھی کبھار عبارت سے کیا کرتے ہیں؟ حرفِ تشبیہ کو اڑا دیتے ہیں مبالغے کے طور پر۔ پہلے تو آپ نے کہا تھا: ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ“، زید کی تشبیہ دی تھی: زید شیر جیسا ہے، کبھی کیا کرتے ہیں؟ کاف بالکل اڑا دیا، یوں کہا: ”زَيْدٌ أَسَدٌ“۔ تو اس میں مبالغہ ہے، اس کو کہتے ہیں تشبیہِ بلیغ۔ گویا آپ نے یہ نہیں کہا کہ زید شیر جیسا ہے، بلکہ کیا کہا؟ بعینہٖ زید خود ہی کیا ہے؟ شیر ہے مولانا۔ تو اس کو تشبیہِ بلیغ کہتے ہیں مولانا۔ تو یہاں بھی دیکھو مشبہ بھی مذکور، مشبہ بہٖ بھی مذکور، معلوم ہوا یہ استعارہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ تشبیہِ بلیغ ہے مولانا۔ اسی طرح ”صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ“ آیا قرآن میں، اگرچہ وہاں پر صرف مولانا، یہ مشبہ بہٖ مذکور ہے، وہ کفار کس کی طرح ہیں؟ بہروں کی طرح ہیں، گونگوں کی طرح ہیں اور اندھوں کی طرح ہیں۔ تو یہاں، لیکن چونکہ یہ ہے خبر اور اس خبر کے لیے مبتدا ہونا ضروری، اور مبتدا کیا ہے؟ ”هُمْ“۔ ”هُمْ كَصُمٍّ“، اور یہاں اصل میں عبارت: ”هُمْ كَصُمٍّ“، یا یوں کہیں: ”هُمْ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ“، بھئی۔ کیا کیا؟ تشبیہِ بلیغ ہے مولانا، کاف کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا، تو اصل میں تھا: ”هُمْ كَصُمٍّ كَبُكْمٍ كَعُمْيٍ“۔ تو دیکھا یہاں پر ”هُمْ“ مشبہ اور ”صُمٌّ“ مشبہ بہٖ دونوں مذکور ہیں، اور یہ کیا ہوتا ہے؟ استعارہ ہوتا ہے یا تشبیہ؟ تشبیہ ہوتی ہے۔ اور یہاں پر کہتے ہیں: ہم نظر ڈالیں گے اس کے ارکان کے اندر۔ ارکانِ تشبیہ کتنے ہیں مولانا؟ چار۔ اول کیا؟ مشبہ، ثانی؟ مشبہ بہٖ، ثالث؟ اداتِ تشبیہ، رابع؟ وجہِ تشبیہ۔ تو کہتے ہیں: یہاں ہم بحث کریں گے ارکانِ تشبیہ کے بارے میں، ”وَفِي الْغَرَضِ مِنْهُ“ اور تشبیہ کی غرض کے بارے میں کہ تشبیہ کی غرض کیا ہوتی ہے، کیوں تشبیہ دی جاتی ہے ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ، ”وَفِي أَقْسَامِهِ“ اور اس کے اقسام کے بارے میں۔ پھر اس پر اشکال ہوا کہ بھئی، آپ نے ارکان قرار دیے: مشبہ، مشبہ بہٖ، اداتِ تشبیہ اور وجہِ تشبیہ کو آپ نے کیا؟ تشبیہ کے ارکان۔ ارکان تو کہتے ہیں جو اجزاء ہوں اور یہ تو تشبیہ کے اجزاء نہیں، اس لیے کیونکہ تشبیہ نام ہے دلالت کا، اور دلالت ہے فعل، لہٰذا یہ مشبہ، مشبہ بہٖ وغیرہ اس کے اجزاء نہیں۔ تو کہتے ہیں بھئی، ٹھیک ہے، نام تشبیہ تو فعل کا ہے، دلالت کرنا اس بات پر کہ ایک چیز دوسری چیز جیسی ہے، لیکن یہ دلالت موقوف ہے ان چیزوں پر، تو یہ چیزیں ان پر یہ کیا ہوئیں؟ موقوف علیہ ہوئیں، لہٰذا اس وجہ سے ہم نے ان کو کیا قرار دے دیا؟ ارکان اور اجزاء کی طرح قرار دے دیا، بھئی۔ یا دوسرا جواب یہ دیا مولانا، کہ کبھی کبھار ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ“، اس عبارت ہی کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ تشبیہ کہہ دیا جاتا ہے۔ ایک تو وہ معنی کہ دلالت کرنا، وہ تو مصدری معنی ہے۔ اور کبھی کبھار یہ جو جملہ ہے جس میں تشبیہ ہو، اس جملے کو ہی کیا کہہ دیتے ہیں؟ تشبیہ ہے۔ اور اس جملے کے اندر تو مشبہ بھی ایک رکن ہے، مشبہ بہٖ بھی ایک رکن ہے، حرفِ تشبیہ بھی ایک رکن ہے اور وجہِ تشبیہ بھی ایک رکن ہے، تو اس اعتبار سے تو پھر صحیح ہے اس کا اطلاق اس پر، بھئی۔ پھر انہوں نے کہا: سب سے پہلے ہم بحث کریں گے طرفینِ تشبیہ کے بارے میں۔ طرفینِ تشبیہ مولانا: مشبہ اور مشبہ بہٖ۔ یاد رکھو یہ مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں یا حسی ہوں گے، یعنی محسوس بالحواس الخمسۃ الظاہرۃ ہوں گے، یا مولانا یہ کس میں سے ہوں گے؟ عقلی ہوں گے، یعنی مدرک بالحواس الخمسۃ الظاہرۃ نہیں ہوں گے مولانا۔ یا ان میں سے ایک حسی ہوگا اور ایک عقلی ہوگا۔ تو اول چاہے مشبہ حسی ہو، دوسرا عقلی ہو، یا مشبہ عقلی ہو، ثانی کیا ہو؟ حسی ہو۔ تو حِس میں چونکہ حِس کا علم آتا ہے حواسِ خمسہ کے ساتھ، تو حسی کی پانچ قسمیں ہو گئیں مولانا: مبصرات، مشمومات، مذوقات، مسموعات اور ملموسات، بھئی۔ تو ہر ایک کی ایک ایک مثال مصنف نے ذکر کر دی۔ جیسے تشبیہ دینا رخسار کی کس کے ساتھ؟ گلاب کے ساتھ، اور ہلکی آواز کی کس کے ساتھ؟ ہمس۔ ہمس بے انتہا ہلکی آواز، گویا کہ منہ سے ادا ہی نہیں کی، اتنی ہلکی آواز، تو اس کے ساتھ تشبیہ دینا مولانا۔ اسی طرح مولانا، منہ کی بو کو تشبیہ دینا کس کے ساتھ؟ عنبر، محبوب کے منہ کی بو کو تشبیہ دینا کس سے؟ عنبر کے ساتھ، یہ مولانا کس میں سے ہے؟ مشمومات میں سے ہے۔ اسی طرح معشوق کے لعاب کی تشبیہ دینا کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ لذت اور ذائقے اور نشے کے اندر، یہ مولانا مذوقات کے اندر ہے۔ اور نرم اور ملائم جلد کی تشبیہ دینا کس کے ساتھ؟ ریشم کے ساتھ، یہ ملموسات کے اندر ہے، بھئی۔ پھر یہاں علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ یہاں تسامح ہے مولانا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ اس لیے کہ مدرک بالبصر جو ہے مولانا، وہ ”لَوْنُ الْخَدِّ“ اور ”لَوْنُ الْوَرْدِ“ ہے نہ کہ خد اور ورد خود۔ یہ مبنی بر مذہبِ حکماء ہے، حکماء کیا کہتے ہیں کہ یہ جو ہے نا، حواس کے ساتھ کسی چیز کی ذات کا ادراک نہیں ہوتا بلکہ صرف کس کا ادراک ہوتا ہے؟ صفات کا۔ تو آپ تو یہاں کہہ رہے ہیں تشبیہ خد کی ورد کے ساتھ، اور خد کا ادراک بھی حِس کے ساتھ اور گلاب کا ادراک بھی حِس سے، تو حکماء کہتے ہیں: نہیں بھئی، کسی چیز کی ذات کا ادراک حواس سے نہیں ہوتا بلکہ صرف اس کی صفت، اور صفت یہاں پھر کیا آئے گی؟ ”لَوْنُ الْخَدِّ“ اور ”لَوْنُ الْوَرْدِ“، بھئی۔ لیکن کہتے ہیں: یہ مولانا عرف میں جاری ہے، اسی طرح عرف میں کہتے ہیں: ”أَبْصَرْتُ الْوَرْدَ“، یہ کوئی نہیں کہتا: ”أَبْصَرْتُ لَوْنَ الْوَرْدِ“۔ ”شَمَمْتُ الْعَنْبَرَ“ کہتے ہیں، ”شَمَمْتُ رَائِحَةَ الْعَنْبَرِ“ نہیں کہتے۔ ”أَوْ عَقْلِيَّانِ“، یا دونوں عقلی ہوں گے جیسے علم ہے اور حیات۔ ”اَلْعِلْمُ كَالْحَيَاةِ“، علم کس کی طرح ہے؟ حیات، زندگی کی طرح ہے، بھئی۔ اب ان دونوں میں وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ دو قول علامہ تفتازانی نے ذکر کیے، ایک صحیح قرار دیا دوسرے کو کیا کیا؟ رد کیا۔ پہلا قول یہ کہ دونوں میں وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ دونوں ادراک کے طریقے ہیں۔ علم نام ہے ملکہ کا، تو ملکہ ہوگا تو ادراک ہوگا۔ اسی طرح زندگی ہوگی تو ادراک ہوگا، کسی چیز کا پتہ چلے گا مولانا۔ تو علم بھی جہتِ ادراک اور حیات بھی جہتِ ادراک ہے مولانا، تو وجہِ تشبیہ جہتِ ادراک ہے۔ بعضوں نے کہا مولانا، کہ ان میں وجہِ تشبیہ ادراک ہے، کیا ہے؟ ادراک۔ اس لیے کہ علم بھی کیا ہے؟ علم خود ادراک ہے۔ انہوں نے اور تفسیر کی، علم کا کیا معنی لیا؟ ادراک۔ کہتے ہیں: علم ادراک ہے، ادراک بمعنی مدرک کے اور مدرک کے کیا معنی؟ وہ صورت جو ذہن میں کسی چیز کی حاصل ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدرک۔ تو انہوں نے کہا علم چونکہ ادراک ہے یعنی وہ مدرک ہے، ذہن میں جو صورتِ حاصلہ ہوئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ علم۔ اور یہ چونکہ حیات تقاضا کرنے والی ہے ادراک کا۔ علم خود مدرک، علم خود ادراک، اور حیات تقاضا کر رہی ہے کس کا؟ زندگی ہوگی تو ادراک آپ کسی چیز کا کریں گے، زندگی نہیں تو ادراک بھی نہیں۔ تو بھئی، یہ تو کوئی وجہِ تشبیہ نہ ہوئی: ایک چیز خود ادراک ہے اور دوسرا ادراک کا تقاضا کرنے والی ہے۔ تو وجہِ شبہ آئی درمیان میں؟ نہیں۔ یا تو دونوں ادراک ہوتے یا دونوں تقاضا کرنے والے ہوتے پھر تو تشبیہ آ سکتی تھی۔ ایک خود ادراک، ایک ادراک کا تقاضا کر رہا ہے، لہٰذا یہ صحیح نہیں۔ نیز کہتے ہیں: اس کے اندر زیادہ فائدہ بھی نہیں ہے اس لیے کہ یہ تو اسی طرح ہوا: ”اَلْعِلْمُ كَالْحِسِّ“۔ علم حِس جیسا ہے، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ علم میں بھی ادراک ہوتا ہے، اور اسی طرح زندگی ہوگی تو کیا ہوں گے؟ حواس ہوں گے، حواس ہوں گے تو آپ کو احساس ہوگا، اور احساس بھی نام کس کا ہے؟ ادراک کا۔ تو علم احساس کی طرح ہے، علم جیسے ادراک ہے اسی طرح احساس بھی کیا ہے؟ ادراک ہے۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ تو کوئی فائدہ نہ ہوا، آپ کہہ رہے ہیں علم بھی ادراک ہے اور علم کس کی طرح ہے؟ احساس کی طرح۔ بھئی، یہاں ہم بیان کر رہے ہیں علم کی فضیلت، اور علم کی فضیلت اس صورت میں حاصل نہیں ہوتی اس لیے کہ احساس تو جانوروں کو بھی ہوتا ہے بھئی، وہ بھی کیا کرتے ہیں؟ چیزوں کو محسوس کرتے ہیں۔ تو یہاں کوئی فائدہ ہمیں حاصل نہیں ہوا، معلوم ہوا یہ قول درست نہیں کہ وجہِ تشبیہ صرف ادراک کو قرار دیا جائے، بھئی۔ جی، ”أَوْ مُخْتَلِفَانِ بِأَنْ يَكُونَ الْمُشَبَّهُ عَقْلِيًّا وَالْمُشَبَّهُ بِهِ حِسِّيًّا“۔ ”أَوْ مُخْتَلِفَانِ“ ہونا چاہیے بھئی، ”أَوْ“ یہ واؤ نہیں بھئی، کیوں؟ آیا تھا: ”إِمَّا حِسِّيَّانِ أَوْ عَقْلِيَّانِ أَوْ مُخْتَلِفَانِ“، مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں کیا ہیں؟ یا دونوں حسی ہوں گے یا دونوں عقلی ہوں گے، یا ایک حسی ہوگا اور ایک عقلی ہوگا، بھئی۔ ”أَوْ مُخْتَلِفَانِ“، یا دونوں مختلف ہوں گے مولانا: مشبہ حسی ہوگا اور مشبہ بہٖ عقلی، یا اس کا عکس ہوگا: مشبہ کون ہوگا؟ عقلی اور مشبہ بہٖ حسی۔ پہلے جیسے موت کو تشبیہ دینا درندے کے ساتھ، موت کو تشبیہ دینا درندے کے ساتھ۔ حسی کون، عقلی کون؟ موت حسی ہے یا عقلی ہے؟ عقلی ہے۔ موت کبھی دیکھی ہے آپ نے؟ مردے کو تو دیکھا ہوگا، موت دیکھی ہے کبھی؟ نہیں۔ موت تو مولانا، عدمِ حیات ہے، اور عدم کسی چیز کی ہمیں نظر نہیں آ سکتی۔ تو مولانا، موت ہے، اور موت کو تشبیہ دی درندے کے ساتھ، تو موت عقلی ہے یا حسی ہے؟ عقلی ہے، اور درندہ حسی ہے مولانا۔ تو اب موت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ، تو مشبہ کون؟ موت، اور مشبہ بہٖ؟ درندہ۔ تو مشبہ ہوا عقلی اور مشبہ بہٖ ہوا حسی۔ یا اس کا عکس مولانا: مشبہ کو کیا بنائیں؟ حسی بنائیں اور مشبہ بہٖ کو عقلی۔ جیسے عِطر کی تشبیہ مولانا، خُلقِ کریم کے ساتھ بھئی، ایک سخی آدمی کے اخلاق جو ہیں اس کے ساتھ آپ عِطر، خوشبو کو تشبیہ دیتے ہیں کہ جو نیک شخص ہو اس کے اخلاق کس کی طرح ہوتے ہیں؟ عِطر جیسے۔ عِطر سے آدمی کو نفع ہوتا ہے اور لذت محسوس ہوتی ہے، اسی طرح اس کے اخلاق سے بھی آدمی کو کیا ہوتا ہے؟ نفع ہوتا ہے مولانا، اور اس سے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ جی، تو عِطر مولانا، اس کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ خُلقِ کریم کے ساتھ۔ اب بتائیے: مشبہ عِطر، مشبہ بہٖ خُلقِ کریم۔ تو عِطر کیا ہے؟ عقلی ہے، حسی ہے؟ حسی ہے۔ کیسے؟ سونگھنا مراد ہے، مشمومات میں سے ہے، کس سے ہے؟ مشمومات میں سے۔ اور خُلقِ کریم، اخلاق مولانا؟ عقلی، اخلاق آنکھوں سے نظر نہیں بھئی، یہ تو ایک کیفیتِ نفسانیہ ہے۔ دیکھیے بھئی:
”أَوْ مُخْتَلِفَانِ بِأَنْ يَكُونَ الْمُشَبَّهُ عَقْلِيًّا وَالْمُشَبَّهُ بِهِ حِسِّيًّا كَالْمَنِيَّةِ وَالسَّبُعِ“، جیسے کہ موت ہے اور سبع درندہ ہے مولانا۔ ”فَإِنَّ الْمَنِيَّةَ أَعْنِي الْمَوْتَ عَقْلِيٌّ لِأَنَّهُ عَدَمُ الْحَيَاةِ“، اس لیے کہ منیہ یعنی کہ موت جو ہے وہ عقلی ہے کیونکہ وہ عدمِ حیات کا نام ہے۔ اور عدمِ حیات اس کو مح… عدم کسی چیز کا محسوس نہیں ہوتا۔ ”عَمَّا مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَكُونَ حَيًّا“، اس لیے کہ یہ عدمِ حیات ہے عما اس چیز کا جس کی شان کیا ہے؟ زندہ ہونا۔ یعنی مولانا، مردہ کس کو کہیں گے؟ جس میں زندگی کی صلاحیت تھی، جس میں زندگی کی صلاحیت ہی نہ ہو اس کو مردہ… یہ کتاب کو کوئی مردہ نہیں کہے گا، یہ پتھر کو کوئی مردہ نہیں اس لیے کیونکہ ان میں زندگی کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا ان دونوں میں کون سا تقابل ہے؟ آپ نے پڑھا تھا: تقابلِ تضایف ہے، تقابلِ تضاد، ہاں؟ اور کون کون سے پڑھے تھے آپ نے؟ تقابلِ تضایف پڑھا، اور تقابلِ ایجاب و سلب پڑھا، تقابلِ عدم و ملکہ پڑھا، اور تقابلِ تضاد تھا۔ جی، ان میں سے کون سا ہے؟ تو ان میں تقابلِ عدم و ملکہ ہے مولانا، تقابلِ عدم و ملکہ، یعنی نفی کرنا کسی… ایک چیز وجودی ہو اور دوسری کیا ہو؟ عدمی ہو، لیکن عدمی اس سے ہو جس کی شان کیا ہو؟ وجود کی۔ ”وَالسَّبُعُ حِسِّيٌّ أَوْ بِالْعَكْسِ“، اور درندہ جو ہے حسی ہے، یا اس کا عکس ہوگا، ”وَذَلِكَ كَمِثْلِ الْعِطْرِ“، ایک ہوتا ہے عِطر، ایک ہوتا ہے عَطر۔ عَطر کہتے ہیں خوشبودار، اور عِطر کہتے ہیں خوشبو کو۔ تو یہاں عِطر ہے بھئی: ”الْعِطْرُ الَّذِي هُوَ مَحْسُوسٌ وَمَشْمُومٌ وَخُلُقِ كَرِيمٍ“، عِطر جو کہ محسوس ہے اور مشموم ہے، اور خُلقِ کریم، یہ ”خُلُقِ“ مضاف مضاف الیہ ہے مولانا، سخی آدمی کے اخلاق بھئی، خُلق اس کی جمع اخلاق ہے۔ ”وَهُوَ عَقْلِيٌّ“، اور خُلقِ کریم کیا ہے؟ عقلی ہے، ”لِأَنَّهُ كَيْفِيَّةٌ نَفْسَانِيَّةٌ تَصْدُرُ عَنْهُ الْأَفْعَالُ“، اس لیے کہ ایک نفسانی کیفیت ہے، ”تَصْدُرُ عَنْهُ الْأَفْعَالُ“، الافعال الممدوحہ مراد ہیں مولانا۔ وہ کیفیت ہے جس سے صدور ہوتا ہے مولانا، افعالِ ممدوحہ کا ”بِسُهُولَةٍ“، کس کے ساتھ؟ آسانی کے ساتھ۔ بھئی، خُلقِ کریم، سخی آدمی کے اخلاق، یہ کیفیت ہے مولانا، بدن میں کہ جس کی وجہ سے اچھے افعال کا صدور ہوتا ہے آدمی سے بھئی، اور سہولت کے ساتھ ہوتا ہے، تکلف نہیں کرنا پڑتا اس میں۔ ”وَالْوَجْهُ فِي تَشْبِيهِ الْمَحْسُوسِ بِالْمَعْقُولِ“، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض یہ کہ آپ نے تشبیہ دی کس کو؟ عِطر جو حسی ہے، کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ عقلی کے ساتھ۔ حالانکہ قوی کون ہے: حسی قوی ہے یا عقلی قوی ہے؟ حسی چیز قوی ہے نا مولانا، حسی کیا ہے؟ حسی چیز قوی ہے۔ تو قوی کی آپ تشبیہ دے رہے ہیں کس کے ساتھ؟ ضعیف کے ساتھ، اور قوی کی تشبیہ ضعیف کے ساتھ دینا تو جائز نہیں ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں مولانا، کہ ہم نے اس عقلی کو بھی کس کے درجے میں اتار لیا؟ حسی کے درجے میں اتار کر پھر تشبیہ دی۔ ”وَالْوَجْهُ فِي تَشْبِيهِ الْمَحْسُوسِ بِالْمَعْقُولِ أَنْ يُقَدَّرَ الْمَعْقُولُ“، اور وجہ تشبیہ کے اندر محسوس کی کس کے ساتھ؟ تشبیہِ محسوس بالمعقول کے ساتھ، اس کے اندر وجہ یہ ہے کہ فرض کر لیا جائے معقول کو، کیا فرض کیا جائے؟ محسوس فرض کر لیا جائے، ”وَيُجْعَلَ كَالْأَصْلِ لِذَلِكَ الْمَحْسُوسِ عَلَى طَرِيقِ الْمُبَالَغَةِ“، اور اس کو کس کی طرح کر دیا جائے؟ اصل کی طرح کر دیا جائے اس محسوس کے لیے، کس طریقے پر؟ مبالغے کے طریقے پر۔ ”وَإِلَّا فَالْمَحْسُوسُ أَصْلٌ لِلْمَعْقُولِ“، ورنہ تو محسوس اصل ہے معقول کے لیے، ”لِأَنَّ الْعُلُومَ الْعَقْلِيَّةَ مُسْتَفَادَةٌ مِنَ الْحَوَاسِّ وَمُنْتَهِيَةٌ إِلَيْهَا“، اس لیے کہ علومِ عقلیہ کا استفادہ کس سے ہوتا ہے؟ حواس سے بھئی، اور ان کی انتہاء بھی کس پر ہوتی ہے؟ حواس پر۔ دیکھو، علومِ عقلیہ کا فائدہ، یہ جو علومِ عقلیہ بھی ہمیں حاصل ہوتے ہیں، یہ حواس سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک عقلی بات جو آپ کو معلوم ہے کیا؟ ”اَلْعَالَمُ حَادِثٌ“، عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ یعنی قدیم نہیں مولانا، نہ ہمیشہ سے ہے اور نہ ہمیشہ رہے گا، یہ ختم ہونے والا ہے۔ یہ ایک عقلی ہے، لیکن اس کا پتہ آپ کو کس سے چلا؟ حِس سے۔ حِس سے اس طرح پتہ چلا: آپ نے غور و فکر کیا، آپ نے دیکھا اس عالم میں تغیرات ہو رہے ہیں مولانا، بڑی بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور یہ ضابطہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں تبدیلیاں آئیں وہ کیا ہوتی ہے؟ حادث، معلوم ہوا یہ عالم بھی کیا ہے؟ حادث ہے۔ تو دیکھا، یہ جو عقلی بات تھی کہ عالم جو ہے وہ حادث ہے، یہ کہاں سے شروع ہوا تھا؟ یہ علم شروع کہاں سے ہوا تھا؟ حِس سے، کس سے؟ حِس سے۔ کیونکہ یہ عالم میں تبدیلیاں، ان کا مشاہدہ کس سے ہوا؟ حِس سے ہوا۔ معلوم ہوا ابتداء کس سے ہوتی ہے؟ حِس سے۔ انتہاء بھی حِس سے ہوتی ہے، اب آپ نے کسی کو کہا: ”اَلْعَالَمُ حَادِثٌ“، عالم حادث ہے، وہ کہے گا: کیا دلیل ہے عالم حادث ہے؟ آپ پھر ادھر کو ہی جائیں گے مولانا، صغریٰ کبریٰ ملائیں گے: ”لِأَنَّ الْعَالَمَ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ“۔ تو دیکھا، عالم متغیر ہے اور ہر متغیر حادث ہے، یہ پھر کس کا علم آ گیا؟ حواس کا علم آ گیا۔ تو چلے بھی وہیں سے تھے اور لوٹیں گے بھی پھر جب کوئی دلیل طلب کرے گا تو پھر اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”لِأَنَّ الْعُلُومَ الْعَقْلِيَّةَ مُسْتَفَادَةٌ مِنَ الْحَوَاسِّ وَمُنْتَهِيَةٌ إِلَيْهَا فَتَشْبِيهُهُ بِالْمَعْقُولِ يَكُونُ جَعْلًا لِلْفَرْعِ أَصْلًا وَالْأَصْلِ فَرْعًا“، اس لیے کہ علومِ عقلی جو ہیں ان کا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے حواس سے اور ان کی انتہاء اسی پر ہوتی ہے، پس اس کی تشبیہ دینا، کس کی مولانا؟ محسوس کی کس کے ساتھ؟ معقول کے ساتھ، ”يَكُونُ جَعْلًا لِلْفَرْعِ أَصْلًا وَالْأَصْلِ فَرْعًا“، حالانکہ وہ تو کیا ہے؟ اصل کو فرع بنانا اور فرع کو اصل بنانا ہے اس کے اندر، ”وَذَلِكَ لَا يَجُوزُ“، اور یہ تو جائز نہیں ہے۔ ہاں، تو بتلایا کہ اصل میں ہم کیا کر دیتے ہیں؟ مبالغہ کر دیتے ہیں، مبالغے کے طور پر عقلی کو بھی حسی کے درجے میں اتارتے ہیں ورنہ تو اس کو جائز نہیں ہونا چاہیے۔ ”وَلَمَّا كَانَ مِنَ الْمُشَبَّهِ وَالْمُشَبَّهِ بِهِ مَا لَا يُدْرَكُ بِالْقُوَّةِ الْعَاقِلَةِ وَلَا بِالْحِسِّ أَعْنِي الْحِسَّ الظَّاهِرَ كَمِثْلِ الْخَيَالِيَّاتِ وَالْوَهْمِيَّاتِ وَالْوِجْدَانِيَّاتِ“، اور جب تھا مشبہ اور مشبہ بہٖ میں سے ایسی چیز جس کا ادراک نہ تو قوتِ عاقلہ سے ہوتا تھا اور نہ حِس سے، یعنی کہ حِسِ ظاہر جو ہے، حِسِ ظاہر سے بھی اس کا ادراک نہیں ہوتا، جیسے خیالیات، خیالی چیزیں ہیں، وہمی چیزیں ہیں اور وجدانی چیزیں ہیں۔ جی، بھئی، یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ ہم نے کتنی قسمیں بنائیں بھئی؟ دو: ایک حسی اور ایک عقلی۔ بھئی، کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا ادراک نہ تو حِس سے ہو سکتا ہے نہ عقل سے ہو سکتا ہے: مثلاً خیالیات ہیں، وہمیات ہیں اور وجدانیات ہیں۔ یہ وجدانیات، خیالیات، وہمیات، یہ تین چیزیں بھی ہیں مولانا، ان کو تو آپ نے ذکر ہی نہیں کیا۔ تو کس میں آپ نے دو بنائیں: حسی، عقلی، پانچ بنانی چاہیے تھیں: حسی، عقلی، خیالی، وہمی، وجدانی۔ تو آپ نے کیوں پانچ نہیں بنائیں؟ جواب دے رہے ہیں: کہ بھئی، یاد کرنے میں آسانی کے لیے مصنف نے دو قسمیں بنائیں، اور ان تین کو انہی دو میں کیا کر دیا؟ شامل کر دیا۔ دیکھیے:
”وَلَمَّا كَانَ مِنَ الْمُشَبَّهِ“، جب تھا مشبہ اور مشبہ بہٖ میں سے ایسی چیز جس کا ادراک نہ تو قوتِ عاقلہ سے ہوتا تھا اور نہ حِس سے، یعنی کہ حِسِ ظاہر کے ساتھ، ”مِثْلُ الْخَيَالِيَّاتِ وَالْوَهْمِيَّاتِ وَالْوِجْدَانِيَّاتِ“، جیسے کہ خیالیہ، خیالی چیزیں ہیں، وہمی چیزیں ہیں اور وجدانی چیزیں ہیں، ”أَرَادَ“ مصنف نے ارادہ کیا، یرحمک اللہ، ارادہ کیا ”أَنْ يَجْعَلَ الْحِسِّيَّةَ وَالْعَقْلِيَّةَ بِحَيْثُ يَشْمَلَانِهَا“، کہ بنا دے حسی اور عقلی کو اس طور پر کہ وہ دونوں بھی ان کو کیا ہو جائیں؟ شامل ہو جائیں، ”تَسْهِيلًا لِلضَّبْطِ“، آسانی کرنے کے لیے یاد کرنے میں، تاکہ یاد کرنے میں کیا ہو؟ آسانی ہو جائے، ”بِتَقْلِيلِ الْأَقْسَامِ“، اقسام کی کمی کے ساتھ، کم کرنے کے ساتھ۔ بھئی، یہیں سمجھ لو ایک بات: خیالی کس کو کہتے ہیں، وہمی کس کو کہتے ہیں اور وجدانی کس کو کہتے ہیں؟
خیالی کہتے ہیں، مولانا، وہ جو میں نے آپ کو بحث بتلائی تھی، بھئی: بھئی، یہ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے جو ہم چیزیں حاصل کرتے ہیں یہ سب سے پہلے کہاں پہنچتی ہیں؟ حِسِ مشترک میں، تو حِسِ مشترک، اور پھر یہ محفوظ کہاں ہوتی ہیں؟ خیال میں، کہاں پر؟ خیال میں، تو خیال ان کا سٹور ہاؤس ہے، وہاں پر جا کر محفوظ ہوتی ہیں۔ اسی طرح قوتِ واہمہ جو ہے، جن چیزوں کو حاصل کرتی ہے وہ کہاں محفوظ ہوتی ہیں؟ حافظے میں، کس میں؟ حافظے میں۔ اور اچھا، پھر ان کے بعد جو تصرفات ان میں کرنا ہوتے ہیں وہ کون کرتی ہے؟ قوتِ متفکرہ، کون کرتی ہے؟ قوتِ متفکرہ۔ میں نے بتلایا تھا: قوتِ… یہ جوڑ توڑ والا سارا کام کہاں ہوتا ہے؟ قوتِ متفکرہ میں ہوتا ہے۔ یہ خیالی اور فرضی چیزیں بناتی ہے: ایک چیز کو جوڑتی ہے دوسری کے ساتھ، ایک کو توڑ دیتی ہے ایک چیز سے، بھئی۔ تو دیکھیے، اب بسا اوقات ہم ایک خیالی صورت فرض کرتے ہیں، خیالی چیز۔ مثلاً آپ فرض کریں مولانا، تشبیہ دینا چاہتے ہیں گلِ لالہ کی، گلِ لالہ ایک پھول ہے سرخ رنگ کا مولانا، پہاڑوں میں اگتا ہے۔ اس کی تشبیہ… اب اس پھول کا رنگ ہے سرخ اور اس کی وہ ڈنڈی کا رنگ کیسا ہے؟ سبز، اور وہ بہت سارے لگے ہوں مولانا، اور ہوا چلتی ہے تو وہ کبھی جھکتے ہیں اور کبھی بلند ہوتے ہیں، لہلہا رہے ہیں ہوا کے اندر مولانا، ٹھیک ہے یہ کیفیت؟ اب اس کو آپ نے تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ جی، یاقوت ایک پتھر ہے سرخ رنگ کا، اور زبرجد ایک پتھر ہے سبز رنگ کا۔ آپ ان سرخ رنگ کے پھول جو سبز ڈنڈیوں پر ہیں ان کی تشبیہ دیتے ہیں کس کے ساتھ؟ سبز نیزے ہیں، سبز، کس کے؟ زبرجد کے، اور ان پر سرخ جھنڈے لگے ہوئے ہیں یاقوت کے، کس کے؟ یاقوت کے۔ تو جیسے وہ پھول اوپر سرخ تھا، یہ بھی اوپر جھنڈا کیسا ہے؟ سرخ۔ پھول کی ڈنڈی سبز تھی، اس کی بھی ڈنڈا کیا ہے؟ سبز ہے مولانا۔ اب آپ تشبیہ دے رہے ہیں کہ بھئی، وہ جو پھول ہیں سرخ رنگ کے وہ اس طرح ہیں جیسے کہ یاقوت کے جھنڈے لگے ہوں کس پر؟ زبرجد کے نیزوں پر بھئی، یہ تشبیہ دے رہے ہیں۔ تشبیہ سمجھ میں آئی؟ اب یہ جو آپ نے کہا مشبہ بہٖ ذکر کیا: یاقوت کے جھنڈے اور زبرجد کے نیزے، یہ خارج میں موجود ہے؟ یہ خارج میں موجود نہیں، معلوم ہوا یہ ایک خیالی چیز ہے، کیا ہے؟ خیالی چیز ہے۔ لیکن خیالی… وہمی بھی اسی طرح ہوگی، وہمی بھی ایک خیالی چیز ہوگی، خیالی بھی کیا ہے؟ ایک خیالی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ خیالی کے جتنے اجزاء ہیں وہ مدرک بالحس ہوں گے خارج کے اندر، اور وہمی کے سارے اجزاء خارج میں ہم نے ان کا ادراک بالحس نہیں کیا، ممکن نہیں، ہوا نہیں آج تک۔ تو دیکھیے مولانا، آپ نے کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ گلِ لالہ کو کس کے ساتھ؟ یاقوت کے جھنڈے، یاقوت قیمتی پتھر ہے سرخ رنگ کا، خارج میں دیکھا جاتا ہے یا نہیں مولانا؟ دیکھا، اس کا ادراک حِس سے ہوتا ہے۔ دوسرا کیا ہے؟ نیزے، نیزے بھی خارج میں کیا ہیں؟ دیکھے جاتے ہیں۔ جھنڈے، وہ بھی خارج میں دیکھے جاتے ہیں۔ اچھا، اور زبرجد پتھر جو ہے سبز رنگ کا، وہ بھی خارج میں دیکھا جاتا ہے۔ تو دیکھو، یہ خیالی ہے ایک چیز لیکن اس کے سارے اجزاء مدرک بالحس ہیں، تو اس کو کہتے ہیں خیالی مولانا۔ اور ایک ہے وہمی۔ وہمی اس کو کہتے ہیں جس کے سارے اجزاء مدرک بالحس نہ ہوں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: بلاؤں کے دانت بھئی، کس کے؟ بلاؤں کے دانت بھئی۔ اب یہ بھی ایک خیالی چیز ہے، وہمی چیز ہے مولانا۔ لیکن کیا اس کا ادراک… اس کے جو اجزاء ہیں بلا اور دانت، دو چیزیں آ گئیں نا: بلاؤں کے دانت، دو چیزیں آ گئیں۔ کیا اس کا ادراک حِس سے ہوتا ہے؟ بھئی، بلا پائی جاتی ہے کوئی؟ بلا تو ہے ہی کوئی نہیں بھئی، اس کا ادراک ہی نہیں ہوا بھئی۔ جب ادراک… تو دیکھو، خیالی کے اندر اس کے سارے اجزاء مدرک بالحس تھے، لیکن وہمی کے اندر اجزاء سارے مدرک بالحس نہیں ہیں اس لیے کیونکہ وہ پائے ہی نہیں جاتے، اگر ہاں، البتہ اگر پائے جاتے تو مدرک بالحس ہوتے، یہ فرق ہے خیالی اور وہمی میں، سب کو فرق سمجھ میں آ گیا؟ اب وجدان سمجھو بھئی: وجدان ذہن کے… نفس میں ایک قوت ہے جس کے ذریعے انسان بدنی صفات کا ادراک کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ نفس کی صفات کا ادراک ہوتا ہے، نفس کی… تو نفس کی صفات کا ادراک ہوتا ہے اس میں۔ مثلاً آپ کو بھوک لگی، یہ نفس کی صفت ہے، اس کا ادراک کس نے کیا؟ قوتِ وجدان نے۔ آپ کو غم لاحق ہوا، یہ کس کی صفت ہے؟ نفس کی، اس کا ادراک کس نے کیا؟ وجدان نے۔ آپ کو خوف لاحق ہوا، یہ کس سے ہوا مولانا اس کا ادراک؟ نفس کی صفت ہے، قوتِ وجدان سے۔ بعض کہتے ہیں یہ قوتِ واہمہ ہی ہے، بعض کہتے ہیں نہیں، یہ بالکل الگ قوت ہے جو صرف نفس کی صفات کا ادراک کرتی ہے۔ تو یہ ہے مولانا: ”مِثْلُ الْخَيَالِيَّاتِ وَالْوَهْمِيَّاتِ وَالْوِجْدَانِيَّاتِ“، بھئی۔ ”فَقَالَ: وَالْمُرَادُ“، دیکھو اب حسی، بھئی حسی کی ہم نے کیا تعریف کی تھی؟ جس کا ادراک کس سے ہو؟ حِس سے ہو۔ اب تشریح کریں گے: اب ہم نے اس میں خیالی کو بھی داخل کرنا ہے، کس کو؟ خیالی کو۔ اور عقلی کے اندر ہم نے وجدان کو بھی داخل کرنا ہے اور وہمی کو بھی داخل کرنا ہے۔ دیکھیے: ”وَالْمُرَادُ بِالْحِسِّيِّ الْمُدْرَكُ هُوَ أَوْ مَادَّتُهُ بِإِحْدَى الْحَوَاسِّ الْخَمْسِ الظَّاهِرَةِ“، حسی سے کیا مراد ہے؟ وہ چیز جس کا ادراک کیا جائے یا اس کے مادے کا یعنی اس کے اجزاء کا ادراک کیا جائے کس سے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے۔ حواسِ خمسہ ظاہرہ کیا ہیں؟ ”أَعْنِي الْبَصَرَ وَالسَّمْعَ وَالشَّمَّ وَالذَّوْقَ وَاللَّمْسَ“، بصر، سمع، شم، ذوق اور لمس۔ ”فَدَخَلَ فِيهِ أَيْ فِي الْحِسِّيِّ بِسَبَبِ زِيَادَةِ قَوْلِنَا أَوْ مَادَّتُهُ“، لہٰذا داخل ہو گیا اس کے اندر، حسی کے اندر، بسبب اس کے جو ہم نے زیادہ کیا اپنے قول ”أَوْ مَادَّتُهُ“، کس کو زیادہ کیا مولانا؟ بھئی، اوپر ہم نے کہا حسی سے کیا مراد ہے؟ تعریف تو یہ ہونی چاہیے تھی حسی کی، ادھر دیکھو بھئی: حسی کی تعریف صرف یہ ہونی چاہیے تھی: مدرک بالحس، بس۔ لیکن ہم نے کیا کہا: وہ خود مدرک ہو یا اس کے اجزاء کیا ہوں؟ مدرک بالحس۔ تو یہ جو ہم نے ”أَوْ مَادَّتُهُ“ کی قید بڑھا دی، اس سے خیالی بھی اس کے اندر کیا ہوا؟ داخل ہو گیا، کیونکہ خیالی کا ادراک اگرچہ حِس سے نہیں ہوتا لیکن اس کے اجزاء جو تھے بھئی، ان سب کا ادراک کس سے تھا؟ حِس سے تھا۔ تو یہ ہمارے اس قول کے زیادہ کرنے سے: ”أَوْ مَادَّتُهُ“، یہ لفظ جو ہم نے اوپر متن میں بڑھا دیا، اس میں داخل ہو گیا: ”الْخَيَالِيُّ“، حسی میں کون داخل ہوا؟ خیالی بھی۔ ”وَهُوَ الْمَعْدُومُ الَّذِي فُرِضَ مُجْتَمِعًا مِنْ أُمُورٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا مِمَّا يُدْرَكُ بِالْحِسِّ“، خیالی وہ معدوم چیز ہے مولانا، جس کو فرض کر لیا گیا ہے اکٹھا، وہ بنی ہے، اکٹھی ہوئی ہے کس سے؟ بہت سے امور سے، ایسے امور کہ ان میں سے ہر ایک کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ حِس سے ہوتا ہے۔ ہاں، خیالی چیز کے ہر جز کا ادراک حِس سے ہوگا۔ ”كَمَا فِي قَوْلِهِ“، جیسے کہ یہ شاعر کہتا ہے مولانا:
”وَكَأَنَّ مُحْمَرَّ الشَّقِيقِ إِذَا تَصَوَّبَ أَوْ تَصَاعَدْ“
”أَعْلَامُ يَاقُوتٍ نُشِرْنَ عَلَى رِمَاحٍ مِنْ زَبَرْجَدْ“ ”وَكَأَنَّ مُحْمَرَّ الشَّقِيقِ“، گویا شقیق مولانا، وہ گلِ لالہ ہے، گلِ لالہ سرخ رنگ ہے گلِ لالہ جو سرخ رنگ کا ہے، ”إِذَا تَصَوَّبَ“، جب وہ نیچے کی طرف مائل ہوتا ہے مولانا، وہ لہلہاتا ہے نا، کبھی نیچے کی طرف جھکتا ہے اور کبھی اوپر، جب وہ نیچے کی طرف جھکتا ہے، ”أَوْ تَصَاعَدْ“، یا وہ اوپر کی طرف اٹھتا ہے، ”أَعْلَامُ يَاقُوتٍ“، گویا کہ وہ کیا ہیں؟ یاقوت کے جھنڈے ہیں، ایسے جھنڈے ”نُشِرْنَ“، جو پھیلائے گئے ہیں ”عَلَى رِمَاحٍ“، نیزوں پر، ”مِنْ زَبَرْجَدْ“، وہ نیزے کس کے ہیں؟ زبرجد کے ہیں مولانا۔ جی، دیکھیے بھئی: ”وَكَأَنَّ مُحْمَرَّ الشَّقِيقِ“، گویا کہ گلِ لالہ جو ہے، کہہ رہے ہیں: ”وَهُوَ مِنْ بَابِ جَرْدِ قَطِيفَةٍ“، یہ ”مُحْمَرَّ الشَّقِيقِ“ کس باب سے ہے؟ ”جَرْدِ قَطِيفَةٍ“، بھئی یہ تو اصطلاحی لفظ ہے آپ کو ہر وقت آنا چاہیے، پہلے بھی گزر چکا ہے۔ کس کو کہتے ہیں ”جَرْدِ قَطِيفَةٍ“؟ صفت کی اضافت کس کی طرف ہو؟ موصوف کی طرف۔ اصل میں تھا: ”قَطِيفَةٌ جَرْدَاءُ“، پھر آپ نے صفت کو اٹھایا اور موصوف کی طرف کیا کر دیا؟ اضافت کر دی بھئی۔ تو ”جَرْدِ قَطِيفَةٍ“ کہتے ہیں مولانا: بوسیدہ، پرانی، گھسی ہوئی، بے بال مخملی چادر بھئی۔ مخملی کپڑا وہ ہوتا ہے جس پہ وہ کیا ہوں؟ بال سے ہوں، چھوٹے چھوٹے کیا ہوتے ہیں؟ آپ نے دیکھا ہوگا بھئی، بڑا نرم کپڑا ہوتا ہے، اوپر بال سے ہو بنے ہوتے ہیں مولانا، ٹھیک ہے بھئی؟ اس کو کہتے ہیں مخملی کپڑا۔ وہ جب پرانا ہو جائے اس سے کیا ہو جاتے ہیں؟ بال اڑ جاتے ہیں جگہ جگہ سے، تو اس کو کہتے ہیں… قطیفہ کہتے ہیں وہ مخملی چادر کو، قطیفہ کس کو کہتے ہیں؟ مخملی چادر کو، اور جرد جس کے بال اڑے ہوں، اجرد کس کو کہتے ہیں؟ اجرد گنجے کو کہتے ہیں مولانا، جس کے بال اڑ جاتے ہیں۔ تو یہ مولانا اصل میں کیا تھا: ایسی مخملی چادر جردآء جو کیا ہے؟ بے بال ہے، پرانی ہے، گھسی ہوئی ہے، بوسیدہ ہے۔ تو یہ ”جَرْدِ قَطِيفَةٍ“ کے باب سے ہے۔ یہ عبارت میں جب بھی آئے آپ سمجھ جائیں، یہاں کیا بیان ہو رہا ہے کہ یہ جو مرکب ہے یہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ موصوف کی طرف۔ ”وَالشَّقِيقُ وَرْدٌ أَحْمَرُ فِي وَسَطِهِ سَوَادٌ يَنْبُتُ فِي الْجِبَالِ“، اور شقیق جو ہے یہ سرخ رنگ کے پھول ہیں جن کے وسط میں کیا ہوتی ہے؟ سیاہی ہوتی ہے، جو کہاں اگتے ہیں؟ پہاڑوں میں اگتے ہیں۔ کہتے ہیں اصل میں یہ ”شَقَائِقُ النُّعْمَانِ“ ہے بھئی، گلِ لالہ کو کیا کہتے ہیں؟ ”شَقَائِقُ النُّعْمَانِ“، مفرد بھی یہی ہے، جمع بھی یہی ہے مولانا۔ یہ شعر میں ضرورت ہے، شعری کی وجہ سے شقیق کر دیا گیا، حالانکہ مفرد کو بھی شقائق النعمان کہتے ہیں اور جمع کو بھی شقائق النعمان کہتے ہیں مولانا۔ اس لیے کہ نعمان بادشاہ تھا، اس کے علاقے میں بکثرت ہوتے تھے تو اسی نام سے مشہور ہوئے، بھئی۔ ”إِذَا تَصَوَّبَ أَيْ مَالَ إِلَى السُّفْلِ أَوْ تَصَاعَدَ أَيْ مَالَ إِلَى الْعُلْوِ أَعْلَامُ يَاقُوتٍ نُشِرْنَ عَلَى رِمَاحٍ مِنْ زَبَرْجَدٍ فَإِنَّ كُلًّا مِنَ الْعَلَمِ وَالْيَاقُوتِ وَالرُّمْحِ وَالزَّبَرْجَدِ مَحْسُوسٌ“، اس لیے کہ ہر ایک مولانا، یعنی کہ جھنڈا، یاقوت، نیزہ اور زبرجد، یہ سارے محسوس ہیں، ”لَكِنَّ الْمُرَكَّبَ الَّذِي هَذِهِ الْأُمُورُ مَادَّتُهُ لَيْسَ بِمَحْسُوسٍ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“، لیکن وہ مرکب کہ یہ امور جس کا مادہ ہیں وہ محسوس نہیں ہے کیونکہ وہ موجود ہی نہیں ہے، ”وَالْحِسُّ لَا يُدْرِكُ إِلَّا مَا هُوَ مَوْجُودٌ فِي الْمَادَّةِ حَاضِرٌ عِنْدَ الْمُدْرِكِ عَلَى هَيْئَةٍ مَخْصُوصَةٍ“، اور حِس تو ادراک نہیں کرتی مگر وہ چیز جو مادے کے اعتبار سے کیا ہو؟ موجود ہو، مدرک کے پاس حاضر ہو یعنی حِس کے سامنے حاضر ہو علیٰ ہیئۃ مخصوصۃ، مخصوص ہیئت پر۔ ”وَالْمُرَادُ بِالْعَقْلِيِّ“، عقلی سے کیا مراد ہے بھئی؟ اوپر حسی بتا دیا: حسی وہ ہے کہ جس کا ادراک حِس سے ہو یا اس کے اجزاء کا ادراک کس سے ہو؟ حِس سے۔ ”وَالْعَقْلِيُّ مَا عَدَا ذَلِكَ“، عقلی اس کے علاوہ ہیں، ”أَيْ مَا لَا يَكُونُ هُوَ وَلَا مَادَّتُهُ مُدْرَكًا بِإِحْدَى الْحَوَاسِّ الْخَمْسِ الظَّاهِرَةِ“، کہ نہ وہ اور نہ اس کا مادہ وہ مدرک بالحواس الخمسۃ الظاہرۃ ہو۔ ”فَدَخَلَ فِيهِ الْوَهْمِيُّ“، لہٰذا عقلی میں کون داخل ہوا؟ وہمی، بھئی۔ عقلی کی ہم نے ایسی تعریف کی کہ جس میں وہمی بھی خودبخود داخل ہو گیا اور وجدانی بھی۔ اس میں وہمی بھی داخل ہوا، ”الَّذِي لَا يَكُونُ لِلْحِسِّ مَدْخَلٌ فِيهِ“، جس کے اندر حِس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بھئی۔ وہمی میں حِس کا عمل دخل ہے؟ بھئی، بلا اور اس کے دانت جو ہیں آپ نے فرض کیے، اس میں حِس کا کوئی دخل ہے؟ نہیں۔ ”أَوْ مَا هُوَ غَيْرُ مُدْرَكٍ بِهَا“، یا مولانا، وہ چیز جس کا ادراک عقل سے ہو ہی نہ… جی، ”بِهَا“، ”إِحْدَى الْحَوَاسِّ“، جس کا حواسِ مذکورہ سے ادراک ہی نہ ہو۔ بھئی، انہوں نے عقلی کی کیا تعریف کی؟ عقلی وہ سارے ہیں جن کا ادراک حواسِ خمسہ سے نہ ہو یا اس کے مادے کا ادراک حواسِ خمسہ سے نہ ہو۔ تو چاہے وہمی ہو وہ بھی داخل ہوا، اور وہ ہر وہ چیز جس کا ادراک حواسِ خمسہ سے نہیں ہوا وہ کس میں داخل ہو گیا؟ عقلی میں۔ ”وَهُوَ غَيْرُ مُدْرَكٍ بِهَا وَلَكِنَّهُ بِحَيْثُ لَوْ أُدْرِكَ لَكَانَ مُدْرَكًا بِهَا“، اور وہ چیز بھی جس کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں ہوتا، لیکن وہ ہوتے اس طور پر ہیں: ”لَوْ أُدْرِكَ“، اگر اس کا ادراک ہوتا ”لَكَانَ مُدْرَكًا بِهَا“، تو کس سے ہوتا؟ اگر بلا کا ادراک ممکن ہوتا تو یہ کس سے ہوتا؟ حِس سے ہوتا یا غیر حِس سے؟ حِس سے ہوتا، ہمیں آنکھوں سے نظر آتی بھئی۔ ہاں، اگر اس کا ادراک ہوتا تو وہ البتہ ادراک انہی حواس سے ہوتا۔ ”وَبِهَذَا الْقَيْدِ يَتَمَيَّزُ مِنَ الْعَقْلِيِّ“، اور اس قید سے وہمی ممتاز ہو گیا عقلی سے۔ وہمی کیا ہوا؟ ممتاز ہو گیا۔ بھئی، معلوم ہوا وہمی وہ چیز ہے جس کا ادراک حواس سے نہیں ہوا کیونکہ وہ موجود ہی نہیں، ہاں اگر وہ موجود ہوتی تو ادراک کس سے ہوتا؟ حواس سے ہی، اور حالانکہ اور عقلی چیز وہ ہوتی ہے جس کا ادراک حواس سے ممکن ہی نہیں ہے۔ تو فرق آیا یا نہیں دونوں میں مولانا؟ ہیں، دونوں کا ادراک تو کسی میں بھی نہیں ہے: عقلی کا بھی کس سے نہیں ہے؟ حِس سے نہیں، وہمی کا بھی حِس سے نہیں، لیکن وہمی اگر پایا جائے تو پھر ادراک کس سے ہوگا؟ حِس سے ہی ہوگا۔ ”كَمَا فِي قَوْلِهِ“، جیسے یہ شاعر کہتا ہے:
”أَيَقْتُلُنِي وَالْمَشْرَفِيُّ مَضَاجِعِي“
کیا وہ شخص مجھے قتل کر دے گا؟ امرؤ القیس کہتا ہے مولانا:
”أَيَقْتُلُنِي وَالْمَشْرَفِيُّ مَضَاجِعِي“
کیا وہ شخص مجھے قتل کر دے گا حالانکہ مشرفی تلواریں وہ کیا ہیں؟ میرے کیا ہیں؟ پہلو کی جگہیں ہیں، کیا ہیں؟ پہلو لگانے کی جگہیں کیا ہیں میری؟ مشرفی تلواریں۔ مشارق الیمن مولانا، اس سے اس کی طرف نسبت ہے، وہاں کی تلواریں بڑی مشہور تھیں۔ اچھا:
”أَيَقْتُلُنِي وَالْمَشْرَفِيُّ مَضَاجِعِي“
”وَمَسْنُونَةٌ زُرْقٌ كَأَنْيَابِ أَغْوَالِ“ کیا مجھے وہ شخص قتل کر دے گا حالانکہ مشرفی تلواریں جو ہیں، جو اعلیٰ اور عمدہ قسم کی ہوتی ہیں وہ میرے پہلو لگی جگہیں ہیں مولانا، ان پر میں پہلو لگاتا ہوں، ”وَمَسْنُونَةٌ“، اور مسنونہ کہتے ہیں تیز دھار والا بھئی۔ مسنونہ کہتے ہیں: تیز دھار والا، بھئی۔ مراد تیر ہیں، موصوف محذوف ہے مولانا: ”سِهَامٌ مَسْنُونَةٌ“، موصوف محذوف ہے مولانا: تیر ہیں تیز دھار والے۔ ”زُرْقٌ“ جمع ہے ازرق کی، ازرق کہتے ہیں صاف و شفاف، ازرق کہتے ہیں: صاف و شفاف۔ ”أَنْيَابِ“ جمع ہے ناب کی، ناب کہتے ہیں کچلی کا دانت، یہ ایک دانت ہے مولانا، لمبا ذرا دانت جو ہے، نوکیلا دانت مولانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کچلی کا دانت بھئی، ناب بھئی۔ ”أَغْوَالِ“ جمع ہے غول کی، اغوال جمع ہے غول کی، یہ کہتے ہیں بلا کو، بھوت کو، جن کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا مجھے وہ شخص قتل کر دے گا حالانکہ مشرفی تلواریں میرے پہلو میں ہیں، ”وَمَسْنُونَةٌ“، اور کیا ہیں؟ اور تیز دھار والے تیر ہیں، ”زُرْقٌ“، صاف و شفاف یعنی چمکدار ہیں، تیز مولانا، جو تیز ہوگا تیر وغیرہ نوک، اس کے آگے جو لوہا ہوگا وہ کیا؟ چمک رہا ہوگا۔ اور تیز دھار والے چمکدار تیر ہیں، وہ کیا ہیں میرے؟ میرے پہلو لگانے کی جگہیں ہیں وہ چیزیں، ”كَأَنْيَابِ أَغْوَالِ“، وہ کس کی طرح ہیں مولانا، تیز دھار والے صاف و شفاف تیر کس کی طرح ہیں؟ ”كَأَنْيَابِ أَغْوَالِ“، بلاؤں کے دانتوں کی طرح ہیں۔ ”أَيْ أَيَقْتُلُنِي ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي يُوعِدُنِي فِي حُبِّ سَلْمَى“، کیا مجھے قتل کر دے گا وہ شخص جو مجھے دھمکیاں دیتا ہے سلمیٰ کی محبت میں؟ بھئی، یہ امرؤ القیس تھا، یہ سلمیٰ کسی شخص کی بیوی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ ہاں، یہ اس پر عاشق ہے مولانا، اور کیا… اب یہ اس کے خاوند کے بارے میں کہتا ہے کہ میں اگر اس پر عاشق ہوں تو کیا یہ مجھے قتل کر دے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا بھئی، میرے پاس ہر وقت کیا رہتی ہیں؟ مشرفی تلواریں رہتی ہیں اور زبردست قسم کے تیر رہتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ ”أَيَقْتُلُنِي ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي يُوعِدُنِي فِي حُبِّ سَلْمَى وَالْحَالُ“، اور حال یہ ہے مولانا، ”أَنَّ مَضَاجِعِي“، معلوم ہوا ”وَالْمَشْرَفِيُّ“ جملہ حالیہ ہے، حال یہ ہے ”أَنَّ مَضَاجِعِي“، کہ میرے پہلو لگانے کی جگہیں جو ہیں ”سَيْفٌ مَنْسُوبٌ إِلَى مَشَارِفِ الْيَمَنِ“، وہ تلواریں ہیں جن کی نسبت کس کی طرف ہے؟ مشارف الیمن، یہ یمن میں علاقے ہیں کچھ مولانا، یہ کچھ بلند ہے یمن سے تو اس کو مشارف الیمن کہتے ہیں بھئی۔ ”وَسِهَامٌ مُحَدَّدَةٌ“، اور ایسے تیر ہیں، ”حَدَّدَ يُحَدِّدُ“ کا معنیٰ تیز ہونا، تیز، وہی مسنونہ کا ترجمہ کر رہے ہیں: ایسے تیر ہیں محددۃ تیز ہیں، ”النِّصَالِ“، کیا چیز ان کی؟ نِصال نَصل کی جمع ہے، یہ کہتے ہیں نیزے یا تیر کا جو پھل ہوتا ہے، اگلا حصہ، تیر کی انی مولانا یا اس کی نوک مولانا۔ تیز نوک والے، تیز پھل والے تیر ہیں مولانا، ”صَافِيَةٌ مَجْلُوَّةٌ“، صاف ہیں مولانا، مجلوۃ چمکائے ہوئے ہیں، صاف ہیں، چمکائے ہوئے تیر۔ ”وَأَنْيَابُ الْأَغْوَالِ مِمَّا لَا يُدْرِكُهُ الْحِسُّ لِعَدَمِ تَحَقُّقِهَا“، اچھا جی، اور بلاؤں کے جو دانت ہیں ان چیزوں میں سے ہیں جس کا ادراک حِس نہیں کرتی اس لیے کہ ان کا تو ثبوت ہی نہیں ہے، ”مَعَ أَنَّهَا لَوْ أُدْرِكَتْ لَمْ تُدْرَكْ إِلَّا بِحِسِّ الْبَصَرِ“، باوجود اس کے کہ اگر ان کا ادراک ہوتا یعنی ممکن ہوتا، تو نہ ہوتا ادراک مگر کس کے ساتھ؟ حِسِ بصر ہی سے ان کا ادراک ہوتا۔ ”وَمِمَّا يَجِبُ“، اور وہ چیز… جی، یہاں سے وہی بات کر رہے ہیں مولانا، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ ایک قوتِ متفکرہ ہوتی ہے، قوتِ متفکرہ کیا کرتی ہے؟ جوڑ اور توڑ کرتی ہے، وہی اب بات علامہ تفتازانی آپ کو بتلانے لگے ہیں۔ ”وَمِمَّا يَجِبُ أَنْ يُعْلَمَ هَاهُنَا أَنَّ مِنَ الْقُوَى“، اور ان چیزوں میں سے واجب ہے ان کا جاننا اس مقام کے اندر مولانا، ”أَنَّ مِنَ الْقُوَى قُوَى الْإِدْرَاكِ مَا يُسَمَّى مُتَخَيِّلَةً وَمُفَكِّرَةً“، کہ قوتوں میں سے مولانا، ادراک کی قوتوں میں سے وہ چیز ہے ایک قوت ہے، ادراک کی قوتوں میں سے ایک قوت کون سی ہے؟ متخیلہ ہے اور مفکرہ ہے، یہ اسی کے نام ہیں مولانا۔ ”وَمِنْ شَأْنِهَا تَرْكِيبُ الصُّوَرِ وَالْمَعَانِي“، اور اس کی شان کیا ہے؟ اس کی حالت کیا ہے؟ وہ کیا کرتی ہے؟ خیال سے صورتیں لیتی ہے اور وہم سے کیا لیتی ہے؟ معانی لیتی ہے، اور ان کو جوڑتی ہے۔ ترکیب کا کیا معنی؟ جوڑنا۔ ”وَتَفْصِيلُهَا“، اور ”فَصَّلَ يُفَصِّلُ تَفْصِيلًا“ کا معنی جدا کرنا، تو ان کو جوڑتی ہے اور ان کو توڑتی ہے، جدا کرتی ہے، ”وَالتَّصَرُّفُ فِيهَا وَاخْتِرَاعُ أَشْيَاءَ لَا حَقِيقَةَ لَهَا“، اور ان میں تصرف کرتی ہے اور ایسی چیزیں گھڑتی ہے مولانا جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ”فَالْمُرَادُ بِالْخَيَالِيِّ الْمَعْدُومُ الَّذِي رَكَّبَتْهُ الْمُتَخَيِّلَةُ مِنَ الْأُمُورِ الَّتِي أُدْرِكَتْ بِالْحَوَاسِّ الظَّاهِرَةِ“، خیالی سے مراد وہ معدوم ہے جس کو ترکیب دیا ہو متخیلہ نے ایسی چیزوں سے جن کا ادراک کس سے ہوا تھا؟ حواسِ ظاہرہ سے۔ بھئی، خیالی کس کو کہتے ہیں؟ خیالی وہ چیز ہے جو ان چیزوں سے بنی ہو جن کا ادراک آپ نے کس سے کیا تھا؟ حواسِ ظاہرہ سے۔ ”وَبِالْوَهْمِيِّ مَا اخْتَرَعَتْهُ الْمُتَخَيِّلَةُ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا“، اور وہمی سے مراد وہ ہے جس کو گھڑا ہو، اختراع کیا ہو، بنایا ہو کس نے؟ قوتِ متخیلہ نے اپنی طرف سے۔ ”كَمَا إِذَا سَمِعَ أَنَّ الْغُولَ شَيْءٌ يُهْلِكُ النَّاسَ كَالسَّبُعِ“، جیسے کہ کسی نے سنا کہ بلا کیا ہے؟ ایک چیز ہے، لوگوں کو ہلاک کرتی ہے کس کی طرح؟ درندے کی طرح۔ ”فَأَخَذَتِ الْمُتَخَيِّلَةُ فِي تَصْوِيرِهَا بِصُورَةِ السَّبُعِ“، تو شروع ہو گئی قوتِ متخیلہ اس بلا کی صورت بنانے لگی۔ قوتِ واہمہ نے کیا کرنا شروع کر دیا؟ بلا کی صورت بنانے لگی درندے کی صورت، ”وَاخْتِرَاعِ نَابٍ لَهَا كَمَا لِلسَّبُعِ“، اور اس کے لیے کس چیز کو گھڑنے لگی؟ دانت گھڑنے کے ساتھ جیسے کس کے ہوتے ہیں؟ درندے کے ہوتے ہیں۔ ”وَمَا يُدْرَكُ بِالْوِجْدَانِ“، اور وہ بھی عقلی میں داخل ہو گئے جن کا ادراک وجدان سے ہوتا ہے، ”أَيْ دَخَلَ أَيْضًا فِي الْعَقْلِيِّ مَا يُدْرَكُ بِالْقُوَى الْبَاطِنَةِ وَيُسَمَّى وِجْدَانِيَّاتٍ“، اور داخل ہوا عقلی کے اندر وہ چیز بھی جس کا ادراک قویٰ باطنہ سے ہوتا ہے، باطنی قوتوں سے ہوتا ہے اور اس کا نام کیا ہے؟ وجدانیات۔ بھئی، وجدان کا ادراک حواسِ ظاہرہ سے ہوتا ہے یا باطنہ سے؟ باطنہ سے، یہی بات کر رہے ہیں کہ ادراک ہوتا ہے قوۃِ باطنہ سے۔ ”كَاللَّذَّةِ“، جیسے لذت ہے مولانا، ”وَهِيَ إِدْرَاكٌ“، یہ پانا ہے، ”وَإِدْرَاكٌ وَنَيْلٌ“، ادراک اور نیل کا ایک معنیٰ ہے، وہ ادراک کرنا ہے اور حاصل کرنا ہے، ”لِمَا هُوَ عِنْدَ الْمُدْرِكِ كَمَالٌ وَخَيْرٌ“، اس چیز کو جو مدرک کے نزدیک کیا ہوتی ہے؟ کمال اور خیر ہوتی ہے۔ وہ چیز جس میں کمال ہو اور جو خیر ہو مولانا، ”مِنْ حَيْثُ هُوَ كَذَلِكَ“، اس حیثیت سے کہ وہ ایسی ہی ہو، اس حیثیت سے کہ وہ ایسی ہی ہو۔ تو وہ ادراک کرتی ہے مولانا، وہ چیز جس میں کمال ہو اور جس کمال اور خیر کا ادراک کرے گی تو نفس کو کیا حاصل ہوگی؟ لذت حاصل ہوگی مولانا۔ تو لذت نام ہے ادراک کا، کون سا ادراک مولانا؟ کمال اور خیر کا ادراک، کمال اور خیر کا ادراک، اس سے کیا حاصل ہوگی؟ لذت حاصل ہوتی ہے۔ کس کے؟ قوت کے، وہ جس قوت جس نے اس کا ادراک کیا، اس کے نزدیک۔ اور اس حیثیت سے کہ وہ ایسا ہی ہو، یعنی اس میں کمال اور خیر ہی ہو۔ دیکھو، یہ ”مِنْ حَيْثُ هُوَ كَذَلِكَ“ کی قید اس لیے لگائی کہ بسا اوقات حیثیت بدلنے سے کمال اور خیر ختم ہو جاتا ہے۔ مثلاً عِطر ہے مولانا، عِطر کو سونگھیں تو بڑی خوشبو، لذت محسوس ہوگی۔ لیکن اسی عِطر کو زبان پہ ذرا لگائیں آپ مولانا، لذت محسوس ہوگی بھئی؟ نہیں ہوگی۔ تو دیکھو حیثیت بدل گئی تو لذت کس سے بدل گئی؟ تکلیف سے بدل گئی بھئی۔ اسی لیے کہا: ”مِنْ حَيْثُ هُوَ كَذَلِكَ“، اس حیثیت سے کہ وہ ایسی ہی ہو، خیر اور کمال ہی ہو۔ ”وَالْأَلَمِ“، اور الم ہے جیسے تکلیف، ”وَهُوَ إِدْرَاكٌ وَنَيْلٌ لِمَا هُوَ عِنْدَ الْمُدْرِكِ آفَةٌ وَشَرٌّ مِنْ حَيْثُ هُوَ كَذَلِكَ“، وہ ادراک اور حصول ہے اس چیز کا جو مدرک کے نزدیک آفت ہے اور شر ہے، اس حیثیت سے کہ وہ ایسی ہی ہو۔ ”وَلَا يَخْفَى أَنَّ إِدْرَاكَ هَذَيْنِ الْمَعْنَيَيْنِ لَيْسَ بِشَيْءٍ مِنَ الْحَوَاسِّ الظَّاهِرَةِ“، بھئی، لذت کا ادراک حواسِ ظاہرہ سے ہوتا ہے؟ لذت کا ادراک حواسِ ظاہرہ سے ہوتا ہے؟ نہیں ہوتا۔ لذت خارج میں نظر آتی ہے آپ کو؟ تکلیف بھئی، تکلیف خارج میں نظر نہیں آتی، یہ تو ایک نفسانی کیفیت ہے مولانا۔ یہی بات کر رہے ہیں: ”وَلَا يَخْفَى أَنَّ إِدْرَاكَ هَذَيْنِ الْمَعْنَيَيْنِ“، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ ان دو معنوں کا ادراک، کون مولانا؟ لذت اور الم، ”لَيْسَ بِشَيْءٍ مِنَ الْحَوَاسِّ الظَّاهِرَةِ“، یہ حواسِ ظاہرہ میں سے ان کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ ”وَلَيْسَ أَيْضًا مِنَ الْعَقْلِيَّاتِ الصِّرْفَةِ“، اور عقلیاتِ محضہ میں سے بھی یہ نہیں ہیں۔ ”لِكَوْنِهِمَا مِنَ الْجُزْئِيَّاتِ الْمُسْتَنِدَةِ إِلَى الْحَوَاسِّ“، کیوں؟ اس لیے کہ یہ دونوں جو ہیں ان جزئیات میں سے ہیں جن کی نسبت کس کی طرف ہے؟ حواس کی طرف ہے۔ ”بَلْ مِنَ الْوِجْدَانِيَّاتِ الْمُدْرَكَةِ بِالْقُوَى الْبَاطِنَةِ“، بلکہ کس میں سے ہے؟ وجدانیات میں سے ہے جن کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ قویٰ باطنہ میں سے، ”كَالشِّبَعِ“، جیسے سیر ہونا مولانا، کھانے سے جی بھرنا۔ ”كَالشِّبَعِ“، جی بھرنا کھانے سے، ”وَالْجُوعِ“، یہ سارے مولانا وجدانیات ہیں: سیر ہونے کا پتہ کس سے چلے گا؟ وجدان سے۔ جوع، بھوک کا پتہ کس سے چلے گا؟ وجدان سے۔ فرح خوشی، غم، غضب، خوف، ”وَمَا شَاكَلَ ذَلِكَ“، اور جو ان کے مشاکل ہو، جو ان جیسی ہو۔ تو یہاں انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ جو دو معنی ہیں: لذت اور الم، ان کے ادراک میں حواسِ ظاہرہ کا دخل نہیں ہے، اور عقل کا بھی دخل نہیں ہے کیونکہ عقل تو ادراک کرتی ہے کلیات کا، اور یہ تو کیا ہیں؟ جزئیات ہیں مولانا۔ کسی خبر سے آپ کو خوشی مل رہی ہے، کسی بات سے خوشی مل رہی ہے تو یہ کلی ہے یا جزئی ہے مولانا؟ جزئی ہے مولانا۔ اور یہ اس کا ادراک حواسِ باطنہ سے ہوتا ہے، بلکہ کس سے ہوتا ہے؟ وجدان، قوتِ وجدان سے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ محض عقلیات میں سے بھی نہیں ہیں کیونکہ یہ جزئیات ہیں اور عقل کس کا ادراک کرتی ہے؟ کلیات کا۔ ”وَالْمُرَادُ هَاهُنَا اللَّذَّةُ وَالْأَلَمُ الْحِسِّيَّانِ“، بھئی، لذت اور الم دو قسم پر ہیں: ایک حسی ہے، ایک عقلی ہے۔ لذت اور الم کیا ہیں؟ ایک حسی ہے، ایک عقلی ہے۔ بھئی، لذت اور الم خود تو عقلی ہی ہے مولانا، وجدانیات میں سے ہے، لیکن حاصل اگر حسی سے ہو رہا ہے تو کیا کہیں گے؟ حسی ہے، اور اگر حاصل عقلی سے ہو رہا ہے تو کیا کہیں گے؟ عقلی۔ تو کہہ رہے ہیں یہاں: ”وَالْمُرَادُ هَاهُنَا اللَّذَّةُ وَالْأَلَمُ الْحِسِّيَّانِ“، حسی الم اور لذت مراد ہیں۔ ”وَإِلَّا فَاللَّذَّةُ وَالْأَلَمُ الْعَقْلِيَّانِ مِنَ الْعَقْلِيَّاتِ الصِّرْفَةِ“، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ لذت اور الم جو عقلی ہیں وہ صرف کس میں سے ہیں؟ عقلیات میں سے ہیں۔ بھئی، الم اور لذت دو قسم پر ہیں: ایک وہ ہے جس کا ادراک مدرِک حِس ہو اور مدرَک بھی کس سے متعلق ہو؟ حِس سے۔ اور ایک وہ جو مدرِک عقل ہو اور مدرَک بھی کیسا ہو؟ عقل ہو۔ اگر مدرِک اور مدرَک حسی ہیں تو اس سے جو لذت حاصل ہوئی اس کو کیا کہیں گے؟ لذتِ حسی۔ اگر مدرِک اور مدرَک کس میں سے ہوں؟ عقلی میں سے ہوں، اس کو کیا کہیں گے؟ عقلی۔ مثلاً آپ نے عِطر سونگھا، خوشبو آئی، اس سے آپ کو کیا محسوس ہوئی؟ لذت۔ تو یہ سونگھنا کس میں سے ہے؟ حسی میں سے۔ تو مدرِک اس کا کون ہوا؟ حِسِ مشترک۔ حِسِ مشترک کا بھی پتہ ہے یا بھول گئے ہیں آپ سارا؟ جی، حِسِ مشترک بھئی، حواسِ خمسہ ظاہرہ جس کس میں جا کر گرتے ہیں؟ حِسِ مشترک ان کا مرکز ہے۔ تو حِسِ… یا یوں کہیں حواس کے ذریعے اس کا ادراک ہوا مولانا، اس خوشبو کا، اور اس کی وجہ سے جو لذت پیدا ہوئی وہ کون سی ہے؟ لذتِ حسی ہے۔ اور کبھی کبھار عقلی چیزوں سے، مثلاً مثال کے طور پر کیا؟ جیسے آپ کو علم کی فضیلت کا احساس ہوا اور خوشی ہوئی۔ کیا ہوا؟ آپ کو علم کی فضیلت کا احساس ہوا مولانا اور خوشی ہوئی مولانا۔ اب یہ کس میں سے ہے؟ یہ عقلی میں سے ہے، یہ لذت جو آئی اس سے وہ کون سی ہے؟ عقلی ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بس مولانا، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔