کل مولانا، ہم نے بحث شروع کی تھی تشبیہ کے بارے میں۔ تشبیہِ لغوی اور تشبیہِ اصطلاحی کی تعریف آپ نے پڑھی، بھئی۔ تشبیہِ لغوی کس کو کہتے ہیں؟ ”الدَّلَالَةُ عَلَى مُشَارَكَةِ أَمْرٍ لِأَمْرٍ آخَرَ فِي مَعْنًى“، دلالت کرنا اس بات پر کہ ایک امر شریک ہے دوسرے امر کے ساتھ کسی معنیٰ یعنی صفت کے اندر۔ اور اصطلاح میں کہتے ہیں… اصطلاح میں تین قیود کا اضافہ ہے کہ: ”لَا عَلَى وَجْهِ الِاسْتِعَارَةِ التَّحْقِيقِيَّةِ“ ”وَلَا عَلَى وَجْهِ الِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ“ ”وَلَا عَلَى وَجْهِ التَّجْرِيدِ“ نہ ہو، بھئی۔ پھر انہوں نے بحث کی اس کی طرفین میں سب سے پہلے، بھئی۔ اور طرفین جو ہیں وہ یا تو دونوں حسی ہوں گے، یا دونوں عقلی ہوں گے، یا ایک حسی ہوگا اور ایک عقلی ہوگا مولانا۔ اور دونوں اگر مختلف ہوں، یعنی کبھی مشبہ حسی ہوگا مشبہ بہٖ عقلی ہوگا، یا کبھی مشبہ عقلی ہوگا مشبہ بہٖ حسی ہوگا۔ جیسے موت کی تشبیہ دینا درندے سے، اب موت جو ہے وہ عقلی ہے اور درندہ حسی ہے۔ یا اس کا عکس ہوگا کہ عِطر کی تشبیہ دینا خُلقِ… ایک سخی شخص کے اخلاق کے ساتھ، بھئی۔ تو عِطر جو ہے محسوس ہے اور مشبہ بہٖ خُلقِ کریم جو ہے وہ کیا ہے؟ عقلی ہے، بھئی۔ اس لیے کہ وہ بدن کی، نفس کی ایک کیفی… نفس کی ایک کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے نیک، اچھے، ممدوح افعال بسہولت ہوتے ہیں، بھئی۔ اور یہاں پر ایک اعتراض ہوا تھا کہ بھئی، اصل تو حسی ہے، وہ قوی ہے، اور جو عقلی ہے وہ اس کے مقابلے میں ضعیف ہے، اور قوی کی تشبیہ ضعیف کے ساتھ نہیں دی جاتی بلکہ ضعیف کی تشبیہ کس کے ساتھ دی جاتی ہے؟ قوی کے ساتھ۔ تو انہوں نے بتلایا تھا کہ یہاں ہم جو ہے اس عقلی کو حسی کے درجے میں اتار لیتے ہیں مبالغے کے طور پر، اور پھر اس… تو اب دونوں حسی جب ہو گئے تو اب حسی کی تشبیہ کس سے آ گئی؟ حسی سے آ گئی۔ جی۔ اور پھر حسی کی انہوں نے تعریف کی تھی کہ حسی وہ ہے کہ وہ اس کا ادراک یا اس کے مادے اور اجزاء کا ادراک کس سے ہو سکے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہو۔ تو یہ جو انہوں نے قید بڑھائی کہ اس کے مادے کا بھی یعنی اس کے اجزاء کا ادراک بھی ہو سکے حواس سے، تو اس سے خیالی بھی داخل ہوا مولانا۔ خیالی وہ چیز جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں، لیکن اس کے جو اجزاء آپ نے جن اجزاء سے اس کو ترتیب دیا ہے وہ سارے کیا ہیں؟ محسوس بالح… محسوس ہیں مولانا، حواسِ خمسہ ظاہرہ سے۔ جیسے کہ شاعر نے تشبیہ دی تھی مولانا، کس کو؟ گلِ لالہ جو ہے جو ہوا میں لہلہا رہا ہے، سرخ رنگ کا پھول سبز رنگ کی ڈنڈی پر، اس کی تشبیہ دی تھی سرخ یاقوت کے جھنڈوں کے ساتھ جو پھیلائے ہوئے ہوں زبرجد کے نیزوں پر، بھئی۔ اب یہ سرخ یاقوت کے جھنڈے زبرجد کے نیزوں پر پھیلے ہوئے لہلہا رہے ہوں، بھئی، یہ تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا، بھئی۔ لیکن البتہ اس خیالی چیز ہے، البتہ اس کے جو اجزاء ہیں سارے کے سارے: نیزے ہیں، زبرجد ہے، یاقوت ہے، جھنڈے ہیں، سارے کے سارے کیا ہیں؟ ان کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ حواس سے ہوتا ہے، بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں وہمی ہے مولانا۔ وہمی بھی اسی طرح خیالی چیز ہوتی ہے لیکن اس کے اجزاء جو ہیں مدرک بالحس نہیں ہوئے کبھی بھی، بھئی۔ ہاں، یہ بات ہے اگر کبھی ادراک ممکن ہو ان کا تو ادراک کس سے ہوگا؟ حواس ہی سے ہوگا، لیکن ہوا نہیں کبھی ادراک، بھئی۔ جیسے مولانا، اس قول کے اندر تھا: ”أَيَقْتُلُنِي وَالْمَشْرَفِيُّ مَضَاجِعِي وَمَسْنُونَةٌ زُرْقٌ كَأَنْيَابِ أَغْوَالِ“۔ کیا وہ شخص مجھے قتل کر دے گا اور مشرفی تلواریں جو ہیں وہ میرے پ… وہ میرا پہلو ہیں، میرے پہلو کی جگہ ہیں، اور تیز دھار والے صاف و شفاف تیر ہیں ”كَأَنْيَابِ أَغْوَالِ“، جیسے بلاؤں کے دانت ہوتے ہیں۔ اب بلائیں اور بلاؤں کے دانت، ان کا ادراک کبھی ہوا نہیں مولانا، تو یہ ایک وہمی اور خیالی چیز ہے۔ ہاں، البتہ اگر اس کا ادراک کبھی ممکن ہوا تو کس سے ہوگا ادراک؟ حواس، ہاں، بصر سے ہی ہوگا مولانا۔ جی۔ پھر علامہ تفتازانی نے یہاں آپ کو قوتِ مفکرہ کے بارے میں بتلایا کہ قوتِ مفکرہ کیا کرتی ہے؟ یہ جوڑ توڑ والا سارا کام اور خیالی چیزیں کون بناتی ہے؟ قوتِ مفکرہ، اور قوتِ متخیلہ اسی کا نام ہے۔ یہ بناتی ہے مولانا، جی، جیسے کہتے ہیں اس نے یہ بلا کی صورت اس نے اپنی طرف سے بنائی، حالانکہ اس کو دیکھا نہیں، لیکن اس نے اتنا سنا ایک شخص نے کہ بلا ایک چیز ہوتی ہے جو لوگوں کو ہلاک کرتی ہے، تو وہ قوتِ واہمہ اس کی صورت بنانا شروع کر دیتی ہے کس کی؟ درندے کی صورت میں۔ اور اسی طرح مولانا، تو اس میں داخل ہوئے عقلی جو ہے، عقلی کے اندر کون؟ وہمی بھی داخل ہوا اور اسی طرح وجدان کے ساتھ جن کا ادراک ہوتا ہے وہ بھی داخل ہوئے۔ وجدان ایک قوت ہے بدن کے اندر جو صفاتِ نفس کا ادراک کرتی ہے مولانا، جیسے بھوک ہے، پیاس ہے، خوشی، غم، خوف، تکلیف وغیرہ۔ جی۔ تو لذت جو ہے، لذت جو ہے یہ ادراک ہے مدرِک یعنی اس قوت کا کس چیز کا؟ ایسی چیز جو اس کے نزدیک کمال اور خیر ہے۔ اس کے نزدیک کمال اور خیر، جس چیز میں کمال اور خیر ہو اس کے ادراک کرنے سے اس کو یہ لذت میں… لذت محسوس کریں گے آپ۔ ”وَالْأَلَمُ“، اور اسی طرح وہ چیز جو آفت اور شر ہے مولانا، اس کے ادراک کے اندر کیا محسوس ہوگا؟ الم محسوس ہوگا بھئی، تکلیف محسوس ہوگی۔ اور کہتے ہیں کہ یہ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ساتھ ظاہری ہے، یہ بات آپ کے… واضح ہے کہ ان کا تعلق حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں ہوتا مولانا۔ اور یہ صرف عقلیات میں سے بھی نہیں ہیں کیونکہ عقل ادراک کرتی ہے کلیات کا، اور یہ سارے کیا ہیں؟ جزئیات ہیں، بھئی۔ بلکہ کہتے ہیں یہ دو قسم پر ہیں: بعض صرف حسی ہیں اور بعض صرف کیا ہیں؟ عقلی ہیں مولانا۔ یعنی حِسِ باطن بعض کا ادراک کرتی ہے اور بعض کا جی… جی، بعض کا حواسِ خمسہ باطنہ ادراک کرتے ہیں اور بعض کا عقل ادراک کرتی ہے، یعنی عقلیِ محض ہیں بعض اور بعض حسیِ محض ہیں۔ حسیِ محض کا معنیٰ یہ ہے جن کا ادراک حواسِ خمسہ باطنہ کرتے ہیں۔ اور عقلیِ محض وہ جس کا جو کلی ہیں، جن کا ادراک صرف کون کرتی ہے؟ عقل کرتی ہے۔ اس لیے کہ آپ نے پڑھا تھا: عقل کلیات کا بھی ادراک کرتی ہے، جزئیات کا بھی کرتی ہے، لیکن کلیات کا بالذات کرتی ہے اور جزئیات کا بالواسطہ کرتی ہے، بھئی۔ تو بعض صرف عقلی ہیں، یعنی وہ ادراک بھی عقل نے کیا اور وہ ہیں بھی کلی، وہ ہیں بھی کلی۔ اور بعض جزئیات ہیں تو ان کا ادراک بھی عقل نہیں کرے گی اور کون کریں گے؟ حواسِ خمسہ باطنہ۔ تو مدرِک بھی کون ہوا؟ حواسِ خمس… عقل نہ ہوئی مولانا، کون ہے؟ حواسِ خمسہ باطنہ، اور مدرَک جو ہے وہ بھی جزئی ہونے کی وجہ سے عقلی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ حسی ہی میں داخل ہوا۔ یہ بحث ختم ہوئی مولانا، کس کی تھی؟ مشبہ اور مشبہ بہٖ، طرفین جو تھے ان کی بحث ختم ہوئی۔ اب وجہِ تشبیہ کی بات آئی مولانا: وجہِ تشبیہ۔ ”وَوَجْهُهُ أَيْ وَجْهُ التَّشْبِيهِ مَا يَشْتَرِكَانِ فِيهِ“، وجہِ تشبیہ جو ہے، ”مَا“، یہ مراد معنیٰ ہے مولانا اس کا، مدلول معنیٰ ہے، وہ معنیٰ ہے ”يَشْتَرِكَانِ فِيهِ“، جس کے اندر مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں کیا ہوں؟ مشترک ہوں۔ ”أَيْ فِي الْمَعْنَى الَّذِي قُصِدَ اشْتِرَاكُ الطَّرَفَيْنِ فِيهِ“، یعنی اس معنیٰ میں جس میں ارادہ کیا گیا ہے طرفین کے شریک ہونے کا۔ یعنی وجہِ تشبیہ وہ معنیٰ ہے مولانا جس میں دونوں طرفین کے شریک ہونے کا کیا کیا گیا ہے؟ ارادہ کیا گیا ہے۔ یہ ”قُصِدَ“ کا لفظ علامہ تفتازانی نے بڑھایا، بھئی۔ اس لیے کہتے ہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہٖ میں اور بھی بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن میں دونوں شریک ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کہا: ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ“، تو آپ نے زید میں اور اس… زید کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ، کس چیز میں؟ بہادری میں۔ تو آپ کا ارادہ تشبیہ دینے کا صرف بہادری میں ہے، اگرچہ اور بھی بہت سی چیزوں میں زید اور شیر میں مماثلت ہے، مشارکت ہے مولانا۔ مثلاً شیر کی دو آنکھیں ہیں، زید کی بھی دو آنکھیں ہیں؛ بھئی، شیر کے دو کان ہیں، زید کے بھی دو کان ہیں؛ اسی طرح شیر کا ایک منہ ہے، زید کا بھی ایک منہ ہے؛ تو بہ… شیر کا ایک، شیر کا جسم ہے، زید کا بھی جسم ہے؛ تو بہت سی چیزیں ہیں جن کے اندر دونوں شریک تھے، لیکن ارادہ کس کے ساتھ متعلق ہے؟ صرف بہادری کے ساتھ، بھئی۔ اسی لیے انہوں نے ”قُصِدَ“ کا لفظ بڑھایا: وہ معنیٰ ہے جس کے اندر ارادہ کیا گیا ہے طرفین کے شریک ہونے کا۔ ”وَذَلِكَ“، اور بیان اس کا یہ ہے، ”وَبَيَانُ ذَلِكَ“، بیان اس کا یہ ہے مولانا: ”لِأَنَّ زَيْدًا وَالْأَسَدَ يَشْتَرِكَانِ“، اس لیے کہ زید اور اسد دونوں جو ہیں شریک ہیں بہت سی ذاتیات وغیرہ کے اندر، جیسے حیوانیت میں بھی شریک ہیں، جسمیت میں بھی شریک ہیں، وجود میں بھی شریک ہیں، اور اس کے علاوہ بھی۔ ”مَعَ أَنَّ شَيْئًا مِنْهَا لَيْسَ وَجْهَ الشَّبَهِ“، باوجود اس کے کہ ان میں سے کوئی بھی چیز وجہِ شبہ نہیں ہے، کیونکہ ان میں سے کسی میں شرکت کے بتلانے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ ”وَذَلِكَ الِاشْتِرَاكُ يَكُونُ تَحْقِيقًا أَوْ تَخْيِيلًا“، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں مولانا، کہ وہ جو اشتراک ہے وہ حقیقتاً ہوگا یا خیالی ہوگا مولانا۔ حقیقتاً کا یہ معنیٰ کہ نفس الامر اور خارج میں بھی وہ صفات ان دونوں میں موجود ہوں گی یا دونوں میں موجود نہیں ہوں گی ظاہر کے اعتبار سے۔ ”وَالْمُرَادُ بِالتَّخْيِيلِ“، تو کہتے ہیں یہ اشتراک یا تحقیقی ہوگا یا تخییلی، اور تخییلی سے مراد یہ ہے: ”أَنْ لَا يُوجَدَ ذَلِكَ الْمَعْنَى فِي أَحَدِ الطَّرَفَيْنِ أَوْ فِي كِلَيْهِمَا إِلَّا عَلَى سَبِيلِ التَّخْيِيلِ وَالتَّأْوِيلِ“، کہ نہ پایا جائے وہ معنیٰ کسی ایک جانب یا دونوں جانب مگر کس طریقے پر؟ خیال اور تاویل کے طریقے پر۔ دونوں طرف یا ایک طرف خیالی ہے وہ معنیٰ۔ ”كَمَا فِي قَوْلِهِ“، جیسے اس شعر کے اندر ہے:
”وَكَأَنَّ النُّجُومَ بَيْنَ دُجَاهَا“
”سُنَنٌ لَاحَ بَيْنَهُنَّ ابْتِدَاعُ“ گویا کہ ستارے ”بَيْنَ دُجَاهَا“، تاریکیوں میں، رات کی تاریکیوں میں، گویا کہ ستارے رات کی تاریکیوں میں، ”سُنَنٌ“، سنتیں ہیں، ”لَاحَ بَيْنَهُنَّ ابْتِدَاعُ“، کہ جن کے درمیان بدعتیں چمک رہی ہیں۔ یہاں قلب ہے مولانا، اس شعر، مصرعِ ثانی میں: چمکتی سنت ہے یا بدعت ہے مولانا؟ سنت چمکتی ہے۔ تو یہاں اصل میں ہے، کس طرح؟
”سُنَنٌ… ابْتِدَاعٌ لَاحَ بَيْنَهُنَّ سُنَنٌ“، بھئی۔ بدعتیں جن کے درمیان کیا چمک رہی ہیں؟ سنتیں چمک رہی ہیں، بھئی۔ تو یہ قلب ہے مصرعِ ثانی میں، یہ آگے جا کر علامہ تفتازانی بھی آپ کو بتلائیں گے، بھئی۔ جی۔ گویا کہ ستارے رات کی تاریکیوں میں، وہ اسی طرح ہیں جیسے سنتیں بدعتوں میں چمک رہی ہوں۔ تشبیہ سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ کس کی تشبیہ دے رہے ہیں؟ ستارے، کس میں؟ رات کی تاریکی میں۔ اس کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ سنتوں کے ساتھ، کس میں؟ بیچ کس کے؟ بدعتوں کے بیچ، بھئی، بدعتوں کے بیچ۔ دیکھیے بھئی اب:
”كَأَنَّ النُّجُومَ بَيْنَ دُجَاهَا جَمْعُ دُجْيَةٍ“، یہ دُجیٰ جمع ہے دُجیۃ کی، ”وَهِيَ الظُّلْمَةُ“، اور یہ کس کو کہتے ہیں؟ تاریکی کو کہتے ہیں۔ ”وَالضَّمِيرُ لِلَّيْلِ“، اور ضمیر یہ ”دُجَاهَا“ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ رات کی طرف، جو گزشتہ شعر میں ہے مولانا۔ ”وَرُوِيَ دُجَاهَا“، کہتے ہیں: بعض روایت اس شعر کی ”دُجَاهَا“، مؤنث کی ضمیر کے ساتھ آیا ہے بعض روایتوں میں۔ اس صورت میں ”وَالضَّمِيرُ لِلنُّجُومِ“، ضمیر کس کو لوٹے گی؟ ستاروں کو لوٹے گی۔ ”سُنَنٌ لَاحَ بَيْنَهُنَّ ابْتِدَاعُ“، سنتیں ہیں، روشن ہیں ان کے بیچ میں بدعت، بھئی، یہ قلب ہے اس میں، میں نے آپ کو بتلایا۔ ”فَإِنَّ وَجْهَ الشَّبَهِ فِيهِ“، اس لیے کہ وجہِ شبہ ان دونوں کے بیچ میں، اس میں یعنی ”فِي هَذَا التَّشْبِيهِ“، اس تشبیہ کے اندر، ”هُوَ الْهَيْئَةُ الْحَاصِلَةُ“، وہ ہیئت… دیکھو بھئی، یہاں تشبیہ دے رہے ہیں ایک ہیئت کی دوسری ہیئت کے ساتھ۔ پہلی ہیئت کیا ہے؟ تاریک، تاریک… تاریکی کے بیچ میں کوئی چمکدار چیز ہو، اس کی تشبیہ… جی؟ ہاں، یہ وجہِ تشبیہ ہے کہ جیسے ستاروں کے اندر ہے مولانا، تاریکی ہوتی ہے اور درمیان میں ستارے روشن۔ اسی طرح سنتیں اور بدعتوں کی مثال ہے مولانا: بدعتوں کی مثال تاریکی اور اس کے بیچ میں کیا روشن ہیں؟ سنتیں روشن ہیں۔ تو یہ ہے ہیئت جو حاصل ہوئی مولانا، دیکھیے:
”هُوَ الْهَيْئَةُ الْحَاصِلَةُ مِنْ حُصُولِ أَشْيَاءَ مُشْرِقَةٍ بِيضٍ فِي جَوَانِبِ شَيْءٍ مُظْلِمٍ أَسْوَدَ“، وہ ہیئت جو حاصل ہو رہی ہے کس سے مولانا؟ ایسی چیزوں سے ”مُشْرِقَةٍ“، جو روشن ہیں، ”بِيضٍ“، سفید ہیں، ”فِي جَوَانِبِ شَيْءٍ مُظْلِمٍ أَسْوَدَ“، ایسی چیزوں کے اطراف میں جو سیاہ، جو کیا ہیں؟ تاریک ہیں، مظلم تاریک، اسود سیاہ ہیں۔ ”فَهِيَ أَيْ تِلْكَ الْهَيْئَةُ غَيْرُ مَوْجُودَةٍ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ“، پس یہ جو ہیئت ہے مولانا، یہ مشبہ بہٖ کے اندر موجود نہیں ہے، ”أَعْنِي السُّنَنَ بَيْنَ الِابْتِدَاعِ“، یعنی کہ سنت بین الابتداع میں یہ موجود نہیں، بھئی۔ سنت، بھئی، حقیقت کے اندر چمکتی ہے؟ آنکھوں سے نظر آتی ہے، بھئی؟ نہیں، باہر نہیں، یہ خیالی ہے مولانا۔ تو یہ موجود نہیں ہے سنتوں میں مولانا، ”إِلَّا عَلَى طَرِيقِ التَّخْيِيلِ“، مگر کس طریقے پر؟ تخییل، خیال کے طریقے پر۔ یہ ”هُوَ“ ضمیر مشبہ بہٖ کو راجع ہے، بھئی۔ اور وہ مشبہ بہٖ کیا ہے؟ سنن۔ بھئی، انہوں نے خود کہا نا: ”فَهِيَ غَيْرُ مَوْجُودَةٍ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ“، یہ وجہِ تشبیہ مشبہ بہٖ کے اندر موجود نہیں، بھئی، اور مشبہ بہٖ کیا ہے؟ یہ متن ہے: ”وَهُوَ السُّنَنُ“، اور مشبہ بہٖ وہ سنتیں ہیں۔ علامہ تفتازانی نے تو پہلے ہی بتلا دیا آپ کو: ”أَعْنِي السُّنَنَ“، بھئی، کہ مشبہ بہٖ کیا ہے؟ سنن ہے۔ ”وَذَلِكَ“، اور یہ جو ہے، یعنی ”بَيَانُ ذَلِكَ“، بیان اس کا یہ ہے، کس کا بیان، بھئی؟ ”أَيْ بَيَانُ وُجُودِهَا فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ عَلَى طَرِيقِ التَّخْيِيلِ“، یہ جو مشبہ بہٖ کے اندر خیالی طریقے پر یہ ہیئت موجود ہے، اس کا بیان یہ ہے: ”أَنَّهُ“، الضمیر للشان، یہ ضمیر کس کی ہے؟ ضمیرِ شان ہے، کہ شان یہ ہے: ”لَمَّا كَانَتِ الْبِدْعَةُ وَكُلُّ مَا هُوَ جَهْلٌ تُجْعَلُ صَاحِبُهَا كَمَنْ يَمْشِي فِي الظُّلْمَةِ فَلَا يَهْتَدِي لِلطَّرِيقِ“، کہ جب بدعت اور ہر وہ چیز جو جہل ہے، قرار دیا جاتا ہے اس کے صاحب کو، اس کے کرنے والے کو اس شخص کی طرح جو چل رہا ہو کس کے اندر؟ تاریکی کے اندر، لہٰذا وہ راستے کی طرف رہنمائی نہیں پاتا۔ بھئی، جو بھی شخص بدعت کا ارتکاب کرتا ہے یا جہالت کا ارتکاب کرتا ہے، اس کو یوں قرار دیا جاتا ہے جیسے یہ شخص تاریکی میں چل رہا ہے اور کبھی بھی راستے کی طرف راستہ اس کو ملے گا، راستہ نہیں ملے گا۔ ”وَلَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يَنَالَ مَكْرُوهًا“، اور نہ ہی وہ مامون ہوگا اس بات سے، محفوظ ہوگا اس بات سے کہ حاصل ہو اس کو کوئی ناگوار چیز بھئی، کوئی ناگوار چیز کا سامنا کرنا پڑے، اس سے بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ”شُبِّهَتِ الْبِدْعَةُ بِهَا“، تو تشبیہ دی گئی بدعت کو ظلمت، کس کے ساتھ؟ تاریکی کے ساتھ، بھئی۔ بات تشبیہ سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ ”وَلَزِمَ بِطَرِيقِ الْعَكْسِ إِذَا أُرِيدَ التَّشْبِيهُ أَنْ تُشَبَّهَ السُّنَّةُ وَكُلُّ مَا هُوَ عِلْمٌ بِالنُّورِ“، اور لازم آیا برعکس طریقے پر، جب تشبیہ کا ارادہ کیا گیا کہ تشبیہ دیا جائے سنت کو اور ہر اس چیز کو جو علم ہے کس کے ساتھ؟ نور کے ساتھ۔ بھئی، جب آپ نے بدعت کو اور جہالت کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ تاریکی کے ساتھ، تو جیسے تاریکی کے اندر چلنے والا راستہ نہیں پاتا، اسی طرح جہالت اور بدعت پر چلنے والا بھی راستہ نہیں پاتا، اس کو رہنمائی نہیں ہوتی۔ تو جب ان کی تشبیہ آپ نے دے دی تاریکی کے ساتھ، اور سنت مقابل میں آتی ہے کس کے؟ بدعت کے، اور علم مقابل کس کے آتا ہے؟ جہل کے۔ تو جہل اور بدعت کی جب تشبیہ آپ نے تاریکی سے دی، تو دوسرے کی اب تشبیہ کس سے دی جائے گی؟ روشنی کی، جو اس کا مقابل ہے اس کی تشبیہ کس سے ہوگی؟ وہ اس کا مقابل ہے مولانا، اور جب ایک طرف اندھیرا آپ نے ذکر کر دیا تو دوسری طرف کیا ذکر کرنا پڑے گی؟ روشنی مولانا۔ تو ان کو تشبیہ دی جائے گی نور اور روشنی کے ساتھ۔ ”لِأَنَّ السُّنَّةَ وَالْعِلْمَ مُقَابِلُ الْبِدْعَةِ وَالْجَهْلِ كَمَا أَنَّ النُّورَ مُقَابِلُ الظُّلْمَةِ“، اس لیے کہ سنت اور علم مقابل ہیں کس کے؟ بدعت اور جہل کے، جیسے کہ روشنی وہ مقابل ہے کس کے؟ تاریکی کے۔ ”وَشَاعَ ذَلِكَ أَيْ كَوْنُ السُّنَّةِ وَالْعِلْمِ كَالنُّورِ وَالْبِدْعَةِ وَالْجَهْلِ كَالظُّلْمَةِ“، اور شائع ہوئی یعنی سنت اور علم کا نور کی طرح ہونا اور بدعت کا اور جہل کا تاریکی کی طرح ہونا، بھئی، سنت اور علم کا نور کی طرح ہونا اور بدعت اور جہل کا تاریکی کی طرح ہونا، یہ بات شائع ہو گئی، کیا ہو گئی؟ عوام میں شائع ہے، رائج ہے مولانا۔ ”حَتَّى تُخُيِّلَ أَنَّ الثَّانِيَ أَيِ السُّنَّةَ وَكُلَّ مَا هُوَ عِلْمٌ مِمَّا لَهُ بَيَاضٌ وَإِشْرَاقٌ“، یہاں تک کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ثانی جو ہے، یعنی کہ سنت اور ہر وہ چیز جو علم ہے، ان چیزوں میں سے ہے جس کے لیے سفیدی ہے اور چمک ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ آسان سی بات ہے، مصنف نے بڑی طویل کر دی بھئی، سمجھانے کے لیے اچھی طرح۔ ”نَحْوُ أَتَيْتُكُمْ بِالْحَنِيفِيَّةِ الْبَيْضَاءِ“، یرحمک اللہ، جیسے مولانا، حدیث ہے مولانا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں: میں لے کر آیا ہوں تمہارے پاس ایسی ایسا دین جو سیدھا ہے، البیضاء اور کیا ہے؟ سفید ہے مولانا۔ حنیفیہ صفت ہے ملت کی: ”أَتَيْتُكُمْ بِالْمِلَّةِ الْحَنِيفِيَّةِ الْبَيْضَاءِ“، ملت دین کو کہتے ہیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ دینِ حنیف وہ دین جو سیدھا ہو جس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہ ہو مولانا۔ ”وَالْأَوَّلُ عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ“، تو یہ ثانی جو ہے وہ سنت یعنی مشبہ بہٖ مولانا، ”وَالْأَوَّلُ“، یعنی مشبہ وہ اول کون ہے بھئی؟ ہاں، یہ جو انہوں نے سمجھانا شروع کیا، اس میں جہل اور بدعت کو پہلے ذکر کیا تھا۔ اول جو ہے یعنی بدعت، ”عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ“، وہ اس کے خلاف ہے، ”أَيْ وَيُخَيَّلُ أَنَّ الْبِدْعَةَ وَكُلَّ مَا هُوَ جَهْلٌ مِمَّا لَهُ سَوَادٌ وَإِظْلَامٌ“، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بدعت اور ہر وہ چیز جو جہل ہے ان چیزوں میں سے ہے جس کے لیے سیاہی ہے اور تاریکی ہے۔ ”كَقَوْلِكَ: شَاهَدْتُ سَوَادَ الْكُفْرِ مِنْ جَبِينِ فُلَانٍ“، جیسے آپ کہتے ہیں، یہ عام استعمال ہوتا ہے: میں نے مشاہدہ کیا کفر کی سیاہی کا فلاں کی پیشانی سے۔ فلاں کی پیشانی پر کیا تھی؟ کفر کی تاریکی چھائی ہوئی تھی بھئی۔ جبین پیشانی کو کہتے ہیں مولانا، بعض کہتے ہیں کہ یہ پیشانی کے طرفین کو کہتے ہیں اور پیشانی کو جبھۃ کہتے ہیں بھئی۔ ”فَصَارَ بِسَبَبِ تَخْيِيلٍ أَنَّ الثَّانِيَ مِمَّا لَهُ بَيَاضٌ وَإِشْرَاقٌ وَالْأَوَّلَ مِمَّا لَهُ سَوَادٌ وَإِظْلَامٌ“، پس اس خیال کی وجہ سے کہ ثانی جو تھا، سنت ان چیزوں میں سے ہو گئی جن کے لیے بیاض اور اشراق تھا، اور بدعت ان چیزوں میں سے ہو گئی جن کے لیے سواد اور اظلام تھا، اچھا، تو ہو گئی تشبیہ النجوم بین الدجیٰ بالسنن بین الابتداع۔ کہ جو تشبیہ دی گئی ہے ستارے، وہ ستارے جو تاریکیوں کے بیچ ہیں ان کی کن کے ساتھ؟ ان سنتوں کے ساتھ جو بدعتوں کے بیچ میں ہیں۔ ”كَتَشْبِيهِهَا“، یہ اسی طرح ہو گئی جیسے کہ آپ تشبیہ دیں یعنی ستاروں کو، ”بِبَيَاضِ الْمَشِيبِ فِي سَوَادِ الشَّبَابِ“، کس کے ساتھ؟ بڑھاپے کے سفیدی میں جوانی کی سیاہی ہو بھئی۔ بڑھاپے میں بال سفید ہو جاتے ہیں اور جوانی میں بال سیاہ، تو جیسے جوانی کے سیاہ بالوں میں بڑھاپے کے سفید بال چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اسی طرح یہ تشبیہ اسی طرح ہوئی مولانا، جیسے ہم نے ان ستاروں کو تشبیہ دی ہو کس کے ساتھ؟ ان سفید اور سیاہ بالوں کے ساتھ۔ بھئی دیکھو، یہاں مثال ذکر کر رہے ہیں بھئی، پہلے میں کیا تھا؟ ستاروں کے اندر جو چمک ہے اور اس کے ارد گرد جو تاریکی ہے وہ ہمیں آنکھوں سے نظر آتی ہے، لیکن جو سنت ہے اور جو بدعت ہے ان میں سیاہی اور تاریکی ہمیں آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔ تو کہتے ہیں: لیکن یہ شائع ہو گیا ہے کہ سنت اور علم کو روشن سمجھا جاتا ہے اور بدعت اور جہل کو کیا سمجھا جاتا ہے؟ تاریکی سمجھا جاتا ہے۔ تو یہ جو ہم نے ستاروں کو تشبیہ دی سنتوں کے ساتھ، یہ اسی طرح ہے جیسے تشبیہ دیں ہم ستاروں کو کس کے ساتھ؟ بڑھاپے کے سفید بالوں کے ساتھ۔ تو دیکھو، بڑھاپے کے سفید بال تاریکی کے اندر ہمیں آنکھوں سے نظر آتے ہیں جیسے کہ ستارے ہمیں آنکھوں سے تاریکی میں نظر آتے ہیں۔ تو یہاں ایک طرف بھی حسی ہیئت ہے، دوسری طرف بھی کون سی ہیئت ہے؟ حسی ہیئت ہے۔ جبکہ ادھر وہ سنتوں میں ہیئت کیا تھی مولانا؟ خیالی تھی، لیکن چونکہ وہ شائع ہو چکی تو وہ بھی اسی طرح ہے جیسے ہم ایک حسی چیز کی کیا کر رہے ہوں؟ تشبیہ دے رہے ہوں ایک حسی چیز کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی بھئی؟ آ گئی ہے۔ تو یہ اسی طرح ہوئی جیسے تشبیہ دی جائے ستاروں کی ”بِبَيَاضِ الْمَشِيبِ فِي سَوَادِ الشَّبَابِ أَيْ أَبْيَضِهِ فِي أَسْوَدِهِ“، یعنی بڑھاپے کی سفیدی فی اسود الشباب، کس میں؟ جوانی کی سیاہی میں۔ ”أَوْ بِالْأَنْوَارِ“، یا یہ اسی طرح ہے جیسے ہم تشبیہ دیں ان ستاروں کو بالانوار، انوار جمع ہے نورٌ کی مولانا۔ نورٌ سفید پھول کو کہتے ہیں اور کلی کو بھی کہتے ہیں، یہاں سفید پھول لیں مولانا۔ ”أَوْ بِالْأَنْوَارِ أَيِ الْأَزْهَارِ“، یا تشبیہ دیں ہم ستاروں کی سفید پھولوں کے ساتھ، ایسے سفید پھول ”مُؤْتَلِقَةً“، جو کھلے ہوئے ہیں، روشن ہیں، روشن۔ ”بِالْقَافِ أَيْ لَامِعَةً بَيْنَ النَّبَاتِ الشَّدِيدِ الْخُضْرَةِ“، جو چمک رہے ہوں سبزے کے درمیان، ایسے سبزے کے درمیان جو کیا ہو؟ گہرا سبز ہو۔ گہرے سبز بوٹیوں کے درمیان جیسے سفید پھول چمک رہے ہوتے ہیں، اسی طرح ہے یہ جیسے کہ… جیسے کہ ستاروں کو تشبیہ دی جائے ان کے ساتھ مولانا۔ تو جیسے دونوں حسی ہیں، اسی طرح وہ سنتوں کے اندر بھی اتنا شائع ہو گیا کہ وہ بھی کس کی طرح ہے؟ حسی کی طرح ہے۔ ”حَتَّى يَضْرِبَ إِلَى السَّوَادِ“، شدید گہرے سبز ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ مائل ہوتے ہیں سیاہی کی طرف، یعنی وہ پودے سیاہی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ”فَبِهَذَا التَّأْوِيلِ أَعْنِي تَخْيِيلَ مَا لَيْسَ بِمُتَلَوِّنٍ مُتَلَوِّنًا“، اس تاویل کی وجہ سے، یعنی یہ گمان کرنے کی وجہ سے کہ وہ چیز جو رنگدار نہیں ہے اس کو رنگدار گمان کرنے کی وجہ سے، ”ظَهَرَ اشْتِرَاكُ النُّجُومِ بَيْنَ الدُّجَى“، ظاہر ہوا اشتراک ستاروں کا کس کے بیچ میں؟ تاریکیوں کے بیچ میں۔ تاریکیوں کے بیچ میں جو ستارے ہیں ان کا اشتراک ظاہر ہوا کس کے ساتھ؟ ان کا اشتراک ”وَالسُّنَنِ بَيْنَ الِابْتِدَاعِ“، اور سنتیں بیچ بدعتوں کے، تو وہ سنتیں جو بدعتوں کے بیچ ہیں اور وہ ستارے جو تاریکیوں کے بیچ ہیں، ان کا اشتراک ظاہر ہوا ”فِي كَوْنِ كُلٍّ مِنْهُمَا شَيْئًا ذَا بَيَاضٍ بَيْنَ شَيْءٍ ذِي سَوَادٍ“، اس بات میں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کیا ہے؟ سفیدی والی ہے، سیاہی والی چیز کے بیچ میں۔ ”وَلَا يَخْفَى أَنَّ قَوْلَهُ: لَاحَ بَيْنَهُنَّ ابْتِدَاعُ مِنْ بَابِ الْقَلْبِ“، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ شعر… شاعر کا یہ قول جو ہے: ”لَاحَ بَيْنَهُنَّ ابْتِدَاعُ“، یہ کس سے ہے؟ باب القلب سے ہے، اصل میں ہے: ”أَيِ السُّنَنُ لَاحَتْ بَيْنَ الِابْتِدَاعِ“، سنتیں چمک رہی ہیں کس کے بیچ میں؟ بدعتوں کے بیچ میں، بھئی۔ تو بھئی، یہ قلب ہے، اور آپ نے پڑھا تھا کہ قلب کس کو کہتے ہیں؟ اول کے لفظ کو اٹھا کر آخر کی جگہ رکھ دیں اور آخر کو کہاں کر دیں؟ اول کی جگہ۔ ایک لفظ کو اٹھا کر دوسرے کی جگہ رکھ دیں اور دوسرے کو اٹھا کر پہلے کی جگہ رکھ دیں، اس کو کہتے ہیں قلب۔ اور آپ نے پڑھا تھا: یہ بغیر نکتے کے، یہ صحیح نہیں ہے، مصنف نے آپ کو بتلایا تھا۔ تو یہاں کیا نکتہ ہے قلب کا؟ تو بتلایا… بتلاتے ہیں مولانا، کہ قلب کا نکتہ یہاں یہ ہے کہ سنتیں اس زمانے میں بے انتہا زیادہ تھیں اور بدعتیں بے انتہا کم تھیں۔ تو سنتوں کے بیچ میں کوئی کوئی بدعت نظر آتی تھی، ورنہ ہر طرف کیا پھیلی ہوئی تھیں؟ سنتیں۔ جیسے تاریکی مولانا، ہر طرف پھیلی ہوتی ہے، بیچ میں کوئی کوئی ستارہ نظر آتا ہے، تو اسی طرح ہر طرف کیا تھیں؟ سنتیں پھیلی ہوئی تھیں اور ان کے بیچ میں کوئی کوئی بدعت، لیکن چونکہ روشنی کس کے اندر ہے؟ سنت کے اندر ہے، بدعت کے اندر تو کیا ہے؟ تاریکی ہے، اس لیے تو یہ انہوں نے اس لیے قلب کیا مولانا۔ اور نیز اسی لیے سنت کے لفظ کو جمع لے کر آئے اور بدعت کے لفظ کو مفرد لے کر آئے، بھئی۔ ”فَعُلِمَ مِنْ وُجُوبِ اشْتِرَاكِ الطَّرَفَيْنِ فِي وَجْهِ التَّشْبِيهِ“، یہ تو آپ کو پتہ چل گیا مولانا، کہ وجہِ تشبیہ وہ ہے جس کے اندر دونوں شریک ہوتے ہیں: مشبہ بھی اور مشبہ بہٖ بھی، دونوں کے اندر وہ وجہ پائی جانی چاہیے۔ اس سے پتہ چل گیا کہ بعض لوگوں نے یہ جو کہا تھا، عربی کا آپ نے سنا ہوگا: ”اَلنَّحْوُ فِي الْكَلَامِ كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ“، نحو کلام کے اندر یہ اسی طرح ہے جیسے نمک کس کے بیچ میں ہے؟ کھانے کے بیچ میں۔ تو دیکھو یہاں نحو فی الکلام کو تشبیہ دی ہے ملح فی الطعام کے ساتھ، تو بعضوں نے پھر اس کی وجہِ تشبیہ کیا بیان کی: ”كَوْنُ الْقَلِيلِ مُصْلِحًا وَالْكَثِيرِ مُفْسِدًا“، کہ قلیل مصلح ہے اور کثیر کیا ہے؟ مفسد ہے، یہ وجہِ تشبیہ ہے۔ یہ وجہِ تشبیہ بعضوں نے بیان کی، کہتے ہیں یہ وجہِ تشبیہ درست نہیں ہے بھئی، اس لیے کہ یہ وجہِ تشبیہ نمک کے اندر تو موجود ہے، نحو کے اندر موجود نہیں ہے۔ وجہِ تشبیہ آپ نے کیا ذکر کی؟ تھوڑا استعمال کریں تو ٹھیک کر دے گا کھانے کو، اور زیادہ استعمال کریں تو خراب۔ ہاں، تو قلیل مصلح ہے، اصلاح کرنے والا ہے، اور کثیر فاسد کرنے والا ہے۔ یہ نمک میں تو یہ وجہ ہے مولانا: نمک کھانے میں مناسب ڈالیں گے تو کھانا مزیدار ہے، اگر زیادہ ڈال دیں گے بھئی، تو پھر کھانے کے قابل نہیں۔ لیکن نحو کے اندر ایسا نہیں ہے: نحو ہوگی کلام کے اندر یا نحو نہیں ہوگی، اگر ہوگی تو پھر کلام، اس کا معنی سمجھ میں آئے گا، اگر اس میں نحو کی رعایت نہیں ہے، فاعل کو منصوب پڑھ رہے ہیں اور مفعول کو مرفوع پڑھ رہے ہیں، پھر تو معنی ہی سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی۔ تو لہٰذا اس کو وجہِ تشبیہ بنانا صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ ہم نے علت بیان کر دی کہ وجہِ تشبیہ وہ ہے جس کے اندر دونوں کیا ہوں؟ شریک ہوں، اور یہ وجہ ایک میں پائی جا رہی ہے: ”كَوْنُ الْقَلِيلِ مُصْلِحًا وَالْكَثِيرِ مُفْسِدًا“، دوسرے میں نہیں پائی جا رہی۔ پھر کیا وجہِ تشبیہ کیا ہے ان دونوں میں؟ کہتے ہیں: وجہِ تشبیہ ہے ”اَلصَّلَاحُ بِالِاسْتِعْمَالِ وَالْفَسَادُ بِالْإِهْمَالِ“، بھئی۔ ”اَلصَّلَاحُ بِالِاسْتِعْمَالِ وَالْفَسَادُ بِالْإِهْمَالِ“، کہ استعمال کرنے سے اصلاح ہوگی اور نہ کرنے سے چیز فاسد ہوگی۔ ”فَعُلِمَ مِنْ وُجُوبِ اشْتِرَاكِ الطَّرَفَيْنِ فِي وَجْهِ التَّشْبِيهِ فَسَادُ جَعْلِهِ فِي قَوْلِ الْقَائِلِ: أَنَّ النَّحْوَ فِي الْكَلَامِ كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ كَوْنَ الْقَلِيلِ مُصْلِحًا وَالْكَثِيرِ مُفْسِدًا“، پس جان لیا گیا اس بات سے کہ وجہِ تشبیہ کے اندر طرفین کا شریک ہونا واجب ہے، اس سے جان لیا گیا قائل کے اس قول کے اندر جو انہوں نے وجہِ تشبیہ بنائی تھی اس کا فساد پتہ چل گیا، کس قول کے اندر؟ ”أَنَّ النَّحْوَ فِي الْكَلَامِ كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ“، نحو کلام کے اندر وہ اسی طرح ہے نمک جیسے کھانے کے اندر، یہ وجہِ تشبیہ کسی نے بنائی تھی مولانا، اس کے فساد کا پتہ چل گیا، بھئی۔ جی۔ قلیل کا مصلح ہونا اور کثیر کا مفسد ہونا، اس وجہِ تشبیہ کے فساد کا پتہ چل گیا۔ ”لِأَنَّ الْمُشَبَّهَ أَعْنِي النَّحْوَ لَا يَشْتَرِكُ فِي هَذَا الْمَعْنَى لِأَنَّ النَّحْوَ لَا يَحْتَمِلُ الْقِلَّةَ وَالْكَثْرَةَ“، اس لیے کہ مشبہ یعنی نحو وہ اس معنی کے اندر مشترک نہیں، وہ شریک نہیں، اس لیے کہ نحو میں قلت اور کثرت کا احتمال نہیں ہے۔ ”إِذْ لَا يَخْفَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ هَاهُنَا رِعَايَةُ قَوَاعِدِهِ وَاسْتِعْمَالُ أَحْكَامِهِ“، اس لیے کہ یہ بات مخفی نہیں ہے کہ یہاں پر نحو سے مراد اس کے قواعد کی رعایت ہے اور اس کے احکام کو استعمال کرنا ہے، ”مِثْلُ رَفْعِ الْفَاعِلِ وَنَصْبِ الْمَفْعُولِ“، جیسے فاعل کا رفع ہے اور مفعول کا نصب ہے۔ ”وَهَذَا إِنْ وُجِدَ فِي الْكَلَامِ بِكَمَالِهِ صَارَ صَالِحًا لِفَهْمِ الْمُرَادِ“، اور یہ اگر کلام کے اندر پائے جائیں بکمالہٖ، کامل طور پر، ہاں کلام اس قابل ہو جاتا ہے کہ مراد کو سمجھا جائے۔ ”وَإِنْ لَمْ يُوجَدْ بَقِيَ فَاسِدًا وَلَمْ يُنْتَفَعْ بِهِ“، اور اگر نہ پائی جائے یہ نحو مولانا، تو باقی رہے گا فاسد اور اس سے نفع بھی نہیں حاصل ہوگا۔ ”بِخِلَافِ الْمِلْحِ فَإِنَّهُ يَحْتَمِلُ الْقِلَّةَ وَالْكَثْرَةَ“، بخلاف نمک کے کہ وہ قلت اور کثرت کا احتمال رکھتا ہے، ”بِأَنْ يُجْعَلَ فِي الطَّعَامِ الْقَدْرُ الصَّالِحُ مِنْهُ أَوْ أَقَلُّ أَوْ أَكْثَرُ“، بایں طور کہ ڈالا جائے طعام کے اندر اس کی وہ مقدار جو درست کرنے والی ہو، یا کم ہو یعنی… یا کیا ہو؟ کم ہو یا زیادہ ڈالی جائے، کیونکہ وہ احتمال رکھتا ہے کہ جتنی مناسب مقدار ہے وہ اس میں ڈالی جائے، یا اس سے کم ڈالی جائے یا اس سے زیادہ ڈالی جائے۔ ”بَلْ وَجْهُ الشَّبَهِ هُوَ الصَّلَاحُ بِإِعْمَالِهَا وَالْفَسَادُ بِإِهْمَالِهَا“، ہاں، تو کہتے ہیں: بلکہ وجہِ تشبیہ الصلاح باعمالہا والفساد باہمالہا، وہ صلاح ہے استعمال سے اور فساد ہے اہمال، ترک کر دینے سے۔ تو وجہِ تشبیہ ہے: ”اَلصَّلَاحُ بِالِاسْتِعْمَالِ وَالْفَسَادُ بِالْإِهْمَالِ“۔ ”وَهُوَ أَيْ وَجْهُ التَّشْبِيهِ إِمَّا غَيْرُ خَارِجٍ عَنْ حَقِيقَتِهِمَا“، وہ، یعنی وجہ، یہ الگ تقسیم کر رہے ہیں مولانا: وجہِ تشبیہ یا تو ان دونوں کی حقیقت سے خارج نہیں ہوگی، یا خارج ہوگی۔ دیکھو بھئی، وجہِ تشبیہ جو ہے، یہ مشبہ ہے مولانا، یہ مشبہ بہٖ ہے۔ ان دونوں میں وجہِ تشبیہ ہوگی، اس میں دونوں شریک ہوں گے: مشبہ میں بھی وجہِ تشبیہ پائی جائے گی اور مشبہ بہٖ میں بھی۔ یہ جو وجہِ تشبیہ ہے، یا تو ان دونوں کی حقیقت سے خارج ہوگی یا حقیقت سے خارج نہیں ہوگی۔ اگر حقیقت سے خارج نہیں، تو پھر یا تمامِ حقیقت ہوگی یا جزِ حقیقت ہوگی۔ یہ مشبہ ہے مولانا، یہ مشبہ بہٖ، ان دونوں… یہ کس چیز میں شریک ہیں؟ وجہِ شبہ، وجہِ شبہ دونوں میں پائی جا رہی ہے۔ اب وہ وجہِ شبہ ان دونوں کی حقیقت سے خارج ہوگی یا خارج نہیں ہوگی۔ اگر حقیقت سے خارج نہیں، تو پھر یا تو وہ تمامِ حقیقت ہوگی یا جز۔ یوں کہو آسان لفظوں میں: بھئی، وجہِ تشبیہ ان کی حقیقت میں داخل ہوگی یا داخل نہیں ہوگی۔ اگر داخل ہے، تو پھر یا وہ تمامِ ماہیت ہوگی یا جزِ ماہیت، اور اگر خارج ہے تو پھر وہ صفت ہوگی مولانا۔ مشکل ہے بات، بھئی؟ اگر خارج ہے تو پھر لازمی بات ہے وہ صفت ہوگی۔ پھر صفت مولانا، دو قسم پر ہے: یا صفتِ حقیقی ہوگی یا صفتِ اضافی ہوگی۔ حقیقی اور اضافی کا یہ معنی ہے: اس کا سمجھنا غیر کے سمجھنے پر موقوف ہوگا، اور حقیقی کا یہ معنی: غیر کے سمجھنے پر وہ موقوف نہیں ہے، بلکہ اس چیز کے اندر قرار پکڑے ہوئے ہے، واقعتاً صفت موجود ہے۔ اور اضافی کے اندر غیر کو نہیں سمجھیں گے تو وہ صفت بھی ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گی۔ تو کتنی قسمیں ہوئیں مولانا؟ یا تو وہ وجہِ تشبیہ غیر خارج ہوگی یا خارج ہوگی۔ بھئی، جواب دیا کریں، جواب دیا کریں بھئی، میں آپ کے منہ سے نکلوانا چاہتا ہوں: اول کیا ہوگی؟ غیر خارج ہوگی یا خارج ہوگی۔ داخل نہ کہیں کیونکہ آگے اشکال وارد ہوگا مولانا، غیر خارج ہوگی یا خارج ہوگی۔ اگر غیر خارج ہے تو پھر یا وہ تمامِ حقیقت ہوگی یا جزِ حقیقت ہوگی۔ اور اگر خارج ہے تو پھر وہ صفت ہوگی، تو وہ صفت پھر یا صفتِ حقیقی ہوگی یا صفتِ اضافی ہوگی مولانا۔ صفتِ اضافی میں نے بتایا جس کا سمجھنا غیر کے سمجھنے پر موقوف ہو، اور حقیقی جس کا سمجھنا غیر کے سمجھنے پر موقوف نہ ہو۔ پھر حقیقی بتلائیں گے آپ، حقیقی صفت دو قسم پر ہے: یا حسی ہوگی یا عقلی ہوگی۔ دیکھیے بھئی: ”وَهُوَ أَيْ وَجْهُ التَّشْبِيهِ إِمَّا غَيْرُ خَارِجٍ عَنْ حَقِيقَتِهِمَا أَيْ حَقِيقَةِ الطَّرَفَيْنِ بِأَنْ يَكُونَ تَمَامَ مَاهِيَّتِهِمَا أَوْ جُزْءًا مِنْهُمَا“، یا تو وہ خارج نہیں ہوگی مشبہ اور مشبہ بہٖ کی حقیقت سے، یعنی طرفین مشبہ اور مشبہ بہٖ کی حقیقت سے، بایں صورت کہ وہ تمامِ ماہیت ہوگی ان دونوں کی یا ان دونوں کی ماہیت کا جز ہوگی، ”كَمَا فِي تَشْبِيهِ ثَوْبٍ بِآخَرَ فِي نَوْعِهِمَا أَوْ جِنْسِهِمَا أَوْ فَصْلِهِمَا“، جیسے کہ تشبیہ دی جائے ایک کپڑے کی دوسرے کپڑے کے ساتھ اس کی نوع کے اندر یا جنس کے اندر یا فصل کے اندر۔ بھئی، ایک کپڑے کی تشبیہ دی دوسرے کپڑے کے ساتھ۔ بھئی، وجہِ تشبیہ مثلاً دیکھو: آپ نے زید کو تشبیہ دی عمرو کے ساتھ: زید بھی عمرو کی طرح ہے۔ یا آپ نے تشبیہ دی امیر کی غریب کے ساتھ: امیر غریب کی طرح ہے یا غریب بھی امیر کی طرح ہے، کس بات میں بھئی؟ نوع کے اندر، کس میں؟ جیسے وہ انسان ہے، یہ بھی انسان ہے مولانا۔ تو انسان کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، جیسے یہ حیوانِ ناطق ہے وہ بھی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، تو وجہِ تشبیہ کیا ہوئی؟ حیوانِ ناطق ہونا، اور حیوانِ ناطق ہونا یہ خارج ان دونوں کی حقیقت سے خارج ہے یا حقیقت سے خارج نہیں ہے؟ خارج نہیں ہے۔ تو پھر کیا ہے؟ جزِ حقیقت ہے یا تمامِ حقیقت ہے؟ تمامِ حقیقت ہے۔ تو یہ معنی ہے مولانا: تمامِ ماہیت میں دونوں شریک ہوں گے، یا جز کے اندر۔ جز مولانا، جیسے صرف حیوان ہے، جنس مولانا، انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، تو حیوانِ ناطق یہ دونوں مل کر یہ انسان کی حقیقت بناتے ہیں۔ صرف حیوان، یہ انسان کی حقیقت کا جز ہے۔ صرف ناطق، یہ انسان کی حقیقت کا جز ہے۔ تو دیکھو یہ نوع سے مراد ہے جو متن میں آ رہا ہے، نوع سے کیا مراد ہے؟ تمامِ ماہیت، جنس اور فصل سے کیا مراد ہے؟ جزِ حقیقت۔ بھئی، انسان کے اندر حیوان کیا ہے؟ جز ہے، اور جنس ہے یا جنس نہیں ہے مولانا؟ جنس ہے، معلوم ہوا جنس اس چیز… ہر چیز کے لیے جنس اس کی حقیقت کا جز ہوتی ہے، اسی طرح فصل بھی۔ تو نوع سے مراد ہے تمامِ ماہیت، جنس اور فصل سے کیا مراد ہے؟ جزِ حقیقت۔ ”كَمَا يُقَالُ هَذَا الْقَمِيصُ مِثْلُ ذَلِكَ فِي كَوْنِهِمَا كَتَّانًا“، جیسے کہا جاتا ہے: یہ قمیص اس قمیص جیسی ہے، کس بات میں بھئی؟ ”فِي كَوْنِهِمَا كَتَّانًا“، اس بات میں کہ دونوں کتان ہیں۔ کتان کوئی خاص کپڑے کی نوع ہے مولانا، بعضوں نے لکھا ریشمی، بعضوں نے سوتی لکھا ہے، ”أَوْ ثَوْبًا“، یا کیا ہے؟ کپڑے کے اندر دونوں، یہ قمیص اس قمیص جیسی ہے کس چیز کے اندر؟ کپڑا ہونے میں، ”أَوْ مِنَ الْقُطْنِ“، یا یہ قمیص اس قمیص جیسی ہے کس چیز میں؟ کپاس کے ہو… کپاس کی ہونے کے، کپاس سے بنی ہوئی ہونے میں۔ قطن روئی کو بھی کہتے ہیں، آپ جو مرضی ترجمہ کر لیں، کہ یہ جیسے روئی سے بنی ہے یعنی کپاس سے بنی ہے، وہ بھی کپاس، یعنی سوتی کپڑا۔ تو دیکھو، کتان ایک کپڑے کی نوع ہے مولانا۔ یہ کپڑا اس کپڑے جیسا ہے، کس چیز میں؟ وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ کتان ہونے میں۔ وہ کپڑا جیسے کتان ہے، وہ قمیص کتان کی ہے، یہ قمیص بھی کس کی ہے؟ کتان کی ہے مولانا، اور کتان نوع ہے۔ تو وجہِ تشبیہ خارج عن الحقیقت ہوئی یا غیر خارج عن الحقیقت ہوئی؟ غیر خارج ہوئی۔ اور تمامِ ماہیت ہوئی یا جزِ ماہیت ہوئی؟ تمامِ ماہیت ہوئی، بھئی۔ ثوب، کپڑے… ثوب کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ثوب ہر اس کپڑے کو کہتے ہیں جس کو پہنا جائے۔ ثوب کس کو کہتے ہیں؟ جس کو پہنا جائے۔ اگر گلے میں پہنا جائے اس کو کہتے ہیں قمیص، اگر سر پہ باندھا جائے اس کو کہتے ہیں پگڑی، یہ بھی کپڑا، اگر ستر ڈھانپنے کے لیے پہنا جائے اس کو شلوار، اور اگر اس کو کندھوں پر پہنا جائے اس کو کہتے ہیں چادر۔ تو معلوم ہوا ثوب وہ کپڑا ہے جس کو پہنا جائے، اور یہ جنس ہے، اس کے تحت بہت ساری انواع داخل ہیں بھئی۔ تو ثوب مثال ہے جنس کی جو جزِ حقیقت ہوگا، ”أَوْ مِنَ الْقُطْنِ“، یا یہ کپڑا کس سے ہے؟ روئی سے بنا ہے، یہ فصل کی مثال ہے مولانا، جو جزِ حقیقت۔ ”أَوْ خَارِجٌ عَنْ حَقِيقَةِ الطَّرَفَيْنِ صِفَةٌ“، یا وہ مولانا، وجہِ تشبیہ جو ہے خارج ہوگی دونوں طرفین کی حقیقت سے، اور صفت ہوگی۔ صفت کا کیا معنی مولانا؟ ”أَيْ مَعْنًى قَائِمًا بِهِمَا“، یعنی ایسا معنی ہوگا جو دونوں کے ساتھ قائم ہوگا۔ کیونکہ حقیقت تو ہے نہیں تو پھر ایسا معنی ہوگا جو ان دونوں کے ساتھ قائم ہی، ”لِضَرُورَةِ اشْتِرَاكِهِمَا فِيهِ“، بوجہ ان دونوں کے اشتراک کے یقینی ہونے کے۔ ضرورت کا کیا معنی کریں گے یہاں؟ یقینی، کیونکہ ان دونوں کا… بھئی، جب وجہِ تشبیہ ہی اس میں ہے، دونوں اس میں شریک ہیں تو دونوں کا اس میں اشتراک کیا ہوگا؟ یقینی ہوگا۔ ”وَتِلْكَ الصِّفَةُ إِمَّا حَقِيقِيَّةٌ“، اور وہ صفت یا تو حقیقی ہوگی، ”أَيْ هَيْئَةٌ مُتَمَكِّنَةٌ فِي الذَّاتِ مُتَقَرِّرَةٌ فِيهَا“، یعنی وہ ہیئت جو متمکن ہوگی کس کے اندر؟ ذات میں، ”مُتَقَرِّرَةٌ فِيهَا“، یعنی اس میں قرار پکڑا ہوا ہوگا بھئی اس میں، اس میں قرار پکڑا ہوگا۔ ”حِسِّيَّةٌ“، پھر حقیقی یا تو کیا ہوگی؟ حسی ہوگی، ”أَيْ مُدْرَكَةٌ بِإِحْدَى الْحَوَاسِّ كَالْكَيْفِيَّاتِ الْجِسْمِيَّةِ“، یعنی ادراک کیا جائے گا اس کا حواس میں سے کسی ایک کے ساتھ، جیسے جسمانی کیفیات ہیں، ”أَيِ الْمُخْتَصَّةِ بِالْأَجْسَامِ“، یعنی وہ جو خاص ہیں جسم کے ساتھ، یعنی اس کے ساتھ قائم ہیں۔ جیسے کہ جسمانی کیفیات ”مِمَّا يُدْرَكُ بِالْبَصَرِ“، ان میں سے جن کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ بصر کے ساتھ ہوتا ہے۔ بھئی، بصر کے ساتھ کس چیز کا ادراک ہوتا ہے؟ خود آگے بتلا رہے ہیں: ”مِنَ الْأَلْوَانِ وَالْأَشْكَالِ“، یعنی کہ رنگ ہیں اور شکلیں ہیں، ”وَالْمَقَادِيرِ“، اور مقداریں ہیں، ”وَالْحَرَكَاتِ“، اور کیا ہیں؟ حرکات ہیں، ”وَمَا يَتَّصِلُ بِهَا“، اور وہ چیزیں جو ان کے ساتھ ملی ہوئی ہیں بھئی، دو تین کے مجموعے کی صورت میں بھئی۔ ”أَوْ بِالسَّمْعِ“، یا ان کا ادراک، کیفیاتِ جسمیہ کا ادراک کن کے ساتھ ہوگا؟ سمع کے ساتھ ہوگا۔ بھئی، سمع سے کس چیز کا ادراک ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: ”مِنَ الْأَصْوَاتِ الْقَوِيَّةِ وَالضَّعِيفَةِ وَالَّتِي بَيْنَ بَيْنَ“، یعنی کہ وہ آوازیں قوی ہوں یا ضعیف ہوں یا متوسط ہوں۔ ”أَوْ بِالذَّوْقِ“، یا ان کیفیاتِ جسمانیہ کا ادراک کس سے ہوگا؟ ذوق، ذائقہ سے ہوگا، ”مِنَ الطُّعُومِ“، یعنی کہ ذائقے میں اور چکھنے میں۔ ”أَوْ بِالشَّمِّ“، یا کس کے ساتھ ہوگا؟ سونگھنے کے ساتھ، ”مِنَ الرَّوَائِحِ“، کس میں سے؟ جو بو ہو، مختلف قسم کی جو بو ہو، ان سب کا ادراک ہوگا۔ ”أَوْ بِاللَّمْسِ“، یا کس کے ساتھ ادراک ہوگا؟ چھونے کے ساتھ، ”مِنَ الْحَرَارَةِ وَالْبُرُودَةِ وَالرُّطُوبَةِ وَالْيُبُوسَةِ“، حرارت میں سے یعنی کہ حرارت ہے، کسی چیز کے گرم ہونا، اور ٹھنڈک کا، تر ہونے کا اور خشک ہونے کا، ”وَالْخُشُونَةِ“، کھردرا ہونے کا، ”وَالْمَلَاسَةِ“، ہموار ہونے کا، ”وَاللِّينِ“، نرمی کا، ”وَالصَّلَابَةِ“، سختی کا، وغیرہ وغیرہ مولانا، ”وَالْخِفَّةِ“، اور ہلکا ہونے کا، ”وَالثِّقْلِ“، اور بھاری ہونے کا، ان سب کا ادراک ہوگا۔ دیکھیے بھئی، اب پھر جا… کیفیاتِ جسمیہ جو جسم کے ساتھ خاص ہیں، جن کا ادراک بصر کے ساتھ ہوتا ہے، اب مولانا علامہ تفتازانی سارے فلسفی باتیں آپ کو بتلائیں گے: بصر کس کو کہتے ہیں، لون کس کو کہتے ہیں، شکل کس کو کہتے ہیں، مقدار، حرکت وغیرہ، ہر ایک کی تعریف۔ ”هِيَ قُوَّةٌ مُتَرَتِّبَةٌ فِي الْعَصَبَتَيْنِ الْمُجَوَّفَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَتَلَاقَيَانِ فَتَفْتَرِقَانِ إِلَى الْعَيْنَيْنِ مِنَ الْأَلْوَانِ“، بھئی، بصر کہتے ہیں: یہ وہ قوت ہے ”مُتَرَتِّبَةٌ أَيْ ثَابِتَةٌ“، جو ثابت ہے مولانا ”فِي الْعَصَبَتَيْنِ“، کس کے اندر؟ دو پٹھوں کے اندر۔ بصر، قوت یہ جو ہم دیکھتے ہیں، یہ کس کے اندر ہے؟ دو پٹھوں کے اندر ہے ”الْمُجَوَّفَتَيْنِ“، جو درمیان سے خالی ہیں، نل کی طرح کے ہیں، یا رگ کی طرح کے ہیں مولانا، ”اللَّتَيْنِ تَتَلَاقَيَانِ“، جو آپس میں ملتے ہیں، ”فَتَفْتَرِقَانِ“، پھر کیا ہو جاتے ہیں؟ جدا ہو جاتے ہیں ”إِلَى الْعَيْنَيْنِ“، کہاں تک بھئی؟ آنکھوں تک۔ مقدم… دیکھو دماغ کے تین خانے ہیں مولانا: ایک مقدمِ دماغ ہے، ایک وسط ہے اور ایک آخر ہے مولانا۔ تو یہ مقدمِ دماغ کے اندر ہیں یہ جو قوتِ بصر ہے مولانا۔ یہ دو پٹھے ہیں اور یہ یوں آتے ہیں مولانا، یوں، یہ دو دال جیسے نہیں ملی ہوتیں بھئی؟ یہ آپس میں کس طرح بتاؤں بھئی؟ یوں سمجھو، یوں ہاں، یہ جیسے ملے ہوئے ہیں نا ان کے حصے آپس میں، تو یہ دماغ میں سے نکلنے کے بعد آپس میں ملتے ہیں دونوں یہ دونوں پٹھے، پھر جدا ہو جاتے ہیں اور جدا ہونے کے بعد ایک ایک آنکھ میں آ جاتا ہے اور دوسرا دوسری آنکھ میں پہنچتا ہے۔ یا بعض کہتے ہیں یہ اس طرح ہیں، یعنی صرف آپس میں پیوست ہیں پھر واپس مڑ جاتی ہیں؛ بعض کہتے ہیں نہیں، اس طرح نہیں ہے، بعض کہتے ہیں یہ اس طرح ہے بھئی: ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوئے جاتے ہیں مولانا۔ تو یہ اگلا حصہ دماغ میں ہے اور یہ دونوں آنکھوں میں بھئی، ہے جی۔ دیکھا؟ اس کے اندر یہ قوتِ بصر اس کے اندر ہے مولانا۔ ”هِيَ قُوَّةٌ“، دوبارہ دیکھو: یہ قوت ہے ”مُتَرَتِّبَةٌ أَيْ ثَابِتَةٌ“، جو ثابت ہے مولانا ”فِي الْعَصَبَتَيْنِ“، کس کے اندر؟ دو پٹھوں کے اندر، ”الْمُجَوَّفَتَيْنِ“، جو بیچ میں سے خالی ہیں، ”اللَّتَيْنِ تَتَلَاقَيَانِ“، جو آپس میں ملتے ہیں، ”فَتَفْتَرِقَانِ“، پھر کیا ہو جاتے ہیں؟ جدا ہو جاتے ہیں ”إِلَى الْعَيْنَيْنِ“، کہاں تک بھئی؟ آنکھوں تک بھئی۔ اچھا، ”مِنَ الْأَلْوَانِ وَالْأَشْكَالِ“، وہ جن کا ادراک بصر سے ہوتا ہے، یعنی کہ رنگ ہیں اور شکلیں ہیں۔ شکل کس کو کہتے ہیں؟ ”وَالشَّكْلُ هَيْئَةُ إِحَاطَةِ نِهَايَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ أَكْثَرَ بِالْجِسْمِ“، وہ شکل جو ہے وہ ہیئت ہے مولانا جس نے احاطہ کیا ہو جسم کا کس کے ساتھ؟ نہایتِ واحدہ، نہایت سے مراد ہے خط مولانا، نہایت سے کیا مراد ہے؟ خط۔ ایک خط جس نے احاطہ کیا ہو جسم کا، اس احاطے کی جو ہیئت ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ ایک خط جس نے احاطہ کیا ہو کس کا؟ جسم کا، اس احاطے کی جو شکل ہے، جو ہیئت ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ جیسے دائرہ مولانا، جیسے کیا ہے؟ دائرہ۔ دائرہ دیکھو، ایک خط ہے یا تین چار خط ہیں؟ ایک ہی خط ہے، تو یہ نہایتِ واحدہ ہے، خطِ واحد ہے مولانا، اور اس نے احاطہ کیا ہوا ہے جسم کا، اور اس احاطے سے جو ہیئت حاصل ہو رہی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ ”أَوْ أَكْثَرَ“، یا مولانا، ایک سے زیادہ خط ہوں گے، مثلاً دو خط ہوں گے: ”هَيْئَةُ إِحَاطَةِ نِهَايَتَيْنِ بِالْجِسْمِ“، مثلاً دو خطوں نے… دو ایسے خط جنہوں نے احاطہ کیا ہو کس کا؟ جسم کا، اس احاطے کی جو ہیئت ہے اس کو کیا کہیں گے؟ شکل کہیں گے۔ دو خطوں نے احاطہ کیا ہو، مثلاً ایک نصف ہے، نصف گول ہے اور ایک سیدھا ہے، آدھا دائرہ مولانا، آدھا دائرہ۔ تو دیکھو ایک خط گول ہے، ایک سیدھا ہے، دو خطوں نے احاطہ کیا ہوا ہے جسم کا، اس احاطے سے جو ہیئت حاصل ہو رہی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو یہ نصفِ دائرے کی شکل حاصل ہوئی ہمیں۔ یا مولانا، تین ہوں گے: قلم لاؤ بھئی، ایک اور قلم دو، یہ ہے مولانا مثلث، یہ مثلث ہے۔ کتنے خطوط ہیں؟ تین۔ پہلے آپ نے ایک کی مثال سنی، پھر دو والی سنی، اب تین، تو دیکھو تین خطوں نے احاطہ کیا ہوا ہے، احاطہ کیا ہو ایک جسم کا، تو یہ احاطے کو جو ہیئت حاصل، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو یہ مثلث ایک شکل ہے، مثلث۔ اسی طرح چار ہوں گے: مربع، مخمس، مسدس وغیرہ۔ ”وَالشَّكْلُ هَيْئَةُ إِحَاطَةِ نِهَايَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ أَكْثَرَ“، یعنی ایک نہایت ہوگی یا ایک سے زائد ہوگی جس نے احاطہ کیا ہوگا جسم کا، اور اس احاطے کی ہیئت کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ ”كَالدَّائِرَةِ“، جیسے دائرہ ہے، یہ مثال ہے کس کی؟ نہایتِ واحدہ کی۔ ”وَنِصْفِ الدَّائِرَةِ“، یہ مثال ہے کس کی مولانا؟ احاطۂ نہایتین کی۔ ”وَالْمُثَلَّثِ“، اور مثلث تین نہایتوں کی، مربع چار نہایتوں کی، ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“، اس کے علاوہ۔ ”وَالْمَقَادِيرِ“، اسی طرح بصر سے ادراک ہوگا مقدار کا بھی، مقدار، جمع مقادیر، جمع مقدارٍ، یہ جمع ہے کس کی؟ مقدار کی، ”وَهُوَ كَمٌّ مُتَّصِلٌ“، وہ کمِ متصل ہے مولانا، کمِ متصل ہے مولانا۔ کمِ متصل وہ ہے آپ نے پڑھا تھا کہ جن کے اجزاء باہم ملے ہوئے ہوں، جن کے اجزاء کیا ہوں؟ باہم ملے ہوئے ہوں۔ ایک کی جو انتہاء ہو وہ ثانی کی ابتداء ہو۔ مثلاً یہ خط ہے مولانا، اس خط کو تقسیم کیا میں نے دو حصوں میں، تو دیکھو جہاں پہلے کی انتہاء ہو رہی ہے، ثانی کی وہیں سے کیا ہو رہی ہے؟ ابتداء ہو رہی ہے۔ یا سطح ہے مولانا، یا زمین کا ٹکڑا ہے، اس زمین کے ٹکڑے کو میں تقسیم کرتا ہوں یہاں سے لے کر یہاں تک ایک حصہ، یہاں سے دوسرا حصہ، تو دیکھو جس سے… جس پر ایک کی انتہاء ہو رہی ہے وہیں سے کیا ہو رہی ہے؟ دوسرے کی ابتداء ہو رہی ہے۔ جی، تو اس کو کمِ متصل کہتے ہیں مولانا۔ ”قَارُّ الذَّاتِ“، قار الذات اس کو کہتے ہیں مولانا، جس کے اجزاء ثابت ہوں خارج میں ایک، ایک وقت میں، اکٹھے مولانا۔ خارج میں اجزاء کیا ہوں؟ ثابت ہوں۔ مثلاً یہ خط ہے مولانا، اس خط کے جتنے اجزاء ہیں وہ سارے خارج میں کیا ہیں؟ ثابت ہیں۔ یا یہ سطح ہے مولانا، اس سطح کے سارے اجزاء خارج میں ثابت، یا یہ زمین کا ٹکڑا ہے، اس ٹکڑے کے سارے اجزاء خارج میں ثابت ہیں۔ بسا اوقات اجزاء خارج میں ثابت نہیں ہوتے، جیسے وقت ہے مولانا۔ وقت بھی کمِ متصل ہے، دیکھو: ایک وقت کی جہاں انتہاء ہو رہی ہے وہیں سے فوراً دوسرے لمحے کی کیا ہو رہی ہے؟ ابتداء ہو رہی ہے، تو باہم ملے ہوئے ہیں، کمِ متصل ہیں، لیکن قار الذات نہیں، اس کے اجزاء موجود نہیں ہیں۔ جب ایک جز موجود ہے، پہلا گزر چکا؛ اگلا جز آئے گا تو دوسرا گزر چکا، اور باقی اجزاء ابھی آئے ہی نہیں؛ تو سارے اجزاء موجود ہیں بیک وقت؟ سارے اجزاء بیک وقت موجود نہیں ہیں۔ جی، تو قار الذات وہ جس کے اجزاء خارج میں بیک وقت اکٹھے موجود ہوں۔ تو یہ قار الذات کہہ کر کس کو نکال دیا؟ زمانے کو نکال دیا، وقت کو نکال دیا۔ ”كَالْخَطِّ“، جیسے کہ خط ہے، ”وَالسَّطْحِ“، اور سطح ہے۔ ”وَالْحَرَكَاتِ“، اور بصر سے کس کا ادراک ہوتا ہے؟ حرکات کا ادراک ہوتا ہے۔ ”وَالْحَرَكَةُ“، حرکت کس کو کہتے ہیں؟ ”هِيَ الْخُرُوجُ مِنَ الْقُوَّةِ إِلَى الْفِعْلِ عَلَى سَبِيلِ التَّدْرِيجِ“، یہ نکلنا ہے قوت سے فعل کی طرف تدریجاً بھئی، درجہ بہ درجہ، وقتاً فوقتاً۔ بھئی، ایک حرکت کی تعریف میں نے آپ کو پہلے لکھوائی تھی، کیا تعریف تھی؟ دو چیزوں کا… ایک چیز کا دو آنوں میں دو جگہ ہونا۔ یہ کتاب اس وقت یہاں، اگلے آن میں یہاں، معلوم ہوا کتاب متحرک ہے۔ دیکھو، یہ کتاب متحرک ہے: ایک آن میں یہاں ہے، اگلے میں آگے ہوگی، اگلے میں اس سے آگے ہوگی۔ تو ہر آن میں نئی جگہ پر، دو آنوں میں دو جگہوں پر کسی چیز کا ہونا یہ کیا کہلاتا ہے؟ حرکت، لیکن یہ تعریف ہے متکلمین کی۔ علامہ تفتازانی اس وقت تعری… تعریف کر رہے ہیں وہ کس کی کر رہے ہیں؟ حکماء اور فلاسفہ کی کر رہے ہیں، ان کے نزدیک حرکت کہتے ہیں: خروج من القوۃ الی الفعل، قوت سے فعل کی طرف نکلنا مولانا۔ مثلاً آپ میں بڑھاپے کی صلاحیت ہے یا نہیں ہے؟ صلاحیت ہے۔ تو جب آپ بابا جی بن جائیں گے، سمجھ میں آیا؟ تو ہم کہیں… کیا کہیں؟ اس کو کہیں گے حرکت، کیا کہیں گے؟ حرکت، کہ وہ چیز بالقوۃ جو موجود تھی وہ کیا ہوئی؟ بالفعل ہو گئی، کیا ہو گئی؟ بالفعل ہو گئی۔ یا جیسے مولانا، فصل ہے سبز، اس میں قوت ہے کس چیز کے؟ خشک ہونے کی، تو جب وہ فصل خشک ہو جائے گی تو ہم کیا کہیں گے؟ اس نے حرکت کی قوت سے کس کی طرف؟ فعل کی طرف۔ جو چیز بالقوۃ موجود تھی وہ کیا ہوئی؟ بالفعل موجود ہوئی، اور تدریجاً ہوئی، کیا ہوئی؟ وقت کے ساتھ ساتھ ہوئی بھئی۔ تو یہ تعریف زیادہ عام ہے ان کی مولانا، یہ ہر قسم کی حرکت کو شامل ہوئی بھئی، سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ”الْخُرُوجُ مِنَ الْقُوَّةِ إِلَى الْفِعْلِ عَلَى سَبِيلِ التَّدْرِيجِ“ ہے۔ ”وَفِي جَعْلِ الْمَقَادِيرِ وَالْحَرَكَاتِ مِنَ الْكَيْفِيَّاتِ تَسَامُحٌ“، علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ مقداروں کو اور حرکات کو انہوں نے کیفیات میں سے قرار دیا اور اس میں تسامح ہے۔ کیفیات اوپر کیا کہا تھا: ”كَالْكَيْفِيَّاتِ الْجِسْمِيَّةِ“، اوپر بھئی جہاں صفحہ کے… ہاں، حسیات میں سے جیسے کہ کیفیاتِ جسمیہ ہیں، اس کے اندر یہ اب ذکر کر رہے ہیں حرکات کو بھی، مقداروں کو بھی، حالانکہ کہتے ہیں مقدار اور حرکات یہ مقولۂ کیف سے ہیں ہی نہیں۔ مقولاتِ عشرہ آپ نے پڑھے تھے مولانا، یہ کہتے ہیں یہ مقولۂ کیف سے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ مقدار جو ہے وہ مقولۂ کم میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مقولۂ کم میں سے، اور حرکت مقولۂ عین میں سے ہے، مقولۂ عین میں سے۔ جی، البتہ بعضوں نے ان کو کیف میں سے قرار دیا ہے اور کہتے ہیں یہ کافی ہے مثال دینے کے لیے، بھئی۔ تو تسامح ہے، دراصل یہ ہیں کس میں سے؟ مقولۂ کم میں سے یا مقولۂ عین میں سے، لیکن بعضوں نے چونکہ کیف میں سے قرار دیا تو مثال صحیح ہوئی۔ ”وَمَا يَتَّصِلُ بِهَا“، اسی طرح ادراک ہوتا ہے بصر کے ساتھ وہ چیزیں جو ان کے ساتھ متصل ہیں: حرکت، مقدار، لون اور شکل کے ساتھ جو چیزیں متصل ہیں، ان کو بھی ان کا ادراک بھی کس سے ہوتا ہے؟ بصر سے، توجہ سے بھئی، ان کا ادراک بھی کس سے ہوتا ہے؟ بصر سے۔ ”أَيْ بِالْمَذْكُورَاتِ“، ضمیر کا مرجع بتلایا، یعنی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ مذکورات کو، ”كَالْحُسْنِ وَالْقُبْحِ الْمُتَّصِفِ بِهِمَا الشَّخْصُ بِاعْتِبَارِ الْخِلْقَةِ الَّتِي هِيَ مَجْمُوعُ الشَّكْلِ وَاللَّوْنِ“، جیسے کہ حسن اور قبح ہے جن کے ساتھ متصف ہوتا ہے شخص مولانا، باعتبارِ خلقت کس اعتبار سے؟ خلقت کس کو کہتے ہیں؟ ”الَّتِي هِيَ مَجْمُوعُ الشَّكْلِ وَاللَّوْنِ“، جو مجموعہ ہے شکل اور رنگ کا۔ بھئی، حسن اور قبح، یہ شکل اور رنگ کے مجموعے کا نام ہے… نہیں، شکل اور رنگ کے مجموعے کا نام ہے خلقت۔ شکل اور رنگ کے مجموعے کا کیا نام ہے؟ خلقت ہے۔ اور خلقت کہتے ہیں، تو اس خلقت کے اعتبار سے کبھی حسن آتا ہے اور کبھی کیا آتا ہے؟ قبح آتا ہے۔ کوئی چیز حسین بنتی ہے یا قبیح بنتی ہے شکل اور رنگ سے۔ جیسے پھول ہے مولانا، شکل ہے اور رنگ ہے مولانا، اس سے کیا پیدا ہوا اس میں؟ حسن آیا مولانا۔ ”وَكَالضَّحِكِ وَالْبُكَاءِ الْحَاصِلَيْنِ بِاعْتِبَارِ الشَّكْلِ وَالْحَرَكَةِ“، جیسے ہنسی اور رونا ہے جو حاصل ہوتے ہیں شکل اور حرکت ان دونوں سے، شکل اور حرکت سے بھئی۔ ہنسی بھئی، ہنسی کس کو کہتے ہیں؟ ہنسی کیسے حاصل ہوتی ہے؟ شکل ہے مولانا ایک انسان کی، پھر اس پہ تھوڑی سی حرکت آتی ہے، منہ کھل جاتا ہے مولانا، دانت نظر آنے لگتے ہیں، زیادہ ہنسا تو… زیادہ ہنسا تو زبان با… اچھا جی، یا مولانا رونا ہے، رونے کے اندر بھی کیا ہوگا؟ شکل بنے گی، کیا؟ کس طرح؟ آنکھیں کیا ہو جائیں گی بھئی؟ سکڑ جائیں گی، عجیب سی صورت اختیار کر لیں گی، اور… تو حرکت اور شکل مل کر اس سے ضحک اور بکاء حاصل ہوگا۔ تو ضحک اور بکاء، حسن اور قبح، ان سب کا ادراک بھی کس سے ہوتا ہے؟ بصر سے ہوتا ہے۔ ”أَوْ بِالسَّمْعِ“، یا ادراک ہوگا ان کیفیاتِ جسمیہ کا مولانا، سمع کے ساتھ۔ ”عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ: بِالْبَصَرِ“، یہ ”بِالْبَصَرِ“ پر اس کا عطف ہو رہا ہے۔ ”وَالسَّمْعُ قُوَّةٌ رُتِّبَتْ فِي الْعَصَبِ الْمَفْرُوشِ عَلَى سَطْحِ بَاطِنِ الصِّمَاخَيْنِ“، اور سمع وہ قوت ہے رُتِّبت فی العصب المفروش، جسے جو ثابت کی گئی ہے مولانا یعنی جسے ثابت کی گئی ہے کس کے اندر؟ اس پٹھے کے اندر المفروش، جو پھیلا ہوا ہے علیٰ سطحِ باطنِ السماخین۔ سماخ کہتے ہیں کان کے سوراخ کو۔ کان کے سوراخ کے باطن کی سطح پر جو پھیلا ہوا ہے۔ بھئی، کان میں ایک پردہ لگا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم آواز سنتے ہیں، اور وہ پردہ اتنا نازک، اتنا نازک کہ انسان حیران ہوتا ہے۔ اس پردے کو ذرا نقصان ہو جائے، خراب ہو جائے تو بس انسان کی سمع کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: یہ وہ پٹھا ہے المفروش جو کیا ہے؟ اس طرح پھیلا ہوا ہے مولانا، کیا ہے؟ پھیلا ہوا ہے۔ اور باطنِ سماخین، یہ مولانا کان کا سوراخ آ رہا ہے، اس کے بالکل سامنے دیوار پر یہ اندر کیا ہے؟ پردہ، پٹھا پھیلا ہوتا ہے۔ ”يُدْرَكُ بِهَا الْأَصْوَاتُ“، ان کے ذریعے، اس کے ذریعے ادراک ہوتا ہے کس چیز کا؟ آوازوں کا، ”مِنَ الْأَصْوَاتِ الْقَوِيَّةِ وَالضَّعِيفَةِ وَالَّتِي بَيْنَ بَيْنَ“، قوی آوازوں میں سے اور ضعیف ہلکی آواز بھی اور وہ آواز جو متوسط ہو اس کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ اب آواز آئی تو آواز کس کو کہتے ہیں؟ آواز جانتے ہو بھئی؟ آواز لہروں کا نام ہے، لہروں کی صورت میں سفر کرتی ہے۔ آپ دو چیزوں کو آپس میں ٹکراتے ہیں زور سے مولانا، اس سے کیا نکلی؟ آواز، اور یہ آواز، یہ ہوا موجود ہے مولانا۔ تو جب آپ نے دو چیزوں کو ٹکرایا تو اس میں سے آواز نکلی، وہ آواز ہوا کی لہروں میں سفر کرتی ہوئی آپ کے کان تک پہنچتی ہے۔ جیسے پانی میں مولانا، کنکر پھینکیں تو لہریں آپ نے دیکھا ہوگا بنتی چلی جاتی ہیں کنارے تک، اسی طرح فضاء کے اندر جب آواز آتی ہے تو ہوا کی بعینہٖ اسی طرح لہریں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہریں چلتی چلتی کان کے پردے سے ٹکراتی ہیں اور اس سے ہم کیا کرتے ہیں؟ اس آواز کو سن لیتے ہیں۔ اس لیے جہاں پر ہوا نہیں ہوگی وہاں کوئی دوسرے کی آواز سن نہیں سکتا۔ مثلاً چاند ہے مولانا، چاند پر ہوا نہیں ہے، تو وہاں پر آپ لاکھ چیخیں چلائیں، آپ کے سامنے آپ کا ساتھی کھڑا ہو، اس کو کچھ پتہ نہیں چلے گا بھئی، کیونکہ آواز کی لہریں ہی… وہ ہوا ہی نہیں ہے، تو لہریں کہاں سے بنیں؟ اور لہریں نہیں بنیں گی تو دوسرے تک آواز پہنچے گی کیسے بھئی؟ تو یہ مولانا، آواز کسی دو چیزوں کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے یا دو چیزوں کو آپس میں جدا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً مولانا، دکھاؤ بھئی، قلم کیا ہے؟ یہ قلم ہے، مثلاً دیکھو میں توڑوں گا آواز آئے گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ سخت چیز کو توڑتے ہیں آواز آتی ہے یا نہیں آتی مولانا؟ تو اسی طرح، سمجھ میں آیا بھئی؟ ڈر تو نہیں گئے تھے؟ تو دو چیزوں کے آپس میں ٹکرانے سے یا آپس میں جدا ہونے سے آواز پیدا ہوتی ہے بھئی۔ ”وَالصَّوْتُ يَحْصُلُ مِنَ التَّمَوُّجِ الْمَعْلُولِ لِلْقَرْعِ“، اور وہ صو… آواز جو ہے وہ حاصل ہوتی ہے من التموج، تموج کہتے ہیں لہریں مارنا مولانا، لہریں، لہروں سے، المعلول جو پیدا ہوتی ہیں، وہ لہریں جو پیدا ہوتی ہیں للقرع، کس سے؟ ٹکرانے سے، کس سے؟ ٹکرانے سے، ”الَّذِي هُوَ إِمْسَاسٌ عَنِيفٌ“، قرع کس کو کہتے ہیں؟ خود بتلا رہے ہیں: امساس مولانا، ٹکرانا ہے، ٹکرانا، عنیف کہتے ہیں شدید کو، شدید ٹکراؤ سے، قرع کہتے ہیں: شدید ٹکراؤ۔ ”وَالْقَلْعِ الَّذِي هُوَ تَفْرِيقٌ“، ”وَالْقَلْعِ“، اس کا عطف قرع پر ہو رہا ہے: وہ لہریں ہیں جو پیدا ہوتی ہیں قرع سے یا قلع سے۔ قرع کس کو کہتے ہیں؟ ٹکرانے کو، اور قلع کس کو کہتے ہیں؟ اکھاڑنے کو، جدا کرنے کو، ”الَّذِي هُوَ تَفْرِيقٌ“، جو کہ تفریق کا نام ہے، جدا کرنے کا نام ہے۔ ”بِشَرْطِ مُقَاوَمَةِ الْمَقْرُوعِ لِلْقَارِعِ وَالْمَقْلُوعِ لِلْقَالِعِ“، لیکن شرط یہ ہے: مقاومت کا معنیٰ مولانا ہوتا ہے مزاحمت کرنا، مساوات مراد ہے یہاں مساوات، کہ مساوات ہو مقروع اور قارع کے درمیان اور مقلوع اور قالع کے درمیان۔ بھئی، دو چیزوں کو آپ نے ٹکرایا، مثلاً اس قلم کو، یہ قلم ہے ٹکرانے والا، قارع، کیا ہے؟ قارع، اور کتاب سے ٹکرا رہا ہے یہ ہے مقروع، شرط یہ ہے ان دونوں میں مساوات ہو سختی کے اندر مولانا۔ یہ کتاب بھی سخت ہے، یہ قلم بھی سخت ہے، اب میں ٹکرا رہا ہوں تو آواز آئے گی، لیکن اگر یہ کتاب نرم ہوتی، یہاں نرم روئی پڑی ہوتی مولانا، پھر آواز کوئی پیدا ہوتی؟ نہ، اسی لیے کہا کہ دونوں میں مقاومت مساوات ہونی چاہیے مقروع اور قارع دونوں میں۔ ”وَالْمَقْلُوعِ لِلْقَالِعِ“، اسی طرح اکھاڑنے والی چیز اور جس سے اکھاڑا گیا ان دونوں میں بھی سختی میں کیا ہونی چاہیے؟ مساوات ہونی چاہیے۔ جیسے یہ قلم ہے، تو یہ اس کے اجزاء آپس میں سختی سے جڑے ہوئے ہیں، اب میں جدا کروں گا ان کو آپس میں آواز آئے گی، لیکن اگر روئی کے دو ذروں کو میں آپس میں جدا کرتا ہوں تو پھر نہیں، کیونکہ وہ نرم ہیں۔ ”وَيَخْتَلِفُ الصَّوْتُ قُوَّةً وَضَعْفًا بِحَسَبِ قُوَّةِ الْمُقَاوَمَةِ وَضَعْفِهَا“، اور آواز مختلف ہوتی ہے قوت اور ضعف کے اعتبار سے، مقاومت کی قوت کے، مقاومت کے قوی ہونے اور ضعیف ہونے کے اعتبار سے مولانا۔ مزاحمت اگر قوی ہوگی تو آواز بھی زیادہ ہوگی، اگر مزاحمت کمزور ہوگی تو آواز بھی کمزور ہوگی۔ ”أَوْ بِالذَّوْقِ“، یا مولانا ان کا ادراک، کیفیاتِ جسمیہ کا ادراک کس سے ہوگا؟ ذوق سے ہوگا۔ ”وَهِيَ قُوَّةٌ مُنْبَثَّةٌ فِي الْعَصَبِ الْمَفْرُوشِ عَلَى جِرْمِ اللِّسَانِ“، اور یہ وہ قوت ہے جو سرایت کیے ہوئے ہے، ”مُنْبَثَّةٌ أَيْ سَارِيَةٌ“، سرایت کیے ہوئے ہے ”فِي الْعَصَبِ الْمَفْرُوشِ“، اس پٹھے کے اندر جو پھیلا ہوا ہے ”عَلَى جِرْمِ اللِّسَانِ“، زبان کے جسم، زبان پہ ہے مولانا، یہ ذائقے کی قوت زبان پر کے اوپر جو پٹھا ہے، اس پٹھے میں پھیلی ہوئی ہے مولانا، سرایت کی ہوئی ہے یہ ذائقے کی قوت۔ اور ذوق سے کس کا ادراک ہوتا ہے؟ ”مِنَ الطُّعُومِ“، کس کا؟ ذائقوں کا، ”كَالْحَلَاوَةِ“، جیسے مٹھاس ہے، ”وَالْمَرَارَةِ“، جیسے کڑواہٹ ہے، ”وَالْمُلُوحَةِ“، جیسے نمکین ہونا ہے، کھاری ہونا ہے، ”وَالْحُمُوضَةِ“، حموضہ کہتے ہیں ترشی کو، کھٹا ہونا، کھٹے ہونے، ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“، اس کے علاوہ کا۔ خلاصہ یہ مولانا: انہوں نے کیا کہا: وجہِ تشبیہ یا خارج ہوگی یا کیا ہوگی؟ خارج نہیں ہوگی۔ اگر خارج نہیں ہے تو… اگر خارج ہے تو پھر وہ صفت ہوگی یا صفتِ حقیقی ہوگی یا صفتِ اضافی ہوگی۔ صفتِ حقیقی ہو تو پھر مولانا، وہ یا حسی ہوگی یا عقلی ہوگی۔ اگر حسی ہے تو پھر پانچ صورتیں تھیں: مدرک بالبصر، یا مدرک بالشم، یا مدرک بالسمع، یا مدرک بالذوق۔ یہ دو تین ہم نے پڑھ لیے، بھئی۔ بس مولانا، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔