Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا انہوں نے وجوہ اعجاز کے اندر استعارہ بالکنایہ اپ کو بتلایا تھا دو طریقے سے بھئی ایک طریقہ یہ تھا کہ وجوہ اعجاز اس کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ اشیاء محتجبہ کے ساتھ یہ کیا اور یہ مشبہ ذکر اور مشبہ بہ محذوف یہ کس سے استعارہ بالکنایہ اور اس کے لیے قرینہ چاہیے اور وہ استعارہ تخییلیہ ہوتا ہے اور استعارہ تخییلیہ یہاں کس کے اندر ہے استار کے اندر ہے کہ پردے ثابت کیے اور پردے تو کس کے لیے ہوتے ہیں چھپی ہوئی چیزوں کے لیے ہوتے ہیں اعجاز کے راستوں کے لیے نہیں۔ وجکر الوجوہ ایہام اور وجوہ کے لفظ کے اندر مولانا ایہام ہے بھئی۔ ایہام ایہام توریہ کو کہتے ہیں کہ ایک لفظ اس کے دو معنی ہو ایک قریبی ایک بعید اور مفا متکلم جو ہے بعید معنی کا ارادہ کرے اور مخاطب کون سا معنی سمجھے قریب یہ ایہام اور توریہ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا طریقہ بتلایا تھا استعارہ بالکنایہ کہ مولانا اعجاز کو تشبیہ دی صورت حسنہ کے ساتھ بھئی اور یہ مشبہ ذکر ہے اور مشبہ بہ محذوف یہ استعارہ بالکنایہ ہے اور اس کے لیے مولانا اعجاز کے لیے پھر چہرے ثابت کیے یہ استعارہ تخییلیہ ہے حالانکہ کیونکہ چہرے لازم ہیں کس کا مشبہ بہ یعنی صورت حسنہ کا۔ اور تو یہ تخییلیہ ہوا اور پھر ان کے لیے استار ثابت کیے مولانا جو مناسب ہے مشبہ بہ کے اس کو مشبہ کے لیے ثابت کیے یہ کیا ہے استعارہ ترشیحیہ۔ اس کے بعد بتلایا تھا نظم قران کہتے ہیں کہ اس کے کلمات کا جوڑا جوڑنا کس طرح ہے۔ نظم کا لفظ استعمال کیا جس کا معنی قرونا یعنی اس کے کلمات جو ہیں وہ امور بلاغت کی رعایت کے ساتھ ہیں جہاں جس قسم کے کلام کی ضرورت تھی اسی قسم کا کلام ذکر کیا گیا مولانا اور ان کی دلالتیں بڑی مناسب ہیں مقتضائے عقل کے مطابق مولانا۔ ان کا پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آنا اور ملا ہوا ہونا یہ مراد نہیں ہے بھئی۔ اس کو نہیں کہتے نظم۔ جہاں تک بیان ہو رہی تھی مولانا بیان ہوا ترجیح فن اب ترجیح متن اگے انہوں نے ذکر کیا تھا بتایا کہ قسم ثالث جو تھی مفتاح العلوم کی وہ نفع کے اعتبار سے سب بڑی تھی تمام کتاب کتب بلاغت سے۔ کیوں بڑی تھی نفع کے اعتبار سے تین وجہیں ذکر کیں کہ وہ احسن تھی کس اعتبار سے ترتیب کے اعتبار سے احطم تھی تحریر اور تہذیب کے اعتبار سے اور اکثر تھی اصول و قوانین کو جمع کرنے کے اعتبار سے۔ اس کے بعد یہ بحث کی انہوں نے کہ لل اصول جار مجرور ہے جار مجرور ہمیشہ کس سے متعلق ہوتا ہے یہاں وہ کس سے متعلق ہوگا بتایا جمع سے ہی متعلق ہوگا لیکن یہ جو جمع ان ا رہا ہے جو اس سے مؤخر ہے اس سے متعلق نہیں ہوگا بلکہ اس سے ماقبل ایک اور جمع نکالنا پڑے گا اور جسے حذف کر دیا گیا کیونکہ آگے اس کی کیا آ رہی تھی تفسیر فوراً جمع آ رہا تھا مولانا۔ تو یہ اس کے ساتھ متعلق ہوگا اور وجہ یہ ہے مولانا کہ مصدر جو ہے عامل ضعیف ہے اور عامل ضعیف کیا ہے مابعد تو عمل کر سکتا ہے ماقبل میں عمل نہیں کر سکتا بھئی۔ وجہ یہ ہے مولانا کہ وہ مصدر جو عامل ہوتا ہے وہ ان مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے مولانا تو جمع ان کس کی تاویل میں ہے ان جمع اور یہ جمع ان پر مقدم نہیں ہو سکتا مولانا مقدم نہیں ہو سکتا تو جب یہ اس پر مقدم نہیں ہو سکتا تو اس کا معمول بطریق اولی کیا ہے اس پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ لیکن علامہ التفتازانی نے اپ کو بتایا کہ حق یہ ہے کہ جائز ہے مولانا ظروف کے اندر مولانا اس لیے کہ ظروف کا تعلق بڑا گہرا ہے افعال کے ساتھ کوئی فعل ایسا نہیں جو کسی جو بھی فعل ہوگا کسی زمانے میں ہوگا کسی مکان کے اندر ہوگا مولانا تو بڑا گہرا تعلق ہے ان کے لیے ادنی رائحہ فعل بھی کافی ہے فعل کا معمولی اثر بھی کسی چیز میں نظر آ رہا ہے وہ بھی کیا کر سکتا ہے ان میں عمل کر سکتا ہے تو یہ چاہے مقدم بھی ہو گئے پھر بھی مولانا یہ کیا ہے عامل ضعیف پھر بھی ان میں عمل کر سکتا ہے اور یہ اس سے متعلق ہو سکتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا۔ اس کے بعد مولانا باعث تصنیف بتلایا کہ جب اتنا اچھا متن موجود تھا پھر مجھے تصنیف کی ضرورت کیوں پیش ائی بتایا اس لیے کہ قسم ثالث جو تھی وہ محفوظ نہیں تھی اس میں حشوبھی تھا حشوبھی تطویل بھی تھی اور تاکید بھی تھی بھئی حشوب کس کو کہتے ہیں مولانا وہ لفظ جو اصل مراد پر زائد ہو بغیر کسی فائدے کے اس تطویل بھی اسی کو کہتے ہیں وہ لفظ جو زائد ہو اصل مراد پر بغیر کسی فائدے کے۔ لیکن فرق کیا ہے کہ حشم میں لفظ متعین ہوتا ہے کہ یہ لفظ زائد ہے اور تطویل میں متعین نہیں ہوتا۔ اور تاکید بھی تھی اس میں مولانا تاکید کس کو کہتے ہیں کہ کلام کی دلالت معنی مراد پر ظاہر نہ ہو مشکل کلام ہو پیچیدہ کلام ہو بھئی اس کیا مراد ہے وہ ظاہر نہ ہو بھئی۔ تو اس میں یہ تین عیوب تھے حش تطویل اور تاکید تو حش کی وجہ سے وہ محتاج تھی مولانا کس چیز کی تجرید کی محتاج تھی۔ اور تطویل کی جو وجہ سے کس چیز کی محتاج تھی اختصار کی اور تاکید کی وجہ سے ایضاح کی محتاج تھی تو میں نے مختصر تالیف کی یعنی یہ اپنا مختصر رسالہ تلخیص المفتاح جو ہے یہ تالیف کیا۔ اور یہ مشتمل تھا ان قواعد پر جو کس کے اندر تھے قسم ثالث قسم ثالث میں جو قواعد ذکر ہوئے تھے علم بلاغت کے وہ یہ میں نے اس میں ذکر کیے یہ رسالہ ان پر مشتمل ہے بھئی۔ اس کے بعد قاعدہ بتلایا مولانا قاعدہ کس کو کہتے ہیں وہ حکم کلی جو منطبق ہو علی جمیع جزئیہ ای جمیع جزئیات موضوعہ قاعدہ ایسا حکم وہ حکم کلی ہے جو منطبق ہو اپنی جزئیات پر یا اپنے موضوع کی جزئیات پر موضوع کی جزئیات ہاں اپنے موضوع کی جزئیات پر موضوع تو حکم کلی میں نے بتلایا تھا کس کو کہیں گے جس کا موضوع کیا ہو جس کا موضوع کلی ہو وہ حکم کلی ہے تو اس کے موضوع کلی ہے اس کے افراد ہوں گے تو یہ ان پر سب پر کیا ہے صادق ائے گا جیسے میں ضابطہ ہے مولانا الفاعل مرفوع۔ اب یہ حکم کلی ہے کیونکہ اس کا موضوع الفاعل وہ کیا ہے کلی ہے جاء زید یہ بھی فاعل ہے زید ذھب بکر بکر بھی کیا ہے فاعل اکل خالد یہ خالد بھی کیا ہے فاعل تو یہ اس کے بہت سے جزئیات ہیں مولانا۔ اور یہ مرفوع ہونا یہ سب پر صادق ا رہا ہے سب پر منطبق ہے مولانا۔ جاء زید یہ زید کیا ہے جزی ہے کس کی فاعل کی تو یہ بھی کیا ہے مرفوع۔ اور اکل بکرون یہ بکرون بھی کیا ہے مرفوع ہے۔ ویجتمل علی ما یحتاج الیہ من الامثلۃ وھی الجزئیات المذکورۃ لإیضاح القواعد والشواہد وھی الجزئیات المذکورۃ لإثبات القواعد فھی اخص من الامثلۃ۔ تو کیا اپنی مختصر کے بارے میں بتلا رہے ہیں اپنی کتاب تلخیص جو انہوں نے لکھی بھئی۔ کہ وہ کتاب متضمن تھی یعنی اس میں کیا پائے جا رہے تھے کیا میں نے جمع کر دیے۔ جی تو اس میں میں نے اس کو مشتمل بنایا ان قواعد پر جو قسم ثالث میں تھے اور مشتمل تھی کس پر علی ما یحتاج الیہ ان پر جن کی طرف احتیاج ہوتی تھی بھئی ان چیزوں پر جن کی طرف احتیاج ہوتی تھی۔ بھئی کن چیزوں کی طرف احتیاج ہوتی تھی من الامثلۃ یہ بیان ہے ما کا مولانا یعنی کہ مثالیں والشواہد اور شواہد۔ تو اب ما کی جگہ مولانا امثلہ اور شواہد رکھیں اور وہ مشتمل تھی ان مثالوں اور شواہد پر جن کی طرف احتیاج ہوتی تھی جن کی طرف جن کی ضرورت تھی۔ جن کی ضرورت تھی معلوم ہوا۔ مفتاح العلوم کی قسم ثالث میں زائد مولانا غیر محتاج الیہ مثالیں اور شواہد وغیرہ موجود تھے اور میں نے اس میں صرف کن کو ذکر کیا جو محتاج الیہ جن کی حاجت تھی ضرورت تھی صرف وہ مثالیں ذکر کی اور وہ شواہد ذکر کیے۔ اب ایک ہے مولانا مثال ایک ہے شاہد۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے بھئی۔ تو بتلا رہے ہیں مولانا مثال قاعدے کی وضاحت کے لیے اتی ہے اور شاہد قاعدے کے اثبات کے لیے اتا ہے۔ مثال کس کے لیے اتی ہے قاعدے کی وضاحت کے لیے اتی ہے اور شاہد کس لیے اتا ہے قاعدے کے اثبات کے لیے اتا ہے۔ مثلا مولانا میں کہتا ہوں الفاعل مرفوع فاعل کیا ہوتا ہے مرفوع ہوتا ہے مثال کے طور پر ذھب زید یہ میں نے مثال ذکر کی مولانا۔ اس سے کیا ہوا قاعدے کی وضاحت ہو گئی مولانا کیا ہوا۔ اور شاہد وہ قاعدے کا اثبات کرتا ہے مولانا میں کہتا ہوں الفاعل مرفوع فاعل کیا ہوتا ہے مرفوع ہوتا ہے یہ ضابطہ ہے اس ضابطے کے اثبات کے لیے اب میں کلام عرب کو کہیں سے پیش کروں گا۔ ایسا کلام عرب جس کے اندر فاعل کیا ا رہا ہو مرفوع ہو اور وہ ایسے شخص ایسی ذات کا کلام ہو جس کی عربیت کے اندر اس کا کلام معتبر بھی ہو۔ تو میں نے کیا کہا فاعل کیا ہوتا ہے مرفوع کیا دلیل ہے مولانا کیا شاہد ہے بھئی میں کہتا ہوں قرآن میں ایا ہے آتا امر اللہ۔ اتا فعل ہے اور امر اللہ اس کے لیے فاعل اور فاعل کیا ہے مولانا مرفوع ہے معلوم ہوا ضابطہ ثابت ہو گیا بھئی۔ کیونکہ قرآن تو عربیت میں سب سے زیادہ معتبر ہے بھئی۔ یا مولانا میں اس قاعدے کے اثبات کے لیے کسی قدیم عرب شاعر کا قول پیش کروں گا۔ کہ اس نے دیکھو فلاں شعر کہا ہے اور اس شعر کے اندر یہ لفظ فاعل ہے اور کیا ہے کس حالت میں ہے حالت رفعی میں ہے سمجھ میں آیا بھئی تو اس سے اثبات ہوتا ہے قاعدے کا بھئی۔ دیکھیے بھئی من الامثلۃ یعنی کہ مثالیں وھی الجزئیات المذکورۃ لإیضاح القواعد اور یہ وہ جزئیات ہوتی ہیں وہ جزئیات ہوتی ہیں جو مذکور ہوتی ہیں کس کے لیے قاعدے کی قاعدوں کی وضاحت کے لیے۔ والشواہد اور شواہد ذکر کیے جن کی احتیاج تھی وھی الجزئیات المذکورۃ لإثبات القواعد وہ جزئیات ہوتے ہیں وہ جزئیات ہوتے ہیں ذکر کیے گئے جاتے ہیں کس کے لیے مولانا قواعد کے اثبات کے لیے فھی اخص من الامثلۃ تو شواہد مولانا اخص ہیں۔ کس سے؟ امثلہ سے بھئی۔ اخص ہیں دیکھو مولانا۔ میں نے کہا تھا ذھب زید یہ مثال ہے یا شاہد ہے یہ کیا ہے مثال مثال اور میں نے کہا اتق امر اللہ یہ مثال ہے یا شاہد ہے شاہد ہے لیکن یہ مثال بھی ہے میں کہتا ہوں الفاعل مرفوع مثال کے طور پر اتى امر الله۔ سمجھ میں آیا تو ہر شاہد مثال بھی ہے لیکن ہر مثال شاہد نہیں تو ان میں کون سی نسبت ہوئی عموم خصوص مطلق کی نسبت ہوئی فھی اخص من الامثلۃ تو یہ مولانا شواہد جو ہیں یہ اخص ہیں کس سے امثلہ سے۔ امثلہ عام ہیں اور یہ اخص ہیں بھئی۔ ولم آلو من الالویہ یا لم ولما آلو من الالوی۔ دونوں طرح ٹھیک ہے۔ وھو التقصير جہدا یا جہد دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں اجتہادا وقد استعمل الوالو ھنا متعدیا إلی مفعولین و حذف المفعول الاول والمعنی لم امنعک جہدا۔ अच्छा مولانا۔ الون بھئی یہ کیا ہے ہفت اقسام میں کیا بنے گا بھئی۔ جی۔ جی۔ نقص واری اور محوظ شاباش یہ ناقص بھی ہے اور محموز بھی ہے محموز الفا بھی ہے اور ناقص وادی بھی ہے بھئی۔ ولم آلو من الالویہ یا لم ولما آلو من الالوی وہ کس سے ہے؟ علو سے ہے وہ ہوا تقصیر اور علو کس کو کہتے ہیں مولانا؟ تقصیر کوتاہی کرنا۔ جھدًا ای اجتہادًا کوشش کرنا بھئی۔ وقد استعمل یہاں سے علامہ تفتتازانی یہ بتلا رہے ہیں آپ کو کہ لم آلو یہ تو فعل لازم ہے۔ میں نے کوتاہی نہیں کی۔ پھر یہ جھدًا ترکیب میں کیا واقع ہوا بھئی؟ تو آپ کو بتلائیں گے آگے کہ یہ مفعول ہے مولانا، مفعول ثانی۔ مفعول ثانی۔ بھئی یہ تو فعل لازم ہے اس کے لیے مفعول کہاں سے آگیا؟ تو بتلائیں گے مولانا کہ لم آلو ا معنی کس کے ہیں؟ لم آمنع کے ہیں مولانا میں نے منع نہیں کیا میں نے روکتا نہیں بھئی اور منع تو کس کو چاہتا ہے؟ دو مفعولوں کو چاہتا ہے، تو وہاں پر ایک مفعول پہلا محذوف ہے اور دوسرا عبارت کے اندر ذکر ہے۔ تو لم آلو متضمن ہے لم آمنع کے معنی کو مولانا۔ وقد استعمل الالو ہا ہینا اور تحقیق استعمال کیا گیا ہے آلو کو یہاں پر متعدیان الی مفعولین کہ وہ متعدی ہے کس کی طرف؟ دو مفعول ہاں اس حال میں کہ وہ متعدی ہیں دو مفعولوں کی طرف وحذف المفعول الاول اور مفعول اول کو حذف کر دیا گیا ہے والمعنی اور معنی یہ ہے مولانا لم آمنعک جھدًا۔ میں نے روکی نہیں تجھ سے اپنی کوشش۔ میں نے تجھ سے اپنی کوشش نہیں روکی۔ بھئی عربی کے اندر محاورہ ہے کہتے ہیں لم آلو جھدًا میں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ یعنی میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے تو مصنف بھی یہاں بتلا رہے ہیں کہ میں نے کیا کیا ہے؟ پوری کوشش کی ہے کس چیز کے اندر؟ فی تحقیقہ و تہذیبہ اس کی مختصر کی تحقیق اور تہذیب میں۔ فی تحقیقہ ای المختصر، ای المختصر سے کیا بتلایا مولانا علامہ تفتتازانی نے؟ جی ہا ضمیر کا مرجع بتلایا کہ تحقیقہ ای تحقیق المختصر۔ مختصر کی تحقیق میں یعنی فی تحقیق ما ذکر فیہ من الأبحاث۔ مختصر کی تحقیق سے مراد یہ ہے کہ اس کے اندر جو ابحاث مذکور ہیں ان کی تحقیق سے میں نے کوئی کوتاہی نہیں، کوئی اپنی کوشش میں کمی نہیں کی بھئی تحقیق کس کو کہتے ہیں مولانا؟ گزر چکا ہے بھئی۔ جی مسئلے کو دلیل سے ثابت کرنا بھئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ تحقیق۔ و تہذیبہ اور اس کی مختصر کی تہذیب کے اندر میں نے کوئی کمی نہیں کی۔ ای تنقیحہ بتلایا مولانا تنقیح کا معنی صاف ستھرا کرنا تو تہذیب کا کیا معنی ہوا؟ صاف ستھرا کرنا، بیکار اور زائد چیزوں کو نکال دینا۔ و رتبہ اور مرتب کیا ای المختصر یہ کیا بتلایا ضمیر کا مرجع اور وہ مفعول ہے تو یہ بھی منسوب آئے گا ورتبہ ای المختصر اور میں نے مرتب کیا مختصر کو ترتیباً ایسی ترتیب پر اقرب تناولاً تناول کا معنی ہوتا ہے مولانا ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو پکڑنا۔ ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو پکڑنا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاتھ بڑھا کر پکڑنا۔ لیکن یہاں صرف اخذ کے معنی میں ہے اخذ کے معنی میں پکڑنا بس۔ اور اخذ بھی مولانا ہاتھ سے پکڑنا مراد نہیں ہے بھئی اخذ بھی ذہن مراد ہے۔ اخذ بھی ذہن مراد ہے یعنی ذہن میں حاصل ہونا حاصل کرنا۔ تو حصول ذہنی مراد ہے کیا مراد ہے تناول سے یہاں؟ حصول ذہنی۔ یا تحصیل ذہنی کے۔ ایسی ترتیب جو زیادہ قریب تھی کس چیز کے مولانا؟ جی تو یہ زیادہ قریب تھی کس چیز کے؟ حصول ذہنی کے من ترتیب زیادہ قریب تھی کس کی ترتیب سے مولانا؟ بھئی اب آگے بتلائیں گے ہا ضمیر لام سکا سکاکی کو بھی راجع ہو سکتی ہے اور قسم ثالث کو بھی راجع ہو سکتی ہے تو اگر عبارت یوں ہوئی اگر علامہ سکاکی کو راجع کریں من ترتیب اے ترتیب من ترتیب سکاکی یہ بھئی اور یا پھر مولانا من ترتیب قسم ثالث۔ تو یہ زیادہ قریب تھی مولانا ذہن میں حاصل کرنے کے کس کی ترتیب سے؟ تو اس کی بھی ترتیب ہے میری کتاب کی بھی ترتیب ہے لیکن میری کتاب کیا ہے؟ ذہن میں آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یعنی جلدی انسان کا ذہن اس کو قبول کر لیتا ہے مولانا۔ جی اضافت المصدر الی الفاعل أو المفعول بہ یہ مولانا بتلا رہے ہیں ترتیبہ مولانا ترتیب مضاف ہے اور ہا ضمیر مضاف إليه ہے مولانا تو ترتیب مولانا ترتیب دینے والے کون؟ جی اپنی کتاب مفتاح العلوم کو بھئی علامہ سکاکی اور ترتیب دیا کس کو گیا ہے؟ مفتاح العلوم یا قسم قسم ثالث کو تو مولانا ترتیب دینے والے ہیں علامہ سکاکی اور ترتیب دیا گیا ہے کس کو قسمیں ثالث کو تو اب اگر ہا ضمیر راجع کریں کس کو؟ علامہ سکاکی کو تو یہ اضافت ہوئی مصدر کی کس کی طرف؟ فاعل کی طرف اور اگر یہ راجع کریں مولانا قسم ثالث کو تو یہ اضافت ہوئی کس کی طرف؟ مفعول کی طرف یہی بات کر رہے ہیں۔ اضافت المصدر الی الفاعل أو المفعول بہ یہ اضافت ہے مصدر کی فاعل کی طرف یا مفعول بہ کی طرف۔ ولم أبالغ فی اختصار لفظه تقریباً لتعاطیہ وطلباً لتسهیل فہمه علی طالبیہ۔ اور میں نے مبالغہ نہیں کیا فی اختصار لفظه اس اس مختصر کے لفظوں کو مختصر کرنے میں بھئی۔ لفظه ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ مختصر یہ تلخیص مولانا یہ مختصر کتاب ہے یا بڑی کتاب ہے؟ جی تو اس مختصر کتاب کے لفظوں کو مختصر کرنے میں میں نے مبالغہ نہیں کیا بھئی مختصر تو کیا لیکن زیادہ مبالغہ نہیں۔ کیونکہ مختصر ہونے سے بھی مولانا اس میں مختصر کیا لیکن زیادہ مبالغہ نہیں اگر بہت زیادہ مبالغہ کرتا بہت مختصر کرتا تو پھر تو بات کا سمجھنا بڑا ہی مشکل ہو جاتا یعنی متوسط درجے کا اختصار کیا ہے میں نے اس میں۔ اور میں نے مبالغہ نہیں کیا فی اختصار لفظه مختصر کے لفظوں کو مختصر کرنے میں کیوں نہیں کیا مبالغہ کہتے ہیں تقریباً لتعاطیہ یہ مفعول لہو ہے مولانا ضربتہ تادیباً میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے تو یہ ماقبل فعل کی کیا بیان کرتا ہے؟ علت بیان کرتا ہے یہاں بھی علت کہ میں نے مبالغہ نہیں کیا کیوں نہیں کیا؟ تقریباً تاکہ میں اس کو قریب کروں لتعاطیہ تعاتی کا وہی معنی ہے اي تناوله یعنی ذہن میں ذہن میں اس کے حاصل کرنا بھئی ذہن میں حاصل کرنا۔ تو میں نے زیادہ مبالغہ نہیں کیا۔ کس لیے زیادہ مبالغہ نہیں کیا؟ تاکہ اس کا حاصل کرنے کو قریب کروں تاکہ ذہن کے کیا کروں؟ قریب کروں تاکہ ہر ایک اس کو سمجھ سکے اگر میں زیادہ مبالغہ کرتا تو پھر ہر ایک اس کو نہ سمجھ سکتا بھئی معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ جی وطلباً لتسهيل فہمه علی طالبیہ۔ اور طلب کرتے ہوئے اس کی تسهیل اس کے فہم کی تسهیل کو اس کا سمجھنا کیا ہو جائے؟ اس کے سمجھنے کو آسان بنا دوں اس بات کو طلب کرتے ہوئے کن پر آسان بنا دوں علی طالبیہ یہ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ اس کے طلب کرنے والوں پر اس علم کی جو تحصیل کرنے والے ہیں اس کتاب کو جو پڑھنے والے ہیں ان کے لیے اس کتاب کے سمجھنے کو کیا کر دوں؟ اس لیے میں نے اس کے اختصار میں زیادہ مبالغہ نہیں اگر میں زیادہ مبالغہ کرتا تو پھر اس ان کو اس کتاب کا سمجھنا کیا ہو جاتا؟ دشوار ہو جاتا بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ تو تقریباً عبارت میں کیا آیا مولانا؟ مفعول لہو اسی طرح طلباً بھی کیا آیا؟ مفعول لہو ہے مولانا تو دو وجہ ذکر کیں مبالغہ فی الاختصار نہ کرنے کی بھئی۔ ایک تقریب الی الاذہان اور دوسرا طلب تسہیل بھئی طلب تسہیل۔ اب مولانا یاد رکھو یہ مفعول لہو مفعول بہ وغیرہ یہ چیزیں جو ہیں یہ فعل کے لیے قید ہوتی ہیں۔ کیا ہوتی ہیں فعل کے لیے؟ قید تو فعل جب یہ آئیں تو فعل مقید ہوا بھئی۔ میں کہتا ہوں ضربت زیداً تادیباً میں نے زید کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے آپ مجھے بتائیے یہ کیا کوئی عام نوعیت کی ضرب تھی یا خاص نوعیت کی ضرب تھی؟ کس مقصد کے لیے تھی؟ ادب سکھانے کے لیے تھی ویسے نہیں تھی تو دیکھو مولانا مقید ہو گیا یعنی فعل مولانا؟ مقید ہو گیا۔ ویسے میں کہتا ضربت زیداً تو یہ تو عام نوعیت کی ہے مولانا لیکن میں نے کہا ضربت زیداً تادیباً بھئی تو نیت کیا تھی اس ضرب کے اندر؟ ادب سکھانا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ قید ہے مولانا اس کے لیے۔ اسی طرح میں کہتا ہوں ضربت زیداً یہ زید بھی کیا ہے فعل کے لیے؟ قید ہے کیا ہے؟ قید بھئی یہ ضرب ہر ایک پہ واقع ہوئی ہے؟ نہیں بلکہ کس پر ہے؟ صرف زید پر واقع ہوئی ہے تو یہ بھی کیا بن گئی مولانا؟ فعل کے لیے قید بن گئی بھئی۔ समझ में आया भाई؟ قید بن گئی۔ اور ضابطہ ہے مولانا کہ جب مقید پر نفی داخل ہو مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ قید کی نفی کرتی ہے مولانا مقید جو مقید تھا اس کی نفی نہیں کر مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ کس کا رفع کرتی ہے؟ قید کا رفع کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں ما ضربتہ تادیباً۔ کیا ترجمہ؟ میں نے اس کی پٹائی ادب سکھانے کے لیے نہیں۔ کس چیز کی نفی ہوئی؟ پٹائی کی نفی ہوئی یا ادب سکھانے کی نیت کی نفی ہوئی؟ یہ معنی نہیں کہ میں نے پٹائی کی نہیں۔ معنی یہ ہے کہ پٹائی کسی اور غرض سے ہوئی ہے ادب سکھانے کے لیے نہیں۔ آپ کہتے ہیں کیا کہیں گے؟ لا آکول خبزاً بارداً بھئی۔ آپ کہتے ہیں میں ٹھنڈی روٹی نہیں کھاؤں گا۔ کیا معنی؟ روٹی ہی نہیں کھائیں گے یا ٹھنڈی روٹی نہیں کھائیں گے؟ ٹھنڈی روٹی کھائیں گے ٹھنڈی نہیں کھائیں گے تو سمجھ میں آیا نفی کس کی ہوئی مولانا؟ کیوں کہ وہ بھی صفت ہے مولانا صفت بھی موصوف کے لیے کیا ہوتی ہے؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب ان پر نفی داخل ہو تو نفی کس کی ہوتی ہے مقید پر جب نفی داخل ہو تو کس چیز کی نفی ہوتی ہے؟ قید کی نفی ہوتی ہے اور مقید کی نفی نہیں ہوتی۔ تو اب دیکھیے لم أبالغ یہ ہے مولانا فعل ابالغ فعل ہے اور تقریباً اور طلباً یہ اس کے لیے کیا ہے؟ مفعول لہو اور مفعول لہو کیا ہوتا ہے؟ قید ہوتا ہے اور اس پر حرف نفی داخل ہوا لم تو اب کس کی نفی ہوئی؟ یہ مقید ہوا نا ابالغ جی اور مقید پر کیا داخل ہوئی ہے؟ نفی اور وہ پھر کس کا رفع کرے گی؟ قید کا رفع کرے گی معلوم ہوا کہ میں اس ذہن اس کتاب کو ذہن کے قریب کرنا یہ منتفی ہے اور اس کی تسهیل کو طلب کرنا یہ بھی کیا ہے؟ منتفی ہے اور مبالغہ فی الاختصار بھی کسی اور وجہ سے موجود ہے مبالغہ فی الاختصار بھی کسی اور وجہ سے موجود ہے بھئی یہ کہہ رہے ہیں میں نے اس کو ذہن کے قریب کرنے کے لیے مبالغہ نہیں کیا۔ کیا کہہ رہے ہیں؟ زہن کے اس کے زہن کے قریب کرنے کے لیے مبالغہ نہیں کیا۔ معلوم ہوا مبالغہ کیا تو ہے لیکن کسی اور وجہ سے کیا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی سب کو؟ اور یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے اس کے سمجھنے کو آسان بنانے کے لیے مبالغہ نہیں کیا۔ معلوم ہوا مبالغہ تو کیا ہے لیکن آسان بنانے کے لیے نہیں کیا، کسی اور مقصد کے لیے کیا ہے تو دیکھا، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ رفع کس کا ہوا؟ قید کا۔ اور مقید ابھی بھی اسی طرح موجود۔ تو یہ خرابی لازم آئی معلوم ہوا مولانا کہ اس کتاب کے اندر تقریب الاذہان بھی منتفی ہے اور طلب التھیل بھی منتفی ہے اور البتہ مبالغہ موجود ہے۔ مبالغہ فی الاختصار کیا ہے؟ تو خرابی لازم آئی۔ تو علامہ تفتازانی آپ کو بتلا رہے ہیں مولانا کہ یہ تقریباََ اور طلباََ یہ لم ابالغ سے مفعول لہ نہیں واقع ہو رہے ورنہ تو پھر یہ اشکال واقع ہوگا۔ بلکہ لم ابالغ متضمن ہے جس معنی کو اس سے یہ کیا ہے مفعول لہ ہے۔ اور لم ابالغ متضمن ہے کس کو ترک المبالغہ۔ لم ابالغ کا کیا معنی ہوگا مولانا؟ ترک المبالغہ میں نے مبالغہ نہیں کیا یعنی میں نے مبالغہ کو چھوڑ دیا۔ اب مولانا بات ٹھیک ہو جائے گی، میں نے مبالغے کو چھوڑ دیا ہے کس لیے؟ تاکہ اس کو زہن کے قریب بناؤں اور اس کے سمجھنے کو کیا کر دوں؟ آسان کر دوں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب ترک تو آیا اب نفی ہی ختم ہو گئی۔ ترک تو فعل ہے مولانا۔ ترک تو کیا ہے؟ فعل ہے، حرف نفی تو نہیں۔ تو کہتے ہیں مفعول لہ یا مفعول لہ ہے مولانا لما تضمنہ معنی لم ابالغ۔ اس چیز کو جس کو متضمن ہے لم ابالغ کا معنی یعنی لم ابالغ کا معنی جس چیز کو متضمن ہے یہ اس سے مفعول لہ ہے۔ ای ترک المبالغہ یعنی کہ میں نے مبالغے کو ترک کر دیا فعل اختصاری کس کے اندر؟ اختصار میں تقریباََ بھئی۔ تو یوں کہو لم ابالغ کے لازم سے یہ کیا ہے مفعول مفعول ہے وہاں۔ لم ابالغ کے لازم بھئی لم ابالغ کے ساتھ کیا لازم ہے؟ ترک الترق مبالغہ۔ لتعاطیہ ای تناوله تعاطی کا کیا معنی کیا بھئی؟ تناول اور تناول کا کیا معنی کیا تھا؟ اخذ اور اخذ سے کون سا اخذ مراد ہے؟ ذہنی۔ تاکہ اس کو اخذ ذہنی کے قریب کروں بھئی۔ و طلباََ لتسهیل فہمہ علی طالبیہ اور طلب کرنے کے لیے اس کی تسهیل کو۔ اس کے سمجھنے کی تسهیل کو اور طلب کرتے ہوئے اس کے سمجھنے کی تسهیل کو علی طالبیہ اس کے طلب کرنے والوں پر و ضمائر للمختصر اور یہ ضمائر اربعہ جو گزری مولانا یہ مختصر کی طرف ہیں یعنی تلخیص کی طرف راجع ہیں کون سی؟ لفظہ کی ہا ضمیر، تعاطیہ کی ہا ضمیر، فہمہ اور طالبیہ یہ ساری ضمائر کس کو راجع ہیں؟ مختصر یعنی کون سی مختصر بھئی؟ تلخیص بھئی۔ و فی وصف مولفہ بانہ مختصر منقح سهل الماخذ تعریض بانہ لا تطويل فيه ولا حشو ولا تعقید كما في القسم الثالث. مصنف نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب کے اندر کس چیز کو کچھ قواعد کو ذکر کیا ہے مثالوں اور شواہد کے ساتھ اور میں نے کوئی میں نے پوری کوشش کی ہے اس کی تحقیق میں اور تہذیب میں اور ترتیب میں مولانا سمجھ میں آیا بھئی؟ تحقیق و تہذیب میں اور مرتب کیا ہے اس کو ایسی ترتیب پر جو جلدی سمجھ میں آجاتی ہے بھئی جلدی سمجھ میں۔ تو جب انہوں نے کیا کہا الفت مختصرا میں نے کس چیز کی تالیف کی؟ مختصر کی معلوم ہوا میری کتاب کے اندر حشو نہیں ہوگا۔ جی تطویل نہیں ہوگی مولانا، کیا نہیں ہوگی؟ تطویل تطویل نہیں جب تطویل ہے پھر تو مختصر نہیں اور مختصر ہے تو تطویل نہیں۔ تو دیکھو اس قسم ثالث کے اندر تطویل تھی، میں نے مختصر لکھی جب مختصر ہے تو معلوم ہوا اس کے اندر تطویل نہیں ہوگی۔ یہ صراحتاََ نہیں کہا اشارہ کر دیا، تعریض کر دی، اپنی کتاب کو کیا کہا مختصر، جب مختصر کہا تو اشارہ ہو گیا کہ اس کے اندر تطویل نہیں ہوگی۔ اور پھر کہا مولانا کہ میری کتاب کیا ہے تہذیبی کا کیا معنی کیا تھا؟ کیا مراد ہے تہذیب کی ہے میں نے اس کی یعنی یہ مہذب ہے، منقح ہے، صاف ستھری ہے۔ جب مہذب ہے منقح ہے معلوم ہوا اس کے اندر حشو نہیں ہے اور قسم ثالث میں تو کیا تھا؟ حشو تھا۔ اور بتلايا سهل الماخذ ہے مولانا سمجھنے میں آسان ہے مولانا سمجھنے میں آسان معلوم ہوا اس کے اندر تعقید بھی نہیں تو اس مختصر میں یہ تین عیوب تھے مولانا تطویل بھی تھی، حشو بھی اور تعقید بھی اس کا سمجھنا مشکل تھا، میں نے لکھی کتاب جو مختصر تھی، تطویل نہیں تھی، منقح تھی کیونکہ اس میں حشو زوائد نہیں اور مولانا سهل الماخذ تھی، سمجھنا آسان تھا معلوم ہوا اس کے اندر تعقید بھی نہیں تو یہ صراحتاََ کہا یا اشارہ کیا ان کے اشارہ کیا مختصر منقح اور سهل الماخذ کے لفظوں کے ذریعے۔ و فی وصف مولفہ اور اپنی تالیف کے وصف کرنے میں بانہ مختصر کہ وہ کیا ہے مختصر ہے، منقح ہے، سهل الماخذ ہے، ان لفظوں میں تعریض اشارہ ہے بانہ لا تطویل فيه کہ اس مختصر میں تطویل نہیں مولانا، ولا حشو اور اس میں حشو بھی نہیں، ولا تعقیدا اور تعقید بھی نہیں کما فی القسم الثالث جیسے کہ کس کے اندر تھی یہ چیزیں؟ قسم ثالث میں۔ و أضاف الى ذلك المذكور من القواعد وغیرھا۔ و أضاف الى ذلك۔ ذالک کے بعد کیا نکالا انہوں نے؟ المذكور بھئی۔ ذالک مشار الیہ بتلایا ذالک سے کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ وہ مذکور قواعد وغیرہ، وہ مذکور قواعد وغیرہ۔ اور میں نے اضافہ کیا اس کے جو قواعد مذکور تھے قواعد وغیرہ، ان کے ساتھ اضافہ کیا کس چیز کا اضافہ کیا؟ فوائد ایسے فوائد کا عثرتو۔ عثرتو جی ای ای طلبت فی بعض کتب القوم علیھا۔ عثرتو کا کیا معنی کیا؟ مطلع ہونا ای طلات جن پر میں مطلع ہوا تھا قوم کی بعض کتابوں میں۔ بھئی میں نے ایک مختصر تالیف کی اس مختصر کے اندر میں نے کیا چیزیں ذکر کیں سب سے پہلے کیا بتلایا؟ وہ قوانین جو کس کے اندر تھے؟ تو اس میں ثالث کے اندر تھے و أضافتو اور اضافہ کیا ملایا ساتھ اس کے کچھ ایسے فوائد جو میں نے اور بلغہ کی کتابوں میں پائے تھے بڑے بڑے ائمہ وغیرہ کی کتابوں میں مجھے اور جو بلاغت کے نکتے وغیرہ ملے ان کا بھی میں نے اس میں کیا کر دیا؟ اضافہ کر دیا مولانا۔ اور اضافہ کر دیا اس کے ساتھ میں نے ایسے فوائد کا جن پر میں مطلع ہوا تھا قوم کی بعض کتابوں میں، قوم سے عام قوم مراد ہے، عام لوگ مراد ہیں یا خاص لوگ مولانا؟ کون؟ علم بلاغت کے ماہرین اور ائمہ وغیرہ مراد ہیں ان کی کتابوں میں جو پڑھی تھیں۔ وہ فوائد عصرتو علیھا جن پر میں مطلع ہوا تھا ای علی تلک الفوائد یہ علیھا ضمیر کا مرجع بتلایا کہ جن پر ان جن پر میں مطلع ہوا تھا۔ و زوائد اور میں نے کس چیز کا اضافہ کیا؟ ایسے زوائد کا لم أظفر فی كلام احد بتصریح بھا۔ کہ میں کامیاب نہیں ہوا تھا کسی ایک کے کلام میں بھی بتصریح بھا۔ ان کی تصریح جس پر یعنی کسی بھی کسی عالم نے بھی ان کی تصریح نہیں کی تھی، کسی نے بھی اپنی کتاب میں ان کو صراحتاََ ان مسائل کو ذکر نہیں کیا تھا، ایسی چیزیں بھی میں نے ساتھ ملا دیں مولانا اس کی۔ ایسی چیزیں بھی ذکر نہیں کیا تھا، ولا بالاشارۃ الیہا۔ اچھا جی، ولام و زوائد اور ایسے زوائد کا اضافہ بھی کر دیا لم أظفر ای لم أفوز جن پر میں کامیاب نہیں ہوا تھا فی كلام احد کسی ایک شخص کے کلام میں بھی بتصریح بھا ای بتلکا زوائد کہ اس نے ان زوائد کی کیا کی ہو؟ ایسے زوائد جن کی کسی نے تصریح نہیں کی، وہ ملا دیے۔ ولا بالاشارۃ الیہا نہ تو کسی نے تصریح کی تھی اور صراحتاََ میں نے پایا تھا اور نہ ہی میں نے ان کو اشارتاََ پایا تھا کہ انہوں نے اس کی طرف اشارہ کیا ہو۔ ان کی طرف کیا کیا ہو؟ اشارہ کیا ہو۔ تو وہ چیزیں اشارتاََ ہی دوسرے کی کتاب میں موجود ہوتیں اور میں ان کو پا لیتا تو پا لیتا۔ ایسا بھی نہیں ہے یعنی۔ اشارتاََ بھی کسی کی کتاب میں اشارتاََ سے کیا مراد ہے؟ علامہ تفتازانی اپ کو بتلائیں گے بھئی۔ کہ مجھے کسی کی کتاب میں نہ ان کا صراحت ملی نہ ان کا اشارہ ملا، یعنی صراحتاََ تو ذکر تھی ہی نہیں لیکن ان کے کلام سے خود اشارہ ہو رہا ہو، انہوں نے ارادہ نہیں کیا لیکن انہوں نے کلام ذکر کیا، اس سے ایک مسئلہ ذکر کیا، البتہ اسی کلام سے ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے، اگرچہ انہوں نے اس کا ارادہ نہیں کیا تو چلو ایسا ہی مل جاتا، ان کا ارادہ بھی نہ ہوتا لیکن ان کے کلام سے کم از کم ایک چیز مفہوم ہو جاتی اور مجھے مل جاتے ایسا بھی نہیں ہے، میں نے کسی انداز میں بھی کسی کتاب میں ان زوائد کو نہیں پایا، یہ سب کے سب نتیجہ ہیں میری اپنی فکری کاوشوں کا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کچھ زوائد میں نے ملائے جو سب میری فکروں کا نتیجہ ہیں بھئی۔ دیکھیے خود بتا رہے ہیں با تصویریہ کے ساتھ مولانا صورت کیا ہے اشارے کے ساتھ میں پالیتا۔ کہتے ہیں کہ کلام کہ ہوتا ہو۔ کہ ہوتا ان کا کلام علی وجہ کہ ہوتا ان کا کلام علی وجہ ایسے طریقے پر يمكن تحصيلہا منه بالتبيعۃ کہ ان زوائد کی تحصیل ممکن ہوتی اس سے بالتبيعۃ طبعاً ہی ممکن ہوتی چاہے اصلاً اصلاً تو نہیں تھے و ان لم يقصدوھا اگرچہ انہوں نے اس کا ارادہ بھی نہیں کیا تو انہوں نے ارادہ بھی نہ کیا ہوتا لیکن طبعاً ہی چلو مجھے کہیں سے معلوم ہو جاتے ایسا بھی نہیں ہے. تو سمجھ میں آئے مصنف نے مولانا کہتے ہیں کمال کی ایسی عبارت میں کہ بتلایا آپ کو پہلے کہ اس کتاب مختصر میں تین قسم کی چیزیں ہیں۔ تین قسم کی چیزیں، ایک تو وہ قوانین جو کس کے اندر آئے تھے؟ قسم ثالث میں وہ آئیں گے بھئی۔ دوسری چیز مولانا وہ اور فوائد جو مجھے بزرگوں کی کتابوں سے ملے، وہ دو ہو گئیں۔ اور تیسرے کچھ زوائد ہیں جو نتیجہ ہیں میرے اپنے فکر کا، اپنی ذہنی کوشش کا۔ تو مولانا بزرگوں کی باتوں کو فوائد قرار دیا اور اپنی باتوں کو کیا قرار دیا؟ زوائد (یعنی یہ تو زائد چیزیں ہیں)۔ اور نیز مولانا زوائد کے کلام ذو وجہین ہے۔ زوائد کہا یہ کلام ذو وجہین ہے۔ ممکن ہے عاجزی کرتے ہوئے یہ بھی ترجمہ ممکن ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ زائد ہیں میری چیزیں، یعنی ان کی حاجت ضرورت سے زائد چیز ہے مولانا۔ زوائد کا کیا معنی مولانا؟ جس کی ضرورت تو معلوم ہوئی میری چیزیں بیکار ہیں ضرورت سے زائد ہیں بھئی ان کے بغیر بھی کام چل جاتا ہے۔ اور یا یہ معنی ہے مولانا زوائد کا کہ میری چیزیں زائد ہیں کس چیز میں؟ مرتبے میں اور مولانا فضل کے اندر بھئی۔ وہ ان سے سب سے بڑھ کر ہیں، ایسے نکتے بھی میں نے کیا کر دیے اس کتاب کے اندر شامل کر دیے. و سميته تلخيص المفتاح اور میں نے اس مختصر کا نام تلخیص المفتاح رکھ دیا مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تلخیص المفتاح رکھ دیا۔ چلیے مولانا هذا هو المرام وواللہ اعلم بحقیقۃ الكلام.
21 approved lectures · 4 of 21