کل مولانا فصاحت کی بات شروع کی تھی انہوں نے صاحب فصاحت۔ علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا کہ فصاحت لغت میں خبر دیتی ہے ابانت و ظہور کا.
کیونکہ فصاحت کی لغت میں کئی فصاحت کا معنی ظہور نہیں۔ لیکن اس کے کئی معنی آتے ہیں اور ہر ایک میں ظہور آئے گا بھئی.
جیسے فصاحت کا ایک معنی ہے دودھ پر سے جھاگ کا دور ہونا۔ بھئی دودھ دوھتے ہیں نکالتے ہیں جانور سے تو اس پر جھاگ آ جاتی ہے مولانا اس جھاگ کو جب دور کیا تو پھر کیا کہیں گے؟
لَبَن فصيح.
تو، تو دیکھو دودھ ظاہر ہو گیا اور اسی طرح صبح کی روشنی ظاہر ہو تو اس وقت بھی اسی طرح زبان کا چلنا اس میں بھی ظہور ہے کہ زبان چلے گی تو دل کی بات ظاہر ہوگی بھئی.
تو اس لیے اس کا معنی ظہور کے نہیں ہاں یہ خبر ظہور کی دیتے ہیں ظہور آئے گا ان کے معنی میں.
اور پھر آپ کو بتلایا تھا کہ یہ مفرد بھی اس کے ساتھ موصوف ہوتا ہے، کلام بھی موصوف ہوتا ہے اور متکلم بھی موصوف ہوتا ہے.
مفرد موصوف ہوتا ہے چنانچہ کہتے ہیں عرب کلمۃ فصیحۃ یہ کلمہ کیا ہے؟ اور کلام بھی اتا ہے کلام فصیح یا قصیدہ فصیحہ یعنی چاہے کلام منثور ہو یا کلام منظوم ہو بھئی.
اس پر ایک اشکال ہوا تھا کہ آپ نے تین چیزیں کو موصوف بتلایا موصوف ہوتے ہیں کس کے ساتھ؟
حالانکہ ایک چوتھی چیز بھی ہے وہ آپ نے صاحب کتاب تھے ذکر نہیں کی اور وہ کیا ہے؟ مرکب ناقص۔ اس لیے کہ مفرد سے تو مرکب خارج ہو گیا اور کلام سے پھر مرکب تام داخل ہوا اور مرکب ناقص باہر رہا.
تو لہذا چنانچہ علامہ خلخالی وغیرہ نے جواب دیا کہ بھئی کلام جو ہے وہ کلام بمعنی ہے ما لیس بکلمۃ بھئی جو کلمہ نہ ہو.
تو اب اس کے اندر دونوں قسم کے مرکب داخل ہوئے، مرکب ناقص بھی اور مرکب تام بھی.
جی اسی وجہ اس کی یہ ہے کیونکہ اکثر بسا اوقات ایک شعر ہوتا ہے اور اس میں اسناد نہیں ہوتا مولانا اسناد التام.
اور پھر بھی اس کو عرب کہہ دیتے ہیں کہ یہ شعر کیسا ہے؟ فصیح ہے.
تو جس سے پتہ چلا کہ مرکب ناقص بھی موصوف ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ فصاحت کے ساتھ.
علامہ تفتازانی اس بات کو رد کرتے ہیں کہ یہ جو آپ نے کیا کہا کہ کلام یہاں کس کے معنی میں ہے ما لیس بکلمۃ لہذا یہ مرکب ناقص کو بھی شامل ہوا یہ بات آپ کی صحیح نہیں.
آپ کے کہنے کا مطلب یہ آپ نے مرکب ناقص پر بھی کس چیز کا اطلاق کیا؟ کلام کا حالانکہ ہم نے عربوں سے کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے اس قسم کے مرکب پر کس چیز کا اطلاق کیا ہو؟ کلام کا.
تو جواب پھر دو ذکر کیے ایک جواب یہ کہ ممکن ہے یہ جو مرکب ناقص کو فصیح کہا جاتا ہے یہ اس کے مفردات کے اعتبار سے کہا جاتا ہو کہ یعنی ہے تو مرکب ناقص مرکب ہے لیکن جو اس کے مفردات ہیں وہ سارے کے سارے کیا ہیں؟ فصیح ہیں تو یہ مفرد میں داخل ہو گیا.
اور یا لیکن پھر تحقیقی جواب دیا کہ یہاں مفرد کہ مفرد جو ہے وہ تین چیزوں کے مقابلے میں آتا ہے مولانا.
کبھی یہ مفرد آتا ہے مرکب کے مقابلے میں تو جب مفرد کہا جائے تو مرکب خارج ہو جاتا ہے، کبھی مفرد آتا ہے تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں تو جب مفرد بولا جائے تو تثنیہ اور جمع خارج ہو جاتا ہے.
اور کبھی مفرد آتا ہے کلام کے مقابلے میں تو اس صورت میں پھر جب مفرد بولا جائے تو اس سے کیا خارج ہو جاتا ہے؟ کلام یعنی مرکب تام خارج ہو جاتا ہے.
تو مرکب ناقص اسی کے اندر باقی رہتا ہے تو مفرد تو مرکب ناقص کس میں داخل ہوتا ہے؟
مفرد ہی میں داخل ہوتا ہے مولانا سمجھ میں آیا؟
تو ایک طرف ہے مفرد ایک طرف ہے کلام تو جو بھی کلام نہیں وہ کیا ہے؟ مفرد ہے بھئی اس میں چاہے کلمہ ہو ایک اور چاہے مرکب تو ہو لیکن ہو کس قسم کا؟ ناقص ہو بھی اس میں داخل ہوا اور یہاں قرینہ موجود ہے مفرد کلام کے مقابلے میں آ رہا ہے لہذا مرکب ناقص بھی اسی میں داخل ہے بھئی.
اس کے بعد بلاغت کے بارے میں بتلایا تھا مولانا کہ یہ کس چیز کا معنی میں کس چیز کے معنی کی خبر دیتی ہے؟ پہنچنے کی بھئی جب متکلم اپنی مرا اپنے کلام کے ذریعے اپنی مراد کی حقیقت تک پہنچ جائے تو اسے کیا کہیں گے؟
کہ بلغ المتکلم بھئی پہنچ گیا اپنے کلام کی حقیقت تک بھئی یعنی اس کی ادا کر دیا بھئی.
اور بلاغت کے بارے میں پھر آپ کو بتلایا یوسف بہال اخیرانی اس کے ساتھ موصوف کون ہوتے ہیں؟ آخری دو موصوف ہوتے ہیں مولانا آخری دو.
یعنی کلام بھی موصوف ہوتا ہے اور متکلم بھی موصوف ہوتا ہے بھئی اس کے ساتھ مفرد کیوں نہیں موصوف ہوتا اس کی کیا وجہ ہے؟
تو علامہ ایک وجہ علامہ تفتازانی نے بتلائی اسی کہتے ہیں کہ ہم نے عربوں سے نہیں سنا عرب کبھی مفرد کے بارے میں نہیں کہتے کہ یہ کیا ہے؟ بلیغ ہے معلوم ہوا مفرد اس کے ساتھ موصوف نہیں بھئی.
بعض علماء نے اور علت بیان کی تھی مولانا اس کو علامہ تفتازانی رد کرتے ہیں انہوں نے یہ علت بیان کی کہ بلاغت کے اندر مطابقت مقتضائے حال کے ساتھ یہ ملحوظ ہے.
اور مطابقت مقتضائے حال کے ساتھ یا تو بلاغت کلام میں آ سکتی ہے یا بلاغت متکلم میں تو آ سکتی ہے مفرد کے اندر یہ معنی اس کا لحاظ نہیں رکھا جاتا.
سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے کہ مفرد میں مطابقت اور مفرد کو مطابقت اور عدم مطابقت کے ساتھ موصوف نہیں کیا جا سکتا.
جب مطابقت مقتضائے حال کے ساتھ ملحوظ ہوئی اور وہ مفرد میں آ نہیں سکتی تو لہذا مفرد بھی بلاغت کے ساتھ موصوف.
تو اس پر علامہ تفتازانی اس کو رد کرتے ہیں کہتے ہیں بھئی یہ جو ہم نے مطابقت مطابقت کو ملحوظ رکھا یہ کس کی تعریف ہم نے کی ہے؟ یہ تو بلاغت کلام اور بلاغت متکلم کی تعریف کر رہے ہیں.
اگر مفرد بھی موصوف ہوتا تو پھر کوئی اور اس کی تعریف کی جاتی مولانا پھر اس کی اور تو پھر بھی معلوم مفرد کا موصوف ہونا تو ممکن تھا کہتے ہیں بس صحیح بات وہی جو ہم نے ذکر کی کہ مفرد کیوں نہیں موصوف ہوتا؟ کیونکہ ہم نے عربوں سے سنا نہیں سنا نہیں۔
اس کے بعد ایک اشکال ہوا تھا کہ بھئی جب بھی کسی چیز کی بات کی جائے تو پہلے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس کے بعد اس کے افراد ذکر کیے جاتے ہیں اور تقسیم کی جاتی ہے جبکہ صاحب کتاب نے پہلے ہی تقسیم شروع کر دی فصاحت فی المفرد، فصاحت فی الکلام، فصاحت فی المتکلم.
اسی طرح بلاغت کی بھی تقسیم شروع کر دی تو پہلے چاہیے تھا تعریف کریں اور پھر اس کے بعد اس کے افراد ہمیں گنوائیں تو صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا مولانا
کہ یہ کہ یہاں ان کا کوئی اہم مفہوم مشترک ہے ہی نہیں.
کوئی مفہوم مشترک ہوتا جو تینوں کو شامل ہوتا تو پھر ہم وہ تعریف کر دیتے.
کوئی تینوں آپس میں بالکل الگ الگ ہیں کوئی ایک ایسی تعریف ممکن نہیں کہ جس میں یہ تینوں سمٹ آئیں مولانا.
جیسے کلمہ اسم، فعل اور حرف ہے اس کی ایک ہی تعریف ایسی کر دی کہ تینوں اس میں آ گئے اور وہ کیا ہے لفظ وضع لمعنن مفرد.
تو اس صورت میں دیکھو ایک مفہوم مشترک تھا تو پہلے تعریف کر دی اور پھر اس کے بعد تقسیم اور یہاں ایسا نہیں جب ایسا نہیں تو اس لیے پہلے انہوں نے کیا کر دی؟ تقسیم کر دی اور پھر ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ تعریف.
یہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے علامہ ابن حاجب نے اپنی مشہور مشہور زمانہ کتاب مولانا کافیہ کے اندر کیا کیا ہے؟ پہلے مستثنی کی تقسیم کی ہے متصل اور منقطع کی طرف پھر ان کی تعریف کی ہے کیونکہ ان دونوں کی کوئی ایک ایسی تعریف کرنا
جو دونوں پر دونوں کو شامل ہو ممکن نہیں ہے.
اس کے بعد فصاحت فی المفرد کی بات آئی تو سب سے پہلے ان صاحب کتاب آپ کو بتلاتے ہیں کہ بھئی یہ فصاحت کو بلاغت پر کیوں مقدم کیا؟ تو بتلایا بھئی کہ فصاحت یہ ملحوظ ہے بلاغت کے معنی میں.
یہ ملحوظ ہے بلاغت کے معنی میں مولانا اور جب تو بلاغت اسی وقت سمجھ میں آئے گی آپ کو جبکہ فصاحت کا پتہ ہو تو فصاحت موصوف علیہ ہے تو اور موصوف علیہ ہمیشہ موصوف پر مقدم مقدم ہوتا ہے.
فر اس کے بعد کہا کہ یہ فصاحت فی المفرد کو کیوں مقدم کیا ہے فصاحت کلام اور فصاحت متکلم پر تو اس میں بھی وہی جواب دیا.
کہ بھئی فصاحت کلام کے اندر کیا آئے گا فصاحت کلمات فصاحت مفرد اور فصاحت کلمات اور فصاحت مفرد کا آپ کو پتہ ہوگا تو فصاحت کلام سمجھ میں آئے گی اور فصاحت متکلم سمجھ میں آئے گی.
تو یہ فصاحت فی المفرد یہ موصوف علیہ ہے اور فصاحت فی الکلام اور فی المتکلم یہ کیا ہے؟ موصوف اور موصوف مؤخر ہوا کرتا ہے کس سے؟ موصوف علیہ سے.
اس کے بعد انہوں نے تعریف کی تھی فصاحت فی المفرد کی کہ فصاحت فی المفرد کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس مفرد کا خالی ہونا تین عیوب سے تنافر حروف، غرابت اور مخالفت قیاس لغوی سے بھئی.
وجہ یہ ہے کہ مفرد کے اندر تین چیزیں ہیں مولانا ایک اس کا مادہ ہے وہ حروف جن سے وہ مل کر بنے.
اب ان حروف کے اندر جمع ہونے سے کوئی عیب آیا تو اس کو کیا کہیں گے؟ تنافر حروف.
اور پھر جب یہ حروف آپس میں ملے تو اس کی ایک صورت بن گئی ایک صیغہ بن گیا اس صیغے کے اعتبار سے اگر کوئی خرابی عیب اس کے اندر آ جائے تو یہ عیب کیا کہلائے گا؟ مخالفت قیاس لغوی یعنی صرفی قانون کے خلاف ہو مولانا.
اور تیسری چیز ہے اس کی مفرد کی دلالت علی المعنی اب یہ دلالت علی المعنی اگر واضح نہ ہو مولانا اس میں یہ عیب آ گیا تو یہ کیا کہلائے گا؟ غرابت کہلائے گا بھئی.
فر علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا مخالفت قیاس لغوی کہ قیاس کو کے ساتھ لغوی کی قید کیوں لگائی تو بتلایا بھئی وہ شرعی قیاس وغیرہ مراد نہیں ہے یہاں پر
جس میں ہم کیا کرتے ہیں ایک مقیس ہوتا ہے ایک مقیس علیہ ہوتا ہے مولانا اور پھر علت جامعہ کی وجہ سے مولانا مقیس علیہ کو ہم کے حکم کو متعدی کر دیتے ہیں کس کی طرف؟ مقیس کی طرف سمجھ میں آیا بھئی.
وہ قیاس نہیں مراد بلکہ یہ قیاس لغوی ہے لغت میں کے اندر لغت کا استقرار کیا جاتا ہے اس کی چھان بین جستجو کی جاتی ہے اور پھر غور کر کے ایک قانون بنایا جاتا ہے صرفی قوانین جو آپ جانتے ہیں مولانا.
ان کے خلاف ہو سمجھ میں آیا؟ تو یہ وہ قیاس لغوی مراد ہیں مولانا.
اور پھر بتلایا کہ فصاحت کی تعریف خلوص کے ساتھ کی خلوص کا معنی خالی ہو ان تین عیوب سے مولانا یعنی نہ ہوں ان میں نہ ہوں اور یہ تعریف عدمی ہے مولانا.
اور یہ تو اس میں تسامح کیا ہے مصنف نے بھئی چشم پوشی سے کام لیا وسعت سے کام لیا
اس لیے کہ فصاحت ہے وجودی اور یہ عیبوں سے خالی ہونا یہ کیا ہے؟ عدمی اور معرف اور معرف جب معرف وجودی ہو تو معرف کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ وجودی اور یہاں معرف تو وجودی ہے لیکن معرف وہ کیا ہے؟ عدمی ہے تو یہ تعریف بالمبائن لازم آئی مولانا عدم و وجود ایک دوسرے کی کیا ہیں؟ مباین ہیں تو مولانا پھر آپ یہ اس کے ساتھ تعریف کر رہے ہیں.
سمجھ میں آیا؟ جی تو یہ تعریف باللازم دراصل انہوں نے کی ہے فصاحت کی میں نے بتلایا تھا مولانا کہ کلمہ جاری ہو کس پر مولانا قوانین قوانین وہ قوانین جو استقرائے لغت سے پتہ چلے ہیں مولانا اس کے حروف آپس میں مناسب ہوں مولانا اور وہ کلمہ کثیر الاستعمال ہو.
یہ ہے فصاحت مولانا اور جو کلمہ بھی ایسا ہوگا وہ ان تین عیوب سے کیا ہوگا؟ خالی ہوگا تو اس کے ساتھ ان اوصاف کے ساتھ لازم ہے خالی ہونا ان تین عیوب سے تو تعریف کس کے ساتھ کری؟ تعریف باللازم کی.
فتنافر وصف في الكلمة توجب ثقلها على اللسان وعسر النطق بها نحو مستشجرات في قول امرئ القيس.
غدائرہ مستشجرات الى العلاء تضل العقاص في مثنى ومرسلي.
تنافر کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں تنافر ایسا وصف ہے کلیمے کے اندر توجب اسلھا جو ثابت کرتا ہے اس کلیمے کے ثقیل ہونے کو علی اللسان زبان پر وعسر النطق بھا اور تکلم میں تنگی ہوتی ہے اس کے ساتھ بھئی.
مشکل.
تو تنافر وہ وصف ہے جس کی وجہ سے کلمہ زبان پر ثقیل ہو اور اس میں تکلم مشکل ہو مولانا نحو مستشجرات جیسے مستشجرات کا لفظ ہے فی قول امرء القیس کس کے قول میں؟ امرؤ القیس کے قول میں امرؤ القیس بہت بڑا شاعر گزرا ہے زمانہ جاہلیت کا مولانا.
زمانہ جاہلیت کا
اور بہت بڑا شاعر اس کے قصیدے کو عربوں نے
بیت اللہ میں لٹکایا ہوا تھا اپنی فصاحت و بلاغت کا سکہ جمانے کے لیے بھئی لوگوں پر رعب ڈالنے کے لیے بھئی
لیکن بڑا عاشق مزاج آدمی تھا ہمیشہ عورتوں کے پیچھے گھومتا پھرتا تھا انہی کے بارے میں اشعار کہتا تھا خصوصاً اپنی چچا زاد بہن جو چچا کی بیٹی تھی اس کی خصوصاً عنیزہ اس کے ساتھ اس کا معاشقہ بڑا مشہور تھا اس کے بارے میں بڑے اشعار کہتا ہے بھئی.
اسی چونکہ یہ عورتوں کے پیچھے گھومتا پھرتا تھا اسی لیے ملک ذلیل کے نام سے مشہور ہے بھئی سمجھ میں آیا؟ ملک ذلیل
اور یہ عجیب لفظ ہیں مولانا عربی کے
یہ امرؤ قیس امرؤ آیا مولانا
امرؤ القیس امرؤ نا آیا مولانا یہ لفظ ایسا ہے
کہ جس کہ جس پر جو اعراب آئے گا
ما قبل حرف بھی اسی کے تابع ہوگا مولانا
آپ کہنا چاہتے ہیں میرے پاس امرؤ القیس آیا
جاء نمرو القیس بھئی
بھئی اعراب رفع آنا چاہیے ہمزہ پر کس پر آنا چاہیے؟ امرؤ ہے نا تو ہمزہ پر رفع آیا را بھی اسی کے تابع ہے مولانا اس پر بھی کیا آ جائے گا؟ رفع آ جائے گا
امرؤ القیس
میں نے امرؤ القیس کو دیکھا رایت امرأ القیس را بھی اس کے تابع ہوئی
مررت بامریء القیس بامریء القیس فهمد سمجھ میں آیا؟ تو ہمزہ پر جو اعراب آ رہا ہے ما قبل بھی اسی کا تابع تو یہ عجیب لفظ ہے عربی کا اسی طرح لفظ ابن ماں ہے
اس میں بھی میم کے تابع ہے نون مولانا سمجھ میں آیا؟
ابن ماں یہ دو لفظ ہیں جن میں ما قبل بھی تابع ہوتا ہے آخری حرکت اور اعراب کے بھئی
چنانچہ امرؤ القیس کہتا ہے غدائرہ مستشجرات الى العلا
غدائر یہاں مولانا تین لفظ ہیں
غدائر، زوائب اور عقاث تینوں کا ایک معنی ہے
تینوں آ جائیں گے آگے مولانا دیکھو غدائرہ اضوابہ ایک معنی ہے اسی طرح اگلی سطر سے آگے دیکھیں تضل العقاف یہ عقاث کا بھی یہی معنی ہے تینوں کا ایک معنی ہے
تو غدائر جمع ہے غدیرہ کی زوائب جمع ہے زبابہ کی زبابہ
اور عقاث جمع ہے عاصت کی بھئی
بھئی یہ غدیرہ ذبابہ عقیصہ یہ کہتے ہیں بالوں کا جوڑا بھئی بالوں وہ وہ عورتیں جو بالوں کو جمع کر کے سر پر ایک گیند سا بنا لیتی ہیں بھئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوڑا
یہ غدیرہ ہے زبابہ ہے عقیصہ ہے تین نام ہیں اس کے
اور بتلائیں گے غدائرہ بھئی یہاں ضمیر کس کو راج ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ ما قبل اسی جس قصیدے سے یہ شعر لیا گیا ہے اس میں پچھلے شعر کے اندر فرع فرع کا ذکر آتا ہے بالوں کا بالوں کا یہ اس کو راج ہے
غدائرہ اس کے بالوں کے جوڑے اضوابہ
ایک معنی ہے مولانا جمع غدیرت یعنی غدائر کس کی جمع ہے؟ غدیرہ کی والضمیر عائد الی الفرع اور ضمیر کس کو عائد ہے؟ فرع یعنی بالوں کو راج ہے جو پچھلے شعر میں مذکور ہے بھئی
مستشجرات بھئی اس میں یاد
کوئی میں آپ کو بتلائیں گے کہ مستش, استشذر یا استشذرو یہ فعل لازم کے طور پر بھی استعمال ہے اور فعل متعدی کے طور پر بھی استعمال ہے۔ استشذر کا معنی فعل لازم ہو تو بلند ہونا مولانا، بلند ہونا۔
اور اگر اس کا معنی فعل متعدی کے کریں گے تو اس کا معنی ہے بلند کرنا بھئی۔ بلند ہونا اور بلند کرنا۔
تو اگر آپ اس کو فعل لازم سے لیں گے تو پھر اس کو اس میں فاعل پڑھو۔ مستشذرات اس کے بالوں کے جوڑ اس کا بالوں کے جڑے اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں بھئی۔
اوپر کو اٹھے ہوئے۔ اور اگر آپ اس کا معنی چاہیں تو اس کو کیا کس سے بنا لیں فعل متعدی سے پھر اس کو اس میں مفعول پڑھو مولانا۔ مستشذرات بھئی، مستشذرات۔
یعنی اس کے بالوں کے جوڑے کو اوپر کیا گیا ہے، اوپر کیا، اوپر اٹھایا گیا۔
مستشذرات تو دیکھا اے مرتفعات بتلایا چاہو تو کس معنی میں لے لو اس میں فاعل۔ مرتفعات اوپر کو بلند ہیں اٹھے ہوئے ہیں، اور مرفوعات یا مولانا اس کو کیا بنا لو اس میں مفعول، مرفوعات بلند کیے گئے ہیں بھئی۔
یقال استشذره ای رفعه واستشذر ای ارتفع۔ کہتے ہیں عربی میں استشذره ای رفعه دیکھو استشذره ہا ضمیر مفعول کیا گئی معلوم ہوا فعل متعدی استعمال ہوتا ہے، ای رفعه یعنی اس کو کیا کردیا۔ واستشذر فعل لازم بھی آتا ہے ای ارتفع یعنی بلند ہو گیا۔
الی العلی۔ کس کی طرف؟ بلندیوں کی طرف۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ عُلا مؤنث ہے اعلی کی۔
جمع ہے۔ جمع ہے سمجھ میں آیا؟ آپ نے نہیں پڑھی گردان بھئی اس نے تفصیل کی۔
جی فعال فُعَلا، فُعَلات، فُعَل، فُعَل یہ فُعَل وزن ہے۔
اچھا بھئی۔ تظل العِقاص فی مُّسَّنَّم وّ مرسل۔
چھپ جاتی ہیں۔ عِقاص جمع ہے عقیسہ کی اس کا بھی وہی معنی غدائر مولانا۔ غدائر اس کا معنی ہے تو یا ہونا یوں چاہیے تھا تظل فی مُّسَّنَّم وّ مرسل۔
اس کے اندر ضمیر ہوتی اور وہ ضمیر چونکہ پہلے غدائر کا ذکر آیا ہے تو اسی کی طرف راجع ہو جاتی لیکن شاعر نے عِقاص مولانا اس ضمیر کے بجائے اسم ظاہر ذکر کیا ہے بتلانا یہ چاہتا تھا شاعر کہ بھئی غدائر کو عِقاص بھی کہتے ہیں۔ غدائر کو تو اس میں ضمیر کے بجائے اسم ظاہر ذکر کیا۔
تو وہ جوڑے چھپ جاتے ہیں فی مُّسَّنَّم وّ مرسل مُّسَّنَّم اور مرسل بالوں کے اندر بھئی۔
مُّسَّنَّم اور مرسل کسے کہتے ہیں آگے ذکر آ رہا ہے۔
خود ترجمہ کر رہے ہیں تظل ای تغیب یعنی غائب ہوتے ہیں چھپ جاتے ہیں۔ والعِقاص جمع عِقَیسة اور عِقاص جمع ہے عقیسة کی مولانا۔
وہی الخصلة المجموعۃ من الشعر اور یہ گچھا ہے ٹکڑا ہے المجموعۃ جو جمع کیا گیا ہو من الشعر کس میں سے؟ ہاں بالوں کا ایک گچھا ٹکڑا جو جمع کیا گیا ہے سر کے اوپر اسے کیا کہیں گے عقیسة۔
عقیسة والمُسَنَّم المفتول اور مُسَنَّم کس کو کہتے ہیں؟ المفتول جو بتے ہوئے ہوں مولانا۔ بل دار بل دار بھئی رسی کو بل دیتے ہیں یا نہیں دیکھ بھئی مولانا رسی بھی کیا ہوتی ہے بل دار ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں مفتول مراد کیا کہیں گے وہ بال جس کو وہ عورت بٹتی ہے کیا کہتے ہیں اس کو بھئی؟۔
ہاں وہ مینڈیاں بھئی وہ وہ مراد ہیں وہ جو سمجھ میں آیا والمُسَنَّم اور مُّسَّنَّم وہ بتے ہوئے بال ہیں والمرسل خلاف المُّسَنَّم اور مرسل کیا ہیں مُّسَنَّم کے یعنی جو بتے ہوئے نہ ہوں۔
یعنی ان زوائبہ مشدودة علی الرأس بخیوط یعنی مراد یہ ہے کہ اس کے جو جوڑے ہیں وہ باندھے ہوئے گئے ہیں سر پر بخیوط دھاگوں کے ساتھ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے میری معشوقہ جو ہے اس کے بالوں کے جوڑے کیا ہے سر پر باندھے گئے ہیں۔
یہ علامہ تفتازانی مفہوم بتلا رہے ہیں شعر کا۔ بھئی اشکال ہوتا ہے کہاں باندھے گئے ہیں شعر میں کوئی باندھنے کا ذکر آیا؟ شعر میں تو کوئی باندھنے کا ذکر نہیں آیا۔ تو یہ آپ نے مشدودة کا معنی کہاں سے کر لیا علامہ تفتازانی۔
تو علامہ تو علامہ تفتازانی نے اشارہ کر دیا اس میں کہ یہ عقیسة عقیسة جوڑے کو کہتے ہیں اور عقیسة اس کو جس کو باندھا گیا ہو عُقوسة کے ساتھ اور عُقوسة کہتے ہیں ریشمی ڈوری کو بھئی تو وہ بال جمع کر کے سر پر کس سے باندھ دیے جاتے ہیں؟ ریشمی ڈوری سے باندھ دیے جاتے ہیں عموماً تو اس کو چونکہ عُقوسة سے باندھے گئے ہیں اس لیے اس کا نام بھی کیا رکھ دیا؟ عقیسة رکھ دیا بھئی اسی لیے اس کو عقیسة کہتے ہیں اور جمع عقاص آتی ہے۔
یعنی ان زوائبہ مشدودة علی الرأس بخیوط دھاگوں کے خیت کی جمع ہے خیوط دھاگے بھئی۔
و ان شعره ینقسم اور یہ کہ ارادہ کیا کہ اس کے شعر جو ہیں جو شعره کہ اس کے جو بال ہیں مولانا ینقسم الی عِقاص و مُّسَنَّم و مرسل وہ تقسیم ہو رہے ہیں تین قسموں کی طرف عِقاص ہیں کچھ، کچھ مُّسَنَّم ہیں بتے ہوئے و مرسل اور کچھ کھلے بال ہیں۔
والاول یغیب فی الاغیرین اور پہلے پہلی قسم جو ہے وہ غائب ہو رہی ہے آخری دو قسموں میں بھئی۔
تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ نہ سمجھ لیں آپ کہ غدائر ہو مستشذرات الی العُلا تظل العِقاص فی مُّسَنَّم و مرسلی غدائر کا لفظ آیا، عِقاص کا لفظ آیا، مُّسَنَّم کا لفظ آیا، مرسل کا لفظ آیا تو یہ نہ سمجھیں چار قسم پر ہیں بال بال تین قسم پر ہیں کتنی قسم پر اس کو بتلا رہا ہے؟ تین قسم پر اس لیے کہ غدائر اور عِقاص کا کیا معنی ہے؟ ایک ہی معنی ہے مولانا تو اس لیے کہا تین قسم پر بال ہوئے ایک تو جوڑا بنایا پھر اس کچھ بال بل دار ہیں اور کچھ کھلے ہوئے ہیں تو وہ جوڑے کے اوپر پیچھے کی طرف بال لٹکا دیے تو جوڑا اس کے اندر کیا ہوا؟ چھپ گیا ہے مولانا یہ معنی ہے والاول یغیب فی الاغیرین آخری دو میں چھپ گیا۔
والغرض بیان کثرة الشعر اور غرض کیا ہے شاعر صرف خبر نہیں دے رہا بتلا نہیں رہا کہ اس کے بال یوں یوں بنے ہوئے ہیں اس کا مقصد بتلانا ہے کہ اس کے بال بہت کثیر بڑے گھنے بال ہیں میرے معشوقہ کے اور بالوں کا گھنا ہونا بھی عورت کے اندر کیا ہے مولانا حسن کی علامت ہے۔
والضابطة ها هنا ان كل مایعده الذوق الصحيح ثقيلا متعسرا نطقه فهو متنافر۔
اچھا بھئی تنافر کی آپ نے تعریف کی ایسا وصف ہے جس سے کلمہ زبان پر کیا ہو جاتا ہے اور اس پر تکلم مشکل بھئی یہ کیا بات ہوئی اب کیسے ہمیں پتہ چلے گا ثقیل ہے یا نہیں۔
اب اس کی ضابطہ ہمارے لیے بیان کریں ہم اس سے پہچانیں علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کوئی ضابطہ نہیں۔ کوئی ضابطہ نہیں۔ یہ ایک ذوقی چیز ہے مولانا ذوقی چیز ذوق سے پتہ چلتا ہے مولانا کہ یہ یہ کلمہ زبان پر ثقیل ہے یا ثقیل نہیں ہے مولانا۔
تو ذوق صحیح جسے ثقیل سمجھے گا وہ ثقیل ہے جسے ثقیل نہیں سمجھتا وہ ثقیل تو جو ثقیل ہوگا وہ متنافر ہوا مولانا اس میں تنافر حروف کا عیب آ گیا۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ کس سے پتہ چلے گا اس کا میزان کیا ہے؟ ترازو کیا ہے؟ ذوق ہے مولانا ذوق ہے ذوقی چیز ہے۔
اور امور ذوقیہ جو ہیں مولانا الامور الذوقیة تدرک ولا توصف ان کا ادراک تو ہوتا ہے ان کا وصف بیان نہیں کیا جا سکتا۔
اچھا ذوق کسے کہتے ہیں مولانا؟ الذوق ھو قوة و و قوة تدرک بھا لطائف الکلام۔
هو قدر قدرة تدرک بھا لطائف الکلام و وجوه تحسینه۔
یہ قوت ہے نفس میں جس کے ذریعے انسان کیا کرتا ہے کلام کے لطائف اور باریکیوں کا ادراک کرتا ہے مولانا اور کلام کو حسین بنانے والی وجوہ کا ادراک کرتا ہے مولانا۔
کلام کو حسین بنانے والی وجوہ کا بھئی تو علامہ تفتازانی نے کیا بتلایا مولانا کوئی ضابطہ ہے تنافر حروف کو جاننے کا؟ نہیں کس سے پتہ چلے گا؟ ذوق سے مگر علماء نے اور تنافر حروف کا کے لیے باقاعدہ ضابطہ ذکر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا مولانا بعض نے کہا کہ اگر کلمات ایک کلمے کے ایک کلمے کے ایک حروف جو ہیں یہ دروازہ کھول دو۔
اگر کلیمے کے حروف جو ہیں حروف وہ قریب المخرج ہوں مولانا تو یہ مولانا یہ کلمہ ثقیل ہوگا مولانا زبان پر کیا ہوگا؟۔
समझ में आया؟ जुबान पर सही होगा।
وجہ اس کی یہ کہ یہ اصطلاح ہے مولانا کہ زبان نے ایک حرف ادا کیا پھر فورا مولانا وہاں سے اٹھی اس کے ساتھ ہی پھر بیٹھ گئی وہاں دوسرا حرف ادا کیا پھر وہاں سے اٹھی ساتھ ہی پھر بیٹھ گئی تیسرا حرف ادا کیا۔
تو یہ اسی طرح ہیں جیسے مولانا کہ ایک شخص ہے اور اس کے پاؤں میں آپ رسی باندھ دیں اور چھوٹی سی رسی ہو اب وہ چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا ہوا چلے گا اور کتنا مشکل ہوگا اس کے لیے چلنا بھئی تو یہاں بھی اسی طرح۔
بعض علماء نے کہا مولانا کہ یہ تنافر حروف کا تعلق بعد مخارج سے ہے ایک کلمہ ایک مخرج سے ادا کیا تو دوسرا وہ اس سے دور والے مخرج سے تیسرا پھر اس سے اور پیچھے دور دور مخارج والے ہوئے تو اس سے بھی کیا آ جائے گا کلمے کے اندر سےخلل آ جائے گا۔
تو بعضوں نے تعلق کس سے جوڑا مولانا تنافر حروف کا؟ حروف کے قرب مخارج کے قرب یا اور بعضوں نے قرب و بعد سے مولانا۔
اور بعضوں نے کہا مولانا کہ یہ تنافر کا تعلق کلمے کی صفات کے ساتھ ہے بھئی۔
صفات بھئی۔ تجوید میں آپ نے پڑھا ہے مولانا صفات وغیرہ کے بارے میں کہ صفات کلمے کے وہ مخارج کے اعتبار سے کہ اس کی ادائیگی بعض کو نرمی سے ادا کیا جاتا ہے بعض حروف بعض کو سختی سے ادا کیا جاتا ہے بعض میں آواز پست ہوتی ہے بعض میں آواز اونچی ہوتی ہے تو ایسے کلمات آ جائیں جن کی صفات متضاد ہوں ایک دوسرے کے عکس ہوں ایک میں نرمی ہے تو دوسرے میں سختی ہے مولانا پھر تیسرے میں پھر نرمی آگئی یا ایک میں مولانا کیا ہے۔
موٹا ایک میں آواز کو پست رکھنا ہے تو دوسرے میں آواز کو بلند کرنا ہے تو اس قسم کے متضاد صفات والے حروف جب جمع ہو جائیں تو اس سے کلمے میں کیا آ جاتا ہے ثقل آ جاتا ہے مولانا ثقل آ جاتا ہے علامہ تفتازانی فرماتے ہیں نہیں قرب و بعد مخارج کی بات بھی نہیں صفات کی بات بھی نہیں ہے اصل بات وہی جو ہم نے ذکر کی کہ یہ کیا ہے ذوقی چیز ہے ذوق بتلائے گا بھئی دیکھیے گا۔
وضابطة ها هنا اور ضابطہ یہاں یہ ہے کہ ان كل مایعده الذوق الصحيح ثقيلا ثقيلا کہ ہر وہ چیز ہر وہ کلمہ جس کو شمار کرے ذوق صحیح ثقیلا ثقیلا ثقیل شمار کرے متعسرا نطقی اور وہ کیا ہو متعسرا نطوق ہو یعنی اس پر کلام کرنا مشکل ہو فہو متنافر تو وہ متنافر ہے مولانا سواء كان من قرب المخارج او بعدها چاہے وہ قرب مخارج میں سے ہو لفظ او بعدها یا بعد مخارج میں سے ہو او غير ذلك یا اس کے علاوہ ہو یعنی صفات چاہے متضادہ ہوں۔
وعلاما صرح به ابن الأثیر فی المثل السائر بنا بر اس کے جو ذکر کیا ہے ابن العلامة ابن اثیر نے بھئی یہ بہت بڑے لغوی گزرے ہیں بھئی جیسا کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کس کے اندر ذکر کیا ہے فی المثل السائر بھئی ان کی مشہور کتاب ہے مثل السائر اس میں انہوں نے ذکر کیا ہے انہوں نے یہی بات ذکر کی ہے کہ اس کا تعلق ذوق سے ہے۔
اب یہ مستش تو بعضوں نے کیا کہا کہ یہ ثقل کس سے آتا ہے مولانا کلمے کی صفات آپس میں متضاد ہوں تو اس سے حروف جو ہیں وہ حروف کی صفات متضاد ہوں تو کلمہ زبان پر کیا ہو جاتا ہے ثقیل ہو جاتا ہے جیسے دیکھیے مولانا مستشذرات اس میں تا شین زا اکٹھے ہوئے بھئی تا شین اور زا۔
اچھا جی اب یاد رکھو شین کی دو صفت یہ حروف کس میں سے ہے؟ حروف مہموسہ میں سے ہے مہموسہ میں سے۔
اور حروف مہموسہ وہ حروف جن میں آواز میں پستی ہوتی ہے آواز میں پستی ہے۔
اور اس کے مقابلے میں ہے صفت مجہور بھئی ہونا۔
اس کے مقابلے میں حروف ہیں مجہورہ جن میں آواز جہر ہوتا ہے آواز میں بلندی ہوتی ہے۔
تو شین کس میں سے ہے؟ مہموسہ میں سے۔
اور اسی طرح مولانا اس میں آواز میں نرمی ہوتی ہے۔
تو یہ حروف رخوہ میں سے ہے کس میں سے؟ رخوة ہے اس کے اندر نرمی ہے۔
اور اس کے مقابلے میں صفت ہے شدیدۃ۔
جس میں آواز میں سختی ہوتی ہے مولانا تو رخوہ جن کی آواز میں نرمی ہو اور شدیدۃ کہ سختی ہو تو دو صفتیں ذکر ہوئیں مولانا شین کی کیا؟ یہ کس میں سے ہے؟ مہموسہ میں سے ہے آواز میں نرمی ہے اور رخوہ میں سے ہے آواز میں پہلے مہموسہ کا معنی آواز میں پستی پستی اس کے مقابلے میں مجہورہ آ رہا ہے مجہورہ۔
تو مہموسہ میں سے ہے جس کے میں کیا ہے آواز میں پستی ہے اور رخوہ میں سے ہے آواز میں نرمی ہے اور اس سے پہلے آئی تا۔
مستشذرات تا اور تا مخالف ہے شین کے ساتھ مولانا کس کے اندر رخوت کے مقابلے میں شین میں رخوت ہے حروف رخوہ میں سے ہے شین تو تا جو ہے حروف شدیدۃ میں سے ہے تو دیکھو صفت میں کیا آیا مولانا؟۔
تضاد آیا۔
اور سین شین جو ہے مہموسہ میں سے ہے اور شین کے بعد آ رہی ہے زا اور زا حروف مجہورہ میں سے ہے تو زا کے ساتھ مولانا مخالفت آئی کس میں؟۔
جی؟ جہر کے اندر مولانا شین میں ہمس ہے تو اس میں جہر ہے مولانا۔
اور شین میں رخوت ہے تو اس سے ماقبل تا میں شدت ہے مولانا سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دونوں کے ساتھ صفات میں مخالفت آئی اس وجہ سے کلمہ کیا ہوا؟ ثقیل ہوا۔
وزعم بعضهم اور بعضوں نے گمان کیا ہے مولانا جی یہ علامہ خلخالی کا قول ہے کہ ان منشا الثقل في مستشذرات کہ مستشذرات میں ثقل کا منشا کا معنی سبب ثقل کا سبب جو ہے وہ تووسط الشین المعجمۃ وہ درمیان میں آنا ہے شین معجمہ کا بھئی۔
معجمہ معجمہ کا معنی جانتے ہو بھئی؟ نقطوں والا سمجھ میں آیا؟ بھئی عربی میں یوں کرتے ہیں مولانا مصنفین کتاب لکھتے ہوئے اس کتاب لکھتے ہیں تو بعض جگہ شبہ ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کبھی کوئی میری اس کتاب کو نقل کرے اور نقل کرتے ہوئے کیا ہو؟
سین لکھنا ہے، کاتب شین کے نقطے لگانا بھول جائے مولانا، تو پھر کیا پڑھا جائے گا؟ سین پڑھا جائے گا۔
سمجھ میں آیا؟ لہذا تو وہ اس کے ساتھ لفظوں میں بھی صفت درج کر دیتے ہیں کہ نقطے والا ہے۔
شین معجمہ کا کیا معنی؟ شین کون سا؟ نقطے والا۔ نقطے والا۔ اب کاتب چاہے بھول بھی جائے مولانا، پھر بھی آگے لفظ آ رہا ہے نقطے والا۔ پڑھنے والا خود بخود سمجھ جائے گا کہ یہاں یہ کیا مراد ہے؟ شین مراد ہے۔ سمجھ میں آیا؟
اور مولانا جو دوسرا جس میں نقطے نہ ہوں وہ مہملہ ہے۔ تو مثلاً سین لکھنا ہے مولانا، تو اب وہ کیا لکھ دے گا؟ سین سین مہملہ بھئی۔
تو اب مولانا کوئی کاتب تیزی میں لکھ رہا ہے غلطی سے سین کے بجائے اس نے شین لکھ دیا، تین نقطے بھی ڈال دیے، تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ آگے خود لفظوں میں کیا آ رہا ہے؟ مہملہ ہے یہ یعنی اس پر نقطے نہیں ہیں بھئی۔
هو متوسط الشين المعجمة وہ درمیان میں آنا ہے نقطوں والے شین کا۔ التي هي من المہموسة الرخوة جو کس میں سے ہے؟ حروف مہموسہ اور حروف رخوہ میں سے ہے۔
بين الطاء یہ شین کس کے بیچ آیا؟ ایسے وہ طاء التي من المہموسة الشديدة جو کس میں سے ہے؟ مہموسہ شدیدہ تو دیکھو مہملہ یہ بھی ہے شین بھی مہملہ، لیکن شین حروف رخوہ میں سے ہے اور یہ کس میں سے ہے؟ شدیدہ تو مخالفت آ گئی اور تو شین آیا طاء کے بیچ والزاء المعجمة اور نقطے والی زا کے بیچ میں التي هي من المجہورة جو کس میں سے ہے؟ مجہورة میں سے ہے، تو کس میں مخالفت آئی؟
مہملہ میں۔ شین تھا مہملہ میں سے، اور یہ زا کس میں سے ہے؟
تو یہ قائل کہتے ہیں ولو قال مستشرف لزا لزاقہ السقلو اگر یہ کہنے والا بھئی امرؤالقیس مستشزرات کے بجائے کیا کہہ دیتا؟ مستشرف مستشرف تو یہ تنافر حروف ختم ہو جاتا۔
کیونکہ اب زا کے بجائے کیا آ گیا ہے مولانا؟ را آ گئی،
ولو قال مستشرف اگر وہ مستشرف کہتا لزا لزاقہ السقلو تو پھر یہ سقل زائل ہو جاتا وفیہ نظر علامہ تفتازانی رد کر رہے ہیں اس بات کو مولانا، کہتے ہیں لان را المحملہ محملہ ايضا من المجہورة اس لیے کہ رائے مہملہ بغیر نقطے کے جو را ہے، وہ کس وہ بھی کس میں سے ہے؟ مجہورة میں سے ہے جیسے زا مجہورة تھی، را بھی مجہورة ہے، اب دیکھو صفات نے اسی طرح مخالفت برقرار، لیکن اے قائل آپ بھی مان گئے کہ اب کلمے میں ثقل بھئی صفات تو اسی طرح متضاد ہیں۔
زا مجہورة تھی تو را لے آئے، وہ بھی کیا ہے؟ تا شین را،
تو جیسے تا شین زا کے اندر صفات متضاد تھی، تا شین را کے اندر بھی صفات متضاد، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس صورت میں ثقل زائل ہو جاتا معلوم ہوا صفات کے متضاد ہونے کے ساتھ ثقل کا تعلق نہیں۔
ورنہ تو اب ثقل اب بھی ثقل ہونا چاہیے تھا کیونکہ صفات تو اب بھی کیا ہیں؟ متضاد ہیں لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ کیا ہوا؟ ثقل ختم ہو چکا۔ ثقل ختم ہو جائے گا اگر یوں کہہ دیں۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟
وقیل اور علامہ زوجنی کا قول، وہ فرماتے ہیں کہ ان ان قرب المخارج سبب للثقل المخل بالفصاحة کہ قرب مخارج سبب ہے اس ثقل کا جو مخل ہوتا ہے فصاحت میں۔
تو علامہ خلخالی نے صفات کا تذکرہ کیا اور یہ کس کا ذکر کر رہے ہیں؟ قرب مخارج کا۔
اس تو اگر قریب المخرج حروف ہوں تو ان کا ادا کرنا کیا ہوگا؟ مشکل ہوگا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص کے پاؤں کیا ہوں قریب قریب باندھ دیے جائیں تو اس کے لیے چلنا مشکل ہو جائے گا۔
اس پر اشکال ہوتا ہے اچھا، یہ تو پھر قرآن میں بھی آیا ہے۔
قرآن میں اللہ فرماتے ہیں الم أعهد
تو دیکھو آعهد کے اندر حمزہ ہے، یہ حروف حلقی میں سے ہے۔ عین آیا، یہ بھی حروف حلقی میں سے ہے۔ ھاء آ, یہ بھی کس میں سے ہے؟ حروف حلقی تو یہ سارا مخرج قریب قریب ہیں بھئی۔
تو پھر تو آپ کے قول پر لازم آیا کہ قرآن میں بھی کیا آ گیا کلمہ غیر فصیح آ گیا، غیر فصیح آ گیا۔
समझ में आया؟ তো علامہ زوجنی جو ہیں، وہ خود ہی اس کو ذکر کرتے ہیں اس بات کو کہ ہاں واقعی اعتراف تو ہوتا ہے اور پھر جواب بھی دیتے ہیں۔
کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے، کلمہ غیر فصیح ہے۔
غیر فصیح ہے۔ لیکن یہ فصاحت کلام ہے، اور کلام جب طویل ہو، اس میں اگر کوئی ایک ادھ غیر فصیح کلمہ بھی آ جائے، پھر بھی وہ کلام کیا رہتا ہے؟ فصیح ہی رہتا ہے۔
ایک ادھ کلمے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور پھر نظیر بھی پیش کرتے ہیں کہتے ہیں بھئی آپ قرآن پڑھتے نہیں۔
آپ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ان انزلناھو
جی؟ ان انزلناہ قرآنا عربیا،
تو دیکھو، اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کس نے نازل کیا ہے؟
کہ عربی قرآن ہے یہ مولانا۔
تو قرآن عربی ہے، اللہ فرما رہے ہیں، لیکن قرآن کے اندر جب آپ دیکھتے ہیں، آپ کو کئی کلمات ایسے ملتے ہیں جو غیر عربی ہیں۔
جیسے کیا آتا ہے قرآن میں؟ یوم نطو السماء كطى السجل سجل سجل مولانا فارسی زبان کا لفظ ہے دفتر کو کہتے ہیں دفتر، اور دفتر کہتے ہیں رجسٹر کو مولانا، دفتر کس کو کہتے ہیں؟ رجسٹر کو کہتے ہیں۔
اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں وزنو بالقسطاس المستقيم قسطاس ترازو کو کہتے ہیں رومی زبان کا لفظ ہے بھئی۔
اسی طرح مشکات کا لفظ آتا ہے مشکات طاق کو کہتے ہیں ہندی زبان کا لفظ ہے مولانا تو دیکھو قرآن کے اندر رومی زبان کا لفظ بھی آ رہا ہے، فارسی زبان کا لفظ بھی آ رہا ہے، ہندی زبان کا لفظ بھی آ رہا ہے، پھر بھی اللہ کیا فرما رہے ہیں یہ قرآن کیا ہے؟
تو دیکھو کلام کثیر کے اندر ایک ادھ غیر عربی بھی آ جائے، تو پھر بھی وہ کلام عربی ہونے سے خارج نہیں۔
اسی طرح کلام طویل ہو، اس میں ایک ادھ کلمہ غیر فصیح بھی آ جائے تو فصیح ہونے سے خارج نہیں ہے۔
وقیل وقیل ان قرب المخارج سبب للثقل المخل بالفصاحت کہ قرب مخارج وہ سبب ہے ایسے ثقل کا جو مخل بال فصاحت فصاحت میں خلل ڈالنے والا ہے و ان فی قوله تعالی اللہ کے اس قول کے اندر الم أعهد ثقلا قریبا من حد حد التنافر اس میں ایسا ثقل ہے جو قریب ہے کس کے حد تنافر کے فیخل بفصاحة الكلمة پس یہ کیا ہوا مولانا مخل ہوا یہ ثقل کیا ہوا مخل ہوا فصاحت کلمہ میں لكن الكلام الطویل المشتمل على كلمة غير فصیحة لیکن ایسا کلام طویل جو مشتمل ہو ایسے کلمہ پر جو کیا ہو غیر فصیح ہو لا لا يخرج عن الفصاحة ایسا کلام فصاحت سے خارج نہیں ہوتا بھئی۔
پھر نظیر بھی پیش کر دی قرآن کی کما لا يخرج الكلام الطویل جیسے نکلتا نہیں کا ایسا کلام طویل المشتمل على كلمة غير عربية عن ان يكون عربيا ایسا کلام طویل جو کلمہ غیر عربی پر مشتمل ہو جیسے وہ عربی ہونے سے خارج نہیں ہوتا، اسی طرح یہ بھی ہے غیر فصیح کلمے پر مشتمل طویل کلام بھی فصیح ہونے سے خارج نہیں ہوتا وفیه نظر کہہ کر علامہ تفتازانی اس ساری تقریر کو رد کرتے ہیں مولانا
اور چار اعتراضات کریں گے مولانا، چار اعتراضات۔
قائل نے ایک بات یہ کی کہ بھئی کلام طویل ہو اس میں ایک ادھ غیر فصیح کلمہ بھی آ جائے تو وہ فصاحت سے خارج نہیں۔
کہتے ہیں نہیں بھئی آپ کی بات درست نہیں ہے، اس لیے کہ کلام فصیح کی تعریف آپ نے کی تھی، کیا تعریف ہے کلام فصیح کی؟
جس میں تین عیوب ذکر ہوں گے یہ تین عیوب نہ ہوں مع فصاحتها أي مع فصاحة الكلمات ساتھ ساتھ اس کے سارے کلمات بھی کیا ہوں؟ فصیح تو فصاحت کلام میں قید موجود ہے اس کی تعریف میں ذکر ہوا ہے کہ اس کے سارے کلمات کیا ہونے چاہیے؟
فصیح تو اے علامہ زوجنی! یہ آپ نے کہاں سے اپنی طرف سے تعریف کر دی تقسیم کر دی کہ کلام طویل میں غیر فصیح آ سکتا ہے کلام صغیر کے اندر نہیں آ سکتا۔
کلام قصیر کے اندر مولانا نہیں آ سکتا۔
چھوٹا کلام ہو تو پھر نہیں آ سکتا، لیکن اگر طویل ہو جائے تو ایک ادھ غیر فصیح بھی آ جائے تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
بھئی تعریف میں تو ہے اس کے سارے کلمات فصیح ہونے چاہیے، وہاں یہ بات نہیں ذکر کی انہوں نے کہ طویل ہو تو سارے فصیح ہونا ضروری نہیں ہے۔
اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو سائیڈ کلام ہے ہی وہ، جس کے سارے کلمات فصیح ہوں، چاہے وہ چھوٹا ہو، چاہے بڑا ہو، ہر ہر کلمہ اس کا فصیح ہونا چاہیے، تو یہ آپ نے اپنی طرف سے تقسیم کر دی، کوئی اس کا قائل نہیں ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی! یہ ایک اعتراض وفیہ نظر اور صاحب قیل کے قول میں نظر ہے لان فصاحة الكلمات مأخوذة في تعريف فصاحة الكلام اس لیے کہ مولانا فصاحة الكلمات یہ ملحوظ ہے، مأخوذة ملحوظ ہے، اس لیے کہ فصاحة الكلمات ملحوظ ہے فی تعريف فصاحة الكلام کس کے اندر؟ فصاحت کلام کی من غير تفرقة بين طويل و قصير بغیر کوئی فرق کیے طویل اور قصير میں، وہاں کوئی فرق نہیں ہے کہ قصیر ہو تو سارے ہونے چاہیے، طویل ہو تو ایک ادھ غیر فصیح بھی آ جائے تو۔
على ان یہاں سے دوسرا اشکال۔
دوسرا یہ مولانا کہتے ہیں بھئی آپ کا قول اگر ہماری تفسیر کی جائے کلام کی دو تفسیریں کی تھی نا۔
بھئی فصاحت المفرد اور فصاحت فی الكلام اور کلام کس کو کہتے ہیں؟ مرکب تام کو یا مرکب ناقص کو؟ مرکب تام، مرکب تام جس میں اسناد ہو۔
یہ یہ کس نے کی تفسیر کلام کی؟ علامہ تفتازانی نے کہ کلام صرف کس کو کہتے ہیں؟ مرکب تام کو کہتے ہیں۔
اور یہ جو ہیں علامہ زوجنی انہوں نے تو کہا تھا کلام کی کیا تعریف کی تھی ما ليس بكلمة جو کلمہ نہ ہو تو انہوں نے مرکب تام کو بھی کلام میں داخل کیا اور مرکب ناقص کو بھی کلام میں داخل کیا اور علامہ تفتازانی نے صرف کس کو داخل کیا؟ صرف مرکب تام کو تو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ آپ کا قول غلط ہوا اور اگر ہماری تفسیر کلام والی کی جائے تو پھر صرف کلام کے اندر کلمہ غير فصیح کا ماننا لازم آئے گا۔
آپ نے کیا کہا تھا؟ کلام طویل میں ایک ادھ غیر فصیح بھی آ سکتا ہے اور کلام کس کو کہتے ہیں؟ جو مرکب تام ہو، یہ ہماری تفسیر کے مطابق۔
اور اگر کلام سے وہ معنی مراد لیں جو آپ نے کیا تھا، اور آپ کے کلام کے کتنے افراد تھے؟ مرکب تام بھی اور مرکب ناقص تو ہمارا قول نے تو صرف مرکب تام کے اندر کلمہ غير فصیح کا ماننا لازم آئے گا، اور آپ کا قول نے تو مرکب تام میں بھی غیر فصیح کلمہ آ سکتا ہے، مرکب ناقص میں بھی غیر فصیح کلمہ آ سکتا ہے، تو آپ کے قول پر خرابی بڑھ گئی مولانا، اگر کلام کی وہ تفسیر کی جائے جو آپ نے کی تھی، پھر تو خرابی بڑھ گئی، ہمارے ہمارے تفسیر کی جائے تو صرف کلام تام مراد لیا جائے گا اس سے اور پھر اس میں خرابی آئے گی، اور آپ کی قول کو لیا جائے تو پھر مرکب تام کے اندر بھی ماننا پڑے گا اور مرکب ناقص میں بھی ماننا پڑے گا، حالانکہ ہمیں یقین ہے اس کے قائل آپ بھی نہیں ہوں گے۔
آپ بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرکب ناقص جو ہے، اس کے اندر کیا آ جائے کلمہ غیر فصیح آ جائے، پھر بھی اس کو کیا کہا جائے گا؟ فصیح کا تو ہمیں یقین ہے آپ بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتے، آپ بھی اس بات کے قائل نہیں ہے بھئی۔
اشکال سمجھ میں آایا بھئی؟
على ان هذا القائل علاوہ اس کے کہ اس قائل نے فسر الكلام اس نے تفسیر کی ہے کلام کی بما ليس بكلمة کس چیز کے ساتھ جو کلمہ نہ ہو۔
تیسرا اشکال۔
بھئی انہوں نے نذیر پیش کی، انہوں نے کہا تھا کلام طویل کے اندر کوئی کلمہ غیر فصیح بھی آ جائے تو پھر بھی وہ فصاحت سے خارج نہیں، اور نظیر اس کی کیا پیش کی تھی کہ کلام عربی کے اندر غیر عربی کلمہ بھی آ جائے، پھر بھی وہ عربی ہونے سے خارج نہیں، یہ نظیر پیش کی تھی۔
یہ نظیر پیش کی تھی۔ کہتے ہیں بھئی یہ نظیر پیش کرنا اور اس کے اوپر قیاس کرنا اس کو، جیسے وہ عربی ہونے سے خارج نہیں غیر عربی کلمہ کے آنے پر، یہ بھی غیر فصیح کلمہ کے آنے پر فصاحت سے خارج یہ قیاس بالکل فارغ ہے، یہ قیاس آپ کا صحیح نہیں ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟
اس لیے کہ کلام عربی کی تعریف میں کس نے کہا ہے کہ اس کے سارے کلمات کیا ہونے چاہیے؟ عربی ہونے چاہیے، کسی نے بھی نہیں کہا کہ کلام عربی اس کو کہیں گے کہ جس کے سارے کلمات کیا ہوں؟ عربی ہوں۔ وہ تو اکثر کے اعتبار سے ہوتا ہے۔
ہاں فصاحت کلام کے اندر قید لگی ہوئی ہے کہ اس کے سارے کلمات کیا ہونے چاہیے؟ تو اس میں تو قید ہے، سارے کلمات فصیح ہونے چاہیے، اور اس میں قید نہیں کہ سارے کلمات عربی ہونے چاہیے، عربی ہونے چاہیے، یہ قید نہیں، تو ایک میں قید ہے، ایک میں قید نہیں، تو اس کا قیاس اس پر کرنا صحیح نہیں ہے۔
والقياس على الكلام العربي ظاهر الفساد اور قیاس کرنا اس کو کلام عربی پر اس کا فساد کیا ہے؟ ظاہر ہے۔
ولو سلم کہتے ہیں اگر ہماری بات مان بھی لیں، آپ کی بات مان بھی لیں۔
کی ایک کلام طویل کے اندر ایک ادھ غیر فصیح کلمہ آ بھی جائے تو وہ فصاحت سے خارج نہیں، تو اس صورت میں لازم آئے گا مولانا قرآن کے اندر کلمہ غیر فصیح کا ماننا۔
قرآن کے اندر قرآن کے اندر سمجھ میں آیا؟
تو کلام تو قرآن کے اندر کیا آیا یا تو کلام غیر فصیح آیا، یا تو وہ کلامی وہ پوری آیت ہی کیا ہو گئی غیر فصیح، یا کم از کم وہ چلو پوری آیت نہیں ہوئی غیر فصیح، وہ کلمہ تو کیا آ گیا غیر فصیح، اور یہ وہم ڈالتا ہے کس چیز کا؟ کہ جہل یا عجز کی نسبت اللہ کی طرف ہوتی ہے۔
جہل یا عجز کی نسبت کس کی طرف ہوتی ہے؟ اللہ کی طرف۔ اللہ کی طرف، اگر ہم یہ بات مان لیں کہ کلام قرآن کے اندر کیا ہے؟ کلمہ غیر فصیح ہے۔
اس لیے اس لیے کہ یہ دو دو تین صورتیں اس میں بنتی ہیں، یا تو اللہ کے کلمہ غیر فصیح کیوں آیا، یا تو اللہ کو علم ہی نہیں تھا، یہ ماننا لازم آئے گا نا؟
علم نہیں تھا، یا علم تو تھا کہ یہ کلمہ غیر فصیح ہے، لیکن یہ علم نہیں تھا کہ کلمہ فصیح لانا یہ اولیٰ ہوتا ہے کس سے غیر فصیح سے۔
یا مولانا اللہ یہ ماننا لازم آئے گا کہ اللہ قادر ہی نہیں تھے کہ بدل دیتے اس غیر فصیح کو کس کے ساتھ؟ اس پر قادر ہی نہیں تو عجز کی نسبت کرنا لازم آئے گا، اور اللہ کی ذات ان تمام نقائص و عیوب سے بے انتہا بلند ہے۔
تو یہ خرابی لازم آئے گی بھئی، دیکھیے بھئی۔
ولو سلم اور اگر آپ کی بات تسلیم بھی کرلی جائے، کیا؟ عدم خروج الصورة عن الفصاحة اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس کی صورت خارج نہیں ہوگی عن الفصاحة فصاحت سے، یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے آپ کی، فمجرد اشتمل القرآن علی كلام غير فصیح پس صرف قرآن محظ قرآن کا مشتمل ہونا کس پر؟ صرف کلام محض غیر فصیح پر مشتمل ہونا بل علی كلمة غير فصيحة بلکہ چاہے ایک کلمہ غیر فصیح ہی ہو، اس پر مشتمل ہونا مما یہ ان چیزوں میں سے ہے یقود جو لے جانے والی ہے، یعنی وہم ڈالنے والی ہے، مراد کیا ہے؟ وہم ڈالنے والا جو لے جانے والی ہے، یعنی وہم ڈالنے والی ہے، کس چیز کا؟ الی نسبة الجهل او العجز الى اللہ تعالی جہل یا عجز کی نسبت کس کی طرف؟ اللہ کی طرف کرنے کا وہم ڈالنے والی ہے یہ بات، تعالی اللہ عن ذلك علوا کبيرا اور بلند ہے اللہ کی ذات اس قسم کے عیوب سے علوا کبیرا بہت زیادہ بلند،
طرح؟ مولانا، ھذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام.