Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-120

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل ہم نے پڑھا مولانا کہ تشبیہ اس وقت دی جاتی ہے جب آپ کا ارادہ کیا ہو ایک ناقص چیز کو کس کے ساتھ ملانا چاہتے ہوں؟ زائد چیز کے ساتھ۔ اگر دو چیزوں کے درمیان دو چیزوں کو جمع کرنا ہو اور مقصد دونوں میں برابری بتلانا ہو، تو بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں تشبیہ کو چھوڑ دیا جائے اور کس کے ساتھ کام چلایا جائے؟ تشابہ وغیرہ کے فعل کے ساتھ بھئی۔ تاکہ ترجیح احد المتساویین کی لازم نہ آئے، اس لیے کہ آپ تو برابری بتلانا چاہتے ہیں اور تشبیہ دیں گے تو پھر کیا لازم آئے گی؟ ایک کی دوسرے پر ترجیح، کیونکہ مشبہ بہ وہ مشبہ سے قوی ہوتا ہے اس وصف کے اندر بھئی۔ قوی ہوتا ہے۔ جیسے اس شعر کے اندر ”تَشَابَهَ دَمْعِي إِذْ جَرَى وَمُدَامَتِي“ کہ میرے آنسو کس کے ساتھ مشابہ ہو گئے؟ میرے آنسو اور شراب ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئے بھئی۔ ہاں کہتے ہیں اس صورت میں تشبیہ بھی جائز ہے۔ آپ دو چیزوں کے درمیان مساوات بتلانا چاہتے ہیں تو تشبیہ بھی جائز ہے، لیکن بہتر یہ تھا کہ آپ ترک کریں۔ تشبیہ بھی جائز ہے۔ اور پھر تشبیہ کے اندر ہم ایک تو آپ بتلانا تو برابری چاہتے ہیں اور ایک کو مشبہ بنانا ہے اور دوسرے کو مشبہ بہ، تو کس کو مشبہ بنائیں؟ تو اس کے لیے انہوں نے بتلایا کہ جس کو مشبہ ایک کو مشبہ بنا دیں کسی غرض کی وجہ سے، مثال کے طور پر ایک کی زیادہ اہمیت ہے تو اس کو کیا بنا دیں؟ مشبہ، آپ کی نظر میں زیادہ اہمیت ہے یا اس کے اندر کلام ہو رہا ہو تو اس کو کیا بنا دیں؟ مشبہ، اس لیے کہ غرض اسی کی طرف لوٹتی ہے تشبیہ کی بھئی زیادہ تر۔ اس کے بعد پھر تشبیہ کی تقسیم شروع ہوئی تھی بھئی، ارکانِ تشبیہ بھی ختم، غرضِ تشبیہ بھی ختم، اب کیا تقسیم شروع کی بھئی؟ اور تشبیہ تقسیم جو ہے کہتے ہیں یا طرفین کے اعتبار سے ہوگی، یا وجہِ شبہ کے اعتبار سے ہوگی، یا جی؟ یا حرفِ تشبیہ کے اعتبار سے بھئی۔ تو کہتے ہیں تشبیہ طرفین کے طرفین کے اعتبار سے تشبیہ دو کس چار قسم پر ہے بھئی۔ یا تو مفرد کی تشبیہ مفرد کے ساتھ ہوگی، مشبہ بھی مفرد اور مشبہ بہ بھی مفرد۔ یا دونوں مرکب ہوں گے، مشبہ بھی مرکب اور مشبہ بہ بھی مرکب۔ یا مشبہ تو مرکب ہوگا لیکن مشبہ بہ مفرد۔ یا مشبہ مفرد ہوگا اور مشبہ بہ مرکب، چار قسمیں۔ اور پھر جب دونوں طرف مشبہ بھی مفرد ہو اور مشبہ بہ بھی مفرد ہو، پھر انہوں نے بتلایا اس اعتبار سے بھی تقسیم ہو رہی ہے اور کتنی قسمیں بن رہی ہیں؟ چار قسمیں بھئی۔ یا تو دونوں مفرد غیر مقید ہوں گے، یا دونوں مفرد کیا ہوں گے؟ مقید ہوں گے۔ یا اول مقید ہوگا اور ثانی غیر مقید، یا اول غیر مقید ہوگا اور ثانی مقید ہوگا بھئی۔ تو مفرد سے مفرد تشبیہ کی جس میں مشبہ بھی مفرد ہو غیر مقید اور مشبہ بہ بھی مفرد غیر مقید ہو جیسے خد کی تشبیہ ورد کے ساتھ۔ اور دونوں مقید ہوں اس کی مثال وہ کوشش کرنے والا جس کی کوشش سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس کی تشبیہ کس کے ساتھ دی جائے؟ پانی پر لکھنے۔ تو دونوں طرح، ایک کوشش کرنے والے کی تشبیہ ہے لکھنے والے کے ساتھ، لیکن کوشش کرنے والا مقید ہے کہ اس کی کوشش سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور لکھنے والا مقید ہے کہ وہ کس چیز پر لکھ رہا ہے؟ پانی پر لکھ رہا ہے۔ یا مولانا جیسے تشبیہ ہے شمس کی اس آئینے کے ساتھ جو کس کے ہاتھ میں ہو؟ مرتعش کے ہاتھ میں ہو بھئی۔ تو شمس دیکھو مفرد غیر مقید ہے اور آئینہ وہ مقید ہے کس چیز کے ساتھ؟ کس کے ہاتھ میں ہو؟ مرتعش کے ہاتھ میں۔ یا اس کا عکس کر لیں مولانا، اول کو کیا کر لیں؟ مقید کر لیں اور ثانی کو غیر، یعنی اب آئینے کو تشبیہ دے دیں کس کے ساتھ؟ سورج کے ساتھ، اور وہ آئینہ مقید ہے کس چیز کے ساتھ؟ راشہ والے کے ہاتھ میں، اور سورج مقید نہیں ہے۔ یا مولانا تشبیہ ہوگی مرکب کی مرکب کے ساتھ، جیسے گزرا تھا مولانا کہتے ہیں اس شعر کے اندر وہ جو تشبیہ انہوں نے دی تھی کہ گرد کے اندر تلواریں ہیں اور وہ چمک رہی ہیں، تو اس سے ایک ہیئت حاصل ہوئی اس کی تشبیہ دی وہ رات کے اندر جو ستارے ٹوٹ رہے ہیں گر رہے ہیں ان کے ساتھ بھئی، تو دونوں مرکب ہیں۔ یا مفرد کی تشبیہ مرکب کے ساتھ ہوگی، جیسے آپ نے گلِ لالہ کی تشبیہ دی تھی کس کے ساتھ؟ یاقوت کے جھنڈے ہوں جو کس پر پھیلے ہوئے ہوں؟ زبرجد کے نیزوں پر بھئی۔ یا مرکب کی تشبیہ کس کے ساتھ ہوگی؟ مفرد کے ساتھ، وہی چاروں کی مثالیں ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے: ”يَا صَاحِبَيَّ تَقَصَّيَا نَظَرَيْكُمَا“، اے میرے دو ساتھیو! تم گہری کرو ذرا اپنی نگاہیں، ”تَرَيَا وُجُوهَ الأَرْضِ“، تم دیکھو گے زمین کے چہروں یعنی بستیوں کو دیکھو گے، ”كَيْفَ تَصَوَّرُ“، اس حال میں کہ تم یہ کہہ رہے ہو گے کہ انہوں نے کیسی صورت اختیار کر لی ہے! کیسی صورت اختیار، ”تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا قَدْ شَابَهُ زَهْرُ الرُّبَى“، وہ دن جو سورج والا ہے اور جس کے ساتھ اختلاط ہوا ہے کس چیز کا؟ بلند جگہ کے سبزے کا اختلاط، سبزہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے اس دن کو تم یہ دن تمہیں یوں ہی نظر آئے گا ”فَكَأَنَّمَا مُقْمِرُ“، گویا کہ وہ چاند والی رات ہے بھئی۔ تو جیسے سبزے وغیرہ کی وجہ سے سورج کی روشنی کم ہو جائے گی، تاریکی ہر طرف کچھ دکھائی دے گی، تاریکی کی طرف مائل ہوگا ماحول، اسی طرح رات کے وقت بھی رات بھی اسی طرح ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد ایک الگ تقسیم کی مولانا تشبیہ کی طرفین ہی کے اعتبار سے۔ اور وہ یہ کہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں متعدد ہوں، یا دونوں متعدد ہوں، پھر اس میں دو صورتیں ہیں: پہلے سارے مشبہ ذکر کر دیں اور اس کے بعد سارے مشبہ بہ ہر ایک کا علی الترتیب۔ یا یہ کہ ایک مشبہ ذکر کریں اور ساتھ ہی اس کا مشبہ بہ، دوسرا مشبہ اور ساتھ ہی مشبہ بہ۔ تو کئی مشبہ ہیں اور کئی مشبہ بہ ہیں لیکن الگ الگ اکٹھے ہو رہے ہیں بھئی۔ اور یا مولانا اول یعنی مشبہ میں تو تعدد ہے، مشبہ بہ میں تعدد نہیں، اس کو کیا کہا انہوں نے؟ تشبیہِ تسویہ کہا بھئی، تشبیہِ تسویہ۔ جی تو پہلی تشبیہ ملفوف تھی مولانا کہ مشبہ بھی متعدد ہیں اور مشبہ بہ بھی متعدد، پہلے سارے مشبہ ذکر کر دیے اور پھر سارے مشبہ بہ۔ جیسے انہوں نے وہ پرندوں کے تر دلوں کو اور خشک دل دو چیزیں ذکر کیں، ان کو تشبیہ دی عناب اور اور خشک کھجور کے ساتھ بھئی۔ تو پہلے رطب اور یابس دو قسم کے دل ذکر کر دیے، دو مشبہ، اور پھر عناب اور حشف علی الترتیب ہر ایک کا مشبہ بہ ذکر۔ یا مولانا تشبیہ مفروق ہوگی کہ کئی چیزوں کو جیسے بو کو ذکر کیا، اس کی تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ مشک کے ساتھ۔ پھر چہروں کو ذکر کیا اور ساتھ ہی اس کا مشبہ بہ بھئی کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ دنانیر کے ساتھ۔ پھر اس کے ساتھ ہی انگلیوں کا ذکر کیا اور کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ عنم پودے کے ساتھ بھئی، اس کی شاخوں کے ساتھ۔ اور اگر اگر مشبہ کے اندر تعدد ہو اس کو کیا کہا؟ تشبیہِ تسویہ، جیسے مولانا ”صُدْغُ الْحَبِيبِ وَحَالِي“، شاعر نے محبوب کے قلموں کو اور اپنی حالت کو تشبیہ دیا کس کے ساتھ؟ رات کے ساتھ بھئی۔ اور یا مشبہ تو واحد ہے لیکن مشبہ بہ متعدد ہیں، اس کو تشبیہ الجمع کہتے ہیں۔ جیسے مولانا دانتوں کو تشبیہ دی، عورتوں کے دانتوں کو کس کے ساتھ؟ جی؟ موتی موتیوں کے ساتھ، اور اولوں کے ساتھ، اور اقاح گلِ بابونہ کے ساتھ بھئی۔ تو تین مشبہ دانت ہیں اور مشبہ بہ تین چیزیں ہیں بھئی۔ جی، ”وَبِاعْتِبَارِ وَجْهِهِ“ عطف ہے علیٰ قولہ ”بِاعْتِبَارِ الطَّرَفَيْنِ“۔ یہاں سے پھر مولانا نئی تقسیم، پہلے تو تھی طرفین کے اعتبار سے دو طرح کی تقسیم کی۔ اب وجہِ شبہ کے اعتبار سے کیا کر رہے ہیں؟ تقسیم کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَبِاعْتِبَارِ وَجْهِهِ“ عطف ہے علیٰ قولہ ”بِاعْتِبَارِ الطَّرَفَيْنِ“، یہ ”بِاعْتِبَارِ الطَّرَفَيْنِ“ پر عطف ہے بھئی، ”إِمَّا تَمْثِيلٌ“۔ تو وجہِ شبہ کے اعتبار سے تشبیہ یا تمثیل ہوگی یا غیر تمثیل بھئی۔ تمثیل کس کو کہتے ہیں؟ تمثیل جو مولانا مرکب ہو، کیا ہو؟ مرکب ہو، مرکب کو وجہِ شبہ جس میں مرکب ہو۔ مشبہ بہ کے اندر کئی امور ہیں، ان سب سے آپ نے ایک ہیئت کیا کی؟ ایک ہیئت نکالی، تو دیکھو مشبہ متعدد، اور اسی طرح مشبہ بہ بھی کیا ہے؟ جی، وجہِ شبہ کیا ہونی چاہیے؟ اس میں وہ مرکب ہونی چاہیے، کیونکہ یہ وجہِ شبہ کے اعتبار، وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے تقسیم ہو رہی ہے بھئی۔ تو اگر وجہِ شبہ کیا ہو؟ متعدد ہو اس کو کیا کہیں گے؟ تمثیل، اور اگر مرکب نہ ہو تو؟ غیر تمثیل۔ البتہ علامہ سکاکی، یہ تو تھی جمہور کے نزدیک مولانا، علامہ سکاکی فرق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمثیل کے اندر وجہِ شبہ مرکب بھی ہو اور غیر حقیقی بھی ہو۔ کیا قید بڑھاتے ہیں وہ؟ غیر حقیقی بھی ہو۔ مرکب ہو یہ تو جمہور بھی کہہ رہے ہیں، ایک قید وہ بڑھا رہے ہیں کہ غیر حقیقی بھی ہو، غیر حقیقی کیا معنی؟ یعنی اعتباری ہو۔ آپ نے اعتبار کیا تو ہے، آپ نے اعتبار کیا تو نہیں ہے، تو یہ اعتباری مولانا، اس کے اندر اضافی بھی داخل ہوا اور اس کے اندر وہمی بھی داخل ہوا بھئی۔ دیکھیے بھئی: ”إِمَّا تَمْثِيلٌ“، یا وجہِ شبہ کے اعتبار سے تشبیہ یا تو تمثیل ہوگی، ”وَهُوَ مَا أَيِ التَّشْبِيهُ الَّذِي وَجْهُهُ وَصْفٌ مُنْتَزَعٌ مِنْ مُتَعَدِّدٍ“، جس کی وجہِ تشبیہ جو ہے وہ ایسا وصف ہو جس کو نکالا گیا ہو متعدد امور سے۔ متعدد، ”أَمْرَيْنِ أَوْ أُمُورٍ“، چاہے دو امور ہوں چاہے دو سے زیادہ ہوں، ”كَمَا مَرَّ مِنْ تَشْبِيهِ الثُّرَيَّا وَتَشْبِيهِ مُثَارِ النَّقْعِ مَعَ الأَسْيَافِ“، جیسے تشبیہ دی تھی ثریا کی مولانا اور تشبیہ دی تھی کس کی؟ وہ گرد و غبار جو اڑ رہا ہے تلواروں کے ساتھ جو ہے اس کی تشبیہ دی تھی رات کے ساتھ۔ ”وَتَشْبِيهِ الشَّمْسِ بِالْمِرْآةِ“، اور شمس کی تشبیہ کس کے ساتھ دی تھی؟ آئینے کے ساتھ، ”فِي كَفِّ الأَشَلِّ“، کس کے ہاتھ میں؟ اشل کے ہاتھ میں، ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“، اس کے علاوہ۔ تو ان سب میں آپ غور کر لیں وجہِ شبہ کیا تھی؟ مرکب تھی بھئی۔ ”وَقَيَّدَهُ أَيِ الْمُنْتَزَعَ مِنْ مُتَعَدِّدٍ“، اور مقید کیا ہے منتزع من المتعدد کو یعنی اس کو علامہ سکاکی نے ”بِكَوْنِهِ غَيْرَ حَقِيقِيٍّ“، کس چیز کس چیز کے ساتھ؟ غیر حقیقی ہونے کے ساتھ مقید کیا۔ ہم نے تو کہا صرف مرکب ہونی چاہیے، وہ کہتے ہیں مرکب بھی ہو اور غیر حقیقی بھی ہو، پھر اس کو تمثیل کہیں گے ورنہ نہیں بھئی۔ غیر حقیقی ہو یعنی اعتباری ہو۔ ”حَيْثُ قَالَ: التَّشْبِيهُ مَتَى كَانَ وَجْهُهُ وَصْفًا غَيْرَ حَقِيقِيٍّ وَكَانَ مُنْتَزَعًا مِنْ عِدَّةِ أُمُورٍ خُصَّ بِاسْمِ التَّمْثِيلِ“، کہ تشبیہ کے اندر جب وصف کیا ہو وجہ کیا ہو ایسا وصف ہو جو غیر حقیقی ہو اور اس کو نکالا گیا ہو کئی امور سے، تو پھر خاص کیا جاتا ہے اس کو کس نام کے ساتھ؟ تمثیل، ”كَمَا مَرَّ فِي تَشْبِيهِ مَثَلِ الْيَهُودِ بِمَثَلِ الْحِمَارِ“، جیسے تشبیہ گزری مولانا یہود کی مثال کس کے ساتھ دی بھئی؟ جی جی مثلِ حمار کے، ”فَإِنَّ وَجْهَ التَّشْبِيهِ هُوَ حِرْمَانُ الِانْتِفَاعِ بِأَبْلَغِ نَافِعٍ“، اس لیے کہ وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ وہ نفع سے محروم ہونا ہے بے انتہا نفع والی چیز کے سے، ”مَعَ الْكَدِّ وَالتَّعَبِ“، ساتھ مشقت اور تھکن کے، ”فِي اسْتِصْحَابِهِ“، اس کو ساتھ رکھنے میں۔ ایک چیز ہے مولانا بے انتہا نفع والی ہے اور اس کے ساتھ رکھنے میں مشقت بھی ہے، اس کے باوجود اس کے نفع سے محروم رہنا بھئی، یہ وجہِ تشبیہ ہے مولانا۔ تو دیکھیے یہ اب مولانا یہ ایک اعتباری یہ مرکب ہے، کیا ہے؟ مرکب ہے۔ ہمارے نزدیک تو مرکب ہے، تو ان کے نزدیک مرکب کے ساتھ ساتھ کیا ہونی چاہیے؟ اعتباری بھی ہونی چاہیے۔ اور یہ ایک اعتباری وصف ہے مولانا، آپ اس کا اعتبار کریں تو ہے، آپ نہیں اعتبار کرتے تو نہیں ہے بھئی۔ ”فَهُوَ وَصْفٌ مُرَكَّبٌ مِنْ مُتَعَدِّدٍ عَائِدٌ إِلَى التَّوَهُّمِ“، کیونکہ یہ ایک وصف ہے جو مرکب ہے بہت سی چیزوں کے ساتھ اور لوٹتا ہے کس کی طرف؟ وہم کی جانب لوٹتا ہے مولانا، آپ نے اس کا اعتبار کیا، آپ نے کیا کیا؟ اعتبار کیا۔ ”وَإِمَّا غَيْرُ تَمْثِيلٍ“، یا کیا ہوگی وجہِ تشبیہ مولانا؟ غیر تمثیل ہوگی، ”وَهُوَ بِخِلَافِهِ“، اور وہ اس کے خلاف ہے، یعنی ”بِخِلَافِ التَّمْثِيلِ“، تمثیل کے خلاف ہے، یعنی ”مَا لَا يَكُونُ وَجْهُهُ مُنْتَزَعًا مِنْ مُتَعَدِّدٍ“، جس کے اندر وجہِ تشبیہ کیا ہو؟ منتزع عن المتعدد نہ ہو۔ ”وَعِنْدَ السَّكَّاكِيِّ مَا لَا يَكُونُ مُنْتَزَعًا مِنْ مُتَعَدِّدٍ أَوْ لَا يَكُونُ وَهْمِيًّا وَاعْتِبَارِيًّا“، جبکہ علامہ سکاکی کے نزدیک تو دو شرطیں تھیں، تو دونوں میں سے کوئی ایک نہ پائی جائے یا دونوں نہ پائی جائیں تو وہ کیا ہوگی؟ غیر تمثیل ہوگی۔ تو کہتے ہیں علامہ سکاکی کے نزدیک جو منتزع عن المتعدد نہ ہو یا متعدد یا وہمی اور اعتباری نہ ہو، ”بَلْ يَكُونُ حَقِيقِيًّا“، بلکہ کیا ہو؟ حقیقی ہو، آپ کے اعتبار پر موقوف نہیں ہے، آپ اعتبار کریں یا نہ کریں وہ موجود ہے۔ ”فَتَشْبِيهُ الثُّرَيَّا بِالْعُنْقُودِ الْمُنَوَّرِ“، پس تشبیہ دینا ثریا کی کس کے ساتھ مولانا؟ خوشے کے ساتھ المنور، جس میں کلیاں ہیں مولانا، پھول ہیں، ”تَمْثِيلٌ عِنْدَ الْجَمْهُورِ دُونَ السَّكَّاكِيِّ“، یہ کیا ہے؟ تمثیل ہے جمہور کے نزدیک نہ کہ علامہ بھئی۔ ثریا کو تشبیہ دی وہ پھولوں کے ساتھ، تو یہ پھولوں کا جو خوشہ ہے آپ کے اعتبار پر موقوف ہے؟ آپ اعتبار کریں یا نہ کریں وہ موجود ہے خارج کے اندر، جبکہ وہ جو ہیئت آپ نے منتزع کی تھی انہوں نے اٹھایا ہوا ہے بڑے بوجھ کو، مشقت میں ہیں اور اس سے نفع نہیں اٹھا رہے، آپ اس کا اعتبار کرتے ہیں تو ہے ورنہ ہر ایک کو پتہ چلے گا؟ نہیں، صرف یہ اعتباری چیز۔ ”وَأَيْضًا تَقْسِيمٌ آخَرُ لِلتَّشْبِيهِ“، یہ نئی تقسیم کر رہے ہیں مولانا۔ ایک تشبیہ ایک تقسیم کر دی وجہِ شبہ کے اعتبار سے کہ تشبیہ کیا ہوگی؟ تمثیل ہوگی یا تمثیل کے اندر کیا ہونا چاہیے وجہِ شبہ کو؟ مرکب ہونا چاہیے بس۔ اور علامہ سکاکی نے ایک اور قید بھی بڑھائی، ان کے نزدیک کیا ہو؟ مرکب بھی ہو اور غیر حقیقی بھی ہو، غیر حقیقی۔ ”وَأَيْضًا تَقْسِيمٌ آخَرُ لِلتَّشْبِيهِ بِاعْتِبَارِ وَجْهِهِ“، اور ایک اور تقسیم بھی ہے تشبیہ کی وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے، ”وَهُوَ أَنَّهُ إِمَّا مُجْمَلٌ“، اور وہ یہ ہے کہ وہ تشبیہ یا تو کیا ہوگی؟ مجمل ہوگی۔ مجمل کسے کہتے ہیں بھئی؟ کیا معنی؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ مَا لَمْ يُذْكَرْ وَجْهُهُ“، جس کے اندر وجہِ شبہ کو ذکر نہ کیا جائے۔ ”فَمِنْهُ“، ”مِنْهُ“ ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں، یعنی ”مِنَ الْمُجْمَلِ“، اس مجمل میں سے ”مَا هُوَ ظَاهِرٌ“، ایک وہ قسم ہے جو کیا ہے؟ ظاہر ہے۔ بھئی ظاہر ہے کیا معنی؟ کہتے ہیں ”ظَاهِرٌ وَجْهُهُ“ بھئی، اس کی وجہ کیا ہو؟ بھئی تقسیم کر رہے ہیں ایک مجمل، اور دوسری کیا ذکر کریں گے؟ ادھر ہے ”وَإِمَّا مُفَصَّلٌ“ بھئی، یہ صفحہ 353 پہ جا کر آ رہا ہے بھئی ابتدا میں، یا مجمل ہوگی یا مفصل ہوگی بھئی۔ مجمل وہ وجہِ تشبیہ ہے یاد رکھو جس کے اندر وجہِ شبہ کو ذکر نہ کیا جائے، اور مفصل وہ ہے جس کے اندر وجہِ شبہ کو ذکر کیا جائے، آسان سی تقسیم ہے۔ تو وجہِ تشبیہ، بھئی ذکر تو نہیں کیا، پھر مجمل دو قسم پر ہے مولانا، مجمل کس کو کہتے ہیں جس میں وجہِ شبہ کو ذکر کریں یا نہ کریں؟ نہ کریں، پھر ذکر تو نہیں کیا لیکن اس کو ہر ایک سمجھ لیتا ہے۔ میں نے کہا ”زَيْدٌ كَالأَسَدِ“، وجہِ تشبیہ ذکر کی؟ لیکن اس کو آپ سمجھ رہے ہو یا نہیں سمجھ رہے؟ ہر ایک اس کو سمجھتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ بہادری میں ہے شیر کی طرح، جی۔ اور بعض اوقات ذکر نہیں ہوتی اور خفی ہوتی ہے، تو یہ جو اول جو جس کو ہر ایک سمجھتا ہے یہ ہے ظاہر، اور جس کو خاص خاص سمجھتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ خفی۔ ”فَمَا هُوَ ظَاهِرٌ“، اس مجمل میں سے ایک وہ قسم ہے جو ظاہر ہے، کیا معنی ظاہر ہے؟ ”أَيْ وَجْهُهُ“ بھئی، اس کی وجہِ تشبیہ کیا ہوتی ہے؟ ”أَوْ فَمِنَ الْوَجْهِ“، یہ بتلا رہے ہیں مولانا یہ ”مِنْهُ“ جو گزرا تھا متن میں، اس میں ”هُ“ ضمیر کو مجمل کی طرف بھی راجع کرنا صحیح اور وجہِ شبہ کی طرف راجع کرنا بھی صحیح بھئی۔ پھر دوبارہ بتلا رہے ہیں ”أَيْ أَوْ فَمِنَ الْوَجْهِ“، وجہ کی طرف ضمیر راجع کی، یا مولانا اس وجہ میں سے ”الْغَيْرِ الْمَذْكُورِ“ جو مذکور نہیں، وہ ہے ”مَا هُوَ ظَاهِرٌ“، وہ کیا ہے؟ وہ ہے جو کہ ظاہر ہوگی، ”يَفْهَمُهُ كُلُّ أَحَدٍ“، جس کو ہر ایک سمجھتا ہے ”مِمَّنْ لَهُ مَدْخَلٌ فِي ذَلِكَ“، جس کا اس کے اندر کیا ہو؟ دخل ہو مولانا، یعنی تشبیہ کے استعمال میں اس کا دخل ہو بھئی، توفیق پتہ ہو اس کو، ”نَحْوُ: زَيْدٌ كَالأَسَدِ“، زید شیر کی طرح ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ”فَمِنْهُ“ میں انہوں نے کیا بات کی؟ ”مِنْهُ“ کی ضمیر راجع ہے کس کی طرف؟ مجمل کی طرف، یا وجہِ شبہ، مجمل تو مجمل میں سے ایک وہ ہے جو ظاہر ہے۔ بھئی ظاہر، یہاں تو ظاہر بتلایا، ظاہر کے اندر جو اسناد ہے وہ کس کی طرف؟ مجمل کی طرف نہیں ہے بلکہ کس کی طرف ہے؟ وجہِ شبہ، کہ ظاہر ہے تو مجمل، لیکن کیا ظاہر ہے اس میں؟ وجہِ شبہ ظاہر ہوگی بھئی، مجمل خود نہیں ظاہر، اور ہر ایک اس کو سمجھتا ہے۔ یا مولانا یہ ”مِنْهُ“ کی ضمیر کس کی طرف راجع کی؟ وجہِ تشبیہ کی طرف بھئی۔ ”نَحْوُ: زَيْدٌ كَالأَسَدِ“۔ ”وَمِنْهُ خَفِيٌّ“، اور مجمل میں سے ایک قسم خفی ہے، ”لَا يُدْرِكُهُ إِلَّا الْخَاصَّةُ“، نہیں پاتے اس کو مگر خاص ہی، ”كَقَوْلِ بَعْضِهِمْ“، جیسے بعض کا یہ کہنا، جی آگے قول آ رہا ہے اس کے لیے تمہید علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں کہ آگے یہ جو قول ہے شیخ عبد القاہر نے فرمایا ہے کہ ”أَنَّهُ قَوْلُ مَنْ وَصَفَ بَنِي الْمُهَلَّبِ لِلْحَجَّاجِ لَمَّا سَأَلَهُ عَنْهُمْ“، کہ یہ جو آگے قول آ رہا ہے یہ کس کا ہے؟ من اس شخص کا ہے ”وَصَفَ بَنِي الْمُهَلَّبِ“، جس نے وصف بیان کیا بھئی کس کا؟ بنی مہلب قبیلے کا، ”لِلْحَجَّاجِ“، حجاج کے لیے، ”لَمَّا سَأَلَهُ عَنْهُمْ“، جب حجاج نے اس سے ان کے بارے میں پوچھا۔ حجاج نے ایک شخص سے بنی مہلب کے بارے میں پوچھا کہ ان میں سے کون افضل ہے؟ تو اس نے آگے یہ جواب دیا: ”هُمْ“، دیکھیے متن میں آ رہا ہے ”هُمْ كَالْحَلْقَةِ الْمُفْرَغَةِ“، وہ لوگ تو ایک حلقے کی طرح ہیں، مفرغہ ڈھلا ہوا ہو، جو کیا ہو؟ ڈھلا ہوا ہو بھئی۔ جیسے بھئی سونا، چاندی وغیرہ کو پگھلا کر اس سے کیا بنا لیا جائے؟ ایک حلقہ بنا لیا جائے، ایک وہ حلقے کی طرح ہیں جو ڈھلا ہوا ہو، ”لَا يُدْرَى أَيْنَ طَرَفَاهَا“، نہیں جانا جاتا کہ کدھر ہیں اس کے کنارے؟ کدھر ہیں؟ بھئی دیکھو یہ ایک خطِ مستقیم ہے بھئی، یہ خطِ مستقیم ہے، یہ اس کا یہ اس کی ابتدا ہے، یہ اس کا وسط ہے اور یہ کیا ہے؟ اس کی انتہا، اور یہ ایک مولانا حلقہ ہے، گول دائرہ ہے، اس میں ابتدا، انتہا اور وسط کا پتہ چل رہا ہے؟ ابتدا، انتہا اور وسط کا پتہ نہیں چلتا۔ تو حجاج نے پوچھا ان میں سے کون افضل ہے؟ اس نے کہا بھئی وہ لوگ تو ڈھلے ہوئے حلقے کی طرح ہیں، کچھ پتہ نہیں چلتا کون ان میں سے افضل ہے اور کون ادنیٰ ہے، سارے کے سارے ہی کیا ہیں؟ افضل ہیں، سارے کے سارے ہی کیا ہیں؟ افضل ہیں۔ ”ذَكَرَ الشَّيْخُ عَبْدُ الْقَاهِرِ“، شیخ عبد القاہر فرماتے ہیں کہ یہ قول ہے من اس شخص کا ”وَصَفَ بَنِي الْمُهَلَّبِ“، جس نے بنی مہلب کی وصف بیان کیا ”لِلْحَجَّاجِ“، حجاج کے لیے ”لَمَّا سَأَلَهُ عَنْهُمْ“، جب حجاج نے اس سے ان کے بارے میں پوچھا۔ ”وَذَكَرَ جَارُ اللَّهِ“، اور ذکر کیا جار اللہ زمخشری نے بھئی، علامہ زمخشری کو جار اللہ بھی کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ جار اللہ، کیونکہ یہ حرم میں رہتے تھے، بڑا عرصہ حرم میں رہے، اس نام سے مشہور ہو گئے بھئی جار اللہ۔ سمجھ میں آیا؟ اللہ کے پڑوسی، یعنی اللہ کے گھر کے پڑوسی ہیں، وہیں رہتے تھے، جار اللہ۔ ”أَنَّهُ قَوْلُهُ“، یہ غلط ہے مولانا کاتب کی غلطی ہے، ”قَوْلُ“ کریں بھئی، ”أَنَّهُ قَوْلُ الأَنْمَارِيَّةِ“۔ علامہ زمخشری، اور شیخ عبد القاہر نے تو کہا یہ کسی اور نے یہ جملہ کہا تھا، علامہ زمخشری کہتے ہیں یہ قول ہے انماریہ قبیلے کی فاطمہ بنت الخرشب، فاطمہ بنت خرشب کا یہ قول ہے، اس نے کہا تھا: ”هُمْ كَالْحَلْقَةِ الْمُفْرَغَةِ لَا يُدْرَى أَيْنَ طَرَفَاهَا“۔ اس نے کیسے کہا؟ کہتے ہیں کسی نے اس سے پوچھا، اس کے چار بیٹے تھے، کہ بھئی تیرا کون سا بیٹا بہتر ہے؟ کون سا بیٹا سب سے افضل ہے؟ اس نے کہا: فلاں بیٹا میرا سب سے افضل ہے۔ پھر کہتی ہے: نہیں نہیں فلاں نہیں، فلاں والا سب سے افضل ہے۔ پھر تھوڑی: نہیں بھئی نہیں وہ بھی نہیں، فلاں والا سب سے افضل ہے۔ پھر کہتی ہے کہ بھئی میں ان سے محروم ہو جاؤں اگر مجھے یہ پتہ ہو کہ ان میں سے کون افضل ہے، سارے کے سارے ہی کیا ہیں؟ افضل ہیں، ”هُمْ كَالْحَلْقَةِ الْمُفْرَغَةِ“، یہ سارے کے سارے ڈھلے ہوئے حلقے کی طرح ہیں جس کے کناروں کا پتہ نہیں چلتا۔ ”وَذَلِكَ“، اور اس کے اس قول کا سبب یہ تھا ”أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ بَنِيهَا“، اس عورت سے پوچھا گیا اس کے بیٹوں کے بارے میں ”أَيُّهُمْ أَفْضَلُ“، کہ کون ان میں سے افضل ہے؟ ”فَقَالَتْ: عُمَارَةُ“، اس نے کہا عمارہ افضل ہے، ”لَا بَلْ فُلَانٌ“، نہیں بلکہ کیا ہے؟ فلان افضل ہے، ”لَا بَلْ فُلَانٌ“، نہیں بلکہ فلان افضل ہے، ”ثُمَّ قَالَتْ“، پھر کہنے لگی: ”ثَكِلْتُهُمْ“، میں ان سے محروم ہو جاؤں ”إِنْ كُنْتُ أَعْلَمُ“، اگر مجھے یہ پتہ ہو ”أَيُّهُمْ أَفْضَلُ“، کہ کون ان میں سے افضل ہے، ”هُمْ كَالْحَلْقَةِ الْمُفْرَغَةِ لَا يُدْرَى أَيْنَ طَرَفَاهَا“، وہ سارے کس کی طرح ہیں؟ ایک ڈھلے ہوئے حلقے کی طرح ہیں کہ نہیں جانا جاتا کہ اس کے کنارے کدھر ہیں۔ ”أَيْ هُمْ مُتَنَاسِبُونَ فِي الشَّرَفِ“، تو دونوں نے علامہ شیخ عبد القاہر نے اور قائل ذکر کیا اور علامہ زمخشری نے کوئی اور قائل ذکر کیا، اور کوئی ان میں تضاد بھی نہیں ہے بھئی، ہو سکتا ہے دونوں نے الگ الگ موقع پر اس قول کو کیا ہو، اس شخص نے بھی کیا۔ ”أَيْ هُمْ مُتَنَاسِبُونَ فِي الشَّرَفِ“، یعنی وہ لوگ یکساں ہیں ”فِي الشَّرَفِ“، کس کے اندر؟ تناسب کا معنی یکساں ہونا بھئی تناسب، وہ سب یکساں ہیں فی الشرف فضیلت کے اندر، ”يَمْتَنِعُ تَعْيِينُ بَعْضِهِمْ فَاضِلًا وَبَعْضِهِمْ أَفْضَلَ مِنْهُ“ افضل، یہ ممتنع ہے اس بات کی تعیین کرنا کہ بعض ان میں سے فاضل ہیں اور بعض ان سے افضل ہیں۔ ”كَمَا أَنَّهَا أَيِ الْحَلْقَةَ الْمُفْرَغَةَ مُتَنَاسِبَةُ الأَجْزَاءِ فِي الصُّورَةِ“، گویا کہ وہ جو ہے یعنی حلقۃ مفرغہ، گویا کہ وہ جو حلقہ مفرغہ ہے متناسبۃ الاجزاء فی الصورۃ، وہ اس کے اجزاء کیا ہیں صورت کے اندر؟ یکساں ہیں، ”يَمْتَنِعُ تَعْيِينُ بَعْضِهَا طَرَفًا وَبَعْضِهَا وَسَطًا“، ممتنع ہے تعیین ان میں سے بعض کی کرنا طرفاً کہ بعض طرف ہیں ”وَبَعْضِهَا وَسَطًا“، اور بعض ان میں سے کیا ہیں؟ وسط ہیں، ”لِكَوْنِهَا مُفْرَغَةً مُصْمَتَةً“، اس لیے کہ وہ ڈھلا ہوا ہے اور ملا ہوا ہے۔ کیا ملا ہوا ہے؟ الجوانب، اس کی جانبین کیا ہیں؟ اس حلقے کی ملی ہوئی ہیں، ”كَالدَّائِرَةِ“، جیسے کہ دائرہ ہوتا ہے۔ ”وَأَيْضًا مِنْهُ أَيْ مِنَ الْمُجْمَلِ“، بھئی کیا تقسیم انہوں نے شروع کی تھی؟ یا تو مجمل ہوگی جس میں وجہِ شبہ وجہِ شبہ ذکر نہیں ہوگی، یا مفصل ہوگی جس کے اندر وجہِ شبہ ہوگی۔ پھر مجمل کی تقسیم کر کے انہوں نے آپ کو بتایا تھا مجمل یا ظاہر ہوگی یا خفی ہوگا بھئی۔ ظاہر وہ جس کی وجہِ شبہ کو ہر ایک سمجھتا ہے، اور خفی وہ جس کو ہر ایک نہیں سمجھتا۔ اب پھر تقسیم کر رہے ہیں مولانا مجمل کی۔ ”وَأَيْضًا مِنْهُ أَيْ مِنَ الْمُجْمَلِ“، اور مجمل ہی میں سے ہے، ”وَقَوْلُهُ: مِنْهُ دُونَ أَنْ يَقُولَ: وَأَيْضًا إِمَّا كَذَا وَإِمَّا كَذَا“، اور مصنف نے ”مِنْهُ“ کہا، یہ نہیں کہا ”وَأَيْضًا إِمَّا كَذَا وَإِمَّا كَذَا“۔ ابھی تک ان کا طریقہ یہی ہے نا، یوں کرتے ہیں: ”التَّشْبِيهُ إِمَّا مُجْمَلٌ وَإِمَّا مُفَصَّلٌ“۔ کہتے ہیں اگر ”إِمَّا“ کے ساتھ کرتے تو ہمیں پتہ چل جاتا یہ مطلق تشبیہ کی تقسیم ہے، کس کی؟ بھئی بار بار تشبیہ ہی کی تقسیم ہو رہی ہے تو ہر جگہ ”إِمَّا“ لاتے ہیں، یہاں بھی ”إِمَّا“ لاتے تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ یہ کس کی تشبیہ تقسیم ہے؟ مطلق، لیکن یہ وہ یہاں پر ”أَيْضًا مِنْهُ“، انداز بدلا، اس انداز کے بدلنے نے بتلا دیا کہ یہ مطلق تشبیہ کی تقسیم نہیں ہے، تشبیہِ مجمل کی کیا ہے؟ تقسیم ہے۔ تو یہ نہیں کہا ”وَأَيْضًا إِمَّا كَذَا وَإِمَّا كَذَا“، ”إِشْعَارٌ بِأَنَّ هَذَا مِنْ تَقْسِيمَاتِ الْمُجْمَلِ“، اس کے اندر خبر ہے اس بات کی اطلاع ہے کہ یہ جو آگے آ رہی ہیں یہ کس کی تقسیم ہے؟ مجمل کی تقسیمات ہیں، ”لَا مِنْ تَقْسِيمَاتِ مُطْلَقِ التَّشْبِيهِ“، نہ کہ مطلق تشبیہ کی اقسام۔ ”أَيْ وَمِنَ الْمُجْمَلِ مَا لَمْ يُذْكَرْ فِيهِ وَصْفُ أَحَدِ الطَّرَفَيْنِ“، مجمل میں سے ایک وہ قسم ہے جس میں طرفین میں سے کسی ایک کے وصف کو بھی ذکر مجمل کس کو کہتے ہیں بھئی؟ وجہِ شبہ ذکر اب وجہِ شبہ تو ذکر نہیں، لیکن ایک طرف مشبہ ہے ایک طرف مشبہ بہ، مشبہ کا کوئی وصف ذکر ہوگا یا وصف ذکر؟ یا مشبہ بہ اس کا وصف ذکر ہوگا یا وصف ذکر؟ تو یا تو دونوں کا وصف ذکر نہیں ہوگا، یا مشبہ کا وصف ذکر ہوگا صرف، یا صرف کس کا ذکر ہوگا؟ مشبہ بہ کا وصف، یا مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کا، لیکن عام وصف نہیں مراد مولانا، ایسا وصف مراد ہے جو اشارہ دے رہا ہو وجہِ شبہ کا، وجہِ تشبیہ کی طرف کیا کر رہا ہو؟ جیسے آپ کہتے ہیں ”زَيْدٌ الْعَالِمُ كَالأَسَدِ“، وہ زید جو عالم ہے کس کی طرح ہے؟ بھئی اب صفت تو آ گئی مشبہ کی ”الْعَالِمُ“، لیکن کیا اس نے وجہِ شبہ کی طرف رہنمائی کی؟ نہیں۔ ہاں تو یہ وصف نہیں مراد بلکہ اس قسم کا وصف مراد ہے: ”زَيْدٌ الْجَرِيءُ كَالأَسَدِ“، جرات والا زید کس کی طرح ہے؟ اب دیکھو ”الْجَرِيءُ“ نے کیا کیا؟ اشارہ کیا کس کی طرف؟ تو اس قسم کا وصف مراد ہے۔ تو کہتے ہیں وہ مجمل میں سے ایک وہ ہے کہ جس کے اندر طرفین میں سے کسی ایک کا وصف بھی ذکر نہ ہو، یعنی الوصف یعنی وہ وصف ”الَّذِي يَكُونُ فِيهِ إِيمَاءٌ إِلَى وَجْهِ الشَّبَهِ“، یعنی وہ وصف جس کے اندر اشارہ ہو کس کی طرف مولانا؟ وجہِ شبہ کی طرف، ایسا وصف ذکر نہیں ہوگا، ”نَحْوُ: زَيْدٌ أَسَدٌ“، دیکھو نہ زید کا کوئی وصف ہے نہ اسد کا۔ ”وَمِنْهُ مَا ذُكِرَ فِيهِ وَصْفُ الْمُشَبَّهِ بِهِ وَحْدَهُ“، اور ایک وہ قسم ہے مجمل کی جس کے اندر صرف مشبہ بہ کا وصف ذکر ہوگا، ”أَيِ الْوَصْفُ الْمُشْعِرُ بِوَجْهِ الشَّبَهِ“، ایسا وصف جو خبر دے رہا ہو کس کی؟ وجہِ شبہ کی، ”كَقَوْلِهَا“، جیسے یہ قول مولانا گزرا ابھی: ”هُمْ كَالْحَلْقَةِ الْمُفْرَغَةِ لَا يُدْرَى أَيْنَ طَرَفَاهَا“، ”هُمْ كَالْحَلْقَةِ“، وہ کس کی طرح ہیں؟ حلقے کے، آگے حلقے کی صفت بیان ہو گئی: ”الْمُفْرَغَةِ لَا يُدْرَى أَيْنَ طَرَفَاهَا“، تو مشبہ بہ کا وصف بیان ہوا اور اس وصف نے رہنمائی کی کس کی طرف؟ وجہِ شبہ کی طرف کہ وہ فضیلت میں برابر ہیں بھئی، کناروں کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ”وَمِنْهُ“، اور مجمل میں سے ”مَا ذُكِرَ فِيهِ وَصْفُهُمَا أَيِ الْمُشَبَّهِ وَالْمُشَبَّهِ بِهِ كِلَيْهِمَا“، ایک وہ قسم ہے جس کے اندر مش مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کے وصف کو ذکر کیا جاتا ہے، ”كَقَوْلِهِ“، جیسے شاعر کا یہ قول: ”صَدَفْتُ عَنْهُ أَيْ أَعْرَضْتُ وَلَمْ تَصْدِفْ مَوَاهِبُهُ عَنِّي وَعَاوَدَهُ ظَنِّي فَلَمْ يَخِبْ“ ”يَخِبْ“ کریں مولانا، یہ ”يَحِبْ“ غلط لکھا ہے کاتب کی غلطی ہے، نقطہ لگائیں بھئی خا پر۔ ”كَالْغَيْثِ إِنْ جِئْتَهُ وَافَاكَ رَيِّقُهُ وَإِنْ تَرَحَّلْتَ عَنْهُ لَجَّ فِي الطَّلَبِ“ شاعر کہتا ہے بھئی کہ میں نے اپنے ممدوح سے کنارہ کشی اختیار کی بھئی، جو بادشاہ تھا اس سے کیا کی میں نے؟ کنارہ کشی اختیار کی، لیکن اس کے عطایا نے مجھ سے رخ نہ موڑا، وہ مجھے وہیں پر پہنچتے رہے بھئی۔ پھر میں اس کی طرف لوٹ آیا، تو پھر بھی اس نے مجھے مایوس یہ میں سوچ رہا تھا ناراض ہوگا بھئی اب مجھے عطایا نہیں دے گا، لیکن اس نے پھر بھی مجھے مایوس اور نامراد نہیں کیا بلکہ پھر بھی مجھے کیا کیے؟ عطایا دیے بھئی۔ تو کہتے ہیں بادشاہ کی مثال بارش کی طرح ہے بھئی، اس بادشاہ کی مثال جیسے بارش ہے، آپ اس بارش کے اندر چلیں تو بھی آپ کو نفع دے گی، آپ اس سے بھاگیں تو بھی یہ آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کیا کرے گی؟ نفع پہنچانے کی کوشش کرے گی بھئی۔ ”صَدَفْتُ عَنْهُ أَيْ أَعْرَضْتُ“، میں نے اعراض کیا اس اپنے ممدوح سے، ”وَلَمْ تَصْدِفْ مَوَاهِبُهُ“، اور اعراض نہیں کیا اس کے عطایا نے، اس کے میں نے تو اعراض کیا لیکن اس کے عطایا نے اعراض نہیں کیا ”عَنِّي“، مجھ سے، ”وَعَاوَدَهُ ظَنِّي“، عاود کا معنی لوٹنا، اور لوٹا اس کی طرف میرا گمان، ”فَلَمْ يَخِبْ“، تو اس نے مجھے محروم نہیں رکھا، ”فَلَمْ يَخِبْ“، تو میرا تو وہ محروم نہیں رہا بھئی، ”فَلَمْ يَخِبْ“، وہ محروم نہیں رہا، ”كَالْغَيْثِ“، جیسے کہ بارش ہوتی ہے، جی۔ ”إِنْ جِئْتَهُ“، اگر تو اس کے پاس آئے گا، ”وَافَاكَ أَيْ أَتَاكَ“، آئے گی تیرے پاس، ”رَيِّقُهُ“، اس کا اعلیٰ ترین حصہ، افضل حصہ کیا ہے؟ تجھے حاصل ہوگا۔ ریق کا معنی بتلا رہے ہیں علامہ تفتازانی: ”يُقَالُ: فَعَلَهُ فِي رَوْقِ شَبَابِهِ وَرَيْقِهِ أَيْ أَوَّلِهِ“، کہا جاتا ہے عربی میں اس نے یہ کام کیا ”فِي رَوْقِ شَبَابِهِ“، روق جوانی کے روق میں، وریق، روق بھی کہتے ہیں اور ریق بھی کہتے ہیں، کیا معنی جوانی کے روق میں؟ ”أَيْ أَوَّلِهِ“، جوانی کی شروع میں، ابتدا میں، تو روق اور ریق اول کو کہتے ہیں، ابتدا کو، ”وَأَصَابَهُ رَيِّقُ الْمَطَرِ“، یہ عربی میں کہتے ہیں، ”وَرَيِّقُ كُلِّ شَيْءٍ أَفْضَلُهُ“، اور ہر چیز کا ریق کیا ہوتا ہے؟ اس کا افضل حصہ جو ہوتا ہے وہ ریق کہلاتا ہے۔ ”وَأَتَاكَ رَيِّقُهُ“، یعنی تیرے پاس بارش کا افضل حصہ ائے گا، اگر تو اس کے پاس ائے گا تو تجھے بارش کا افضل حصہ ملے گا۔ مراد اولِ بارش ہے، بارش کا ابتدائی حصہ جب بارش شروع ہوتی ہے کہتے ہیں یہ افضل حصہ ہوتا ہے بارش کا۔ کیوں؟ افضل کیوں ہے بھئی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس میں فساد کا خطرہ نہیں، جب بارش شروع ہوتی ہے فساد کا خطرہ ہے؟ نہیں، ہاں جب لمبی ہو جائے گی اب فساد کا خطرہ ہے بھئی، رک ہی نہیں رہی اب تو نقصان ہوگا۔ ”وَإِنْ تَرَحَّلْتَ عَنْهُ“، اور اگر تو اس سے کوچ کرے گا، اس سے دور ہٹے گا، ”لَجَّ فِي الطَّلَبِ“، لجّ کا معنی کسی کام میں لگے رہنا بھئی، کسی کام میں تو یہ لگی رہے گی ”فِي الطَّلَبِ“، طلب کے اندر بھئی، آپ کو طلب کرے گی۔ ”وَصَفَ الْمُشَبَّهَ أَعْنِي الْمَمْدُوحَ بِأَنَّ عَطَايَاهُ فَائِضَةٌ عَلَيْهِ“، وصف بیان کیا شاعر نے مشبہ یعنی ممدوح کا کہ اس کے عطایا جو ہیں وہ جاری ہیں، فائزہ جاری ہیں، اس کے عطایا جاری ہیں اس پر ”أَعْرَضَ أَوْ لَمْ يُعْرِضْ“، چاہے یہ اعراض کرے یا اعراض نہ کرے، دونوں صورتوں میں اس کے عطیات اس کو پہنچتے ہیں۔ ”وَكَذَا وَصَفَ الْمُشَبَّهَ بِهِ“، اسی طرح مشبہ بہ کا بھی وصف بیان کیا یعنی کہ بارش کا ”بِأَنَّهُ يُصِيبُكَ جِئْتَهُ أَوْ تَرَحَّلْتَ عَنْهُ“، کہ وہ تجھے پہنچے گی، چاہے تو اس کے پاس آئے یا اس سے دور ہٹے۔ ”وَالْوَصْفَانِ مُشْعِرَانِ بِوَجْهِ الشَّبَهِ“، تو دیکھو مشبہ کا بھی وصف ذکر، مشبہ بہ کا بھی وصف ذکر، اور یہ دونوں وصف خبر دے رہے ہیں کس چیز کی؟ وجہِ تشبیہ کی، ”أَعْنِي الإِفَاضَةَ“، یعنی کہ افاضہ کہتے ہیں خیر کا عام کرنا بھئی، خیر کا عام ہونا بھئی، یعنی عمومیتِ خیر مراد ہے، کیا مراد ہے؟ ہاں، یہ خبر دے رہی ہے عمومیتِ خیر کی ”حَالَتَيِ الطَّلَبِ وَعَدَمِهِ“، طلب اور عدمِ طلب دونوں حالتوں میں۔ بھئی بارش کی خیر اس کا نفع بے انتہا ہے چاہے طلب ہو یا طلب نہ آپ طلب کریں یا نہ کریں، ”وَحَالَتَيِ الإِقْبَالِ عَلَيْهِ وَالإِعْرَاضِ عَنْهُ“، اسی طرح ممدوح بھی نفع دیتا ہے چاہے آپ اس کی طرف متوجہ ہوں یا اس سے اعراض کریں۔ ”وَإِمَّا مُفَصَّلٌ“، یا مولانا تشبیہ مفصل ہوگی، ”عَطْفٌ عَلَى إِمَّا مُجْمَلٌ“، اس کا عطف مجمل پر ہے، ”وَهُوَ مَا ذُكِرَ وَجْهُهُ“، اور وہ تشبیہ ہے جس کے اندر کس کو ذکر کیا جائے؟ وجہِ شبہ کو ذکر کیا جائے، ”كَقَوْلِهِ“، جیسے شاعر کہتا ہے: ”وَثَغْرُهُ فِي صَفَاءٍ وَأَدْمُعِي كَاللَّآلِي“ ”وَثَغْرُهُ فِي صَفَاءٍ“، اس کے دانت جو ہیں ممدوح کے ”فِي صَفَاءٍ“، کس کے اندر؟ صفائی میں بھئی، ”وَأَدْمُعِي“، اور میرے آنسو، ”كَاللَّآلِي“، کس کی طرح ہیں؟ موتیوں کی طرح ہیں۔ اس کے دانت اور میرے آنسو، جیسے اس کے دانت صاف ہیں چمک دمک چمکتے دمکتے ہیں، صاف ہیں، اسی طرح میرے آنسو بھی کیا ہیں؟ ان میں بھی کسی قسم کے میل کی آمیزش نہیں، کیا ہیں؟ صاف ستھرے۔ تو دیکھیے وجہِ شبہ ذکر ہو گئی مولانا، کہ کس چیز کے اندر ہیں بھئی؟ کس میں؟ صفائی میں، جیسے موتی صاف ستھرے ہوتے ہیں اسی طرح اس کے دانت اور میرے آنسو بھی کیا ہیں؟ صاف ستھرے ہیں، ہاں تو دانتوں کو اور آنسوؤں کو تشبیہ دی ہے موتی کے ساتھ، اور درمیان میں کیا ذکر کیا؟ ”فِي صَفَاءٍ“، وجہِ شبہ کو ذکر کر دیا۔ ”وَقَدْ يُتَسَامَحُ بِذِكْرِ مَا يَسْتَتْبِعُهُ مَكَانَهُ“، جی یہ دیکھو بھئی غور سے سنو بھئی، کیا انہوں نے کہا؟ مفصل، تشبیہ مفصل کون سی ہے؟ جس میں وجہِ شبہ ذکر ہو، کہتے ہیں کبھی وجہِ شبہ تو ذکر نہیں ہوتی مفصل ہی کے اندر، لیکن ملزوم ذکر ہوتا ہے، اس ملزوم کے ساتھ وجہِ شبہ لازم ہوتی ہے۔ وجہِ شبہ کیا ہوتی ہے؟ لازم، جیسے کہتے ہیں مولانا: اس کا کلام شہد کی طرح ہے مٹھاس کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ عاشق کہتا ہے بھئی: میرے معشوق کی باتیں کس کی طرح ہیں؟ شہد کی طرح میٹھی ہیں، مٹھاس میں شہد کی طرح ہیں۔ تو دیکھو مٹھاس میں، مٹھاس کو ذکر کیا بھئی، لیکن یہاں کہتے ہیں مٹھاس وجہِ شبہ نہیں، مٹھاس وجہِ کیونکہ مٹھاس جو ہے شہد میں تو ہے لیکن باتوں میں نہیں۔ ہاں البتہ مٹھاس کے ساتھ لازم ہے میلانِ طبع، عادتاً میٹھی چیز کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے، تو میلانِ طبع جو ہے وجہِ شبہ وہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ حلاوت کے ساتھ۔ تو حلاوت ملزوم ذکر ہوا اور اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ وجہِ شبہ، تو اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں مولانا؟ مفصل کہتے ہیں۔ تو کبھی مفصل کے اندر وجہِ شبہ خود مذکور ہوگی اور کبھی اس کا ملزوم ذکر ہوگا، اس کے ساتھ یہ لازم ہوگی بھئی، تو وجہِ شبہ میلانِ طبع ہے۔ ”وَقَدْ يُتَسَامَحُ“، ترجمہ غور سے سنو، ”وَقَدْ يُتَسَامَحُ“، کبھی کبھار چشم پوشی کی جاتی ہے ”بِذِكْرِ مَا“، اس چیز کے ذکر کے ساتھ ”يَسْتَتْبِعُهُ“، جو تابع بناتا ہے، ”هُ“ ضمیر کس کو راجع مولانا؟ وجہِ شبہ کو، جو وجہِ شبہ کو تابع بناتا ہے۔ چشم پوشی کی جاتی ہے اس ملزوم، ”مَا“ سے مراد ہے ملزوم مولانا، اس ملزوم کے ذکر سے جس نے وجہِ شبہ کو کیا بنایا ہے؟ تابع، بھئی ملزوم کے تابع ہے نا وجہِ شبہ، ملزوم جب آئے گا اس کے ساتھ کیا آ جائے گی؟ لازم بھی آئے گا جو وجہِ شبہ ہے۔ کبھی چشم پوشی کی جاتی ہے اس ملزوم کے ذکر کے ساتھ ”يَسْتَتْبِعُهُ“ جو تابع بناتا ہے یعنی اپنی پیروی کراتا ہے یا اپنے پیچھے چلاتا ہے کس کو؟ وجہِ شبہ کو، جی تو اس کے ذکر کے ساتھ تسامح کیا جاتا ہے۔ اور اس ملزوم کو کس کی جگہ ذکر کیا؟ ”مَكَانَهُ“، وجہِ شبہ کی جگہ میں، ”أَيْ بِأَنْ يُذْكَرَ مَكَانَ وَجْهِ الشَّبَهِ مَا يَسْتَلْزِمُهُ“، بایں صورت کہ ذکر کیا جائے وجہِ شبہ کی جگہ پر اس چیز کو، ”يَسْتَلْزِمُهُ“، فاعل مولانا وجہِ شبہ وہ راجع، فاعل ضمیر بھئی، وجہِ شبہ کے ساتھ اس چیز کو ذکر کیا جاتا ہے ”يَسْتَلْزِمُهُ“، جس کے ساتھ وجہِ شبہ لازم ہوتی ہے، ”أَيْ يَكُونُ وَجْهُ الشَّبَهِ تَابِعًا لَهُ لَازِمًا فِي الْجُمْلَةِ“، کہ وجہِ شبہ اس کے تابع ہوتی ہے اور اس کے ساتھ لازم ہوتی ہے اس مجموعی اعتبار سے، ”كَقَوْلِهِمْ“، مولانا کریں یہاں بھئی یا ”كَقَوْلِهِ“، ”كَقَوْلِهِمْ“ کریں یا ”كَقَوْلِهِ“ کر دیں، ”كَقَوْلِهِمْ لِلْكَلَامِ الْفَصِيحِ: هُوَ كَالْعَسَلِ فِي الْحَلَاوَةِ“، جیسے عربوں کا یہ کہنا کلامِ فصیح کو: وہ کلام کس کی طرح ہے؟ شہد کی طرح ہے مٹھاس کے اندر، ”فَإِنَّ الْجَامِعَ فِيهِ لَازِمُهَا“، اس لیے کہ جامع یعنی وجہِ شبہ اس کے اندر کیا ہے؟ اس کا لازم ہے، لازمِ حلاوت ہے، ہا ضمیر حلاوت کو راجع ہے۔ ”أَيْ وَجْهُ الشَّبَهِ فِي هَذَا التَّشْبِيهِ لَازِمُ الْحَلَاوَةِ وَهُوَ مَيْلُ الطَّبْعِ“، وجہِ شبہ اس تشبیہ کے اندر حلاوت کا لازم ہے اور وہ طبیعت کا میلان ہے، ”لِأَنَّهُ الْمُشْتَرَكُ بَيْنَ الْعَسَلِ وَالْكَلَامِ لَا الْحَلَاوَةُ“، اس لیے کہ وہ مشترک ہے شہد کے اندر اور کلام میں، نہ کہ حلاوت ہے۔ ”الَّتِي هِيَ مِنْ خَوَاصِّ الْمَطْعُومَاتِ“، حلاوت جو ہے جو کس کے خواص میں سے ہے؟ مطعومات، چکھی جانے والی چیزوں کے خاصوں میں سے ہے بھئی، کلام کے خاصوں میں سے نہیں ہے۔ لیکن مولانا یہ حلاوت کو بھی ہم قرار دے سکتے ہیں وجہ، انہوں نے تو کہا کہ حلاوت نہیں ہے وجہِ شبہ میلانِ طبع ہے، لیکن حلاوت کو بھی بنا سکتے ہیں بھئی، کس طرح؟ بھئی شہد میں حقیقتاً مٹھاس ہے، حلاوت ہے، اور کلام کے اندر خیالی مٹھاس ہے، کلام کے اندر کیا ہے؟ تو دونوں میں مٹھاس آ گئی نا، تو اس کو بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے مولانا سنتوں کے اندر ہم نے خیالی چمک دمک ہم نے کیا کیا تھا؟ وہاں خیال کیا تھا کہ اس کے اندر کیا ہے؟ چمک دمک ہے بھئی۔ ”وَأَيْضًا تَقْسِيمٌ ثَالِثٌ لِلتَّشْبِيهِ“، اور ایک اور تقسیم بھی ہے تشبیہ کی ”بِاعْتِبَارِ وَجْهِهِ“، یہ تقسیم بھی کس اعتبار سے ہے؟ وجہِ شبہ، بھئی دو تقسیمات گزر گئیں: ایک تمثیل جس میں وجہِ شبہ مرکب تھی، ایک غیر تمثیل جس میں وجہِ شبہ مرکب نہیں تھی۔ اور دوسری تقسیم کیا تھی؟ مجمل ہوگی یا مفصل، مجمل کے اندر وجہِ شبہ ذکر نہیں اور مفصل میں وجہِ شبہ ذکر۔ اب تیسری تقسیم کر رہے ہیں: ”وَالتَّقْسِيمُ الثَّالِثُ لِلتَّشْبِيهِ بِاعْتِبَارِ وَجْهِهِ أَنَّهُ إِمَّا قَرِيبٌ مُبْتَذَلٌ“، وہ وجہِ شبہ کیا ہوگی؟ قریب ہوگی، مبتذل، مبتذل معنی متداول، رائج، رائج اور مشہور ہوگی مولانا، ”وَهُوَ مَا يُنْتَقَلُ فِيهِ مِنَ الْمُشَبَّهِ إِلَى الْمُشَبَّهِ بِهِ مِنْ غَيْرِ تَدْقِيقِ نَظَرٍ“، اور وہ ہے وہ تشبیہ ہے جس کے اندر انتقال کیا جائے مشبہ سے کس کی طرف؟ مشبہ بہ کی طرف، ”مِنْ غَيْرِ تَدْقِيقِ نَظَرٍ“، بغیر گہری نظر کے دقتِ نظر کے، ”لِظُهُورِ وَجْهِهِ فِي بَادِي الرَّأْيِ“، اس لیے کہ اس کی وجہِ شبہ کیا ہوتی ہے؟ ظاہر ہوتی ہے ”فِي بَادِي الرَّأْيِ أَيْ فِي ظَاهِرِهِ“، ظاہرِ رائے میں، فوراً ہی کیا ہوتی ہے؟ ذہن اس کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ تو ”إِذَا جَعَلْتَهُ مِنْ بَدَا“، یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں یہ بادی، اس کو بادی الامر بادی الرائے بھی پڑھ سکتے ہیں ہمزہ کے ساتھ بادی الرائے، اور یا بھی بنا سکتے ہیں اور مہموز بھی بھئی۔ ”إِذَا جَعَلْتَهُ مِنْ بَدَا يَبْدُو“، بدا یبدو سے بھی بنا سکتے ہیں بھئی، پھر یہ کیا بن جائے گا؟ ناقص بن جائے گا بھئی، واوی بن گیا بھئی، واوی بھئی، ”أَيْ ظَهَرَ“، بدا یبدو کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ظاہر ہونا، تو ظاہرِ رائے کے اندر بھئی بغیر غور و فکر کے اس کی وجہِ شبہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ”وَإِنْ جَعَلْتَهُ مَهْمُوزًا مِنْ بَدَأَ“، اور اگر آپ اس کو کیا بنائیں؟ مہموز بنائیں، ”مِنْ بَدَأَ“، بدا کا کیا معنی؟ شروع کرنا، ”فَمَعْنَاهُ فِي أَوَّلِ الرَّأْيِ“، تو اس کا کیا معنی ہے؟ اولِ رائے میں، ”وَظُهُورِ“، جی، اولِ رائے، ابتدائی رائے میں کیا ہے؟ بغیر غور و فکر کے ذہن میں فوراً ا جاتی ہے بھئی۔ بس مولانا، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ“۔
21 approved lectures · 21 of 21