وجہ شبہ کے اعتبار سے تشبیہ کی تقسیم پڑھ رہے تھے، آپ نے پڑھا کہ وجہ شبہ کے اعتبار سے تشبیہ یا تو قریب مبتذل ہوگی یا بعید غریب ہوگی۔ قریب مبتذل کہ جس کے اندر مشبہ سے مشبہ بہٖ کی طرف ذہن آسانی سے منتقل ہو جائے، غور و فکر نہ کرنا پڑـ کرنا پڑے۔ کیوں؟ لِظُهُورِ وَجْهِهِ فِي بَادِئِ الرَّأْيِ، کیونکہ وجہ شبہ کیا ہے؟ بادی الرائے ہی میں ظاہر ہے۔ بادی الرائے میں اس کی وجہ شبہ کیوں ظاہر ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یا تو وہ امرِ اجمالی ہے، اس کے اندر تفصیل ہے ہی نہیں۔ یا تفصیل تھوڑی سی ہے تو، لیکن ساتھ ساتھ کیا ہے؟ غالب الحضور ہے ذہن کے اندر مشبہ بہٖ۔ اور غالب الحضور یا تو مطلقاً ہے ویسے ہی ذہن میں آتا رہتا ہے، یا غالب الحضور کس کے ساتھ ہے؟ مشبہ کے ساتھ، کیوں کیونکہ درمیـ دونوں کے درمیان کیا ہے بڑی قریبی مناسبت ہے۔ جی، اور مطلقاً غالب الحضور کیوں؟ لِتَكَرُّرِهِ عَلَى الْحِسِّ، کیونکہ ذہن حس پر اس کا گزر ہوتا رہتا ہے۔ جیسے تشـ سورج کی تشبیہ دیں مولانا کس کے ساتھ؟ آئینے کے ساتھ، صاف ستھرے آئینے کے ساتھ کس چیز میں؟ گولائی میں اور چمک دمک میں۔ اب یہاں تھوڑی سی تشـ تفصیل تو ہے، اس دو وصف آ گئے گولائی بھی آ گئی اور چمک بھی آ گئی، لیکن چونکہ یہ حس پر اس آئینے کا گزر اکثر ہوتا رہتا ہے تو اس تکرار نے جو ہے اس کے اندر جو غرابت آ رہی تھی تفصیل سے، اس تفـ اس غرابت کو کیا کر دیا؟ ختم کر دیا۔ یا قربِ مناسبت جو ہے اس غرابت کو دور کر دیتی ہے، جیسے چھوٹے گھڑے کی تشبیہ دیں کس کے ساتھ؟ کوزے کے ساتھ، دو اوصاف میں، مقدار میں اور شکل۔ اب تفصیل آ گئی مولانا، دو وصف آ گئے، تو تفصیل سے غرابت آئی لیکن قربِ مناسبت کی وجہ سے یہ غرابت کیا ہوئی؟ ختم ہوئی۔ اور یا بعیدِ غریب ہوگی آپ نے پڑھا، جس کے اندر ذہن مشبہ سے مشبہ بہٖ کی طرف منتقل نہیں ہوتا کیونکہ بادی الرائے میں وجہِ شبہ کیا ہے ظاہر نہیں ہوتی۔ وجہِ شبہ کیوں نہیں ظاہر ہوتی بادی الرائے میں؟ کہتے ہیں اس لیے یا تو اس کے اندر تفصیل زیادہ ہوتی ہے۔ یا مولانا وہ نادر الحضور ہوتا ہے، ذہن میں بہت کم آتا ہے یا تو مطلقاً، یا کس کے ساتھ؟ مشبہ کے ساتھ کم آتا ہے ذہن میں بھئی۔ مطلقاً کیوں کم آتا ہے ذہن میں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یا تو وہ وہمی ہے، یا کیا ہے؟ خیالی ہے، یا عقلی ہے بھئی عقلی ہے، حقیقت میں۔ یا قلتِ تکـ یا اس کا حس پر گزر بہت کم ہوتا ہے، جیسے: وَالشَّمْسُ كَالْمِرْآةِ فِي كَفِّ الْأَشَلِّ بھئی۔ یہاں سورج کو تشبیہ دی آئینے کے ساتھ بھئی، اور یہاں پر دیکھیے قلـ حس پر اس کا گزر بہت کم ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں بعض اوقات ساری عمر گزر جاتی ہے اور انسان اس حالت کو نہیں دیکھ پاتا۔ اور تفصیل کا بتلایا تھا انہوں نے بھئی کہ تفصیل یہ ہے کہ ایک وصف سے زیادہ کے اندر غور و فکر کیا جائے، اس میں نظر کی جائے بھئی۔ جی، اور پھر یا تو سارے اوصاف یہاں تقسیم کر رہے ہیں تفصیل کے اعتبار سے، سارے اوصاف کیا ہوں گے؟ مثبت ہوں گے، یا سارے کیا ہوں گے؟ سارے وجودی ہوں گے یا سارے عدمی ہوں گے، بعض وجودی ہوں گے اور بعض عدمی ہوں گے۔ اور ان میں کہتے ہیں سب سے مشہور وہ ہے کہ جس میں بعض وجودی ہوں اور بعض عدمی ہوں، یا سارے کے سارے کیا ہوں؟ وجودی ہوں۔ ہاں، سارے عدمی ہوں اس کا انہوں نے، وہ مشہور نہیں اس کو ذکر بھی نہیں کیا انہوں نے بھئی۔ اور انہوں نے یہ بھی بتلایا آپ کو بھئی کہ اس نوع میں سے زیادہ بلیغ تشبیہ کون سی ہوگی ان دونوں میں سے؟ بعید غریب، اس لیے کہ اس کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا تو آپ کو غور و فکر کرنا پڑے گا اور کوئی چیز طلب کے بعد حاصل ہو تو وہ زیادہ لذیذ ہوتی ہے بھئی۔ اور کبھی کبھار کہتے ہیں تشبیہ قریب کے اندر بھئی، اس کے اندر کچھ تبدیلی کر دی جاتی ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے وہ کیا بن جاتی ہے؟ غریب، بعید غریب بن جاتی ہے۔ جیسے مثال ذکر کی تھی: لَمْ تَلْقَهَا هَذَا الْوَجْهَ شَمْسُ نَهَارِنَا، إِلَّا بِوَجْهٍ لَيْسَ فِيهِ حَيَاءُ، تو یہاں وجہ کو تشبیہ دی ہے سورج کے ساتھ اور یہ تشبیہ عام ہے، لیکن یہاں پر انہوں نے کیا کس چیز کا اضافہ کر دیا درمیان میں؟ ایسے چہرے کے ساتھ سورج نے ملاقات کی ہے جس کے اندر حیا نہیں ہے۔ تو یہ ایک معنی بڑھا دیا جس کی وجہ سے یہ غریب بن گئی بھئی۔ اسی طرح جیسے اس کے عظما عظاماتہ مثل النجوم سواقبا، اس کے بلند عزم کس کی طرح ہیں؟ ستارہ چمکدار ستاروں کی طرح ہیں، لیکن اگر ستاروں کے لیے غروب ہونا نہ ہوتا تو پھر تشبیہ تام ہوتی بھئی، تو دیکھیے اگر غروب ہونا نہ ہوتا اس سے معنی اس کے بڑھا دینے سے تشبیہ کے اندر کیا آ گئی؟ غرابت آ گئی، اور یہ تشبیہ جس کے اندر تصرف کر، یہ تشبیہ قریب جس کے اندر تصرف کر کے اس کو کیا بنا دیا جاتا ہے؟ غریب بعید بنا دیا جاتا ہے، اس تشبیہ کو تشبیہ مشروط کہتے ہیں بھئی۔ کیونکہ یہاں شرط لگا دی جاتی ہے کسی چیز کے وجود کی یا عدم کی بھئی۔ وَبِاعْتِبَارِ أَيْ وَالتَّشْبِيهُ بِاعْتِبَارِ أَدَاتِهِ إِمَّا مُؤَكَّدٌ، تشبیہ جو ہے ادات کے اعتبار سے بھئی۔ بھئی یہاں تقسیمِ تشبیہ کر رہے تھے بھئی، سب سے پہلے طرفین کے اعتبار سے قسمیں بتائیں، پھر وجہِ شبہ کے اعتبار سے تقسیم قسمیں بتائیں، اب آپ کو کس کے اعتبار سے بتلا رہے ہیں؟ اداتِ تشبیہ کے اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ تو دو قسم پر ہے: ادات ذکر ہوں گے یا حذف ہوں گے۔ اگر ذکر ہیں تو اس کو کہتے ہیں مرسل، اگر ذکر نہیں حذف ہیں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مؤکد۔ زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، یہ تشبیہِ مرسل ہے کیونکہ اداتِ تشبیہ کیا ہے؟ ذکر ہے۔ اور زَيْدٌ أَسَدٌ، یہ کون سی ہے؟ مؤکد ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جس کے اندر حرفِ تشبیہ کو حذف کر دیں اس کو تشبیہِ مؤکد کہتے ہیں۔ اس کے اندر تاکید آ گئی۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں آپ نے یہ نہیں کہا زید شیر جیسا ہے، آپ نے کیا کہا زید شیر ہے۔ تو شیر کا حمل کیا زید پر، اور حمل چاہتا ہے اتحاد کو۔ معلوم ہوا یہ زید اور شیر کیا ہیں؟ متحد ہیں، ان میں اشتراک فی الوصف نہیں ہے بلکہ دونوں متحد ہیں تو اس سے تاکید آ گئی بھئی۔ وَالتَّشْبِيهُ بِاعْتِبَارِ أَدَاتِهِ إِمَّا مُؤَكَّدٌ، یا تو مؤکد ہوگی، وَهُوَ مَا حُذِفَتْ أَدَاتُهُ وہ تشبیہ ہے جس کے اندر اداتِ تشبیہ کو حذف کر دیا جائے، جیسے اللہ کے اس قول کے اندر ہے: وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ، یہ پہاڑ جو ہیں چلیں گے بھئی قیامت کے دن مر السحاب، کس کی طرح؟ بادل کی طرح بھئی چلیں گے۔ تو یہ نہیں فرمایا اللہ نے وَهِيَ تَمُرُّ كَمَرِّ السَّحَابِ، بادل کی طرح جیسے، یا یہ بھی نہیں وَهِيَ تَمُرُّ مِثْلَ مَرِّ السَّحَابِ، أَيْ مِثْلَ مَرِّ السَّحَابِ تو دیکھو وجہ اداتِ تشبیہ حذف ہے بھئی۔ وَمِنْهُ، اور اسی میں سے مؤکد میں سے، مَا أُضِيفَ الْمُشَبَّهُ بِهِ إِلَى الْمُشَبَّهِ کہ مشبہ بہٖ کی اضافت کر دی جائے کس کی طرف؟ مشبہ کی طرف، بَعْدَ حَذْفِ الْأَدَاةِ ادات کو حذف کرنے کے بعد، یہ بھی مؤکد کی ایک قسم ہے۔ جیسے:
وَالرِّيحُ تَعْبَثُ بِالْغُصُونِ أَيْ تُمِيلُهَا إِلَى الْأَطْرَافِ وَالْجَوَانِبِ وَقَدْ جَرَى ذَهَبُ الْأَصِيلِ عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ۔
جی، ہوا جو ہے وہ کھیلتی ہے بھئی بالغصون، کس کے ساتھ؟ شاخوں کے ساتھ۔ کھیلتی ہے شاخوں کے ساتھ کیا معنی؟ أَيْ تُمِيلُهَا إِلَى الْأَطْرَافِ وَالْجَوَانِبِ ان کو اطراف اور جوانب کی طرف کیا کرتی ہے؟ مائل کرتی ہے، ادھر ادھر ان کو ٹیڑھا کرتی ہے جھکاتی ہے بھئی۔ اور وَقَدْ جَرَى، جریٰ کا معنی یہاں ظاہر ہونے کے ہیں، اس حال میں کہ تحقیق ظاہر ہو گیا ہے ذَهَبُ الْأَصِيلِ شام کے وقت کا سونا، شام کے وقت کا سونا ظاہر ہو گیا ہے پانی کی، عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ پانی کی چاندی پر، لجین کہتے ہیں چاندی کو بھئی۔ ہوا کھیلتی ہے شاخوں کے ساتھ اس حال میں کہ تحقیق ظاہر ہو گیا ہے شام کا سونا پانی کی چاندی پر۔ وَالْوَقْتُ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ، یہ اصیل جو ہے مولانا عصر کے بعد سے لے کر مغرب تک کا وقت ہے۔ يُعَدُّ مِنَ الْأَوْقَاتِ الطَّيِّبَةِ اس کو شمار کیا جاتا ہے اچھے اوقات میں سے بڑے پاکیزہ اوقات میں سے، كَالسَّحَرِ جیسے کہ صبح کا وقت ہے مولانا، یہ وقت بڑا اچھا شمار ہوتا ہے مولانا کیونکہ اس وقت نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے اور نہ زیادہ سردی، موسم معتدل ہوتا ہے۔ وَيُوصَفُ بِالصُّفْرَةِ، اور اس کی اس کا وصف بیان کیا جاتا ہے زردی کے ساتھ بھئی، اس رنگ میں اس وقت کیا ہوتی ہے؟ زرد رنگ ہوتا ہے بھئی، سورج کی تپش کم ہو جاتی ہے غروب ہونے لگتا ہے تو اس میں کیا آ جاتی ہے کچھ سرخی آ جاتی ہے۔ بھئی دلیل کیا ہے اس کو زردی کے ساتھ اس وقت کو موصوف کیا جاتا ہے؟ تو ایک شعر ذکر کر رہے ہیں علامہ تفتازانی جس میں یہ اس رنگ کو موصوف اس وقت کو موصوف کیا گیا ہے کس کے ساتھ؟ زرد رنگ کے ساتھ۔ كَقَوْلِهِ جیسے یہ قول ہے شاعر کا شعر:
وَرُبَّ نَهَارٍ لِلْفِرَاقِ أَصِيلُهُ وَوَجْهِي كِلَا لَوْنَيْهِمَا مُتَنَاسِبُ۔
اور بہت سے دن جدائی والے، فراق کے بہت سے دن بھئی جن کے اندر میں اپنے محبوب سے دور رہا، جدا رہا، ان جدائی اس جدائی کی وجہ سے اور اس غم کے اندر میرا رنگ زرد ہو گیا، میرا رنگ کیا ہوا؟ زرد ہو گیا، اتنے مصائب آئے مجھ پر اور تو میرا رنگ اور عصر کا رنگ دونوں ایک جیسے ہو گئے، میرا رنگ اور عصر کا رنگ دونوں کیا ہو گئے؟ ایک جیسے ہو گئے۔ تو دیکھو یہاں پر شاعر نے کیا کیا بھئی؟ عصر کے رنگ کے لیے کون سا عصر کا کون سا رنگ بیان کیا؟ زرد رنگ بھئی۔ أَصِيلُهُ اس کے ان دنوں کے جو عصر ہے، وَوَجْهِي اور میرا چہرہ جو ہیں، كِلَا لَوْنَيْهِمَا دونوں کے رنگ جو ہیں، مُتَنَاسِبُ کیا ہو گئے؟ ایک دوسرے جیسے ہو گئے، مماثل ہو گئے۔ فَذَهَبُ الْأَصِيلِ صُفْرَتُهُ پس شام کا سونا جو ہے اس کی وہ زردی ہے، وَشُعَاعُ الشَّمْسِ فِيهِ اور اس کے اندر سورج کی وہ شعاعیں ہیں بھئی جو زرد رنگ کی ہو جاتی ہیں، عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ پانی کی چاندی پر، أَيْ مَاءٍ كَاللُّجَيْنِ وہ پانی جو کس کی طرح ہے؟ یہ ہے مقامِ استشہاد مولانا، یہاں پر انہوں نے تشبیہِ مؤکد کی مثال ذکر کی کہ مشبہ کی اضافت ہے کس کی طـ مشبہ بہٖ کی اضافت ہے کس کی طرف؟ مشبہ کی، اصل میں تھا الماء کاللجین، پانی کس کی طرح ہے؟ چاندی کی طرح بھئی، تو ماء مشبہ اور اللجین مشبہ بہٖ، پھر آپ نے حرفِ تشبیہ کو حذف کیا اور مشبہ بہٖ کو اٹھا کر مضاف بنا دیا بھئی، تو مشبہ بہٖ مضاف اور مشبہ مضاف الیہ۔ تو یہ بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے مولانا جیسے وہ ورد قطیفہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، عبارتوں میں لکھا ہوگا بھئی یہ کس قبیل سے ہے؟ لجین الماء کے قبیل سے ہے، بس تفصیل نہیں بتاتے آگے چل پڑتے ہیں، آپ خود سمجھ جائیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مشبہ بہٖ کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ مشبہ کی طرف۔ أَيِ الْفِضَّةِ فِي الصَّفَاءِ وَالْبَيَاضِ پانی چاندی کی طرح ہے، کاللجین کی طرح ہے، یعنی چاندی کی طرح صفائی میں اور سفیدی میں۔ فَهَذَا تَشْبِيهٌ مُؤَكَّدٌ یہ تشبیہ کیا ہے؟ تشبیہِ مؤکد ہے مولانا۔ وَمِنَ النَّاسِ یہاں سے علامہ تفتازانی رد کریں گے بھئی علامہ خلخالی اور علامہ زوزنی کا بھئی جو شارحین ہیں اسی کتاب کس کے؟ تلخیص کے شارحین ہیں بھئی۔ اعتراض یہ کریں گے کہ دونوں نے اس شعر کے اندر لفظوں کے معنی صحیح نہیں کیے بھئی۔ کس طرح؟ علامہ خلخالی جو ہیں انہوں نے لجین کو لجین پڑھا بھئی، کیا پڑھا؟ لجین پڑھا بھئی۔ اور علامہ زوزنی جو ہیں انہوں نے اصیل سے شام کا وقت نہیں مراد لیا بلکہ کیا مراد لیا اس سے؟ درخت مراد لیے، ایسے درخت جن کی جڑیں ہوں بھئی، ایسے درخت جن کی جڑیں ہوں یعنی درخت مراد لیے اس سے بھئی۔ تو علامہ خلخالی نے کیا کیا؟ لجین کا معنی تو تھا چاندی اور لجین کا معنی وہ پتے جو درختوں سے خشک ہو کر گرتے ہیں بھئی، وہ بھی کس قسم کے ہوتے ہیں؟ وہ زرد رنگ کے ہوتے ہیں بھئی، خشک ہو جاتے ہیں۔ تو وہاں انہوں نے علامہ ان دو تو معنی کے اندر ان پر اعتراض ہے کہ انہوں نے معنی صحیح نہیں کیا بھئی۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ لُجَيْنِ الْكَلَامِ وَلَجِينِهِ اور لوگوں میں سے ہیں بعض جنہوں نے تمیز نہیں کی لجین الکلام کے اندر اور لجینہٖ، لجین الکلام، لجین سے کیا مراد ہے؟ لجین الکلام کا حسین کلام بھئی، اور لجینہٖ اور قبیح کلام، انہوں نے حسین کلام اور قبیح کلام کے اندر فرق نہیں کیا بھئی۔ وَلَمْ يَعْرِفْ جی، وَلَمْ يَعْرِفْ هِجَانَهُ مِنْ هَجِينِهِ اور انہوں نے جانا نہیں کس کو؟ ہجان کہتے ہیں عمدہ اور خالص، ہجین کس کو کہتے ہیں؟ ردی کو بھئی۔ تو لجین کہتے ہیں کس کو مولانا؟ چاندی کو، لجین کس کو کہتے ہیں؟ وہ پتے جو خشک ہو کر درختوں سے گر جائیں۔ تو کہتے ہیں لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے فرق نہیں کیا اس کلام کے اندر جو چاندی جیسا ہے اور لجینہٖ اور اس کلام کی طرح جو اس کلام میں جو کس کی طرح ہے؟ گرے ہوئے خشک پتوں کی طرح یعنی ردی ہے، یعنی کیا ہے؟ تو لوگوں نے حسین کلام اور قبیح کلام میں فرق نہیں کیا اور انہوں نے نہیں پہچانا پہچانا ہجان کو، وہ کلام جو کیا تھا عمدہ اور خالص تھا اس کو اس کلام کے مقابلے میں جو کیا تھا؟ ردی تھا، یہ من مقابلے کے لیے آتا ہے مولانا دو چیزوں کے اندر بھئی۔ حَتَّى ذَهَبَ بَعْضُهُمْ یہاں تک کہ ذہاب کیا بعض نے ان میں سے، إِلَى اس بات کی طرف، أَنَّ اللَّجِـ أَنَّ اللَّجِينَ إِنَّمَا هُوَ بِفَتْحِ اللَّامِ کہ یہ لجین ہے بھئی لجین نہیں، فتحِ لام کے ساتھ ہے اور کسرِ جیم کے کسر جیم کے کسرے کے ساتھ ہے، يَعْنِي الْوَرَقَ الَّذِي يَسْقُطُ مِنَ الشَّجَرِ یعنی وہ پتے جو درختوں سے گرے ہوں، وَقَدْ شُبِّهَ بِهِ وَجْهُ الْمَاءِ اور تحقیق اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کس کو؟ پانی کی پانی کی سطح، پانی کے چہرے کو اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے بھئی۔ تو تشبیہ انہوں نے صحیح بیان کی کہ لجین الماء کیا ہے؟ لجین الماء، لجین مشبہ بہٖ ہے وہ پتے اور پانی کیا ہے؟ مشبہ، اور یہی بات بھی یہی ذکر کر رہے ہیں مصنف بھی یہی بتلانا چاہتے تھے کہ لجین مشبہ بہٖ ہے اور ماء کیا ہے مشبہ۔ البتہ لجین کا جو انہوں نے معنی کیا کہ اس کا معنی گرے ہوئے پتے، معلوم ہوا پانی کا رنگ کیسا ہے؟ گرے ہوئے زرد پتوں کی طرح ہے، پانی کا رنگ کیسا ہے؟ کہتے ہیں اور اس کا فساد ظاہر ہے کسی پر مخفی نہیں کہ تشبیہ بنتی ہی نہیں، پانی کا رنگ ایسا ہوگا بھئی؟ جی، یہ تشبیہ آگے خود رد کریں گے بھئی۔ وَبَعْضُهُمْ اور بعض جو ہیں یعنی علامہ زوزنی اس بات کی طرف گئے کہ أَنَّ الْأَصِيلَ اصیل جو ہے هُوَ الشَّجَرُ الَّذِي لَهُ أَصْلٌ وہ درخت ہے جس کی اصل جڑ ہو مولانا، وَعِرْقٌ یہ عطفِ تفسیری ہے، وَذَهَبُهُ ور وذہبہ، وَرَقُهُ الَّذِي اور اس کا سونا جو ہے، کیا کہا تھا اصیل کا سونا، اصیل کا سونا، تو یہ درختوں کا سونا کیا معنی بھئی؟ کہتے ہیں وہ جو سونا ہے اس کا ورقہ وہ پتے ہیں الَّذِي اصْفَرَّ جو زرد ہو گئے ہیں بِبَرْدِ الْخَرِيفِ خزاں کی ٹھنڈ کی وجہ سے، بھئی خزاں کے اندر پتے کیا ہوتے ہیں؟ خشک ہو جاتے ہیں، تو اس کے وہ جو خشک پتے ہیں درختوں پر لگے ہوئے وہ ان کا سونا ہیں بھئی۔ وَسَقَطَ مِنْهُ عَلَى وَجْهِ الْمَاءِ اور اس میں سے کیا ہے؟ گر گئے ہیں پانی کی سطح پر بھئی پانی کی سطح پر۔ تو انہوں نے اصیـ لجین کا تو معنی صحیح کیا لیکن اصیل کا معنی صحیح نہیں کیا بھئی۔ تو وہ جو درختوں کے زرد پتے ہیں وہ گر گئے ہیں کس پر؟ اس پانی پر جو کس کی طرح ہے؟ چاندی پر ہے، اور یہ بھی درست نہیں مولانا۔ یہ بھی درست نہیں، اس لیے کہ یہاں پر کیا وفساد، دیکھیے: وَفَسَادُ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ غَنِيٌّ عَنِ الْبَيَانِ، اور دونوں وجہوں کا فساد کیا ہے؟ بیان سے بے پروا ہے، بیان کرنے کی ضرورت نہیں مولانا، دونوں وجہیں ظاہراً فاسد ہیں مولانا۔ اول میں تو میں نے آپ کو وجہ بتلا دی کہ پانی کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ زرد پتوں کے ساتھ، اور یہ تشبیہ صحیح نہیں ہے بھئی۔ نیز انہوں نے کیا کہا؟ اصیل کا کیا ترجمہ کیا؟ وہ درخت جس کی جڑیں ہیں، وہ درخت جس کی جڑیں ہیں اس کے اوپر جو پتے ہیں ان کو سونا قرار دیا، بھئی جڑوں والے درخت کے ساتھ اس کی تخصیص تو نہیں، جو بھی جس پودے کا پتہ بھی خشک ہوگا کیسا ہو جائے گا وہ؟ زرد ہی ہو جائے گا، نیز مولانا دوسری خرابی یہ کہ کسی اور جگہ ہمیں یہ بات نہیں ملتی کہ درخت پر اصیل کا اطلاق کیا گیا ہو، درخت پر اصیل کا اطلاق صحیح نہیں ہے مولانا، اور نیز یہ خشک پتوں کو بھی اصیل کے ساتھ خاص کرنا صحیح نہیں بھئی، لہٰذا یہ غلط ہے۔ أَوْ مُرْ جبکہ علامہ تفتازانی تشریح کی جو معنی بیان کیا ان میں بڑی مناسبت موجود مولانا، کہ ذہب مراد لیا اور دوسرے اس سے کیا مراد دیا بھئی؟ لجین چاندی بھئی، سونا اور چاندی ان دونوں میں مناسبت ہے اور اصیل عام معروف معنی ہے اس کا عصر کے بعد کا وقت بھئی۔ أَوْ مُرْسَلٌ عطف ہے إِمَّا مُؤَكَّدٌ پر، عَلَى إِمَّا مُؤَكَّدٌ، اس کا عطف مولانا اما مؤکد پر ہو رہا ہے، وَهُوَ بِخِلَافِهِ اور جو اس کے خلاف ہو مولانا۔ مؤکد میں کیا تھا؟ وجہ تشبیہ حرفِ تشبیہ محذوف تھا اور اس میں ذکر ہوگا۔ أَيْ مَا ذُكِرَ أَدَاتُهُ فَصَارَ مُرْسَلًا مِنَ التَّأْكِيدِ تو جس کے کیا کیا جائے؟ اداتِ تشبیہ کو ذکر کر دیا جائے تو وہ کیا بن جائے گا؟ مرسل، أَيْ خَالِيًا مِنَ التَّأْكِيدِ خالی ہو جائے گا کس سے؟ تاکید سے، جو وہ تاکید جو مستفاد ہو رہی تھی جس کا فائدہ ہو رہا تھا من حذف الاداة کس سے؟ ادات کے ادات کے حذف ہونے جس تاکید کا فائدہ ہو رہا تھا، تو اس کو ذکر کرنے سے اب یہ خالی ہو گئی اس تاکید سے۔ تو حذفِ ادات جو تھا اَلْمُشْعِرِ جو خبر دے رہا تھا بِحَسَبِ الظَّاهِرِ ظاہر کے اعتبار سے، بِأَنَّ الْمُشَبَّهَ عَيْنُ الْمُشَبَّهِ بِهِ کہ مشبہ کیا ہے؟ عینِ مشبہ بہٖ ہے۔ بھئی آپ نے کیا کہا: زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، اور ایک ہے زَيْدٌ أَسَدٌ، آپ نے کہا زید شیر ہے، تو حرفِ تشبیہ کو جب حذف کیا تو اس نے کس چیز کا فائدہ دیا کہ دونوں آپس میں متحد ہیں بھئی۔ تو حذفِ ادات جو ہے وہ بظاہر یہ خبر دے رہا تھا کہ مشبہ جو ہے عینِ مشبہ بہٖ ہے کما مر جیسا کہ گزرا من الامثلة المذکورة فیہا ادات التشبیہ، ان مثالوں میں جن کے اندر کیا تھا؟ اداتِ تشبیہ، اداتِ تشبیہ جن میں مذکور تھا وہ ساری مرسل کی مثالیں ہیں۔ وَالتَّشْبِيهُ بِاعْتِبَارِ الْغَرَضِ إِمَّا مَقْبُولٌ وَهُوَ الْوَافِي بِإِفَادَتِهِ، اور تشبیہ مولانا غرض کے اعتبار سے، اب غرض کے اعتبار سے تشبیہ بھئی، طرفین کے اعتبار سے بھی تقسیم ہوئی اور وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے بھی ہوئی اور اداتِ تشبیہ کے اعتبار سے اب غرض کے اعتبار سے، وَالتَّشْبِيهُ بِاعْتِبَارِ الْغَرَضِ إِمَّا مَقْبُولٌ یا تو مقبول ہوگی مولانا، مقبول کون سی ہے؟ وَهُوَ الْوَافِي بِإِفَادَتِهِ أَيْ إِفَادَةِ الْغَرَضِ وہ ہے مولانا جو پوری ہو غرض کا فائدہ دینے میں، جس سے جس غرض کے لیے آپ نے تشبیہ دی ہے وہ اس غرض کا پوری طرح وہ تشبیہ فائدہ دے تو کیا کہلائے گی؟ مقبول، اور اگر فائدہ نہ دے تو مردود کہلائے گی۔ كَأَنْ يَكُونَ الْمُشَبَّهُ بِهِ أَعْرَفَ شَيْءٍ بِوَجْهِ الشَّبَهِ فی فی بِوَجْهِ الشَّبَهِ فِي بَيَانِ الْحَالِ، جیسے کہ مشبہ بہٖ وہ سب سے زیادہ معروف چیز ہو مولانا، کس کے؟ وجہِ شبہ کے اعتبار سے، فِي بَيَانِ الْحَالِ کس کے اندر؟ بیانِ حال میں۔ بھئی دیکھیے آپ بتلانا چاہتے تھے، آپ کپڑا لے کر آئے، آپ کے ساتھی نے آپ سے پوچھا کس رنگ کا کپڑا لائے ہو؟ آپ نے کیا کہا: كَثَوْبِكَ، جیسے کہ آپ کا کپڑا ہے مولانا۔ تو دیکھیے مشبہ بہٖ اس کو معلوم ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ معلوم ہونا چاہیے، اگر اس کو علم ہی نہیں ہے بھئی اس کا دوسرے کپڑے کے رنگ کا تو تشبیہ فائدہ دے گی؟ نہیں دے گی۔ تو بیانِ حال کے وقت مولانا، أَوْ كَأَنْ يَكُونَ الْمُشَبَّهُ بِهِ أَتَمَّ شَيْءٍ فِيهِ أَيْ فِي وَجْهِ تَشْبِيهِهِ یا جیسے کہ مشبہ جو ہے وہ زیادہ تام ہو کس کے اندر؟ وجہ جب فی الحاق الناقص بالکامل، جب کہ آپ الحاق کر رہے ہوں ناقص کا کس کے ساتھ؟ کامل کے ساتھ۔ جیسے مولانا، آپ نے کہا ساتھی کو بھئی میں بازار سے کالے رنگ کا کپڑا لایا ہوں، اس نے کہا کتنا کالا ہے؟ آپ نے مقدار بتلائی: كَالْغُرَابِ، کس کی طرح ہے؟ تو دیکھا کوے کا زیادہ تام ہونا کالے رنگ میں ضروری ہے، پھر تشبیہ فائدہ دے گی ورنہ فائدہ نہیں دے گی۔ تو مشبہ بہٖ کا اتم شے ہونا ضروری ہے کہ فی جب آپ الحاق کر رہے ہوں ناقص کا کامل کے ساتھ، أَوْ كَأَنْ يَكُونَ الْمُشَبَّهُ بِهِ مُسَلَّمَ الْحُكْمِ فِيهِ فِي وَجْهِ التَّشْبِيهِ یا مولانا، مشبہ بہٖ کیا ہو؟ مسلم الحکم ہو۔ بھئی آپ مشبہ کا امکان بتلانا چاہتے ہیں، وہ جو شعر گزرا تھا بھئی، کیا؟ کہ اے میرے ممدوح تو ساری مخلوق سے بلند ہے اور اعلیٰ ہے، گویا کہ تو ان سے الگ جنس ہی ہے، اگرچہ تو ہے انسان لیکن ان سے الگ جنس ہے، تو یہ بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ انسان ہے الگ جنس تو نہیں ہو سکتا بھئی، انسان بھی ہو اور سب انسانوں سے الگ بھی ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو شاعر نے اس کی مثال ذکر کی تھی کہ جیسے مشک کیا ہوتا ہے؟ وہ ہرن کا خون ہوتا ہے لیکن باقی خون سے کیا ہوتا ہے وہ؟ الگ، جدا اور ممتاز ہوتا ہے، اس کو الگ جنس شمار کیا جاتا ہے۔ تو دیکھو اب مشک کا ممدوح کا اعلیٰ ہونا اس کا امکان بتلایا شاعر نے کس کے ذریعے سے؟ مشک کے واسطے سے، کہ جیسے مشک ہے اسی طرح الگ شمار ہوتی ہے یہ ممدوح بھی کیا شمار ہو سکتا ہے؟ الگ شمار ہو سکتا ہے۔ تو دیکھو مشک کا الگ شمار ہونا یہ مسلم ہے یا مسلم نہیں مولانا؟ مسلم ہے۔ یا تو یا مشبہ جو ہے مسلم الحکم ہو فیہ ای فی وجہ تشبیہہ، مَعْرُوفَهُ یہ عطف ہے مسلم پر، اور ہ ضمیر راجع ہے حکم کو، اور اس کا حکم معروف ہو عند المخاطب، کس کے نزدیک؟ مخاطب کے نزدیک، فی بیان الامکان، یہ کس میں ہوگا؟ بیانِ امکان کے اندر اس طرح کہ وہ مسلم الحکم اور معروف الحکم ہونا چاہیے۔ أَوْ مَرْدُودٌ یا تشبیہ کیا ہوگی؟ مردود ہوگی، عطف علی مقبول، وَهُوَ بِخِلَافِهِ وہ اس کے خلاف ہے، أَيْ مَا يَكُونُ قَاصِرًا عَنْ إِفَادَةِ الْغَرَضِ وہ تشبیہ ہے جو مولانا کا کافی نہ ہو کس کے اندر؟ افادہ غرض کا پوری طرح فائدہ نہ دے، بِأَنْ لَا يَكُونَ عَلَى شَرْطِ الْمَقْبُولِ بایں صورت مولانا کہ وہ مقبول کی شرط پر نہ ہو، كَمَا سَبَقَ جیسے گزر گئی۔ جیسے وہ شعر گزرا تھا مولانا اور شاعر نے کہا تھا، کون سا شعر تھا بھئی؟
كَمَا أَبْرَقَتْ قَوْمًا عِطَاشًا غَمَامَةٌ، فَلَمَّا رَأَوْهَا اقْشَعَّتْ وَتَجَلَّتْ بھئی۔
اقشعت و تجلت، جـ کہ وہ ایک ہی مصرعے سے وجہِ تشبیہ کا انتزاع کیا تھا بھئی۔ جیسے مولانا کیا تھا؟ كَمَا أَبْرَقَتْ قَوْمًا عِطَاشًا غَمَامَةٌ بھئی، یہ کہاں گزرا تھا بھئی؟ جی، 336 صفحے پر دیکھیں بھئی۔ یہاں كَمَا أَبْرَقَتْ قَوْمًا عِطَاشًا بھئی، جیسے ظاہر ہوتا ہے ایسی قوم پر جو پیاسی ہو غمامۃ کوئی بادل، فَلَمَّا رَأَوْهَا جب وہ اس کو دیکھتے ہیں، اقْشَعَّتْ وَتَجَلَّتْ بھئی وہ بادل بکھر جاتے ہیں اور منتشر ہو جاتے ہیں بھئی۔ تو یہاں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ابتدائے مطمع اور انتہائے مایوس، ابتدائے مطمع ملی ہوئی ہے کس کے ساتھ؟ انتہائے، ابتدا جو ہے وہ بڑی امید افزا ہے اور انتہا بڑی مایوس کن ہو بھئی۔ تو یہاں پر انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایک ہی مصرعے سے وجہِ تشبیہ کا کیا کیا جائے؟ انتزاع کیا جائے تو صحیح نہیں۔ تو یہ مردود ہوگی اگر ایک ہی مصرعے سے وجہِ تشبیہ کا انتزاع کیا جائے بھئی، کیونکہ پوری غرض کا پورا فائدہ نہیں دے گی۔ خَاتِمَةٌ یہ خاتمہ ہے مولانا، کس کا؟ تشبیہ کے باب کا بھئی، تشبیہ کی فصل کا۔
فِي تَقْسِيمِ التَّشْبِيهِ بِحَسَبِ الْقُوَّةِ وَالضَّعْفِ فِي الْمُبَالَغَةِ بِاعْتِبَارِ ذِكْرِ الْأَرْكَانِ وَتَرْكِهَا، یہاں تقسیم کریں گے تشبیہ کے مراتب بتلائیں گے مولانا، قوت اور ضعف کے اعتبار سے کہ کون سی تشبیہ اعلیٰ ہے، کون سی متوسط ہے، اور کون سی ادنیٰ ہے بھئی۔ وہ مبالغے میں قوت اور ضعف کے اعتبار سے، بِاعْتِبَارِ ذِكْرِ الْأَرْكَانِ کس اعتبار سے؟ کہ ارکان کو ذکر کیا جائے یا ترک کیا جائے۔ یاد رکھو مولانا، ارکانِ تشبیہ کتنے ہیں؟ چار۔ مشبہ، مشبہ بہٖ، حرفِ تشبیہ اور وجہِ تشبیہ بھئی۔
زَيْدٌ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ، اس میں چاروں ذکر ہیں۔
اور ایک ہے مولانا، اس میں کاف کو حذف کرتا ہوں میں، زَيْدٌ أَسَدٌ فِي الشَّجَاعَةِ۔
ایک صورت یہ کہ میں صرف وجہِ تشبیہ کو حذف کرتا ہوں، زَيْدٌ كَالْأَسَدِ۔
ایک صورت یہ میں دونوں کو حذف کرتا ہوں، زَيْدٌ أَسَدٌ۔
ایک یہ ہے کہ میں مشبہ کو بھی حذف کر لیتا ہوں، أَسَدٌ۔ تو کہتے ہیں جوں جوں آپ حذف بڑھاتے جائیں گے، تشبیہ کے اندر قوت آتی جائے گی بھئی، اور جوں جوں آپ ارکان سارے ذکر بڑھاتے چلے جائیں گے پورے کریں گے، اس کے اندر کیا آتا جائے گا؟ ضعف آتا جائے گا بھئی، ضعف آتا جائے گا۔ تو سب سے کمزور تشبیہ وہ ہے جس کے اندر چاروں ارکان ذکر ہوں، چاروں ارکان، اور سب سے قوی وہ ہے جس کے اندر حرفِ تشبیہ بھی حذف اور وجہِ تشبیہ بھی حذف ہو گئی، سب سے قوی وہ ہے۔ دیکھیے بھئی:
قَدْ سَبَقَ یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ بھئی، أَنَّ الْأَرْكَانَ أَرْبَعَةٌ ارکانِ تشبیہ چار ہیں، وَالْمُشَبَّهُ بِهِ مَذْكُورٌ قَطْعًا، اور مشبہ ہـ مشبہ بہٖ کو حذف نہیں کیا جا سکتا مولانا تشبیہ کے اندر، قطعی طور پر وہ کیا ہوگا؟ مذکور ہوگا۔ اس لیے کیونکہ وہ مقیس علیہ ہے مولانا، اسی پر قیاس کر کے آپ نے کس کا حکم بتلانا ہے؟ مشبہ کا حکم بتلانا ہے، تو اگر اسی کو حذف کر دیں تو پھر حکم کا بتلانا ممکن نہیں رہے گا۔ مشبہ بہٖ مذکور ہوگا قطعی طور پر۔ اب دیکھیے تقسیم کر رہے ہیں بھئی توجہ سے، فَالْمُشَبَّهُ إِمَّا مَذْكُورٌ أَوْ مَحْذُوفٌ، بھئی مشبہ بہٖ تو مذکور ہے ایک بات طے ہو گئی، اب کہتے ہیں مشبہ جو ہے وہ مذکور ہوگا یا کتنی قسمیں ہوئیں؟ دو۔ وَعَلَى التَّقْدِيرَيْنِ دونوں صورتوں میں، فَوَجْهُ الشَّبَهِ إِمَّا مَذْكُورٌ أَوْ مَحْذُوفٌ، وجہِ تشبیہ مذکور ہوگی یا کتنی کی صورتیں ہو گئیں بھئی؟ چار ہو گئیں۔ وَعَلَى التَّقَادِيرِ اور پھر ان چاروں صورتوں میں، فَالْأَدَاةُ إِمَّا مَذْكُورَةٌ أَوْ مَحْذُوفَةٌ، اداتِ تشبیہ مذکور ہوں گے یا تو کتنے قسمیں ہوئیں؟ آٹھ قسمیں ہو گئیں بھئی۔ تَصِيرُ ثَمَانِيَةً تو قسمیں کتنی بن گئیں؟ آٹھ۔ وَأَعْلَى مَرَاتِبِ التَّشْبِيهِ فِي قُوَّةِ الْمُبَالَغَةِ اور اعلیٰ درجہ مولانا تشبیہ کا قوتِ مبالغہ کے اندر، إِذَا كَانَ اخْتِلَافُ الْمَرَاتِبِ وَتَعَدُّدُهَا بِاعْتِبَارِ ذِكْرِ أَرْكَانِهِ كُلِّهَا أَوْ بَعْضِهَا، جب اختلاف کس کا ہو؟ مراتب اور جب کہ اختلاف ہو مراتب کا اور ان کے ان میں تعدد آئے مولانا، تو بِاعْتِبَارِ ذِكْرِ أَرْكَانِهِ یہ کس اعتبار سے ہوگا؟ ارکان کے ذکر کرنے کے اعتبار سے ہوگا، كُلِّهَا أَوْ بَعْضِهَا سب کے سب کو یا بعض کو، سب بھئی اغـ اکثر کو حذف کر دیں تو اعلیٰ درجہ، اور کسی کو بھی حذف نہ کریں تو ادنیٰ درجہ، تو تشبیہ کے مراتب ہیں مبالغے کے اعتبار سے وہ ارکان کے اعتبار سے۔ أَيْ بَعْضِ الْأَرْكَانِ، ہا ضمیر کا مرجع بتلایا، بعض الارکان۔ وَقَوْلُهُ بِاعْتِبَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِاعْتِبَارٍ، بھئی متن کے کلام میں آیا تھا باعتبار، یہ کس سے متعلق ہے؟ کہتے ہیں يُعْتَلَقُ بِالِاخْتِلَافِ، یہ متعلق ہے کس کے ساتھ؟ اختلاف کے ساتھ۔ بھئی دیکھیں آپ قوۃ المبالغہ کے بعد علامہ تفتازانی نے کیا عبارت نکالی؟ إِذَا كَانَ اخْتِلَافُ الْمَرَاتِبِ، یہ کیوں نکالی ہے عبارت؟ یہ بتلانے کے لیے کہ آگے باعتبار جار مجرور آ رہا ہے اور جار مجرور کسی سے متعلق ہوتا ہے تو یہ کس کے ساتھ متعلق ہے؟ اس اختلاف کے ساتھ جو کلام سے مفہوم ہو رہا ہے، کیونکہ کلام کے اندر کیا ذکر آیا مولانا؟ اعلیٰ مراتب۔ اعلیٰ مرتبہ وہیں پر ہوگا جہاں پر اور بھی مرتبے ہوں، جہاں کیا ہوں؟ اور بھی مرتبے ہوں تو پھر ان میں سے ایک اعلیٰ اور دوسرے کو ادنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے، تو اختلافِ مراتب آ گیا، تو اس اختلاف سے متعلق ہے باعتبار۔ فَقَوْلُهُ بِاعْتِبَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِالِاخْتِلَافِ اختلاف کے ساتھ متعلق ہے، اَلدَّالِّ عَلَيْهِ سَوْقُ الْكَلَامِ جس پر قـ کیا دلالت کر رہا ہے؟ مفہومِ کلام دلالت کر رہا ہے۔ لِأَنَّ أَعْلَى مَرَاتِبِ التَّشْبِيهِ اس لیے کہ تشبیہ کے اعلیٰ درجے جو ہیں، اعلیٰ درجے، إِنَّمَا يَكُونُ بِالنَّظَرِ إِلَى عِدَّةِ مَرَاتِبَ إِلَى عِدَّةِ مَرَاتِبَ مـ إِلَى عِدَّةِ مَرَاتِبَ مُخْتَلِفَةٍ بھئی، کس اعتبار سے ہوگا؟ مراتب کے مختلف ہونے کے اعتبار سے ہوگا، اعلیٰ تبھی ہوگا جب اس کے مرتبے کیا ہوں؟ مختلف ہوں۔ وَإِنَّمَا قَيَّدَ بِذَلِكَ جی، بھئی یہ کیوں کہا؟ أَعْلَى مَرَاتِبِ التَّشْبِيهِ فِي قُوَّةِ الْمُبَالَغَةِ بِاعْتِبَارِ ذِ، یہ باعتبار کیوں کہا؟ ارکان کے ذکر اور حذف کرنے کے اعتبار سے؟ تو کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ تشبیہ کے مرتبے کبھی تشبیہ کے مر مراتب ہوں گے کس کے اعتبار سے؟ مشبہ بہٖ کے اعتبار سے بھی مرتبے مرتبوں میں فرق آئے گا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، ایک یہ تشبیہ ہے، ایک ہے زَيْدٌ كَالذِّئْبِ زید کس کی طرح ہے؟ اب یہ بھی شجاعت کے اندر ہے، وہ بھی شجاعت کے اندر ہے، لیکن کس کے اندر قوت زیادہ ہے؟ کالاسد کے اندر۔ تو دیکھو مشبہ بہٖ کے بدلنے سے بھی کیا ہوا؟ اس کے مرتبے میں فرق آیا لیکن وہ یہاں پر مراد نہیں۔ اسی طرح کبھی حرفِ تشبیہ کے اعتبار سے بھی مرتبے میں فرق آتا ہے، ز ایک ہے زَيْدٌ كَالْأَسَدِ زید کس کی طرح ہے؟ اور ایک ہے كَأَنَّ زَيْدًا أَسَدٌ، گویا کہ زید کیا ہے؟ کس میں زیادہ قوت ہے؟ گویا کہ زید شیر ہے، اس کے اندر زیادہ قوت ہے مولانا۔ تو تو کہتے ہیں یہاں جو مراد ہے مراتب وہ وجہ مشبہ بہٖ کے اعتبار سے بھی نہیں مراد، اور اداتِ تشبیہ کے بھی نہیں اس اعتبار سے بھی نہیں مراد، بلکہ ذکرِ ارکان کے اعتبار سے کہ سارے ارکان ذکر ہیں یا نہیں۔ وَإِنَّمَا قَيَّدَ بِذَلِكَ اور اس کے ساتھ مقید کیا مولانا، باعتبار کے ساتھ مقید کیا کلام کو، لِأَنَّ اخْتِلَافَ الْمَرَاتِبِ اس لیے کہ مراتب کا اختلاف، قَدْ يَكُونُ بِاخْتِلَافِ الْمُشَبَّهِ بِهِ کبھی کبھار مشبہ بہٖ کے اختلاف کے ساتھ آتا ہے، جیسے زَيْدٌ كَالْأَسَدِ وَزَيْدٌ كَالذِّئْبِ فِي الشَّجَاعَةِ، جیسے زید شیر کی طرح ہے اور زید بھیڑیے کی طرح ہے بہادری میں، تو دیکھیے اول ابلغ ہے کس سے؟ ثانی سے۔ وَقَدْ يَكُونُ بِاخْتِلَافِ الْأَدَاةِ اور کبھی کبھار کیا ہوتا ہے تشبیہ میں اختلاف؟ ادات کے بدلنے سے بھی اختلافِ مراتب آتا ہے، جیسے ز کالـ كَالْأَسَدِ و زید كَأَنَّ زَيْدًا الْأَسَدُ، كَأَنَّ زَيْدًا الْأَسَدُ، گویا کہ یہاں ایک اور الف لگائیں بھئی، گویا کہ زید کیا ہے؟ شیر ہے۔ وَقَدْ يَكُونُ بِاعْتِبَارِ اور کبھی کبھار تشبیہ کا جو اختلافِ مراتب ہوتا ہے، بِاعْتِبَارِ ذِكْرِ الْأَرْكَانِ وہ ارکان کے ذکر کرنے کے اعتبار سے ہوتا ہے، كُلِّهَا أَوْ بَعْضِهَا کہ سارے ذکر ہیں یا بعض ذکر ہیں، اور یہ یہاں پر مراد ہے۔ بِأَنَّهُ إِنْ ذُكِرَ الْجَمِيعُ بایں صورت کہ اگر متـ ذکر کیا جائے بھئی سارے کے سارے ارکان کو، فَهُوَ أَدْنَى الْمَرَاتِبِ وہ سب سے کم مرتبہ ہے، وَإِنْ حُـ وَإِنْ حُذِفَ الْوَجْهُ وَالْأَدَاةُ اور اگر وجہ اور ادات دونوں کو حذف کر لیا جائے بھئی، وجہِ تشبیہ بھی حذف اور اداتِ تشبیہ بھی، زَيْدٌ أَسَدٌ، فَأَعْلَاهَا یہ سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے، وَإِلَّا فَمُتَوَسِّطٌ ورنہ کیا ہے؟ متوسط ہے۔ وَقَدْ تَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ بعض علماء نے وہم کیا بھئی، وہ علامہ خلخالی ہیں، کہتے ہیں انہوں نے یہ وہم کیا أَنَّ قَوْلَهُ بِاعْتِبَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِقُوَّةِ الْمُبَالَغَةِ، بھئی دیکھو اوپر وہی متن دیکھو باعتبار کس سے متعلق ہے؟ اختلافِ مراتب سے، کس سے؟ علامہ تفتازانی، علامہ تفتازانی کہتے ہیں یہ جو اختلاف میں نے یہاں نکالا اس پر مفہومِ کلام نے دلالت کی تھی بھئی۔ اور بعض علماء نے اس باعتبار کو متعلق کیا قوۃ المبالغہ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ قوۃ المبالغہ کے ساتھ، اور اس کی وجہ سے چونکہ معنی میں خرابی آ رہی تھی تو انہوں نے پھر اعتراض بھی کیا بھئی اس پر۔ کس طرح؟ کہ ارکان سارے ذکر کرنے یا بعض کو ذکر کرنے کے اعتبار سے تشبیہ میں مبالغے تشبیہ کے مبالغے تشبیہ میں جو مبالغہ ہے اس کے اندر کیا آئے گی؟ قوت آئے گی۔ کہتے ہیں بھئی جب سارے ارکان ذکر ہوں تو تشبیہ کے اندر مبالغہ ہے ہی نہیں، جب مبالغہ ہی نہیں ہے تو قوۃ المبالغہ بطریقِ اولیٰ نہیں ہوگی، تو اس کو باعتبار کو انہوں نے قوۃ المبالغہ سے متعلق کیا اور پھر متن پر اعتراض کیا۔ وَقَدْ تَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ أَنَّ قَوْلَهُ بِاعْتِبَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِقُوَّةِ الْمُبَالَغَةِ کہ یہ متعلق ہے قوۃ المبالغہ کے ساتھ، فَاعْتَرَضَ عَلَيْهِ تو انہوں نے اعتراض کیا مصنف پر، بِأَنَّهُ لَا قُوَّةَ لِلْمُبَالَغَةِ عِنْدَ ذِكْرِ جَمِيعِ الْأَرْكَانِ کہ کوئی قوت نہیں ہے مبالغے کی جب سارے ارکان کو کیا کر دیا جائے؟ کیونکہ وہ تو سب سے ادنیٰ درجہ ہے۔ فَالْأَعْلَى حَذْفُ وَجْهِهِ، یہ علیٰ ایک زائد ہے مولانا، یہ کاتب کی غلطی ہے اس کو کاٹیں بھئی، فَالْأَعْلَى حَذْفُ وَجْهِهِ، یہ حذف وجہہٖ خبر ہے مولانا کس کی؟ وہ جو اوپر آیا تھا اعلیٰ مراتب، اوپر کیا آیا تھا؟ اعلیٰ مرتبہ تشبیہ کا کون سا ہے؟ حَذْفُ وَجْهِهِ وَأَدَاتِهِ فَقَطْ بھئی، جس کے اندر وجہ بھی حذف ہو اور جی۔ تو اسی لیے علامہ تفتازانی نے بھی حذف سے پہلے فالاعلیٰ نکالا، بتلایا کہ یہ کس کی خبر ہے؟ اعلیٰ کی، کہ جس کے اندر حذف ہو کیا؟ وجہِ تشبیہ بھی حذف ہو اور اداتِ تشبیہ بھی، فقط صرف یہ دونوں حذف ہوں مولانا، اور مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں کیا ہوں؟ ذکر ہوں، أَيْ بِدُونِ حَذْفِ الْمُشَبَّهِ مشبہ حذف نہ ہو، نحو زَيْدٌ أَسَدٌ۔ أَوْ مَعَ حَذْفِ الْمُشَبَّهِ یا ساتھ ساتھ یہ دونوں بھی حذف ہیں اور ان کے ساتھ اور کیا حذف ہے؟ مشبہ بھی حذف ہے، نحو أَسَدٌ، آپ نے صرف کیا کہا؟ کسی نے آپ سے پوچھا بھئی: زید کا کیا حال ہے؟ آپ نے کہا: أَسَدٌ، زید کیا ہے؟ شیر ہے، تو دیکھیے مشـ آپ نے مشبہ کو بھی حذف کر دیا۔ فِي مَقَامِ الْإِخْبَارِ کہاں پر کہیں گے؟ آپ نے اسد کہاں کہا؟ خبر کے مقام میں کہا، عَنْ زَيْدٍ زید کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہا۔ یہ سب سے اعلیٰ مرتبہ، اعلیٰ مرتبہ کون سا ہوا مولانا؟ جس میں وجہ حرفِ تشبیہ بھی حذف، وجہِ تشبیہ بھی، اور مشبہ چاہے ذکر ہو چاہے مشبہ ذکر، تو دو صورتیں اعلیٰ ترین ہوئیں بھئی۔ ثُمَّ الْأَعْلَى بَعْدَ هَذِهِ الْمَرْتَبَةِ پھر اس کے بعد جو اس مرتبے کے بعد جو اعلیٰ ہے، حَذْفُ أَحَدِهِمَا جس میں صرف ایک حذف ہو مولانا، أَيْ وَجْهُهُ أَوْ أَيْ وَجْهِهِ وَأَدَاتِهِ یا تو وجہِ تشبیہ حذف ہو یا، كَذَلِكَ اسی طرح، کیا معنی؟ یعنی مشبہ ہو یا مشبہ ساتھ نہ ہو۔ مثلاً، مثال کے طور پر بھئی:
زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، ایک صورت۔
دوسری صورت: زَيْدٌ أَسَدٌ فِي الشَّجَاعَةِ، ایک میں کاف حذف ہے ایک میں فی الشجاعت حذف ہے، اور نیز ساتھ مشبہ مشبہ کو بھی حذف کر دو۔
پہلے کون سی صورت بنائی تھی بھئی؟ زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، اس میں کون حذف ہے؟ وجہِ تشبیہ، اور مشبہ؟ ذکر، اس مشبہ کو آپ گرا دیں، كَالْأَسَدِ، كَالْأَسَدِ، یہ دونوں ہیں مولانا مشبہ چاہے ذکر ہو چاہے مشبہ ذکر نہ ہو۔
اب وجہِ تشبیہ کو ذکر کریں، حرفِ تشبیہ کو حذف کریں، زَيْدٌ أَسَدٌ، اچھا مشبہ ذکر ہے، اور مشبہ کو حذف کر دیں؟ أَسَدٌ فِي الشَّجَاعَةِ، ہاں کسی نے پوچھا زید کا کیا حال ہے؟ آپ نے کہا أَسَدٌ فِي الشَّجَاعَةِ، وہ شیر ہے بہادری کے اندر۔ تو چار صورتیں اس میں داخل ہوئیں متوسط درجے کے اندر۔ ثُمَّ اب پھر اس کے بعد مولانا حَذْفُ أَحَدِهِمَا أَيْ وَجْهِهِ وَأَدَاتِهِ دونوں میں سے ایک ایک کا حذف کرنا ہے، كَذَلِكَ اسی طرح، أَيْ فَقَطْ صرف اسی کا حذف کرنا، أَوْ مَعَ حَذْفِ الْمُشَبَّهِ یا مشبہ کے، دیکھیے چاروں صورتیں علامہ تفتازانی بتلائیں گے۔ جیسے زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، اس میں کون حذف؟ وجہِ تشبیہ، اور مشبہ؟ ذکر، وَنَحْوُ كَالْأَسَدِ اس میں مشبہ کو بھی کیا کر دیا؟ عِنْدَ الْإِخْبَارِ عَنْ زَيْدٍ جب کہ آپ زید کے بارے میں خبر دے رہے ہیں، وَنَحْوُ زَيْدٌ أَسَدٌ فِي الشَّجَاعَةِ اس میں کیا حذف ہے بھئی؟ اور ساتھ مشبہ ذکر ہے، اور پھر مشبہ کو بھی حذف کر دیں، وَنَحْوُ أَسَدٌ فِي الشَّجَاعَةِ عِنْدَ الْإِخْبَارِ عَنْ زَيْدٍ جب کہ آپ زید کے بارے میں۔ وَلَا قُوَّةَ لِغَيْرِهَا ان کے علاوہ باقی کے اندر کوئی قوت، وَهُمَا الِاثْنَانِ وہ دو صورتیں، آٹھ صورتیں بتلائی تھیں نا تو باقی دو رہ گئیں بھئی، اَلْبَاقِيَانِ، يَعْنِي ذِكْرَ الْأَدَاةِ وَالْوَجْهِ جَمِيعًا جس میں ادات اور وجہ دونوں کیا ہوں؟ ذکر ہوں، اور پھر ان دونوں کے ساتھ ساتھ مشبہ ذکر ہوگا یا حذف ہوگا تو دو صورتیں بن گئیں۔ إِمَّا مَعَ ذِكْرِ الْمُشَبَّهِ أَوْ بِدُونِهِ مشبہ ذکر ہوگا یا ذکر نہیں ہوگا، نحو زَيْدٌ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ دیکھو اس میں چاروں ذکر ہیں، وَنَحْوُ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ اس کے اندر صرف مشبہ حذف ہے لیکن وجہِ تشبیہ اور حرفِ تشبیہ دونوں ہیں، یہ ادنیٰ درجہ ہے، خَبَرًا عَنْ زَيْدٍ زید سے خبر دیتے ہوئے۔ وَبَيَانُ ذَلِكَ بھئی یہ آپ نے کیوں کہا؟ کہ وجہِ تشبیہ بھی حذف ہو، حرفِ تشبیہ بھی حذف ہو تو اعلیٰ مرتبہ، دونوں ذکر ہوں تو ادنیٰ مرتبہ، ایسا کیوں کہا آپ نے؟ وجہ بیان کر رہے ہیں۔ وَبَيَانُ ذَلِكَ بیان اس کا یہ ہے، أَنَّ الْقُوَّةَ إِمَّا بِعُمُومِ وَجْهِ الشَّبَهِ ظَاهِرًا۔ دیکھو، جب آپ نے کہا نا: زَيْدٌ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ، آپ نے کہا زید شیر جیسا ہے کس چیز کے اندر؟ بہادری میں، اب ذرا فی الشجاعت کو حذف کریں، زَيْدٌ كَالْأَسَدِ زید کس کی طرح ہے؟ مولانا آپ نے وجہِ تشبیہ کو حذف کر کے عموم پیدا کر دیا، اب بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے زید ہر وصف میں شیر کی طرح ہے مولانا، بہادری میں بھی، قوت کے اندر بھی، ہیبت کے اندر بھی، اور اس طرح جو اعلیٰ اعلیٰ صفات ہیں ان سب میں کس کی طرح ہے؟ تو دیکھو، اگر آپ فی الشجاعت کہتے تو بات صرف شجاعت پہ بند ہو جاتی لیکن جب آپ نے حذف کر دیا تو اب عموم آ گیا بھئی، اور ہر وصف میں کیا یوں معلوم ہوتا ہے بظاہر کہ ہر وصف میں کیا ہے اس کے؟ اس کی طرح ہے، یہ بظاہر معلوم ہوتا ہے مولانا ورنہ درحقیقت تو تشبیہ صرف کس کے اندر ہے؟ شجاعت ہی میں ہے۔ یہ تو تھا وجہِ تشبیہ کو حذف کرنے سے دیکھو عموم آتا تھا۔ اب ذرا حرفِ تشبیہ کو حذف کرو، آپ نے پہلے کہا زَيْدٌ كَالْأَسَدِ زید کس کی طرح ہے؟ جب آپ نے کاف کو حذف کر دیا، زَيْدٌ أَسَدٌ، تو آپ نے اسد کا حمل کر دیا کس پر؟ گویا آپ نے یہ کہا کہ زید اور اسد ایک ہی چیز ہیں، یہ دونوں آپس میں متحد ہیں بھئی۔ جی، تو اب جہاں پر جہاں پر مولانا آپ نے حرفِ تشبیہ کو حذف کر دیا وہاں اتحاد بتلایا، اور جہاں وجہِ تشبیہ کو حذف کیا؟ بھئی جہاں حرفِ تشبیہ کو حذف کیا وہاں کیا بتلایا؟ اتحاد، زَيْدٌ أَسَدٌ اتحاد آیا، اور جہاں فی الشجاعت کو حذف کیا وہاں پر کیا آیا؟ عموم آ گیا، تو جہاں پر عموم بھی آ گیا، اتحاد بھی آ گیا وہ سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے، سب سے اعلیٰ مرتبہ۔ اور جس کے اندر ان میں سے صرف ایک ہو، یعنی عموم ہو، یعنی آپ نے صرف کیا؟ وجہِ تشبیہ کو حذف کیا، یا وجہِ تشبیہ تو مذکور ہے لیکن آپ نے دونوں میں کیا ثابت کیا؟ اتحاد، زَيْدٌ أَسَدٌ فِي تو یہ متوسط درجہ ہوگا۔ وَبَيَانُ ذَلِكَ أَنَّ الْقُوَّةَ إِمَّا بِعُمُومِ وَجْهِ الشَّبَهِ ظَاهِرًا یا تو وجہِ شبہ کے عموم کے ساتھ قوت آئے گی ظاہراً، عموم کیسے ہوگا؟ ظاہراً ہوگا حقیقت میں نہیں۔ أَوْ بِحَمْلِ الْمُشَبَّهِ بِهِ عَلَى الْمُشَبَّهِ یا کس طرح آئے گا مولانا؟ قوت کیسے آئے گی؟ کہ مشبہ پر آپ حمل کر دیں مشـ کس کا؟ مشبہ بہٖ کا حمل کر دیں مشبہ پر، بِأَنَّهُ هُوَ هُوَ کہ وہ وہی ہے یعنی مشبہ مشبہ بہٖ ہی ہے۔ تو قوت ان دو چیزوں سے آتی ہے، فَمَا اشْتَمَلَ عَلَى الْوَجْهَيْنِ جس میں دونوں صورتیں پائی جائیں دونوں قوتیں پائی جائیں، فَهُوَ فِي غَايَةِ الْقُوَّةِ وہ انتہائی درجے کی قوت میں ہے۔ وَمَا خَلَا عَنْهُمَا اور جو ان دونوں سے خالی ہو یعنی اس میں دونوں چیزیں ذکر ہوں، فَلَا قُوَّةَ لَهُ اس کے کوئی قوت نہیں۔ وَمَا اشْتَمَلَ عَلَى أَحَدِهِمَا اور جو دونوں میں سے کسی صرف ایک پر مشتمل ہو، فَهُوَ مُتَوَسِّطٌ بھئی، وہ کیا ہے؟ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔