Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی مولانا، کل کے سبق میں آپ نے پڑھا تھا، مصنف نے بتلایا آپ کو صاحب تلخیص نے کہ چونکہ قسم ثالث جو تھی اس کے اندر حشو تھی، تطویل تھی، تأقید تھی، اس لیے میں نے ایک مختصر لکھی بھئی۔ مختصر لکھی۔ اور وہ یہ میری مختصر، یعنی یہ جو تلخیص ہے یہ مشتمل ہے ان قواعد و ضوابط پر جو کس کے اندر تھے قسم ثالث میں؟ اور مشتمل ہے ان مثالوں اور شواہد کے پر جن کی ضرورت ہے، غیر ضروری مثالیں اور شواہد میں نے ذکر نہیں کیے یا ان کو نکال دیا ہے میں نے بھئی۔ اس کے بعد بتلایا تھا صاحبِ شرح نے آپ کو علامہ تفتازانی نے کہ ایک ہے مثال، ایک ہے شاہد بھئی۔ مثال وہ ہے جس کو ذکر کیا جائے قاعدے کی وضاحت کے لیے، اور شاہد وہ ہے جس کو ذکر کیا جائے قاعدے کے اثبات کے لیے۔ تو جب قاعدے کا اثبات کرنا چاہتے ہیں عربی زبان کے، تو لازمی بات ہے شاہد ایسی ذات یا ایسے شخص کا کلام ہونا چاہیے جس کا کلام عربیت کے اندر معتبر بھی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ معتبر بھی ہو۔ تو اس کے لیے مولانا، یا تو پھر قرآن سے مثال ذکر کریں گے یا مولانا ابتدائی زمانے کے جو شعراء تھے مولانا اسلام کے یعنی تقریباً سو سال تک جو شعراء آئے ان کا کلام عربیت میں معتبر ہے، اسلام کے آنے کے، پہلی صدی ہجری میں، پہلی صدی ہجری اور اس سے پہلے کے جو جاہلی شعراء ہیں زمانہ جاہلیت کے مولانا سمجھ میں آیا؟ عربیت میں ان کا کلام معتبر ہے، مسلمان ہونا ضروری نہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ بس زمانہ جاہلیت کا کوئی شاعر ہو یا مخضرمین میں سے ہو یا پہلی صدی کے اندر اندر جو آیا ہو بھئی۔ تو ہر ان اور شاہد اور مثال کے اندر عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، ہر شاہد تو مثال ہے لیکن ہر مثال شاہد نہیں ہے، ہر مثال شاہد نہیں۔ جیسے مولانا آپ کہتے ہیں الفاعل مرفوع اور اس کے لیے مثال ذکر، شاہد کیا ذکر کیا؟ اَتَا اَمْرُ اللہِ بھئی، قرآن سے۔ قرآن تو نہایت معتبر ہے عربی زبان میں وہاں، عربیت۔ تو یہ اب مثال بھی بنا سکتے ہیں آپ، کسی کے سامنے قاعدہ ذکر کرتے ہیں اور بطور مثال کو اس کو ذکر کرنا چاہیں تو ذکر کر سکتے ہیں، تو یہ شاہد بھی ہے اور مثال بھی ہے، لیکن ہر مثال شاہد نہیں ہوگی۔ اس کے بعد لَمْ آلُو جُہْداً یا جُہْداً آیا تھا بھئی، تو لَمْ آلُو اَیْ لَمْ اُقَصِّر، میں نے کوتاہی نہیں کی۔ تو پھر یہ جُہْداً کیا ہے ترکیب کے اندر بھئی؟ جُہْداً تو بتلایا تھا علامہ تفتازانی نے کہ یہ لَمْ آلُو بمعنی متضمن ہے لَمْ اَمْنَعْ کے معنی کو بھئی، اور معنی کس کو چاہتا ہے؟ دو مفعولوں کو چاہتا ہے، تو یہ ایک مفعول ذکر ہے اور ایک محذوف ہے، اور عبارت یوں ہے دراصل لَمْ اَمْنَعْ کَ جُہْداً، میں نے روکی نہیں تجھ سے اپنی کوشش۔ اس مختصر کی تحقیق و تہذیب کے اندر بھئی، اور اس کو میں نے ایسی ترتیب دی ہے جو ذہن میں اس کو حاصل کرنے کے لیے، تو اس میں ثالث یا سکاکی کی ترتیب سے بہتر ہے بھئی۔ جو ترتیب انہوں نے دی تھی، اس ترتیب سے میری ترتیب کیا ہے؟ بہتر ہے۔ اور میں نے مبالغہ نہیں کیا اس کے لفظوں کو مختصر کرنے میں، قریب کرنے کے لیے اس کے اخذ کو کہ اس کو حاصل کرنا کیا ہو جائے؟ قریب ہو جائے بھئی، آسانی سے سمجھ لے انسان۔ اور یہ طلب کرنے کے لیے کہ اس کے سمجھنے کو میں آسان بنا دوں، اس کے طلب کرنے والوں پر بھئی، اس مقصد کے لیے میں نے اس کے لفظوں میں زیادہ الفاظ کے اختصار میں زیادہ مبالغہ نہیں۔ اس پر اشکال ہوا تھا مولانا کہ لَمْ اُبالِ، یہ اُبالِ فعل ہے، اور اس کے لیے تقریباً وغیرہ کیا ہیں؟ قید ہیں۔ قید ہیں۔ تو یہ مفعول لہ، مفعول بہ، وغیرہ یہ چیزیں سب قید ہوتی ہیں فعل کے لیے۔ اور مقید تو یہ مقید ہوا، اور اس پر حرفِ نفی داخل ہوا، اور حرفِ نفی جب مقید پر داخل ہو تو وہ رفع کس کا کرتا ہے؟ قید کا رفع کرتا ہے۔ مقید کی نفی نہیں کرتا، مقید کی نفی۔ تو معنی یہ ہوا کہ میں نے اسمیں، اس کو اخذِ ذہنی کے قریب بنانے کے لیے، اس کے لفظوں کے اختصار میں مبالغہ نہیں کیا۔ معلوم ہوا مبالغہ ہے، لیکن کسی اور مقصد کے لیے ہے۔ جیسے مَا ضَرَبْتُہُ تادیباً، میں نے اس کو ادب سکھانے کے لیے پٹائی نہیں کی، معلوم ہوا پٹائی کی ہے، مگر کسی اور مقصد کے لیے۔ تو جواب دیا تھا مولانا کہ یہ لَمْ اُبالِ کے لازم سے مولانا، اس سے مفعول لہ ہے، تقریباً اور طلباً، یہ لَمْ اُبالِ سے مفعول لہ نہیں۔ لَمْ اُبالِ کے ساتھ لازم ہے مولانا، کیا معنی ہے اس کا؟ ترکْتُ المبالغہ، ترکْتُ المبالغہ۔ تو یہ اس ترکْتُ سے کیا ہے؟ مفعول لہ بنے گا مولانا، اب اشکال ختم ہوا۔ حرفِ نفی کو ہم نے کیا کر دیا؟ ختم ہی کر دیا بھئی۔ اور اضافہ کیا کہتے ہیں میں نے اس مختصر کے اندر فوائد کا، جو میں نے اور بلغا کی کتابوں میں فوائد پائے، ان کا بھی اس میں اضافہ کیا تلخیص میں، اور کچھ زوائد بھی جن کو، جن کی مجھے نہ تو کسی کتاب میں تصریح ملی، نہ کوئی اشارہ ملا مولانا، یعنی میری اپنی ذہنی ایجادات یا اپنی ذہنی جدوجہد کے نتیجے میں جو نکات مجھے حاصل ہوئے، وہ بھی میں نے اس کے اندر شامل کر دیے ہیں بھئی۔ شامل کیے۔ اور میں نے بتلایا تھا بھئی، بزرگوں کی باتوں کو فوائد کہا، اپنی باتوں کو زوائد کہا، اور یہ کلام ذو وجہین ہے۔ زوائد کسے اعتبار سے ہیں؟ ان کی حاجت نہیں ہے، یہ زائد چیز ہے ایک مولانا، اصل حاجت تو کن کی ہے؟ وہ بزرگوں کی باتوں کی ہیں، وہ قیمتی ہیں، یہ زائد چیز ہے بھئی، تو یہ عاجزی کرتے ہوئے کہا۔ یا مولانا یہ بات کہی کہ میرے جو کلماتِ وغیرہ جو باتیں میں ذکر کروں گا وہ فضل اور مرتبے میں باقیوں کی باتوں سے زائد ہیں، بڑھی ہوئی ہیں بھئی۔ وَسَمَّيْتُهُ تَلْخِيصَ الْمِفْتَاحِ لِيُطَابِقَ اسْمُهُ مَعْنَاهُ، اور میں نے اس کا نام رکھا تلخیص المفتاح، تاکہ اس کا نام مطابق ہو جائے اس کے معنی کے، اس کا نام میں نے تلخیص المفتاح رکھا تھا تاکہ اس کا نام کیا ہو جائے؟ اس کے معنی کے مطابق ہو جائے، کیونکہ اس کے اندر تھی بھی کیا مولانا؟ المفتاح کی تلخیص ہی تھی، تو یہ نام بھی میں نے وہی رکھ دیا مولانا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ یہ تو مفتاح العلوم کی تلخیص نہیں ہے، بلکہ یہ کیا ہے؟ یہ تو قسم ثالث کی تلخیص ہے۔ یہ تو اس کے ایک جز کی تلخیص ہے، تو کہتے ہیں بھئی، پھر بھی اعتراض وارد نہیں ہوتا، اس لیے کہ بتلایا تھا، کہ نفع کے اعتبار سے یہ سب سے بڑا ہے مولانا، نفع کے اعتبار سے سب سے بڑا، تو جب سب سے بڑے جز کی جب تلخیص کر دی تو گویا کہ پوری کتاب ہی کی کیا کر دی؟ تلخیص کر دی بھئی۔ وَأَنَا أَسْأَلُ اللَّهَ قَدَّمَ الْمُسْنَدَ إِلَيْهِ مُقَدَّم کیا مصنف نے مسند الیہ کو، یا قُدِّمَ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، مقدم کیا گیا، وہ دونوں طرح۔ یہاں سے ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اشکال یہاں یہ ہوتا ہے مولانا کہ یہ انا کو اسْأَلُ پر کیوں مقدم کیا؟ اسْأَلُ کے اندر بھی انا موجود۔ اسْأَلُ اللہ کا کیا معنی؟ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں، اور انا اسْأَلُ، انا کو مقدم کر دیا، تو بھئی، یہ انا تو اسْأَلُ کے اندر موجود تھا، اس کو مقدم کرنے کی کیا حاجت پیش آگئی؟ کیوں مقدم کیا اس انا کو؟ اس لیے کہ اسْأَلُ اللہ مولانا، اس میں مسند کیا ہے؟ فعل ہے۔ اس کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ انا ضمیر کی طرف بھئی، تو مسند کیا ہے اس میں مولانا؟ فعل، اور مسند الیہ کیا ہے؟ انا ضمیر۔ پھر آپ نے اس مسند الیہ کو مسند فعلی پر مقدم کر دیا! بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی۔ انا ضمیر کو مسند فعلی پر کیا کیا؟ مقدم کیا۔ اور جب بھی مسند الیہ کو مسند فعلی پر مقدم کیا جائے اور ساتھ حرفِ نفی نہ ملا ہوا ہو، تو وہ دو فائدے دیتا ہے، دو میں سے ایک۔ دو میں سے ایک فائدے کے لیے، ایک مقصد کے لیے کیا جاتا ہے مولانا، کیا چیز؟ مسند الیہ کو مسند فعلی پر جب مقدم کیا جائے اور ساتھ حرفِ نفی بھی نہ نہ ہو، تو پھر یہ کیا کرتا ہے؟ دو فائدے دیتا ہے۔ अच्छा, یہ آتا ہے یا تو تخصیص کے لیے، اور کبھی آتا ہے تقویت اور تاکید کے لیے مولانا۔ یا تو یہ تخصیص کے لیے آئے گا یا تقویت اور تاکید کے لیے آئے گا۔ اور یہاں دونوں مناسب نہیں، تخصیص بھی مناسب نہیں اور تقویت و تاکید بھی مناسب نہیں۔ تخصیص اس لیے مناسب نہیں، کہ اسْأَلُ اللہ کا معنی تھا میں اللہ سے سوال کرتا ہوں۔ انا کو جب مقدم کر دیا، اب معنی ہوا میں ہی اللہ سے سوال کرتا ہوں۔ میں ہی اللہ سے سوال کرتا ہوں۔ تو یہ تخصیص آ گئی مولانا۔ اور یہ مقام دعا ہے مولانا، اور مقام دعا میں تخصیص مناسب نہیں۔ مقام دعا میں صرف اپنی ہی تخصیص کر رہے ہیں، میں ہی سوال کرتا ہوں بھئی! مقام دعا میں تو اوروں کو بھی ساتھ ملایا جاتا ہے، تاکہ کئی لوگ مل جائیں آپس میں، اللہ سے دعا کریں، اور کسی نہ کسی کی وجہ سے کیا کر لے اللہ تعالی دعا کو قبول فرما لے۔ تو یہ مقام تخصیص کے مناسب نہیں، نہیں، نہیں! یا یہ کیا جاتا ہے مولانا، تاکید کے لیے۔ اور تاکید بھی اس مقام کے مناسب نہیں، کیونکہ کلام کے اندر تاکید لائی جاتی ہے جبکہ سامع کو تردید ہو یا وہ منکر ہو، پھر کلام میں کیا لائی جاتی ہے؟ تاکید لائی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں آؤ بھئی میں تمہیں چائے پلاؤں۔ تاکید لانے کی ضرورت ہے؟ نہیں۔ ہاں! اگر اس کو تردید ہے کہ یہ تو ویسے ہی کہہ رہا ہے، یا وہ انکار کرتا ہے کہ یہ قیامت تو آ سکتی ہے، تو چائے نہیں دے سکتا۔ اب آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ واللہ میں تمہیں کیا کرتا ہوں؟ چائے پلاتا ہوں، تو تاکید یا جب متردد ہو سامع یا وہ منکر ہو، پھر تاکید لائی جاتی ہے، اور یہاں پر کوئی سامعِ متردد و منکر نہیں ہے۔ تو لہٰذا تاکید بھی اس مقام کے مناسب نہیں۔ علامہ تفتازانی آپ کو بتا رہے ہیں مولانا کہ یہاں دراصل یہ اسْأَلُ اللہ، اس جملے کو حال بنانا چاہتے تھے۔ اس جملے کو کیا بنانا چاہتے تھے؟ حال۔ ما قبل میں کئی اپنے افعال مصنف نے ذکر کیے ان سے حال بنانا چاہتے تھے، ایک ذکر کیا أَلَفْتُ، میں نے کیا تالیف کی؟ مختصر۔ أَلَفْتُ مختصراً، میں نے مختصر تالیف کی۔ اسی طرح کہتے ہیں وَرَتَّبْتُهُ، میں نے اس کو مرتب کیا۔ وَلَمْ أُبَالِ، میں نے اس میں مبالغہ نہیں کیا۔ وَأَضَفْتُ، میں نے اس میں اضافہ کیا۔ کئی افعال ذکر کیے ان سے یہ حال بنانا چاہتے تھے۔ کیا بنانا چاہتے تھے؟ حال۔ حال بنانا چاہتے ہیں اس کو۔ حال بنانا چاہتے ہیں۔ اور یاد رکھو مولانا جب جملے کو حال بنایا جاتا ہے، تو ربط کبھی ضمیر سے دیا جاتا ہے، کبھی واؤ سے، اور کبھی دونوں کے ساتھ بھئی۔ ربط کس کے ساتھ دیا جاتا ہے؟ ضمیر کے ساتھ۔ کبھی واؤ کے ساتھ، کبھی ضمیر کے ساتھ، اور کبھی دونوں کے ساتھ۔ دونوں کے ساتھ۔ لیکن جب حال جملہ فعلیہ مضارعہ ہو مولانا، یعنی فعلِ مضارع کے ساتھ آ رہا ہو وہ جملہ فعلیہ، تو پھر واؤ شروع میں لانا جائز نہیں۔ پھر ضمير ہی سے ربط دیا جاتا ہے، واؤ کے ساتھ ربط دینا جائز نہیں۔ نہیں ہے۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ اور یہاں پر وہ اس کو اسْأَلُ اللہ کو حال بنانا چاہتے تھے، اور اسْأَلُ تو ہے جملہ فعلیہ، اور فعل بھی کون سا ہے؟ فعل مضارع، اور فعل مضارع کو جب حال بنائیں تو شروع میں واؤ نہیں لاتے، تو یہاں واؤ نہیں لا سکتے تھے بھئی اس صورت میں۔ اور واؤ نہ لاتے، تو اس کا پتہ نہ چلتا کہ یہ حال ہے یا استنافیہ ہے جملہ بھئی۔ پتہ چلے گا بھئی؟ نہیں۔ پتہ ہی نہیں چل سکے گا، یوں لگے گا کہ پہلے کیا کر رہے تھے؟ اپنی شرح کی باتیں کر رہے تھے، اب استناف شروع ہو گیا، نئی بات شروع کی، اللہ سے دعا شروع کر دی۔ تو پھر واؤ نہ ہوتا تو حال ہونے کا پتہ نہ چلتا۔ نہ چلتا بھئی۔ اور وہ واؤ لانا چاہتے ہیں تاکہ پتہ چلے بھئی، اور اس کی ایک ہی صورت تھی کہ اب اس جملہ فعلیہ کو کس میں بدل دیں؟ جملہ اسمیہ میں۔ اور جملہ اسمیہ کے شروع میں تو واؤ حالیہ آ سکتا ہے، تو وہ انا کو مقدم کیا مولانا، وہ مبتدا بن گیا، اور یہ اسْأَلُ اللہ یہ ساری کیا بن گئی اس کی؟ خبر بن گئی، تو جملہ اسمیہ ہوا، اور جملہ اسمیہ جب حال بنے تو اس کے شروع میں واؤ کا لانا جائز ہے۔ اے اعتراض اور جواب سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ یہی بات کر رہے ہیں مولانا۔ وَأَنَا أَسْأَلُ اللَّهَ، اور میں اللہ سے سوال کرتا ہوں، قَدَّمَ الْمُسْنَدَ إِلَيْهِ مقدم کیا مسند الیہ کو، قَصْداً إِلَى جَعْلِ الْوَاوِ لِلْحَالِ، ارادہ کرتے ہوئے کہ واؤ کو کیا بنائیں؟ حال کے لیے بنائیں۔ کے لیے رکھیں بھئی۔ اچھا بھئی۔ لیکن اشکال تو پھر بھی باقی رہا مولانا۔ اشکال یہ تھا، کہ انا کو مقدم کیا اور مسند فعلی کو جب فعل پر مقدم کیا جاتا ہے تو وہ تقویۃ یا تخصیص کا فائدہ دیتا ہے، اور ان میں سے یہاں کوئی بھی فائدہ نہیں، تو اشکال تو پھر بھی مولانا اسی طرح رہا، بس علامہ تفتازانی نے صرف یہ بتلا دیا کہ جملہ فعلیہ نی لائے، کیا لائے جملہ اسمیہ لائے، کیونکہ یہ واؤ کو کیا بنانا چاہتے تھے؟ حالیہ بنانا چاہتے تھے۔ مِنْ فَضْلِهِ، حالٌ مِنْ أَنْ يَنْفَعَ بِهِ، أَنْ يَنْفَعَ بِهِ سے یہ حال ہے مولانا کیا؟ مِنْ فَضْلِهِ۔ مِنْ فَضْلِهِ یہ حال ہے، أَنْ يَنْفَعَ بِهِ سے۔ اور میں اللہ سے سوال کرتا ہوں، أَنْ يَنْفَعَ بِهِ، مولانا آپ نے پڑھا یہ ان مصدریہ یہ ما بعد کو کس کے معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے۔ تو میں اللہ سے سوال کرتا ہوں، أَنْ نَفْعَ بِهِ، أَنْ نَفْعَ بِهِ، کہ اس مختصر کے ساتھ نفع دے بھئی۔ طلباء وغیرہ کو اس مختصر کے ساتھ تو میں اللہ سے اس مختصر کے نفع دینے کا سوال کرتا ہوں، تو لفظ اللہ ہوا مفعولِ اول، اور أَنْ يَنْفَعَ بِهِ کیا ہوا مفعولِ ثانی، ثانی ہوا۔ اور آپ نے پڑھا ہے حال آیا کرتا ہے، فاعل یا مفعول۔ حال فاعل کی حالت بیان کرتا ہے یا مفعول کی یا دونوں کی مولانا، تو یہ أَنْ يَنْفَعَ بِهِ یہ بھی کیا ہوا مفعول، اور مفعول سے کیا ایا کرتا ہے؟ حال، اور حال کو کبھی ذوالحال پر کیا کر دیتے ہیں؟ مقدم بھی کر دیتے ہیں، تو یہ مِنْ فَضْلِهِ یہ حال ہے، جو مقدم ہے ذوالحال پر بھئی۔ وَأَنَا أَسْأَلُ اللَّهَ النَّفْعَ بِهِ حَالَ كَوْنِهِ مِنْ فَضْلِهِ، میں اللہ سے سوال کرتا ہوں اس مختصر کے نفع دینے کا، اس حال میں کہ یہ نفع دینا مِنْ فَضْلِهِ، اللہ کے فضل سے ہو۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ بیھذا المختصر۔ بیھذا المختصر کے مولانا اس عبارت کے لیے ذریعے ضمیر کا مرجع بتلا دیجیے کہ بہی کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ مختصر۔ بہی ای بھذا المختصر۔ کما نفع باصلہ جیسے کہ اللہ نے نفع دیا اس کی اصل کے ساتھ بھئی یہ تو تلخیص ہے اور یہ اس کے لیے اصل کیا ہے؟ مفتاح کہہ لو یا قسم ثالث کہہ لو۔ اس کے ساتھ جیسے اللہ نے اس کو مقبولیت دی اور بہت لوگوں اس سے نفع اور لوگوں نے نفع اٹھایا اللہ اس کو بھی مقبولیت دے اور سب کے لیے کیا بنا دے؟ نافع۔ جیسے نفع دیا اس کی اصل کے ساتھ۔ بھئی اس کی اصل کیا ہے؟ کہتے ہیں وہ مفتاح وہ مفتاح ہے او القسم الثالث منہ یا اس میں سے قسم ثالث ہے۔ انہ ای اللہ ای اللہ تعالی ولی ذالک النفع۔ انہ یہ اصل میں تھا لانہ لام کو حذف کر دیا گیا مولانا یہ علت بیان کر رہا ہے ما قبل کی۔ یہ ما قبل کی کیا بیان کر رہا ہے؟ اس کو کہیں گے جملہ معللہ جو ما قبل کی علت بیان کرے اسے جملہ معللہ کہتے ہیں۔ تو یہ بھی ما قبل کی علت بیان کر رہا ہے مولانا۔ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ اللہ ہی ولی ذالک النفع ولی ہے اس نفع کا۔ میں اللہ سے اس مختصر کے نفع دینے کا سوال کرتا ہوں کیونکہ اللہ ہی اس نفع کے ولی ہیں یعنی اس کے عطا کرنے والے ہیں بھئی۔ تو یہ علت بیان کی بھئی۔ وھو حسبی اور وہ اللہ کافی ہے میرے لیے ای محسبی بتلایا مولانا حسبی مصدر ہے اور یہ مبنی للفاعل ہے اس میں فاعل کے معنی میں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ کہتے ہیں زید عدل یہ عدل کس کے معنی میں ہے؟ عادل۔ جی۔ تو یہاں بھی حسبی مصدر ہے مولانا محسبی کے معنی میں ہوا۔ و کافیہ۔ و کافیہ۔ بھئی محسِب کیا ہے؟ اسم فاعل۔ اس کے آخر میں کیا ملی ہوئی ہے؟ ضمیر متکلم ملی ہوئی ہے اسی طرح کافی یہ بھی اسم فاعل ہے اس کے ساتھ بھی ایک ضمیر ضمیر ملاؤ تو دو یا اکٹھی ہوگئیں تو پہلی کا ثانی میں ادغام کر دیا کیا بن گیا؟ کافیہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حسبی بمانی محسبی کے ہے، احسب یحسب کے معنی ہوتے ہیں کافی ہونا۔ باب افعال ہے۔ و نعم الوکیل اور وہ بہترین کارساز ہے۔ عطف اما علی جملۃ وھو حسبی۔ یا تو یہ عطف ہے مولانا۔ اب دیکھو۔ یہ و نعم الوکیل مولانا یہ جملہ انشائیہ ہے کیونکہ نعمت کس میں سے آپ نے پڑھا ہے؟ افعال مدح میں سے ہے تو یہ جملہ انشائیہ ہوا۔ اب اس کے شروع میں آرہا ہے و یہ و کون سا ہے؟ و حالیہ ہے، و اعتراضیہ ہے یا و عاطفہ ہے بھئی۔ کیا ہے و؟ عاطفہ ہے۔ تو۔ و حالیہ اس کو نہیں بنا سکتے مولانا۔ و حالیہ اس کو نہیں بنا سکتے۔ کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیونکہ یہ جملہ انشائیہ ہے اور آپ نے پڑھا ہے کہ جملہ انشائیہ حال واقع نہیں ہوتا، حال واقع نہیں ہوتا۔ جیسے و انا اسئل اللہ میں و حالیہ تھا۔ یہاں بھی و حالیہ بنایا جائے تو یہ درست نہیں مولانا کیونکہ یہ جملہ انشائیہ ہے۔ معلوم ہوا و حالیہ نہیں لے سکتے بنا سکتے اس کو۔ پھر بھئی و اعتراضیہ بنائیں گے، و اعتراضیہ بھی نہیں بنا سکتے مولانا۔ کیوں کہ و اعتراضیہ جملہ اعتراضیہ کے شروع میں آتا ہے اور جملہ اعتراضیہ اس کو کہتے ہیں جو کلام کے بیچ میں آئے مولانا۔ نہ ما قبل سے اس کا ربط ہوتا ہے اور نہ ما بعد سے تو وہ درمیان میں آکر معترض ہوا اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں جملہ معترضہ۔ اور یہ تو کلام کے آخر میں ہے مولانا ختم ہو رہی ہے دعا ختم ہوئی اس پر۔ دعا وغیرہ جو ذکر کر رہے ہیں آگے مقدمہ الگ بات شروع کر رہا ہے۔ تو یہ آخر میں ہے یہ معلوم ہوا وہ معترضہ بھی نہیں۔ اور وہ اعتراضیہ بھی نہیں۔ اب تیسری صورت رہ گئی معلوم ہوا یہ و کون سا ہے؟ و عاطفہ ہے۔ اب اس کا عطف کس پر ہے بھئی و عاطفہ ہے تو اس کا عطف ہوگا۔ تو بھئی۔ اس کا ما قبل میں تین جملے آرہے ہیں مولانا نمبر ایک انا اسئل اللہ۔ نمبر دو۔ جی۔ انہ ولی ذالک۔ اور نمبر تین وھو حسبی۔ انا اسئل اللہ پر عطف نہیں ہو سکتا اس لیے کہ وہ حال ہے مولانا اور ابھی بتایا یہ جملہ انشائیہ یہ حال واقع نہیں ہو سکتا۔ انہ ولی ذالک پر بھی یہ عطف نہیں۔ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جملہ معللہ ہے ما قبل کی علت بیان کر رہا ہے اور یہ و نعم الوکیل یہ ما قبل کی علت نہیں۔ تو معلوم ہوا اس کا عطف وھو حسبی پر ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ و حالیہ بھی نہیں بنا سکتے، و اعتراضیہ بھی نہیں بنا سکتے معلوم ہوا و عاطفہ ہے اور جب و عاطفہ ہے تو ما قبل میں تین جملے ہیں پہلے پر بھی عطف نہیں ہو سکتا دوسرے پر بھی نہیں ہو سکتا معلوم ہوا تیسرے پر ہے بھئی۔ اب تیسرے کے اندر یہ تو طے ہوگیا وھو حسبی پر عطف ہے۔ بھئی پورے جملے پر عطف ہے یا جز جملہ پر عطف ہے؟ پورے وھو حسبی جملے پر عطف ہے یا حسبی۔ اس کی جو وھو کی خبر ہے حسبی اس پر عطف ہے۔ علامت ابتدائی نہیں بتلائیں گے دونوں احتمال صحیح ہیں۔ दोनों احتمال کیا ہیں؟ آپ چاہیں تو پورے جملے پر عطف کر دیں آپ چاہیں تو حسبی پر کیا ہے؟ عطف کر دیں۔ عطف اما علی جملۃ یہ تو عطف ہے مولانا جملے پر بھئی کون سا جملہ کہتے ہیں وھو حسبی وھو اور وہ حسبی ہے بھئی اس پر عطف ہے۔ والمخصوص محذوف بھئی آپ نے پڑھا ہے نعم افعال مدح میں سے ہے اور یہ کس کو چاہتا ہے؟ یہ ایک فاعل چاہے گا اور ایک مخصوص بالمح۔ فاعل تو الوکیل آگیا اور مخصوص بالمح۔ وہ تو مذکور نہیں۔ کہتے ہیں والمخصوص محذوف مخصوص کیا ہے؟ محذوف ہے۔ و نعم الوکیل ھو اور ھو ضمیر راجع ہے کس کو لفظ اللہ کو بہترین کارساز کون ہیں؟ اللہ ہیں بھئی۔ وھو ضمیر راجع ہے۔ والمخصوص محذوف اور مخصوص محذوف ہے و اما علی حسبی یا یہ عطف ہے مولانا کس پر؟ حسبی پر عطف ہے مولانا حسبی پر بھئی۔ ای وھو تو کیا عبارت بن جائے گی مولانا حسبی پر عطف ہے تو حسبی کو ذرا اٹھا کر اس کی جگہ نعم الوکیل رکھیں بھئی وھو نعم الوکیل عبارت بن گئی ای وھو نعم الوکیل فالمخصوص ھو ضمیر المتقدم۔ بھئی اب مخصوص بالمح کیا ہے؟ علامت افتضانی بتا رہے ہیں اس صورت میں یہ جو جملہ کیا بنا مولانا و نعم الوکیل یہ جو شروع میں ھو ضمیر آئی یہ مخصوص بالمح ہے۔ کیا ہے؟ مخصوص بالمح۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی مخصوص بالمح تو ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے اور پڑھا ہے کہ مؤخر ہوتا ہے یہ مقدم کیسے ہے بھئی؟ مقدم کرنا تو اس کو جائز نہیں۔ تو یہ تو مقدم آپ نے ذکر کر دیا۔ تو علامت افتضانی مولانا اب اس صورت میں اپنے آپ کو چھڑا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ میں نہیں کہتا یہ صاحب مفتاح وغیرہ نے ایسا کہا ہے اور ان کا مذہب ہے کہ مخصوص بالمح مقدم بھی ہو سکتا ہے۔ مخصوص بالمح۔ کہتے ہیں فالمخصوص وہ ضمیر المتقدم مخصوص بالمح وہ ضمیر ہے جو مقدم ہے علی ما سرَّ بہ صاحب المفتاح بنا بر اس کے جس کی تصریح کی ہے صاحب مفتاح نے و غیرہ وغیرہ نے صاحب مفتاح اور ان کے علاوہ اور علماء نے بعض نے کیا کی ہے؟ تصریح کی ہے کہ یہ مقدم ہو سکتا ہے۔ فی نحو زید نعم الرجل اس قسم کی مثال میں کوئی شخص کیا کہتا ہے زید نعم الرجل تو کیا کہتا ہے وہ؟ صاحب مفتاح وغیرہ کہ یہ زید کیا ہے؟ مخصوص بالمح ہے۔ جبکہ جمہور کہتے ہیں کہ مخصوص بالمح مؤخر ہوگا۔ تو مولانا اس میں دو تقدیریں ہوئیں یا تو نعم الوکیل کا عطف کس پر ہے؟ وھو حسبی پورے جملے پر ہے یا حسبی ایک جز پر ہے اور علی کلا التقدیرین اور دونوں تقدیروں کی صورت میں قد عطف الانشاء علی الاخبار یا قد عطف الانشاء علی۔ عطف کیا ہے مصنف نے انشاء کا کس پر؟ اخبار پر۔ خبر پر انشاء کا عطف کس پر کر دیا؟ خبر۔ وھو حسبی وہ میرے لیے کافی ہے یہ خبر ہے مولانا جملہ خبریہ۔ اور نعم الوکیل یہ کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ اور جملہ انشائیہ کا عطف کس پر کر دیا؟ جملہ خبریہ پر کر دیا۔ مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی اس پہ اشکال ہوتا ہے۔ یہ دروازہ کھولو بھئی کتنی گرمی ہے ادھر۔ دونوں کھول دو وہ آخر سے بھی کھولو بھئی دروازہ۔ او بھئی ادھر بھی کھولو بھئی دروازہ۔ سامان پڑا ہے ادھر۔ چلو پھر رہنے دو۔ بھئی علامہ تفتازانی نے کیا فرمایا کہ دونوں صورتوں میں انشاء کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ اخبار پر یعنی جملہ انشائیہ کا عطف ہو رہا ہے کس پر؟ جملہ خبریہ پر۔ بھئی آپ نے علامہ تفتازانی آپ نے دو تقدیریں بنائیں بھئی نعم الوکیل کا عطف یا تو پورے جملے پر ہے۔ وھو حسبی پر اور وھو حسبی پورا جملہ ہے اور جملہ متصف ہوتا ہے انشاء و خبر کے ساتھ کہتے ہیں یہ جملہ انشائیہ ہے یا یہ جملہ خبریہ ہے۔ لیکن دوسری تقدیر کی صورت میں آپ نے کہا تھا اس کا عطف صرف حسبی پر ہے اور حسبی پورا جملہ ہے یا مفرد ہے؟ ایک جز ہے جملے کا مولانا۔ کیا ہے؟ ایک جز ہے۔ اور ایک جز ہو جو پورا جملہ نہ ہو اس کو کوئی کہتا ہے یہ خبر ہے یا انشاء ہے؟ ایک جز کو کوئی بھی خبر یا انشاء نہیں تو مفرد جو ہوگا وہ متصف نہیں ہوتا انشاء و خبر کے ساتھ۔ معلوم ہوا اب حسبی پہ عطف تو ہو رہا ہے۔ اور یہ ہے جملہ انشائیہ لیکن حسبی یہ تو نہ خبر ہے اور نہ انشاء انشاء ہے۔ تو انشاء کا عطف خبر پر لازم آیا؟ نہیں لازم آیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک صورت میں تو عطف انشاء کا خبر پر لازما آ رہا ہے دوسری صورت میں لازم نہیں۔ نہیں آ رہا۔ تو بتلایا مولانا کہ حسبی کس معنی میں ہے؟ محسبی کے معنی میں۔ احسب یحسب سے۔ اور محسبی متضمن ہے یحسبنی کے معنی کو۔ محسبی کس کو معنی کے معنی کو متضمن ہے؟ یحسبنی۔ یحسبنی کے معنی کو متضمن ہے اور یحسبنی کیا ہے مولانا؟ جملہ ہے اور وہ متصف ہوتا ہے کس سے؟ خبر اور خبر اور انشاء سے خبر یا انشاء سے متصف ہو سکتا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا بات صحیح ہوئی۔ جی۔ اعتراض یہ ہوا کہ علامت تفتازانی نے دو تقدیریں بنائیں نعم الوکیل کا عطف یا تو وھو حسبی پورے جملے پر ہے یا حسبی جملے کے ایک جز پر ہے۔ اور پھر کہا دونوں صورتوں میں انشاء کا عطف لازم آ رہا ہے کس پر؟ خبر پر لازم آ رہا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ دونوں صورتوں میں تو یہ لازم نہیں آتا۔ اس لیے کہ اگر پورے جملے پر عطف کریں تو وہ تو پورا جملہ ہے اور جملہ کیا متصف ہوتا ہے خبر یا انشاء کے ساتھ تو ما قبل میں کون سا جملہ ہوا خبریہ اور یہ کون سا جملہ ہوا انشاء تو انشاء کا عطف کس پہ ہوا؟ خبر پر۔ اب بات ٹھیک ہے۔ لیکن دوسری تقدیر کی صورت میں آپ نے کیا کہا تھا اس کا عطف صرف حسبی پر ہے اور حسبی پورا جملہ یا مفرد ہے؟ ایک جز ہے جملے کا مولانا۔ کیا ہے؟ ایک جز ہے۔ اور ایک جز ہو جو پورا جملہ نہ ہو اس کو کوئی کہتا ہے یہ خبر ہے یا انشاء ہے؟ ایک جز کو کوئی بھی خبر یا انشاء نہیں تو مفرد جو ہوگا وہ متصف نہیں ہوتا انشاء و خبر کے ساتھ۔ معلوم ہوا اب حسبی پہ عطف تو ہو رہا ہے۔ اور یہ ہے جملہ انشائیہ لیکن حسبی یہ تو نہ خبر ہے اور نہ انشاء۔ تو انشاء کا عطف خبر پر لازم آیا؟ نہیں لازم آیا۔ نہیں لازم آیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک صورت میں تو عطف انشاء کا خبر پر لازما آ رہا ہے دوسری صورت میں لازم نہیں۔ نہیں آ رہا۔ تو بتلایا مولانا کہ حسبی کس معنی میں ہے؟ محسبی کے معنی میں۔ احسب یحسب سے۔ اور محسبی متضمن ہے یحسبنی کے معنی کو۔ محسبی کس کو معنی کے معنی کو متضمن ہے؟ یحسبنی۔ یحسبنی کے معنی کو متضمن ہے اور یحسبنی کیا ہے مولانا؟ جملہ ہے اور وہ متصف ہوتا ہے کس سے؟ خبر اور خبر اور انشاء سے خبر یا انشاء سے متصف ہو سکتا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا بات صحیح ہوئی۔ جی۔ اعتراض یہ ہوا کہ علامت تفتازانی نے دو تقدیریں بنائیں نعم الوکیل کا عطف یا تو وھو حسبی پورے جملے پر ہے یا حسبی جملے کے ایک جز پر ہے۔ اور پھر کہا دونوں صورتوں میں انشاء کا عطف لازم آ رہا ہے کس پر؟ خبر پر لازم آ رہا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ دونوں صورتوں میں تو یہ لازم نہیں آتا۔ اس لیے کہ اگر پورے جملے پر عطف کریں تو وہ تو پورا جملہ ہے اور جملہ کیا متصف ہوتا ہے خبر یا انشاء کے ساتھ تو ما قبل میں کون سا جملہ ہوا خبریہ اور یہ کون سا جملہ ہوا انشاء تو انشاء کا عطف کس پہ ہوا؟ خبر۔ بھئی ایک شخص ہے، اس کے سامنے اپ اس کو کہنا چاہتے ہیں: زید کھڑا ہے۔ اپ کیا کہیں گے؟ زید قائم۔ معنی مراد کیا تھے؟ اپ اس کو بتانا چاہتے ہیں: زید کھڑا ہے۔ اور لفظ اپ نے کیا استعمال کیے؟ زید قائم۔ یہ جبکہ اس کو تردد بھی نہیں ہے، اور وہ انکار کرنے والا بھی نہیں۔ اور اگر وہ سامنے اس کو وہ متردد ہے تو بہتر ہے ایک تاکید لے آؤ۔ کہو: إن زیداً قائم۔ اور اگر اس کا انکار ہے پھر تو إن کا لانا، تاکید لانا واجب ہے۔ اور اگر اس کا انکار بڑا ہے، تھوڑا نہیں، زیادہ انکار کر رہا ہے، تو ایک اور تاکید لے آؤ: إن زیداً لقائم۔ ایک لام تاکید بھی لے آئے۔ بھئی اس کا انکار بہت زیادہ ہے، وہ مان ہی نہیں رہا کہ زید کھڑا ہے، اپ کہتے ہیں: واللہ إن زیداً لقائم۔ دیکھو معنی مراد کی ادائیگی میں اپ کو فن اول اتا تھا، تو معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے اپ بچ گئے۔ ورنہ تو اس کا انکار زبردست تھا، اپ اس کے سامنے کہیں: زید قائم۔ تو یہ معنی مراد اپ صحیح ادا کر رہے ہیں؟ نہیں تو کہاں تاکید لانی ہے، کہاں تاکید نہیں لانی۔ کہاں مولانا جملہ اسمیہ لانا ہے، کہاں جملہ فعلیہ لانا ہے۔ اور کہاں مبتدا وغیرہ کو ذکر کرنا ہے، کہاں حذف کرنا ہے۔ وغیرہ اس قسم کی چیزیں کہاں کس طور پر لانی ہیں، یہ اپ کو کس سے پتہ چلے گا؟ فن اول سے۔ تو معنی مراد کی ادائیگی میں اپ غلطی سے بچ جائیں گے۔ إن کان الغرض منه الاحتراز، يرحمك الله، إن کان الغرض منه الاحتراز، اگر غرض اس سے بچنا ہو عن الخطی غلطی سے، غلطی سے بچنا ہو فی تادیة المعنی المراد، معنی مراد کی ادائیگی میں، فہو الفن الاول وہ فن اول ہے، والا اور اگر ایسا نہ ہو سمجھ میں آیا بھئی؟ والا اچھا بھئی۔ ہاں بھئی، یہ کون سا استثناء ہے؟ ہاں بھئی، تم بتاؤ۔ ہاں بھئی، تم بتاؤ۔ ہاں بھئی، تم بتاؤ۔ تم بتاؤ بھئی۔ ہاں بھئی۔ بھئی یاد رکھو الا کے شروع میں واؤ آ جائے تو یہ الا نہیں ہوتا، دراصل یہ إن لا ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ إن لا۔ حرف شرط ہے اور لا ہے، ای و إن لم يكن كذلك اگر ایسا نہ ہو، استثناء نہیں ہے مولانا، حرف استثناء نہیں۔ یہ علامت ہمیشہ یاد رکھنا بھئی ہمیشہ۔ و الا ای و إن لم يكن كذلك اگر ایسا نہ ہو، فإن کان الغرض منه الاحتراز عن التعقيد المعنوی فہو الفن الثانی، اور اگر غرض اس سے کیا ہو مولانا مقصود سے، تعقید معنوی سے بچنا ہو تو پھر وہ کیا ہے فن ثانی ہے۔ تعقید جانتے ہیں یا نہیں مولانا؟ کہ کلام کا مشکل ہونا، پیچیدہ ہونا، کہ اس کا معنی سمجھ میں نہ آئے بھئی۔ अच्छा जी। فھو الفن الثانی، تو وہ فن ثانی ہے، و الا فہو الفن الثالث، ورنہ وہ کیا ہے فن ثالث ہے۔ و جعل الخاتمة خارجة عن الفن الثالث وهم۔ بھئی یہ کہتے ہیں، شبہ کا جواب دے رہے ہیں ایک اعتراض کا، ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں مولانا، انہوں نے کیا ذکر کیا؟ مختصر کتنی چیزوں پر مشتمل ہے؟ ایک مقدمے پر اور فنون ثلاثہ پر۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اپ کی بات صحیح نہیں۔ چار چیزیں ذکر کرنی چاہیے تھیں، پانچ۔ ایک مقدمہ، تین فنون، اور ایک خاتمہ۔ کتاب کے آخر میں ایک خاتمہ بھی آ رہا ہے، اس کو اپ ذکر کرنا بھول گئے۔ جواب دیتے ہیں: نہیں بھئی، خاتمہ کوئی الگ چیز نہیں ہے، وہ فن ثالث ہی میں داخل ہے، اسی کا جز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی کا جز ہے، اور اس کا جز کیسے ہے؟ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: وہاں جا کر میں اپ کو بتاؤں گا کہ یہ کیا ہے فن ثالث ہی کا جز ہے، اس سے الگ چیز نہیں ہے۔ و جعل الخاتمة خارجة، جعل الخاتمة، مولانا یہ مصدر ہے جعل اور یہ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو مفعول۔ ایک کی طرف اضافت ہو گئی جعل الخاتمة، اور خارجة یہ اس کا مفعول ثانی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور خاتمے کو خارج بنانا، خارج قرار دینا عن الفن الثالث فن ثالث سے، وھم یہ وہم ہے، کما نبین انشاء اللہ تعالی، جیسے کہ ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ولما جر کلامه، یہاں سے ایک اور یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ مصنف نے یہاں ذکر کیا مقدمة، معرفہ ذکر کیا یا نکرہ ذکر کیا مولانا؟ نکرہ ذکر کیا اور آگے کہیں گے الفن الاول، والفن الثانی، والثالث مولانا، تو وہاں معرفہ ذکر کریں گے، اور یہاں نکرہ ذکر کیا مقدمة، تو اشکال ہوا کہ یہ کیا وجہ ہے؟ یا تو ہر جگہ معرفہ لے کر آتے یا ہر جگہ کیا لے کر آتے؟ نکرہ لے کر آتے بھئی۔ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ مقدمہ تو ذکر کر رہے ہیں وجہ کہ یہاں پر یہ مقدمہ کے لفظ کو نکرہ کیوں ذکر کیا؟ آگے بتلائیں گے اپ کو مولانا علامہ تفتازانی کہ یہ مقدمہ چل رہا ہے۔ اس سے پہلے مقدمہ کا ذکر نہیں ہوا، جب ذکر نہیں ہوا تو اس کو نکرہ ہی ذکر کیا۔ جبکہ اسی مقدمے کے مقدمے کے آخر میں وجہ حصر ذکر کریں گے فنون ثلاثہ کی بھئی۔ کہ علم بلاغت کو تین ہی فنون میں کیوں بند کیا؟ تو جب وجہ حصر ذکر کریں گے تو فن اول، فن ثانی، فن ثالث کا ذکر وہاں ا جائے گا۔ اور جب ایک دفعہ ذکر ا جائے ایک چیز کا، اور دوبارہ وہی چیز آگے ذکر کرنی ہو، تو اس کو کس کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے؟ الف لام عہد خارجی کے ساتھ۔ اپ کہتے ہیں: جاءنی رجل، فأکرمت الرجل۔ میرے پاس ایک ادمی آیا، پس میں نے اس ادمی کا اکرام کیا۔ تو پہلے کیا کہا؟ جاءنی رجل نکرہ لائے۔ اب اگے بتلانا چاہتے ہیں اکرام بھی اسی ادمی کا کیا، تو الف لام لاؤ مولانا یہ الف لام اشارہ کرے گا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ وہی ادمی مراد ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ الف لام کے ذریعے اشارہ کیا جاتا ہے کسی چیز کی طرف، تو یہ اشارہ کرے گا مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ اور اگر اپ کہتے ہیں: جاءنی رجل فأکرمت رجلاً، معلوم ہوا یہ رجل اور وہ رجل غیر ہیں ایک دوسرے کے۔ میرے پاس ایک ادمی ایا، میں نے ایک ادمی کا اکرام کیا، یہ کوئی اور رجل ہے۔ اس لیے کہ نکرہ ایک قسم کو نکرہ لایا جائے، اور پھر وہ نکرہ ائے تو ثانی اول سے غیر ہوتا ہے۔ جیسے قران میں ایا ہے: فإن مع العسر يسراً، إن مع العسر يسراً۔ تو یہاں دیکھو يسراً يسراً دو مرتبہ ایا ہے مولانا، اس لیے علماء لکھتے ہیں کہ عسر سے تو وہی عسر مراد ہے، العسر ایا ہے معرفہ مولانا۔ اور يسراً پہلی ایت میں ہے نکرہ، دوسری میں بھی نکرہ، معلوم ہوا یسر ثانی سے وہی پہلا یسر اور اسانی نہیں مراد، اس سے کیا ہے؟ الگ اسانی مراد ہے، معلوم ہوا ہر تکلیف، تنگی، پریشانی کے ساتھ دو اسانیاں ہیں، ایک نہیں بلکہ کتنی ہے؟ دو اسانیاں ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ دو اسانیاں ہیں۔ تو وہاں پر ایک دفعہ فن اول، ثانی، ثالث کا ذکر ہو چکا ہے، آگے اب عنوانات دے رہے ہیں الفن الاول، الفن الثانی، الفن الثالث، اس لیے کہ ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہے، تو پھر اب کس کے ذریعے کس کے ساتھ ذکر کریں گے؟ الف لام۔ جبکہ مقدمہ کا یہاں پہلا پہلے کوئی ذکر نہیں ہوا، لہذا اس کو الف لام کے ساتھ ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ و لما جر کلامه فی آخر هذه المقدمة، اور جب چلا مصنف کا کلام فی آخر هذه المقدمة اس مقدمہ کے آخر میں کس کی طرف چلا؟ الی انحصار المقصود فی الفنون الثلاثة اس بات کی طرف کہ مقصود بند ہے کس چیز میں؟ تین فنون۔ تین فنون کا ذکر ا گیا تھا، تو لہذا مناسب ذکرها بطریق تعریف العهدی تو مناسب ہوئی کہ ان تینوں کا ذکر اب کس کے ساتھ کیا جائے؟ تعریف العهدی، ان پر الف لام عہد خارجی لایا جائے بھئی، بخلاف المقدمة، بخلاف مقدمہ کے، فانہا لا مقتضی لایرادها باللفظ المعرفة فی هذا المقام، اس لیے کہ کوئی ایسا مقتضی نہیں ہے، کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تقاضا کرے لایرادھا کہ اس کو لایا جائے، یہ اس کو ذکر کیا جائے باللفظ المعرفة معرفہ کے لفظ کے ساتھ فی هذا مقام اس مقام میں۔ فنکرھا، لہذا مصنف نے بھی اس کو کیا بنایا؟ نکرہ بنایا، و قال اور یوں کہا: مقدمة بھئی، سمجھ میں ایا؟ المقدمة نہیں کہا۔ والخلاف فی أن تنوينها للتعظیم أو التقلیل، أو التقلیل بھئی، عبارت بھی ٹھیک کرتے جائیں۔ فی أن تنوینها للتعظیم او التقلیل مما لا ینبغی أن یقع بین المحصلین۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے یہاں اور بھی بحثیں کی ہیں کہ مقدمة کی تنوین کس لیے ہے؟ تعظیم کے لیے، بعضوں نے تراظیم کے لیے بنائی بھئی۔ کیونکہ اس مقدمے کا نفع بہت عظیم ہے، تو یہ معلوم ہوا یہ تنوین کس لیے ہے؟ تعظیم کے لیے، اے مقدمة عظیمة بھئی۔ اور بعضوں نے کہا کہ یہ چونکہ چھوٹا سا ہے مقدمہ، مختصر سا ہے، تو انہوں نے کہا یہ تنوین تقلید کے لیے ہے، اے مقدمة صغيرة، سمجھ میں آیا؟ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں بھئی، ان بحثوں میں پڑھنے کی ضرورت نہیں، ان کا کوئی فائدہ نہیں طلباء کے لیے بھئی۔ والخلاف فی ان تنوینها للتعظیم او التقلیل، اور اختلاف اس بات میں کہ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے یا تقلید کے لیے ہے، مما یہ ان بحثوں میں سے ہے، لا ینبغی جو مناسب نہیں ہے ان یقع بین المحصلین کہ وہ واقع ہوں تحصیل کرنے والے یعنی طلباء کے بیچ بھئی۔ اب مقدمہ لفظ کی مولانا تحقیق کر رہے ہیں، والمقدمة مأخوذة من مقدمة الجيش، اور مقدمہ ماخوذ ہے مقدمۃ الجیش سے مولانا، مقدمۃ الجیش سے۔ مقدمۃ الجیش کس کو کہتے ہیں؟ بھئی یاد رکھو، قدیم زمانے میں لشکر چلتا اس کے پانچ حصے ہوا کرتے ہیں عموماً بھئی۔ دائیں طرف والے حصے کو کہتے ہیں میمنہ، بائیں طرف والے میسرہ، ایک قلب ہوتا درمیان میں، ایک مقدمہ ہوتا اگے، اور ایک ساقہ ہوتا پیچھے والا حصہ۔ دائیں بائیں، آگے پیچھے اور درمیان میں پانچ حصے ہوئے مولانا، دائیں طرف والا میمنہ، بائیں طرف والا میسرہ، پیچھے والا ساقہ، درمیان والا قلب، اور اگے والا مقدمہ۔ تو یہ ماخوذ ہے اس سے مقدمۃ الجیش کہتے تھے، یہ ماخوذ ہے مقدمۃ الجیش سے للجماعة المتقدمة منها، اس جماعت کے ایسی جماعت کے لیے جو اس سے مقدم ہو، مقدم ہو منہاس لشکر میں سے۔ اس لشکر میں سے اور مقدم ہو اس جماعت کو کیا کہتے ہیں؟ مقدمہ۔ من قدم بمعنی تقدم، یہ اور یہ قدم سے ہے مولانا باب تفعیل سے ہے، لیکن بمعنی باب تفاعل کے ہیں مولانا۔ اس لیے کہ مولانا، مقدم، قدم یقدم کے معنی کیا آتے ہیں؟ آگے کرنا، اور یہ مقدمہ آگے دوسروں کو کرنے والا ہے، مقاصد کو آگے کرنے والا ہے یا خود ان پر آگے ہوتا ہے، پہلے ہوتا ہے؟ خود پہلے ہوتا ہے۔ تو یہ قدم بمعنی تقدم کے ہے، یعنی متقدمہ، خود پہلے انے والا بھئی۔ من قدم بمعنی تقدم، یقدم بمعنی تقدم تقدم سے ہے بمعنی تقدم کے، یقال مقدمة العلم، اب یہاں سے اپ کو بتلانے والا ہے علامہ تفتازانی بھئی، ایک مقدمة العلم ہے اور ایک مقدمة الکتاب ہے۔ دونوں کا فرق سمجھا رہے ہیں بھئی، قیمتی بات بتلا رہے ہیں اپ کو علامہ تفتازانی بھئی۔ مقدمة العلم اسے کہتے ہیں جس پر کسی علم میں شروع ہونا موقوف ہو۔ خود بتلا رہے ہیں بھئی، لما یتوقف عليه الشروع فی المسائل۔ جس میں کسی علم میں شروع ہونا جس پر موقوف ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ مقدمة العلم۔ بھئی یہ تین چیزوں کا نام ہے، تعریف، موضوع، غرض و غایت۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقدمة العلم، کہ جو بھی علم شروع کریں اپ کو اس کو اپ کو اس کی تعریف ہونی پتہ ہونی چاہیے، اس کے غرض اس کا مقصد کیا ہے، فائدہ کیا ہے اس کا، اور اس کے موضوع۔ ہاں اور اس کا موضوع، اور اس کا موضوع، اور اس کا موضوع اپ کو پتہ ہونا چاہیے۔ علم کا ہی نہیں پتہ، اس کے فائدے کا ہی نہیں پتہ اس کا فائدہ کیا ہے، تو پھر تو کیا ہے اپ کی تحصیل عبث ہے، بیکار ہے مولانا۔ جبکہ مقدمة الکتاب، مقدمة الکتاب وہ ہوتا ہے بھئی، کتاب کے شروع میں مصنف کچھ چند باتیں اکٹھی کر کے لکھ دیتا ہے کہ یہ باتیں اپ کو اگے کتاب میں کام ائیں گی بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقدمة الکتاب کہتے ہیں۔ فرق دونوں میں سمجھ میں ایا بھئی؟ يقال مقدمة العلم، کہا جاتا ہے مقدمة العلم لما اس چیز کو یتوقف علیہ الشروع فی مسائله کہ موقوف ہو اس پر شروع ہونا اس علم کے مسائل میں، و مقدمة الکتاب اور مقدمة الکتاب جو ہے لطائفة من کلامه۔ وہ کس کو کہتے ہیں؟ جی؟ ا ایک طائفہ گروہ بھئی۔ کس کو کہتے ہیں؟ کلام، اس کی کلام کا ایک گروہ ہوتا ہے، یعنی چھوٹا سا تھوڑا سا کلام ہوتا ہے، قدمت امام المقصود، جس کو مقدم کیا جاتا ہے مقصود پر، لارتباط لہ، اس لیے کہ اس مقصود کا ارتباط ہوتا ہے بھا، کس کے ساتھ؟ اس طائفے کے ساتھ۔ بھئی آگے انے والا جو مقصود ہے، اس کا تعلق ہوتا ہے اس اس کلام کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے۔ و انتفاع بها، اور نفع ہوتا ہے اس طائفہ کلام سے فیہ، کس کے اندر مولانا؟ اس مقصود میں۔ اس طائفہ کلام جو مصنف نے کچھ باتیں شروع کیں، مولانا اس کے سبب سے نفع حاصل ہوتا ہے، کس کے اندر؟ فیہی فی فی المقصود مقصد میں۔ وہی ها هنا، اور یہاں پر مقدمہ کیوں ہے، بتلا رہے ہیں وہی ها هنا لبیان معنی الفصاحة والبلاغة، یہاں پر مقدمہ فصاحت تو بلاغت کے معنی بیان کرنے کے لیے ہے، وانحصار علم البلاغة فی علم المعانی والبیان، اور اس بات کے بارے میں بیان کرنے کے لیے ہے، کہ علم بلاغت کو بند کیا کس کے اندر بند کرنا کس میں؟ علم المعانی اور علم البیان میں، یہ وجہ حصر بھی ذکر کریں گے اس میں، وما یلائم ذلک، اور جو چیزیں اس کے مناسب ہیں، تو یہ اس میں ذکر ہوں گی، ولا يخفا وجه ارتباط المقاصد بذلک، اور مخفی نہیں ہے مولانا اس کے ارتباط کی وجہ مقاصد کے ساتھ۔ بھئی یہ کتاب کس چیز کی ہے؟ فصاحت و بلاغت سے متعلق ہے۔ تو جب فصاحت و بلاغت سے متعلق ہے، تو اور فنون ثلاثہ اسی کے گرد چلیں گے، تو مقدمے کے اندر فصاحت و بلاغت کی تعریف ا گئی، اور فنون ثلاثہ میں وجہ حصر ا گئی، اور اس سے مناسب کچھ اور باتیں ذکر کریں گے، تو مقصود ہیں فنون ثلاثہ، اور وہ کس کے بارے میں ہے فصاحت و بلاغت کے بارے میں، اور مقدمے میں بھی کس کو ذکر کریں گے فصاحت و بلاغت کی تعریف ذکر کریں گے مولانا، اور کہ اور پھر یہ بتائیں گے تین یہ مقاصد تین فنون میں کیوں بند ہیں، اور پھر اس کے مناسب کچھ اور باتیں ذکر کریں گے تو ارتباط ہے مقدمے کا مقاصد کے ساتھ یا ارتباط نہیں ہے مولانا؟ ارتباط ہے مولانا، ولا یخفا اور مخفی نہیں ہے وجہ ارتباط المقاصد مقاصد کے اس کے ساتھ ارتباط کی وجہ بذالك، بذالك اس کے ساتھ بھئی، ارتباط کی وجہ مخفی نہیں ہے۔ و الفرق بين مقدمة العلم و مقدمة الكتاب، مما خفى على كثير من الناس، اور مقدمة العلم اور مقدمة الكتاب میں فرق جو ہے، مما ان چیزوں میں سے ہے، خفى على كثير من الناس، جو بہت سے لوگوں پر مخفی ہے، اکثر بہت سے علماء کو معلوم نہیں، بھئی علامہ تفتازانی کہتے ہیں، میں نے اپ کو بتلا دیا فرق کہ دونوں میں کیا فرق ہے، مقدمة العلم کس کو کہتے ہیں، تعریف موضوع اور غرض و غایت ہے، اور مقدمة الكتاب وہ جو مقاصد سے متعلق چند باتیں ذکر ہوتی ہیں کتاب کے شروع میں، وہ کیا ہے مقدمة الكتاب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا هذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔ یہ کچھ باتیں تھیں۔
21 approved lectures · 5 of 21