آگے سبق دیکھیے بھئی۔ خاصیاتِ باب افتعال۔ اس باب کی چھ خاصیات ہیں: نمبر ایک اتحاد، نمبر دو تصرف، نمبر تین تخییر، نمبر چار ابتدا، نمبر پانچ مطاوعت تفاعل، نمبر چھ موافقت مجرد و افعال و تفاعل و استفعال۔ اچھا، نمبر ایک بھئی اتحاد۔ اس کی چار صورتیں ہیں۔ نمبر ایک، فاعل کا ماخض کو بنانا، یعنی ایجاد کرنا۔ جیسے اجترالفار۔
چوہے نے بل بنایا۔ ماخض جحرن ہے۔ جحر بھئی چوہے کا جو بل ہے سوراخ ہے، سوراخ کو اور بل کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ جحرن۔ اسی سے باب بنا لیا باب افتعال۔ اجتر۔ کیا معنی؟ اجتر کا معنی سوراخ بنانا، بل بنانا۔ اجترالفار۔ فار چوہے کو کہتے ہیں۔ چوہے نے بل بنایا۔ تو دیکھو ماخض کو وجود دیا۔ ماخض کیا ہے؟ جحرن، جحرن۔
یا اور مثال دیکھ لو۔ خبز روٹی کو کہتے ہیں، خبز۔ اسی سے باب بنا لیا۔ اختبز زید۔ زید نے روٹی بنائی یعنی روٹی کو وجود دیا۔ آگے ہے نمبر دو، فاعل کا ماخض کو اختیار کرنا۔ جیسے اجتنب زید۔ زید نے کنارہ اختیار کیا۔ ماخض جنبن ہے۔
جنب کسے کہتے ہیں؟ جانب کو بھئی۔ تو زید نے ایک جانب کو اختیار کیا یعنی ایک طرف ہوا۔ اور دوسری مثال جیسے احتراز۔ احتراز۔ یاد رکھیے حرصن عربی میں کہتے ہیں۔ پناہ گاہ کو، محفوظ جگہ کو۔ کیا کہتے ہیں؟ محفوظ جگہ۔
حرصن۔ اسی سے باب بنا لیا باب افتعال۔ احتراز۔ یعنی اس نے پناہ لی۔ اس نے محفوظ مقام کو اپنایا۔ محفوظ مقام پر پہنچا۔ احتراز، اس نے پناہ لی۔ آگے دیکھیے نمبر تین ہے فاعل کا مفعول کو ماخض بنانا۔ جیسے اشتویت اللحمہ۔
میں نے گوشت بھونا۔ ماخض شواون ہے۔ شوا کسے کہتے ہیں؟ بھنا ہوا گوشت۔ تو فاعل کا مفعول کو ماخض بنا لینا۔ اشتویت اللحمہ۔ لحم کو میں نے کیا بنا دیا؟ بھونا ہوا بنا دیا۔ نمبر چار ہے فاعل کا مفعول کو ماخض میں لینا، جیسے احتجرت الطفل۔
میں نے بچے کو گود میں اٹھایا۔ تو ماخض ہے حجرن یا حجرن، یہ گود کو کہتے ہیں۔ احتجرت الطفل۔ میں نے بچے، اس بچے کو گود میں اٹھایا۔
اتحاد کی چاروں صورتیں سمجھ میں آ گئیں؟ بعض میں فاعل کا ماخض کو بنانا اور وجود دینا ہے۔ بعض میں وجود دینا نہیں ہے بلکہ اختیار کرنا ہے۔ بعض میں مفعول کو ماخض بنا دینا۔ اور بعض میں ہے فاعل کا مفعول کو ماخض میں لے لینا۔ آگے دیکھیے نمبر دو، تصرف۔ تصرف کے لغوی معنی ہیں کسی کام میں دخل پانا۔
کسی کام میں دخل پانا۔ اصطلاحی معنی ہے فعل کے حصول میں کوشش کرنا۔ جیسے اکتسب زید۔ اکتسب کا معنی کمانا، کمانا۔ اکتسب زید۔ زید نے مال حاصل کرنے کی کوشش کی یا مال کمایا۔
اگلا خاصہ ہے تخییر۔ تخییر کے لغوی معنی ہیں اختیار کرنا، پسند کرنا۔ اصطلاحی معنی ہے فاعل کا کسی فعل کو اپنے لیے کرنا۔ جیسے اقتلت الشعیرہ۔ یاد رکھو، کالا یا کیلو کے معنی ہوتے ہیں ماپنا۔ کیا کرنا؟ ماپنا۔
اور اسی کو باب افتعال میں لے گئے۔ اکطال یکطالو۔ اب کیا معنی؟ اب معنی ہے اپنے لیے کرنا، ایک کام کو اپنے لیے۔ کالا یا کیلو کا کیا معنی تھا؟ ماپنا۔ اور اب اپنے لیے ماپنا بھئی۔ تو دیکھا جیسے اقتلت الشعیرہ۔
میں نے اپنے لیے جو کو ماپا بھئی۔ ناپا نہیں یہ ماپا ہونا چاہیے۔ میں نے اپنے لیے جو کو ماپا۔ تو شعیر کہتے ہیں جو کو۔ میں نے اپنے لیے جو ماپے۔ بلکہ اس کے بجائے، جو کی بجائے حنطہ لے آئیں اور آپ کو اچھی طرح بات سمجھ میں آئے گی۔ حنطہ۔ حنطہ گندم کو کہتے ہیں۔ اکتلت الحنطت۔ میں نے اپنے لیے گندم ماپی۔
ماپنا۔ بھئی، بعض چیزوں کو تول کر بیچتے ہیں۔ وزن کر کے ایک کلو، دو کلو۔ بعض چیزوں کو گن کر بیچتے ہیں، ایک درجن، دو درجن۔ بعض چیزوں کو پیمائش کر کے بیچتے ہیں۔
ناپ کر بیچتے ہیں جیسے زمین بیچتے ہیں ایک کنال، دو کنال، تین کنال یا کپڑا ناپ کر بیچتے ہیں ایک گز، دو گز، تین گز۔ اور بعض چیزوں کو ماپ کر بیچتے ہیں۔ جیسے دودھ ہے۔
دودھ کا وزن نہیں کرتے ایک خاص برتن کے اندر وہ جو لیٹر کا ہوتا ہے، اس میں ماپتے ہیں اور بتاتے ہیں آپ کو کہ یہ ایک بھرا ہوا برتن ایک لیٹر ہے، یہ آپ کو اتنے کا ملے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح گندم تو آج کل تو تول کر بیچتے ہیں۔
لیکن بعض دیہات میں اب بھی رواج ہے اور اسی طرح قدیم زمانے میں گندم اور یہ غلے کو ماپ کر بیچتے تھے۔ ایک برتن ہوتا تھا اور وہ برتن بھر کر مطلب ایک درہم کا ہے یا دو درہم کا ہے تو وہ برتن بھر کر اس کو بیچتے تھے یہ اتنے برتن تو آپ کو جتنے چاہیے ہوتے تھے اتنے خرید لیتے تھے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ ہے ماپنا تو اقتلت الحنطت۔ میں نے گندم کو اپنے لیے ماپا۔ کہ کتنے برتن بن گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اس کو کہتے تھے غالباً قفیض بھئی۔
ذکر آتا ہوگا فقہ کی کتابوں میں آئے گا بھئی قدوری وغیرہ میں وہ قفیض جو برتن ہوتا تھا اس میں ماپ کر بیچا کرتے تھے بھئی۔ دیکھیے کتاب پر جیسے اقتلت الشعیرہ، میں نے جو اپنے لیے ماپی۔ ماپنا ہونا چاہیے بھئی ناپنا نہیں۔ یہاں فاعل نے جو ناپنے کا عمل اپنے لیے کیا۔ آگے دیکھیے نمبر چار، ابتدا۔
جیسے ایطازا۔ بمانی جھک جانا۔ ایطازا کا معنی جھک جانا۔ یہ مادہ مجرد میں استعمال نہیں بھئی یہ ابتدا ہے۔ یہ مادہ شروع میں ہی مزید کے اندر استعمال ہوا۔ اور استلم الحجرا، اس نے پتھر کو چوما۔ اس کا مجرد سلیمہ ہے بمانی سلامت ہوا۔
مجرد میں معنی ہے سلامت ہونا۔ سلیمہ۔ اور اسی کو باب افتعال میں لے گئے استلما۔ تو استلما کا معنی ہے استلام کرنا، بوسہ لینا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ جیسے کہتے ہیں بھئی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں تو حجر اسود کا استلام کرتے ہیں۔
حجر اسود کا استلام کرتے ہیں اور حجر اسود کا بوسہ لے کر طواف شروع کرتے ہیں بھئی۔ استلم الحجرا۔ اس نے پتھر کو چوما۔ اس کا مجرد سلیمہ ہے بمانی سلامت ہوا۔
نمبر پانچ ہے بھئی مطاوعت تفاعل۔ جیسے غممته فاغتَمَّ۔ بھئی یہ درست نہیں ہے، اس کی اصلاح کر لیں، یہ تفاعل کی جگہ لکھ دیں مجرد۔ مطاوعت مجرد۔
مطاوعت مجرد۔ تفاعل کا لفظ بس کاٹ دیں اس کی جگہ لکھ دیں مجرد یعنی ثلاثی مجرد۔ اور آگے کیا آ رہا ہے جیسے غممته۔ غممته نہیں، یہ میم پر شد نہیں ہے، غممته۔
غممته یہ باب تفاعل نہیں ہے، غم یغمو نصرہ ہے نصرہ بھئی۔ غم یغمو کا معنی ہوتا ہے دوسرے کو غمگین کرنا اور اغتمہ کا معنی ہے خود غمگین ہونا، توجہ ہے؟ تو ترجمہ صحیح ہے۔ غممته فاغتَمَّ۔ میں نے اس کو غمگین کیا، پس وہ غمگین ہو گیا۔
اب نیچے لکھ لیں مطاوعت تفاعل بھئی۔ مطاوعت تفاعل۔ اس کی دوسری مثال میں لکھوا دیتا ہوں۔ وہیں پر لکھ لیں، وہیں پر اس کے نیچے لکھ لیں مطاوعت تفاعل۔ یہ جو مثال دی تھی، یہ تھی مطاوعت مجرد کی۔
اب آگے لکھ لیں مطاوعت تفاعل۔ مثال لکھ لیں عدلته فاعتدلا۔ عدلته عین، دال، مشدد، لام، تا، اور ہا اس کے ساتھ۔ عدلته فاعتدلا۔ آئی فا اعتدلا۔ فا کے ساتھ الف بھی ہے، فاعتدلا۔
लिख लिया؟ عدلته فاعتدلا۔ حمزہ وصلی ہے نا، گر جائے گا۔ میں نے اسے درست کیا، تو وہ درست ہو گیا۔
میں نے اسے درست کیا، تو وہ درست ہو گیا۔ لکھ لیا؟ تو دیکھو عدل، یہ ہے باب تفعل اور اوپر غما، یغمو، وہ تو باب نصرہ تھا، وہ مجرد تھا بھئی۔ مثال لکھ لی مطاوعت تفاعل، بھئی عدلته فاعتدلا۔ میں نے اس کو درست کیا تو وہ درست ہو گیا یا ترجمہ اور لکھنا چاہیں، میں نے اسے سیدھا کیا تو وہ سیدھا ہو گیا۔
یا میں نے اسے معتدل بنایا تو وہ معتدل ہو گیا۔ معتدل ہو گیا۔ آگے دیکھیے بھئی نمبر چھ، موافقت مجرد، افعال، تفاعل، تفاعل، اور استفعال۔ یعنی باب افتعال کبھی ان ابواب کے موافق استعمال ہوتا ہے۔
دیکھ رہے ہیں کتاب پر؟ موافقت مجرد کی مثال۔ ابلجا بمانی بلیجا۔ کشادہ ابرو ہونا۔ یہاں الف پر پھر مد غلط لکھا ہے، کشادہ ابرو ہونا۔ یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے بھئی کشادہ ابرو ہونا کیا معنی؟ یہ جو بھویں ہیں ان کے درمیان فاصلہ ہو، فصل آ جائے، اس کو کہتے ہیں کشادہ ابرو ہونا۔
تو اب دیکھو ابلجا کا بھی معنی کشادہ ابرو ہونا اور بلیجا جو مجرد ہے اس کا معنی بھی کشادہ ابرو ہونا۔ یا اور مثال لکھ لیں، قادرا اور اقتدرا۔ قادرا اور اقتدرا۔
قادرا اور اقتدرا۔ دونوں کا معنی ہے قادر ہوا۔ قادر ہوا۔ ایک اور مثال لکھ لیں، جازبا اور اجتزبا۔ جیم، ذال ہے ذال بھئی۔ اور با۔ جازبا اور اجتزبا۔ جازبا اور اجتزبا۔
دونوں کا معنی ہے کھینچنا۔ کھینچنا۔ کھینچنا۔ لکھ لیا؟ اچھا یہ دیکھا تو باب افتعال مجرد یعنی ثلاثی مجرد کے معنی میں ہے۔ توجہ ہے؟ قادرا کا معنی وہ قادر ہوا۔ اقتدرا کا معنی بھی وہ قادر ہوا۔ جازبا کا معنی اس نے کھینچا۔
اجتزبا کا معنی اس نے کھینچا۔ تو دیکھو باب افتعال ثلاثی مجرد کے معنی میں ہے۔ آگے دیکھیے موافقت افعال کی مثال۔ احتجزا بمانی احجزا۔ حجاز میں داخل ہوا۔
حجاز عرب کا ایک علاقہ ہے بھئی، اسی سے باب بنا لیا۔ احجزا اور اس میں بلوغ کی بلوغ کا خاصہ ہے۔ احجزا کا کیا معنی؟ حجاز میں پہنچا، حجاز میں داخل ہوا۔ اعرقا کا کیا معنی تھا؟ عراق میں پہنچنا، عراق میں داخل ہونا۔ تو احجزا کا کیا معنی؟ حجاز میں پہنچنا۔
تو یہ باب افعال کا جو معنی ہے، باب افتعال احتجزا کا بھی وہی معنی ہے۔ آگے دیکھیے موافقت تفاعل کی مثال۔ ارتدا بمانی تردا۔ اس نے چادر اوڑھ لی۔ ارتدا کا معنی بھی چادر اوڑھنا اور تردا جو باب تفاعل ہے، اس کا معنی بھی چادر اوڑھنا، تو دونوں کا ایک معنی ہے۔
موافقت تفاعل کی مثال۔ اختصم زید و عمرون بمانی تخاصما زید و عمرون۔ زید اور عمر نے باہم جھگڑا کیا۔ تو دیکھو باب افتعال باب تفاعل کے معنی میں ہے۔ اختصما اور تخاصما کا ایک ہی معنی ہے۔
آگے دیکھیے موافقت استفعال کی مثال۔ ایتاجرا بمانی استاجرا۔ نظر ہے بھئی؟ ایتاجرا بمانی استاجرا۔ اس نے اجرت طلب کی۔ بھئی اس کا معنی ہے ایتاجرا اور استاجرا کا معنی ہوتا ہے کوئی چیز کرائے پر لینا، کوئی چیز کرائے پر لینا یہ معنی لکھ لیں بھئی۔
کوئی چیز کرائے پر لینا۔ اس نے اجرت طلب کی، یہ معنی کاٹ دیں۔ تو ایتاجرا کا معنی بھی کرائے پر لینا۔ ایتاجرت المکانا۔ میں نے وہ مکان کرائے پر لیا۔ یا استاجرت المکان۔
اکانا میں نے اس جگہ کو کرائے پر لیا۔ یہ ساری خاصیات سمجھ میں آ گئیں، آگے دیکھیے بھئی۔
خصیّات بابِ استفعال اس باب کی دس خصیّات ہیں؛ نمبر ایک طلب، نمبر دو لیاقت، نمبر تین وجدان، نمبر چار حسبان، نمبر پانچ تحوّل، نمبر چھ اتّخاذ، نمبر سات قصر، نمبر آٹھ ابتدا، نمبر نو مطاوعتِ افعال، نمبر دس موافقتِ مجرّد و افعال و تفاعل و افتعال۔
نمبر ایک طلب؛ یعنی فاعل کا ماخوذ کو طلب کرنا، جیسے استطعمْتُہ، میں نے اس سے کھانا طلب کیا۔ ماخوذ طعام ہے طعام، طعام کسے کہتے ہیں؟ کھانا، اسی سے باب بنا لیا، استطعمْتُہ، میں نے اس سے کھانا طلب کیا۔ طلب یعنی فاعل کا ماخوذ کو طلب کرنا، جیسے استطعمْتُہ، میں نے اس سے کھانا طلب کیا، فاعل متکلّم نے ماخوذ الطّعام طلب کیا۔
نمبر دو لیاقت؛ یعنی فاعل کا ماخوذ کے لائق ہونا، جیسے استرْقَع الثّوْبُ، کپڑا پیوند کے لائق ہو گیا۔ بھئی پیوند کو عربی میں کہتے ہیں رُقعۃٌ، کپڑا وغیرہ کہیں پھٹ جائے اور اس پر دوسرا کپڑے کا ٹکڑا جوڑ کر اس کو سی لیں تو اس کو پیوند کہتے ہیں، پیوند لگانا۔ آج کل تو اللّٰہ نے سہولتیں فرما دیں بھئی، اب پیوند لگے کپڑے کوئی غریب آدمی بھی نہیں پہنتا بھئی۔ اور آج سے صرف تیس چالیس سال پیچھے ہی آپ چلے جائیں تو لوگوں کے کپڑوں پر عام پیوند لگے ہوتے تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟
اور اب تو کوئی غریب آدمی بھی پیوند لگے کپڑے پہننا پسند نہیں کرتا، دیکھو اللّٰہ کی طرف سے کتنی آسانیاں آ گئیں بھئی۔ یہ جیسے سردی ہے، سردی میں آپ گرم کپڑے پہنتے ہیں، سویٹر وغیرہ، یہ سویٹر وغیرہ، یہ تو کسی امیر آدمی کو بھی کم ہی ملتے تھے بھئی۔ اب تو آسانی ہو گئی، مشینوں پر چیزیں تیار ہوتی ہیں، ہر ایک کو مل جاتی ہیں، ہر ایک غریب سے غریب آدمی بھی خرید لیتا ہے، اور پہلے زمانے میں کسی کسی کے پاس یہ گرم چادر یا سویٹر جیسی کوئی چیز گرم پہننے والی ہوتی، عام لوگ کیا کرتے سردی میں وہی کوئی چادر وغیرہ استعمال کر لی، کسی کے پاس دو قمیضیں ہیں تو دو پہن لیتا تھا اوپر تلے بھئی سردی، اور کوئی صورت ہی نہیں ہوتی تھی بھئی۔ تو اب اللّٰہ نے کتنی آسانیاں فرما دیں، تو بات چلی تھی رُقعۃٌ، رُقعۃٌ کسے کہتے ہیں؟ پیوند کو، اسی سے باب بنا لیا استرْقَع الثّوْبُ، یعنی کپڑا پیوند کے لائق ہو گیا۔
تو فاعل الاّ صوا ماخوذ رُقعۃٌ کے لائق ہو گیا، آگے نمبر تین ہے وجدان، کے لغوی معنی ہیں پانا، اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخوذ کے ساتھ متصّف پانا، جیسے استکرمْتُ زیداً، میں نے زید کو کریم یعنی سخی پایا۔ بھئی کرم سخاوت کو کہتے ہیں، اسی سے باب بنا لیا استکرمْتُ زیداً، میں نے زید کو کرم یعنی سخاوت کے ساتھ متصّف پایا۔ فاعل نے مفعول کو ماخوذ یعنی کرم اور سخا کے ساتھ متصّف پایا۔
اور مثال بھئی استعظمتُہ، عظمت کا کیا معنی؟ عظیم، عظیم کا معنی عظیم ہونا، بڑا ہونا، اسی سے باب بنا لیا استعظمتُہ، میں نے اس کو عظیم پایا بھئی، عظیم پایا۔ یا بخیل سے استبخلْتُہ، میں نے اس کو بخیل پایا، یعنی بخل سے متصّف پایا۔
آگے دیکھیے بھئی حسبان۔ حسبان کے لغوی معنی ہیں خیال کرنا اور گمان کرنا، اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخوذ کے ساتھ متصّف گمان کرنا یعنی خیال کرنا، جیسے استحسنتُ زیداً، بھئی حسن کا معنی ہوتا ہے اچھا، اچھا، اسی سے باب بنا لیا استحسنتُ زیداً، میں نے زید کو حسن پایا، اچھا پایا بھئی۔ تو یہ حسبان ہے، پایا نہیں، میں نے زید کو نیک اچھا گمان کیا، اس کے بارے میں اچھا خیال کیا۔
اب آگے آپ کو بتائیں گے کہ ایک ہے وجدان، وجدان کا معنی بھی ایک صفت کے ساتھ متصّف پانا، اور حسبان کا معنی بھی ایک صفت کے ساتھ متصّف پانا، تو فرق کیا ہوا دونوں میں؟ تو بتائیں گے کہ نہیں بھئی، حسبان کا معنی متصّف پانا نہیں، متصّف خیال کرنا، کیا کرنا؟ متصّف خیال کرنا، یعنی یوں کہو اس میں خیال اور وہم ہوتا ہے، اور وجدان میں یقین ہوتا ہے۔
استعظمتُہ، میں نے زید کو عظیم پایا، یعنی یقین ہوا، میرا ایسے یقین ہے کہ وہ کیا ہے؟ عظیم ہے، اس میں یقین ہوتا ہے، اور یہ حسبان لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے، حسیب یحسبو کا کیا معنی تھا؟ گمان کرنا، تو اس میں گمان اور خیال ہوتا ہے، یقین نہیں ہوتا۔ دیکھیے کتاب پر، حسبان کے لغوی معنی ہیں خیال کرنا گمان کرنا، اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخوذ کے ساتھ متصّف گمان کرنا، جیسے استحسنتُ زیداً، میں نے زید کو نیک سمجھا، یعنی میں نے اس پر نیک اور اچھے ہونے کا گمان کیا بھئی، ماخوذ کیا ہے؟ حسن ہے، یا حسن کہہ لو ماخوذ ہے۔
اسی طرح عربی میں کہتے ہیں استقبحتُہ، میں نے اس کو برا خیال کیا، تو یہاں دیکھو قُبحٌ سے یہ اخذ کیا گیا بھئی، قُبحٌ کا کیا معنی؟ قبیح ہونا، برا ہونا، بدصورت ہونا، استقبحتُہ، میں نے اس کو قبیح سمجھا، قبیح، برا خیال کیا۔
آگے دیکھیے فائدہ۔ وجدان اور حسبان میں فرق یہ ہے کہ وجدان میں فاعل کو مفعول کا ماخوذ کے ساتھ متصّف ہونے پر یقین ہوتا ہے، جبکہ حسبان میں صرف گمان اور خیال ہوتا ہے۔
نمبر پانچ تحوّل۔ تحوّل اس کے لغوی معنی ہیں پھیرنا، پلٹنا، حالت کا بدلنا، اور اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا عینِ ماخوذ یا مثلِ ماخوذ ہونا۔ دو صورتیں ہیں، کبھی فاعل کیا بنے گا؟ عینِ ماخوذ، اور کبھی مثلِ ماخوذ بنے گا۔
جیسے استاحجر الطّینُ، گارا پتھر بن گیا، استاحجر الطّینُ، طین کسے کہتے ہیں؟ گارا، گارا۔ استاحجر کس سے ہے؟ حجر سے ہے، حجر کسے کہتے ہیں؟ پتھر، استاحجر الطّینُ، پتھر بن گیا، الطّین کیا چیز؟ ہاں طین، گارا یہ فاعل ہے، گارا جو ہے وہ پتھر بن گیا۔
یہ کیا معنی؟ عینِ ماخوذ بن گیا، کیا بن گیا؟ عینِ ماخوذ۔ اور اگر اس کا ترجمہ کریں مثلِ ماخوذ بن گیا، تو کیا ترجمہ کریں گے؟ استاحجر الطّینُ، گارا پتھر جیسا بن گیا، سخت ہو گیا، معنی سمجھ میں آیا؟ تو دونوں ترجمے ہو سکتے ہیں استاحجر الطّینُ گارا پتھر بن گیا یا مثلِ پتھر بن گیا۔
آگے دیکھیے استنوق الجملُ، ناقۃٌ اونٹنی کو کہتے ہیں، جملٌ اونٹ کو کہتے ہیں، نر اونٹ جو ہے اور ناقۃ اونٹنی، مادہ جو ہے، تو اسی سے ناقہ سے باب بنا لیا استنوق، اونٹنی بننا، اور کون اونٹنی بنی؟ الجملُ، نر اونٹ جو ہے وہ اونٹنی بن گیا بھئی۔ اونٹنی بن گیا، بھئی یہ کوئی عرب شاعر تھا، وہ اپنے اشعار سنا رہا تھا لوگوں کو، بڑا شاعر تھا۔
اس نے کہیں ایسا کیا شعر کے اندر، وہ اونٹ کی تعریف کر رہا تھا، تو اس نے اونٹ میں ایک ایسی صفت ذکر کر دی جو عموماً اونٹنیوں میں ہوتی تھی، کس میں ہوتی تھی؟ اونٹنیوں کی صفت، اس نے کس کے لیے ذکر کر دی؟ اونٹ کے لیے ذکر کر دی، تو وہاں ایک نوجوان تھا، اس نے کہا استنوق الجملُ، یہ نر اونٹ تو کیا بن گیا؟ اونٹنی بن گیا یعنی اونٹنی والی صفت آپ نے بیان کر دی اونٹ کے لیے، تو تو یہ محاورہ عرب میں مشہور ہو گیا، اور یہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی ایک بات کے ساتھ مخالف بات کو ملا دے، دیکھو اس نے اونٹ کے ساتھ کس کی بات ملا دی؟ اونٹنی کی بات ملا دی۔
اسی طرح اگر کوئی بہادر ہو اور بزدلی وغیرہ کر جائے، تو اس وقت بھی کہتے ہیں استنوق الجملُ، اونٹ کیا بن گیا؟ اونٹنی بن گیا، عورتوں والا کام کر دیا اس نے تو۔ سمجھ میں آیا؟ یا اسی طرح کوئی کوئی شخص عزت والا آدمی ہے، کسی وجہ سے ذلیل ہو گیا، تو کہتے ہیں استنوق الجملُ بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے کتاب پر استنوق الجملُ اونٹ اونٹنی بن گیا، یعنی جس طرح اونٹنی میں کمزوری ہوتی ہے، اسی طرح اونٹ کمزور ہو گیا، پہلی مثال میں ماخوذ حجر ہے اور دوسری مثال میں ناقہ ہے۔
نمبر چھ بھئی خاصہ نمبر چھ اتّخاذ؛ یعنی فاعل کا ماخوذ ایجاد کرنا، بنانا، جیسے استوطنتُ الحجازَ، یہ وطن سے بنایا، وطن، وطن سے فعل بنا لیا استوطنتُ الحجازَ، میں نے حجاز کو اپنا وطن بنا لیا، تو دیکھو فاعل نے ماخوذ کو وجود دیا، بنایا، وطن بنا لیا۔ استوطنتُ الحجازَ میں نے حجاز کو وطن بنایا، ماخوذ وطن ہے۔
یا دوسری مثال لے لو۔ خبز روٹی کو کہتے ہیں، اسی سے باب بنا لیتے ہیں، استخبز زیدٌ، زید نے کیا کیا؟ روٹی بنا لی، دیکھو ماخوذ جو ہے اس کو وجود دیا، اس کو بنا لیا۔
آگے دیکھیے فائدہ۔ اتّخاذ کی چار صورتیں ہیں، لیکن بابِ استفعال میں صرف یہی ایک صورت، فاعل کا ماخوذ ایجاد کرنا پائی جاتی ہے، باقی صورتیں بابِ استفعال میں زیادہ رائج نہیں۔
نمبر سات قصر؛ یعنی بغرضِ اختصار مرکّب کلام کو بابِ استفعال سے مشتقّ کے طور پر ایک کلمہ بنانا۔ بھئی عربی میں کہتے ہیں مثلاً قال الرّجلُ إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون، توجہ ہے؟ ایک آدمی کیا کہتا ہے؟ إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون، تو اس کے لیے پورا جملہ کہنا پڑے گا قال الرّجلُ اس آدمی نے کہا إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون، تو اسے مختصر کرکے ایک ہی صیغہ بنا لیا استرجَع، استرجَع زیدٌ، کیا معنی؟ زید نے إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون کہا۔ استرجَع، دیکھو راجعون آخر میں آ رہا ہے کہ نہیں رجع کا مادہ، اسی سے بنا لیا استرجَع، تو اس کو قصر کہتے ہیں، یہ مثال پہلے بھی گزر چکی بابِ تفعیل میں، حلّل، کیا معنی؟ ای قال لا الٰہ الا اللّٰہ، سبّح، ای قال سبحان اللّٰہ، کبّر، ای قال اللّٰہ اکبر بھئی۔
اسی طرح یہاں استرجَع، کیا معنی؟ قال إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون، اور آپ نے ابواب الصّرف میں پڑھا ہے یہ جو قصر ہے، اس کو نحت بھی کہتے ہیں، نون، ح اور لَمبی تا نحتٌ، نحت کا معنی ہوتا ہے تراشنا، تراشنا، دیکھو پورے جملے کو تراش کر ایک لفظ بنا دیا۔
کتاب پر دیکھیے، قصر یعنی بغرضِ اختصار مرکّب کلام کو بابِ استفعال سے مشتقّ کے طور پر ایک کلمہ بنانا، جیسے استرجَع زیدٌ، زید نے إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون کہا۔ استرجَع ایسا کلمہ ہے جسے اختصار کی غرض سے مرکّب کلام، مرکّب کلام إنّا للّٰہ سے بنا، إنّا للّٰہ سے نہیں، قال إنّا للّٰہ یہاں قال بھی ہونا چاہیے، جسے غرض سے مرکّب کلام قال إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون سے بنایا گیا ہے۔
تو ان میں قول کا معنی ہوتا ہے۔ استرجَع زیدٌ کیا معنی؟ قال زیدٌ إنّا للّٰہ وإنّا إلیْہ راجعون۔
اگلا خاصہ ہے نمبر آٹھ بھئی ابتدا، جیسے استأجزَا وہ جھک گیا، مجرّد میں یہ مادہ مستعمل نہیں۔ اور اسی طرح استعانہ، استحدّ، اس نے زیرِ ناف بال صاف کیے، مجرّد میں یہ عانہ ادھیڑ عمر کا ہونا اور حدّ تیز کرنا یا حد قائم کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
بھئی عانہ، عانہ مجرّد میں ادھیڑ عمر کا بھئی بڑی عمر کا ہونا، لیکن اسی کو بابِ استفعال میں لے گئے استعانہ، تو اس کا معنی ہوا زیرِ ناف بالوں کو صاف کرنا، دیکھو ایک نیا معنی آ گیا، یا جیسے حدّ کا معنی ہے تیز ہونا، تیز کرنا، لیکن اسی کو بابِ استفعال میں لے گئے استحدّ، تو اس کا معنی بھی زیرِ ناف بالوں کا صاف کرنا، نیا معنی آ گیا، یہ ہے ابتدا بھئی۔
آگے دیکھیے نمبر نو مطاوعت؛ یعنی بابِ استفعال کا بابِ افعال کے بعد اس غرض سے آنا کہ مفعول نے پہلے فعل کے فاعل کے اثر کو قبول کیا ہے، جیسے اقمتُہ فاستقام، میں نے اس کو کھڑا کیا یعنی میں نے اس کو سیدھا کیا پس وہ سیدھا ہو گیا، اقمتُہ فاستقام، میں نے اس کو سیدھا کیا پس وہ سیدھا ہو گیا۔
نمبر دس موافقتِ مجرّد و افعال و تفاعل و افتعال۔ موافقتِ مجرّد کی مثال استقرّ، بمعنی قرّ، ٹھہر گیا، مجرّد میں قرّ کا معنی ہے ٹھہر جانا تو استقرّ کا بھی وہی معنی ہے۔ یہ دوسری مثال لکھ لو استبانہ اور بانہ، استبانہ اور بانہ، استبانہ اور بانہ، دونوں کا معنی ہے ظاہر ہونا۔
آگے دیکھیے موافقتِ افعال کی مثال استجاب بمعنی اجابہ، جواب دیا، قبول کیا۔ استجاب کا بھی وہی معنی ہے بھئی جو اجابہ کا ہے، اجابہ کا معنی جواب دینا یا قبول کرنا بھئی، قبول کرنا۔ مثلاً اس نے مجھے دعوت دی فاجبْتُ تو میں نے قبول کی۔
تو استجا بہ کا بھی یہی معنی ہے یہ دوسری مثال ہے استخرج اور اخرجہ استخرج کا معنی بھی نکالنا اور اخرجہ کا معنی بھی نکالنا بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی موافقت تفاعل کی مثال استکبر بمعنی تکبر تکبر اور بڑائی کی وجہ سے انکار کیا۔ تکبر کا معنی بھی تکبر کیا اور استکبر کا معنی بھی تکبر کیا۔
موافقت افعال کی مثال استعصم بمعنی اعتصم اس نے مضبوطی سے تھاما یا گناہوں سے بچا۔ استعصم اور اعتصم دونوں کا ایک ہی معنی ہے بھئی گناہوں سے بچنا یا مضبوطی سے تھامنا دونوں کے ایک ہی معنی ہے۔
سارے خاصے سمجھ میں آ گئے اچھی طرح؟ آگے دیکھیے بھئی خاصیات باب انفعال۔ اس باب کی پانچ خاصیات ہیں نمبر ایک لزوم نمبر دو علاج نمبر تین ابتدا نمبر چار مطاوعت مجرد و افعال نمبر پانچ موافقت مجرد افعال۔
نمبر ایک بھئی لزوم باب انفعال کی ایک خاصیت لازم ہونا ہے چاہے اس کا مجرد لازم ہو یا متعدی توجہ ہے؟ لزوم یہ پہلے بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔ باب افعال کی خاصیت لازم ہونا ہے چاہے اس کا مجرد لازم ہو یا متعدی جیسے انصرف لوٹا پھیرا پلٹ گیا اور اس کا مجرد صرف لوٹا دیا پھیرا دیا پلٹا دیا متعدی ہے۔
توجہ ہے؟ مجرد میں صرف کا معنی ہے صرف کا معنی ہے پھیرنا پلٹانا اور اسی کو باب انفعال میں لے آئے انصرف تو یہ لازمی بن گیا معنی ہوا انصرف پھرنا پلٹنا بدلنا۔
تو متعدی کو کیا بنا دیا لازم بنا دیا۔ یا اور مثال جیسے انکسرا کسرہ کا معنی ہے توڑنا کسرہ کا معنی ہے توڑنا اور انکسرا کا معنی ہے ٹوٹنا ٹوٹنا۔
بس صرف اتنا لکھ لیں انکسرا اگلی مثال لکھ لیں انفتحا۔ انفتحا۔ اور تیسری مثال لکھ لیں انفرجہ۔ انفرجہ۔
لکھ لیا؟ تین مثالیں اور آ گئیں بھئی انکسرا انفتحا اور انفرجہ۔
کسرا کا کیا معنی توڑنا اور انکسرا کا معنی ٹوٹنا فتحا کا کیا معنی کھولنا اور انفتحا کا معنی کھلنا خود کھلنا انفتحا کھلنا۔
فریحا کا کیا معنی خوش ہونا۔ فریحا کا کیا معنی خوش ہونا اور انفرجہ کا معنی بھی خوش ہونا تو دیکھو ثلاثی مجرد ثلاثی مجرد میں چاہے وہ لازمی ہو چاہے متعدی باب انفعال میں وہ کیا ہوگا لازمی ہوگا۔
بات سمجھ میں آگئی۔ جیسے فریحا کا معنی بھی خوش ہونا اور انفرجہ کا معنی بھی خوش ہونا لیکن باقی سارے جو ہیں مجرد میں وہ متعدی ہیں تو باب انفعال میں آکر لازمی ہو گئے۔
نمبر دو بھئی دیکھیے بھئی آگے کتاب پر نمبر دو علاج علاج کے لغوی معنی ہیں بیماری کا علاج کرنا اور اصطلاحی معنی ہے۔ اچھا اس کے علاج کے لغوی معنی ہیں بیماری کا علاج کرنا اور اصطلاحی معنی ہے باب انفعال کا ان الفاظ سے آنا جن کا ادراک حواس ظاہرہ سے ہو کس سے ہو؟
حواس ظاہرہ سے ہو اور اعضائے ظاہرہ کا اثر ہو۔
اعضائے ظاہرہ بھئی ہاتھ پاؤں وغیرہ یہ اعضائے ظاہرہ ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ ہاتھ پاؤں آنکھیں ناک کان یہ سب کیا ہیں اعضائے ظاہرہ ہیں ظاہر ہیں یہ اعضا کیا ہیں ظاہر ہیں۔
اور ایک اعضائے باطنہ ہے قلب ہے دماغ ہے یہ سارے کیا ہیں باتیں یہ اندر چھپے ہوئے ہیں یہ تو ہمیں نظر نہیں آرہے تو ہاتھ پاؤں وغیرہ یہ اعضائے ظاہرہ ہیں۔
اس سے وہ الفاظ آئیں گے اس باب سے باب انفعال سے جن کا ادراک ہم حواس ظاہرہ سے کر سکتے ہیں جیسے دیکھو ابھی آیا انکسرا کوئی چیز ٹوٹے گی تو آنکھوں سے نظر آئے گی کہ نہیں اور یہ توڑنا ہاتھوں یا پاؤں سے ہوگا کہ نہیں دیکھا اعضائے ظاہرہ کا اثر ہے اور اس کا ہم آنکھوں سے ہمیں وہ دکھائی بھی دے اس کا ہم مشاہدہ بھی کر سکیں اس کو کہتے ہیں علاج کیا کہتے ہیں علاج تو ایک خاصیت اس باب کی کیا علاج اور علاج کسے کہتے ہیں؟
کہ اس سے وہ الفاظ آتے ہیں جن کا ادراک کس کے ذریعے ہو سکے؟ حواس ظاہرہ کے ذریعے ہو سکے اور وہ کس کا اثر ہو؟ اعضائے ظاہرہ کا اثر ہو دیکھیے کتاب پر بھئی کہتے ہیں علاج کے لغوی معنی ہیں بیماری کا علاج کرنا اور اصطلاحی معنی ہے باب انفعال کا ان الفاظ سے آنا جن کا ادراک حواس ظاہرہ سے ہو اور اعضائے ظاہرہ کا اثر ہو جیسے انکسرا ٹوٹا انفرطھ پھٹا انکسار ٹوٹنے اور انفتار پھٹنے کا ادراک حواس سے ہوتا ہے اور اعضائے ظاہرہ کا اثر ہوتا ہے۔
بات سمجھ میں آرہی ہے۔
فائدہ لزوم علاج باب انفعال کے لیے لازم ہے۔ توجہ ہے بڑی قیمتی بات بتلا رہے ہیں۔
لزوم علاج باب انفعال کے لیے لازم ہے اس باب کا کوئی فعل ان دو خاصیات سے خالی نہیں ہوگا جو بھی صیغہ اس باب کا آپ پکڑ لیں جو بھی لفظ اس باب سے آرہا ہو آپ دیکھیں گے ایک تو اس میں لزوم ہوگا یعنی متعدی نہیں ہوگا بلکہ کیا ہوگا لازمی ہوگا دوسرا اس کے اندر علاج ہوگا یعنی وہ وہ اعضائے ظاہرہ کا اثر ہوگا اور حواس ظاہرہ سے اس کو ہمیں وہ دکھائی بھی دے گا محسوس بھی ہوگا اس کا مشاہدہ بھی کر سکیں گے۔
آگے دیکھیے یہی وجہ ہے کہ ان علم اور ان عرفہ کہنا درست نہیں۔ کیونکہ علم علم کس سے ہوتا ہے؟
ذہن سے کسی چیز کو ہم کسی چیز کا علم ہوتا ہے کس کے ذریعے عقل کے ذریعے عقل کے ذریعے اور اسی طرح ان عرفہ کسی چیز کا پہچاننا معرفت یہ کس کے ذریعے ہوتی ہے دل کے ذریعے اس میں اعضائے ظاہرہ کا دخل نہیں ہے تو لہذا یہ باب انفعال سے نہیں آئیں گے بھئی باب انفعال سے وہ افعال آئیں گے جن کا پتہ کس سے چلے؟
اعضائے ظاہرہ سے چلے اور اثر بھی کس کا ہو؟ اعضائے ظاہرہ کا ہو۔ کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان علم اور ان عرفہ کہنا درست نہیں کیونکہ علم اور معرفت کا تعلق حواس ظاہرہ سے نہیں بلکہ عقل سے ہے دماغ سے ہے قلب سے ہے انفعال کے علاوہ دوسرے ابواب میں ان خاصیات کا اطلاق مجازی ہوگا۔
نمبر تین ہے ابتدا جیسے انطلقا وہ چلا گیا اس کا مجرد تلوقہ ہے آزاد ہونا رہا ہونا خندہ روح ہونا ہنس مکھ ہونا دیکھا۔
ثلاثی مجرد میں معنی اور ہے خندہ روح ہونا ہنس مکھ ہونا اور باب انفعال میں لائے انطلقا تو معنی ہے چلنا وہ چلا گیا انطلقا زید الگ معنی آگیا۔
آگے دیکھیے ابتدا کی پہلی صورت یعنی وہ مادہ جو مجرد میں سرے سے استعمال ہی نہ ہوتا ہو باب انفعال میں نہیں پائی جاتی ابتدا کی دو صورتیں تھیں نا ایک صورت کیا تھی؟
ثلاثی مجرد میں بھی ہے اور پھر آگے مزید میں بھی ہے لیکن معنی نیا وہ یہاں پر ہے اور ابتدا کا دوسرا معنی کیا تھا؟ کہ ثلاثی مجرد سے وہ استعمال ہی نہیں براہ راست کس میں آیا ہے؟
ثلاثی مزید میں کہتے ہیں وہ اس باب میں نہیں ہوتا بھئی۔
آگے دیکھیے نمبر چار مطاوعت مجرد افعال یعنی اس باب کا ثلاثی مجرد اور باب افعال کا مطاوع ہونا مطاوعت مجرد کی مثال کسر توہ میں نے اس کو توڑا فنکاسرا تو وہ ٹوٹ گیا دیکھا کس کا مطاوع ہے؟
کسرتہ مجرد کا ثلاثی مجرد کا کسر توہ فنکاسرا میں نے اس کو توڑا پس وہ ٹوٹ گیا آگے دیکھیے مطاوعت افعال کی مثال اغلق ت البابا میں نے دروازہ بند کیا فنغلق تو دروازہ بند ہو گیا دیکھو اغلق ت البابا کون سا باب ہے باب افعال تو یہ اس کا مطاوع بن رہا ہے باب انفعال۔
نمبر پانچ موافقت مجرد افعال یعنی باب انفعال کا ان ابواب کےم معنی ہونا موافقت مجرد کی مثال انبلج الصبح بمعنی بلیج صبح روشن ہوئی۔ انبلج الصبح صبح روشن ہوئی اور بلیج الصبح کا بھی یہی معنی ہے تو ثلاثی مجرد اور انفعال کا ایک ہی معنی ہے۔
آگے دیکھیے موافقت افعال کی مثال انحجزا بمعنی احجزا حجاز میں داخل ہوا۔ احجزا کا کیا معنی تھا؟
حجاز میں داخل ہونا انحجزا کا بھی وہی معنی ہے تو باب انفعال کس کے معنی میں ہوا باب افعال۔
آگے دیکھیے فائدہ جس کلمے کے فا کلمہ کے مقابلے میں حروف یرملون اچھا یہ فائدہ سمجھ لو ادھر دیکھو بھئی۔
یہ لفظی خاصیت ہے جیسے باب فتح کی ایک لفظی خاصیت پہلے گزری ہے کیا؟
ہاں کہ اس باب سے جو بھی کلمہ آئے گا اس کا عین یا لام کا حرف حلقی ہونا ضروری ہے تو اس باب کی بھی خاصیت ہے اس باب میں باب انفعال میں وہ کلمے نہیں آئیں گے جن کے فا کی جگہ یرملون میں سے کوئی حرف ہو۔
جس کے یعنی فا کی جگہ یا ہے یا را ہے یا میم یا لام یا واؤ یا نون وہ اس باب سے نہیں آئیں گے اور اس باب کا خاصہ کیا ہے لازمی اگر یہی معنی چاہیے ہو اور ایک کلمہ ہے اس کا عرب نے لازمی ترجمہ استعمال کرنا ہے اب باب انفعال میں تو وہ لا نہیں سکتے کیونکہ اس کے فا کی جگہ کیا آرہی ہے؟
یا یا را یا میم یا لام یا واؤ نون تو پھر اس کو باب افتعال میں لے جاتے ہیں کس میں؟
باب افتعال میں پھر لے جاتے ہیں۔ تو اس باب سے کون سے لفظ نہیں آ سکتے؟
جس کے فا کی جگہ کیا آئے؟ یرملون حروف یرملون میں سے کوئی آ جائے۔
جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ یرملون میں سے میم کے علاوہ باقی حروف مراد ہیں میم مراد نہیں ہے۔
جس لفظ کے فا کی جگہ کیا آئے؟ میم میم وہ اس باب سے آ سکتا ہے اور اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ تو یرملون میں میم کے علاوہ باقی حروف اگر فا کی جگہ ہوں پھر وہ اس باب سے نہیں آئیں گے۔
بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے فائدہ جس کلمے کے فا کلمہ کے مقابلے میں حروف یرملون یا را میم لام واؤ نون میں سے کوئی حرف ہو وہ کلمہ باب انفعال سے نہیں آتا اس لیے کہ ایسے کلمہ کا باب انفعال سے آنا باعث ثقل ہے۔
اس کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی نا ایک نون ہے اور پھر آگے ان حروف میں سے کوئی آ جائے۔ ایسے کلمے سے اگر باب انفعال کے معنی ادا کرنا مقصود ہو تو اس کو باب افتعال سے لایا جائے گا جیسے رفع توہ فرتفع۔
رفع توہ فرتفع میں نے اس کو اٹھایا پس وہ اٹھا۔ دیکھا رفع کے فا کی جگہ کیا ہے؟
را ہے اور را کس میں سے ہے؟ یرملون میں سے تو اس لیے فرتفع کہا بھئی باب افتعال میں لے گئے۔
آگے دیکھیے مدد توہ فامتدا میں نے اس کو کھینچا پس وہ کھنچ گیا تو فا کی جگہ کیا ہے؟
میم۔ لويت الرسنا فلتوا میں نے رسی بٹی پس وہ بٹ گئے لويت الرسنا رسن رسی کو کہتے ہیں۔
لوا یلوی کا معنی ہے بٹنا بھئی وہ رسی کو جو بل دیتے ہیں اس کو گھماتے ہیں بھئی تو اس کو کہتے ہیں بٹنا بٹنا میں نے رسی بٹی پس وہ بٹ گئی لويت الرسنا فلتوا لیکن امحا اصل میں تھا انمحا اور امتازہ اصل میں تھا انمازہ۔
باوجود یہ کہ فا کلمہ میں فا کلمہ میں نون میم ہے نون تو نہیں ہے میم ہے بھئی دونوں میں کیا ہے؟
امحا اصل میں کیا تھا انمحا تو فا کی جگہ کیا آیا؟ میم آیا انفعال نون تو باب انفعال کا اپنا ہے اور امتازہ اصل میں کیا تھا انمازہ یہاں بھی فا کی جگہ کیا آیا؟ میم آیا تو یہ کتابت کی غلطی ہے یہاں سے نون کو ختم کریں باوجود یہ کہ فا کلمہ میں میم ہے باب انفعال سے استعمال ہونا شاذ ہے کیا ہے؟
شاذ انہوں نے شاذ لکھا ہے لیکن میں نے بتایا اور علماء نے لکھا ہے کہ میم ان میں داخل نہیں میم کے علاوہ اور یا را لام واؤ نون مراد ہیں میم کے بہت سے لفظ آتے ہیں اس باب سے بھئی جن کے فا کی جگہ کیا ہے؟
میم ہے بھئی بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔
چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بہ حقیقة الکلام