اچھا بھئی، کل ہم نے اس علم یعنی علمِ صرف کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت پڑھ لی بھئی۔
علمِ صرف کا دوسرا نام علمِ تصریف ہے۔ تصریف، بابِ تفعیل، وہی صرف۔ ص، ر، ف، اسی کو کس میں لے گئے؟ بابِ تفعیل، تصریف ص کے ساتھ۔ تو اس کو علمِ صرف بھی کہتے ہیں اور علمِ تصریف بھی کہتے ہیں۔ تو کہیں اگر علمِ تصریف کا لفظ آ جائے تو آپ نے پریشان نہیں ہونا کہ یہ کون سا علم ہے۔ بھئی، وہی علمِ صرف کا ایک نام کیا ہے؟ علمِ تصریف بھئی۔
تو اس علمِ تصریف کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت آپ نے پڑھ لی۔ اور پتہ چل گیا کہ اس علم میں کس کے بارے میں بحث ہوگی؟ صیغوں کے بارے میں۔ عربی کلمات مِن حیث الصیغہ، کس حیثیت سے؟ صیغہ ہونے کی حیثیت سے، کہ کون سا صیغہ ہے بھئی؟ ماضی ہے، مضارع ہے، امر ہے، نہی ہے، اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے، ظرف ہے، اسمِ آلہ ہے، اسمِ تفصیل وغیرہ کون سا صیغہ ہے بھئی۔
اور اس کا مقصد کیا ہے؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ کہ انسان لفظی غلطیوں سے بچ جاتا ہے بھئی۔ جس کو علمِ صرف، جس نے پڑھا ہوگا، مکرم کہیں لکھا ہوا ہے تو وہ اس کو مکرم ہی پڑھے گا۔ جس نے علمِ صرف نہیں پڑھا، وہ حیران ہوگا کہ اس کو میں مکرم پڑھوں، مکرم پڑھوں، مکرم پڑھوں، مکرم پڑھوں، کیا پڑھوں اس کو؟ وہ غلطی کر جائے گا بھئی۔
میں نے بتایا آپ کو بھئی، یہ علم الصیغہ اصل میں تو مصنف نے فارسی زبان میں لکھی بھئی۔ اور کمال کیا مصنف نے کہ ایک قید و بند کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے، انگریز کی سخت ترین ظلم اور بربریت کے باوجود، ان احوال کے اندر انہوں نے اتنی قیمتی کتاب لکھی بھئی۔
فارسی زبان میں اس کتاب کا لطف ہی بہت زیادہ ہے بھئی۔ اور پھر فارسی زبان میں چند لفظوں میں جو بات ہو جاتی ہے، اردو زبان میں کئی لائنوں میں بھی جا کر وہ بات پوری نہیں ہوتی بھئی۔ فارسی بڑی جامع زبان ہے بھئی، بڑی قدیم، بڑی وسیع زبان ہے۔
تو فارسی کتاب سے بھی پڑھ لیا کروں گا، اس کا معنیٰ اور مفہوم آپ کو سمجھا دیا کروں گا۔ اور پھر اس کے بعد اس کے ساتھ ہی اردو کتاب بھی پڑھ لیا کریں گے۔ انشاء اللہ، یہ پھر اردو کتاب کو تو صرف پھر مطالعہ ہی کریں گے، پڑھیں گے تو آپ کو سارا کچھ خود بخود سمجھ میں آتا چلا جائے گا۔
اب دیکھیے بھئی، کتاب پر۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله الذي بيده تصريف الأحوال۔
الحمد لله، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، الذي بيده تصريف الأحوال۔ تصریف، صرّف يصرّف تصریف کا معنیٰ ہے پھیرنا، پلٹنا، ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلنا۔ مثلاً کوئی غریب ہے تو اس کو امیر بنا دیا، کوئی امیر ہے تو اس کو غریب بنا دیا، کوئی خوش ہے تو غم میں مبتلا کر دیا، کوئی غم میں ہے تو خوش کر دیا، کوئی بادشاہ ہے تو اس کو فقیر بنا دیا، کوئی فقیر ہے تو بادشاہ بنا دیا۔ تو یہ ہے احوال کا، یہ ہے بدلنا، پھیرنا احوال کا بھئی۔
اور بیدہ، اس کے ہاتھ میں ہے، یعنی اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ الحمد لله الذي، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے کہ الذي بيده تصريف الأحوال، کہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہے احوال کا پھیرنا۔ مختلف احوال کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیرنا، یہ کس کے قبضۂ قدرت میں ہے؟ اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے بھئی۔ اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے، اور میں نے مختلف احوال ذکر کر دیے بھئی۔ مالداری ہے، غربت ہے، بادشاہی ہے، فقر ہے، خوشی ہے، غمی ہے، اطمینان اور سکون ہے، پریشانی ہے۔ تو ایک حالت سے دوسری حالت یا اسی طرح دیکھ لو، کبھی گرمی ہے، کبھی سردی ہے، کبھی بہار ہے، کبھی خزان ہے۔ تو مختلف یہ چیزوں کے احوال کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیرنا، یہ کس کے قبضۂ قدرت میں ہے؟ اللہ کے۔
الحمد لله الذي، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ جس کے بیدہ، اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ ید کسے کہتے ہیں؟ ہاتھ کو، ہاتھ کو، بیدہ اس کے ہاتھ میں، یعنی اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں تصریف۔ بیدہ، اللہ کے ہاتھ میں، ہاتھ سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی قدرت ہے، قدرت ہے۔ قدرت مراد ہے، کیونکہ اللہ کے مثل کوئی نہیں۔ تو اللہ کے لیے جسم ثابت کرنا، یاد رکھو، یہ کفر ہے بھئی۔ آپ کہیں اللہ کی آنکھیں ہیں، اللہ کے کان ہیں، یا اللہ کے ہاتھ ہیں، یا اللہ کے پاؤں ہیں، یاد رکھو، یہ کفر ہے بھئی، کیونکہ ليس كمثله شيء، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں۔
تو یہ تفصیل آگے کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ تو اللہ کے لیے یہ جسم کو ثابت کرنا، یہ کفر ہے۔ وجہ یہ کہ جو جس کا جسم ہوگا، وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب جسم ہوگا تو جسم کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے بھئی۔ جسم کے لیے کوئی بنانا... اس کا مطلب ہے اللہ کو کسی نے بنایا ہے؟ اور جب کسی کو کسی نے بنایا ہو، وہ تو خدا نہیں ہو سکتا۔ خدا تو وہ ہے جو خود بخود ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ تو اللہ کے لیے جسم نہیں۔ اللہ کے کان نہیں، لیکن اللہ سنتے ہیں۔ اللہ کی آنکھیں نہیں، لیکن اللہ دیکھتے ہیں۔ ہر چیز سنتے ہیں، ہر چیز دیکھتے ہیں۔ لیکن اللہ ان کانوں کے محتاج نہیں ہیں، اللہ ان آنکھوں کے محتاج نہیں ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اللہ کے لیے تمام صفات ہیں، تمام صفات تو ہیں، لیکن اللہ کے لیے یہ ہاتھ، پاؤں وغیرہ ثابت کرنا، یہ کیونکہ یہ کمزوری کی علامت ہیں بھئی۔ معلوم ہو، جس کے ہاتھ پاؤں ہوں گے، وہ کسی کا محتاج ہوگا، جیسے انسان ہے۔ انسان کے یہ ہاتھ، پاؤں، کان ہیں، لیکن خود بخود ہیں؟ یہ اللہ نے بنائے ہیں، اللہ نے بنائے ہیں بھئی۔
تو اس لیے بیدہ، ید کا یہاں ترجمہ کیا کریں گے؟ قدرت کے۔ الحمد لله الذي بيده تصريف الأحوال، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ جس کے قبضۂ قدرت میں ہے تصريف الأحوال، احوال کا پھیرنا، احوال کا بدلنا۔ تمام احوال کا بدلنا۔ وتخفيف الأثقال۔ تخفیف کا معنیٰ ہے ہلکا کرنا، ہلکا۔ اثقال جمع ہے ثقل کی۔ ثقل کہتے ہیں بوجھ کو، وزن، وزن۔ بوجھوں کو، وزن کو، وزنوں کو ہلکا کرنا، یہ کس کے قبضۂ قدرت میں ہے؟ اللہ کے۔ مختلف قسم کے بوجھ بھئی، جیسے پریشانی کا بوجھ ہے، غم کا بوجھ ہے، قرضے کا بوجھ ہے، ان سب بوجھوں کو ہلکا کرنا کس کے قبضۂ قدرت میں ہے؟ اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے بھئی۔
والصلاة والسلام، اور رحمت ہو اور سلامتی ہو۔ اور رحمت اور سلامتی ہو، نازل ہو علی سيد الهادين۔ تمام ہدایت دینے والوں کے سردار پر۔ سید: سردار۔ ہادی: ہدایت دینے والا۔ ہادی کون سا صیغہ ہے؟ ہادی... شاباش، ہادی کیا ہے؟ اسمِ فاعل ہے بھئی، ہدیٰ یہدی سے۔ آپ نے پڑھا یا نہیں؟ ہدیٰ یہدی... ہاں، رامٍ، جیسے وہاں کیا پڑھا تھا آپ نے؟ رامٍ، ہادٍ۔ اصل میں ہادٍ، اصل میں کیا ہے؟ ہادیٌ، یا آخر سے گر گئی۔ کس وجہ سے؟ اجتماعِ ساکنین۔ اب تو آپ صرفی ہیں، قوانین کا پتہ ہے۔ اب دیکھتے جائیے، آپ نے ابواب یاد کیے۔ ابواب یاد ہیں نہ سب کو؟ ابواب یاد ہوں گے تو ہم بڑی رفتار سے چلتے جائیں گے اور آپ دیکھیں گے جو جو باتیں یہ ذکر کر رہے ہیں، سب آپ کو پتہ ہیں۔ کوئی کبھی کبھار کوئی نئی بات بھی آئے گی، وہ آپ نوٹ کرتے جائیں گے، لیکن ابواب آپ کو ازبر ہونے چاہئیں بھئی، ابواب الصرف بھئی، مکمل۔ آپ سب کو ماشاء اللہ بہترین یاد ہیں، ہم بڑی رفتار سے انشاء اللہ کتاب حل کرتے ہوئے چلیں گے۔
تو سيد الهادين، ہادیوں کے سردار، رہنمائی کرنے والوں کے سردار۔ رہنمائی کرنے والے، بھئی کس چیز کی طرف رہنمائی کرنے والے؟ إلى محاسن الأفعال۔ افعال: کام۔ محاسن: اچھے، اچھے کام۔ محاسن الأفعال: اچھے کام۔ وہ جو والصلاة والسلام، رحمت اور سلامتی نازل ہو علی سيد الهادين، ان ان پر جو سردار ہیں رہنمائی کرنے والوں کے إلى محاسن الأفعال، اچھے افعال کی طرف۔ کس کی طرف؟ اچھے افعال کی طرف۔ دیکھو بھئی، معنیٰ سمجھو۔ اچھے افعال کی طرف جو لوگ رہنمائی کرنے والے ہیں، اچھے افعال کی طرف جو... الهادين إلى محاسن الأفعال، رہنمائی کرنے والے ہیں، کس کی طرف؟ اچھے افعال کی طرف، یعنی انبیاء مراد ہیں، پیغمبر مراد ہیں بھئی۔ انبیاء کس چیز کی طرف رہنمائی کرتے ہیں لوگوں کی؟ اچھے افعال کی طرف، توحید کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں بھئی، اللہ کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرنے کی تلقین کرتے ہیں، سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں، جرات کی تلقین کرتے ہیں، ہمت اور قوت کی تلقین کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کی مدد کرنا، ایک دوسرے کے کام آنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا، رشتہ داروں کی مدد کرنا، سب کی مدد کرنا، یہ تلقین کون کرتے ہیں؟ انبیاء۔ تو انبیاء کیا ہوئے؟ هادين إلى محاسن الأفعال، وہ جو رہنمائی کرنے والے ہیں إلى محاسن الأفعال، کس کی طرف؟ اچھے افعال کی طرف۔ سید: ان کے جو سردار ہیں، یعنی تمام انبیاء کے جو سردار ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ان پر رحمت اور سلامتی نازل ہو۔ اب ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
دوبارہ دیکھ لیں اوپر سے: الحمد لله الذي بيده تصريف الأحوال وتخفيف الأثقال، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ جس کے قبضۂ قدرت میں ہے احوال کا پھیرنا اور بوجھوں کا کم کرنا۔ والصلاة والسلام على سيد الهادين إلى محاسن الأفعال، اور رحمت اور سلامتی نازل ہو... ترجمہ آخر سے ہوگا: اچھے افعال کی طرف رہنمائی کرنے والوں کے سردار پر۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور رحمت اور سلامتی ہو، اب آخر سے ترجمہ: اچھے افعال کی طرف رہنمائی کرنے والوں کے سردار پر۔ وعلى آله، اور ان کی آل پر، یعنی ان کی پیروی کرنے والے۔ آل سے کیا مراد ہیں؟ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلنے والے ہیں، یعنی اہلِمصنوع۔
اور بعضوں نے کہا آل سے مراد ہیں متقی مومنین بھئی، جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے، اللہ کا ڈر ہے۔
تو رحمت اور سلامتی ہو ان تمام انبیاء کے سردار پر بھی، وعلى آله، اور ان کی آل پر، ان پر بھی رحمت اور سلامتی ہو۔ وصحبه، اور حضور کے صحابہ پر بھی۔ حضور کے صحابہ پر بھی۔ المضارعين له، جو ان کے مشابہ ہیں۔ مضارع کا معنیٰ...معنی ہوتا ہے مشابہ ہونا، ایک چیز کا دوسرے جیسا ہونا۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید شیر جیسا ہے۔ کس چیز میں؟ بہادری میں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یا دو بھئی ہیں ایک جیسے، ایک دوسرے جیسی شکل ہے، تو آپ کہتے ہیں یہ بھئی دوسرے بھئی جیسا ہے۔ تو ایک دوسرے کے مثل ہونا، مشابہ ہونا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مضارع۔ مضارع کا کیا معنی؟ مشابہ۔ فعل مضارع کو بھی مضارع اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ اسم کے مشابہ ہے۔ کیا ہے؟ اسم۔ وہ آگے آپ نحو کے اندر پڑھیں گے۔ تو مضارع کا کیا معنی؟ مشابہ۔ المضارع۔ اور حضور کے وہ صحابہ المضارعين لهُ جو مشابہ ہیں لهُ اس کے، کس کے مشابہ ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ لهُ کی ھا ضمیر کس کو راجع؟ سید الهادین یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اور ان کے وہ صحابہ المضارعين لهُ جو کس کے مشابہ ہیں؟ حضور کے مشابہ ہیں۔ بھئی کس چیز میں مشابہ ہیں؟ في الصفاتِ والأعمالِ، صفات اور اعمال میں۔ صفات بھی حضور جیسی، اعمال بھی حضور جیسے۔ صحابہ کون ہیں بھئی؟ جن کی تربیت حضور نے کی تھی۔ حضور ان کی صفات، اپنی صفات ان کی طرف منتقل فرمائیں بھئی۔ صحابہ بھی کیا تھے؟ حضور کی طرح سچ بولنے والے تھے۔ صحابہ بھی کیا تھے؟ آخرت پر ایمان رکھنے والے تھے۔ صحابہ حضور کی طرح جرأت مند، بہادر تھے۔ صحابہ حضور کی طرح اچھے اخلاق والے تھے۔ صحابہ حضور کی طرح نیکی کے تمام کام کرنے والے تھے۔ تو حضور کے راستے پر وہ چلتے تھے یا نہیں چلتے تھے؟ حضور ہی کے راستے پر چلتے تھے۔ حضور کی جو صفات ہوتیں ان کو اپنانے کی کوشش کرتے۔ حضور کے جو اعمال ہوتے، نماز ہے، روزہ ہے، زکوۃ ہے، حج ہے، دوسروں کی مدد کرنا ہے، دوسروں کو معاف کر دینا ہے، اور زبان کو بری باتوں سے محفوظ رکھنا ہے، ہر چیز میں صحابہ کس کی پیروی کرتے تھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، صفات میں بھی اور اعمال کے اندر بھی بھئی، اعمال کے اندر بھی۔ صفات بھی حضور جیسی تھیں، یعنی عقائد اچھے تھے، خوش اخلاق تھے، سچ بولنے والے تھے۔ اور اعمال بھی حضور جیسے تھے، نمازیں پڑھتے، زکوۃ دیتے، سچ بولتے، اور دوسروں کی مدد کرتے، اور کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔
تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟ ہاں، پھر ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لو بھئی۔ الحمد لله الذي بيده تصرف بھئی، آپ جو جو پڑھتے جا رہے ہیں آپ اس کے استاد بنتے جا رہے ہیں۔ کل آپ کو کوئی کہے مجھے یہ جگہ پڑھا دو، تو یہ نہ کہیں میں مطالعہ کروں گا یا مجھے بھول گئی ہے، فلاں، نہیں نہیں۔ یہ سبق جو سبق پڑھو اس کو بہترین یاد کرو اس طرح سے کہ آپ سے کوئی پوچھے تو آپ اس کو بالکل استاد کی طرح پڑھا سکیں بھئی۔ الحمد لله الذي بيده تصريف الأحوال وتخفيف الأثقال تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے قبضہ قدرت میں ہے تمام احوال کو پھیرنا اور تمام بوجھوں کو کم کرنا، تمام بوجھوں کو ہلکا کرنا۔ والصلاة والسلام على سيد الهادين إلى محاسن الأفعال اور رحمت اور سلامتی نازل ہو اچھے افعال کی طرف رہنمائی کرنے والوں کے سردار پر، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ وعلى آله اور ان کی آل پر، یعنی ان کی پیروی کرنے والے متقی مومنین پر۔ وصحبه اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر۔ المضارعين له في الصفات والأعمال وہ صحابہ جو حضور کے مشابہ ہیں صفات اور اعمال کے اندر۔
مصنف نے یہ خطبہ ہے بھئی، خطبہ۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، حضور پر صلاۃ و سلام کو ذکر کیا، خطبہ چل رہا ہے بھئی۔ اور خطبے میں ایسے الفاظ لانا، ابھی تو کتاب نہیں شروع کی نا، ابھی تو شروع کی دو چار لائنیں ہی مصنف نے لکھی ہیں۔ ابھی خطبہ لکھ رہے ہیں۔ لیکن خطبے میں اللہ کی تعریف کر رہے ہیں، حضور پر صلاۃ و سلام کو ذکر کر رہے ہیں، لیکن ایسے لفظ لے آئے جس سے آگے کتاب کی طرف خود بخود اشارہ ہو رہا ہے کہ میں کس فن میں کتاب لکھ رہا ہوں۔ تصریف، لائے یا نہیں بھئی؟ علم صرف کی طرف۔ اور تصریف کا لفظ لے آئے بھئی۔ تخفیف، تخفیف آئے گی یا نہیں؟ ہمزہ کے اندر کوئی بھی تبدیلی کی جائے، آپ نے پڑھا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ تخفیف۔ اور باقی حروف میں تبدیلی کی جائے، وہ کیا ہے؟ اعلال بھئی۔ اثقال، آپ نے پڑھا ہے بھئی، کوئی لفظ ہوگا وہ کہتے ہیں یہ ثقیل ہے، پھر اس میں تخفیف کے لیے یہ کیا گیا، دو ہمزہ اکٹھے ہو گئے، ثقیل تھے، ایک کو کیا کیا؟ گرا دیا یا بدل دیا۔ تو یہ تخفیف، ثقیل۔ اچھا، آگے آپ نے کیا پڑھا؟ محاسن الأفعال، علم صرف میں زیادہ بحث ہوتی ہی کس کی ہے؟ افعال کی ہوتی ہے بھئی۔ المضارعين له، فعل مضارع بھی آتا ہے یا نہیں؟ تو فعل مضارع کا بھی ذکر آ گیا بھئی، فعل مضارع کا بھی ذکر آ گیا۔
تو خطبے میں ایسے لفظ لانا جس سے آگے آنے والے کتاب کی طرف، آگے آنے والے مقصد کی طرف اشارہ ہو جائے، اس کو کہتے ہیں براعتِ استہلال۔ کیا کہتے ہیں؟ براعتِ استہلال۔ براعتِ استہلال۔ یہ ایک صنعت ہے جس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے بھئی، اور یہ کوئی آسان نہیں ہے کہ بڑا دماغ خرچ کرنا پڑے گا، سوچنا پڑے گا، ایسے لفظ لاؤں اور یہ بھی نہیں کہ معنی بھی خراب نہ ہو، معنی بھی دیکھو۔ جب خطبہ بھی آپ ترجمہ پڑھ رہے تھے، آپ کو کوئی پتہ نہیں تھا کہ یہ ان لفظوں کو لا رہے ہیں جو آگے کس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ترجمہ بہترین ہو رہا تھا۔ لیکن پھر جب غور کیا، اسی ترجمے کے لیے ایسے ایسے لفظ لے آئے جس سے آگے آنے والے مقصد کی طرف اشارہ کر دیا کہ دراصل میری یہ کتاب کس کے اندر ہے؟ علمِ صرف کے اندر ہے۔ ابھی آگے وہ خود بتائیں گے، لیکن ابھی تک تو نہیں بتایا، لیکن اشارہ کر دیا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ براعتِ استہلال۔ اور اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ تو مصنف کا یہ خطبہ براعتِ استہلال پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ یاد رکھنا ہے، بھولنا نہیں۔ خطبے میں ایسے لفظ لانا، خطبے میں ایسے لفظ لانا جس سے آگے آنے والے مقصد کی طرف، یعنی کتاب کی طرف کیا ہو جائے؟ اشارہ ہو جائے، اسے براعتِ استہلال کہتے ہیں۔
دیکھیے بھئی، اب اما بعد فارسی کتاب میں پہلے، أما بعد می گوید بندہء نیازمند۔ کہتا ہے نیازمند بندہ۔ نیازمند کا معنی ہے، نیازمند کا ایک معنی ہے محتاج، محتاج۔ یا نیازمند کا ایک معنی ہے فرمانبردار۔ تو جو بھی ترجمہ آپ کو اچھا لگے آپ کر سکتے ہیں۔ می گوید بندہء نیازمند نیازمندِ بارگاہِ ربِ صمد۔ نیازمندِ بارگاہِ ربِ صمد، بارگاہ کہتے ہیں دربار کو۔ رب صمد، بے نیاز رب۔ بے نیاز رب۔ قل ہو اللہ احد اللہ الصمد، دیکھا صمد کا کیا معنی؟ بے نیاز، جو کسی کا محتاج نہ ہو اور دوسرے اس کے محتاج ہوں۔ تو یہاں بھی کہا رب صمد، وہ رب جو کیا ہے؟ صمد ہے، بے نیاز ہے، کسی کا حاجت مند نہیں۔ تو می گوید بندہء نیازمندِ بارگاہِ ربِ صمد، کہتا ہے وہ بندہ جو محتاج ہے بے نیاز پروردگار کے دربار کا۔ وہ بندہ جو محتاج ہے، کس کا محتاج ہے؟ بے نیاز پروردگار کے دربار کا محتاج ہے، یعنی اللہ کا محتاج ہے۔ المعتصم، معتصم کا معنی ہے سہارا پکڑنا، پناہ پکڑنا، دامن تھام لینا۔ المعتصم بذيلِ سيد الأنبياء، ذیل کہتے ہیں دامن کو، دامن کو۔ سید الانبیاء، جو تمام انبیاء کے سردار۔ تمام انبیاء کے سردار کے دامن کو تھامنے والا۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو تھامنے والا۔
یعنی ہمارا ہم اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں تو حضور کے واسطے کے بغیر نہیں حاصل کر سکتے بھئی۔ کوئی شخص اللہ تک پہنچنا چاہتا ہے، اللہ کا قریبی ہونا چاہتا ہے، اللہ کا محبوب بننا چاہتا ہے، تو کیا کرنا پڑے گا اس کو؟ حضور کے ذریعے اللہ کا محبوب بن سکتا ہے، حضور کے بغیر نہیں۔ حضور کے راستے پر چلنا پڑے گا۔ کوئی حضور کو نہیں مانتا، جتنی مرضی عبادت کرے، کچھ بھی کرے، وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں۔ تو حضور کے دامن کو تھامتے ہوئے، تو مصنف کیا فرما رہے ہیں کہ میں اللہ کے دربار کا محتاج ہوں، محتاج ہوں۔ اور کس کے واسطے سے، کس کا دامن تھام رہا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ تو کہتے ہیں می گوید بندہء نیازمندِ بارگاہِ ربِ صمد، بے نیاز پروردگار کے دربار کا محتاج بندہ کہتا ہے المعتصم بذيلِ سيد الأنبياء جو دامن کو تھامنے والا ہے تمام انبیاء کے سردار کے، تمام انبیاء کے سردار کے دامن کو تھامنے والا ہے، محمد عنایت احمد، نام کیا ہے میرا؟ محمد عنایت احمد۔ یہ مفتی عنایت احمد ہیں۔
غُفِرَ لَهُ الأَحَد، یہ اپنے لیے دعا کر لی بھئی۔ غُفِرَ لَهُ الأَحَد، کہ اللہ الأحد وہ جو ایک ہے، یعنی اللہ۔ غُفِرَ لَهُ الأَحَد، وہ اللہ اس کی مغفرت فرما دیں، اس کو معاف فرما دیں۔ یہ اپنے لیے، جیسے کہتے نہیں ہیں آپ بزرگوں کا جہاں کہیں نام آتا ہے آپ کہتے ہیں رحمہ اللہ تعالی، اللہ ان پر کیا فرمائے؟ رحم۔ تو اپنا نام آیا تو اپنے لیے دعا لکھ دی تاکہ جو بھی پڑھے گا، جو بھی طالب علم پڑھے گا، تو غُفِرَ لَهُ الأَحَد میرے لیے وہ اس کی زبان سے خود بخود کیا جاری ہو جائے گی؟ دعا جاری ہو جائے گی۔ غُفِرَ لَهُ، اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔ کہ ایں رسالہ ایست، کہ یہ کیا ہے؟ ایک رسالہ۔ رسالہ کہتے ہیں چھوٹی کتاب کو، ایک بڑی کتاب ہوتی ہے اور رسالہ کسے کہتے ہیں؟ چھوٹی کتاب۔ ایں رسالہ ایست، یہ ایک چھوٹا رسالہ، چھوٹی کتاب ہے در علمِ صرف، کس علم میں؟ علمِ صرف میں۔ کہ بپاسِ خاطرِ شفیق، محسن، مجمعِ محاسن۔
اچھا، کہ بپاسِ خاطر، پاس کہتے ہیں رعایت رکھنا۔ خاطر کہتے ہیں دل کو۔ بپاسِ خاطر، دل کی رعایت رکھتے ہوئے، یعنی ان کی دلجوئی کے لیے، ان کو خوش کرنے کے لیے، بپاسِ خاطر ان کے دل کی، یہ کسی نے کہا ہوگا نا، آگے ذکر کر رہے ہیں حافظ وزیر علی صاحب، انہوں نے درخواست کی ہوگی میرے لیے کوئی رسالہ لکھیں، میں بھی قید میں ہوں، آپ بھی قید کے اندر ہیں، چلیں میں آپ سے کچھ علمی فائدہ حاصل کر لوں۔ تو ان کے دل کی رعایت رکھتے ہوئے، ان کی درخواست کی رعایت رکھتے ہوئے۔ بپاسِ خاطرِ شفیق، شفیق وہ جو ان کے دل کی رعایت رکھتے ہوئے، کن کے دل کی رعایت رکھتے ہوئے؟ شفیق جو شفقت کرنے والے ہیں۔ ہم پر کیا کرنے والے ہیں؟ ہم سے یعنی ہم سے اچھا سلوک کرنے والے ہیں، محبت کرنے والے ہیں۔ محسن، شفیق ہیں، محسن ہیں یعنی نیکی کرنے والے ہیں۔ احسان کرنے والے ہیں، مجمعِ محاسن اور ابھی محاسن گزرا، اچھی خوبیاں۔ مجمعِ محاسن، جن اچھی خوبیاں جمع۔ یہ وہ آگے آنے والے جو کوئی بڑے سردار، کوئی بڑے آدمی تھا، کوئی وزیر وغیرہ ہوگا یا نواب ہوگا، جس کو انگریزوں نے قید کیا ہوا تھا وہاں پر، ان کی صفتیں ذکر کر رہا ہے۔ میں نے کس کی دل کی رعایت رکھنے کے لیے کتاب لکھی؟ جو میرے شفیق ہیں، مجھ پر شفقت کرنے والے، محسن ہیں، میرے اوپر احسان کرنے والے ہیں، مجمع محاسن، اچھی خوبیاں ساری ان میں جمع ہیں، اور نام کیا ہے؟ حافظ وزیر علی صاحب۔ بفرمان جزیرہ انڈمان بمعارض تحریر در آمد۔
انڈمان اور انڈمان، میں نے بتایا دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی، انڈمان بھی اور انڈمان بھی، یہ جزیرے کا نام تھا۔ اور اسی کو کالا، وہیں پر ایک جیل تھی بھئی بہت خوفناک جیل، اور اس کو کیا کہتے تھے؟ کالا پانی، کالا پانی۔ تو کبھی اس پورے جزیرے کو بھی کہہ دیتے ہیں، وہ جیل اتنی خوفناک تھی کہ اس کے، اس کالے رنگ کے پتھروں وغیرہ سے بنائی گئی تھی، اس کی وجہ سے اس کو کالا پانی کہتے تھے۔ کیا کہتے تھے؟ کالا پانی۔ تو کبھی اس جزیرے کو ہی کالا پانی کہہ دیتے، کیونکہ اسی جیل کی وجہ سے تو وہ جزیرہ مشہور تھا، لوگ جانتے ہی نہیں تھے پہلے تو۔
ان کی خاطر جو ہے، بجزیرہ انڈمان بمعارض تحریر در آمد۔ جزیرہ انڈمان میں، یا یوں کہو جزیرہ انڈمان میں بمعارض تحریر در آمد، تحریر تحریر کے محل میں، یعنی لکھی گئی۔ جو کہاں پر لکھی گئی یہ کتاب؟ جزیرہ انڈمان میں، یا انڈمان میں، حافظ وزیر علی صاحب کے لیے یہ کتاب معرض تحریر میں آئی، یعنی لکھی گئی، لکھی گئی۔
تو انڈمان یہ جزیرے کا نام ہے، اور انڈمان بھی پڑھ سکتے ہیں اس کو اور انڈمان بھی۔ انڈمان بھی کہتے ہیں اس جزیرے کو، انڈمان بھی کہتے ہیں۔
وحقیر در آں جزیرہ، اور یہ حقیر، اپنے اپنے بارے میں کہہ رہا ہے، اپنے لیے، کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں؟ حقیر، یعنی یہ عاجز جو ہے۔ در آں جزیرہ، اس جزیرے میں، کون سا جزیرہ؟ جزیرہ انڈمان میں، از نیرنگ تقدیر بودا، تقدیر کی نیرنگیوں سے آیا تھا۔
نیرنگ، نیرنگی کہتے ہیں رنگا رنگ کا ہونا، مختلف رنگوں کا ہونا، قسم قسم کے رنگوں والا ہونا۔ تقدیر بھی تو مختلف رنگوں والی ہوتی ہے، کبھی غریب کو بادشاہ بنا دیتی ہے، کبھی بادشاہ کو فقیر بنا دیتی ہے، کبھی انسان خوشیوں میں ہوتا ہے تو کبھی غم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تو تقدیر بھی کیا ہے؟ اس کو کہتے ہیں نیرنگیِ تقدیر، تقدیر کا مختلف رنگوں والا ہونا، مختلف قسم کا ہونا۔ تو مصنف کیا فرماتے ہیں؟ کہ حقیر در آں جزیرہ از نیرنگِ تقدیر بودا، کہ میں حقیر جو ہے، میں عاجز اس جزیرے میں تقدیر کی نیرنگیوں کی وجہ سے تھا۔
تقدیر کے عجائبات سے میں یہاں پہنچ گیا۔ میں تو اپنے وطن کی اور مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، لیکن انگریزوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر میں یہاں پہنچ گیا، تو یوں کہو مجھے تقدیر نے یہاں پر پہنچا دیا۔ کس نے؟ تقدیر نے۔ نیرنگیِ تقدیر نے یعنی یوں کہو تقدیر کی گردشوں نے مجھے یہاں پہنچا دیا۔ در آں جزیرہ از نیرنگِ تقدیر بودا، اس جزیرے میں تقدیر کی نیرنگیوں سے تھا۔
وکتاب از ہیچ علم نزد خود نداشت، اور کسی علم کی کوئی کتاب اپنے پاس نہیں رکھتا تھا، یعنی کسی علم کی کوئی کتاب میرے پاس نہ تھی۔ ایں رسالہ را بوضعِ نگاشت، اس رسالے کو میں نے، وضع کہتے ہیں طریقے کو، را بوضعِ نگاشت، اس کو میں نے ایسے طریقے سے لکھا، نگاشتن کا معنی لکھنا۔ اس رسالہ را بوضعِ نگاشت، اس رسالے کو میں نے ایسے طریقے سے لکھا کہ بجائے میزان و منشعب و پنج گنج و زبدہ و صرفِ میر بکار آید۔ یہ صرف کی کتابیں ہیں: میزان، منشعب، پنج گنج، زبدہ، اور صرفِ میر۔ تو کہتے ہیں ان کتابوں کی جگہ پر یہ بکار آید، کام پر آئے۔ ان کتابوں کی جگہ یہ میری کتاب کام آئے۔
وبر فوائدِ دیگر ہم مشتمل باشد، اور یہ کتاب دوسرے اور فائدوں پر بھی مشتمل ہوگی۔ اچھا وبر فوائدِ دیگر ہم مشتمل باشد، اور دیگر فوائد پر بھی مشتمل ہو۔ وہ باتیں جو میزان، پنج گنج، منشعب وغیرہ میں ہیں، ان کی جگہ کام آئے، یعنی ان میں جو باتیں ہیں وہ بھی اس کے اندر ہوں، وبر فوائدِ دیگر ہم مشتمل باشد، اور دیگر فوائد پر بھی مشتمل ہو، یعنی اس میں ایسے بھی فائدے ہیں جو ان کتابوں میں نہیں ہیں۔
نفع اللہ بہ الطالبین، اب یہ دعا دے رہے ہیں بھئی، اپنی کتاب کے لیے بھی دعا کر رہے ہیں اور طلباء کے لیے بھی۔ نفع اللہ بہ الطالبین، اللہ نفع دے بہی اس کتاب کے ذریعے الطالبین، کس کو؟ طالب علموں کو، طالب علموں کو اس کے ذریعے نفع دے۔ ورزقہم وإیای اتباع سنة سید المرسلین، اور رزقہم اور نصیب فرمائے ان طلباء کو بھی وإیای اور مجھے بھی۔ رزق، رزق کسے کہتے ہیں؟ کوئی چیز دینا، تو یہاں رزق کا کیا معنی؟ عطا کرنا، دینا۔
ورزقہم وإیای اور عطا کرے مجھے بھی اور ان طلباء کو بھی، کیا عطا کرے اللہ؟ کیا نصیب فرمائے؟ اتباع سنة سید المرسلین، تمام انبیاء کے جو سردار ہیں، ان کی سنت کی پیروی، ان کی سنت کی اتباع کی اللہ توفیق نصیب فرمائے، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ اجمعین۔ اللہ رحمت نازل فرمائے ان پر بھی اور ان کی آل پر بھی اجمعین سب کے سب پر۔
رسالہ مشتمل است بر یک مقدمہ و چار باب و خاتمہ، اور یہ رسالہ مشتمل ہے ایک مقدمے پر اور چار باب اور ایک خاتمہ۔ اس کتاب میں کیا ہے؟ ایک مقدمہ ہے، چار باب ہیں اور ایک خاتمہ ہے بھئی، خاتمہ۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بھئی، اردو کی کتاب بھی جلدی جلدی دیکھ لیجیے بھئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ الذی بیدہ تصریف الأحوال وتخفیف الأثقال، والصلاة والسلام علی سید ہادینا الی محاسن الأفعال، وعلی آلہ واصحابہ المضارعین لہ فی الصفات والأعمال، اما بعد۔
پروردگارِ بے نیاز کا بندہٴ نیاز مند۔ پروردگارِ بے نیاز، وہ اللہ جو بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔ اس کا بندہٴ نیاز مند، اس کا محتاج بندہ، اس کا فرمانبردار بندہ۔ میں نے بتایا نیاز مند کے دو معنی ہیں: محتاج بھی اور فرمانبردار۔ چاہے محتاج کہیں، وہ بندہ جو اللہ کا محتاج ہے، یا وہ بندہ جو اللہ کا فرمانبردار ہے۔ محمد عنایت احمد، جس کا نام کیا ہے؟ محمد عنایت احمد ہے۔ غفر لہ الأحد، اللہ اس کی مغفرت فرمائے، وہ ایک اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔ عرض کرتا ہے، وہ عرض کرتا ہے کہ علمِ صرف کی کتاب شفیق، محسن، جامعِ محاسن، حافظ وزیر علی صاحب کی خاطر جزیرہ انڈمان میں تصنیف کی گئی تھی۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ کتاب کس کے لیے تصنیف کی گئی؟ شفیق جو شفقت کرنے والے ہیں، محسن ہیں، احسان کرنے والے ہیں، جامعِ محاسن ہیں، یعنی جن میں ساری خوبیاں جمع ہیں۔ کون ہیں؟ حافظ وزیر علی صاحب کی خاطر، کہاں پر؟ جزیرہ انڈمان میں تصنیف کی گئی تھی۔
جزیرہ انڈمان میں مجھے کرشمہٴ تقدیر نے پہنچا دیا تھا۔ کرشمہ کا معنی ہے انوکھی چیز، عجیب چیز، جادو وغیرہ بھئی۔ کوئی انوکھی چیز، عجیب چیز ہو تو اس کو کہہ دیتے ہیں کرشمہ۔ تو جزیرہ انڈمان میں مجھے کرشمہٴ تقدیر نے پہنچا دیا تھا، یعنی تقدیر کی عجیب بات نے، تقدیر کے عجائبات نے مجھے کہاں پہنچا دیا؟ انڈمان میں۔ میں تو اچھا بھلا تدریس میں اور دیگر دین کے کاموں کے اندر ہندوستان کے اندر مصروف تھا، لیکن تقدیر کی عجیب باتوں میں سے ایک عجیب بات کہ اس نے مجھے کہاں پہنچا دیا؟ جزیرہ انڈمان میں۔
بوقتِ تصنیف کسی علم کی کوئی کتاب میرے پاس نہ تھی۔ حقیر نے یہ کتاب اس انداز سے لکھی ہے کہ میزان و منشعب، پنج گنج، زبدہ—یہ کیا پڑھنا ہے؟ زبدہ—اور صرفِ میر کے قائم مقام ہو سکے۔ قائم مقام تبھی ہوگی نا جب ان کی ساری باتیں کیا ہوں اس کتاب کے اندر ذکر ہوں۔ اور دوسرے فوائد پر بھی مشتمل ہو، اور نیز اس میں اور بھی فائدے ہیں۔
نفع اللہ بہ الطالبین، اللہ نفع دے اس کتاب کے ذریعے طلباء کو۔ ورزقہم، اور طلباء کو عطا کرے، نصیب کرے، وإیای، اور مجھے بھی۔ کیا نصیب کرے؟ اتباع سنة سید المرسلین، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، تمام انبیاء کے جو سردار ہیں ان کی سنت کی اتباع، یعنی ان کی سنت کی پیروی۔ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ اجمعین، رحمت اللہ نازل فرمائے ان پر بھی اور ان کی ساری آل پر بھی۔ یہ رسالہ ایک مقدمہ اور چار ابواب پر مشتمل ہے۔
آگے مقدمہ شروع ہو رہا ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا سارا کچھ؟
تو ٹھیک ہے یہ طریقہ ٹھیک ہے؟ فارسی بھی، فارسی بھی آپ دیکھتے جائیں گے، آپ کا بھی فائدہ ہو جائے گا۔ فارسی میں استعداد آپ کی بڑھتی چلی جائے گی، کچھ نہ کچھ فارسی تو آپ نے پہلے بھی پڑھی ہے، گلستاں وغیرہ بھی پڑھ کر آئے ہیں، اور ابواب الصرف میں بھی تھوڑی سی فارسی تھی۔ تو یہ اب پورا، پورا رسالہ پڑھ لیں گے، انشاء اللہ آپ کی استعداد بھی بڑھ جائے گی، اور اردو بھی ساتھ ساتھ پوری کتاب ہم کر لیں گے، ٹھیک ہے؟
اچھی طرح سارا حل ہو گیا؟ کوئی بات پوچھنے والی تو نہیں؟
یہاں یہ تھا: تصریف الاحوال۔ جی، تصریف الاحوال۔
ہاں، ان کا، دوبارہ سن لیں: بیدہ، اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے تصریف الاحوال، احوال کا پھیرنا، بدلنا۔ احوال کا بدلنا اللہ کے قبضہٴ قدرت میں ہے، کسی کو بادشاہ بناتے ہیں، اگلے دن اس جیل کی کوٹھڑی میں اس کو اللہ پہنچا دیتے ہیں۔ یہ احوال کو کون بدلتے ہیں؟ اللہ تعالی۔ کوئی غریب ہوتا ہے، کوئی مالدار بعد میں بن جاتا ہے، کوئی مالدار ہوتا ہے، چند سال بعد آپ دیکھتے ہیں بالکل وہ فقیر اور محتاج بنا ہوا ہے۔ کسی کو آپ دیکھتے ہیں آج خوشیوں بھری زندگی گزار رہا ہے اور کچھ دنوں بعد آپ دیکھتے ہیں وہ غم کی وجہ سے اس کے، جینا مشکل ہو جاتا ہے۔ کوئی غم اور تکلیف میں مبتلا تھا، اللہ اس کو خوشیاں نصیب فرما دیتے ہیں۔
اسی طرح میں نے بتایا گرمی ہے، سردی ہے، بارش ہے، بہار ہے، خزان ہے، یہ سارے، ہر طرح کے جو احوال ہیں، ایک حال سے بدلنا دوسرے حال کی طرف، یہ کس کے، یہ کس کے قبضہٴ قدرت میں ہے؟ اللہ کے قبضہٴ قدرت میں ہے۔ اور اسی طرح وتخفیف الأثقال، بوجھوں کو کم کرنا، وزن کم کرنا۔ دیکھو وزن بوجھ مختلف قسم کے ہیں، کبھی پریشانی کا بوجھ ہوتا ہے، کبھی قرضے کا بوجھ ہوتا ہے، کبھی غم کا بوجھ ہوتا ہے، کبھی آپ سنتے ہیں فلاں کو ٹینشن ہے بڑی، فلاں ڈپریشن میں ہے بہت زیادہ، یہ مختلف قسم کے بوجھ ہیں جو دماغ پر مسلط ہو جاتے ہیں اور تکلیف اور غم میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے۔ تو یہ ہر طرح کے بوجھ جو ہیں، ان کو ہلکا کرنا، یہ کس کے قبضہٴ قدرت میں ہے؟ اللہ کے قبضہٴ قدرت میں ہے۔
اب معنی سمجھ میں آ گیا؟
ٹھیک ہے، بس جی؟ باقی حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی۔ ہذا ہو المرام واللہ اعلم بالحقیقة الکلام۔