آگے دیکھیے بھئی سبق۔
اسمِ آلہ کہ دلالت کند بر آلہِ صدورِ فعل بر سہ وزناید مِفْعَلٌ، مِفْعَلَةٌ، مِفْعَالٌ۔
بحثِ اسمِ آلہ: مِﻨْﺼَﺮٌ، مِﻨْﺼَﺮَانِ، مِﻨْﺼَﺮَیْنِ، مَنَاصِرُ، مِﻨْﺼَﺮَةٌ، مِﻨْﺼَﺮَتَانِ، مِﻨْﺼَﺮَتَیْنِ، مَنَاصِرُ، مِﻨْﺼَارٌ، مِﻨْﺼَارَانِ، مِﻨْﺼَارَیْنِ، مَنَاصِیْرُ۔
ورگاہے بر وزنِ فاعل آید چوں خاتَم، آلہِ ختم یعنی مہر کردن، و عالم آلہِ دانستن۔ مگر دریں قسم معنی اسمی غالب آمدہ، علی الاطلاق بمعنی اشتقاقی مستعمل نیست، ہر آلہِ ختم را خاتم و ہر آلہِ علم را عالم نہ تواں گفت۔
بھئی پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے، کل کے سبق میں ہم نے اسمِ تفضیل اور صفتِ مشبہ کے بارے میں پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ اسمِ تفضیل جو ہے، وہ فاعلیت کے معنی کی زیادتی پر دلالت کرتا ہے، اور اس میں ہمیشہ کسی کے ساتھ مقابلہ ملحوظ ہوتا ہے۔ تو زیادتی بیان کریں گے فاعلیت کے معنی کی، جیسے اَضْرَبُ کا کیا معنی؟ فاعل فاعل بناؤ، ضارب، زیادہ ضارب۔ اَضْرَبُ کا کیا معنی؟ دیکھا زیادہ ضارب والا معنی بیان کیا، اور مطلقا یہ کسی کے مقابلے میں، کسی کے مقابلے میں ہوگا بھئی کسی کے مقابلے میں۔ جیسے اَنْصَرُ کا معنی ہے زیادہ مدد کرنے والا، یا یوں کہو زیادہ ناصر، زیادہ ناصر اور کسی کے مقابلے میں۔ اسی طرح اَفْتَحُ کا معنی ہے زیادہ کھولنے والا، یا یوں کہو زیادہ فاتح کسی کے مقابلے میں۔ تو عموماً اسمِ فاعلیت کے معنی کی زیادتی ہی بیان ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھار مفعول کے معنی کی زیادتی کے لیے بھی یہ آ جاتا ہے، جیسے اَشْہَرُ بمعنی زیادہ مشہور۔ تو لیکن زیادہ تر یہ فاعلیت کے معنی کی زیادتی کے لیے آتا ہے۔
اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ لون و عیب سے نہیں آتا۔ لون و عیب سے بھی ایک اَفْعَلُ آتا ہے، لیکن وہ اَفْعَلُ کیا ہے؟ اَفْعَلُ صفتی ہے، اور وہ صفتِ مشبہ ہے۔ آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے بھئی، طلباء جب بھی اَفْعَلُ وزن آتا ہے وہ سمجھتے ہیں شاید یہ اسمِ تفضیل ہے۔ اَفْعَلُ وزن صرف اسمِ تفضیل کے لیے نہیں ہے، بلکہ صفتِ مشبہ میں بھی یہ وزن آتا ہے، لہٰذا یہ جو رنگ اور عیب والے لفظ ہوں اور اَفْعَلُ وزن پر ہوں، یہ دراصل صفتِ مشبہ ہیں، جیسے اَبْیَضُ، اَزْرَقُ، اَصْفَرُ، اَحْمَرُ۔ اسی طرح عیب جو ہیں، اَعْمٰی، اَعْرَجُ، اَحْوَلُ وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ صفتِ مشبہ ہیں۔
اور نیز آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ ثلاثی مجرد سے ہی آتا ہے، باقیوں سے نہیں آتا، کیونکہ اس کا ایک ہی وزن ہے اور وہ ہے اَفْعَلُ۔ اَفْعَلُ میں ف، ع، ل، دیکھو ایک ہی ل ہے۔ تو لہٰذا اگر آپ ثلاثی مزید فیہ سے بنائیں گے تو وہ زائد حروف کو گرانا پڑے گا۔ اگر آپ رباعی سے لائیں گے، تو رباعی میں تو دو ل ہوتے ہیں تو ایک ل گرانا پڑے گا، تو پھر تو پتہ ہی نہیں چلے گا یہ ثلاثی سے ہے یا رباعی سے ہے، یہ ثلاثی مجرد سے ہے یا ثلاثی مزید فیہ سے ہے۔
اس کے بعد آپ نے جمع سلامت یا جمع سالم، اور جمع مکسر یا جمع تکسیر کے بارے میں بھی پڑھا۔ جمع سلامت یا جمع سالم کسے کہتے ہیں؟ جس میں واحد کا وزن جمع میں جا کر سلامت رہے، اور مذکر میں یہ جمع واؤ اور نون کے ساتھ آتی ہے، اور مؤنث میں الف اور تا کے ساتھ۔ اور جمع مکسر وہ ہے یا جمع تکسیر وہ ہے، جس میں واحد کا وزن جمع میں جا کر ٹوٹ جائے، جیسے رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ۔ دیکھا رَجُلٌ میں تو را پر زبر تھا، رِجَالٌ میں را کے نیچے زیر ہے۔ رَجُلٌ میں تو جیم پر پیش تھی، رِجَالٌ میں جیم پر زبر ہے۔ اور رَجُلٌ میں تو جیم کے بعد لام تھا، اور رِجَالٌ میں جیم کے بعد الف ہے، دیکھو پوری شکل ہی بدل گئی، تو یہ جمع مکسر ہے، جمع تکسیر ہے۔
اس کے بعد آپ نے صفتِ مشبہ کے بارے میں پڑھا کہ صفتِ مشبہ وہ ہے جو ثبوت پر دلالت کرتی ہے۔ مثلاً میں نے کہا زَیْدٌ طَوِیْلٌ، طَوِیْلٌ کس سے بنی ہے؟ طول سے۔ معلوم ہوا زید جو ہے طول سے متصف ہو رہا ہے، وہ لمبے قد والا ہے۔ تو یہ صفتِ مشبہ کسی ذات کے اس وصف کے ساتھ متصف ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ جیسے زَیْدٌ ضَارِبٌ، ضَارِبٌ کس سے بنا؟ ضرب سے۔ معلوم ہوا زید میں ضرب والا وصف پایا جا رہا ہے۔ زَیْدٌ نَاصِرٌ، نَاصِرٌ کس سے بنا؟ نصر سے یا نصرت سے بنا، تو زید میں کون سا وصف ہے؟ نصرت والا ہے۔ زَیْدٌ شَارِبٌ، شَارِبٌ کس سے بنا؟ شرب سے۔ معلوم ہوا زید شرب سے متصف ہو رہا ہے، اس نے شرب والا فعل کیا ہے۔ تو لہٰذا یہ جو اسمِ فاعل ہوتا ہے اور یہ جو صفتِ مشبہ ہوتی ہے، یہ کسی ذات کے اس وصف کے ساتھ متصف ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ لیکن صفتِ مشبہ یہ دلالت کرتی ہے ثبوت کے طریقے پر کہ ذات متصف ہے وصف سے کس طریقے پر؟ ثبوت کے طریقے پر۔ اور اسمِ فاعل دلالت کرتا ہے کہ کوئی ذات متصف ہے اس وصف سے بطورِ حدوث کے۔ حدوث کا معنی ہوتا ہے ہونا، ایک چیز کا ہونا پایا جائے۔
جیسے ضَارِبٌ، ضَارِبٌ کسے کہیں گے؟ ضرب لگانے والا، اور ضرب ایک شخص کے لیے جب ثابت ہو، تو کیا ہمیشہ ثابت رہے گی؟ نہیں۔ جو اس نے ضرب لگائی، جیسے ہی کسی کو مارا، ضرب لگی اور ختم بھی ہو گئی، پہلے نہیں تھی، لگی اور ختم ہو گئی۔ اسی طرح پھر ضرب لگائی، پھر ضرب کا وجود پایا گیا اور پھر وہ ختم بھی ہو گئی، یہ ہے حدوث، ایک چیز کا ہونا، ہونا۔ کہ پہلے نہیں تھی، پھر ہوئی اور پھر ختم بھی ہو گئی۔ تو لہٰذا یہ جو اسمِ فاعل ہے، یہ حدوث پر دلالت کرتا ہے، اور صفتِ مشبہ ثبوت پر دلالت کرتی ہے۔
اور اس کی انہوں نے بہترین مثال دی تھی، سامع اور سمیع کے ذریعے سمجھایا تھا، کہ سامع یہ بھی سمع سے ہے، سمیع یہ بھی سمع سے ہے، لیکن دونوں میں فرق ہے۔ سامع اسمِ فاعل ہے، سمیع صفتِ مشبہ ہے۔ سامع کا معنی ہے کہ کوئی شخص سننے والا فعل باقاعدہ کرے۔ پہلے نہیں تھا، پھر سننے والا فعل کیا اور پھر ختم بھی ہو گیا۔ اور سمیع، سمیع کا معنی ہے کہ ایک شخص میں سننے کی صلاحیت موجود ہے، سننے کی صلاحیت اس کے لیے ثابت ہے، چاہے وہ سنے یا نہ سنے، وہ کیا ہے؟ سمیع ہے۔ یعنی اس میں سننے کی صلاحیت ہے، جب بھی کوئی آواز آئے گی وہ اس کو سن لے گا۔
تو اس کو تعبیر میں نے بتلایا تھا کہ ایک ہے ایک چیز کا بالفعل ہونا، اور ایک ہے ایک چیز کا بالقوہ ہونا۔ بالفعل کا کیا مطلب؟ کہ باقاعدہ اس کا فعل پایا جائے۔ سامع تب کہیں گے جب وہ باقاعدہ کوئی آواز سنے، جب وہ سنے گا تو سامع ہے، جیسے ہی آواز ختم ہوئی اب وہ سامع نہیں۔ اور سمیع وہ جو ہے بالقوہ پر دلالت کرتی ہے، کہ ایک وصف دوسرے کے لیے ثابت، یعنی اس میں اس کی صلاحیت ہے۔ تو سمیع ایک شخص کو کہیں گے جس میں سننے کی صلاحیت ہے۔ کیا ہے؟ سننے کی صلاحیت ہے۔ لہٰذا ایک بہرا آدمی جو سن ہی نہیں سکتا، وہ سمیع نہیں، وہ سمیع نہیں۔ اور سامع بھی نہیں، ظاہر سی بات ہے جب وہ سن ہی نہیں سکتا تو سامع بھی نہیں ہوگا۔ لیکن سامع میں ہے حدوث، اور سمیع میں ہے ثبوت۔
اور ایک شخص جو آواز سن سکتا ہے، جس وقت وہ آواز سنے گا، اس وقت وہ سامع ہے، اور جب آواز ختم ہوگی اب وہ سامع نہیں۔ لیکن اس میں سننے کی صلاحیت تو ہر وقت ہے، تو وہ سمیع تو ہر وقت ہے، سامع ہر وقت نہیں ہے۔ اسمِ فاعل میں وصف کا بالفعل ہونا ضروری، اور صفتِ مشبہ میں وصف بالقوہ ہوگا۔ اسمِ فاعل میں وصف کا بالفعل ہونا ضروری، اور صفتِ مشبہ میں جو وصف ہوگا وہ بالقوہ ہوگا، یعنی اس میں صلاحیت ہوگی۔ مثلاً ایک ان پڑھ آدمی ہے، ایک ان پڑھ آدمی ہے، آپ اس کو کہتے ہیں یہ عالم ہے، کیا ہے؟ عالم ہے۔ عالم ہے، تو آپ کو کوئی کہے گا بھئی یہ تو عالم نہیں، آپ اس کو عالم کیسے کہہ رہے ہیں؟ آپ کہیں گے میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بالفعل عالم ہے، میرا مطلب یہ ہے کہ اس میں عالم بننے کی صلاحیت ہے، یعنی یہ بالقوہ عالم ہے۔ کیا ہے؟ کیا مطلب؟ یہ علم نہیں حاصل کر رہا اس لیے عالم نہیں، لیکن اگر علم حاصل کرنا یہ شروع کر دے، اس میں صلاحیت ہے کہ نہیں؟ ہر انسان میں عالم ہونے کی صلاحیت ہے۔ تو آپ کہیں گے کہ میں نے اس کو جو عالم کہا، وہ بالقوہ کے اعتبار سے کہا ہے، بالفعل کے اعتبار سے نہیں کہا۔ اب فرق سمجھ میں آ گیا؟ ایک ہوتا ہے بالفعل، باقاعدہ ایک فعل کرے، اور ایک بالقوہ ہے کہ اس میں اس کی صلاحیت ہو بھئی۔
لہٰذا جب آپ کو پتہ چل گیا سامع میں بالفعل وہ فعل ضروری، اور سمیع میں بالفعل وہ فعل ضروری نہیں، وہاں بالقوہ ہوگا ثبوت ہوگا۔ تو اسی لیے صفتِ مشبہ چونکہ صرف ثبوت پہ دلالت کرتی ہے، اس لیے وہ ہمیشہ لازم آئے گی۔ کیا آئے گی؟ فعل متعدی سے بھی بناؤ گے، تو وہ ہمیشہ لازم ہوگی، متعدی نہیں۔ جیسے سامع تب کہیں گے جب کوئی شخص آپ کا کلام سنے، تب وہ سامع کہلائے گا، تو میں کہوں گا ہُوَ سَامِعٌ کَلَامَکَ۔ یہ کَلَامَکَ کیا ہے؟ مفعول ہے۔ اس کو نصب کون دے رہا ہے؟ یہ سَامِعٌ، سَامِعٌ، میں نے بتایا تھا یہ صفت کے صیغے بالکل اپنے فعل جیسا عمل کرتے ہیں۔ فعل ایک فاعل کو رفع دیتا ہے، تو اس سے بننے والا صفت کا صیغہ بھی کیا کرے گا؟ فاعل کو رفع دے گا۔ اور اگر فعل مفعول کو نصب بھی دیتا ہے، تو پھر وہ صفت کا صیغہ فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول کو نصب بھی دے گا۔ کیونکہ فاعل تو ضرور چاہیے، فاعل کو تو رفع دے گا ہی، اور اسی طرح فعل مجہول جو ہے، وہ ہمیشہ نائب فاعل کو رفع دیتا ہے، تو اس سے بننے والا صفت کا صیغہ یعنی اسمِ مفعول، وہ بھی ہمیشہ کس کو رفع دے گا؟ مفعول کو رفع دے گا۔ فعل معروف کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے، تو اس سے بننے والے صفت کے صیغے کے لیے بھی کیا چاہیے ہمیشہ؟ فاعل چاہیے۔ اور فعل مجہول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے، تو اس سے بننے والے صفت کا صیغہ یعنی اسمِ مفعول، اس کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے۔ اور میں نے بتایا صفت کے صیغے بالکل اپنے فعل جیسا عمل کرتے ہیں، فعل اگر ایک فاعل کو رفع دے رہا ہے اور ایک مفعول کو نصب بھی دے رہا ہے، تو وہ صفت کا صیغہ بھی ایک فاعل کو رفع دے گا تو ایک مفعول کو نصب دے گا۔
جیسے میں کہتا ہوں سَمِعْتُ کَلَامَکَ، میں نے آپ کا کلام سنا۔ یہ کَلَامَکَ یہ منصوب ہے، کس نے نصب دیا؟ فعل نے، سَمِعْتُ نے۔ معلوم ہوا سَمِعْتُ مفعول کو نصب دیتا ہے، تو اس سے بننے والا صفت کا صیغہ یعنی سَامِعٌ، وہ بھی مفعول کو نصب دے گا۔ لہٰذا میں کہہ سکتا ہوں ہُوَ سَامِعٌ کَلَامَکَ، وہ آدمی آپ کے کلام کو سنتا ہے۔ یا میں کہتا ہوں اَنْتَ سَامِعٌ کَلَامَہُ، آپ اس کے کلام کو سنتے ہیں، سن رہے ہیں۔ دیکھا سَامِعٌ نے کیا کیا؟ کَلَامَہُ کو نصب دیا۔ معلوم ہوا اسمِ فاعل جو ہے، اس میں چونکہ بالفعل فعل کا ہونا ضروری، تو اس کے لیے مفعول آ سکتا ہے۔ اور صفتِ مشبہ جو ہے، اس میں چونکہ ثبوت ہے، وہ فعلِ لازم سے آتی ہے، لہٰذا وہاں پر مفعول نہیں آئے گا بھئی، بلکہ وہ ہمیشہ لازمی آئے گی۔ کیا آئے گی؟ لازمی آئے گی۔ لہٰذا یوں نہیں کہہ سکتے اَنْتَ سَمِیْعٌ کَلَامَہُ۔ اَنْتَ سَمِیْعٌ کَلَامَہُ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر اس کے بعد صفتِ مشبہ کے کچھ اوزان انہوں نے ذکر کیے تھے بھئی، اور اوزان مثالوں کے ضمن میں ذکر کر دیے۔ مثالیں ذکر کیں، لیکن ان مثالوں سے آپ کو سارے اوزان سمجھ میں آ رہے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ، یہ 23 انہوں نے مثالیں ذکر کیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ صفتِ مشبہ یہی 23، 23 اوزان ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہیں، لیکن عموماً یہ اوزان زیادہ استعمال ہوتے ہیں، ان کو ذکر کر دیا بھئی۔ تو یہ یاد ہیں آپ کو؟ سنائیے بھئی۔
صَعْبٌ، صِفْرٌ، صُلْبٌ، حَسَنٌ، خَشِنٌ، نَدُسٌ، زِاَمٌ، بِلِزٌ، حُطَمٌ، جُنُبٌ، اَحْمَرُ، کَابِرٌ، کَبِیْرٌ، غَفُوْرٌ، جَیِّدٌ، جَبَانٌ، ہِجَانٌ، شُجَاعٌ، عَطْشَانُ، عَطْشٰی، حُبْلٰی، حَمْرَاءُ، عُشَرَاءُ۔
شاباش! جی، یہ آپ نے روز دہرانا ہے، آپ کی رفتار بڑھتی جائے گی، بہترین ازبر ہو جائے گا آپ کو بھئی۔ جی، آپ سنائیے بھئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ صَعْبٌ، صِفْرٌ، صُلْبٌ، حَسَنٌ، خَشِنٌ، نَدُسٌ، زِاَمٌ، بِلِزٌ، حُطَمٌ، جُنُبٌ، اَحْمَرُ، کَابِرٌ، کَبِیْرٌ، غَفُوْرٌ، جَیِّدٌ، جَبَانٌ، ہِجَانٌ، شُجَاعٌ، عَطْشَانُ، عَطْشٰی، حُبْلٰی، حَمْرَاءُ، عُشَرَاءُ۔
شاباش! جی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ صَعْبٌ، صِفْرٌ، صُلْبٌ، حَسَنٌ، اونچی آواز، صَعْبٌ، صِفْرٌ، صُلْبٌ، حَسَنٌ، خَشِنٌ۔
ذیعن عن بالذ ذیعن بالذحطام جنب أحمر، أحمر کابر کبیر۔
أحمر تنوین نہیں آئے گی۔
أحمر کابر کبیر غفور غفور جید، جید جبان ہجان شجاع، عطشان عطشا عطشان عطشا حبلی حمراء—
عطشان حبلی—
عطشان حبلی حمراء—
حمراء نہیں، حمراء، عشراء۔
عشراء۔
جی شاباش! اور اس کو ازبر کرو، رفتار بڑھاؤ، روزانہ اس کو دہراتے رہنا ہے آپ نے بھئی، جی۔
کتابیں بند کرو، سب بند کرو۔ جب میں سننے لگوں تو بس کتابیں بند کر دیا کرو۔ جی، اب سناؤ اونچی آواز سے۔
صعب صفر صلب حسن خشن ندس ذئام ذئام بلز حطام جنب أحمر، کابر کبیر غفور جید جبان ہجان شجاع عطشان عطشا حبلی حمراء عشراء۔
شاباش شاباش! جی!
صعب صفر صلب حسن خشن ندس ذئام بلز حطام جنب أحمر، کابر کبیر غفور جید جبان ہجان شجاع شجاع، شجاع عطشان عطشا حبلی حمراء عشراء۔
شاباش! روز دہرانا ہے، روز دہرانا ہے، رفتار بڑھتی جائے بھئی۔ اب میں جب اگلی دفعہ سبق پڑھاؤں، تو آپ بہترین رفتار سے پڑھ رہے ہوں، سنا رہے ہوں۔
بائی، اب آئیے بھئی اگلے سبق کی طرف۔
انہوں نے بتلایا تھا کہ فعل سے چھ اسماء مشتق ہوتے ہیں۔ چھ اسماء مشتق ہوتے ہیں۔ ان چھ میں سے چار کے بارے میں ہم نے پڑھ لیا— اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، اسمِ تفضیل اور صفتِ مشبہ۔ دو رہ گئے: اسمِ آلہ اور اسمِ ظرف، وہ ہم آج پڑھیں گے۔
تو کہتے ہیں: اسمِ آلہ کہ دلالت کند بر آلہِ صدورِ فعل۔
بھئی، پہلے سمجھ لو۔ آپ جانتے ہیں اسمِ آلہ— اسمِ آلہ کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز جس کے ذریعے کوئی کام کیا جائے، وہ اس کام کا آلہ ہے۔ جس چیز کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے، وہ اس کام کا آلہ ہے۔
مثلاً دیکھو، پٹائی کرنے کے لیے آلہ کیا ہے؟ سوٹی۔ سوٹی کے ساتھ آپ نے کسی کو، ڈنڈے کے ساتھ ہم مارا، تو یہ کیا ہے؟ آلہ ہے۔ اس کا کون سا صیغہ ہے؟ مِضْرَبٌ، مِضْرَبٌ۔ تو یہ آلہ ہے۔
جیسے قلم لکھنے کا آلہ ہے۔ قلم کے ذریعے آپ کیا کرتے ہیں؟ لکھتے ہیں۔ لیکن یہ قلم جو ہے، اس کو اسمِ آلہ نہیں کہیں گے۔ یہ جو صیغہ ہے، صیغہ، یہ آلہ نہیں۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں! کیونکہ اس میں آلہ خاص طریقے سے بنایا جاتا ہے۔ وہ کون سا ہے؟ مِضْرَبٌ، مِضْرَبَةٌ، مِضْرَابٌ— اوزان پڑھے ہیں آپ نے باقاعدہ: مِنسَرٌ، مِنسَرَةٌ، مِنسَارٌ۔ اسی طرح مِفتَحٌ، مِفتَحٌ، مِفتَحَةٌ، مِفتَاحٌ۔ تو دیکھا، یہ خاص اوزان ہیں اسمِ آلہ کے۔ تو قلم بے شک لکھنے کا آلہ ہے، لیکن یہ وہ اسمِ آلہ— یہ جو اس کا اسم، نام ہے قلم— یہ وہ اسمِ آلہ نہیں ہے بھئی۔ ہاں، قلم کے لیے پھر اسمِ آلہ بناؤ— کَتَبَ یَکتُبُ کِتَابَةً، اس کا معنی ہوتا ہے لکھنا۔ اس سے اسمِ آلہ بنا لو: مِکتَبٌ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب اس کو مِکتَبٌ کہا، تو یہ اسمِ آلہ کا صیغہ ہے بھئی۔
تو اسمِ آلہ وہ ہے جو دلالت کرے کسی فعل کے صدور پر، جس کے ذریعے کوئی فعل کیا جائے۔
دیکھیے بھئی کتاب پر: اسمِ آلہ کہ دلالت کند بر آلہِ صدورِ فعل— اسمِ آلہ کہ جو دلالت کرتا ہے صدورِ فعل کے آلے پر، فعل کے کرنے کے آلے پر— جس سے وہ فعل صادر ہوتا ہے، جس چیز کے ذریعے وہ فعل کیا جاتا ہے۔ تو صدور کا معنی فعل— صدور کا معنی ہونا، ہونا۔ بر آلہِ صدورِ فعل: فعل کے صدور کے آلے پر، فعل کے ہونے کے— جس کے ذریعے وہ فعل ہو بھئی، جس کے ذریعے وہ فعل کیا جائے— تو صدورِ فعل کے آلے پر۔ یعنی جس سے وہ فعل صادر ہو، جس کے ذریعے وہ فعل کیا جائے۔
تو کہتے ہیں: اسمِ آلہ کہ دلالت کند بر آلہِ صدورِ فعل بر سہ وزن آید۔ اسمِ آلہ جو کہ دلالت کرتا ہے صدورِ فعل کے آلے پر، وہ تین وزن پر آتا ہے۔ اس کے تین وزن ہیں: مِفعَلٌ، مِفعَلَةٌ، مِفعَالٌ۔
آپ نے بھی گردانوں میں پڑھا: مِضرَبٌ، مِضرَبَةٌ، مِضرَابٌ۔ اور نیز وہاں آپ نے ابواب الصرف میں بین السطور پڑھا ہوگا: مِضرَبٌ کے نیچے لکھا ہے آلہِ صغریٰ، مِضرَبَةٌ کے نیچے لکھا ہے آلہِ وسطیٰ، اور مِضرَابٌ ہے آلہِ کبریٰ۔ پٹائی کرنے کے لیے چھوٹی سی سوٹی ہو، تو یہ کیا ہے؟ مِضرَبٌ۔ اگر ذرا بڑی سوٹی ہو، تو وہ کیا ہے؟ مِضرَبَةٌ۔ اور اگر آپ نے بڑا ڈنڈا رکھا ہوا ہے پٹائی کے لیے، تو یہ کیا ہے؟ مِضرَابٌ۔
تو یہ آلہِ صغریٰ، وسطیٰ اور کبریٰ کے لیے یہ صیغے استعمال ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ عام استعمال ہوتے ہیں، چھوٹا بڑا ہونے کا تعلق نہیں ہے بھئی۔
بحثِ اسمِ آلہ، اب اس کی گردان ذکر کرنے لگے ہیں: مِنسَرٌ، مِنسَرَانِ، مِنسَرَینِ، مَنَاصِرُ؛ مِنسَرَةٌ، مِنسَرَتَانِ، مِنسَرَتَینِ، مَنَاصِرُ؛ مِنسَارٌ، مِنسَارَانِ، مِنسَارَینِ، مَنَاصِیرُ۔
گردان سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تثنیہ اور جمع کے صیغے لے آئے ہیں، اور پھر حالتِ نصبی جری بھی انہوں نے ذکر کر دی ہے۔
وگاہے بر وزنِ فَاعَل آید— اور یہ اسمِ آلہ کبھی کبھار فَاعَل کے وزن پر بھی آتا ہے، چون خَاتَم— جیسے خَاتَم۔ آپ سے کوئی پوچھے خَاتَم کون سا صیغہ ہے؟ آپ نے کہنا ہے یہ اسمِ آلہ ہے۔ ایک تو وہ وزن پڑھے: مِفعَلٌ، مِفعَلَةٌ، مِفعَالٌ۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتلا دیا: وگاہے بر وزنِ فَاعَل آید— فَاعَل کے وزن پر بھی اسمِ آلہ آتا ہے، جیسے خَاتَم۔
خَاتَم: آلہِ ختم۔ ختم عربی میں کہتے ہیں مہر کو، مہر۔ آلہِ ختم: مہر لگانے کا آلہ۔
مہر دیکھی ہوئی ہے آپ نے؟ بھئی، کوئی خط وغیرہ لکھا جاتا ہے۔ نیچے آخر میں مہر لگاتے ہیں۔ وہ جو کاغذ کے اوپر مہر لگ گئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جو کاغذ پر وہ شکل بن گئی، وہ کہتے ہیں یہ مہر لگی ہوئی ہے۔ کیا ہے؟ مہر ہے۔ اور وہ جس چیز کے ذریعے یہ مہر لگائی، وہ ہے آلہِ مہر، آلہِ ختم۔ اردو میں اس کو بھی مہر کہتے ہیں۔ اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ہاں! لیکن عربی میں فرق ہے۔ وہ جو کاغذ پہ لگی ہے، وہ ہے خَتْم۔ وہ کیا ہے؟ خَتْم۔ اور جس چیز کے ذریعے وہ مہر لگائی، وہ ہے خَاتَم۔ جو کاغذ پہ لگی وہ کیا؟ خَتْم، خَتْم۔ خَتْم اور جو آلہ تھا جس کے ذریعے لگائی، وہ کیا ہے؟ خَاتَم۔ اردو میں دونوں کو مہر کہتے ہیں— کاغذ پہ جو لگی ہوئی ہے وہ بھی کیا ہے، مہر؛ اور وہ جو آلہ جس کے ذریعے لگائی، وہ بھی کیا ہے، مہر کہتے ہیں اس کو بھئی۔
اور یہ مہر جو ہے، خط کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ یا جب اس کو بند کیا جاتا ہے، پھر اس پر مہر لگائی جاتی ہے۔ بادشاہ قدیم زمانے میں جب کسی کو خط بھیجتے تھے، تو آخر میں مہر لگاتے تھے۔ یہ علامت ہوتی تھی۔ اس مہر سے پتہ چلتا تھا کہ یہ واقعی اس بادشاہ کا خط ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو جب خطوط لکھنے کا ارادہ کیا، تو صحابہ نے مشورہ دیا کہ یا رسول اللہ، ایک مہر بنوا لیجیے۔ جب بڑے لوگوں کو خط— بڑے لوگ کسی کو خط لکھتے ہیں یا بڑے لوگوں کو خط لکھا جاتا ہے، تو نیچے مہر لگائی جاتی ہے۔ تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مہر بنوائی جو آپ اکثر تصاویر میں دیکھتے ہیں: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ۔ سب سے نیچے کیا ہے؟ محمد۔ درمیان میں کیا ہے؟ رسول۔ اور سب سے اوپر لفظِ اللہ ہے: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ۔ اور یہ حضور نے اپنی انگوٹھی پر بنوائی بھئی۔ یہ اس انگوٹھی پر تھا، اور یہ جب کوئی خط وغیرہ پھر لکھتے، تو پھر اس کے ذریعے وہ مہر لگائی جاتی تھی بھئی، مہر لگائی جاتی تھی۔
اور یہ مہر کہاں لگتی ہے؟ خط کے آخر میں۔ معلوم ہوا یہ بات پوری ہو گئی، ختم ہو گئی۔ اسی لیے قرآن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خَاتَمُ النَّبِیّینَ کہا گیا۔ کیا ہیں؟ وہ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں— یعنی نبیوں کی مہر ہیں، یعنی آخر میں آئے ہیں، پیغمبروں کو ختم کرنے والے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: وگاہے بر وزنِ فَاعَل آید— اور کبھی کبھار یہ فَاعَل کے وزن پر اسمِ آلہ آتا ہے، چون خَاتَم: آلہِ ختم، یعنی مہر کردن— جیسے خَاتَم جو ہے، آلہِ ختم ہے— آلہِ— ختم کا کیا معنی؟ یعنی مہر کردن، یعنی مہر لگانا۔ ختم کا معنی کر دیا: مہر لگانا۔ آلہِ ختم: یعنی مہر لگانے کا آلہ۔ وعَالَم— اور عَالَم جو ہے: آلہِ دانستن، جاننے کا آلہ۔ عَالَم کسے کہتے ہیں؟ جاننے کا آلہ۔ مگر دریں قسم معنیِٰ اسمی غالباً آمدہ— مگر اس قسم کے اندر معنیِٰ اسمی غالب آ گئے ہیں۔
تو خَاتَم کا کیا معنی؟ آلہِ ختم، مہر لگانے کا آلہ۔ تو فَاعَل وزن، یہ بھی اسمِ آلہ کا وزن ہے، اور اس کی دو مثالیں ذکر کر دیں: ایک خَاتَم— خَاتَم کا کیا معنی؟ آلہِ ختم، مہر لگانے کا آلہ۔ اور ایک ہے عَالَم— عَالَم کا کیا معنی؟ جاننے کا آلہ، جاننے کا آلہ۔
یہ جو جہان ہے، اللہ کے علاوہ، یہ زمین و آسمان، یہ سارا عالم کہلاتا ہے۔ یہ چاند ستارے، یہ جو حسین و جمیل نظام ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ عالم، عالم۔ تو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ یہ جاننے کا آلہ ہے۔ اس میں ذرا آپ غور کر لو، آپ اللہ تک پہنچ جاؤ گے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا، کوئی ذات ہے جو ان چیزوں کو بنانے والی ہے، یہ چیزیں خود بخود وجود میں نہیں ہیں۔ تو یہ آلہ ہے جاننے کا، کس کو؟ اللہ کو۔ تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عالم کہتے ہیں۔ آپ پڑھتے ہیں: اَلمَحمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ العَالَمِینَ— دیکھا، وہی عَالَمُونَ حالتِ نصبی جری میں آ گیا، عالم کی جمع— العَالَمِینَ۔ کہ اللہ رب ہے تمام جہانوں کا۔ ایک تو یہ عالم ہے جو ہم دیکھتے ہیں، یہ زمین و آسمان۔ اور کتنے ہی عالم اللہ نے بنائے ہیں، ہمیں علم ہی نہیں ہے۔ اللہ تمام جہانوں کا رب ہے، صرف اس جہان کا نہیں بلکہ تمام جہانوں کا اللہ رب ہے بھئی۔ تو یہ ایک عالم ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ایک عالم ہے۔
تو خَاتَم: آلہِ ختم؛ اور عَالَم: آلہِ دانستن، جس کے ذریعے کسی چیز کو جانا جائے، علم سے ہے، علم— جاننے سے، عالم۔
لیکن آگے آپ کو بتلائیں گے کہ اس قسم میں اسمی معنی غالب آ گئے ہیں۔ کون سے معنی؟ اسمی۔ اور ہر جگہ اشتقاقی معنی جو ہیں، اس میں استعمال نہیں ہوتا۔ توجہ سے اس بات کو سمجھ لو۔
معنیِٰ اسمی کے غالب آنے کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ ایک چیز کا اسم بن گیا ہے، نام بن گیا ہے۔ یہ جو زمین و آسمان ہیں، ان کا نام کیا بن گیا؟ عالم۔ ویسے تو عالم کا معنی ہے جاننے کا آلہ۔ ہر چیز جس کے ذریعے جانا جائے، اس کو عالم کہنا چاہیے۔ مثلاً کمپیوٹر ہے، کمپیوٹر کے ذریعے آپ نئی نئی معلومات کا پتہ چلتا ہے، تو اس کو بھی عالم کہنا چاہیے۔ اشتقاق کے اعتبار سے اس کو کیا کہنا چاہیے؟ لیکن اس کو عالم نہیں کہتے۔ کیونکہ یہ جو زمین و آسمان ہے، اس کا نام بن گیا ہے عالم۔ اسم بن گیا ہے۔ تو معنیِٰ اسمی کیا ہو گیا؟ غالب آ گیا۔ اور معنیِٰ اشتقاقی ہر جگہ ملحوظ نہیں۔ یہ اسی طرح دیکھ لو: کتاب ہے، کتاب بھی جاننے کا آلہ ہے یا نہیں؟ اس کے ذریعے بھی چیزوں کا ہمیں علم ہوتا ہے۔ تو اگر اشتقاق والے معنی کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو عالم تو کہتے ہیں جاننے کا آلہ، تو کتاب کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ عالم! لیکن اس کو عالم کوئی بھی نہیں کہتا، کیونکہ عالم اب کیا بن چکا؟ نام بن چکا، اسم بن چکا اس جہان کا۔ کیا بن چکا؟ نام بن چکا۔ اب یہ اس جہان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ہر وہ چیز جس کے ذریعے جانا جائے، اس کے لیے یہ عالم استعمال نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح خاتم کے اندر بھی ہے۔ ہر وہ چیز جو آلہِ ختم ہو، اس کو خاتم نہیں کہیں گے۔ وہ مخصوص چیز جس کے ذریعے مہر لگائی جاتی ہے، صرف اسی کو کہیں گے، اور کسی کو نہیں— جس کے ذریعے ختم کیا جائے، مہر لگائی جائے، ہر اس چیز کو خاتم نہیں کہیں گے۔
دیکھیے بھئی، دوبارہ سارا دیکھ لیجیے: وگاہے بر وزنِ فَاعَل آید— اور کبھی کبھار اسمِ آلہ جو ہے، فَاعَل کے وزن پر آتا ہے، چون خَاتَم: آلہِ ختم، یعنی مہر کردن— جیسے خَاتَم جو ہے، آلہِ ختم ہے، آلہِ— ختم کا کیا معنی؟ یعنی مہر کردن، یعنی مہر لگانا۔
عالم آلہ دانیستن اور عالم جاننے کا آلہ ہے، مگر دری قسم۔ معنی اسم غالب آمدہ مگر اس قسم کے اندر معنی اسمی غالب آ گئے ہیں علی الاطلاق بمعنی اشتقاقی مستعمل نیست علی الاطلاق یعنی بغیر کسی قید کے اشتقاقی معنی میں یہ استعمال نہیں ہوتا۔
علی الاطلاق یعنی کوئی قید نہ ہو، ہر جگہ جہاں جو بھی چیز جاننے کا آلہ ہو اس کو عالم کہا جائے، ایسا نہیں ہے تو یہ علی الاطلاق اشتقاقی معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہوگئی۔ کیا معنی اشتقاقی معنی؟ یہ وزن جو بنایا گیا فاعل کس کے لیے بنایا گیا؟ اسم آلہ کے لیے۔ لہذا جو اس وزن پر آ جائے وہ ہر جگہ استعمال ہونا چاہیے۔
کیا ہونا چاہیے؟ استعمال ہونا چاہیے۔ لہذا جو بھی جاننے کا آلہ ہو اس کو کیا کہنا چاہیے؟ عالم کہنا چاہیے کیونکہ یہ اشتقاقی معنی تو یہی ہے اس کا۔ اسی معنی کے لیے مشتق ہوا ہے۔
لیکن اب یہ اشتقاقی معنی کے لیے علی الاطلاق استعمال نہیں ہوتا بلکہ اسمی معنی اس میں غالب آ گئے ہیں، یہ نام بن گیا ہے اس جہان کا۔ تو اصل میں تو یہ اسم آلہ ہے، لیکن اب کیا بن چکا ہے؟ اسم بن چکا ہے۔
اسی طرح خاتم، ہر وہ چیز جس کے ذریعے مہر لگائی جائے، لیکن اب یہ کیا بن چکا ہے؟ نام بن چکا ہے وہ مخصوص چیز جس کے ذریعے مہر لگائی جاتی ہے۔
تو یہ معنی ہے کہ مگر دری قسم معنی اسمی غالب آمدہ مگر اس قسم کے اندر معنی اسمی غالب آ گیا ہے علی الاطلاق بمعنی اشتقاقی مستعمل نیست اور یہ علی الاطلاق اشتقاقی معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ ہر آلہ ختم را خاتم و ہر آلہ علم را عالم نہ تواں گفت۔ ہر آلہ ختم کو خاتم اور ہر آلہ علم کو عالم نہ تواں گفت نہیں کہا جا سکتا۔
ورنہ تو اسم آلہ، اسم آلہ تو وہ ہے جس کے لیے بھی کوئی فعل کیا جائے، اسم آلہ اس پر صادق آنا چاہیے۔ جس چیز کے لیے بھی کوئی فعل سرانجام دیا جائے اس پر وہ اسم آلہ صادق آنا چاہیے۔
جیسے مِضرَب کا کیا معنی؟ ضرب لگانے کا آلہ۔ اب اس میں معنی اسمی غالب نہیں ہے۔ جس چیز کے ذریعے بھی آپ ضرب لگائیں گے وہ مِضرَب ہے۔ آپ نے سوٹی کے ذریعے ضرب لگائی تو یہ سوٹی کیا ہے؟ مِضرَب ہے۔ کیا ہے؟ مِضرَب ہے۔ آپ نے جوتا مارا کسی کو تو یہ جوتا کیا ہے؟ مِضرَب ہے۔ ہر چیز پہ صادق آئے گا جس سے بھی آپ ضرب لگائیں گے۔
لیکن عالم اور خاتم میں ایسا نہیں۔ جس چیز کے لیے بھی جانا جائے آپ اس کو کہیں یہ عالم ہے، نہیں نہیں یہ کیا بن چکا ہے؟ نام۔ اسی طرح خاتم، ہر وہ چیز جس کے لیے مہر لگائی جائے آپ اس کو خاتم کہہ دیں، نہیں، یہ کیا ہو چکا؟ اسم ہو چکا، نام بن چکا ہے، وہ جو خاص چیز جس کے لیے مہر لگاتے ہیں صرف اسی کو کہتے ہیں، اور چیزوں کو نہیں کہیں گے۔
اب فرق سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ہر آلہ ختم را خاتم و ہر آلہ علم را عالم نہ تواں گفت، ہر آلہ ختم کو خاتم اور ہر آلہ علم کو عالم نہیں کہہ سکتے۔
اسم ظرف، اب آگے اسم ظرف کی بحث آ گئی۔ اسم ظرف دلالت میں کُند بر جای صدور فعل یا وقت صدور فعل۔ بھئی اسم ظرف پہلے مجھے بتائیے کسے کہتے ہیں؟
وہ وقت یا جگہ جہاں کوئی فعل کیا جائے۔ مِضرَب کا کیا معنی؟ مِضرَبُ مارنے کی جگہ یا مارنے کا وقت۔ مثلاً آپ نے سڑک پر کسی کی پٹائی کی، تو یہ سڑک کیا ہوئی؟ مِضرَب ہوئی۔ یہ جگہ ہے مارنے کی، یہاں پر اس کی پٹائی ہوئی، اور جس وقت میں کی، وہ وقت کون سا ہے؟ وہ مِضرَب ہے، وہ پٹائی کا، مثلاً صبح پٹائی کی تھی تو صبح کا وقت کیا ہوا؟ مِضرَب ہوا، پٹائی کا وقت ہو گیا۔
اور مثال لے لیں۔ مثلاً آپ نے پانی پیا، آپ نے کمرے میں بیٹھ کر پانی پیا، تو یہ شربہ یا شرب؟ باب سمع ہے، جی اس سے اس میں آ، اس میں ظرف بناؤ۔ مَشرَب مَشرَبُ مَشرَب فعل مضارع سے بنتا ہے نا، جی۔ تو آپ نے کمرے میں پانی پیا، تو یہ پانی پینے کی جگہ ہے، اس کو کہیں گے مَشرَبُ۔
اور آپ نے باہر پانی پیا تو وہ پانی پینے کی جگہ تو کیا کہیں گے یہ کیا ہے؟ مَشرَب ہے۔ تو جہاں بھی کوئی فعل کیا جائے اس کے لیے کیا استعمال ہوگا؟ اسم ظرف۔ یا جس وقت میں کیا جائے وہ فعل وہ وقت کیا کہلائے گا؟ اسم ظرف اس کے لیے استعمال ہوگا۔
کہتے ہیں اسم ظرف دلالت میں کُند بر جای صدور فعل یا وقت صدور فعل۔ اسم ظرف جو ہے وہ دلالت کرتا ہے بر جای صدور فعل، جا کا معنی جگہ، بر جای صدور فعل، صدور فعل کی جگہ پر (یعنی فعل کے ہونے کی جگہ پر) یا وقت صدور فعل، یا یہ دلالت کرتا ہے فعل کے ہونے کے وقت پر۔
از مفتوح العین و مزموم العین و ناقص مطلقاً بر وزنِ مَفْعَل بفتحِ عین چوں مَفْتَح اچھا، یہ اب وہ ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ آپ نے پڑھا ہے، صرف کس سے بنتا ہے؟ فعل مضارع سے، فعل مضارع سے۔ ایک تو اسم ظرف اور اسم آلہ کا فرق آپ کو پتہ ہے۔ اسم آلہ کیا ہے؟ شروع میں میم مقصور ہوتا ہے، مِضرَبُ، مِضرَبَتُن۔ اور اسم ظرف میں میم پر کیا ہوتا ہے شروع میں؟ فتحہ ہوتا ہے، مَضرَبُن۔
تو دونوں فعل مضارع سے بنتے ہیں، یہ میم کے ذریعے پہچان ہوگی بھئی۔ میم کے ذریعے پہچان۔ ہاں، اس میں آلہ میں ایک بات یاد رکھیں، یہ جو اسم آلہ ہے نا، یہ صرف ثلاثی مجرد سے آتا ہے۔ باقی بابوں میں آپ نے کہیں پڑھا؟ نہیں، صرف ثلاثی مجرد سے اسم آلہ کے صیغے آتے ہیں، باقی ابواب سے نہیں آتے بھئی۔
अच्छा، تو یہ جو ظرف ہے، اس کے بنانے کا اب ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ مضارع سے ظرف بنائیں گے تو عین پر کون سی حرکت آئے گی؟ آپ نے وہ شعر یاد کیا ہوا ہے، کیا شعر یاد کیا تھا؟ ظرفِ فعل مَفْعَل است الا ز ناقص اے کمال و از غیرِ فعل مَفْعَل است الا ز ابوابِ مثال۔
تفصیل میں بیان پھر کر دیتا ہوں بھئی، اگرچہ آپ کو سارا علم ہے، لیکن پھر بھی دوبارہ سن لیں تاکہ خوب اچھی طرح بات ذہن نشین ہو جائے۔ بس وہ شعر آپ کو یاد ہے، تو بس آپ کو یہ ضابطہ یاد ہے، ویسے بڑا مشکل ضابطہ ہے بھئی، ذہن میں نہیں رہتا، ابھی یاد کر لیں گے، پھر بعد میں بھول جائے گا، لیکن وہ شعر جب آپ کو یاد ہے تو کہیں بھی انشاءاللہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ جہاں ظرف کے بارے میں اشتباہ آئے، فوراََ اس شعر کو ذرا دہرائو، اس پہ غور کرو، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کس طرح اس میں ظرف آئے گا بھئی۔
شعر میں کیا ہے؟ ظرفِ فعل مَفْعَل است۔ دیکھا، یَفْعَل معلوم ہوا وہ مضارع جس کے عین مکسور ہو، کیا ہو؟ عین مکسور ہو، اس سے ظرفِ فعل مَفْعَل است، تو اس کا ظرف بھی کیا ہوگا؟ مکسورالعین۔ ظرفِ فعل مَفْعَل است، الا ز ناقص، سوائے کس کے؟ ناقص کے، کہ اس سے مَفْعِل کبھی نہیں آئے گا، اس سے ہمیشہ مَفْعَل ہی آئے گا۔
ظرفِ فعل مَفْعَل است، یَفْعَل جب بھی آ جائے یَفْعَل مضارع (یعنی عین کے نیچے کسرہ ہو تو ظرف میں بھی عین کے نیچے کیا پڑھو؟ کسرہ پڑھو)۔ ظرفِ فعل مَفْعَل است، الا ز ناقص، سوائے ناقص کے، ناقص میں عین کے نیچے زیر آ جائے، پھر بھی آپ نے مَفْعِل نہیں پڑھنا، وہاں مَفْعَل ہی پڑھنا ہے ہر حال میں۔
تو ناقص سے ظرف ہمیشہ مَفْعَل آتا ہے، وہاں مَفْعِل آئے گا ہی نہیں، چاہے عین کے نیچے کسرہ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی ظرف کیا آئے گا؟ مَفْعَل آئے گا۔ و از غیرِ یَفْعَل مَفْعَل است۔ اور یَفْعَل کے جو علاوہ ہیں، و از غیرِ یَفْعَل مَفْعَل است، یَفْعَل کے علاوہ جو مضارع ہیں، یَفْعَل کے علاوہ کتنے مضارع رہ گئے؟ یَفْعَل یَفْعُل دو رہ گئے۔ ایک عین میں زبر ہو اور ایک عین پر پیش ہو، یَفْعَل اور یَفْعُل۔ تو غیرِ یَفْعِل میں دونوں آ گئے، یَفْعِل کے جو علاوہ ہیں، یَفْعِل کے علاوہ کون ہیں؟ یَفْعَل اور یَفْعُل تو کہتے ہیں و از غیرِ یَفْعِل مَفْعَل است۔ تو ان دونوں میں مَفْعَل آئے گا۔
اگر مضارع میں عین پر زبر ہو یا پیش ہو، دونوں صورتوں میں کیا آئے گا؟ مَفْعَل آئے گا۔ پچھلے شعر میں، پچھلے مصرعے میں تھا، عین کے نیچے زیر ہو تو مَفْعِل لیکن زیر نہ ہو غیرِ یَفْعِل کے علاوہ ہو، یعنی یَفْعَل ہو یا یَفْعُل ہو، تو پھر ظرف کیا آئے گا؟ مَفْعَل آئے گا۔
و از غیرِ یَفْعِل مَفْعَل است الا ز ابوابِ مثال، سوائے بابِ مثال کے، وہاں سے مَفْعَل کبھی بھی نہیں آئے گا، وہاں ہمیشہ مَفْعَل ہی آئے گا۔ الا کے ذریعے اس کو نکال رہے ہیں، بس سمجھ جائیں اس وہاں کا حکم اس کے الٹ ہے۔
फिर دیکھو دوبارہ شعر سنو، ظرفِ فعل مَفْعَل است، جو بھی مضارع مکسورالعین ہو اس سے ظرف بھی کیا آئے گا؟ مکسورالعین۔ الا ز ناقص اے کمال، سوائے کس کے؟ ناقص کے، کہ وہاں سے ہمیشہ کیا آئے گا؟ مَفْعَل ہی آئے گا، کبھی بھی مَفْعِل نہیں آئے گا۔
و از غیرِ یَفْعِل مَفْعَل است، اور یَفْعِل کے علاوہ جو دو مضارع ہیں (یعنی یَفْعَل اور یَفْعُل)، اس سے ظرف کیا آئے گا؟ مَفْعَل آئے گا، الا ز ابوابِ مثال، سوائے کس کے؟ مثال کے بابوں کے، وہاں سے کبھی بھی مَفْعَل نہیں آئے گا، ہمیشہ کیا آئے گا؟ مَفْعَل۔
اب آپ کو ضابطے کی تفصیل پتہ چل گئی، آپ ظرف بنانے کا ضابطہ کیا؟ کہ مضارع کے عین کلمے کو دیکھو، اگر عین کے نیچے زیر ہو تو ظرف میں بھی عین کے نیچے زیر لے آؤ، اور اگر مضارع کے عین پر زبر یا پیش ہے تو ظرف کے اندر عین پر عین پر زبر لے آؤ۔ البتہ دو قسمیں اس سے مستثنیٰ ہیں، ایک ناقص اور ایک مثال۔
ناقص میں کبھی بھی مَفْعِل وزن نہیں آئے گا، ہمیشہ کیا آئے گا؟ مَفْعَل آئے گا۔ اور مثال میں کبھی بھی مَفْعَل وزن نہیں آئے گا، ہمیشہ کیا آئے گا؟ مَفْعِل، وہاں آپ نے عین کو دیکھنا ہی نہیں ہے، بس جب ناقص کا باب ہے تو اس میں ظرف کیا آئے گا؟ مَفْعَل ہی آئے گا، اور جب مثال ہے تو آپ نے عین کو نہیں دیکھنا، بس وہاں سے مطلقاً جو ہے ظرف کس وزن پر آئے گا؟ مَفْعِل پر۔
تو ظرفِ فعل مَفْعِل است الا ز ناقص اے کمال و از غیرِ یَفْعِل مَفْعَل است الا ز ابوابِ مثال۔ تو یہ اس شعر میں پورا ضابطہ ذکر ہو گیا، یہی صاحبِ کتاب بھی ذکر کریں گے۔ لیکن پھر بھی اس ضابطے میں بھی بعض اوقات غور کرنا پڑتا ہے، کیا کرنا پڑتا ہے؟ غور۔ اس سے بھی زیادہ آسان نشانی میں بتا دیتا ہوں۔
شعر سے اتنا تو پتہ چل گیا کہ ناقص اور مثال کا حکم الگ ہے، شعر میں ناقص کا بھی ذکر آ رہا ہے اور مثال کا بھی۔ اب آپ کو غور کرنا پڑے گا کہ یہ کس طرح ہے ضابطہ پورے شعر پر غور کریں گے سمجھ میں آئے گا، پھر آپ کو ذہن میں پوری بات واضح ہو جائے گی۔
اس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے، اتنا تو پتہ چل گیا کہ شعر میں کن چیزوں کا ذکر ہے؟ ناقص اور مثال۔ ان کا حکم الگ ہے، تو اب اس کس میں مَفْعَل ہمیشہ آئے گا اور کس میں مَفْعِل ہمیشہ آئے گا؟ ان کے پہلے حرف کو دیکھ لو۔ ناقص کا پہلا حرف نون، نون پر کیا ہے؟ فتحہ، زبر ہے، تو اس سے ہمیشہ مَفْعَل آئے گا، عین پر زبر آئے گا۔ اور مثال کے میم کے نیچے کیا ہے؟ زیر ہے، تو اس سے ہمیشہ مَفْعِل، عین کے نیچے زیر آئے گی، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بھی ایک یاد رکھنے کا طریقہ ہے، فوری ذہن میں آ جائے گا کہ ان شعر سے اتنا تو پتہ چل گیا ناقص اور مثال کا حکم الگ ہے۔
لَیکن پھر غور کرنا پڑے گا کس کا کیا حکم ہے، بس ان کے پہلے حرف کو دیکھ لو، ناقص میں نون پر زبر، تو یہاں عین پر ہمیشہ زبر آئے گی، اور مثال میں میم، پہلے حرف میم کے نیچے زیر، تو یہاں ہمیشہ عین کے نیچے زیر آئے گی۔
یہی اب بیان کرنے لگے ہیں دیکھیے کتاب پر، از مفتوح العین و مزموم العین و ناقص۔ از مفتوح العین و مزموم العین و ناقص مطلقاً بر وزنِ مَفْعَل آیَد بفتحِ عین۔ مفتوح العین سے اور مزموم العین سے اور ناقص سے مطلقاً ظرف جو ہے بر وزنِ مَفْعَل آیَد، کس وزن پر آتا ہے؟ مَفْعَل، بفتحِ عین، عین کے فتحہ کے ساتھ، چُوں مَفْتَحٌ و مَنْصَرٌ و مَرمَن۔
مفتوح العین، عین پر فتحہ ہو، رَمی یَرْمِی اس میں تو عین کے نیچے زیر ہے، ناقص ہے نا یہ؟ ناقص ہے۔ ناقص ہے، ناقص میں ہمیشہ کیا آئے گا؟ مَفْعَل۔ ہاں، تو معلوم ہوا یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ مَرمَن، یہ کیا ہے؟ مَرمَن، آپ کو گردان یاد ہے؟ رَمی یَرْمِی رَمْیاً فَھوَ رَامٍ و رُمِیَ یُرْمَى رَمْیاً فَذاکَ مَرْمیٌّ، لَمْ يَرْمِ لَمْ يُرْمَ لاَ يَرْمِ لاَ يُرْمَ لَنْ يَرْمِيَ لَنْ يُرْمَى أَلَمْ تَرَ مِنْهُ اِرْمِ لِتُرْمَى لِيَرْمِیْ لِيُرْمَى وَالنَّهْيُ عَنْهُ لاَ تَرْمِ لاَ تُرْمَ لاَ يَرْمِ لاَ يُرْمَ وَظَرْفُ مِنْهُ مَرمَنْ۔ دیکھا، معلوم ہوا یہ کتابت کی غلطی ہے کہ مرمیُّن لکھ دیا ہے، تو مَرمَن، کیونکہ یہ ناقص ہے اور اس سے مَفْعَل آئے گا ہمیشہ۔
تو کہتے ہیں چُوں مَفْتَحٌ و مَنْصَرٌ و مَرمَن، و از مکسور العین، اور وہ مضارع جو کیا ہو؟ مکسور العین ہو اس سے و از مثال اور مثال سے مطلقاً بر وزنِ مَفْعَل۔
آیت بکسر عین، مطلقا مفعول کے وزن پر آتا ہے عین کے کسرہ کے ساتھ، جیسے: مَضْرِبٌ اور مَوْقِعٌ۔ مَضْرِب ضرب یضرب سے ہے، عین کے نیچے کیا ہے؟ کسرہ اور مَوْقِع یہ مثال ہے اور مثال سے مطلقا عین کے نیچے زیر آئے گا تو مَوْقِع۔
و آنکہ بعض صر فیان گفتان کہ مضاعف ہفت اقسام میں سے، مضاعف جس میں دو حرف ایک جنس کے آتے ہیں، کہ مضاعف سے بھی ظرف مطلقا مَفْعَل وزن پر آتا ہے۔ توجہ ہے؟ جی۔ مضاعف سے بھی ظرف مطلقا مَفْعَل وزن پر آتا ہے، صاحب کتاب آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی! ان کی یہ بات درست نہیں۔
انہوں نے دراصل دلیل پکڑی قرآن سے۔ قرآن میں کیا ہے: فَأَيْنَ الْمَفَرُّ وہ کہتے ہیں دیکھو مفر آیا، مفر اصل میں کیا تھا؟ مفر، مَفْعَلٌ پھر را کا فتحہ فا کو دیا اور را کو را میں، را کا را میں ادغام کیا تو مفر ہوا بھئی۔
اور باب اس کا ہے فر یفر، باب ضربہ ہے۔ کہتے ہیں دیکھا! عین کے نیچے فر یفر کیا ہے؟ عین کے نیچے زیر، لیکن جو ظرف آ رہا ہے وہ قرآن میں وہ کیا آ رہا ہے؟ مَفَرٌّ عین کے فتحہ کے ساتھ معلوم ہوا مضاعف سے بھی ظرف ہمیشہ مفتوح العین آئے گا، جیسے ناقص کے اندر ظرف ہمیشہ کیا آتا ہے؟ مفتوح العین، صاحب کتاب آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں! ان کی یہ بات درست نہیں ہے۔
وجہ اس کی یہ کہ قرآن ہی میں مضاعف سے ظرف آیا ہے اور اس میں عین کے نیچے کسرہ ہے، جیسے: مَحِلٌّ، مَحِلٌّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ دیکھو محل آیا یا نہیں؟ جی بھئی۔ محل حل یحل سے، تو اگر آپ کی بات مانی جاتی آپ تو کیا کہتے تھے؟ مضاعف سے ظرف ہمیشہ کیا آئے گا؟ مفتوح العین آئے گا اور یہ تو مقصور العین آ رہا ہے، معلوم ہوا مضاعف میں ایسا نہیں ہے، مضاعف کے اندر بھی یہ ضابطہ اسی طرح جاری ہوگا، عین کے نیچے اگر زیر ہو تو ظرف مقصور العین ہوگا اور مضارع میں اگر عین پر فتحہ یا ضمہ ہو تو ظرف مفتوح العین ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو مضاعف میں عین کو دیکھیں گے بھئی عین کلمے کو۔
اور باقی مفر آپ نے کیا کہا تھا؟ مفر آیا ہے قرآن میں اور یہ فر یفر سے آیا ہے، تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ اس میں ظرف کا صیغہ نہیں ہے، یہ یہ مصدر ہے، مصدر میمی۔ مصدر میمی وہ مصدر جس کے شروع میں میم آئے، کیا آئے؟ میم آئے بھئی، اور یہ جو ثلاثی مزید فیہ ہے اس کے اندر تو جو اس میں ظرف کا وزن، ثلاثی مزید فیہ ابواب یاد ہیں بھئی؟ اکرماً یكرم إکراماً فهو مُكْرَمٌ، وأکرم یكرم إکراماً فذاك مُكْرَمٌ، مُكْرَمٌ دیکھا اس میں مفعول، اسی سے آگے اس میں ظرف بھی کیا آیا؟ مُكْرَمٌ، مُكْرَمٌ۔
اور اسی طرح اس ان ابواب کے عموماً مصادر بھی اسی وزن پر آتے ہیں، تو مُكْرَمٌ اس میں مفعول بھی ہے، اس میں ظرف بھی ہے، اور مصدر بھی ہے، اور شروع میں کیا ہے؟ میم، تو کیا کہیں گے؟ مصدر میمی۔ مُكْرَمٌ کیا ہے پھر دہراؤ؟ اس میں مفعول بھی، اس میں ظرف بھی، اور مصدر میمی بھی، اسی طرح مكرم، یہ اس میں اس میں مفعول بھی، اس میں ظرف بھی، اور مصدر میمی بھی، اسی طرح مقاتل، یہ کیا ہے؟ اس میں مفعول بھی، اس میں ظرف بھی، اور مصدر میمی بھی بھئی، تو یہ مزید فی وغیرہ کے ابواب میں تو تقریباً اکثر میں اسی طرح ہے بھئی، اس میں ظرف، اس میں مفعول، اور مصدر میمی ایک ہی وزن پر آتے ہیں بھئی، تو لہذا یہاں بھی اسی طرح ہے، یہ چونکہ مفر یہ مصدر میمی ہے تو شبہ آپ لوگوں کو لگ گیا کہ شاید یہ ظرف ہے، حالانکہ یہ ظرف نہیں۔ اگر ظرف ہوتا تو وہ مفر ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ فر یفر ہے بھئی۔
دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں وآنکہ بعض صر فیان گفتان اور وہ جو بعض صر فیوں نے کہا ہے، صر فی یعنی علم صرف والے علم صرف کے ماہر علماء، اور وہ جو بعض صر فیوں نے کہا ہے کہ از مضاعف ہم مطلقا بفتح عین آید صحیح نیست، کہ مضاعف سے بھی مطلقا عین کے فتحہ کے ساتھ آتا ہے، صحیح نیست یہ بات صحیح نہیں۔ واستدلال کردہ اند بہ لفظ مَفَرٍّ اور انہوں نے دلیل پکڑی ہے لفظ مَفَرٍّ سے کہ از یفر بکسر عین است کہ یہ مفر کس سے ہے؟ یفر بکسر عین کے کسرہ کے ساتھ جو ہے اس سے آیا ہے، ودر قرآن مجید واقع اور قرآن میں واقع ہے: فَأَيْنَ الْمَفَرُّ کہاں ہے بھاگنے کی جگہ؟
کہاں ہے بھاگنے کی جگہ؟ ترجمہ میں کر رہا ہوں ظرف والا کیونکہ وہ دلیل کس کی ذکر ہو رہی ہے؟ وہ جس جو اس کو ظرف بتلاتے ہیں، تو ان کے مطابق ترجمہ کر رہا ہوں فَأَيْنَ الْمَفَرُّ کہاں ہے بھاگنے کی جگہ؟ تو کہتے ہیں وصحیح این است اور صحیح یہ ہے کہ از مضاعف مقصور العین بکسر عین آید، کہ مضاعف جو مقصور العین ہو، اس سے ظرف جو ہے عین کے کسرہ کے ساتھ آتا ہے، چنانچہ مَحِلٌّ از حَلَّ يَحِلُّ جیسے کہ مَحِلٌّ جو کس سے ہے؟ حَلَّا يَحِلُّ سے دیکھو عین مقصور ہے، تو ظرف میں بھی عین مقصور ہے۔ وللفظ مَحِلٌّ ھم در قرآن مجید واقع اور محل کا لفظ بھی قرآن میں واقع ہوا ہے، حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی کا جانور مَحِلَّهُ اپنی جگہ کو۔ مَحِلَّهُ یہاں پر فتحہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔
یہاں تک کہ قربانی کا جانور ہدی کہتے ہیں قربانی کا جانور بھئی حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ یہاں تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ کو پہنچ جائے۔ وللفظ مفر را جواب داداند اور لفظ مفر کا جواب دیا گیا دیا ہے علماء نے کہ ظرف نیست کہ یہ ظرف نہیں ہے بلکہ مصدر میمی است بلکہ مصدر میمی است۔ جی، کیسے پڑھیں گے؟
می می است، یہ جو است ہے نا، است کا مطلب ہے ہے، است کا مطلب ہے، کبھی اس کے شروع سے یہ ہمزہ گرا دیتے ہیں تخفیف کے لیے، مختصر کرنے کے لیے، ہلکا کرنے کے لیے، پھر ما قبل والے حرف پر زبر پڑھیں گے، کیا پڑھیں گے؟ زبر پڑھیں گے، تو می می کے آخر میں کیا ہے؟ یا، اس یا پر زبر پڑھ دیں گے، می می است۔ جی طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اسی طرح پیچھے لفظ آیا تھا وصحیح این است تو وہاں بھی ای نست اور یہاں نون پر پھر زبر پڑھنا ہے، اینست تو نہیں پڑھنا اس کو، بلکہ کیا پڑھنا ہے؟ اینست۔
وللفظ مفر را جواب داداند اور لفظ مفر کا جواب دیا گیا ہے کہ ظرف نیست کہ یہ ظرف نہیں ہے، بلکہ مصدر میمی است بلکہ یہ مصدر میمی ہے۔ جواب سمجھ میں آگیا؟ اب ترجمہ کرو: فَأَيْنَ الْمَفَرُّ یہ مصدر میمی ہے، مصدر والا ترجمہ کرو: پس کہاں بھاگنا ہے؟ پس کہاں بھاگنا ہے یعنی کہاں بھاگؤ گے۔
آگے دیکھیے بھئی صیغۂ ظرف کے برمانے وقت دلالت کند آرا ظرف زما گویند، وہ صیغہ ظرف کا جو کہ وقت کے معنی پر دلالت کرتا ہے، اس کو ظرف زما کہتے ہیں، وآنکہ برمانے جای دلالت کند آرا ظرف مکاں گویند، اس کو ظرف مکان کہتے ہیں۔ بحث اسم ظرف اب اس میں ظرف کی گردان ذکر کر رہے ہیں۔ مَضْرِبٌ، مَضْرِبَانِ، مَضْرِبَيْنِ، مَضَارِبُ، گاہے ظرف بر وزن مَفْعُولَتُنْ ھم آید، کبھی کبھار ظرف جو ہے مَفْعُولَتُنْ وزن پر بھی آتا ہے، چومکحلتہ جیسے مکہ، کحل کہتے ہیں سرمے کو سرمے کو، تو مکحلہ وہ سرمہ دانی جس میں سرمہ رکھتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ مکحلہ، سرمہ رکھنے کی جگہ۔
دیکھو انہوں نے کیا کہا؟ کہ کبھی کبھار ظرف مَفْعُولَتُنْ وزن پر بھی آتا ہے، کیا بتلانا چاہتے ہیں کہ ظرف میں تو آپ نے ابھی تک جتنا بھی پڑھا میم پر زبر پڑھی ہے، لیکن کبھی میم پر زمہ بھی آتا ہے اور عین پر بھی کیا آجاتا ہے؟ زمہ آجاتا ہے جیسے مفعولہ وزن بھئی۔ وبعضی اوزان ظرف از غیر مقصور العین هم مقصور آید، اب ایک اور قیمتی بات بتلانے لگے ہیں بھئی۔ صاحب کتاب نے کمال کیا بھئی بڑی قیمتی قیمتی باتیں انہوں نے طلباء کے لیے جمع فرما دیں، اور ایسی جگہ پر یہ کتاب لکھی کہ جہاں زندگی گزارنا عذاب بن جاتا ہے، اور انہوں نے وہاں پر بھی اس مقام پر بھی اتنی مشکلات میں بھی دین کی خدمت جو کی جسے اللہ نے کیسی قبولیت نصیب فرمائی بھئی کہ آج تمام مدارس میں یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں ضابطہ کیا پڑھا آپ نے؟ کہ ظرف مقصور العین کب ہوگا؟ جب مضارع مقصور العین ہو، ضابطہ کیا پڑھا؟ کہ ظرف مقصور العین کب ہوگا؟ جب مضارع مقصور العین ہو، پھر ہی ظرف بھی مقصور العین ہوگا ویسے نہیں۔ لیکن کہتے ہیں بعض صیغے عربی میں ایسے آئے ہیں کہ ان کا مضارع مقصور العین نہیں لیکن ظرف مقصور العین آئے ہیں، عرب بولتے ہی اس طرح ہیں، جیسے مسجد، حالانکہ اس کا باپ کیا ہے؟ سجد یسجد نصرہ ہے، اور نصرہ سے آپ نے کیا پڑھا تھا؟ ظرف کیا آیا؟ منصرون تو ہونا چاہیے مسجد لیکن عربی میں کیا ہے؟ مسجد آیا ہے۔
تو مضارع غیر مقصور العین ہے لیکن ظرف کیا ہے؟ مقصور العین تو کہتے ہیں وبعضی اوزان ظرف اور ظرف کے بعض اوزان جو ہیں از غیر مقصور العین هم مقصور آید وہ غیر مقصور العین مضارع سے بھی مقصور آتے ہیں، چوں مسجد، مسجد جہاں عبادت کی جاتی ہے سجدہ کیا جاتا ہے، سجدے کی جگہ۔ اسی طرح منسک، منسک کہتے ہیں قربانی کی جگہ جہاں قربانی کی جائے۔ قربانی کا مقام قربان گاہ جو ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ منسک۔
اسی طرح حج کی عبادت کو بھی منسک کہتے ہیں تو آپ جگہ جگہ پڑھیں گے لکھا ہوتا ہے مناسک حج، یعنی حج کی جو عبادتیں ہیں، یعنی حج کے جو افعال ہیں کہ یہ کرنا ہے یہ کرنا ہے، ان کو کیا کہتے ہیں مناسک حج۔ مناسک حج تو منسک ہاں یہاں قربانی کی جگہ، کیا؟ قربانی کی جگہ۔
مطلع طلوع ہونے کی جگہ، سورج دیکھو مشرق سے طلوع ہوتا ہے تو یہ کیا ہے؟ مطلع ہے یہاں سے طلوع ہوتا ہے۔ اچھا منسک، یہ نسکہ ینسک سے ہے، نسکہ ینسک کا معنی قربانی کرنا، تو منسک قربانی کی جگہ، حالانکہ نسکہ ینسک باپ کون سا ہے؟ نصرہ ہے، تو منسک ہونا چاہیے تھا لیکن کیا عربی میں استعمال ہوتا ہے؟ منسک۔
اسی طرح طلع یطلع، یہ باب بھی نصرہ ہے، تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ مطلع لیکن کیا استعمال کرتے ہیں عرب مطلع طلوع ہونے کی جگہ۔ اسی طرح شرق یشرق کا معنی نکلنا، شرق یشرق کا معنی بھی نکلنا، طلوع ہونا، تو ہونا کیا چاہیے تھا؟ مشرق، کیونکہ باب نصرہ ہے شرق یشرق، لیکن عربی میں کیا آیا ہے؟ مشرق۔
اسی طرح مغرب آیا ہے، غروب ہونے کی جگہ، یہ بھی غرب یغرو یہ سارے باب نصرہ ہے بھئی، غرب یغرو تو اس کو کیا کہنا چاہیے تھا؟ غروب ہونے کی جگہ کو مغرب کہنا چاہیے تھا، لیکن عرب کیا بولتے ہیں مغرب۔ اور اسی طرح جزر یجزر کا معنی اونٹ وغیرہ ذبح کرنا تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ مجزر، لیکن عرب کیا استعمال کرتے ہیں مجزر؟ جگہ بنائی ہوتی ہے جہاں اونٹوں وغیرہ کو کیا کرتے ہیں؟ ذبح کیا جاتا ہے، ذبح خانہ جو ہوتا ہے، ذبح خانہ تو دوبارہ دیکھیے کہتے ہیں وبعضی اوزان ظرف از غیر مقصور العین ہم مقصور آید اور بعض اوزان ظرف کے وہ غیر مقصور العین سے بھی مقصور آتے ہیں، چوں مسجد، منسک، مطلع، مشرق، مغرب، مجزر، اور میں نے بتلائے یہ سارے باب نصرہ سے ہیں، کس سے ہیں؟ نصرہ سے بھی ہیں اور بھی ابواب سے آتے ہیں۔
اچھا مگر درین اوزان، آگے ایک اور بات بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں عربی میں یہ قیاس کے مطابق بھی آئے ہیں۔ عربی میں مسجد تو استعمال ہوتا ہے، لیکن مسجد بھی آیا ہے، بعض جگہوں پہ، مسجد بھی ہم نے سنا ہے عربوں سے، اسی طرح منسک عام استعمال ہوتا ہے، لیکن منسک بھی کبھی ہم نے سنا ہے عربوں سے، اسی طرح مطلع تو عام استعمال ہوتا ہے، لیکن مطلع بھی ہم نے سنا ہے، مشرق بھی استعمال ہوتا ہے، عام لیکن مشرق بھی ہم نے سنا ہے، اسی طرح مغرب بھی سنا ہے اور اسی طرح مجزر تو قیاس کے مطابق بھی آئے ہیں، اور خلاف القیاس بھی آئے ہیں۔
مگر درین اوزان موافق قیاس بر وزن مَفْعَل ہم می آید، مگر ان اوزان میں قیاس کے مطابق، قیاس کے مطابق یعنی ضابطے کے مطابق، قیاس کے مطابق بر وزن مَفْعَل ہم میں آید، مَفْعَل کے وزن پر بھی آتے ہیں بھئی، آتے ہیں۔سمجھ میں آگئی۔ اور علماء نے لکھا ہے کہ جہاں یہ خلافِ قیاس ہیں، مسجد؛ تو اس کا کہتے ہیں کہ جو یہ خلاف القیاس ہیں، یہ اسمائے جامد ہیں۔ یعنی یہ ظرف نہیں ہیں۔ یہ ظرف نہیں ہیں۔ یہ ظرف ہیں ہی نہیں۔ یہ اسم ہیں، اسم ہیں۔ ان میں اشتقاق ملحوظ نہیں۔ اگر اشتق، دیکھو آپ ذرا غور کرو، مسجد سجدہ یسجدہ سے ہے، تو سجدہ یسجدہ جہاں سجدہ کیا جائے اس کو یہ کیا کہتے ہیں؟ مسجد. لیکن اس کا تو معنی یہ ہے، آپ سڑک پر اگر جائے نماز بچھائیں اور وہاں نماز پڑھیں اور سجدہ کریں، تو اس کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ مسجد، لیکن کوئی اس کو مسجد کہتا ہے؟ گھر میں آپ کمرے میں پڑھتے ہیں، کوئی اس کو مسجد کہتا ہے؟ نہیں، اب یہ نام ہے بھئی۔ مسجد وہ مخصوص جگہ ہے اس کا کیا ہے؟ نام ہو چکا۔ اور یہ جہاں پر اب آپ گھر میں نماز پڑھ رہے ہیں یہ ہے مسجد۔ یہ کیا ہے؟ سجدے کی جگہ، اس کو مسجد نہیں کہیں گے، اس کو کیا کہیں گے؟ مسجد اور وہ کیا ہے؟ مسجد ہے، اس کو مسجد بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وہ سجدے کی جگہ ہے، لیکن یہ اب اس کا نام ہے بھئی، یہاں وہ اشتقاق والا اس میں ظرف نہیں۔ اسی طرح منسک قربان گاہ، جہاں قربانی کی جائے۔ آپ اگر آپ ایک جگہ پر اونٹ وغیرہ یا کسی جانور کی قربانی کرتے ہیں، ذبح کرتے ہیں تو اس کو منسک کہنا چاہیے؟ نہیں، نہیں اس کو منسک نہیں کہتے۔ خاص جو قربانی کے لیے جو جگہ بنی ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ منسک کہیں گے۔ ایک جگہ بنی ہوئی ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ منسک۔ باقی کسی جگہ آپ اونٹ کو قربان کریں یا جانور کو ذبح کریں تو یہ منسک تو ہے، لیکن منسک نہیں۔ اور وہ من، اس کا نام کیا؟ منسک اور وہ منسک بھی ہے بھئی، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اسی طرح مطلع طلوع ہونے کی جگہ طلوع ہونے، مشرق سے سورج، چاند، ستارے وغیرہ طلوع کرتے ہیں تو مشرق کیا ہے؟ مطلع ہے۔ جہاں سے بھی کوئی چیز طلوع کرے تو اس کو مطلع نہیں، اس کو کیا کہیں گے؟ مطلع کہیں گے۔ اسی طرح مشرق مشرق کس جانب کو کہتے ہیں؟ جہاں سے سورج، چاند، ستارے وغیرہ نکلتے ہیں، یہ مطلب نہیں کہ جہاں سے بھی یہ نکلے آپ اس کو مشرق کہنا شروع کر دیں۔ قیامت کے قریب سورج مغرب سے نکلے گا بھئی۔ ایک مرتبہ سورج مغرب سے نکلے گا اور پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا، اس کے بعد کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی بھئی۔ تو سورج کہاں سے نکلا؟ مغرب سے، مغرب سے تو اس کو مشرق نہیں کہنا شروع کر دیں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ مشرق اس جگہ کا نام ہو چکا ہے جس طرف سے اب سورج نکلتا ہے، اس کا نام ہی مشرق ہو چکا ہے۔ ہاں اس کو کیا کہیں گے؟ مشرق تو کہہ سکتے ہیں، مشرق نہیں، اور یہ جو ہے یہ اس کا نام کیا؟ مشرق اور یہ مشرق بھی ہے نکلنے کی جگہ بھی ہے۔ اسی طرح مغرب ہے، غروب ہونے کی جگہ۔ اس کا نام ہی مغرب پڑ گیا ہے، اب کسی اور جگہ ڈوب بھی جائے سورج، اس کو مغرب نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح مجزر جو جگہ بنائی ہوتی ہے، جہاں اونٹوں وغیرہ کو کیا کرتے ہیں؟ ذبح کیا جاتا ہے، ذبح خانہ جو ہوتا ہے، ذبح خانہ اس کو تو مجزر کہیں گے، کسی اور جگہ ذبح کر دیں تو اس کو مجزر نہیں۔ تو معلوم ہوا، ان میں معنیِ اسمی غالب ہے، کیا ہے؟ یا یہ, یہ یوں کہو یہ اسم ہیں، یہ وہ اسم ظرف ہے ہی نہیں بھئی۔ فائدہ جی اب آگے ایک اور فائدہ ذکر کر رہے ہیں۔ برائے جائے کہ چیزے در آنجا بکثرت باشد برائے جائے کہ، اس جگہ کے لیے، کہ چیزے درا، درآنْجا، کہ کوئی چیز وہاں پر بکثرت باشد، کثرت کے ساتھ ہو، وزنِ مفعَلَۃُ آید، اس کے لیے مفعَلَۃُ وزن آتا ہے۔ بھئی اس میں ظرف کی بات چل رہی ہے، ظرف کس کو کہتے ہیں؟ جگہ اور وقت کو، تو جگہ، وہ جگہ، یہاں بھی ظرف سے متعلق ایک فائدہ آپ کو چھوٹا سا بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں کوئی چیز کثرت کے ساتھ پائی جائے، اس کے لیے مفعَلَۃُ وزن ہے۔ کیا وزن ہے؟ مفعَلَۃُ جیسے دیکھو بھئی! قبرستان اس کے اندر قبریں بکثرت ہیں، تو اس کو عربی میں کہتے ہیں مقبرۃٌ دیکھا مفعَلَۃٌ اسی طرح جس جنگل میں شیر کثرت سے ہوں تو کہتے ہیں مأسدۃٌ اسد، اسد کسے کہتے ہیں؟ شیر کو، تو اسی سے کیا بنا لیا؟ مفعَلَۃٌ، مأسدۃٌ جہاں شیر کیا ہوں؟ بکثرت ہوں۔ تو کہتے ہیں برائے جائے کہ چیزے درآنْجا بکثرت باشد، وزن مفعَلَۃُ آید، وہ جگہ جہاں پر کوئی چیز کثرت کے ساتھ ہو، اس کے لیے مفعَلَۃُ وزن آتا ہے، چو مقبرۃٌ و مأسدۃٌ، جیسے مقبرہ اور مأسدۃ۔ مقبرہ کسے کہتے ہیں؟ جہاں کثرت سے قبریں ہوں، یعنی قبرستان اور مأسدہ کسے کہتے ہیں؟ جہاں کثرت سے شیر ہوں. جی یہ اسد سے ہے، اسد شیر کو کہتے ہیں۔ کہتے ہیں وہ وزنِ فعَالۃ برائے چیزے کہ بوقتِ غسل، غسل ہے آپ کی کتابوں میں؟ غسل نہیں، یہ کتابت کی غلطی ہے، بوقتِ فعل بیفتد۔ برائے چیزے کہ بوقتِ فعل بیفتد کہتے ہیں فعَالۃ وزن جو ہے، برائے چیزے کہ، اُس چیز کے لیے ہے، کہ بوقتِ فعل بیفتد، جو کسی فعل کے وقت گرے۔ جو کسی فعل کے وقت جو چیز گرے، اس کے لیے کیا وزن آتا ہے؟ فعَالۃ دیکھو فعل کے وقت، دیکھو وقت والا معنی آرہا ہے یا نہیں، اس لیے اس کو یہاں چونکہ ظرف کی بات چل رہی تھی اور ظرف کس کو کہتے ہیں؟ جو جگہ اور وقت پر دلالت کرے تو یہاں بھی چونکہ جگہ اور وقت کی بات آرہی ہے، اس لیے اس کو ذکر کر دیا۔ تو فعَالۃ وزن کس کے لیے آتے ہیں؟ کہ آپ کوئی فعل کریں تو جو چیز وہاں گرے، اس کو کیا کہیں گے؟ فعَالۃ وزن پر لے آئیں گے۔ جیسے کسی نے غسل کیا تو غسل کون سا فعل کیا؟ غسل، غسل غسل تو جو پانی وغیرہ وہاں گرا، اس کو وزن بنا لو، غسل سے فعَالۃ وزن بنا لو غسالۃ، غسالۃ، تو یہ جو پانی نیچے گرا، یہ کیا ہے؟ غسالۃ ہے۔ یعنی غسل کا فعل کرتے وقت جو چیز نیچے گر گئی، جمع ہو گیا، یہ سارا کیا ہے؟ غسالۃ، غسالۃ۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ نیچے گرنے کا یہ مطلب نہیں کہ پانی جو ادھر ادھر گر رہا ہے وہ، اس کو غسالۃ کہیں گے، نہیں، نہیں، جس سے آپ نے غسل کیا، وہ آپ کا مائے مستعمل جو ہے وہ جو نیچے جمع ہوا، وہ کیا ہے؟ غسالۃ، غسالۃ۔ اسی طرح کَنَسَ کے معنی جھاڑو دینے ہیں۔ تو جھاڑو دیتے وقت جو کوڑا اکٹھا ہوا، جھاڑو دینے سے جو چیز گری، اکٹھی ہوئی، اس کو کہتے ہیں کُنَاسَۃ۔ کُنَاسَسَ کَنَسَ سے، کَنَسَ یکنسو کنسا، تو اس کا معنی ہے جھاڑو دینا، تو اسی سے کیا بنا لو؟ فعَالۃ وزن بنا لو۔ وہ جو کوڑا اکٹھا ہوا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کُنَاسَۃ۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ فعل دے، کوئی فعل کیا جائے اور اس فعل کے وقت جو چیز گرے، اکٹھی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو کس وزن پر بنا لیتے ہیں؟ فعَالۃ وزن پر اسی فعل سے بنا لیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وزنِ فعَالۃ برائے چیزے کہ بوقتِ بوقتِ فعل بیفتد، وزنِ فعَالۃ اُس چیز کے لیے جو کسی فعل کے وقت گرے، چو غُسَالَۃٌ آب کے وقتِ غسل بیفتد۔ آب، آب کس کو کہتے ہیں؟ پانی۔ تو غسالۃ آب کے، وہ پانی جو کہ وقتِ غسل بیفتد، جو غسل کے وقت گرے، و کُنَاسَۃٌ چیزے کے وقتِ جاروب کشیدن از جاروب بیفتد۔ اور وہ کُنَاسَۃ وہ چیز ہے کہ وقتِ جاروب کشیدن، جاروب جھاڑو کو کہتے ہیں، جاروب کشیدن، جھاڑو دیتے ہوئے از جاروب بیفتد، جھاڑو سے گرے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کُنَاسَۃً بھئی! کوڑا یعنی کوڑا۔ چلیے بس کریں بھئی! بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے اردو کی کتاب میں بھی جلدی جلدی دیکھ لیجیے۔ اسم آلہ جو کہ صدورِ فعل کے آلہ پر دلالت کرتا ہے، عبارت مل گئی؟ جی۔ اسم آلہ جو کہ صدورِ فعل کے آلہ پر دلالت کرتا ہے، یعنی جس، جس آلے سے کیا ہو؟ فعل صادر ہو، فعل کیا جائے، فعل ہو جس سے۔ دوبارہ دیکھیے عبارت! اسم آلہ جو کہ صدورِ فعل کے آلہ پر دلالت کرتا ہے، تین وزن پر آتا ہے، مِفعَلٌ، مِفعَلَۃٌ، مِفعَالٌ۔ یہاں یاد رکھنا یہ اسمِ آلہ اور اسمِ ظرف، اسم مذکر مؤنث نہیں ہوتے بھئی! تو یہ گول تا ان میں آرہی ہے، آپ اس کو سمجھیں کہ شاید یہ مذکر کا ایک صیغہ ہے اور ایک یہ بغیر تا کے ہے وہ مذکر کا صیغہ ہے اور جو تا کے ساتھ ہے وہ کیا ہے؟ مؤنث، نہیں۔ نہیں یہ تو جگہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، مذکر و مؤنث تو فاعل کے اعتبار سے ہوتا ہے، کہ کام کرنے والا مرد ہو تو وہ مذکر اور عورت ہو تو وہ مؤنث، جگہ اور وقت اس میں تو مذکر اور مؤنث نہیں ہوتے، تو یہ تا ویسے، تا کے ساتھ بھی استعمال ہوجاتے ہیں بغیر تا کے بھی، لیکن یہ مذکر اور مؤنث نہیں ہیں۔ تو یہ تین وزن پر آتا ہے، مِفعَلٌ، مِفعَلَۃٌ، مِفعَالٌ۔ بحث اسمِ آلہ، مِنسَرٌ، مِنسرانی، مِنسَرینی، مَنَاسِرُ، مِنسَرَۃٌ، مِنسَرَتانِ، مِنسَرَتَینِ، مَنَاسِرُ، مِنسَارٌ، مِنسَارانی، مِنسَارینی، مَنَاسیرو۔ اور کبھی فاعَل کے وزن پر بھی آجاتا ہے۔ جیسے خاتَمٌ، خَتَم یعنی مہر کرنے کا آلہ، مہر لگانے کا آلہ، مہر کرنے کا آلہ یعنی مہر لگانے کا آلہ، اور عالَمٌ، جاننے کا آلہ۔ مگر اس قسم میں معنیِ اسمی غالب آگئے ہیں، مطلقاً بمعنی اشتقاقِ مستعمل نہیں ہے۔ تو مطلقاً اشتقاقی معنی میں مستعمل یہ نہیں ہے بھئی۔ ہر آلہء ختم کو خاتَم اور ہر آلہء علم کو عالَم نہیں کہہ سکتے۔ نمبر چھ ہے، اسمِ ظرف، صدورِ فعل کی جگہ یا صدورِ فعل کے وقت پر دلالت کرتا ہے۔ مفتوح العین اور مضموم العین سے اور ناقص سے مطلقاً مِفعَلٌ ان کے وزن پر بفتح العین آتا ہے، جیسے مَفْتَحٌ، و مَنْصَرٌ، و مَرْمَنٌ، اور مقصور العین سے اور مثال سے مطلقاً بروزنِ مَفْعِلٌ، بکسرِ عین آتا ہے، جیسے مَضْرِبٌ، و مَوْقِعٌ۔ یہاں بعض صرفیوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ مضاف سے بھی مطلقاً مفتوح العین آتا ہے، کیونکہ لفظ مَفَرٌّ یا فَرٌّ مکسور العین سے بنا ہے اور قرآن مجید میں بھی آیا ہے، اِنَّ المَفَرَّ، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مضاف مکسور العین سے مکسور العین ہی آتا ہے، یعنی مضاف کا جو مضارع ہے وہ کیا ہو؟ مکسور العین، تو اس سے ظرف بھی کیا آئے گا؟ مکسور العین ہی آتا ہے۔ پھر دیکھیے کتاب پر لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مضاف مکسور العین سے مکسور العین ہی آتا ہے، چنانچہ مَحِلٌّ، حل یحِلُّ سے ہے، اور لفظ مَحِلٌّ بھی قرآن مجید میں آیا ہے، حَتَّی یَبْلُغَ الھَدْیُ مَحِلَّھُ، اور لفظ مَفَرٌّ کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ ظرف نہیں بلکہ مصدرِ میمی ہے۔ جو صیغہ ظرف وقت کے معنی پر دلالت کرے اس کو ظرفِ زمان کہتے ہیں اور جو جگہ کے معنی پر دلالت کرے اس کو ظرفِ مکان کہتے ہیں۔ بحث اسمِ ظرف، مَضْرِبٌ، مَضْرِبانِ، مَضْرِبَینِ، مَضَارِبُ۔ ظرف کبھی مَفْعُولَۃٌ ان کے وزن پر بھی آجاتاہے۔ مَفْعَلَۃً عین پر زبر تو نہیں ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، مَفْعُولَۃٌ عین پر بھی کیا ہونا چاہیے؟ پیش ہونا چاہیے بھئی، پیش ہونا چاہیے، یہ عام لغتوں میں بھی آپ کو ہر جگہ مل جائے گا، مکوحلۃٌ عین کے ضمہ کے ساتھ۔ تو ظرف کبھی مَفْعُولَۃٌ کے وزن پر بھی آجاتا ہے، جیسے مَکوحَلَۃٌ، یہاں بھی ہا پر پیش کریں بھئی، یہ زبر غلط لگا ہوا ہے۔ جیسے مَکوحَلَۃٌ، اور ظرف کے بعض اوزان غیر مکسور العین سے بھی مکسور آتے ہیں۔ جیسے مسجدٌ، منسکٌ، مطلعٌ، مشرقٌ، مغربٌ، مجزرٌ، مگر یہ الفاظ قیاس کے مطابق بروزنِ مفعَلٌ بھی آتے ہیں۔ میں نے بتلا دیا، یہ مسجد، منسک، مطلع، مشرق، مغرب اور مجزر، یہ دراصل کیا ہیں؟ اور بعض علماء نے کیا لکھا ہے کہ یہ نام ہیں جو ان جگہوں کے نام ہیں، یہ اسمِ ظرف ہیں ہی نہیں۔ یہ نام بن چکے ہیں۔ فائدہ، ایسی جگہ کے واسطے کہ جہاں کوئی چیز بکثرت ہو، مَفْعَلَۃٌ کا وزن آتا ہے، جیسے مقبرۃٌ و مأسدۃٌ۔ مقبرہ جہاں کثرت سے قبریں ہوتی ہیں اور مأسدہ جہاں کثرت سے شیر ہوتے ہیں۔ اور فعَالۃ کا وزن ایسی چیز کے واسطے ہے، کہ جو بوقتِ فعل گِرے، جیسے غُسَالَۃٌ، وہ پانی جو غسل کے وقت گرے، اور کُنَاسَۃٌ، وہ چیز جو جھاڑو دیتے وقت جھاڑو سے گرے، یعنی وہ کوڑا کرکٹ وغیرہ بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ چلیے بس کریں بھئی! میرا تو ارادہ تھا کہ آج یہ ہم نظم بھی پڑھ لیں گے، لیکن چلیے وقت کافی ہو گیا۔ چلیے بس بھئی ہٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔