آئیے بھئی شروع میں دعا پڑھ لیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
الحمد للہ رب العالمین۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلى آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلى آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلى آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
ربنا یسر لنا هذا الکتاب ولا تعسرہ وتممہ بالخیر وبک نستعین یا فتاح یا علیم۔
ربنا یسر لنا هذا العلم ولا تعسرہ وتممہ بالخیر وبک نستعین یا فتاح یا علیم۔
ربنا یسر لنا هذا الفن ولا تعسرہ وتممہ بالخیر وبک نستعین یا فتاح یا علیم۔
آمین، آمین، ثم آمین۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلى آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلى آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلى آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
کتاب میں سے بھی تھوڑی سی عبارت دیکھ لیں۔
الحمد لله الذي بيده تصريف الأحوال وتخفيف الأثقال والصلاة والسلام على سيد الهادين إلى محاسن الأفعال وعلى آله وصحبه المضارعين له في الصفات والأعمال۔ أما بعد: میگوید بندہ نیاز مند بارگاہ رب صمد، المعتصم بذيل سيد الأنبياء، محمد عنايت احمد غفر له الأحد، کہ ایں رسالہ ایست در علم صرف، کہ بہ پاس خاطر شفيق محسن، مجمع محاسن، حافظ وزیر علی صاحب، بہ جزیرہ انڈامین، بہ معرض تحریر در آمد۔ ورود حقیر در آن جزیرہ از نیرنگ تقدیر بودہ، و کتابے از ہیچ علم نزد خود نداشت، ایں رسالہ را بہ وضعے نگاشت، کہ بجائے میزان و منشعب و پنج گنج و زبدہ و صرف میر بکار آید، و بر فوائد دیگر هم مشتمل باشد۔ نفع اللہ بہ الطالبین و رزقہم و إياي اتباع سنة سيد المرسلين صلى الله عليه وعلى آله أجمعين۔
رسالہ مشتمل است بر یک مقدمہ و چهار باب و خاتمہ۔
یہ اصل کتاب فارسی زبان میں ہے اور فارسی بڑی قدیم اور وسیع زبان ہے۔ اور ہمارے پرانے طلباء فارسی زبان کے ماہر ہوتے تھے لیکن آج کل آہستہ آہستہ ہمتیں کمزور ہو رہی ہیں، فارسی کا ذوق ختم ہوتا جا رہا ہے اور اب تو بعض مدارس میں یہ اردو کے اندر یہ علم الصیغہ پڑھائی جاتی ہے۔
تو ہم اردو کی کتاب بھی ساتھ پڑھ لیا کریں گے تاکہ جہاں طلباء اردو میں پڑھ رہے ہیں، وہ بھی اگر ان اسباق سے بعد میں فائدہ اٹھانا چاہیں تو اٹھا سکیں۔ اردو میں کوئی مشکل لفظ وغیرہ آ جائے، اس کو حل کر لیں گے۔ ورنہ اصل لطف تو اس کتاب کا فارسی زبان میں ہے بھئی۔ فارسی بڑی وسیع زبان ہے، بہت قدیم زبان ہے۔ اور کوئی زبان جتنی قدیم ہو اور اس میں جتنا زیادہ علمی کام ہوا ہو، تحقیقات، تصنیفات، تالیفات وغیرہ زیادہ ہوں، اتنی ہی وہ زبان وسیع ہوتی ہے۔ اور فارسی ایک تو بہت قدیم ہے، پھر اس کے اندر علماء نے بہت زیادہ علمی، ادبی، تحقیقی کام کیا اور یہ زبان وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔
تو فارسی اتنی زبردست زبان ہے، فارسی میں آپ دو چار لفظوں میں جو بات بیان کر دیتے ہیں، اردو میں وہ دو تین سطروں میں بھی جا کر مشکل سے آپ بیان کر پاتے ہیں۔ تو اتنی زبردست زبان ہے۔ تو لہذا ہم فارسی ہی میں یہ پڑھیں گے۔ البتہ آخر میں اردو کی کتاب سے بھی پڑھ لیا کریں گے۔ میں سمجھایا تو فارسی کی کتاب سے ہی کروں گا۔ اردو کی کتاب بھی آخر میں پڑھ لیں گے، انشاء اللہ وہ بھی ساتھ ساتھ حل ہوتی چلی جائے گی اگر کوئی اس میں بات مشکل آ جائے یا لفظ کوئی مشکل آ جائے اس کو ہم حل کر لیں گے۔
تو آپ نے پوری محنت کرنی ہے اور ابواب آپ کو بہترین یاد ہونے چاہئیں، پھر ہی آپ علم الصیغہ سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تو لہذا ایک فارسی کی کتاب بھی اپنے ساتھ رکھیں، ایک اردو کی بھی رکھیں۔ اور پھر خصوصاً یہ سبق آگے بھی اگر کبھی کسی کے کام آئے، کوئی چاہے فارسی پڑھنے کا ذوق ہوا جس کا، اس کے لیے بھی یہ مفید ہو جائیں گے اور جو اردو کی کتاب سے پڑھ رہا ہے، اس کے لیے بھی وہ کتاب آسان ہو جائے گی۔ تو دونوں سے پڑھ لیں گے اور انشاء اللہ امید ہے وقت زیادہ اس میں نہیں لگے گا کیونکہ ایک مرتبہ سمجھانا ایک مرتبہ ہوگا۔ وہی فارسی کی کتاب سے میں سارا سمجھا دوں گا آپ کو اچھی طرح، آپ انشاء اللہ بہترین سمجھ جائیں گے۔ پھر بس پھر اس کے بعد اردو کی کتاب کی صرف عبارت پڑھ لیا کریں گے، آپ خود دیکھیں گے کہ بہترین حل ہو گیا، دوبارہ تقریر کی ضرورت نہیں بھئی۔
مصنف علم الصیغہ کا نام جو ہے، وہ مفتی عنایت احمد ہے۔ اور یہ بڑے جید عالم دین تھے۔ آج سے تقریباً کوئی دو سو سال، تقریباً دو سو سال قبل یہ ہندوستان کے قصبہ دیوہ میں پیدا ہوئے، سن بارہ سو اٹھائیس ہجری میں۔ آج کل تو ہے نا چودہ سو انتالیس ہجری۔ چودہ سو انتالیس ہجری ختم ہو رہا ہے اور یہ تو تقریباً یہ کتنے ہو گئے؟ تیرہ سو اٹھائیس، چودہ سو اٹھائیس اور تقریباً دو سو دس، گیارہ سال۔ دو سو دس گیارہ سال قبل ان کی پیدائش ہوئی بھئی۔
اور یہ شاہ محمد اسحاق صاحب جو محدث دہلوی مشہور و معروف ہیں، ان کے شاگرد ہیں، ان سے علم حدیث حاصل کیا اور پھر اس کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اور مفتی کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ ان کی زندگی کی خاص بات کہ انہوں نے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ یہاں پر برصغیر پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا تھا تو انگریزوں کے خلاف یہاں کے لوگوں نے، علماء نے جدوجہد کی اور علم بغاوت بلند کیا کہ یہ ہمارے ملک پر قابض ہیں اور لوگوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں۔ تو اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی انگریزوں کے خلاف ہوئی، لیکن اس میں برصغیر کے لوگوں کو شکست ہوئی اور پھر اس کے بعد انگریزوں نے ان پر اور زیادہ ظلم وغیرہ کیا۔ بہت سینکڑوں ہزاروں علماء کو پھانسیاں دے دی گئیں، توپ کے گولوں سے ان کو اڑا دیا گیا۔ تو بہت زیادہ ظلم کیے۔
اور پھر انگریزوں کی ایک بڑی بدنام زمانہ جیل تھی جسے کالا پانی کہتے تھے بھئی۔ تو جن لوگوں سے انگریزوں کو زیادہ خطرہ ہوتا تھا یا جن کو زیادہ سخت سزا دینی ہوتی تھی، تو ان کو کالا پانی جیل بھیج دیا جاتا تھا۔ اور یہ ہندوستان کا علاقہ تھا لیکن ہندوستان سے تقریباً سات آٹھ سو کلومیٹر دور سمندر کے اندر تھا۔ ہندوستان کے ساحل سے سات آٹھ سو کلومیٹر دور سمندر میں یعنی ایک چھوٹا سا جو کچھ جزیرے تھے، ان کو انڈامان کے جزیرے کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ انڈامان۔ ابھی ہم نے کتاب میں پڑھا، انڈامیں لکھا ہوا ہے۔
تو انڈامیں یہ جزیرے کا نام ہے۔ اور انڈامیں بھی پڑھ سکتے ہیں اس کو اور انڈامان بھی۔ انڈامان بھی کہتے ہیں اس جزیرے کو، انڈامیں بھی کہتے ہیں۔
تو یہ انڈامان کے جزیرے تھے۔ چھوٹے چھوٹے کچھ جزیرے تھے۔ اور چاروں طرف سینکڑوں میل تک سمندر ہی سمندر ہے۔ اب وہاں سے اگر کوئی بھاگنا بھی چاہے تو کہیں بھاگ ہی نہیں سکتا بھئی، کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ اور پھر وہاں انہوں نے ایک جیل بھی بنائی اور بڑی خوفناک جیل، بہت زیادہ لوگوں پر، مسلمانوں پر، علماء کو جن کو بھی وہاں رکھتے تھے، مسلمان بھی ہوتے اور بھی جنگ آزادی میں جنہوں نے حصہ لیا، انگریزوں کے خلاف جنہوں نے بغاوت کی چاہے وہ ہندو تھے، چاہے کوئی اور تھے، سب کو وہاں قید کرتے بھئی۔ اور بے انتہا ظلم و بربریت کرتے تھے ان پر، بے انتہا ظلم بھئی۔
بہت سے لوگوں کو وہی پر کوئی بھاگنے کی کوشش کرتا ان کو پھانسیاں دے دی جاتیں بھئی، اور قتل کر دیا جاتا۔ مار مار کے ان کو قتل کر دیتے تھے۔ اور کوڑے لگائے جاتے ان کو، دن رات ان سے مشقت لی جاتی۔ اور پھر الگ الگ، سب کو الگ الگ رکھتے تھے کہ کسی سے ملنا جلنا ہی نہ ہو۔ حتیٰ کہ دو آدمی اگر اس جیل میں ہوں تو سالوں تک ان کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ فلاں بھی اسی جیل کے اندر ہے بھئی۔
تو بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا، دو بھئی جیل میں، اسی جیل میں ہیں، چھوٹا بھی ہے، بڑا بھی ہے، سالوں تک ان کو پتہ ہی نہیں ہے کہ چھوٹا بھی یہی پر ہے، بڑا بھی یہی پر ہے بھئی۔ اچانک کبھی ملاقات ہو گئی یا نظر آ گیا تو پتہ لگ گیا، ورنہ پتہ بالکل الگ الگ رکھتے تھے تاکہ ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور یہ انگریز کے خلاف بغاوت کا خیال دل سے نکال دیں۔ لیکن ان لوگوں نے جدوجہد کی، ہمارے بڑے بڑے علماء کو وہاں قید کیا گیا اور بے انتہا ظلم و ستم کیا گیا، لیکن وہ انہوں نے اپنی جدوجہد کو، اپنے ارادوں کو ترک نہیں کیا اور بالاآخر انگریز کو سب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور سب کو رہا کرنا پڑا۔ لیکن بڑے عرصے کے بعد جا کر یہ۔
تو مصنف جو ہیں، انہوں نے بھی اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں حصہ لیا تھا۔ انگریزوں نے ان کو بھی قید کر کے کالا پانی کی جیل میں، جزیرہ انڈامان پر بھیج دیا۔ اور یہ وہاں کئی سال تک قید رہے بھئی۔ کئی سال تک قید رہے۔
پہلے تو بس نام ہی سنتے تھے، اب تو ان کی تصویریں وغیرہ بھی عام مل جاتی ہیں۔ انسان دیکھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے، کتنی خوفناک جگہ انہوں نے منتخب کی تھی کہ جہاں بھاگنے کی کوئی صورت نہیں، ہر طرف سمندر ہی سمندر ہے۔ اور پھر وہاں پر ظلم و ستم کرتے تھے، ظلم و ستم کے طریقے انہوں نے بنائے ہوئے تھے۔ اور پھر وہاں سمندر کا پانی ہوتا تھا، ہر وقت جو ہے نمی ہوتی تھی۔ چھوٹے چھوٹے کمرے، قید خانے جو بنائے ہوئے تھے، وہ چھتیں، زمین وغیرہ ان کی ہر وقت جیسے نمی ہوتی ہے، پانی وغیرہ تھوڑا تھوڑا۔ اور بڑی تکلیف میں وہاں ان لوگوں نے وقت گزارا۔ بہت سے لوگ تنگ آ کر وہاں تکالیف کی وجہ سے بہت سے قیدی خودکشی کر لیا کرتے تھے بھئی، اتنی اتنی خوفناک جیل تھی بھئی۔
تو یہ مصنف بھی وہاں قید ہوئے اور یہ وہاں انہوں نے کئی سال گزارے بھئی۔ اور یہ بڑے جید عالم دین تھے، اس کا اندازہ ان کی اس کتاب سے ہوتا ہے۔ جزیرہ انڈامان میں ہی انہوں نے یہ علم الصیغہ لکھی بھئی۔ اور وہاں جزیرہ انڈامان میں تو کوئی کتاب بھی نہیں تھی بھئی، خود بھی لکھتے ہیں میرے پاس کوئی کتاب نہیں ہے۔ صرف اپنے حافظے سے انہوں نے اتنی زبردست کتاب لکھی ہے ایک کہ انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔
اسی طرح وہاں بھی یہ اور بھی علمی کام کرتے رہے، اور بھی چند کتابیں لکھیں۔ اسی طرح ایک انگریز کے لیے انہوں نے ایک کتاب کا عربی سے اردو ترجمہ کیا، دو سال لگائے اور پوری کتاب کا اردو ترجمہ انہوں نے کیا اور اسی کی وجہ سے وہ انگریز نے خوش ہو کر ان کی رہائی کروا دی اس نے بھئی، اس انگریز افسر نے۔
تو یہ واپس آئے اور پھر ہندوستان میں رہنے لگے۔ اور پھر اس کے بعد یہ حج کے سفر پر جا رہے تھے تو بحری جہاز کے اندر حالت احرام میں تھے، جدہ کے قریب جو ہے ان کا جہاز ایک پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا اور مفتی صاحب اور ان کے تمام ساتھی بھی اس میں ڈوب گئے بھئی۔
اللہ تعالیٰ ان کے کروڑہا درجات بلند فرمائے۔
تو اور بھی ان کی آگے تصانیف بھی دی ہوئی ہیں اور ان کے شاگرد بھی دیے ہوئے ہیں، لیکن یہ خاص بات جو میں نے ذکر کی کہ انہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اور بے انتہا تکالیف والی قید کئی سال تک انہوں نے برداشت کی بھئی۔
تو یہ بڑی مبارک کتاب ہے اور مدارس کے اندر داخل درس ہے، جو عند اللہ قبولیت کی علامت ہے۔
اچھا بھئی، آگے اب کچھ چیزیں لکھ لیں بھئی۔ کاپی نکالیں، کاپی اور قلم۔ دو تین چیزیں ہیں، وہ لکھ لیں ذرا۔
لکھیے بھئی! کسی بھی علم کے شروع کرنے سے پہلے کسی بھی علم کے شروع کرنے سے پہلے تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔
کسی بھی علم کے شروع کرنے سے پہلے تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ نمبر ایک: اس علم کی تعریف، نمبر دو: اس علم کا موضوع، اور نمبر تین: اس علم کی غرض اور اس کا مقصد۔
لکھ لیا؟ ہاں جی، اب لکھیے الگ عنوان: علمِ صرف کی تعریف۔
علمِ صرف کی تعریف: صرف ص کے ساتھ۔ "الصرفُ هو علمٌ بأصولٍ"۔
بأصول کیسے لکھو گے؟ اصول کے الف کے ساتھ با کو ملا کر لکھنا ہے۔ "بأصولٍ يُعرَفُ بها أحوالُ أبنيةِ الكلمِ التي ليست بإعرابٍ وبناءٍ"۔
یعنی علمِ صرف ان قوانین کو جاننے کا نام ہے جن کے ذریعے معرب اور مبنی ہونے کے علاوہ کلمے کے بننے کے احوال کو جانا جاتا ہے کہ کون سا کلمہ کس طرح بنا ہے۔
لکھ لیا؟ دیکھیے پھر سمجھ لیجیے، یہ ذرا عربی عبارت پر نظر رکھیں۔ "الصرفُ هو علمٌ بأصولٍ" اصول قوانین بھئی، اصول کا کیا معنی ہے؟ قوانین۔ علمِ صرف جو ہے وہ جاننا ہے "هو علمٌ" وہ جاننا ہے "بأصولٍ" کس کو؟ قوانین کو۔ کون سے قوانین؟ "يُعرَفُ بها أحوالُ أبنيةِ الكلمِ" کہ پہچانا جاتا ہے ان کے ذریعے کلمے کے بننے کے احوال کو، کلمے کی بنا کے احوال کو۔ بنا یعنی اس کی بناوٹ کہ کلمہ کون سا کلمہ کس سے کس ایک صیغہ دوسرے صیغے سے کس طرح بنا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو ترجمے پہ نظر ہے؟ کہ علمِ صرف وہ علم ہے ان قوانین کے جاننے کا جن کے ذریعے پہچانا جاتا ہے، کس چیز کو پہچانا جاتا ہے؟ "أحوالُ أبنيةِ الكلمِ" کلمے کی بنا کے احوال کو کہ کون سا کلمہ کس کلمے سے بنا ہے، کیسے بنا ہے، کلمے کی بنا کے احوال کو۔ وہ احوال "التي ليست بإعرابٍ وبناءٍ" وہ احوال جو معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے نہ ہوں۔
وہ تو ہم نحو میں پڑھتے ہیں کہ کون سا کلمہ معرب ہے اور کون سا مبنی ہے، تو اس لیے کہا وہ بھی تو احوال ہیں نا، زیـدٌ پڑھنا ہے یا زیـدًا پڑھنا ہے یا زیـدٍ، یہ بھی کلمے کی حالت ہے یا نہیں؟ ایک حالت کیا ہے زیـدٌ، ایک حالت کیا ہے زیـدٍ، ایک حالت کیا ہے زیـدًا، تو یہ بھی احوال ہیں۔ تو انہوں نے کہا احوال کے بارے میں بحث کریں گے، لیکن سارے احوال نہیں، کچھ احوال وہ ہیں جو معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے ہیں، وہ ان سے بحث نہیں ہوگی علمِ صرف میں، ان کے بارے میں بحث علمِ نحو میں ہوگی۔ یہاں کون سے احوال کی بحث ہوگی؟ کہ ایک کلمہ دوسرے کلمے سے کیسے بنا ہے بھئی۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، تو بنا کا معنی ہوتا ہے حالت اور بناوٹ بھئی۔ بنا کا کیا معنی ہے؟ ابنیہ، جمع ہے نا ابنیہ بنا کی جمع ہے، حالت اور بناوٹ بھئی۔ اور دوسرا بنا، وہ بھی حالت، وہ مبنی ہونا مراد ہے، کیا ہے؟ مبنی ہونا اس کا۔
اچھا، موضوع بھئی موضوع۔ علمِ صرف کا موضوع: "الكلمةُ من حيثُ الصيغةُ"۔ یعنی علمِ صرف کا موضوع کلمہ ہے، اس حیثیت سے کہ وہ کون سا صیغہ ہے، ماضی ہے، مضارع ہے، یا امر ہے وغیرہ۔
علمِ صرف کا موضوع کلمہ ہے، اس حیثیت سے کہ وہ کون سا صیغہ ہے، ماضی ہے، مضارع ہے، امر ہے وغیرہ۔
لکھ لیا؟ آگے لکھیے: علمِ صرف کی غرض اور اس کا مقصد۔
"صيانةُ الذهنِ عن الخطأِ اللفظيِّ في كلامِ العربِ من حيثُ الصيغةُ"۔ صیانت ص کے ساتھ ہے، ص ی ا ن اور گول تا، صیانۃ۔ "الذهنِ عن الخطأِ اللفظيِّ" خطا میں طا آئے گی، ط ظ بھئی، الخطأ۔ اچھا، الخطأ کیسے لکھا بھئی؟ خ، ط، الف، اور الف کے نیچے ہمزہ ڈالنا ہے، الف کے بعد نہیں ہمزہ ڈالنا، الف کے بعد ہمزہ ڈالو گے تو کیا بن جائے گا؟ خطائی، خطائی نہیں الخطأ۔ ٹھیک ہے؟ تو یہ الف کے نیچے ہمزہ لکھو، یہ الف دراصل ہمزہ ہے۔ ہمزہ کو کبھی کس شکل میں لکھتے ہیں؟ الف کی شکل میں، کبھی واؤ، اور کبھی یا۔ تو یہ الف ہمزہ ہے۔
"عن الخطأِ اللفظيِّ" لفظ کیسے لکھتے ہیں؟ ل، ف، ظ، اس سے پہلے دو لام شروع میں لگاؤ کیونکہ الف لام آ گیا نا، اللفظ، اللفظي اور آخر میں یا بھی ساتھ جوڑ دو، "اللفظيِّ في كلامِ العربِ من حيثُ الصيغةُ"۔
لکھ لیا بھئی؟ غرض کیا ہے پھر دیکھو: "صيانةُ الذهنِ عن الخطأِ اللفظيِّ في كلامِ العربِ" صیانت کا معنی ہے بچانا، بچانا۔ ذہن کو بچانا کس چیز سے؟ "عن الخطأ اللفظي" لفظی غلطی سے "في كلام العرب" کس میں؟ کلامِ عرب میں "من حيث الصيغة" کس اعتبار سے؟ صیغے کے اعتبار سے۔ یعنی مُکرِمٌ پڑھنا ہے، مُکرَمٌ نہیں پڑھنا، کہاں ضَرَبَ پڑھنا ہے، کہاں ذُرِبَ پڑھنا ہے، کہاں یَضرِبُ پڑھنا ہے، کہاں یُضرَبُ پڑھنا ہے۔ دیکھو لکھنے میں تو ایک جیسے ہوں گے، لیکن اگر علمِ صرف پڑھی ہوگی آپ نے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں تو معروف صیغہ پڑھنا چاہیے یا یہاں پر مجہول کا صیغہ وغیرہ، تو یہ سارے صیغوں کی پہچان ہو جاتی ہے اس میں۔
اب پھر ذرا دیکھ لو بھئی، عربی عبارت بھی دیکھ لو، اس کا معنی اچھی طرح سمجھ لو۔ علمِ صرف کی تعریف میں نے لکھوائی: "الصرفُ هو علمٌ بأصولٍ يُعرَفُ بها أحوالُ أبنيةِ الكلمِ التي" اعراب بھی دیکھ رہے ہو بھئی؟ آپ نے اسی طرح اس کو یاد کرنا ہے، رٹا لگانا ہے۔ اور پھر ترجمہ آپ کو، ترجمہ اچھی طرح اس کا سمجھ لیں اور یہ عربی تعریفیں آپ نے یاد کرنی ہیں۔
"الصرفُ هو علمٌ بأصولٍ" اعراب لگاتے جاؤ اگر کہیں آپ کو مشکل لگ رہا ہے، اگر نہیں لگ رہا تو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "الصرفُ هو علمٌ بأصولٍ يُعرَفُ بها أحوالُ أبنيةِ الكلمِ التي ليست بإعرابٍ وبناءٍ" دیکھ لیا؟
اب پھر سنو روانی سے: "الصرفُ هو علمٌ بأصولٍ يُعرَفُ بها أحوالُ أبنيةِ الكلمِ التي ليست بإعرابٍ وبناءٍ" علمِ صرف وہ جاننا ہے ان قوانین کو کہ جن کے ذریعے پہچانا جاتا ہے کلمے کی بنا کے احوال کو کہ کون سا کلمہ کیسے بنا ہے۔ وہ احوال "التي ليست بإعرابٍ وبناءٍ" جو معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے نہ ہوں، ان کو نہیں جانا جاتا، ان کے علاوہ دوسرے احوال کو جانا جاتا ہے۔
پھر موضوع: "الكلمةُ من حيثُ الصيغةُ" کہ علمِ صرف کا موضوع کلمہ ہے صیغہ ہونے کی حیثیت سے کہ یہ کون سا صیغہ ہے بھئی، ماضی ہے، امر ہے، نہی ہے، اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے وغیرہ بھئی۔
اور اس کا مقصد کیا ہے اس فن کا؟ تو یاد رکھیے مقصد کیا ہے: "صيانةُ الذهنِ عن الخطأِ اللفظيِّ في كلامِ العربِ من حيثُ الصيغةُ" ذہن کو بچانا لفظی غلطی سے کلامِ عرب میں صیغہ ہونے کی حیثیت سے کہ کون سا صیغہ پڑھنا ہے، کس طرح پڑھنا ہے بھئی۔
چلیے بس بھئی بس، تو یہ تعریفات آپ نے مجھے کل یاد کر کے سنانی ہیں بھئی۔
تو یہ جو کتاب ہے "علم الصیغہ"، ہم اس میں ذرا تیز چلیں گے کیونکہ ماشاء اللہ آپ سب تو صرفی ہیں۔ ابواب الصرف یاد ہیں نا سب کو؟ ہاں ابواب الصرف اصل بنیاد صرف کی وہ ہے بھئی۔ اور وہی ہم آگے اس میں بھی صرفِ صغیر آئے گی بھئی، صرفِ صغیر۔ صرفِ صغیر ہر مصنف کا اپنا طریقہ ہوتا ہے، کسی کی صرفِ صغیر بہت مختصر ہوتی ہے، کسی کی متوسط، کسی کی بہت لمبی۔ ہمارا طریقہ بہترین اور سب سے جامع طریقہ ہے متوسط بھئی۔
کیونکہ بہت طویل ہو جائے تو اس کا تو نام ہے صرفِ صغیر، تو وہ تو صرفِ صغیر نہ رہی، صرفِ طویل بن جائے۔ تو متوسط درجے کی ہے، تو وہ اپنے ابواب بھی دہراتے رہیں اور یہاں ہم ساتھ ساتھ وہی ابواب چلائیں گے اور وہ ابواب آپ کو یاد ہوں گے تو جلدی جلدی ہم چلتے جائیں گے۔ اور اگر ابواب یاد نہیں تو پھر اس کتاب سے پوری طرح فائدہ آپ نہیں اٹھا سکتے، اور لہٰذا ان ابواب جس کے اگر کچھ کمزور وغیرہ ہوں ان کو پختہ کر لیں، اس کو دہرا لیں اور اس کتاب میں پھر ہم تیز تیز چلتے رہیں گے۔ جہاں کہیں وہ گردانیں آئیں گی تو صیغہ یہاں سے، مادہ یہاں سے لے لیں گے، انہوں نے جو لفظ دیا ہوگا، اور گردان اپنے طریقے کے مطابق جلدی جلدی آپ لوگوں نے سنانی ہوگی، ٹھیک ہے؟
ہاں تو وہ اس میں آپ نے آگے آگے کتاب کو تھوڑا تھوڑا دیکھ کر بھی آنا ہے، اگلے سبق میں کیا آ رہا ہے، اس کا تھوڑا مطالعہ وغیرہ کر کے آیا کریں اور پھر کوئی گردان وغیرہ آ رہی ہے اس کی پہلے سے ذرا مشق کر لیا کریں تاکہ یہاں اگر میں کسی کو کہتا ہوں کہ یہ والی اب گردان آپ سنائیں تو جلدی سے آپ سنا سکیں، آپ کی زبان پر رواں ہو بھئی۔
دعا کرو اللہ اس کتاب کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور غلطیوں سے حفاظت فرمائے اور سب کے لیے اس کو خوب نافع فرمائے بھئی۔ بڑی پیاری اور دلکش کتاب ہے، انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کون سے جزیرے میں اور کتنی تکالیف میں اور بغیر کسی کتاب کی مدد کے انہوں نے اپنے حافظے سے یہ ساری کتاب لکھی، یہ سارے قوانین جمع کیے، اس میں اپنی نئی نئی باتیں اور تحقیقات بھی درج کیں، تو بڑی ہی پیاری کتاب لکھی بھئی۔
تو اللہ تعالیٰ مصنف کے کروڑہا درجات بلند فرمائے اور ان کا یہ علم ہم سب کے لیے اور آگے آنے والی نسلوں کے لیے خوب نافع فرمائے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے بھئی، آپ سب کو بڑا عالم بنائے۔