Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 43
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب میں۔ اثبات فعل مضارع معروف: یدعو، یدعوان، یدعون، تدعو، تدعوان، یدعون، تدعو، تدعین، تدعون، ادعو، ندعو۔ صیغہ ہائے تثنیہ مطلقاً اور صیغہ ہائے جمع مؤنث براسلاً اور در یدعو و أخواتش واؤ باقاعدہ دہم ساکن شدہ اور ہر دو جمع مذکر و تدعین باقاعدہ مذکور حذف شدہ، و صورت جمع مذکر و مؤنث دریں بحث یکے است۔ اچھا بھئی گزشتہ سبق کے اندر ناقص واوی دعا یدعو کی گردان ہم نے شروع کی تھی، اور فعل ماضی معروف اور فعل ماضی مجہول کی گردانیں اور ان میں جو جو اعلالات ہوئے ہیں، وہ گزر گئے۔ اب آگے فعل مضارع معروف کی گردان آ رہی ہے بھئی۔ دیکھیے یہ گردان کیا ہے، دیکھیے کتاب میں: یدعو، یدعوان، یدعون، تدعو، تدعوان، یدعون، تدعو، تدعین، تدعون، ادعو، ندعو۔ دیکھو توجہ سے سنو، یہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ تثنیہ کے سارے صیغے اپنی اصل پر ہیں، اور اسی طرح جمع مؤنث کے دونوں صیغے بھی اپنی اصل پر ہیں۔ دیکھو تثنیہ کے چار صیغے ہیں پوری گردان میں مضارع معروف میں، اور جمع مؤنث کے دو صیغے ہیں گویا چھ صیغے۔ تو چھ صیغے اپنی اصل پر ہیں، ان میں کوئی اعلال نہیں ہوا بھئی۔ آئیے پوری گردان میں دیکھ لیتے ہیں کون کون سا اعلال ہوا ہے۔ یدعو بر وزن ینصر، نصرہ سے ہے نا؟ تو وہاں سے وہ صیغہ نکالی لیا کرو، اسی وزن پر اس کو بنا لیا کرو۔ تو یدعو بر وزن ینصر اصل میں کیا تھا؟ یدعو۔ پھر پھر دسواں قانون بھئی۔ دسواں قانون کیا تھا کہ واؤ یا یا لام کی جگہ آ جائے اور ماقبل ضمہ یا کسرہ ہو تو اس واؤ یا یا کو ساکن کر دیتے ہیں۔ تو واؤ کو ساکن کیا۔ دیکھو یدعو، واؤ کہاں آیا؟ لام کی جگہ اور واؤ سے ماقبل عین پر کیا ہے؟ ضمہ ہے تو واؤ کو ساکن کر دیا تو یدعو ہوا۔ یدعو۔ اگلا صیغہ کیا ہے؟ یدعوان۔ یدعو۔ یدعو یدعوان بر وزن ینصرانی۔ معلوم ہوا اس تثنیہ میں کوئی اعلال نہیں ہوا۔ اگلا صیغہ کیا ہے؟ یدعون۔ اور یہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوون۔ ادھر نصرہ سے تیسرا صیغہ نکالیں، ینصرون۔ اس وزن پر اس کو لے جائیں، یدعوون۔ دیکھا معلوم ہوا دو واؤ تھے۔ یدعوون بر وزن ینصرون۔ پھر کیا کیا؟ جی؟ وہ ہی دسواں ضابطہ لگا۔ دسواں ضابطہ کیا تھا کہ اس بھئی دسویں ضابطے کے کئی حصے تھے بھئی آپ کو اگر یاد ہو، ایک صورت جو میں نے ابھی بیان کر دی کہ واؤ یا یا لام کی جگہ آئیں اور ان سے ماقبل ضمہ یا کسرہ ہو تو اس واؤ یا یا کو ساکن کر دیتے ہیں، جیسے یدعوو اس سے کیا بن گیا؟ یدعو اور یرمیو اس میں یا سے یرمیو سے کیا بن گیا؟ یرمی۔ تو دیکھا واؤ اور یا کو ساکن کر دیا۔ یہ واؤ اور یا کہاں آئے ہیں؟ لام کی جگہ اور واؤ سے ماقبل ہے ضمہ اور یا سے ماقبل ہے کسرہ تو ان کو ساکن کر دیا۔ اسی قانون دسویں قانون کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ اگر واؤ کے بعد ایک اور واؤ آئے اور اس واؤ سے پہلے ضمہ ہو، یدعوون۔ دیکھا واؤ سے ماقبل ہے ضمہ اور واؤ کے بعد ایک اور واؤ ہے، یدعو یہ واؤ جو لام کی جگہ آ رہا ہے، یدعوون ینصروونا۔ تو یہ جو عین کے بعد والا واؤ ہے اس کی میں بات کر رہا ہوں، یہ ہے لام کلمہ بھئی۔ یہ دیکھو اس واؤ سے پہلے عین پر کیا ہے ضمہ اور اس واؤ کے بعد ایک اور واؤ ہے تو ایسی صورت میں اس واؤ کو ساکن کر دیتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ یا اسی طرح اگر یا آئے لام کی جگہ، یا آئے لام کی جگہ اور اس یا سے ماقبل کسرہ ہو اور ماقبل ایک اور یا ہو۔ ذہن میں آیا قانون؟ واؤ یا یا آئیں کہاں پر؟ لام کی جگہ اور واؤ سے پہلے ضمہ ہو اور واؤ کے بعد ایک اور واؤ ہو اور یا سے پہلے کسرہ ہو اور یا کے بعد ایک اور یا ہو تو اس واؤ اور یا کو ساکن کر دیتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح تھا، یدعوون۔ واؤ کو کیا کیا؟ ساکن کیا۔ تو دو واؤ جمع ہو گئے ساکن بھئی۔ پہلا ایک واؤ پہلے ہی ساکن تھا، ایک یہ بھی ساکن ہو گیا تو اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا، اول مدہ تھا اس کو گرا دیا تو کیا بن گیا؟ یدعون۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھا ہم پوری گردان حل کر رہے تھے: یدعو، یدعوان، یدعون۔ آگے پھر کیا ہے؟ تدعو۔ تدعو اصل میں کیا تھا؟ تدعوو۔ اس میں پھر دسویں قانون کا پہلا حصہ لگا، واؤ لام کی جگہ ہے اور اس سے ماقبل کیا ہے؟ ضمہ تو واؤ کو ساکن کر دیا تو تدعو ہوا۔ اگلا صیغہ کیا ہے؟ تدعوان بر وزن تنصرانی۔ تو دیکھا یہ اپنی اصل پر ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اور اگلا صیغہ کیا ہے؟ یدعون۔ یدعون۔ یہ جمع مؤنث کا صیغہ ہے بھئی۔ یہ اصل میں کیا تھا؟ وہاں نصرہ سے نکالو یہی صیغہ، ینصرنہ۔ ینصرنہ۔ ینصرو، یدعون، یدعون، تنصرو، تنصرانی، یدعون۔ یہ جمع مؤنث کا صیغہ اور ادھر کیا ہے؟ یدعون۔ دیکھا یہاں کوئی اعلال نہیں ہوا، یہ اپنی اصل پر ہے، یدعون۔ جمع مذکر کا یدعون۔ پھر گردان پڑھو یدعو، یدعوان، یدعون۔ دیکھا یہاں بھی یدعون، آگے پھر تدعو، تدعوان، یدعون۔ جمع مذکر۔ اور جمع مؤنث کی صورت بالکل ایک جیسی ہے۔ جمع مذکر بھی یدعون اور جمع مؤنث بھی یدعون۔ لیکن جمع مذکر کی اصل الگ ہے۔ وہ کیا تھا؟ یدعوون۔ اور جب کہ جمع مؤنث اپنی اصل پر ہی ہے یدعون بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے چلیے، اگلا صیغہ کیا ہے؟ یدعون، پھر ہے تدعو۔ اگلا کیا ہے؟ تدعو۔ دیکھو گردان دیکھو بھئی کتاب پر نہ دیکھیں، گردان دیکھیں۔ یدعو، یدعوان، یدعون، تدعو، تدعوان، یدعون۔ اگلا صیغہ کیا؟ تدعو۔ ایک ایک صیغہ حل کرتے جائیں، کتاب میں تو یہ ہے جو صیغہ مکرر ہوتا ہے اس کو وہ ذکر نہیں کرتے دوبارہ بھئی۔ تو تدعو ایک دفعہ پہلے گزر چکا، تو یہ تدعو اصل میں کیا تھا؟ تدعوو۔ پھر کون سا قانون لگا؟ دسواں قانون لگا۔ واؤ ہے لام کی جگہ اور اس سے ماقبل کیا ہے؟ ضمہ تو واؤ کو ساکن کر دیا تو تدعو ہوا۔ اگلا صیغہ کیا؟ تدعوان کس وزن پر؟ تنصرانی۔ تو دیکھا معلوم ہوا اس میں کوئی اعلال نہیں ہوا۔ اگلا صیغہ کیا؟ تدعون۔ اور یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوون بر وزن تنصرون۔ دیکھا وہاں تنصرون سے آپ کو پتہ چلے گا وہ جب نکالیں گے تو یہاں پتہ لگ جائے گا کہ اعلال ہوا ہے یا اعلال نہیں۔ وہ ہے تنصرون اور یہ ہے تدعون، تو معلوم ہوا یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوون بر وزن تنصرون۔ پھر دسواں قانون لگا، واؤ آیا کس کی جگہ؟ لام کی جگہ اور واؤ سے ماقبل ہے ضمہ اور واؤ کے بعد ہے ایک اور واؤ۔ یہ دسویں قانون کا دوسرا حصہ۔ واؤ سے ماقبل کیا ہے؟ ضمہ اور واؤ کے بعد ایک اور واؤ، تو اس واؤ کو کیا کرتے ہیں؟ ساکن کرتے ہیں۔ پھر اجتماع ساکنین سے ایک واؤ گر گیا تو کیا بن گیا؟ تدعون۔ تو جمع مذکر حاضر وہ کیا ہے؟ تدعون۔ اور اصل میں کیا تھا؟ تدعوون۔ اور جمع مذکر غائب جو ہے، وہ کیا ہے؟ یدعون۔ اور وہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوون۔ اور جمع مؤنث غائب وہ کیا ہے؟ یدعون۔ اور وہ اصل میں کیا تھا؟ یہ اپنی اصل پر ہے شاباش۔ پھر دہرالؤ ذرا ایک دفعہ۔ تدعون، جمع مذکر حاضر، یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوون۔ اور جمع مذکر غائب یدعون اصل میں کیا تھا؟ یدعوون۔ اور جمع مؤنث غائب یدعون یہ اپنی اصل پر ہے۔ اب آئیے اگلے صیغے پر۔ تدعون سے اگلا صیغہ کیا؟ تدعین۔ تدعین، دیکھ رہے ہیں کتاب پر؟ یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوین بر وزن تنصرین۔ تدعوین۔ پھر یہ دسویں قانون کا تیسرا حصہ لگے گا۔ دسویں قانون کا تیسرا حصہ یہ تھا کہ واؤ اگر لام کی جگہ آئے، توجہ ہے؟ واؤ لام کی جگہ آئے اور اس سے ماقبل ضمہ ہو لیکن مابعد میں یا ہو۔ دوسرے حصے میں تو کیا تھا؟ مابعد میں واؤ آتا تھا، لیکن یہاں واؤ سے ماقبل تو ضمہ ہے لیکن مابعد کیا آئے؟ یا۔ یا، یا آئے لام کی جگہ اور ماقبل ہو کسرہ اور یا کے مابعد ہو واؤ۔ توجہ ہے؟ پھر سنو دسویں قانون کے تین حصے، پہلا حصہ کیا؟ کہ لام کی جگہ واؤ یا یا آئیں اور ان سے ماقبل ضمہ یا کسرہ ہو تو اس واؤ اور یا کو ساکن کرتے ہیں۔ دسویں قانون کا دوسرا حصہ یہ کہ لام کی جگہ واؤ آئے اور اس واؤ سے ماقبل ضمہ ہو اور واؤ کے بعد ایک اور واؤ ہو۔ یا لام کی جگہ یا آئے اور اس یا سے ماقبل کسرہ ہو اور یا کے بعد ایک اور یا ہو تو اس واؤ اور یا کو ساکن کر دیتے ہیں۔ جبکہ تیسرا حصہ اس کے برعکس تھا۔ اس میں واؤ کے بعد واؤ نہیں بلکہ واؤ کے بعد یا آئے گی اور یا کے بعد یا نہیں بلکہ واؤ آئے گا۔ تو لہٰذا تیسرا حصہ یہ کہ لام کی جگہ واؤ یا یا آئے اور واؤ سے ماقبل ہے ضمہ اور یا سے ماقبل کیا ہے؟ کسرہ۔ لیکن اس واؤ کے بعد آگے پھر واؤ نہیں ہے بلکہ یا ہے۔ اور یا کے ما بعد یا نہیں ہے بلکہ واؤ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو اس صورت میں پھر کیا کرتے تھے؟ واؤ کی حرکت ماقبل کو دے کر واؤ کو یا سے بدلتے تھے۔ جیسے تدعوین، تدعووین۔ یہ جو ابھی ہم صیغہ حل کر رہے ہیں تنصرین۔ تدعوین بر وزن تنصرین۔ پھر کیا کیا؟ دیکھو تیسرا حصہ، واؤ آیا لام کی جگہ اور ماقبل عین پر ضمہ، لیکن واؤ کے ما بعد کیا ہے؟ یا۔ تو اس صورت میں کیا کرتے ہیں؟ واؤ کی حرکت ماقبل کو دیتے ہیں تو عین کا ضمہ گرایا اور واؤ کا کسرہ کس کو دے دیا؟ عین کو دے دیا اور پھر ماقبل کسرہ کی وجہ سے واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے، تو کیا بن گیا؟ تدعین۔ دو یا جمع ہو گئیں تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے ایک یا گر گئی تو کیا بن گیا؟ تدعین۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو یہ تدعین، واحد مؤنث حاضر، یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوین۔ پھر کیا کیا؟ دسواں قانون لگا۔ واؤ کی حرکت کس کو دے دی؟ ماقبل عین کو۔ پہلے عین کا ضمہ گرایا اور پھر واؤ کا کسرہ عین کو دے دیا اور پھر عین کے کسرہ کی وجہ سے واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے اور پھر ایک یا اجتماع ساکنین سے گر گئی تو کیا بن گیا؟ تدعین، تدعین۔ اگلا صیغہ کیا ہے؟ تدعوان بر وزن تنصرانی۔ دیکھو معلوم ہوا اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس سے اگلا صیغہ کیا ہے؟ تدعون۔ تدعون۔ جمع مؤنث حاضر، وہ تدعون چونکہ ایک دفعہ پہلے گزر چکا ہے اس لیے کتاب والے اس کو ذکر نہیں کر رہے۔ تدعون۔ تو یہ اصل میں کیا تھا؟ تنصرنہ، تدعون۔ دیکھا یہ تو اسی وزن پر ہے معلوم ہوا اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی یہ اپنی اصل پر ہے۔ تدعون بر وزن تنصر۔ تو ایک تدعون ہے جمع مذکر حاضر، اور ایک تدعون ہے جمع مؤنث حاضر۔ دونوں تدعون ہیں۔ دونوں تدعون ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ جو جمع مؤنث والا تدعون ہے وہ اپنی اصل پر ہے اور وہ تدعون جو جمع مذکر حاضر والا ہے وہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوون۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اب پھر ذرا دہرالو۔ دو یدعون آئے۔ ایک جمع مذکر غائب، ایک جمع مؤنث غائب۔ جمع مؤنث والا یدعون وہ اپنی اصل پر ہے اور جمع مذکر والا یدعون، یہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوون تھا شاباش۔ اسی طرح دو تدعون آئے، ایک جمع مذکر حاضر، ایک جمع مؤنث حاضر۔ تو جمع مؤنث حاضر والا تدعون وہ اپنی اصل پر ہے اور جمع مذکر حاضر والا تدعون جو ہے وہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوون۔ اور جو واحد مؤنث حاضر ہے تدعین، یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوین۔ اچھی طرح سارے صیغوں کا اعلال سمجھ میں آگیا۔ اب دیکھیے عبارت پر۔ کہتے ہیں صیغہ ہائے تثنیہ مطلقاً، تثنیہ کے صیغے مطلقاً یعنی تمام صیغے، یعنی کہ غائب والے یا حاضر والے یا مذکر والے یا مؤنث والے، نہیں نہیں۔ تثنیہ والے صیغے مطلقاً یعنی سارے کے سارے، و صیغہ ہائے جمع مؤنث، اور جمع مؤنث کے صیغے جو ہیں براسلاً، وہ اپنی اصل پر ہیں۔ تثنیہ کے کتنے صیغے؟ چار، اور جمع مؤنث والے کون سے دو صیغے؟ کون سے؟ یدعون اور تدعون، یہ اپنی اصل پر ہیں۔ تو کہتے ہیں صیغہ ہائے تثنیہ مطلقاً و صیغہ ہائے جمع مؤنث براسلاً، تثنیہ کے صیغے مطلقاً اور جمع مؤنث کے صیغے جو ہیں براسلاً وہ اپنی اصل پر ہیں، و در یدعو و أخواتش واؤ باقاعدہ دہم ساکن شدہ، اور یدعو اور اس کے جو مشابہ کلمات ہیں، جو مشابہ صیغے ہیں، ان میں واؤ دسویں ضابطے سے ساکن ہو گیا، یدعو اصل میں کیا تھا؟ یدعوو۔ اسی طرح جو اس کے مشابہ کلمات ہیں وہ کون کون سے ہیں؟ یدعو، تدعو۔ جی؟ یرمی۔ پانچ صیغے ہیں جن کے ساتھ ضمیر بارز نہیں جڑی ہوئی، یدعو، تدعو، پھر، پھر سنو۔ یدعو، پھر تدعو، پھر دوبارہ تدعو، پھر ادعو، پھر ندعو۔ یہ پانچ صیغے ہیں، یہ ہیں یدعو کے اخوات، بھئی اسی جیسے ہیں۔ ان سب میں بھی واؤ کو ساکن کیا ہے۔ تدعو اصل میں کیا تھا؟ تدعو وو، پھر واؤ کو ساکن کیا تو تدعو ہوا۔ ادعو اصل میں کیا تھا؟ ادعو وو، پھر واؤ کو ساکن کیا۔ ندعو اصل میں کیا تھا؟ ندعوو، پھر واؤ کو کیا کیا؟ ساکن کیا۔ تو اس لیے کہا کہتے ہیں و در یدعو و أخواتش یدعو اور اس کے جو مشابہ صیغے ہیں واؤ باقاعدہ دہم ساکن شدہ، واؤ جو ہے وہ دسویں ضابطے سے ساکن ہو گیا۔ و در ہر دو جمع مذکر، اور دونوں جمع مذکر، جمع مذکر کون سے ہیں؟ جمع مذکر، یدعون اور تدعون۔ یدعون کیا تھا؟ تدعون اور تدعون کیا تھا؟ تدعون۔ تو کہتے ہیں ہر دو جمع مذکر، و تدعین، اور تدعین، واحد مؤنث حاضر، یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوین۔ تو کہتے ہیں ہر دو جمع مذکر و تدعین باقاعدہ مذکور حذف شدہ، یہ بھی مذکورہ ضابطے سے حذف ہو گئے۔ ان میں جو واؤ تھا وہ بھی مذکورہ ضابطے سے حذف ہو گیا۔ پیچھے آیا تھا نا واؤ، واؤ باقاعدہ دہم ساکن شدہ، اسی کو واؤ کو یہاں بھی جوڑ لیں کہ وہ واؤ دونوں جمع مذکر میں اور تدعین میں باقاعدہ مذکور حذف شدہ، وہ بھی اسی مذکورہ (یعنی دسویں ضابطے) سے کیا ہو گئے؟ حذف ہو گئے۔ و صورت جمع مذکر و مؤنث دریں بحث یکے است، اور جمع مذکر اور مؤنث کی صورت اس بحث میں ایک جیسی ہے۔ جمع مذکر کیا؟ یدعون، اور جمع مؤنث غائب کیا؟ وہ بھی تدعونا۔ جمع مذکر حاضر کیا؟ تدعونا اور جمع مونث حاضر کیا؟ وہ تدعونا۔ تو کہتے ہیں در صورت جمع مذکر و مونث در بحث یکے است کہ جمع مذکر و مونث کی صورت اس بحث میں ایک ہی ہے، یعنی ایک جیسی ہے۔ اس بارے فعل مضارع مجہول۔ مضارع مجہول کی گردان آ گئی بھئی۔ یدعا، یدعوان، یدعون، تدعا، تدعوان، یدعینہ، تدعون، تدعینہ، تدعینہ، ادعا، ندعا۔ اچھا، بھئی آیئے پہلے مضارع مجہول کے اعلالات کر لیتے ہیں پھر یہ اس کو بیان کریں گے۔ یدعا۔ یدعا اصل میں کیا تھا؟ یدعا وہ واوی ہے بھئی واوی، یدعو۔ پھر واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے۔ کیوں بدلا؟ جی کون سا ضابطہ لگا؟ بیسواں ضابطہ کہ اگر واؤ چوتھی جگہ یا اس سے آگے آئے اور ماقبل اس کے ضمہ یا واؤ ساکن نہ ہو تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے۔ تو بیسواں ضابطہ لگا، یدعو سے کیا بن گیا؟ یدعیو۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ یہ کون سا ضابطہ ہے؟ ساتواں ضابطہ۔ قال اور باعا والا ساتواں ضابطہ۔ تو یدعا بن گیا۔ اگلا صیغہ کیا؟ یدعوانی۔ یہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوانی اصل میں کیا تھا؟ یدعوانی واوی ہے نا؟ یدعوانی۔ پھر واؤ اسی طرح بیسویں ضابطے سے کہ چوتھی جگہ یا اس سے آگے آئے تو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے۔ تو کیا بن گیا؟ یدعوانی۔ اگلے صیغے میں آئے بھئی۔ اگلا صیغہ ہے یدعون۔ یہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوونا۔ یدعوونا۔ پھر بیسواں ضابطہ لگا، واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے۔ چوتھی جگہ یا اس سے آگے آیا تو کیا بن گیا؟ یدعیونا۔ توجہ ہے؟ یدعیونا۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ تو کیا بن گیا؟ یدعاوونا۔ الف بھی ہے واؤ بھی ہے، یدعاوونا۔ پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف گر گیا تو کیا بن گیا؟ یدعون۔ یدعون۔ دیکھا، توجہ ہے؟ واؤ کو یا سے بدلتے ہیں بیسواں ضابطہ۔ بیسواں؟ ضابطہ۔ بیسواں ضابطہ۔ وہ تو ان سارے صیغوں میں لگے گا یہ قانون۔ ان سارے صیغوں میں واؤ کو کس سے بدلیں گے؟ یا سے۔ یدعا اصل میں کیا تھا؟ یدعو۔ پھر واؤ چوتھی جگہ آیا تو کس سے بدلا؟ یا سے۔ تو یہ سارے صیغوں میں واؤ کس سے بدلے گا؟ یا سے۔ تو بیسواں ضابطہ تو سب میں لگے گا۔ پھر جب یا آگئی، پھر اس یا کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ یہ کہاں کہاں ہو رہا ہے؟ آپ نے غور کرنا ہے۔ یدعا اس میں بھی یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ یدعوانی یہاں بیسواں قانون تو لگا لیکن یا الف سے نہیں بدلی کیونکہ یا کے بعد کیا ہے؟ الف تثنیہ ہے۔ اور تیسرا صیغہ کیا؟ یدعون۔ یدعون۔ وہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوونا۔ پھر کیا بنا؟ یدعیونا۔ واؤ یا سے بدل گیا، پھر اس کے بعد یا کس سے بدلی؟ الف سے۔ دیکھا پہلے صیغے میں بھی یا کس سے بدلی؟ الف سے۔ تیسرے صیغے میں بھی یا کس سے بدلی الف سے لیکن تثنیہ میں نہیں بدلی۔ توجہ ہے؟ تثنیہ میں یا ابھی بھی ہے یدعیانی۔ یہ یا الف سے نہیں بدلی۔ اگلے صیغے پہ آئیں۔ تدعا۔ تدعا اصل میں کیا تھا؟ تدعو۔ واوی ہے، پھر واؤ چوتھی جگہ آیا کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ تدعی۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے تو کیا بن گیا؟ تدعا۔ تدعا۔ تو دیکھو یہاں پر بھی بیسواں ضابطہ بھی لگا اور پھر ساتواں ضابطہ بھی لگا یعنی یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ اگلے صیغے پر آئیں تدعیانی۔ تدعیانی اصل میں کیا تھا؟ تدعوانی۔ واوی ہے، پھر واؤ چوتھی جگہ آیا، بیسواں ضابطہ لگا اس کو کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ تدعیانی۔ پھر اس سے اگلے صیغے پر آئیں بھئی۔ اگلا صیغہ کیا؟ یدعینہ۔ یدعینہ۔ یہاں یہ اصل میں کیا تھا؟ یدعوونا۔ کیونکہ واوی ہے یدعون۔ پھر اس کے بعد واؤ چوتھی جگہ سے اوپر آیا تو اس کو کس سے بدلا؟ یا سے۔ یہ بیسواں ضابطہ لگ گیا۔ تو کیا بن گیا؟ یدعینہ۔ جی یدعینہ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ رہی ہے۔ اب پھر ذرا غور کرو، آپ غور کر رہے ہیں بیسواں ضابطہ سب جگہ لگ رہا ہے، ہر جگہ واؤ کس سے بدل رہا ہے؟ یا سے۔ لیکن پھر اس یا کو کس سے بدلا جا رہا ہے؟ الف سے۔ یہ کن کن صیغوں میں بدل رہے ہیں؟ آپ ذرا پھر غور کریں۔ یدعا اس کے اندر کیا ہوا تھا؟ وہ یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ یدعوانی یہاں یا الف سے نہیں بدلی۔ یدعون یہاں پر بھی یا کس سے بدل گئی تھی؟ الف سے۔ پھر آگے ہے تدعا۔ یہاں پر بھی یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ پھر تھا تدعیانی یہاں یا الف سے نہیں بدلی۔ اسی طرح ہے یدعینہ جمع مونث آگیا۔ اس میں بھی دیکھو، واؤ تو یا سے بدلا لیکن یا الف سے نہیں بدلی۔ جی۔ اگلے صیغے پہ آئیں تدعا۔ اصل میں کیا تھا؟ تدعو۔ واحد مذکر حاضر بھئی۔ واحد مذکر حاضر۔ تدعو۔ پھر واؤ چوتھی جگہ آیا کس سے بدلا؟ یا سے یعنی بیسواں قانون لگا تو کیا بن گیا؟ تدعی۔ پھر ساتواں قانون لگا یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے تو تدعا ہوا۔ اگلا صیغہ کیا؟ تدعیانی۔ یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوانی۔ واؤ چوتھی جگہ پر آیا، اس کو کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ تدعیانی۔ لیکن یہاں پھر یا آگے الف سے نہیں بدلی کیونکہ یا کے بعد کیا ہے؟ الف تثنیہ۔ اس سے اگلا صیغہ کیا ہے؟ تدعون۔ جمع مذکر حاضر۔ کیا صیغہ ہے؟ تدعون۔ تدعون اصل میں کیا تھا؟ ادھر آپ صیغہ نکالیں نصرہ سے۔ تنصرون۔ تدعون۔ جی۔ تدعون۔ پھر واؤ چوتھی جگہ آیا کس سے بدلا؟ یا سے، کیا بن گیا؟ تدعیونا۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ تدعاوونا۔ الف بھی ہے، واؤ بھی ہے، اجتماع ساکنین نایا، الف گر گیا، کیا بن گیا؟ تدعون۔ دیکھا اس میں بھی وہ واؤ یا سے بدلا اور یا پھر کس سے بدلی؟ الف سے بدل گئی۔ اس سے اگلا صیغہ کیا؟ تدعینہ۔ تدعینہ۔ تدعینہ اصل میں کیا تھا؟ تنصرون میں نکالو یہ صیغہ۔ واحد مونث حاضر۔ ينصر ينصران ينصرون تنصر تنصران ينصرنا تنصر تنصرانی تنصرون تنصرینہ۔ تنصرینہ۔ اس وزن پر بناؤ اس کو۔ تدعاوینہ۔ معلوم ہوا تدعینہ اصل میں کیا تھا؟ تدعاوینہ۔ پھر واؤ چوتھی جگہ آیا اس کو کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ تدعیینہ۔ دیکھا بیسواں ضابطہ لگا۔ پھر اس کے بعد یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ تدعائینہ۔ الف بھی ہے یا بھی ہے، پھر الف اجتماع ساکنین سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ تدعینہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس سے اگلا صیغہ کیا ہے؟ تدعیانی۔ یہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوانی۔ واؤ بیسویں ضابطے سے کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ تدعیانی۔ تو اگلا صیغہ کیا؟ تدعینہ۔ جمع مونث حاضر۔ یہ بھی کیا ہے؟ تدعینہ۔ واحد مونث حاضر بھی کیا تھا؟ تدعینہ۔ اور جمع مونث حاضر بھی کیا ہے؟ تدعینہ۔ یہ جو جمع مونث حاضر تدعینہ ہے، یہ اصل میں کیا تھا؟ نصرہ سے وہی صیغہ نکالو۔ ينصر ينصران ينصرون تنصر تنصران ينصرنا تنصر تنصرانی تنصرون تنصرینہ تنصرانی تنصرنا تنصرنا۔ بناؤ اس وزن پر۔ تدعاوونا۔ پھر واؤ چوتھی جگہ آیا، اس کو کس سے بدلا؟ یا سے، کیا بن گیا؟ تدعیونا۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ تدعاوونا۔ الف بھی ہے، واؤ بھی ہے، اجتماع ساکنین ان آیا، الف گر گیا، کیا بن گیا؟ تدعون۔ دیکھا اس میں بھی وہ واؤ یا سے بدلا اور یا پھر کس سے بدلی؟ الف سے بدل گئی۔ تثنیہ کے صیغوں میں بھی یا الف سے نہیں بدل رہی۔ اور جمع مونث کے دونوں صیغوں کے اندر یا الف سے نہیں بدلی۔ اس سے اگلا صیغہ کیا؟ ادعا۔ ادعا اصل میں کیا تھا؟ ادعاو۔ پھر واؤ چوتھی جگہ آیا کس سے بدلا؟ یا سے، تو کیا بنا؟ ادعایو۔ پھر یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ ادعا۔ اسی طرح ندعا اصل میں کیا تھا؟ ندعاو۔ کیونکہ واوی ہے، پھر بیسواں ضابطہ لگا، واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے، تو کیا بن گیا؟ ندعایو۔ پھر اس کے بعد یا کو ماقبل فتحہ کی وجہ سے الف سے بدلا، ساتواں قانون لگایا تو کیا بن گیا؟ ندعا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ سارے اعلالات سمجھ میں آ گئے؟ تو آپ نے غور کیا کہ بیسواں قانون تو سارے صیغوں میں لگ رہا ہے۔ اس گردان کے ہر صیغے میں واؤ کو کس سے بدلا گیا؟ یا سے۔ لیکن پھر اس یا کو الف سے کہاں کہاں بدلا؟ آپ نے دیکھا۔ تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں بدلا اور جمع مونث کے دونوں صیغوں میں بھی نہیں بدلا۔ باقی سب جگہ ساتواں قانون لگا اور یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ کن صیغوں میں نہیں بدلی؟ تثنیہ کے چاروں صیغے اور جمع مونث کے دو صیغے۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ دیکھیے کہتے ہیں: اس بارے فعل مضارع مجہول، یدعا، یدعوان، یدعون، تدعا، تدعوان، یدعینہ، تدعون، تدعینہ، تدعینہ، ادعا، ندعا۔ کہتے ہیں در جمیع اس صیغہا، ان تمام صیغوں میں واؤ باقاعدہ بیستم یا شد۔ بیست کہتے ہیں با، یا، سین، تا، بیست یہ بیس کو کہتے ہیں، اور بیسواں بیستم آخر میں میم جوڑ دیا۔ تو کہتے ہیں واؤ باقاعدہ بیستم یا شد، واؤ جو ہے بیسویں ضابطے سے یا ہو گیا ان تمام صیغوں میں۔ بعد ازاں باقاعدہ ہفتم الف شد، اور اس کے بعد وہ یا جو ہے ساتویں ضابطے سے الف ہو گئی۔ در غیر تثنیہ و غیر جمع مونث، علاوہ تثنیہ کے اور علاوہ جمع مونث کے، ان میں یا الف سے نہیں بدلی۔ باقی سارے صیغوں میں یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ و آں الف در یدعونا وتدعون وتدعینہ واحد مونث حاضر، بالتقاء ساکنین حذف شد۔ واؤ کس سے بدلا؟ یا سے اور پھر یا کس سے بدلی؟ الف سے۔ سوائے تثنیہ کے صیغوں کے اور سوائے جمع مونث کے۔ تو چار تثنیہ کے صیغے نکل گئے اور دو مونث کے چھ، تو کل 14 صیغے، تو چھ نکل گئے کتنے رہ گئے؟ آٹھ۔ ان میں پھر جو ہے ان میں پھر تین صیغوں میں الف اجتماع ساکنین سے گر گیا۔ توجہ ہے؟ باقیوں میں تو الف ہے۔ یدعا، تدعا، ادعا، ندعا، ان ساروں میں تو الف ہے۔ لیکن تین صیغے ایسے ہیں، توجہ ہے؟ تین صیغے ایسے ہیں، ان میں وہ الف پھر گر گیا اجتماع ساکنین کی وجہ سے۔ وہ تین صیغے کون سے ہیں؟ کہتے ہیں یدعون، جمع مذکر، جمع مذکر غائب، وتدعون، اور جمع مذکر حاضر، وتدعینہ، اور تدعینہ کے تو دو صیغے ہیں، کون کون سے؟ ایک واحد مونث، ایک جمع مونث حاضر۔ تو بتلا دیا، اس کے آگے بتلا دیا، واحد مونث حاضر، یہ تدعینہ کون سا مراد ہے؟ واحد مونث حاضر والا مراد ہے۔ کیونکہ جو جمع مونث حاضر ہے، اس میں تو یا الف سے بدلی ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں۔ پھر دیکھیں و آں الف در یدعونا اور وہ الف جو ہے یدعونا میں اور تدعونا میں اور تدعینہ میں، جو کہ واحد مونث حاضر کا صیغہ ہے، ان میں بالتقاء ساکنین حذف شد، التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف ہو گیا وہ الف۔ و صورت واحد مونث حاضر و جمع مونث حاضر متحد شدہ، اور واحد مونث حاضر اور جمع مونث حاضر کی صورت متحد ہو گئی, ایک جیسی ہو گئی۔ واحد مونث حاضر کیا؟ تدعینہ۔ اور جمع مونث حاضر بھی کیا؟ تدعینہ۔ لیکن اصل مختلف ہے دونوں کی۔ واحد مونث حاضر جو ہے، وہ تدعینہ اصل میں کیا تھا؟ تدعوینہ، کیا تھا؟ تدعوینہ۔ اور جو جمع مونث ہے وہ اصل میں کیا تھا؟ وہ تدعوونا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تدعینہ دو صیغے ہیں، واحد مونث حاضر بھی اور جمع مونث حاضر بھی۔ ہاں واحد مونث حاضر کی اصل کیا تھی؟ تدعوینہ۔ لیکن پھر کیا بن گیا؟ تدعینہ۔ اور جمع مونث حاضر کی اصل کیا تھی؟ تدعوونا اور پھر کیا بن گیا؟ تدعینہ۔ تو کہتے ہیں و صورت واحد مونث حاضر و جمع مونث حاضر متحد شدہ، اور واحد مونث حاضر اور جمع مونث حاضر کی صورت جو ہے وہ متحد ہو گئی یعنی ایک جیسی ہو گئی اور وہ کیا ہے؟ تدعینہ، دیکھ رہے ہیں کتاب پر، تدعینہ، دونوں کی صورت تدعینہ ہو گئی۔ لیکن واحد در اصل تدعوینہ بود، لیکن واحد مونث حاضر جو ہے وہ اصل میں تدعوینہ تھا۔ واؤ باقاعدہ بیستم یا شد، واؤ بیسویں ضابطے سے یا ہو گیا، بعد ازاں یا باقاعدہ ہفتم الف شد، اس کے بعد یا ساتویں ضابطے سے الف ہو گئی۔ بالتقاء ساکنین افتادہ، اور پھر التقاء ساکنین کی وجہ سے وہ الف گر گیا۔ و جمع مونث حاضر در اصل تدعوونا بود، اور جمع مونث حاضر جو ہے وہ اصل میں تدعوونا تھا، واؤ یا شد و بس، واؤ یا ہو گیا اور بس، یعنی اور کوئی اعلال نہیں ہوا۔ आगे देखिए, नफी ताकीद बलं दर फेले मुस्तकबिल मारूफ, लन यदौवा, लन यदौवा, लन यदौवा, लन तदौवा, लन तदौवा, लन यदौना, लन तदौवा, लन तदई, लन तदौना, लन अदौवा, लन ندعوا। कहते हैं दर इस सीग, अमले लन नहजे के दर सही जारी में शत जारी शुदा। इन सीगों में लन नासिबा का अमल नहजे के, नहज कहते हैं तरीके को, तरीके को। कहते हैं लन नासिबा का अमल उसी तरीके पर कि दर सही जारी में शत, जिस जैसे कि वो सही में जारी होता है जारी शुदा। इन सीगों में भी उसी तरह जारी हुआ। बदलाना यह चाहते हैं कि लन नासिबा के आने के बाद नाकिस के सीगों में कुछ ऐलाल पहले हो चुके थे। अभी जो हमने मुजारे मारूफ और मजहूल में ऐलालत पढ़ लिए, उन ऐलालतों के अलावा और कोई नया ऐलाल नहीं हुआ। सिर्फ उसी तरह तब्दीलियां हुईं जिस तरह, जिस तरह सही के सीगों में तब्दीलियां होती थीं, उसी तरह यहां पर भी तब्दीलियां हुईं। تو کہتے ہیں دریں صیغ، ان صیغوں میں عمل لن نحجے کہ در صحیح جاری میں شود، لن ناصبہ کا عمل اسی طریقے پر کہ جس طرح صحیح میں جاری ہوتا ہے جاری شدہ۔ تغیر کوئی تبدیلی جز آں کہ در مضارع شدہ بود، علاوہ اس کے جو مضارع میں ہوئی تھی، بظہور نہ آمد، وہ ظاہر نہیں ہوئی۔ تغیر کوئی تبدیلی، آگے آرہا ہے بظہور نہ آمد، کوئی اور تبدیلی نہیں، کوئی اور تبدیلی نہیں ہوئی۔ درمیان میں بتا دیا جز آں کہ در مضارع شدہ بود، علاوہ اس کے جو قسمیں ہوئی تھیں، مضارع، جو تبدیلیاں مضارع میں ہوئی تھیں وہ تو ہوئیں، اس کے علاوہ اور کوئی اعلال نہیں ہوا، صرف اسی طرح عمل ہوا جس طرح کے صحیح کے صیغوں میں عمل ہوا تھا۔ یہ معنی ہے تغیر کوئی اور تبدیلی جز آں کہ در مضارع شدہ بود، علاوہ اس کے جو مضارع میں ہوئی تھیں تو کوئی اور تبدیلی بظہور نہ آمد، ظہور میں نہیں آئی، یعنی ظاہر نہیں ہوئی۔ نفی تاکید بلند در فعل مستقبل مجھول، لن یدعا، لن یدعوان، لن یدعوا، لن تدعا، لن تدعوان، لن یدعینہ، لن تدعا، لن تدعوا، لن تدعینہ، لن ادعا، لن ندعا۔ در یدعا و اخواتہ، بھئی معروف میں تو کیا آیا تھا؟ لن یدعوا، لن یدعوا، لن ناصبہ نے آخر میں نصب دیا۔ واؤ پر کیا پڑھ رہے ہیں؟ نصب۔ لن یدعوا۔ لیکن مجھول کے اندر لن یدعا یہاں تو نصب ظاہر نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ آپ کو بتلائیں گے۔ کہتے ہیں بھئی لن ناصبہ نصب دیتا ہے لیکن یدعا کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ الف اور الف تو حرکت تو قبول نہیں کرتا اس لیے وہ اپنی صورت پر برقرار رہا۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں در یدعا و اخواتہ، کہتے ہیں یدعا اور اس کے جو اخوات ہیں، جو اس کے مشابہ کلمات ہیں, مشابہ صیغے ہیں، وہ کتنے ہیں کل سارے؟ پانچ ہیں۔ یدعا اور اس کے چار اخوات۔ تو کہتے ہیں در یدعا و اخواتہ، یدعا اور اس کے جو مشابہ صیغے ہیں ان میں بسبب بودن الف، الف کے ہونے کی وجہ سے نصب لن ظاہر نہ شدہ۔ لن ناصبہ کا نصب جو ہے وہ ظاہر نہ ہوا۔ نہیں ہوا۔ اور در باقی صیغ ہم جو صحیح عمل لن جاری شدہ، باقی صیغوں میں صحیح کی طرح لن ناصبہ کا عمل جو ہے وہ جاری ہوا۔ تغیر جدید رو نہ نمودا، کسی نئی تبدیلی نے چہرہ نہیں دکھایا۔ رو کہتے ہیں چہرے کو، چہرے کو، رو۔ اور نمودن دکھانا۔ رو نہ نمودا، چہرہ نہیں دکھایا، یعنی کوئی تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی، کوئی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ تو کہتے ہیں تغیر جدید رو نہ نمودا، کسی نئی تبدیلی نے چہرہ نہیں دکھایا، کوئی نئی تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی۔ نفی جحد بلم در فعل مستقبل معروف، لم یدعو، لم یدعوا، لم یدعو، لم تدعو، لم تدعوا، لم یدعون، لم تدعو، لم تدعی، لم تدعون، لم أدعو، لم ندعو۔ در مواقع جزم واؤ ساقط شد۔ کہتے ہیں جزم کے موقع میں، جزم کی جگہوں میں واؤ ساقط ہو گیا۔ لم یدعو، اصل میں کیا تھا؟ لم یدعو۔ لم یدعو، پھر اس لام کی وجہ سے یہ واؤ کیا ہوا؟ ساقط ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ حروف علت آخر میں ہوں تو جزم کی وجہ سے گر جاتے ہیں۔ گر جاتے ہیں۔ جیسے رم یرمی، اس سے امر کیا پڑھا تھا آپ نے؟ رمی، رمی دیکھا، میم کے نیچے زیر ہے اور آخر سے یا گر گئی کیونکہ جزم کے موقع میں آخر میں اگر واؤ، الف یا یا ہوں تو وہ گر جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں در مواقع جزم واؤ ساقط شد، جزم کے موقعوں میں واؤ ساقط ہو گیا، در دیگر صیغ مثل صحیح حمل لم ظاہر شدہ تغیر نے افزودا۔ کہتے ہیں وہ در دیگر صیغ اور دوسرے صیغوں میں مثل صحیح، صحیح کی طرح عمل لم ظاہر شدہ، لم کا عمل ظاہر ہوا۔ بھئی لم کیا عمل کرتا تھا؟ یضرب میں دیکھو پانچ صیغوں میں جزم دیتا تھا لم یضرب تو یہاں پر بھی پانچ صیغوں میں الف کو گرا دے گا۔ پانچ صیغوں میں حرف علت کو آخر سے کیا کرے گا؟ گرا دے گا۔ پھر سنو۔ لم کیا عمل کرتا تھا؟ یضرب میں پانچ صیغوں میں جزم دیتا تھا سات جگہ نون اعرابی کو گرا دیتا تھا اور دو جمع مؤنث کے صیغوں میں کوئی عمل نہیں کرتا تھا تو وہی سارے عمل یہاں ہوں گے، بس صرف فرق اتنا ہے کہ یہاں پر پانچ صیغوں میں یہ آخر سے حرف علت گرائے گا اور باقی اسی طرح سات صیغوں کے آخر سے نون اعرابی یہاں گرائے گا ناقص میں اور دو صیغوں میں کوئی عمل نہیں کرے گا۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں در مواقع جزم واؤ ساقط شد، جزم کے موقع میں واؤ ساقط ہو گیا، در دیگر صیغ مثل صحیح حمل لم ظاہر شدہ تغیر نے افزودا۔ کوئی اور تبدیلی نے افزودا اس کا اضافہ نہیں ہوا۔ کسی اور تبدیلی کا اضافہ نہیں ہوا اسی طرح سات صیغوں سے نون اعرابی گرا دیا۔ مجہول: لم یدعا، لم یدعایا، لم یدعا، لم تدعا، لم تدعایا، لم یدعائن، لم تدعا، لم تدعای، لم تدعائن، لم أدعا، لم ندعا۔ در مواقع جزم الف حذف شد وبس۔ کہتے ہیں یہاں پر جزم کے موقع میں الف حذف ہوا ہے اور بس اور کوئی تبدیلی نہیں۔ باقی وہی تبدیلیاں ہیں جو صحیح میں ہوئی تھیں سات صیغوں کے آخر سے نون اعرابی گر جائے گا۔ بحث لام تاکید بانوں ثقیلہ در فعل مستقبل معروف۔ اب لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ گردان آ گئی بھئی۔ لیتدعون، لیدعون، لیدعون، لتتدعون، لتتدعون، لیدعون، لتتدعون، لتتدعون، لتتدعون، لادعون، لندعون۔ در صیغہ مضارع نحجہ کہ در صحیح از نون ثقیلہ تغیرات می شود ہمو طور این جا شدہ وبس۔ بتلا رہے ہیں کہ نون ثقیلہ کی وجہ سے صحیح کے صیغوں میں جس طرح تبدیلیاں ہوئی تھیں اسی طریقے سے یہاں پر بھی عمل ہوگا، کوئی اور نئی تبدیلی نہیں۔ جیسے وہاں کیا تھا؟ یضرب کے آخر میں نون ثقیلہ آگیا اور شروع میں لام تاکید آگیا کیا بن گیا تھا؟ لیضربن یہاں پر بھی یدعو سے کیا بن جائے گا؟ لیدعون دیکھا بالکل اسی طرح عمل ہوگا۔ تو کہتے ہیں در صیغہ مضارع، مضارع کے صیغوں میں نحجہ کہ در صحیح اسی طریقے پر جس طرح کہ صحیح میں از نون ثقیلہ تغیرات می شود، نون ثقیلہ کی وجہ سے جو تغیرات ہوتے ہیں ہمو طور، اسی طرح این جا شدہ یہاں پر بھی ہوئے، وبس اور بس اور کوئی اور نئی تبدیلی نہیں۔ مجہول: لیدعان، لیدعیان، لیدعون، لتتدعان، لتتدعيان، لیدعائن، لتتدعون، لتتدعين، لتتدعيان، لادعان، لندعان۔ یہ مجھول آ گیا، مجھول میں تھوڑی سی اور تبدیلی ہوئی ہے۔ مجھول اصل میں کیا تھا؟ یدعا۔ پھر اس پر لام تاکید اور نون ثقیلہ آیا تو کیا بن گیا؟ لیدعان۔ بھئی اس یدعا کے آخر میں تو الف تھا، وہ الف کس سے واپس بدل دیا؟ یا سے۔ تو بس اس میں صرف یہ تبدیلی ہے کہ یدعا کے آخر میں الف تھا اور نون ثقیلہ کے آنے کے بعد اس الف کو واپس یا سے بدل دیا۔ یہ الف کس سے بدل کے آیا تھا؟ یا سے۔ اس کو پھر واپس یا سے بدل دیا کیونکہ نون ثقیلہ اپنے سے ماقبل فتحہ چاہتا ہے۔ اور ماقبل میں اگر الف برقرار رکھیں، پھر تو فتحہ نہیں آ سکتا تو الف کو واپس کس میں بدل دیا؟ یا میں۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں لیدعان در اصل یدعا بود کہ لیدعان اصل میں یدعا تھا چون لام تاکید در اول ونون ثقیلہ در آخر آوردند، جب لام تاکید شروع میں اور نون ثقیلہ آخر میں آوردند لے آئے تو نون ثقیلہ فتحہ ماقبل خود خاص، نون ثقیلہ نے فتحہ ماقبل خود، اپنے سے ماقبل کا فتحہ خواست چاہا۔ نون ثقیلہ نے اپنے سے ماقبل کا فتحہ چاہا، الف قابل حرکت نہ بود، الف حرکت کے قابل نہ تھا، لہذا یا را کہ اصل الف بود، لہذا یا کو جو کہ الف کی اصل تھی، واپس آوردند، اس یا کو واپس لے آئے و فتحہ دادن اور اس کو فتحہ دے دیا۔ لیدعان شد تو لیدعان ہو گیا۔ وقص علیہ، اور اسی پر قیاس کر لیجیے لتدعان، لادعان، لندعان۔ وہی پانچ صیغے بھئی جن کے آخر میں الف ہے یدعا، تدعا، پھر تدعا، پھر ادعا، پھر ندعا، یہ جو پانچ صیغے ہیں ان ساروں میں ایک جیسا عمل ہے تو یدعا میں ہم نے آپ کو بتا دیا تو باقیوں کو بھی اسی پر کیا کر لو؟ قیاس کر لو۔ تو کہتے ہیں وقص علیہ لتدعان، لادعان اور لندعان کو۔ سوال۔ آگے ایک سوال ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ سوال یہ کہ آپ نے نون ثقیلہ کی وجہ سے یدعا کے اندر الف کو واپس کس سے بدلا؟ یا سے۔ توجہ ہے؟ کہ یدعا کے آخر میں الف تھا لیکن آخر میں جب نون ثقیلہ آیا تو اس الف کو آپ نے واپس کس سے بدل دیا؟ یا سے بدل دیا تو یہی عمل لن یتدعا میں کیوں نہیں کیا؟ لن یدعا۔ لن ناصبہ کی جو گردان تھی وہاں آپ نے کیا کہا تھا کہ لن یدعا کہ لن ناصبہ تو عمل دے رہا ہے لیکن یدعا کے آخر میں الف ہے اس لیے وہ نصب ظاہر نہیں ہو رہا۔ توجہ ہے؟ وہ نصب ظاہر نہیں ہو رہا تو آپ یوں کر لیتے وہاں پر بھی الف کو واپس کس سے بدل دیتے؟ یا سے تو لن یدعیا دیکھا، نصب ظاہر ہو جاتا۔ جیسے یہاں پر الف پر نصب نہیں آ سکتا تھا تو واپس کس سے بدل دیا؟ یا سے تو وہاں پر بھی الف کو واپس کس سے بدل دیتے؟ یا سے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ پھر سنو کہ نون ثقیلہ کے اندر اس سے ماقبل جو الف تھا اس کو کس سے بدلا؟ یا سے تو لن ناصبہ کی گردان میں بھی جو آخر میں الف تھا اس کو کس سے بدل دیتے؟ یا سے تاکہ لن ناصبہ کا نصب ظاہر ہو جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ کو بتلائیں گے یہ جواب دیں گے کہ نہیں بھئی اس کا فائدہ ہی کوئی نہیں اگر ہم اس الف کو یا سے بدل دیں تو پھر یا اعلال ہو کر الف بن جائے گی کیا بنے گا؟ مثلا دیکھو لن یدعا اس ذرا الف کو یا سے بدلو۔ لن یدعیا۔ تو اب یا متحرک، ماقبل فتحہ بن گیا یا نہیں؟ پھر یا کس سے بدل جائے گی؟ الف سے تو وہ کہتے ہیں واپس بدل جائے گی فائدہ ہی نہیں، آپ یا کو لے بھی آئیں وہ پھر کس سے بدل جائے گی؟ الف سے کیونکہ اعلال کی علت موجود ہے، اعلال کی علت کیا ہے؟ کہ یا کیا ہو؟ متحرک اور ماقبل کیا ہو؟ فتحہ جب بھی یا متحرک ہو، توجہ ہے؟ جب بھی یا متحرک ہو اور ماقبل فتحہ ہو اس یا کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے تو لن یدعیا ابھی بھی یا متحرک ہے اور ماقبل کیا ہے؟ فتحہ تو اس کو پھر واپس کس سے بدلنا پڑے گا؟ الف سے۔ توجہ ہے؟ لن یدعا میں اگر الف کو آپ کس سے بدل دیں؟ یا سے بدل بھی دیں پھر واپس یا کو کس سے بدلنا پڑے گا؟ الف سے کیونکہ علت اعلال موجود ہے، اعلال کرنے کی وجہ ابھی موجود ہے اور اعلال کی وجہ کیا ہے؟ یا کا متحرک ہونا اور ماقبل کا فتحہ ہونا۔ جبکہ نون ثقیلہ کے اندر یہ علت موجود نہیں۔ نون ثقیلہ جب لائے تو ماقبل میں الف کو کس سے بدلا؟ یا سے۔ اب کیا بن گیا؟ لیدعیان۔ لیدعیان۔ اب یا متحرک ہے، ماقبل فتحہ ہے لیکن اس یا کو الف سے نہیں بدل سکتے کیونکہ یہ ساتویں قانون کی شرط تھی کہ وہ یا یا واؤ جس کو آپ الف سے بدلنا چاہتے ہیں، ان کے بعد نون تاکید یعنی نون ثقیلہ یا خفیفہ نہیں ہونا چاہیے اور یہاں تو مانع موجود ہے، خود نون ثقیلہ موجود تو لہذا اب یا واپس الف سے نہیں بدلے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی۔ سوال در لن یدعا، لن یدعا کے اندر چرا بسبب نصب یا را واپس نہ آوردند؟ چرا کا معنی ہے کیوں، کیوں؟ لن یدعا کے اندر چرا بسبب نصب، نصب کی وجہ سے یا را واپس نہ آوردند، یا کو واپس نہیں لائے۔ لن یدعا میں کیوں نصب کی وجہ سے یا کو واپس نہیں لائے۔ لن ناصبہ کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ نصب کا تو الف کو بدل کر واپس کس کو لے آؤ؟ یا کو تو آپ یا کو واپس کیوں نہیں لائے؟ سوال سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں در لن یدعا چرا بسبب نصب یا را واپس نہ آوردند، لن یدعا میں کیوں نصب کی وجہ سے یا کو واپس نہیں لائے کہ برائے فتحہ ظاہر می شد کہ اس پر فتحہ ظاہر ہو جاتا۔ جواب۔ اگر یارا باز میں آوردند، باز کا معنی ہے پھر، دوبارہ۔ اگر یارا باز آمیں آوردند، اگر یا کو پھر لے آتے تو باز الف می شد، تو پھر وہ الف ہو جاتی۔ یا کو لے بھی آتے تو وہ پھر کیا ہو جاتی؟ الف ہو جاتی۔ چہ علت اعلال کہ تحرک یا وانفتاح ماقبل است موجود است، اس لیے کہ اعلال کی جو علت ہے کہ وہ تحرک یا، یا کا متحرک ہونا وانفتاح ماقبل است اور ماقبل کا مفتوح ہونا موجود است، یہ موجود ہے۔ توجہ ہے؟ یا متحرک ہو، ماقبل فتحہ ہو تو یا کا متحرک ہونا اور ماقبل کا مفتوح ہونا اس کی وجہ سے یا کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے۔ علت اعلال کیا ہے؟ یا کا متحرک ہونا اور ماقبل کا مفتوح ہونا تو یا کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے۔ تو اگر ہم الف کو یا سے بدل بھی دیتے لن یدعیا تو علت اعلال موجود ہے، یا متحرک ہے اور ماقبل فتحہ ہے، اس نے واپس کس سے بدل جانا تھا؟ الف سے۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ علت اعلال کیونکہ علت اعلال آخر میں آ رہا ہے، موجود است، علت اعلال موجود ہے، درمیان میں بتا دیا وہ کیا ہے علت اعلال؟ کہ تحرک یا وانفتاح ماقبل است، جو کہ یا کا متحرک ہونا اور ماقبل کا مفتوح ہونا ہے۔ پھر سنیں جواب اگر یارا باز میں آوردند، باز الف می شد، اگر یا کو پھر لے آتے تو باز الف می شد تو پھر وہ الف ہو جاتی۔ چہ علت اعلال اس لیے کیونکہ اعلال کی جو علت ہے کہ تحرک یا وانفتاح ماقبل است جو کہ یا کے متحرک ہونا اور ماقبل کا مفتوح ہونا ہے، وہ علت اعلال جو ہے موجود است وہ موجود ہے۔ و در لیدعیان، و در اخواتش، علت اعلال موجود نیست، لیکن جو نون ثقیلہ والے صیغے ہیں یعنی لیدعیان اور جو اس کے اخوات اس کے مشابہ کلمات ہیں، علت اعلال موجود نیست، ان میں علت اعلال موجود نہیں۔ وہاں الف کو کس سے بدلا؟ یا سے لیکن پھر یا الف سے نہیں بدلے گی کیونکہ اس قانون کی شرط شرط پوری نہیں ہو رہی۔ اس قانون میں کیا شرط تھی؟ کہ یا اور واؤ جس کو آپ قال کے قانون سے کس سے بدلنا چاہتے ہیں؟ الف سے، اس کے بعد نون تاکید یعنی نون ثقیلہ یا خفیفہ نہیں ہونا چاہیے اور یہاں تو نون ثقیلہ آ گیا ہے اس لیے یہ یا واپس الف سے نہیں بدلے گی تو کہتے ہیں و در لیدعیان و در اخواتش یدعیان اور اس کے جو اخوات ہیں، علت اعلال موجود نیست، ان میں اعلال والی علت موجود نہیں ہے۔ زیر کہ اتصال نون ثقیلہ از موانع اجراء قاعدہ ہفتم است، اس لیے کہ نون ثقیلہ کا اتصال، اس، اتصال یعنی جُڑنا، ملنا، زیرہ اس لیے کہ، اس لیے کہ نون ثقیلہ کا جو اتصال ہے، اس کا جو جُڑنا ہے، از موانع اجراء قاعدہ ہفتم است، یہ ساتویں قاعدے کے اجرا کے موانع میں سے ہے۔ یہ ساتویں قاعدے کے اجرا کے ساتویں قاعدے کے اجرا سے کئی چیزیں مانع ہیں، کئی شرطیں ہیں جو آپ نے پڑھی تھیں تو یہ بھی ان موانع میں سے ہے نون ثقیلہ کا ساتھ جڑنا۔ لیدعون در اصل یدعون بود۔ اچھا جی۔ لیدعون، جمع، مذکر، غائب، توجہ ہے۔ جمع، مذکر، غائب، یدعون۔ اس کے ساتھ کیا جڑا؟ نون ثقیلہ۔ شروع میں کیا لے آئے؟ لام تاکید، آخر میں کیا لے آئے؟ نون ثقیلہ تو نون اعرابی گر گیا۔ تو کیا بن گیا؟ لیدعون واؤ بھی ساکن اور نون ثقیلہ کا پہلا نون بھی ساکن اور یہ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ ہے۔ اور اس میں اگر اول مدہ ہو تو اس کو کیا کرتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ اس کو گرا دیتے ہیں۔ اور اگر نہ گرائیں تو پھر الساکن اذا حرکت حرکۃ بالکسر، تو اس کو کسرہ والی حرکت دے دیتے ہیں۔ لیکن یہاں پر تو واؤ ہے اور کسرہ اور واؤ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں تو واؤ پر تو کسرہ نہیں آ سکتا تو پھر یہاں اگر واؤ ہو تو پھر کسرہ کی حرکت نہیں دیتے بلکہ اس کو ضمہ کی حرکت دیتے ہیں تو کیا بن گیا؟ لیدعون، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں لیدعون در اصل یدعون بود، یہ اصل میں یدعون تھا بعد آوردن لام تاکید در اول ونون ثقیلہ در آخر و حذف نون اعرابی، بعد آوردن لام تاکید در اول، شروع میں لام تاکید لانے کے بعد ونون ثقیلہ در آخر اور آخر میں نون ثقیلہ لانے کے بعد و حذف نون اعرابی اور نون اعرابی کو حذف کرنے کے بعد اجتماع ساکنین شد، اجتماع ساکنین ہوا۔ میان واؤ و نون کس کے درمیان؟ واؤ اور نون کے درمیان۔ توجہ ہے؟ شروع میں کیا لائے؟ لام تاکید، آخر میں کیا لائے؟ نون ثقیلہ اور نون اعرابی کو کیا کیا؟ حذف کیا تو اجتماع ساکنین شد میان واؤ و نون تو اجتماع ساکنین ہوا واؤ اور نون میں۔ واؤ غیر مدہ بود اور یہ واؤ کیا تھا؟ غیر مدہ تھا۔ تو آن را ضمہ دادند، تو اس کو ضمہ دے دیا۔ و ہم چونی در لتدعون، اور اسی طرح لتدعون میں بھی۔ لتدعون۔ لتدعون، اصل میں کیا تھا؟ لتدعون، تدعون، کیا تھا؟ تدعون۔ توجہ ہے؟ تدعون تھا۔ پھر شروع میں لام تاکید لائے اور آخر سے نون اعرابی گرا کر نون ثقیلہ لے آئے، کیا بن گیا؟ لتدعون، واؤ بھی ساکن اور نون ثقیلہ کا پہلا نون بھی ساکن، اجتماع ساکنین آیا علی غیر حدہ ہے، اول حرف مدہ ہو تو گراتے ہیں۔ لیکن اس واو سے ماقبل تو فتحہ ہے یہ تو حرف مدہ نہیں۔ پھر کیا کرتے ہیں؟ الساکن اذا حرک حرک بالکسر کسرہ دیتے ہیں لیکن یہاں واو کو کسرہ نہیں دے سکتے کیونکہ واو اور کسرہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں تو پھر واو کی صورت میں ضمّہ دیتے ہیں تو یہاں بھی ضمّہ دے دیا تو کیا بن گیا؟ لا تدعوة سورت سمجھ میں آ گئی تو کہتے ہیں ودر لا تدعوة اور اسی طرح لا تدعوة میں ودر لا تدعیّنہ یا را کسرہ داداً اور لا تدعیّنہ میں یا کو کسرہ دے دیا۔ لا تدعیّنہ میں یا تھی تو اس کو کسرہ دے دیا کیونکہ یا اور کسرہ تو موافق ہیں بھئی۔ لا تدعیّنہ اصل میں کیا تھا؟ تدعیّنہ تدعیّنہ پھر یہ واحد مونث حاضر کا صیغہ ہے شروع میں لام لے آیا اور آخر سے نونِ اعرابی گرا کر نونِ ثقیلہ لے آئے تو کیا بن گیا؟ لا تدعیّنہ یا بھی ساکن اور نونِ ثقیلہ کا پہلا نون بھی ساکن تو پھر یا کو کسرہ دے دیا تو کیا بن گیا؟ لا تدعیّنہ تو کہتے ہیں ودر لا تدعیّنہ یا را کسرہ داداً یا کو کسرہ دے دیا۔ فائدہ اب فائدہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہ بھئی ابھی تک تو جہاں بھی اجتماعِ ساکنین آتا تھا ایک حرف کو آپ گرا دیتے تھے۔ تو اب یہاں پر واو کو ضمّہ کیوں دیا؟ اب وجہ بیان کریں گے بھئی کہ باقی جگہ ہم واو گرا دیتے تھے یہاں واو کو ضمّہ کیوں دیا بتلائیں گے کہ بھئی اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ میں اگر پہلا ساکن حرفِ مدّہ ہو تب گراتے ہیں۔ پہلا ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدّہ ہو تب گراتے ہیں اور حرفِ مدّہ کسے کہتے ہیں؟ کہ حروفِ علت میں سے کوئی ایک ساکن ہو اور ماقبل کی حرکت اس کے موافق ہو یعنی واو ساکن سے پہلے کیا ہو؟ ضمّہ، یاء ساکن سے پہلے کیا ہو؟ کسرہ اور الف ساکن ہے اس سے پہلے کیا ہو؟ فتحہ تو پھر ان کو حروفِ مدّہ کہتے ہیں۔ اور یہ چونکہ حروفِ مدّہ نہیں تھے اس لیے یہاں حرکت دینی پڑ گئی۔ فائدہ حین اجتماعِ ساکنین اجتماعِ ساکنین کے وقت حین کا معنی وقت، حینِ اجتماعِ ساکنین اجتماعِ ساکنین کے وقت اگر اول مدّہ باشد اگر پہلا ساکن کیا ہو؟ مدّہ ہو آن را حذف میکنند اس کو حذف کر لیتے ہیں واگر غیر مدّہ باشد اور اگر غیر مدّہ ہو تو واو را ضمّہ میدہند و یا را کسرہ تو واو کو ضمّہ دیتے ہیں اور یاء کو کسرہ۔ اب سوال پیدا ہوا بھئی حرفِ مدّہ کسے کہتے ہیں ہمیں یہ تو بتلا دیں میں نے تو ابھی بتلا دیا واو ساکن سے پہلے کیا ہو؟ ضمّہ تو یہ واو حرفِ مدّہ ہے۔ اور یاء ساکن سے پہلے کیا ہو؟ کسرہ تو اس یاء کو یائے مدّہ کہتے ہیں اور الف سے پہلے تو ہمیشہ فتحہ آتا ہے تو وہ تو ہمیشہ حرفِ مدّہ ہی ہے۔ ہاں یاء اور واو ان سے پہلے فتحہ بھی آ سکتا ہے۔ یاء اور واو سے پہلے فتحہ بھی آ سکتا ہے پھر وہ حرفِ مدّہ نہیں کہلائیں گے پھر وہ حرفِ لین کہلائیں گے۔ جیسے موت دیکھو واو ساکن اور ماقبل میم پر فتحہ ہے تو اس واو کو کیا کہیں گے؟ حرفِ لین اور قوتلا یہاں واو سے پہلے کیا ہے واو ساکن سے پہلے ضمّہ تو اس واو کو کیا کہیں گے؟ حرفِ مدّہ کہیں گے بات سمجھ میں آ گئی اسی طرح یاء سے پہلے اگر کسرہ ہو تو اس یاء کو حرفِ مدّہ کہیں گے اور یاء سے پہلے اگر فتحہ ہو تو پھر اس کو حرفِ لین کہیں گے لام یا نون حرفِ لین جیسے میت یاء ہے یا ساکن اور ماقبل میم پر کیا ہے فتحہ تو اس یاء کو حرفِ مدّہ نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ حرفِ لین تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ واو سے پہلے ضمّہ ہو تو مدّہ، یاء سے پہلے کسرہ ہو تو مدّہ لیکن یاء اور واو سے قبل فتحہ ہو تو پھر یہ کیا کہلاتے ہیں؟ حرفِ لین جیسے موت، میت دیکھیے کتاب پر مدّہ حرفِ علت ساکن را گویند مدّہ جو ہے حرفِ علت ساکن کو کہتے ہیں کہ حرکتِ ماقبل آن موافق باشد کہ اس کے ماقبل کی حرکت اس کے موافق ہو واگر مدّہ آنکہ چنیں نباشد اور غیر مدّہ وہ ہے جو ایسا نہ ہو یعنی حرفِ علت ساکن تو ہے لیکن ماقبل کی حرکت اس کے موافق نہیں ہے۔ لامِ تاکید با نونِ خفیفہ در فعلِ مستقبل معروف نونِ خفیفہ کی گردان آ گئی۔ یاد رکھیے یہ نونِ خفیفہ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ یہ آٹھ صیغوں میں آئے گا۔ کتنے صیغوں میں؟ آٹھ صیغوں میں آئے گا اور کتاب میں کتنے ذکر ہیں ذرا آپ شمار کریں؟ سات ذکر ہیں کیونکہ کتاب والے صاحبِ علم صیغہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو صیغہ مکرر آئے گردان میں وہ اس کو دوبارہ ذکر نہیں کرتے تو اس لیے انہوں نے سات صیغے ذکر کیے دراصل یہ آٹھ ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی گردان لامِ تاکید با نونِ خفیفہ در فعلِ مستقبل معروف لا یدعون، لا یدعن، لا تدعون، لا تدعن، لا تدعن، لا ادعون، لا ندعون تثنیہ والے سارے صیغے نہیں ہیں۔ چار تثنیہ کے صیغے نہیں ہیں اور دو جمع مونث والے بھی نہیں ہیں چار اور دو چھ تو چوکودہ میں سے چھ نکل گئے کتنے رہ گئے آٹھ وہ آٹھ صیغے یہاں ذکر ہیں بھئی ان سب کے آخر میں نونِ خفیفہ آ گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی مجہول لیدعان، لیدعون، لتدعان، لتدعون، لتدعین، لادعان، لندعان ذرا ان کا اعلال بھی کر لیں بھئی۔ لا یدعون کس سے بنا ہے؟ یدعو سے آخر میں نونِ خفیفہ جوڑا اور واو کو کیا دے دیا فتحہ اور شروع میں لامِ تاکید کیا بن گیا لا یدعون اگلا صیغہ کیا ہے تثنیہ کا یدعو یدعوانی توجہ ہے؟ معروف کی گردان ہے نا مضارع معروف اس کے ساتھ ہم نونِ خفیفہ جوڑ رہے ہیں یدعوانی اس کے آخر سے نونِ اعرابی گرائیں اور نونِ خفیفہ جوڑیں کیا بن گیا؟ اور شروع میں لام لا یدعوان تو آخر میں اجتماعِ ساکنین آ رہا ہے اور یہ جائز نہیں اس لیے اس صیغے کے ساتھ نونِ خفیفہ نہیں آئے گا کیونکہ اس کی وجہ سے کیا خرابی آتی ہے؟ اجتماعِ ساکنین آئے گا بھئی اجتماعِ ساکنین آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی اگلا صیغہ کیا ہے؟ یدعون کیا تھا؟ یدعو، یدعوانی، یدعون یدعون کے آخر میں نونِ اعرابی گرا دیں اور نونِ خفیفہ جوڑ دیں اور شروع میں لام جوڑ دیں کیا بن گیا؟ لا یدعون پھر اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے واو گر گیا کیا بن گیا؟ لا یدعون صورت سمجھ میں آ گئی اور یہ عین کا ضمّہ واو کے حذف پر دلالت کر رہا ہے۔ اسی طرح اگلا صیغہ کیا؟ تدعو اس کے آخر میں نونِ خفیفہ جوڑا اور ماقبل واو کو فتحہ دیا کیا بن گیا؟ لا تدعون اور تثنیہ کے صیغے میں نہیں آئے گا اور جمع کیا ہے؟ تدعون تدعون سے کیا بن جائے گا؟ لا تدعون واو گر جائے گا اور عین کا ضمّہ اس واو پر کیا کر رہا ہے دلالت تو واو اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا۔ آگے تدعینا تدعینا اس کے ساتھ جوڑیں نونِ اعرابی گرا دیں اور اس کی جگہ نونِ خفیفہ جوڑ دیں اور شروع میں لام لے آئیں تو کیا بن گیا؟ لا تدعین اور پھر یا اجتماعِ ساکنین سے گر گئی تو کیا بن گیا؟ لا تدعین صورت سمجھ میں آ گئی پھر اگلا صیغہ تثنیہ کا ہے اس میں نہیں آئے گا اس سے اگلا صیغہ جمع کا صیغہ ہے جمع مونث کا اس میں بھی نہیں آئے گا کیونکہ اس میں بھی اجتماعِ ساکنین کی خرابی ہے بھئی اور اس سے اگلا ادعو سے کیا بن جائے گا؟ لا ادعون اور ندعو سے کیا بن جائے گا؟ لا ندعون طریقہ سمجھ میں آ گیا अच्छा ભئی انہوں نے نونِ ثقیلہ کی گردان بھی ذکر کر دی اور نونِ خفیفہ بھی سوال نونِ ثقیلہ میں جمع مذکر غائب کا صیغہ آپ نے ذکر کیا لا یدعون اور اس میں واو گرا ہے کس وجہ سے؟ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے اصل میں تھا لا یدعون تو واو کو گرا دیا کیا بن گیا؟ لا یدعون اسی طرح مخاطب جمع مخاطب کا جو صیغہ ہے جمع مذکر مخاطب لا تدعون یہ بھی اصل میں کیا تھا؟ لا تدعون یہاں بھی واو گرا تو کیا بن گیا؟ لا تدعون اسی طرح واحد مونث حاضر لا تدعین یہ اصل میں کیا تھا؟ لا تدعیّنہ یہاں بھی یا اجتماعِ ساکنین سے گر گئی اور کیوں گری؟ کیونکہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ آیا تھا ان تینوں صیغوں میں اجتماعِ ساکنین علیٰ حدّہ کسے کہتے ہیں؟ کہ اول ساکن حرفِ مدّہ ہو یا یا ہو تصغیر کی اور ثانی ساکن مدغم ہو تو ان سب صیغوں میں اسی طرح ہے لا یدعون دیکھو واو حرفِ مدّہ ہے اور ثانی ساکن مدغم ہے تو اس کو تو اجتماعِ ساکنین علیٰ حدّہ کہنا چاہیے لیکن آپ اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ علیٰ غیر حدّہ جواب گزر چکا جہاں یہ نونِ ثقیلہ اور خفیفہ کی گردانیں کتاب کے شروع میں آئی تھیں وہاں میں نے ذکر کیا تھا کہ یہ نونِ خفیفہ علیحدہ کلیمے کی طرح شمار ہوتا ہے اور علیٰ حدّہ تب کہیں گے جب یہ اجتماعِ ساکنین ایک ہی کلیمے میں ہو اور یہ تو دو کلیموں کے درمیان آ رہا ہے نونِ ثقیلہ الگ کلمہ اور یدعون الگ کلمہ تو یہاں پر لہٰذا یہ پہلا مدّہ اور ثانی مدغم وہ بھی یہاں جائز نہیں کیونکہ کلیمے دو ہو گئے ایک ہوتا پھر تو جائز تھا فارّن یہ تو ایک ہی کلمہ ہے اس لیے اول مدّہ ہے ثانی مدغم ہے تو اجتماعِ ساکنین علیٰ حدّہ ہے اور یہ جائز ہے اور لا یدعون یہ اصل میں کیا تھا؟ لا یدعون تو لا یدعو الگ کلمہ اور نونِ ثقیلہ الگ کلمہ تو دو کلیموں میں اس طرح ہو رہا ہے اور حالانکہ وحدتِ کلمہ تو شرط تھی تو جب وحدتِ کلمہ نہیں تو یہ اجتماعِ ساکنین بھی علیٰ حدّہ نہ رہا بلکہ کون سا بن گیا؟ علیٰ غیر حدّہ تو یہ واو گر گیا تو لا یدعون تو تین صیغوں میں اس طرح ہوا لا یدعون، لا تدعون اور لا تدعیّنہ لا تدعیّنہ ان میں واو اور یا گر گئے اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے اس پر اشکال ہوتا ہے کہ تثنیہ کے صیغوں میں بھی تو اجتماعِ ساکنین آ رہا ہے لا یدعوانی دیکھو الف بھی ساکن آگے نونِ ثقیلہ میں سے پہلا نون بھی ساکن تو تثنیہ کے سارے صیغوں میں اسی طرح ہے اجتماعِ ساکنین آ رہا ہے اور اسی طرح جمع کے دونوں صیغے جو ہیں مؤنث کے ان میں بھی اجتماعِ ساکنین ہے کس طرح لا یدعونانی اور لا تدعونانی دیکھو الف بھی ساکن آگے نونِ ثقیلہ میں سے پہلا نون بھی ساکن تو وہاں کیوں اجتماعِ ساکنین جائز ہے اور باقی جگہ جائز نہیں جواب گزر چکا کہ بھئی یہاں مجبورا لانا پڑا کیونکہ اگر تثنیہ میں سے الف کو گرائیں گے تو پھر تثنیہ کا التباس مفرد کے ساتھ لازم آئے گا مفرد بھی ہے لا یدعون اور تثنیہ بھی کیا بن جائے گا لا یدعون تو صورت ایک جیسی ہو جائے گی تو اس لیے مجبورا تثنیہ کے صیغوں میں الف کو باقی رکھا گیا اور اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ ہونے کے باوجود اس کو باقی رکھا گیا اور جمع کے صیغوں میں بھی اجتماعِ ساکنین کو باقی رکھا گیا کیونکہ وہاں تین نون جمع ہو رہے تھے تو درمیان میں الف لے آئے اگر الف نہ لاتے تو پھر کیا خرابی لازم آتی؟ تین نون جمع ہو جاتے اور تین نونوں کا جمع ہونا تو پسندیدہ نہیں تو اس لیے ان چھ صیغوں میں اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ ہونے کے باوجود اس اجتماع کو باقی رکھا گیا بات سمجھ میں آ گئی پھر اس کے بعد انہوں نے نونِ خفیفہ کی گردانیں ذکر کیں اور نونِ خفیفہ میں بتلایا کہ آٹھ صیغوں میں نونِ خفیفہ آئے گا اور چھ میں نہیں آئے گا۔ آٹھ میں آئے گا اور چھ میں نہیں آئے گا ان چھ جن میں نہیں آئے گا ان میں سے چار تثنیہ کے ہیں اور دو یہ جمع مؤنث کے ہیں اور ان میں نونِ ثقیلہ میں کیا تھا ان چھ صیغوں میں اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ اور نونِ خفیفہ کے اندر بھی اگر یہاں پر ہم ان کو باقی رکھیں گے تو یہاں بھی کیا لازم آئے گا اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ لازم آئے گا اور وہ تو جائز نہیں اس لیے یہاں پر تین صیغوں میں نونِ خفیفہ آتا ہی نہیں آتا ہی نہیں تو پھر ثقیلہ بھئی ثقیلہ ہے اصل اور خفیفہ ہے فرع ثقیلہ میں جو تبدیلی کی اس کی گنجائش خفیفہ میں ہے اور نونِ ثقیلہ میں جو تبدیلی نہیں اس کی خفیفہ کے اندر بھی گنجائش نہیں اور نونِ ثقیلہ کے اندر تثنیہ میں اور جمع مؤنث کے صیغوں میں اجتماعِ ساکنین کی اجازت دی گئی کس کی؟ اجتماعِ ساکنین لیکن صورت پھر بھی کس کی بن گئی تھی؟ علیٰ حدّہ جیسی بن گئی تھی اجتماعِ ساکنین لا یدعوانی تثنیہ یہ ہے تو اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ لیکن صورت تو علیٰ حدّہ جیسی ہے نا اول مدّہ ہے اور ثانی کیا ہے؟ مدغم ہے اس لیے اس کو مجبوری کی وجہ سے باقی رکھا گیا مجبوری کیا تھی؟ مجبوری یہ تھی الف کو گرائیں گے تو کس سے التباس لازم آئے گا؟ مفرد سے التباس لازم آئے گا تو اس لیے الف کو باقی رکھا کیونکہ بہرحال اگرچہ یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ ہے لیکن بہرحال صورت کس جیسی ہے؟ علیٰ حدّہ جیسی ہے جبکہ اگر خفیفہ میں اس کو جائز قرار دیں گے تو وہاں ایک تو اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ بھی ہے اور پھر صورت بھی علیٰ حدّہ جیسی نہیں ہے علیٰ حدّہ میں تو کیا ضروری ثانی ساکن کیا ہو؟ مدغم ہو اور خفیفہ میں ثانی ساکن مدغم ہوگا؟ جی؟ نہیں وہاں تو نونِ خفیفہ ہے نا نہیں سمجھ میں آئی بات ثقیلہ میں تثنیہ کا صیغہ ذرا بناؤ لا یدعوانی اور ذرا خفیفہ میں بھی بنا لو آپ بنا لو لا یدعوان تو لا یدعوانی دیکھو پہلا ساکن کیا؟ حرفِ مدّہ اور ثانی ساکن کیا؟ مدغم تو علیٰ حدّہ جیسی صورت بن گئی ہے نہیں بن گئی؟ اگرچہ علیٰ حدّہ ہے تو نہیں دو کلیمے ہیں لیکن صورت تو اس جیسی بن گئی اس لیے وہاں گنجائش اس میں رکھا باقی اور چونکہ خفیفہ میں صورت بھی علیٰ حدّہ جیسی نہیں تو وہاں اس کو باقی بھی نہیں رکھا بات سمجھ میں آ گئی تو نونِ خفیفہ آٹھ صیغوں میں آئے گا اور چھ صیغوں میں نہیں آئے گا کیونکہ ان چھ صیغوں میں اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدّہ کی خرابی لازم آتی ہے تو کہتے ہیں پھر دیکھیے بھئی لا یدعون، لا یدعون، لا تدعون، لا تدعون، لا تدعین، لا ادعون، لا ندعون مجہول جو ہے لا یدعان، لا یدعون، لا تدعان، لا تدعون، لا تدعین، لا ادعان، لا ندعان اسی طریقے سے بھئی وہ الف کس سے بدل جائے گا؟ یا سے واپس وہ الف یا سے واپس بدل جائے گا امر حاضر معروف ادعو، ادعوا، ادعو، ادعی، ادعون واؤ در ادعو अच्छा पहला صیغہ کیا امر کا ادعو یہ کس سے بنا؟ تدعو سے کس سے؟ تدعو مخاطب کا صیغہ لے آؤ نا مضارع میں سے تدعو پھر کیا کیا؟ شروع سے علامتِ مضارع گرا دی اور آخر سے آخر میں جزم دیا اور آخر میں حرفِ علت ہو تو جزم کے وقت وہ گر جاتا ہے تو وہ واؤ گر گیا اور پھر شروع میں دال ساکن تھا تو ہمزہ وصل لے آئے اور باب نصرہ ہے تو ہمزہ وصل کون سا لائے؟ مضموم تو کیا بن گیا؟ ادعو یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں واؤ در ادعو بسبب سکونِ وقفی حذف شدہ کہ واؤ جو ہے ادعو کے اندر سکونِ وقفی کی وجہ سے وقف کے سکون کی وجہ سے وقف والے وقف والے سکون کی وجہ سے حذف شدہ واؤ کیا ہو گیا؟ حذف ہو گیا अच्छा ایک تو جزم میں واؤ گرتا ہے ایک وقف کی صورت میں بھی وقف کی صورت میں بھی گر جاتا ہے باقی جگہ تو جزم کیوں آتا ہے؟ لم کی وجہ سے لم کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے اسی طرح لائے نہیں ہے وہ بھی کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے اسی طرح ان شرطیہ ہے وہ بھی کیا کرتا ہے؟ جزم تو باقی جگہ تو کچھ نہ کچھ عامل آتے ہیں وہ عمل کرتے ہیں اور جزم دیتے ہیں جبکہ امر پر تو کوئی عامل داخل نہیں تو اس میں جو سکون ہے اس کو کہتے ہیں سکونِ وقف کیا کہتے ہیں؟ سکونِ وقف سکونِ جزم نہیں بلکہ سکونِ وقف یہ وقف کی وجہ سے اس کو اس کیونکہ امر کے آخر میں وقف آتا ہے تو یہ وقف والا سکون ہے جزم والا سکون نہیں ویسے تو جزم سب کے لیے بول دیتے ہیں انہوں نے تھوڑا سا فرق کر دیا کہ اضرب اضرب کے آخر میں جو ہے یہ جزم نہیں ہے بلکہ کون سا سکون ہے؟ وقف والا اور لا تضرب کے اندر جو سکون ہے یہ کون سا سکون ہے؟ جزم والا یہ لا کی وجہ سے آیا ہے اور امر میں تو کوئی عامل نہیں وہاں تو پہلے تو وہاں اس کو کہیں گے سکونِ وقف اور جہاں پر کوئی عامل ہے اس کو کیا کہیں گے؟ سکونِ جزم کہیں گے فرق سمجھ میں آگیا؟ لا تضرب یہ تضرب کے آخر میں کیا آیا؟ جزم کس کی وجہ سے؟ لا یہ لا نہی کی وجہ سے لم تضرب یہ تضرب کے آخر میں کیا آیا؟ جزم کس کی وجہ سے؟ لم إن تضرب إن تضرب کے آخر میں جزم آیا کس کی وجہ سے؟ ان تو ہر جگہ عامل ہے لیکن اضرب یہاں تو کوئی عامل نہیں تو اس کے سکون کو کیا کہا؟ وقف والا سکون اور باقیوں کے سکون کو کیا کہا؟ جزم والا سکون فرق سمجھ میں آگیا تو کہتے ہیں واؤ در ادعو بسبب سکونِ وقفی حذف شدہ ادعو کے اندر جو واؤ ہے وہ سکونِ وقفی کی وجہ سے حذف ہو گیا و دیگر صیغ از مضارع ہم برا نمت ساختہ شدہ اند اور دوسرے صیغے جو ہیں وہ مضارع سے ہم برا نمت اسی طریقے پر ہم برا نمت کہتے ہیں طریقے کو ہم برا نمت اسی طریقے پر ساختہ شدہ اند بنائے گئے ہیں اس طریقے سے ساختن کا معنی ہوتا ہے بنانا ساختہ شدہ اند بنائے گئے ہیں جیسے باقی صیغے بنتے ہیں اسی طرح بنائے گئے ہیں کہ در صحیح ساختہ بودن کہ جس طرح کے صحیح میں بنائے گئے تھے امر غائب و متکلم معروف لیدعو لیدعوا لیدعو لتتدعو لتتدعوا لیدعون لأدعو لندعو امر مجھول لیدعی لیدعیا تا آخر آخر تک گردان مانند لم یدعی لم یدعیا تا آخر کہتے ہیں امر مجھول جو ہیں نا لیدعی لیدعیا تا آخر کہاں تک؟ آخر تک مانند لم یدعی لم یدعیا تا آخر یہ بھی لم یدعی لم یدعیا کی طرح ہیں آخر تک مانند کا معنی ہے طرح طرح کی طرح اس جیسے یہ بھی کس کی طرح ہیں؟ لم یدعی لم یدعیا کی طرح ہیں لم یدعی میں کیا تھا؟ آخر میں حرفِ علت لم کی وجہ سے گر گیا تھا اسی طرح یہاں پر بھی لیدعی یہاں سے بھی آخر سے حرفِ علت گر گیا اور کیا عمل تھا؟ جن صیغوں کے آخر میں نونِ اعرابی تھا لم کیا کرتا ہے؟ اس کو گرا دیتا ہے یہاں پر لامِ امر بھی کیا کرے گا آخر سے نونِ اعرابی کو گرا دے گا اس لیے کہا لیدعی لیدعیا تا آخر کہ یہ جو لیدعی کی گردان ہے آخر تک یہ مانند لم لم یدعی لم یدعیا تا آخر یہ لم یدعی کی گردان کی طرح ہے آخر تک امر حاضر معروف با نونِ ثقیلہ اب امر حاضر کے ساتھ نونِ ثقیلہ لے آئے کہتے ہیں ادعون ادعوان ادعون ادعین ادعونان بعد آوردن نونِ ثقیلہ در ادعو کہتے ہیں نونِ ثقیلہ لانے کے بعد در ادعو کس میں؟ ادعو بھئی ادعو اس کے ساتھ کیا لے آئے؟ نونِ ثقیلہ جب نونِ ثقیلہ آیا تو وہ جو واؤ محذوف تھا واپس آ گیا کیونکہ وہ واؤ تو جزم کی وجہ سے گرا تھا سکون کی وجہ سے گرا تھا اور اب تو سکون نہیں کیونکہ نونِ ثقیلہ اپنے سے ماقبل سکون نہیں چاہتا بلکہ کیا چاہتا ہے؟ فتحہ چاہتا ہے تو کہتے ہیں بعد آوردن نونِ ثقیلہ در ادعو ادعو کے اندر نونِ ثقیلہ لانے کے بعد واؤ محذوف را کہ بسبب وقف حذف شدہ بود کہ واؤ محذوف کو جو کہ جو کہ وقف کی وجہ سے حذف ہو گیا تھا و حالاً وقف نہ مانندا اور اس وقت وقف اس وقت تو وقف باقی نہیں رہا نونِ ثقیلہ اپنے سے ماقبل کیا چاہتا ہے؟ فتحہ چاہتا ہے تو اب تو وقف باقی نہیں رہا لہذا اس واؤ کو واپس لے آئے کیونکہ اس کو کیوں گرایا تھا؟ وقف کی وجہ سے کس کی وجہ سے؟ وقف کی وجہ سے گرایا تھا اب نونِ ثقیلہ آگیا تو وقف رہا نہیں تو وہ واپس آگیا یہ معنی ہے واؤ محذوف را کہ بسبب وقف حذف شدہ بود واؤ محذوف جو کہ وقف کی وجہ سے حذف ہوا تھا و حالاً وقف نہ مانندا اور اس وقت وقف باقی نہیں رہا باز آوردن اس واؤ کو پھر لے آئے و فتحہ دادند اور فتحہ دے دیا و در دیگر صیغ حسبِ معمول تغیرات کردند اور باقی دوسرے صیغوں میں حسبِ معمول معمول کے مطابق تغیرات کردند تبدیلیاں کر دیں جیسے صحیح میں تبدیلیاں ہوئی تھیں وہی ساری تبدیلیاں یہاں بھی ہیں امر غائب و متکلم معروف با نونِ ثقیلہ لیدعون لیدعوان لیدعون لتتدعون لتتدعوان لیدعونانی لأدعون لندعون کہتے ہیں در لیدعون و اخواتہ کہتے ہیں لیدعون اور اس کے جو مشابہ کلمات ہیں وہ صیغے ہیں ان میں واؤ کے بسببِ جزم افتادہ بود وہ واؤ جو کہ جزم کی وجہ سے گر گیا تھا باز آمدہ پھر آگیا جیسے اوپر والی گردان میں واؤ پھر واپس آگیا تھا یہاں بھی واؤ واپس آگیا مفتوح شدہ اور مفتوح ہو گیا دیگر ہم حسبِ معمول است باقی سارے اسی طرح معمول کے مطابق ہیں جیسے صحیح میں تبدیلیاں ہوتی ہیں وہی ساری تبدیلیاں ہیں امر مجھول با نونِ ثقیلہ بھئی امر مجھول آگیا نونِ ثقیلہ کے ساتھ تو کہتے ہیں امر مجھول با نونِ ثقیلہ لیدعیان تا آخر بصورتِ مضارع مجھول با نونِ ثقیلہ است کہتے ہیں یہ بھی مضارع مجھول با نونِ ثقیلہ کی طرح ہیں بھئی یہ جو امر کے صیغے آئے امر مجھول کے نونِ ثقیلہ کے ساتھ کہتے ہیں ان کی اور مضارع مجھول جو آیا نونِ ثقیلہ کے ساتھ دونوں کی صورت بالکل ایک جیسی ہے فرق صرف لام میں ہے جو شروع میں لام ہے مضارع کے شروع میں جو لام آیا وہ لامِ تاکید ہے اور اس پر ہمیشہ فتحہ ہوتا ہے تو وہ صیغہ مثلاً کیا ہوگا؟ لیدعیان مضارع مجھول میں کیا پڑھیں گے؟ لیدعیان اور یہ جو ہیں یہ امر کے صیغے ہیں اور لامِ امر ہمیشہ مکسور ہوتا ہے کیا ہوتا ہے؟ مکسور تو کیا ہوگا؟ لیدعیان لیدعیان فرق سمجھ میں آگیا تو مضارع مجھول اور امر مجھول کے صیغے ایک جیسے ہیں فرق صرف شروع کے لام کے ذریعے ہوگا مضارع کے اندر لام جو ہے وہ مفتوح ہوگا جب نونِ ثقیلہ آئے اور امر کے اندر جب نونِ ثقیلہ آئے تو لام کیا ہوگا؟ مکسور کیونکہ یہ لامِ امر ہے تو کہتے ہیں لیدعیان تا آخر لیدعیان سے لے کر آخر تک بصورتِ مضارع مجھول با نونِ ثقیلہ است یہ بھی مضارع مجھول با نونِ ثقیلہ کی صورت میں ہیں سوائے ان کے لامِ ایم مکسور است علاوہ اس کے کہ ان کا لام جو ہے وہ مکسور ہے و لامِ مضارع مفتوح اور مضارع کا لام مفتوح ہے در لیدعیان و اخواتہ بسببِ انعدامِ جزم یارا کہ اصلِ الف محذوف بود باز آوردند کہتے ہیں لیدعیان لیدعیان اصل میں کیا تھا؟ لیدعی توجہ ہے؟ لیدعی امر امر کا صیغہ جی امر کی گردان کیسے ہے؟ ادعو لتتدعا لیدعو لیدعی یہ جو لیدعی ہے نا لیدعی اس کے آخر میں کیا آیا؟ نونِ ثقیلہ تو اس کے آخر سے الف گر گیا تھا وہ الف واپس لے آئے اور پھر اس الف کو واپس یا سے بدل دیا کیونکہ نونِ ثقیلہ اپنے سے ماقبل کیا چاہتا ہے؟ فتحہ اور الف پر تو فتحہ نہیں آسکتا اب بات سمجھ میں آگئی یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں در لیدعیان و اخواتہ لیدعیان اور اس کے جو مشابہ صیغے ہیں ان میں بسببِ انعدامِ جزم جزم کے نہ ہونے کی وجہ سے یا را یا کو کہ اصلِ الفِ محذوف بود جو کہ الفِ محذوف کی اصل تھی آگے آرہا ہے باز آوردند یا را یا کو پھر لے آئے بھئی کون سی یا؟ کہ اصلِ الفِ محذوف بود وہ یا جو کہ الفِ محذوف کی اصل تھی یا کس سے بدلی تھی؟ الف سے اور پھر حذف ہو گئی تھی وہ یا کہ اصلِ الفِ محذوف بود جو کہ الفِ محذوف کی اصل تھی اس یا کو باز آوردند پھر لے آئے چرا کہ الف قابلِ فتحہ اس لیے کیونکہ الف جو ہے وہ فتحہ کے قابل کہ نونِ ثقیلہ آن را می خواہد کہ نونِ ثقیلہ اس کو چاہتا ہے کس کو؟ فتحہ کو فتحہ کو چاہتا ہے نہ بود نہ تھا چرا کہ الف قابلِ فتحہ نہ بود بھئی الف قابلِ فتحہ نہ تھا تو کیا ہوا؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ نونِ ثقیلہ آن را می خواہد نون درمیان میں بتا دیے کہ نونِ ثقیلہ اس فتحہ کو چاہتا ہے تو اس الف کو کس سے واپس بدل دیا؟ یا سے بھئی عبارت ذرا مشکل ہے بس آپ اتنا یاد رکھیں لیدعی اس کے آخر میں کیا جوڑا؟ نونِ ثقیلہ اور اس الف کو واپس لانا تھا لیکن اس الف کو واپس لانے کا کوئی فائدہ ہے نہیں تو اس الف کو پھر کس سے واپس بدل دیا؟ یا سے تو یا کو وہاں پر واپس لے آئے اب یہی بیان کریں گے کہ یہاں پر چونکہ جزم نہ رہا جب جزم نہ رہا تو پھر وہ جو الفِ محذوفہ تھا اس کی جو اصل تھی یعنی یا اس کو واپس لے آئے بات سمجھ میں آگئی پھر عبارت سنو بھئی عبارت مشکل ہے ترجمہ آپ کو اچھی طرح آنا چاہیے کہتے ہیں در لیدعیان و اخواتہ لیدعیان اور اس کے جو اخوات ہیں ان میں بسببِ انعدامِ جزم جزم کے نہ ہونے کی وجہ سے یا را آگے آرہا ہے باز آوردند یا را یا کو پھر لے آئے بھئی کون سی یا؟ کہ اصلِ الفِ محذوف بود وہ یا جو کہ الفِ محذوف کی اصل تھی اس یا کو باز آوردند واپس لے آئے چرا کہ الف قابلِ فتحہ نہ بود اس لیے کیونکہ الف کیا تھا وہ قابلِ فتحہ فتحہ کو قبول کرنے والا نہ تھا فتحہ کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا کہ نونِ ثقیلہ آن را می خواہد کہ نونِ ثقیلہ اس فتحہ کو چاہتا ہے جس فتحہ کو نونِ ثقیلہ چاہتا ہے اس میں تو الف میں فتحہ کی صلاحیت نہ تھی نونِ خفیفہ جميع صیغہ امر بقیاسِ نونِ ثقیلہ میں تو تا دریافت یہ تو کہتے ہیں ہم نے بیان کر دیے نونِ ثقیلہ توجہ ہے؟ مصنف فرما رہے ہیں کہ میں نے نونِ ثقیلہ کے صیغے ذکر کر دیے امر کے سارے صیغے اب نونِ خفیفہ آپ آسانی سے نکال سکتے ہیں کیا کر سکتے ہیں؟ نکال سکتے ہیں نونِ خفیفہ جميع صیغہ امر نونِ خفیفہ جو ہے امر کے تمام صیغوں کا بقیاسِ نونِ ثقیلہ نونِ ثقیلہ کے قیاس پر اس پر قیاس کرتے ہوئے اس پر اس کے اعتبار سے میں تو تباہ دریافت ان کو معلوم کیا جا سکتا ہے دریافت کا کیا معنی؟ معلوم کر لینا جان لینا میں تو تباہ دریافت ان کو جانا جا سکتا ہے ان کو معلوم کیا جا سکتا ہے نہیں معروف لا يدعو لا يدعوا لا يدعو لا تدعو لا تدعوا لا يدعون لا تدعو لا تدعي لا تدعون لا أدعو لا نتدعو بوضع لم يدعو تا آخر کہتے ہیں یہ نہیں کی گردان بھی بوضع لم يدعو یہ بھی کس طریقے پر ہے؟ وضع کا معنی طریقہ بوضع لم يدعو یہ بھی لم يدعو کے طریقہ پر ہے آخر تک جیسے وہاں پر کہیں حرفِ علت گر رہا تھا کہیں نونِ اعرابی گر رہا تھا اسی طریقے پر یہاں بھی ہے نہیں مجھول بقیاسِ لم يدعا مجھول تا آخر نہیں مجھول جو ہے وہ لم يدعا مجھول کے طریقے پر لم يدعا مجھول کے قیاس پر آخر تک اسی طرح ہے نہیں معروف با نونِ ثقیلہ لا يدعون لا يدعو ان تا آخر نہیں معروف جو ہے نونِ ثقیلہ کے ساتھ لا يدعون لا يدعو ان سے لے کر آخر تک مجھول لا يدعون لا يدعيا نتا آخر مجھول کی گردان بھئی نہیں مجھول نونِ ثقیلہ کے ساتھ کہتے ہیں لا يدعون لا يدعيا نتا آخر بقیاسِ امر با نونِ ثقیلہ کہتے ہیں اسی طریقے پر جیسے کہ امر تھا نونِ ثقیلہ کے ساتھ آگے کہتے ہیں نونِ خفیفہ را ہم بریں قیاس میں باید بر آورد نونِ خفیفہ کو بھی اسی قیاس پر میں باید بر آورد نکال لینا چاہیے یعنی جس طرح کس میں تھا؟ امر کے اندر یا جس طرح مضارع میں تھا تو اس قیاس پر نکال لیجئے بحثِ اسمِ فاعل داعٍ داعيانِ داعون داعية داعيتانِ داعياتٌ در ایں ہمہ صیغ در ان تمام صیغوں میں واؤ بقاعدہ یازدھم یا شد واؤ جو ہے وہ گیارھویں ضابطے سے یا ہو گیا گیارھواں ضابطہ کون سا تھا؟ دوعیہ والا قانون تھا کیا تھا؟ دوعیہ کہ واؤ طرف میں ہو دوعیہ اصل میں کیا تھا؟ دو عیو واؤ طرف میں تھا اور ماقبل کسرہ تھا تو کس سے بدلا؟ یا سے تو داعٍ اصل میں کیا تھا؟ داعوُن پھر واؤ طرف میں ہے اور ماقبل کسرہ ہے تو واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے تو داعٍ یوں ہوا صورت سمجھ میں آگ گئی پھر یا پر ضمہ ثقیل تھا گرا دیا یعنی دسواں ضابطہ لگا کون سا ضابطہ؟ دسواں ضابطہ پھر سنو داعٍ اصل میں کیا تھا؟ داعوُن تو یہاں پر پھر گیارھواں ضابطہ لگا دوعیہ والا قانون دوعیہ والا قانون کیا تھا؟ کہ واؤ طرف میں ہو اور ماقبل کسرہ ہو تو اس واؤ کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے تو داعوُن سے کیا بن گیا؟ داعٍ پھر اس کے بعد یا طرف میں لام کی جگہ آئی اور یا سے ماقبل کسرہ ہے تو دسواں قانون یہ تھا کہ اس یا کو پھر کیا کر دیتے ہیں؟ ساکن کر دیتے ہیں جیسے يرميُ سے کیا بن گیا تھا؟ يرمي تو یہاں بھی داعيُن سے کیا بن گیا؟ داعيُن کیونکہ آگے نونِ تنوین بھی ہے بھئی تو پھر اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے یا گر گئی تو کیا بن گیا؟ داعٍ اور پھر وہ تنوین جو ہے عین کے نیچے ہی لکھ دیتے ہیں صورت سمجھ میں آگئی بھئی داعٍ ہوا تو کہتے ہیں اس میں فاعل داعٍ داعيانِ داعون داعية داعيتانِ داعياتٌ در ایں ہمہ صیغ ان سارے صیغوں میں واؤ بقاعدہ یازدھم یا شد واؤ جو ہے گیارھویں ضابطے سے یا ہو گیا گیارھواں ضابطہ کون سا تھا؟ دوعیہ والا دوعیہ والا و در داعٍ اور داعٍ میں داعٍ میں अच्छा ان سارے صیغوں میں داعٍ داعيانِ داعون داعية داعيتانِ داعياتٌ سارے صیغوں میں واؤ کس سے بدلا؟ یا سے گیارواں ضابطہ لگا دعوی والا لیکن خاص طور پر پھر داعین میں اس میں پھر مزید بھی ضابطہ لگا دسواں ضابطہ بھی لگا باقیوں میں تو دسواں نہیں لگا لیکن اس میں دسواں بھی لگا تو کہتے ہیں اور در داعین اور داعین میں باقاعدہ دہم ساکن شدہ دسویں ضابطے سے وہ یا کیا ہو گئی؟ ساکن ہو گئی پھر بس سبب اجتماع ساکنین حذف کر دی گئی اور پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے وہ یا گر گئی حذف ہو گئی اچھا یہ اجتماع ساکنین کس میں آیا؟ یا میں اور نون تنوین تو اگر ایسی صورت بنا لو کہ نون تنوین نہ رہے تو پھر یہ یا نہیں گرے گی اور نون تنوین کب گرتا ہے؟ اضافت کی صورت میں اور ایک الف لام کی صورت میں الف لام آجائے تو تنوین نہیں آتی، تنوین ختم ہو جاتی ہے جیسے غلام کیا بن گیا؟ الغلام دیکھا تنوین گر گئی یا غلام زید اضافت کی صورت میں بھی تنوین گر گئی تو اسی طرح یہ داعین ہے اگر اس میں یا کیوں گری؟ اجتماع ساکنین کس میں آیا؟ یا میں اور نون تنوین تو اگر اس کی اضافت کر دیں یا اس پر الف لام لے آئیں تو پھر تنوین نہیں ہوگی جب تنوین نہیں ہوگی تو پھر یہ یا گرے گی بھی نہیں اور کیسے پڑھیں گے؟ الداعی یا داعیکم اضافت کے ساتھ ہاں نصب اس پر آئے گا داعیان یا الداعیہ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا داعیکم نصب تو ہر حال میں آئے گا لیکن باقی صورتوں میں رفع اور جر کی صورت میں یا بغیر اضافت اور بغیر الف لام ہو تو یا گر جائے گی داعین عین کے نیچے زیر اور اضافت ہو تو پھر یہ یا نہیں گرے گی ساکن تو ہوگی الداعی داعیکم ساکن تو ہوگی لیکن گرے گی نہیں کون سی صورت میں؟ رفع اور جر اضافت اور الف لام کی صورت میں صورت سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے بھئی عبارت دوبارہ کہتے ہیں اور در داعین باقاعدہ دہم ساکن شدہ اور داعین کے اندر وہ یا جو ہے دسویں ضابطے کی وجہ سے ساکن ہو گئی بس سبب اجتماع ساکنین حذف کر دی گئی اور پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے وہ حذف ہو گئی اگر بریں صیغہ الف لام آید اگر اس صیغہ پر الف لام آجائے یا بس سبب اضافت باراں تنوین نہ یاید یا اضافت کی وجہ سے اس پر تنوین نہ آئے تو صرف بر اسکان یا اکتفان تو صرف یا کو ساکن کرنے پر اکتفا کرتے ہیں وحذف نہ شود اور وہ حذف نہیں ہوتی چوں الداعی داعیکم اور در الداعی اور یہ جو الداعی ہے گاہے حذف یا ہم آمدہ اس میں کبھی کبھار یا کا حذف بھی کلام عرب میں آیا ہے چنانچہ در قولہ تعالی چنانچہ اللہ تعالی کا قول جو ہے یوم یدع الداع وہ دن جس دن پکارنے والا پکارے گا تو دیکھو الداعی دیکھ رہے ہیں آپ یہاں قرآن میں بھی عین کے وہ یا کیا ہو گئی حذف ہو گئی چنانچہ جس طرح کے در قولہ تعالی اللہ کے اس قول میں ہے یوم یدع الداع و ایہما در حالت رفع و جراست اور یہ سب جو ہے حالت رفع و جر میں ہے یعنی توجہ ہے حالت رفع و جر میں اگر الف لام اور اضافت نہیں ہے اور تنوین ہے تو داعین کی یا گر جائے گی اور اگر الف لام اور اضافت ہے تو پھر یا باقی رہے گی لیکن ساکن رہے گی اور باقی نصب تو کہتے ہیں و در حالت نصب اور حالت نصب میں داعیان و الداعیہ و داعیکم گویندا اور حالت نصب میں داعیان اور الداعیہ اور داعیکم کہتے ہیں یعنی اس صورت میں یا نہیں گرتی چاہے تنوین ہو چاہے تنوین نہ ہو اس پر نصب پڑھیں گے اچھا انہوں نے یہاں کیا ذکر کیا کہ داعین میں دسواں ضابطہ لگا پہلے گیارواں لگا اور پھر دسواں لیکن دسواں ضابطہ جو مصنف نے ذکر کیا ہے دسویں ضابطے کے دو تین حصے تھے آپ نے پڑھے اس میں انہوں نے صرف فعل کو ذکر کیا ہے کہ وہ ضابطہ صرف فعل میں لگتا ہے اسم میں لگتا ہی نہیں اور یہاں بتلا رہے ہیں داعین میں بھی وہی ضابطہ لگا ہے اور داعین تو اسم ہے یہ تو فعل نہیں اسم ہے فاعل بات سمجھ میں آرہی ہے تو معلوم ہوا مصنف جو ہے وہاں وہاں یا تو وہ کتابت کی غلطی کسی لکھنے والے سے وہاں کوئی اسم کا لفظ رہ گیا ورنہ وہاں مصنف نے ذکر کیا ہوگا کہ یہ ضابطہ کس میں لگتا ہے فعل میں بھی لگتا ہے اور اسم میں بھی لگتا ہے صورت سمجھ میں آگئی چنانچہ باقی کتابوں میں باقی کتابوں میں ارشاد الصرف ہے اور اصول اکبر وغیرہ اور کتابوں میں وہاں ذکر ہے وہ رمی اور یدعو والا ضابطہ اسم کے اندر بھی لگتا ہے اس کی کچھ شرائط وغیرہ وہ ذکر کرتے ہیں لیکن وہ ضابطہ صرف فعل میں نہیں لگتا بلکہ اسم میں بھی لگتا ہے اور صاحب علم الصیغہ کی رائے بھی یہی لگتی ہے بات سمجھ میں آگئی جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ نہیں یہاں مصنف سے یا کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی دسواں ضابطہ نہیں یہ پچیسواں ضابطہ ہونا چاہیے یہاں پچیسویں ضابطے میں وہ جو جواری جواری کے اندر بھی اسی طرح تھا حالت رفع و جر میں بغیر الف لام یا اضافت کے یا گر جاتی تھی جوار اور حالت رفع و جر میں جب الف لام یا اضافت ہوتی تھی تو یا ساکن رہتی تھی تو انہوں نے کہا یہاں کتابت کی غلطی ہے دسواں ضابطہ نہیں بلکہ کون سا ضابطہ ہے؟ پچیسواں ہے لیکن میں نے بتایا باقی سب کتابوں والے کیا فرماتے ہیں داعین میں کون سا ضابطہ لگا ہے وہی رمی اور یدعو یعنی دسواں ضابطہ لگا ہے تو مصنف سے وہاں تساحم ہوا ہے یا یہاں تساحم ہو گیا ہے اور اگر اس کو عام رکھیں دسویں ضابطے کو اس میں کس کو شامل کر لیں اسم کو بھی شامل کر لیں تو پھر پچیسویں ضابطے کی ضرورت ہی نہیں رہتی بات سمجھ میں آگئی تو بہرحال یہ مقام دیکھا جائے تو مصنف نے پیچھے پچیسواں ضابطہ ذکر کیا تھا یہاں پر بھی یا تو کتابت کی غلطی ہوئی ہے یا ہاں یا تو پچیسواں ضابطہ لگے گا یا پھر مصنف کی رائے وہی ہے کہ اس میں بھی کون سا ضابطہ لگے گا؟ دسواں ضابطہ لگے گا تو میں نے آپ کو بتلایا کہ بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ یہاں پچیسواں ضابطہ لگا ہے جبکہ بعض کیا فرماتے ہیں کہ دسواں ہی ضابطہ لگا ہے جیسے کہ اور کتابوں کے اندر وہ بھی یہاں دسواں ضابطہ ہی لگاتے ہیں تو بہرحال یہ مقام خلجان سے خالی نہیں بھئی کیونکہ پیچھے مصنف نے تو دسواں ضابطہ صرف فعل کے لیے ذکر کیا اسم کا تو اس میں ذکر نہیں کیا اور اس کے بجائے پچیسواں ضابطہ اسم کے لیے ذکر کیا تھا بھئی آگے دیکھیے بحث اسم مفعول مدعوون مدعوان مدعوون مدعوۃ مدعوۃ مدعوات در یہ صیغہ ان صیغوں میں واو مفعول در واو لام فعل ادغام یافتہ و بس اچھا مدعوۃ اصل میں کیا تھا مدعوۃ پھر واو اول کا واو ثانی میں کیا کر دیا؟ ادغام تو کیا بن گیا مدعوۃ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں در یہ صیغہ ان صیغوں میں واو مفعول در واو لام فعل ادغام یافتہ و بس ان میں جو مفعول کا واو تھا اس کا لام فعل کے واو میں ادغام ہوا و بس اور بس ترجمہ پھر دیکھ لیں در یہ صیغہ ان صیغوں میں واو مفعول در واو لام فعل ادغام یافتہ و بس ان میں واو مفعول جو ہے اس نے واو لام فعل کے اندر ادغام پا لیا اور بس چلیے بس بھئی یافتن کا معنی پا لینا ادغام یافتہ ادغام پا لیا ایک واو نے دوسرے واو میں ادغام پا لیا بات سمجھ میں آگئی مدعوون مفعول پہلا واو مفعول والا اور دوسرا واو تو لام ہے مفعول تو واو مفعول جو تھا اس نے واو لام کے اندر کیا کیا؟ ادغام پا لیا عبارت سمجھ میں آگئی جی تو یافتن کا معنی ہوتا ہے پا لینا اب آئیے بھئی اردو کی کتاب میں بھئی اثبات فعل مضارع معروف عبارت مل گئی بھئی اثبات فعل مضارع معروف یدعو یدعوان یدعون تدعو تدعوان یدعون تدعو تدعین تدعون ادعو ندعو جمع مؤنث اور تثنیہ کے تمام صیغے اپنی اصل پر ہیں یدعو اور اس کی نظیروں میں نظیروں میں یعنی اس کے جو مشابہ ہیں یدعو اور اس کی نظیروں میں دسویں قاعدہ سے واو ساکن ہو گیا اور دونوں جمع مذکر اور تدعینا میں مذکورہ قاعدہ سے حذف ہو گیا ہے اور اس بحث میں جمع مؤنث اور مذکر کی صورت ایک ہے اثبات فعل مضارع مجہول یدعی یدعیان یدعون تدعی تدعیان یدعین تدعیان تدعیان تدعیان ادعا ندعا ان تمام صیغوں میں واو بیسویں قاعدے سے یا ہو گیا پھر غیر تثنیہ اور غیر جمع مؤنث میں ساتویں قاعدے سے وہ یا الف سے بدل گئی اور وہ الف یدعون تدعون اور تدعینا واحد مؤنث حاضر میں التقاءِ ساکنین کے باعث حذف ہو گیا واحد مؤنث حاضر اور جمع مؤنث حاضر صورتا ایک ہوگئے ہیں مگر تدعینا واحد اصل میں تدعاوینہ تھا واو بیسویں قاعدے سے یا ہوا پھر یا ساتویں قاعدے سے الف بن کر التقاءِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی ہے اور جمع مؤنث حاضر دراصل تدعاونہ تھا واو کو یا سے بدلا گیا ہے اور بس نفی تاکید بلند در فعل مستقبل معروف لن یدعو لن یدعوا لن یدعو لن تدعو لن تدعو لن یدعو لن تدعو لن تدعی لن تدعو لن ادعو لن ندعو لن کا عمل جس طرح صحیح میں ہوتا ہے ایسے ہی ان صیغوں میں ہوا ہے سوائے ان تغیرات کے جو مضارع میں ہو چکے تھے کوئی تغیر نہیں ہوا نفی تاکید بلند در فعل مستقبل مجہول لن یدعی لن یدعیان لن یدعوا لن تدعی لن تدعیان لن یدعین لن تدعی لن تدعی لن تدعی لن ادعی لن ندعی یدعی اور اس کی اخوات میں الف ہونے کی وجہ سے لن کا عمل ظاہر نہیں ہوا اور باقی صیغوں میں لن کا عمل صحیح کی طرح جاری ہوا ہے کوئی نیا تغیر نہیں ہوا نفی جحد بلم در فعل مستقبل معروف لم یدعو لم یدعوا لم یدعو لم تدعو لم تدعو لم یدعون لم تدعو لم تدعی لم تدعون لم ادعو لم ندعو مواقع جزم میں واو ساقط ہوا ہے اور دوسرے صیغوں میں لم کے عمل نے صحیح کی طرح ظاہر ہو کر کسی تغیر کا اضافہ نہیں کیا مجہول لم یدعی لم یدعیان لم یدعوا لم تدعی لم تدعیان لم یدعین لم تدعی لم تدعی لم تدعی لم ادعی لم ندعی صرف مواقع جزم میں الف حذف ہوا ہے بحث لام تاکید با نون ثقیلہ در فعل مستقبل معروف لیدعون لیدعوان لیدعون لتدعوون لتدعوان لیدعونانی لتدعوون لتدعین لتدعوونانی لادعون لنعدعون یہاں صرف وہی تغیرات ہوئے ہیں جو مضارع صحیح کے صیغوں میں نون ثقیلہ کی وجہ سے ہوتے ہیں مجہول لیدعیان لیدعیان لیدعون لتدعین لتدعین لتدعین لتدعین لتدعین لتدعین لتدعین لیدعیان دراصل یدعی تھا جب شروع میں لام تاکید اور آخر میں نون ثقیلہ آیا تو نون ثقیلہ نے اپنے ماقبل فتحہ چاہا الف قابل حرکت نہ تھا لہٰذا یا کو جو الف کی اصل تھی واپس لے آئے اور فتحہ دے دیا لیدعیان ہو گیا وقس علیہ لتدعین لادعیان لنودعیان سوال لن یدعی میں کیوں نصب کی وجہ سے یا کو واپس نہیں لائے تاکہ اس پر بھی فتحہ ظاہر ہو جاتا جواب اگر یا کو واپس لاتے تو وہ پھر الف بن جاتی کیونکہ تعلیل کا سبب یعنی تحرک یا اور تحرک یا اور انفتاح ماقبل یہاں موجود ہے بخلاف لیدعیان اور اس کی اخوات کے کہ وہاں سبب اعلال موجود نہیں کیونکہ نون ثقیلہ کا اتصال ساتویں قاعدے کے اجرا سے مانع ہے لیدعون دراصل یدعون تھا لام تاکید اول میں اور نون ثقیلہ آخر میں لائے اور نون اعرابی حذف کیا تو واو اور نون کے درمیان اجتماع ساکنین ہو گیا واو غیر مدہ تھا اسے ضمہ دے دیا یہی حال لتدعوون کا ہے اور لتدعین میں یا کو کسرہ دیا گیا ہے فائدہ اجتماع ساکنین کے وقت اگر پہلا مدہ ہو تو اسے حذف کر دیتے ہیں اور اگر غیر مدہ ہو تو واو کو ضمہ اور یا کو کسرہ دیتے ہیں مدہ ایسے حرف علت ساکن کو کہتے ہیں جس کے ماقبل کی حرکت اس کے موافق ہو اور جو ایسا نہ ہو وہ غیر مدہ ہے لام تاکید با نون خفیفہ در فعل مستقبل معروف لیدعون لیدعون لتدعون لتدعون لتدعین لادعون لنعدعون مجہول لیدعیان لیدعون لتدعین لتدععون لتدعین لادعیان لنودعون امر حاضر معروف ادعو ادعوا ادعو ادعی ادعون ادعو میں واو سکون وقفی کی وجہ سے حذف ہو گیا ہے باقی صیغے مضارع سے اسی طرح بنے ہیں جس طرح صحیح سے بنتے ہیں امر غائب و متکلم معروف لیذعو لیذعوا لیذعو لتدعو لتدعوا لیذعون لادعو لنعدعو امر مجہول لیبدعی لیبدعیان آخر تک لم یدعی لم یدعیان الا آخری کی طرح ہے امر حاضر معروف با نون ثقیلہ ادعوون ادعوانی ادعون ادعین ادعونانی ادعو میں جو واو وقف کی وجہ سے حذف ہو گیا تھا نون ثقیلہ بڑھانے کے بعد اسے واپس لے آئے کیونکہ اب وقف نہیں رہا اور فتحہ دے دیا باقی صیغوں میں حسب معمول تغیرات ہوئے ہیں امر غائب و متکلم معروف با نون ثقیلہ لیدعون لیدعوان لیدعون لتدعون لتدعوان لیدعونانی لادعون لنعدعون جو واو جزم کے باعث لیدعون اور اس کی اخوات میں گر گیا تھا واپس آکر مفتوح ہو گیا باقی سب حسب معمول ہیں امر مجہول با نون ثقیلہ لیدعیان آخر تک مضارع مجہول با نون ثقیلہ کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس کا لام مقصور ہے اور مضارع کا مفتوح لیدعیان اور اس کی اخوات میں چونکہ جزم باقی نہیں رہا اس لیے یا کو جو الف محذوف کی اصل تھی واپس لے آئے کیونکہ نون ثقیلہ فتحہ چاہتا ہے اور الف اس کے قابل نہ تھا امر کے تمام صیغوں میں نون خفیفہ کا حال نون ثقیلہ سے معلوم ہو سکتا ہے نہیں معروف لا یدعو لا یدعوا لا یدعو لا تدعو لا تدعو لا یدعون لا تدعو لا تدعی لا تدعون لا ادعو لا ندعو لم یدعو کی طرح ہے نہیں مجہول لم یدعی الا آخریہی مجہول کی طرح ہے نہیں معروف با نون ثقیلہ لا یدعون لا یدعوانی الا آخریہی مجہول لا یدعیان لا یدعیانی الا آخریہی امر با نون ثقیلہ کی طرح ہے نون خفیفہ بھی اسی طرز پر نکال لینا چاہیے بحث اسم فاعل داعن داعیانی داعون داعیۃ داعیتا داعیات ان تمام صیغوں میں واو گیارویں قاعدے سے یا ہو گیا اور داعن میں دسویں قاعدے سے ساکن ہو کر اجتماع ساکنین کے باعث گر گیا اگر اس صیغے پر الف لام ہو یا مضاف ہونے کی وجہ سے اس پر تنوین نہ ہو تو یہ صرف ساکن ہوگا حذف نہیں ہوگا جیسے الداعی اور داعیکم نیز الداعی میں یا کبھی حذف بھی کر دیتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے یوم یدع الداعی اور یہ تمام صورتیں صرف حالت رفعی و جری میں ہیں ورنہ حالت نصبی میں داعیان و الداعیہ و داعیکم ہی کہیں گے اچھا دیکھا یہاں کون سا ضابطہ ذکر ہوا؟ دسواں اور نیچے حاشیہ دیکھ لیجیے گا یہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ دسواں قاعدہ نہیں لگا بلکہ کون سا لگا ہے؟ پچیسواں لگا ہے کون سا لگا ہے؟ پچیسواں جبکہ میں نے بتایا اور کتابوں میں یہاں دسواں ضابطہ ہی لگا البتہ دسویں ضابطے کو ذرا اور کتابوں نے مختلف انداز میں ذکر کیا ہے اور اس کے اندر انہوں نے اسم کو بھی داخل کیا ہے مصنف نے تو دسویں ضابطے میں صرف کس کو داخل کیا تھا؟ فعل کو لیکن اور کتابوں والوں نے اسم کو بھی داخل کیا ہے آگے دیکھیے بھئی بحث اسم مفعول مدعوون مدعوان مدعوون مدعوۃ مدعوات مدعوات ان صیغوں میں صرف واو مفعول لام فعل کے واو میں مدغم ہوا ہے اور بس بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح بھئی چلیے بھئی ھذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقت الكلام
55 approved lectures · 34 of 55