اسم بر سه قسم است: مصدر، و مشتق، و جامد۔
مصدر آن کہ دلالت کند بر کارے، و در آخرِ معناے فارسیش ”دن“ یا ”تن“ باشد، چون الضرب: زدن، و القتل: کشتن۔
و مشتق آن کہ برآورده شده باشد از فعل، چون ضاربٌ، و منصورٌ۔
و جامد آن کہ نہ مصدر باشد و نہ مشتق، چون رجلٌ، و جعفرٌ۔
اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ حروفِ اصلی کی تعداد کے اعتبار سے فعل دو قسم پر ہے: یا وہ ثلاثی ہوگا اور یا رباعی۔ اگر تین حرفِ اصلی ہیں تو وہ ثلاثی، اگر چار حرفِ اصلی ہیں تو وہ رباعی۔ اور حرفِ اصلی کا پتہ کیسے چلے گا؟ جو فا، عین اور لام کے مقابلے میں آئے۔ اور گردانوں میں پہچاننے کا طریقہ میں نے بتلایا تھا کہ جو تمام گردانوں میں موجود ہوں، کہیں پر بھی نہ گریں، اور یہ کس کے اندر؟ صحیح کے اندر۔ ہاں، باقی معتل وغیرہ میں گر بھی جائے گا لیکن اصل اعتبار کس کا ہے؟ صحیح کا ہے۔ اور صحیح کے باب آپ کو آتے ہوں گے تو معتل کے اندر بھی آپ پتہ لگا سکیں گے کہ کون سا حرفِ اصلی یہاں موجود ہے اور کون سا گر چکا ہے۔
اور پھر آپ کو انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ثلاثی بھی دو قسم پر ہے اور رباعی بھی: یا تو وہ مجرد ہوگا یا مزید فیہ۔ تو ثلاثی مجرد، مجرد کا معنی خالی ہونا، جو زائد حرف سے خالی ہو، خالی ہو۔ تو ثلاثی دو قسم پر گویا ہو گیا: ایک ثلاثی مجرد اور ایک ثلاثی مزید فیہ۔ اور رباعی بھی دو قسم پر ہوا: ایک رباعی مجرد اور ایک رباعی مزید فیہ۔ دیکھو، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے رباعی مجرد، یعنی جو زائد حرف سے خالی ہے، وہ رباعی مجرد، مجرد کا معنی خالی ہونا۔ اور رباعی مزید فیہ، دیکھو ذرا لفظوں پہ غور کرو، مزیدٌ فیہ، مزید اس میں ہے، اس میں کیا ہے؟ ایک زائد حرف، اس میں زائد حرف ہے، مزیدٌ فیہ۔
اور کسی باب میں زائد حروف ہیں یا نہیں، اس کا پتہ کس صیغے سے چلے گا؟ ماضی کے پہلے صیغے سے اس کا پتہ چلے گا۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے اس کی مثالیں بھی ذکر کی تھیں، اور پھر بتلایا تھا کہ یہ اقسامِ حروف کے اعتبار سے فعل جو ہے، وہ چار قسم پر ہے: صحیح، مہمیز، معتل اور مضاعف۔
صحیح کا کیا معنی ہے؟ جو درست رہے، یعنی اس میں کسی قسم کی تبدیلی وغیرہ نہ آئے بھئی، جیسا قانون کے مطابق ہونا چاہیے وہ ویسا ہی ہے، یعنی اس میں کوئی اعلال وغیرہ نہ ہوا ہو، حروف گرے نہ ہوں۔ اور صحیح کسے کہتے ہیں؟ کہ جس میں کس کے حروفِ اصلی کے مقابلے میں ہمزہ، حرفِ علت اور دو حرف ایک جنس کے نہ ہوں۔ مہمیز وہ ہے جس میں کوئی ایک حرف، حرفِ اصلی جو ہے وہ ہمزہ ہو۔ اور معتل، معتل وہ ہے جس کے حروفِ اصلی میں حرفِ علت ہو بھئی، حرفِ علت ان کے مقابلے میں آئے۔
اور معتَلٌّ، میں نے بتلایا تھا، اس میں لام کیا ہے؟ مشدد ہے، اور یہ کس سے ہے؟ علت سے ہے، علت سے۔ تو اس کے اندر چار، پانچ قسمیں داخل ہو گئیں بھئی۔ اس میں مثال بھی داخل، اجوف بھی، ناقص بھی، لفیفِ مقرون بھی اور لفیفِ مفروق بھی بھئی۔ اور مثال کو مثال کیوں کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا، کیونکہ یہ صحیح جیسا ہے، صحیح، یعنی اس میں تبدیلیاں بہت کم ہوتی ہیں تو یہ تقریباً صحیح جیسا اس کی گردانیں ہوتی ہیں۔ اور اجوف کو اجوف کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اجوف کا معنی خالی پیٹ والا، اور اس میں بھی درمیان میں حرفِ علت ہے اور حرفِ علت تو کمزور ہوتا ہے، تو یوں سمجھو گویا اس کا پیٹ کیا ہے؟ خالی ہی ہے۔ اور ناقص کو ناقص کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ناقص کا معنی ہے جس میں کمی ہو، جبکہ بعضوں نے لکھا ہے ناقص کا معنی جس کی دم کٹی ہوئی ہو بھئی۔ اور ناقص کے اندر بھی آخر میں حرفِ علت ہے تو گویا اس کے آخر میں کمی ہے، یا یوں کہیں وہ کمزور حرف آخر میں ہے تو وہ بہت سی جگہ وہ گر جاتا ہے، اس لیے اس کو ناقص کہتے ہیں۔ لفیف، جس میں دو حرفِ علت آئیں۔ اور اس کو لفیف کیوں کہتے ہیں؟ یہ لفَّ یلُفُّ سے ہے، لفَّ یلُفُّ کا معنی لپیٹنا۔ اور چونکہ یہاں بھی حروفِ علت نے کیا کیا ہوا ہے؟ پورے لفظ کو گویا اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ تو لفیف کے اندر کم از کم دو حرفِ علت ہوں گے۔
اور عموماً جو ہے وہ حروفِ علت فا اور لام کے مقابلے میں آئیں گے یا عین اور لام کے مقابلے میں آئیں گے۔ اور فا اور عین کے مقابلے میں بھی آ سکتے ہیں، لیکن بہت قلیل بھئی، جیسے وَیْلٌ بھئی۔ واؤ اور یا کیا ہے؟ یہ دونوں حرفِ علت ہیں، تو یہ لفیف ہوا۔
تو یہ کل دس قسمیں بن گئیں بھئی، دس قسمیں۔ لیکن تاکہ طلباء کو یاد کرنے میں آسانی ہو، اس لیے صرفیوں نے کتنی قسمیں، کا اعتبار کیا؟ سات کا اعتبار کیا۔ وہی دس جو ہیں ان کو سات کے اندر سمیٹ دیا بھئی۔ اور لفیفِ مقرون اور مفروق، اس کو صرف لفیف کہہ دیا، اس میں دونوں آ گئے۔ اور مہمیز الفاء، مہمیز العین اور مہمیز اللام کو صرف کیا کہہ دیا؟ مہمیز، تو اس میں تینوں قسم کے مہمیز آ گئے۔ تو یہ تقسیم آسان بھی ہے یاد کرنے میں طلباء کے لیے۔
اب آگے دیکھیے، آگے بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: اسم بر سه قسم است: مصدر، و مشتق، و جامد۔ اچھا، پہلے سمجھ لیں اس کو۔ بھئی یاد رکھو، یہ جو اسم ہے، یہ تین قسم پر ہے: یا یہ مصدر ہوگا، یا مشتق ہوگا اور یا جامد۔
مصدر، مصدر دیکھو، یہ مصدر کون سا صیغہ ہے؟ ظرف کا صیغہ، ظرف کا صیغہ۔ اور صدور کا معنی ہونا، تو مصدر ہونے کی جگہ، نکلنے کی جگہ۔ تو مصدر وہ، وہ اسم جس سے آگے اور صیغے نکلیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مصدر کہتے ہیں۔ تو ضَرْبٌ، اسی سے کیا بنے گا؟ ضَرَبَ، پھر اسی سے کیا بنے گا؟ یَضْرِبُ، پھر انہی سے کیا بنے گا؟ ضَارِبٌ اور مَضْرُوْبٌ اور مَضْرِبٌ وغیرہ یہ سارے صیغے۔ تو یہ صیغے کس سے بنتے ہیں؟ مصدر سے، مصدر سے۔ اس لیے مصدر کو مصدر کہتے ہیں کہ یہ نکلنے کی جگہ ہے، یعنی یہاں سے صیغے نکلتے ہیں، یہ اصل ہیں اور باقی اس سے بنتے ہیں اور نکلتے ہیں۔
اور مشتق، مشتق اشتقاق کا معنی جدا کرنا، الگ کرنا، نکالنا۔ تو مشتق وہ صیغے جو مصدر سے نکلیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ مشتق۔ اشْتَقَّ یَشْتَقُّ اِشْتِقَاقًا۔ اشْتَقَّ، دیکھو قاف مشدد ہے۔ اشْتَقَّ یَشْتَقُّ اِشْتِقَاقًا۔ تو اشتقاق کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک صیغے سے دوسرا صیغہ بنے، ایک صیغے سے دوسرا صیغہ نکلے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اشتقاق، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایک صیغے سے دوسرا صیغہ نکالنا اور بنانا، یہ کیا ہے؟ اشتقاق ہے، اشتقاق۔
تو یہ جو فعل ہے، فعل کس سے بنا؟ مصدر سے۔ تو یہ کیا ہوا؟ مشتق ہوا۔ اسی طرح فعلِ ماضی بھی ایسے ہی ہے اور فعلِ مضارع بھی۔ اسمِ فاعل بھی اسی طرح ہے تو وہ بھی کیا ہے؟ مشتق۔ اسمِ مفعول بھی کیا ہے؟ مشتق۔ اسمِ ظرف بھی کیا ہے؟ مشتق۔ اسمِ آلہ بھی کیا ہے؟ مشتق۔ تو یہ سارے مصدر سے بنے ہیں، اس لیے یہ سب کیا کہلاتے ہیں؟ مشتق کہلاتے ہیں بھئی۔
اور اسمِ جامد وہ ہے جو کہ نہ تو اس سے اور لفظ بنیں اور نہ وہ خود کسی سے بنا ہو، کسی سے اس کا اشتقاق ہوا ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ مصدر بھی نہیں ہے اور مشتق بھی نہیں ہے، یعنی اس سے اور صیغے نکلتے بھی نہیں اور وہ خود بھی کسی سے بنا نہیں، کسی سے اس کا اشتقاق نہیں ہوا، تو اس کو کہتے ہیں اسمِ جامد۔ جیسے رَجُلٌ، اب رَجُلٌ، یہ کیا ہے؟ اسمِ جامد ہے، جامد ہے، کیونکہ یہ کسی مصدر سے نہیں بنا، نہ یہ مصدر ہے اور نہ کسی مصدر سے بنا ہے، لہٰذا یہ کیا کہلائے گا؟ اسمِ جامد کہلائے گا بھئی۔
تو اسم گویا کتنی قسم پر ہو گیا؟ تین قسم پر: مصدر، مشتق اور جامد ہو گیا بھئی۔
تو دیکھیے اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: اسم بر سه قسم است: مصدر، و مشتق، و جامد۔ اسم تین قسم پر ہے: مصدر، مشتق اور جامد۔ مصدر آن کہ دلالت کند بر کارے، مصدر وہ ہے جو کسی کام پر دلالت کرے۔ بھئی! مصدر میں کسی کام کا کرنا ہوگا بھئی۔ مصدر وہ ہے جو کسی کام پر دلالت کرتا ہے۔ ضَرْبٌ کا کیا معنی؟ مارنا۔ شُرْبٌ کا کیا معنی؟ پینا۔ اور فَتْحٌ کا معنی؟ کھولنا۔ نَصْرٌ کا معنی؟ مدد کرنا۔ دیکھو، یہ سب کام ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ کام ہیں: کھانا، پینا، سونا، جاگنا، بھاگنا، کھیلنا، یہ سب کیا ہیں؟ کام ہیں۔ تو مصدر جو ہے وہ کسی کام پر دلالت کرتا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: مصدر آن کہ دلالت کند بر کارے، مصدر وہ ہے جو دلالت کرے کسی کام پر۔ کار: کام۔
و در آخر معناے فارسیش، توجہ ہے؟ یہ فارسیش، اس کو پڑھنا ہے۔ یہ فارسی، فارسی اور اس کے ساتھ شین کو جوڑ دیا۔ اب یا پر زبر پڑھنا ہے، سین پر زیر، یا پر زبر: فارسِیَش۔ اب یاد رکھو، فارسی میں میم، تا اور شین، یہ استعمال ہوتے ہیں ضمیریں ہیں۔ تو یہ میم، تا اور شین، یہ ضمیریں ہیں۔ میم متکلم کے لیے استعمال ہوتا ہے فارسی میں۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: میری کتاب، میری کتاب۔ تو اس کے لیے میں کیا کروں گا؟ کتاب کے ساتھ میم کو جوڑ دوں گا: کتابم۔ کیا معنی؟ میری کتاب۔ یہ میم کس کے لیے آتا ہے؟ متکلم کے لیے، میرے لیے: کتابم۔ اور مخاطب کے لیے، مخاطب کے لیے تا آتی ہے، لمبی تا بھئی۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: آپ کی کتاب، تو کہوں گا: کتابت۔ کیا کہوں گا؟ کتابت یا قلمت۔ تو یہ تا آتی ہے مخاطب کے لیے۔ اور شین آتا ہے غائب کے لیے: اس، اس، اس کی کتاب، تو میں کیا کہوں گا؟ کتابش۔ اس کا قلم، کیا کہوں گا؟ قلمش۔ تو یہ شین کا معنی ہوگا اس، اور تا کا معنی آپ کا، تمہارا، اور میم متکلم کے لیے ہے بھئی۔ تو تا مخاطب کے لیے۔
تو کہتے ہیں: و در آخر معناے فارسیش۔ دیکھو، معنائے میں نے پڑھا۔ ہمزہ پڑھنا ہے معنائے۔ کل میں نے ایک ضابطہ بتلایا تھا فارسی کا بڑا قیمتی ضابطہ کہ فارسی میں زیر دو مقاصد کے لیے آتی ہے: یا تو زیر کس لیے آئے گی؟ اضافت کے لیے، یا زیر کس لیے آئے گی؟ موصوف صفت بتلانے کے لیے کہ آگے صفت آ رہی ہے: رجلِ شجاع، یا یوں کہو زیر آئے گی صفت کے لیے، کس کے لیے؟ صفت کے لیے زیر آئے گی۔ تو زیر کبھی اضافت کے لیے آتی ہے اور کبھی صفت کے لیے۔ آپ نے موقع دیکھنا ہے، تو اس کے مطابق آپ ترجمہ کریں گے۔ تو زیر لاتے ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اضافت کے لیے اور صفت کے لیے فارسی میں کیا لے آتے ہیں؟ پہلے لفظ پر زیر لے آتے ہیں، یا یوں کہو مضاف پر زیر لے آتے ہیں۔ اور موصوف کے نیچے کیا لے آتے ہیں؟ زیر، اس سے پتہ لگتا ہے کہ آگے اس کی صفت آ رہی ہے۔
اب بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زیر نہیں لا سکتے، مثلاً وہ جو پہلا لفظ ہے نا اس کے آخر میں الف آ رہا ہے، کیا آ رہا ہے؟ الف آ رہا ہے یا ہا ہے، کیا ہے؟ ہا۔ جیسے یہاں دیکھو: معنا، آگے فارسیش، یہ اس کی صفت ہے، فارسی معنی، یہ کیا ہے اس کی؟ صفت ہے۔ اب ہم، اب ہم زیر نہیں لا سکتے تو پھر کیا کریں؟ تو یاد رکھیے پھر اس صورت میں ہمزہ لے آتے ہیں، ہمزہ لے آتے ہیں اور یوں پڑھیں گے: معناے فارسیش۔ معناے فارسیش۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور بعض اوقات ہا ہوتی ہے آخر میں پہلے لفظ کے، وہاں بھی اب زیر نہیں لا سکتے تو وہاں پر بھی ہمزہ لے آتے ہیں۔ مثلاً جرعہ، جرعہ کہتے ہیں گھونٹ کو، گھونٹ، پانی کا ایک گھونٹ پینا، جرعہ گھونٹ کو کہتے ہیں، پانی وغیرہ کسی بھی مشروب کا گھونٹ جو ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جرعہ۔ اور آب پانی کو کہتے ہیں۔ اب میں کہنا چاہتا ہوں: پانی کا گھونٹ، پانی کا گھونٹ، تو کیا کہوں گا؟ جرعہ آب، جرعہ آب۔ اور آخر میں تو مجھے زیر لانی ہے اضافت کے لیے، اور زیر تو یہاں آ نہیں سکتی تو پھر کیا لاتے ہیں؟ ہمزہ۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ جرعائے آب۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو جرعائے، تو جہاں پر الف وغیرہ یا وہ ہو تو وہاں پھر ہمزہ لے آتے ہیں۔
اچھا بھئی! دوبارہ دیکھیے ترجمہ۔ کہتے ہیں: مصدر آن کہ دلالت کند بر کارے، مصدر وہ ہے جو دلالت کرے کسی کام پر۔ و در آخر معناے فارسیش دن یا تن باشد، اور اس کے فارسی معنی کے آخر میں ”دن“ یا ”تن“ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ ”دن“ یا ”تن“۔ بھئی! مصدر میں نے بتلایا جو کسی کام پر دلالت کرتا ہے: کھانا، پینا، سونا، جاگنا، کھیلنا، بھاگنا، یہ سب کیا ہیں؟ مصادر ہیں، اور یہ سب مختلف قسم کے کام ہیں۔ اردو میں تو اس کی علامت یہ ہے کہ آخر میں ”نا“ آتا ہے: کھانا، پینا، سونا، جاگنا، کھیلنا، پڑھنا، لکھنا، یہ سب کیا ہیں؟ مصادر۔ تو مصدر کی پہچان یہ ہے کہ اردو میں اس کا ترجمہ کریں تو اس کے آخر میں کیا آئے گا نا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جہاں پر بھی نا آ جائے، آپ فوراً کہیں یہ مصدر ہے، جیسے نانا۔ اب نانا کیا ہے؟ یہ مصدر نہیں، بھئی! یہ تو... یہ اس میں جامد ہے، بھئی۔
اور فارسی میں مصدر کی علامت کیا ہے؟ کہ فارسی میں اس کا ترجمہ کرو گے تو اس کے آخر میں ’دن‘ یا ’تن‘ آئے گا۔ جیسے:
چلنا — فارسی میں کہیں گے رفتن۔
کھانا — فارسی میں کہیں گے خوردن۔
پینا — فارسی میں کہیں گے نوشیدن۔
اور اور کیا مثال؟
کہنا — گفتن۔
قتل کرنا — کشتن۔
کھیت بونا، کاشت کرنا — کشتن۔ کشتن ہو تو قتل کرنا، کشتن ہو تو بونا۔ کشت کھیت کو کہتے ہیں۔
کرنا — گردن۔
تو دیکھا، فارسی کے اندر مصدر کا ترجمہ کریں تو اس کے آخر میں کیا آئے گا؟ ’دن‘ یا ’تن‘ آئے گا، بھئی! تو یہی بیان کر رہے ہیں: "و در آخرِ معنیٰ فارسیاش" — اور اس کے فارسی معنی کے آخر میں "دن یا تن ہوگا"۔ ترجمے پر نظر ہے؟ "در آخرِ معنیٰ فارسیاش" — اس کے فارسی معنی کے آخر میں ’دن‘ یا ’تن‘ ہوگا، "چوں الضربُ زدن و القتلُ کشتن"۔
"و مشتق آن کہ برآورده شده باشد از فعل" — اور مشتق وہ ہے کہ "برآورده شده" (اس کو نکالا گیا ہو)۔ برآوردن کا معنی ہے نکالنا۔ اس کو نکالا گیا ہو، یعنی بنایا گیا ہو "از فعل"۔ نکالنے کا کیا معنی؟ اس سے، اس سے بنایا گیا ہو "از فعل"۔ کس سے بنایا گیا ہو؟ فعل سے۔
یہاں اشکال ہوتا ہے کہ ابھی آپ نے ہمیں بتایا... تو ابھی آپ نے بتایا کہ مشتق وہ ہے جس کو کس سے نکالا گیا ہو؟ مصدر سے۔ کس سے؟ تین قسمیں بتائیں نہ: مصدر، مشتق اور جامد۔ تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں: ایک اسم نہ خود کسی سے بنا ہوگا اور نہ اس سے کوئی اسم بنے، وہ ہو گیا جامد۔ ایک وہ اسم جس سے آگے الفاظ تو بنتے ہیں، وہ خود کسی سے نہیں بنتا، وہ ہو گیا مصدر۔ اور ایک وہ ہے جو خود دوسرے سے بنا ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ مشتق کہیں گے۔
تو لہٰذا جس سے اور صیغے بنیں وہ کیا ہے؟ مصدر۔ اور اب آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ مشتق وہ ہے کہ "برآورده شده باشد از فعل" — جس کو کس سے نکالا گیا ہو؟ فعل سے۔ آپ کو تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ مشتق وہ ہے جس کو مصدر سے نکالا گیا ہو۔ کس سے؟ اشکال و اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو جواب یاد رکھیے، بھئی! کہ دراصل یہاں علماء کے دو گروہ ہیں، بھئی۔
ایک بصرہ والے علماء ہیں، ایک کوفہ والے۔ بصرہ اور کوفہ یہ بہت بڑے علمی مرکز تھے قدیم زمانے کے اندر، بھئی! اور اس میں بڑے بڑے علم کے پہاڑ گزرے ہیں، بھئی! بڑے بڑے ائمہ، بڑے بڑے علماء گزرے ہیں۔ اور ان کے علماء کے صرفی اور نحوی کچھ مسائل کے اندر اختلاف تھا۔ تو ان میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔
بصرہ والے کیا کہتے ہیں؟ بصرہ والے کہتے ہیں... جو پیچھے ذکر ہوا، یہ بصرہ والوں کا مذہب تھا کہ مشتق مصدر سے بنتا ہے۔ کس سے؟ اور یہ جو ذکر کر رہے ہیں کہ مشتق فعل سے بنتا ہے، فعل سے نکلتا ہے، یہ کوفہ والوں کا مذہب ذکر کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو بس علماء دلائل کو دیکھتے ہیں تو بات سمجھتے ہیں کہ ان کے دلائل قوی ہیں، لہٰذا وہ بصرہ والوں کے مذہب کو ترجیح دے دیتے ہیں۔ اور بعض علماء کیا کرتے ہیں؟ کوفہ والوں کے دلائل پر جب غور کرتے ہیں تو ان کو وہ قوی نظر آتے ہیں تو وہ ان کو ترجیح دے دیتے ہیں۔ تو مختلف علماء مختلف جانب گئے ہیں۔ کسی نے بصرہ والوں کے مذہب کو ترجیح دی ہے اور کسی نے کوفہ والوں کے۔
تو یہ بہرحال جو پہلے تقسیم ذکر کی تھی کہ مصدر، مشتق اور جامد، یہ بصرہ والوں کے مذہب پر تقسیم کی۔ اور اب جو ذکر کر رہے ہیں کہ مشتق وہ ہے جس کو فعل سے نکالا گیا ہو، وہ کس کا مذہب ہے؟ کوفہ والوں کا۔ کوفہ والے کہتے ہیں کہ جو فعل ہے نہ فعل، اصل یہ ہے۔
بصرہ والے کیا کہتے تھے؟ اصل کیا ہے؟ اصل مصدر ہے اور فعل وغیرہ اس سے مشتق ہیں۔ اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ فعل اصل ہے اور مصدر اور باقی صیغے اس سے مشتق ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر مصنف نے بصرہ والوں کے مذہب کو ذکر کر دیا، بھئی۔
ایک اور بات، اہم بات، وہ بھی ذکر کر دوں؟ یہاں حاشیے میں دیا ہوا ہے... مصنف پر اعتراض ہوتا ہے کہ پیچھے آپ نے مذہب ذکر کیا تھا کس کا؟ بصرہ والوں کا۔ اور یہاں مذہب آپ ذکر کس کا کر رہے ہیں؟ کوفہ والوں کا۔ اعتراض ہوتا ہے، یا تو ایک ہی مذہب سب کا ذکر کرو! ایک جگہ ایک مذہب ذکر کر رہے ہیں، دوسری جگہ دوسرا۔ تو یہاں حاشیے والے لکھتے ہیں کہ پرانے نسخے میں مصنف نے اپنے ہاتھ سے یہاں حاشیے پر لکھا ہوا تھا۔ کیا لکھا ہوا تھا؟ یہ 11 نمبر حاشیہ ہے، 11 نمبر حاشیہ: "کہ ایں تقسیم بر مذہبِ بصریان است" — یہ تقسیم بصرہ والوں کے مذہب پر ہے۔
یہ 11 نمبر حاشیہ وہ جہاں سے ہم نے سبق شروع کیا ہے: "اسم بر سہ قسم است: مصدر و مشتق و جامد"، اس پر لکھا ہوا ہے 11 نمبر؟ جی، یہ 11 نمبر حاشیہ ہے۔ اور یہ حاشیہ اگلے صفحے پر دیا ہوا ہے، اگلے صفحے کے حاشیے میں دوسری سطر میں 11 نمبر۔ مل گیا؟
ہاں، تو وہ جو تقسیم کی، یہ کس کی تھی؟ بصرہ والوں کی۔ ذہن میں یہ بات یاد رکھو! یہ تقسیم پیچھے کس کی کی؟ بصرہ والوں کی۔ اور آگے کس کی کر رہے ہیں؟ تو سوال: کہ یہاں کوفہ والوں کا مذہب بیان کر رہے ہو تو پیچھے بصرہ والوں کا مذہب کیوں بیان کیا؟ ایک کو ترجیح دیں، یا بصرہ والے کو یا کوفہ والے کو۔ آپ دونوں کو ایک جگہ ایک ذکر کر رہے ہیں، دوسری جگہ دوسرے کو۔ تو مصنف نے جو اپنے نسخہ جو ہاتھ سے لکھا تھا، اسی کے حاشیے پہ مصنف نے یہ بات لکھی تھی۔ کیا؟ مصنف نے لکھا تھا: "ایں تقسیم بر مذہبِ بصریان است" — کہ یہ جو میں نے تین قسمیں بنائیں: اسم تین قسم پر ہے: مصدر، مشتق اور جامد۔ یہ تقسیم کس کے مذہب کے مطابق ہے؟ بصرہ والوں کے مذہب پر ہے۔ "بہ اتباعِ دیگر مصنفین نوشته شده" — اور مصنفوں کی پیروی کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے۔ اور مصنفین نے یہاں بصرہ والوں کا مذہب ذکر کیا ہے، لہٰذا میں نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے کس کا مذہب ذکر کر دیا؟ بصرہ والوں کا، اور کیا کہہ دیا کہ اسم تین قسم پر ہے: مصدر، مشتق اور جامد۔
"ورنہ" — آگے فرماتے ہیں مصنف — "ورنہ بر مذہبِ تحقیق کہ مذہبِ کوفیان است" — لیکن تحقیقی مذہب کے مطابق جو کوفہ والوں کا ہے، یعنی ان کا مذہب قوی ہے۔ ان کا مذہب کیا ہے؟ قوی ہے۔ "ان کے نزدیک مصدر ہم از مشتقات است" — مصدر بھی کس میں سے ہے؟ مشتقات میں سے ہے۔ "پس اسم دو قسم است وبس" — تو اسم صرف دو قسم کا ہے: "جامد و مشتق" — جامد اور مشتق، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟
اور آگے کیا لکھا ہے اس کے آگے؟ "من المصنف رحمہ اللہ"۔ مل گیا؟ یہ جو 12 لکھا ہے نہ، 12، 12 کا معنی ہے ’حد‘، ’حد‘۔ یعنی حاشیہ یہاں ختم ہو گیا۔
یہ حروفِ ابجد — ابجد، ہوز، حطی — یہ مختلف حروف کے نمبر مقرر ہوتے ہیں، نمبر مقرر ہیں۔ الف کا 1۔ ابجد، ہوز — الف کا ایک، با دو، جیم تین، دال چار۔ حا 5۔ ہوز — واؤ 6، زا 7۔ اس طرح یہ نمبر مقرر ہیں حروف کے۔ تو یہ حروفِ ابجد کے اعتبار سے یہ 12 جو ہے، یہ ’حد‘... ’حد‘ میں کیا ہے؟ حا اور دال۔
ابجد — دال کتنے نمبر پر ہے؟ چوتھے، تو دال کے حروف نمبر ہو گئے... دال کا عدد ہو گیا چار۔ ابجد، ہوز، حطی — حا، حا آ گئی۔ گنو ذرا، کتنے نمبر پر ہے؟ ابجد، ہوز، حطی — حا آٹھویں نمبر پر ہے، تو حا کے عدد کتنے ہوئے؟ آٹھ۔ حد — حا کے آٹھ اور دال کے چار، کتنے ہو گئے؟ 12۔ تو حد کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کسی چیز کا کنارہ، انتہا، جہاں کوئی چیز ختم ہو رہی ہے۔ آپ زمین دیکھتے ہیں کہ یہ میری زمین کی آخری حد ہے، اس سے آگے دوسرے کی زمین شروع ہو رہی ہے۔ تو یہ حد کا معنی ہوتا ہے کنارہ، اختتام۔ تو یہاں پر بھی دیکھو، جہاں حاشیہ ختم ہوتا ہے، وہاں 12 لکھ دیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو پتہ چل جائے کہ یہ والا حاشیہ یہاں ختم ہو گیا، آگے اگلا حاشیہ شروع ہو رہا ہے۔
یہ 12 مخفف ہے کس کا؟ حد کا، حد کا۔ حد لکھیں گے تو وہ تو عربی ساتھ... کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا، تو عدد کی صورت میں لکھتے ہیں۔ اب پیچھے عربی چلی آ رہی ہے، آخر میں 12 کا عدد آ رہا ہے تو دیکھتے ہی پتہ لگ گیا کہ یہاں بات ختم ہو رہی ہے۔
اور یہاں دیکھو، انہوں نے کیا کہا: "من المصنف" — یہ کس کی طرف سے ہے؟ یہ حاشیہ مصنف رحمہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یاد رکھو، اس کو کہتے ہیں ’منہیا‘۔ کیا کہتے ہیں؟ ایک عام حاشیہ ہے۔ آپ دیکھو یہ کتاب کسی اور کی ہے اور حاشیہ کسی اور نے لکھا ہے، بعد میں کسی نے لکھا ہے۔ اور بعض اوقات مصنف کیا کرتا ہے؟ کتاب لکھ دیتا ہے، پھر کوئی چیز اس کے ذہن میں کہ یہ اس... یہاں یہ بھی بیان ہونا چاہیے، یا یہاں یہ بھی بیان ہونا چاہیے، وہ اصل کتاب میں شامل کرنے کے بجائے حاشیے پر ہی لکھ دیتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ حاشیے پر ہی لکھ دیتا ہے۔ تو یہ حاشیہ کس کی طرف سے ہے؟ مصنف کی طرف سے، تو اس کو کہتے ہیں ’منہُ‘۔
’منہُ‘ — یہ بھی اسی کی طرف سے ہے۔ کس کی طرف سے؟ مصنف کی طرف سے۔ تو چونکہ یہ بھی ’منہُ‘ کس کی طرف سے ہے؟ مصنف کی طرف سے، تو اس کو پھر کہتے ہیں ’منہیا‘۔ منہیا۔
کیا کہتے ہیں؟ منہیا، منہیا۔ حاشیہ اور منہیا — منہیا بھی حاشیہ ہوتا ہے اور حاشیہ بھی جو کتاب کے... جس میں کتاب کے معنی بیان ہوتے ہیں، اس کی شرح کی جاتی ہے۔ حاشیہ... تو لیکن فرق کیا ہے؟ منہیا کون سے حاشیے کو کہتے ہیں جو کس کی طرف سے ہو؟ مصنف کی طرف سے۔ اور یہ منہیا کا لفظ کس سے بنا ہے؟ ’منہُ‘ سے، کس سے بنا ہے؟ ’منہُ‘ سے، بھئی!
تو مصنف نے کیا کہا کہ اسم دو قسم پر ہے: جامد اور مشتق۔ تحقیقی مـ... تحقیقی مذہب کس کا ہے؟ دلائل کس کے قوی ہیں ان کے نزدیک؟ کس کو یہ ترجیح دے رہے ہیں؟ کوفہ والوں کے مذہب کو، اسی لیے کہا: "و مشتق آن کہ برآورده شده باشد از فعل" — اور مشتق وہ ہے کہ اس کو نکالا گیا ہو فعل سے۔ کس سے نکالا گیا ہو؟ فعل سے۔ تو لہٰذا اب حاشیے میں کیا فرمایا؟ کہ اسم بس دو ہی قسم پر ہے: جامد اور مشتق۔ مصدر بھی کس میں داخل ہو گیا؟ مشتق۔
تو اسم ان کے نزدیک صرف کتنی قسم پر ہے؟ جامد اور مشتق۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ پھر بھی تین قسمیں بن گئیں: ایک تو جامد، جو نہ خود کسی سے بنا ہو، نہ کوئی اس سے بنے۔ اور ایک مشتق وہ ہے جو دوسروں سے بنا ہو۔ تو تیسرا فعل بھی تو رہ گیا: جامد، مشتق اور فعل۔ جواب یہ کہ فعل تو فعل ہے، بات اسم کی چل رہی ہے۔
بات کس کی چل رہی ہے؟ اسم کی چل رہی ہے، تو اسم تو دو ہی ہو گئے: ایک جامد ہوگا یا مشتق ہوگا۔ فعل... فعل تو اسم کے مقابلے میں ہے، بھئی! فعل اسم ہے؟ نہیں، بھئی! فعل تو اسم کے مقابلے میں ہے۔ تو اسم تو کتنی قسم کا ہوا صرف؟ دو ہی: جامد ہوگا یا مشتق ہوگا۔ مصدر جو تھا وہ ختم ہو گیا، کیونکہ مصدر تو دراصل کون ہے؟ فعل ہے، یعنی اس سے صیغے نکلتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن وہ تو فعل ہے، اور تقسیم کس کی کر رہے ہیں؟ اسم کی۔ تو اسم صرف دو ہی قسم کا ہو گیا: جامد اور مشتق، بھئی!
تو کہتے ہیں: "و مشتق آن کہ برآورده شده باشد از فعل" — اور مشتق وہ ہے کہ اس کو نکالا گیا ہو فعل سے، "چوں ضاربٌ و منظرٌ"۔ ضارب — یہ کس سے بنا؟ ضربَ سے۔ فعل کو انہوں نے کیا بنا دیا؟ مصدر۔ اگر بصرہ والوں کا مذہب لیں تو ضربٌ سے بنا ضاربٌ۔ اور اگر کوفہ والوں کا مذہب لیں تو ضربَ سے بنا ضاربٌ۔ کیسے بنا؟ جو تبدیلیاں چاہیے کر دیں۔ ضربَ — کیا بنانا چاہتے ہو؟ ضاربٌ۔ تو ضربَ — ضاد کے بعد کیا لے آؤ؟ الف۔ اور الف کے بعد والے حرف کو کیا دے دو؟ کسرہ۔ تو آخر میں تنوین آ گئی — ضاربٌ۔
ضربَ سے... ضربٌ بنانا چاہتے ہیں تو کیا کرو؟ راء کو کیا کر دو؟ ساکن کر دو۔ ضربَ کی راء کو ساکن کر دو اور آخر میں تنوین لے آؤ تو ضربٌ بن گیا۔ تو جو صیغہ میں جو جو تبدیلی چاہیے آپ اس کے مطابق آپ کہہ دیں گے، اس میں یہ یہ اضافہ کیا اور اس کو اس طرح بنا دیا۔
تو ضاربٌ کون سا صیغہ؟ اسم فاعل۔ "و منظرٌ" — یہ کون سا صیغہ؟ یہ اسم ظرف ہے، شاباش! میم کا فتحہ بتلا رہا ہے۔ اور اگر اس میں آلہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟ منصرٌ۔ منصر — مدد کرنے کا آلہ۔ اور منصر — مدد کرنے کی جگہ یا وقت، بھئی! اس میں جگہ اور وقت دونوں والا معنی ہوتا ہے نہ؟ ہاں، تو "و منظرٌ" — تو دو مثالیں دے دیں، بھئی! اس میں مشتق کی۔
"و جامد آن کہ نہ مصدر باشد و نہ مشتق" — اور... اور جامد وہ ہے جو نہ مصدر ہو اور نہ مشتق ہو، "چوں رجلٌ و جعفرٌ" — جیسے رجل اور جعفر۔ تو ہر ایک کی دو دو مثالیں ذکر کرتے جا رہے ہیں۔
رجل — دیکھو اس میں، یہ ثلاثی ہے۔ اور جعفر — یہ کیا ہے؟ رباعی ہے، بھئی۔ رجل — تو آدمی کو کہتے ہیں، مرد کو۔ اور جعفر — نہر کو کہتے ہیں، یہ جو پانی جس میں بہتا ہے، نہر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جعفر۔
تو مصنف نے کیا بتلایا کہ میرے نزدیک کون سا مذہب راجح ہے؟ کوفہ والوں کا۔ اور کوفہ والوں کے نزدیک اصل کیا ہے؟ فعل ہے۔ اور مصدر بھی کس سے بنا؟ فعل سے۔ اور مشتـ... باقی مشتقات بھی کس سے بنے؟ فعل سے۔ مصدر خود بھی کیا ہے؟ مشتق ہے۔ مصدر خود بھی کیا ہے؟ توجہ ہے؟ مصدر اور باقی مشتقات سارے کس سے بنے؟ فعل سے۔ تو جیسا فعل ہوگا، ویسے ہی مشتقات ہوں گے۔ویسا ہی مصدر ہوگا، یعنی فعل اگر ثلاثی مجرد ہے، تو مصدر اور مشتقات بھی کیا ہوں گے؟ ثلاثی مجرد۔ اگر فعل ثلاثی مزید فیہ ہے، تو مصدر اور مشتقات بھی کیا ہوں گے؟ ثلاثی مزید فیہ۔ اور اگر فعل جو ہے رباعی مجرد ہے، تو مصدر اور مشتقات بھی کیا ہوں گے؟ رباعی مجرد۔ اور اگر فعل رباعی مزید فیہ ہے، تو مصدر اور مشتقات بھی کیا ہوں گے؟ رباعی مزید فیہ ہوں گے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: مصدر و مشتق مثل فعل خود، مصدر اور مشتق اپنے فعل کی طرح، مثل فعل خود، اپنے فعل کی طرح، ثلاثی و رباعی مجرد و مزید فیہ می باشد، ثلاثی اور رباعی، مجرد اور مزید فیہ ہوتے ہیں۔
وہم باقسام دہ گانہ صحیح وغیرہ منقسم می شود، اور ہم...، ہم کا معنی ہے بھی۔ وہم باقسام دہ گانہ، دہ کا کیا معنی؟ دس۔ تو یہ دہ عدد کے ساتھ گانہ کا لفظ بڑھاتے ہیں، اسی عدد کی تعین کے لیے، یعنی دس کے دس یوں کہہ لو۔ وہم باقسام دہ گانہ، اور یہ دس قسموں کے ساتھ، یہ بھی...، اور دس قسموں کے ساتھ صحیح وغیرہ، اور وہ دس قسمیں کون سی ہیں؟ صحیح وغیرہ، صحیح، مہمیز، معتل جو انہوں نے دس قسمیں شمار کی تھیں۔ صحیح وغیرہ منقسم می شود، تقسیم ہوتا ہے۔
تقسیم ہوتا ہے۔ وہم باقسام دہ گانہ صحیح وغیرہ منقسم می شود، اور دس قسمیں صحیح وغیرہ، یا یوں کہو، صحیح وغیرہ جو دس قسمیں ہیں، ان میں بھی یہ تقسیم ہوتا ہے۔ ان کی طرف بھی یہ...، ہم کا کیا معنی؟ بھی۔ کیا بتلایا پیچھے؟ کہ جیسے فعل ثلاثی اور رباعی اور مجرد اور مزید فیہ ہوتا ہے، اسی طرح یہ جو مصدر اور مشتق ہیں، یہ اپنے...، یہ بھی کس کی طرح ہوتے ہیں؟ اپنے فعل کی طرح ثلاثی اور رباعی، مجرد اور مزید فیہ ہوتے ہیں، اور دس اقسام صحیح وغیرہ کی طرف بھی یہ تقسیم ہوتے ہیں۔
اب عبارت سمجھ میں آئی؟ دس اقسام صحیح وغیرہ کی طرف بھی یہ تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ بھی کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ ہم کا۔ وہم باقسام دہ گانہ صحیح وغیرہ منقسم می شود، اور دس اقسام جو ہیں صحیح وغیرہ ان کی طرف بھی یہ تقسیم ہوتا ہے۔ یہ...، تقسیم ہوتے ہیں۔ و جامد باعتبار تعداد حروف یا ثلاثی می باشد۔
اچھا، اچھا بھئی! فعل میں کتنی قسمیں تھیں؟ یا وہ ثلاثی ہوگا یا رباعی۔ خماسی نہیں تھا، خماسی نہیں۔ لیکن یہ جو باقی اسم ہے یعنی اسم جامد، وہ ثلاثی بھی ہو سکتا ہے، رباعی بھی ہو سکتا ہے اور خماسی بھی۔ ثلاثی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، اس میں کتنے حروف اصلی ہوں گے؟ تین۔ رباعی میں؟ چار۔ خماسی میں؟ پانچ۔ اور پھر یہ ثلاثی، رباعی، خماسی، یہ کس کی تقسیم چل رہی ہے؟ اسم جامد کی۔ یہ بھی پھر یا مجرد ہوں گے یا مزید فیہ ہوں گے۔
تو گویا جو عام اسم...، جو اسم ہے، اسم جامد، اس کی چھ قسمیں بن گئیں: ثلاثی مجرد، ثلاثی مزید فیہ، رباعی مجرد، رباعی مزید فیہ، خماسی مجرد، خماسی مزید فیہ۔ اور فعل کی تو صرف چار قسمیں ہو گئیں: ثلاثی مجرد اور مزید فیہ، اور رباعی مجرد اور مزید فیہ۔ سوال: کہ فعل میں خماسی کیوں نہیں آتا؟ فعل میں خماسی کیوں نہیں آتا؟ وجہ اس کی یہ بھئی آسان سا جواب ہے یاد رکھو، کہ فعل کے اندر تبدیلیاں بہت ہوتی ہیں، اور اس کے اندر زائد حروف بھی آ جاتے ہیں۔ ایک حرف کبھی زائد ہوتا ہے، کبھی دو، کبھی تین حروف زائد آ جاتے ہیں۔
بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو اس میں چونکہ زائد حروف بھی بہت سے آ جاتے ہیں، اس لیے اگر اس کو وہ خماسی ہوتا اور پھر دو تین زائد حروف بھی آ جاتے تو کتنا لمبا لفظ بن جاتا! تو وہ زبان پر ثقیل ہو جاتا، زبان پر اس کی ادائیگی مشکل ہو جاتی، اس لیے فعل کے اندر خماسی نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں حروف زوائد بھی آ جاتے ہیں اور زوائد بھی کافی آ جاتے ہیں اور اس میں گردانیں زیادہ ہوتی ہیں، تو وہ زبان پر اس کی ادائیگی ثقیل ہوتی۔ اس لیے فعل تو صرف ثلاثی اور رباعی ہے، اور اسم جامد، اس میں تو گردان نہیں ہوتی، تو اس میں اگر خماسی آ بھی جائے تو وہ کوئی اتنا ثقل کا باعث نہیں ہے۔
تو اب وہی قسمیں جامد کی، وہ چھ قسمیں بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: و جامد باعتبار تعداد حروف یا ثلاثی می باشد مجرد، چون رجل، یا مزید فیہ، چون حمار۔ اور جامد جو ہے وہ حروف کی تعداد کے اعتبار سے یا ثلاثی ہو گا، مجرد، اور کون سا ثلاثی؟ مجرد، چون رجل، جیسے رجل۔ دیکھو کتنے حروف ہیں؟ تین، اور کوئی زائد نہیں۔ مزید فیہ، یا کیا ہو گا؟ مزید فیہ ہو گا، چون حمار، جیسے حمار۔ اس میں یہ جو الف ہے نا، یہ زائد ہے۔ ح، م، ر، یہ کیا ہیں؟ حروف اصلی۔
حمار گدھے کو کہتے ہیں۔ یا رباعی مجرد، یا وہ اسم جامد کیا ہو گا؟ رباعی مجرد ہو گا، چون جعفر، جیسے جعفر۔ جعفر کسے کہتے ہیں؟ نہر کو، نہر، ندی نالے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ و مزید فیہ، یا وہ رباعی کیا ہو گا؟ مزید فیہ ہو گا، چون قرطاس۔ قرطاس کاغذ کو کہتے ہیں۔ اور اس میں یہ جو الف ہے نا ط کے بعد، یہ کیا ہے؟ زائد ہے۔
یا خماسی مجرد، یا وہ جامد خماسی مجرد ہو گا، چون سفرجل۔ سفرجل، یہ ایک پھل کا نام ہے، اردو میں اس کو بہی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ بہی۔ تو یہ کوئی سیب وغیرہ کی طرح کا پھل ہے، تو اسے سفرجل کہتے ہیں۔ اور یہ پانچوں حروف اصلی ہیں۔ و مزید فیہ، اور کبھی خماسی کیا ہو گا؟ مزید ہو گا، چون قبعثرٰی۔
بھئی یہ کتابت واضح نہیں لکھا کاتب نے، قبعثرٰی، یہ الف ہے نا اس کے بعد، یہ الف نہیں ہے، یہ کھڑی زبر ہے۔ اور یہ جو دوسری یا لکھی، تو بہتر تھا کہ دوسری یا لکھتے بھئی، چھوٹی یا لکھتے، اور اس پر کیا ڈالتے تھے؟ کھڑی زبر۔ تو کتنے حروف ہو گئے؟ ق، ب، ع، ث، ر اور یا جو کس سے بدل چکی ہے؟ الف سے، الف سے۔ تو کتنے ہو گئے؟ چھ۔ تو ان چھ میں سے پانچ حروف اصلی ہیں پہلے، اور یہ جو آخر میں الف آ رہا ہے، یہ زائد ہے بھئی۔ تو یہ کیا ہوا؟ خماسی مزید فیہ۔ قبعثرٰی کہتے ہیں موٹے اونٹ کو بھئی۔
اونٹ ہو بھئی، خوب صحت مند، موٹا تازہ اونٹ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قبعثرٰی۔ و باعتبار انواع حروف باقسام دہ گانہ منقسم می شود، اور یہ جو جامد ہے یہ بھی انواعِ حروف...، انواع کا کیا معنی؟ اقسام۔ حروف کی اقسام کے اعتبار سے یہ بھی دس قسموں میں تقسیم ہوتا ہے۔ کس میں؟ دس قسموں میں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اس میں جامد کی کتنی قسمیں بتا دیں؟ چھ۔ اور ان چھ میں بھی یا تو کوئی صحیح ہو گا، یا مہمیز الفاء ہو گا، یا مہمیز العین، یا مہمیز اللام، یا مثال، یا اجوف، یا ناقص، یا لفیفِ مقرون، یا لفیفِ مفروق، اور یا مضاعف ہو گا۔ تو دس قسمیں اس کے اندر بھی جاری ہوتی ہیں، وہ آپ پھر حروف میں غور کر لیجیے گا کہ حرفِ علت آ رہا ہے یا نہیں آ رہا، دو حرف ایک جنس کے آ رہے ہیں اس میں یا نہیں آ رہے، اور ہمزہ اس میں آ رہا ہے یا نہیں آ رہا۔
تو کہہ رہے ہیں: و باعتبار انواع حروف باقسام دہ گانہ منقسم می شود، اور حروف کی اقسام کے اعتبار سے یہ دس قسموں میں تقسیم ہوتا ہے، یہ اسمِ جامد۔ چون فعل تصریفات بسیار می دارد، چونکہ فعل تصریفات...، تصریفات کا معنی ہے گردانیں۔ چونکہ فعل گردانیں جو ہیں بسیار می دارد، بسیار کا معنی؟ زیادہ، بہت۔ چونکہ فعل میں بہت گردانیں ہیں، و اسم کم، اور اسم میں کم، و حرف مطلقا ندارد، اور حرف جو ہے وہ مطلقا گردانیں نہیں رکھتا، یعنی اس میں گردانیں نہیں ہیں۔ لہٰذا نظرِ صرافی بیشتر متعلق بفعل است، لہٰذا صرافی کی نظر، جو علمِ صرف کا ماہر ہو، تو اس صرافی کی جو نظر ہوتی ہے، یعنی اس کی توجہ جو ہوتی ہے، بیشتر، زیادہ تر متعلق بفعل است، کس کے ساتھ متعلق ہوتی ہے؟ فعل کے ساتھ۔
تو فعل میں کہتے ہیں چونکہ گردانیں زیادہ ہیں، اسم میں کم ہیں، اور حرف میں سے سرے سے ہیں ہی نہیں، لہٰذا صرافی کی زیادہ توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ فعل کی طرف ہوتی ہے۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیں: چون فعل تصریفات بسیار می دارد، چونکہ فعل جو ہے وہ بہت زیادہ گردانیں رکھتا ہے، یعنی یوں کہیں، چونکہ فعل کی بہت زیادہ گردانیں ہوتی ہیں، و اسم کم، اور اسم کی کم، و حرف مطلقا ندارد، اور حرف کی مطلقا نہیں ہوتیں، لہٰذا نظرِ صرافی بیشتر متعلق بفعل است، اور لہٰذا صرافی کی نظر زیادہ تر فعل سے متعلق ہوتی ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: بابِ اول در بیانِ صیغ، مشتمل بر دو فصل۔ بابِ اول، انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ رسالہ مشتمل ہے ایک مقدمے پر، چار باب پر اور ایک خاتمے پر۔ تو اب کیا شروع ہو رہا ہے؟ مقدمہ ختم ہوا۔ مقدمے میں انہوں نے کیا کیا آپ کو؟ اسم، فعل اور حرف کی پہچان کروائی اور ان کی قسمیں بیان کر دیں۔ قسمیں بیان کر دیں۔ اب فعل کے بارے میں بحث کرنے لگے ہیں۔ فعل کے بارے میں بحث، تو پہلا باب۔ کہتے ہیں: بابِ اول در بیانِ صیغ، یہ صیغ پڑھنا ہے اس کو، ص کے نیچے زیر اور یا پر زبر۔ یہ جمع ہے صیغہ کی۔ صیغہ کی جمع کیا آتی ہے؟ صیغ۔ بابِ اول، پہلا باب در بیانِ صیغ، صیغوں کے بیان میں مشتمل بر دو فصل، اور یہ کتنی فصلوں پر مشتمل ہے؟ دو فصلوں پر مشتمل ہے۔
فصلِ اول، پہلی فصل۔ اچھا بھئی! اب گردانیں شروع ہو رہی ہیں۔ یاد رکھو، یہاں جتنی گردانیں آئیں گی، ہم وہ اپنے ابواب الصرف کی گردانیں دہراتے رہیں گے۔ ہر کتاب کا گردانوں کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ ہر کتاب والے کا گردانوں کا اپنا طریقہ ہوتا ہے، پھر خصوصا صرفِ صغیر کے اندر، عام گردانیں تو...، ان میں تو اتنا فرق نہیں ہوتا ماضی، مضارع وغیرہ میں، لیکن خصوصا صرفِ صغیر کے اندر تو ہر کتاب والے کا اپنا انداز ہے۔ کسی کی صرفِ صغیر بڑی مختصر اور کسی کی بڑی طویل ہوتی ہے۔ آپ ایک دفعہ ابواب الصرف یاد کر چکے ہیں اور وہ بہترین گردانیں ہیں، نہ بہت مختصر ہیں اور نہ بہت زیادہ طویل ہیں، متوسط درجے کی گردانیں ہیں۔ تو اب جہاں جہاں یہ گردانیں آئیں گی، ہم مادہ یا مصدر یہاں سے لے لیا کریں گے جو صیغہ، جو مادہ...، جو مصدر یہاں ذکر کیا ہو گا، اور گردان کس کے مطابق پڑھ لیں گے؟ وہ ابواب الصرف کے طریقے پر۔
اگر ہر کتاب کے اندر نئے طریقے سے آپ گردانیں یاد کریں گے، تو اس سے آپ مشکل میں پڑ جائیں گے، آپ کے لیے یاد کرنا مشکل ہو جائے گا بھئی، اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہو گا نئے طریقے کو لینے سے۔ تو وہی ایک طریقہ رکھیں گے اور اسی میں آپ کی مشق بھی ہوتی چلی جائے گی بھئی۔ اب فعل کی بات آئی، سب سے پہلے یہ ماضی کی بات کریں گے، ماضی۔ تو آئیے ذرا پہلے مجھے ابواب الصرف سے ماضی کے باب سنا دیں۔ یاد ہیں آپ سب کو اچھی طرح؟ جی، چلیے بھئی، شروع کیجیے۔
اوپر فارسی عبارت وغیرہ جو یاد کروائی ہیں ابواب الصرف میں، اس کے ساتھ آپ شروع کریں بھئی پہلے باب سے۔ اونچی آواز میں۔
بدان کہ ثلاثی مجرد را شش ابواب مشہور است۔ شش ابواب مشہور است، کتنے باب ہیں؟ چھ باب۔ توجہ سے سنیں، آپ کے ذہن میں تو ہوں گے، پھر بھی ایک دفعہ آپ کے سامنے آ جائیں، اور پھر آگے یہ عبارت ہم اسی کے مطابق حل کریں گے۔ جی، سنائیے بھئی۔
بابِ اول بر وزنِ فَعَلَ یَفْعِلُ، چون الضَّرْبُ، زدن، مارنا۔ ضَرَبَ یَضْرِبُ ضَرْبًا فَہُوَ ضَارِبٌ، وَضُرِبَ یُضْرَبُ ضَرْبًا فَذَاکَ مَضْرُوْبٌ، لَمْ یَضْرِبْ لَمْ یُضْرَبْ، لَا یَضْرِبُ لَا یُضْرَبُ، لَنْ یَضْرِبَ لَنْ یُضْرَبَ۔ وَالْأَمْرُ مِنْہُ: اِضْرِبْ لِتُضْرَبْ لِیَضْرِبْ لِیُضْرَبْ۔ وَالنَّہْیُ عَنْہُ: لَا تَضْرِبْ لَا تُضْرَبْ لَا یَضْرِبْ لَا یُضْرَبْ۔ وَالظَّرْفُ مِنْہُ: مَضْرِبٌ، وَالْجَمْعُ مَضَارِبُ۔ وَالْآلَةُ مِنْہُ: مِضْرَبٌ مِضْرَبَةٌ مِضْرَابٌ، وَالْجَمْعُ مَضَارِبُ وَمَضَارِیْبُ۔ وَأَفْعَلُ التَّفْضِیْلِ الْمُذَکَّرُ مِنْہُ: أَضْرَبُ، وَالْجَمْعُ أَضَارِبُ؛ وَالْمُؤَنَّثُ مِنْہُ: ضُرْبٰی ضُرْبَیَاتٌ ضُرَبٌ۔ شاباش! جی، اگلا باب۔
بابِ دوم بر وزنِ فَعَلَ یَفْعُلُ، چون النَّصْرُ، مدد کردن، مدد کرنا۔ نَصَرَ یَنْصُرُ نَصْرًا فَہُوَ نَاصِرٌ، وَنُصِرَ یُنْصَرُ نَصْرًا فَذَاکَ مَنْصُوْرٌ، لَمْ یَنْصُرْ لَمْ یُنْصَرْ، لَا یَنْصُرُ لَا یُنْصَرُ، لَنْ یَنْصُرَ لَنْ یُنْصَرَ۔ وَالْأَمْرُ مِنْہُ: اُنْصُرْ لِتُنْصَرْ لِیَنْصُرْ لِیُنْصَرْ۔ وَالنَّہْیُ عَنْہُ: لَا تَنْصُرْ لَا تُنْصَرْ لَا یَنْصُرْ لَا یُنْصَرْ۔ وَالظَّرْفُ مِنْہُ: مَنْصَرٌ، وَالْجَمْعُ مَنَاصِرُ۔ وَالْآلَةُ مِنْہُ: مِنْصَرٌ مِنْصَرَةٌ مِنْصَارٌ، وَالْجَمْعُ مَنَاصِرُ وَمَنَاصِیْرُ۔ وَأَفْعَلُ التَّفْضِیْلِ الْمُذَکَّرُ مِنْہُ: أَنْصَرُ، وَالْجَمْعُ أَنَاصِرُ؛ وَالْمُؤَنَّثُ مِنْہُ: نُصْرٰی نُصْرَیَاتٌ نُصَرٌ۔ شاباش! جی، اگلا باب۔
بابِ سوم بر وزنِ فَعِلَ یَفْعَلُ، چون السَّمْعُ، شنیدن، سننا۔ سَمِعَ یَسْمَعُ سَمْعًا فَہُوَ سَامِعٌ، وَسُمِعَ یُسْمَعُ سَمْعًا فَذَاکَ مَسْمُوْعٌ، لَمْ یَسْمَعْ لَمْ یُسْمَعْ، لَا یَسْمَعُ لَا یُسْمَعُ، لَنْ یَسْمَعَ لَنْ یُسْمَعَ۔ وَالْأَمْرُ مِنْہُ: اِسْمَعْ لِتُسْمَعْ لِیَسْمَعْ لِیُسْمَعْ۔ وَالنَّہْیُ عَنْہُ: لَا تَسْمَعْ لَا تُسْمَعْ لَا یَسْمَعْ لَا یُسْمَعْ۔ وَالظَّرْفُ مِنْہُ: مَسْمَعٌ، وَالْجَمْعُ مَسَامِعُ۔ وَالْآلَةُ مِنْہُ: مِسْمَعٌ مِسْمَعَةٌ مِسْمَاعٌ، وَالْجَمْعُ مَسَامِعُ وَمَسَامِیْعُ۔ وَأَفْعَلُ التَّفْضِیْلِ الْمُذَکَّرُ مِنْہُ: أَسْمَعُ، وَالْجَمْعُ أَسَامِعُ؛ وَالْمُؤَنَّثُ مِنْہُ: سُمْعٰی سُمْعَیَاتٌ سُمَعٌ۔ شاباش!
بابِ چہارم بر وزنِ فَعَلَ یَفْعَلُ، چون الْفَتْحُ، کشادن، کھولنا۔ فَتَحَ یَفْتَحُ فَتْحًا فَہُوَ فَاتِحٌ، وَفُتِحَ یُفْتَحُ فَتْحًا فَذَاکَ مَفْتُوْحٌ، لَمْ یَفْتَحْ لَمْ یُفْتَحْ، لَا یَفْتَحُ لَا یُفْتَحُ، لَنْ یَفْتَحَ لَنْ یُفْتَحَ۔ وَالْأَمْرُ مِنْہُ: اِفْتَحْ لِتُفْتَحْ لِیَفْتَحْ لِیُفْتَحْ۔ وَالنَّہْیُ عَنْہُ: لَا تَفْتَحْ لَا تُفْتَحْ لَا یَفْتَحْ لَا یُفْتَحْ۔ وَالظَّرْفُ مِنْہُ: مَفْتَحٌ، وَالْجَمْعُ مَفَاتِحُ۔ وَالْآلَةُ مِنْہُ: مِفْتَحٌ مِفْتَحَةٌ مِفْتَاحٌ، وَالْجَمْعُ مَفَاتِحُ وَمَفَاتِیْحُ۔ وَأَفْعَلُ التَّفْضِیْلِ الْمُذَکَّرُ مِنْہُ: أَفْتَحُ، وَالْجَمْعُ أَفَاتِحُ؛ وَالْمُؤَنَّثُ مِنْہُ: فُتْحٰی فُتْحَیَاتٌ فُتَحٌ۔ شاباش! جی۔
بابِ پنجم بر وزنِ فَعِلَ یَفْعِلُ، چون الْحَسْبُ، گمان کردن، گمان کرنا۔ حَسِبَ یَحْسِبُ حَسْبًا فَہُوَ حَاسِبٌ، وَحُسِبَ یُحْسَبُ حَسْبًا فَذَاکَ مَحْسُوْبٌ، لَمْ یَحْسِبْ لَمْ یُحْسَبْ، لَا یَحْسِبُ لَا یُحْسَبُ، لَنْ یَحْسِبَ لَنْ یُحْسَبَ۔ وَالْأَمْرُ مِنْہُ: اِحْسِبْ لِتُحْسَبْ لِیَحْسِبْ لِیُحْسَبْ۔ وَالنَّہْیُ عَنْہُ: لَا تَحْسِبْ لَا تُحْسَبْ لَا یَحْسِبْ لَا یُحْسَبْ۔ وَالظَّرْفُ مِنْہُ: مَحْسِبٌ، وَالْجَمْعُ مَحَاسِبُ۔ وَالْآلَةُ مِنْہُ: مِحْسَبٌ مِحْسَبَةٌ مِحْسَابٌ، وَالْجَمْعُ...مُحَاسِبٌ مُحَاسِيبُ، وَأَفْعَلُ التَّفْضِيلِ الْمُذَكَّرُ مِنْهُ أَحْسَنُ وَالْجَمْعُ أَحَاسِبُ، وَالْمُؤَنَّثُ مِنْهُ حُسْبَى حُسْبَيَاتٌ حُسَبٌ۔
شاباش! شاباش! جی، اگلا باب؟
بابِ ششم بر وزنِ فَعُلَ يَفْعُلُ، كَالشَّرَفِ وَالشَّرَافَةِ الشَّرِيفُ شُدَنُ شَرِيفُ وَنَا، شَرُفَ يَشْرُفُ شَرَفًا وَشَرَافَةً فَهُوَ شَرِيفٌ، لَمْ يَشْرُفْ لَا يَشْرُفُ لَنْ يَشْرُفَ، الْأَمْرُ مِنْهُ أُشْرُفْ لِيَشْرُفْ، وَالنَّهْيُ لَا تَشْرُفْ لَا يَشْرُفْ، وَالظَّرْفُ مِنْهُ مَشْرَفٌ وَالْجَمْعُ مَشَارِفُ، وَالْآلَةُ مِنْهُ مِشْرَفٌ مِشْرَفَةٌ مِشْرَافٌ وَالْجَمْعُ مَشَارِفُ مَشَارِيفُ، وَأَفْعَلُ التَّفْضِيلِ الْمُذَكَّرُ مِنْهُ أَشْرَفُ وَالْجَمْعُ أَشَارِفُ، وَالْمُؤَنَّثُ مِنْهُ شُرْفَى شُرْفَيَاتٌ شُرَفٌ۔
شاباش! دیکھا بھئی، اب اپ ماشاء اللہ زبردست اور بہترین صرفی ہیں۔ بغیر تیاری کے اچانک میں نے اپ سے باب سنے اور اپ نے بہترین سنا دیے۔ اور یاد رکھیے، جب اپ کو ابواب الصرف یاد ہیں، ابواب الصرف، تو اپ کو انشاء اللہ کہیں بھی، کسی بھی کتاب میں، کسی بھی صیغے میں مشکل پیش نہیں ائے گی بھئی۔ اس میں وہ ساری گردانیں، سارے صیغے ا گئے ہیں جو عام کتابوں کے اندر اور قرآن و حدیث میں استعمال ہوتے ہیں بھئی۔
اور اپ نے گزشتہ، گزشتہ سال یہ گردانیں یاد کی تھیں۔ میں نے اس وقت اپ کو بتلایا تھا کہ بس اپ ابواب بہترین یاد کرتے جائیں۔ اگر اپ سے صیغہ نکالنے میں اپ کو مشکل پیش ائے بھی تو اپ نے پریشان نہیں ہونا۔ بس جب اپ کو باب یاد ہیں، صیغے کے لیے کوشش کرتے رہو بس۔ اور انشاء اللہ جوں جوں وقت گزرے گا، اپ دیکھیں گے صیغہ نکالنے کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر اولیٰ میں جب اپ نے یہ باب یاد کیے تھے، اپ کو فرض کریں ایک صیغہ نکالنے پہ چار پانچ منٹ غور کرنا پڑتا تھا، کبھی دس منٹ غور کرنا پڑتا تھا۔ لیکن جیسے ہی اگلا سال ایا، اپ دیکھیں گے کہ اب اپ کو ایک دو منٹ کے اندر ہی صیغے کا پتہ چل جاتا ہے۔
اور اس سے جب سالِ ثالثہ میں اپ جائیں گے، اپ دیکھیں گے چند سیکنڈ کے اندر اپ کو صیغے کا پتہ چل جاتا ہے۔ کتاب اپ نے بند کر کے صندوق میں رکھ دی، لیکن اپ کی رفتار خود بخود بڑھتی جائے گی۔ اور جب رابعہ میں پہنچیں گے اپ، تو ایک سیکنڈ کے اندر اپ کو صیغے کا پتہ چل جائے گا۔ اور خامسہ تک پہنچیں گے، تو پھر تو ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا۔ جوں ہی صیغے پہ نظر پڑے گی، اسی لمحے کے اندر اپ کا ذہن اپ کو بتا دے گا یہ فلاں صیغہ ہے۔ اب مجھے اپ بتائیے، پچھلے سال اپ کا صیغہ نکالنے پر وقت لگتا تھا کہ نہیں لگتا تھا؟ جی۔ جی، اب چھٹیاں صرف اپ گزار کر ائے ہیں، اور چھٹیوں میں تو اپ نے یاد بھی نہیں کیا، لیکن اب مجھے بتائیے، اس سال رفتار دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے یا نہیں؟ جی۔ دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ اگلے سال اس سے بھی دگنی سے زیادہ ہو جائے گی اپ کی رفتار بھئی۔
بعض طلباء صیغہ نکالتے ہوئے پریشان ہوتے ہیں۔ بس وہ ابواب یاد کر لیں۔ ہر اگلے سال ان کی رفتار خود ہی بڑھتی چلی جائے گی بھئی۔ تو اب کتنا وقت لگتا ہے اپ کو صیغہ نکالنے پہ؟ کوئی ایک منٹ لگتا ہے؟ جی، ایک منٹ۔ زیادہ سے زیادہ، کبھی غور کرنا پڑتا ہو تو پھر ایک منٹ، ورنہ اپ غور کر لیں، شاید دس سیکنڈ بھی اپ کو نہیں لگتے۔ فوراً اپ بتا دیتے ہیں فلاں صیغہ ہے جی، فلاں صیغہ ہے۔
سمجھ میں ارہی ہے بات؟ یہ تو میں ویسے کہہ رہا ہوں دو منٹ لگیں گے، دو منٹ نہیں لگتے، پانچ دس سیکنڈ، پندرہ سیکنڈ سے زیادہ اپ دیر کرتے ہی نہیں ہیں۔ اپ کا کوئی ساتھی دس پندرہ سیکنڈ لگا دے تو اپ بھی حیران ہوں گے اس نے اتنی دیر کیوں لگا دی۔ اور اگلے سال جائیں گے تو پھر دو تین سیکنڈ لگیں گے۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ جی۔
اچھا، اب بات چل رہی ہے ماضی کی گردانوں کی۔ اچھا، یہ چھ باب اپ نے سنائے۔ اس چھ باب، پہلا باب کس وزن پر؟ بر وزنِ فَعَلَ يَفْعِلُ۔ دوسرا باب بر وزنِ فَعَلَ يَفْعُلُ۔ تیسرا باب بر وزنِ فَعِلَ يَفْعَلُ۔ چوتھا باب بر وزنِ فَعَلَ يَفْعَلُ۔ اور پانچواں باب بر وزنِ فَعِلَ يَفْعِلُ۔ اور چھٹا باب بر وزنِ فَعُلَ يَفْعُلُ۔
اب مجھے بتائیے، یہ جو ماضی ہے، فَعَلَ، اس میں عین پر کتنی صورتیں ائیں؟ پہلے ایک کیا؟ فَعَلَ۔ اور کوئی وزن ایا ماضی کا؟ فَعِلَ، عین کے نیچے زیر بھی ائی۔ اور کوئی وزن ایا؟ فَعُلَ، چھٹا باب فَعُلَ يَفْعُلُ۔ تو معلوم ہوا، ماضی کے اندر، ماضی کے اندر عین پر تینوں حرکتیں ائی ہیں: فَعَلَ بھی، فَعِلَ بھی، اور فَعُلَ بھی۔
اچھا، اب ذرا مضارع پر ا جائیں۔ مضارع ایک کیا ایا؟ يَفْعِلُ۔ اور عین پر کبھی فتحہ ایا ہے؟ جی، فَعَلَ يَفْعَلُ اور فَعِلَ يَفْعَلُ، وہاں دیکھو عین پر فتحہ ہے۔ اور عین پر کہیں ضمہ ایا ہے؟ یہاں پر، چھٹے باب میں۔ تو معلوم ہوا مضارع کے اندر بھی عین پر تینوں حرکتیں ائی ہیں: يَفْعِلُ، يَفْعَلُ، اور يَفْعُلُ۔
صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ اب ماضی میں بھی تین صورتیں: فَعَلَ، فَعِلَ، اور فَعُلَ۔ مضارع میں بھی تینوں صورتیں۔ اب ماضی کو، ایک ماضی کو پکڑیں: فَعَلَ۔ اس فَعَلَ کے ساتھ کتنے قسم کے مضارع ائے ہیں؟ فَعَلَ يَفْعِلُ، ضَرَبَ يَضْرِبُ ایا یا نہیں؟ تو فَعَلَ کے ساتھ يَفْعِلُ بھی ایا۔ اور نَصَرَ میں فَعَلَ يَفْعُلُ، دیکھو اس فَعَلَ کے ساتھ يَفْعُلُ بھی ایا۔ اور چوتھا باب، فَعَلَ يَفْعَلُ، بابِ مَنَعَ یا بابِ فَتَحَ۔ تو معلوم ہوا فَعَلَ جو ماضی ہے، اس کے ساتھ تینوں قسم کے مضارع ائے ہیں۔ توجہ ہے؟ فَعَلَ جو ماضی ہے اس کے ساتھ تینوں قسم کے مضارع ائے ہیں: يَفْعِلُ بھی، يَفْعَلُ بھی، اور يَفْعُلُ بھی۔
اب دوسری ماضی پکڑو: فَعِلَ، ماضی کے عین کے نیچے زیر ہو۔ فَعِلَ، اس فَعِلَ کے ساتھ کتنی قسم کے مضارع ائے ہیں؟ فَعِلَ کے ساتھ دو ائے ہیں۔ فَعِلَ ایک سَمِعَ، سَمِعَ يَسْمَعُ، فَعِلَ يَفْعَلُ۔ اور ایک فَعِلَ يَفْعِلُ، حَسِبَ يَحْسِبُ۔ تو فَعِلَ کے ساتھ دو مضارع ائے ہیں، کون کون سے؟ يَفْعِلُ بھی ایا ہے اور يَفْعَلُ بھی ایا ہے۔
اور فَعُلَ کے ساتھ کتنے مضارع ائے ہیں؟ فَعُلَ، ایک ایا ہے صرف يَفْعُلُ۔ صرف شَرُفَ میں فَعُلَ ایا، اور کہیں فَعُلَ ایا؟ تو کل چھ باب ہو گئے۔ یہ کتاب والے یہی چھ باب گنوائیں گے لیکن کیسے؟ یوں کہیں گے، کہیں گے بھئی ماضی تین طرح ہو سکتی ہے: یا فَعَلَ ہو گی، یا فَعِلَ ہو گی، یا فَعُلَ۔ جو فَعَلَ ماضی ہے، اس کے ساتھ تین مضارع ا گئے، کتنے باب بن گئے؟ تین باب۔ اور جو فَعِلَ ہے، اس کے ساتھ کتنے مضارع ا گئے؟ دو ا گئے، يَفْعَلُ بھی اور يَفْعِلُ بھی۔ تو تین اور دو کتنے ہو گئے؟ پانچ۔ اور فَعُلَ کے ساتھ صرف کتنے مضارع ائے ہیں؟ ایک، يَفْعُلُ، تو یہ چھٹا باب ہو گیا۔ طریقہ سمجھ میں ایا؟ اب یہی دیکھیے کتاب پر۔
کہتے ہیں: بابِ اول در بیانِ صیغہا، مشتمل بر دو فصل۔ پہلا باب صیغوں کے بیان میں دو فصلوں پر مشتمل ہے۔ فصلِ اول در گردانہائے افعالِ ماضی۔ پہلی فصل در گردانہائے، در گردانھا، یہ 'ہا' فارسی میں جمع کے لیے اتی ہے۔ در گردانہائے افعالِ فعلِ ماضی۔ دیکھا، وہی یہاں وہ ہمزہ اور جو میں بتا رہا تھا یا لےاتے ہیں یا ہمزہ لےاتے ہیں۔ گردانہائے افعال، افعال کی گردانیں، افعال کی گردانھا۔ گردانھا کے اخر میں کیا تھا؟ الف۔ اور اس کی اضافت کرنی ہے کس کی طرف؟ افعال کی طرف، تو اخر میں کیا لے ائے؟ یا۔ تو یا بھی لےاتے ہیں اور ہمزہ بھی لےاتے ہیں بھئی، ہمزہ بھی۔
فصلِ اول در گردانہائے افعال، پہلی فصل فعلوں کی گردانوں کے بیان میں۔ فعلِ ماضی معروف، فعلِ ماضی معروف ثلاثی مجرد بر سہ وزن اید۔ فعلِ ماضی معروف جو ثلاثی مجرد ہے، ثلاثی مجرد کے کتنے باب؟ چھ۔ لیکن اس میں ماضی کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہ فعلِ ماضی معروف ثلاثی مجرد بر سہ وزن اید، کہ ثلاثی مجرد کی ماضی معروف جو ہے وہ تین وزنوں پر اتی ہے: فَعَلَ چون ضَرَبَ، وَفَعِلَ چون سَمِعَ، وَفَعُلَ چون كَرُمَ۔
میں نے بتلایا تھا، بابِ شَرُفَ کو کیا کہتے ہیں؟ بابِ كَرُمَ بھی کہتے ہیں، کیونکہ بعض اساتذہ شَرُفَ کے بجائے کون سی گردان یاد کرواتے ہیں؟ كَرُمَ کی۔ اسی طرح بابِ مَنَعَ کو بابِ فَتَحَ بھی کہتے ہیں، کیونکہ بعض اساتذہ اس میں فَتَحَ ہی کی گردان لکھواتے ہیں، تو وہ اسی طرح یہاں ہے بھئی۔
وَمُضَارِعِ مَعْرُوفِ فَعَلَ، اچھا بھئی، فَعَلَ کا مضارع کتنی قسم پر اتا تھا؟ تین قسم، وہی بیان کر رہے ہیں۔ وَمُضَارِعِ مَعْرُوفِ فَعَلَ گاہے يَفْعُلُ اید، اور فَعَلَ کا مضارع معروف کبھی تو گاہے، کبھی کبھار، کبھی۔ کبھی يَفْعُلُ اتا ہے، چون نَصَرَ يَنْصُرُ۔ وَگَاہِ يَفْعِلُ، اور کبھی يَفْعِلُ اتا ہے، چون ضَرَبَ يَضْرِبُ۔ وَگَاہِ يَفْعَلُ، اور کبھی يَفْعَلُ ائے گا، چون فَتَحَ يَفْتَحُ۔ تو یہ يَفْعُلُ نہیں، يَفْعَلُ ہونا چاہیے، کتابت کی غلطی ہے۔
وَمُضَارِعِ فَعِلَ، اچھا فَعِلَ ماضی ہے، فَعِلَ، اس کے مضارع کتنے آتے ہیں؟ دو، وہی بیان کر رہے ہیں۔ وَمُضَارِعِ فَعِلَ يَفْعَلُ اید، اور فَعِلَ کا مضارع يَفْعَلُ اتا ہے، چون سَمِعَ يَسْمَعُ۔ وَگَاہِ يَفْعِلُ، اور کبھی يَفْعِلُ اتا ہے، چون حَسِبَ يَحْسِبُ۔ وَمُضَارِعِ فَعُلَ يَفْعُلُ اید وبس، اور فَعُلَ کا مضارع يَفْعُلُ اتا ہے اور بس۔ یعنی صرف کیا اتا ہے؟ يَفْعُلُ۔ چون كَرُمَ يَكْرُمُ۔ وَمَاضِی مَجْہُول از ہر سہ وزن بر وزنِ فُعِلَ اید۔
اچھا، ماضی مجہول بھئی، ماضی کے اوزان کتنے؟ تین: فَعَلَ، فَعِلَ، اور فَعُلَ۔ تو یہ تو معروف ہے، ماضی معروف۔ ماضی مجہول کا ایک ہی وزن ہے سب میں، اور وہ کیا؟ فُعِلَ۔ ضُرِبَ، نُصِرَ، فُتِحَ، سُمِعَ، اور حُسِبَ بھئی۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟
تو کہتے ہیں: وَمَاضِی مَجْہُول از ہر سہ وزن، اور ماضی مجہول تینوں وزنوں سے بر وزنِ فُعِلَ اید، کس وزن پر اتا ہے؟ فُعِلَ۔ پھر سنو! ماضی مجہول از ہر سہ وزن، ماضی مجہول تینوں وزنوں سے بر وزنِ فُعِلَ اید۔ تینوں وزن، کون سے تینوں وزن؟ ماضی کے جو تین وزن ہیں: فَعَلَ، فَعِلَ، اور فَعُلَ۔ ان تینوں سے فُعِلَ وزن پر اتا ہے۔ وَمُضَارِعِ مَجْہُول مُطْلَقًا بر وزنِ يُفْعَلُ، اور مضارع مجہول مطلقاً يُفْعَلُ وزن پر اتا ہے۔
مضارع تو تین قسم کے ہیں: يَفْعَلُ، يَفْعِلُ، اور يَفْعُلُ۔ لیکن سب کا مجہول کیا اتا ہے؟ يُفْعَلُ، ایک ہی وزن ہے بھئی۔
بات سمجھ میں اگئی؟ پس ثلاثی مجرد را شش باب حاصل شدہ، پس ثلاثی مجرد کے چھ باب حاصل ہو گئے۔ چھ باب بن گئے بھئی۔
بات سمجھ میں ارہی ہے؟ آسان باتیں ہیں بھئی، صرف ترجمہ سمجھتے جاؤ۔
اولاً بیانِ صیغہائے افعال و مشتقات کردہ می شود، پہلے جو ہے بیانِ صیغہائے افعال و مشتقات کردہ می شود، پہلے افعال اور مشتقات کے صیغوں کا بیان کیا جاتا ہے۔ پہلے کیا کیا جاتا ہے؟ افعال اور مشتقات۔ بھئی گردانیں ہیں، کچھ تو فعل کی گردانیں: ماضی، مضارع، امر۔ اور کس کی گردانیں؟ ظرف، ظرف۔ یہ اسمِ مشتق ہے یا نہیں؟ اسمِ الہ، یہ بھی کیا ہے؟ اسمِ مشتق۔ اسمِ تفضیل، یہ بھی کیا ہے؟ اسمِ مشتق۔ تو اسی لیے کہا کہ اب میں آگے گردانیں ذکر کر رہا ہوں، افعال کی بھی گردانیں ائیں گی اور مشتقات کی بھی گردانیں ائیں گی۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟
تو کہتے ہیں: اولاً بیانِ صیغہائے افعال و مشتقات کردہ می شود، پہلے افعال اور مشتقات کے صیغوں کا بیان کیا جاتا ہے۔ بعد ازیں تفصیلِ ابواب نموده خواهد شد، اس کے بعد ابواب کی تفصیل ظاہر کی جائے گی، یعنی لکھی، تحریر کی جائے، بیان کی جائے گی۔ اس کے بعد ابواب کی تفصیل بیان کی جائے گی۔ پہلے صیغوں کا بیان کرنے لگے ہیں کہ ماضی معروف کے کتنے صیغے ہیں، مجہول کے کتنے صیغے ہیں، مضارع معروف کے کتنے صیغے ہیں، مضارع مجہول؟ وہی صرفِ کبیر بیان کرنے لگے ہیں نا، اس کے بعد پھر ابواب کی تفصیل بیان کریں گے۔
عبارت سمجھ میں بھی ائی کہ نہیں ائی بھئی؟ ایک ایک لفظ سمجھتے جاؤ، پھر دیکھو: اولاً بیانِ صیغہائے افعال و مشتقات کردہ می شود، پہلے مشتقات اور افعال کے صیغوں کا بیان کیا جاتا ہے۔ بعد ازیں، اس کے بعد، اس کے بعد تفصیلِ ابواب نموده خواهد شد، ابواب کی تفصیل جو ہے وہ ظاہر کی جائے گی، یعنی بیان کی جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ماضی را سیزدہ صیغہ اید۔
سیزدہ؟ تیرہ۔ ماضی کے تیرہ صیغے آتے ہیں۔
سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے تو چودہ صیغے پڑھے ہیں، یہ کیا فرما رہے ہیں؟ تیرہ۔ بھئی وجہ یہ ہے کہ جو دو صیغے ایک جیسے ائیں اس کو وہ ایک ہی صیغہ شمار کرتے ہیں۔ ماضی کی ذرا گردان پھر دیکھو، ضربَ، ضربَا، ضربُوا، ضربَت، ضربَتَا، ضربنَ، ضربتَ، ضربتُمَا، ایک ضربتما آ گیا، ضربتما، ضربتُم، ضربتِ، ضربتُمَا، پھر ضربتما آ گیا۔ تو ان دو، ان کو وہ اب دو نہیں شمار کریں گے، ایک ہی کیونکہ صیغہ تو ایک ہی ہے۔ صیغہ ایک ہی ہے، استعمال دونوں کے لیے ہوتا ہے، تثنیہ مذکر حاضر کے لیے بھی اور تثنیہ مونث حاضر، تو اس کو وہ ایک ہی شمار کریں گے۔ تو کتنے ہو گئے؟ 13 ہو گئے۔
تو کہتے ہیں: ماضی را سیزدہ صیغہ آید، ماضی کے 13 صیغے آتے ہیں۔ اثبات فعل ماضی معروف، فعل ماضی معروف مثبت کی گردان کرنے لگے ہیں، اثبات، نفی نہیں ہے۔ اثبات فعل ماضی معروف، فعَلَ، فعَلَ، فعَلَا، فعَلُوا، فعَلَت، فعَلَتَا، فعَلنَ، فعَلتَ، فعَلتُمَا، فعَلتُم، فعَلتِ، اب فعلتما دوبارہ ذکر نہیں کیا، دیکھا؟ پھر فعَلتُنَّ، فعَلتُ، فعَلنَا۔
اچھا، یہ تو کیا پڑھا ہم نے؟ فعَلَ۔ اسی کو فعِلَ بھی پڑھو۔ اسی کو دوبارہ پڑھو۔ ماضی تین قسم پر ہے نا؟ ہاں۔ فعِلَ، فعِلَا، فعِلُوا، فعِلَت، فعِلَتَا، فعِلنَ، فعِلتَ، فعِلتُمَا، فعِلتُم، فعِلتِ، فعِلتُنَّ، فعِلتُ، فعِلنَا۔ اور اسی کو عین کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو گویا ایک گردان لکھ کر تین کا کام انہوں نے لے لیا کہ عین کے پر تینوں حرکتیں پڑھو۔ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: بحرکاتِ ثلاثۂ عین، عین کی تین حرکتوں کے ساتھ۔
سہ صیغۂ اولیٰ، اچھا اب مجھے بتائیے بھئی! یہ جو گردان میں 14 صیغے ہوتے ہیں، ان میں سے پہلے چھ کس کے ہوتے ہیں؟ غائب کے۔ اس غائب میں سے چھ میں سے پہلے تین کس کے؟ مذکر غائب کے۔ اگلے تین؟ مونث غائب کے۔ اس سے اگلے تین؟ مذکر حاضر۔ اس سے اگلے تین؟ مونث حاضر۔ اور آخری دو؟ متکلم، واحد متکلم اور جمع، جمع متکلم، یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: سہ صیغۂ اولیٰ برائے مذکر غائب است، پہلے تین صیغے جو ہیں مذکر غائب کے لیے ہیں۔ اول واحد، دوم تثنیہ، سوم جمع۔ پہلا واحد، تین غائب کے صیغے ہیں نا، تو پہلا کس کا؟ واحد۔ دوسرا؟ دوم تثنیہ۔ سوم؟ جمع۔ یعنی پہلا واحد مذکر غائب، دوسرا تثنیہ مذکر غائب، تیسرا جمع مذکر غائب۔ یہی بیان کر رہے ہیں: اول واحد، دوم تثنیہ، سوم جمع، پہلا واحد، دوسرا تثنیہ، تیسرا جمع۔
بعد ازاں سہ صیغہ مونث غائب است، اس کے بعد تین صیغے مونث غائب کے ہیں، بہ ہمو وضع۔ بہ ہمو وضع، اسی طرح سے جیسے ابھی بیان ہوا۔ کیا؟ پہلا واحد، دوسرا تثنیہ، تیسرا جمع۔ تو بہ ہمو وضع، بہ الگ ہے، ہمو وضع، اسی طرح۔ اور اس کو ہمِی بھی پڑھتے ہیں: بہ ہمِی وضع۔ تو ہمو اور ہمِی کا کیا معنی؟ اسی طرح، اسی طرح۔
تو کہتے ہیں: بعد ازاں سہ صیغہ مونث غائب است، اس کے بعد تین صیغے مونث غائب کے ہیں، بہ ہمو وضع، اسی طریقے پر، بہ ہمو وضع، اسی طریقے پر۔ بعد ازاں سہ صیغہ مذکر حاضر است، اس کے بعد تین صیغے مذکر حاضر ہے، لیکن تثنیہ آن برائے مونث حاضر نیز آید۔ تین صیغے کس کے ہیں؟ تین صیغے مذکر حاضر کے۔ لیکن ان تین میں سے جو تثنیہ ہے، وہ مونث کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، یہی بیان کر رہے ہیں۔
دوبارہ دیکھیں، کہتے ہیں: بعد ازاں سہ صیغہ مذکر حاضر است، اس کے بعد تین صیغے مذکر حاضر کے ہے، لیکن تثنیۂ آن، لیکن تثنیۂ آن، دیکھا یہاں ہمزہ میں لے آیا، لیکن تثنیۂ آن برائے مونث حاضر نیز آید، لیکن اس کا جو تثنیہ ہے وہ مونث حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔
بعد ازاں دو صیغہ مونث حاضر است، اس کے بعد دو صیغے مونث حاضر کے ہیں۔ ایک تو وہی پچھلا تھا نا، اس کی وجہ سے اب تین ہو گئے کل۔ اول واحد و دوم جمع، پہلا واحد کے لیے اور دوسرا جمع کے لیے۔
بعد ازاں دو صیغہ متکلم است، اس کے بعد دو صیغے متکلم کے ہیں۔ اول برائے، بھئی متکلم کے جو دو صیغے ہیں، اضربُ، اوہ نہیں ماضی لاؤ، ضربتُ۔ یہ واحد متکلم کے لیے ہے، چاہے مذکر ہو چاہے مونث، یہی بیان کر رہے ہیں: اول برائے واحد مذکر و مونث ہر دو، پہلا صیغہ واحد، واحد کے لیے ہے، مذکر اور مونث دونوں کے لیے، واحد مذکر اور مونث دونوں کے لیے۔
اچھا، اب مجھے بتاؤ، دوسرا کیا ہے؟ ضربنَا، یہ کس کے لیے ہے؟ تثنیہ کے لیے بھی اور جمع کے لیے بھی، مذکر کے لیے بھی اور مونث کے لیے، تو گویا یہ چار صیغوں والا کام کر رہا ہے۔ تثنیہ مذکر متکلم، اور تثنیہ مونث متکلم، اور جمع مذکر متکلم، اور جمع مونث متکلم، چاروں والا کام کر رہا ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: دوم برائے تثنیہ مذکر و مونث، دوسرا تثنیہ مذکر اور مونث، و جمع مذکر و مونث، اور تثنیہ میں بھی مذکر اور مونث دونوں، اور جمع میں بھی مذکر اور مونث دونوں۔
اثبات فعل ماضی مجہول، فعل ماضی مجہول بھئی، اثبات، اثبات فعل ماضی مجہول بھئی، یعنی فعل ماضی مجہول مثبت اب ذکر کرنے لگے ہیں۔ پہلے معروف ذکر کیا نا، اب مجہول۔ کہتے ہیں: فعِلَ، فعِلَا، فعِلُوا، فعِلَت، فعِلَتَا، فعِلنَ، فعِلتَ، فعِلتُمَا، فعِلتُم، فعِلتِ، اب فعلتما دوبارہ ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ صیغہ ایک دفعہ گزر چکا، فعِلتُنَّ، فعِلتُ، فعِلنَا۔
ما و لا بر ماضی برائے نفی می آید، ما اور لا ماضی پر نفی کے لیے آتے ہیں۔ ضربَ کا معنی پٹائی کی، اور ما ضربَ پٹائی نہیں کی، تو ما کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے۔ اسی طرح لا بھی کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے۔ لیکن ماضی میں عام طور پر ما استعمال ہوتا ہے۔ لا کبھی کبھار استعمال ہوگا، لیکن جہاں لا استعمال ہوگا اس کی شرط یہ ہے کہ وہ دو دفعہ آئے۔ کتنی دفعہ آئے؟ دو دفعہ آئے۔ آپ جب بھی ماضی منفی لانا چاہیں تو ہمیشہ کس کے ساتھ لائیں گے؟ ما کے ساتھ: ما ضربَ، ما فتحَ، ما نصرَ۔ اگر آپ لا لانا چاہتے ہیں، تو پھر لا کا تکرار ہونا چاہیے، یعنی دو ماضی کے صیغے ہوں دونوں پر لا داخل کریں گے، اکٹھا لائیں گے، اکیلے کو نہیں لائیں گے۔
یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ما و لا بر ماضی برائے نفی می آید، ما اور لا ماضی پر نفی کے لیے آتے ہیں۔ مگر شرطِ دخولِ لا بر ماضی این است، مگر لا کے ماضی پر داخل ہونے کی شرط یہ ہے، توجہ ہے؟ مگر شرطِ دخولِ لا، لیکن لا کے داخل ہونے کی شرط، بر ماضی، کس پر؟ ماضی پر، این است، یہ ہے کہ بے تکرار نہ می آید، کہ بغیر تکرار کے نہیں آتا، یعنی تکرار ہوگا، یعنی دو دفعہ آئے گا، دو دفعہ آئے گا۔
چوں فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى، فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى، دیکھا؟ صدّقَ ماضی ہے، اس پر لا داخل ہوا، لیکن اس کے لیے کیا شرط ہے؟ تکرار، اسی لیے آگے پھر آیا: وَلَا صَلَّى، دوبارہ لا آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فَلَا صَدَّقَ، نہ تو وہ ایمان لایا، وَلَا صَلَّى، اور نہ نماز پڑھی۔
نفی فعل ماضی معروف، ماضی معروف کی نفی بھئی۔ جی، کیسے گردان ہوگی؟ ما فعَلَ، ما فعَلَا، تا آخر ایضاً، یہ بھی آخر تک۔ ایضاً کا معنی: بھی۔ تا آخر ایضاً، یہ بھی آخر تک اسی طرح ہوگی۔ ما فعل کس طرح ہوگی؟ ما فعَلَ، ما فعَلَا، ما فعَلُوا، ما فعَلَت، ما فعَلَتَا، ما فعَلنَ، ما فعَلتَ، ما فعَلتُمَا، ما فعَلتُم، ما فعَلتِ، ما فعَلتُنَّ، پھر ما فعلتما، یعنی صاحبِ الموسیقیٰ نے بتایا کہ کتنے صیغے ہیں؟ 13 صیغے ہیں، تو وہ صیغے ہم شمار کر رہے ہیں، گردان نہیں، گردان جب آپ پڑھیں گے اس میں تو آپ پڑھیں گے دوبارہ بھئی، لیکن یہاں صرف صیغے شمار کر رہے ہیں۔ ما فعَلتِ، ما فعَلتُنَّ، ما فعَلتُ، ما فعَلنَا۔
اور دیکھیے، نفی فعل ماضی معروف، اس میں بھی عین پر تینوں حرکتیں: ما فعِلَ کے ساتھ بھی اسی طرح ہوگی گردان اور ما فعُلَ کے ساتھ بھی۔ لا فعُلَ، لا فعَلَ، لا فعَلَا، تا آخر، آخر تک یہ بھی اسی طرح ہے۔
نفی فعل ماضی مجہول، فعل ماضی مجہول کی نفی بھئی۔ ما فعِلَ تا آخر، ما فعِلَ سے آخر: ما فعِلَ، ما فعِلَا، ما فعِلُوا، جی، آخر تک۔ اور لا فعِلَ تا آخر، یہ بھی آخر تک بھئی۔ مضارع را یازدہ صیغہ است، آگے مضارع کی بحث شروع ہو رہی ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ چلیے بس بھئی! اب ذرا اردو کی کتاب میں جلدی جلدی دیکھ لیں، اسی میں اس کا سارا خلاصہ بھی آ جائے گا بھئی۔
جی، اسم کی تین قسمیں ہیں: مصدر، مشتق، جامد۔ مل گیا سبق بھئی کتاب میں؟ جی۔ مصدر وہ ہے کہ جو کسی کام پر دلالت کرے اور اس کے فارسی ترجمہ کے آگے 'دن' یا 'تن' ہو، جیسے الضربُ زدن، القتلُ کشتن۔ زدن کا معنی مارنا، کشتن کا معنی قتل کرنا۔ اور مشتق وہ ہے جو فعل سے نکلا ہو، جیسے ضاربٌ و منصَرٌ، یہ کتابت کی غلطی ہے منصَر نہیں منصرٌ، یا منصرٌ، جو بھی آپ کر لیں، بس مشتق کی مثال بنا رہے ہیں۔ اور جامد وہ ہے کہ جو نہ مصدر ہو اور نہ مشتق، جیسے رجلٌ و جعفرٌ۔
مصدر اور مشتق بھی اپنے فعل کی طرح ثلاثی، رباعی، مجرد اور مزید فیہ ہوتے ہیں۔ نیز صحیح وغیرہ 10 قسمیں ان میں بھی ہوتی ہیں۔ اور جامد کی باعتبار حروف کی تعداد کے چھ قسمیں ہیں: ثلاثی مجرد جیسے رجل، ثلاثی مزید فیہ جیسے حمار، رباعی مجرد جیسے جعفر، رباعی مزید فیہ جیسے قرطاس، یا خماسی جیسے سفرجل، یا خماسی مزید فیہ جیسے قبعثرى۔ دیکھو یہاں صحیح لکھا ہوا ہے بھئی، قبعثرى۔ اور انواعِ حروف کے اعتبار سے اس کی بھی 10 ہی قسمیں ہیں۔
چونکہ فعل میں تصریفات بہت ہوتی ہیں، یعنی گردانیں بہت ہوتی ہیں، اور اسم میں کم، اور حرف میں بالکل نہیں ہوتیں، اس لیے صرفی کے پیشِ نظر عموماً فعل ہوتا ہے، یعنی صرفی کی توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ فعل کی طرف۔
بابِ اول، صیغوں کے بیان میں جو دو فصلوں پر مشتمل ہے۔ فصلِ اول، گردان ہائے افعال کے بیان میں، فعل کی گردانوں کے بیان میں۔ فعلِ ماضی معروف ثلاثی مجرد تین وزن پر آتا ہے: فعَلَ جیسے ضربَ، اور فعِلَ جیسے سمعَ، اور فعُلَ جیسے کرُمَ۔ اور فعَلَ کا مضارع معروف کبھی یفعُلُ آتا ہے جیسے نصرَ ینصُرُ، اور کبھی یفعِلُ جیسے ضربَ یضرِبُ، اور کبھی یفعَلُ جیسے فتحَ یفتَحُ۔ اور فعِلَ کا مضارع یفعَلُ آتا ہے جیسے سمعَ یسمَعُ، اور کبھی یفعِلُ بھی آ جاتا ہے جیسے حسِبَ یحسِبُ۔ اور فعُلَ کا مضارع صرف یفعُلُ ہی آتا ہے جیسے کرُمَ یکرُمُ۔ اور تینوں وزنوں کا ماضی مجہول فعِلَ کے وزن پر اور مضارع مجہول یفعَلُ کے وزن پر آتا ہے۔ مذکورہ تفصیل سے چھ باب حاصل ہو گئے، چھ باب حاصل ہو گئے۔
اولاً افعال و مشتقات کے صیغوں کا بیان ہوگا۔ افعال و، بھئی یہ افعال نہ پڑھنا، افعال تو یہ جمع ہے، جمع ہے، مشتقات، یہ بھی کیا ہے؟ جمع۔ تو افعال ہو تو یہ تو مصدر ہے، یہ تو مفرد ہے، اور جمع میں الف پر کیا پڑھتے ہیں؟ زبر۔ تو اولاً افعال و مشتقات کے صیغوں کا بیان ہوگا، پھر ابواب کی تفصیل ذکر کی جائے گی۔
ماضی کے 13 صیغے آتے ہیں۔ اثبات فعل ماضی معروف، وہی گردانیں آ گئیں بھئی: فعَلَ، فعَلَا، فعَلُوا، فعَلَت، فعَلَتَا، فعَلنَ، فعَلتَ، فعَلتُمَا، فعَلتُم، فعَلتِ، فعَلتُنَّ، فعَلتُ، فعَلنَا۔ عین میں تینوں حرکات ہیں۔ پہلے تین صیغے مذکر غائب کے واسطے ہیں، پہلا واحد، دوسرا تثنیہ، تیسرا جمع۔ ان کے بعد اسی ترتیب سے تین صیغے مونث غائب کے ہیں۔ پھر تین صیغے مذکر حاضر کے ہیں، لیکن اس کا تثنیہ مونث حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ جو مذکر کے جو تین صیغے ہیں، اس کا تثنیہ مونث حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ پھر دو صیغے مونث حاضر کے ہیں، اول واحد اور دوم جمع۔ پھر دو صیغے متکلم کے ہیں، پہلا واحد مذکر اور مونث دونوں کے لیے، اور دوسرا تثنیہ مذکر و مونث اور جمع مذکر و مونث کے لیے۔
اثبات فعل ماضی مجہول: فعِلَ، فعِلَا، فعِلُوا، فعِلَت، فعِلَتَا، فعِلنَ، فعِلتَ، فعِلتُمَا، فعِلتُم، فعِلتِ، فعِلتُنَّ، فعِلتُ، فعِلنَا۔
ماضی پر نفی کے واسطے ما اور لا آتا ہے، لیکن ماضی پر دخولِ لا کی شرط یہ ہے کہ بغیر تکرار کے نہیں آتا، جیسے فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى، نہ تو وہ ایمان لایا اور نہ اس نے نماز پڑھی۔ صدّقَ تصدیق سے ہے، ایمان لانا۔ اور صلّى، نماز۔
نفی فعل ماضی معروف: ما فعَلَ، ما فعَلَا تا آخر ایضاً، لا فعَلَ، لا فعَلَا تا آخر۔ اس میں بھی عین پر تینوں حرکتیں ہیں بھئی۔
نفی فعل ماضی مجہول: ما فعِلَ، ما فعِلَا تا آخر ایضاً، لا فعِلَ، لا فعِلَا تا آخر۔
مضارع کے 11 صیغے ہیں۔ بس بھئی بس۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔