Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-008

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی کتاب میں سبق: برائے تاکید در فعلِ مضارع، لامِ تاکید مفتوحہ و نونِ تاکید ثقیلہ و خفیفہ می آید۔ لام در اول و نون در آخر داخل می شود۔ و ثقیلہ مشدد باشد و در ہمہ سیغ می آید۔ و خفیفہ ساکن و در تثنیہ و جمع مونث نمی آید و در باقی سیغ می آید۔ اچھا بھئی، پہلے ذرا کل کے سبق کا خلاصہ سن لیں بھئی۔ کل آپ نے پڑھا تھا کہ "لن ناصبہ" جو ہے، وہ فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس میں نفی پیدا کر دیتا ہے اور اسے مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے، اور اس میں پھر حال والا معنی باقی نہیں رہتا۔ اور یہ لن ناصبہ کیا عمل کرتا ہے؟ نصب، پانچ صیغوں میں نصب دیتا ہے، سات صیغے جن میں نونِ اعرابی ہے، وہ اس نونِ اعرابی کو گرا دیتا ہے، اور دو صیغے جو جمع مونث کے ہیں، ان میں کوئی عمل نہیں کرتا کیونکہ یہ دو صیغے کیا ہیں؟ مبنی ہیں۔ تو "لَنْ يَضْرِبَ"، اس کا کیا معنی ہوگا؟ "لَنْ يَضْرِبَ"، وہ ہرگز نہیں مارے گا، دیکھا مستقبل والا ترجمہ کرنا ہے، "لَنْ يَضْرِبَ"۔ اور اسی طرح "أَنْ"، "كَيْ" اور "إِذَنْ" بھی یہی عمل کرتے ہیں۔ "أَنْ" فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے، مصدر کے معنی میں۔ "أَنْ يَضْرِبَ" کا کیا معنی ہوگا؟ "أَنْ يَضْرِبَ"، "أَنْ" کیا عمل کرتا ہے؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ جی، تو "يَضْرِبُ" کا کیا معنی؟ "يَضْرِبُ" صیغے کے مطابق ترجمہ کرو، مارتا ہے یا مارے گا، وہ ایک مرد۔ اب اسی پر "أَنْ" آگیا، "أَنْ يَضْرِبَ"، اب اس کو مصدر بنا دو: اس ایک مرد کا مارنا۔ اس ایک مرد کا مارنا۔ اچھا، اور صیغہ لے لو۔ "يَضْرِبُ يَضْرِبَانِ يَضْرِبُونَ"، "أَنْ يَضْرِبُوا"، ان سب مردوں کا مارنا۔ "أَنْ تَضْرِبَ"، اس ایک عورت کا مارنا۔ اسی طرح مخاطب کا صیغہ لے آؤ، "أَنْ تَضْرِبَ"، تو ایک مرد، تو تو مخاطب، تو ایک مرد کا مارنا، یا یوں کہو تمہارا مارنا، تم ایک مرد کا مارنا۔ اچھا، اور صیغہ لے آؤ۔ "أَنْ نَضْرِبَ"، ہم سب کا مارنا۔ اور "أَنْ أَضْرِبَ"، متکلم، واحد متکلم کا صیغہ، "أَنْ أَضْرِبَ"، میرا مارنا۔ دیکھا مصدر والا ترجمہ کرنا ہے، اب بات پوری نہیں ہے۔ اور "كَيْ" کیا کرتا ہے؟ وہ سبب بیان کرتا ہے، ما بعد سبب ہوتا ہے ما قبل کا۔ "أَسْلَمْتُ كَيْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ"، تو یہ اسلام میں لایا تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں، تو اسلام لانے کا سبب کیا؟ جنت میں داخل ہونا، تو دیکھا وہ جو "كَيْ" کا ما بعد ہے، وہ ما قبل کے لیے سبب ہوتا ہے۔ اور "إِذَنْ"، میں نے بتایا تھا اس کو حرفِ جواب بھی کہتے ہیں، اس کو حرفِ جزا اور حرفِ مکافات بھی کہتے ہیں۔ مکافات کا کیا معنی؟ بدلہ، بدلہ۔ جزا کا بھی کیا معنی؟ بدلہ۔ تو یہ جزا اور مکافات کا ایک معنی۔ تو اس کو حرفِ جزا بھی کہتے ہیں، حرفِ مکافات بھی، کیونکہ یہ جواب میں آتا ہے، یہ بدلے میں آتا ہے۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی آپ سے کہتا ہے: "آتِيكَ غَدًا"، میں کل آپ کے پاس آؤں گا۔ تو آپ کہتے ہیں: "إِذَنْ أُكْرِمَكَ"، تو پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو دیکھا، یہ جزا اور بدلہ بیان کر رہا ہے کہ تب تو پھر میں آپ کا اکرام کروں گا، اور یہ نصب دیتا ہے فعلِ مضارع کو، "أَنْ"، "كَيْ" اور "إِذَنْ" تینوں۔ "أَنْ"، "أَنْ يَضْرِبَ"، "كَيْ يَضْرِبَ"، اور "إِذَنْ"، "إِذَنْ أَضْرِبَ"، "إِذَنْ أُكْرِمَكَ"، دیکھا "أُكْرِمَكَ" پر نصب آیا۔ اور اسی طرح "لَمْ" جازمہ ہے، وہ جزم دیتا ہے۔ تو "لَمْ" جازمہ فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور پانچ صیغوں میں جزم دیتا ہے، اور سات صیغوں سے نونِ اعرابی گرا دیتا ہے، اور دو صیغے جو جمع مونث کے ہیں، ان میں کوئی عمل نہیں کرتا۔ اور معنی کے اندر یہ عمل کرتا ہے کہ مضارع کو وہ ماضی منفی کے معنی میں کر دیتا ہے۔ ایک تو اس میں نفی والا معنی آگیا نہ کرنے والا، اور دوسرا ماضی کا معنی آگیا۔ "لَمْ يَضْرِبْ"، کیا معنی؟ نہیں مارا اس ایک مرد نے، دیکھو ماضی والا ترجمہ۔ "لَمْ أَضْرِبْ"، نہیں مارا میں نے، ماضی والا ترجمہ کریں گے۔ تو یہ "لَمْ" عمل کرتا ہے، اور اسی کی طرح "إِنْ" شرطیہ بھی عمل کرتا ہے۔ "إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ"، اگر آپ ماریں گے تو میں بھی ماروں گا۔ تو دیکھو، یہ "إِنْ" جو ہے دو جملوں پر داخل ہوتا ہے، ایک کو کہتے ہیں شرط اور ایک کو جزا، تو یہ حرفِ شرط ہے۔ اور یہ شرط کو بھی جزم دیتا ہے اور جزا کو بھی، "إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ"۔ اور اگر ان میں سے مضارع ایک ہو، مضارع، آپ کو میں نے بتایا تھا افعال میں سے معرب صرف کون سا فعل ہے؟ صرف فعلِ مضارع۔ ماضی بھی مبنی اور امر بھی، فعل تین قسم پر ہیں نا: ماضی، مضارع اور امر۔ ماضی بھی مبنی اور امر بھی مبنی، صرف فعلِ مضارع معرب ہے۔ اور مضارع کے دو صیغے جو ہیں، وہ مبنی ہیں، جو کون سے دو صیغے؟ جمع مونث والے۔ تو حرفِ شرط "إِنْ" جو ہے، یہ شرط اور جزا پر داخل ہوتا ہے۔ اگر دونوں فعلِ مضارع ہوں تو دونوں کو جزم دے گا، "إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ"۔ اور اگر صرف شرط فعلِ مضارع ہو یا صرف جزا فعلِ مضارع ہو، پھر؟ تو میں نے بتایا تھا کہ شرط "إِنْ" کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور جزا "إِنْ" سے دور ہوتی ہے۔ تو اگر قریب فعلِ مضارع آ جائے، قریب کیا معنی؟ یعنی شرط میں، شرط میں، تو پھر تو یہ لازمی جزم دے گا، "إِنْ تَضْرِبْ ضَرَبْتُ"۔ "إِنْ تَضْرِبْ"، تو یہاں "إِنْ تَضْرِبُ" رفع نہیں پڑھ سکتے، جزم ہی پڑھنا پڑے گا، یہ "إِنْ" جزم دے گا۔ لیکن اگر صرف جزا فعلِ مضارع آئے تو پھر وہاں رفع بھی جائز اور جزم بھی جائز ہے، جیسے "إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبْكَ"، "إِْنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبْكَ"، جزم بھی جائز "أَضْرِبْكَ"، اور اس پر رفع بھی جائز، "إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبُكَ"۔ توجہ ہے؟ جی۔ کیا؟ "إِنْ" کیا کرتا ہے؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ شرط اور جزا دونوں فعلِ مضارع ہوں تو دونوں کو جزم دے گا۔ اگر صرف شرط فعلِ مضارع ہے تو پھر بھی اس کو جزم ضرور دے گا۔ اور اگر صرف جزا جو ہے، وہ کیا ہے؟ فعلِ مضارع، تو پھر اس میں اختیار ہے، جزم بھی جائز اور رفع بھی جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ مثلاً جزم کی جو جو حالتیں ہیں، وہ یہاں آ جائیں گی۔ بعض صورتوں میں جزم کے اندر نونِ اعرابی گر جاتا ہے، تو یہاں بھی نونِ اعرابی کو یہ گرائے گا بھئی۔ اچھا، اسی طرح لامِ امر ہے اور لاۓ نہی ہے، وہ بھی کیا کرتے ہیں؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتے ہیں بھئی، جزم۔ اور انہوں نے کل آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر کسی فعل کے آخر میں حرفِ علت ہو اور اس پر کوئی بھی جزم دینے والا حرف آ جائے تو آخر سے حرفِ علت کو گرا دے گا۔ اب آئیے آج کے سبق میں بھئی۔ آج ہم نونِ خفیفہ اور نونِ ثقیلہ کے بارے میں پڑھیں گے۔ نونِ خفیفہ اور ثقیلہ، یہ فعلِ مضارع میں آتے ہیں اور اس میں تاکید پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نون ثقیلہ کہلاتا ہے اور ایک نون خفیفہ۔ ثقیل کا معنی وزنی اور خفیف کا معنی ہلکا۔ یہ جو نونِ ثقیلہ ہے، دراصل یہ نونِ مشدد ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ تو گویا یہ دراصل دو نون، کیونکہ حرفِ مشدد کتنے حروف ہوتے ہیں دراصل؟ دو۔ تو یہ دو حروف ہیں۔ اور نونِ خفیفہ جو ہے، وہ ایک نون ہے۔ تو لہٰذا اب آپ مجھے بتائیے، ایک حرف کی ادائیگی زبان پر آسان ہے یا دو کی ادائیگی آسان ہے؟ ظاہر سی بات ہے، ایک حرف کی ادائیگی زبان پر آسان ہے، اس لیے اس کو کہتے ہیں نونِ خفیفہ، وہ زبان پر ہلکا ہے۔ اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ نونِ ثقیلہ، کیونکہ وہ حرفِ مشدد ہے، دو حروف ہیں، زبان پر ادائیگی دشوار ہے۔ اور یہ یاد رکھو، یہ فعلِ مضارع میں تاکید پیدا کرتے ہیں اور اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتے ہیں۔ کس کے ساتھ؟ مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ نونِ خفیفہ اور ثقیلہ جب فعلِ مضارع کے ساتھ جڑیں گے، تو اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیں گے، اب فعلِ مضارع میں حال والا ترجمہ نہیں کرنا بھئی۔ اور یاد رکھو، جب یہ فعلِ مضارع کے ساتھ جڑیں گے، تو ان کے ساتھ ساتھ ایک لام بھی فعلِ مضارع کے شروع میں جڑ جائے گا، لامِ مفتوح بھئی۔ جیسے "لَيَضْرِبَنَّ"۔ "يَضْرِبُ" تھا نا، "يَضْرِبُ"۔ تو شروع میں کیا لے آئے؟ لامِ مفتوح، یعنی ایسا لام جس پر زبر ہے۔ اور آخر میں نونِ ثقیلہ ملا دیا۔ اور با پر، جو آخری حرف ہے، اس پر زبر لے آئے، "لَيَضْرِبَنَّ"، "لَيَضْرِبُنَّ" نہیں، بلکہ "لَيَضْرِبَنَّ"۔ اور یہ کلام میں تاکید، میں نے بتایا تاکید اور زور پیدا کرتے ہیں۔ "لَيَضْرِبَنَّ"، "يَضْرِبُ" کا کیا معنی تھا؟ وہ پٹائی کرتا ہے یا کرے گا۔ اور اب "لَيَضْرِبَنَّ"، وہ ضرور بالضرور پٹائی کرے گا، دیکھو زور آگیا بات میں، وہ ضرور بالضرور کیا کرے گا؟ پٹائی کرے گا۔ بات میں تاکید آگئی، زور آگیا کہ ضرور پٹائی کرے، اور مستقبل کا معنی دیکھو، ضرور وہ ضرور بالضرور پٹائی کرے گا۔ تو میں نے کیا بتلایا؟ کہ فعلِ مضارع میں تاکید کے لیے ایک نونِ خفیفہ آتا ہے اور ایک نونِ ثقیلہ۔ اور یہ فعلِ مضارع کے آخر میں جڑیں گے، اور ان کے ساتھ ساتھ فعلِ مضارع کے شروع میں لامِ تاکید بھی جڑے گا بھئی، لامِ تاکید۔ یہ لام بھی تاکید کے لیے، اور آخر میں نون بھی تاکید کے لیے۔ اور پھر اس کا ترجمہ صرف کون سا کریں گے؟ مستقبل والا کریں گے، مستقبل والا۔ اور یاد رکھیے، یہ نونِ ثقیلہ جو ہے، یعنی نونِ مشدد، یہ تو سارے صیغوں میں آئے گا۔ لیکن نونِ خفیفہ جو ہے، وہ سارے صیغوں میں نہیں آئے گا۔ وہ تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں آئے گا، اور جمع مونث کے صیغوں میں بھی نہیں آئے گا۔ تثنیہ کے کتنے صیغے ہیں؟ چار۔ اور جمع مونث کے کتنے صیغے؟ دو۔ تو چار اور دو چھ، چھ صیغوں میں یہ نہیں آئے گا۔ تو 14 میں سے چھ نکل گئے، کتنے رہ گئے؟ اٹھ، تو اٹھ صیغوں میں یہ آئے گا بھئی۔ تو نونِ خفیفہ کس کس میں نہیں آئے گا؟ تثنیہ میں اور جمع مونث کے صیغوں میں نہیں آئے گا، صرف اٹھ صیغوں میں آئے گا، فعلِ مضارع کے اندر۔ جبکہ نونِ ثقیلہ تمام صیغوں کے اندر آئے گا بھئی۔ پھر اس میں آپ کو یہ بتلائیں گے۔ آپ کو بتلائیں گے۔ کہ جب فعلِ مضارع کے ساتھ لامِ تاکید آپ نے جوڑ دیا اور نونِ ثقیلہ تھا جوڑ دیا، تو نونِ ثقیلہ سے پہلے والے حرف پر زبر لے آؤ۔ کیا لے آؤ؟ زبر لے آؤ اگر کوئی ضمیر ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہے۔ اور "يَضْرِبُ"، اس کے ساتھ کوئی ضمیرِ بارز ہے؟ فعلِ مضارع کی گردان ہے نا: "يَضْرِبُ يَضْرِبَانِ يَضْرِبُونَ"، تو پہلے صیغے سے ہم شروع کرتے ہیں کیسے جڑے گا۔ "يَضْرِبُ"، اس کے ساتھ کس کو جوڑنا ہے؟ نونِ ثقیلہ کو۔ لہٰذا شروع میں لامِ تاکید لے آؤ، "لَيَضْرِبُ"، اور پھر آخر میں کیا جوڑو؟ نونِ مشدد جوڑو، نونِ ثقیلہ جوڑو۔ اور جو آخری حرف با تھا، اس پر زبر لے آؤ، "لَيَضْرِبَنَّ"۔ "لَيَضْرِبَنَّ"۔ "يَضْرِبُ" کے آخر میں کوئی ضمیرِ بارز تھی؟ نہیں تھی، اسی لیے یہاں فتحہ آگیا، "لَيَضْرِبَنَّ"۔ اگلے صیغے میں آ جاؤ۔ اگلا صیغہ فعلِ مضارع کا کیا ہے؟ "يَضْرِبَانِ"، "يَضْرِبَانِ"، اب اس کے ساتھ ہم نے کس کو جوڑنا ہے؟ نونِ ثقیلہ کو، تو "يَضْرِبَانِ"، اب... اس کے آخر میں تو ایک نون پہلے ہی ہے نونِ اعرابی، تو نونِ اعرابی گر جائے گا نونِ اعرابی کو گرا دو اور اس کی جگہ کیا لے آؤ؟ نونِ ثقیلہ۔ کیا بن گیا؟ یَضْرِبَانِّ، یَضْرِبَانِّ۔ اور شروع میں لامِ مفتوح لے آؤ، کیا بن گیا؟ لَیَضْرِبَانِّ۔ پہلا صیغہ کیا تھا؟ لَیَضْرِبَنَّ اور اب کیا ہے؟ لَیَضْرِبَانِّ۔ دیکھو، یہ جو نونِ ثقیلہ ہے، توجہ ہے؟ نونِ ثقیلہ ہے، اس پر زبر آئے گا لَیَضْرِبَنَّ، دیکھو نون پر کیا پڑھ رہا ہوں میں؟ زبر۔ دو نون ہیں نا، پہلا تو ساکن، دو نون ہیں ان کا ادغام ہوا ہے اور پڑھوں گا کیا اس پر؟ زبر، لَیَضْرِبَنَّ۔ لیکن جب اس سے پہلے الف آ جائے تو پھر یہ نونِ تثنیہ کی طرح ہو گیا یا یوں کہو نونِ اعرابی کی طرح ہو گیا، اور نونِ اعرابی یا نونِ تثنیہ کس کے بعد آتا ہے؟ الف کے بعد، تو اس پر کیا پڑھتے ہیں؟ کسرہ۔ رَجُلٌ کی تثنیہ کیا ہے؟ رَجُلَانِ، دیکھو نون کے نیچے زیر ہے۔ اور اسی طرح یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ، نونِ اعرابی بھی جب الف کے بعد آتا ہے اس پر بھی کیا آتی ہے؟ اس پر بھی کسرہ آتا ہے، تو لہٰذا نونِ ثقیلہ بھی جب الف کے بعد آئے گا تو اس پر کیا پڑھیں گے؟ کسرہ۔ آگے چلیے بھئی! کتنے صیغے ہو گئے؟ دو، یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ۔ اب تیسرا صیغہ کیا ہے؟ یَضْرِبُونَ، یَضْرِبُونَ۔ یَضْرِبُونَ کے آخر میں نونِ اعرابی ہے اور واؤ کیا ہے؟ ضمیر، تو یہ نونِ اعرابی گر جائے گا اور نونِ ثقیلہ لے آؤ۔ اب پڑھو، اور لامِ تاکید بھی شروع میں لے آؤ، لَیَضْرِبُونَّ، لَیَضْرِبُونَّ۔ اب دیکھو، یہاں اجتماعِ ساکنین آ رہا ہے، واؤ بھی ساکن اور نونِ ثقیلہ، کتنے نون ہیں؟ دراصل دو نون ہیں کیونکہ مدغم ہیں نا، دو نون ہیں ان کا آپس میں کیا ہوا ہے؟ ادغام ہوا ہے۔ تو اس میں سے پہلا نون کیا ہے؟ ساکن۔ کیسے؟ لَیَضْرِبُونَّ، دیکھا؟ آپ علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھو، لَیَضْرِبُونْ نَ، پہلا نون ساکن، دوسرے پر زبر۔ تو پہلا نون بھی ساکن اور اس سے پہلے واؤ بھی ساکن، تو اجتماعِ ساکنین آیا بھئی۔ کیا آ گیا؟ دو ساکن جمع ہو گئے اور آپ پڑھ چکے کہ اجتماعِ ساکنین دو قسم پر ہے، ایک اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ اور ایک اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ۔ اچھی طرح سمجھ لیں۔ اجتماعِ ساکنین یاد رکھو بھئی، اجتماعِ ساکنین، دو ساکن جمع ہو جائیں، دو ساکن جمع ہو جائیں، یہ دو قسم پر ہے۔ ایک اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ اور ایک اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ۔ یہ جو اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہوتا ہے، یہ جائز ہوتا ہے، دونوں ساکنوں کو برقرار رکھیں گے اور اسی طرح پڑھیں گے۔ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ، دونوں ساکنوں کو برقرار رکھیں گے اور اسی طرح پڑھیں گے۔ اور ایک اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ ہے، وہ جائز نہیں ہے، وہاں دونوں کو ہم ساکن نہیں رہنے دیں گے، وہاں پھر ایک کو گرا دیتے ہیں یا ایک کو حرکت دے دیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ اجتماعِ ساکنین کتنی قسم پر؟ دو۔ ایک علیٰ حدہٖ اور یہ جائز ہے، اس میں دونوں ساکن کو ساکن ہی رکھیں گے اور اسی طرح پڑھیں گے۔ اور ایک اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ اور یہ جائز نہیں، یہاں اس صورت میں اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ میں دو ساکن جمع ہو گئے لیکن ان کا جمع رکھنا تو جائز نہیں، پھر کیا کریں گے؟ یا تو اول کو گرا دیں گے یا ایک کو حرکت دے دیں گے، یعنی دونوں کو ساکن نہیں رہنے دیں گے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دونوں کو ساکن نہیں رہنے دیں گے۔ کیا مثال اس کی؟ جیسے دیکھو لفظِ فَارٌّ، فَرَّ یَفِرُّ فَرًّا فَهُوَ فَارٌّ۔ دیکھو الف بھی ساکن اور آگے را مشدد ہے اور را مشدد دراصل کتنی را ہیں؟ دو، تو پہلی کیا؟ ساکن۔ تو پہلی را بھی ساکن اور الف بھی ساکن، تو یہ کیا ہوا؟ اجتماعِ ساکنین۔ لیکن آپ پھر بھی پڑھتے ہیں فَارٌّ، دونوں ساکن پڑھ رہے ہیں۔ معلوم ہوا یہ کون سا اجتماعِ ساکنین ہے؟ یہ علیٰ حدہٖ ہے، یہ جائز ہے، اس میں دونوں کو کیا کرتے ہیں؟ ساکن ہی رکھتے ہیں۔ اچھا اب اس کو پہچانیں گے کیسے؟ ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہیں پر اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے یا اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ ہے؟ تو یاد رکھو، اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ وہ ہے جس میں پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، تصغیر کی یا ہو۔ پہلا ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، تصغیر کی یا ہو، تصغیر کی یا ہو۔ تصغیر جانتے ہو؟ تصغیر کا خاص صیغہ ہوتا ہے، عموماً چھوٹے کا معنی بنانے کے لیے، اور بھی مقاصد ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر چھوٹے کا معنی ادا کرنے کے لیے یہ یا لاتے ہیں۔ جیسے کِتَابٌ، کِتَابٌ کا کیا معنی؟ کتاب، لیکن اسی کی تصغیر، تصغیر آتے ہیں فُعَیْلٌ وزن پر، فُعَیْلٌ، تو یہ کیا بن جائے گی؟ کُتَیْبٌ۔ کِتَابٌ کی تصغیر کیا؟ کُتَیْبٌ، دیکھو یا لے آئے، یہ یائے تصغیر ہے۔ تصغیر کے لیے یہ یا لائے ہیں، یہ کیا کہلاتی ہے؟ یائے تصغیر۔ پھر زبان سے دہراؤ، یہ یا کس کے لیے آئی ہے؟ تصغیر کے لیے، تصغیر کا صیغہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس میں مصغر ہے مصغر، یہ مصغر ہے۔ اور جو مصغر نہ ہو وہ اس میں مکبر کہلاتا ہے، تو کِتَابٌ گویا کیا ہو گیا؟ اسمِ مکبر، اور کُتَیْبٌ کیا ہوئی اس کی؟ اس کی تصغیر ہوئی یا یوں کہو وہ اسمِ مصغر ہے مصغر ہے۔ اچھا کُتَیْبٌ میں جو یا آئی یہ یا کون سی ہے؟ تصغیر والی یا ہے، اور اس سے پہلے زبر ہوتی ہے، کُتَیْبٌ دیکھو۔ یہ یا حرفِ مدہ نہیں ہے، حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ آپ تو صرفی ہیں بھئی، جلدی بولو! واؤ، الف اور یا، ہر وقت ان کو حرفِ مدہ کہتے ہیں؟ نہیں، کب کہتے ہیں؟ جب ان کے ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو، یا سے پہلے زیر ہو تو کہیں گے یہ یا مدہ ہے، مُبِیْنٌ دیکھو، اس میں یا سے پہلے زیر ہے۔ اور اگر الف سے پہلے زبر ہو، الف سے پہلے تو آتا ہی ہمیشہ زبر ہے، تو الف سے پہلے زبر ہو یہ تو الف کیا کہلائے گا؟ حرفِ مدہ، جیسے کِتَابٌ، دیکھو یہ الف سے پہلے تا پر کیا ہے؟ زبر، تو یہ الف کیا ہے؟ حرفِ مدہ۔ اور واؤ سے پہلے ضمہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ مدہ، مُسْلِمُونَ۔ تو الف سے پہلے زبر، واؤ سے پہلے ضمہ اور یا سے پہلے کسرہ، تو یہ حروفِ مدہ کہلاتے ہیں۔ بھئی معنی سے ہی پتہ چل رہا ہے، مد کا معنی ہے کھینچنا، لمبا کرنا۔ تو یہ بھی اس حرکت کو لمبا کر دیتے ہیں، مُبِیْنٌ، یا سے پہلے کیا ہے؟ کسرہ ہے۔ یا نے کیا فائدہ دیا؟ اسی کسرہ کو آپ نے لمبا کر دیا، مُبِیْنٌ۔ اگر یہ یا نہ ہوتی کیسے پڑھتے؟ مُبِنْ، مُبِنْ، لیکن اب یا ہے دیکھو اسی کسرہ کو اب لمبا کروں گا، مُبِیْنٌ، دیکھا؟ تو یہ حرفِ مدہ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مدہ کا معنی ہے کھینچنا، لمبا کرنا، یہ اپنے سے ماقبل والی حرکت کو کیا کرتی ہے؟ کھینچ کر لمبا کر دیتی ہے۔ اسی طرح مُسْلِمُونَ، مُسْلِمُونَ، یہ واؤ کیا ہے؟ حرفِ مدہ، یہ کیا فائدہ دیتا ہے؟ ماقبل والی حرکت کو کھینچ کر لمبا کر دے گا جب ضمہ ہو، مُسْلِمُونَ۔ اگر واؤ نہ ہوتا کیسے پڑھتے؟ مُسْلِمُنْ، اب واؤ ہے تو کیا پڑھ رہے ہیں؟ مُسْلِمُون، دیکھا؟ وہی ضمہ لمبا کر دیا۔ اور کِتَابٌ، کِتَابٌ میں یہ الف کیا کام کر رہا ہے؟ فتحہ کو لمبا کر رہا ہے، اگر الف نہ ہوتا کیا پڑھتے؟ کِتَبْ، کِتَبْ، اور اب الف آ گیا تو کیا پڑھ رہے ہیں؟ کِتَابٌ، دیکھا؟ تو یہ حروفِ مدہ کیوں کہلاتے ہیں؟ کیونکہ جب ان کے ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو، یعنی الف سے پہلے زبر، یا سے پہلے کسرہ اور واؤ سے پہلے ضمہ ہو، تو یہ انہی کو لمبا کر دیتے ہیں، کھینچ دیتے ہیں، اس لیے ان کو حروفِ مدہ کہتے ہیں۔ تو الف سے پہلے تو ہمیشہ زبر ہی آئے گی، فتحہ ہی آئے گا، تو وہ ہمیشہ حرفِ مدہ ہی ہوگا۔ تو میں بات بیان کر رہا تھا اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کی۔ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ یہ ہے، دو ساکن جمع ہو گئے لیکن ان میں سے جو پہلا ہے وہ حرفِ مدہ ہے یا یائے تصغیر ہے، تصغیر کی یا ہے۔ پہلا ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن مدغم ہو۔ ثانی ساکن کیا ہو؟ مدغم ہو۔ یاد رکھو دو حرف ایک جنس کے آئیں تو ہم ان کا آپس میں ادغام کرتے ہیں، ان کو ملا دیتے ہیں۔ جیسے ابھی یہ نونِ مشدد، یہ نونِ مشدد یہ کتنے نون ہیں؟ دو نون۔ یہ جو پہلا نون ہے اس کو دوسرے میں ہم نے ملا دیا، تو پہلے جو یہ جو حرفِ مشدد ہوتا ہے دو حرف ہوتے ہیں، ان میں سے پہلے کو کہتے ہیں مدغم جس کا ادغام کیا گیا، اور دوسرے کو کہتے ہیں مدغم فیہ جس کہ اس میں کیا کیا گیا؟ ادغام کیا گیا۔ تو نونِ مشدد کتنے نون ہیں؟ دو۔ پہلا نون ساکن وہ کیا کہلائے گا؟ مدغم، اور دوسرا نون مدغم فیہ۔ مدغم جو ہوتا ہے وہ ساکن ہوتا ہے۔ مدغم کیا ہوتا ہے؟ ساکن ہوتا ہے، یعنی پہلا حرف حرفِ مشدد میں سے حرفِ مشدد دراصل دو حرف ہوتے ہیں اور ان میں سے پہلا کیا ہوتا ہے؟ ساکن، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ مدغم۔ بات سمجھ آ رہی ہے؟ پہلے کو کیا کہتے ہیں؟ مدغم۔ تو بات چل رہی تھی اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کی، اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ میں کتنے ساکن جمع ہوں گے؟ دو ساکن، لیکن ان کو اسی طرح ساکن رکھیں گے، ساکن پڑھنا ہی جائز ہے، اور وہ کون سے دو ساکن ہیں؟ کہ پہلا ساکن کیا ہو؟ پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن مدغم ہو، یعنی اس میں آگے شد آ رہا ہو بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے فَارٌّ، فَارٌّ، یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ الف بھی ساکن اور را مشدد میں سے پہلی را بھی ساکن۔ اب دیکھو ہم دیکھنا چاہتے ہیں یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے یا نہیں، اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کے بارے میں کیا بتلایا؟ پہلا ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر۔ پوری زبان سے دہراؤ، میں آپ کے لیے تکرار کروا رہا ہوں۔ فَارٌّ، پہلا ساکن کیا؟ الف، اور حرفِ مدہ ہے یا نہیں؟ کیوں؟ حرفِ مدہ کیوں ہے؟ کیونکہ اس الف سے پہلے کیا ہے؟ زبر ہے، اور الف تو ہوتا ہی حرفِ مدہ ہے ہمیشہ۔ اور دوسرا ساکن کیا ہو؟ مدغم ہو، اور فَارٌّ میں بھی پہلی را کیا ہے؟ مدغم ہے جو ساکن ہے، فَارٌّ، دیکھا؟ غور کر لیں، دو ساکن ہیں، فَارٌّ۔ تو فَارٌّ میں اول ساکن حرفِ مدہ ہے اور دوسرا ساکن مدغم ہے، تو یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے۔ پھر دہراؤ، اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کسے کہتے ہیں؟ کہ پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو اور ثانی ساکن مدغم ہو، اور یہ جائز ہے اور اس میں دونوں ساکن اسی طرح پڑھیں گے بھئی۔ دوسری مثال لے لو جس میں یائے تصغیر آئے، خَاصَّةٌ، خَاصَّةٌ، خَاصَّةٌ یعنی خصوصیت۔ خَاصَّةٌ، یہاں بھی اجتماعِ ساکنین ہے اور کون سا ہے؟ علیٰ حدہٖ یا علیٰ غیرِ حدہٖ؟ علیٰ حدہٖ ہے بھئی، پہلا ساکن الف مدہ ہے اور ثانی ساکن صاد جو ہے وہ...مدغم ہے۔ اسی کی تصغیر لے آؤ، خویصة۔ خویصة، صاد مشدد ہے، خویصة۔ آپ دیکھو، خویصة، چھوٹا خاصہ۔ کتاب کا کیا معنی؟ کتاب۔ اور کتیب، چھوٹی کتاب۔ چھوٹی کتاب، یعنی اردو میں کہو کتابچہ۔ بڑی کتاب ہو تو کہیں گے کتاب، چھوٹی سی ہو تو کہیں گے کتابچہ ہے۔ عربی میں کیا کہیں گے؟ بڑی ہو تو کتاب، چھوٹی سی ہو تو کتیب، کتیب۔ اچھا! تو جی، خاصۃ، اس کی مؤنث کیا... اس کی تصغیر کیا آئی؟ خویصۃ۔ اور یہ اس میں دیکھو، خویصۃ، یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے۔ کس طرح؟ یا بھی ساکن اور آگے پہلا صاد بھی ساکن۔ صاد مشدد ہے نا۔ اور ہم نے کیا کہا تھا اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ میں کیا ضروری؟ پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو۔ یہ خویصۃ، یا سے پہلے واؤ پر کیا ہے؟ زبر۔ تو یہ یائے مدہ تو نہیں لیکن یائے تصغیر ہے۔ اور دوسرا حرف کیا ہے؟ مدغم ہے۔ تو یہ کیا ہوا؟ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیں، اکثر علماء کے نزدیک وحدتِ کلمہ بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں ساکن ایک ہی کلمے میں ہونے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ پہلا حرف ایک کلمے میں ہو اور اگلا حرف دوسرے کلمے میں ہو، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ تو اکثر علماء کیا فرماتے ہیں؟ وحدتِ کلمہ بھی ضروری، یعنی یہ دونوں ساکن کہاں آنے چاہئیں؟ ایک کلمے میں، پھر ہی یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہوگا۔ اگر ایک ساکن ایک کلمے میں ہے، دوسرا ساکن دوسرے کلمے میں ہے، تو وحدتِ کلمہ نہیں۔ وحدت کا کیا معنی؟ ایک ہونا، ایک ہونا۔ وحدتِ کلمہ یعنی ایک کلمہ ہو۔ مثلاً دو لفظ ہیں، یہ دو لفظ آ گئے بھئی اکٹھے۔ پہلے کے آخر میں کیا آیا؟ ساکن۔ اور اگلے کے شروع میں کیا آ گیا ایسی صورت بن گئی، ساکن۔ تو اجتماعِ ساکنین تو ہے، لیکن یہ علیٰ حدہٖ نہیں، کیونکہ یہ دو کلموں میں دو ساکن جمع ہو رہے ہیں۔ ہم نے تو کیا کہا تھا؟ تو بہرحال، اکثر علماء فرماتے ہیں وحدتِ کلمہ بھی ضروری ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کے لیے وحدتِ کلمہ ضروری نہیں۔ اب دُہراؤ بھئی! اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کسے کہتے ہیں؟ کہ پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن مدغم ہو، اور نیز کلمہ بھی ایک ہی ہو۔ ایک ہی ہو۔ اس کے علاوہ باقی جتنی صورتیں ہیں، وہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ کی ہیں۔ تو اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ میں دونوں ساکنوں کو پڑھنا جائز، جیسے خاصۃ، دونوں ساکن میں پڑھ رہا ہوں یا نہیں پڑھ رہا؟ خویصۃ، کیا کر رہا ہوں میں؟ دونوں ساکن پڑھ رہا ہوں۔ فارٌّ، میں کیا کر رہا ہوں؟ دونوں ساکن پڑھ رہا ہوں۔ جبکہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ وہ ہے جس میں دونوں ساکنوں کو برقرار نہیں رکھتے۔ برقرار نہیں رکھتے، ایک کو یا گرا دیتے ہیں یا اس کو حرکت دے دیتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ یا حرکت دے دیتے ہیں۔ ہاں! تو آپ نے جب بھی دیکھنا ہو کہ یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے یا علیٰ غیرِ حدہٖ ہے، تو یہ علیٰ حدہٖ والی شرائط دیکھ لینا۔ کہ پہلا ساکن کیا ہے؟ حرفِ مدہ ہے یا یائے تصغیر، اور ثانی ساکن کیا ہے؟ مدغم ہے، اور نیز وحدتِ کلمہ بھی ہے، کلمہ بھی ایک ہے، تو پھر آپ سمجھ جاؤ یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو سمجھ جاؤ وہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ ہے۔ وہاں پھر دونوں ساکنوں کو ہم رہنے نہیں دیں گے۔ ایک ساکن کو یا تو گرا دیں گے یا ایک کو حرکت دے دیں گے۔ کہاں گرائیں گے اور کہاں حرکت دیں گے، تو یاد رکھو۔ دو ساکن جمع ہو گئے۔ کیا جمع ہوئے؟ اور ان میں سے اگر پہلا حرفِ مدہ ہو، کیا ہو؟ اور اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ ہے، تو اس حرفِ مدہ کو گرا دو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر دو ساکن جمع ہوئے، اور پہلا کیا ہے؟ مدہ۔ بھئی! جب بھی حرفِ مدہ ہے، وہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ نہیں ضروری بھئی۔ علیٰ حدہٖ میں تو ضروری ہے پہلا ساکن مدہ ہو اور ثانی مدغم بھی ہو اور کلمہ بھی کیا ہو؟ ایک۔ تو اگر تین شرطوں میں سے کوئی ایک بھی شرط پوری نہ ہوئی، رہ گئی، تو پھر تو وہ اجتماعِ ساکنین کیا بن جائے گا؟ علیٰ غیرِ حدہٖ۔ دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، اِضْرِبِ الرَّجُلَ۔ اِضْرِبْ، تو پٹائی کر الرَّجُلَ، اس آدمی کی۔ تو پٹائی کر اس آدمی کی۔ اب جب میں ملا کے پڑھوں گا، تو اِضْرِبْ، با کیا ہے؟ ساکن۔ اِضْرِبْ کی با کیا ہے؟ اور الرَّجُلُ، الف لام تو درمیان میں گر جاتا ہے۔ تو الف گر گیا۔ اور لام کو را کر کے را میں ادغام کیا۔ لام کو را کر کے را میں ادغام کیا۔ جب ادغام کیا، تو را مشدد بن گئی۔ اور را مشدد دراصل کتنی را ہیں؟ دو را۔ اور ان میں سے پہلی کیا ہے؟ ساکن ہے۔ تو اِضْرِبْ کے آخر میں با ساکن، اور رجل کے آخر میں ایک را ساکن۔ تو کیا ہوا؟ اجتماعِ ساکنین۔ اب مجھے بتائیے، کون کون سے ساکن ہیں؟ با اور را۔ اور ان میں سے کوئی حرفِ مدہ ہے؟ حرفِ مدہ نہیں۔ جب حرفِ مدہ نہیں، تو یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہوا یا علیٰ غیرِ حدہٖ؟ علیٰ غیرِ حدہٖ۔ جب علیٰ غیرِ حدہٖ ہے، تو پھر اگر اول ساکن مدہ ہوتا ہم اس کو گرا دیتے، لیکن اول ساکن کون ہے؟ با۔ اور با تو حرفِ مدہ نہیں، تو پھر اس با کو حرکت دے دیں گے، مثلاً یہاں کسرہ والی حرکت دے دیں گے۔ تو اب کیسے پڑھیں گے؟ اِضْرِبِ الرَّجُلَ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ با کو ہم نے کسرہ کیوں دیا؟ کیونکہ یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ ہے۔ اور اس اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ میں کیا کرتے ہیں؟ اول ساکن اگر مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، اور اگر مدہ نہ ہو تو اس کو حرکت دے دیتے ہیں۔ دوسری مثال لے لو، دوسری مثال لے لو۔ اِضْرِبُؤ، تم سب پٹائی کرو۔ الرَّجُلَ، اس آدمی کی۔ تم سب اس آدمی کی... اب اِضْرِبُؤ کے آخر میں کیا ہے؟ واؤ۔ واؤ اور واؤ کیا ہے؟ حرفِ مدہ ہے۔ اور الرَّجُلَ میں اسی طرح الف لام الف گر گیا، اور لام کا را میں... لام کو را کر کے را میں ادغام کیا۔ اب رجل کے شروع میں را ساکن، اور ماقبل میں واؤ ساکن۔ تو دو ساکن جمع ہوئے۔ اور وحدتِ کلمہ ہے؟ ایک کلمہ ہے یا دو کلمے ہیں؟ دو کلمے، تو یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے یا علیٰ غیرِ حدہٖ؟ علیٰ غیرِ حدہٖ۔ اور اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ میں اگر اول مدہ ہو تو اس کو کیا کرتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ اِضْرِبُ الرَّجُلَ۔ دیکھا؟ اگر واؤ کو باقی رکھو تو یوں پڑھیں گے، اِضْرِبُؤ الرَّجُلَ۔ لیکن واؤ کو کیا کرنا ہے؟ گرانا ہے، تو کیسے پڑھیں گے؟ اِضْرِبُ الرَّجُلَ۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ اب پھر سارا خلاصہ دُہرا لو بھئی! اجتماعِ ساکنین کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ علیٰ حدہٖ وہ ہے جو جائز ہے، اس میں دونوں ساکنوں کو پڑھا جاتا ہے۔ اور اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ وہ ہے جس میں دونوں ساکنوں کو باقی نہیں رکھتے، یا ایک کو گرا دیتے ہیں یا ایک کو حرکت دے دیتے ہیں۔ اور اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ کسے کہتے ہیں؟ کہ پہلا ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن مدغم ہو، اور کلمہ بھی ایک ہو۔ یہ تینوں شرطیں پوری ہو جائیں گی تو وہ اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہٖ ہے۔ اور اس کو اسی طرح پڑھیں گے۔ اور اگر ان تین میں سے کوئی ایک شرط پوری نہیں ہوتی یا کوئی بھی پوری نہیں ہوتی، تو پھر وہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ ہے۔ وہاں پھر دیکھیں گے، ان دو ساکنوں میں سے پہلا حرفِ مدہ ہے یا حرفِ مدہ نہیں ہے۔ اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ ہے تو اس کو کیا کریں گے؟ گرا دیں گے۔ اور اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ نہیں تو پھر اس کو حرکت دے دیں گے۔ اور حرکت موقعے کے مطابق آئے گی، زیادہ تر اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ، زیادہ تر کسرہ آئے گا۔ لیکن بعض جگہ کبھی فتحہ بھی آ جاتا ہے، کبھی ضمہ بھی آ جاتا ہے، لیکن زیادہ تر کیا آتا ہے؟ کسرہ۔ بات یہ چل رہی تھی نونِ خفیفہ اور ثقیلہ کی۔ نونِ ثقیلہ بھئی! یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ، یَضْرِبُونَ۔ توجہ ہے؟ یَضْرِبُ، اس سے صیغہ کیا بنا تھا؟ لَیَضْرِبَنَّ۔ لَیَضْرِبَنَّ۔ شروع میں لامِ مفتوح، آخر میں نونِ ثقیلہ، اور اس سے پہلے با پر زبر، لَیَضْرِبَنَّ۔ اور تثنیہ میں کیا کہا تھا؟ لَیَضْرِبَانِّ۔ نونِ اعرابی کو گرا دیا تھا۔ لَیَضْرِبَانِّ۔ اور تیسرا صیغہ آیا تھا یَضْرِبُونَ۔ اب اس کے شروع میں بھی لام لے آؤ، لَیَضْرِبُونَ۔ اور نون آخر سے گرا دو نونِ اعرابی، اور نونِ ثقیلہ لے آؤ۔ کیا بن گیا؟ لَیَضْرِبُونَّ۔ اور تو کیا آیا؟ اجتماعِ ساکنین، اجتماعِ ساکنین۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اجتماعِ ساکنین آیا، اور یاد رکھو، یہ نونِ ثقیلہ اس کو الگ کلمہ شمار کریں گے۔ کیا کریں گے؟ الگ کلمہ شمار کریں گے۔ تو لَیَضْرِبُونَّ، اول ساکن کون؟ واؤ، حرفِ مدہ ہے۔ ثانی ساکن کیا ہے؟ نون، وہ نونِ مدغم ہے۔ نونِ مدغم ہے۔ لیکن کیا کلمہ ایک ہے یا دو ہیں؟ دو ہیں، یہ نون کو الگ شمار کریں گے۔ تو شرطیں پوری نہیں، جب شرطیں پوری نہیں، تو یہ کون سا اجتماعِ ساکنین ہوا؟ علیٰ غیرِ حدہٖ۔ اور علیٰ غیرِ حدہٖ میں کیا کرتے ہیں؟ اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو، حرفِ علت نہ کہو، حرفِ مدہ ہو، تو اس کو گرا دیتے ہیں، کیونکہ حرفِ علت کبھی حرفِ لین بھی تو ہوتا ہے۔ تو پہلا ساکن اگر حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی دیکھو، لَیَضْرِبُونَّ، واؤ کیا ہے؟ حرفِ مدہ، تو اس کو کیا کریں گے؟ گرا دیں گے۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ لَیَضْرِبُنَّ۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اب اعتراض ہوتا ہے، اعتراض ہوتا ہے، کہ اچھا! یہاں اجتماعِ ساکنین آپ کو نظر آ گیا، تثنیہ کے صیغے میں اجتماعِ ساکنین نہیں نظر آیا؟ کیا تھا تثنیہ کا صیغہ جو ابھی گزرا؟ لَیَضْرِبَانِّ۔ دیکھو، الف بھی ساکن اور نونِ مدغم بھی ساکن۔ تو جواب اس کا یہ ہے، جواب اس کا یہ ہے کہ ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، تثنیہ میں بھی اجتماعِ ساکنین آ رہا ہے، لیکن وہاں مجبوری ہے، ہم الف کو گرا نہیں سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ اگر ہم الف کو گرا دیں گے، تو کیا بن جائے گا؟ لَیَضْرِبَنَّ۔ پہلا صیغہ بھی لَیَضْرِبَنَّ، دوسرا بھی لَیَضْرِبَنَّ، تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ مفرد ہے یا تثنیہ ہے۔ تو وہاں چونکہ التباس اور اشتباہ لازم آ رہا تھا مفرد کے صیغے کے ساتھ، اس لیے وہاں الف کو نہیں گرایا، ورنہ قانون کے مطابق کیا کرنا چاہیے تھا؟ گرانا چاہیے تھا۔ تو وہاں التباس سے بچنے کے لیے، التباس کا معنی اشتباہ، شبہ پڑتا ہے کہ پتہ نہیں وہ صیغہ ہے یا وہ والا صیغہ ہے، تو التباس کی وجہ سے الف کو کیا کیا؟ نہیں گرایا۔ آگے چلیے، تیسرے صیغے میں۔ پھر دُہراؤ، لَیَضْرِبَنَّ، لَیَضْرِبَانِّ، لَیَضْرِبُنَّ۔ پھر دُہراؤ، لَیَضْرِبَنَّ، لَیَضْرِبَانِّ، لَیَضْرِبُنَّ۔ آگے لَتَضْرِبَنَّ، تَضْرِبُ تھا نا؟ تَضْرِبُ کے آخر میں کوئی ضمیرِ بارز ہے؟ نہیں، جب ضمیرِ بارز نہیں تو نونِ ثقیلہ جڑے گا اور اس سے پہلے فتحہ لے آؤ۔ لَتَضْرِبَنَّ۔ آگے تثنیہ کے صیغے میں آؤ، لَتَضْرِبَانِّ۔ اچھا! اس کے بعد اگلے جمع مؤنث کے صیغے میں آ جاؤ۔ پہلے مضارع کیا... مضارع بولو! یَضْرِبْنَ۔ یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ، یَضْرِبُونَ، تَضْرِبُ، تَضْرِبَانِ، یَضْرِبْنَ۔ اچھا! یَضْرِبْنَ کے شروع میں لام لے آئے، لَیَضْرِبْنَ۔ اور آخر میں نونِ ثقیلہ ملا دیا، لَیَضْرِبْنَنَّ۔ لَیَضْرِبْنَنَّ۔ تو یہ تین نون جمع ہو گئے، اور تین نونوں کا جمع ہونا پسندیدہ نہیں۔ تو تین نونوں کا جمع ہونا پسندیدہ نہیں، لہٰذا یہاں درمیان میں الف بڑھا دیں گے۔ لَیَضْرِبْنَنَّ، الف درمیان میں لے آؤ، لَیَضْرِبْنَانِّ۔ الف کے بعد نون کے نیچے اب زیر پڑھیں گے، کیونکہ جہاں بھی الف کے بعد نونِ ثقیلہ آتا ہے کیا پڑھتے ہیں؟ زیر۔ تو لَیَضْرِبْنَانِّ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس پر پھر وہی اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو الف آپ نے بڑھا دیا، تو اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ آیا کیونکہ ایک کلمہ نہیں ہے، تو جواب گزر گیا وہی جو ابھی بیان ہوا۔ کہ بھئی! چونکہ تین نون جمع ہو رہے تھے، تین نونوں کا جمع ہونا پسندیدہ نہیں، اس لیے الف درمیان میں بڑھا دیا۔ اور یاد رکھو، ہر جگہ بھی ایسا نہیں ہے کہ تین نونوں کا اجتماع پسندیدہ نہ ہو۔ ہاں! جب پہلا نون ضمیر ہو اور دوسرا نون، نونِ ثقیلہ ہو، پھر ان کا جمع ہونا پسندیدہ نہیں۔ ویسے بعض اوقات تین نون بھی عربی میں جمع ہو جاتے ہیں۔ لیکن پہلا نون ضمیر ہو اور اگلے دونوں کیا ہوں، نونِ ثقیلہ، یہ جمع ہونا پسندیدہ نہیں۔ اگلے صیغے پہ آؤ۔ "تَضْرِبُ"، اس سے بناؤ۔ "لَتَضْرِبَنَّ"، اچھا! "تَضْرِبَانِ"، "لَتَضْرِبَانِّ"۔ "تَضْرِبُونَ"، "لَتَضْرِبُنَّ"۔ واؤ گرے گا، گرے گا۔ "لَتَضْرِبُنَّ"۔ اچھا! کیونکہ یہاں با پر پیش ہے۔ یہاں اشتباہ کا خطرہ نہیں۔ "لَتَضْرِبَنَّ" مفرد میں تو کیا تھا با پر زبر، اور یہاں "لَتَضْرِبُنَّ" با پر کیا ہے پیش۔ یہ پیش بتلا رہی ہے کہ یہاں سے واؤ گرا ہے۔ یہ جمع کا صیغہ ہے۔ اگلا صیغہ مضارع کا بولو۔ پہلے مضارع کا صیغہ بولو، "تَضْرِبِينَ"۔ اب اس پر لام لاؤ اور نونِ اعرابی آخر سے گرا کر نونِ ثقیلہ لے آؤ، "لَتَضْرِبِينَّ"۔ پھر اجتماعِ ساکنین آیا تو یا کو کیا کر دو، گرا دو۔ اول حرفِ مدہ ہے، یا ہے، اس کو گرا دیا، تو کیا بن گیا "لَتَضْرِبِنَّ"۔ اور کوئی اشتباہ آ رہا ہے؟ نہیں۔ لہٰذا اس کو بھی برقرار رکھیں گے، "لَتَضْرِبِنَّ"۔ آگے پھر "تَضْرِبَانِ"، اس کو بناؤ۔ "لَتَضْرِبَانِّ"۔ مضارع ہے نا، "تَضْرِبِينَ"، "تَضْرِبَانِ"۔ پھر سنو! "یَضْرِبُ"، "یَضْرِبَانِ"، "یَضْرِبُونَ"، "تَضْرِبُ"، "تَضْرِبَانِ"، "یَضْرِبْنَ"، "تَضْرِبُ"، "تَضْرِبَانِ"، "تَضْرِبُونَ"، "تَضْرِبِينَ"۔ "تَضْرِبِينَ" ہم نے کر لیا، آگے کیا ہے "تَضْرِبَانِ"۔ اب اس میں لاؤ لام بھی اور نون بھی، "لَتَضْرِبَانِّ"۔ اگلے صیغے پہ آؤ۔ پہلے تو صیغہ مضارع کا بولا کرو نا، پھر ہم "تَضْرِبْنَ"، "تَضْرِبْنَ"۔ اب لام بھی جوڑو اور نون بھی جوڑو، "لَتَضْرِبْنَنَّ"۔ اور تین نون کا جمع ہونا تو پسندیدہ نہیں، تو الف بڑھا دو۔ کیا بنے گا؟ "لَتَضْرِبْنَانِّ"۔ آگے "أَضْرِبُ"، اس پر لاؤ۔ "لَأَضْرِبَنَّ"۔ اور "نَضْرِبُ"، "لَنَضْرِبَنَّ"۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا، اچھی طرح؟ اچھا دیکھیے بھئی! اب کتاب پر بھئی۔ کہتے ہیں: "برائے تاکید در فعلِ مضارع لامِ تاکیدِ مفتوحہ و نونِ تاکیدِ ثقیلہ و خفیفہ می آید"۔ "برائے تاکید"، تاکید کے لیے۔ "در فعلِ مضارع"، فعلِ مضارع میں۔ "لامِ تاکیدِ مفتوحہ"، وہ لامِ تاکید جو کیا ہے مفتوح ہے۔ "و نونِ تاکیدِ ثقیلہ و خفیفہ می آید"، وہ آتے ہیں۔ لامِ تاکیدِ مفتوحہ، کیونکہ اس پر لام پر کیا پڑھتے ہو، زبر پڑھتے ہو نا۔ ایک یاد رکھو، ایک ہے لامِ امر، اس میں زیر پڑھتے ہیں "لِیَضْرِبْ"۔ اور یہ لامِ تاکید ہے، اس پر کیا پڑھتے ہیں زبر۔ تو کہتے ہیں: "برائے تاکید در فعلِ مضارع لامِ تاکیدِ مفتوحہ و نونِ تاکیدِ ثقیلہ و خفیفہ می آید"۔ کہتے ہیں: تاکید کے لیے فعلِ مضارع میں لامِ تاکیدِ مفتوحہ اور نونِ تاکیدِ ثقیلہ اور خفیفہ آتے ہیں۔ "لام در اول و نون در آخر داخل می شود"۔ لام شروع میں اور نون آخر میں داخل ہوتے ہیں۔ "و ثقیلہ مشدد باشد"، اور ثقیلہ مشدد ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا، پیچھے بھی آیا، "ثقیلہ و خفیفہ می آید"، اس کو "می آید" بھی پڑھ سکتے ہیں اور "می آید" بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "و ثقیلہ مشدد باشد"، اور ثقیلہ کیا ہوتا ہے مشدد ہوتا ہے۔ "و در ہمہ صیغہ می آید"، اور سارے صیغوں میں آتا ہے۔ "ہمہ" کا معنی سارے، سارے صیغوں میں آتا ہے۔ "و خفیفہ ساکن"، اور خفیفہ کیا ہوتا ہے ساکن۔ اچھا یاد رکھو، یہ جو نونِ خفیفہ ہے نا، یہ ساکن ہے۔ نونِ خفیفہ ساکن ہے۔ ذرا اس کو بھی دیکھ لیں نونِ خفیفہ کو۔ یاد رکھو یہ تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں آئے گا اور جمع مونث کے صیغوں میں بھی نہیں آئے گا۔ تثنیہ کے کتنے صیغے؟ چار، اور جمع مونث کے دو، تو کتنے ہو گئے چھ۔ چھ صیغوں میں نہیں آئے گا اور کتنے میں آئے گا؟ آٹھ کے اندر آئے گا۔ وہ بھی کر لیں۔ "یَضْرِبُ"، "لَیَضْرِبَنْ"۔ ہاں شاباش! "لَیَضْرِبَنْ"، اب "لَیَضْرِبَنَّ"، یہ تو ثقیلہ تھا۔ آپ خفیفہ لائے ہیں، "لَیَضْرِبَنْ"، اور اسی طرح کرنا ہے جیسا نونِ ثقیلہ میں کیا تھا۔ وہاں جن صیغوں کے ساتھ ضمیرِ بارز نہیں تھی، وہاں نون کا ماقبل کیا تھا؟ مفتوح تھا، تو یہاں بھی اسی طرح کرو۔ "یَضْرِبُ" سے کیا بن گیا؟ "لَیَضْرِبَنْ"، "لَیَضْرِبَنْ"۔ آگے تثنیہ کا صیغہ ہے "یَضْرِبَانِ"، اس میں تو یہ نہیں آئے گا۔ "یَضْرِبُونَ"، اس میں آ جائے گا۔ کیسے؟ "لَیَضْرِبُنْ"، وہ واؤ گر جائے گا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے، "لَیَضْرِبُنْ"۔ پھر "لَتَضْرِبَنْ"، پھر تثنیہ میں نہیں آئے گا، پھر جمع میں بھی نہیں آئے گا۔ پھر "لَتَضْرِبَنْ"، پھر تثنیہ میں نہیں آئے گا۔ پھر "لَتَضْرِبُنْ"، پھر "لَتَضْرِبِنْ"، "لَتَضْرِبِنْ"۔ پھر تثنیہ ہے نہیں آئے گا، پھر جمع مونث ہے نہیں آئے گا۔ پھر "لَأَضْرِبَنْ"، "لَأَضْرِبَنْ"، اور "لَنَضْرِبَنْ"، یہ آٹھ صیغوں میں آئے گا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "ثقیلہ مشدد باشد و در ہمہ صیغہ می آید"، ثقیلہ جو ہے وہ مشدد ہوتا ہے اور تمام صیغوں میں آتا ہے۔ "و خفیفہ ساکن"، اور خفیفہ ساکن ہوتا ہے۔ "و در تثنیہ و جمع مونث نہ می آید"، اور تثنیہ اور جمع مونث میں نہیں آتا۔ "و در باقی صیغ می آید"، اور باقی صیغوں میں آتا ہے نونِ خفیفہ۔ "ماقبلِ نونِ ثقیلہ"، نونِ ثقیلہ کا ماقبل جو ہے "در یَفْعَلُ و تَفْعَلُ و أَفْعَلُ و نَفْعَلُ مفتوح می شود"، مفتوح ہوتا ہے۔ "یَفْعَلُ"، "تَفْعَلُ"، "أَفْعَلُ" اور "نَفْعَلُ"، یعنی جو وہ صیغے جن کے ساتھ ضمیرِ بارز جڑی ہوئی نہیں ہے، ان کے ساتھ جب نونِ ثقیلہ آتا ہے تو ماقبل کیا ہو جاتا ہے نونِ ثقیلہ کا؟ مفتوح ہوتا ہے۔ "یَضْرِبُ" سے کیا بنا تھا؟ "لَیَضْرِبَنَّ"۔ تو یہ، کہتے ہیں "ماقبلِ نونِ ثقیلہ در یَفْعَلُ و تَفْعَلُ و أَفْعَلُ و نَفْعَلُ مفتوح می شود"، مفتوح ہو جاتا ہے۔ "و نونِ اعرابی در صیغہ تثنیہ و جمع مذکر و واحد مونث حاضر می افتد"، اور جو نونِ اعرابی ہوتا ہے کن صیغوں میں؟ "در صیغہ تثنیہ"، تثنیہ کے صیغوں میں، "و جمع مذکر"، اور جمع مذکر کے دونوں صیغوں میں، "و واحد مونث"، اور واحد مونث حاضر، ان سات میں جو نونِ اعرابی آتا ہے "می افتد"، وہ گر جاتا ہے۔ "می افتد"، وہ گر جاتا ہے۔ "پس الفِ تثنیہ باقی می ماند"، پس الفِ تثنیہ باقی رہ جاتا ہے۔ "ماندن" کا معنی رہ جانا، "باقی می ماند"، باقی رہ جاتا ہے۔ نونِ اعرابی گر گیا تو کیا رہ گیا؟ الفِ تثنیہ باقی رہ گیا۔ "و نونِ ثقیلہ بعدِ آن مکسور می گردد"، اور نونِ ثقیلہ اس الف کے بعد مکسور ہو جاتا ہے۔ "چوں لَیَفْعَلَانِّ"۔ یہ لام کے نیچے زیر دیا ہوا ہے، یہ زبر ہونا چاہیے بھئی، "لَیَفْعَلَانِّ"۔ "و واؤِ جمع مذکر"، بھئی جمع مذکر کی واؤ کا کیا کرتے تھے؟ گراتے تھے، اور واحد مونث کی جو یا ہے وہ بھی گرا دیتے تھے۔ کیا بنتا تھا؟ "لَیَضْرِبُنَّ"، "لَتَضْرِبُنَّ" اور "لَتَضْرِبِنَّ"، "لَتَضْرِبِنَّ"۔ واؤ بھی گرے گا اور یا بھی گر جائے گی، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "و واؤِ جمع مذکر و یائے مونث حاضر می افتد"، اور جمع مذکر کا واؤ اور مونث حاضر کی یا "می افتد" گر جاتے ہیں۔ "و ضمہ ماقبل"، اچھا! یا اور واؤ گر گئے، تو پھر بھی صیغے کا پتہ چلے گا یا نہیں؟ کس سے چلے گا؟ واؤ جہاں سے گرا ہے، ماقبل پر کیا ہے؟ ماقبل پر ضمہ ہے۔ واؤ اور یا تو گر گئے لیکن پھر بھی ان کا پتہ چلتا ہے۔ واؤ گر گیا لیکن ماقبل والے حرف پر جو ضمہ تھا، وہ بتلاتا ہے کہ یہاں سے واؤ گرا ہے۔ "لَیَضْرِبُنَّ"، یہ با پر پیش بتلا رہی ہے کہ یہاں سے کیا گرا ہے؟ واؤ گرا ہے۔ اور اسی طرح "لَتَضْرِبُنَّ"، یہاں پر بھی یہ با کی پیش بتلا رہی ہے کہ یہاں سے واؤ گرا ہے۔ اور "لَتَضْرِبِنَّ"، یہاں پر با کے نیچے جو زیر ہے، وہ بتلا رہی ہے کہ یہاں سے یا گری ہے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "و ضمہ ماقبلِ واؤ و کسرہ ماقبلِ یا باقی می ماند"، اور واؤ سے ماقبل کا ضمہ اور یا سے ماقبل کا کسرہ باقی رہ جاتا ہے، "چوں لَیَفْعَلُنَّ"، "لَتَفْعَلِنَّ"۔ "و در جمع مونث غائب و حاضر"، جمع مونث کے جو دو صیغے ہیں، وہاں کیا کرتے تھے ہم؟ وہ الف لاتے تھے۔ تین نونوں کا جمع ہونا پسندیدہ نہیں، تو درمیان میں الف لاتے تھے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ "و در جمع مونث غائب و حاضر میانِ نونِ جمع و نونِ ثقیلہ الف می آرند"، اور جمع مونث غائب اور حاضر کے صیغوں میں میان، میان کا معنی ہے درمیان، "میانِ نونِ جمع و نونِ ثقیلہ"، نونِ جمع اور نونِ ثقیلہ کے درمیان میں "الف می آرند"، الف لے آتے ہیں۔ "تا اجتماعِ سہ نون لازم نہ اید"، تاکہ تین نونوں کا جمع ہونا لازم نہ آئے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر دیکھو بھئی ترجمہ: "و در جمع مونث غائب و حاضر میانِ نونِ جمع و نونِ ثقیلہ الف می آرند تا اجتماعِ سہ نون لازم نہ اید"، اور جمع مونث غائب اور حاضر میں نونِ جمع اور نونِ ثقیلہ کے درمیان میں الف لے آتے ہیں تاکہ تین نونوں کا اجتماع لازم نہ آئے، "چوں لَیَفْعَلْنَانِّ و لَتَفْعَلْنَانِّ"۔ "و دریں ہر دو ہم نونِ ثقیلہ مکسور می باشد"، اور ان ہر دو، ان دونوں میں بھی نونِ ثقیلہ مکسور ہو گا۔ کیونکہ نونِ ثقیلہ کس کے بعد ہے؟ الف کے بعد۔ جب یہ الف کے بعد ہے تو یہ کس کی طرح ہوا؟ نونِ اعرابی اور نونِ تثنیہ کی طرح، اور نونِ تثنیہ بھی الف کے بعد آتا ہے، نونِ اعرابی بھی جب الف کے بعد آئے تو وہ کیا ہوتے ہیں؟ مکسور ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا یہ دونوں نون بھی، یہ نونِ ثقیلہ بھی مکسور ہو گا۔ "بالجملہ"، حاصلِ کلام یہ کہ "بعدِ الف نونِ ثقیلہ مکسور می باشد"، کہ الف کے بعد نونِ ثقیلہ مکسور ہو گا۔ "و در دیگر جاہا مفتوح"، دیکھا! جا، جا کسے کہتے ہیں؟ جگہ، اور جمع لے آئے "جاہا"، جگہوں۔ "و در دیگر جاہا مفتوح"، اور دوسری جگہوں میں مفتوح ہو گا۔ الف کے بعد نونِ ثقیلہ مکسور ہو گا اور باقی جگہوں میں مفتوح ہو گا۔ "و نونِ خفیفہ در غیرِ تثنیہ و جمع مونث حال مثلِ نونِ ثقیلہ دارد"۔ یاد رکھو یہ جو نونِ ثقیلہ اور خفیفہ ہیں نا، ان میں سے نونِ ثقیلہ اصل ہے۔ نونِ ثقیلہ اصل ہے اور نونِ خفیفہ اس کے تابع ہے، اس کے پیچھے چلنے والا ہے۔ یعنی جو کام نونِ ثقیلہ میں ہو گا، وہی عمل کس میں ہو گا؟ نونِ خفیفہ میں بھی ہو گا۔ اور نونِ ثقیلہ میں تو کیا تھا؟ کہ وہ صیغے جن میں ضمیرِ بارز نہیں تھی، تو نونِ ثقیلہ کا ماقبل کیا تھا؟ مفتوح، تو نونِ خفیفہ میں بھی وہ کیا ہو گا؟ مفتوح ہو گا، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "و نونِ خفیفہ در غیرِ تثنیہ و جمع مونث"، اور نونِ خفیفہ جو ہے تثنیہ کے علاوہ میں اور جمع مونث کے علاوہ میں، کیونکہ ان میں تو یہ آتا ہی نہیں ہے۔ ان کے علاوہ میں "حال مثلِ نونِ ثقیلہ دارد"، نونِ ثقیلہ جیسا حال رکھتا ہے۔ کس جیسا حال؟ یعنی اس میں ماقبل جیسی صورت تھی جیسی، یہاں پر بھی اسی طرح۔ وہاں پر نونِ ثقیلہ کا ماقبل مفتوح تھا تو یہاں پر بھی مفتوح، اور جہاں پر پیش ہے وہاں پیش اور جہاں زیر ہے وہاں زیر۔ "و مضارع بہ در آمدنِ نونِ ثقیلہ و خفیفہ خاص بہ مستقبل می گردد"۔ اور مضارع جو ہے "بہ در آمدن"، ب الگ ہے۔ "در آمدن" کا معنی ہوتا ہے اندر آنا۔ "در آمدن" کا کیا معنی؟ اندر آنا۔ "مضارع بہ در آمدنِ نونِ ثقیلہ و خفیفہ"، اور مضارع جو ہے نونِ ثقیلہ اور خفیفہ کے اندر آنے سے، یعنی ان کے جڑ جانے سے "خاص بہ مستقبل می گردد"، کس کے ساتھ خاص ہو جاتا ہے؟ خاص ہو جاتا ہے مستقبل کے ساتھ۔ انہوں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ نونِ ثقیلہ تمام صیغوں میں آتا ہے۔اور لَیَضْرِبُنَّ اصل میں کیا تھا؟ لَیَضْرِبُونَّ جمع مذکر غائب پھر وہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ لَیَضْرِبُنَّ اور یہ باء کا ضمہ بتلا رہا ہے کہ یہاں سے واؤ گر ہے اسی طرح لَتَضْرِبُنَّ اصل میں کیا تھا؟ لَتَضْرِبُونَّ جمع مذکر حاضر پھر واؤ اجتماع ساکنین سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ لَتَضْرِبُنَّ اور باء کا ضمہ بتلا رہا ہے کہ یہاں سے واؤ حذف ہوا ہے اسی طرح اگلا صیغہ ہے لَتَضْرِبِنَّ واحد مؤنث حاضر یہ اصل میں کیا تھا؟ لَتَضْرِبِینَّ پھر یاء اجتماع ساکنین سے گر گئی اور باء کا کسرا بتلا رہا ہے کہ یہاں سے یاء گری ہے تو جہاں بھی اجتماع ساکنین آیا وہاں سے ایک حرف انہوں نے گرا دیا لیکن تثنیہ کے صیغوں میں بھی اجتماع ساکنین آ رہا ہے لَیَضْرِبَانِّ اور پھر اسی طرح لَتَضْرِبَانِّ تو یہاں بھی تو اجتماع ساکنین ہے، یہاں الف کیوں نہیں گرایا؟ تو وجہ بتلا دی کہ بھئی یہاں پر اگر ہم الف گرا دیں گے تو کیا بن جائے گا؟ لَیَضْرِبَنَّ تو مفرد بھی تھا لَیَضْرِبَنَّ، تثنیہ بھی ہو گیا لَیَضْرِبَنَّ، تو دونوں میں التباس آئے گا، پتہ ہی نہیں چلے گا کون سا صیغہ مفرد کا ہے اور کون سا تثنیہ کا تو اس مجبوری کی وجہ سے یہاں اجتماع ساکنین کو باقی رکھا گیا اور جمع کے صیغے جو ہیں، جو جمع مؤنث کے صیغے ہیں، لَیَضْرِبْنَانِّ اور لَتَضْرِبْنَانِّ یہاں پر اصل میں یہ کیا تھا؟ لَیَضْرِبْنَنَّ تین نون جمع ہوئے تھے، تو ایک الف درمیان میں بڑھا دیا تو کیا بن گیا؟ لَیَضْرِبْنَانِّ اور لَتَضْرِبْنَانِّ یہاں الف بڑھایا اور اس کی وجہ سے اجتماع ساکنین اب لازم آ رہا ہے، لیکن یہ الف مجبوری کی وجہ سے بڑھا دیا، کیونکہ اگر الف نہ بڑھائیں تو تین نون جمع ہو جائیں گے اور تین نونوں کا جمع ہونا تو پسندیدہ نہیں تو اس لیے یہاں الف بڑھا دیا اور اجتماع ساکنین کو باقی رکھا باقی جہاں بھی اجتماع ساکنین آیا، وہاں پر ایک حرف کو، جو اول مدہ تھا، اس کو کیا کر دیا؟ گرا دیا پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا کہ نون خفیفہ جو ہے وہ آٹھ صیغوں میں آتا ہے اور باقی صیغوں میں نہیں آتا تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں آتا اور جمع مؤنث کے صیغوں میں بھی نہیں آتا اور اس کی گردان کیسے ہوگی؟ لَیَضْرِبَنْ پھر تثنیہ میں تو نہیں آئے گا، جمع میں آئے گا: لَیَضْرِبُنْ پھر لَتَضْرِبَنْ پھر تثنیہ میں بھی نہیں آئے گا، جمع مؤنث کے دونوں صیغوں میں بھی نہیں آئے گا اور آگے کیا ہے؟ پھر لَتَضْرِبَنْ، پھر لَتَضْرِبُنْ، پھر لَتَضْرِبِنْ، پھر لَاَضْرِبَنْ اور پھر لَنَضْرِبَنْ تو تثنیہ کے جو چار صیغے ہیں، وہ بھی نکل گئے، ان میں نون خفیفہ نہیں آئے گا اور جمع مؤنث کے جو دو صیغے ہیں، ان میں بھی نون خفیفہ نہیں آئے گا چھ صیغے نکل گئے چودہ میں سے، تو باقی کتنے رہ گئے؟ آٹھ آٹھ صیغوں میں نون خفیفہ آئے گا تو اشکال ہوتا ہے کہ یہ چھ صیغوں میں نون خفیفہ کیوں نہیں آئے گا؟ تو جواب اس کا گزر چکا کہ بھئی یہاں اجتماع ساکنین آ جائے گا، اور اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آئے گا اور وہ تو جائز نہیں کس طرح؟ تثنیہ میں ذرا لاؤ نون خفیفہ کو یَضْرِبُ یَضْرِبَانِ اس پر نون خفیفہ لاؤ لام شروع میں لے آؤ، آخر سے نون اعرابی گرا دو اور نون خفیفہ لے آؤ کیا بن گیا؟ لَیَضْرِبَانْ تو دیکھو الف بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماع ساکنین لازم آیا تو لہٰذا اس لیے یہاں نہیں آئے گا آپ کے ذہن میں آئے گا کہ الف کو گرا دیں، الف اور نون میں سے الف حرف مدہ ہے، اس کو کیا کر دیں؟ گرا دیں جواب کہ اگر الف کو گرائیں گے تو پھر تو اس کی مفرد کے ساتھ مشابہت لازم آئے گی اور نیز، ویسے بھی یہ الف گرا ہی نہیں سکتے کیوں نہیں گرا سکتے؟ کیونکہ نون ثقیلہ ہے اصل، اور نون خفیفہ ہے اس کی فرع یعنی اس کے تابع تو نون ثقیلہ میں جو عمل کیا تھا، وہ تو یہاں کر سکتے ہیں، جو وہاں عمل نہیں کیا، وہ یہاں نہیں کر سکتے اور نون ثقیلہ تثنیہ میں آیا تھا یا نہیں؟ آیا تھا اور وہاں الف کو باقی رکھا تھا یا گرایا تھا؟ باقی رکھا تھا جب وہاں الف کو باقی رکھا، تو یہاں بھی باقی ہی رکھنا پڑے گا، اس کو گرا ہی نہیں سکتے اور جب گرائیں گے نہیں، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ جو کہ جائز نہیں اس لیے تثنیہ کے صیغوں میں نون خفیفہ نہیں آئے گا اور اسی طرح جمع مؤنث کے صیغوں میں بھی نون خفیفہ نہیں آئے گا کیوں نہیں آئے گا؟ کیونکہ وہاں پر بھی، مثلاً جمع مؤنث کا صیغہ لاؤ مضارع سے یَضْرِبْنَ اس کے آخر میں نون خفیفہ بڑھا دو اور شروع میں لام لے آؤ لَیَضْرِبْنَنْ اور وہاں پر ثقیلہ میں کیا کیا تھا؟ الف کا ایک بڑھایا تھا: لَیَضْرِبْنَانِّ دیکھا الف بڑھایا تھا، تو یہاں بھی الف بڑھانا پڑے گا کیونکہ یہ اس کے تابع ہے جیسا عمل وہاں کیا، وہی عمل یہاں کرنا پڑے گا تو کیا بن جائے گا؟ لَیَضْرِبْنَانْ یَضْرِبْنَ تھا نا؟ یَضْرِبْنَ پھر الف اور نون آخر میں بڑھا دو، کیا بن گیا؟ اور شروع میں لام لے آؤ: لَیَضْرِبْنَانْ اس الف کو ہم نہیں گرا سکتے کیونکہ یہ الف کس میں موجود ہے؟ نون ثقیلہ میں موجود ہے، تو خفیفہ میں بھی اس کو باقی رکھنا پڑے گا اور جب باقی رکھیں گے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ اور وہ تو جائز نہیں اس وجہ سے نون خفیفہ جو ہے وہ تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں آتا، کیونکہ وہاں بھی اجتماع ساکنین علی غیر حدہ کی خرابی آئے گی، اور جمع مؤنث کے دونوں صیغوں میں بھی نون خفیفہ نہیں آئے گا کیونکہ وہاں بھی اجتماع ساکنین علی غیر حدہ کی خرابی لازم آئے گی بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے گردان دیکھیے بھئی لام تاکید با نون ثقیلہ در فعل مستقبل معروف یہ لام تاکید با نون ثقیلہ در فعل مستقبل معروف کی گردان ہے لَیَفْعَلَنَّ دیکھو عین پہ تینوں حرکتیں ہیں تو یہ تینوں حرکتوں کے ساتھ یہ گردان یاد کریں گے بھئی لَیَفْعَلَنَّ، لَیَفْعَلَانِّ، لَیَفْعَلُنَّ، لَتَفْعَلَنَّ، لَتَفْعَلَانِّ، لَیَفْعَلْنَانِّ، لَتَفْعَلُنَّ لَتَفْعَلَنَّ ایک دفعہ پیچھے گزر چکا ہے، اس کو دوبارہ نہیں ذکر کیا تو لَتَفْعَلُنَّ، لَتَفْعَلِنَّ، لَتَفْعَلْنَانِّ، لَاَفْعَلَنَّ، لَنَفْعَلَنَّ مجہول جو ہے: لَیُفْعَلَنَّ تا آخر آخر تک بھئی کیسے ہوگی؟ لَیُفْعَلَنَّ، لَیُفْعَلَانِّ، لَیُفْعَلُنَّ، لَتُفْعَلَنَّ، لَتُفْعَلَانِّ، لَیُفْعَلْنَانِّ، لَتُفْعَلَنَّ، لَتُفْعَلَانِّ، لَتُفْعَلُنَّ، لَتُفْعَلِنَّ، لَتُفْعَلَانِّ، لَتُفْعَلْنَانِّ، لَاُفْعَلَنَّ، لَنُفْعَلَنَّ لام تاکید با نون خفیفہ در فعل مستقبل معروف بھئی وہی لام تاکید نون خفیفہ کے ساتھ فعل مستقبل معروف میں بھئی میں نے بتایا نون خفیفہ جو ہے، تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں آئے گا اور جمع مؤنث کے صیغوں میں بھی نہیں آئے گا تو کتنے صیغوں میں آئے گا؟ آٹھ وہی ذکر کر رہے ہیں: لَیَفْعَلَنْ، لَیَفْعَلُنْ، لَتَفْعَلَنْ، لَتَفْعَلُنْ، لَتَفْعَلِنْ، لَاَفْعَلَنْ، لَنَفْعَلَنْ بھئی یہ تو سات صیغے ہیں، آنا تو آٹھ میں چاہیے، پھر؟ ہاں شاباش، یہ جو لَتَفْعَلَنْ ہے یہ دو دفعہ آتا ہے آگے دیکھیے، مجہول بھئی: لَیُفْعَلَنْ تا آخر آخر تک بھئی در امر و نہی ہم نون ثقیلہ و نون خفیفہ می آید امر اور نہی میں بھی نون ثقیلہ اور خفیفہ آتا ہے کس میں؟ امر اور نہی میں امر میں بھی آئے گا: اِضْرِبْ، اِضْرِبَنَّ اِضْرِبَنَّ، اِضْرِبَانِّ، اِضْرِبُنَّ، اِضْرِبِنَّ، اِضْرِبَانِّ، اِضْرِبْنَانِّ شاباش تو یہ امر میں بھی آئے گا تو کہتے ہیں: در امر و نہی ہم نون ثقیلہ و نون خفیفہ می آید، امر اور نہی میں بھی نون ثقیلہ اور نون خفیفہ آتے ہیں ذکرِ امر بعد ازیں خواہد آمد امر اور نہی دونوں میں آتا ہے نون خفیفہ اور ثقیلہ، لیکن امر کی آگے کہتے ہیں بحث آ رہی ہے امر کو میں وہاں ذکر کروں گا، نہی کو میں یہی ذکر کر رہا ہوں بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ذکرِ امر بعد ازیں خواہد آمد، امر کا ذکر اس کے بعد آئے گا نہی معروف با نون ثقیلہ، نہی کو اب ذکر کرنے لگے ہیں نہی معروف با نون ثقیلہ بھئی مضارع میں دیکھو نون ثقیلہ آتا تھا تو شروع میں لام بھی آتا تھا لَیَضْرِبَنَّ، شروع میں کیا تھا؟ لام، اور آخر میں کیا تھا؟ نون ثقیلہ لیکن امر اور نہی میں ایسا نہیں ہوگا امر میں صرف آخر میں نون ثقیلہ ملا، دیکھا؟ اِضْرِبَنَّ شروع میں لام نہیں آیا نہی میں بھی اسی طرح ہے، یہاں بھی شروع میں لام نہیں آئے گا ہم نے تو نہی کی گردان کے دو حصے کیے تھے مخاطب والے صیغے الگ اور غائب اور متکلم والے صیغے الگ لیکن یہاں چونکہ صاحبِ کتاب ان کو اکٹھا ذکر کرتے ہیں، ہم بھی ساروں کو ملا دیتے ہیں لَا یَضْرِبْ شروع سے آخر تک ہم نے چلنا ہے لَا یَضْرِبْ اس کے ساتھ جوڑو: لَا یَضْرِبَنَّ، لَا یَضْرِبَانِّ، لَا یَضْرِبُنَّ، لَا تَضْرِبَنَّ، لَا تَضْرِبَانِّ، لَا یَضْرِبْنَانِّ، لَا تَضْرِبَنَّ، لَا تَضْرِبَانِّ، لَا تَضْرِبُنَّ، لَا تَضْرِبِنَّ، لَا تَضْرِبَانِّ، لَا تَضْرِبْنَانِّ، لَا اَضْرِبَنَّ، لَا نَضْرِبَنَّ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں: نہی معروف با نون ثقیلہ دیکھیے کتاب پر بھئی: نہی معروف با نون ثقیلہ لَا یَفْعَلَنَّ، لَا یَفْعَلَانِّ، لَا یَفْعَلُنَّ، لَا تَفْعَلَنَّ، لَا تَفْعَلَانِّ، لَا یَفْعَلْنَانِّ، لَا تَفْعَلُنَّ، لَا تَفْعَلِنَّ، لَا تَفْعَلْنَانِّ، لَا اَفْعَلَنَّ، لَا نَفْعَلَنَّ مجہول: لَا یُفْعَلَنَّ تا آخر آخر تک نون ثقیلہ و خفیفہ در فعل مضارع بعدِ اِمَّا شرطیہ ہم می آید نون ثقیلہ اور خفیفہ فعل مضارع میں بعدِ اِمَّا شرطیہ ہم می آید، اِمَّا شرطیہ کے بعد بھی آتے ہیں کس کے بعد آتے ہیں؟ اِمَّا شرطیہ کے بعد بطریقِ خود، اپنے طریقے کے مطابق یعنی جیسے باقی مضارع میں نونِ خفیفہ اور ثقیلہ آئے تھے تو فعل مضارع میں اِمَّا شرطیہ کے بعد بھی آتے ہیں یعنی لام کی جگہ اِمَّا آ جاتا ہے کیا آ جاتا ہے؟ اِمَّا پہلے کیا تھا؟ لَیَضْرِبَنَّ توجہ، ادھر دیکھو لَیَضْرِبَنَّ یہ لام کو ہٹاؤ اور اِمَّا جوڑ دو اِمَّا یَضْرِبَنَّ، اِمَّا یَضْرِبَانِّ، اِمَّا یَضْرِبُنَّ اس طرح پوری گردان ہوگی یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: نون ثقیلہ و خفیفہ در فعل مضارع بعدِ اِمَّا شرطیہ ہم می آید کہ نون ثقیلہ اور خفیفہ فعل مضارع میں اِمَّا شرطیہ کے بعد بھی آتے ہیں بطریقِ خود، اپنے طریقے کے مطابق چوں اِمَّا یَفْعَلَنَّ تا آخر، و اِمَّا یَفْعَلَنْ یہ نون خفیفہ ہے: اِمَّا یَفْعَلَنْ تا آخر آخر تک بھئی میں نے اِمَّا کہا قرآن میں بھی اس کی مثال ہے: اِمَّا تَرَیِنَّ تو اِمَّا آیا ہے، قرآن میں کیا آیا ہے؟ اِمَّا تو یاد رکھو ویسے تو فعل شرط اَمَّا ہے لیکن یہاں اس کو اِمَّا پڑھنا ہے اِمَّا یَفْعَلَنَّ اور اِمَّا یَفْعَلَنْ تو کیا کہا انہوں نے؟ فعل مضارع میں اِمَّا شرطیہ کے بعد بھی آتا ہے اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حرف شرط تو اَمَّا ہے، اِمَّا نہیں ہے شرط کے لیے، ابھی پڑھا آپ نے کل کے سبق میں، اِنْ آتا ہے، اِنْ اسی طرح یاد رکھو شرط کے لیے اَمَّا بھی آتا ہے لیکن یہاں اَمَّا نہیں مراد بلکہ اِمَّا مراد ہے تو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ شرط کے لیے تو اَمَّا آتا ہے، اِمَّا تو شرط کے لیے ہے ہی کوئی نہیں تو جواب یہ کہ یہاں اِمَّا مراد ہے بھئی اِمَّا تو آتا ہی نہیں ہے، ہے ہی نہیں کوئی شرط والا حروف شرط آپ نحو کی کتابیں اٹھا کر دیکھ لیں اِنْ، اَمَّا وغیرہ یہ تو ہوں گے، لیکن اِمَّا تو وہاں کوئی بھی نہیں تو جواب یہ یاد رکھو کہ یہ اِمَّا کوئی الگ حرفِ شرط نہیں ہے، یہ وہی اِنْ ہے کیا ہے؟ اِنْ اور اسی اِنْ کے ساتھ کبھی مَا بھی بڑھا دیتے ہیں اِنْ مَا یہ وہی اِنْ ہے، کیا ہے؟ وہی ہے اور پھر اس نون کو بھی میم کر کے میم میں ادغام کر دیتے ہیں، تو کیا بن گیا؟ اِمَّا تو یہ دراصل وہی اِنْ ہے بھئی تو بچوں کو سمجھانے کے لیے زیادہ تفصیل کے بجائے مختصراً کیا کہہ دیا؟ اِمَّا شرطیہ ورنہ تو اِمَّا شرطیہ تو کوئی بھی نہیں ہے یہ دراصل کیا ہے؟ وہی اِنْ اور مَا ہے بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا چلیے، بس کریں بھئی بھئی یہ آخر میں کاپیاں نکالو، یہ میں آپ کو گردان لکھوا دوں فعل مضارع کی، فعل مضارع کی نون ثقیلہ کے ساتھ بھی اور خفیفہ کے ساتھ بھی یہ آپ نے خوب پختہ کر کے آنی ہے، کل میں آپ سے سنوں گا آپ نے کم از کم اس کو سو ڈیڑھ سو مرتبہ دہرا کر آنا ہے زبان پر اتنی زبردست روانی ہو کہ کہیں آپ نے اٹکنا نہیں ہے صرف گردانیں سناتے ہوئے اٹکنے کی گنجائش نہیں ہوتی ہے اگر آپ اٹک جاتے ہیں، بعض اوقات تو زبان اٹک جاتی ہے وہ الگ ہے، لیکن اگر یاد نہ ہو ایک آدھ دفعہ اگر ایک دفعہ یا دو دفعہ اٹک جائیں تو اس کا مطلب ہے آپ کو گردان نہیں یاد بھائیتو آپ نے زبردست یاد کر کے آنی ہے، لکھیے بھئی۔ لامِ تاکید با نونِ ثقیلہ، لامِ تاکید با نونِ ثقیلہ در فعلِ مستقبل معروف۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی، لامِ تاکید با نونِ ثقیلہ در فعلِ مستقبل معروف۔ لامِ تاکید با نونِ ثقیلہ در فعلِ مستقبل معروف۔ اب گردان لکھیے بھئی۔ لَیَضْرِبَنَّ، اوپر سے نیچے کی طرف لکھتے جانا۔ لَیَضْرِبَنَّ، اس کے نیچے لکھیں، لَیَضْرِبَانِّ۔ لَیَضْرِبَانِّ، آگے لکھیں، لَیَضْرِبُنَّ۔ لَیَضْرِبُنَّ، آگے لکھیے، لَتَضْرِبَنَّ۔ لَتَضْرِبَنَّ، آگے بھئی، لَتَضْرِبَانِّ۔ لَتَضْرِبَانِّ، آگے لکھیے، لَیَضْرِبْنَانِّ۔ لَیَضْرِبْنَانِّ، آگے لکھیے، لَتَضْرِبَنَّ۔ لَتَضْرِبَنَّ، آگے، لَتَضْرِبَانِّ۔ لَتَضْرِبَانِّ، آگے لکھو، لَتَضْرِبُنَّ۔ لَتَضْرِبُنَّ، آگے لکھیے، لَتَضْرِبِنَّ۔ لَتَضْرِبِنَّ، لکھ لیا؟ آگے لکھو، لَتَضْرِبَانِّ۔ لَتَضْرِبَانِّ، آگے لکھیے، لَتَضْرِبْنَانِّ۔ لَتَضْرِبْنَانِّ، آگے لکھیے، لَأَضْرِبَنَّ۔ لَأَضْرِبَنَّ اور لَنَضْرِبَنَّ۔ لَنَضْرِبَنَّ، لکھ لیا؟ ابھی پوری گردان کو پھر ایک دفعہ غور سے دیکھ لیں، کہیں غلطی نہ ہوئی ہو۔ لَیَضْرِبَنَّ، لَیَضْرِبَانِّ، لَیَضْرِبُنَّ، لَتَضْرِبَنَّ، لَتَضْرِبَانِّ، لَیَضْرِبْنَانِّ، لَتَضْرِبَنَّ، لَتَضْرِبَانِّ، لَتَضْرِبُنَّ، لَتَضْرِبِنَّ، لَتَضْرِبَانِّ، لَتَضْرِبْنَانِّ، لَأَضْرِبَنَّ، لَنَضْرِبَنَّ۔ یہ معروف کی گردان آپ نے کر لی، مجہول آپ آرام سے کر سکتے ہیں، طریقہ سمجھ میں آگیا؟ ہاں، اگلی گردان لکھیے، لامِ تاکید با نونِ خفیفہ۔ لامِ تاکید با نونِ خفیفہ۔ لکھ لیا؟ لکھیے بھئی، لَیَضْرِبَنْ۔ لَیَضْرِبَنْ، آگے لکھیے، لَیَضْرِبُنْ۔ لَیَضْرِبُنْ، آگے لکھیے، لَتَضْرِبَنْ۔ لَتَضْرِبَنْ، پھر لکھیے، لَتَضْرِبَنْ۔ لَتَضْرِبَنْ، پھر لکھیے، لَتَضْرِبُنْ۔ لَتَضْرِبُنْ، آگے لکھیے، لَتَضْرِبِنْ۔ لَتَضْرِبِنْ، آگے لکھیے، لَأَضْرِبَنْ اور لَنَضْرِبَنْ۔ لَنَضْرِبَنْ، گنو ذرا کتنے صیغے ہو گئے؟ نونِ خفیفہ کے کتنے صیغے ہو گئے؟ آٹھ صیغے، یہ نونِ خفیفہ کی گردان مکمل ہوئی۔ بھئی، اس میں تثنیہ کیوں نہیں آتا؟ مجھے وجہ بتاؤ۔ لَیَضْرِ، بھئی، ادھر تھا لَیَضْرِبَانِّ، ثقیلہ میں۔ تو ادھر تثنیہ میں کیوں نہیں آتا؟ لَیَضْرِبَنْ اور تثنیہ کا صیغہ ذرا مضارع کا بولو، یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ۔ یَضْرِبَانِ، اس کے ساتھ نونِ خفیفہ ذرا جوڑو، لام شروع میں لے آؤ، نونِ اعرابی گرا دو، مشدد نہیں، خفیفہ بولو، لَیَضْرِبَانْ۔ دیکھا؟ اجتماعِ ساکنین آیا اور ایک کلمے میں آیا یا دو میں؟ یہ نون کو کیا شمار کرنا ہے؟ الگ، تو دو کلموں میں آیا، تو یہ کیا ہے؟ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ، لہٰذا اس میں یہ نہیں آئے گا بھئی۔ بھئی، آپ کہہ سکتے ہیں کہ الف کو گرا دو۔ بھئی، الف کو گرائیں گے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ تثنیہ اور مفرد کا پتہ ہی نہیں چلے گا بھئی، اس لیے یہاں الف کو گرا بھی نہیں سکتے۔ اور جمع میں کیوں نہیں لاتے؟ وہاں بھی یہی خرابی۔ وہاں بھی یہی خرابی ہے، یہی جواب۔ دیکھو، جمع کا صیغہ لے آؤ مونث کا، یَضْرِبْنَ۔ اور اس کے آخر میں نونِ خفیفہ لے آؤ اور شروع میں لام لے آؤ، کیا بن گیا؟ پہلے جمع کا صیغہ بولو، یَضْرِبْنَ۔ جمع مونث کا، جمع مونث کا جن میں نونِ خفیفہ نہیں آتا، کیوں نہیں آتا؟ میں وہ وجہ بیان کر رہا ہوں۔ بولو جمع کا صیغہ مونث کا، یَضْرِبْنَ اور تَضْرِبْنَ۔ یَضْرِبْنَ میں ہم کر لیتے ہیں، جی، شروع میں کیا لے آؤ؟ لام، اور آخر میں نونِ خفیفہ ملاؤ، کیا بن گیا؟ لَیَضْرِبْنَنْ۔ تو یہاں تو تین نون بھی جمع نہیں ہو رہے، اجتماعِ ساکنین بھی نہیں ہے، یہاں تو آنا چاہیے۔ ادھر آرہا ہے سمجھ میں؟ تین نون ہیں یہاں؟ نہیں، یہاں تو دو نون ہیں، اور کوئی اجتماعِ ساکنین ہے؟ نہیں، تو یہاں تو آنا چاہیے۔ تو جواب یہ کہ یہ نون، ابھی میں نے آپ کو بتایا تھا، یہ نونِ خفیفہ نونِ ثقیلہ کے تابع ہے۔ وہ اصل ہے اور یہ اس کے تابع۔ اس میں، اس میں جو عمل کیا ہے، وہ یہاں بھی کرنا ہے اور اس میں تو الف ہم لائے تھے، یہاں الف کی بے شک ضرورت نہیں ہے، لیکن لانا پڑے گا، کیونکہ اصل میں الف لائے تھے۔ کیا تھا وہاں؟ لَیَضْرِبْنَانِّ، تو یہاں بھی الف لانا پڑے گا، اور جب الف لاؤ گے تو کیا لازم آئے گا؟ اجتماعِ ساکنین لازم آ جائے گا، اس لیے یہاں نہیں آئے گا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ نونِ خفیفہ کی گردان ہوئی۔ آگے بھئی، امر کی گردان لکھ لو بھئی۔ امر کی گردان آگے آنے والی ہے، لیکن ابھی آپ لکھ لیں، آپ نے مجھے یاد کر کے سنانی ہے بھئی، بہترین رفتار کے ساتھ۔ جی، اوپر لکھ لو، امر حاضر با نونِ ثقیلہ۔ امر حاضر با نونِ ثقیلہ۔ جی، لکھیے، اِضْرِبَنَّ۔ اِضْرِبَنَّ، اگلا صیغہ لکھیے، اِضْرِبَانِّ۔ اِضْرِبَانِّ، اگلا صیغہ لکھیے، اِضْرِبُنَّ۔ اِضْرِبُنَّ، اگلا صیغہ لکھیے، اِضْرِبِنَّ۔ اِضْرِبِنَّ، اس سے اگلا صیغہ لکھیے، اِضْرِبَانِّ۔ اِضْرِبَانِّ، اور آخری صیغہ، اِضْرِبْنَانِّ۔ اِضْرِبْنَانِّ، لکھ لیا؟ پھر دیکھ لیں، اِضْرِبَنَّ، اِضْرِبَانِّ، اِضْرِبُنَّ، اِضْرِبِنَّ، اِضْرِبَانِّ، اِضْرِبْنَانِّ۔ اب لکھو، امر حاضر با نونِ خفیفہ۔ امر حاضر با نونِ خفیفہ۔ لکھو بھئی، اِضْرِبَنْ۔ اِضْرِبَنْ، اِضْرِبُنْ۔ اِضْرِبُنْ اور اِضْرِبِنْ۔ اِضْرِبِنْ، بس، یہ تین صیغوں میں آئے گا۔ امر کے کتنے صیغے تھے؟ چھ، چھ میں سے دو تثنیہ کے ہیں، ان دو میں تو نونِ خفیفہ نہیں آتا، اور ایک جمع مونث کا ہے، اس میں بھی نونِ خفیفہ نہیں آتا، تو تین صیغے رہ گئے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اچھا، اب نہی کی گردان خود کر لیں گے؟ اور نہی اور امر باللام بھی کر لیں گے؟ ہاں، انہی صیغوں کو نہی، جیسے دیکھو، یہ جو آپ نے پہلی گردان لکھی، اس کو ذرا پھر سامنے رکھو۔ امر حاضر، لامِ تاکید جو ہے فعلِ مضارع والی، ابھی جو پہلی گردان میں نے لکھوائی، لَیَضْرِبَنَّ، اسی سے نہی بنائیں، تو لام، شروع میں لا لے آئیں، یہ والا لام گرا دیں اور لا لے آئیں۔ کیسے ہوگا؟ لا، لا یَضْرِبَ، لا یَضْرِبَنَّ، لا یَضْرِبَانِّ، لا یَضْرِبُنَّ، لا تَضْرِبَنَّ، لا تَضْرِبَانِّ، لا یَضْرِبْنَانِّ، لا تَضْرِبَنَّ، لا تَضْرِبَانِّ، لا تَضْرِبُنَّ، لا تَضْرِبِنَّ، لا تَضْرِبَانِّ، لا تَضْرِبْنَانِّ، لا أَضْرِبَنَّ، لا نَضْرِبَنَّ۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ تو یہ آپ نے بہترین یاد کر کے سنانی ہے بھئی، انشاء اللہ۔ اب ذرا اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیجیے۔ فعلِ مضارع میں تاکید کے واسطے، مل گئی عبارت بھئی؟ ہاں، نشان لگایا کرو، یاد رکھا کرو۔ فعلِ مضارع میں تاکید کے واسطے لامِ تاکید مفتوحہ اور نونِ تاکید ثقیلہ و خفیفہ آتا ہے۔ لام شروع میں اور نون آخر میں داخل ہوتا ہے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ ثقیلہ مشدد ہوتا ہے اور تمام صیغوں میں آتا ہے۔ خفیفہ ساکن ہوتا ہے اور تثنیہ اور جمع مونث میں نہیں آتا، باقی صیغوں میں آتا ہے۔ یَفْعَلُ، تَفْعَلُ، أَفْعَلُ اور نَفْعَلُ میں نونِ ثقیلہ کا ماقبل مفتوح ہوتا ہے۔ اور تثنیہ اور جمع مذکر اور واحد مونث حاضر کے صیغوں میں نونِ اعرابی گر جاتا ہے۔ یہ سات صیغوں میں آتا ہے نہ، نونِ اعرابی؟ کون سے؟ چار تثنیہ والے ہیں، دو جمع مذکر والے ہیں اور ایک واحد مونث والا ہے، ان میں کہتے ہیں نونِ اعرابی گر جاتا ہے۔ الفِ تثنیہ باقی رہتا ہے اور نونِ ثقیلہ اس کے بعد مکسور ہوتا ہے۔ نونِ ثقیلہ اس کے بعد مکسور ہوتا ہے، جیسے لَیَفْعَلَانِّ۔ نیز جمع مذکر کا واؤ اور مونث حاضر کی یا بھی گر جاتی ہے، اور واؤ سے پہلے ضمہ اور یا سے پہلے کسرہ باقی رہتا ہے، جیسے لَیَفْعَلُنَّ اور لَتَفْعَلِنَّ۔ اور جمع مونث غائب و حاضر میں، جمع مونث، جمع مونث غائب و حاضر میں نونِ جمع اور نونِ ثقیلہ کے درمیان الف لے آتے ہیں تاکہ تین نون کا اجتماع لازم نہ آئے، جیسے لَیَفْعَلْنَانِّ و لَتَفْعَلْنَانِّ۔ ان دونوں میں بھی نونِ ثقیلہ مکسور ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ نونِ ثقیلہ الف کے بعد مکسور ہوتا ہے اور دوسرے مقامات پر مفتوح۔ نونِ خفیفہ کا حال تثنیہ اور جمع مونث کے علاوہ تمام صیغوں میں نونِ ثقیلہ کی طرح ہے۔ اور ثقیلہ و خفیفہ کے داخل ہونے سے مضارع مستقبل کے ساتھ خاص ہو جاتا ہے، اب اس میں حال والا ترجمہ نہیں ہوگا۔ آگے دیکھیے، لامِ تاکید با نونِ ثقیلہ در فعلِ مستقبل معروف: لَیَفْعَلَنَّ، لَیَفْعَلَانِّ، لَیَفْعَلُنَّ، لَتَفْعَلَنَّ، لَتَفْعَلَانِّ، لَیَفْعَلْنَانِّ، لَتَفْعَلُنَّ، لَتَفْعَلِنَّ، لَتَفْعَلْنَانِّ، لَأَفْعَلَنَّ، لَنَفْعَلَنَّ۔ مجہول: لَیُفْعَلَنَّ إلىٰ آخِرِهٖ۔ لامِ تاکید با نونِ خفیفہ در فعلِ مستقبل معروف: لَیَفْعَلَنْ، لَیَفْعَلُنْ، لَتَفْعَلَنْ، لَتَفْعَلُنْ، لَتَفْعَلِنْ، لَأَفْعَلَنْ، لَنَفْعَلَنْ۔ مجہول: لَیُفْعَلَنْ إلىٰ آخِرِهٖ۔ امر و نہی میں بھی نونِ ثقیلہ اور نونِ خفیفہ آتا ہے۔ امر کا ذکر اس کے بعد آئے گا۔ نہی معروف با نونِ ثقیلہ: لا یَفْعَلَنَّ، لا یَفْعَلَانِّ، لا یَفْعَلُنَّ، لا تَفْعَلَنَّ، لا تَفْعَلَانِّ، لا یَفْعَلْنَانِّ، لا تَفْعَلُنَّ، لا تَفْعَلِنَّ، لا تَفْعَلْنَانِّ، لا أَفْعَلَنَّ، لا نَفْعَلَنَّ۔ مجہول: لا یُفْعَلَنَّ إلىٰ آخِرِهٖ۔ نونِ ثقیلہ و خفیفہ فعلِ مضارع میں إِمَّا شرطیہ کے بعد بھی مذکورہ طریقے سے آتا ہے، جیسے إِمَّا، إِمَّا یَفْعَلَنَّ، إِمَّا یَفْعَلَنْ إلىٰ آخِرِهٖ آخر تک۔ بھئی، سوال: إِمَّا تو شرطیہ ہے ہی نہیں، ہم نے کہیں پڑھا ہی نہیں۔ أَمَّا شرطیہ تو ہے، إِمَّا شرطیہ تو نہیں، تو آپ کیا کہیں گے؟ یہ دراصل إِنْ شرطیہ ہے، اسی کے ساتھ کبھی کیا جڑ جاتا ہے؟ مَا، تو کیا بن گیا؟ إِمَّا۔ ہونا تو یہ چاہیے مصنف بیان کرتے کہ إِنْ اور مَا، ان کے بعد بھی نونِ ثقیلہ اور خفیفہ آ جاتے ہیں، إِنْ کے بعد، جس، وہ إِنْ جس کے بعد کیا آئے؟ مَا آ جائے۔ لیکن مختصراً انہوں نے کہہ دیا کہ إِمَّا کے بعد کیا ہے؟ فعلِ مضارع پر نون، نونِ تاکید آ جاتا ہے، تو یہ دراصل وہ إِنْ ہی ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
55 approved lectures · 8 of 55