صیغہ 44 ویں قرنا. بیان: حسب بیان بعض مفسرین در اصل اقرار نہ بودا. حسب قاعدہ مذکورہ آنفن رائے اول را بعد نقل حرکتش حذف کردند، حاجت ہمزہ وصل نہ ماندا، لہذا بی افتاد قرنا شد.
و در بیضابی یک توجیہ آن قرنا مثل خفنا، از قار یقار مثل خوف یخافو، و معنا آن مقار ب مادہ قرار نہ نوشتہ.
مصنف رحمہ اللہ قران میں آنے والے مختلف مشکل صیغے جو ہیں ان کو بیان فرما رہے ہیں۔ گذشتہ سبق میں ایک قیمتی بات ذکر کی تھی غواشین اور جوارین سے متعلق۔ مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا کہ جوارین اور غواشین جیسے صیغے جو ہیں ان میں طویل بحث ہے۔ اور بحث ان میں یہ ہے کہ ان میں قاضی والا قانون لگتا ہے۔
کیونکہ یہ غواشین اور جوارین یہاں آخر میں اصل میں یا تھی، غواشی، جواری، اور یہ اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں، یا یہ الف لام کے ساتھ استعمال ہوگا یا اضافت کے ساتھ یا ان دونوں کے بغیر۔ اور جب یہ الف لام اور اضافت کے ساتھ استعمال ہو، تو پھر حالت رفی اور جری میں یا برقرار رہتی ہے، البتہ ساکن ہوتی ہے۔
اگر الف لام اور اضافت کے بغیر یہ استعمال ہو تو حالت رفی اور جری میں یا گر جاتی ہے اور را پر تنوین آ جاتی ہے۔ تو اس کو غواشین اور جوارین پڑھتے ہیں۔
تو اس پر اشکال یہ ہوتا ہے کہ قاضی جیسے الفاظ یعنی جن کے آخر میں یا ہو اور یا سے ماقبل کسرہ ہو، وہاں تو ٹھیک ہے حالت رفی اور جری میں جب بغیر الف لام اور اضافت کے ہوں تو یا گر جائے گی کیونکہ تنوین آئے گی۔ لیکن یہاں پر اشکال یہ ہوتا ہے کہ غواشی اور جواری جیسے الفاظ جو ہیں، یہ تو منتہی الجمول کا صیغہ ہے، اور جمع منتہی الجمول کا صیغہ جو ہے وہ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے اور اس کی وجہ سے تنوین نہیں آ سکتی یہاں پر۔ جب تنوین نہیں آئے گی تو پھر اس میں اعلال کیسے ہوگا، یا کیسے گرے گی؟
تو پھر صرفی حضرات اس کا جواب دیتے ہیں کہ ایک ہے اعلال اور ایک ہے غیر انصراف۔ اعلال مقدم ہوتا ہے غیر انصراف پر۔ پہلے اعلال ہوتا ہے، کلمے کی صورت بن جاتی ہے، اس کے بعد اس پر حکم لگاتے ہیں کہ وہ غیر منصرِف ہے یا غیر منصرِف نہیں ہے۔ اور ہر اسم کے اندر اصل منصرِف ہونا ہے، چنانچہ یہ غواشین اور جوارین کی جو اصل ہے، وہ تنوین کے ساتھ نکالی گئی۔ جواریون، غواشیون۔ اور پھر یہاں پر یا پر ضمہ ثقیل تھا، وہ گر گیا، آگے نون تنوین بھی ہے اور یا بھی ساکن ہو گئی، تو اجتماع ساکنین آیا، اور اجتماع ساکنین کی وجہ سے حالت رفی اور جری میں یا گر گئی اور را پر تنوین آ گئی، تو کیا بن گیا؟ غواشین اور جوارین بن گیا۔
تو اس کے بعد پھر اب ہم نے حکم لگانا ہے کہ یہ غیر منصرِف ہے یا نہیں لیکن اب جب اعلال ہو چکا تو یہ تو مفرد کا وزن بن گیا سلامن اور کلامن کی طرح۔ تو اب یہ غیر منصرِف نہیں، لہذا اس پر تنوین باقی رہے گی اور یا حذف رہے گی۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ جبکہ اس کے مقابلے میں اس میں تفضیل اعلی اور اولی جیسے الفاظ ہیں، وہاں پر غیر انصراف کی وجہ صرف وزن نہیں ہے، بلکہ وزن فعل کے ساتھ وصف بھی ہے، اور اعلال کرنے کے بعد بھی اس وزن میں کوئی خرابی نہیں آتی۔ وہ اعلال کر دیں پھر بھی وزن فعل برقرار رہتا ہے اور وصفیت برقرار رہتی ہے، وہ اعلال کے بعد بھی غیر منصرِف رہتے ہیں، تو اس کی وجہ سے تنوین آخر سے گر جاتی ہے اور جب تنوین گرتی ہے تو وہ جو الف درمیان میں گر گیا تھا تنوین کے ساتھ اجتماع ساکنین ہونے کی وجہ سے وہ الف واپس آ جاتا ہے اور کیا بن جاتا ہے؟ اعلی اور اولی۔
اور پھر بتلایا تھا کہ صاحب فصول اکبری جو بہت بڑے صرفی گزرے ہیں، انہوں نے اس اشکال سے جان چھڑانے کے لیے اور اس سے بچنے کے لیے غواشین اور جوارین جیسے الفاظ کو قاضی کے ضابطے کے تحت رکھا ہی نہیں، بلکہ انہوں نے اس کو قاضی سے علیحدہ کر کے اس کے لیے باقاعدہ ایک الگ ضابطہ بیان کیا۔ اور وہ ضابطہ یہ کہ فواعل وزن پر، یعنی فواعل وزن صوری پر جو بھی لفظ آئے اور وہ ناقص ہو، آخر میں یا ہو، تو پھر اس صورت میں حالت رفی اور جری میں جبکہ وہ بغیر الف لام اور اضافت کے ہو تو وہ یا گر جاتی ہے اور را پر تنوین آ جاتی ہے، اور اضافت اور الف لام کی صورت میں یا گرتی نہیں، البتہ ساکن ہو جاتی ہے۔
اب جب یہ ضابطہ ذکر کر دیا تو اس ضابطے پر کوئی اشکال ہی نہیں ہوتا بھئی۔ کیونکہ ضابطے کے اندر تو فواعل وزن ذکر ہے جو کس کا وزن ہے؟ جمع منتہی الجمول۔ گویا یہ قانون صرف اسی سے متعلق ہے تو جو بھی لفظ آئے، اس کے اندر یہ اعلال کریں گے، یا کو گرا دیں گے حالت رفی جری میں جبکہ اس پر الف لام اور اضافت اس کی نہ ہو، اور اگر الف لام اور اضافت ہو حالت رفی جری میں، تو پھر یا کو کیا کر دیں گے؟ ساکن کر دیں گے۔
تو انہوں نے جو زیادہ مشقت تھی، اس کو تخفیف میں بدل دیا بھئی۔ آسان اس کے لیے الگ ضابطہ ہی بیان کر دیا جس پر اعتراض وغیرہ ہوتا ہی نہیں۔
تو کہتے ہیں ہم نے بھی انہی کے طریقے کو اختیار کیا اور اپنی اس کتاب میں ضابطہ نمبر 25 وہی ذکر کیا جو صاحب فصول اکبری نے ذکر کیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اس کے بعد مصنف نے ایک اور قیمتی بات ذکر کی تھی کہ قاضی یا جواری جیسے الفاظ جو ہیں جن کے آخر میں یا ہو اور یا سے ماقبل کیا ہو؟ کسرہ ہو، ان وہ جب معرف باللام ہوں، تو کبھی کبھار ان کے آخر سے یا کو عرب ویسے ہی گرا دیتے ہیں، حذف کر دیتے ہیں، تو الداعی اس کو وہ کیا پڑھتے ہیں؟ الداعی، الجواری اس کو وہ کیا پڑھتے ہیں؟ الجواری، التنادی اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ التنادی۔ تو یہ جو اسماء ہیں جو معرف باللام ہیں، آخر میں یا ہے، یا سے ماقبل کسرہ ہے تو اسم عرب بسا اوقات یا کو گرا دیتے ہیں تخفیف کے لیے۔
اب آئیے آج کے سبق کی طرف۔ دیکھیے کتاب پر صیغہ 44 ویں قرنا۔ جی قرنا صیغہ اب اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔
بیان: حسب بیان بعض مفسرین در اصل اقرار نہ بودا. کہتے ہیں بعض مفسرین کے بیان کے مطابق یہ دراصل اقرار نہ تھا، حسب قاعدہ مذکورہ آنفن، اسی ضابطے کے مطابق جو مذکور ہوا آنفن ابھی، وہی ضابطہ جو ابھی ذکر ہوا۔ کیا ذکر ہوا تھا؟ فضلتم کیا تھا؟ فضللتُم تو عرب کیا کرتے ہیں؟ مضاف کے اندر ایک متجانس کو حذف کر لیتے ہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہوا، اصل میں تھا اقررنا، تو اقرا کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا۔ کس طرح؟ اصل میں کیا تھا؟ اقرارنا۔ قر یقرو قراراً۔
جی تو اقرار نا کون سا صیغہ ہے؟ جمع مؤنث حاضر کا اور فعل کون سا ہے؟ امر ہے بھئی اقرارنا، اقرارنا۔ تو یہ اصل میں توجہ ہے، اقرارنا تھا پھر عرب کیا کرتے ہیں؟ متجانسین میں سے ایک کو بعض اوقات حذف کر لیتے ہیں۔ تو یہ جو پہلی را ہے اس پر فتحہ ہے اس را کا فتحہ قاف کو دے دیا اور را کو حذف کر دیا۔ توجہ ہے؟ را کو جو جس را پر فتحہ ہے اس را کا فتحہ قاف کو دیا اور را کو حذف کر دیا۔ اور جب قاف متحرک ہو گیا تو اب شروع میں ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی تو وہ گر گیا تو کیا بن گیا؟ کرنا۔ صورت سمجھ میں آ گئی تو کرنا گویا امر کا صیغہ ہے جمع مؤنث حاضر کا بھئی۔ اور ہفت اقسام میں یہ کیا ہے؟ مضاف ہے۔ مضاف ہے۔ تو کہتے ہیں حسب بیان بعض مفسرین در اصل اقرارنا بودا۔ بعض مفسرین کے بیان کے مطابق یہ اصل میں اقرارنا تھا حسب قاعدہ مذکورہ آنفاً۔ حسب قاعدہ مذکورہ آنفاً۔ آنفاً کا معنی ہے ابھی ابھی۔ لیکن یہ ماضی والا ابھی ہے۔ ماضی والا۔ دیکھو اردو میں دونوں کے لیے ابھی کا لفظ ہے۔ حال کے لیے بھی اور ماضی کے لیے بھی۔ میں نے ابھی آپ سے یہ بات کی تھی۔ توجہ ہے؟ یہ ابھی کون سی کس کے لیے استعمال کر رہا ہوں؟ ماضی کے لیے یعنی ابھی قریب کے زمانے میں، میں نے ابھی آپ سے یہ بات کی تھی، یہ ابھی کون سا ہے؟ ماضی والا ہے۔ اور ایک حال کے لیے بھی ابھی اردو میں بولتے ہیں۔ میں ابھی یہی بیان کر رہا ہوں دیکھو یہ کون سا ابھی ہے؟ حال کے لیے ہے۔ تو اردو میں ماضی کے لیے بھی ابھی بولتے ہیں اور حال کے لیے بھی ابھی جو قریب کی ماضی ہو اس کے لیے بھی ابھی بولتے ہیں اور حال کے لیے بھی ابھی بولتے ہیں۔ لیکن عربی میں الگ لفظ ہیں۔ حال کے لیے جو ابھی ہو اس کے لیے بولتے ہیں الان۔ ابھی الان اس وقت ابھی اور ماضی کے لیے جو ابھی ہے اس کے لیے بولتے ہیں آنفاً۔ کیا بولتے ہیں؟ آنفاً ابھی یعنی ابھی ماضی کے اندر قریب ہی قریب ہی بھئی۔ তো یہ ہے مذکورہ آنفاً ابھی جو ذکر کیا گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ تو کہتے ہیں حسب بیان بعض مفسرین در اصل اقرارنا بودا۔ بعض مفسرین کے بیان کے مطابق یہ اصل میں اقرارنا تھا حسب قاعدہ مذکورہ آنفاً۔ ابھی جو ذکر کیا گیا قاعدہ اس کے مطابق رائے اول را بعد نقل حرکتش حذف کردند۔ رائے اول را پہلی را کو بعد نقل حرکتش اس کی حرکت نقل کرنے کے بعد حذف کردند حذف کر دیا۔ حاجت ہمزہ وصل نہ ماند ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی لہذا بیفتاد لہذا وہ گر گئی، کرنا شد تو کرنا ہو گیا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ و در بیضاوی یک توجیه آن قرنا مثل خفنا۔ اور بیضاوی کے اندر اس کی ایک توجیه جو ہے وہ قرنا مثل خفنا ہے۔ یہ اپ کی کتاب میں حرکات وغیرہ غلط لگی ہیں، قیرنا نہیں بھئی، قرآن میں قیرنا آیا ہے یا قرنا آیا ہے؟ قرنا۔ تو یہ قیرنا نہیں ہے، قرنا ہے اور خفنا نہیں ہے، خفنا ہے۔ خفنا ہے۔ اچھا مجھے بتاؤ بھئی! خفنا کون سا صیغہ ہے؟ خفنا صیغہ جمع مؤنث غائب۔ کس طرح؟ خاف، خاف، خافو، خافت، خافتا، خفنا۔ تو فعل کون سا ہے؟ ماضی معروف۔ ماضی معروف میں جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے بھئی خفنا۔ اور ہفت اقسام میں کیا ہے؟ اجوف ہے بھئی، اجوف ہے۔ اجوف واوی، خاف یخاف۔ یہ تو تھا خفنا اور خفنا کون سا صیغہ ہے؟ خفنا جی؟ جمع مؤنث حاضر۔ شاباش جمع مؤنث حاضر ہے اور فعل کون سا ہے؟ امر ہے۔ خف، خافا، خافو، خافي، خافا، خفنا تو یہ خفنا امر کا صیغہ ہے بھئی۔ پیچھے بھی اقرارنا کون سا صیغہ تھا؟ امر کا تھا۔ تو یہ کرنا ہے۔ کرنا مثل خفنا، کرنا ہے کس کی طرح؟ خفنا کی طرح۔ از قارا یقارو اور کس مادے سے، کس باب سے ہے؟ قارا یقارو مثل خافا یا خافو۔ و معنا آن مقار ب مادہ قرار نوشتا۔ اور اس کا معنی جو ہے مقار ب مادہ قرار نوشتا مادہ قرار کے قریب لکھا ہے۔ اپنی تفسیر کے اندر علامہ بیضاوی نے اپنی تفسیر کے اندر بھئی اس میں ایک اور احتمال کیا لکھا ہے؟ یہ مضاف نہیں ہے بلکہ یہ اجوف ہے۔ اور قرہ مادہ نہیں ہے بلکہ مادہ کیا ہے؟ قارا ہے۔ اور امر کا صیغہ ہے کرنا اور کس کی طرح ہے؟ خفنا کی طرح اور اس کا معنی مادہ قرار کے قریب لکھا ہے، یعنی اس کے قریب ہے۔ اس کے کیا ہے؟ قریب ہے۔ قرار کا معنی ہے قرار پکڑنا، کہیں پر ٹھہرنا۔ کہیں پر ٹھہرنا۔ اور عورتوں کو حکم دیا جا رہا ہے نا کہ گھروں میں رہو۔ قرآن میں کس طرح آیا ہے؟ وقرنا فی بیوتکن۔ تو وقرنا امر ہے کہ عورتوں تم اپنے گھروں میں رہو، گھروں میں رہو۔ تو امر کا صیغہ ہے۔ مادہ اس کا اگر قرار ہو قاف را را قرار ہو تو پھر اس کا کیا معنی؟ قرار پکڑنا۔ علامہ بیضاوی نے دوسری توجیه کیا لکھی ہے؟ قارا یقارو سے ہے، اجوف ہے اور اس کا معنی قرار کے قریب لکھا ہے مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ و معنا آن مقار ب مادہ قرار نوشتا اور اس کا معنی جو ہے مادہ قرار کے قریب لکھا ہے اگر یہ اجوف ہو۔ قریب کس طرح ہے؟ قارا یقارو کا معنی ہے اجوف ہو تو اس کا معنی ہے جمع ہونا، اکٹھے ہونا۔ جمع ہونا اور اکٹھے ہونا تو یہ کہتے ہیں قرار کے قریب ہے۔ بھئی قریب کس طرح ہے؟ قرار کا معنی قرار پکڑنا اور قارا یقارو کا معنی جمع ہونا۔ کہتے ہیں بھئی جب جمع ہو جائیں گی ایک جگہ پر تو قرار پکڑ لیں گی کہ نہیں پکڑ لیں گی؟ تو تو یہ دیکھا تو یہ جمع ہونا قرار کے قریب ہے کہ اس میں بھی قرار پکڑنے والا معنی ہے بھئی۔ یہ معنی ہے و معنا آن مقار ب مادہ قرار نوشتا اور اس کا معنی جو ہے مادہ قرار کے قریب لکھا ہے۔ صیغہ چہلو پنجم پینتالیسواں صیغہ حجرات بیان جمع حجرت است یہ حجرت کی جمع ہے۔ در واحد عین ساکن است واحد میں عین ساکن ہے۔ حجرت حجرہ کمرے کو کہتے ہیں بھئی۔ حجرت جیم کیا ہے؟ ساکن ہے۔ تو مفرد میں تو جیم ساکن لیکن جمع کیا ہے؟ حجرات حجرات جیم پر ضمہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ جمع ہے حجرت کی در واحد عین ساکن است واحد کے اندر عین ساکن ہے۔ در جمع حسب قاعدہ کہ عین فعل بضم مؤنث و فعل را بوقت جمع با لف و تا ضمہ مہند ضابطہ سمجھ لو۔ ضابطہ آپ کو یہ بتلائیں گے ادھر دیکھیے کہ فعل اور فعلت توجہ ہے؟ فعل اور فعلت
تُ, جس میں فا پر ضمہ ہے اور عین ساکن ہے، ان کی جمع جب الف تا کے ساتھ بناتے ہیں (یعنی جمع مونث سالم جب ان کی بناتے ہیں) تو پھر عین کو ضمہ دے دیتے ہیں۔ تو فعل کی جمع کیا آئے گی؟ فعولات۔ اسی طرح فعلۃ کی جمع بھی کیا آئے گی؟ فعولات۔ اور یہ بھی بتائیں گے، اس میں فتحہ بھی جائز ہے (یعنی عین پر فتحہ پڑھو) تو فعل کی جمع کیا پڑھ سکتے ہو؟ فعالات اور فعلۃ کی جمع بھی کیا پڑھ سکتے ہو؟ فعالات۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جی۔
اور اگر فعلۃ وزن ہو یا فعلون ہو، توجہ ہے؟ جی۔ اگر فعلون یا فعلۃ وزن ہو، دیکھو، فا کے نیچے کسرہ اور عین کیا ہے؟ ساکن ہے، تو اس کے اندر یاد رکھو اس کی جمع کے اندر عین کو کسرہ دے دیں گے۔
جبکہ اس کی جمع کس کے ساتھ ہو؟ الف تا کے ساتھ، تو فعلون اور فعلۃ کی جمع کیا آئے گی؟ فعیلات۔ فعیلات، توجہ ہے؟ چونکہ فا کے نیچے کسرہ تو اس کے مناسب عین کو بھی کیا دے دیا؟ کسرہ دے دیا تو فعیلات، جیسے فعلون اور فعلۃ میں فا پر کیا تھا؟ ضمہ تو عین کو بھی کیا دے دیا؟ ضمہ۔ لیکن وہاں پر فعلون اور فعلۃ میں عین پر فتحہ بھی جائز تھا کیونکہ فتحہ اخف الحَرَکات ہے۔ اسی طرح فعلون اور فعلۃ کی جمع کیا آئے گی الف تا کے ساتھ؟ فعیلات کیا آئے گی؟ فعیلات اور اس میں بھی عین پر فتحہ بھی جائز ہے کیونکہ فتحہ اخف الحَرَکات ہے اور کیا پڑھ سکتے ہیں؟ فعالَات۔
اور اگر فعلون یا فعلۃ ہو، توجہ ہے؟ (یعنی فا پر فتحہ ہو) تو پھر اس کی جمع جب الف تا کے ساتھ آئے گی تو عین پر فتحہ ہوگا، یعنی فعالَات۔ فعلون اور فعلۃ کی جمع کیا آئے گی؟ فعالَات آئے گی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔
دیکھیے بھئی! کہتے ہیں حجرات، بیان جمع ہے، حجرتن استی، حجرتن کی جمع ہے، در واحد، عین ساکن است، واحد میں عین ساکن ہے، در جمع حسب قاعدہ کہ عین فعلون بزم مونث و فعلۃ را بوقت جمع بالف و تا ضمہ میدہند، اور جمع کے اندر اس ضابطے کے مطابق، کونسا ضابطہ خود بیان کر رہے ہیں؟ کہ عین فعلون بزم، کہ فعلون جو ضمہ کے ساتھ ہے (بزم سے کیا مراد ہے؟ یہ جو ضمہ کے ساتھ ہے) کہ عین فعلون بزم، کہ وہ فعلون جو ضمہ کے ساتھ ہے، اس کا عین مونث، اور وہ فعلون کیا ہو؟ مونث۔ بھئی دیکھو! یہ الف تا کی جمع جو آتی ہے، الف تا کے ساتھ، مذکر کی آتی ہے یا مونث کی آتی ہے؟ مونث کی آتی ہے۔ الف تا تو جمع مونث ہے نا! اور مذکر کیا ہے؟ واو نون کے ساتھ۔ فعلون کی جمع الف تا کے ساتھ تب آئے گی، جب وہ مونث والا فعلون ہو، مذکر والا فعلون نہ ہو۔ اس لیے کہا کہ عین فعلون بزم مونث، وہ فعلون جو مونث ہے اور ضمہ کے ساتھ ہے، اس کا عین جو ہے، اور اسی طرح و فعلۃ اور فعلۃ جو ہے، فعلۃ تو مونث ہے، اس کے ساتھ تو تا جڑی ہوئی ہے، نظر آرہی ہے، لیکن فعلون کے ساتھ تو تا جڑی ہوئی نہیں اور اس کی جمع ہمیشہ الف تا کے ساتھ نہیں آتی بلکہ جب وہ مونث ہو، تو پھر اس کی جمع کس کے ساتھ آتی ہے؟ الف تا کے ساتھ۔ تو ان دونوں کی جو عین جو ہے، را بوقت جمع، با الف و تا، اس کے عین کو کہ عین فعلون بزم مونث و فعلۃ را، کہ فعلون بزم مونث جو ہے اور فعلۃ جو ہے، ان کی عین کو بوقت جمع با الف و تا، الف و تا کے ساتھ جمع کے وقت ضمہ میدہند، عین کو کیا دے دیتے ہیں؟ ضمہ دے دیتے ہیں۔ جیم را ضمہ دادند تو یہاں پر بھی حجرات کے جیم کو ضمہ دے دیا، و فتحہ ہم در این صورت جائز است، اور فتحہ بھی اس صورت میں جائز ہے۔
و در فعلون بالکسر مونث و فعلۃ، اور فعلون کسرہ کے ساتھ مونث جو ہے، اس میں و فعلۃ اور فعلۃ میں، کسرتن جیسے کہ کسرتن لفظ ہے، اوپر کیا آیا تھا؟ ایک مثال ذکر کردی حجرات، یہ اب کیا ہے؟ کسرتن، اور کسرتن کس وزن پر ہے؟ فعلۃ۔ اب اس کی جمع بناؤ بھئی! الف تا کے ساتھ، کسرات۔ جی، ابھی ضابطہ بتایا! کسرات۔ ہاں! کسرا، سین کو کسرہ دے دو، کسرات اور اس میں کیا جائز؟ فتحہ یعنی کسارات بھی جائز ہے۔
تو کہتے ہیں و در فعلون بالکسر مونث و فعلۃ، چو کسرتن اور فعلون کسرہ کے ساتھ جو مونث ہے اور اسی طرح فعلۃ، چو کسرتن جیسے کہ کسرتن کا لفظ ہے، عین را کسرہ میدہند، عین کو کسرہ دے دیتے ہیں و گاہے فتحہ اور کبھی کبھار فتحہ بھی دیتے ہیں۔ و در امثال تمرتن، تمرات گویند، اور تمرتن جیسے لفظوں میں تمرات کہتے ہیں بفتح عین، کس کے ساتھ؟ عین کے فتح کے ساتھ۔ دیکھو! تمرتن فعلۃ وزن ہے۔ فعلون کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن مصنف نے ذکر نہیں کیا، لیکن میں نے بیان کر دیا کہ فعلون، فعلۃ ان میں ضمہ دیتے ہیں یا فتحہ، اور فعلون اور فعلۃ اس میں کسرہ دیتے ہیں عین کو یا فتحہ، فتحہ بھی جائز ہے، اور فعلون اور فعلۃ میں عین کو کیا دیتے ہیں؟ فتحہ۔ تو انہوں نے فعلون کو ذکر نہیں کیا، اس کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا، البتہ فعلۃ کی مثال تمرتن ذکر کر دی بھئی! تو کہتے ہیں و در امثال تمرتن، تمرات گویند، اور تمرتن کی جمع میں تمرات کہتے ہیں۔
بات سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا عبارتوں میں یہ لفظ آئے، مثلاً تمرات آئے تو آپ نے اس کو تمرات، میم سکون کے ساتھ نہیں پڑھنا، یہ ضابطہ ذہن میں رکھنا ہے۔ اسی طرح کسرتن کی جمع الف تا کے ساتھ آئے تو آپ نے کسرات نہیں پڑھنا۔ طلباء عموماً یوں کرتے ہیں جو مفرد ہوتا ہے اسی کے مطابق الف تا ساتھ جوڑ دیتے ہیں، انہوں نے ضابطہ بیان کر دیا ہے، اس کے مطابق آپ نے عین پر ضمہ، فتحہ یا کسرہ پڑھنا ہے۔
تو کہتے ہیں و در امثال تمرتن، تمرات گویند، اور تمرتن کی جیسی مثالوں کے اندر تمرات کہتے ہیں بفتح عین، عین کے فتحہ کے ساتھ۔ اور ایک اور بات یاد رکھنا کہ یہ جو ضابطہ انہوں نے ذکر کیا یہ فعلون، فعلۃ اور فعلون، فعلۃ اور فعلون، فعلۃ سے جو متعلق ہے، یہ ضابطہ صحیح سے متعلق ہے، جو ہفت اقسام میں صحیح ہے، باقی اس کے علاوہ جو ہے، اجوف، اجوف ناقص اور مضاف وغیرہ میں اس میں مزید تفصیل ہے جو فصول اکبری وغیرہ کتابوں کے اندر مذکور ہے بھئی! تو یہ جو ضابطہ ذکر ہوا، یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ ہفت اقسام میں صحیح کے ساتھ۔
اب بھئی! یہ صیغے تو آسان تھے کہ حجرات کس کی جمع ہے؟ حجرتن کی، بالکل آسان سی بات تھی۔ یہ صیغہ کیوں پوچھا مصنف نے؟ تو مصنف آگے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ صیغہ تو آسان تھا لیکن میں یہ ضابطہ اور یہ تفصیل بیان کرنا چاہتا تھا، اس لیے میں نے اس صیغے کو یہاں پر ذکر کیا۔
کہتے ہیں برائے تعلیم این قاعدہ این صیغہ نویسہ شد، اس ضابطے کی تعلیم کے لیے یہ صیغہ جو ہے لکھا گیا۔ الحمداللہ کہ این رسالہ بہ انجام رسید، الحمدللہ کہ یہ رسالہ جو ہے انجام کو پہنچا بفضلہ، اللہ کے فضل سے، جلّ تعالی۔
آءُ ہو، جل کا معنی ہے بڑا ہونا، عظیم ہونا۔ آلاء کہتے ہیں نعمتوں کو، جل آلاءہٗ، جس کی نعمتیں عظیم ہیں۔
الحمدللہ کہ یہ رسالہ اختتام کو پہنچا بفضلہٗ، کس کے فضل سے؟ اللہ کے فضل سے کہ جل آلاءہٗ کہ اس کی نعمتیں عظیم ہیں۔ جل فعل ہے نا، اور آلاءہٗ اس کے، اس کے لیے فاعل ہے، تو ترجمہ کیا کریں گے؟ اس کی نعمتیں عظیم ہیں۔
محتوی بر قواعدِ شُدہ۔ محتوی کا معنی ہے مشتمل ہونا۔ احْتَوٰی یَحْتَوِی کا معنی مشتمل۔ محتوی بر قواعدِ شُدہ، یہ جو رسالہ ہے، یہ مشتمل بر قواعدِ شُدہ، یہ ایسے ضابطوں پر مشتمل ہوا کہ نافعِ مبتدی و منْتہی است، جو کہ مبتدی اور منتہی کے لیے نافع ہے، یعنی ابتدائی طالبِ علم ہو، مبتدی ہو، اس کے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے اور جو منتہی طالبِ علم ہو یعنی اخری درجوں کا طالبِ علم ہو، اس کے لیے بھی یہ یہ مفید ہے، اس میں ایسی باتیں میں نے ذکر کی ہیں۔
بالخصوص بابِ افادات و خاتمہ، خاص طور پر افادات کا جو باب ہے اور خاتمہ جو ہے، مشتمل بر فوائد است، وہ ایسے فائدوں پر مشتمل ہے کہ اکثر کتبِ صرف ازاں خالی است، کہ اکثر کتبِ صرف اس سے خالی ہیں۔
و ادراکِ آن نہایت نافع، اور ان کا جاننا، ادراک کا کیا معنی؟ جاننا۔ اور ان کا جاننا نہایت نافع ہے، نہایت فائدہ مند ہے۔ مقصود بالذات استحصیلِ علمِ صرف، علمِ قرانِ مجید است۔ اور مقصود بالذات جو ہے تحصیلِ علمِ صرف سے، علمِ صرف کو حاصل کرنے سے، مقصود بالذات جو ہے علمِ قرانِ مجید ہے، قرانِ مجید است، وہ قرانِ مجید کا جاننا۔ علمِ صرف کا مقصد کیا ہے؟ اصل مقصد کیا ہے؟ کہ قرانِ مجید کو انسان اچھی طرح جان لے۔ تو کہتے ہیں، اور مقصود بالذات، یعنی اس کی ذات سے جو مقصود ہے، اس کا جو اصل مقصود ہے۔ مقصود بالذات استحصیلِ علمِ صرف علمِ قرانِ مجید است، کہ مقصود بالذات جو ہے علمِ صرف کو حاصل کرنے سے، وہ قرانِ مجید کا جاننا ہے۔
و در خاتمہ صیغِ قرانِ مجید مذکور شد، اور خاتمہ کے اندر قرانِ مجید کے صیغے مذکور ہوئے کہ ادراکِ اکثرِ آں، کہ ان میں سے اکثر کو جاننا، بہ مراجعَتِ کتبِ تفسیر، بغیر رجوع کیے کتبِ تفسیر کی طرف، دشوار است، مشکل ہے۔ کہتے ہیں یہ جو صیغے ہم نے خاتمہ میں ذکر کیے، یہ ان کو کتبِ تفسیر کی طرف رجوع کیے بغیر جاننا نہایت مشکل ہے بھئی۔ ہم نے قیمتی باتیں آپ کو بتلا دیں اور یہیں پر ان کو حل کر دیا۔
و در خاتمہ صیغِ قرانِ مجید مذکور شد اور خاتمہ میں قرانِ مجید کے وہ صیغے مذکور ہوئے کہ ادراکِ اکثرِ آں، کہ ان میں سے اکثر کو جاننا جو ہے، بہ مراجعَتِ کتبِ تفسیر دشوار است، بغیر رجوع کیے کتبِ تفسیر کی طرف مشکل ہے۔ ازیں انفع چہ خواہد بود؟ اس سے زیادہ نافع کیا ہوگا؟ اس سے زیادہ نافع اور کیا چیز ہوگی؟ کہ ہم نے آپ کو وہ صیغے بتا دیے کہ آپ کو مختلف تفاسیر اٹھا کر ان کو ڈھونڈنا پڑتا، ہم نے سب آپ کو اکٹھے ایک ہی جگہ بتا دیے۔ تو کہتے ہیں ازیں انفع چہ خواہد بود، اس سے زیادہ نفع والی اور کیا چیز ہوگی؟
و بہ می جہت، اور اسی جہت سے، اسی وجہ سے، و بسببِ اختتامِ ایں رسالہ، اور بوجہ اس رسالے کے ختم ہونے کے، در 1276، کتنا ہے؟ ہزار، ہزار کو فارسی میں بھی ہزار کہتے ہیں۔ 1200 ہے نا؟ تو کیا کہیں گے؟ ہزار و دو صد اور 76 ہے۔ 70 کو کہتے ہیں ہفتاد، اور چھ کو کہتے ہیں شش۔ تو کیسے بولیں گے؟ ہزار و دو صد و ہفتاد و شش۔ یعنی 1276۔ یا یوں کہہ دو، 1276۔ 1200 ہفتاد و شش 76 بھئی۔ یا یوں کہہ دو ہزار، واؤ درمیان میں لاتے جائیں گے، ہزار و دو صد و ہفتاد و شش بھئی۔
اور جدید فارسی میں دو صد کے بجائے دویست بولتے ہیں۔ ہزار و دویست و ہفتاد و شش، یعنی 1276 بھئی۔ تو دو صد کے بجائے دویست بولتے ہیں جدید فارسی میں۔ تو کہتے ہیں و بسببِ اختتامِ ایں رسالہ در 1276 ہجری نامش علمُ السیغہ گذاشتہ آمد۔ اس سن میں اس رسالے کے اختتام کی وجہ سے اس کا نام علمُ السیغہ گذاشتہ آمد قرار پایا۔
اس کا نام کیا قرار پایا؟ علمُ السیغہ۔ دو وجہ ذکر کیں کہ میں نے اس کا نام علمُ السیغہ کیوں رکھا؟ ایک وجہ یہ کہ چونکہ اس کے اندر قران کے مشکل صیغے میں نے آخر میں بیان کر دیے، اور دوسری وجہ یہ کہ 1276 میں یہ رسالہ پورا ہوا، سن 1276 میں۔ اور علمُ السیغہ کے جو عدد بنتے ہیں، لفظِ علمُ السیغہ کے وہ بھی 1276 ہیں۔
کتنے عدد بنتے ہیں؟ 1276۔ تو یہ دو وجہ سے اس کا نام میں نے علمُ السیغہ رکھا۔ ایک تو اس میں قران کے مشکل صیغے آئے، اور دوسری وجہ یہ کہ علمُ السیغہ کا عدد کتنا بنتا ہے؟ 1276، اور یہ رسالہ بھی کس سن میں مکمل ہوا؟ 1276 میں، تو اس کا نام علمُ السیغہ قرار پایا بھئی۔ کس طرح ہے 1276 عدد؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا حروفِ ابجد۔ میں نے بتلایا تھا کہ ہاں، یہ جو حاشیے میں 12 کا عدد لکھا ہوتا ہے، اس کا کیا معنی ہے؟ حد یعنی حاشیہ ختم ہو رہا ہے یہاں پر۔ یہ حروفِ ابجد ہیں، یہ آپ کو یاد ہونے چاہیے بھئی، یاد ہونے چاہیے، یہ تو ایک سطح ہے یاد کرنے والی بھئی، اس کو یاد کر لیں۔
بات سمجھ میں آ رہی؟ ایک سطح۔ یہ، لکھ لیں بھئی، لکھ لیں۔ جلدی سے لکھ لیں، میں لکھوا دیتا ہوں۔ اور ابھی آپ نے عدد بھی مجھے نکال کے بتانے ہیں کہ علمُ السیغہ کے عدد کتنے بنتے ہیں۔ جلدی لکھو بھئی، ایک سطح ہے، ایک سطح ہے۔ ابجد، ابجد، ملا کر لکھتے جاؤ، ابجد، ھوز، دو آنکھوں والی ہ، واؤ اور زا۔ ھوز، دو آنکھوں والی ہ، واؤ اور زا، لکھ لیا؟ حطی، ح، ط اور یا، ح، ط اور یا۔ کلمن، ک، ل، م، ن۔ کلمن، کلمن۔ کیا لکھا؟ ابجد، ھوز، حطی، کلمن۔ سعفص، س، ع، ف، ص۔ س، ع، ف، ص۔ سعفص۔ حرکات بھی لکھ لگاتے جاؤ اس پر بھئی۔ سعفص۔ قرشت، ق، دو نقطوں والا ق، ر، ش اور لمبی تا۔ قرشت، ق، دو نقطوں والا ق، ر، ش اور تا، قرشت۔
سخض، ص، ص ہے الف، با، تا، ص۔ ص، خ اور ذال۔ ص، خ اور ذال۔ سخض۔ ضضغ بھئی، ضضغ۔ کیسے؟ ضاد
ار ظا بطا ظا اور پھر غین
پھر غین ضاد پھر ظا ط ظا اور پھر غین ض ظغ
دیکھ لیا بس بھئی پورا ہوا بس اس کو یاد کر لو آپ حروف ابجد کے ماہر بن گئے بھئی۔
ابجد ہوز ہاں اعراب اور حرکات لگا لو ابجد
ہوز
حطی
کلمن
سعفص
قرشت
قرشت
سخض
سخض
ضظغ
حرکات لگا لیں ساری بھئی جی جی اور یہ حرکات ویسے یاد کرنے کے لیے ہیں اگر کوئی فرق بھی ہے مثلا بعض جگہ کلمن کی بجائے کلامن ملے گا وہ لام پر زبر پڑھیں گے تو یہ صرف یاد کرنے کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے کہ آپ کہیں یہاں پر لام پر زبر آئے گی یا زیر آئے گی نہیں جیسے آپ آسانی سے یاد کر سکیں۔
اب دیکھو
ترتیب سے دیکھتے جاؤ بھئی ابجد پر نظر رکھو نظر رکھو اس پر الف الف کا عدد ہے ایک با کا عدد ہے دو جیم کا عدد ہے تین دال کا عدد ہے چار دیکھا ترتیب سے چل رہے ہیں بھئی۔ جی ہاں ہوز ہا کا عدد ہے پانچ واؤ کا عدد ہے چھ زا کا عدد ہے سات حطی حا کا عدد ہے آٹھ ط کا عدد ہے نو اور نو کے بعد یا آ گئی یا کا عدد ہے دس۔
یا کا عدد دس۔
اب اس سے آگے دہائیاں چلیں گی۔
ابجد ہوز حطی کلمن کاف چھوٹا کاف جو ہے اس کے عدد ہیں بیس لام کا عدد ہے تیس میم کا عدد ہے چالیس نون کا عدد ہے پچاس دیکھو دس دس چلتے دہائیاں چل رہی ہیں نون کا عدد کتنا ہوا پچاس۔
آگے ہے سعفص سین کا عدد ہے ساٹھ عین کا عدد ہے ستر اور فا کا عدد ہے
جی
اسی
اور
صاد کا عدد
نوے
نوے
آگے ہے قرشت
قاف کا عدد ہے سو
اور آگے اب سینکڑے شروع ہوگئے تو را کتنے کے برابر دو سو شین تین سو لمبی تا چار سو اور
سخض سا
پانچ سو
خا
چھ سو
ذال
سات سو
آگے آگیا ضظغ ضاد
آٹھ سو
ظا ط ظا جو ہے ظا
نو سو
اور غین ہزار بھئی
ہزار بھئی
سارے حروف کے عدد پتہ چل گئے آپ کو۔
جی
اب حاشیے کے آخر میں لکھا ہوتا ہے بارہ۔ بارہ یہ بارہ کس کے حروف ہیں میں نے بتایا حد کے دیکھو اس میں حا کے کتنے عدد ہیں ذرا بتاؤ مجھے۔
آٹھ
اٹھ اور دال کے مجھے بتاؤ چار آٹھ اور چار بارہ۔ دیکھا یہ حد لکھ دیتے ہیں حاشیے کے آخر میں۔
بارہ کا عدد کہ یہاں حاشیے ختم ہو رہا ہے اس کی حد ہے۔
अच्छा اب علم الصیغہ کے ہم نے عدد نکالنے ہیں علم الصیغہ۔
اس میں یاد رکھو بھئی
حروف ابجد میں ادھر دیکھو ادھر دیکھو
تلفظ کا اعتبار نہیں ہے ورنہ اگر تلفظ کا اعتبار ہو تو علم الصیغہ۔ میں کوئی الف لام پڑھ رہا ہوں
نہیں نہیں تو پھر تو ان کے عدد شمار نہیں کرنے چاہیے لیکن رسم الخط میں الف لام لکھتے ہیں یا نہیں لکھتے تو اس میں کتابت کا اعتبار ہے جو جو حروف کتابت میں آتے ہیں ان کے عدد شمار ہوتے ہیں اور ایک اور بات یاد رکھنا حرف مشدد کو ایک شمار کرتے ہیں۔
حرف مشدد تو دراصل کتنے ہیں تلفظ میں دیکھو تو دو ہیں لیکن لکھنے میں کیا ہے ایک ہے اسی پر شد ڈالتے ہیں تو یہاں کتابت کا اعتبار ہے جب ایک ہے لکھنے میں تو شمار بھی ایک ہی دفعہ کرنا ہے۔
اب اس کے عدد نکالو علم الصیغہ عی کے کتنے عدد
ستر
عی کے کتنے عدد ہیں
ستر ہیں۔
اچھا لام کے
جی جی
لام کے تیس ہیں ستر اور تیس سو اچھا
میم کے
چالیس
میم کے چالیس ہیں
سو اور چالیس کتنے ہوگئے
ایک سو چالیس
اچھا
الصیغہ الف کے
ایک
کتنے ہوگئے ایک سو
اکتالیس جمع بھی کرتے جاؤ اچھا پھر آگے ہے
لام علم الصیغہ الف لام ہے نا تو لام کے کتنے عدد
تیس
پہلے کتنے تھے
ایک سو اکتالیس اور تیس اور ہوگئے
ایک سو اکہتر ہوگئے
ایک سو
اکتر
کیا بات ہے
کتنے ہوگئے
ایک سو اکہتر ہوگئے
اچھا
اس کے آگے آؤ ص۔ صا کے کتنے ہیں
نوے
نوے
ایک سو اکہتر اور نوے کتنے ہوگئے
دو سو اکسٹھ ہوگئے کتنے ہوگئے
دو سو اکسٹھ ہوگئے
اچھا
اس کے بعد ہے یا یا کے کتنے عدد
دس
یہ کتنے ہوگئے
دو سو اکہتر ہوگئے
دو سو اکہتر
اور آگے چلو
غین کے کتنے ہیں
ہزار
غین کے
ہزار ہیں بھئی
یہ کتنے ہوگئے
بارہ ہزار
بارہ سو اکہتر ہوگئے اور آگے ہے ہا اس ہا کے کتنے ہیں
پانچ تو بارہ سو اکہتر اور پانچ
چھتر
بارہ دیکھا بارہ سو چھتر
طریقہ سمجھ میں آیا بھئی تو یہ حروف ابجد کے اعتبار سے اس کا عدد بھی چونکہ بارہ سو چھتر بنتا تھا اور اسی سال میں جو رسالہ مکمل ہوا تو اس کا نام علم الصیغہ رکھا دو وجہ سے دو وجہ کیا؟
ایک تو اس میں قران کے صیغے بیان ہوئے اس لیے اس کا نام کیا رکھا علم الصیغہ یعنی صیغوں کو جاننا اور دوسرا اس کے تکمیل کا سال کون سا ہے بارہ سو چھتر اور اس اعتبار سے علم الصیغہ کے عدد بھی بارہ سو چھتر بنتے ہیں۔
تو کہتے ہیں وبہمی جہت اور اسی وجہ سے وبسبب اختتام این رسالہ اور وبوجہ اس رسالے کے پورا ہونے کے درہزار و دوصد و ہفتاد و شش ہجری نامش علم الصیغہ گزشتہ آمد بارہ سو چھتر ہجری میں اس کے مکمل ہونے کی وجہ سے نامش اس کا نام جو ہے علم الصیغہ گزشتہ آمد علم الصیغہ قرار پایا۔
وبسبب ظہور این قوانین جزيل التحقیق
اچھا آگے کچھ مشکل الفاظ ہیں ذرا ان کا معنی دیکھ لو۔
جزیلہ کہتے ہیں بہت زیادہ بہت کثیر
التحقیق جزیل التحقیق بہت زیادہ تحقیق والے
یہ قوانین کیا ہیں بڑی تحقیق
والے ہیں۔
وبپاس خاطر پاس کے معنی ہے رعایت رکھنا خیال رکھنا
خاطر خاطر کہتے ہیں دل کو
شفیق
شفقت کرنے والا
حقیق
لائق ہو جو
صلاحیت رکھنے والا قابل ہو جو قابل
حافظ وزیر علی صاحب یہ نام ہے
سلمہ
ان کو سلامت رکھے
رب المواہب
بخشیشوں والا رب
مواہب کا معنی ہے
بخششیں بھئی، موہبت کی جمع ہے.
رب المہوہب بخششوں کا جو رب ہے، بخششوں والا کا جو مالک ہے.
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
عربی میں رب کا لفظ مالک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے.
فقہ میں آپ پڑھیں گے جگہ جگہ آئے گا رب المال.
رب المال، کیا معنی؟
مال کا جو مالک ہے.
تو یہاں رب المہوہب کا کیا معنی؟
بخشیشوں کا جو مالک ہے.
یعنی اللہ تعالی.
ملقب یعنی جس کو لقب دیا گیا ہے، بقوانین جزیلہ حافظیہ کردہ شد.
یعنی اس
یہ اس کا نام رکھ اس کا لقب رکھا گیا.
اس کا نام تو ہے علم الصیغہ.
علم الصیغہ، ہمارے علما کا طریقہ.
باعض اوقات وہ کتاب کا نام بھی رکھتے ہیں اور اس کا لقب بھی رکھتے ہیں.
لقب بھی رکھتے ہیں.
تو نام اس کا کیا؟ علم الصیغہ اور لقب کیا؟
قوانین جزیلہ حافظیہ.
جزیلہ کثیر بھئی بہت زیادہ.
قوانین جزیلہ حافظیہ.
یعنی حافظ وزیر علی صاحب کی وجہ سے لکھا نا تو ان کی نسبت کر دی.
لاہوریون کا کیا معنی؟
لاہور والا لاہور والا تو یہاں حافظیہ کیا معنی؟
حافظ والے یعنی حافظ وزیر علی صاحب والے قوانین جزیلہ، کثیر قوانین.
اب ترجمہ سنو بھئی.
کہتے ہیں وبسبب ظہور این قوانین جزیلۃ التحقیق اور اس وجہ سے کہ ان قوانین کا جو ظہور ہے، ظاہر ہونا ہے وہ قوانین جزیلۃ التحقیق جو بڑی تحقیق والے ہیں.
با پاس خاطر شفیق شفیق حق با پاس خاطر جو دل کی رعایت رکھنے کے لیے.
دل کی کس کے دل کی رعایت؟ شفیق وہ جو شفقت کرنے والے ہیں، حقیق وہ جو قابل ہیں، لائق ہیں، باصلاحیت ہیں (یعنی کہ حافظ وزیر علی صاحب) کہ سلمہ رب المہوہب کہ بخششوں کا مالک جو ہے ان کو سلامت رکھے.
چونکہ ان کی وجہ سے یہ قوانین جو ہیں ظہور میں آئے.
بسبب ظہور این قوانین اس وجہ سے کیونکہ یہ قوانین ظہور میں آئے کس کی وجہ سے؟
با پاس خاطر شفیق حقیق حافظ وزیر علی صاحب.
حافظ وزیر علی صاحب.
کے دل کی رعایت رکھنے کے لیے توجہ ہے؟
किस वजह से ये قوانین ظہور میں آئے یعنی لکھے گئے؟
حافظ وزیر علی صاحب کے دل کی رعایت بھئی حافظ وزیر علی صاحب نے خواہش ظاہر کی تھی نا یہ اینڈیمان قید خانے میں تھے وہاں پر وہ بھی قید تھے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ حضرت آپ بھی قید یہاں اور ہم بھی قید ہیں تو ہم آپ سے علمی کچھ علمی نفع اٹھا لیتے ہیں آپ مجھے اگر عربی زبان کے ابتدائی صرف کے قوانین مجھے پڑھا دیں.
مولانا جو ہیں لکھتے تھے اور پھر ان کو ساتھ ساتھ پڑھاتے جاتے تھے اس طرح یہ قوانین لکھے گئے سارے بھئی.
تو کس کے دل کی رعایت رکھنے کے لیے یہ لکھے گئے؟
حافظ وزیر علی صاحب یعنی ان کے دل کی رعایت رکھی ان کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہ قوانین جمع کیے.
اب بامحاورہ ترجمہ دیکھو بھئی.
وبسبب ظہور این قوانین جزیلۃ التحقیق با پاس خاطر شفیق حقیق حافظ وزیر علی صاحب سلمہ رب المہوہب ملقب بقوانین جزیلہ حافظیہ کردہ شد.
کہتے ہیں چونکہ یہ جو قوانین ہیں جو بڑی تحقیق والے ہیں ان کو حافظ وزیر علی صاحب کے دل کی رعایت رکھنے کے لیے جو کہ بڑے شفیق ہیں، بڑے قابل ہیں اور بخششوں کا مالک ان کو سلامت رکھے چونکہ ان کی وجہ سے یہ قوانین جزیلہ جو ہیں وہ ظاہر ہوئے یعنی لکھے گئے اس لیے ملقب بقوانین جزیلۃ حافظیہ کردہ شد اس لیے یہ قوانین جزیلۃ حافظیہ کے ساتھ ان کو ملقب کیا گیا یعنی یہ اس کا ان کا لقب رکھا گیا.
ترجمہ سب کو سمجھ میں آگیا؟
خدائے تعالی قبول فرماید اللہ تعالی اس کو قبول فرمائیں.
و حقیر گنہگار نامہ سیاہ تباہ روزگار از مکاری دنیاویہ برآوردہ عافیت تامۃ عنایت فرمود.
جی یہاں بھی یہ مشکل الفاظ آ رہے ہیں دیکھتے جائیے بھئی.
حقیر بھئی حقیر کا معنی ظاہر ہے عاجزی کے طور پر اپنا ذکر کر رہے ہیں کہ میں جو حقیر انسان ہوں ادنی درجے کا ہوں گنہگار بھئی گنہگار انسان ہوں نامہ سیاہ یعنی میرا نامہ اعمال کیا ہے سیاہ ہے سیاہ ہے یعنی گناہوں سے بھرا ہوا ہے.
معنی سمجھ میں آرہا ہے؟
عاجزی کرتے ہوئے مصنف فرما رہے ہیں اللہ کے حالانکہ نیک بندے ہیں ولی ہیں لیکن عاجزی کے طور پر فرما رہے ہیں.
اور انسان کو ایسا ہی ہونا چاہیے اپنی نیکیوں پر اپنے اوپر غرور نہیں ہونا چاہیے ہر وقت یہی خیال رہے کہ پتہ نہیں میری یہ نیکیاں اللہ قبول فرماتے ہیں یا نہیں اور کہیں ایسا نہ ہو میرے کسی گناہ کی وجہ سے اللہ میری پکڑ فرما لیں تو چنانچہ عاجزی کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ یہ جو حقیر ہے گنہگار ہے نامہ سیاہ جس کا نامہ اعمال کیا ہے سیاہ ہے یعنی گناہوں سے بھرا ہوا ہے تباہ روزگار روزگار کہتے ہیں زمانے کو تباہ روزگار زمانے کے تباہ.
میں کیا ہوں زمانے کا تباہ حال انسان ہوں گناہوں کی وجہ سے میں نے اپنے آپ کو کیا کر لیا ہے تباہ تو زمانے کا تباہ انسان ہوں میں.
از مکاری دنیاویہ مکاری جمع ہے مکرح کی یا مکروہ کی اور مکرحون کہتے ہیں ناپسندیدہ چیز کو.
مکاری دنیاویہ دنیا کے ناپسندیدہ کاموں سے برآوردہ باہر نکال کر.
عافیت تامۃ عنایت فرمود عافیت تامۃ جو ہیں اللہ عنایت فرما کر.
از مکاری دنیاویہ برآوردہ دنیاوی ناپسندیدہ چیزوں سے یعنی دنیاوی خرابیوں سے برائیوں سے برآوردہ باہر نکال کر عافیت تامۃ عنایت فرمود عافیت تامۃ عنایت فرمائے.
عنایت فرمانے کا معنی دینا دینا عطا کرنا.
اور عافیت کہتے ہیں مکمل سلامتی کو بھئی یعنی ہر قسم کے امراض اور آفتوں سے سلامتی.
ہر قسم کے توجہ ہے.
حدیث میں آتا ہے بھئی انسان کو اپنے لیے عافیت کی سوال کرنا چاہیے بھئی.
اللہ جس کو عافیت دے دیں سب کچھ آ گیا بھئی اس میں بدنی سلامتی بھی آ گئی اس میں ہر قسم کی آفتوں سے سلامتی بھی آ گئی.
تو دنیاوی خرابیوں سے دنیاوی برائیوں سے باہر نکال کر عافیت تامۃ عنایت فرمود کامل عافیت عطا کر کے بر آستانہ خود و آستانہ حبیب خود برسانند.
آستانہ کہتے ہیں چوکھٹ کو.
دہلیز کو بھئی یہ دروازہ ہے دروازے کا جو.
آج کل تو یہ نہیں بناتے عموماً دروازے کے نچلے حصے میں بھی ایک لکڑی ہوتی تھی دیکھی ہوگی آپ نے.
یہ جو نیچے والی دروازے کے نیچے زمین کے ساتھ لکڑی لگی ہوئی ہے اس کو کہتے ہیں چوکھٹ بھئی دہلیز بھئی دہلیز.
تو اس کو آستانہ کہتے ہیں فارسی میں.
تو اللہ تعالی کہتے ہیں مجھے کامل عافیت عطا فرما کر بر آستانہ خود اپنی دہلیز پر اللہ کیا کریں مجھے اپنی دہلیز پر.
و آستانہ حبیب خود اور اپنے محبوب کی دہلیز پر برساند پہنچا دیں.
اللہ مجھے اس دنیا کی خرابیوں سے بچاتے ہوئے اور پوری عافیت عطا کر کے مجھے کہاں پہنچا دیں؟
اپنی چوکھٹ پر اور اپنے محبوب کی چوکھٹ پر پہنچا اپنی چوکھٹ پر یعنی بیت اللہ بھئی.
اور اپنے محبوب کی چوکھٹ یعنی مدینہ منورہ مراد ہے کہ وہاں اللہ مجھے پہنچنے کی توفیق نصیب فرما دیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور پر۔
بر آستانہ خود اپنے چوکھٹ پر و آستانہ حبیب خود اور اپنے محبوب کے چوکھٹ اور دہلیز پر برسانند پہنچا دے۔
و محبی و محسنی و شفیقی و محبی یہ یا متکلم کی ہے محبی اور جو میرے محب ہیں محب کا کیا معنی؟ محبت کرنے والا یعنی جو مجھ سے محبت کرنے والے ہیں اور محسنی اور مجھ پر احسان کرنے والے ہیں شفیقی اور مجھ پر شفقت کرنے والے جو ہیں حافظ وزیر علی صاحب باعث تصنیف کتاب جو اس کتاب کی تصنیف کا باعث بنے ہیں۔
راہ باہما وجوہ ان کو ہر اعتبار سے باہما وجوہ ہر اعتبار سے مرفوع الحال۔
مرفوع الحال کہتے ہیں آسودہ حال یعنی خوشحال کیا معنی مرفوع الحال کا؟ خوشحال یعنی جو انسان جس کے پاس مال ہو آسانی سے زندگی گزارنے والا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ خوشحال مرفوع الحال۔
تو ان کو اللہ تعالی جن جو اس کتاب کی تصنیف کا باعث بنے ہیں ان کو اللہ تعالی ہر اعتبار سے مرفوع الحال خوشحال و مقضی المرام مقضی کا معنی پورا کیا ہوا اور مرام کہتے ہیں مقصد کو مقصد کو یعنی ان کے مقصد کیا ہوں؟ پورے ہوں۔
و فائز فائز کا معنی کامیاب بمرادات دینی و دنیاوی مرادات جو مراد ہیں جو مقاصد ہیں جو ارادے ہیں دینی اور دنیاوی دارد رکھے دارد رکھ کیا معنی؟ پھر سنو ترجمہ۔
اپنے لیے تو دعا کر لی کہ اے اللہ مجھے کہاں پر پہنچا دے اپنی چوکھٹ پر اور اپنے محبوب کی چوکھٹ پر یعنی وہاں پر دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ مجھے مکہ اور مدینہ کی کی زیارتیں نصیب فرما، وہاں کا سفر نصیب فرما، وہاں پہنچا دے۔
اور آگے جو اس کتاب کا باعث بنے حافظ وزیر علی صاحب اگر ان کی خواہش اور اصرار نہ ہوتا تو یہ کتاب وہ کبھی بھی نہ لکھتے تو اس لیے ان کو بھی بار بار ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں محبی محسنی شفیقی مجھ سے محبت کرنے والے مجھ پر احسان کرنے والے مجھ پر شفقت کرنے والے حافظ وزیر علی صاحب جو اس تصنیف کا باعث بنے ہیں ان کو اے اللہ ہر اعتبار سے خوشحال اور مقاصد کو پورا کیا ہوا اور مرادات کے ساتھ کامیاب ہونے والا دینی اور دنیاوی اعتبار سے دارد ان کو اے اللہ رکھ دے۔
ان کو ایسا رکھ کہ یہ ہر اعتبار سے کیا ہوں؟ خوشحال ہوں مقضی المرام اور ان کے مقاصد کیا ہوں؟ پورے ہوں۔
و فائز بمرادات دینی و دنیاوی اور ان کے دینی اور دنیاوی جو بھی مرادات ہیں جو ارادے ہیں وہ ان میں کامیاب ہوں یعنی وہ پورے ہوں ان کو اللہ ایسا فرما۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین اور ہماری آخری دعا آخری پکار کیا ہے؟ کہ الحمد للہ رب العالمین تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے والصلوۃ والسلام علی حبیبہ اور رحمت اور سلامتی نازل ہو علی حبیبہ اللہ کے محبوب پر سید المرسلین جو تمام انبیاء کے سردار ہیں و آلہ اور ان کی آل پر یعنی جو ان کی پیروی کرنے والے نیک مسلمان ہیں و اصحابہ اور ان کے تمام صحابہ پر اجمعین سارے کے سارے تمام کے تمام صحابہ پر رحمت اور سلامتی نازل فرما آمین۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ ترجمہ صحیح سمجھ میں آگیا؟
چلیے اب اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیں۔
51 واں صیغہ قرنا عبارت مل گئی؟ 51 واں صیغہ قرنا بیان بعض مفسرین کے بیان کے مطابق دراصل اقر رنا تھا مذکورہ قاعدہ کے مطابق رائے اول کو اس کی حرکت نقل کر کے حذف کیا، حمزہ وصل کی حاجت نہ رہی اس لیے گر گیا قرنا ہوا۔
اور بیضاوی میں اس کی ایک توجیہ یہ لکھی ہے کہ قار یا قارو مثل خاف یا خاف اسے قرنا مثل خفن ہے اور اس کے معنی مادہ اقرار کے قریب قریب لکھے ہیں۔
52 واں صیغہ حجرات بیان حجرت کی جمع ہے واحد میں عین ساکن ہے جمع میں جیم کو ضمہ اس قاعدے سے دیا گیا ہے کہ فعل بمضمون اور فعلت کی عین کو جمع بلام ہو تا کے وقت ضمہ دے دیتے ہیں اور فتحہ بھی اس صورت میں جائز ہے۔
اور فعل بالمکسر مؤنث و فعلت مثل کصرت میں عین کو کسرہ دیتے ہیں اور کبھی فتحہ۔
اور تمرت کی امثال میں تمرات بفتح عین کہتے ہیں یہی قاعدہ بیان کرنے کے لیے یہ صیغہ لکھا گیا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے بھئی الحمد للہ کہ یہ رسالہ اختتام پذیر ہوا اور بفضل خدا جل جلالہ۔
کیا معنی جل جلالہ؟ کہ اس کی نعمتیں بڑی عظیم ہیں بڑی بڑی ہیں۔
کہ ایسے قواعد پر حاوی ہو گیا جو مبتدی و منتہی کے لیے نافع ہیں بالخصوص باب افادات اور خاتمہ ایسے فوائد پر مشتمل ہے کہ جن سے اکثر کتب صرف خالی ہیں اور جن کا جاننا انتہائی مفید ہے۔
اس کا نام علم الصیغہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ تحصیل علم صرف سے مقصود بذات قرآن مجید کا علم ہے اور خاتمہ میں قرآن مجید کے ایسے صیغے مذکور ہیں کہ ان میں سے اکثر کا ادراک کتب تفسیر کی مراجعت کے بغیر دشوار ہے۔
اس سے زیادہ نافع کیا ہوگا؟ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ رسالہ 1276 ہجری میں مکمل ہوا ہے اور یاد رکھیے 1276 ہجری میں یہ رسالہ مکمل ہوا اور 1277 ہجری یعنی ایک سال کے بعد ہی اللہ تعالی نے غیب سے ان کے رہائی کے اسباب بنا دیے اور ان کو وہاں کالا پانی جیل سے رہا کر دیا گیا۔
اور چونکہ ان قوانین جزیلۃ التحقیق کا ظہور شفیق حق حافظ وزیر علی صاحب سلمہ رب المواہب کے پاس خاطر کے لیے ہوا اس لیے رسالہ کو قوانین جزیلۃ الحافیظہ کا لقب دے دیا گیا۔
اللہ تعالی قبول فرماے اور حقیر گنہگار سیاہکار و تباہ حال کو مکروہات دنیاویہ سے نکال کر عافیت تامہ عنایت فرماے اور اپنے آستانہ اور اپنے حبیب کے آستانہ پر پہنچا دے اور محبی محسنی شفیقی حافظ وزیر علی صاحب کو جو اس کتاب کی تصنیف کا باعث ہوئے ہر اعتبار سے خوشحال کامیاب اور دینی و دنیاوی مرادوں سے مالا مال رکھے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ والسلام علی حبیبہ سید المرسلین و آلہ و اصحابہ اجمعین۔
چلیے الحمد للہ بھئی علم الصیغہ فارسی بھی مکمل ہوا اور اردو بھی مکمل ہوا آپ سب حضرات کو بھی مبارک ہو بھئی۔
اور انشاءاللہ اگلے سبق میں ہم خاصیات ابواب شروع کریں گے۔
اور وہ بھی مختصر ہیں انشاءاللہ وہ بھی اللہ جلد مکمل کرنے کی توفیق دے دیں گے۔
چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام