Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 44
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ مہموز الف و اجوف یائی از باب ضرب یعید قویشودن عاد یعید عیداً فھو عائد تا آخر چوں باع یبیع تا آخر۔ دریں باب ہم ضابطہ مرقومہ مرعی باید کرد، پس در یعید بر قاعدہ رأس، قاعدہ یبیع ترجیح یافت۔ و ہم چنیں در یعید صیغہ واحد متکلم، لیکن بالآخر ہمزہ دوم بقاعدہ ائمتہ یا شدہ۔ مہموز الف و ناقص واوی از نصر، الک و کوتاہی کردن، علا یعلو۔ در ہمزہ قاعدہ مہموز و در واو قاعدہ ناقص جاری باید کرد۔ م مرکبات کی گردانیں شروع کی تھیں کل ہم نے مہموز اور معتل کے جو مرکبات ہیں۔ اگلی گردان جو ہے وہ مہموز الف بھی ہے اور اجوف یائی بھی ہے باب ضربہ سے، العید قویشودن، قوی ہونا، طاقتور ہونا۔ عاد یعید عیداً فھو عائد تا آخر۔ سنائیے بھئی، آپ عاد یعید سے صرف صغیر سنائیے بھئی۔ باع یبیع کی طرح، بس یہ ذہن میں رکھو، جی سنائیے بھئی۔ عاد یعید عیداً فھو عائد وعید یعاد عیداً فذاک معید لم یعید لم یعاد لا یعید لا یعاد لن یعید لن یعاد العالمین۔ [unclear] ہاں، پھر سناؤ بھئی، بس پریشان نہیں ہونا، صرف ایک صیغہ آئے گا، وہ مضارع کے متکلم کا صیغہ۔ وہاں ہمزہ واو سے بدلے گا، بس، باقی کہیں کچھ نہیں ہے، سیدھا سیدھی گردان ہے، جی۔ عاد یعید عیداً فھو عائد وعید یعاد عیداً فذاک معید لم یعید لم یعاد لا یعید لا یعاد لن یعید لن یعاد العالمین اید لتعدلی اعد یعاد والنز عن لا تعد لا تعد لا یعد لا یعاد والظرف من معید والجمع معاید والآلہ من میعد میعدۃ میعاد والجمع معاید ومعاید وأفعل التفضیل المذکر من عاید والجمع أواید والمؤنث من عود عودیات عود۔ شاباش۔ جی ماضی سنائیے بھئی عاد۔ عاد عادا عادو عادت عادتا ادنا ادت ایتما ایتم ایت ایتما ایتنا ایتو ادنا۔ بھئی سب کو گردان سمجھ میں آ رہی ہے بھئی، باع یبیع کی طرح ہے باع با با عو با عت با عتا بیعنا تو یہاں بھی عاد عادا عادو عادت عادتا ادنا۔ جی۔ پھر سنائیے ماضی بھئی۔ عاد عادا عادو عادت عادتا ادنا ادت ایتما ایتم ایت ایتما ایتنا ایتو ادنا۔ جی مجہول سنائیے بھئی عیدا۔ عید عیدا عیدو عیدت عیدتا ادنا ادت ایتما ایتم ایت ایتما ایتنا ایتو ادنا۔ مضارع بھئی یعید۔ یعید یعیدان یعیدون تعد تعدان یعدنا تعد تعدان یعیدون تعدین تعدان تعدنا عید نا عید۔ آئید [unclear] شاباش۔ مضارع کے اندر متکلم کے صیغے میں دو ہمزہ جمع ہو گئے۔ ائید، نائید تو ائید میں کتنے ہمزہ ہیں؟ دو ہمزہ ہیں۔ جب دو ہمزہ متحرک جمع ہو جائیں۔ تو وہ آمتہ والا قانون لگا ہوا ہے قوئی، آمتہ۔ دو ہمزہ جمع ہو گئے، دونوں متحرک ہیں اور دونوں میں سے کسی ایک پر بھی کسرہ ہو تو پھر ثانی کو یا سے بدلتے ہیں۔ تو صیغہ کیا ہے؟ آئید، دیکھو دونوں ہمزہ متحرک ہیں اور دوسرے ہمزہ پر کسرہ ہے، تو وہ کس سے بدل جائے گا؟ یا سے بدل جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ آئید ہوا، آئید نائید، دوسرے نائید میں ہمزہ نہیں بدلے گا۔ جی، پھر سنائیے بھئی مضارع بھئی یعید۔ یعید یعیدان یعیدون تعد تعدان یعدنا تعد تعدان یعیدون تعدین تعدان تعدنا عید نا عید۔ اب مضارع مجہول سنائیے بھئی، یعاد۔ یعاد یعادا یعادت توعاد توعادا توعادنا توعاد توعادانی توعادونا توعادت توعادانی توعدنا اوواد نوادو۔ یہاں کیا ہوگا؟ اوواد نوادو۔ اوواد متکلم کے صیغے میں ہمزہ واو سے بدلے گا دوسرا ہمزہ، اصل میں کیا تھا؟ اوواد۔ اوواد، دیکھو دو ہمزہ جمع ہوئے اور دونوں متحرک ہیں۔ پھر دیکھا جاتا ہے کسی ایک پر کسرہ تو نہیں، اگر کسرہ ہو تو ثانی کو یا سے بدلتے ہیں، لیکن یہاں اوواد، کسی ایک ہمزہ پر بھی کسرہ نہیں، تو اس صورت میں پھر ثانی کو کس سے بدلیں گے؟ واو سے۔ واو سے بدلیں گے بھئی۔ تو اوواد ہوا، پھر سنائیے بھئی۔ یعاد یعادا یعادت توعاد توعادا توعادنا توعاد توعادانی توعادونا توعادت توعادانی توعدنا اوواد نوادو۔ شاباش۔ جی لن یعید۔ لن یعید لن یعیدا لن یعیدو لن تعد لن تعدا لن یعیدنا لن تعد لن تعدا لن یعیدو لن تعدی لن تعدا لن تعدنا لن آئید لن نائید۔ شاباش بھئی، تو یہ ساری گردان باع یبیع کی طرح ہے بھئی، بس صرف یہ ایک صیغے میں تبدیلی آ رہی ہے، باقی سارے اسی طرح۔ لن یعاد۔ لن یعاد لن یعادا لن یعادو لن توعاد لن توعادا لن یعادنا لن توعاد لن توعادا لن توعاد و لن توعادی لن توعادا لن توعدنا لن اوواد لن نوادا۔ شاباش۔ لم یعید۔ لم یعید لم یعیدا لم یعیدو لم تعد لم تعدا لم یعیدنا لم تعد لم تعدا لم یعیدو لم تعدی لم تعدا لم تعدنا لم آئید لم نائید۔ شاباش، لم آئید، لم نائید۔ جی لم یعاد۔ لم یعاد لم یعادا لم یعادو لم توعاد لم توعادا لم یعادنا لم توعاد لم توعادا لم توعاد و لم توعادی لم توعادا لم توعادنا لم اوود لم نوود۔ شاباش۔ الأمر منہ اد۔ اد اید ایدو الامر منہ اد، باع کی طرح ہے بھئی، جی، الامر منہ اد۔ اد اید ایدو ایدی ایدا ادنا۔ لیتعد۔ لیتعد لیتعادا لیتعادو لیتعادی لیتعادا لیتعادنا۔ لییعید۔ لییعید لییعیدا لییعیدو لیتعد لیتعدا لییعیدنا لییدلی نائید۔ لییعاد۔ لییعاد لییعادا لییعادو لیتعد لیتعادا لییعادنا لیوود لنود۔ والنھی عنہ لاتعد۔ لاتعد لاتعادا لاتعادو لاتعدی لاتعادا لاتعادنا۔ لاتعاد۔ لاتعاد لاتعادا لاتعادو لاتعدی لاتعادا لاتعادنا لاتعادنا۔ جی شاباش، دیکھ رہے ہیں بھئی! باع یبیع کی طرح سب گردانیں چل رہی ہیں۔ ہاں جی، آگے سنائیے بھئی، لا یعید۔ لا یعید لا یعیدا لا یعیدو لا تعد لا تعدا لا یعیدنا لا آئید لا نائید۔ لا یعاد۔ لا یعاد لا یعادا لا یعادو لا توعاد لا توعادا لا یعادنا لا اوود لا نوود۔ شاباش شاباش۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔ کہتے ہیں مہموز الف و اجوف یائی از ضرب، مہموز الف و اجوف یائی باب ضربہ سے، العید قویشودن، طاقتور ہونا، قوت والا ہونا۔ عاد یعید عیداً فھو عائد تا آخر، چوں باع یبیع تا آخر، جیسے کہ باع یبیع ہے آخر تک۔ دریں باب ہم ضابطہ مرقومہ مرعی باید کرد، دریں باب ہم، اس باب میں بھی، ضابطہ مرقومہ، مرقومہ کا معنی ہے مکتوبہ، لکھا ہوا، جو ابھی ہم نے اوپر ضابطہ لکھا۔ کیا ضابطہ لکھا بھئی ابھی انہوں نے؟ کل کے سبق کے آخر میں آیا تھا، کہ جہاں پر بھی مہموز اور معتل کے ضابطے میں ٹکراؤ آئے، تو ترجیح کس کو ہوگی؟ معتل کو۔ بس اسی کہہ رہے ہیں، اس ضابطے کا خیال رکھنا۔ تو کہتے ہیں دریں باب ہم ضابطہ مرقومہ مرعی باید کرد، اس باب کے اندر بھی ضابطہ مرقومہ، لکھے ہوئے ضابطے کی، مرعی باید کرد، اس کی رعایت کرنی چاہیے۔ پس در یعید، پس یعید، یعید بھئی۔ یعید۔ یعید اصل میں کیا تھا؟ یبیع اصل میں کیا تھا؟ یبیع۔ یبیع تو یعید اصل میں کیا تھا؟ یعد۔ یعد۔ یعد۔ یعد تو ہمزہ ساکنہ آ رہا ہے اور ماقبل فتحہ ہے، تو یہاں رأس والا قانون متوجہ ہوا۔ رأس میں ہمزہ کو الف سے بدلنا جائز۔ راسن۔ تو یہ مہموز کا ضابطہ تقاضا کیا کر رہا ہے کہ اس ہمزہ کو بھی کس سے بدل دو؟ الف سے اور یعید، اس کو کیا پڑھو؟ یاید، کیا پڑھو؟ یاید۔ اور جب کہ معتل کا ضابطہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس یا کی حرکت نقل کر کے ماقبل ہمزہ کو دے دو۔ یع، یا کی حرکت کس کو دے دی؟ با کو، یبیع ہوا۔ اسی طرح یہاں پر بھی۔ یا یعد، یا کی حرکت کس کو دے دی؟ ہمزہ کو، تو کیا بن گیا؟ یعید، عاد یعید، آپ نے بھی گردان یہی پڑھی، دیکھا معلوم کس ضابطے کو ترجیح دی گئی؟ معتل کو۔ تو کہتے ہیں پس در یعید، پس یعید کے اندر، بر قاعدہ رأس، راس کے ضابطے پر، تو قاعدہ یبیع ترجیح یافت، یبیع کے ضابطے نے ترجیح پا لی۔ و ہم چنیں در یعید، صیغہ واحد متکلم، اور اسی طرح ہے یعید صیغہ واحد متکلم میں۔ یعید، اصل میں کیا تھا؟ مادہ کیا ہے؟ ہمزہ، یا، دال، جی۔ ترتیب دو۔ ضرب سے آزریبو، آزریبو، باب ضربہ سے ہے نا، صحیح سے وہ صیغہ نکالا کرو۔ کیا بنا؟ آزریبو۔ آزریبو، ہاں۔ آزریبو، جی۔ آئید۔ آئید، طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی، صحیح میں سے وہی صیغہ نکال لو، متکلم کا، آزریبو، آئید۔ پھر۔ دو ہمزہ اکٹھے ہوئے، آئید، آئید، دو ہمزہ ہیں اور ثانی ہمزہ ساکن ہے اور اس صورت میں واجب ہے، کہ جب دو ہمزہ اکٹھے ہوں اور ثانی ساکن ہو، تو اس کو پہلے کی حرکت کے موافق حرف علت سے بدلتے ہیں۔ جیسے آمنہ اصل میں کیا تھا؟ آمنہ، پھر ثانی کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو کیا بنا؟ آمنہ، تو یہاں پر بھی آئید، ہمزہ کا قانون کیا تقاضا کر رہا ہے؟ اسے کیا پڑھو؟ آئید، کیا پڑھو؟ آئید۔ اور ادھر معتل کا ضابطہ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ یا کی حرکت نقل کر کے کس کو دے دو؟ ماقبل کو، جیسے ابیع، اصل میں کیا تھا؟ ابیع، آزریبو، ابیع، پھر یا کی حرکت کس کو دے دی تھی؟ با کو، تو کیا بن گیا؟ ابیع، تو یہاں پر بھی وہی ضابطہ لگا معتل کے ضابطے کو ترجیح ہوئی، اور ابیع والا یبیع والا ضابطہ لگا اور یا کی حرکت ہمزہ کو دے دی، کیا بن گیا؟ آئید۔ آئید، کیا بنا؟ آئید۔ آئید، پھر، اس کے بعد دو ہمزہ اکٹھے ہو گئے اور دونوں متحرک ہیں، اور دو ہمزہ متحرک جب اکٹھے ہوں اور ان میں سے کسی ایک پر بھی کسرہ ہو، چاہے پہلے پر ہو چاہے دوسرے پر، تو پھر ثانی کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے۔ تو لہذا یہاں پر بھی کس سے بدل دیا اس ثانی کو؟ یا سے، تو کیا بن گیا؟ آئید۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں و ہم چنیں در آئید صیغہ واحد متکلم، اور اسی طرح ہے آئید صیغہ واحد متکلم میں، لیکن بالآخر ہمزہ دوم بقاعدہ آمتہ یا شدہ، لیکن بالآخر دوسرا ہمزہ جو ہے وہ آمتہ کے ضابطے سے یا شدہ، کیا ہو گیا؟ یا ہو گیا اور کیسے پڑھیں گے اس کو؟ آئید، آئید۔ ترقیض سمجھ میں آیا؟ جی۔ اچھا، یہ کتابت ہے آمتہ بھئی، یہ الف کے اوپر مد ڈالا ہوا ہے، مد درست نہیں ہے بھئی۔ مد درست نہیں، آمتہ، یا اس کو ہونا چاہیے آمتہ، دونوں طرح ٹھیک ہے یا، کیونکہ اس میں یہ قانون جوازی ہے، باقی ہر جگہ وجوبی، لیکن آمتہ میں یہ دو ہمزہ والا قانون کیا ہے؟ جوازی ہے۔ چنانچہ دونوں طرح یہاں ہو سکتا ہے، آمتہ بھی اور آمتہ بھی، لیکن الف پر مد نہیں آئے گا، بھئی الف پر یہ جو مد ڈلا ہوا ہے، کتابت کی غلطی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی، مہموز الف و ناقص واوی از نصر، مہموز الف بھی ہے اور ناقص واوی بھی ہے از نصر، باب نصرہ سے، الک و کوتاہی کردن، کوتاہی کرنا۔ جی، آپ سنائیے بھئی صرف صغیر۔ الایعلو الون۔ الایعلو الون فھو عاد ولی یبلاء الون فذاک معلول لم یعلو لم یبلاء لا یعلو لا یبلاء لن یعلو ولن یبلاء الامر من اولو لتؤل لیعلو لیبلاء والنھی عنہ لا تعلو لا تؤلا لا یعلو لا یبلاء والظرف من معلن والجمع معایل والآلہ من۔ آل وآلة من مئلان مئلات مئلاء والجمع مآل ومآلي وأفعل تفضيل المذكر من آلا والجمع أوال والمنؤث من أوليا أوليات أولن. شاباش ماضی سنائیے بھئی آلا۔ آلا علا یا علوا ناقص واوی ہے بھئی و پڑھو آلا علا وا جی۔ آلا علا وا علو آلت علاتا علونا آلوت آلوتوما آلوتم آلوتی آلوتوما آلوتن آلوتو آلوئنا. جی مجہول سنائیے بھئی اولیا۔ اولیا اولیا اولو اولیت اولیتا اولینا اولیتا اولیتما اولیتم اولیتی اولیتما اولیتن اولیت اولینا. شاباش اولیا اصل میں کیا تھا؟ اولیوا پھر دویہ والا ضابطہ لگا۔ و طرف میں تھا ما قبل کسرہ تو اس کو کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا اولیا پھر سناؤ بھئی اولیا۔ اولیا اولیا اولو اولیت اولیتا اولینا اولیتا اولیتما اولیتم اولیتی اولیتما اولیتن اولیت اولینا. جی مضارع سناؤ بھئی یعلو۔ یعلو یعلوانی یعلون تعلو تعلوان یعلون تعلو تعلوان یعلون تعلین تعلوان تعلون آلو نالو۔ مضارع مجہول سناؤ بھئی یئلا۔ یئلا یئلاوانی یئلون یہاں یدعا والا ضابطہ لگا و چوتھی جگہ یا آگے آئے اور ما قبل حرکت اس کے مخالف ہو تو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے بدلتے ہیں جی۔ یئلا یئلاوانی یعلون تعلا تعلاوانی یئلینہ تعلا تعلاوانی تعلون تعلینہ تعلا تعلاوانی تعلینہ اولان نولا۔ شاباش۔ لن یعلو۔ لن یعلو لن یعلوانی لن یعلون لن تعلو لن تعلوان لن یعلون لن تعلو لن تعلوان لن تعلو لن تعلی لن تعلوان لن تعلون لن آلو لن نالو۔ شاباش۔ جی مجہول سنائیے بھئی لن یئلا۔ لن یئلا لن یئلا لن یئلا لن یئلا کو کیا پڑھ سکتے ہیں؟ لن یئلا بھی پڑھ سکتے ہیں تو جیسے بھی آپ سنا دیں ٹھیک ہے جی لن یئلا۔ لن یئلا لن یئلا لن یئلا لن تولا لن تولا لن یئلاین لن تولا لن تولا لن تولاو لن تولائی لن تولا لن تولائی لن أولا لن نولا۔ شاباش۔ لم یعلو۔ لم یعلو لم یعلوانی لم یعلون لم تعلو لم تعلوان لم یعلون لم تعلو لم تعلوان لم تعلو لم تعلی لم تعلوان لم تعلون لم آلو لم نالو۔ لم یئلا۔ لم یئلا لم یئلا لم یئلا لم تولا لم تولا لم یئلاین لم تولا لم تولا لم تولاو لم تولائی لم تولا لم تولائی لم أولا لم نولا۔ جی شاباش امر بھائیولو۔ ولو ولو یا ولو آلووا جی۔ ولو ولو وا ولو اولی ولو وا ولوونا. لتؤلا۔ لتؤلا لتؤلا لتؤلا لتؤلا لتؤلا لتؤلا شاباش۔ لیعلو۔ لیعلو لیعلوانی لیعلو لیطلو لیطلو لیعلون لیالو لینالو۔ لیئلا۔ لیئلا لیئلا لیئلا لیطلو لیطلو لیئلاین لیولا لینولا۔ والنہی عنہ لا تعلو۔ لا تعلو لا تعلو لا تعلو لا تعلی لا تعلو لا تعلون۔ لا تؤلا۔ لا تؤلا لا تؤلا لا تؤلا لا تؤلا لا تؤلا لا تؤلا۔ لا یعلو۔ لا یعلو لا یعلو لا یعلو لا تعلو لا تعلو لا یعلون لا آلو لا نالو۔ لا یئلا۔ لا یئلا لا یئلا لا یئلا لا تولا لا تولا لا یئلاین لا أولا لا نولا۔ شاباش شاباش۔ دیکھیے بھئی کتاب پر مہموز ف و ناقص واوی ازنا سارا الءالو کو کوتاہی کردن کوتاہی کرنا بھئی کسی معاملے میں سستی کر جانا کوتاہی کر جانا آلا یعلو در حمزہ قاعدہ مہموز و در واو قاعدہ ناقص جاری بائد کرد حمزہ کے اندر مہموز کا ضابطہ اور واو کے اندر ناقص کا ضابطہ جاری کرنا چاہیے۔ آگے دیکھیے مہموز ف و ناقص یائی از ضرب الاتی آمدن آنا۔ اچھا بھئی آپ صرف صغیر سنائیے بھئی اتی یاتی اتیانن۔ اتی یاتی اتیانن فو آتین و اتی یوتہ اتیانن فذاک مأتی لن یاتی لن یؤتی لا یاتی لا یؤتی لن یاتی لن یؤتی الامر من اتی لتؤتی یاتی لیؤتبہ والنہی عنہ لا تاتی لا تؤتی لا یاتی لا یؤتی والظرف من مأتن والجمع آتن والآلة من مئتن مئتان مئتان والجمع مآتی و افعل التفضیل المذكر من آٹا والجمع آوات والمنؤث من اوتیا اوتیا تن اوتن۔ شاباش۔ ماضی سنائیے بھئی اٹا۔ اٹا اٹا یا اٹا اتا اتات اتاتا اتینا اتایت اتایتما اتایتم اتایتی اتایتما اتایتن اتایت اتائنا۔ مجہول بھئی اوتیا۔ اوتیا اوتیا اوتو اوتیت اوتیتا اوتینا اوتیتا اوتیتما اوتیتم اوتیتی اوتیتما اوتیتن اوتیتو اوتينا۔ مضارع بھئی یاتی۔ یاتی یاتیانی یاتون تاتی تاتیانی یاتین تاتی تاتیانی یاتون تاتی تاتیانی یاتین آتی ناتی۔ شاباش۔ یؤتا۔ یؤتا یؤتا یا یؤتاونا تؤتا تؤتا یا یؤتاینا تؤتا تؤتا یا یؤتاونا تؤتا یا تؤتاینا تؤتا یا تؤتاینا اوتا نوتا۔ شاباش۔ لن یاتی۔ لن یاتی لن یاتیانی لن یاتون لن تاتی لن تاتیانی لن یاتین لن تاتی لن تاتیانی لن تاتون لن تاتی لن تاتیانی لن تاتین لن آتی لن ناتی۔ لن یؤتا۔ لن یؤتا لن یؤتا یا لن یؤتاؤ لن تؤتا لن تؤتا یا لن یؤتینا لن تؤتا لن تؤتا یا لن تؤتاؤ لن تؤتی لن تؤتا یا لن تؤتینا لن أوتا لن نوتا۔ شاباش۔ جی امر سنائیے بھئی ایتی۔ ایتی ایتی یا ای تو ای تی ای تی ای تین۔ لتؤتا۔ لتؤتا لتؤتا یا لتؤتاؤ لتؤتی لتؤتا یا لتؤتینا۔ لیاتی۔ لیاتی لیاتی یا لیاتو لیطتی لیطتی لیاتین لیاتی لیناتی۔ لیؤتا۔ لیؤتا لیؤتا یا لیؤتاؤ لیطتا لیطتا یا لیؤتینا لیؤتا لنوتا۔ والنہی عنہ لا تاتی۔ لا تاتی لا تاتی لا تاتی لا تاتی لا تاتی لا تاتی۔ لا تؤتا۔ لا تؤتا لا تؤتا لا تؤتا لا تؤتا لا تؤتا لا تؤتا لا تؤتا لا تؤتا۔ لا یاتی۔ لا یاتی لا یاتی لا یاتی لا تاتی لا تاتی لا یاتی نا لا آلا لا نات۔ لا یؤتا۔ لا یؤتا لا یؤتا لا یؤتا لا تؤتا لا تؤتا لا یؤتینا لا أوتا لا نوتا۔ شاباش شاباش۔ دیکھیے بھئی کتاب پر مہموز ف و ناقص یائی از ضرب باب ضرب سے الاتی آمدن آنا اٹا یاتی جو رما یرمی یہ کس کی طرح ہے؟ اٹا یاتی جیسے رما یرمی از فتح یفتحو۔ آگے دیکھیے بھئی از فتح یفتحو الائی انکار کردن باب فتحہ سے ہے بھئی الائی انکار کرنا ابا یابا۔ جی آپ صرف صغیر سنائیے بھئی ابا یابا ابابان۔ ابا یابا ابابان فوابین و اوبی یوبا ابابان فذاک مأبی لن یابا لن یؤبا لا یابا لا یؤبا لن یابا لن یؤبا الامر من ایبا لتؤبا لیابا لیوب والنهی عنہ لا تابا لا تؤبا لا یابا لا یؤبا والظرف من مأبن والجمع مآبن والآلة منہ میبن میبات میباء والجمع مآبن ومآبی وأفضل التفضیل المذكر من آبا والجمع آواب والمنؤث من اوبیا اوبیات اوبن۔ شاباش۔ جی ماضی سنائیے بھئی ابا۔ ابا ابایا اباو ابات اباتا اباینا ابایت ابایتما ابایتم ابایتی ابایتما ابایتن ابایت اباینا۔ جی مجہول بھئی اوبیا۔ اوبیا اوبیا اوبو اوبیت اوبیتا اوبینا اوبیت اوبیتما اوبیتم اوبیتی اوبیتما اوبیتن اوبیت اوبینا۔ جی مضارع یابا۔ یابا یابایا یاباون تاابا تاابایا یاباین تاابا تاابایا یاباون تاابایین تاابایا تااباین آبا نابا۔ یؤبا۔ یؤبا یؤبا یا یؤباونا تؤبا تؤبا یا یؤباینا تؤتا تؤبا یا یؤباونا تؤبا یا تؤباینا تؤبا یا تؤباینا اوبا نوبا۔ لن یابا۔ لن یابا لن یابا یا لن یابا و لن تاابا لن تاابا یا لن یئباینا لن تاابا لن تاابا یا لن تاابا و لن تاابای لن تاابا یا لن تااباینا لن آبا لن نابا۔ لن یؤبا۔ لن یؤبا لن یؤبا یا لن یؤبا و لن تؤبا لن تؤبا یا لن یؤباینا لن تؤبا لن تؤبا یا لن تؤبا و لن تؤبای لن تؤبا یا لن تؤباینا لن او با لن نوبا۔ لم یابا۔ لم یابا لم یابا یا لم یابا و لم تاابا لم تاابا یا لم یئباینا لم تاابا لم تاابا یا لم تااباو لم تاابای لم تاابا یا لم تااباین لم آبا لن نابا۔ لم یؤبا۔ لم یؤبا لم یؤبا یا لم یؤبا و لم تؤبا لم تؤبا یا لم یؤباینا لم تؤبا لم تؤبا یا لم یؤبا و لم تؤبای لم تؤبا یا لم یؤباینا لم او با لن نوبا۔ الأمر منہ ایبا۔ ایبا ایبا یا ایبا و ایبای ایبا یا ایباینا۔ لتؤبا۔ لتؤبا لتؤبا یا لتؤباؤ لتؤبای لتؤبا یا لتؤبائنا۔ لیابا۔ لیابا لیابا یا لیاباو لیطبا لیطبا یا لیابائین لیابا لینابا۔ لیؤبا۔ لیؤبا لیؤبا یا لیؤباؤ لیؤبا لیؤبا یا لیؤبائنا لیؤبا لنوبا۔ والنہی عنہ لا تاابا۔ لا تاابا لا تاابا لا تاابا لا تاوبا لا تاوبای لا تاابا لا تاوبائنا۔ لا تؤبا۔ لا تؤبا لا تؤبا لا تؤبا لا تؤبا لا تؤبا لا تؤبا لا تؤبا لا تؤبا۔ لا یابا۔ لا یابا لا یابا لا یابا لا تاابا لا تاابا لا یابائنا لا آبا لا نابا۔ لا یؤبا۔ لا یؤبا لا یؤبا لا یؤبا لا تؤبا لا تؤبا لا یؤبائنا لا او با لا نوبا۔ شاباش شاباش۔ अच्छा जी ماشاءاللہ دیکھا زبردست صرفی بن چکے ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر از فتحہ الائی انکار کردن باب فتحہ سے بھئی الائی انکار کرنا ابا یابا۔ مہموز ف و لفیف مقرون از ضرب الایوجائے پناہ گرفتن۔ پناہ کی جگہ پکڑنا۔ کوئی پناہ کی جگہ پکڑنا کسی محفوظ مقام پر آنا۔ کسی جگہ پناہ پکڑنا۔ اوا یأوی چو طوا یطوی یہ اوا یأوی بھی کس کی طرح ہے؟ طوا یطوی کی طرح ہے۔ جی صرف صغیر سنائیے بھئی اوا یأوی۔ اوا یأوی ایا فو آوین و اوی یؤوا ایا فذاک مأبیون لم یأوی لم یؤوا لا یأوی لا یؤوا لن یأوی لن یؤوا الامر من ایوی لتؤوی لیأوی لیؤوا والنہی عنہ لا تأوی لا تؤوی لا یأوی لا یؤوا والظرف من مأون والجمع مآون والآلة من مئون مئوات مئوا والجمع مآون ومآوی وفعلو التفضیل المذكر من آوا والجمع أواین والمنؤث من اویا اویات اوین۔ شاباش شاباش۔ جی ماضی سنائیے بھئی۔ اوا۔ اوا اوایا اواو اوات اواتا اوائنا اوایت اوایتما اوایتم اوایتی اوایتما اوایتن اوایت اوائنا۔ مجہول بھئی اویا۔ اویا اویا اووو اوویت اوویتا اووین اوویت اوویتما اوویتم اوویتی اوویتما اوویتن اوویت اووین۔ مضارع بھئی یأوی۔ یأوی یأویانی یأوون تاوی تأویانی یأوین تأوی تأویانی تأوون تأوی تأویانی تأوین آوی نأوی۔ مجہول بھئی یؤوا۔ یؤوا یؤوا یا یؤواونا تؤوا تؤوا یا یؤواینا تؤوا تؤوا یا یؤواونا تؤوا یا تؤتواینا تؤوا یا تؤواینا اوا نؤوا۔ لن یأوی۔ لن یأوی لن یأوی یا لن یأوو لن تأوی لن تأوی یا لن یأوین لن تأوی لن تأوی یا لن تأوو لن تأوی لن تأوی یا لن تأوین لن آوی لن نأوی۔ لن یؤوا۔ لن یؤوا لن یؤوا یا لن یؤوا و لن تؤوا لن تؤوا یا لن یؤواینا لن تؤوا لن تؤوا یا لن یؤوا و لن تؤوای لن تؤوا یا لن یؤواینا لن او وا لن نووا۔ لم یأوی۔ لم یأوی لم یأوی یا لم یأوو لم تأوی لم تأوی یا لم یأوین لم تأوی لم تأوی یا لم تأوو لم تأوی لم تأوی یا لم تأوین لم آوی لم نأوی۔ لم یؤوا۔ لم یؤوا لم یؤوا یا لم یؤوا و لم تؤوا لن تؤوا یا لن یؤواینا لم تؤوا لم تؤوا یا لم یؤوا و لم تؤبای لن تؤبا یا لن تؤباین لن او با لن نوبا۔ الأمر منہ ایوی۔ ایوی ایوی یا ایوو ایوی ایوی یا ایوین۔ لتؤوا۔ لتؤوا لتؤوا یا لتؤواؤ لتؤوائی لتؤوا یا لتؤواینا۔ لیأوی۔ لیأوی لیأوی یا لیأوو لیطوی لیطوی یا لیأوین لیأوی لینأوی۔ لیؤوا۔ لیؤوا لیؤوا یا لیؤواؤ لیؤوا لیؤوا یا لیؤواینا لیؤوا لنووا۔ والنہی عنہ لا تأوی۔ لا تأوی لا تأوی لا تأوی لا تأوو لا تأوی لا تأوی لا تأوین۔ لا تؤوا۔ لا تؤوا لا تؤوا لا تؤوا لا تؤوا لا تؤوا لا تؤوا لا تؤوا لا تؤوا۔ لا یأوی۔ لا یأوی لا یأوی لا یأوی لا تأوی لا تأوی لا یأوین لا آوی لا نأوی۔ لا یؤوا۔ لا یؤوا لا یؤوا لا یؤوا لا تؤوا لا تؤوا لا یؤواینا لا او وا لا نووا۔ شاباش شاباش۔ دیکھیے بھئی کتاب پر دوبارہ دیکھ لیجیے مہموز ف و لفیف مقرون از ضرب باب ضرب سے الایوجائے پناہ گرفتن۔ پناہ کی جگہ پکڑنا بھئی کسی محفوظ مقام پر پناہ پکڑنا۔ اوا یأوی چو طوا یطوی۔ آگے دیکھیے محموزعین مثال محموزعین اور مثال اَزَّرَبَ الوعد زندہ درگور کرنا، زندہ دفن کرنا۔ الوعد کا کیا معنی ہے؟ زندہ دفن کرنا۔ مشرکین عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل بیٹیوں کو اتنا عیب سمجھتے تھے کہ ان کو زندہ دفن کر دیتے تھے بھئی۔ بیٹیاں پیدا ہوتیں تو اس کو اپنے لیے اتنا عیب کا باعث سمجھتے تھے کہ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَإِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ کس گناہ میں تمہیں قتل کیا گیا تھا؟ تم نے کیا جرم کیا تھا؟ تو وعد کا معنی ہے زندہ درگور کرنا۔ گور قبر کو کہتے ہیں گور، قبر کو۔ زندہ درگور کرنا، زندہ قبر میں ڈالنا یعنی زندہ دفن کرنا۔ وعد یععد چونکہ وعد یععد جی، آپ صرف صغیر سنائیے بھئی! وعد یععد سے۔ وعد یععد وعدا وادۃ فھو واعد ووعد یععد وعدا وادۃ فذاک موعود لم یعد لم یعد لا یعد لا یعد لن یعد لن یعد الأمر من عد لتعد لعد لیعد لیعد والنی عنہ لاتعد لاتعد لا یعد لا یعد والظرف من موعد والجمع مواعد والآلة من میعد میعدۃ میعاد والجمع مواعد وموائید فا تفضیل المذکر من اود والجمع اوائد والمو نث من اود اویدات اوعد۔ شاباش! شاباش! جی! ماضی سنائیے بھئی! وعد۔ وعد وعدا وعدو وعدت وعدتا وعدنا وعدت وعدتما وعدتم وعدت وعدتما وعدتن وعدت وعدنا۔ مجہول سنائیے بھئی! ووعد۔ ووعد ووعد ووعد ووعدت ووعدتا ووعدنا ووعدت ووعدتما ووعدتم ووعدت ووعدتما ووعدتن ووعدت وودنا۔ مضارع سناؤ بھئی! یععد۔ یععد یععدانی یععدون تععد تععدانی یععدنا تععد تععدانی تععدون تععدینہ تععدانی تععدنا اععد نععد۔ شاباش! اععد نععد۔ متکلم کے صیغے میں متکلم کا صیغہ کیا بنا؟ اععد دو ہمزہ جمع ہوئے ایک پر کسرہ تھا تو ثانی کو کس سے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ اععد نععد۔ جی! مجہول سناؤ بھئی! یوععد۔ یوععد یوععدانی یوععدون توععد توععدانی یوععدنا توععد توععدانی توععدون توععدینہ توععدانی توععدنا اوعد نوععد۔ لن یعید۔ لن یعید لن یعید لن یعید لن تعید لن تعید لن یعید لن تعید لن تعید لن تعید لن تعیدی لن تعید لن تعید لن یعید لن اعید لن نعید۔ شاباش! لن یوععد۔ لن یوععد لن یوععدانی لن یوععدوا لن توععد لن توععدانی لن یوععدنا لن توععد لن توععدانی لن توععدون لن توععدی لن توععدانی لن توععدنا لن اوعد لن نوععد۔ لم یعد۔ لم یعد لم یعدا لم یعدو لم تعد لم تعدا لم یعدنا لم تعد لم تعدا لم تعدو لم تعدی لم تعدا لم تعدنا لم اعد لم نعد۔ لم یوععد۔ لم یوععد لم یوععدا لم یوععدو لم توعد لم توعدا لم یوععدنا لم توعد لم توعدا لم توعدو لم توعدی لم توعدا لم توعدنا لم اوعد لم نوععد۔ الأمر منه عد۔ عد عدا عدو عدی عدا عدنا۔ لتوعد۔ لتوعد لتوعدا لتوعدو لتوعدی لتوعدا لتوعدنا۔ ليعد۔ ليعد ليعدا ليعدو لتععد لتععدا ليعدنا لآيد لنايد۔ ليوععد۔ ليوععد ليوععدا ليوععدو لتوعد لتوعدا ليوععدنا لوعد نؤعد۔ والنهي عنه لاتعد۔ لاتعد لاتعدا لاتعدو لاتعدی لاتعدا لاتعدنا۔ لاتوعد۔ لاتوعد لاتوعدا لاتوعدو لاتوعدی لاتوعدا لاتوعدنا۔ لايعد۔ لايعد لايعدا لايعدو لاتعد لاتعدا لايعدنا لاأيد لانيد۔ شاباش! لايوععد۔ لايوععد لايوععدا لايوععدو لاتعد لاتعدا لايوععدنا لاأوعد لانؤعد۔ شاباش! شاباش! آگے دیکھیے بھئی! محموزعین و ناقص یاءی اِس فتحہ باب فتحہ سے ہے بھئی محموزعین بھی ہے اور ناقص یاءی بھی۔ الرؤیۃ دیدا ودانستان رؤیت کا معنی دیدا، دیکھنا ودانستان اور جاننا تو اس کا معنی دیکھنا بھی اور جاننا بھی۔ देखना दरअसल دو طرح سے ہوتا ہے، ایک ہے آنکھوں سے کسی کو دیکھنا، ایک ہے دل سے کسی کو دیکھنا یہ اور وہ ہے جاننا، وہ کیا ہے جان، مثلاً عربی میں کہتے ہیں رأیتُ زیداً میں نے زید کو دیکھا معلوم ہے آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے۔ آنکھوں سے یہ ایک مفعول چاہتا ہے۔ رأیتُ زیداً میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو اور ایک یہی رؤیت بمعنی جاننے کے بھی آتا ہے یعنی دل سے دیکھنا اور مثلاً میں کہتا ہوں رأیتُ زیداً عالِماً میں نے زید کو عالم دیکھا یعنی عالم جانا، میں نے زید کو عالم جانا تو دیکھو یہ جاننا کس کے ذریعے ہوتا ہے دل کے ذریعے ہوتا ہے میں نے زید کو عالم جانا یعنی مجھے پتہ چلا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے تو یہ رؤیت قلبی ہے، ایک رؤیت بصری ہے آنکھوں سے دیکھنا، ایک رؤیت قلبی ہے کس سے دل سے دیکھنا۔ رؤیت بصری جو ہے آنکھوں سے دیکھنا اس کے لیے ایک مفعول چاہیے ہوتا ہے آپ کسی بھی ایک چیز کو دیکھیں تو رؤیت کا فعل پایا جائے گا، آپ نے زید کو دیکھا تو دیکھو رؤیت بصری پائی گئی میں نے زید کو دیکھا۔ اور ایک رؤیت قلبی ہے اس کے لیے دو مفعول چاہیے، رأیتُ زیداً عالِماً۔ میں نے زید کو جانا، کیا جانا؟ عالِماً، عالم جانا تو زید ہے مفعول اول اور عالِماً ہے مفعول ثانی تو یہ بمعنی جاننے کے ہے، رؤیت قلبی اس ما کیا معنی یعنی جان لینا کسی کو جاننا۔ تو رؤیت کا فعل آیا بھئی تو کہتے ہیں الرؤیة دیداً ودانستان اس کا معنی کیا ہے؟ دیداً دیکھنا بھی ودانستان اور جاننا بھی دیداً کیا ہے رؤیت بصری آنکھوں سے دیکھنا اور داستان کیا ہے؟ جاننا یعنی آنکھ، یعنی دل سے جاننا رؤیت قلبی مراد ہے۔ تو رؤیت بصری کتنے مفعول چاہتی ہے؟ ایک اور رؤیت قلبی دو مفعول چاہتی ہے۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ اس باب میں یصل ولا قانون افعال میں وجوباً لگے گا۔ يسلو اس کو کیا پڑھنا جائز ہے؟ یسلو ہمزہ کی حرکت سین کو دے دیں اور ہمزہ کو حذف کر دیں یہ جائز ہے، آپ یسلو بھی کہہ سکتے ہیں اور یسلو بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہی جواز قانون یہ افعال رؤیت کے اندر وجوبی ہے لہٰذا یہاں راء یا را پڑھیں گے یرانی پڑھیں گے بلکہ یرارا یرارا اصل میں کیا تھا؟ یرایو باب فتحہ سے ہے نا! یرایو یفتحو پھر یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ یرا پھر یسلو والا قانون لگاؤ ہمزہ کی حرکت کس کو دے دی؟ را کو اور ہمزہ کو حذف کر دیا کیا بن گیا؟ یرارا تو یہ قانون یہاں وجوبی ہے، یرارا آپ نہیں پڑھ سکتے، ہم نے عربوں سے یرارا کبھی نہیں سنا وہ ہمیشہ کیا پڑھتے ہیں؟ یرارا، معلوم ہوا یہ قانون وجوبی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آپ صرف صغیر سنائیے بھئی! رأی یرارا رؤیة۔ رأی یرارا رؤیة فھو رءٍ ورؤیة یرارا رؤیة فذاک مرئی لم یرا لم یرا لا یرا لا یرا لن یرا لن یرا لم رم را لترا لیرا لیرا والنی عنہ لاترا لاترا لا یرا لا یرا والظرف من مرئاً والجمع مرائن والآلة من مرئاً مرآۃ مرآۃ والجمع مرائن ومرائیو وافضل المذکر من أرا والجمع اراء والمؤنث من رؤیا رؤیات رؤن۔ شاباش! شاباش! جی! ماضی سنائیے بھئی! رأی۔ رأی رأیا رأو رأت رأتا رأینا رأیت رأیتم رأیتم رأیت رأیتما رأیتن رأیت رأینا۔ مجہول بھئی! رؤی۔ رؤی رؤیا رؤوا رؤیت رؤیتا رؤینا رؤیت رؤیتما رؤیتم رؤیت رؤیتما رؤیتن رؤیت روئنا۔ مضارع سناؤ بھئی! یرا۔ یرا یراانی یرون ترا تراانی یرین ترا تراانی ترون ترین تراانی ترین آرا نرا۔ شاباش! آرا نرا۔ متکلم کے صیغے میں متکلم کا صیغہ کیا بنا؟ آرا دو ہمزہ جمع ہوئے ایک پر کسرہ تھا تو ثانی کو کیسے بدلا؟ یا سے تو کیا بن گیا؟ آرا نعرا۔ جی! مجہول سناؤ بھئی! یورا۔ یورا یوراانی یورون تورا توراانی یوران تورا توراانی تورون تورینہ توراانی تورینا اورا نورا۔ لن یرا۔ لن یرا لن یرا لن یرا لن ترا لن ترا لن یرا لن ترا لن ترا لن ترا لن تری لن ترا لن ترا لن آرا لن نرا۔ شاباش! لن یورا۔ لن یورا لن یورا لن یورا لن تورا لن تورا لن یورا لن تورا لن تورا لن تورا لن تورینہ لن تورا لن تورا لن اورا لن نورا۔ لم یرا۔ لم یرا لم یرا لم یرا لم ترا لم ترا لم یرا لم ترا لم ترا لم ترا لم تری لم ترا لم ترا لم أرا لم نرا۔ لم یورا۔ لم یورا لم یورا لم یورا لم تورا لم تورا لم یورا لم تورا لم تورا لم تورا لم تورینہ لم تورا لم تورا لم اورا لم نورا۔ آگے بھئی نون ثقیلہ کے ساتھ مضارع بھئی لیرانَّ۔ لیرانَّ لیرانَّ لیرونَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لیرینَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لتیرونَّ لتیرینَّ لتیرانَّ لتیرینَّ لارانَّ لنرانَّ۔ مجہول بھئی لیرانَّ۔ لیرانَّ لیرانَّ لیرونَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لیرینَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لتیرونَّ لتیرینَّ لتیرانَّ لتیرینَّ لورانَّ لنرانَّ۔ امر سناؤ بھئی را۔ ر را یا راؤ رای رای رایتنا۔ لترا۔ لترا لترا لترا لترا لترا لترا لترا۔ لیرا۔ لیرا لیرا لیرا لیرا لیرا لیرا ليارا لينا۔ لیورا۔ لیورا ليورا ليورا ليورا ليورا ليورا ليور نورا۔ والنهي عنه لاترا۔ لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا۔ لاترا۔ لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا۔ لايرا۔ لايرا لايرا لايرا لايرا لاترا لاترا لايراءنا لاأرا لانرا۔ شاباش! لايورا۔ لايورا لايورا لايورا لاترا لاترا لايورا لاأورا لنورا۔ شاباش! شاباش! آگے دیکھیے بھئی! محموزعین و ناقص یاءی اِس فتحہ باب فتحہ سے ہے بھئی محموزعین بھی ہے اور ناقص یاءی بھی الرؤیۃ دیداً ودانستان رؤیت کا معنی دیداً دیکھنا ودانستان اور جاننا تو اس کا معنی دیکھنا بھی اور جاننا بھی۔ دیداً کیا ہے رؤیت بصری آنکھوں سے دیکھنا اور داستان کیا ہے؟ جاننا یعنی آنکھ، یعنی دل سے جاننا رؤیت قلبی مراد ہے تو رؤیت بصری کتنے مفعول چاہتی ہے؟ ایک اور رؤیت قلبی دو مفعول چاہتی ہے۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ اس باب میں یصل ولا قانون افعال میں وجوباً لگے گا یسلو اس کو کیا پڑھنا جائز ہے؟ یسلو ہمزہ کی حرکت سین کو دے دیں اور ہمزہ کو حذف کر دیں یہ جائز ہے، آپ یسلو بھی کہہ سکتے ہیں اور یسلو بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہی جوازی قانون یہ افعال رؤیت کے اندر وجوبی ہے لہٰذا یہاں راء یا را پڑھیں گے یرانی پڑھیں گے بلکہ یرارا یرارا اصل میں کیا تھا؟ یرایو باب فتحہ سے ہے نا! یرایو یفتحو پھر یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ یرارا پھر یسلو والا قانون لگاؤ ہمزہ کی حرکت کس کو دے دی؟ را کو اور ہمزہ کو حذف کر دیا کیا بن گیا؟ یرارا تو یہ قانون یہاں وجوبی ہے، یرارا آپ نہیں پڑھ سکتے، ہم نے عربوں سے یرارا کبھی نہیں سنا وہ ہمیشہ کیا پڑھتے ہیں؟ یرارا معلوم ہوا یہ قانون وجوبی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آپ صرف صغیر سنائیے بھئی! رأی یرارا رؤیة۔ رأی یرارا رؤیة فھو رءٍ ورؤی یرا رؤیة فذاک مرئی لم یرا لم یرا لا یرا لا یرا لن یرا لن یرا لم رم را لترا لیرا لیرا والنی عنہ لاترا لاترا لا یرا لا یرا والظرف من مرأً والجمع مرائن والآلة من مرأً مرآة مرآة والجمع مرائن ومرائیو وافضل المذکر من أرا والجمع اراء والمؤنث من رؤیا رؤیات رؤن۔ شاباش! جی! آگے اب ساری گردانیں اس باب کی آرہی ہیں، میں سنتا جاؤں گا آپ ان گردانوں پر نظر رکھیے گا بھئی۔ جی! ماضی سنائیے بھئی! رأی۔ رأی رأیا رأو رأت رأتا رأینا رأیت رأیتم رأیتم رأیت رأیتما رأیتن رأیت رأینا۔ مجہول بھئی رؤیا۔ رؤیا رؤیا رؤوا رؤیت رؤیتا رؤینا رؤیت رؤیتما رؤیتم رؤیت رؤیتما رؤیتن رؤیت روئنا۔ مضارع بھئی یرا۔ یرا یراانی یرون ترا تراانی یرین ترا تراانی ترون ترین تراانی ترین آرا نرا۔ یورا۔ یورا یوراانی یورون تورا توراانی یوران تورا توراانی تورون تورینہ توراانی تورینا اورا نورا۔ لن یرا۔ لن یرا لن یرا لن یرا لن ترا لن ترا لن یرا لن ترا لن ترا لن ترا لن تری لن ترا لن ترا لن آرا لن نرا۔ لن یورا۔ لن یورا لن یورا لن یورا لن تورا لن تورا لن یورا لن تورا لن تورا لن تورا لن تورینہ لن تورا لن تورا لن اورا لن نورا۔ لم یرا۔ لم یرا لم یرا لم یرا لم ترا لم ترا لم یرا لم ترا لم ترا لم ترا لم تری لم ترا لم ترا لم أرا لم نرا۔ لم یورا۔ لم یورا لم یورا لم یورا لم تورا لم تورا لم یورا لم تورا لم تورا لم تورا لم تورینہ لم تورا لم تورا لم اورا لم نورا۔ آگے بھئی نون ثقیلہ کے ساتھ مضارع بھئی لیرانَّ۔ لیرانَّ لیرانَّ لیرونَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لیرینَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لتیرونَّ لتیرینَّ لتیرانَّ لتیرینَّ لارانَّ لنرانَّ۔ مجہول بھئی لیرانَّ۔ لیرانَّ لیرانَّ لیرونَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لیرینَّ لتیرانَّ لتیرانَّ لتیرونَّ لتیرینَّ لتیرانَّ لتیرینَّ لورانَّ لنرانَّ۔ امر سناؤ بھئی را۔ را رایا راؤ رای رای راینا۔ لترا۔ لترا لترا لترا لترا لترا لترا لترا۔ ليرا۔ ليرا ليرا ليرا ليرا ليرا ليرا ليرا ليرا۔ ليورا۔ ليورا ليورا ليورا ليورا ليورا ليورا ليورا ليورا نورا۔ والنهي عنه لاترا۔ لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا۔ لاترا۔ لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا لاترا۔ لايرا۔ لايرا لايرا لايرا لايرا لاترا لاترا لايراءنا لاأرا لانرا۔ لايورا۔ لايورا لايورا لايورا لاترا لاترا لايورا لاأورا لنورا۔ अच्छा! أمر سناؤ بھئی نون ثقیلہ کے ساتھ رایانَّ۔ را تھا نا را! اور پھر نون ثقیلہ ملا دیا تو وہ الف واپس آیا اور یا سے بدل گیا کیونکہ نون ثقیلہ اپنے سے ماقبل کیا چاہتا ہے فتحہ رایانَّ رایانَّ جی۔ رایانَّ رایانَّ نیرون رایین رایانی رینانی۔ پھر سناؤ۔ رایانَّ رایانَّ نیرون رایین رایانی رینانی۔ شاباش! اس میں فاعل سناؤ بھئی رائن۔ رائن رایانی راونا رایتہ رایتانی رایات۔ اس میں مفعول سناؤ بھئی مرئی۔ مرئی مرئیانی مرئیون مرئیہ مرئیانی مرئیات۔ شاباش! شاباش! دیکھیے بھئی کتاب پر دوبارہ دیکھ لیجیے محموزعین وناقص یاءی اِس فتحہ الرؤیۃ دیداً ودانستان رؤیت دیکھنا ودانستان اور جاننا رأی یرا رؤیۃ فھو رائن وروی یرا رؤیۃ فھو مرئی الأمر منہ را والنھی عنہ لاترا والظرف منہ مرءا والآلۃ منہ مرءا مرآۃ مرآۃ وتثنیتھما مرءایانی ومرءایانی والجمع منہما مرائن ومرایو اسم التفضیل منہ أرا والمؤنث منہ رؤیا وتثنیتھما أرایانی والرؤیانی والجمع منہما ارائن واراوعنوان رؤیات۔ آگے دیکھیے زِیں پیش نوشتہ اِم، زِیں اصل میں تھا زَیں اَزِیں کیا تھا؟ اَزِیں اِس سے اَزِیں زِیں پیش اِس سے پہلے۔ زِیں پیش اِس سے پہلے نوشتہ اِم ہم نے لکھا ہے کہ قاعدہ یصل دری باب در افعال لازم شدۃ نہ در اسماء کہ قاعدہ یصل جو ہے دری باب اس باب میں در افعال لازم شدہ افعال میں لازم ہو گیا ہے نہ در اسماء نہ کہ اسماء میں جو اسم ہیں نا ان میں یسلو والا قاعدہ یہاں وجوبی نہیں لیکن افعال میں یسلو والا قاعدہ وجوبی ہے یعنی یرارا آپ نہیں پڑھ سکتے ہاں کیا پڑھیں گے؟ یرا پڑھیں گے تو کہتے ہیں ایں امر را ملحوظ کردہ اس بات کو اس امر کو ملحوظ کرتے ہوئے ایں امر را ملحوظ کرتے ہوئے اس امر کو یعنی اس بات کو ملحوظ کرتے ہوئے جملہ صیاغ را بمراعات قواعد ناقص در لام بایَد خواند۔ اِس بات کو اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کونسا سی بات کہ یہ صلو والا قانون افعال میں وجوبی ہے اور اسماء میں وجوبی نہیں۔ اس امر ملحوظ کردہ اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے جملہ صیغہ تمام صیغوں کو بمراعات قواعد ناقص در لام، لام کے اندر ناقص کے قوانین کی رعایت رکھتے ہوئے۔ بمراعات، مراعات، رعایت رکھنا۔ بمراعات قواعد ناقص در لام، لام میں ناقص کے قوانین کی رعایت رکھتے ہوئے میں بائد خواند تمام صیغوں کو پڑھ لینا چاہیے۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ جملہ صیغہ تمام صیغوں کو پھر دیکھیے ترجمہ، جملہ صیغہ بمراعات قواعد ناقص در لام میں بائد خواند، تمام کل تمام صیغوں کو لام کے اندر ناقص کے قوانین کی رعایت رکھتے ہوئے پڑھ لینا چاہیے۔ تعلیماً، صرف کبیر ہم میں نویسم، ہم میں نویسم۔ تعلیماً، تعلیم دینے کے لیے، سکھانے کے لیے آگے کیا کرنے لگے ہیں؟ صرف کبیر بھی ذکر کرنے لگے ہیں حالانکہ پچھلے ابواب میں انہوں نے صرف کبیر یہاں پر ذکر نہیں کی تھی، اب ذکر کرنے لگے ہیں، آپ کو بتائیں گے کہ آپ کو سکھانے کے لیے میں یہاں صرف کبیر بھی لکھ رہا ہوں کیونکہ اس کی گردانیں ذرا مشکل ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں تعلیماً، تعلیم دینے کے لیے، سکھانے کے لیے، صرف کبیر ہم میں نویسم، صرف کبیر بھی میں لکھ رہا ہوں کہ ای باب صیغہ مشکلہ دارد کہ یہ باب جو ہے مشکل صیغے رکھتا ہے یعنی اس باب کے صیغے مشکل ہے۔ اثبات فعل ماضی معروف، رأی، رأیا، رأوا، رأى، ترأى، ترأينا تا آخر آخر تک، چون رماتا آخر جیسے کہ رما ہے آخر تک۔ جز ای کہ در حمزہ بینا بین میں تو اند شد، علاوہ اس کے، جز ای کہ، علاوہ اس کے، در حمزہ، حمزہ کے اندر بینا بین میں تو اند شد۔ بینا بین ہو سکتا ہے، اس حمزہ کے اندر، رأی ہے نا رأی، تو یہ جو حمزہ ہے کہتے ہیں اس گردان میں بینا بین بھی آپ پڑھ سکتے ہیں۔ بینا بین کسے کہتے تھے؟ بینا بین دو قسم پر تھا، ایک بینا بین قریب، ایک بینا بین بعید۔ بینا بین قریب کیا تھا؟ کہ حمزہ کو اپنے مخرج اور اپنے اوپر جو حرکت ہے اور اس پر جو حرکت ہے اس کے موافق حرف علت کے درمیان پڑھنا۔ ایک حمزہ ہے، ایک حمزہ کے اوپر حرکت ہے، حرکت کے موافق جو حرف علت ہوگا اگر زبر ہو تو الف، اگر پیش ہو تو واؤ، اور اگر زیر ہو تو یا، تو حمزہ کو اپنے مخرج اور الف کے مخرج کے بیچ پڑھنا، اگر حمزہ پر زبر ہے، اور اگر حمزہ کے نیچے زیر ہے تو حمزہ کو اپنے مخرج اور یا کے مخرج کے بیچ پڑھنا، اور اگر حمزہ پر پیش ہے تو حمزہ کو اپنے مخرج اور واؤ کے مخرج کے درمیان پڑھنا یہ کیا ہے؟ بینا بین قریب ہے۔ حمزہ کو اپنے مخرج اور اپنی حرکت کے موافق حرف علت کے مخرج کے بیچ پڑھنا یہ کیا ہے؟ بینا بین قریب، اور بینا بین بعید کیا ہے؟ حمزہ کو اپنے مخرج اور ما قبل جو حرف ہے اس کی حرکت کے موافق حرف علت کے مخرج کے بیچ میں پڑھنا، مثلاً حمزہ سے پہلے ہے زبر تو زبر کے موافق کیا؟ الف تو حمزہ کو اپنے مخرج اور الف کے مخرج کے بیچ پڑھنا، یہ ہے بینا بین بعید۔ ما قبل کی حرکت کو دیکھ رہے ہیں ہم، اور اگر ما قبل میں ہے کسرہ، حمزہ سے ما قبل کیا ہے کسرہ؟ تو کسرہ کے موافق کیا؟ یا، تو حمزہ کو اپنے مخرج اور یا کے مخرج کے بیچ پڑھنا یہ کیا ہے؟ بینا بین بعید۔ یا اگر ما قبل میں ہے ضمہ، ضمہ کے موافق کیا؟ واؤ، تو حمزہ کو اپنے مخرج اور واؤ کے مخرج کے بیچ پڑھنا یہ کیا ہے؟ بینا بین بعید ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی، مجہول، رئیہ، رئیہ، رءورئیہ تا آخر آخر تک، چون رومیتا آخر جیسے کہ رومیہ ہے آخر تک۔ اثبات فعل مضارع معروف، یری، یریان، یراونا، تری، تریان، یراینا، تراونا، ترینا، ترینا، آرا، نرا۔ یہ ترینا دو دفعہ ہے، ایک دفعہ ہونا چاہیے کیونکہ صاحب علم صیغہ مکرر صیغے کو دوبارہ ذکر نہیں کرتے۔ آگے دیکھیے، یرا در اصل یرا یو بود۔ یرا اصل میں کیا تھا؟ یرا یو بر وزن یفتح باب فتحہ سے ہے نا؟ باب فتحہ سے ہے تو اسی سے صحیح سے وہ صیغہ نکال لیا کریں۔ تو یرا جو ہے در اصل یرا یو تھا بر وزن یفتح، پھر کیا کیا؟ حمزہ کی حرکت کس کو دے دی؟ را کو دے دی اور حمزہ کو حذف کر دیا، کیا بن گیا؟ یرا یو۔ اور پھر یا متحرک ما قبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے تو کیا بن گیا؟ یرا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو جو بھی قانون بنا لیں، چاہے پہلے یا کو کس سے بدلیں؟ الف سے، چاہے پہلے حمزہ کی حرکت ما قبل کو دے دیں، بہرحال نتیجہ وہی نکلے گا یرا بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں یرا در اصل یرا یو بود، یرا اصل میں یرا یو تھا، حرکت حمزہ بقاعدہ یسلو بمقابل رفتہ، حمزہ کی جو حرکت ہے وہ یسلو کے ضابطے سے بمقابل رفتہ ما قبل کو چلی گئی و حمزہ حذف شدہ اور حمزہ حذف ہو گیا، یرا یو شو تو یرا یو ہو گیا، یا بقاعدہ ہفتم الف گشت، یا جو ہے ساتویں ضابطے سے الف ہو گئی، قال والے قانون سے الف ہو گئی، یا متحرک ما قبل فتحہ۔ آگے دیکھیے، و ہم چنی در جملہ صیغہ و ہم چنی در جملہ صیغہ اور اسی طرح ہے تمام صیغوں میں، جز تثنیہ علاوہ تثنیہ کے کہ درا صرف بر تعمیل قاعدہ یسلو اکتفا رفت۔ تثنیہ کا صیغہ کیا تھا؟ یریانی دیکھو یہاں وہ حمزہ تو گرا ہے لیکن یا کو ما قبل فتحہ کی وجہ سے الف سے نہیں بدلا کیونکہ یہاں مانع موجود ہے، یریانی، یہ یا کے بعد کیا ہے؟ الف تثنیہ ہے اس قانون کی شرط تھی کہ اس یا یا واؤ جو متحرک ہے اور ما قبل فتحہ ہے اس کے بعد الف تثنیہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس لیے یہاں صرف جو ہے یسلو والا قانون لگا تثنیہ میں، پھر دیکھیے کہتے ہیں و ہم چنی در جملہ صیغہ اور اسی طرح ہے تمام صیغوں میں یعنی سب کے اندر پہلے یسلو والا قانون لگا اور پھر قال والا قانون لگا، جز تثنیہ سوائے کس کے؟ تثنیہ کے کہ درا صرف بر تعمیل قاعدہ یسلو اکتفا رفت کہ اس کے اندر صرف جو ہے بر تعمیل قاعدہ یسلو، یسلو کے ضابطے پر تعمیل جو ہے اکتفا رفت اس پر اکتفا ہوا۔ اس میں تثنیہ میں صرف یسلو کے ضابطے کی تعمیل پر اکتفا ہوا، صرف اس ضابطے پر عمل کیا گیا۔ یا بسبب مانع الف نہ شد اور پھر یا جو ہے وہ مانع ہونے کی وجہ سے الف نہ ہوئی، یریانی، یا باقی ہے یہ الف سے نہیں بدلی، یہ معنی ہے، یا بسبب مانع الف نہ شد، یا مانع ہونے کی وجہ سے الف نہ ہوئی، و در یراونا اور یراونا کے اندر و تراونا اور تراونا میں صیغہ ہائے جمع مذکر جو جمع مذکر کے صیغے ہیں، یراونا اور تراونا بھئی، الف بسبب التقائے ساکنین با واؤ، الف جو ہے واؤ کے ساتھ التقائے ساکنین کی وجہ سے، و در ترینا اور ترینا واحد مؤنث حاضر جو ہے بسبب التقائے ساکنین با یا، یا کے ساتھ التقائے ساکنین کی وجہ سے وہ الف حذف شد، الف کیا ہو گیا؟ حذف شد۔ دیکھو بھئی، یراونا، یراونا اصل میں کیا تھا؟ یراونا، فتحہ سے وہ صیغہ نکالو، یفتحونا، اس کو بنا لو، یرایونا، یرایونا، یفتحونا، یرایونا، پھر، یرایونا جی، حمزہ کی حرکت، جی، حمزہ کی حرکت پہلے کس کو دے دو؟ را کو، جو بھی قانون پہلے لگا لیں، حمزہ کی حرکت کس کو دی؟ را کو، اور حمزہ کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ یراونا، اب یا متحرک ما قبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو یراونا ہوا، الف بھی ہے واؤ بھی ہے تو اجتماع ساکنین آیا، الف گر گیا، کیا بن گیا؟ یراونا، اسی طرح ہے ترینا کے اندر بھی۔ تو اجتماع ساکنین آیا الف کا کس کے ساتھ؟ واؤ کے ساتھ، اور ترینا جو واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے، یہ اصل میں کیا تھا؟ ترایینا، فتحہ سے بنا لو، تفتحينا، تراییینا، پھر، حمزہ کی حرکت را کو دی اور حمزہ کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ تراییینا، پھر یا متحرک ما قبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ ترایینا، الف بھی ہے اور یا بھی ہے، دونوں ساکن ہیں، اجتماع ساکنین آیا تو الف گر گیا، کیا بن گیا؟ ترائینا۔ تو دیکھا ترائینا میں اجتماع ساکنین تھا الف کا واؤ کے ساتھ، اور ترائینا میں الف کا اجتماع ساکنین ہے کس کے ساتھ؟ یا کے ساتھ اور پھر گر گیا، یہی بات بیان کر رہے ہیں دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں در یراونا و تراونا صیغہ ہائے جمع مذکر الف بسبب التقائے ساکنین با واؤ، کہتے ہیں یراونا اور تراونا میں صیغہ ہائے جمع مذکر جو جمع مذکر کے صیغے ہیں، ان میں الف جو ہے واؤ کے ساتھ التقائے ساکنین کی وجہ سے، و در ترینا واحد مؤنث حاضر بسبب التقائے ساکنین با یا، اور ترینا جو واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے، اس میں یا کے ساتھ اجتماع ساکنین کی وجہ سے وہ جو الف ہے حذف شد، حذف ہو گیا۔ آگے دیکھیے بھئی مجہول یرا، یریان، یراونا تا آخر مثل معروف در اعلال یہ بھی کس کی طرح ہے؟ مثل معروف، یہ بھی معروف کردن کی طرح ہے در اعلال، کس کے اندر؟ اعلال میں۔ بھئی جیسے یرا میں اعلال ہوا تھا اسی طرح یرا میں بھی اعلال ہوا ہے۔ نفی تاکید بلند معروف و مجہول، لن یرا، لن یرا اور لن یرا یہ دونوں گردانیں اکٹھی کر دی ہیں انہوں نے بھئی، یا کے اوپر دیکھو زبر بھی ہے اور پیش بھی ہے۔ لن یرا اور لن یرا، تو کہتے ہیں لن یرا، لن یرا، لن یراؤ تا آخر آخر تک، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ معروف بھی اور مجہول بھی ہے، تو مجہول کیسے ہوگا؟ لن یرا، لن یرا، لن یرا، لن یراؤ تا آخر آخر تک۔ در الف یرا و اخواتہ، یرا پڑھیں یا یرا پڑھیں دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، در الف یرا، یرا کے الف میں و اخواتہ اور جو اس کے اخوات ہیں، جو اس کے مشابہ ہیں، اس کے اخوات کون ہیں؟ مشابہ کون سے کلمے ہیں؟ پانچ صیغے ہیں کل بھئی جن کے آخر میں ضمیر بارز نہیں آتی تو ایک ہے یرا اور چار اور ہیں کل کتنے ہیں؟ پانچ صیغے ہیں تو اس کے جو مشابہ کلمات ہیں لن عمل نہ کرد، ان میں لن ناصبہ نے عمل نہیں کیا، چنانکہ در لن یخشی اور لن یرضی جیسے کہ کس میں ہے؟ لن یخشی اور لن یرضی کے اندر کوئی عمل نہیں ہوا تھا اس کا، و در دیگر صیغہ نحجہ کہ در صحیح عمل میں کند عمل کرد اور باقی صیغوں کے اندر، دوسرے صیغوں کے اندر نحجہ کہ اسی طریقے پر کہ در صحیح عمل میں کند جس طرح صحیح کے اندر یہ لن ناصبہ عمل کرتا ہے، عمل کرد اس نے عمل کیا۔ اعلالات کہ در مضارع بود ہم و باقی ماندہ، وہ اعلالات جو کہ مضارع میں ہو گئے تھے ہم و باقی ماندہ وہی باقی ہیں۔ وہ اعلالات باقی ہیں، مضارع میں یسلو والے ضابطے سے حمزہ گر چکا ہے یا نہیں گرا؟ وہ تو گر چکا ہے، وہ گرا رہے گا، اس کے علاوہ پانچ صیغوں کے اندر کوئی اعلال لن ناصبہ نہیں کرے گا اور سات صیغوں کے آخر سے نون اعرابی کو گرا دے گا اور دو صیغوں کے آخر میں کوئی عمل نہیں کرے گا جو جمع مؤنث کے ہیں کیونکہ وہ مبنی ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی نفی جحد بلام در مستقبل معروف و مجہول، یہ بھی دو گردانیں ہیں بھئی، لم یرا، لم یریان، لم یراو، لم ترا، لم ترایا، لم یرائینا، لم تراو، لم ترائے، لم ترائینا، لم ارا، لم نرا، یا مجہول پڑھ لیں اسی کو، لم یرا، لم یریان، لم یراو، لم ترا، لم ترایا، لم یرائینا، لم ترائو، لم ترائے، لم ترائینا، لم ارا، لم نرا۔ لم یرا یا لم لم یرا آگے دیکھیے بھئی لم یرا یا لم یرا دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں دراصل یرا بود یہ اصل میں کیا تھا یرا تھا بھئی۔ بسبب لم الف در آخر افتاد لم کی وجہ سے آخر سے الف گر گیا لم یرا شد تو لم یرا ہوا مجھول یا یہ یرا پڑھ لیں تو لم یرا ہوا۔ و ھکذا لم تر لم ارا لم نرا اور اسی طرح ہے لم تر لم ارا اور لم نرا یا اس کو معروف پڑھ لیں لم تر لم ارا لم نرا۔ و در باقی صیغ عمل کہ در مضارع صحیح میں کند نمود۔ اور باقی صیغوں میں وہ عمل جو کہ مضارع کے اندر در مضارع صحیح میں کند جو صحیح کے مضارع میں لم کرتا ہے نمود اس نے وہی عمل کیا۔ باقی صیغوں میں لم کیا عمل کرتا ہے؟ ویسے تو جزم دیتا ہے لیکن آخر میں حرف علت آئے تو اس کو گرا دیتا ہے تو پانچ صیغوں کے آخر میں لم نے کیا کیا؟ حرف علت کو گرا دیا اور سات صیغوں میں جیسے صحیح میں عمل کرتا تھا وہی عمل کیا۔ سات صیغوں میں کیا کرتا تھا؟ نون اعرابی گراتا تھا وہ یہاں بھی گرا دیا۔ تو کہتے ہیں و در باقی صیغ عمل کہ در مضارع صحیح میں کند نمود اور باقی صیغوں میں وہی عمل جو کہ صحیح کے مضارع کے اندر میں کند وہ کرتا ہے نمود اس نے کیا ظاہر کیا۔ بر اعلالات کہ در مضارع بود اعلال نے افزود بر اعلالات وہ اعلالات کہ در مضارع بود جو کس میں تھے؟ مضارع میں تھے ان پر اعلال نے افزود ان پر کوئی اعلال نہیں بڑھا۔ ان پر کسی اعلال کا اضافہ نہیں کیا۔ لام تأکید با نون ثقیلہ در فعل مستقبل معروف و مجھول لیریں جی یہ معروف بھی ہے اور لیریں مجھول بھی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جی تو لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں یہ لیریں ہونا چاہیے بھئی یا کے نیچے زیر۔ لیریں لیریں لیریں مجھول بھی اسی کو پڑھ لیں بھئی لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں آگے دیکھیے بھئی لیریں یہ معروف اور مجھول دونوں ہیں لیریں بھی اور لیریں بھی دراصل یرا بود اصل میں کیا تھا؟ یرا یا مجھول پڑھ لیں دراصل یرا۔ تو کہتے ہیں دراصل یرا بود اصل میں یہ یرا تھا لام تأکید در اول و نون ثقیلہ در آخر آوردند لام تأکید شروع میں اور نون ثقیلہ در آخر آوردند آخر میں لے آئے نون ثقیلہ فتحہ ماقبل خواست نون ثقیلہ نے اپنے سے ماقبل فتحہ چاہا۔ الف قابل حرکت نبود الف قابل حرکت نہ تھا لہٰذا یا را کے اصل الف بود باز آورد۔ لہٰذا یا کو جو کہ الف کی اصل تھی باز آورد اس یا کو پھر لے آئے طریقہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ اس الف کو یا سے بدل دیا کیونکہ وہ پہلے بھی یا ہی تھا اصل میں۔ تو کہتے ہیں وہ باز آورد اس کو یا کو پھر لے آئے فتحہ دادند اور اس کو فتحہ دے دیا۔ لیریں شد تو لیریں ہو گیا یا مجھول پڑھ لیں لیریں شد لیریں ہو گیا۔ و ہم چنیں لیریں لیریں لیریں یہ بھی اسی طرح ہیں وہ ہم چنیں اور اسی طرح ہے لیریں لیریں لیریں یا انہی کو مجھول بھی پڑھ لیں وہ ہم چنیں لیریں لیریں لیریں وہ بھی اسی طرح ہیں۔ لیریں جو جمع کا صیغہ ہے بھئی یہ معروف بھی ہے اور مجھول بھی ہے لیریں اور لیریں کہتے ہیں دراصل یا راؤ نہ بود یہ اصل میں کیا تھا؟ یا راؤ نہ تھا نا یا را یا راؤ تو یہ یا راؤ نہ تھا یا مجھول پڑھ لیں کہ دراصل یراؤ نہ تھا تو کہتے ہیں دراصل یا راؤ نہ بود یہ اصل میں یا راؤ نہ تھا بعد آوردن لام تأکید و نون ثقیلہ اور لام تأکید اور نون ثقیلہ کو لانے کے بعد و حذف نون اعرابی اور نون اعرابی کو حذف کرنے کے بعد اجتماع ساکنین شد میان واؤ و نون اجتماع ساکنین ہو گیا نون اور واؤ کے درمیان۔ کس میں؟ نون اور واؤ کے درمیان کیا تھا؟ یا راؤ نہ اس نون کو گرا دو اور نون ثقیلہ لے آؤ کیا بن گیا؟ یا راؤ نہ واؤ بھی ساکن اور نون ثقیلہ کا پہلا نون بھی ساکن تو اجتماع ساکنین آیا تو پھر کیا کیا؟ جی اس واؤ کو ضمہ کی حرکت دیں اگر اول حرف مدہ ہو اس کو گرا دیتے ہیں لیکن یہ واؤ تو حرف مدہ نہیں کیونکہ اس سے پہلے تو فتحہ ہے تو اس واؤ کو کون سی حرکت دے دی؟ ضمہ والی تو کیا بن گیا؟ یا راؤ نہ۔ تو کہتے ہیں اجتماع ساکنین شد میان واؤ و نون اجتماع ساکنین ہوا درمیان واؤ اور نون کے واؤ غیر مدہ بود واؤ غیر مدہ تھا لہٰذا آنرا ضمہ دادند لہٰذا اس کو ضمہ دے دیا۔ لیریں شد تو لیریں ہو گیا یا مجھول پڑھ لیں لیریں شد تو لیریں ہو گیا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے معروف اور مجھول تمام صیغوں کی تعلیل ایک جیسی ہے اس لیے اس کو اکٹھا ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ تو جیسے لیریں ہے اسی طرح لیریں بھی اس میں بھی یہی اعلال ہوا ہے اور ہاکذا اور اسی طرح لیریں اور اسی طرح ہے لیریں بھی۔ یا اس کو مجھول پڑھ لیں و ہاکذا لیریں اور اسی طرح ہے لیریں بھی۔ و در لیریں اور لیریں میں اس کو بھی چاہے معروف پڑھیں چاہے مجھول لیریں یا پڑھیں لیریں کہتے ہیں واحد مؤنث حاضر یہ جو واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے چاہے معروف کا ہو یا مجھول کا بعد حذف نون اعرابی نون اعرابی کو حذف کرنے کے بعد یا را کسرہ دادند یا کو کسرہ دے دیا۔ یا کو کسرہ دے دیا۔ با نون خفیفہ اب نون خفیفہ کے ساتھ گردان آگئی آپ جانتے ہیں نون خفیفہ مضارع کے آٹھ صیغوں میں آتا ہے بھئی تثنیہ کے صیغوں میں بھی نہیں آتا اور جمع مؤنث کے صیغوں میں بھی نہیں آتا۔ تو کہتے ہیں با نون خفیفہ لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں لیریں اسی کو مجھول بھی آپ پڑھ سکتے ہیں امر حاضر معروف ر ر یا رو ر رینا ر دراصل ترا بود ر اصل میں کیا تھا؟ ترا تھا بھئی مضارع سے مخاطب کا صیغہ نکال لو ترا شروع سے تا گرا دو اور آخر سے الف گرا دو کیا بن گیا؟ ر صرف ر رہ گئی اس اس پر زبر ہے ر۔ تو کہتے ہیں ر دراصل ترا بود ر اصل میں ترا تھا بعد حذف علامت مضارع متحرک ماند یہاں علامت مضارع کو حذف کرنے کے بعد متحرک ماند متحرک حرف رہ گیا۔ بھئی علامت مضارع کو گراتے ہیں اور اگلا حرف اگر ساکن ہو تو پھر شروع میں کیا لاتے ہیں؟ ہمزہ وصل لاتے ہیں لیکن یہاں نہیں لائے کیوں؟ کیونکہ آگے متحرک رہ گیا تھا ر کیا تھی؟ متحرک یہی بیان کر رہے ہیں کہ بعد حذف علامت مضارع متحرک ماند علامت مضارع کو حذف کرنے کے بعد متحرک حرف باقی رہ گیا لہٰذا حاجت بہ ہمزہ وصل نہ شد لہٰذا ہمزہ وصل کی ضرورت نہ ہوئی اس کی ضرورت پیش نہ آئی در آخر وقف نمودند آخر میں وقف کیا بسبب وقت الفِ آخر بے افتاد اور وقف کی وجہ سے آخر کا الف گر گیا ر شد تو کیا ہو گیا؟ ر صرف ر رہ گئی اور اس پر زبر ہے۔ در دیگر صیغ ہا بعد حذفِ علامتِ مضارع نون اعرابی حذف شدہ باقی صیغوں میں علامتِ مضارع کو حذف کرنے کے بعد نون اعرابی حذف شدہ نون اعرابی حذف ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ ریا رو رے ان سب کے آخر سے نون اعرابی گر گیا ہے۔ در غیر رینا رینا کے آخر سے نون کیوں نہیں گرا؟ کہتے ہیں بھئی یہ نون اعرابی نہیں ہے بلکہ یہ تو جمع کی ضمیر ہے تو کہتے ہیں درغیر رینا جمع مؤنث علاوہ رینا جمع مؤنث کے کہ بسبب بودن نونِ جمع تغیر در آخر آن نہ شدہ کہ نون جمع ہونے کی وجہ سے تغیر در آخر آن نہ شدہ اس کے آخر میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ امر غائب و متکلم معروف امر غائب اور متکلم معروف کے صیغے بھئی امر کے۔ لیرالیرالیرالترالترا للیرینا لیرالینرا مثل لم یرا اعلال بایت کردنت کہتے ہیں لم یرا کی طرح اعلال کرنا چاہیے۔ اور ہاکذا امر مجھول اور اسی طرح کیا ہے امر مجھول میں بھی اسی طرح ہے لیریں بھئی آگے دیکھیے امر حاضر معروف با نون ثقیلہ امر حاضر معروف نون ثقیلہ کے ساتھ رین یہ کس سے بنا ہے؟ ر سے ر۔ تو نون ثقیلہ لے آئے۔ اور نون ثقیلہ جب آخر میں آیا تو پھر وہ الف واپس آگیا وہ الف کیوں گرا تھا؟ جزم کی وجہ سے اب تو جزم نہیں ہے آخر میں تو اب تو وقف نہیں ہے آخر میں تو وہ الف پھر آگیا اور نون ثقیلہ اپنے سے ماقبل فتحہ چاہتا ہے اب الف پر فتحہ تو نہیں آ سکتا تو الف کو اس کے اصل کی طرف لوٹا دیا اور اصل میں یہ الف کیا تھا؟ یا تو اس کو یا سے بدل دیا اور پھر یا کو فتحہ دیا تو کیا بن گیا؟ رین تو کہتے ہیں امر حاضر معروف با نون ثقیلہ رین رین رین رین رینانی۔ اب وہی جو میں نے ابھی بات بیان کی یہ بھی ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں رین دراصل ر بود یہ اصل میں کیا تھا؟ ر تھا پہلا صیغہ امر حاضر کا۔ ر ہے اور اس پر صرف زبر ہے۔ تو کہتے ہیں رین دراصل ر بود ر اصل میں ر تھا بعد آوردن نونِ ثقیلہ نون ثقیلہ کو لانے کے بعد علت حذف حرف علت کے وقف بود زائل شد علت حذف حرف علت حرف علت کو حذف کرنے کی جو علت تھی حرف علت کو حذف کرنے کی جو علت تھی یعنی جو وجہ تھی علت کا کیا معنی وجہ حرف علت کو کیوں حذف کیا تھا؟ ر کے آخر سے ر کس سے بنا تھا؟ ترا سے آخر سے الف کیوں گرایا تھا؟ وقف کی وجہ سے وقف کی وجہ سے اب تو وقف نہیں تو لہٰذا وہ الف واپس آگیا یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں بعد آوردن نون ثقیلہ نون ثقیلہ کو لانے کے بعد علت حذف حرف علت حرف علت کو حذف کرنے کا جو سبب ہے کہ وقف بود جو کہ وقف تھا زائل شد وہ سبب ختم ہو گیا ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ لہٰذا حرف علت قابل باز آمدن شد لہٰذا حرف علت وہ واپس آنے کے قابل ہو گیا حرف علت قابل باز آمدن قابل باز آمدن کا معنی پھر آنا یعنی واپس آنا قابل باز آمدن شد وہ پھر واپس آنے کے قابل ہو گیا مگر الف کے حذف شدہ قابلِ حرکت نہ بود مگر وہ الف جو کہ حذف ہوا تھا وہ تو حرکت کے قابل نہ تھا و نون ثقیلہ فتحہ ماقبل می خواہد اور نون ثقیلہ ماقبل کا فتحہ چاہتا ہے لہٰذا یرا کے اصل بود باز آورد فتحہ دادند لہٰذا یا جو کہ اصل تھی اس الف کی اصل تھی باز آورد اس یا کو پھر واپس لا کر فتحہ دادند فتحہ دے دیا۔ رین شد تو رین ہو گیا۔ و در رین و رین بھئی رین میں یہ واؤ پہ ضم اور رین میں یا کے نیچے زیر آئی یہ کیسے آئی؟ بھئی رین کس سے بنا ہے؟ امر امر کے صیغے نکالو نا ر را رو رو رو سے بنا ہے اور رو کے آخر میں کیا لگا دیا؟ نون ثقیلہ تو کیا بن گیا؟ رؤن ہاں ابھی واؤ ساکن ہے رون واؤ بھی ساکن اور نون پہلا بھی ساکن اور اگر واؤ حرف مدہ ہوتا اس کو گرا دیتے لیکن یہ واؤ تو حرف مدہ نہیں کیونکہ اس سے پہلے تو فتحہ ہے تو اس واؤ کو کون سی حرکت دے دی؟ ضمہ والی تو کیا بن گیا؟ رؤن تو ر ر را رو ر ر کے ساتھ ذرا نون ثقیلہ لاؤ رین نون ثقیلہ جوڑ دو راینہ یا بھی ہے اور پہلا نون بھی ساکن تو اجتماع ساکنینہ اور یہ یا حرف مدہ نہیں کیونکہ یا سے پہلے کسرہ نہیں ہے بلکہ فتحہ ہے تو پھر اس کو کسرہ والی حرکت دے دی۔ مدہ ہوتا تو گرا دیتے تو کیا بن گیا؟ راینہ۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں والروُنَّ ورینہ۔ روُنَّ اور رینہ میں و اور یا را کے غیر مدہ بودن۔ و اور یا جو کہ غیر مدہ تھے، بسب اجتماع ساکنین حرکت ضمہ و کسرہ دادند۔ ان کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے ضمہ اور کسرہ کی حرکت دے دی۔ نون ثقیلہ امر با لام مثل نون ثقیلہ فعل مضارع است۔ کہتے ہیں نون ثقیلہ امر با لام کا جو ہے، امر با لام، لام کے ساتھ جو امر کے صیغے ہیں ان کے ساتھ جب نون ثقیلہ لائیں تو بالکل مضارع جیسے صیغے بنیں گے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ امر کا جو لام ہے وہ مقصور ہوتا ہے اور مضارع پر جو لام تاکید ائے گا وہ مفتوح ہوتا ہے۔ بس صرف اتنا فرق ہے۔ تو کہتے ہیں نون ثقیلہ امر با لام مثل نون ثقیلہ فعل مضارع است۔ امر با لام کا نون ثقیلہ جو ہے مثل نون ثقیلہ فعل مضارع است وہ فعل مضارع کے نون ثقیلہ کی طرح ہے، جزئیں کہ لام امر مقصور است و لام مضارع مفتوح۔ علاوہ اس کے کہ لام امر مقصور ہے اور لام مضارع مفتوح۔ امر حاضر معروف با نون خفیفہ یہ تین صیغوں میں ائے گا بھئی۔ نون خفیفہ امر کے چھ میں سے صرف تین صیغوں میں۔ کیوں؟ کیونکہ دو تثنیہ کے صیغے ہیں اور ایک جمع مؤنث کا صیغہ ہے ان میں نون خفیفہ نہیں اتا۔ تو کہتے ہیں امر حاضر معروف با نون خفیفہ رایَن، روُن، رین۔ وامربالام ہم بریں قیاس۔ اور امر بالام بھی اسی قیاس پر ہے یعنی اس میں بھی اسی طرح ہوگا۔ نہی معروف مجہول۔ نہی معروف اور مجہول جو ہے لا یرا تا آخر آخر تک لا یرا، لا یرا دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ نہی با نون ثقیلہ۔ نہی نون ثقیلہ کے ساتھ لا یرا یَنَّا، لا یرا یانِ تا آخر۔ بقیاس صیغہ ہائے نون ثقیلہ امر اعلال باید کرد۔ لا یرا یَنَّا، لا یرا یانِ سے لے کر آخر تک۔ بقیاس صیغہ ہائے نون ثقیلہ امر۔ امر کا جو نون ثقیلہ ہے، اس کے صیغوں پر قیاس کرتے ہوئے اعلال باید کرد۔ ان کا بھی اعلال نہیں۔ کے اندر بھی اعلال اسی طرح کر لو جس طرح کس میں ہوا تھا؟ جی؟ امر کے نون ثقیلہ کے صیغوں میں جس طرح اعلال ہوا تھا، یہاں نہی کے صیغوں میں بھی نون ثقیلہ لاؤ تو اسی طرح اعلال کر لو۔ پھر ترجمہ دیکھ لیں۔ کہتے ہیں لا یرا یَنَّا، لا یرا یانِ تا آخر بقیاس صیغہ ہائے نون ثقیلہ امر اعلال باید کرد۔ امر کے نون ثقیلہ کے صیغوں کے قیاس پر۔ ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں۔ امر کے نون ثقیلہ کے صیغوں کے قیاس پر اعلال باید کرد۔ اعلال کر لینا چاہیے۔ نہی با نون خفیفہ۔ لا یرا یَن، لا یَرُون، لا ترا یَن، لا ترا وُن، لا ترا یِن۔ یہ بھئی لا ترا یِن ہے بھئی لا ترا یِن۔ واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے۔ جمع مؤنث کے صیغے کے اندر تو نون خفیفہ آتا ہی نہیں ہے۔ تو یہاں یا کے نیچے کسرہ ہونا چاہیے، لا ترا یِن۔ اور مجہول میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ لا، لا تر یِن ہونا چاہیے۔ لا ار یَن، لا نار یَن۔ اسی گردان کو مجہول بھی آپ پڑھ سکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں گردانیں ہیں بھئی۔ لا یرا یَن، لا یرا وُن، لا ترا یَن، لا ترا وُن، لا ترا یِن، لا اُر یَن، لا نُر یَن۔ اس میں فاعل راعٍ، راعیانِ، راعُون، رائیۃٌ، رائیاتانِ، راعیاتٌ۔ چون رامِن تا آخر، یہ رامِن کی طرح ہے آخر تک۔ اس میں مفعول جو ہے مریِّعٌ، مریِّعانِ تا آخر آخر تک چون مرمِّیٌ تا آخر جیسے کہ مرمِّیٌ ہے آخر تک۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں چلیے بس بھئی اب اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیجیے۔ مہموز فا، اجوف یائی از ضرب العید، قوی ہونا۔ عبارت مل گئی سب کو؟ جی دیکھیے بھئی مہموز فا، اجوف یائی از ضرب العید، قوی ہونا۔ آدا یعید عیداً فہو عائید الی آخره۔ باع یبیع الی آخره کی طرح ہے۔ اس باب میں بھی ضابطہ مذکورہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چنانچہ یہ عید میں راسٌ کے قاعدہ پر یبیعُ کے قاعدہ کو ترجیح دی گئی ہے اور اسی طرح آعید صیغہ واحد متکلم میں ہوا مگر بالاخیر ہمزہ دوم بقاعدہ ائمۃً یا سے بدل گیا۔ مہموز فا و ناقص واوی از نصر، الُ العو کو تاخی کرنا، الا یعلو۔ ہمزہ میں مہموز کا قاعدہ اور وا میں ناقص کا قاعدہ جاری کر لینا چاہیے۔ مہموز فا و ناقص یائی از ضرب، الاتیانِ آنا، آتا یأتی، رما یرمی کی طرح ہے۔ از فتح یفتح الابا انکار کرنا، ابا یابا۔ مہموز فا و لفیف مقرون از ضرب، الایو پناہ حاصل کرنا، آوا یاوی مثل طوا یطوی۔ مہموز عین و مثال از ضرب، الوعدو زندہ در گور کرنا یعنی زندہ دفن کرنا۔ وعد یعید مثل وعد یعید۔ مہموز عین و ناقص یائی از فتح، الرؤیت دیکھنا اور جاننا۔ راء یرا رؤیت فہو راء و رؤی یرا رؤیت فہو مرئی۔ الامر منہ راء والنہی عنہ لا ترا۔ الظرف منہ مرءاً والآلہ منہ مرءاً، مرآة، مرآء و تثنیتہما مرآیان و مرآیان والجمع منہما مرائن و مرایی۔ مرایی ہے آپ کی کتابوں میں؟ شد ہے؟ مرائن و مرایی۔ افعل التفضل منہ آرء والمؤنث منہ رؤیا وتثنیتہما آرءان و رؤیان والجمع منہما آرائن و آرءون و رؤان و رؤیاتٌ۔ آگے دیکھیے بھئی ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ یسئلو کا قاعدہ اس باب کے افعال میں وجوبی ہے، اسماء میں نہیں۔ یہ بات ملحوظ رکھ کر لام میں قواعد ناقص کی رعایت کرتے ہوئے تمام صیغے پڑھ لینے چاہئیں۔ تعلیماً ہم صرف کبیر بھی لکھ دیتے ہیں کیونکہ اس باب کے صیغے مشکل ہیں۔ اثبات فعل ماضی معروف۔ راء راءیا راؤ راءت راءتا راءینا آخر تک رمای الی آخره کی طرح ہے۔ سوائے اس کے کہ ہمزہ میں بین بین ہو سکتا ہے۔ مجہول۔ رؤی رؤیا رؤؤ رؤیت آخر تک رمیا الی آخره کی طرح ہے۔ اثبات فعل مضارع معروف۔ یرا یریان یراون ترا تریان یرین ترون ترین ترین آرانرا۔ یرا در اصل یرا یو تھا، ہمزہ کی حرکت بقاعدہ یسئلو ما قبل کو منتقل ہوئی اور ہمزہ حذف ہو کر یرا یو ہوا۔ یا ساتویں قاعدہ سے الف بن گئی، یہی تعلیل تمام صیغوں میں ہے سوائے تثنیہ کے کہ اس میں صرف قاعدہ یسئلو پر اکتفا کیا گیا۔ یعنی اس میں ساتواں قاعدہ پھر نہیں لگا۔ آگے دیکھیے مانع کے باعث یا الف سے نہیں بدلی۔ یعنی اس میں ساتواں ضابطہ نہیں لگا۔ آگے دیکھیے اور الف یراون و تراونا صیغہ جمع مذکر میں واو کے ساتھ التقائے ساکنین کے باعث اور ترینا واحد مؤنث حاضر میں یا کے ساتھ التقائے ساکنین کے باعث الف حذف ہو گیا ہے۔ مجہول۔ یرا یریان یرون الی آخره اس کی تعلیل معروف کی طرح ہے۔ نفی تاکید بلند معروف و مجہول۔ لن یرا لن یرا یا لن یرا و الی آخره لنے لن یخشی و لن یرضا کی طرح یرا اور اس کے نظائر کے الف میں بھی عمل نہیں کیا اور دوسرے صیغوں میں اسی طرح عمل کیا جس طرح صحیح میں کرتا ہے، جو تعلیلات مضارع میں تھی وہی باقی ہیں۔ نفی جہد بلم در فعل مستقبل معروف و مجہول۔ لم یرا لم یرا یا لم یرا و لم ترا لم ترا یا لم یرین لم تراو لم ترای لم ترین لم آرا لم نرا۔ اسی میں مجہول بھی پڑھ سکتے ہیں آپ اس کو۔ آگے دیکھیے لم یرا دراصل یرا تھا، لم کے باعث الف آخر سے گر گیا لم یرا ہوا۔ و ہکذا لم ترا لم آرا لم نرا۔ یہ سب معروف اور مجہول جتنے صیغے آئیں گے معروف بھی ہیں اور مجہول بھی ہیں، میں بس معروف پڑھتا جاؤں گا بھئی۔ تو کہتے ہیں اور ہکذا لم ترا لم آرا لم نرا اور باقی صیغوں میں وہی عمل کیا ہے جو مضارع صحیح میں کرتا ہے، جو تعلیلات مضارع میں ہو چکی ہیں ان پر کسی تعلیل کا اضافہ نہیں ہوا۔ لام تاکید با نون ثقیلہ در فعل مستقبل معروف و مجہول۔ لیرایَنَّا لیرایانی لیرایوُنَّ لترایَنَّا لترایانی لیرینانی لترایوُنَّ لترایِنَّ لترایَنانی لعرایَنَّ لنرایَنَّ۔ لیرایَنَّا در اصل یرا تھا۔ لام تاکید اول میں اور نون ثقیلہ آخر میں آیا، نون ثقیلہ نے اپنے ماقبل فتحہ کا تقاضا کیا۔ الف قابل حرکت نہ تھا، لہذا یا کو جو کہ الف کی اصل تھی واپس لا کر فتحہ دے دیا لیرایَنَّ ہو گیا۔ یہی حالت ترایَنَّ لعرایَنَّ لنرایَنَّ کا ہے۔ لیرایوُنَّ اصل میں یراونا تھا۔ لام تاکید اور نون ثقیلہ لانے اور نون اعرابی حذف کرنے کے بعد واو اور نون کے درمیان اجتماع ساکنین ہوا، واو غیر مدہ تھا لہذا اسے ضمہ دے دیا لیرایوُنَّ ہو گیا۔ و ہکذا لترایوُنَّ۔ لترایِنَّ واحد مؤنث حاضر میں نون اعرابی حذف کرنے کے بعد یا کو کسرہ دیا ہے۔ با نون خفیفہ۔ لیرایَن لیرایوُن لترایَن لترایوُن لترایِن لا آران لنرایَن۔ امر حاضر معروف را را یا راو راینا۔ رادر اصل تارا تھا، حذف علامت مضارع کے بعد متحرک تھا۔ لہذا ہمزہ وصل کی ضرورت نہ ہوئی۔ آخر میں وقف کیا۔ وقف کے باعث الف گرا، را رہ گیا۔ باقی صیغوں میں حذف علامت مضارع کے بعد نون اعرابی حذف ہو گیا، سوائے رینا جمع مؤنث کے کہ نون جمع ہونے کے باعث اس کے آخر میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔ امر غائب و متکلم معروف۔ لیرالیرا یا لیرائو لیترا لیترا یا لیرائینا لارا لنرا۔ لم یرا کی طرح تعلیل کر لینا چاہیے و ہکذا امر مجہول۔ امر حاضر معروف با نون ثقیلہ۔ رایَنّا رایانی روُنّ رینّا رینانی۔ رایَنّا اصل میں رتھا، نون ثقیلہ لگنے سے وقف جو حذف حرف علت کا سبب تھا۔ حرف علت کے حذف کا سبب کیا تھا؟ وقف۔ وہ جو تھا زائل ہو گیا، وہ زائل ہو گیا وہ وقف ختم ہو گیا لہذا حرف علت واپس آنے کے قابل ہو گیا۔ مگر الف جو حذف ہوا تھا قابل حرکت نہ تھا اور نون ثقیلہ فتحہ ماقبل چاہتا ہے، لہذا یا کو جو اس کی اصل تھی یعنی الف کی جو اصل تھی واپس لا کر فتحہ دے دیا۔ رایَنّا ہوا اور روُنّا اور رینّا میں واو اور یا کو جو غیر مدہ تھے اجتماع ساکنین کے باعث حرکت ضمہ و کسرہ دے دی گئی۔ نون ثقیلہ امر بالام۔ نون ثقیلہ فعل مضارع کی مثل ہے سوائے اس کے کہ لام امر مقصور ہے اور لام مضارع مفتوح۔ امر حاضر معروف با نون خفیفہ رایَن روُن رین امر بالام کو اسی پر قیاس کر لو۔ نہیں معروف و مجہول۔ لا یرا الی آخره۔ نہیں با نون ثقیلہ۔ لا یرا یَنَّا لا یرا یانِ آخر تک۔ امر با نون ثقیلہ کے صیغوں کی طرح تعلیل کر لینی چاہیے۔ نہیں با نون خفیفہ۔ لا یرا یَن لا یرا وُن لا ترا وُن لا ترا یِن لا آران لا نرایَن۔ اس میں فاعل راعٍ راعیانِ راعون رائیۃٌ رائیاتانِ رائیاتٌ مثل رامن الی آخره۔ اس میں مفعول مرعیٌ مرعیان الی آخره۔ مثل مرمي الی آخره یہ مرمیی کی طرح ہے آخر تک۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں چلیے بس بھئی ھذاہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
55 approved lectures · 39 of 55