Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 41
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فائدہ: نزدیک کوفیاں مصدر ہم از مشتقات فعل است، ایشاں اسمائے مشتقہ ہفت میں گویند و تحقیق حق دریں باب در فصل افادات خواہید آمد۔ اوزان مصدر ثلاثی مجرد قاعدہ منضبطہ ندارد، و از غیر آن وزن مقرر است چنانکہ خواہید آمد۔ جناب استازی مولوی سید محمد صاحب عال اللہ درجاتیہ اکثر اوزان مصادر ثلاثی مجرد را بہ وزن نظم فرموداند کہ بر ضبط حرکات و امثلہ مشتمل است، افادتاً می‌نویسم و آن این است۔ अच्छा بھئی! پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ، لیکن اس سے پہلے گزشتہ جو یاد کرنے والی چیزیں ہیں روزانہ اس کو دہرا رہے ہیں؟ جو جو چیزیں میں نے ذکر کی ہیں، جو جو چیزیں میں کہوں یا نئی نئی جو باتیں آئیں ان کو روزانہ دہرانا ہے جیسے ابواب الصرف آپ روزانہ دہراتے تھے شروع سے، ٹھیک ہے؟ ہاں تو آپ خود کہیں گے کہ ہمیں تو علم الصیغہ تقریباً زبانی ہی یاد ہو گئی ہے جو جو باتیں ہیں اور محنت ذرا بھی نہیں لگتی کیونکہ آپ نے کل کا سبق یاد کیا ہوا ہے، اس کو آج پھر دہرا لو، پھر اگلے دن پھر دہرا لو، پھر اس سے اگلے دن پھر دہراتے جاؤ، دیکھو محنت ذرا بھی نہیں لگے گی، بس اس کو دہرانا پڑے گا اور وقت بھی کم سے کم ہوتا جائے گا، آپ دیکھیں گے پہلے دن اگر سناتے ہوئے پانچ منٹ لگے تھے تو اس سے اگلے دن صرف تین چار منٹ لگیں گے، اس سے اگلے دن وہ سبق پہ دو تین منٹ لگیں گے کیونکہ آپ کی رفتار بڑھتی جائے گی، ازبر ہوتے جائیں گے۔ تو لہٰذا پہلے بھئی وہ نون ثقیلہ کی کوئی ایک آدھی گردان مجھے سنا دے بھئی، ہاں! آپ یوں کیجیے نہیں کی گردان سنا دیں بھئی نون ثقیلہ کے ساتھ۔ لا یضربن لا یضربانی لا یضربن لا تضربن لا تضربانی لا یضربنان لا تضربن لا تضربانی لا تضربن لا تضربین لا تضربانی لا تضربنان لا أضربن لا نضربن۔ شاباش! شاباش! بہترین بھئی۔ جی! اب آپ سنائیے بھئی، امر سے سنا دیجیے نون ثقیلہ بھئی۔ اضربن اضربانی اضربن اضربین اضربانی اضربنان۔ ہاں، یہ روز دہراتے ہو مجھے یہ بتاؤ؟ نہیں دہرا رہے۔ یہ دہرائے۔ روز دہراؤ بھئی، روز دہراؤ بھئی، نشان لگاؤ اپنی کاپی میں کہ یہ گردان روز سنانی ہے، یہ والی، یہ والی، یہ والی تاکہ کتاب میں ڈھونڈنا نہ پڑے کیا سنانا ہے اور کیا نہیں سنانا، وہ کاپی میں نشان لگے ہوں بس۔ اچھا جی، وہ اوزان سناؤ بھئی صفت مشبہ کے۔ صعب، صفر، صلب، حسن، خشن، نذس، جذعان، بلیل، حطم، جنوب، احمر، احمر، کاپر، کبیر، غفور، جید، جوان، حجان، شجاعان، شجاع، عطشان، عطشان، عطشان، حبلاء، حبلاء، حمراء، حمراء، احمراء۔ نہیں دہرارے روز۔ ہاں؟ دہرارے۔ پھر کیوں اٹکتے ہو؟ پھر کیوں اٹکے ہو؟ آخر میں جا کے اٹک گئے ہو۔ روز سنانے کا مطلب یہ ہے کہ کمزوری کو دور کرو، جہاں اٹک رہے ہو اس کو پچاس دفعہ پھر پڑھ لو، شجاع ان سے زبان اٹک رہی ہے شجاع ان، عطشان، عطشان، حبلاء، حمراء، شرآؤ، بار بار پڑھو اس کو، بار بار پڑھو۔ خوب یاد کرو۔ آگے دیکھیے بھئی ہاں، اب گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیں بھئی، پھر اگلا سبق پڑھتے ہیں۔ گزشتہ سبق میں آپ نے اسم آلہ کے بارے میں پڑھا تھا کہ اسم آلہ جو ہے وہ جو آلہ صدور فعل پر دلالت کرتا ہے یعنی جس کے ذریعے کوئی کام کیا جائے، اس آلے پر جو دلالت کرے اس کو کہتے ہیں اسم آلہ۔ اور اس کا وزن آپ نے پڑھا مفعَلٌ، مفعَلۃٌ اور مفعالٌ کے وزن پر آتے ہیں اور آپ نے ابواب الصرف میں پڑھا تھا کہ مفعَلٌ جو ہے آلہ صغریٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے، مفعَلۃٌ آلہ وسطیٰ کے لیے اور مفعالٌ آلہ کبریٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اسم آلہ کبھی کبھار فاعل وزن پر بھی آتا ہے، یہ انہوں نے آپ کو نئی بات بتلائی کہ فاعل وزن پر بھی اسم آلہ آتا ہے، جیسے خاتم، مہر لگانے کا آلہ، اور عالم، جاننے کا آلہ۔ لیکن پھر انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس قسم کے اندر یہ جو فاعل وزن پر آئے ہیں اسم آلہ، ان میں معنی اسمی غالب آ گئے ہیں، لہٰذا ابو اشتراقی معنی میں استعمال نہیں ہوتے ہر جگہ پر۔ لہٰذا ہر وہ چیز جس کے ذریعے مہر لگائی جائے اس کو خاتم نہیں کہیں گے، خاتم وہ مخصوص چیز جو کس کے لیے بنی ہے؟ مہر لگانے کے لیے اسی کو کہیں گے اور اسی طرح عالم ہر وہ چیز جس کے ذریعے جانا جائے، اس کو عالم نہیں کہیں گے بلکہ یہ جو جہان ہے صرف اسی کو کیا کہتے ہیں؟ عالم۔ اور عالم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے ذریعے ہم کس کی، ہمیں کس کی پہچان ہوتی ہے؟ خالق کی، خالق کی کوئی بنانے والی ذات ہے، تو اللہ کی پہچان ہوتی ہے اس کے ذریعے۔ پھر اس کے بعد آپ نے ظرف کے بارے میں پڑھا تھا، ظرف کہ ظرف وہ ہے جو کسی فعل کے کرنے کی جگہ یا وقت پر دلالت کرے اور پھر ضابطہ بھی انہوں نے ذکر کیا تھا جو ہم ابواب الصرف میں یاد کر چکے کہ ظرف یفعل مفعِلٌ الا ناقص اے کمال و از غیر یفعل مفعَلٌ است الا ز ابواب مثال۔ تو یہ شعر ہر صرفی کو ہر وقت یاد ہونا چاہیے، ہر وقت کیونکہ ایک ضابطہ ہے اور یہ پھر ذہن میں نہیں رہتا کہ کہاں کس طرح کرنا ہے، لیکن جب یہ شعر ہوگا اور یہ شعر ایسا ازبر ہو کہ کہیں چلتے چلتے سال بعد، دس سال بعد بھی کوئی پوچھے، آپ فوراّ ظرف کا قاعدہ پوچھے، آپ فوراً یہ شعر سنا دیں کہ ظرف یفعل مفعِلٌ است الا ناقص اے کمال و از غیر یفعل مفعَلٌ است الا ز ابواب مثال اور اگر آپ یہ کہیں کہ مجھے تو یاد نہیں کافی عرصہ ہو گیا میں نے دیکھا نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو صرف اچھی طرح نہیں آتی بھئی، یہ تو ضابطہ ہر صرفی کو ہر وقت یاد ہونا چاہیے جیسے وہ شعر آپ کو ہر وقت یاد ہونا چاہیے جس میں ہفت اقسام کا ذکر ہے۔ صحیح است و مثال است و مضاف، لفیف و ناقص و محموز و اجوف۔ تو جیسے وہ شعر ہر وقت ہر صرفی کو یاد ہونا چاہیے تو اس شعر میں ضابطہ ذکر ہو گیا کہ ظرف یفعل مفعِلٌ است کہ یفعل مضارع جو ہوگا اس کا ظرف بھی مقصورالعین آئے گا الا ناقص اے کمال سوائے کس کے؟ ناقص سے اے کمال۔ کمال نام ہے بھئی اے کمال یا اے کامل! اے کامل! اے کامل طالب علم، اے بہترین کامل صرفی طالب علم، ظرف یفعل کیا ہے؟ مفعِل ہے الا ناقص سوائے کس کے؟ ناقص سے۔ و از غیر یفعل مفعَلٌ است الا ز ابواب مثال اور غیر یفعل یفعل کے علاوہ جو مضارع ہے یعنی یفعَل اور یفعُل چاہے مفتوح العین ہو یا مضموم العین وہاں سے ظرف مفعَل آتا ہے عین کے فتحہ کے ساتھ، سوائے کس کے؟ مثال کے کہ مثال سے ہمیشہ مقصورالعین ہی آئے گا اور ناقص سے ہمیشہ مفتوح العین۔ ظرف یفعل مفعِل است یفعل کا ظرف مفعِل آئے گا سوائے کس کے؟ ناقص کے۔ معلوم ہوا اس سے کبھی بھی مفعِل نہیں ہمیشہ مفعَل۔ اور غیر یفعل سے مفعَل آئے گا سوائے کس کے؟ مثال کے کہ وہاں کبھی مفعِل نہیں آئے گا وہاں ہمیشہ کیا آئے گا؟ مفعَل آئے گا۔ اور شعر کے اندر ناقص اور مثال کا ذکر آ گیا، اتنا پتہ چل گیا کہ ناقص اور مثال میں یہ ضابطہ کچھ مختلف ہے تو اب بغیر سوچے بھی آپ یاد رکھ سکتے ہیں کہ ناقص اور مثال کے پہلے حرف کو دیکھ لو، ناقص کے شروع میں ہے نون اور نون پر ہے زبر، معلوم ہوا اس کے عین پر ہمیشہ زبر آئے گی ظرف میں۔ مفعَل۔ اور مثال کا پہلا حرف ہے میم اور اس کے نیچے ہے زیر، معلوم ہوا مثال کے ظرف میں عین پر ہمیشہ زیر آئے گی، کسرہ آئے گا۔ اور پھر انہوں نے بتلایا تھا کہ ظرف جو ہے وہ جو وقت پر دلالت کرے اسے ظرف زمان کہتے ہیں اور جو جگہ پر دلالت کرے اس کو ظرف مکان کہتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو کچھ اور بھی قیمتی باتیں بتلائیں بھئی، ان باتوں کو بھی روزانہ دہرایا کرو جو جو نئی بات آئے روزانہ اس کو دہرائیں بھئی۔ انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ کبھی کبھار ظرف مفعُلۃٌ وزن پر بھی آ جاتا ہے۔ یعنی میم بھی مضموم اور عین بھی مضموم جیسے مقحلۃٌ، سرمہ دانی کو کہتے ہیں جس میں سرمہ ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے ایک اور قیمتی بات بتلائی کہ بعض اوقات مضارع غیر مقصورالعین ہوتا ہے لیکن ظرف مقصورالعین آ جاتا ہے جیسے مسجد، منسک، مطلع، مشرق، مغرب اور مجزر، یہ مثالیں بھی آپ کو ساتھ یاد ہونی چاہیے۔ اور یہ سارے میں نے بتایا باب نصرہ سے ہیں، ضابطے کے مطابق عین پر فتحہ ہونا چاہیے لیکن سب میں عین کے نیچے کسرہ ہے۔ اور پھر اس میں انہوں نے آپ کو حاشیے میں قیمتی بات بتلائی کہ یہ جو ہیں یہ اسم بن چکے ہیں، کیا ہیں؟ ان میں ظرف والا معنی ملحوظ، اشتقاقی معنی ملحوظ نہیں۔ مسجد کا معنی، تو اگر ظرف کا ترجمہ کریں ظرف والا، تو مسجد کا معنی کیا ہوا؟ سجدہ کرنے کی جگہ، تو اس کا یہ مطلب نہیں آپ جہاں بھی نماز پڑھ لیں، جہاں بھی سجدہ کر لیں اس کو مسجد کہیں گے۔ بلکہ مسجد اب نام بن چکا عبادت کی ایک مخصوص جگہ کا، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو معلوم ہوا ان میں اب اشتقاقی معنی ملحوظ نہیں۔ جہاں بھی آپ سجدہ یا کریں یا نماز پڑھیں اس کو مسجد تو کہیں گے قانون کے مطابق لیکن مسجد نہیں کہیں گے۔ پھر انہوں نے ایک اور قیمتی بات آپ کو بتلائی مفعَلۃٌ وزن کے بارے میں کہ مفعَلۃٌ وزن جو ہے اس چیز کے لیے آتا ہے جہاں پر کوئی چیز بکثرت ہو۔ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر کوئی چیز بکثرت ہو۔ بکثرت ہو جیسے مقبرۃٌ، قبرستان کو مقبرہ کہتے ہیں جہاں قبریں بکثرت ہوتی ہیں کثرت کے ساتھ۔ اور اسی طرح مسعدۃٌ دیکھو مفعَلۃٌ ہے یہ اس جگہ کو، اس جنگل کو کہتے ہیں جہاں شیر بکثرت ہوں بھئی۔ پھر اسی طرح ایک اور فائدہ انہوں نے ذکر کیا بھئی کہ فعالة وزن جو ہے فعالة وزن کا قیمتی نکتہ کہ فعالة وزن جو ہے یہ اس چیز کے لیے آتا ہے جو کوئی فعل کرتے ہوئے گرے۔ جو فعل کرتے ہوئے جو چیز نیچے گرے نی، وہ کیا ہے؟ اس کے لیے فعالة وزن استعمال ہوتا ہے، جیسے غسل کرتے ہوئے جو پانی نیچے گرا، اسے غسالة کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ یعنی یعنی آپ غسل کر رہے ہیں، وہ جو پانی استعمال شدہ آپ کے بدن سے بہہ کر نیچے آ گیا، جمع ہو گیا، یہ سارا کیا ہے؟ غسالة، غسالة۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ نیچے گرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پانی جو ادھر ادھر گر رہا ہے وہ اس کو غسالة کہیں گے، نہیں نہیں، جس سے آپ نے غسل کیا، وہ آپ کا مائے مستعمل جو ہے، وہ جو نیچے جمع ہوا وہ کیا ہے؟ غسالة ہے، غسالة۔ اور اسی طرح کناسة جھاڑو دیتے وقت جو چیز اکٹھی ہو، نیچے گرے یعنی وہ جو کوڑا ہے، جھاڑو دیتے وقت جو کوڑا اکٹھا ہوا وہ کیا ہے؟ کناسة ہے، دیکھو تو فعالة وزن بھئی اس کے لیے استعمال ہوا۔ یہاں تک بات ساری اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی۔ اچھا اب دیکھیے آگے سبق بھئی۔ کہتے ہیں فائدہ، جی فائدہ کے عنوان سے مختلف چھوٹی چھوٹی قیمتی باتیں ذکر کر رہے ہیں۔ نزدیک کوفیاں مصدر ہم از مشتقات فعل است، بھئی یہ بات پہلے گزر چکی کہ بصرہ والوں کا مذہب پیچھے بیان ہوا تھا جب دوسری فصل شروع ہوئی تھی، پہلے باب کی دوسری فصل جب شروع ہوئی تھی انہوں نے کہا تھا فصل دوم در بیان اسمائے مشتقہ، چھ اسم از فعل مشتق می شوند۔ چھ اسم فعل سے مشتق ہوتے ہیں۔ اور یہ کس کا مذہب بیان ہو رہا ہے؟ بصرہ والوں کا اور بصرہ والوں کے نزدیک اصل ہے مصدر اور مصدر سے بنتا ہے فعل ماضی اور فعل ماضی سے بنتا ہے فعل مضارع اور فعل مضارع سے پھر آگے سارے اسم بنتے ہیں تو فعل سے گویا چھ اسم بن گئے۔ مشتقات میں مصدر نہیں شامل کیونکہ مصدر مشتق نہیں ہے، مصدر مشتق منہ ہے، اس سے اشتقاق ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ لیکن کوفہ والوں کا مذہب یہ ہے کہ فعل ہی اصل ہے اور مصدر بھی مشتق ہوتا ہے فعل سے، یعنی ضرب ضربہ سے بنا ہے، ضرب ضربہ ہی سے بنا ہے تو کوفہ والوں کے نزدیک وہ اسماء جو مشتق ہوتے ہیں وہ سات ہوگئے، مصدر بھی شامل ہوگیا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اسم فاعل، اسم مفعول، اسم تفضیل، صفت مشبہ، اسم آلہ اور اسم ظرف اور مصدر بھی ساتھ شامل ہوگیا تو یہ سات ہوگئے بھئی کوفہ والوں کے نزدیک۔ دیکھیے بھئی عبارت فائدہ نزدیک کوفیاں مصدر ہم از مشتقات فعل است، کوفہ والوں کے نزدیک، کوفہ والے یعنی کوفہ کے جو علمائے صرف و نحو ہیں بڑے بڑے علماء ان کے نزدیک، نزدیک کوفیاں کوفہ والوں کے نزدیک، مصدر ہم، ہم کس لیے آتا ہے؟ بھی، مصدر ہم از مشتقات فعل است، مصدر بھی فعل کے مشتقات میں سے ہے، ایشاں اسمائے مشتقہ ہفت میں گویند، وہ جو ہیں اسمائے مشتقہ سات کہتے ہیں، سات بتلاتے ہیں کہ اسمائے مشتقہ کتنے ہیں؟ سات ہیں۔ و تحقیق حق دریں باب در فصل افادات خواہید آمد، اور تحقیق حق یعنی صحیح تحقیق، درست تحقیق دریں باب اس باب میں در فصل افادات خواہید آمد، افادات کی فصل میں آجائے گی۔ مصنف کیا کریں گے؟ اس کے بارے میں بحث کریں گے، دلائل وغیرہ ذکر کریں گے، تو وہاں پوری تحقیق کریں گے فصل افادات، ایک فصل ہے اس کا نام ہی کیا رکھا ہے؟ افادات، افادہ کا کیا معنی ہے؟ افاد یفیدو افادةً دوسرے کو فائدہ دینا، باب افعال ہے، تو اسی کی افادہ کی جمع افادات، فصل افادات میں آجائے گی یعنی اس میں وہ کچھ قیمتی فائدے ذکر کریں گے۔ اب دیکھو دو مذہب آگئے نا، ایک کوفہ والوں کا، ایک بصرہ والوں کا، کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ اصل فعل ہے، بصرہ والے کیا کہتے ہیں؟ اصل مصدر ہے۔ تو لہٰذا کس کا مذہب حق ہے؟ بعض علماء نے ایک مذہب کو ترجیح دی، بعض نے دوسرے مذہب کو ترجیح دی ہے، اب مصنف فرماتے ہیں کہ اس بارے میں جو صحیح تحقیق ہے وہ آگے اس باب میں فصل افادات آئے گی، وہاں پر میں بیان کروں گا کہ کس کا مذہب صحیح ہے، کوفہ والوں کا یا بصرہ والوں کا؟ یہ معنی ہے و تحقیق حق دریں باب در فصل افادات خواہید آمد۔ و تحقیق حق، اور حق تحقیق جو ہے یعنی درست اور صحیح تحقیق دری باب، اس باب میں در فصلِ افادات خواهد آمد۔ افادات کی فصل میں آجائے گی۔ صحیح تحقیق اس باب میں کہاں پر آجائے گی؟ فصلِ افادات میں۔ یاد رکھیے، یہ جو آیا نا دری باب، صحیح تحقیق اسی باب میں۔ اس سے مراد، یہ باب نہیں مراد۔ کیونکہ اس باب کے اندر یہ فصل نہیں آ رہی۔ ہاں، مراد یہ ہے دری اس باب سے مراد ہے یہ مسئلہ۔ اس باب سے کیا مراد ہے؟ یہ مسئلہ۔ یہ مسئلہ یعنی صحیح تحقیق اس باب میں۔ किस باب میں؟ اس مسئلے میں کہ فعل مصدر سے مشتق ہے یا مصدر فعل سے مشتق؟ یہ والا جو باب ہے، یہ والا جو مسئلہ ہے، اس میں اس کی صحیح تحقیق در فصلِ افادات خواهد آمد، کہاں آجائے گی؟ افادات کی فصل میں آجائے گی۔ یہ آگے جا کر مصنف ذکر کریں گے افادات کی فصل۔ تو اس باب کے اندر کوئی افادات والی فصل نہیں آ رہی۔ تو دری باب سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس باب میں افادات کی فصل آ رہی ہے، بلکہ دری باب سے کیا مراد ہے؟ یہ والا مسئلہ مراد ہے۔ دوبارہ دیکھیے! وہ تحقیقِ حق دری باب در فصلِ افادات خواهد آمد اور صحیح تحقیق درست تحقیق، حق کا معنی صحیح، درست۔ وہ تحقیقِ حق اور درست تحقیق دری باب اس مسئلے میں، در فصلِ افادات خواهد آمد، وہ افادات کی فصل میں آجائے گی۔ تو دری باب سے کیا مراد ہے؟ یہ والا مسئلہ۔ اوزانِ مصدرِ ثلاثی مجرد قاعدہ منضبطہ ندارند۔ اب مصدر کے اوزان کے بارے میں بتلانا چاہتے ہیں تو بتلا رہے ہیں آپ کو کہ جو ثلاثی مجرد ہے، ضرب یضرب ضرباً، نصر ینصرو نصرا، اور آگے فتح یفتح فتحاً۔ تو یہ جو فتحاً، ضرباً اور سمعاً وغیرہ جو مصادر ہیں، یہ صرف یہی ایک تو یہ فعل وزن آ رہا ہے نا، صرف یہی وزن نہیں ہے بہت سے اوزان ہیں جو آگے نظم آ رہی ہے اس میں کوئی 44 اوزان ذکر کریں گے۔ ثلاثی مجرد کے، کس کے؟ ثلاثی مجرد کے 44 اوزان مصدر، 44 قسم کے آتے ہیں۔ لیکن آپ کو بتائیں گے کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ کہ مضارع پہ عین کے نیچے کسرہ ہو تو مصدر یہ آئے گا یا یہ آئے گا یا یہ آئے گا؟ اس طرح کا کوئی ضابطہ نہیں۔ یا ماضی کے عین کے نیچے زیر ہو تو مصدر اس طرح کا آئے گا، نہیں۔ علماء نے بڑی کوشش کی لیکن کوئی ضابطہ نہیں بن پایا۔ کیونکہ ہم وہ ضابطے کے تحت آتے ہی نہیں۔ بس عربوں سے جیسے سنا ہے۔ عرب ضرب یضرب سے ضرباً بولتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے۔ کسی اور باب سے ضرباً بھی بولتے ہیں، کسی اور باب سے کوئی اور وزن بھی آتا ہوگا جیسے تو اس طرح مختلف اوزان جمع کیے ہیں کہ ثلاثی مجرد سے یہ یہ والے وزن پر مصدر آتے ہیں لیکن کوئی ضابطہ نہیں۔ کہ آپ اس ضابطے کے مطابق اوزان نکال سکیں، ایسا نہیں۔ ان کو آپ کو یاد کرنا پڑے گا۔ ہاں، ثلاثی مجرد کے علاوہ جو باب ہیں، ان کے اوزان مقرر ہیں۔ اکرم یكرم إکرام إفعال۔ دیکھا جو بھی اس باب سے آئے گا وہ إفعال پر آئے گا۔ اسی طرح قاتل یقاتل مقاتلة مفعالة آئے گا یا قتالاً فعال بھی آئے گا۔ تو بعض سے ایک یا دو اور مصدر بھی ہیں تو اسی طرح کرم یکرم تكريماً تفْعيل آئے گا۔ تو ثلاثی مجرد سے مصدر کے اوزان مقرر نہیں، لیکن ثلاثی مجرد کے علاوہ جو ہیں، ثلاثی مزید فی، رباعی مجرد، رباعی مزید فی، ان سے ساروں کے مصادر کے اوزان مقرر ہیں۔ چنانچہ آپ بھی پڑھتے ہیں ثلاثی مزید فی میں پہلا باب کیا ہے؟ باب إفعال۔ میں دیکھا اس کا مصدر إفعال وزن پر آتا ہے۔ دوسرے باب کا کیا نام؟ باب تفعيل۔ اس کا مصدر تفعيل وزن پر آتا ہے۔ تیسرے باب کا کیا نام؟ مفاعلة دیکھو وہاں سے مفاعلة وزن پر آتا ہے۔ یہ دیکھو یہ مصادر ان کے مقرر ہیں۔ جو بھی صیغہ آئے گا وہ اسی وزن پر اس کا مصدر آئے گا۔ تو ثلاثی مجرد کے سے تو مصدر کے اوزان مقرر نہیں لیکن ثلاثی مزید فی، رباعی مجرد اور رباعی مزید فی سے اوزان مقرر ہیں۔ بھئی! یہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اوزانِ مصدرِ ثلاثی مجرد، ثلاثی مجرد کے مصدر کے اوزان، قاعدہ منضبطہ ندارند۔ منضبطہ جس کو ضبط کیا ہو علماء نے۔ یعنی علماء نے یہ ضابطے کیسے نکالے؟ علماء نے عربی زبان میں خوب غور کیا بھئی! انہوں نے عمریں گزار دیں اسی کام کے اندر۔ اور پھر ان سے نکالتے گئے کہ اس باب سے مصدر ہمیشہ یہ والا آتا ہے، اس باب سے ہمیشہ مصدر یہ آتا ہے۔ تو ساری چیزیں علماء نے غور و فکر کے بعد جمع کی ہیں، یہ علم صرف کا وجود پہلے نہیں تھا، علم نحو کا وجود پہلے نہیں تھا۔ یہ علماء اسلام نے ان کو بنایا بھئی! ان علوم کو۔ اور ایسے ایسے ضابطے بنا دیے کہ یوں لگتا ہے ضابطے پہلے تھے، صیغے بعد میں بنے ہیں۔ ایسا ہی لگتا ہے نا؟ جیسے پہلے ضابطے ہیں، اس کے بعد پھر صیغے بنتے جا رہے ہیں ضابطوں کے مطابق۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ صیغے سارے پہلے سے موجود ہیں، عرب بولا کرتے تھے، ان کی زبان عربی تھی، لیکن ضابطے علماء نے غور کر کر کے ایسے بنا دیے کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ زبان ان ضابطوں کو دیکھ کر بنائی گئی ہے۔ تو ثلاثی مجرد جو ہیں ان میں غور کیا لیکن ان کے لیے کوئی قاعدہ ضبط نہ کر سکے۔ ان میں کوئی خاص طریقہ ہے ہی نہیں۔ کسی سے مصدر کچھ آ رہا ہے، کسی سے مصدر کچھ آ رہا ہے، تو کوئی قاعدہ وہ بنا نہ سکے۔ یہی ذکر کر رہے ہیں کوئی قاعدہ ضبط نہ کر سکے، یعنی یوں کہیں مرتب نہ کر سکے یا یوں کہیں مقرر نہ کر سکے، جو لفظ آپ کو بہتر لگے۔ ضبط نہ کر سکے یعنی مرتب نہ کر سکے یا مقرر نہ کر سکے یا اردو میں بھی ضبط استعمال ہو جاتا ہے، ضبط نہ کر سکے۔ تو کہتے ہیں اوزانِ مصدرِ ثلاثی مجرد قاعدہ منضبطہ ندارند۔ ثلاثی مجرد کے مصدر کے اوزان وہ کوئی مقررہ قاعدہ نہیں رکھتے۔ یعنی ان کا کوئی مقررہ قاعدہ نہیں ہے کہ ہم آپ کو بتا دیں اس طرح آپ بنا سکتے ہیں، یہاں ایسا نہیں ہے۔ واز غیر آ اور اس کے علاوہ یعنی ثلاثی مجرد کے علاوہ وزن مقرر است۔ کوئی وزن مقرر ہے جیسے میں نے ابھی بتایا باب إفعال، باب تفعيل، باب مفاعلة، باب دحرجہ، سارے اوزان مقرر ہیں۔ تو کہتے ہیں واز غیر آ وزن مقرر است۔ چنانچہ خواهد آمد، لیکن اس کے علاوہ یعنی ثلاثی مجرد کے علاوہ کوئی وزن مقرر ہے، چنانچہ خواهد آمد جیسا کہ آجائے گا، جیسا کہ آگے خود اوزان ذکر کر دیں گے کہ باب إفعال سے إفعال آتا ہے، باب تفعيل سے تفعيل آتا ہے وغیرہ۔ جنابِ استازی مولوی سید محمد صاحب! اب اپنے استاد کا ذکر کرنے لگے ہیں کہ جنابِ استازی، استازی یہ یا متکلم کے لیے ہے بھئی! عربی میں، عربی یہ کتاب میں کبھی عربی جیسا انداز چلانے لگتے ہیں، کبھی فارسی۔ তো یہ یا عربی میں متکلم کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ غلامی، کیا معنی ہوتا ہے؟ میرا غلام۔ یہاں بھی، استازی، میرے استاد۔ جنابِ استازی مولوی سید محمد صاحب، کہ جناب میرے استاد مولوی سید محمد صاحب اعلٰی الله درجاته، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے لیے دعا کر دی۔ اکثر اوزانِ مصادرِ ثلاثی مجرد را به وضعِ نظم فرمودہ اند۔ انہوں نے اکثر اوزانِ مصادرِ ثلاثی مجرد را، ان کو ثلاثی مجرد کے مصدر کے اکثر اوزان کو را به وضعِ نظم فرمودہ اند، وضع کسے کہتے ہیں؟ طریقہ، طریقِ را بہ وضعِ نظم فرمودہ اند، ان کو ایسے طریقے سے نظم کیا ہے، کیا کیا ہے؟ نظم کیا ہے، یعنی ان کی ایسے طریقے سے نظم بنائی ہے، اشعار بنائے ہیں۔ بہ وضعِ نظم فرمودہ اند، ایسے طریقے سے ان کو نظم کیا ہے، یعنی ان کے اشعار بنائے ہیں، نظم بنائی ہے۔ کہ بر ضبطِ حرکات و امثلہ مشتمل است۔ کہ وہ حرکات کے ضبط پر اور مثالوں پر مشتمل ہے۔ دیکھو یہ آگے نظم آ رہی ہے۔ یہ مصنف جو ہیں ان کے استاد ہیں مولوی سید محمد صاحب بھئی۔ انہوں نے یہ نظم لکھی اور اس میں ثلاثی مجرد کے مصدر کے اوزان کو جمع کر دیا، تاکہ طلبہ کو یاد کرنے میں آسانی ہو کیونکہ ثلاثی مجرد کے مصدر کے کوئی ضابطے نہیں ہیں۔ تو بس اوزان کو جمع کیا، اور صرف بس اوزان ہی نہیں، مثالوں کو بھی جمع کیا۔ مثلاً بتایا فعل، تو اس کی مثال شعر میں دے دی قتل۔ فعلا تو دعویٰ۔ فعلة دیکھو دوسرے شعر میں آ رہا ہے رحمت۔ فعلان اس کی مثال کیا دے دی؟ لیان بھئی۔ پہلے وزن ذکر کرتے ہیں اور پھر آگے اس کی مثال بھی دے دیتے ہیں، تاکہ وزن بھی طالب علم کو یاد ہو جائیں اور ان کی مثالیں بھی اچھی طرح یاد ہو جائیں بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ دوبارہ دیکھیے عبارت۔ کہتے ہیں جنابِ استازی مولوی سید محمد صاحب اعلٰی الله درجاته، اکثر اوزانِ مصادرِ ثلاثی مجرد را به وضعِ نظم فرمودہ اند، کہ بر ضبطِ حرکات و امثلہ مشتمل است، کہ میرے استاد مولوی سید محمد صاحب اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، انہوں نے ثلاثی مجرد کے مصدر کے اکثر اوزان کو را به وضعِ نظم فرمودمان، انہوں نے ایسے طریقے پر نظم فرمایا ہے، کہ بر ضبطِ حرکات و امثلہ مشتمل است، جو کہ حرکات اور مثالوں کے ضبط پر مشتمل ہے۔ یعنی حرکتیں بھی بتلاتے ہیں، فا پر کیا پڑھنا ہے، عین پر کیا پڑھنا ہے، زبر پڑھنا ہے، زیر پڑھنا ہے، ساکن پڑھنا ہے۔ تو ضبطِ حرکات بھی اس میں ہے اور مثالوں پر بھی مشتمل ہے۔ فائدتاً نویسم، فائدہ دینے کے لیے میں اس کو لکھتا ہوں۔ اس نظم کو میں یہاں درج کرتا ہوں تاکہ فائدہ آپ لوگ اٹھا لیں۔ تو کہتے ہیں فائدتاً نویسم، فائدہ دینے کے لیے میں اس کو لکھتا ہوں۔ نویسندن کا معنی ہوتا ہے لکھنا۔ نویسم میں لکھ میں لکھتا ہوں۔ تو فائدہ دینے کے لیے میں اس نظم کو میں نویسم لکھتا ہوں، و آن این است اور نظم یہ ہے، آگے نظم دیکھیے۔ جی یہ نظم یاد رکھو آپ نے زبانی یاد کرنی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس کا تلفظ بھی خوب توجہ سے سنتے جائیں، آپ کا تلفظ بھی بہترین ہونا چاہیے بھئی۔ اور تلفظ صحیح نہ ہو تو سارا لطف ختم ہو جاتا ہے، تو تلفظ آپ نے بہترین یاد کرنا ہے۔ اور اب یہ عید کی چھٹیاں آ رہی ہیں، آپ کے پاس خوب وقت ہوگا، روز اس کو دہرائیں بھئی، روز دہرائیں۔ دو تین دن میں یاد کر لیں، دو تین دن میں آرام آرام سے بھی یاد کرنا چاہیں کر لیں، اور پھر اس کو روز دہرائیں اور ایک دوسرے ساتھیوں کو بھی ایک دوسرے کو سنائیں تاکہ اگر تلفظ میں کوئی غلطی ہے تو وہ پکی نہ ہو جائے بلکہ اس کی اصلاح کر لیں۔ تو نظم یہ ہے بھئی۔ الثلاسی مجرد چہل و چار، وزنِ مصدر آمد اے ذی وقار۔ الثلاسی مجرد، ثلاثی مجرد سے چہل و چار، کیسے پڑھیں گے؟ چہل و چار۔ یاد رکھو فارسی میں چار کے لیے لفظ ہے چہار، چہار۔ جی چہار۔ یک، دو، سہ، چہار۔ لیکن اسی چہار میں کبھی تخفیف کرتے ہیں اور ہا کو ختم کر دیتے ہیں اور کیا پڑھتے ہیں؟ چار۔ جی۔ اور چہل چالیس کو کہتے ہیں بھئی چالیس۔ چہل سال عمر عزیز گذشت، مزاج تو احوال طفلی نگشت۔ اچھا جی۔ الثلاسی مجرد چہل و چار، ثلاثی مجرد سے 44 جو ہیں وزنِ مصدر آمدہ، مصدر کے اوزان آئے ہیں۔ اے ذی وقار، اے وقار والے! اے ذی وقار! اے وقار والے! طالب علم کو خطاب کر رہے ہیں، جو بھی اس نظم کو پڑھے اس کو خطاب کر رہے ہیں۔ کہ الثلاسی مجرد چہل و چار، وزنِ مصدر آمدائی، نون کے نیچے زیر پڑھیں گے۔ وزنِ مصدر آمدائی ذی وق, نہیں نہیں نہیں۔ وزنِ مصدر آمدہ اے ذی وقار۔ یہ دوسری یا ہونی چاہیے تھی لیکن بہرحال آپ نے یاد رکھنا ہے۔ اے ندا کے لیے ہے، اے ذی وقار! اے وقار والے! وقار کا معنی ہوتا ہے سنجیدگی۔ سنجیدگی۔ ذی وقار، سنجیدگی والا۔ بھئی ایک شخص جو ہر وقت ہنسی مذاق کرتا رہے۔ یاد رکھو ہنسی مذاق انسان کی عزت کم کر دیتی ہے زیادہ ہنسی مذاق نہیں ہونا چاہیے بھئی، سنجیدہ رہنا چاہیے۔ آپ بھی دیکھ لیں لوگوں کے اندر جو زیادہ ہنسی مذاق کرتا ہے لوگ اس کی عزت نہیں کرتے اور جو سنجیدہ رہتا ہے اور باوقار انداز میں رہتا ہے تو لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ تو ذی وقار، وقار والا، سنجیدگی والا۔ دیکھیے بھئی! الثلاسی مجرد چہل و چار، وزنِ مصدر آمدہ اے ذی وقار، ثلاثی مجرد سے 44 جو ہیں مصدر کے اوزان آئے ہیں، اے ذی وقار! اے وقار والے! فعل و فعلا، فعلۃ فعلان، بفتح۔ فعل و فعلا فعلۃ فعلان، یہ و کس سے بدل جائے گا؟ پیش سے۔ فعل و فعلا فعلۃ فعلان، فعلان کے نون کو ساکن پڑھنا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ قلم ہاتھ میں رکھو اور نشان لگاتے جاؤ، جہاں جہاں میں جیسے پڑھوں، یہ بعد میں پھر آپ کو آسانی ہوگی۔ فعل و فعلا فعلۃ فعلان بفتح۔ چار اوزان ذکر کر دیے، کون سے؟ فعل، فعلا، فعلۃ، اور فعلان۔ یہ نون نظم میں ساکن ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ویسے ساکن نہیں ہے، لیکن نظم میں ساکن پڑھیں گے۔ بفتح، کیا مطلب ہے بفتح؟ کیا مطلب فتح کے ساتھ؟ یعنی آپ خود غور کر کے بنا لو نا! شعر میں تو بات مختصر کی جاتی ہے۔ کس چیز میں سب میں فتح آ رہا ہے، کس چیز پر؟ اوزان فعل پر۔ تو یعنی بفتح اول کہہ لو، اول کے فتحہ کے ساتھ، یعنی سب میں اول پر کیا پڑھو؟ فتحہ۔ فعل، فا پر زبر۔ فعلا، فا پر زبر۔ فعلۃ، فا پر زبر۔ فعلان، فا پر زبر۔ تو کیا گویا بفتح اول یا یوں کہہ لو بفتح فا۔ بفتح فا کے فتحہ کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں فعل و فعلا فعلۃ فعلان بفتح، فتح کے ساتھ، چار اوزان ذکر ہو گئے۔ چار اوزان آگے چار مثالیں بھی ذکر کر دیں گے، ہر وزن کی ایک ایک مثال۔ جیسے قتل و دعوی، رحمت و لیان، بااسی طرح پڑھنا جیسے پہلے میں فاعلان میں نون ساکن پڑھا تھا نا تو لیّان میں بھی کیا کرو نون کو ساکن۔ قتل و دعوی رحمت لّیان بفتح۔ قتل یہ کس وزن پر ہے؟ فعل۔ دعوی فَعَلَ۔ رحمت فَعَلَت۔ لّیان فَعَلان۔ یہ بھی بفتح کس کے ساتھ ہیں؟ فتحہ کے ساتھ۔ وہی و فتحِ اول یعنی و فتحِ فَعْ۔ قتل کا معنی ہے قتل کرنا اور دعوی کا معنی ہے دعوی کرنا، اپنے حق کا مطالبہ کرنا یا یوں کہو مقدمہ کرنا، دعوی۔ رحمت کا معنی ہے رحم کرنا، مہربانی کرنا۔ لّیان، لّیان کا معنی ہے کسی کا حق چھپانا۔ حق، کسی کا حق نہ ماننا، کسی کے حق سے انکار کر دینا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ لّیان، لّیان۔ آگے دیکھیے بھئی! ہم بخوا در چہارمی فتحِ دوم۔ ہم بخوا، ہم، ہم کا کیا ترجمہ کریں گے؟ بھی۔ بخوا، یہ امر ہے امر۔ تو پڑھ کہتے ہیں کہ نہیں بیداں، تو جان لے بخوا، خواندن کا معنی ہوتا ہے پڑھنا، بخوا، تو پڑھ در چہارمی، بھئی یاد رکھو اس کو سمجھ لو۔ فارسی میں چہار کا مطلب چار۔ اور اگر آپ کہنا چاہتے ہیں نا چوتھا، تو میم آخر میں بڑھا دیتے ہیں۔ چہارم، چہارم کا کیا معنی؟ چار نہیں، چوتھا جو چوتھے نمبر پر آئے اس کو کیا کہیں گے؟ چہارم۔ آپ کے ساتھی آ رہے ہیں، پہلا آیا، دوسرا آیا اول دوم، تیسرا آیا سوم، چوتھا آیا چہارم۔ تو یہ چہارم چوتھے نمبر پر۔ تو اس کو چہارم، توجہ ہے، اس کو چہارم بھی پڑھتے ہیں اور چہارمی، نون کا غنہ ہے یا نون نون ہی پڑھ لو۔ چہارمین، چہارم اور چہارمی، ویسے غنہ ہے، اصل کیا ہے یہاں پر غنہ۔ چہارم کا معنی بھی چوتھا اور چہارمی چوتھا۔ تو یہ چہارمی ہے اور پھر ہ کو درمیان سے تخفیف کے لیے کیا کیا؟ گرا دیا، کیا بن گیا؟ چارمی۔ تو ترچارمی، آپ را کو ساکن پڑھیں یہاں شعر کے لیے۔ ترچارمی، ہم بخوا در چارمی، تو پڑھ در چارمی، کس میں؟ چہارمی کا مطلب چوتھا چوتھا۔ چوتھے میں تو پڑھ فتحِ دوم، دوسرے کا فتحہ۔ چوتھے وزن میں، چوتھا وزن کون سا ہے؟ فَعْلاَن۔ چوتھا وزن اوپر کون سا ذکر ہوا؟ فَعْلاَن۔ اس میں فتحِ دوم بھی پڑھ تو۔ کیا معنی؟ دوسرا لفظ کیا ہے؟ عین۔ عین پر اوپر اس وقت کیا ہے ویسے؟ ساکن ہے۔ لیکن اس میں فتحہ بھی پڑھو۔ یعنی فَعْلاَن میں دوسرا وزن کیا بنا لو؟ فَعْلاَن، عین پر زبر پڑھو۔ یہ پانچواں وزن ہو گیا۔ کتنا وزن؟ پانچ۔ آپ نے اوزان بھی گننے ہیں، چوالیس وزن پورے کریں گے وہ اس میں۔ تو فَعْلاَن بھی پڑھو اور اس میں دوسرے پر فتحہ یعنی فَعْلَان بھی پڑھو۔ عینِ ثالث دا بفتح۔ عینِ ثالث، تیسرے کا عین، تیسرا کون سا ہے؟ فَعْلَتُن۔ اس تیسرے کا عین جو ہے، دان، دان کا کیا معنی؟ جان لے بیداں، تو جان لے وہ با الگ ہے، دان الگ ہے تو با کبھی جوڑ دیتے ہیں، کبھی نہیں جوڑتے۔ تو عینِ ثالث دان، تیسرے کے عین کو تو جان لے بفتح، کس کے ساتھ؟ فتحہ کے ساتھ۔ اس وقت وہاں تیسرے میں عین پر کیا ہے؟ ساکن ہے۔ فَعْلَتُن، اب اسی کو فتحہ کے ساتھ بھی جان لو، فتحہ کے ساتھ بھی پڑھو، فَعْلَتُن، غَلَبَتُن جیسے، تو فَعْلَتُن بھی آیا ہے۔ و کسرہم، بفتح و کسرہم، اور کسرہ کے ساتھ بھی۔ یعنی اسی میں عین پر فتحہ بھی پڑھو اور کسرہ بھی پڑھو۔ یعنی فَعِلَتُن بھی پڑھو۔ تو تین وزن ہو گئے، فَعْلَتُن، فَعْلَتُن اور فَعِلَتُن، تین وزن ہو گئے۔ اچھا تو یہ کل کتنے ہو گئے اوزان بھئی؟ پہلے تھے، جی فَعْل میں ایک ہی وزن، فَعْلٰی ایک ہی وزن، اور فَعْلَتُن میں تین وزن۔ فَعْلَتُن، فَعْلَتُن، فَعِلَتُن، کتنے ہو گئے؟ پانچ ہو گئے اور فَعْلَان میں دو وزن۔ فَعْلَان اور فَعْلَان، سات، سات اوزان ہو گئے۔ تو کہتے ہیں ہم بخوا در چہارمی فتحِ دوم، عینِ ثالث دا بفتح و کسرہم، بخوا در چارمی فتحِ دوم، چوتھے میں، دوسرے کا فتحہ بھی پڑھو، عینِ ثالث دا بفتح و کسرہم، تیسرے کا عین، فتحہ اور کسرہ کے ساتھ بھی جان لے۔ فِعْل و فِعْلٰی، فِعْلَتُن، فِعْلَان بکسر۔ اسی طرح کے ہیں لیکن فا کے نیچے اب زیر ہے۔ فِعْل و فِعْلٰی، فِعْلَتُن، فِعْلَان بکسر، کس کے ساتھ؟ کسرہ، کس کا کسرہ ہے؟ فا کا۔ دیکھو فا میں کسرہ آ گیا۔ فِسْق و ذِکْرٰی، نِشْدَتُن، حِرْمَان بکسر۔ اب ان کی مثالیں بھی ذکر کر دیں۔ فِسْق، یہ کس وزن پر؟ فِعْل۔ ذِکْرٰی، فِعْلٰی۔ نِشْدَتُن، فِعْلَتُن۔ حِرْمَان، فِعْلَان۔ تو یہ چار اوزان اور ہو گئے۔ کتنے ہو گئے؟ سات اور چار گیارہ اوزان۔ اچھا فِسْق کا معنی ہے نافرمان ہونا، نافرمان۔ فاسق کس کو کہتے ہیں؟ جو نافرمان ہو۔ اللہ کا نافرمان ہے، اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتا، گناہ کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے بھئی۔ تو فِسْق، نافرمان ہونا۔ ذِکْرٰی، یاد کرنا۔ یاد کرنا۔ مصدر ہے نا، مصدر والا ترجمہ کرو۔ یاد کرنا۔ نِشْدَتُن، فِعْلَتُن۔ نِشْدَتُن کا معنی ہے بھولی ہوئی چیز یاد آنا۔ بھولی ہوئی چیز۔ اسی طرح قسم کھانا بھی اس کا معنی۔ بھولی ہوئی چیز یاد آنا، یہ معنی یاد رکھنے ہیں آپ نے بھئی۔ تو نِشْدَتُن کا کیا معنی؟ بھولی ہوئی چیز یاد آنا، اور اسی طرح قسم کھانا بھی۔ حِرْمَان، حِرْمَان کا معنی ہے محروم ہونا۔ ان سب کے نیچے عموماً فارسی میں ترجمے دیے ہوئے ہیں تو اگر کہیں سمجھ میں آ رہا ہے تو بس اسی پر نشان لگاتے جاؤ۔ تو حِرْمَان کا کیا معنی؟ محروم ہونا۔ دیکھو اب پڑھنا کیسے ہے؟ وہ بھی غور سے سنتے رہیں۔ فِعْل و فِعْلٰی، فِعْلَتُن، فِعْلَان بکسر، فِسْق و ذِکْرٰی، نِشْدَتُن، حِرْمَان بکسر، با پر زبر پڑھ۔ فِعْل و فِعْلٰی، فِعْلَتُن، فَعْلَان بکسر، فِسْق و ذِکْرٰی، نِشْدَتُن، حِرْمَان بکسر، کسرہ کے ساتھ یعنی اول کے کسرہ کے ساتھ یا یوں کہو فا کے کسرہ کے ساتھ۔ آگے دیکھیے بھئی! فُعْل و فُعْلٰی، فُعْلَتُن، فُعْلَان بضم، شغل، بُشْرٰی، قُدْرَتُن، غُفْرَان بضم۔ بھئی یہ بعینہٖ وہی وزن ہیں۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ اور اوپر فِعْل اور فَعْل کے بعد واؤ ہے یا نہیں اوپر والے شعروں میں؟ تو یہاں بھی واؤ ہونا چاہیے۔ یہاں واؤ لکھ لیں بھئی۔ فُعْل کے بعد واؤ لکھیں۔ فُعْلٰی سے پہلے اور فُعْلَتُن کے بعد یہاں کیا ہے؟ واؤ۔ نہیں، یہ اوپر والوں میں کہیں ہے؟ نہیں، حالانکہ وزن سب کا ایک جیسا چل رہا ہے تو یہ واؤ درست نہیں ہے، کتابت کی غلطی ہے۔ اب اس کو کیسے پڑھیں گے؟ فُعْل و فُعْلٰی، فُعْلَتُن، فُعْلَان بضم، شغل، بُشْرٰی، یہاں شغل و بُشْرٰی لام کے بعد بھی واؤ کریں۔ دیکھو اوپر سب میں ہے یا نہیں؟ قتل و دعویٰ، فِسْق و ذِکْرٰی۔ تو یہاں بھی واؤ آنا چاہیے شغل و بُشْرٰی، قُدْرَتُن، اور آگے و غُفْرَان ہے، یہ واؤ نہیں ہونا چاہیے۔ قُدْرَتُن غُفْرَان بضم۔ کتنے اوزان ہو چکے؟ گیارہ۔ جی، اب آپ دیکھیے بھئی! فُعْل و فُعْلٰی، فُعْلَتُن، فُعْلَان بضم، یہ کس کے ضمّے کے ساتھ ہیں؟ فا کے ضمہ کے ساتھ ہیں۔ تو چار یہ ہو گئے، کتنے ہو گئے؟ پندرہ ہو گئے۔ پھر ان کی سب کی مثالیں بھی دے رہے ہیں۔ شغل، شغل کس وزن پر؟ فُعْل۔ بُشْرٰی، فُعْلٰی۔ قُدْرَتُن، فُعْلَتُن۔ غُفْرَان، فُعْلَان۔ شغل کا معنی ہے مشغول ہونا، مصروف ہونا۔ بُشْرٰی، اس کا معنی خوشخبری دینا، بشارت دینا۔ قُدْرَتُن، قُدْرَتُن کا معنی ہے رنگ میلا ہونا، مٹیالا ہونا۔ پانی کھڑا ہوا تھا کہیں پر اور مٹی نیچے بیٹھی ہوئی ہے، پانی صاف ستھرا ہے۔ آپ نے اس میں ہاتھ مارا تو مٹی مل گئی ساتھ، تو پانی کیا ہوا؟ میلا ہو گیا، مٹیالا ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ ہے قُدْرَتُن میلا ہونا۔ غُفْرَان، غُفْرَان کا معنی ہے بخشنا، معاف کرنا۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ پندرہ اوزان ہو گئے، آگے دیکھیے بھئی! مَفْعَلَہ، مَفْعَل، فَعْل، فَعْلُولَتَسْت، مَفْعَلَہ، اچھا یہاں تک ہم نے جو پڑھے نا، آپ نے فَعْلَتُن گول تا آئی تھی یا نہیں؟ دوسرے شعر میں، فَعْلَتُن تو آپ نے تنوین پڑھی۔ آگے کیا آیا تھا؟ فِعْلَتُن یہاں پر بھی تنوین پڑھی۔ آگے کیا آیا تھا؟ فُعْلَتُن وہاں پر بھی تنوین پڑھی۔ آگے جتنی گول تا آ رہی ہیں، آپ نے ان کو ساکن پڑھنا ہے، کیا پڑھنا ہے؟ ساکن۔ آگے مَفْعَلَتُن، اس کو مَفْعَلَتُن نہیں پڑھنا، شعر کے لیے، وزن کے لیے کیا پڑھیں گے؟ مَفْعَلَہ، مَفْعَلَہ پڑھیں گے، ٹھیک ہے؟ ہاں، اگر اس مَفْعَلَہ کے آخر میں سِیْن تا ہوتا، جیسے آ رہا ہے، فَعْلُولَہ، آ رہا ہے نا اسی شعر میں؟ مَفْعَلَہ، مَفْعَل، فَعْل، فَعْلُولَہ اور آگے اَسْت آ رہا ہے اور اَسْت کا ہمزہ نہیں ہے اور میں نے طریقہ بتایا تھا جب اَسْت کا ہمزہ نہ ہو تو کیا کرتے ہیں؟ ما قبل والے حرف پر زبر پڑھتے ہیں، تو یہاں پر بھی تا پر زبر پڑھیں گے، فَعْلُولَتَسْت، فَعْلُولَتَسْت۔ تو جہاں ایسا ہو وہاں آپ نے تا پر زبر پڑھنی ہے، ورنہ باقی جتنی تا آ رہی ہیں غالباً وہ ساری ساکن ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں مَفْعَلَہ، مَفْعَل، فَعْل، فَعْلُولَتَسْت، منقبة، مدخل، طلب، قیلولَتَسْت۔ مَفْعَلَہ، مَفْعَل، فَعْل، یہ فَعْلَ لام پر زبر ہے، اس پر زبر کو سکون سے بدلیں، جزم سے، فَعْل۔ مَفْعَلَہ، مَفْعَل، فَعْل، فَعْلُولَتَسْت، منقبة، مدخل، طلب، یہ طلب کی با پر بھی جزم لگائیں، با پر زبر غلط لگا ہوا ہے، یہ زبر نہیں آئے گا بھئی، ماضی کا صیغہ یہ نہیں ہے، یہ مصدر ہے اور شعر میں ساکن پھر پڑھیں گے۔ تو طلب، با پر جزم لگا دیا، جی۔ منقبت، منقبت کا معنی تعریف کرنا، کیا معنی؟ تعریف کرنا۔ مدخل کا معنی داخل ہونا۔ طلب، طلب کا مطلب طلب کرنا، چاہنا۔ قیلولہ، قیلولہ، قیلولہ کا معنی ہے دوپہر کو آرام کرنا۔ یہ سنت ہے بھئی، دوپہر کو تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنا یہ سنت ہے بھئی۔ اور والد صاحب رحمہ اللہ، عجیب ان کے اللہ نے سنتوں پر عمل کا شوق اور جذبہ نصیب فرمایا تھا، سنتوں پر اتنی باقاعدگی سے عمل ہوتا تھا کہ بیان سے باہر ہے بھئی، بیان سے باہر ہے۔ ہم لوگ تو سنتوں کو پڑھ لیتے ہیں، عمل کی کوشش بھی کر لیتے ہیں لیکن پھر سستی ہو جاتی ہے، کہیں رہ جاتی ہیں، لیکن وہ ہاں، والد صاحب کوئی سنت ہو اور رہ جائے، ہو ہی نہیں سکتا تھا بھئی، بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے، ان کا کوئی عمل ہوتا ہے، کسی بات کے بارے میں ہم سوچتے ہیں کہ یہ عمل کے بارے میں والدہ سے کوئی بات کرتے ہیں، تو وہ فرماتی ہیں کہ یہ عمل سنت ہے۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ پڑھتے پڑھاتے ہم ہیں، آپ کو کیسے پتہ چل گیا یہ سنت ہے؟ تو فرماتی ہیں آپ کے والد صاحب یوں کرتے تھے اور ان کا کوئی بھی عمل سنت کے بغیر نہیں ہوتا تھا، جب وہ اس طرح باقاعدگی سے کرتے، معلوم ہوا یہ سنت ہے بھئی، اور پھر تحقیق ہم کرتے تو حیران رہ جاتے، واقعی وہ سنت ہوتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ تو یہ قیلولہ سے بات چلی، یہ قیلولہ میں نے بتایا سنت ہے اور والد صاحب اس پر باقاعدگی سے عمل کرتے تھے۔ تمام زندگی ان کا یہ معمول رہا بھئی، ہر سنت پر عمل، کھانا کھاتے تھے، پلیٹ ایسی صاف کرتے تھے کہ تقریبا یوں معلوم ہوتا تھا دھلی ہوئی ہے بھئی۔ ہمیشہ کبھی بھی ایسا نہیں کہ پلیٹ میں کچھ سالن تھوڑا سا بچ گیا ہو، تھوڑا معمولی سا بھی بچ جائے، نہیں نہیں، بلکہ زیادہ سالن دیا جاتا تو فرماتے سالن کم کر کے لاؤ، اتنا ہی لیتے جتنا کھا سکتے ہو اور پلیٹ کو بالکل صاف کر دیتے تھے بھئی۔ اگر تھوڑے فاصلے پر رکھیں تو آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا یہ دھلی ہوئی پلیٹ ہے، اس میں کس نے کھانا کھایا ہے بھئی۔ تو یہ قیلولہ بھی سنت ہے اور اس پر وہ عمل کرتے تھے اور یہ نہیں کہ باقاعدہ اس وقت سو جاتے تھے، نہیں نہیں، ہر وقت مطالعہ کرتے تھے تو اس وقت بھی، اس وقت بھی دوپہر کے وقت کتاب اٹھاتے اور لیٹ جاتے۔ مطالعہ کرتے ہی وہی لیٹ جاتے۔ اور اسی میں اگر نیند آ گئی تو تھوڑا سا سو گئے اور وہ بھی اس حال میں کہ کتاب ان کے سینے پر کھلی ہوئی پڑی ہوتی اور وہ سوئے ہوتے۔ ورنہ اگر نیند نہ آئی تو اسی میں وقت گزر گیا بھئی، لیکن سنت پر عمل ہو جاکرتے تھے وہ ہمیشہ بتایا۔ تو قیلولہ کیا معنی؟ دوپہر کو آرام کرنا۔ ہاں، یہ بتا، پہلے یہ بتاؤ منقبہ کس وزن پر ہے؟ مَفْعَلَہ۔ مدخل، مَفْعَل۔ طلب، فَعْل۔ قیلولہ، فَعْلُولَہ۔ آگے دیکھیے بھئی! فَعْلولہ، ہم فَعّالہ، ہم فَعّال۔ اوزان سمجھ میں آ رہے ہیں؟ فَعْلُولَہ، ہم فَعّالہ، ہم فَعّال۔ نحو کینو، نا شہادت، ہم کمال۔ کینو نا کا معنی ہے ہونا، ہونا۔ کینو نا کس وزن پر ہے؟ فَعْلُولَہ، بھئی ایک وزن تو نہیں باندھ رہا۔ یہ اصل میں کی و نون ہے، کیا ہے؟ فعلولہ، کی و نون۔ تو یہ نون سے پہلے ایک اور واؤ تھا، کی و نون۔ اور پھر اس کے اندر اعلال ہوا، تبدیلی ہوئی۔ و اور یا اکٹھے ہو گئے۔ کی و نون۔ یا اور واؤ کیا ہوئے؟ اکٹھے۔ اور یا اور واؤ اکٹھے ہو جائیں، تو واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کرتے ہیں۔ تو کیا ہوا؟ قینہ۔ پھر ایک یا کو حذف کر دیا، تو کیا بن گیا؟ کینہ۔ تو اصل میں یہ کیا تھا؟ کی و نون۔ تو یہ فعلولہ وزن پر ہے۔ اور شہادہ، یہ کس وزن پر ہے؟ فعالہ اور کمال فعّال۔ تو یہ کتنے اوزان ہو گئے؟ ٹھہریں، ابھی آگے بھی آ رہے ہیں۔ ہم فعالیہ ازیں اوزان بداں۔ فعالیہ کو بھی انہی اوزان سے جان لو۔ ہم فعالیہ ازیں اوزان بداں۔ فعالیہ کو بھی انہی اوزان سے جان لے۔ پس کراہیہ شدہ موزوں آ۔ پس کراہیہ ہو گیا اس کا موزوں۔ یعنی اس کے وزن پر۔ فعالیہ خود ہے وزن، اور کراہیہ ہے اس کا موزوں، یعنی جو اس وزن پر لایا گیا ہے، وزن پر آیا ہے۔ کتنے اوزان پہلے گزرے تھے؟ پندرہ۔ اب دیکھو کتنے ہو گئے؟ مفعلاً، مفعول، فعّال، فعولہ، فعلولہ، ہم فعّالا، ہم فعّال اور فعالیہ۔ کتنے ہو گئے؟ تئیس۔ آٹھ ہو گئے، تو پندرہ اور آٹھ تیئیس۔ تو کراہیہ، یہ کس وزن پر ہے؟ فعالیہ۔ اور کمال فعّال، اور شہادہ فعالہ، اور کینہ فعلولہ، فعلولہ۔ کینہ کا معنی ہے ہونا، ہونا۔ وہ کانہ سے ہے، کسی چیز کا ہونا۔ شہادت، شہادت کا معنی ہے گواہی دینا، گواہی دینا۔ کمال، کمال کا معنی ہے کامل ہونا، پورا ہونا، تمام ہونا۔ فعالیہ یعنی کراہیہ، کراہیہ کا معنی ہے ناپسند کرنا، نفرت کرنا، ناپسند ہونا، یہ کیا ہے؟ کراہیہ، کراہیہ۔ تئیس اوزان ہو گئے۔ آگے دیکھیے، عین اول۔ دیکھ رہے ہیں عبارت؟ عین اول، کیا مطلب؟ پہلا عین، در ہمہ مفتوح خواں۔ سب میں مفتوح پڑھو۔ پہلا عین سب میں مفتوح پڑھو۔ پہلا عین کیا مطلب؟ کیا کوئی دوسرا عین بھی آ رہا ہے کسی میں؟ کسی میں دو عین ہیں؟ نہیں، نہیں تو معلوم ہوا یہ عبارت میں، یہ عبارت درست نہیں۔ یہاں واؤ ہونا چاہیے، عین و اول۔ عین کے بعد واؤ لگایا ہے۔ عین و اول، ہاں، عین و اول، عین کے بعد واؤ لگائیں۔ یہ رہ گیا ہے۔ اب عبارت صحیح بن گئی۔ عین و اول در ہمہ مفتوح خواں۔ عین اور اول کو، عین اور اول کو در ہمہ مفتوح خواں۔ مفعلاً میں عین پر کیا ہے؟ فتحہ، اور اول شروع میں کون ہے؟ میم، میم پر بھی کیا ہے؟ فتحہ۔ یہی تو کہہ رہا ہے، عین اور اول دونوں میں فتحہ پڑھو، عین پر بھی اور میم پر بھی۔ مفعّل میں بھی عین پر کیا؟ مفعّل، فتحہ۔ اور اول، یعنی میم پر بھی فتحہ۔ فعل، عین پر فتحہ، اور اول کون ہے؟ فا ہے، اس پر بھی کیا ہے فتحہ۔ فعلولہ، اس میں عین ساکن ہے، اس کا بھی وہ ذکر کریں گے۔ باقی آگے چلو، فعلولہ، عین پر کیا ہے؟ فتحہ، اور اول جو فا ہے، اس پر بھی کیا ہے فتحہ۔ فعالا میں بھی عین پر فتحہ، اور فا اول ہے، وہ اس پر بھی فتحہ۔ فعال میں بھی عین پر فتحہ، اور اول یعنی فا پر بھی فتحہ۔ فعالیہ، عین پر فتحہ، اور اول یعنی فا پر بھی فتحہ۔ یہی بیان کر رہے ہیں، عین اول در ہمہ مفتوح خواں۔ عین اور اول کو سب کے اندر مفتوح پڑھو۔ عین رابع گشت مستثنیٰ ازاں۔ عین رابع، چوتھے کا عین۔ چوتھے کا عین گشت مستثنیٰ ازاں، وہ مستثنیٰ ہو گیا ہے ان سب سے۔ وہ ان سب سے مستثنیٰ ہے، چوتھے نمبر پر جو وزن آ رہا ہے، اس کا عین ان اس حکم سے مستثنیٰ ہے، یعنی وہ عین مفتوح نہیں۔ اور وہ کون سا ہے؟ چوتھے نمبر پر، فعلولہ۔ فعلولہ کا عین اس حکم سے مستثنیٰ ہے، باقی تو سب میں بتا دیا کہ عین اول در ہمہ مفتوح خواں۔ عین کو بھی اور پہلے حرف کو بھی، سب کو کیا پڑھو؟ مفتوح۔ لیکن چوتھے کا عین گشت مستثنیٰ ازاں، وہ اس سے مستثنیٰ ہو گیا ہے۔ وہ اس سے مستثنیٰ، یعنی اس حکم سے۔ مستثنیٰ کہتے ہیں جس کو ایک حکم سے نکال دیا جائے۔ مثلاً میں کہتا ہوں، درجۂ رابعہ والے میرے پاس آئے، سوائے زید کے۔ تو دیکھا، میں نے زید بھی درسِ ثالثہ ص میں پڑھتا ہے، لیکن میں نے اس کو نکال دیا کہ وہ نہیں آیا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، عین، سب کے عین پر کیا پڑھو؟ فتحہ، لیکن جو چوتھے نمبر والا ہے، اس کا عین اس حکم سے مستثنیٰ ہے، یعنی وہاں فتحہ عین پر نہیں ہے، بلکہ وہ عین ساکن ہے۔ کتنے اوزان ہو گئے؟ تئیس، تئیس۔ آگے دیکھیے بھئی۔ مفعلا، مفعّل، یہ عین پر زبر ہے؟ مفعَل ہے؟ نہیں نہیں، مفعَل نہیں ہونا چاہیے، مفعَل تو اوپر گزر گیا۔ مفعَل تو اوپر گزر آیا ہے، نہیں؟ ہاں۔ تو یہ مفعّل ہے بھئی، مفعّل، عین کے نیچے زیر ہے۔ جی، پھر دیکھیے اس شعر کو۔ مفعلا، مفعّل، فَعِل، فَعلوۃ ست۔ تا پر زبر پڑھیں گے۔ فَعلوَ ت ست۔ مفعلا، مفعّل، فَعِل، فَعلوَ ت ست۔ مَحْمِدہ، مرجع، خَانق، جبِروَ ت ست۔ مَحْمِدہ، کس وزن پر ہے؟ مفعلہ۔ مرجع، دیکھا، اس میں بھی جیم پر زبر ہے۔ یہ کتابت کی غلطی ہے، جیم کے نیچے زیر لگائیں۔ अच्छा، مرجع، کس وزن پر؟ مفعل۔ خانق، فاعل۔ فاعل، یہ لام پر پچھلے مصرعے میں آؤ، فاعل، یہ لام کو ساکن کرو۔ فاعل۔ فاعل، فاعلا جو ہے نا، فاعلا نہیں، فاعل، فاعل۔ لام کو ساکن کرو۔ تو اسی طرح خانق، خانق میں بھی قاف کو ساکن کرو بھئی۔ تو مرجع کس وزن پر؟ مفعل۔ خانق، فاعل۔ اور جبِروت، فَعلوَت۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دوبارہ سنیں۔ مفعلا، مفعّل، فَعِل، فَعلوَ ت ست۔ مَحْمِدہ، مرجع، خَانق، جبِروَ ت ست۔ مَحْمِدہ کا معنی ہے تعریف کرنا۔ تعریف کرنا۔ مرجع، رجوع سے ہے، لوٹنا، لوٹنا بھئی۔ لوٹنا۔ خَانق، خانق کا معنی ہے گلا دبانا کسی کا، گلا گھونٹنا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ خانق، گلا گھونٹنا، گلا دبانا۔ جبِروت، جبِروت کا معنی ہے تکبر کرنا، تکبر کرنا۔ دیکھ لیا بھئی؟ آگے دیکھیے، ہم فعِیلا، ہم فعِیل و فاعِلہ۔ ہم فعِیلا، ہم فعِیل و فاعِلہ۔ چوں قَطیعہ، ہم ومیزو، کاذِبہ۔ فعِیلا، فَعِیل اور فاعِلہ، چوں قَطیعہ۔ قَطیعہ کس وزن پر؟ فَعِیلا۔ وَمیز، کس وزن پر؟ فَعِیل۔ اور کاذِبہ، فاعِلہ۔ قطیعہ کا معنی ہے تعلق توڑنا، قطع کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ توڑنا۔ توڑنا، تو اسی سے قطیعہ ہے، تعلق توڑنا۔ تعلق توڑنا۔ وَمیز، ومیز کہتے ہیں، یہ بادلوں میں جو بجلی کی چمک ہوتی ہے، اس کو کہتے ہیں ومیز بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ ومیز۔ جیسے امرؤالقیس کہتا ہے، الصَّاحِي تَرَى بَرْقاً أُرِيكَ وَمِيضَهُ كَلَمْعِ الْيَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ یہ سبعہ معلقات، آپ انشاءاللہ پڑھیں گے، آپ زبردست صرفی ہوں گے، اور نحوی ہوں گے، تو پھر آپ کو پڑھنے کا لطف آئے گا، بھئی، انشاءاللہ آپ پڑھیں گے۔ الصَّاحِي تَرَى بَرْقاً، اے میرے ساتھی! تَرَى بَرْقاً، تو بجلی کو دیکھ رہا ہے، بادلوں میں جو بجلی چمک رہی ہے، تو اسے دیکھ رہا ہے۔ أُرِيكَ وَمِيضَهُ، آ تجھے میں اس کی چمک دکھلاؤں۔ کہ بڑی زبردست بارش ہو رہی تھی، بڑے گھنے بادل چھائے ہوئے تھے، تو وہ اپنے ساتھی کو بتلا رہا ہے کہ دیکھو کتنی بجلی چمک رہی ہے، آؤ دیکھو ذرا۔ الصَّاحِي تَرَى بَرْقاً، اے میرے ساتھی! تو بجلی دیکھ رہا ہے، أُرِيكَ وَمِيضَهُ، آ میں تجھے اس کی چمک دکھلاتا ہوں، كَلَمْعِ الْيَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ، تہ بہ تہ تاج پہنے ہوئے بادلوں میں۔ تہ بہ تہ تاج پہنے ہوئے بادلوں میں۔ بڑے گہرے بادل تھے، اور بادل ایک دوسرے کے اوپر ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے تاج پہنا ہو، کبھی ایسی صورت بن جاتی ہے، تو جیسے ان، بجلی جب چمکتی ہے، تو دیکھو دائیں بائیں ایک دم پھیل جاتی ہے یا نہیں بھئی؟ تو ایسے ہی ہے، جیسے ہاتھوں کو تیزی سے دائیں بائیں انسان حرکت دے۔ تو الصَّاحِي تَرَى بَرْقاً أُرِيكَ وَمِيضَهُ كَلَمْعِ الْيَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ۔ اچھا، تو ومیز کی بات چل رہی تھی، ومیز بر وزنِ فعِیل، اور یہ کسے کہتے ہیں بجلی کی چمک۔ اور کاذِبہ بر وزنِ فاعِلہ، یہ جھوٹ بولنے کو کہتے ہیں۔ کس کذب سے ہے، کذب، جھوٹ بولنا۔ अच्छा، یہ کتنے اوزان ہو گئے؟ مفعلہ، مفعِل، فاعل، فَعلوہ۔ ہم فعیلا، ہم فعِيل و فاعِلہ، کتنے اوزان ہو گئے؟ سات۔ سات، اور تئیس پہلے گزرے تھے، کتنے ہو گئے؟ تیس، تیس۔ تیس اور سات، تیس ہو گئے۔ اب انہی کے بارے میں بتا رہے ہیں، کہتے ہیں ایں ہمہ با فتحِ اول، کسرِ عین۔ کسرِ عین۔ ایں ہمہ با فتحِ اول، یہ سارے جو سات وزن ابھی میں نے ذکر کیے، با فتحِ اول، یہ کس کے ساتھ ہیں؟ اول کے فتحہ کے ساتھ ہیں، دیکھو مفعِل، مفعِلہ، میم پر فتحہ، مفعِل میں فی میم پر فتحہ، تو ساروں میں اسی طرح پہلے حرف پر، چاہے میم ہے، چاہے فا ہے، اس پر فتحہ ہے۔ تو ایں ہمہ با فتحِ اول، کسرِ عین، یہ سارے اول کے فتحہ کے ساتھ اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہیں، عینِ رابع ساکن است اے نورِ عین۔ چوتھے کا عین جو ہے، وہ ساکن ہے، اے نورِ عین، اے میری آنکھوں کے نور۔ یعنی اے میرے بیٹے، اے میری آنکھوں کے نور، طالب علم کو کہہ رہے ہیں۔ اے نورِ عین، اے میری آنکھ، آنکھوں کے نور، اے میرے بیٹے، یہ چوتھے میں کیا ہے؟ سر، وہ عین چوتھے کا عین ساکن ہے، دیکھو۔ سارے دیکھ لو ساروں میں، عین پر کیا، اول پر کیا آئے گا؟ فتحہ، اور عین پر کیا آئے گا؟ کسرہ۔ دیکھو، مفعِلہ، اول پر فتحہ، اور عین پر کسرہ۔ مفعِل، اول پر فتحہ، اور عین پر کسرہ۔ فاعل، اول پر فتحہ، اور عین پر کسرہ۔ اور فَعلوَ ہ، یہ چوتھے نمبر والا مستثنیٰ ہے۔ اس میں اول پر فتحہ تو ہے، لیکن عین پر کسرہ نہیں ہے، بلکہ وہ عین ساکن ہے۔ ہم فَعِیلاً، فَعِیلاً میں بھی دیکھ لو، فا پر فتحہ ہے، تو عین پر کسرہ۔ فَعِیل میں بھی فا پر فتحہ ہے، تو عین پر کسرہ۔ فاعِلہ میں بھی فا پر فتحہ ہے، تو عین پر کسرہ۔ تو کل تیس اوزان ہو گئے۔ تو کہتے ہیں ایں ہمہ با فتحِ اول، کسرِ عین، یہ سارے کے سارے اول کے فتحہ کے ساتھ اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہیں، عینِ رابع ساکن است اے نورِ عین، چوتھے کا عین جو ہے وہ ساکن ہے، اے نورِ عین، اے میری آنکھوں کے نور۔ مَفْعُوْلَةً، مَفْعُوْل، ہم مَفْعُوْلَةً ست، مَمْلُوْكَةً، مَكْذُوْب، ہم مَكْذُوْبَةً ست۔ مملوكہ کس وزن پر؟ مفعولہ۔ مکذوب، مفعول۔ مکذوبہ، مفعولہ۔ مملوكہ کا معنی ہے مالک ہونا۔ کسی چیز کا مالک ہونا۔ مکذوب اور مکذوبہ، اس کا، ان کا بھی معنی جھوٹ بولنا۔ کاذبہ کا معنی بھی جھوٹ بولنا، مکذوب کا معنی بھی جھوٹ بول۔ تو دیکھا، مکذوب، مفعول وزن آیا، تو کبھی ایسا ہوگا، مفعول وزن آئے گا، آپ نے فوراً نہیں کہہ دینا کہ یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ بلکہ کبھی کبھار اس وزن پر مصدر بھی آ جاتا ہے، کم ہے، لیکن آتا ہے۔ یہ جیسے پیچھے گزرا تھا کاذِبہ، دیکھو، فاعِلہ، اس میں فاعل کا وزن آیا تھا یا مؤنث کا وزن آگیا، تو اس وزن پر بھی کبھی مصدر آ جاتا ہے۔ اور اسی طرح ایا، آپ نے پڑھا ومیز، فعِیل۔ فعِیل وزن تو صفت مشبہ کا ہے، کریمٌ، شریفٌ، لیکن معلوم ہوا اسی وزن پر کبھی مصدر بھی آ جاتا ہے۔ اسی طرح پیچھے پڑھا مرجع، مرجع، دیکھو، یہ بظاہر لگتا ہے شاید یہ اسم ظرف ہے، لیکن پتہ چلا کبھی اس وزن پر مصدر بھی، تو یہ اوزان آپ نے یاد کرنے ہیں، آپ کو پتہ چلے گا کہ اس وزن پر مصادر آتے ہیں، بھئی۔ تو کہتے ہیں مفعولہ، مفعول ہم مفعولہ است، مملوكہ، مکذوب، ہم مکذوبہ است۔ ہم فعُول، ہم فعُولہ، ہم فعُول، توجہ ہے؟ ہم فعُول، فا پر زبر ہے، پھر آگے فا پر پیش ہے، ہم فعُول، ہم فعُولُو، ہم فعُو، ہم فعُولُو، جی۔ اس فعُول کے بعد واؤ ہونا چاہیے بھئی۔ واؤ لگائیں بھئی۔ فعُول کے بعد واؤ، اور آگے چونکہ قبول، اس واؤ اس قبول کے بعد بھی واؤ لگائیں اگلے مصرعے میں۔ اب دیکھیے بھئی، اب صحیح پڑھا جائے گا، ہم فعُولُو، ہم فعُولاً، ہم فعُول، صحیح پڑھا جا رہا ہے یا نہیں؟ ہم فعُولُو، ہم فعُولاً، ہم فعُول، چوں قبولُو، ہمہوبہ، ہم دخول۔ قبول بر وزن، مفعول؟ قبول بر وزن، فعُول۔ موہوبہ بر وزنِ فعُولہ۔ اور دخول بر وزنِ فعُول۔ تو قبول کا معنی ہے قبول کر لینا، مان لینا۔ موہوبہ، موہوبہ کہتے ہیں سرخ و سفید ہونا۔ یہ لغت میں مجھے یہ لفظ نہیں ملا، لیکن بہرحال انہوں نے اس کا معنی لکھا ہے حاشیہ کے اندر سرخ و سفید ہونا۔ عرب کے ہاں مردوں میں سفید رنگ پسندیدہ تھا، سفید رنگ۔ لیکن وہ سفید جو سرخی مائل ہو، اس میں تھوڑی سی سرخی ہو، بالکل سفید رنگ یہ بھی پسندیدہ نہیں، بلکہ کس طرح کا ہو؟ کچھ سرخی مائل رنگ ہو، وہ پسندیدہ ہے۔ اور اسی طرح عورتوں میں وہ سفید رنگ جو تھوڑا سا زردی مائل ہو وہ پسندیدہ ہوتا تھا۔ بالکل سفید پسندیدہ نہیں، سفید رنگ ہو لیکن تھوڑا سا کس کی طرف مائل ہو؟ زرد رنگ کی طرف اور مردوں میں جو سرخ رنگ تو جو مرد بڑا خوبصورت ہوتا ہے، حسین و جمیل، سفید اچھے رنگ والا ہوتا تو اس کو کہتے ہیں کہ یہ بڑا سرخ و سفید رنگ والا ہے۔ سرخ و سفید رنگ والا ہے۔ میں نے بتایا نا مردوں میں کون سا پسندیدہ رنگ ہے؟ سفید اور سرخی کی طرف مائل ہو تو کیا کہتے ہیں یہ بڑا سرخ و سفید رنگ والا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں مھوبہ، سرخ و سفید ہونا۔ تو بہرحال لغت میں مجھے یہ لفظ نہیں ملا۔ تو قبول بروزن فعول، مھوبہ بروزن فعولہ اور دخول بروزن فعول۔ آگے دیکھیے بھئی کہتے ہیں۔ ای ھما بفتح اول ضم عین، یہ سارے اول کے فتحہ اور عین کے ضمہ یعنی پہلے حرف پر فتحہ ہے۔ کتنے اوزان ہیں؟ چھ، چھ۔ مفعولہ، مفعول، مفعولہ، فعول، فعولہ اور ہم فعول یہ چھ وزن ہیں۔ یہ سارے ان سب میں کہتے ہیں اول پر کیا ہے؟ فتحہ ہے اور عین پر ضمہ ہے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخری دو میں تو فا پر ضمہ ہے۔ فعولہ اور فعول۔ توجہ ہے؟ تو وہ اگلے مصرعے میں ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں خامس و سادس بدا بضمتین، پانچواں اور چھٹا جو ہے بدا تو اس کو جان لے بضمتین کس کے ساتھ؟ دو ضمموں کے ساتھ، یعنی اس میں فا اور عین دونوں پر ضمہ ہے، باقی چار کے اندر اول پر فتحہ اور عین پر ضمہ ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں ای ھما بفتح اول ضم عین خامس و سادس بدا بضمتین، یہ سب کے سب اول کے فتحہ اور عین کے ضمہ کے ساتھ ہیں۔ پانچویں اور چھٹے کو تو جان لے دو ضمموں کے ساتھ۔ وہاں فعولہ اور فعول دونوں میں ضممے ہیں عین پر بھی اور فا پر بھی۔ ہم فعل، دیگر فعالہ، ہم فعال، چون صغر، دیگر درایہ، ہم فصال، ہم فعل، دیگر فعالہ، ہم فعال، چون ھودن، دیگر بغایا، ہم سوال۔ توجہ ہے؟ ہم فعل، دیگر فعالہ، ہم فعال۔ چون صغر جیسے صغر، یہ کس وزن پر؟ فعل۔ درایہ، فعالہ۔ فصال، فععال۔ اسی طرح ہم فعل، دیگر فعالہ، ہم فعال، چون ھودن، دیگر بغایا، ہم سوال۔ ھودن یہ کس وزن پر ہے؟ فعول۔ فعول۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اب تو آپ صرفی ہیں۔ اصل میں کیا تھا؟ ھدیون، فعول اسی وزن پر لے جاؤ۔ ھدیون، فعول۔ پھر یا پر ضمہ ثقیل تھا۔ اسے اس کو ماقبل فتحہ تھا تو کس سے بدلا؟ الف سے۔ پھر الف اور نون نون تنوین میں اجتماعی ساکنین ایا تو الف کو کیا کیا؟ گرا دیا۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں؟ جی۔ چون ھودن تو ھودن بروزن فعول، بغایا بروزن فعالہ اور سوال بروزن فعال۔ تو صغر کا معنی ہے چھوٹا ہونا۔ چھوٹا ہونا۔ اسی طرح ذلیل ہونا۔ چھوٹا ہونا بھی اس کا معنی اور ذلیل ہونا بھی۔ درایہ، درایہ کا معنی ہے جان لینا۔ جیسے علم کا کیا معنی ہے؟ جاننا۔ اسی طرح درایہ کا معنی بھی جاننا۔ فصال، فصال کا معنی ہے بچے کا دودھ چھڑانا۔ چھوٹے بچے کو ماں دودھ پلاتی ہے اور دو سال کے بعد اس کو جو دودھ سے چھڑا دیتی ہے کھانے وغیرہ پر ہی بس لگا دیتی ہے تو اس دودھ چھڑانے کو کیا کہتے ہیں؟ فصال۔ تو قران میں بھی ہے حملھ و فصالھ، تو یہ فصال ہے وہ دودھ چھڑانا۔ ہم فعل، دیگر فعالہ، ہم فعال، چون ھودن، دیگر بغایا، ہم سوال۔ ھودن کا معنی۔ ہدایت دینا، رہنمائی کرنا، راستہ دکھانا۔ ھودن کا کیا معنی؟ رہنمائی کرنا، راستہ دکھانا۔ بغایا۔ بغایا کا معنی چاہنا۔ بغا یبغی سے ہے چاہنا، طلب کرنا۔ سوال۔ سوال کا معنی پوچھنا، درخواست کرنا۔ درخواست کرنا۔ ہم فعل، دیگر فعالہ، ہم فعال، فعل، دوسرا فعالہ اور فعال بھی، جیسے صغر چون صغر، دیگر درایہ، ہم فصال، جیسے صغر، دیگر درایہ، دوسرا درایہ بھی اور فصال بھی۔ अच्छा، آگے دیکھیے، اندریھا فتح عین و کسر فا، اندریھا۔ اصل میں تھا اندر این ھا۔ اندر کا مطلب بیچ میں۔ این، این کا معنی یہ اور جمع کے لیے فارسی میں کیا لاتے ہیں؟ ہ۔ این ھا یہ سب۔ تو اندریھا اب سب کو ملا دیا۔ اندریھا، ان سب میں۔ اندریھا، ان سب میں۔ فتح عین و کسر فا۔ عین پر کیا ہے؟ فتحہ ہے۔ و کسر فا، اور فا پر کسرہ۔ در سہ وزن، کتنے وزنوں میں؟ تین وزنوں میں۔ و ضمہ فا در سجاہ، اور فا کا ضمہ ہے تین جگہ۔ تین جگہ فا کا کسرہ۔ عین پر تو۔ فتحہ ہے سب میں۔ دیکھو بھئی، اندریھا فتح عین، ان سب میں عین پر کیا ہے؟ فتحہ ہے۔ و کسر فا در سہ وزن۔ اور تین وزنوں میں فا پر کسرہ ہے۔ و ضمہ فا در سجہ، اور فا کا ضمہ ہے تین جگہ۔ دیکھو کیسے؟ فعل، عین پر کیا ہے؟ فتحہ۔ فتحہ اور فا کے، فا پر کسرہ۔ فعالہ، عین پر کیا ہے؟ فتحہ اور فا کے نیچے کسرہ۔ فعال میں بھی عین پر فتحہ اور فا کے نیچے کسرہ۔ اور جبکہ اگلے تین میں فا پر ضمہ ہے، عین پر اسی طرح فتحہ چلے گا اور فا پر ضمہ۔ جیسے فعول، عین پر فتحہ اور فا پر ضمہ۔ فعالہ، عین پر فتحہ اور فا پر ضمہ۔ فعال، عین پر فتحہ اور فا پر ضمہ۔ تو کہتے ہیں اندریھا فتح عین و کسر فا، در سہ وزن و ضمہ فا در سجہ، کہ ان سب میں عین کا فتحہ ہے اور کسرے فا کا کسرہ ہے در سہ وزن۔ و ضمہ فا در سجہ اور فا کا ضمہ ہے تین جگہوں میں۔ अच्छा भाई। تو بھئی گن تو ہم رہے نہیں، کتنے ہوئے تھے؟ 30 ہوئے تھے۔ جے۔ 30۔ 30 ہوئے تھے۔ جی۔ 30۔ اور۔ پچھے۔ نہیں، اس سے پچھلے والے بھی تو تھے۔ پھر شروع سے گنو۔ فعل و فعلا فعلت فعلان، یہ کتنے ہیں؟ چار۔ اور ہم بخوا در چہار می فتح دوم عین ثالث دا بفتح و کسرہ، ہم تین وزن یہ بھی ہو گئے تھے۔ سات، سات۔ پھر فعل و فعلا فعلت فعلان۔ 11۔ فعول و فعولا فعولت فعولان۔ 15۔ مفعلا مفععل فعل فعلو لتست، فعوللا ہم فعالا ہم فععال۔ ہم فعالیہ۔ آٹھ ہو گئے، 15 اور آٹھ 23۔ آگے، مفعیلا مفعل فعل فعلو تست، ہم فعیلا ہم فعیلو فاعلہ۔ سات یہ ہو گئے، 30 ہو گئے۔ مفعولا مفعول ہم مفعولست، ہم فعول ہم فعولا ہم فعول۔ چھ ہو گئے۔ 36۔ 36 اب آیا ہم فعل دیگر فعالہ ہم فعل، ہم فعل دیگر فعالہ ہم فعل۔ چھ۔ چھ ہو گئے۔ 42 ہو گئے، کل کتنے ہیں؟ 44، دو رہ گئے، کہتے ہیں بعد ازاں فعلا و فعولا بفتح۔ بعد ازاں فعلا و فعولا بفتح۔ وزن ارغبا و جبورا بفتح۔ رغبا بروزن فعلا۔ جبورت فعولہ تو۔ جے۔ رغبا کا معنی رغبت کرنا، کسی چیز کا شوق ہونا۔ جبورا۔ وہ جو اوپر گزرا تھا۔ جبروات، تکبر کرنا۔ جبروت کا معنی بھی تھا تکبر کرنا اور جبورا کا معنی بھی تکبر کرنا اور رغبا کا معنی۔ رغبت رکھنا، شوق رکھنا۔ تو کہتے ہیں بعد ازاں فعلا و فعولا بفتح، وزن ارغبا و جبورا بفتح۔ اس کے بعد فعلا اور فعولا ہیں، فتحہ کے ساتھ۔ کیا کس کا فتحہ؟ فا کا، فعلا فا پر فتحہ، فعولا فا پر فتحہ۔ وزن ارغبا و جبورا بفتح، ان کا وزن کیا ہے؟ رغبا اور جبورا فتحہ کے ساتھ۔ در دوم تشدید و زم مر عین را، در دوم۔ دوسرا جو ہے، کون ہے دوسرا؟ فعولا۔ دو ذکر ہوئے نا؟ جی۔ تو کہتے ہیں در دوم تشدید و زم۔ دوسرے کے میں۔ تشدید و زم۔ شد اور ضمہ ہے مر عین را۔ مر کا معنی خاص، خاص۔ خاص عین کا، یعنی خاص عین پر شد اور ضمہ ہے۔ فعولا، عین پر کیا پڑھ رہے ہو؟ شد اور ضمہ بھی ہے۔ یہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں در دوم تشدید و زم مر عین را، دوسرے میں خاص طور پر عین کا شد اور ضمہ ہے۔ وزن ہاشود ختم از فضل خدا، یہ سارے اوزان کیا ہوئے؟ ختم۔ وہ سارے اوزان شد ختم، ختم ہو گئے از فضل خدا، اللہ کے فضل سے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ جی۔ معانی کا پتہ چل گیا؟ جی۔ جی، ایک پھر سن لو غور سے بھئی۔ بلکہ میرے ساتھ ساتھ ایک ایک شعر دہراؤ، آپ کی زبان پر رواں ہو جائے۔ کوئی اعراب حرکت لگانی ہے، لگا لو، تاکہ تاکہ یاد کریں تو صحیح تلفظ کے ساتھ یاد کریں۔ اللاثی مجرد چہل و چار۔ ثلاثی مجرد چہل و چار۔ چہل و چار۔ چہل و چار۔ وزن مصدر آمدہ ایزی وقار۔ وزن مصدر آمدہ ایزی وقار۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بفتح۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بفتح۔ قتل و دعوا رحمت لیاں بفتح۔ قتل و دعوا رحمت لیاں بفتح۔ ہم بخوا در چہار می فتح دوم عین ثالث دا بفتح و کسرہ ہم۔ ہم بخوا در چہار می فتح دوم۔ پھر پڑھو۔ ہم بخوا در چہار می فتح دوم۔ ہم بخوا در چہار می فتح دوم۔ عین ثالث دا بفتح و کسرہ ہم۔ عین ثالث دا بفتح و کسرہ ہم۔ عین ثالث دا بفتح و کسرہ ہم۔ عین ثالث دا بفتح و کسرہ ہم۔ دا یہ نون غنہ پڑھو، سمجھ میں آیا بھئی؟ فعل و فعلا فعلت فعلان بکسر۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بکسر۔ فسق و ذکرا نشدت حرمان بکسر۔ فسق و ذکرا نشدت حرمان بکسر۔ پھر پڑھو۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بکسر۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بکسر۔ فسق و ذکرا نشدت حرمان بکسر۔ فسق و ذکرا نشدت حرمان بکسر۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بزم۔ فعل و فعلا فعلت فعلان بزم۔ شغل و بشرٰی قدرت غفران بزم۔ شغل و بشرٰی قدرت غفران بزم۔ وزن۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ منقبا مدخل طلب قیلولہ تست۔ منقبا مدخل طلب قیلولہ تست۔ فعولا ہم فعالا ہم فعال۔ فعولا ہم فعالا ہم فعال۔ نحو کینہ شہادت ہم کمال۔ نحو کینہ شہادت ہم کمال۔ ہم فعالیہ ازیں اوزان بدا۔ ہم فعالیہ ازیں اوزان بدا۔ پس کرا ہی شدہ موزون آن۔ پس کرا ہی شدہ موزون آن۔ عین اول در ہما مفتوح خواہ۔ عین اول در ہما مفتوح خواہ۔ عین رابع گشت مستثنیٰ ازاں۔ عین رابع گشت مستثنیٰ ازاں۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ مفعلا مفعل فعل فعلول تست۔ محمیدہ مرجع خنق جبروت تست۔ محمیدہ مرجع خنق جبروت تست۔ مہمیدہ مرجع خنق جبروت تست۔ مہمیدہ مرجع خنق جبروت تست۔ ہم فعیلا ہم فعیلو فاعلہ۔ ہم فعیلا ہم فعیلو فاعلہ۔ چون قطیعہ ہم میزو کاذبہ۔ چون قطیعہ ہم میزو کاذبہ۔ ای ہما بفتح اول کسر عین۔ ای ہما بفتح اول کسر عین۔ عین رابع ساکن است اے نور عین۔ عین رابع ساکن است اے نور عین۔ مفعولا مفحول ہم مفعولہ تست۔ مفعولا مفحول ہم مفعولہ تست۔ مملوکا مکذوبہ ہم مکذوبہ تست۔ مملوکا مکذوبہ ہم مکذوبہ تست۔ ہم فعولو ہم فعولا ہم فعول۔ ہم فعولو ہم فعولا ہم فعول۔ ہم فعولو، واؤ پڑھنا ہے۔ ہم فعولو، ہم فعولا، ہم فعول۔ ہم فعولو، ہم فعولا، ہم فعول۔ چون قبولو، ہم مھوبہ، ہم دخول۔ چون قبولو، ہم مھوبہ، ہم دخول۔ ای ہما بفتح اول زم عین۔ ای ہما بفتح اول زم عین۔ خامس و سادس بدا بضمتین۔ خامس و سادس بدا بضمتین۔ ہم فعل دیگر فعالہ ہم فعل۔ ہم فعل دیگر فعالہ ہم فعل۔ چون صغر دیگر درایہ ہم فصال۔ چون صغر دیگر درایہ ہم فصال۔ ہم فعل دیگر فعالہ ہم فعل۔ ہم فعل دیگر فعالہ ہم فعل۔ چون ھودن دیگر بغایا ہم سوال۔ چون ھودن دیگر بغایا ہم سوال۔ اندریھا فتح عین و کسر فا۔ اندریھا فتح عین و کسر فا۔ در سہ وزن و ضمہ فا در سجہ۔ در سہ وزن و ضمہ فا در سجہ۔ در سہ وزن و، نون پر پیش پڑھ دیں گے۔ در سہ وزن و ضمہ فا در سجہ۔ در سہ وزن و ضمہ فا در سجہ۔ بعد ازاں فعلا و فعولا بفتح۔ بعد ازاں فعلا و فعولا بفتح۔ بعد ازاں فعلا و فعولا بفتح۔ बाद ازاں فعلا و فعولا بفتح۔ جب پورا وفتہ و جار باؤ جب پورا وفتہ در دوم تشدید و ضم عین را وزن ہاشود ختم از فضل خدا جی اچھا بھئی آپ ایک ساتھی بھئی پڑھ دیں ذرا مجھے پتہ چل جائے کیسا آپ کرتے ہیں بھئی ذرا اونچی آواز سے پڑھو بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الثلاثی مجرد چھیلو چار وزن مصدر آمد اے ذی وقار فعل فعال فعلت فعلان بفتح قتل دعوی رحمت لیاں بفتح ہم بخواہ در چار در چار میں فتح دوم فتح دوم جی پھر پڑھو ہم بخواہ در چار ہم بخواہ ہم بخواہ در چار میں فتح دوم فتح دوم جی پھر پڑھو ہم بخواہ در چار میں فتح دوم دوم نہیں دوم واؤ پر شد پڑھو دوم جی ہم بخواہ در چار میں فتح دوم عین ثالث عین ثالث دان بفتح بفتح بفتح و کسرہم بفتح و کسرہم را پر زبر پڑھو جی بفتح و کسرہم جی فعل فعلا فعلت فعلان بکسر فسق و ذکرا نشدت حرمان بکسر فعل فعلا فعلت فعلان بضم شغل بشر قدرت غفران بضم شاباش آگے بھئی آپ پڑھو بھئی۔ اونچی آواز مفعل مفعل فعل فعلولہ فعل فعل یہ لام پر ساکن کرو یہ لام طلب اور فعل اسلام کو ساکن کرو فعل طلب لام پر جزم لگاؤ بھئی طلب کی با پر بھی جزم لگاؤ جی پڑھو مفعل مفعل فعل فعلولہست منقبہ مدخل طلب قلولہست مفعل مفعل فعل یہ فعل لام پر زبر ہے اس پر زبر کو سکون سے بدلیں جزم سے فعل مفعل مفعل فعل فعلولہست منقبہ مدخل طلب یہ طلب کی با پر بھی جزم لگائیں با پر زبر غلط لگا ہوا ہے زبر نہیں آئے گا بھئی ماضی کا صیغہ یہ نہیں ہے یہ مصدر ہے اور شعر میں ساکن پھر پڑھیں گے۔ تو طلب با پر جزم لگا دیا جی پڑھیے بھئی مفعل مفعل فعل فعلولہست منقبہ مدخل طلب قلولہست فعلولہم فعلاہم فعال تم پڑھو بھئی مفعل مفعل فعل فعلولہست مفعل مفعل فعل دیکھا پھر نہیں لگایا تم نے جزم جی مفعل مفعل فعل فعلولہست منقبہ مدخل طلب قلولہست فعلولہم فعلاہم فعال نحو کینونہ شہادت ہم کمال ہم فعالیہ ازیں اوزاں بداں پس گرایہ شد موزوں آن عین اول در ہما مفتوح خواہ عین رابع گشت مستثنیٰ ازاں مفعل مفعل فعل فعلولہست محمیدہ مرجع خنق جبرو ست ہم فعیلہ ہم فعیل و فاعلہ چو قطعہ ہم و میزو کاذبہ ای ہما با فتح اول کسر عین عین رابع ساکن است ای نور عین مفعل مفعل ہم مفعلہست مملوکہ مکذوبہ ہم مکذوبست ہم فعولو ہم فعولہ ہم فعول چو قبولو ہمہ با ہم دخول ای ہما با فتح اول ذمہ عین خامس و سادس بداں با ضمتین ہم فعل دیگر فعالا ہم فعل چو صغیر دیگر درایہ ہم فصال ہم فعل دیگر فعالا ہم فعل چو ہدن دیگر بوغایا ہم سوال اندریںہا فتح عین و کسر فا در سہ وزن و ذمہ فا در سہ جا بعد ازاں فعلا و فعولہ با فتح وزن آرغبا و جبورا با فتح در دوم تشدید و زم مرعین را وزن ہاشود ختم از فضل خدا چلیے بھئی بات سمجھ میں آگئی تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ثلاثی مجرد کے لیے کوئی مقررہ قاعدہ نہیں ہے ہاں ان اوزان کو میرے استاد صاحب نے جمع کیا ہے چوالیس وزن جمع کیے ہیں اس نظم کے اندر بھئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ چوالیس وزن ہی ہیں ثلاثی مجرد میں ثلاثی مجرد کے باب چھ ہیں لیکن مصدر دیکھو چوالیس اوزان پر آ رہے ہیں کتنے ہیں چوالیس انہی چھ میں سے چھ باب یہی ہیں باب یہی چھ ہیں اور مصدر کتنی قسم کے ہو گئے چوالیس اور پھر یہ صرف چوالیس میں ہی نہیں ہیں یہ چوالیس جو ہیں جو زیادہ اور عام استعمال ہونے والے ہیں اس کے علاوہ اور بھی مصادر ہیں بھئی تو چوالیس سے بھی زیادہ ہیں بھئی جبکہ ثلاثی مجرد کے علاوہ جو ہیں یعنی ثلاثی مزید فی رباعی مجرد اور رباعی مزید فی کے اندر ان کے اوزان باقاعدہ مقرر ہیں بھئی تو یہ اشعار آپ نے یاد کرنے ہیں اور روزانہ کم از کم کوئی چار چھ آٹھ اشعار یاد کریں تو ایک دو تین دن میں یہ بہترین پوری ہو جائے گی نظم اور پھر ایک دوسرے کو سنائیں ایک ایک حرف میں غور کرنا ہے توجہ سے سننا ہے ساتھی کا کہیں غلطی آتی ہے اس کی اصلاح کریں بلکہ یاد کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو سنایا کریں پھر اس کے بعد یاد کیا کریں تاکہ یاد کریں تو زبان پر صحیح تلفظ جاری ہو بھئی اور یہ چھٹیوں کے بعد اب عید کی چھٹیاں آ رہی ہیں چھٹیوں کے بعد آپ نے مجھے یہ نظم اس طرح سنانی ہے کہ کہیں اٹکنا نہیں ہے اٹک گئے یا سوچنے لگ پڑے تو اس کا مطلب ہے آپ روزانہ نہیں دہراتے رہے یاد نہیں ہے روزانہ دہرائیں گے تو اتنی زبردست یاد ہو جائے گی کہ آپ بھی حیران ہوں گے کہ اتنی زبردست ہمیں یاد ہے نظم بھئی بات سمجھ میں آگئی تو یہ طریقہ ہے یاد کرنے کا ہمارے طلباء بیچارے کمزور کیوں رہ جاتے ہیں وہ سبق یاد کرتے ہیں اگلے دن اگلا یاد کرتے ہیں اگلے دن اگلا یاد کرتے ہیں وہ پچھلا بھولتا چلا جاتا ہے جب آپ اس کو روزانہ دہرائیں گے کم از کم ایک مہینے تک پچھلا سبق چلاتے رہو تو وہ ایک مہینہ جب دہراتے رہیں گے وہ اتنا ازبر ہو جائے گا کہ بھولے گا ہی نہیں پھر امتحان میں جا کر جب دوبارہ ایک دفعہ پھر دہرالو گے تو پھر تو اور ازبر ہو جائے گا بھئی آئیے بھئی اور اب اردو کی کتاب میں سے بھی جلدی جلدی دیکھ لیجیے فائدہ کوفیین کے نزدیک مصدر بھی مشتقات فعل میں سے ہے عبارت مل گئی فائدہ پھر دیکھیے فائدہ کوفیین کے نزدیک مصدر بھی مشتقات فعل میں سے ہے لہذا وہ اسمائے مشتقہ سات بتاتے ہیں اس مسئلہ کی تحقیق فصل افادات میں آئے گی مصدر ثلاثی مجرد کے وزن کا کوئی قاعدہ مقرر قاعدہ عین کے ساتھ ہونا چاہیے تھا کوئی قاعدہ مقرر نہیں اور غیر ثلاثی مجرد کے وزن مقرر ہیں جیسا کہ آگے آئے گا جناب استازی مولوی سید محمد صاحب اعلی اللہ درجاتہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے نے اپنی نظم میں مصادر ثلاثی مجرد کے اکثر اوزان مع حرکات و امثلہ منضبط کر دیے ہیں منضبط غلط لفظ بھئی ضبط کر دیے ہیں سمجھ میں آیا امثلہ ضبط کر دیے ہیں یہاں ضبط لفظ ہونا چاہیے ہم وہ نظم یہاں افادتاً نقل کیے دیتے ہیں نظم ہے الثلاثی مجرد چھیلو چار وزن مصدر آمد اے ذی وقار فعلو فعلا فعلت فعلان با فتح قتل و دعوی رحمت لیاں با فتح ہم بخواہ در چار می فتح دوم عین ثالث دا با فتح و کسر ہم فعل و فعلا فعلت فعلان با کسر فسق و ذکرا نشدت حرمان با کسر فعلو فعلا فعلت فعلان با زم شغل و بشر قدرت غفران با زم مفعل مفعل فعل فعلولہست منقبہ مدخل طلب قلولہست فعلولہ ہم فعالا ہم فعال نحو کینونہ شہادت ہم کمال ہم فعالیہ ازیں اوزاں بداں پس گراہیا شدہ موزوں آن عین اول در ہما مفتوح خواہ عین رابع گشت مستثنیٰ ازاں مفعل مفعل فعل فعلولہست محمیدہ مرجع خنق جبرو ست ہم فعیلہ ہم فعیل و فاعلہ چو قطعہ ہم و میزو کاذبہ ای ہما با فتح اول کسر عین عین رابع ساکن است ای نور عین مفعل مفعل ہم مفعلہست مملوکہ مکذوبہ ہم مکذوبست ہم فعولو ہم فعولہ ہم فعول چو قبولو ہمہ با ہم دخول ای ہما با فتح اول زم عین خامس و سادس بداں با ضمتین ہم فعل دیگر فعالا ہم فعل چو صغیر دیگر درایہ ہم فصال ہم فعل دیگر فعالا ہم فعل چو ہدن دیگر بوغایا ہم سوال اندریںہا فتح عین و کسر فا در سہ وزن و ذمہ فا در سہ جا بعد ازاں فعلا و فعولہ با فتح وزن آرغبا و جبورا با فتح در دوم تشدید و زم مرعین را وزن ہاشود ختم از فضل خدا بات سمجھ میں آگ گئی ہاں یہ اردو کی کتاب میں تقریباً میرا خیال ہے سارا حرکتیں وغیرہ ٹھیک لگی ہیں نظم کے اندر بھئی جہاں دیکھو ساکن میں نے بتایا ساکن پڑھنا ہے انہوں نے وہاں سکون لگایا ہوا ہے بھئی چلیے جی چلیے بھئی اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
55 approved lectures · 12 of 55