Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ خاصیاتِ بابِ تفعل۔ اس باب کی 11 خاصیات ہیں: نمبر 1 تکلف، نمبر 2 تجنب، نمبر 3 لبسِ ماخذ، نمبر 4 تعمل، نمبر 5 اتخاذ، نمبر 6 تدریج، نمبر 7 تحول، نمبر 8 مطاوعت، نمبر 9 ابتداء، نمبر 10 صیرورت، اور نمبر 11 ہے موافقتِ مجرد و افعال و تفعیل و استفعال۔ جی، بابِ تفعل کی پہلی خاصیت ہے بھئی تکلف۔ دیکھ رہے ہیں کتاب پر؟ یعنی فاعل کا مصنوعی طور پر خود کو ماخذ سے متصف ظاہر کرنا یا فاعل کا خود کو بناوٹی طور پر ماخذ کی طرف منسوب کرنا۔ جیسے تشجع زید، زید نے خود کو شجاع یعنی دلیر ظاہر کیا۔ یہ ہے تکلف بھئی۔ مطلب زید شجاع ہے نہیں، لیکن دکھلاوا کس طرح کرتا ہے جیسے وہ کیا ہو؟ شجاع ہو۔ تو دیکھا، اس نے دکھلاوا کیا، بناوٹ کی کہ تشجع زید۔ کیا معنی؟ زید نے بتکلف اپنے آپ کو بہادر بنایا، بہادر دکھایا۔ تشجع زید، تو ماخذ کیا ہے؟ شجاعت ہے، شجاعت بھئی۔ تو ماخذ سے اپنے آپ کو متصف ظاہر کیا زید نے۔ اور دوسری مثال ہے تمرض زید۔ دیکھو، یہ مرض سے ہے، مرض، بیماری۔ تمرض زید، زید نے خود کو بتکلف مریض ظاہر کیا۔ ان دونوں مثالوں میں فاعل زید نے مصنوعی طور پر اپنے آپ کو شجاعت یا مرض سے متصف ظاہر کیا۔ اسی طرح تکوف زید، زید نے بناوٹی طور پر خود کو کوفہ کی طرف منسوب کیا۔ کوفہ شہر کا نام ہے، اسی سے فعل بنا لیا تکوف۔ اور بابِ تفعل سے ہے، اور اس میں خاصہ ہے تکلف والا، یعنی بتکلف اپنے آپ کو، یعنی بناوٹی طور پر دکھلاوے کے لیے ایک چیز کا، ایک چیز جیسی صورت اختیار کرنا، بناوٹی طور پر ماخذ کی طرف اپنی نسبت کرنا کہ میں کہاں کا رہنے والا ہوں؟ کوفہ کا۔ یعنی ان کوفہ والوں جیسی صورت اس نے اختیار کر لی بھئی۔ یا اسی طرح تجوع، یہ جوع سے ہے، بھوک کو کہتے ہیں۔ تو تجوع، زید نے بتکلف اپنے آپ کو بھوکا ظاہر کیا کہ مجھے بھوک لگی ہوئی ہے۔ بھوک لگی نہیں تھی لیکن اس نے بناوٹ کیا کی، دکھلاوا کیا کیا کہ اسے بھوک لگی ہوئی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تکلف کسے کہتے ہیں؟ فاعل بتکلف یہ ظاہر کرے کہ وہ ماخذ سے متصف ہے، اس میں بھی ماخذ والی صفت موجود ہے، جیسے تجوع، جیسے اس میں بھی بھوک موجود ہے، وہ بھوکا ہے۔ یا ماخذ کی صفت موجود ہے یا ماخذ کی طرف اس نے بتکلف نسبت کی، جیسے تکوف، اس نے کس کی طرف نسبت کی؟ کوفہ کی طرف نسبت کی بھئی۔ یہ خاصیات یاد رکھنی ہیں، انہی کے مطابق پھر ترجمہ ہوتا ہے بھئی، انہی کے مطابق وہ فعل وغیرہ کا آپ ترجمہ کریں گے۔ اگلی خاصیت ہے تجنب بھئی۔ تجنب کے لغوی معنی ہیں کنارہ کش ہونا، یعنی بچنا، الگ ہونا۔ اور اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا ماخذ سے اجتناب و پرہیز کرنا، جیسے تحوبت یا تاثمت۔ تحوبت اور تاثمت کا ایک ہی معنی ہے گناہ سے بچنا، میں گناہ سے بچا۔ یا یوں کہو تحوب زید، کیا معنی؟ بھئی دیکھو، حوب عربی میں کہتے ہیں گناہ کو۔ حوب، اسی سے باب بنا لیا تحوب۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں گناہ کرنا، بنا کس سے ہے؟ حوب گناہ سے، لیکن معنی کیا گناہ سے بچنا بھئی، گناہ سے بچنا۔ تو تحوب زید، زید گناہ سے بچا۔ اسی طرح اثم، ہمزہ، ث، م۔ اثم بھی کسے کہتے ہیں؟ گناہ کو۔ اسی سے باب بنا لیا تاثم زید۔ کیا معنی؟ زید نے گناہ کیا، یہ ترجمہ نہیں بھئی، بلکہ کیا معنی ہے؟ زید نے گناہ سے اپنے آپ کو بچایا بھئی، تاثم۔ دیکھیے کتاب پر نمبر 2 تجنب۔ اس کے لغوی معنی ہیں کنارہ کش ہونا اور اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا ماخذ سے اجتناب و پرہیز کرنا، جیسے تحوبت، تاثمت، میں گناہ سے بچا۔ ماخذ حوب اور اثم ہیں، دونوں بمعنی گناہ کے۔ تیسری خاصیت آگے ہے لبسِ ماخذ۔ لبسِ ماخذ بھئی، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے ماخذ کو پہننا، ماخذ کو پہننا۔ جیسے خاتم، عربی میں انگوٹھی کو کہتے ہیں۔ اسی سے باب بنا لیا تختم زید۔ کیا معنی؟ زید نے انگوٹھی پہنی۔ دیکھا، ماخذ پہنا، تو یہ ہے لبسِ ماخذ۔ دیکھیے کتاب پر، نمبر 3 لبسِ ماخذ، اس کے معنی ہیں فاعل کا ماخذ کو پہننا، جیسے تختم زید۔ یہ بالخاتم، یہ جو آگے لفظ کتابت کی غلطی ہے یہ نہیں ہونا چاہیے، بس صرف تختم زید یہ ہونا چاہیے۔ آگے دیکھیے بھئی، زید نے انگوٹھی پہنی۔ اس مثال میں فاعل نے ماخذ یعنی خاتم پہنا ہے۔ چوتھی خاصیت ہے تعمل بھئی، تعمل۔ تعمل، دیکھیے کتاب پر، اس کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو کام میں لانا، اور اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا ماخذ کو اس کام میں لانا جس کے لیے وہ بنا ہے، جیسے تدهن زید، زید نے تیل لگایا۔ زید نے تیل لگایا۔ دهن، دهن کس کو کہتے ہیں؟ تیل کو۔ تو اسی سے باب بنا لیا تدهن، اور کون سی صفت ہے اس میں؟ تعمل صفت ہے، جو چیز جس کام کے لیے بنی ہے اسی کے لیے اس کو استعمال کرنا۔ تدهن زید یعنی زید نے جسم پر، یعنی سر وغیرہ پر تیل لگایا۔ جیسے تدهن زید، زید نے تیل کام میں لایا یعنی جسم پہ ملا۔ تتراس خالد، عربی زبان میں ترَس، ت، ر، س، ت دو نقطوں والی، ترَس، یہ ڈھال کو کہتے ہیں بھئی، ڈھال، وہ جو جنگوں میں استعمال ہوتی ہے بھئی، ایک تلوار اور ڈھال بھئی۔ تلوار کے ذریعے وار کیا جاتا ہے تو ڈھال کے ذریعے اپنے آپ کو بچایا جاتا ہے۔ تو اسی ترَس سے فعل بنا لیا بھئی، تتراس خالد۔ کیا معنی؟ خالد ڈھال کو کام میں لایا، اور ڈھال کس لیے ہوتی ہے؟ اپنے آپ کو بچانے کے لیے، تو معنی ہوگا خالد نے ڈھال کے ذریعے اپنے آپ کو بچایا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ دیکھو کتاب پر، تتراس خالد، خالد نے ڈھال کو کام میں لایا یعنی ڈھال سے اپنی حفاظت کی۔ تخیم زید، بھئی خیمہ، خیمہ آپ جانتے ہیں وہ کپڑے کے گھر چھوٹا بنایا جاتا ہے، اور اسی سے باب بنا لیا تخیم زید۔ تو تخیم کا کیا معنی؟ خیمے کو کام میں لایا، یعنی خیمہ نصب کرنا، خیمہ لگانا۔ تخیم زید، زید نے خیمہ نصب کیا۔ تو یہ تعمل ہے بھئی، کسی چیز کو کام میں لانا، ماخذ کو کام میں لانا۔ اگلا خاصہ ہے کتاب پر دیکھیے اتخاذ۔ اس کے لغوی معنی ہیں پکڑنا، اختیار کرنا، اور بنانا۔ اصطلاح میں اس کے چار معنی آتے ہیں۔ چار معنی ہیں بھئی اتخاذ کے۔ اتخاذ کا لغوی معنی ہے پکڑنا کسی چیز کو۔ نمبر 1، پہلی صورت کیا ہے؟ دیکھیے کتاب پر، فاعل کا مفعول کو ماخذ بنانا، جیسے توسد زید الحجر۔ عربی میں وسادة کہتے ہیں تکیے کو بھئی، توجہ ہے؟ وسادة کسے کہتے ہیں؟ تکیے کو، آخر میں گول تا ہے۔ اسی سے باب بنا لیا توسد زید، زید نے تکیہ بنایا، الحجر، کس کو؟ پتھر کو۔ تو دیکھیے کتاب پر جیسے توسد زید الحجر، زید نے پتھر کو تکیہ بنایا۔ فاعل یعنی زید نے مفعول الحجر کو ماخذ وسادة تکیہ بنایا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ ایک صورت تھی۔ پہلی صورت کیا؟ فاعل جو ہے مفعول سے ماخذ بنا لے۔ زید نے دیکھو پتھر جو مفعول تھا اس سے کیا بنا لیا؟ ماخذ یعنی وسادہ بنا لیا، تکیہ بنا لیا۔ دوسری صورت دیکھیے کتاب میں، فاعل کا ماخذ بنانا، ایجاد کرنا، یعنی اس کو وجود دینا۔ فاعل کا ماخذ کو بنانا اور وجود دینا، پہلے ماخذ کا وجود نہیں تھا، فاعل نے اس کا وجود دے دیا۔ جیسے مثال آ رہی ہے، جیسے خیمہ، خیمہ، اور خیمہ ماخذ ہے۔ تخیم زید، کیا معنی؟ زید نے خیمہ بنایا۔ کپڑے وغیرہ سے کیا بنا لیا؟ خیمہ بنا لیا، دیکھا ماخذ کو وجود دے دیا۔ خیمے سے بنا ہے نا باب۔ تو جیسے کتاب پر دیکھیے، جیسے تخیمت الثوب، میں نے کپڑے کو خیمہ بنایا۔ فاعل نے ماخذ خیمہ ایجاد کیا۔ تو دیکھا اس کے اندر تخیم کے اندر صفتِ تعمل بھی ہے اور صفتِ اتخاذِ ماخذ بھی ہے، اس کے اندر تعمل والا خاصہ بھی ہے تخیم کے اندر، توجہ ہے؟ تخیم کے اندر تعمل والا خاصہ بھی ہے اور اتخاذ والا خاصہ بھی ہے کہ ماخذ کو بنانا، وجود دینا۔ تیسری صورت ہے اتخاذ کی دیکھیے، فاعل کا ماخذ کو اختیار کرنا، جیسے تجنب زید۔ یہ جنب سے ہے، جنب جانب کو کہتے ہیں، جانب۔ تجنب زید، کیا معنی؟ زید نے ایک جانب اختیار کی یعنی ایک طرف کو ہو گیا، ایک کنارے پر ہو گیا۔ کہتے ہیں فاعل کا ماخذ کو اختیار کرنا، جیسے تجنب زید، زید نے ایک جانب اختیار کی، کنارہ کش ہوا، ماخذ جنب ہے۔ نمبر 4، فاعل کا مفعول کو ماخذ میں لینا، پکڑنا، جیسے تابط زید الصبی۔ زید نے بچے کو بغل میں لیا۔ زید نے بچے کو بغل میں لیا۔ فاعل نے مفعول کو ماخذ ابط یعنی بغل میں لیا۔ بھئی دیکھو، ابط، ابط کہتے ہیں بغل کو۔ بغل کو، ہاتھ کے نیچے کا حصہ جو ہے۔ اور مثلاً آپ سبق کے لیے جاتے ہیں تو کتابوں کو اس طرح پکڑتے ہیں کہ ہاتھ کے نیچے اپنے سینے کے ساتھ ان کو دبا لیا۔ یہ بھی گویا ایک طرح لحاظ سے کس طرح ہے گویا کہ بغل میں لینے کی طرح۔ یا اسی طرح جب جیسے جب بچے کو اٹھاتے ہیں، بچے کو اٹھاتے ہیں تو عموماً کیا ہوتا ہے؟ مثلاً ایک پاؤں اس کا اٹھانے والے کے پیچھے ہے، ایک پاؤں آگے سینے کی طرف ہے، دیکھو کہاں اٹھایا ہوا ہے بچے کو؟ بغل میں اٹھایا ہوا ہے۔ صورت ذہن میں آ رہی ہے؟ تو یہ ہے، اس کے لیے پھر عربی میں ابط سے ہی فعل بنا لیا تابط، بغل میں کوئی چیز لینا۔ تابطت الکتاب، میں نے کتاب بغل میں اٹھائی، یوں ہاتھ کے ساتھ کسی کتاب کو بغل میں اٹھا لینا، تھام لینا، یا بچے کو کسی بغل میں اٹھا لینا، تابطت الصبی، میں نے بچے کو بغل میں اٹھایا۔ تو یہ سارے اتخاذ ہیں۔ دیکھو اتخاذ کی کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار۔ ایک کیا تھا؟ کہ فاعل جو ہے مفعول سے ماخذ بنا لے۔ مفعول سے کیا کر لے؟ ماخذ بنا لے، جیسے وسادة سے کیا بنا لیا؟ توسد زید الحجر۔ زید نے کیا کیا؟ پتھر کو تکیہ بنا لیا۔ تکیہ بنا لیا۔ یا جیسے توسد زید الکتاب، زید نے کتاب کو کیا بنا لیا؟ توسد زید الکتاب، زید نے کیا کیا؟ کتاب کو تکیہ بنا لیا، مثلاً لیٹنے لگا، کتاب کے اوپر ہی سر رکھ کر لیٹ گیا۔ یا توسد زید الحجر، زید نے کیا کیا؟ پتھر کو تکیہ بنا لیا۔ ہاں، یہ معنی نہیں کتاب کو تکیہ بنانا ٹھیک ہے، ویسے ایک مثال ذکر کر رہا ہوں، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور دوسری صورت کیا تھی؟ فاعل ماخذ کو کیا کر لے؟ وجود دے، جیسے تخیم زید الثوب، زید نے کپڑے سے کیا بنا لیا؟ خیمہ بنا لیا۔ یا تیسری کیا تھی؟ فاعل کا ماخذ کو اختیار کر لے، تجنب زید۔ زید نے کونے کو بنایا نہیں، جانب کو بنایا نہیں، بلکہ جانب کو اختیار کیا۔ اسی طرح تابط زید، زید نے بغل میں کسی چیز کو لے لیا، معنی سمجھ میں آ گیا۔ آگے دیکھیے بھئی، نمبر 6 ہے تدریج۔ تدریج کے لغوی معنی ہیں کسی کام کو آہستہ آہستہ کرنا۔ اصطلاحی معنی ہیں کسی کام کا بتدریج پایا جانا، خواہ اس کا یکدم پانا ممکن ہو یا نہ ہو، جیسے تجرع زید، زید نے پانی گھونٹ گھونٹ پیا۔ بھئی جرعة، توجہ ہے؟ جرعة کا معنی ہے گھونٹ بھئی، اور اسی سے باب بنا لیا تجرع زید، یعنی آہستہ آہستہ پانی پینا، گھونٹ گھونٹ پانی پینا۔ کوئی بھی چیز ہو، گھونٹ گھونٹ پینا۔ تجرع زید، زید نے پانی گھونٹ گھونٹ پیا۔ جبکہ پانی کا یکدم پینا ممکن ہے، دیکھو یکدم پینا بھی ممکن ہے، وہی گلاس پانی پینا ہے، وہ یکدم بھی پی سکتا ہے، اور چاہے تو گھونٹ گھونٹ پی لے۔ اور بعض اوقات ایک کام کو آہستہ آہستہ کیا جاتا ہے اور اکٹھا کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا، جیسے کوئی شخص کہتا ہے تحفظت القرآن، میں نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے حفظ کیا۔ اور قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے ہی یاد ہوتا ہے، یکدم سارا یاد، یاد نہیں ہوتا۔ دیکھیے آگے کتاب پر، اور تحفظت القرآن، میں نے قرآن کو بتدریج حفظ کیا، جس کا یکدم حفظ کرنا ممکن نہیں۔ نمبر 7 ہے تحول۔ تحول کے لغوی معنی ہیں پھِرنا۔ اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا عینِ ماخذ یا مثلِ ماخذ ہو جانا۔ تحول کا کیا معنی ہے؟ پھِرنا، پلٹنا، حالت کا بدل جانا۔ تو فاعل کیا بن جائے؟ خود ماخذ بن جائے یا ماخذ جیسا بن جائے۔ جیسے مثلاً آپ کہتے ہیں تنصر الرجل، تنصر الرجل۔ یاد رکھو، عربی زبان میں عیسائی جو ہے نا، عیسائی، اس کو کہتے ہیں نصرانی، ص کے ساتھ، نصرانی۔ اسی سے باب بنا لیا تنصر الرجل، وہ آدمی کیا بن گیا؟ نصرانی یعنی عیسائی ہو گیا، عیسائی بن گیا۔ تو دیکھو، ماخذ بن گیا، وہ آدمی فاعل خود عینِ ماخذ بن گیا۔ اور کبھی ماخذ تو نہیں بنتا، ماخذ جیسا بن جاتا ہے، جیسے کوئی آدمی بہت زیادہ علم اس کے پاس ہو تو کہتے ہیں تبحر زید فی العلم، زید علم کے اندر کس کی طرح ہو گیا؟ تبحر کس سے، لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے، کس سے بنا ہے یہ؟ بحر، اور بحر سمندر کو کہتے ہیں، دریا نہیں، سمندر کو۔ تبحر زید، زید سمندر جیسا ہو گیا فی العلم، کس میں؟ علم کے اندر۔ جیسے سمندر بے انتہا وسیع ہے، گویا اس کے پاس بھی علم بہت زیادہ ہے۔ یا سخاوت میں بھی اسی طرح عربی میں کہتے ہیں، کوئی شخص بہت زیادہ سخی ہو تو کہتے ہیں مثلاً تبحر زید، زید سخاوت میں سمندر کی طرح ہے، تبحر زید فی السخاء، زید سخاوت میں سمندر کی طرح ہے۔ جیسے سمندر دیکھو، سمندر سے لوگ مچھلیاں پکڑتے ہیں، موتی نکالتے ہیں، اور سینکڑوں سال سے، ہزاروں سال سے سلسلہ چل رہا ہے، ان مچھلیوں میں، موتیوں وغیرہ میں اور خزانہ میں اس کے کوئی کمی نہیں آئی۔ تو جیسے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آتی تو کوئی بہت بڑا سخی ہو تو اس کو بھی کہتے ہیں تبحر فلان، وہ سمندر کی طرح ہے، یعنی ہر ایک اس کی سخاوت ہر ایک تک پہنچتی ہے اور اس کے اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی۔ دیکھیے کتاب پر، تحول کے لغوی معنی ہیں پھِرنا، اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا عین ماخذ یہ ایک صورت ہے۔ فاعل کیا بن جائے؟ عین ماخذ یا مثل ماخذ ہو جانا، یہ دوسری صورت ہے۔ جیسے تنصر الرجل (وہ آدمی نصرانی ہو گیا)، فاعل الرجل عین ماخذ (یعنی نصرانی) ہو گیا۔ اور تبحر زید فی العلم، زید وسعت علم میں مثل دریا ہو گیا۔ دریا نہیں سمندر ہونا چاہیے، کیونکہ بحر سمندر کو کہتے ہیں۔ زید وسعت علم میں مثل بحر ہو گیا، مثل سمندر ہو گیا۔ فاعل مثل ماخذ (بحر) کی طرح ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ زید سمندر نہیں بنا، سمندر جیسا ہو گیا ہے۔ اور اوپر کیا تھا؟ تنصر الرجل، آدمی کیا ہو گیا تھا؟ نصرانی بن گیا تھا، نصرانی جیسا نہیں ہوا تھا، نصرانی بن گیا تھا۔ تو یہ دو الگ الگ صورتیں ہیں بھئی۔ آٹھواں خاصہ ہے موافقت مجرد و افعال و تفعیل و استفعال، یعنی باب تفعل کا ان ابواب کے معنی میں استعمال ہونا۔ نمبر ایک: موافقت مجرد کی مثال۔ بھئی کبھی کبھار باب تفعل ثلاثی مجرد کا ہم معنی بھی آتا ہے، جیسے اس کی مثال ہے تقبل زید بمعنی قبل۔ قبل زید کا معنی بھی "زید نے قبول کیا" اور تقبل زید کا بھی کیا معنی؟ "زید نے قبول کیا۔" نمبر دو: موافقت افعال کی مثال، تبصر بمعنی ابصر۔ دیکھو ابصر کا معنی ہے "دیکھنا" (ابصر)۔ اور تبصر کا بھی یہی معنی ہے۔ تو باب تفعل کس کے ہم معنی ہو گیا؟ باب افعال کے۔ یہ معنی ہے موافقت افعال کی مثال، تبصر بمعنی ابصر (اس نے دیکھا)۔ نمبر تین: موافقت تفعیل کی مثال، جیسے تکذبہ بمعنی کذبہ (اس کو جھٹلایا)۔ باب تفعیل بھئی، کذب کا کیا معنی تھا؟ جھٹلانا، جھوٹ کی کسی کی طرف نسبت کرنا۔ تو تکذب کا بھی یہی معنی ہے۔ تو باب تفعل کس کا ہم معنی ہوا؟ باب تفعیل کا۔ نمبر چار ہے بھئی: موافقت استفعال کی مثال، تحوج بمعنی استحوج (اس نے حاجت طلب کی)۔ بھئی استحوج باب استفعال ہے، اس کا معنی ہے حاجت طلب کرنا، یعنی اپنی ضرورت کسی سے مانگنا۔ ضرورت کسی سے مانگنا، کسی چیز کی ضرورت ہے وہ چیز کسی سے مانگنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استحوج۔ اور باب تفعل کے اندر تحوج کا بھی یہی معنی ہے۔ تو باب تفعل کس کا ہم معنی ہو گیا؟ باب استفعال کا بھئی۔ یہ معنی ہے تحوج بمعنی استحوج (اس نے حاجت طلب کی، یعنی اپنی ضرورت مانگی اس سے)۔ نمبر نو، نواں خاصہ ہے ابتداء۔ اس کے معنی گزر چکے ہیں۔ ابتداء کسے کہتے ہیں بھئی؟ کہ وہادہ ثلاثی مجرد سے استعمال ہی نہیں ہوا، سیدھا مزید فیہ میں استعمال ہوا۔ ایک صورت ہے یہ ابتداء کی۔ دوسری صورت کیا ہے ابتداء کی؟ کہ ثلاثی مجرد میں اس کا اور معنی ہو اور یہاں پر آ کر اس کا اور معنی (نیا معنی) ہو جائے، بالکل ہی الگ بھئی۔ نمبر نو دیکھیے بھئی، ابتداء۔ اس کے معنی گزر چکے ہیں۔ مثال: تویل زید (زید نے کہا: یا ویلتا! ہائے افسوس، ہائے افسوس)۔ بھئی عرب افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں؟ یا ویلتا! ہائے افسوس، ہائے افسوس۔ تو یہ افسوس کو آواز دے رہے ہیں، ندا دے رہے ہیں۔ تو یہ اظہار غم کا طریقہ ہے، کس کا طریقہ ہے؟ اظہار غم کا۔ کوئی غم میں، دکھ میں مبتلا ہو، کسی بات پر افسوس ہو تو عربی میں کہتا ہے: یا ویلتا! ہائے افسوس। اب اسی سے باب بنا لیا: تویل زید۔ کیا معنی؟ زید نے کہا: ہائے افسوس! تو یا ویلتا سے کیا بنا لیا؟ تویل بھئی۔ اور یہ مادہ مجرد میں استعمال نہیں، تو اسی سے براہ راست کہاں استعمال کر لیا؟ باب تفعل۔ مجرد میں دیکھیے کتاب پر، مجرد میں یہ مادہ سرے سے استعمال ہی نہیں ہے۔ اور تکلم زید (زید نے بات کی)، جبکہ اس مادہ کا مجرد کلم (زخمی کرنے کے معنی میں) مستعمل ہے۔ یہ دوسری صورت آ گئی ابتداء کی، کہ مجرد میں ہے تو سہی لیکن معنی کچھ اور ہے، اور مزید فیہ میں معنی کچھ اور। جیسے کلم یکلم، اس کا معنی ہوتا ہے "زخمی کرنا" ثلاثی مجرد میں۔ لیکن اسی کو باب تفعل میں لے آئے: تکلم۔ اب تکلم کا معنی زخمی کرنا نہیں، تکلم کا معنی ہے "بات کرنا، گفتگو کرنا"۔ دیکھو بالکل ایک نیا معنی آ گیا۔ یہ ہے ابتداء۔ آگے دیکھیے، نمبر دس: صیرورت کے معنی ہیں فاعل کا صاحب ماخذ ہونا، جیسے تمول زید۔ بھئی مال، مال سے ہی باب بنا لیا: تمول زید۔ کیا معنی؟ زید مال والا ہو گیا، یعنی ماخذ والا ہو گیا۔ زید کیا ہوا؟ تمول کس سے بنا ہے؟ ماخذ کیا ہے؟ مال۔ تو زید کیا ہوا؟ تمول کا کیا معنی؟ ماخذ والا یعنی مال والا ہو گیا۔ جیسے تمول زید (زید صاحب مال یعنی مالدار ہو گیا)، تو ماخذ مال ہے۔ یہ تھا صیرورت (صیرورت ہو جانا)۔ نمبر گیارہ: مطاوعت تفعیل۔ گیارہواں خاصہ بھئی مطاوعت تفعیل۔ توجہ ہے؟ یعنی باب تفعل کا باب تفعیل کے بعد اس غرض سے آنا کہ مفعول نے پہلے فعل کے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ جیسے دیکھیے بھئی: قطعتہ (میں نے اس کو کاٹا، ٹکڑے ٹکڑے کیا)۔ اب پتہ نہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوا یا نہیں، تو آگے آ گیا: تقطع (وہ کیا ہو گیا؟ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا)۔ دیکھا؟ یہ فاعل کے اثر کو کس نے ظاہر کیا؟ باب تفعل نے۔ اور پہلا فعل کس باب سے ہے؟ باب تفعیل سے۔ تو یہ باب تفعیل کی مطاوعت کے لیے کس کو لاتے ہیں؟ باب تفعل کو لاتے ہیں۔ کتاب پر دیکھیے، جیسے قطعتہ فتقطع (میں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا، پس وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا)۔ یا جیسے ہذبتہ فتہذب (میں نے اس کو تہذیب سکھائی، پس وہ مہذب ہو گیا)۔ ہذبتہ باب تفعیل ہے۔ میں نے اس کو تہذیب سکھائی۔ تہذیب کا معنی ہوتا ہے، یہ بھئی درخت ہوتے ہیں، پودے، ہر سال یہ باغ وغیرہ میں سال میں ان کی شاخیں ادھر ادھر جو نکل آتی ہیں، ان کے ہر کچھ عرصے کے بعد ان کو برابر کرتے ہیں، ٹھیک کرتے ہیں، کاٹتے ہیں بھئی، اس کو کہتے ہیں تہذیب۔ زائد چیزوں کو کاٹ دینا، نکال دینا زائد شاخوں کو۔ یا یوں کہو آسان لفظوں میں: اصلاح کرنا، کسی چیز کی۔ تو میں نے کہا: ہذبت زیداً (میں نے زید کی اصلاح کی)۔ اب پتہ نہیں اصلاح ہوئی یا نہیں ہوئی، تو آگے میں باب تفعل لاؤں گا: تہذب زید (تو زید کیا ہوا؟ مہذب ہو گیا یعنی اصلاح والا ہو گیا)۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ یعنی اس کی اصلاح ہو گئی۔ تو یہ مطاوعت تفعیل ہے۔ یہاں تک تمام باتیں سمجھ میں آ گئیں؟ آگے دیکھیے بھئی، خاصیات باب مفاعلہ۔ اس باب کی چار خاصیتیں ہیں۔ بھئی میں کئی دفعہ بتلا چکا ہوں، یہ جتنی خاصیتیں بیان کر رہے ہیں یہی نہیں ہیں، اور بھی خاصیات ہیں اور علماء نے ذکر کی ہیں کتابوں میں، لیکن یہ ابتدائی درجے کے طلباء ہیں تو ان کے لیے کچھ موٹی موٹی خاصیات ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس باب کی چار خاصیتیں ہیں: نمبر ایک مشارکت، نمبر دو تصہیر، نمبر تین ابتداء، نمبر چار موافقت مجرد و افعال و تفعیل و تفاعل۔ نمبر ایک: مشارکت۔ اس کے لغوی معنی ہیں باہم شریک ہونا، اور اصطلاحی معنی ہیں دو شخصوں کا کسی کام میں اس طور پر شریک ہونا کہ ہر ایک معنی کے اعتبار سے فاعل بھی ہو اور مفعول بھی، مگر لفظوں میں ایک فاعل اور دوسرا مفعول ہو گا۔ جیسے قاتل زید عمراً (زید اور عمر نے باہم ایک دوسرے سے جنگ کی)۔ توجہ ہے؟ دیکھو قاتل زید عمراً، قاتل کا معنی جھگڑا کرنا بھئی، جنگ کرنا۔ اب قاتل زید عمراً، لفظوں پہ غور کرو: زید فاعل ہے اور عمراً مفعول ہے۔ لیکن فعل دونوں طرف سے ہے، یعنی جنگ زید نے بھی کی ہے اور جنگ عمر نے بھی کی ہے۔ اور دونوں معنی کے اعتبار سے مفعول بھی ہیں: زید نے عمر سے جنگ کی ہے تو عمر نے زید سے جنگ کی ہے۔ یہ ہے مشارکت، دو افراد کا، دو چیزوں کا کسی فعل کے اندر شریک ہونا۔ یہ کیا ہے؟ مشارکت۔ اس کے لیے کون سا باب استعمال کرتے ہیں؟ باب مفاعلہ۔ اور اسی طرح باب تفاعل بھی، وہ بھی آگے آ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: دو شخصوں کا کسی کام میں اس طور پر شریک ہونا کہ ہر ایک معنی کے اعتبار سے فاعل بھی ہو اور مفعول بھی، مگر لفظوں میں ایک فاعل اور دوسرا مفعول ہو گا۔ بھئی لفظوں میں ایک فاعل ہو گا، دوسرا مفعول۔ کیونکہ آگے باب تفاعل آ رہا ہے، وہاں دونوں فاعل ہوں گے لفظوں میں: تضارب زید و عمرو۔ تضارب زید و عمرو، اور یہاں پر؟ یہاں قاتل زید عمراً، یہاں ایک فاعل اور ایک مفعول। دیکھیے کتاب پر: زید اور عمر نے ایک دوسرے سے جنگ کی۔ زید اور عمر جنگ میں باہم شریک ہیں، ہر ایک فاعل بھی ہے اور مفعول بھی، لیکن لفظ میں زید کو فاعل اور عمر کو مفعول ظاہر کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، باب مفاعلہ میں یہ ضروری نہیں ہے کہ فعل ہمیشہ دونوں جانب سے ہو۔ ہاں عموماً فعل کیا ہو گا؟ دونوں جانب سے ہو گا۔ ہمیشہ نہیں، ہمیشہ نہیں۔ کبھی فعل ایک جانب سے بھی پایا جا سکتا ہے، جیسے یخادعون اللہ (وہ لوگ اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں)۔ منافقین کیا کرتے ہیں؟ اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اب یہ دیکھو، ایک جانب سے ہے۔ یہ ایک جانب سے فعل ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یا جیسے آپ کہتے ہیں عربی میں: عاقبت اللص۔ عاقب یعاقب معاقبۃ باب مفاعلہ ہے، اور عاقب کے معنی ہیں سزا دینا۔ عاقبت اللص (لص، لام اور صاد مشدد ہے، لص۔ یہ عربی میں چور کو کہتے ہیں)۔ عاقبت اللص (میں نے اس چور کو سزا دی)۔ اب یہ ایک جانب سے فعل ہے، یہ نہ سمجھنا کہ میں نے اسے سزا دی اور اس نے مجھے سزا دی، نہیں۔ ایک جانب سے فعل ہے بھئی۔ تو مشارکت اس باب کا خاصہ ہے، لیکن یہ نہیں کہ ہر لفظ اس باب سے جو بھی لفظ آئے آپ اس میں مشارکت تلاش کریں، نہیں ہر ایک میں نہیں۔ ہر ایک میں نہیں ہو گا۔ آگے دیکھیے، نمبر دو: تصہیر بھئی، یعنی فاعل کا مفعول کو صاحب ماخذ بنانا، جیسے عافاک اللہ۔ بھئی دیکھیے عافیت، عافیت کہتے ہیں سلامتی کو۔ عافیت کسے کہتے ہیں؟ سلامتی کو بھئی، یعنی ہر طرح کے امراض سے بھی سلامتی ہو اور آفتوں سے بھی سلامتی ہو، تو اس کو کہتے ہیں عافیت بھئی، عافیت۔ اسی سے باب بنا لیا: عافی یعافی معافاۃ، اور اس میں ہے تصہیر۔ کیا معنی؟ توجہ ہے؟ کیا معنی تصہیر؟ کر دینا، بنا دینا۔ دیکھو لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے، کیا معنی؟ دوسرے کو ماخذ والا بنا دینا۔ عافیت ہے نا ماخذ، تو تصہیر کا کیا معنی؟ دوسرے کو بنانا، دوسرے کو کر دینا۔ تو عافیت سے کیا معنی ہوا؟ عافی یعافی معافاۃ (دوسرے کو عافیت والا بنانا)۔ دیکھیے کتاب پر، یعنی فاعل کا مفعول کو صاحب ماخذ بنانا، جیسے عافاک اللہ (ای جعلک اللہ ذا عافیۃ، اللہ تجھے عافیت والا بنا دے)۔ دعائیہ جملہ ہے، لفظ اللہ فاعل ہے، اور عافیت ماخذ ہے، کاف ضمیر خطاب مفعول ہے۔ آگے دیکھیے، نمبر تین ہے ابتداء: وہ مادہ جو مجرد میں استعمال نہ ہو۔ اس کی مثال: تاخم زید (زید نے اپنی زمین کی حد دوسرے کی زمین کی حد سے ملا دی)۔ زید نے اپنی زمین کی حد دوسرے کی زمین کی حد کے ساتھ ملادی، جوڑ دیا۔ مصدر اس کا المتاخمۃ ہے، مجرد میں یہ مادہ مستعمل نہیں۔ مجرد میں یہ مادہ مستعمل نہیں بھئی۔ مادہ کیا ہے؟ متاخمۃ، مفاعلۃ، بناؤ بھئی: تاخم (ت ا خ م)، مجرد میں یہ استعمال نہیں۔ یہ تو ایک صورت تھی، کہ مجرد میں ایک باب ایک مادہ استعمال ہی نہیں اور سیدھا کہاں استعمال کر لیا جائے؟ ثلاثی مزید میں۔ اور ابتداء کی دوسری صورت کیا تھی؟ کہ مجرد میں معنی اور ہو اور مزید میں معنی اور ہو۔ دیکھیے آگے، جس مادہ کا مجرد کسی اور معنی میں مستعمل ہو اس کی مثال: قاسا زید ہذہ الشدۃ۔ قاس یواسم مقاساۃ کا معنی ہے برداشت کرنا بھائی। تو قاسا زید (زید نے برداشت کی) ہذہ الشدۃ (اس شدت اور تکلیف کو، زید نے اس تکلیف کا رنج برداشت کیا)۔ رنج کہتے ہیں دکھ غم بھئی۔ جبکہ اس کا مجرد قسوۃ (یہ باب نصر سے ہے، قسا يقسو قسوۃ) بمعنی سختی دل مستعمل ہے۔ اس کا معنی ہے سخت دل ہونا۔ قسا يقسو قسوۃ کا کیا معنی؟ سخت دل ہونا۔ تو مجرد میں اس کا معنی ہے دل کا سخت ہونا، اور مزید فیہ میں اس کا کیا معنی؟ قاس یواسم مقاساۃ کا معنی "برداشت کرنا، تکلیف برداشت کرنا"۔ تو الگ معنی ہے۔ آگے دیکھیے، نمبر چار: موافقت مجرد و افعال و تفعیل و تفاعل، یعنی باب مفاعلہ کا ان ابواب کے موافق اور ہم معنی ہونا۔ نمبر ایک: موافقت مجرد کی مثال، سافر زید بمعنی سفر زید (زید نے سفر کیا)۔ بھئی ثلاثی مجرد میں کہتے ہیں سفر (اس نے سفر کیا)، اور باب مفاعلہ میں لے جاؤ سافر، اس کا بھی وہی معنی ہے۔ تو سفر کا بھی وہی معنی اور سافر کا بھی وہی معنی: سفر کرنا۔ یا دوسری مثال لے لو: جہد اور جاہد۔ جہد کا معنی بھی کوشش کرنا، اور جاہد کا معنی بھی کوشش کرنا۔ تو دیکھو مفاعلہ کس کا ہم معنی ہوا؟ ثلاثی مجرد کا۔ آگے دیکھیے، نمبر دو: موافقت افعال کی مثال، باعدتہ بمعنی ابعدتہ (میں نے اس کو دور کیا)۔ بھئی باب افعال میں دور کرنے کے لیے کہتے ہیں ابعد يبعد ابحاداً، کسی کو دور کرنا ہو۔ اور باب مفاعلہ میں بھی باعد يباعد مباعدۃ کے یہی معنی ہیں بھئی۔ تو باب مفاعلہ کس کا ہم معنی ہوا؟ باب افعال کا۔ یہ معنی ہے موافقت افعال کی مثال: باعدتہ بمعنی ابعدتہ (میں نے اس کو دور کیا)۔ یا دوسری مثال دیکھ لیں: شابہ اور اشبہ۔ اشبہ کے معنی کسی کے مشابہ ہونا (باب افعال ہے: اشبہ)، اور شابہ کے بھی وہی معنی ہیں کسی کے مشابہ ہونا۔ اشبہ زید عمراً (زید کس کے مشابہ ہے؟ عمر کے)، اور شابہ زید عمراً (اس کا بھی وہی معنی: زید کس کے مشابہ ہوا؟ عمر کے مشابہ ہوا)، شابہ اور اشبہ۔ آگے دیکھیے، نمبر تین: موافقت تفاعل کی مثال، شاتم زید عمراً بمعنی تشاتما (زید اور عمر نے باہم گالم گلوچ کی)۔ بھئی باب تفاعل میں کہتے ہیں: تشاتم زید و عمرو। کیا معنی؟ شتم، شتم گالی کو کہتے ہیں۔ تشاتم زید و عمرو (زید اور عمر نے ایک دوسرے کو گالی دی)۔ باب مفاعلہ کے اندر بھی یہی معنی ہے: شاتم زید عمراً (زید اور عمر نے ایک دوسرے کو گالی دی)۔ آگے دیکھیے، نمبر چار: موافقت تفعیل کی مثال، ضاعفتہ بمعنی ضعفتہ (میں نے دگنا کیا)۔ ضاعف کا معنی بھی کسی چیز کو دگنا کرنا، اور ضعف کا معنی بھی دگنا کرنا۔ تو باب مفاعلہ کس کے معنی میں ہوا؟ باب تفعیل (یعنی دونوں کا ایک ہی معنی ہے بھئی)۔ یا دوسری مثال ہے: فاہم اور فہم۔ فہم کا معنی سمجھانا (باب تفعیل ہے)، اور فاہم کا معنی بھی سمجھانا۔ تعلابا بمعنیِ افعال، نمبر پانچ موافقتِ مجرد و افعال۔ نمبر ایک ابتدا، جیسے تداحاک بمعنی تداخل یا یوں کہو جیسے تداحک بمعنی تداخل۔ گھول مل جانا۔ باہم ایک دوسرے میں داخل ہو جانا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو تداخل کے معنی میں ہے کیا؟ تداحک اور آگے لکھا ہے اس کا مجرد مستعمل نہیں۔ یہ تداحک کا مجرد یعنی یہ ثلاثی مجرد میں نہیں آیا، یہ مادہ براہ راست کس میں استعمال ہوا ہے؟ مزید کے اندر تو یہ ہے ابتدا۔ ਘول مل جانا، آپس میں ایک دوسرے میں داخل ہو جانا۔ اور تبارک بمعنی برکت ہوا، اس کا مجرد بروک ہے۔ بھئی بارکا یبروک بروکاً کا معنی ہوتا ہے اونٹ کا بیٹھنا۔ بارکا یبروک بروکاً، نصرہ ہے بھئی نصرہ۔ تو ثلاثی مجرد کے ثلاثی مجرد میں اس کا معنی ہوا اونٹ کا بیٹھنا۔ اور اسی کو مزید فی میں لے گئے تبارک تو اس کا معنی کیا ہے؟ بابرکت ہونا۔ دیکھو الگ، نیا معنی آگیا۔ تو یہ ہے ابتدا۔ دوسرا خاصہ دیکھیے بھئی تشارک۔ تشارک بمعنی مشارکت ہے جو باب مفاععلہ کی خاصیت ہے۔ البتہ لفظ کے اعتبار سے مشارکت اور تشارک میں یہ فرق ہے کہ مشارکت میں ایک شریک فاعل ہوتا ہے اور دوسرا مفعول، جب کہ تشارک میں ہر ایک فاعل ہوتا ہے، مفعول نہیں ہوتا۔ جیسے تشاتم زید و عمر۔ زید اور عمر نے باہم گالم گلوچ کی۔ یہاں معنی میں ہر ایک زید اور عمر فاعل بھی ہیں اور مفعول بھی، لیکن لفظوں میں دونوں فاعل ہیں۔ باب مفاععلہ میں کیا ہوتا تھا؟ ایک لفظوں میں فاعل ہوتا تھا اور ایک لفظوں میں مفعول، لیکن باب تفاعل میں یہ تشارک ہے اور ایک ہے مشارکت اور ایک ہے تشارک۔ دونوں میں فرق کیا بتلایا؟ کہ مشارکت میں دونوں فاعل بھی ہیں اور دونوں مفعول۔ صرف فاعل یا صرف مفعول نہیں ہوتے۔ جب کہ تشارک میں جس طرح لفظ کے اعتبار سے دونوں فاعل فاعل مرفوع ہوتے ہیں نہ کہ مفعول بہی، اسی طرح معنی میں دونوں فاعل ہوتے ہیں، جیسے ترفع زید و عمرو حجرا۔ زید اور عمر نے مل کر ایک پتھر اٹھایا۔ بھئی دیکھیے! ادھر دیکھیے! مشارکت میں ایک لفظوں میں فاعل ہے اور دوسرا مفعول۔ اور معنی کے اعتبار سے دونوں فاعل بھی ہیں اور دونوں مفعول بھی۔ لیکن تشارک میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوگا کہ دونوں کیا ہوں؟ فاعل بھی ہوں اور مفعول۔ کبھی ہوں گے اور کبھی ایسا بھی ہوگا کہ دونوں مل کر کوئی کام کرتے ہیں۔ جیسے ترفع زید و عمراً شیئاً حجراً۔ زید اور عمر نے مل کر کیا کیا؟ پتھر کو اٹھایا۔ اب دیکھو دونوں فاعل ہیں یہاں اور مفعول پتھر ہے، دونوں میں سے کوئی بھی مفعول نہیں ہے۔ حالانکہ مشارکت میں کیا تھا؟ ایک فاعل ہوتا تو مفعول بھی وہی ہوتا تھا اور دوسرا مفعول ہے تو فاعل بھی وہی ہوتا تھا، لیکن یہاں ایک تیسری چیز مفعول آگئی، دونوں فاعل ہیں، مفعول نہیں ہیں بھئی۔ आगे देखिए किताब पर भाई! زید اور عمر دونوں سے صرف صدور فعل ہوا، دونوں پر فعل واقع نہیں ہوا، وقوعِ فعل مفعول پر ہوتا ہے۔ اس معنی میں تفاعل کم استعمال ہوتا ہے۔ فرق سمجھ میں آگیا؟ آگے دیکھیے نمبر تین ہے تخیل بھئی۔ اس کے لغوی معنی ہیں وہم میں ڈالنا، یعنی خیال میں ڈالنا۔ تخیل نام سے ہی پتہ چل رہا ہے دوسرے کے خیال میں ڈالنا، وہم میں ڈالنا۔ آگے دیکھیے اصطلاحی معنی ہیں۔ فاعل کا بناوٹی طور پر خود کو ماخذ کے ساتھ متصف دکھانا۔ بھئی ابھی ایک خاصہ پڑھا تھا بتکلف، کیا کرنا؟ بتکلف ایک چیز کے ساتھ اپنے آپ کو متصف ظاہر کرنا۔ یہ تخیل بھی اسی طرح ہے۔ اس میں بھی بتکلف ہوتا ہے، دکھاوا ہوتا ہے، جھوٹ موٹھ ہوتا ہے۔ جیسے وہاں کیا تھا تمرّض زید۔ زید بتکلف مریض بنا۔ مریض تھا نہیں، لیکن دکھایا کس کی طرح اس نے اپنے آپ کو؟ مریض کی طرح۔ یا تشجّع زید۔ زید شجاع تھا نہیں، لیکن بناوٹ کی اپنے آپ کو کس طرح ظاہر کیا؟ شجاع۔ یا تقوّف زید۔ زید کوفہ کا نہیں تھا، لیکن اس نے صورت کس جیسی اختیار کی؟ کوفہ والوں جیسی بتکلف اپنے آپ کو کوفہ والوں جیسا بنایا یا بتکلف اپنے آپ کی کوفہ والوں کی طرف نسبت کی، جھوٹ موٹھ کی۔ بناوٹ کی۔ دکھلاوا کیا۔ تخیل بھی اسی طرح ہے بھئی۔ اس میں بھی بناوٹ ہے اور جھوٹ موٹھ ہے بھئی۔ دوسرے کے خیال میں ایک بات ڈالنا۔ جیسے تمرّض زید۔ کیا معنی؟ زید نے خود کو مریض ظاہر کیا، دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو کیا دکھایا؟ کہ میں مریض ہوں، حالانکہ وہ مریض نہیں تھا۔ یا جیسے تجاہل زید۔ کیا معنی؟ زید نے اپنے آپ کو جاہل ظاہر کیا کہ مجھے تو اس بات کا پتہ ہی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو اس میں فرق کیا ہے؟ تو علماء فرماتے ہیں کہ ایک ہے تکلف، ایک ہے تخیل۔ دونوں میں بناوٹ ہے، دونوں میں دکھاوا ہے، لیکن فرق یہ ہے، توجہ ہے؟ فرق یہ ہے کہ تکلف کے اندر جس چیز، جس صفت کو اپنے اندر ظاہر کر رہا ہے، جس صفت کے ساتھ اپنے آپ کو متصف دکھا رہا ہے، وہ صفت مطلوب بھی ہوگی۔ کیا ہوگی؟ مطلوب بھی ہوگی، پسندیدہ ہوگی، اچھی ہوگی۔ اور تخیل کے اندر جس صفت کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کر رہا ہے اور دکھلا رہا ہے، وہ مطلوب اور پسندیدہ نہیں۔ جیسے تمرّض زید۔ اب کس اپنے آپ کو کیا ظاہر کیا؟ مریض۔ حالانکہ مرض پسندیدہ نہیں، مطلوب نہیں۔ یا تجاہل زید۔ زید نے اپنے آپ کو بتکلف زید نے اپنے آپ کو کیا ظاہر کیا؟ جاہل۔ حالانکہ جہالت یہ تو پسندیدہ نہیں، مطلوب نہیں۔ جب کہ وہاں پر تکلف کے اندر وہ صفت پسندیدہ اور مطلوب ہوتی ہے۔ جیسے تشجّع زید۔ زید نے بتکلف اپنے آپ کو کیا بت دکھایا؟ شجاع۔ دیکھو شجاعت پسندیدہ ہے، مطلوب ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ یا تقوّف بتکلف اپنے آپ کو کیا بت دکھایا؟ کوفہ والا دکھایا۔ دیکھو کوفہ والا ہونا معلوم ہو، اس کو مطلوب ہے، اس کو پسندیدہ۔ لیکن یہ اکثری ہے، کلی نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جیسے تمرّض زید۔ زید نے بتکلف اپنے آپ کو مریض بنایا، حالانکہ مرض پسندیدہ نہیں۔ تو لیکن بہرحال فرق، عمومی فرق یہ ہے عام طور پر کہ تکلف کے اندر جس صفت کے ساتھ اپنے آپ کو متصف ظاہر کرے گا، وہ مطلوب ہوگی، پسندیدہ ہوگی اور تخیل کے اندر جس صفت کے ساتھ اپنے آپ کو متصف ظاہر کرے گا، وہ پسندیدہ نہیں ہوگی، مطلوب نہیں ہوگی۔ فرق سمجھ میں آگیا۔ تو کہتے ہیں نمبر تین تخیل، اس کے لغوی معنی ہیں وہم میں ڈالنا۔ اصطلاحی معنی ہے فاعل کا بناوٹی طور پر خود کو ماخذ کے ساتھ متصف دکھانا، حالانکہ فاعل نہ واقع میں ماخذ سے متصف ہو اور نہ ہی فاعل کو ماخذ کا حصول مطلوب ہو۔ جیسے تمرّض زید۔ زید نے خود کو بیمار ظاہر کیا، حالانکہ وہ بیمار نہیں ہے۔ یا اور اس کی مثال جیسے تعارَج زید۔ عرج لنگڑا ہونا بھئی۔ اعرج لنگڑے کو کہتے ہیں؛ تو اسی عرج سے باب ہے کیا؟ تعارَج۔ باب زید نے کیا کیا؟ اپنے آپ کو لنگڑا ظاہر کیا۔ آگے دیکھیے نمبر چار، مطاوعتِ مفاعلہ بمعنیِ افعال۔ دیکھیے بھئی، نمبر چار کیا ہے؟ مطاوعتِ مفاعلہ۔ ادھر دیکھیے۔ مطاوعتِ مفاعلہ، کیا معنی؟ بابِ تفاعل کس کے بعد آیا؟ مفاعلہ کے بعد۔ کس لیے؟ اس کے اثر کو ظاہر کرنے کے لیے۔ جیسے پیچھے آیا تھا۔ کیا آیا تھا؟ قطّعت الثوب فقطّع۔ میں نے کپڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کیے تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ جیسے آیا تھا قطّعته فقطّع۔ میں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ تو وہ مطاوعت میں فاعل کے اثر کو ظاہر کرتا ہے اباد والا فعل۔ یہاں کیا آیا دیکھو؟ نمبر چار کیا ہے؟ باب تفاعل کا خاصہ، مطاوعتِ مفاعلہ۔ توجہ ہے؟ یعنی پہلے کون سا باب آئے گا؟ بابِ مفاعلہ۔ اس کے بعد کون سا باب آئے گا؟ یہ خاصیات کس کی پڑھ رہے ہیں؟ تفاعل کی۔ اس کے بعد تفاعل آئے گا۔ تو مطاوعت کرے گا کس کی؟ توجہ ہے؟ مطاوعت میں کیا ہوتا ہے؟ دو فعل ذکر ہوتے ہیں۔ پہلے ایک فعل ذکر کیا، پھر دوسرے فعل نے آکر بتلایا کہ مفعول نے اثر کو کیا کر لیا ہے؟ قبول کر لیا ہے۔ تو مطاوعتِ مفاعلہ یعنی بابِ تفاعل کس کی مطاوعت کے لیے آتا ہے؟ مفاعلہ۔ یعنی پہلا فعل کس کا ہوگا؟ بابِ مفاعلہ اور دوسرا فعل کس کا ہوگا؟ بابِ تفاعل کا۔ وہ بتلائے گا کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ لیکن یاد رکھو یہ جو پہلے بابِ مفاعلہ آیا یہ بابِ افعال کے معنی میں ہونا چاہیے۔ کس معنی میں؟ ہے تو مفاعلہ لیکن معنی میں کس کے ہے؟ بابِ افعال کے تو پھر اس کے لیے کیا آئے گا؟ اس کی مطاوعت کے لیے بابِ تفاعل آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے پھر کتاب پر مطاوعتِ مفاعلہ بمعنیِ افعال بھئی۔ بابِ تفاعل کا بابِ مفاعلہ جو افعال کے ہم معنی ہو کہ بات اس غرض سے آنا کہ بات اس غرض سے آنا کہ مفعول نے پہلے فعل کے اثر کو قبول کیا ہے۔ جیسے باعدته فتباعد۔ میں نے اس کو دور کیا پس وہ دور ہو گیا۔ یہاں تباعد تفاعل ایسے باعد مفاعلہ کے مطاویع ہے جو ابعد یعنی افعال کے ہم معنی ہے۔ کیا معنی؟ یعنی یہ پھر نظر رکھو۔ باعدته فتباعد۔ مطاوعت کے لیے فتباعد آیا، بابِ تفاعل آیا۔ کس کی مطاوعت کے لیے آیا؟ باعدتو یعنی کون سا باب ہے؟ مفاعلہ ہے لیکن یہ مفاعلہ کس معنی میں ہے؟ افعال یعنی ابعد کے معنی میں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے نمبر پانچ، موافقتِ مجرد و افعال۔ یعنی بابِ تفاعل کبھی مجرد یا بابِ افعال کے ہم معنی استعمال ہوتا ہے۔ موافقتِ مجرد کی مثال، تعالى بمعنی علا۔ بلند ہوا۔ علا یعلو کا کیا معنی؟ بلند ہونا، اونچا ہونا۔ اب اسی طرح بابِ تفاعل ہے تعالى بلند ہونا۔ دیکھا؟ اس میں فعل ایک ہی جانب سے ہے، دونوں جانب سے ہمیشہ یہاں فعل ہونا ضروری نہیں۔ تعالی کا معنی بلند ہونا۔ آپ بھی کہتے ہیں قال اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تو یہ تعالیٰ کیا ہے؟ بابِ تفاعل کا فعل ہے، یعنی بلند ہوا۔ یعنی اللہ کی ذات بڑی اونچی، بڑی بلند ہے۔ آگے دیکھیے موافقتِ افعال کی مثال۔ تیا منا بمعنی ایمنا۔ تیا منا بمعنی ایمنا۔ آگے کیا ہے؟ یمن میں داخل ہوا، یمن میں نہیں داخل ہوا، یہ معنی تو درست نہیں لگتے۔ اس کا معنی ہوتا ہے، تیامن کا معنی ہوتا ہے دائیں طرف سے کوئی کام کرنا۔ اور ایمنا کی بھی یہی معنی ہیں۔ دائیں طرف سے کو ہونا، دائیں طرف کو جانا، یعنی دائیں طرف سے کوئی کام کرنا۔ تو تیامن بابِ تفاعل کس کے معنی میں ہے؟ ایمن بابِ افعال کے معنی میں ہے۔ دائیں طرف سے کوئی کام کرنا۔ سمجھ میں آیا؟ احادیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تیامن پسند تھا۔ دائیں طرف سے کام کا شروع کرنا پسند تھا۔ حتیٰ کہ آپ جوتے وغیرہ بھی پہنتے تو پہلے کی دائیں طرف سے ابتدا فرماتے یعنی دائیں پاؤں میں پہنتے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ حل ہو گیا سارا۔ کوئی بات ایسی تو نہیں پوچھنے والی؟ نہیں ایک اور بات میرے ذہن میں آئی بھئی۔ یاد رکھو آپ اگلے سال ثالثہ میں جائیں گے اور نفحۃ العرب پڑھیں گے۔ اچھا، اس سال بھی اگر ہو سکے مثلاً قدوری وغیرہ ہے اور کون سی کتاب ہے آپ کی؟ شرح تہذیب ہاں زاد الطالبین ہے اور اور النحو الواضح ہاں۔ آپ یوں کریں اس سال بھی کسی کتاب کے دو چار آٹھ دس صفحات عربی کے زبردست بہترین زبانی یاد کر لیں، ٹھیک ہے؟ ایسی یاد کر لیں جیسے قل ہو اللہ ہوتی ہے۔ یعنی اس کو روز دہرائیں، روز کسی کو سناتے جائیں۔ آٹھ دس صفحات، کم از کم، کم از کم زیادہ ہو جائیں تو اور اچھا ہے۔ اسی طرح اگلے سال آپ پڑھیں گے، تو مثلاً ادب کی کتاب نفحۃ العرب آئے گی، اس میں سے کچھ صفحات زبانی یاد کر لینا اور ان کو روز دہرانا۔ آپس میں ایک دوسرے کو سنانا اور اس کو قل ہو اللہ کی طرح یاد کر لینا، اسی طرح اس کے آخر میں کچھ اشعار ہیں، وہ بھی جو جو استاد پڑھاتے جائیں، اشعار میں بھی کم از کم آٹھ دس صفحات، پندرہ صفحات اسی طرح نثر کے اندر بھی دس پندرہ بیس صفحات سارے سال میں کم از کم زبانی بہترین یاد کر لینا، لیکن ایسا نہیں کہ بھول جائیں، قل ہو اللہ کی طرح اور پھر اگلے سال بھی ان پہ ایک دو دفعہ نظر ڈال لینا، تو پھر وہ تاکہ بھولیں نہ۔ پھر اگلے سال، اس سے اگلے سال آپ جائیں گے رابعہ میں۔ رابعہ میں مقامات آئے گی۔ اس کے بھی کم از کم بیس تیس چالیس یا پچاس صفحات، کم از کم، ضرور بالکل قل ہو اللہ کی طرح یاد کرنا، ترجمے کے ساتھ۔ یہ ساری چیزیں ترجمے کے ساتھ آپ نے یاد کرنی ہیں۔ اسی طرح اگلے سال پھر اشعار آئیں گے۔ وہ بھی اشعار بھی آپ نے کئی صفحات زبانی یاد کرنے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی محنت کے ساتھ بھی اگر آپ کریں، تو سال میں اچھے خاصے صفحات یاد ہو جائیں گے اور روز ان کو دہرائیں، جیسے ابواب الصرف روز دہراتے تھے نا، اب تو اس میں وہ قل ہو اللہ کی طرح آپ کو یاد ہیں۔ تو ان کو بھی روز دہرانا اور اگر آپ نے میری اس نصحت پر عمل کیا، یاد رکھو کوئی آپ کسی جگہ بھی عربی میں مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ صرف بھی آپ کی زبردست بنیاد بن گئی ہے۔ نحو کی بھی زبردست انشاءاللہ بنیاد بن جائے گی اور پھر عربی کے الفاظ عموماً طلباء کو یاد نہیں ہوتے۔ اگر آپ نے میری اس نصیحت پر عمل کیا، تو انشاءاللہ مجھے امید ہے رابعہ یا خامسہ میں جا کر آپ پرچے عربی میں حل کرنا شروع کر دیں گے، اتنے ماہر ہو جائیں گے۔ ٹھیک ہے؟ ہاں کہ ہمارے طلباء صرف ان کی کمزور ہوتی ہے اور پھر نحو نحب نحب بھی اچھی نہیں ہوتی۔ اگر صرف عمدہ ہو بھی جائے، تو طالب علم کو عربی الفاظ یاد نہیں ہوتے، اس کے حافظے میں محفوظ نہیں ہوتے۔ چنانچہ وہ پھر اچھی عربی نہیں لکھ سکتا اور طالب علمی میں ابھی سے یاد کریں طالب علمی کی چیز کبھی نہیں بھولتی انسان کو بھئی۔ اس میں بہترین وقت ہے آپ کے پاس محنت کرنے کا، ایک دوسرے کو سنانے کا۔ میں بتلا رہا ہوں آپ خامسہ میں انشاءاللہ عربی کے اندر پرچے حل کریں گے بھئی، اردو تو چھوڑیئے عربی کے اندر بہترین اگر آپ نے اسی طرح ہر سال دس پندرہ بیس صفحات یا زیادہ جتنے کر سکے، بہترین عربی کے ساتھ یاد کر لیے بھئی۔ عموماً ہمارے طلباء دیکھو یہ کتابیں پڑھتے چلے جاتے ہیں، مثلاً نفحۃ نفحۃ العرب پڑھ لی، ثالثہ میں، مقامات پڑھ لی، خامسہ رابعہ میں، پھر اشعار وغیرہ پڑھتے ہیں سالوں میں، لیکن یاد کچھ بھی نہیں کرتے ان میں سے اور یہ بڑی مشکل کتابیں ہیں، تو ذہن سے نکلتی چلی جاتی ہیں، کچھ بھی یاد نہیں رہتا اور فائدہ ہی نہیں رہتا باقی رہتا ہے ان کتابوں کا۔ تو یہ کتابیں جو ہیں یہ زبانی یاد کرنے والی ہیں، ویسے پڑھنے والی نہیں ہیں کہ ان کو باقاعدہ زبانی یاد کیا جائے، پھر ان کا اصل فائدہ ہوگا بھئی۔ چلیے جی اللہ سب کو بڑا عالم بنائے بھئی۔ ہذا والامر واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
55 approved lectures · 53 of 55