اچھا الحمدللہ بھئی علم الصیغہ تو مکمل ہو گئی۔ علم الصیغہ کے ساتھ وفاق المدارس کا جو ثانیہ کا نصاب ہے صرف کا، اس میں خاصیات ابواب بھی شامل ہیں۔ اور خاصیات ابواب جو انہوں نے ذکر کی ہیں وہ فصول اکبری کی ذکر کی ہیں۔
فصول اکبری صرف کی بڑی مشہور اور زبردست کتاب ہے اور فارسی زبان میں ہے۔ اسی کے اندر صاحب فصول اکبری جو ہیں وہ مختصر انداز میں خاصیات ابواب ذکر کرتے ہیں۔ تو یہ اصل کتاب فارسی میں ہے اور بڑی مشکل کتاب ہے کیونکہ وہ کم سے کم لفظوں میں لمبی بات کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے تھوڑے سے تھوڑے الفاظ استعمال کریں، چنانچہ بہت سی جگہ وہ صرف اشارہ کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور استاد کو پھر لمبی تقریر کر کے وہ بات بیان کرنا پڑتی ہے۔
تو ایک صورت تو یہ کہ ہم فصول اکبری سے پڑھیں لیکن اس میں پھر بڑی لمبی تشریح کرنا پڑے گی اور پھر جو خاصیات ہیں وہ آپ کو باقاعدہ لکھنی پڑیں گی ایک ایک باب کی خاصیتیں آپ کو الگ لکھوانی پڑیں گی اور بات بڑی لمبی ہو جائے گی۔ اس کے بجائے آج کل بہت سے مدرسین حضرات نے ان خاصیات ابواب کو باقاعدہ اردو میں الگ شائع کیا ہے چھوٹے چھوٹے رسالوں کی صورت میں تو اس میں آسانی ہو جاتی ہے کہ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، طالب علم کو لکھی ہوئی شکل میں ہی ایک جگہ خاصیات ابواب مل جاتی ہیں۔
تو ہم بھی یہ اردو کی کتاب سے پڑھ پڑھ لیں گے اور ان میں زیادہ واضح انداز میں جو ہے وہ مکتبۃ البشریٰ والوں کی جو ارشاد الطلاب الیٰ خاصیات الابواب ہے، ہم اس سے کر لیں گے۔ یہ ذرا مختصر ہے، کتاب چھوٹی سی کتاب ہے، زائد باتیں اس میں نہیں ہیں اور طباعت بھی اس کی صاف ہے۔ تو اس میں سے پڑھ لیں یا آپ کے پاس کوئی اور کتاب ہو جس میں خاصیات ابواب اردو میں ذکر ہوں، اس میں سے بھی آپ یہ خاصیات ابواب حل کر سکتے ہیں۔ البتہ ان کو یاد کرنا پڑے گا بھئی، رٹنا پڑے گا تو ان کو خوب اچھی طرح آپ نے رٹ لینا ہے، یاد کر لینا ہے اور بڑی قیمتی باتیں ہیں اس کے اندر بھئی مختلف ابواب کے خاصیات ہیں کہ کس کس مقاصد کے لیے عرب مختلف ابواب کو استعمال کرتے ہیں۔
بھئی یہ خاصیات کے بارے میں مختصر بیان پہلے بھی میں کر چکا ہوں کہ ہر باب کے کچھ خاص معنی ہوتے ہیں کہ ان معنی کو حاصل کرنے کے لیے عرب جو ہیں وہ الفاظ کو ان ابواب میں لے جاتے ہیں۔ جیسے اس کی نہایت آسان مثال جو ہے وہ تعدیہ ہے، متعدی بنانا۔ باب افعال کا ایک خاصہ جو ہے وہ متعدی بنانا ہے تو چنانچہ عرب اکثر اوقات کسی لفظ کو جب متعدی بنانا ہو تو اس کو باب افعال میں لے جاتے ہیں۔
مثلاً ثلاثی مجرد سے جلسہ کا معنی ہے بیٹھنا، خود بیٹھنا لیکن اسی کو باب افعال میں لے گئے اجلسا تو اس کا معنی ہے دوسرے کو بٹھانا۔ تو دیکھو جلسہ پہلے کیا تھا؟ لازم تھا اب اجلسا یہ کیا بن گیا؟ متعدی بن گیا اب اس کے لیے مفعول چاہیے بھئی، دوسرے کو بٹھانا۔
اسی طرح، اسی طرح خارجہ کا معنی ہے نکلنا لیکن اسی کو متعدی بنانا چاہتے ہیں آپ تو آپ اس کو کس میں لے جائیں گے؟ باب افعال میں اور کیا کہیں گے؟ اخرجہ اس نے نکالا۔ تو اس کے لیے دیکھو مفعول چاہیے، مفعول چاہیے۔ تو یہ معلوم ہوا یہ باب افعال کا خاصہ ہے تعدیہ، متعدی بنانا۔ اس کے اندر جب آپ کسی فعل کو لے جاتے ہیں تو یہ اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ متعدی بنا دیتا ہے۔
یا اسی طرح جیسے، اسی طرح کا ایک خاصہ ہے باب مفاعلہ کا بھئی اور وہ ہے مشارکت، مشارکت یعنی جانبین کا ایک فعل میں شریک ہونا۔ مثلا ضربہ کا معنی تو ہے پٹائی کرنا۔ ضرب زید عمرا، زید نے عمر کی پٹائی کی۔ لیکن اگر یہ بتلانا مقصود ہو کہ دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی تو پھر اس کے لیے عرب جو ہے باب مفاعلہ یا باب تفاعل استعمال کرتے ہیں۔
مثلاً عرب کسی کو بتلانا چاہتا ہے زید نے عمر کی پٹائی کی اور عمر نے زید کی پٹائی کی یعنی باہم دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ تو وہ اسی ضربہ کو باب مفاعلہ میں لے جائیں گے اور کیسے کہیں گے؟ زارب زید عمرا۔ دیکھو اب لفظوں میں زید فاعل ہے اور عمرا کیا ہے؟ مفعول۔ زارب زید عمرا۔ لیکن معنی کے اعتبار سے دونوں فاعل بھی ہیں اور دونوں مفعول بھی۔
معنی یہ ہے، زید نے عمر کی پٹائی کی اور عمر نے زید کی پٹائی کی۔ تو دونوں فاعل بھی ہیں اور دونوں مفعول بھی ہیں۔ یا اسی معنی کو باب تفاعل سے بھی ادا کرتے ہیں بھئی۔ تضاربا زید وعمر (یعنی زید اور عمر نے باہم ایک دوسرے کی پٹائی کی)۔ تو اس طرح مختلف ابواب کے خاص خاص معنی ہوتے ہیں۔ یہ لغوی معنی سے زائد ہوتے ہیں ایک تو لفظ کا لغوی معنی ہے عربی زبان میں۔
عربی زبان میں ضرب کا کیا معنی؟ پٹائی کرنا۔ لیکن باہم ایک دوسرے کی پٹائی کرنا، دیکھو یہ باہم دونوں کا ایک دوسرے کی پٹائی کرنا یہ ایک زائد معنی آیا اور یہ کس کی وجہ سے آیا؟ باب مفاعلہ یا باب تفاعل کی وجہ سے تو اس کو خاصہ کہتے ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
تو مختلف ابواب کی مختلف خاصیات ہیں، عرب مختلف الفاظ کو مختلف معنی حاصل کرنے کے لیے مختلف بابوں میں لے جاتے تھے۔ تو ایک تو اس لفظ کا لغوی معنی ہوتا تھا یعنی عربی زبان میں جیسے ضرب ان کا لغوی معنی کیا؟ پٹائی کرنا۔ عربی زبان میں ضرب ان کا معنی ہے پٹائی کرنا۔ لیکن اس کے ساتھ باہم ایک دوسرے کی پٹائی کرنا، یہ دیکھو باہم دونوں جانب سے پٹائی کے لیے کون سا باب استعمال کرتے ہیں؟ مفاعلہ اور تفاعل۔ تو یہ ایک زائد معنی اس کے ساتھ آگیا۔ تو یہ جو خاصیات ہیں، یہ زائد معنی ہوتے ہیں لغوی معنی کے علاوہ ہوتے ہیں۔
یا جیسے ایک اور خاصیت ہے باب فاعللہ کی اور وہ آپ پڑھ چکے ہیں ثلاثی مزید فی ملحق کے اندر بھئی جیسے جل بابا۔ یہ کس سے ہے؟ جل باب سے، جل باب سے۔ تو جل باب تو بڑی چادر کو کہتے ہیں، اسی سے کیا بنا لیا؟ جل بابا، فاعللہ یفعللہ فاعللتن۔
باب فاعللہ کا ایک خاصہ ہے ماخض پہنانا، کسی کو ماخض پہنانا۔ تو جل باب کہتے ہیں بڑی چادر کو تو اسی میں یہ جل بابا باب فاعللہ میں لے گئے تو اب جل بابا کا کیا معنی؟ جل باب پہنائی، اس نے دوسرے کو جل باب پہنائی۔ تو یہ دیکھا پہنانا۔ یہ پہنانے کا معنی زائد اس میں آگیا۔ جل بابا تو جل باب سے ہے اور جل باب تو چادر کو کہتے ہیں، اس میں پہننے کا معنی نہیں۔ یہ پہنانے کا معنی کہاں سے آگیا؟ باب فاعللہ سے آگیا۔
اس کو کہتے ہیں لباس ماخض، ماخض پہنانا۔ تو ایک لفظ ماخض آئے گا، یہ بھی آگے اس کو بیان کریں گے۔ ماخض کہتے ہیں جس لفظ سے وہ باب بنایا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ماخض۔ تو جل بابا یہ کس سے بنا؟ جل باب سے، تو اس کا ماخض ہے جل باب۔ یعنی جس لفظ سے بھی آپ نے باب بنایا ہے، عربوں نے وہ باب بنایا ہے اس کو ماخض کہتے ہیں۔ وہ اس میں جامد بھی ہو سکتا ہے، وہ مصدر وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔
اب جل باب یہ مصدر تو نہیں ہے، یہ تو چادر کا نام ہے لیکن اسی سے کیا بنا لیا؟ جل بابا باب بنا لیا تو جل باب کو کیا کہیں گے؟ ماخض۔ ماخض اخذ سے ہے۔ اخذ کا کیا معنی؟ پکڑنا، پکڑنا، لینا تو ماخض ظرف کا صیغہ ہے، پکڑنے کی جگہ، لینے کی جگہ۔ یعنی یہ باب کہاں سے لیا گیا، کہاں سے بنایا گیا؟ جل باب سے تو جل باب اس کا کیا ہوا؟ ماخض ہوا بھئی۔
ماخض کسے کہتے ہیں؟ جس سے اس باب کو بنایا جائے، وہ اس میں وہ مصدر بھی ہو سکتا ہے اور وہ اس میں جامد بھی ہو سکتا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو یہ آگے خوب تفصیل سے ہر چیز آئے گی۔ آپ نے ہر چیز کو اچھی طرح سمجھتے جانا ہے۔ کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو پوچھ سکتے ہیں۔
دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ یہ کتاب خاصیات ابواب صفحہ نمبر 9 دیکھیے بھئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبیہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔ اما بعد۔
خاصیات ابواب۔ خاصیات خاصیت کی جمع ہے۔ خاصیت کے لغوی معنی ہیں۔ کسی چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا۔ بھئی لغوی معنی لغت کسے کہتے ہیں؟ لغت زبان، زبان۔ جب کہیں لکھا ہو اس لفظ کا لغوی معنی ہے، یعنی اس زبان میں اس کا یہ معنی ہے۔ اب یہاں چونکہ عربی زبان کی بات ہو رہی ہے تو معنی یہ ہوگا کہ عربی زبان میں خاصیت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا۔
تو ایک ہے لغوی معنی، ایک ہے اصطلاحی معنی۔ اصطلاحی معنی جانتے ہو؟ اصطلاحی معنی جو کسی خاص علم والوں کی جو اصطلاح ہو، کیا ہو؟ خاص علم والوں کی اصطلاح ہو۔ یعنی وہ ایک لفظ کو کسی چیز کے لیے مقرر کر لیں۔ وہ کیا کر لیں؟ ایک لفظ کو کسی چیز کے لیے مقرر کر لیں۔
جیسے، جیسے اسم۔ عربی زبان میں نام کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ نام کو۔ لیکن علم نحو کے اندر اسم کسے کہتے ہیں؟ باقاعدہ ایک لمبی تعریف ہے، کسے کہتے ہیں؟ جو اسم وہ کلمہ ہے جو اپنا معنی بتانے میں غیر کا محتاج نہ ہو اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہ ہو۔ اب یہ عربی آدمی کے سامنے یہ ذکر کریں اس کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کہ یہ کیا معنی بیان کر رہے ہیں؟ اسم کا معنی تو ہوتا ہے نا، ہاں! اس نے اگر نحو پڑھی ہوگی پھر تو اسے پتہ ہوگا ہم عرب کو یہ پتہ نہیں ہوگا کیونکہ عربی زبان میں اسم نام کو کہتے ہیں۔
لیکن علم نحو والوں نے اس لفظ اسم کو خاص کر دیا ایک اور معنی کے ساتھ تو اس کو کہیں گے اصطلاحی معنی۔ یعنی علم نحو والوں کی اصطلاح یہ ہے، وہ اس لفظ کو اس معنی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تو جب آپ نحوی حضرات سے گفتگو کر رہے ہوں اور وہاں اسم کا لفظ بولیں تو وہ معنی مراد لیں گے جو اس علم والوں کی اصطلاح ہے، جس کے لیے انہوں نے اس لفظ کو کیا کیا ہے؟ مقرر کیا ہے بھئی۔ مقرر کیا ہے۔
یا اور مثال لے لیں جیسے اچھا یا جیسے لفظ صلاۃ ہے بھئی۔ صلاۃ کا عربی زبان میں معنی ہے رحمت کے بھئی یا صلاۃ کا معنی دعا کے ہے بھئی، دعا کے۔ لیکن اہل اسلام، اہل شریعت کی اصطلاح میں صلاۃ کا لفظ بولا جائے تو اس کے معنی دعا کے نہیں ہیں بلکہ عبادت کا وہ خاص طریقہ ہے جس میں قیام بھی ہوتا ہے، رکوع بھی ہو رکوع بھی ہوتے ہیں اور سجدے بھی ہوتے ہیں۔
تو اگر صلاۃ کا لفظ بولا جائے تو کہیں گے عربی زبان میں تو اس کا معنی ہے دعا، لیکن اصطلاح شریعت میں یہ کسے کہتے ہیں؟ نماز کو کہتے ہیں، وہ عبادت کا خاص طریقہ ہے۔ تو ایک تو یہ جگہ جگہ ذکر ہوگا لغوی معنی۔ جب لغوی کہا جائے تو معلوم تو آپ سمجھ جائیں یہ کس زبان میں اس کا معنی بیان ہو رہا ہے؟ عربی زبان میں اور جب اصطلاحی لفظ بولا جائے یہاں پر تو اصطلاح سے کس کی اصطلاح مراد ہوگی؟ علم صرف والوں کی اصطلاح مراد ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں خاصیات خاصیت ان کی جمع ہے، خاصیت کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا۔ علماء صرف کی اصطلاح میں خاصیات ان معنی کو کہتے ہیں جو کسی باب کے لغوی معنی سے زائد ہوں۔ لغوی معنی سے زائد ہوں، لیکن اس کے ساتھ لازم ہوں۔ اور دیکھو یہ لغوی معنی سے زائد ہوتا ہے۔
دیکھو ضرب ان کا معنی تو ہے پٹائی کرنا، لیکن اسی کو باب مفاعلہ میں لے گئے ضرب یضارب۔ اب کون سا زائد معنی اس کے اندر آ گیا؟ مشارکت، یعنی دونوں جانب سے فعل کا ہونا اس میں آ گیا تو یہ زائد معنی آ گیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خاصیت کس کی؟ باب مفاعلہ کی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔
آگے دیکھیے اگلے صفحے پر بھئی۔ آگے انہوں نے تشریح کی ہے، لیکن وہ ذرا مشکل انداز میں کی ہے، اس کو چھوڑ دیں۔ آگے دیکھیے بھئی۔ صفحہ 10 پر آئیے بھئی۔ ابواب ثلاثی مجرد۔ ثلاثی مجرد میں کتنے ابواب آپ نے پڑھے؟ چھ باب۔ یاد رکھیے ان میں چھ میں سے تین جو ہیں، تین جو ہیں ان کو ام الابواب کہتے ہیں۔ ام الابواب۔
تمام بابوں کی ماں یعنی تمام بابوں کی اصل۔ جیسے ماں سے بچے جنم لیتے ہیں، اسی طرح یہ باب بھی جو ہیں یہ کیا کہلاتے ہیں؟ اصل ابواب کہلاتے ہیں بھئی، اصل ابواب۔ بھئی ان کو ام الابواب یا اصل ابواب کیوں کہتے ہیں؟ وہ وجہ بتلائیں گے کہ وجہ یہ ایک تو یہ کہ یہ باب بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں عربی میں۔ آپ عربی زبان کے افعال اٹھائیں تو ثلاثی مجرد کے جتنے الفاظ آپ کو ملیں گے وہ زیادہ تر تین بابوں سے ملیں گے اور وہ تین باب کون سے ہیں؟ جس میں یاد رکھو جس میں ماضی اور مضارع میں عین کی حرکت الگ الگ ہے۔ ضرب یضرب، ماضی میں عین پر کیا ہے؟ فتحہ ہے فعل یفعل اور مضارع میں عین کے نیچے کسرہ ہے۔
تو ایک ایک یہ باب، دوسرا نصرہ بھئی فعل یفعل نصر ینصرو دیکھو ماضی میں عین پر فتحہ ہے تو مضارع میں عین پر ضمہ اور تیسرا کون سا؟ باب سمعہ ہے سمع یسماع ماضی میں عین کے نیچے زیر ہے تو مضارع میں عین پر فتحہ ہے۔ ان کو ام الابواب کہتے ہیں۔ ایک تو وجہ یہ کہ کثیر الاستعمال ہیں، بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں اکثر الفاظ انہی سے آتے ہیں اور دوسری وجہ یہ کہ یہ ضابطے کے مطابق ہیں۔ کس کے مطابق ہیں؟ ضابطے کے مطابق ہیں۔
ضابطہ کیا؟ ضابطہ یہ کہ ایک ہے ماضی، ایک ہے مضارع۔ ماضی اور مضارع کا ایک معنی ہے یا الگ الگ؟ الگ الگ۔ جب دونوں کا معنی الگ ہے تو عین کی حرکت بھی الگ ہونی چاہیے اور یہ اس ضابطے پر پورا اترتے ہیں۔ ان میں عین کی حرکت ماضی میں اور ہے اور مضارع میں اور ہے جبکہ باقی تین باب وہ اس ضابطے پر پورے نہیں اترتے، وہاں ماضی اور مضارع میں عین کی حرکت مختلف نہیں ہے بلکہ ایک جیسی ہے۔
جیسے حسیبہ یحسبو دیکھو دونوں میں عین کے نیچے کسرہ ہے اور کروما یکرمو دیکھا دونوں میں عین پر ضمہ ہے اور فتحہ یفتحو اس میں دونوں میں عین پر فتحہ ہے بھئی۔ تو یہ تینوں کا زیادہ
استعمال بھی نہیں ہوتے اور نیس ان میں یہ ضابطے پر بھی پورا نہیں اترتے ماضی اور مضارع میں عین کی حرکت مختلف ہونی چاہیے کیونکہ ان دونوں کا معنی مختلف ہے ایک دوسرے سے۔ بات سمجھ میں آگئی۔
دیکھیے بھئی کتاب پر اس کہتے ہیں ثلاثی مجرد کے پہلے تین باب یعنی نصر ضرب سمع ام الابواب یعنی اصل الابواب کہلاتے ہیں۔ اس لیے کہ ان تین بابوں میں ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکت حسب قاعدہ مختلف ہے۔ قاعدہ یہ ہے جب معنی مختلف ہوں تو حرکت بھی مختلف ہونی چاہیے۔ یہ تین باب اس قاعدے کے موافق اور کثیر الاستعمال ہیں۔ اس لیے ام الابواب کہلاتے ہیں جبکہ باقی باب فتحہ، کرمہ، حسبہ کے عین کلمہ کی حرکت ماضی اور مضارع میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوتی اور قلیل الاستعمال بھی ہیں۔ اس لیے فروع الابواب کہلاتے ہیں۔
کیا کہلاتے ہیں؟ فروع الابواب کہ یہ فرع ہیں۔ فرع شاخ کو کہتے ہیں شاخ کو جیسے ایک تنے سے مختلف شاخیں نکلتی ہیں۔ خاصیت باب نصرہ۔ سب سے پہلے یہ جو ام الابواب ہیں ان کی خاصیتیں ذکر کریں گے۔ اور یاد رکھنا یہ خاصیتیں صرف یہی نہیں ہیں جو یہ ذکر کر رہے ہیں یہ تو ایک ادھ بڑی خاصیت ذکر کر دیں گے۔ خاصیتیں ان کی بہت زیادہ ہیں لیکن چونکہ وہ ایک دوسرے جیسی ہیں اس لیے ان کو ذکر نہیں کر رہے۔ جو خاصیت الگ ہے اور نمایاں ہے واضح ہے اس کو صرف ذکر کر رہے ہیں۔
تو خاصیت باب نصرہ باب نصرہ کی خاصیت اس باب کی مشہور خاصیت مغالبہ ہے۔ مغالبہ۔ مغالبہ کسے کہتے ہیں؟ خود بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں مغالبہ کے لغوی معنی ہیں ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا۔
ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا یعنی ایک دوسرے سے جیتنے کی کوشش کرنا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مغالبہ عربی زبان میں۔ عربی زبان میں۔
اور اصطلاح علم صرف میں مغالبہ کسے کہتے ہیں؟ اصطلاح علم صرف میں ادھر دیکھیے اسے کہتے ہیں کہ پہلے باب مفاعلہ ذکر ہو جملے میں توجہ ہے جملے میں کیا ذکر ہو؟ باب مفاعلہ اور باب مفاعلہ میں جانبیں سے فعل ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا؟ تو جانبیں سے ایک فعل ذکر ہو۔ زید نے بھی اس طرح کیا اور عمرو نے بھی اس طرح کیا۔ پھر اس کے بعد باب نصرہ کو لایا جاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ ان میں سے جیتا کون غالب کون آیا؟
پہلے کون سا ذکر ہوگا؟ مفاعلہ اس میں مقابلے کا ذکر ہوگا اور اس کے بعد کون سا ذکر ہوگا باب؟ باب نصرہ بھئی اس کو کہتے ہیں مغالبہ۔ دیکھو عربی زبان میں یہ معنی نہیں تھا مغالبے کا۔ عربی زبان میں تو مغالبے کا کیا معنی؟ ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا لیکن اصطلاح علم صرف میں کسے کہتے ہیں مغالبہ؟
کہ پہلے باب مفاعلہ ذکر ہو اس میں جانبیں سے فعل اور جانبیں سے مقابلہ ذکر ہو اور اس کے بعد کس کو ذکر کیا جائے؟ کسی باب کو کسی بھی یہاں تو باب نصرہ ہے کبھی باب ضربہ کو بھی ذکر کریں گے اس کے بعد کسی باب کو ذکر کیا جائے یہ بتلانے کے لیے کہ کون غالب آیا، کون جیتا ان دونوں میں سے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔
دیکھیے اب کتاب پر مغالبہ کے لغوی معنی ہیں ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا اور اصطلاحی معنی ہے باب مفاعلہ کے بعد کسی فعل کو اس غرض سے ذکر کرنا تاکہ اس فعل کے ذریعے فریقین میں سے کسی ایک کے غالب ہونے کو ظاہر کیا جائے۔
دو فریق تھے نا دونوں میں مقابلہ تھا باب مفاعلہ میں اور اس کے بعد دونوں فریقین میں سے کون غالب ہوا وہ بتلانے کے لیے لاتے ہیں۔
پھر دیکھیں باب مفاعلہ کے بعد کسی فعل کو اس غرض سے ذکر کرنا تاکہ اس فعل کے ذریعے فریقین میں سے کسی ایک کے غالب ہونے کو ظاہر کیا جائے اس غلبہ کو ظاہر کرنے کے لیے جو فعل لایا جاتا ہے وہ باب نصرہ سے ہوگا اگرچہ وہ فعل اصل وضع میں کسی اور باب سے ہو۔
اصل وضع میں کسی اور باب سے ہو۔ کسی اور باب سے ہو جیسے ضرب یضرب۔ تو یہ ضربہ تو باب ضربہ سے ہے ضرب یضرب لیکن اب جب اس کو مغالبے کے لیے لائیں گے تو باب نصرہ میں لے جائیں گے۔
مثلا میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے اور زید نے باہم ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ ضربنی زید۔
ضربنی زید۔ کیا معنی؟ میں نے زید کی پٹائی کی اور زید نے یا یوں کہو زید نے اور میں نے باہم ایک دوسرے کی پٹائی کی یا یوں کہو میں نے اور زید نے ایک دوسرے کی پٹائی کرنے میں مقابلہ کیا تو پھر میں اس پر غالب آگیا۔
تو کیسے بولیں گے؟ جی۔ مفاعلہ کا ذکر مفاعلہ ذکر کر دیا نا ضربنی زید اب آگے ذکر کرو نصرہ ذکر کرو۔
فضربتہ۔
فضربتہ۔
یہ باب نصرہ سے ہے آپ کہیں گے یہ تو ضربہ کی طرح ہے بھئی بے شک ضربہ جیسا ہے لیکن اس وقت کس سے ہے؟ نصرہ سے ہے کیونکہ یہ غلبہ ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے۔ ماضی تو مضارع اور نصرہ کی ایک جیسی ہے اس لیے آپ کو پتہ نہیں چل رہا۔ مضارع لے آؤ تو فورا پتہ چل جائے گا ذرا مضارع لے آؤ۔
پیچھے بھی مضارع لے آؤ۔ یضاربنی زید۔ ضربہ یضارب۔ یضاربنی زید۔ زید اور میں آپس میں پٹائی کرنے میں مقابلہ کرتے ہیں پھر میں اس پر غالب آ جاتا ہوں بولیں۔
نصرہ سے لاؤ میں غالب آ جاتا ہوں متکلم کا صیغہ لاؤ نصرہ سے لاؤ متکلم کا صیغہ لاؤ۔
فأضربہ۔ انصرو انصرو أضرب۔
حالانکہ ضربہ تو کس سے ہے باب ضربہ میں تو کیسے کہتے ہیں أضربہ لیکن أضربہ نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ فأضربہ یضاربنی زید فأضربہ تو میں اس پر پٹائی میں یا یوں کہوں گا وہ مجھ پر غالب آ جاتا ہے تو پھر کیسے کہوں گا؟ یضرب ینصر۔
فیضربنی زید۔ تو زید مجھ پر غالب آ جاتا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی۔
کتاب پر دیکھیے بھئی یہ معنی ہے اس غلبہ کو ظاہر کرنے کے لیے جو فعل لایا جاتا ہے وہ باب نصرہ سے ہوگا اگرچہ وہ فعل اصل وضع میں کسی اور باب سے ہو۔ بھئی ضربہ کا مادہ تو ضرب یضرب سے تھا لیکن غلبے کے اظہار کے لیے کس باب میں لے گئے؟ نصرہ میں لے گئے بھئی نصرہ ینصر ضرب یضرب ہو جائے گا۔
جیسے یخاسمنی زید۔ زید میری خصومت کہتے ہیں جھگڑنے کو یخاسمنی زید۔ زید میرے ساتھ خصومت میں مقابلے میں جھگڑے میں مقابلہ کرتا ہے ادھر دیکھیے۔ یخاسمنی زید۔ زید میرے ساتھ جھگڑے میں مقابلہ کرتا ہے تو پھر میں اس پر غالب آ جاتا ہوں تو کیسے کہیں گے؟ فأخصمه۔
بات سمجھ میں آگئی جی دیکھیے کتاب پر جیسے یخاسمنی زید فأخصمه میں اور زید باہم جھگڑتے ہیں۔
یہ کس کا ترجمہ ہے؟ یخاسمنی زید چاہیں یوں ترجمہ کر لو میں اور زید باہم جھگڑتے ہیں یا یوں کر لو میں اور زید جھگڑے میں مقابلہ کرتے ہیں۔
تو میں اور زید باہم جھگڑتے ہیں پس میں جھگڑے میں اس پر غالب آتا ہوں اور یضاربنی زید فأضربہ میں اور زید ایک دوسرے کو مارتے ہیں پس میں اس پر غالب آتا ہوں یا اور مثال لے لو۔
کرم یکرم سے بنا لو۔ کرمہ کا کیا معنی؟ معزز ہونا۔ کریم کس کو کہتے ہیں؟ معزز آدمی، عزت والا آدمی۔ کرمہ یکرم باب کرمہ ہے۔ لیکن میں بتلانا چاہتا ہوں میں اور زید معزز ہونے میں مقابلہ کرتے ہیں تو میں اس پر غالب آ جاتا ہوں تو کیسے کہوں گا؟ یکارمنی زید۔
چاہے مضارع لے آؤ چاہے ماضی لے آؤ ماضی لاؤ تو دونوں جگہ ماضی لے آؤ مضارع لاتے ہو تو دونوں جگہ کیا لاؤ؟ مضارع۔ یکارمنی زید۔ زید میرے ساتھ معزز ہونے میں مقابلہ کرتا ہے پھر فأکرمہ۔ تو میں اس پر غالب آ جاتا ہوں معزز ہونے میں۔
یا اور مثال لے لو۔ علم جاننا جاننا اسی سے بنا لو۔ میں اور زید علم میں مقابلہ کرتے ہیں۔ یعالم۔
یعالم۔ یعالم۔
یعالمنی زید۔ دیکھو یا کو میں مفعول بنا رہا ہوں اور زید کو کیا بنا رہا ہوں؟ فاعل۔ آپ چاہیں زید کو مفعول بنا لیں اور متکلم کو فاعل بنا دیں۔ کیسے بولیں گے؟ متکلم کا صیغہ بولو۔
اعالم۔
أعلم۔
أعالمني زيداً۔
أعالمني زيداً۔ میں مقابلہ کرتا ہوں کس سے؟ زید سے دیکھا وہی باب مفاعلہ ہے اور پھر میں اس پر غالب آ جاتا ہوں فأعلمہ یا یوں کہیں وہ مجھ پر غالب آ جاتا ہے فیعلمنی زید۔ تو وہ مجھ پر غالب آ جاتا ہے طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے۔
تو دیکھیے آگے کتاب پر ان مثالوں میں أخصمو اور أضربو دونوں باب نصرہ سے استعمال ہوئے ہیں اگرچہ یہ دونوں اصل وضع میں مکسور العین یعنی باب ضربہ سے ہیں۔
فائدہ۔
باب مفاعلہ کے بعد اظہار غلبہ کے لیے جو فعل لایا جاتا ہے توجہ ہے باب مفاعلہ کے بعد اظہار غلبہ کے لیے جو فعل لایا جاتا ہے وہ اکثر باب نصرہ سے ہوتا ہے۔
لیکن اگر یہ فعل مثال اجوف یائی اور ناقص یائی ہو تو باب نصرہ سے نہیں آئے گا۔
بلکہ باب ضربہ سے آئے گا۔ یہ نیچے آ رہا ہے۔ کیا ہوں اگر؟ اگر مثال ہو یا اجوف یائی ہو اجوف واوی نہیں یا ناقص یائی ہو یعنی ناقص واوی نہ ہو۔ مثال تو جو بھی ہو چاہے واوی ہو چاہے یائی لیکن اجوف اور ناقص کیا ہوں؟ یائی اس میں آپ مغالبہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں ایسا فعل ہے جو مثال ہے یا اجوف یائی ہے یا ناقص یائی ہے تو اب مغالبے کے لیے باب نصرہ نہیں استعمال کریں گے بلکہ باب ضربہ استعمال کریں گے۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں لیکن اگر یہ فعل مثال اجوف یائی ناقص یائی ہو تو باب نصرہ سے نہیں آئے گا اس لیے کہ معتل کی یہ قسمیں کلام عرب میں باب نصرہ سے مستعمل نہیں۔
خاصیت باب ضربہ مغالبہ۔
اس باب کی خاصیت بھی مغالبہ ہے بشرطیکہ وہ فعل جس کو باب مفاعلہ کے بعد اظہار غلبہ کے لیے لایا جاتا ہے مثال اجوف یائی یا ناقص یائی ہو۔
مثال واوی کی مثال۔
یواعدنی زید فأعدہ۔
میں اور زید ایک دوسرے سے وعدہ کرتے ہیں پھر میں وعدہ پورا کرنے میں اس پر غالب آ جاتا ہوں۔ وعدہ کیا ہے؟ مثال ہے اس لیے کس باب سے آیا؟ ضربہ سے۔ اگر یہ مثال نہ ہوتا تو پھر کہاں سے آتا؟ نصرہ سے۔
اگلی مثال دیکھیے مثال یائی کی مثال۔
یاسرہ زید فیسرہ۔
اس نے اور زید نے باہم جوا کھیلا۔
پس زید اس پر جوا کھیلنے میں غالب آگیا۔
اجوف یائی کی مثال۔ یبایعنی زید فأبیعه۔ زید اور میں باہم معاملہ بیع کرتے ہیں۔
پس میں اس پر غالب آتا ہوں۔
ہم آپس میں کیا کرتے ہیں؟ بیع کرتے ہیں یعنی خرید و فروخت کرتے ہیں تو میں اس پر اس خرید و فروخت میں غالب آ جاتا ہوں۔
ناقص یائی کی مثال۔ یرامینی زید فأرمیھی۔ زید اور میں باہم تیر اندازی کرتے ہیں پس میں غالب آتا ہوں۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یا ترجمہ یوں بھی کر سکتے ہیں۔
یواعدنی زید فأعدہ۔ کیسے کریں گے ترجمہ؟ یہاں تو ہے میں اور زید ایک دوسرے سے وعدہ کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں میں اور زید وعدے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں تو میں اس پر غالب آ جاتا ہوں۔
اور یاسرہ زید فیسرہ یہاں کیا ترجمہ کر سکتے ہیں؟ وہ اور زید کیا کرتے ہیں جوئے میں مقابلہ کرتے ہیں۔
یبایعنی زید یہاں کیا ترجمہ کر سکتے ہیں؟ میں اور زید خرید و فروخت میں مقابلہ کرتے ہیں تو میں اس پر غالب آ جاتا ہوں اور یرامینی زید فأرمیھی یہاں کیا ترجمہ کر سکتے ہیں؟ میں اور زید جو ہیں تیر اندازی میں مقابلہ کرتے ہیں تو میں اس پر غالب آتا ہوں۔
اب ایک اور بات یاد رکھیے۔ قیمتی بات بھئی۔
مغالبہ یاد رکھیے سماع پر موقوف ہے۔ کس پر موقوف ہے؟ سماع پر۔ یہ نہیں کہ آپ جس مرضی باب کو دل چاہے مغالبے کے لیے باب نصرہ میں لے جائیں اور ضربہ میں لے جائیں نہیں۔ نہیں اس میں آپ کو کلام عرب کو دیکھنا پڑے گا۔ جہاں عربوں نے یہ باب نصرہ اور ضربہ کو مغالبے کے لیے استعمال کیا ہے آپ بھی کر سکتے ہیں جہاں انہوں نے نہیں کیا آپ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ جتنی مثالیں ذکر ہوئی ہیں یہ عربوں سے ہم نے سنی ہیں۔
یہ نہیں کہ آپ جس مرضی لفظ سے اٹھا کر وہ مغالبہ کے لیے باب نصرہ یا ضربہ میں اس کو لے جائیں ایسا نہیں کر سکتے یہ کس پر موقوف ہیں؟ سماع پر موقوف ہیں یہ بڑی قیمتی بات ہے عموما طلبہ اس کو یاد نہیں رکھتے بھئی اس کو آپ نے یاد رکھنا ہے۔
اگے دیکھیے بھئی خاصیت باب سمع۔ یہ باب اکثر لازم استعمال ہوتا ہے۔ اکثر لازم۔ یہ اکثر ہے ہمیشہ نہیں متعدی بھی استعمال ہوتا ہے لیکن زیادہ تر کس طرح ہوتا ہے؟ لازم فعل لازم ہوتا ہے۔
آگے دیکھیے۔ بیماری، خوشی، غم، رنگ و عیب اور جسمانی کیفیات پر دلالت کرنے والے الفاظ زیادہ تر اسی باب سے آتے ہیں۔ یعنی ایسے الفاظ جو کس پر دلالت کریں؟ بیماری پر یا خوشی اور غم پر یا رنگ اور عیب پر یا کسی جسمانی کیفیت جسمانی حالت پر تو اس کے لیے باب سمع استعمال ہوتا ہے۔
جیسے سقیما۔ وہ بیمار ہوا۔ دیکھو یہ بیماری پر دلالت کر رہا ہے۔
فریحا۔ وہ کیا ہوا؟ خوش ہوا۔ دیکھو یہ خوشی پر دلالت ہے۔
حزینہ۔ وہ غمگین ہوا۔ دیکھو غم کا ذکر ہے۔
سویدا۔ وہ کالا ہوا دیکھو رنگ کا ذکر ہے۔ اور بلیجا۔ کشادہ
کشاد ابرو ہوا، یہ مدنی ہونا چاہیے۔ کشادہ ابرو ہوا۔ ابرو، ابرو جو ہے، یہ بھویں بھئی۔ بھویں، یہ آنکھ کے اوپر، ماتھے اور آنکھ کے درمیان جو ہڈی کے اوپر بال ہیں، یہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ بھویں اور ابرو بھی کہتے ہیں اور آپ نے دیکھا ہوگا یہ ایک آنکھ پر بھی اس طرح ہے، دوسری پر بھی اس طرح ہے اور درمیان میں ان کے فصل ہے، جدائی ہے۔
بعض لوگوں کی یہ آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ کیا ہوتی ہیں؟ ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ تو یہاں بلی جہ آیا کہ کشادہ ابرو ہوا، یعنی اس شخص کی یہ ابرو، یہ بھویں آپس میں جدا ہیں، کشادہ ہیں، ملی ہوئی نہیں ہیں بھئی۔ تو یہ دیکھو، ایک جسمانی کیفیت ذکر ہوئی، بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے بھئی، خاصیت باب فتحہ۔ یہ ایک ایک دو دو خاصیتیں ذکر کر رہے ہیں، میں نے بتلایا صرف یہی خاصیتیں نہیں ہیں، اور بھی خاصیتیں ہیں، لیکن یہ مختصر طور پر بس وہ اہم اہم ذکر کر رہے ہیں۔ خاصیت باب فتحہ، اس باب کی خاصیت لفظی ہے وہ یہ کہ اس باب سے صرف وہ افعال آتے ہیں جن کے عین کلمہ، لام کلمہ یا دونوں کے مقابلے میں حرف حلقی ہو بھئی۔
آپ پڑھ چکے ہیں، باب فتحہ سے وہ کلمہ آئے گا، جس کا عین یا لام کیا ہو؟ حرف حلقی ہو بھئی۔ اور پھر اس پر اشکال ہوا تھا کہ ابا یابا بھی تو اسی سے آتا ہے، اس میں تو عین یا لام حرف حلقی نہیں۔ اور صاحب علم الصیغہ نے کیا بتلایا تھا کہ میرے استاد نے یہاں کیا قید بڑھا دی؟ کہ وہ صحیح ہو بھئی اور ابا یابا تو صحیح نہیں ہے، یہ تو محموز ہے اور ناقص ہے۔
کہتے ہیں حروف حلقی چھ ہیں، حروف حلقی شش بظ ع نور عین، حرف حلقی چھ ہیں، اے میری آنکھوں کے نور! حمزہ ہا، حاء، خاء، عین، غین۔ جیسے ذہب یذھب، ذہب، اس میں دیکھو عین کیا ہے؟ ہا اور ہا جو ہے حرف حلقی ہے۔ ہا حلق سے ادا ہوتا ہے۔
عین کلمہ حرف حلقی ہے۔ فتح یفتح، اس میں کیا ہے؟ ہا ہے جو لام کلمہ ہے، تو لام کلمہ حرف حلقی ہے۔ بخل یبخو، بخل یبخو کے معنی فرماں بردار ہونا، اس میں عین اور لام کلمہ دونوں حرف حلقی ہیں۔ اور ابا یابا، یا رکن یرکنو کے۔
بھئی ابا یابا بھی اسی باب سے آتا ہے، ابھی بتایا۔ یہ عام صرفی اس کو شاذ کہتے ہیں۔ کیا معنی شاذ؟ خلاف قانون ہے۔ البتہ استعمال کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے، عرب اسی طرح بولتے ہیں بھئی، لیکن ہم نے قانون بنایا اس قانون کے اندر یہ داخل نہیں ہو رہا۔
یا رکن یرکنو، رکن یرکنو بھی آتا ہے اس باب سے، اس کو بھی علماء کیا فرماتے ہیں؟ شاذ ہے، شاذ ہے۔ اس میں بھی کوئی حرف حلقی نہیں ہے بھئی۔ جبکہ بعضوں نے لکھا کہ رکن یرکنو تداخل ابواب سے ہے، کس سے ہے؟ تداخل ابواب سے۔ تداخل ابواب یہ ہے کہ دو بابوں کو آپس میں ایک دوسرے کے اندر داخل کر دیں۔
ماضی ایک کی لے لیں، مضارع ایک کا لے لیں۔ تو رکن میں ماضی جو ہے نصرہ سے لے لی، نصرہ رکن اور مضارع جو ہے وہ سمع سے لے لیا، یسمع، یرکنو۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کس میں سے ہے؟ تداخل ابواب میں سے ہے، یعنی عرب اس طرح بولتے ہیں، ماضی اس کی بولتے ہیں تو کس سے بولتے ہیں؟ نصرہ سے اور مضارع بولتے ہیں تو کس سے بولتے ہیں؟ سمع سے۔
تو بعض اس کو تداخل میں شامل کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں یہ باب فتحہ سے ہی ہے۔ اچھا اگر یہ تداخل سے ہو پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں۔ ہاں اگر یہ تداخل سے نہیں ہے، کس سے ہے؟ باب فتحہ سے، تو پھر اشکال ہوتا ہے کہ اس کا تو عین یا لام حرف حلقی نہیں ہے، تو بعض جواب کیا دیتے ہیں؟ یہ تداخل ابواب کے قبیل سے ہے، یہ باب فتحہ سے ہے ہی نہیں۔
اور جبکہ بعض جواب دیتے ہیں کہ نہیں، یہ باب فتحہ ہی سے ہے، البتہ یہ پھر کہتے ہیں کہ یہ شاذ ہے، کیا ہے؟ شاذ ہے۔ دیکھیے کتاب پر کہتے ہیں اور ابا یابا یا رکن یرکنو کے عین اور لام کلمہ میں حرف حلقی نہ ہونے کے باوجود باب فتحہ سے آنا شاذ ہے۔
فائدہ، اچھا فائدے میں یہ بتلائیں گے، ادھر دیکھیے، کہ جو بھی کلمہ باب فتحہ سے آئے گا، اس کا عین یا لام حرف حلقی ہونا ضروری ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں، جس کلمے کا بھی عین یا لام حرف حلقی ہو، آپ کہیں یہ کس سے ہے؟ باب فتحہ سے، نہیں نہیں، وہ اور بابوں سے بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس سے جو آئے گا، اس کا عین یا لام حرف حلقی ہونا ضروری ہے۔ دیکھیے بھئی فائدہ، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی فعل کے باب فتحہ سے آنے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کا عین کلمہ یا لام کلمہ حرف حلقی ہو۔
یہ مطلب نہیں کہ کسی کلمہ کا عین یا لام حرف حلقی ہو تو وہ ضرور باب فتحہ سے ہوگا۔ جیسے وعد یعدو، یہ کس باب سے ہے؟ ضربہ سے، حالانکہ اس میں عین حرف حلقی ہے۔ سمع یسمع، یہ کس باب سے ہے؟ سمع سے، حالانکہ اس میں لام کیا ہے؟ حرف حلقی، تو کہتے ہیں جیسے وعد یعدو سمع یسمع، کہ ان کے عین کلمہ اور لام کلمہ کے مقابلے میں حرف حلقی ہے، مگر باب فتحہ سے نہیں۔
خاصیت باب کرمہ، یہ باب لازم استعمال ہوتا ہے، متعدی نہیں۔ یہ باب لازم استعمال ہوتا ہے، متعدی نہیں۔ ہاں، یہ معنی نہیں کہ متعدی اس سے آتے ہی نہیں۔ کوئی ایک دو کلمات آئے ہوں گے، لیکن عام طور پر باقی سارے کلمات اس کے کیا ہیں؟ لازم۔ তো یہ باب لازم استعمال ہوتا ہے، متعدی نہیں۔ اور اس باب سے تین قسم کے افعال استعمال ہوتے ہیں۔
نمبر ایک، وہ افعال جو صفت خلقی پر دلالت کریں۔ کس پر دلالت کریں؟ صفت خلقی پر۔ خلقی یعنی پیدائشی صفت ہو کسی چیز کی، اس پر دلالت کریں۔ جیسے صغرا، کبورا، صغرا کا معنی چھوٹا ہونا، چھوٹا ہوا اور کبورا کا معنی بڑا۔ دیکھو چھوٹا یا بڑا ہونا، یہ پیدائش یعنی بناوٹ کے اعتبار سے ہے۔ خلقت کے اعتبار سے ہے کہ ایک چیز کو بنایا ہی آپ نے چھوٹا، دوسری چیز کو بنایا ہی آپ نے بڑا۔
تو دیکھو خلقت کے اعتبار سے ہی ایک چیز چھوٹی ہے اور ایک چیز بڑی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ تو وہ افعال جو صفت خلقی پر دلالت کریں، یعنی جس صفت پر موصوف کی پیدائش اور خلقت ہوئی ہو، یعنی اس کی بناوٹ ہوئی ہو، جیسے حسنا، حسین ہوا۔
بھئی حسین ہونا، یہ صفت کس طرح کی ہے؟ پیدائشی ہے۔ اللہ نے پیدائش ابتدائی سے کسی کو کیا بنایا ہے؟ حسین بنایا ہے۔ کبھا، بدصورت ہوا، دیکھو کبھی ہونا یہ پیدائشی صفت ہے بھئی۔ شجحا، بہادر ہوا۔ بہادر ہونا دیکھو یہ کیا ہے؟ پیدائشی صفت ہے۔ تو حسن، قبح، بہادری خلقی اوصاف ہیں۔
اور میں نے ایک دو مثالیں اور بھی ذکر کر دی، جیسے کبورا اور صغرا بھئی، کبورا اور صغرا۔ یہ زائد مثالیں ہیں، میں جب دیا کروں، یہ نوٹ کرتے جایا کرو، یہ آپ کو کام آئیں گی بھئی، جگہ جگہ بھئی۔ তো کبورا اور صغرا، کبورا کا کیا معنی؟ بڑا ہوا۔ صغرا کا کیا معنی؟ چھوٹا، تو بڑا ہونا اور چھوٹا ہونا، یہ بھی پیدائشی صفت ہے، بناوٹ کے اعتبار سے ہے۔
دیکھو، کوئی گاڑی، فیکٹری والے چھوٹی بناتے ہیں، کوئی بڑی بناتے ہیں، تو دیکھو یہ اس کی بناوٹ، خلقت کے اعتبار سے ایک چیز کیا ہے؟ بڑی بنائی، ایک چیز چھوٹی بنائی، تو یہ اس کی بناوٹ کے اعتبار سے صفت ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی، نمبر دو، وہ افعال جو صفت خلقی تو نہ ہوں، لیکن بار بار تجربے اور مشق سے موصوف کے ساتھ صفت خلقی کی طرح لازم بن گئے ہوں، جیسے فقیہا، فقیہ ہوا۔ بھئی دیکھو، فقیہا، فقیہ ہونا۔ فقیہ کسے کہتے ہیں؟ جو علم فقہ کا ماہر ہے بھئی، جو قرآن و حدیث سے کیا کرتا ہے؟ مسائل نکالتا ہے خود۔
اب دیکھو، یہ پیدائشی صفت تو نہیں، لیکن انسان کوشش کرتا ہے، بار بار محنت کرتا ہے یہاں تک کہ اس کا ماہر بن جاتا ہے اور جب ایک دفعہ ماہر بن جائے، اب یہ صفت اس سے جدا نہیں ہوگی۔ یا جیسے، جیسے آپ نے علم صرف پڑھا، ابتدا میں آپ کو صرف نہیں آتی تھی، لیکن آپ نے مسلسل مشق کی، محنت کی، یاد کرتے رہے، کرتے رہے اور اب آپ بہترین صرفی بن گئے۔
تو یہ صفت خلقی تو نہیں آپ کے، آپ صرف کے ماہر ہیں، لیکن بار بار کی مشق سے آپ کو مہارت حاصل ہو گئی اور اب یہ صفت آپ کے ساتھ لازم ہو گئی، اب آپ سے جدا نہیں ہوتی۔
کتاب پر دیکھیے، وہ افعال جو صفت خلقی تو نہ ہوں، لیکن بار بار تجربے اور مشق سے موصوف کے ساتھ صفت خلقی کی طرح لازم بن گئے ہوں، جیسے فقیہا، فقیہ ہوا۔ فقاہت اگرچہ صفت خلقی نہیں، لیکن بار بار مشق کی وجہ سے موصوف کے ساتھ لازم بن جاتی ہے۔
یا دوسری مثال دیکھو، جیسے عدیبا۔ عدیبا یعدوب، ادیب ہونا، ادیب ہونا۔ ادیب کسے کہتے ہیں؟ جو علم ادب کا ماہر ہو بھئی، علم ادب کا ماہر ہو بھئی، انسان محنت کرتا ہے، کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ ماہر ادیب بن جاتا ہے۔ تو یہ صفت اس سے جدا نہیں ہوتی، تو یہ بھی صفت خلقی تو نہیں، لیکن اب اس کے ساتھ لازم ہو گئی، کس کی طرح؟ صفت خلقی کی طرح، تو یہ بھی کس سے آئے گی؟ باب کرمہ سے۔
آگے دیکھیے، نمبر تین، وہ افعال جو ایسی صفت پر دلالت کریں جو صفات خلقی کے ساتھ مشابہ ہو۔ توجہ ہے؟ جو، وہ افعال جو ایسی صفت پر دلالت کریں جو صفات خلقی کے ساتھ مشابہ ہوں، جیسے جنوبہ۔ جنوبہ، وہ جنابت والا ہوا۔ جنابت والا ہوا یا طہورا، وہ پاک ہوا۔ وہ پاک ہوا۔
دیکھیے آگے، یہ اگرچہ صفات خلقی نہیں۔ پاک ہونا یا جنابت والا ہونا، یہ تو صفت خلقی نہیں۔ غسل کرے گا، وضو کرے گا تو پاک ہو جائے گا۔ جب جنابت لاحق ہوگی تو کس حالت میں ہو جائے گا؟ جنابت والا ہو جائے گا۔ تو آگے دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں یہ اگرچہ صفات خلقی نہیں، لیکن خلقی صفات کے ساتھ مشابہ ہیں۔
کس کی طرح مشابہ ہیں؟ خلقی صفات کے ساتھ مشابہ ہیں، جیسے ناپاکی اور پاکی کا حکم۔ ناپاکی اور پاکی کا حکم صفت خلقی کی طرح، یعنی لگ گیا ایک چیز پر، اس کے پورے بدن پر لگ گیا۔
جنابت ہوئی تو پورے بدن پر کیا حکم لگ گیا؟ جنابت کا اور پاک ہوا تو پورے بدن پر کس چیز کا حکم لگ گیا؟ پاک ہونے کا، تو صفت خلقی کی طرح اس پر یہ وصف اس کے ساتھ لگ گیا بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی، فائدہ۔ اوصاف خلقیہ کرمہ کی طرح باب سمعہ سے بھی آتے ہیں، لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ باب کرمہ سے وہ اوصاف خلقیہ استعمال ہوتے ہیں جن میں دوام ہوتا ہے۔ جیسے حسنا۔
اس میں کیا ہے؟ دوام۔ ایک شخص حسین ہے، تو کیا حسن کبھی جدا ہوتا ہے اور کبھی واپس آتا ہے یا مسلسل رہتا ہے؟ مسلسل، یہ دوام ہے، دیکھا اس میں دوام ہے جیسے حسنو اور باب سمعہ سے آنے والے اوصاف میں دوام نہیں ہوتا، جیسے فریحا۔
وہ خوش ہوا۔ اب بتاؤ، کوئی خوش ہو تو ہر وقت خوش رہتا ہے؟ نہیں۔ نہیں، تو اس میں دیکھو دوام نہیں ہے بھئی۔ جیسے فریحا، خوشی میں دوام نہیں ہوتا۔
خاصیت باب حسیبہ۔ حسیبہ باب کی خاصیت بھئی۔ اچھا، اس کی خاصیت انہوں نے لکھی نہیں ہے، لکھ لیں بھئی۔ اس باب کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے عربی زبان میں چند ہی الفاظ آتے ہیں۔
اس باب کی خاصیت یہ ہے، اس باب کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے عربی زبان میں، کہ اس سے عربی زبان میں بہت تھوڑے الفاظ آتے ہیں۔ بہت تھوڑے الفاظ آتے ہیں۔ بات سمجھ آ رہی ہے؟ جی۔ کیا خاصیت ہے اس باب کی؟ اس باب کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے عربی زبان میں بہت تھوڑے الفاظ ائے ہیں، پوری عربی زبان میں تلاش کرو، بہت تھوڑے سے الفاظ آپ کو مل جائیں گے، جیسے صاحب فصول اکبری نے بتیس الفاظ ڈھونڈے بھئی۔
کتنے؟ بتیس الفاظ ڈھونڈے ہیں۔ پورے عربی میں۔
اب دیکھیے کتاب پر، صاحب فصول اکبری نے اس باب سے آنے والے الفاظ اپنی کتاب میں بتیس درج کیے ہیں، جن میں سے بعض کی مثالیں انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔ یہ کچھ الفاظ ہیں بھئی، کل انہوں نے کتنے فرمایا؟ کتنے ملے مجھے؟ بتیس، آپ تلاش کریں، ہو سکتا ہے دو تین چار آپ کو بھی مل جائیں مزید، لیکن بہت تھوڑے عرب میں بتیس سے کچھ ہی زائد آپ کو شاید مل جائیں۔
تو اب وہ لفظ ذکر کر رہے ہیں۔ نمبر ایک دیکھو، نعیما خوشحال ہوا، نمبر دو، ومقا، اس نے دوست رکھا۔ نمبر تین، وبقا، وہ ہلاک ہوا۔ نمبر چار، وثقا، اس نے بھروسہ کیا، اعتماد کیا۔ نمبر پانچ، وفیقا، وہ موافق ہوا۔
نمبر چھ، ورثا، وہ وارث ہوا۔ نمبر سات، وریھا، وہ پرہیزگار ہوا۔ نمبر آٹھ، وریما، وہ سوج گیا۔ وریما، وریم کا کیا معنی؟ سوجھا۔ وریما، وہ سوج گیا، زخم، چوٹ وغیرہ لگ گئی، سوج گئی، تو وریما اس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
نمبر نو، وریا، چکما سے آگ نکلی۔ چکما بھئی، آج کل تو اللہ نے آسانی فرما دی، آپ ماچس کی تیلی کے ذریعے آرام سے آگ جلا لیتے ہیں۔ قدیم زمانے میں دو پتھر ہوتے، ان کو آپس میں زور زور سے ٹکراتے اور اس کے ذریعے آگ جلاتے تھے، ان کو چکما کہتے بھئی اور وہ بڑا مشکل کام ہوتا، آگ کو جلانا، اس لیے عموماً دیہات کے اندر یہ آسان کام نہیں تھا تو دیہات والے ایک دوسرے سے پوچھتے بھئی فلاں کے گھر آگ ہے، اگر جل رہی ہے، تو پھر وہاں سے تھوڑی سی جلا کر لے آتے بھئی۔
ورنہ خود جلانا پڑتی تو بڑا مشکل کام ہوتا بھئی۔ تو وریا چکما سے آگ نکلی، نمبر دس، ولیھا، وہ قریب ہوا۔ نمبر گیارہ، وعیرا، کینہ رکھا۔ نمبر بارہ، وجیرا، سخت ناراض ہوا۔ نمبر تیرہ، ولیھا، وہ حیران ہوا۔ نمبر چودہ، وہیلا، وہ بزدل ہوا۔ نمبر پینسرہ، وعیما، نعمت کی دعا کی۔
نمبر سولہ، وطیا، اس نے پیروں سے روندا، اسی چیز کے اوپر پیر رکھنا، پیروں سے روندنا۔ وطیا، اس نے پیروں سے روندا۔ نمبر سترہ، یائیسا، وہ ناامید ہوا۔ اٹھارہ، وقیا، اس نے خوشی سے کام کیا۔
یہ مثالیں دیں انہوں نے، لیکن ان کے ساتھ مصدر ذکر کرنے چاہیے تھے بھئی۔ باپ کا تو پتہ چل رہا ہے، باپ کیا ہے؟ حسیبہ یحسبو، نعیما، دیکھو ان لفظوں پہ نعیما ینعیمو، ومقا، یمیقو، وبقا، یبقو، وثقا، یثقو، وفیقا، یفیقو۔ تو افعال کا تو آپ کو پتہ چل گیا۔
گا، لیکن مصادر مختلف آتے ہیں ان کے، تو یہاں پر مصدر کو ذکر کرنا چاہیے تھا ان کو بھئی۔ ہر ایک کا۔ اگر آپ کو موقع ملا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لغت سے مصدر کو آپ کو لکھنا چاہیے بھئی۔ اور یہ یاد رکھو اس میں سے صرف نعیمہ اور حاصبہ یہ دو صحیح ہیں۔
نعیمہ اور حاصبہ، باب حاصبہ ہے نا، تو حاصبہ اور نعیمہ یہ صحیح ہیں ہفت اقسام میں، باقی سارے آپ دیکھ لیں، وہ سارے کے سارے معطل ہیں بھئی۔ سارے کیا ہیں؟ معطل ہیں، حروف علت ان کے اندر آ رہے ہیں۔
آگے دیکھیے۔ فائدہ، باب حاصبہ سے آنے والے الفاظ چونکہ معدود و محصور ہیں۔ معدود و محصور ہیں؟ یعنی تھوڑے سے ہیں جو شمار کیے ہوئے ہیں۔ معدود کا معنی، شمار کیے ہوئے، محصور کا معنی بھی شمار کیے ہوئے جو بند ہیں کچھ تعداد ہے ان کے خاص۔ تو کہتے ہیں، باب حاصبہ سے آنے والے الفاظ چونکہ معدود و محصور ہیں، اس لیے اس باب سے آنے والے الفاظ کی تعداد ذکر کی جاتی ہے۔
چنانچہ متن میں اٹھارہ الفاظ درج کیے گئے، باقی الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔ اچھا، انہوں نے سارے ہی ذکر کر دیے! بھئی، متن کی بات ہوئی، متن وہی فصول اکبری جس سے یہ خاصیات ابواب انہوں نے لی ہیں۔
اس متن میں کتنے لفظ ذکر؟ یہ کہہ رہے ہیں اٹھارہ ذکر ہیں اور کل کتنے بتلائے ہیں مصنف نے؟ بتیس، تو باقی بھی ہم ذکر کر دیتے ہیں۔ وہ آگے دیکھیے نمبر ایک، وعق جلدی کی اس نے۔ نمبر دو، وقمہ غمگین ہوا۔
نمبر تین، وفیہ سست ہوا۔ نمبر چار، وہیا پھٹا۔ نمبر پانچ، وحیمت حاملہ عورت نے کھانے کی چیز کی زیادہ خواہش کی۔ نمبر چھ، وریحت عورت زیادہ موٹی ہو گئی۔
نمبر سات، وبطہ کمزور ہوا۔ نمبر آٹھ، بائسا تنگ حال ہوا۔ نمبر نو، وجید پایا۔ نمبر دس، وہینا کمزوری کی۔ نمبر گیارہ، وجعا دردمند ہوا۔
نمبر بارہ، یبیس خشک ہوا۔ یبیس ہے، یہ با ہے۔ یبیس خشک ہوا۔ نمبر تیرہ، وہیمہ اس نے وہم کی، اس نے وہہم کیا۔ نمبر چودہ، ولغا کتے نے منہ ڈالا۔ کتا کسی برتن پانی وغیرہ میں منہ ڈالے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولوغ کہتے ہیں۔ ولوغ۔ ولغا کتے نے منہ ڈالا۔
نمبر پندرہ، حاصبہ گمان کیا۔ واضح رہے کہ اس باب سے آنے والے الفاظ دوسرے ابواب سے بھی استعمال ہوتے ہیں، چنانچہ خود حاصبہ قرآن مجید میں باب سمعہ سے بھی استعمال ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
کدھر؟ یہ تینتیس ہوگئے، پندرہ اور اٹھارہ۔ یہ کتنے ہیں؟ تینتیس ہوگئے بھئی، یہ اٹھارہ پیچھے تھے اور پندرہ یہ تو تینتیس ہوگئے، میں نے بتلایا بھئی کہ صاحب فصول اکبری کو بتیس ملے ہیں، کتنے ملے؟ بتیس ملے۔
تو ایک ان کو زائد مل گیا، تینتیس مل گئے، تینتیس ہوگئے، آپ کو ایک آدھ اور مل جاتا ہے اس کا بھی اضافہ کر سکتے ہیں، بس بتلانے کا مقصد یہ ہے کہ پوری عربی زبان میں یہ چند لفظ ہی آئے ہیں اس باب سے اور الفاظ نہیں ہیں بھئی، یعنی تھوڑے سے لفظ ہیں، چاہے تیس ہوں، بتیس ہوں، پینتیس ہوں، تو دیکھو یہ تو بہت تھوڑے سے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے بھئی! ابواب ثلاثی مزید فی، خاصیات باب افعال۔ اس باب کی پندرہ خاصیات ہیں، نمبر ایک تعدیہ، نمبر دو تصییر، نمبر تین الزام، نمبر چار تعریض، نمبر پانچ وجدان، نمبر چھ سلب، نمبر سات اعطائے ماخذ، نمبر آٹھ بلوغ، نمبر نو نمبر نو سیرورت، نمبر دس لیاقت، نمبر یاعون، نمبر بارہ مبالغہ، نمبر تیرہ ابتدا، نمبر چوکدہ موافقت مجرد و تفعیل و تفعّل و استفعال۔ نمبر پندرہ مطاوعت مجرد و تفعیل۔ یہ پندرہ خاصیات ہیں باب افعال کی، اور پندرہ کا یہ معنی نہیں کہ یہی پندرہ ہیں اور ہیں ہی نہیں۔
بازوں نے ایک دو اس پر بھی زائد ذکر کی ہیں، لیکن یہ عام مشہور جو خاصیات ہیں وہ ذکر ہیں یہاں پر۔ نمبر ایک ہے تعدیہ بھئی۔ بھئی تعدیہ کسے کہتے ہیں؟ ادھر دیکھو۔
تعدیہ ابھی میں نے بتایا کہ کوئی فعل لازم ہو اس کو باب افعال میں لے جائیں تو وہ کیا بن جائے گا متعدی، یعنی پہلے فعل لازم تھا اس کے لیے مفعول نہیں چاہیے تھا، اب باب افعال میں لے گئے تو اب اس کے لیے مفعول چاہیے ہوگا، جیسے جلسہ کا معنی بیٹھنا، اس کے لیے مفعول نہیں چاہیے، لیکن اس کو باب افعال میں لے گئے اجلسہ تو معنی کیا ہوا؟ بٹھانا، اب کسی دوسرے کو بٹھانا تو اس کے لیے مفعول چاہیے بھئی، یا اسی طرح دوسری مثال ہے خراجہ، خراجہ کا معنی خود نکلنا، لیکن اسی کو باب افعال میں لے گئے اخرجہ تو اس کا کیا معنی ہوا؟ نکالنا، دوسرے کو نکالنا تو اس کے لیے دیکھو تو اس کے لیے دیکھو مفعول چاہیے ہوگا بھئی۔
اور نیز یہ بھی یاد رکھیے، تعدیہ کی مختلف صورتیں ہیں، توجہ ہے؟ تعدیہ، تعدیہ کا معنی متعدی بنانا، متعدی بنانے کی مختلف صورتیں ہیں۔
فعل لازم تھا اور باب افعال میں لے گئے تو کیا بن گیا؟ متعدی، تو دیکھو اس کو متعدی بنا دیا باب افعال میں لے جا کر، پہلے کیا تھا؟ لازم۔ توجہ ہے؟ پہلے کیا تھا؟ فعل لازم، مفعول چاہیے تھا؟ نہیں۔ اب مفعول چاہیے، تو یہ بھی تعدیہ ہے۔
اور کبھی، کبھی وہ ایک مفعول چاہتا تھا وہ فعل، باب افعال میں لے گئے تو اب دو چاہے گا۔ یا پہلے وہ دو مفعول چاہتا تھا، اب باب افعال میں لے گئے تو تین مفعول چاہے گا، دیکھو مفعول بڑھ گئے۔ اس کو بھی تعدیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تعدیہ۔
تو اس کو بھی تعدیہ کہتے ہیں، دیکھو خود بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں تعدیہ کے لغوی معنی ہے تجاوز کرنا۔ تجاوز کرنا، بڑھ جانا۔ اور اصطلاحی معنی ہے فعل لازم کو متعدی بنانا، اور فعل متعدی میں ایک اور مفعول کا اضافہ کرنا۔
اگر پہلے ایک مفعول چاہتا تھا تو اب دو چاہے، اور پہلے دو چاہتا تھا تو اب تین چاہے، یعنی اگر وہ فعل مجرد میں لازم ہے تو باب افعال میں متعدی بایک مفعول ہوگا، جیسے خرج زید زید نکلا، باب افعال میں اخرجہ زید عمرا، زید نے عمرا کو نکالا کہا جائے گا، دیکھو اب مفعول آ گیا۔
اسی طرح جلستو میں بیٹھا، اور اجلستو زیدا میں نے زید کو بٹھایا، متعدی بایک مفعول باب افعال میں متعدی بدو مفعول ہو جاتا ہے۔
متعدی بایک مفعول، جو متعدی تھا ایک مفعول کو، وہ باب افعال میں متعدی بدو مفعول ہو جاتا ہے، کتنے مفعول ہو جاتے ہیں؟ دو ہو جاتے ہیں، جیسے حفر زید بئرا، زید نے کنواں کھودا، حفر کا معنی کھودنا اور بئرا یہ مفعول ہے کنویں کو کہتے ہیں، حفر زید بئرا، زید نے کنواں کھودا اور باب افعال میں لے جاؤ احفرتو زیدا بئرا، میں نے زید کو کنواں کھودنے میں مدد دی۔
اور شارحین اس کا ترجمہ کرتے ہیں احفرتو زیدا بئرا، میں نے زید سے کنواں کھدوايا۔ حفرو بئرا میں نے خود کنواں کھودا، اور احفرتو زیدا بئرا میں نے زید سے کنواں کھدوايا۔ یا اور مثال لے لو، فہما اور افہما۔ فہما کا معنی سمجھنا، ایک مفعول چاہتا ہے، فہمت المسئلۃ، میں مسئلہ سمجھ گیا۔
اور میں کہتا ہوں میں نے زید کو مسئلہ سمجھا دیا، تو باب افعال میں لے جاؤں گا، افہمت زید المسئلۃ، میں نے زید کو وہ مسئلہ سمجھا دیا، اب دیکھو دو مفعول ہو گئے۔ توجہ ہے؟ یا اور مثال لے لو عقل۔
اکلا یاکل کا معنی ہے کھانا کھانا، اکلو طعامن میں نے کھانا کھایا، اسی کو باب افعال میں لے جاؤ۔ اب دو مفعول چاہے گا، اکلو زید طعامن، میں نے زید کو کھانا کھلایا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ مثالیں نوٹ کرتے جا رہے ہیں بھئی۔ جی فہما اور افہما، اکلا اور اکلا۔
आगे देखिए، متعدی بدو مفعول متعدی بس مفعول ہو جاتا ہے، وہ جو دو مفعول کو متعدی ہو، وہ متعدی بس متعدی بس مفعول ہو جاتا ہے، تین مفعولوں کو متعدی ہو جاتا ہے، جیسے علمت زیدا فاضلا۔
علمہ دو مفعول چاہتا ہے، علمت زیدا فاضلا، میں نے زید کو فاضل جانا۔ میں نے زید کو فاضل جانا۔
اب اسی کو باب افعال میں لے جاؤ کیا بنے گا؟ اعلمتو عمرا زیدا فاضلا، میں نے عمر کو بتلایا کہ زید کیا ہے فاضل، اب دیکھو تین مفعول آ گئے، اعلمتو عمرا زیدا فاضلا۔
تو کہتے ہیں اور باب افعال میں اعلمتو زیدا عمرا فاضلا، میں نے زید کو بتلایا کہ عمر فاضل ہے۔
جی دوسرا خاصہ ہے باب افعال کا تصییر، تصییر کے لغوی معنی ہے پھیرنا، یعنی حالت بدلنا، ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصییر۔ اور اصطلاحی معنی ہے فاعل کا مفعول کو ماخذ والا بنانا۔
فاعل کا مفعول کو ماخذ والا بنانا۔ ماخذ سے مراد وہ اسم ہے جو فعل کا اصل ہوتا ہے، یعنی جس سے فعل بنا ہوتا ہے، جیسے اشرقت النعل۔
بھئی شراکت، توجہ ہے؟ شراکت، شراکت چھوٹا کاف ہے، شراکت کہتے ہیں تسمے کو، یہ بوٹ وغیرہ میں، بوٹ جس باندھتے ہیں، بند کرتے ہیں۔ اس تسمے کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ شراکت۔ اسی شراکت سے فعل بنا لیا، اشرکا۔ اشرکت النعل، کیا معنی؟ نعل جوتے کو کہتے ہیں۔ میں نے جوتے کو تسمے والا بنا دیا۔ جوتے کو تسمے والا۔
دیکھو، تو یہ اشرکا، تو یہ اشرکا فعل کس سے بنا؟ شراکت سے، اور شراکت مصدر ہے یا تسمے کا نام ہے؟ تسمے کا نام ہے، تو دیکھو یہ اس کا ماخذ ہوا، ماخذ اسم بھی ہو سکتا ہے، وہ اس میں جامد وغیرہ اور مصدر بھی ہو سکتا ہے۔
تو ماخذ سے مراد وہ اسم ہے جو فعل کا اصل ہوتا ہے، جیسے اشرقا۔ عراق میں داخل ہوا، فعل کا ماخذ عراق ہے۔ دیکھو عراق ایک ملک کا نام ہے، اسی سے باب بنا لیا کیا؟ اشرقا۔ اشرقا۔
کیا معنی؟ عراق میں داخل ہوا بھئی، ماخذ میں داخل ہوا۔ اور اقطاع فعل کا ماخذ کیا ہے؟ قطعون، تو میں نے اس کو کاٹ دیا یعنی جعلتہ زاقاتین، میں نے اس کو قطع والا بنا دیا۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے، بس کریں بھئی، بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقتہ الکلام۔