آگے سبق دیکھیے بھئی، نبیضہ آنکھ ہے قبل دیگر اخوانِ اشتقاقی آنکھ کلمہ شناختہ میشود، مثل آدرون کہ بلفظ دارون واحد و دورون جمع دوئرتہ تصغیر معلوم میگردد کہ در آدرون عیب بجائے فار رفتہ۔
و همچنیں در قسیون از لفظ قوس وتقوس مدرک میگردد کہ اصل قسیون قوسون بودہ۔
و همچنیں قلب شناختہ میشود با ایں کہ کہ اگر قائل بہ قلب نہ شود، منصر بے سبب لازمی آید چنان کہ در اشیاء۔
بھئی پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے بھئی۔
سب سے پہلا فائدہ بھئی، مکمل خلاصہ اس کا پھر سن لیجیے بھئی تاکہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔
مصنف رحمہ اللہ اپنے استاد محترم کے کچھ افادات ذکر فرما رہے ہیں۔
سب سے پہلا فائدہ یہ ذکر فرمایا کہ معتل سے جو باب افعال اور استفعال آتے ہیں ان میں سے بعض کلمات کے اندر اعلال ہوتا ہے اور بعض کے اندر اعلال نہیں ہوتا، یعنی ان میں تصحیح ہوتی ہے وہ صحیح سلامت رہتے ہیں بغیر اعلال کے۔
اور یہ جو صحیح سلامت رہتے ہیں بغیر اعلال کے، یہ بھی اچھے خاصے الفاظ ہیں تھوڑے نہیں ہیں۔
تو باقی صرفی حضرات جو ہیں، انہوں نے ان سارے صحیح الفاظ کو شاذ قرار دیا ہے۔
یعنی عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے، البتہ یہ قانون کے خلاف ہیں، قانون کے مطابق ان میں اعلال ہونا چاہیے تھا، لیکن اعلال ہوا نہیں۔
اعلال اس لیے ہونا چاہیے تھا کہ ساری شرائط یہاں پر پوری ہیں بھئی۔
جیسے ارواح یرویح ارواحاً، اس میں اعلال ہونا چاہیے تھا اور اراح یریح اراحۃً کہنا چاہیے، جیسے اقامہ یقیم اقامۃً۔
اسی طرح استصوب یستصوب استصواباً، اس کے اندر بھی اعلال نہیں ہوا، حالانکہ اس میں بھی شرائط پوری ہیں، استصوبا، واؤ کی حرکت صاد کو دے کر واؤ کو الف سے بدلنا چاہیے اور استصواب یستصیب استصواباً باب ہونا چاہیے، جیسے کہ استقام یستقیم استقامۃً کے اندر اعلال ہوا ہے۔
تو بعض بابوں میں اعلال ہوا اور بعضوں میں اعلال نہیں ہوا، صرفی حضرات کیا فرماتے ہیں؟ جن میں اعلال نہیں ہوا اور شرائط پوری ہیں ان کو وہ شاذ قرار دیتے ہیں۔
میرے استاد محترم ایسی تقریر فرماتے تھے کہ یہ جن کو باقی صرفیوں نے شاذ قرار دیا ہے، ان کا شاذ ہونا ختم ہو جاتا تھا اور وہ ضابطے کے مطابق ہو جاتے تھے۔
اور وہ اس طرح کہ میرے استاد محترم فرماتے تھے کہ یہ جو اقامہ یقیم اقامۃً کے اندر اور استقام یستقیم استقامۃً کے اندر جو قانون جاری ہو رہا ہے، وہ باع یبیع اور یباع والا قانون ہے۔
اور اس قانون کی جو شرائط ہیں، ان میں ایک شرط کا اضافہ ہونا چاہیے، اور وہ شرط یہ ہے کہ وہ واؤ اور یا متحرک جن کی حرکت آپ کس کو دینا چاہتے ہیں؟ ما قبل کو دینا چاہتے ہیں، ان میں شرط یہ ہے کہ ان کے مصدر کے اندر اس واؤ یا یا کے بعد الف نہیں آنا چاہیے۔
اور چونکہ ارواح یرویح ارواحاً، تو دیکھو ارواح کے اندر ہم نے واؤ کی حرکت را کو نہیں دی، کیونکہ یہاں شرط پوری نہیں، شرط کیا تھی؟ کہ اس کے مصدر کو بھی دیکھنا ہے کہ مصدر کے اندر اس واؤ کے بعد الف تو نہیں، اور ارواح یرویح ارواحاً یہاں مصدر کے اندر تو واؤ کے بعد کیا آرہا ہے؟ الف تو یہاں شرط پوری نہیں، اس لیے قانون جاری نہیں ہوا، یہ قانون کے مطابق ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
اسی طرح استصوب، یہاں پر ہم واؤ کی حرکت صاد کو دینا چاہتے ہیں، لیکن قانون میں ایک شرط کیا تھی؟ کہ اس کے مصدر کو بھی دیکھ لینا کہ کہیں اس واؤ یا یا کے بعد جس کی آپ حرکت ما قبل کو دینا چاہتے ہیں، مصدر میں اس واؤ یا یا کے بعد الف تو نہیں ہے؟ تو ہم نے دیکھا استصواب، یہاں پر اس واؤ کے بعد کیا ہے مصدر میں؟ الف ہے، تو شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو اعلال بھی نہیں ہونا چاہیے، تو یہ قانون کے مطابق ہے بھئی، قانون بھی یہ تھا کہ شرائط پوری ہوں تو اعلال کرو، شرائط پوری نہ ہوں تو اعلال نہ کرو، اور ان میں شرائط پوری نہیں تو اعلال بھی نہیں کریں گے بھئی، کیونکہ ان کے مصدر میں کیا ہے؟ اس واؤ یا یا کے بعد الف آرہا ہے بھئی۔
اور جن مصادر میں اعلال ہوا ہے، اقامہ یقیم اقامۃً اور استقام یستقیم استقامۃً، ان کے مصدر کہتے ہیں اقامۃً کی اصل اقوام نہیں ہے بلکہ یہ اقومۃً تھا بر وزن افعلۃً بھئی۔
اور اسی طرح استقامۃً اصل میں استقوام نہیں تھا بلکہ استقومۃً تھا بھئی، استفعالۃً وزن پر، اور اجوف سے یہ مصدر کا یہ وزن بھی آتا ہے باب افعال اور استفعال میں، اجوف سے دو مصدر آتے ہیں اس باب باب افعال کے، ایک افعال اور ایک افعلۃً بھئی، تو جن مصدروں میں اعلال ہوا ہے اقامہ یقیم اقامۃً، وہ افعال وزن پر نہیں تھے بلکہ افعلۃً وزن پر تھے، یعنی اقومۃً، اور اقومۃً میں تو مصدر کے اندر دیکھو واؤ کے بعد الف نہیں ہے، تو یہاں شرائط پوری ہیں، اس لیے اعلال ہو گیا پورے باب کے اندر۔
اور اسی طرح استقامۃً جو ہے، وہ اصل میں استقوام نہیں تھا بلکہ یہ دوسرا مصدر ہے بر وزن استفعالۃً بھئی۔
یہاں پر دیکھو واؤ کے بعد الف نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں یہ اجوف کے ساتھ یہ مصدر خاص ہے، اجوف میں آتا ہے اور ہفت اقسام میں کسی کے اندر یہ نہیں آتا، تو دو دو مصدر ہو گئے، باب افعال کے بھی دو مصدر ایک افعال اور ایک افعلۃً اجوف میں، اور باب استفعال کے بھی دو مصدر ہو گئے استفعال اور استفعالۃً، جن میں اعلال ہوا ہے وہ استفعالۃً اور افعلۃً وزن پر ہیں، اور جن میں اعلال نہیں ہوا وہ افعال اور استفعال وزن پر ہیں، جہاں واؤ اور یا کے بعد الف آ جاتا ہے تو پھر اعلال نہیں کرتے۔
مصنف کی اس تقریر پر پھر اعتراض ہوا کہ آپ کی تقریر سے تو یہ پتہ چلا کہ مصدر اعلال میں اصل ہے، مصدر میں اعلال ہو تو فعل میں اعلال کرتے ہیں، مصدر میں اعلال نہیں تو فعل میں بھی اعلال نہیں، کیوں؟ کیونکہ آپ نے کیا بتایا؟ ارواح، ارواح میں اعلال نہیں کریں گے کیونکہ واؤ کے بعد کیا آرہا ہے؟ الف، اور جب ارواح میں اعلال نہیں کیا تو ارواح یرویح، وہاں تو کوئی الف نہیں، لیکن وہاں پر بھی اعلال نہیں کیا گیا، تو فعل کس کے تابع کر دیا آپ نے؟ مصدر کے۔
اسی طرح باب استفعال کے اندر بھئی، استصوب یستصوب استصواباً، استصواب میں واؤ کے بعد چونکہ الف ہے تو مصدر کے اندر اعلال نہیں، جب مصدر میں اعلال نہیں تو فعل استصوب یستصوب میں بھی اعلال نہیں کیا، حالانکہ یہاں تو اس واؤ کے بعد کوئی الف موجود نہیں۔
تو معلوم ہوا مصدر میں اعلال ہو تو فعل میں بھی اعلال ہوتا ہے، اور مصدر میں نہ ہو تو فعل میں بھی اعلال نہیں ہوتا، حالانکہ اس سے ماقبل قام قیاما اور قام قیوماً میں آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ فعل اعلال میں اصل ہے، فعل میں اعلال ہو تو مصدر میں اعلال کرتے ہیں، فعل میں اعلال نہ ہو تو مصدر میں بھی اعلال نہیں کرتے۔
جیسے قام اصل میں کیا تھا؟ قاوما، تو یہ پھر واؤ کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ قام، تو دیکھو فعل میں اعلال ہوا، اسی لیے اس کا مصدر قیام یہ اصل میں کیا تھا؟ قوام، تو یہاں واؤ سے ماقبل کسرہ ہے اسی واؤ کو یا سے بدل دیا تو کیا بن گیا؟ قیام، تو مصدر میں اعلال اس لیے کر لیا کیونکہ فعل میں اعلال ہوا تھا، قامہ میں اعلال ہوا تھا، اس لیے قیام میں کیا کر دیا؟ اعلال، ورنہ قیام تو اصل میں کیا تھا؟ قوام تھا۔
اور اگر فعل میں اعلال نہ ہو تو مصدر میں بھی اعلال نہیں کرتے، جیسے قاوما قیوماً بھئی، قاوما فعل کے اندر واؤ کے اندر کوئی اعلال نہیں، تو اس کا جو مصدر ہے قیوماً، وہاں بھی واؤ کے اندر کوئی اعلال نہیں کیا۔
قیاماً کی اصل کیا تھی؟ قیوماً، اور یہ بھی کیا ہے؟ قیوماً، دونوں قیوماً ہیں، بالکل ایک جیسے قاوماً قیوماً اور قام قیاما، قیاماً اصل میں کیا تھا؟ قیوماً، تو دیکھو دونوں قیوماً ہیں، لیکن ایک قیوماً کو ہم نے قیاماً کر دیا اور دوسرے قیوماً کو اسی طرح رکھا، کیوں؟ کیونکہ ایک کے فعل میں اعلال ہوا تھا تو مصدر میں بھی اعلال کر دیا، دوسرے قاوما کے فعل میں اعلال نہیں تو اس کے مصدر قیوماً میں بھی اعلال نہیں۔
تو آپ کی اس تقریر سے تو پتہ چلا تھا کہ فعل اعلال میں اصل ہے اور مصدر اس کے تابع ہے۔
تو مصنف نے پھر اس کا جواب دیا کہ یہ اصل اور فرع ہونا یہ ایک سرسری اور سطحی بات ہے، اور صرفی کا یہ اصل مقصد نہیں ہوتا کہ وہ ایک کو اصل قرار دے اور باقیوں کو فرع قرار دے، بلکہ صرفی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمام صیغے ایک دوسرے کے مناسب ہو جائیں، یا یوں کہو پورا باب ایک جیسا ہو جائے، یہ نہیں کہ کہیں تو اعلال ہو رہا ہے اور کہیں پر اعلال نہیں، کچھ صیغوں میں اعلال ہو رہا ہے اور کچھ صیغوں میں اعلال نہیں ہو رہا یہ مناسب نہیں ہے۔
تو صرفی کے نزدیک اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ پورے باب کا حکم ایک جیسا ہونا چاہیے، چنانچہ اسی لیے کہتے ہیں دیکھو وعد یعدو، یہ یعدو کے اندر جو ہے واؤ درمیان میں آیا یا مفتوح اور کسرہ کے تو اس واؤ کو گرا دیا گیا۔
اب تعدو میں بھی یہ واؤ گرا دیا، اعدو میں بھی یہ واؤ گرا دیا، نعدو میں بھی یہ واؤ گرا دیا۔
تو باقی سارے صیغوں کو ہم نے یعدو کے تابع کر دیا، اگرچہ باقی صیغوں میں کوئی ثقل نہیں، ثقل تو صرف کس میں تھا؟ یعدو میں، کہ واؤ کس کے بیچ آیا؟ یا مفتوحہ اور کسرہ کے، جبکہ باقی تعدو اعدو نعدو ان میں تو یا مفتوحہ ہے ہی نہیں۔
تو یہاں پر پورے باب کا حکم ایک کرنے کے لیے کیا کر دیا گیا؟ سب کو یعدو کے تابع کر دیا گیا۔
جبکہ باب افعال کے اندر اکرم یكرم، یہ یكرم کے اندر ہمزہ گرایا گیا، کیونکہ متکلم کے صیغے میں دو ہمزہ جمع ہو رہے تھے، اور دو ہمزہ کا جمع ہونا تو ثقیل ہے تو ایک ہمزہ کو حذف کر دیا گیا۔
تو اعلال کا قوی سبب ایک صیغے میں پایا گیا تو باقی صیغوں کے اندر بھی اعلال کر دیا گیا۔
یعدو کے ایک صیغے میں اعلال کا قوی سبب پایا گیا تو باقی صیغوں کو بھی اس کے تابع کر دیا گیا۔
یہ نہیں دیکھا گیا کہ یہ اصل ہے یا فرع ہے۔
اگر صرفی کا مقصد کسی کو اصل اور باقیوں کو فرع قرار دینا ہو، تو پھر اصل تو کسی ایک کو قرار دے سکتے ہیں، یا غائب کے صیغے کو اصل قرار دے دو جیسے یعدو میں ہے، یا متکلم کے صیغے کو اصل قرار دے دو جیسے کس میں ہے؟ یکرم کے اندر ہے بھئی، وہاں کس کو اصل قرار دے دیا؟ یکرم کو۔
تو صرفی کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ پورے باب کا حکم ایک ہونا چاہیے، لہٰذا جب کسی ایک صیغے میں اعلال کا کوئی قوی سبب پایا جائے تو سارے باب میں کیا کر دیتے ہیں؟ اعلال، باقیوں کو اس کے تابع کر دیتے ہیں۔
اور اگر کسی ایک صیغے میں تصحیح کا قوی سبب پایا جائے تو جب اس کو صحیح رکھتے ہیں تو باقیوں کو بھی کیا کرتے ہیں؟ صحیح رکھتے ہیں، بغیر یہ دیکھے کہ یہ اصل ہے یا فرع۔
کیونکہ اگر اصل اور فرع ہونے کا لحاظ کرتے ہیں، تو اصل تو پھر کسی ایک کو قرار دیا جا سکتا ہے، یا تو غائب کے صیغے کو اصل قرار دیا جا سکتا ہے یا متکلم کے صیغے کو۔
اگر غائب کے صیغے کو آپ اصل قرار دیتے ہیں، تو یکرم گردان کے اندر سارے صیغوں کو آپ نے کس کے تابع کر دیا؟ متکلم کے صیغے کہ یہ تو درست ہے۔
رہے گا۔ اور اگر آپ متکلم کے صیغے کو اصل قرار دیتے ہیں، تو پھر یعِدُ کی گردان میں تمام صیغوں کو یعِدُ یعنی غائب کے صیغے کے تابع کرنا درست نہ رہے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔
اس پر پھر اشکال ہوا کہ آپ کی اس تقریر سے معلوم ہوا کہ اصل ضابطہ یعِدُ میں جاری ہوا ہے اور تَعِدُ، اَعِدُ، نَعِدُ وغیرہ کیا ہیں؟ اس کے تابع ہیں۔
حالانکہ جب اس ضابطے کی آپ تقریر کر رہے تھے قوانین کے اندر معتل کے پہلے قانون میں آپ تقریر فرما رہے تھے، تو آپ نے کہا تھا کہ یا کو اصل قرار دینا اور باقیوں کو اس کے تابع قرار دینا یہ تطویلِ لاطائل ہے۔ بے فائدہ بات کو لمبا کرنا ہے۔
تو وہاں تو آپ کہہ رہے تھے کہ یہ تطویلِ لاطائل ہے۔ بے فائدہ بات کو لمبا کرنا ہے، یعنی یہ بات پوری تفصیل کرنا کہ اصل ضابطہ کس میں لگا ہے؟ یعِدُ میں اور تَعِدُ، اَعِدُ، نَعِدُ کیا ہیں؟ اس کے تابع ہیں۔ یہ تو بات کو بلاوجہ لمبا کرنا ہے اور اب آپ ہمیں خود بتا رہے ہیں کہ اصل ضابطہ کس میں لگا ہے؟ یعِدُ میں اور باقی صیغے اس کے تابع ہیں۔
تو جواب دیں گے آپ کو کہ بھئی دراصل یہاں دو چیزیں ہیں۔ ایک ہے ضابطہ، قانون اور دوسرا ہے اس قانون اور ضابطے کا سبب اور اس کی وجہ اور اس کی علت کہ یہ ضابطہ لگا کیوں ہے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں ان کو الگ رکھنا چاہیے۔
ضابطہ جب بیان کیا جائے تو وہ مختصر ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے کہ سارے افراد کو شامل ہو، یعنی جتنے صیغوں پر لگنا ہے وہ سارے اس کے اندر داخل ہو جائیں۔ ضابطہ کیا ہونا چاہیے؟ مختصر اور جامع، یعنی تمام افراد کا احاطہ کر لے، کوئی فرد اس سے باہر نہ رہے۔
اور دوسرا ہے ضابطے کی وجہ اور اس کا سبب۔ تو ضابطے کی وجہ اور اس کا سبب وہ الگ چیز ہے کہ یہ ضابطہ لگا کیوں ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ اس طرح کیا کیوں جاتا ہے؟ تو وہ الگ ہے اس کو الگ بیان کرنا چاہیے۔
تو ضابطہ مثلاً یہ یعِدُ والا ضابطہ جب آپ بیان کر رہے ہیں، تو اس میں ضابطے کے اندر یہ نہ ذکر کرو کہ یہ ضابطہ کیوں لگا۔
کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یعِدُ کے اندر ثقل آ رہا تھا، تو یعِدُ میں اصلا لگا اور پھر تَعِدُ، اَعِدُ، نَعِدُ کو اس کے کیا کر دیا؟ تابع۔ بھئی ضابطے میں اتنی تفصیل کیوں ذکر کرتے ہو؟ ضابطے میں صرف مختصراً کہہ دو کہ اگر واؤ بیچ میں آجائے علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے، تو اس واؤ کو گرا دیتے ہیں بھئی۔
یہ کہ ضابطہ اصل میں کیوں لگا، کہاں لگا اور باقی اس کے تابع ہوئے، یہ تفصیل ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور پھر جب اس قانون کی آپ وجہ اور سبب ذکر کریں، تو وہاں پھر آپ تفصیل ذکر کریں کہ اصل میں تو یہ ضابطہ فلاں صیغے کے اندر اس وجہ سے لگا تھا اور باقی صیغے اس کے تابع تھے، تو وہاں پھر تفصیل ذکر کرنی چاہیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وہاں میں قانون ذکر کر رہا تھا، اس لیے وہاں میں نے مختصر ذکر کیا اور بتلایا آپ کو کہ باقیوں کو بھی یہ مختصر ذکر کرنا چاہیے، اصل اور تابع کی بات یہاں پر ذکر نہیں کرنی چاہیے۔
اور یہ بھی آپ کو بتلایا کہ محققین علماء کا یہی طریقہ ہے وہ جب ضابطہ ذکر کرتے ہیں مختصر اور جامع الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اور ضابطے کی تفصیل پھر جب بیان کرتے ہیں، تو وہاں پر وہ اس کا سبب، اس کی علت اور اس کی وجہ بیان کرتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا فائدہ کل ہم نے پڑھا تھا۔ دوسرا فائدہ یہ کہ ابا یا اباء جو ہے باب فتحہ سے ہے، اسی طرح قلا یقلا عز یعز اور بقا یبقا، ان سب کو علماء نے شاذ قرار دیا ہے کیونکہ یہ باب فتحہ سے ہیں، لیکن باب فتحہ کا قانون اور ضابطہ ہے کہ جو لفظ بھی اس باب سے آئے گا، اس کا عین یا لام حرف حلقی ہونا ضروری ہے۔ اور ابا یابا، قلا یقلا، عز یعز اور بقا یبقا، ان میں سے کسی میں بھی عین یا لام کی جگہ حرف حلقی نہیں تو ان میں شرط پوری نہیں۔
اور اس کے باوجود یہ کس سے آرہے ہیں؟ باب فتحہ سے، تو علماء نے ان کو شاذ قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں میرے استاد محترم اس ضابطے میں صرف ایک لفظ بڑھا دیتے تھے جس سے ان کا شاذ ہونا ختم ہو جاتا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ اس میں صحیح کی قید بڑھا دو۔ ہر وہ لفظ یا کلمہ جو صحیح ہو، ہفت اقسام میں سے کیا ہو؟ صحیح ہو اور اس باب میں سے آئے، اس کا عین یا لام حرف حلقی ہونا ضروری ہے۔
اب یہ ابا یابا وغیرہ کا شزوز ختم ہوگیا کیونکہ یہ صحیح ہیں ہی نہیں۔ ان میں سے کوئی تو ناقص ہے اور کوئی مضاف ہے بھئی اور ہم نے تو کیا کہا کہ عین یا لام کا حرف حلقی ہونا کب ضروری ہے؟ جب صحیح ہو۔ اور یہ تو صحیح نہیں، جب صحیح نہیں ہے تو ان کا عین یا لام حرف حلقی ہونا بھی ضروری نہیں اور یہ اس کے بغیر بھی باب فتحہ سے آ سکتے ہیں، لہٰذا اب یہ شاذ نہ رہے بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آگیا۔
اس کے بعد پھر ایک اور فائدہ، تیسرا فائدہ ہم نے کل شروع کیا تھا، قل، خذ اور مر کے بارے میں۔
اکَلَ یاأکُلُ، اس کا امر آتا ہے آتا ہے قل اور اخذ یاأخُذُ، کوئی چیز پکڑنا، اٹھانا، اس کا امر آتا ہے خذ، خذ۔ اور اسی طرح امر یأمرُ اس کا امر آتا ہے مر۔ قل اصل میں کیا تھا؟ اُئکُل اور پھر دوسرے ہمزہ کو واؤ سے بدلا تو کیا بنا؟ اوکُل، لیکن پھر ان دونوں ہمزہ کو شروع سے خلافِ القياس حذف کر دیا گیا، تو کیا رہ گیا؟ قل۔ اُخُذ کے شروع سے بھی دونوں ہمزہ خلافِ القياس حذف ہوئے تو کیا رہ گیا؟ خذ۔ اُؤمُر کے شروع سے بھی دونوں ہمزہ خلافِ القياس حذف ہوئے تو کیا رہ گیا؟ مر۔ تو باقی صرفی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ جو اکَلَ یاأکُلُ سے قل امر آتا ہے اور اخذ یاأخُذُ سے خذ امر آتا ہے اور امر یأمرُ سے جو مر امر آتا ہے، یہ تینوں خلافِ القياس ہیں۔
کوئی ضابطہ وغیرہ نہیں۔ بغیر کسی ضابطے کے ان کے دونوں ہمزہ کو حذف کر لیا گیا۔ یہ سب کیا ہیں؟ خلافِ القياس ہیں۔ کہتے ہیں میرے استاد محترم ایسی تقریر انہوں نے فرمائی کہ ان کا شزوز ختم ہوا اور یہ ضابطے کے مطابق ہوگئے۔
وہ کس طرح؟ وہ کہ میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ جو ان میں دونوں ہمزہ حذف ہوئے ہیں، یہ خلافِ القياس نہیں ہیں بلکہ ضابطے کے مطابق ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کے اندر قلبِ مکانی ہوا ہے۔ قلب کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک حرف کو اٹھا کر دوسرے کی جگہ لے جائیں اور دوسرے کو اٹھا کر پہلے کی جگہ لے آئیں، اس کو قلب کہتے ہیں۔ تو یہاں بھی قلب ہوا ہے بھئی، کس طرح؟
کہ قل اصل میں کیا تھا؟ اُؤکُل اُؤکُل اور پھر کاف کو یہ دوسرے ہمزہ کی جگہ لے آئے اور دوسرے ہمزہ کو اٹھا کر کاف کی جگہ لے گئے، تو کیا بن گیا؟ اُوکُل اُوکُل۔ پھر اس کے بعد یصلو والا قانون لگا اور ہمزہ کی حرکت کاف کو دے دی اور پھر پہلے ہمزہ کو بھی گرا دیا کیونکہ وہ تو ہمزہ وصل ہے، اب کاف متحرک ہے اس کی ضرورت نہ رہی، تو کیا بن گیا؟ قل۔ تو دیکھا اب یہ قانون کے مطابق ہوگیا بھئی۔
اس پر پھر اشکال ہوا کہ یصلو والا قانون تو جوازی ہے اور قل اور خذ میں تو حذف کیا ہے؟ وجوبی ہے۔ قل ہی ہم سنتے ہیں اور قل ہی عرب بولتے ہیں، اُکُل یا اُکُل یہ تو ہم نے عربوں سے نہیں سنا، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ وجوبی، حالانکہ یصلو والا قانون وہ تو جوازی ہے، یسألُ بھی پڑھ سکتے ہو اور یسلُ بھی پڑھ سکتے ہو لیکن یہاں تو ایک ہی صورت ہے، تو پھر تو معلوم ہوا یہاں حذف وجوبی بنا دیا آپ نے، تو قانون تو ہے جوازی اور آپ نے اس کو یہاں کیا قرار دے دیا؟ وجوبی یہ کیسے؟ تو جواب دیا کہ بھئی ہم ضابطے کی تقریر ایسے طریقے پر کرتے ہیں کہ یہ جو یصلو والا قانون ہے، یہ جوازی ہے لیکن اگر صیغے میں قلب ہوا ہو یا وہ افعالِ قلوب میں سے ہو، تو پھر حذف کیا ہے؟ وجوبی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی، کہتے ہیں اب ساری باتیں ضابطے کے مطابق ہوگئیں۔
یہاں چونکہ قلب ہوا، لہٰذا یہاں حذف وجوبی اور اسی طرح افعالِ رویت کے اندر بھی یہ ضابطہ کیا ہوگیا؟ وجوبی، رآی یرا، یہ یرا اصل میں کیا تھا؟ یارأ، لیکن یہاں یارأ ہم نہیں پڑھتے، ہم نے عربوں سے نہیں سنا، وہ صرف یرا پڑھتے ہیں، معلوم ہوا یہاں قانون وجوبی ہے، یہ بھی ضابطے کے مطابق ہوگیا کیونکہ یہ کس میں سے ہے؟ افعالِ قلوب میں سے ہے بھئی۔
اس کے بعد انہوں نے آپ کو قلب کی مختلف صورتیں بھی بتلائیں کہ کبھی کبھار قلب کیسے ہوتا ہے؟ فا کو عین کی جگہ لے جاتے ہیں اور عین کو فا کی جگہ لے آتے ہیں، جیسے دار کی جمع أدُر آتی ہے بھئی، اب دار میں دیکھو دال ہے، پھر الف ہے، یہ الف اصل میں واؤ تھا اور پھر را ہے، دال واؤ را، یہ ہے اس کا مادہ، لیکن أدُر اس میں دیکھیں، دال کے بعد را ہے۔ معلوم ہوا یہاں کیا ہوا ہے؟ قلب ہوا ہے تو علماء فرماتے ہیں کہ یہ اصل میں تھا أدور کیا تھا؟ أفْعُل دیکھا واؤ درمیان میں ہے، دال شروع میں ہے اور را آخر میں ہے، أدُور، أفْعُل اور پھر وہ وجوہوں والا قانون لگا اور درمیان والے واؤ کو کس سے بدلا؟ ہمزہ سے کیونکہ قانون ہے وجوہوں کا کہ واؤ مضموم اگر کسی کلمہ کے شروع میں آجائے یا درمیان میں آجائے، تو اس کو ہمزہ سے بدلنا جائز ہے، لہٰذا وجوہوں کو ہمزہ کے ساتھ یعنی اُجوہُوں پڑھنا بھی جائز، تو أدور میں کیا پڑھنا جائز؟ أدُر بھئی۔ واؤ مضموم درمیان میں آئے تو اس کو بھی ہمزہ سے بدلنا جائز، تو أدُر ہوا، پھر ہمزہ کو دال کی جگہ لے گئے اور دال کو ہمزہ کی جگہ لے آئے، تو کیا بن گیا؟ أدُر تو تھا نا اب دال کو ہمزہ کی جگہ لے جاؤ اور ہمزہ کو دال کی جگہ لے آؤ، کیا بن گیا؟ أَدُر تو دو ہمزہ اکٹھے ہوگئے۔ پہلا متحرک ہے، دوسرا ساکن، یہ تو پھر آمنہ والا قانون لگے گا کہ دوسرا ہمزہ جو ساکن ہو، اس کو پہلے ہمزہ کے موافق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے، تو أدُر سے کیا بن گیا؟ أدُر تو دیکھا اس میں قلب ہوا ہے، فا کی جگہ عین لے گئے اور عین کی جگہ فا لے آئے۔
پھر دوسری صورت ذکر کی تھی کہ کبھی کبھار قلب یوں ہوتا ہے کہ عین کو لام کی جگہ لے جاتے ہیں اور لام کو عین کی جگہ لے آتے ہیں، جیسے قوس، اس کی جمع آتی ہے قِصِیُّن۔
قوس میں دیکھو قاف، واؤ، سین اور قِصِیُّن میں دیکھو قاف، سین، یا، دیکھا معلوم ہوا یہ واؤ کس سے بدل گیا؟ یا سے اور آخر میں چلا گیا، جگہ بھی بدل گئی۔ قوس میں قاف کے بعد واؤ ہے، پھر سین ہے اور قِصِیُّن میں قاف کے بعد سین ہے اور پھر اس کے بعد وہ واؤ جو یا سے بدل چکا ہے۔ تو اس میں بھی قلب ہوا ہے۔ کس طرح ہوا یہ؟ کہ قوس کی جمع آئی قُصُووث بھئی، فُعُول وزن پر۔
فُعُول پھر واؤ کو لام کی جگہ لے گئے اور لام کو واؤ کی جگہ لے آئے، تو کیا بن گیا؟ قُصُوُوَّن، فُعُولُ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو دو واؤ جمع ہوگئے اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ فُعُول وزن کے آخر میں اگر دو واؤ جمع ہو جائیں، تو ان کے ماقبل جو ضمہ ہے، اس کو کسرہ سے بدل لیتے ہیں اور دونوں واؤ کو یا سے بدل دیتے ہیں
اور پھر یا کا یا میں ادغام کرتے ہیں تو کیا بن گیا؟ قصیّ اور پھر ص کے کسرہ کی وجہ سے قاف کو بھی کسرہ دے دیا تو کیا بن گیا؟ قصیّ۔ یہ تھا قلب کی دوسری صورت بھئی۔ اور قلب کی تیسری صورت انہوں نے یہ ذکر کی تھی،
کہ لام کو اٹھا کر فا کی جگہ لے آئیں تو فا خود بخود درمیان میں چلی گئی یعنی عین کی جگہ۔ اور عین جو ہے وہ لام کی جگہ چلا گیا۔
جیسے فعلٌ ہے۔ فعلٌ میں اگر آپ لام کو کہاں لے آؤ؟ شروع میں۔ تو کیا بن جائے گا؟ لفعٌ دیکھا لام تو شروع میں آگیا۔ فا کہاں چلی گئی؟ درمیان میں یعنی عین کی جگہ۔ اور عین کہاں چلا گیا؟ آخر میں یعنی لام کی جگہ بھئی۔
جیسے اس کی مثال کہتے ہیں اشیاء بھئی۔ اشیاء یہ جمع ہے شئ کی اور یہ اصل میں تھا شیآء۔ کیا تھا؟ بر وزن فعلاء، فعلاء۔ شیآء شئون، شین یا ہمزہ۔ فعلاء، شیآء۔ تو یہ جو پہلا ہمزہ آ رہا ہے شیآء یہ ہمزہ ہے اصلی اور الف کے بعد جو ہمزہ ہے وہ کیا ہے؟ زائد ہے بھئی زائد ہے۔
تو پھر اس پہلے ہمزہ کو اٹھا کر کہاں لے آئے؟ شین سے پہلے شین کی جگہ لے آئے تو کیا بن گیا؟ اشیاء۔ اشیاء تو یہاں قلب ہوا ہے۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کہا اشیاء اصل میں کیا تھا؟ شیآء۔ بھئی اس کی اصل کچھ اور نکالنے کی کیا ضرورت ہے؟ سیدھا سیدھا آپ کہہ دیں کہ اشیاء بر وزن افعال ہے۔ اور افعال جمع کا وزن ہے جیسے قلم کی جمع اقلام۔
افعال، اشیاء دیکھا۔ تو آپ نے اتنی لمبی بات کی کہ یہ اشیاء پہلے کیا تھا شیآء تھا پھر اشیاء بنا۔ تو کہتے ہیں نہیں ہم ایسا نہیں کہہ سکتے اس لیے کیونکہ اشیاء کا جو لفظ ہے یہ غیر منصر فہے۔ ہم نے عربوں سے سنا ہے وہ نہ اس پر کسرہ پڑھتے ہیں اور نہ تنوین۔ مان لو یہ غیر منصر فہے۔ اور غیر انصراف بغیر وجہ کے ہوتا ہے یا اس کے لیے کوئی سبب چاہیے؟ کوئی اس کے لیے دو سبب چاہیے یا ایک سبب جو دو کے قائم مقام ہو۔ تو اگر آپ اس اشیاء کو افعال وزن پر مان لیں تو پھر تو غیر انصراف کا کوئی سبب نہیں ہوگا اور بغیر کسی وجہ کے غیر منصر ف نہیں ہو سکتا بھئی۔ ہاں اگر آپ اس کو کیا مان لیں؟ شیآء کہ یہ اصل میں کیا تھا؟ فعلاء تھا اور فعلاء کے آخر میں کیا ہے الف ممدودہ ہے اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ الف ممدودہ یہ یہ سبب ہے غیر انصراف کا اور یہ دو سببوں کے قائم مقام۔ تو جب شیآء دیکھو اس کے آخر میں یہ الف ممدودہ آگیا تو یہ کیا ہوا؟ غیر منصر ف ہے بھئی کیونکہ اس کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ الف ممدودہ آ رہا ہے بھئی۔ تو اس لیے ہمیں اس کو کہنا پڑا کہ یہ اصل میں شیآء تھا یعنی فعلاء تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔
یہ تو تھا گزشتہ سبق کا خلاصہ۔ اب آئیے آج کے سبق پر بھئی۔
دیکھیے کتاب پر۔ نوشتند کہ قلب دیگر خوان اشتقاقی آن کلمہ شناختہ می شود مثل آدرون کہ بہ لفظ دارون واحد و دورون جمع و دویرات تصغیر معلوم می گردد کہ در آدرون عین بجائے فا رفتہ۔
بھئی اب بتلا رہے ہیں کہ ہم قلب کو پہچانیں گے کیسے؟ پہلے تو ضابطہ ذکر فرمایا کہ اس میں قلب ہوا ہے۔ پھر اس کے بعد بتلایا کہ قلب ہوتا کس کس طرح ہیں کچھ صورتیں ذکر کر دیں۔ اب بتلائیں گے کہ قلب کو ہم پہچانیں گے کیسے؟ تو بالکل آسان ہے پہلے دیکھو قلب کو ہم پہچانتے ہیں اسی لفظ کے اور مشتقات کو دیکھ لو۔ اسی باب کے اور مشتق کو دیکھ لو تو ان میں حروف کی ترتیب سے آپ کو پتہ چل جائے گا۔ مثلاً مثلاً آدر کے اندر ہم نے کیا کہا؟ قلب ہوا ہے۔ کیسے پتہ چلا؟ کہتے ہیں اور جو مشتقات ہیں ان کو دیکھا تو فورا پتہ چل گیا کہ یہاں قلب ہوا ہے۔ مثلاً اس کا مفرد کیا آتا ہے؟ دار دیکھو دال الف را دال اور را کے درمیان الف ہے اور یہ میں نے بتایا اصل میں کیا تھا؟ واؤ۔ اور صیغوں سے پتہ چل جاتا ہے۔ جبکہ آدر میں ایسا نہیں ہے۔ اس میں تو دال کے فورا بعد کیا ہے؟ را ہے۔ دال اور را کے درمیان کچھ نہیں معلوم ہوا اس کی جگہ بدلی گئی ہے اس میں قلب ہوا ہے۔
یہ اسی طرح دار کی جمع ہے دور۔ دور میں بھی دال ہے پھر واؤ ہے پھر را ہے اور آدر میں دیکھ لو۔ آدر میں تو دال اور را کے درمیان واؤ نہیں ہے۔ معلوم ہوا قلب ہوا ہے جگہ بدلی گئی ہے۔
اسی طرح دویرات دار کی تصغیر آتی ہے دویرات چھوٹا سا گھر۔ اس میں بھی دیکھو دال کے بعد کیا ہے؟ واؤ ہے اور پھر آگے آخر میں جا کے را آ رہی ہے۔ تو ترتیب حروف کی کیا ہے؟ اصل مادہ کے اندر دال، واؤ اور را اور آدر میں ایسا ہے؟ ایسا نہیں۔ معلوم ہوا یہاں کیا ہوا ہے؟ قلب ہوا ہے اور کس طرح ہوا تفصیل ابھی بیان ہو گئی۔
یا جیسے قسیّ کے اندر کیا ہوا ہے؟ قلب۔ کہتے ہیں اس کے اور لفظوں کو دیکھ لو اسی اس کے اور مشتقات کو دیکھ لو۔ قوس قسیّ کا مفرد کیا آتا ہے؟ قوس تو قاف واؤ سین۔ اور قسیّ میں تو قاف کے فورا بعد کیا ہے؟ سین واؤ نہیں ہے معلوم ہوا قلب ہوا ہے جگہ اس کی بدلی گئی ہے۔
اسی طرح اس سے فعل آتا ہے تقووس تقووس یتقووس تقووساً تقووس میں بھی دیکھ لیں قاف اور سین کے درمیان کیا ہے؟ واؤ ہے اور حالانکہ قسیّ میں قاف اور سین کے درمیان واؤ نہیں معلوم ہوا یہاں کیا ہوا ہے قلب ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی تو قلب کا پتہ کس سے چلتا ہے کہ اس جیسے اور لفظوں کو دیکھ لیا جائے اس کے اور مشتقات کو دیکھ لیا جائے اس کے مفرد کو دیکھ لو اسی لفظ کے جمع کو دیکھ لو اس کے فعل کو دیکھ لو ان چیزوں کو آپ دیکھیں گے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اصل حروف کی ترتیب کیا تھی اور قلب کے ذریعے کیا ہو گئی بھئی بدل گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ دیکھئیے بھئی۔
نوشتند لکھا ہے۔ کس نے لکھا ہے؟ محذوف ہے یعنی صرفی علماء نے لکھا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یا تو یہ نوشتند اسی طرح ہے لیکن بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہاں بھی کاتب لکھنے والے سے کوئی لفظ رہ گیا۔ صرفیّین نوشتند صرفی علماء نے لکھا ہے۔ اب وہ قلب کا پتہ کیسے چلے گا وہ بیان کرنے لگے ہیں دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں نوشتند صرفی علماء نے لکھا ہے کہ قلب دیگر خوان اشتقاقی آن کلمہ اخوان جمع ہے اخ کی۔ اخ اخ بھئی کو کہتے ہیں۔ تو اس کی جمع کیا؟ اخوان۔ دیگر خوان اشتقاقی آن کلمہ اس کلمے کے دوسرے اشتقاقی بھئی۔ دیگر خوان اشتقاقی آن کلمہ اس کلمے کے دوسرے اشتقاقی بھئی جو ہیں چاہے مشتق ہیں چاہے مشتق منہ وغیرہ جو بھی ہیں ان دوسرے اشتقاقی بھئی جو ہیں ان سے پتہ چلے گا۔ جیسے دار دور دویرات آدرن یہ سارے کیا ہیں؟ اشتقاقی بھئی ہیں۔ ایک ہی لفظ سے ان سب کا کیا ہوا ہے؟ اشتقاق ہوا ہے بات سمجھ میں آرہی ہے تو باقی جو اشتقاقی بھئی ہیں ان کے ذریعے شناختہ می شود پہچانا جائے گا۔ کیا طریقہ ذکر کیا کہ قلب کا پتہ ہمیں کس سے چلے گا؟ کہ اس لفظ کے جو دوسرے اشتقاقی بھئی ہیں ان سب کو دیکھ لو آپ کو خود بخود پتہ چل جائے گا کہ اصل مادہ کے اندر حروف کی ترتیب کیا ہے اور یہاں پر کس طرح قلب ہوا ہے بھئی۔
نوشتند اور صرفی علماء نے لکھا ہے کہ قلب دیگر خوان اشتقاقی آن کلمہ شناختہ می شود کہ قلب جو ہے اس کلمہ کے دوسرے اشتقاقی بھائیوں کے ذریعے شناختہ می شود پہچانا جائے گا۔ مثل آدرن جیسے کہ آدرن کہ بہ لفظ دارن واحد و دورن جمع و دویرات تصغیر اور لفظ دویرات کے ذریعے جو تصغیر ہے معلوم می گردد معلوم ہو جاتا ہے کہ در آدرن عین بجائے فا رفتہ کہ آدرن کے اندر عین جو ہے وہ فا کی جگہ چلا گیا ہے۔ و ہم چنی در قصیّ اور اسی طرح قصیّ کے اندر از لفظ قوس و تقووس مدرک می گردد لفظ قوس اور تقووس سے مدرک می گردد معلوم ہو جاتا ہے۔ ادراک یدرک ادرا کا معنی ہے جاننا تو مدرک جاننے والا اور مدرک جس کو جانا گیا یعنی معلوم۔ مدرک می گردد معلوم ہو جاتا ہے۔ بھئی قصیّ میں کیا ہوا ہے قلب کس سے پتہ چلا؟ قوس سے قاف واؤ سین اسی طرح تقووس اس میں بھی کیا ہے قاف واؤ اور سین یہاں ترتیب اور ہے وہاں ترتیب اور ہے معلوم ہوا قلب ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں وہم چنی در قصیّ از لفظ قوس و تقووس مدرک می گردد اسی طرح قصیّ کے اندر لفظ قوس اور تقووس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل قصیّ قوس بودہ کہ قصیّ کی اصل قوس تھی و ہم چنی قلب شناختہ می شود۔ اچھا ایک صورت تو یہ ہے قلب کا پتہ کس سے چلے گا؟ اسی لفظ کے دوسرے اشتقاقی بھائیوں کے ذریعے پتہ چل جائے گا اس کے مفرد کو دیکھ لیں جمع کو دیکھ لیں اس سے کوئی فعل بنا ہو اس فعل کو دیکھ لیں تو ان سے پتہ چل جائے گا۔
اسی طرح قلب کا پتہ کبھی اس طرح چلتا ہے کہ اگر ہم قلب کو نہ مانیں تو لفظ کا بلا سبب غیر منصر ف ہونا لازم آتا ہے۔ توجہ ہے؟ جی اگر ہم قلب کو نہ مانیں تو لفظ کا بغیر کسی سبب کے غیر منصر ف ہونا لازم آتا ہے۔ جیسے اشیاء اشیاء کے اندر اگر قلب نہ مانو غیر منصر ف تو یہ ہے ہی تو پھر تو بغیر سبب کے اس کو کیا ماننا پڑے گا؟ غیر منصر ف۔ اور اگر آپ اس میں قلب مان لو کہ اصل میں یہ کیا تھا؟ شیآء تھا اور پھر قلب ہوا تو اب غیر انصراف کا سبب بھی آگیا اور وہ کیا ہے؟ الف ممدودہ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں وہم چنی قلب شناختہ می شود با این کہ اسی طرح قلب جو ہے وہ پہچانا جائے گا اس کے ذریعے کہ اگر قائل بہ قلب نہ شوند کہ اگر ہم قلب کے قائل نہ ہوں یعنی قلب کو نہ مانیں تو منع صرف بغیر سبب لازم آید تو منع صرف جو ہے وہ بغیر سبب کے لازم آ جائے گا چناں کہ در اشیاء جیسے کس کے اندر ہے اشیاء کے اندر یہاں قلب نہ مانو تو پھر غیر انصراف کی کوئی وجہ ہی نہیں اور قلب مان لو تو پھر غیر انصراف کی وجہ مل جاتی ہے کہ وہ کیا ہے الف ممدودہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ کیا ذکر فرما رہے ہیں؟ کہ قلب کو پہچانیں گے کس طرح؟
ایک نشانی کیا ذکر کی قلب کے پہچاننے کی کہ اسی مادہ کے دوسرے لفظوں کو دیکھ لیں، تو پھر آپ کو قلب کا پتہ چل جائے گا۔
دوسری قلب کے پہچاننے کی یہ نشانی ذکر کی کہ اگر آپ قلب نہیں مانیں گے تو کسی لفظ کا بغیر سبب کے غیر منصرف ہونا لازم آئے گا، جیسے اشیاء۔
اگر اس میں قلب نہیں مانیں گے تو بغیر کسی سبب کے یہ غیر منصرف ہوگا، حالانکہ غیر منصرف تو بغیر سبب کے نہیں، اس کے لیے تو دو سبب چاہیے یا کوئی ایک سبب جو قائم مقام دو کے ہو بھئی۔
تو یہاں بھی قلب ماننا پڑے گا۔
اور اب تیسری اپنے استاد کی بات ذکر کرنے لگے ہیں کہ میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ قلب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اگر آپ قلب نہ مانیں تو صیغے کو شاذ کہنا پڑے، جیسے کل اور خس۔
سارے صرفیوں نے ان کو شاذ کہا ہے، لیکن اگر آپ میرے استاد کی تقریر لے لیں اور انہوں نے اس میں کیا کہا کہ اس میں کیا ہوا ہے؟ قلب ہوا ہے۔
تو اگر وہ تقریر لے لیں اور قلب کو مان لیں تو پھر یہ ضابطے کے مطابق ہو جائیں گے جیسے کہ تفصیل پیچھے بیان ہو گئی بھئی۔
تو یہ تیسری نشانی ذکر کردی۔
کہ میرے استاد محترم کیا فرماتے ہیں؟ قلب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اگر آپ قلب نہیں مانیں گے تو لفظ کو کیا کہنا پڑے گا؟ شاذ کہنا پڑے گا اور آپ جب قلب کو مان لیں گے تو وہ پھر شاذ نہیں رہے گا، تو یہ بھی علامت ہے، اس کے ذریعے بھی آپ قلب کو پہچان سکتے ہیں۔
تو تین نشانیاں ذکر کردیں۔
ایک نشانی کیا؟ کہ اسی مادہ کے دوسرے لفظوں کو دیکھ لیں۔
دوسری نشانی کیا؟ کہ اگر قلب نہ مانے تو بغیر سبب کے لفظ کا غیر منصرف ہونا لازم آتا ہے، اور قلب مان لیں تو پھر صیغہ ضابطے کے مطابق غیر منصرف ہو جاتا ہے۔
اور تیسری نشانی یہ ذکر کردی کہ اگر قلب نہ مانے تو پھر بعض صیغوں کو شاذ کہنا پڑے گا، لیکن اگر آپ قلب مان لیں تو پھر شاذ نہیں کہنا پڑتا تو یہ بھی نشانی ہے کہ معلوم ہے اس کے اندر کیا ہوا ہے؟ قلب ہوا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی۔
دیکھیے بھئی ترجمہ۔
جنابِ استادی میں فرمودند، تیسری نشانی ذکر کرنے لگے ہیں قلب کی۔
کہتے ہیں جنابِ استادی میں فرمودند، میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ ہم چونی قلب شناختہ می شود۔
اسی طرح قلب کو پہچانا جائے گا با این کہ، اس کے ذریعے کہ اگر قلب را اعتبار نہ کنند، کہ اگر ہم قلب کا اعتبار نہ کریں، شُذُوذ لازمی آید تو شُذُوذ لازم آتا ہے، یعنی کسی لفظ کا شاذ ہونا لازم آتا ہے۔
چنانچہ در کل، خس، مر، جس طرح کہ کل، خس اور مر میں ہے۔
آگے فرماتے ہیں: چنانچہ مناتر بے سبب خلافِ قیاس است و داعیِ اعتبارِ قلب گردیدہ۔
داعی، داعی کہتے ہیں بلانے والا، دعوت دینے والا۔
دعوت دینے والا۔
دیکھو اگلے جملوں کو سمجھ لیں بھئی۔
پہلے ان کا مفہوم سمجھ لیں، پھر میں ان کا ترجمہ کر دیتا ہوں۔
ان کے استاد کی تقریر چل رہی ہے، ان کے استاد کیا فرماتے ہیں کہ دیکھو جس طرح کسی لفظ کا غیر منصرف ہونا بغیر سبب کے یہ خلافِ قیاس ہے۔
کسی لفظ کا غیر منصرف ہونا بغیر کسی سبب کے، یہ کیا ہے؟ یہ خلافِ قیاس ہے، یہ خلافِ ضابطہ ہے، اصل میں تو کس کے ذریعے غیر منصرف ہونا چاہیے؟ کوئی سبب ہو، دو سبب ہوں یا ایک سبب دو کے قائم مقام۔
تو میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ جس طرح کسی لفظ کا غیر منصرف ہونا بغیر کسی سبب کے خلافِ قیاس ہے اور یہ دعوت دیتا ہے اس بات کی طرف کہ یہاں قلب کو مان لو۔
اشیاء کے اندر کیا مان لو؟ قلب کو مان لو۔
قلب کیوں مانا؟ کیونکہ اگر قلب نہیں مانتے تو بغیر سبب کے یہ کیا بن رہا ہے؟ غیر منصرف۔
تو میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ جس طرح کسی لفظ کا غیر منصرف ہونا بغیر سبب کے خلافِ قیاس ہے اور یہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ اس میں قلب کو مان لو تو پھر بات ٹھیک ہو جائے گی۔
اسی طرح کسی لفظ کے اندر تخفیف یا اعلال ہونا بغیر کسی قانون کے یہ بھی خلافِ قیاس ہے۔
پھر سنو۔
جس طرح کسی لفظ کا غیر منصرف ہونا بغیر کسی سبب کے یہ خلافِ قیاس ہے اور یہ اس بات کی طرف دعوت دیتا ہے کہ اس میں قلب کو مان لو تو بات ضابطے کے مطابق ہو جائے گی، ٹھیک ہو جائے گی۔
پھر سنو۔
جس طرح کسی لفظ کا غیر منصرف ہونا بغیر کسی سبب کے یہ خلافِ قیاس ہے اور یہ اس بات کی طرف دعوت دیتا ہے کہ اس میں قلب کو مان لو۔
اسی طرح کسی لفظ کے اندر تخفیف یا اعلال ہونا بغیر کسی ضابطے کے یہ بھی کیا ہے؟ خلافِ قیاس ہے اور یہ بھی اس بات کی طرف دعوت دیتا ہے کہ اس کے اندر قلب مان لو۔
باقی علماء نے اشیاء میں قلب مانا۔
میرے استاد محترم کل اور خس کو اسی پر قیاس کرکے فرماتے ہیں یہاں بھی قلب مان لو۔
وہاں اشیاء میں قلب کیوں مانا تھا؟ لفظ اشیاء تقاضا کر رہا ہے کہ اس کے اندر قلب کو مانا جائے تاکہ یہ ضابطے کے مطابق ہو جائے۔
اسی طرح کل اور خس کے شروع میں دو ہمزہ خلافِ قیاس گرے ہیں بھئی۔
تو یہ بھی تقاضا کر رہے ہیں کہ یہاں پر بھی کس کو مان لو؟ قلب کو مان لو تو یہ بھی کس کے مطابق ہو جائیں گے؟ ضابطے کے۔
تو ان کے استاد جو ہیں، کل اور خس کو قیاس کر رہے ہیں اشیاء پر اور اشیاء میں قلب کو کیوں مانا گیا تھا؟ تاکہ وہ ضابطے کے مطابق ہو جائے۔
اسی طرح فرماتے ہیں کہ کل اور خس میں بھی قلب کو مان لو تو یہ بھی ضابطے کے مطابق ہو جائیں گے۔
بات سمجھ میں آگئی۔
اگر قلب نہ مانے تو اشیاء غیر منصرف ہوگا خلافِ ضابطہ۔
اسی طرح کل اور خس کے اندر اگر قلب نہ مانے تو ان کے شروع میں بھی اعلال ہوا، تخفیف ہوئی، دو ہمزہ گرے یا نہیں گرے؟ اور وہ بھی کیا ہے؟ خلافِ ضابطہ۔
ولیکن قلب اشیاء میں مانا تو بات ٹھیک ہو گئی، اسی طرح قلب کل اور خس میں مان لو تو یہاں بھی بات کیا ہو جائے گی؟ ٹھیک ہو جائے گی۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔
اب دیکھیے ترجمہ۔
یہی بات جو میں نے بیان کی وہ فرما رہے ہیں کہ جیسے اشیاء میں قلب ماننا پڑا، اسی طرح کل اور خس میں بھی کیا ماننا پڑے گا؟ قلب ماننا پڑے گا تو پھر دونوں جگہ بات ضابطے کے مطابق ہوگی۔
کہتے ہیں دیکھیے: چنانچہ مناسرف جس طرح کہ مناسرف یعنی غیر منصرف ہونا جو ہے، بے سبب، بغیر کسی سبب کے، خلافِ قیاس است، یہ کیا ہے؟ خلافِ قیاس ہے و داعیِ اعتبارِ قلب گردیدہ۔
داعی کا کیا معنی؟ دعوت دینے والا، بلانے والا ہے۔
اعتبارِ قلب، کس چیز کی طرف؟ کہ قلب کا اعتبار کر لو۔
یہاں تم کس چیز کا اعتبار کر لو؟ یہاں کیا ہوا ہے؟ قلب ہوا ہے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ گردیدہ ہو گیا۔
و داعیِ اعتبارِ قلب گردیدہ اور یہ قلب کا اعتبار کرنے کا داعی ہو گیا۔
توجہ ہے؟ پھر ترجمہ سنیں: چنانچہ مناسرف بے سبب خلافِ قیاس است و داعیِ اعتبارِ قلب گردیدہ، جس طرح غیر منصرف ہونا بغیر کسی سبب کے یہ خلافِ قیاس ہے اور یہ دعوت دے رہا ہے اس بات کی طرف کہ قلب کا اعتبار کیا جائے۔
ہم چونی اسی طرح ہمزہ کے اندر تخفیف کا ہونا یا اسی طرح اعلال کا ہونا بے تحققِ علت، بغیر کسی علت کے پائے جانے کے، خلافِ قیاس است، یہ بھی خلافِ قیاس ہے۔
تخفیفِ ہمزہ یا اعلال بے تحققِ علت خلافِ قیاس است، ہمزہ کے اندر تخفیف ہونا یا اسی طرح اعلال کا ہونا بغیر کسی علت کے پائے جانے کے خلافِ قیاس است، یہ بھی خلافِ قیاس ہے و داعی بر اعتبارِ قلب می تواند شد اور یہ قلب کا اعتبار کرنے کی طرف داعی ہو سکتا ہے۔
یہ قلب کا اعتبار کرنے کا داعی ہو سکتا ہے۔
پھر سمجھو۔
اشیاء میں قلب کا اعتبار کیوں کیا؟ تاکہ وہ ضابطے کے مطابق ہو جائے۔
کیونکہ منع صرف بلا سبب یہ خلافِ قیاس ہے۔
اسی طرح کسی صیغے کے اندر تخفیف ہونا یا اعلال ہونا بغیر کسی علت کے یہ بھی کیا ہے؟ خلافِ قیاس ہے۔
اور جیسے لفظ اشیاء کو قانون کے مطابق بنانے کے لیے کس کی ضرورت پڑی؟ قلب کی۔
اسی طرح یہاں پر بھی اعلال اور تخفیف کو ضابطے کے مطابق بنانے کے لیے کس کی ضرورت پڑے گی؟ قلب کی۔
یہاں قلب مان لو بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
پھر ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لیجیے، ترجمہ ذرا یہاں مشکل ہے بھئی۔
مختصر لفظوں میں وہ لمبی بات کر گئے بھئی۔
کہتے ہیں: چنانچہ مناسرف بے سبب خلافِ قیاس است و داعیِ اعتبارِ قلب گردیدہ، جس طرح کہ غیر منصرف ہونا بغیر سبب کے یہ خلافِ قیاس ہے اور یہ دعوت دے رہا ہے کہ قلب کا اعتبار کیا جائے۔
ہم چونی اسی طرح ہمزہ کے اندر تخفیف کا ہونا یا اسی طرح اعلال کا ہونا بے تحققِ علت، بغیر کسی علت کے پائے جانے کے، خلافِ قیاس است، یہ بھی خلافِ قیاس ہے و داعی بر اعتبارِ قلب می تواند شد اور یہ قلب کا اعتبار کرنے کی طرف داعی ہو سکتا ہے کہ اس کو کیا بنا دیا جائے؟ داعیِ قلب بنا دیا جائے اور قلب کا یہاں اعتبار کر لیا جائے، بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے اگلا فائدہ بھئی۔
افادہ در لم یكن و إن یکن، گاہے نُون را حذف کردہ لم یك و إن يك می گویند و إن حذف را خلافِ قیاس گفتند۔
بھئی۔
کان یکون افعالِ ناقصہ میں سے ہے۔
کان یکون۔
اور یکون پر جب کوئی جزم والا عامل داخل ہوتا ہے تو وؤ گر جاتا ہے۔
یکون سے کیا بن جائے گا؟ یکون۔
إن یکون جیسے إن جزم دیتا ہے، إن یکون۔
یا لم جزم دیتا ہے، لم یکن۔
تو وؤ گر جاتا ہے۔
اور کبھی کبھار اس کے آخر میں جو نون ہے، اس کو بھی خلافِ قیاس گرا دیتے ہیں۔
اور إن یکون کے بجائے کیا کہہ دیتے ہیں؟ إن یک۔
اور لم یکن کے بجائے کیا کہہ دیتے ہیں؟ لم یک۔
اور اس کا کوئی ضابطہ نہیں، صرفی حضرات فرماتے ہیں کوئی ضابطہ نہیں، خلافِ قیاس، خلافِ ضابطہ اس نون کو گرا دیتے ہیں۔
کبھی اس کو برقرار رکھتے ہیں اور کبھی گرا دیتے ہیں۔
بات سمجھ میں آگئی۔
تو یہ بھی خلافِ قیاس ہے۔
تو میرے استاد محترم کہتے ہیں اس کے لیے بھی ایک ضابطہ ذکر فرماتے تھے، جس سے یہ بھی خلافِ قیاس نہیں رہتا بلکہ ضابطے کے مطابق ہو جاتا ہے۔
وہ اس طرح کہ میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ ہر وہ نون جو کسی فعل ناقص کے آخر میں آئے، ہر وہ نون جو کسی فعل ناقص کے آخر میں آئے، جب بھی اس فعل ناقص پر کوئی جزم دینے والا عامل داخل ہو، تو اس نون کو گرانا بھی جائز ہے۔
ضابطہ کیا ہوا؟ ہر وہ فعل ناقص جس کے آخر میں کیا آئے؟ نون آئے، جب اس فعل ناقص پر کوئی جزم دینے والا عامل آجائے جیسے ان یا لم وغیرہ، تو اس وقت جائز ہے اس کے نون کو گرانا بھی۔ چاہے تو گرا دیں، چاہے تو نہ گرائیں کیونکہ جوازی ہے وجوبی نہیں۔
اب دیکھو ضابطے کے مطابق ہو گیا۔ اب کوئی ایسا فعل ناقص لے آؤ، کہتے ہیں ہم نے تلاش کیا تو کانہ کے علاوہ اور کوئی فعل ناقص ہے ہی نہیں جس میں نون آخر میں آ رہا ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس پر پھر اشکال ہوتا ہے، یہ آپ نے کیسا قانون ذکر کیا جو صرف ایک ہی فعل ناقص پر صادق آ رہا ہے اور تو اس کے افراد ہی نہیں۔
قانون تو وہ ہو جو بہت سوں پر صادق آئے۔ کہتے ہیں بھئی قانون ہم نے کلی بنایا ہے، افراد بے شک زیادہ نہ ہوں اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اور ہوتا تو اس پر بھی صادق آ جاتا اور ہے ہی نہیں تو اس میں تو قانون کا کوئی نقصان نہیں ہے بھئی۔ قانون میں نقصان تب ہوتا اگر کسی لفظ میں نون آخر میں آتا اور وہ گرتا نہ، وہ قانون کے مطابق نہ ہوتا، شاذ ہوتا، یہ قانون کو نقصان دیتا ہے، قانون کے لیے نقصان دہ ہے کہ سارے لفظ اس کے قابو میں نہیں آ رہے بھئی۔
تو اگر فرد ایک ہے جس پر قانون صادق آ رہا ہے تو یہ قانون کے لیے کوئی نقصان دہ چیز نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہم نے تو کلی ضابطہ بیان کیا ہے، کوئی بھی فعل ناقص ہو، اس کے آخر میں کیا آئے؟ نون۔ جب اس پر کوئی جازم آئے گا تو اس کے آخر سے نون کو گرانا بھی جائز ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، افادہ در لم یکن و ان یکن گاہے نون را حذف کردہ، کہتے ہیں لم یکن اور ان یکن میں گاہے کبھی کبھار نون را حذف کردہ نون کو حذف کرکے لم یکو اور ان یکو میں گویئند، لم یکو اور ان یکو کہتے ہیں۔
و ان حذف را خلاف قیاس گفتند، اور اس حذف کو خلاف قیاس کہا ہے، یعنی صرفیوں نے اس حذف کو خلاف قیاس کہا ہے، جناب استادی غفراللہ لہ، کہتے ہیں میرے استاد محترم اللہ ان کی مغفرت فرمائے، میرے استاد محترم نے تقریر قاعدہ برائے آن، اس کے لیے انہوں نے ضابطے کی تقریر فرمودند فرمائی بھئی۔ انہوں نے اس کے لیے باقاعدہ ایک ضابطے کی تقریر فرمائی تو کہتے ہیں تقریر قاعدہ برائے آن فرمودند انہوں نے اس کے لیے ایک ضابطے کی تقریر فرمائی، و آن این، اور وہ تقریر یہ ہے کہ ہر نون کہ در آخر فعل ناقص واقع شود، کہ ہر وہ نون جو فعل ناقص کے آخر میں واقع ہو، حین دخول جوازم جائز است کہ حذف گردد۔
حین کا معنی وقت، حین دخول جوازم، جوازم جمع ہے جازم کی، جزم دینے والا، جزم دینے والوں کے یعنی جزم دینے والے عامل کے داخل ہونے کے وقت حین دخول جوازم، جوازم کے داخل ہونے کے وقت میں جائز است، جائز ہے کہ حذف گردد کہ وہ حذف ہو جائے۔
دیکھا، یہ ضابطہ بیان فرما دیا۔ و ہرچند کہ ایں قاعدہ منحصر در حامی یک فرد است، ہرچند کہ ایں قاعدہ اگرچہ یہ ضابطہ منحصر در حامی یک فرد است، اسی ایک فرد کے اندر بند ہے، اگرچہ یہ ضابطہ اسی ایک فرد کے اندر بند ہے، یعنی صرف یکونو والا فعل ہے اسی میں یہ ضابطہ لگ سکتا ہے، اور تو کوئی فعل ناقص ایسا ہے ہی نہیں جس کے آخر میں کیا آئے؟ نون آئے۔
تو کہتے ہیں اگرچہ یہ قاعدہ در ہم اسی ایک فرد میں بند ہے، لیکن کلیت را انحصار در فرد واحد مضر نیست۔
کلیت کلی ہونا، انحصار کا معنی ہے بند ہونا، اور مضر کا معنی ہے نقصان دینے والا، مضر یہ راء مشدد ہے بھئی۔ ضرر سے ہے، ضرر سے۔ کہتے ہیں لیکن کلیت را، لیکن کلی ہونے کے لیے انحصار در فرد واحد، ایک فرد میں بند ہونا مضر نیست یہ نقصان دہ نہیں۔ کلی ہونے کے لیے، ضابطہ تو کیا ہے؟ کلی، لیکن صادق کتنے لفظوں پر آ رہا ہے؟ ایک ہی، ایک ہی فعل ناقص پر صادق آ رہا ہے اور کسی پر صادق نہیں، تو کہتے ہیں اگرچہ ضابطہ کلی ہے، لیکن کلی ہونے کے لیے ایک فرد کے اندر بند ہونا کوئی نقصان دہ نہیں ہے۔
یہ معنی ہے لیکن کلیت را انحصار در فرد واحد مضر نیست، لیکن کلی ہونے کے لیے بند ہونا ایک ہی فرد کے اندر مضر نیست یہ اس کلی ہونے کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔
تخلَف بعض جزئیات در حکم مضر است، تخلَف کا معنی ہے پیچھے رہ جانا۔ تخلَف کا کیا معنی؟ پیچھے رہ جانا۔ یعنی کلی کا ایک فرد میں بند ہونا یہ اس ضابطے کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ہاں اگر کوئی فرد اس ضابطے سے پیچھے رہ جاتا یعنی ضابطے سے نکل جائے، وہ نقصان دہ ہے۔ آپ نے تو ایک ضابطہ بنا دیا، اور وہ ایک لفظ ہے اس میں ساری شرطیں پوری ہیں لیکن پھر بھی وہ بدل نہیں رہا ضابطے کے مطابق، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے کہ اس میں ساری شرطیں وغیرہ پوری ہوں لیکن پھر بھی وہ ضابطے کے مطابق بدل نہ رہا ہو تو پھر وہ کیا ہے ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، اور یہاں تو ایسا نہیں ہے۔ یہ معنی ہے تخلف، تخلف کا معنی پیچھے رہ جانا، یعنی کہ ضابطہ ان پر صادق نہ آئے۔
تخلفِ بعض جزئیات، بعض افراد، جزئیات، افراد، بعض افراد کا پیچھے رہ جانا در حکم، کس میں؟ حکم، یعنی ضابطے کے حکم میں بعض افراد کا پیچھے رہ جانا مضر است، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس کا مطلب ہے ضابطہ آپ کا صحیح نہیں ہے، کہ اسی لیے تو صرفی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ضابطہ بنائیں کہ عربی کا کوئی ایک لفظ بھی باہر نہ رہے۔ اور انہوں نے محنتیں کر کر کے یہ قوانین بنائے، لیکن پھر بھی ایک آدھ لفظ شاذ رہ جاتا ہے یا نہیں؟ اور پھر یہ مصنف جو ہیں انہوں نے کئی جگہ ضابطے میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور ان کے شاذ ہونے کو کیا کر دیا ان لفظوں کے؟ ختم کر دیا۔
تو ضابطہ تو ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی لفظ شاذ رہے ہی نہ بھئی، اسی لیے پوری کوشش صرفیوں کی یہی ہوتی ہے تو کسی لفظ کا ضابطے سے پیچھے رہ جانا یعنی اس میں ضابطہ لگنا چاہیے، لیکن لگ نہیں رہا یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ اس صورت میں آپ کو اسے شاذ کہنا پڑے گا۔
یہ معنی ہے تخلف بعض جزئیات در حکم مضر است، بعض جزئیات کا، بعض افراد کا پیچھے رہ جانا در حکم، اس حکم میں یعنی اس ضابطے کے حکم میں بعض جزئیات کا پیچھے رہ جانا مضر است، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے۔
و بس، اور بس۔ یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے اور بس۔
اور بس کیا معنی؟ یعنی صرف یہ نقصان دہ ہے ضابطے کے لیے۔ کلی کا ایک فرد میں بند ہونا نقصان دہ نہیں ہے، بلکہ صرف و بس کا کیا معنی کر رہے ہو؟ صرف بس یعنی اور صرف جو ہے بعض جزئیات کا حکم میں پیچھے رہ جانا یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، اور بس اور کوئی چیز نقصان دہ نہیں۔
و نظیر ایں تقریرِ بعض محققین است قاعدہ را، بلکہ اس کی باقاعدہ مثال بھی پیش کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے کہ کوئی ضابطہ ذکر کیا جائے اور صرف ایک ہی فرد پر صادق آئے۔ اس کی اور بھی مثال موجود ہے بھئی، بعض محققین نے لفظ اللہ کے اندر اسی طرح کا ایک ضابطہ ذکر کیا ہے۔
بھئی یاد رکھو، یہ جو لفظ اللہ کے شروع میں ہمزہ ہے، یہ ہمزہ وصل ہے اور ہمزہ وصل درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ چنانچہ آپ ذرا لفظ اللہ پر فا لے آؤ، فا اور اب ملا کر پڑھو، کیسے پڑھو گے؟ فاللہ، دیکھا وہ ہمزہ گر گیا شروع کا۔ یا ذرا شروع میں یوں کرو با لے آؤ بھئی، باللہ، دیکھو وہ ہمزہ لفظ اللہ کے شروع میں جو ہمزہ تھا وہ گر گیا۔ تو لفظ اللہ کے شروع میں جو ہمزہ ہے یہ وصلی ہے، اور ہمزہ وصل درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔
لیکن اسی لفظ اللہ پر جب حرفِ ندا لاؤ، یا، تو اب وہ ہمزہ قطعی بن جاتا ہے، یا اللہ، یا اللہ، دیکھا اب وہ ہمزہ پڑھا جا رہا ہے، حالانکہ ہمزہ وصل تو درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ضابطے کے مطابق تو پڑھنا چاہیے، یا اللہ! ہمزہ وصل بھی گر گیا اور یا کا الف بھی گر گیا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے، کیونکہ یا کا الف بھی ساکن آگے پہلا لام بھی ساکن تو یاللہ ضابطے کے مطابق تو یوں ہونا چاہیے۔
کیونکہ ہمزہ وصل حرفِ ندا کے آنے سے گر جاتا ہے، جیسے یبنا اخی ابن اخی، کیا معنی؟ بھئی کا بیٹا، یعنی بھتیجا، بھتیجا۔ عرب میں جو بھی بڑا ہوتا، چھوٹے کو وہ بھتیجا کہہ کر پکارتے بھئی، عام استعمال ہوتا یہ لفظ۔
اب دیکھو، ابنِ اخی، ابن مضاف اور اخی مضاف الیہ۔ اچھا یہ جو ابن کے شروع میں ہمزہ ہے یہ ہمزہ وصلی ہے۔ اس پر ذرا یا حرفِ ندا لے آؤ، اب پڑھو، کیا پڑھیں گے؟ یبنا اخی، دیکھو گر گیا، تو ہمزہ وصل درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے، تو یا اللہ کے شروع میں بھی جو ہمزہ وصل ہے اس کو گرنا چاہیے، لیکن عرب سے ہم نے سنا ہے کہ لفظ اللہ کا ہمزہ حرفِ ندا کے داخل ہونے کے بعد نہیں گرتا۔
بات سمجھ میں آگئی؟ تو اس کے لیے بعض محققین نے پھر کہتے ہیں ضابطہ لکھا ہے، وہ فرماتے ہیں تو اللہ کا وہ نام، اللہ کا وہ اسم، جس پر ایسا الف لام آئے، جو ہمزہ کا عوض ہو۔ جو کیا ہو؟ تو وہ الف لام کا جو ہمزہ ہے، وہ حرفِ ندا کے داخل ہونے پر قطعی بن جائے گا اور گرے گا۔
کیا ضابطہ؟ کہ اللہ کے جو نام ہیں، ان پر جب الف لام داخل ہو، اور وہ الف لام ایسا ہو کہ ہمزہ کا عوض ہو، ہمزہ کے بدلے میں آئے۔ کس کے بدلے میں؟ ہمزہ کے بدلے میں آیا ہو تو یہ والا جو الف لام جو ہمزہ کے بدلے میں ہے، اس پر جب حرفِ ندا داخل ہوگا تو یہ ہمزہ قطعی بن جائے گا، یہ اب گرے گا۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر سنو کیا تقریر ہوئی؟ اللہ کے جو نام ہیں، اللہ کے جو اسماء ہیں، بھئی قرآن کے شروع میں آپ دیکھتے نہیں ہیں، اللہ کے 99 اسماء عموماً لکھے ہوتے ہیں بھئی۔ تو اللہ کے جو اسماء ہیں، ان میں سے کسی پر
وہ اس طرح کہ میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ ہر وہ نون جو کسی فعل ناقص کے آخر میں آئے، جب بھی اس فعل ناقص پر کوئی جزم دینے والا عامل داخل ہو، تو اس نون کو گرانا بھی جائز ہے۔
ضابطہ کیا ہوا؟ ہر وہ فعل ناقص جس کے آخر میں کیا آئے؟ نون آئے، جب اس فعل ناقص پر کوئی جزم دینے والا عامل آجائے جیسے ان یا لم وغیرہ، تو اس وقت جائز ہے اس کے نون کو گرانا بھی۔ چاہے تو گرا دیں، چاہے تو نہ گرائیں کیونکہ جوازی ہے وجوبی نہیں۔
اب دیکھو ضابطے کے مطابق ہو گیا۔ اب کوئی ایسا فعل ناقص لے آؤ، کہتے ہیں ہم نے تلاش کیا تو کانہ کے علاوہ اور کوئی فعل ناقص ہے ہی نہیں جس میں نون آخر میں آ رہا ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس پر پھر اشکال ہوتا ہے، یہ آپ نے کیسا قانون ذکر کیا جو صرف ایک ہی فعل ناقص پر صادق آ رہا ہے اور تو اس کے افراد ہی نہیں۔
قانون تو وہ ہو جو بہت سوں پر صادق آئے۔ کہتے ہیں بھئی قانون ہم نے کلی بنایا ہے، افراد بے شک زیادہ نہ ہوں اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اور ہوتا تو اس پر بھی صادق آ جاتا اور ہے ہی نہیں تو اس میں تو قانون کا کوئی نقصان نہیں ہے بھئی۔ قانون میں نقصان تب ہوتا اگر کسی لفظ میں نون آخر میں آتا اور وہ گرتا نہ، وہ قانون کے مطابق نہ ہوتا، شاذ ہوتا، یہ قانون کو نقصان دیتا ہے، قانون کے لیے نقصان دہ ہے کہ سارے لفظ اس کے قابو میں نہیں آ رہے بھئی۔
تو اگر فرد ایک ہے جس پر قانون صادق آ رہا ہے تو یہ قانون کے لیے کوئی نقصان دہ چیز نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہم نے تو کلی ضابطہ بیان کیا ہے، کوئی بھی فعل ناقص ہو، اس کے آخر میں کیا آئے؟ نون۔ جب اس پر کوئی جازم آئے گا تو اس کے آخر سے نون کو گرانا بھی جائز ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، افادہ در لم یکن و ان یکن گاہے نون را حذف کردہ، کہتے ہیں لم یکن اور ان یکن میں گاہے کبھی کبھار نون را حذف کردہ نون کو حذف کرکے لم یکو اور ان یکو میں گویئند، لم یکو اور ان یکو کہتے ہیں۔
و ان حذف را خلاف قیاس گفتند، اور اس حذف کو خلاف قیاس کہا ہے، یعنی صرفیوں نے اس حذف کو خلاف قیاس کہا ہے، جناب استادی غفراللہ لہ، کہتے ہیں میرے استاد محترم اللہ ان کی مغفرت فرمائے، میرے استاد محترم نے تقریر قاعدہ برائے آن، اس کے لیے انہوں نے ضابطے کی تقریر فرمودند فرمائی بھئی۔ انہوں نے اس کے لیے باقاعدہ ایک ضابطے کی تقریر فرمائی تو کہتے ہیں تقریر قاعدہ برائے آن فرمودند انہوں نے اس کے لیے ایک ضابطے کی تقریر فرمائی، و آن این، اور وہ تقریر یہ ہے کہ ہر نون کہ در آخر فعل ناقص واقع شود، کہ ہر وہ نون جو فعل ناقص کے آخر میں واقع ہو، حین دخول جوازم جائز است کہ حذف گردد۔
حین کا معنی حین دخول جوازم، جوازم جمع ہے جازم کی، جزم دینے والا، جزم دینے والوں کے یعنی جزم دینے والے عامل کے داخل ہونے کے وقت حین دخول جوازم، جوازم کے داخل ہونے کے وقت میں جائز است، جائز ہے کہ حذف گردد کہ وہ حذف ہو جائے۔
دیکھا، یہ ضابطہ بیان فرما دیا۔ و ہرچند کہ ایں قاعدہ منحصر در حامی یک فرد است، ہرچند کہ ایں قاعدہ اگرچہ یہ ضابطہ منحصر در حامی یک فرد است، اسی ایک فرد کے اندر بند ہے، یعنی صرف یکونو والا فعل ہے اسی میں یہ ضابطہ لگ سکتا ہے، اور تو کوئی فعل ناقص ایسا ہے ہی نہیں جس کے آخر میں کیا آئے؟ نون آئے۔
تو کہتے ہیں اگرچہ یہ قاعدہ در ہم اسی ایک فرد میں بند ہے، لیکن کلیت را انحصار در فرد واحد مضر نیست۔
کلیت کلی ہونا، انحصار کا معنی ہے بند ہونا، اور مضر کا معنی ہے نقصان دینے والا، مضر یہ راء مشدد ہے بھئی۔ ضرر سے ہے، ضرر سے۔ کہتے ہیں لیکن کلیت را، لیکن کلی ہونے کے لیے انحصار در فرد واحد، ایک فرد میں بند ہونا مضر نیست یہ نقصان دہ نہیں۔ کلی ہونے کے لیے، ضابطہ تو کیا ہے؟ کلی، لیکن صادق کتنے لفظوں پر آ رہا ہے؟ ایک ہی، ایک ہی فعل ناقص پر صادق آ رہا ہے اور کسی پر صادق نہیں، تو کہتے ہیں اگرچہ ضابطہ کلی ہے، لیکن کلی ہونے کے لیے ایک فرد کے اندر بند ہونا کوئی نقصان دہ نہیں ہے۔
یہ معنی ہے لیکن کلیت را انحصار در فرد واحد مضر نیست، لیکن کلی ہونے کے لیے بند ہونا ایک ہی فرد کے اندر مضر نیست یہ اس کلی ہونے کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔
تخلَف بعض جزئیات در حکم مضر است، تخلَف کا معنی ہے پیچھے رہ جانا۔ تخلَف کا کیا معنی؟ پیچھے رہ جانا۔ یعنی کلی کا ایک فرد میں بند ہونا یہ اس ضابطے کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ہاں اگر کوئی فرد اس ضابطے سے پیچھے رہ جاتا یعنی ضابطے سے نکل جائے، وہ نقصان دہ ہے۔ آپ نے تو ایک ضابطہ بنا دیا، اور وہ ایک لفظ ہے اس میں ساری شرطیں پوری ہیں لیکن پھر بھی وہ بدل نہیں رہا ضابطے کے مطابق، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے کہ اس میں ساری شرطیں وغیرہ پوری ہوں لیکن پھر بھی وہ ضابطے کے مطابق بدل نہ رہا ہو تو پھر وہ کیا ہے ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، اور یہاں تو ایسا نہیں ہے۔ یہ معنی ہے تخلف، تخلف کا معنی پیچھے رہ جانا، یعنی کہ ضابطہ ان پر صادق نہ آئے۔
تخلفِ بعض جزئیات، بعض افراد، جزئیات، افراد، بعض افراد کا پیچھے رہ جانا در حکم، کس میں؟ حکم، یعنی ضابطے کے حکم میں بعض افراد کا پیچھے رہ جانا مضر است، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس کا مطلب ہے ضابطہ آپ کا صحیح نہیں ہے، کہ اسی لیے تو صرفی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ضابطہ بنائیں کہ عربی کا کوئی ایک لفظ بھی باہر نہ رہے۔ اور انہوں نے محنتیں کر کر کے یہ قوانین بنائے، لیکن پھر بھی ایک آدھ لفظ شاذ رہ جاتا ہے یا نہیں؟ اور پھر یہ مصنف جو ہیں انہوں نے کئی جگہ ضابطے میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور ان کے شاذ ہونے کو کیا کر دیا ان لفظوں کے؟ ختم کر دیا۔
تو ضابطہ تو ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی لفظ شاذ رہے ہی نہ بھئی، اسی لیے پوری کوشش صرفیوں کی یہی ہوتی ہے تو کسی لفظ کا ضابطے سے پیچھے رہ جانا یعنی اس میں ضابطہ لگنا چاہیے، لیکن لگ نہیں رہا یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ اس صورت میں آپ کو اسے شاذ کہنا پڑے گا۔
یہ معنی ہے تخلف بعض جزئیات در حکم مضر است، بعض جزئیات کا، بعض افراد کا پیچھے رہ جانا در حکم، اس حکم میں یعنی اس ضابطے کے حکم میں بعض جزئیات کا پیچھے رہ جانا مضر است، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے۔
و بس، اور بس۔ یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے اور بس۔
اور بس کیا معنی؟ یعنی صرف یہ نقصان دہ ہے ضابطے کے لیے۔ کلی کا ایک فرد میں بند ہونا نقصان دہ نہیں ہے، بلکہ صرف و بس کا کیا معنی کر رہے ہو؟ صرف بس یعنی اور صرف جو ہے بعض جزئیات کا حکم میں پیچھے رہ جانا یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، اور بس اور کوئی چیز نقصان دہ نہیں۔
و نظیر ایں تقریرِ بعض محققین است قاعدہ را، بلکہ اس کی باقاعدہ مثال بھی پیش کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے کہ کوئی ضابطہ ذکر کیا جائے اور صرف ایک ہی فرد پر صادق آئے۔ اس کی اور بھی مثال موجود ہے بھئی، بعض محققین نے لفظ اللہ کے اندر اسی طرح کا ایک ضابطہ ذکر کیا ہے۔
بھئی یاد رکھو، یہ جو لفظ اللہ کے شروع میں ہمزہ ہے، یہ ہمزہ وصل ہے اور ہمزہ وصل درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ چنانچہ آپ ذرا لفظ اللہ پر فا لے آؤ، فا اور اب ملا کر پڑھو، کیسے پڑھو گے؟ فاللہ، دیکھا وہ ہمزہ گر گیا شروع کا۔ یا ذرا شروع میں یوں کرو با لے آؤ بھئی، باللہ، دیکھو وہ ہمزہ لفظ اللہ کے شروع میں جو ہمزہ تھا وہ گر گیا۔ تو لفظ اللہ کے شروع میں جو ہمزہ ہے یہ وصلی ہے، اور ہمزہ وصل درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔
لیکن اسی لفظ اللہ پر جب حرفِ ندا لاؤ، یا، تو اب وہ ہمزہ قطعی بن جاتا ہے، یا اللہ، یا اللہ، دیکھا اب وہ ہمزہ پڑھا جا رہا ہے، حالانکہ ہمزہ وصل تو درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ضابطے کے مطابق تو پڑھنا چاہیے، یا اللہ! ہمزہ وصل بھی گر گیا اور یا کا الف بھی گر گیا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے، کیونکہ یا کا الف بھی ساکن آگے پہلا لام بھی ساکن تو یاللہ ضابطے کے مطابق تو یوں ہونا چاہیے۔
کیونکہ ہمزہ وصل حرفِ ندا کے آنے سے گر جاتا ہے، جیسے یبنا اخی ابن اخی، کیا معنی؟ بھئی کا بیٹا، یعنی بھتیجا، بھتیجا۔ عرب میں جو بھی بڑا ہوتا، چھوٹے کو وہ بھتیجا کہہ کر پکارتے بھئی، عام استعمال ہوتا یہ لفظ۔
اب دیکھو، ابنِ اخی، ابن مضاف اور اخی مضاف الیہ۔ اچھا یہ جو ابن کے شروع میں ہمزہ ہے یہ ہمزہ وصلی ہے۔ اس پر ذرا یا حرفِ ندا لے آؤ، اب پڑھو، کیا پڑھیں گے؟ یبنا اخی، دیکھا گر گیا، تو ہمزہ وصل درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے، تو یا اللہ کے شروع میں بھی جو ہمزہ وصل ہے اس کو گرنا چاہیے، لیکن عرب سے ہم نے سنا ہے کہ لفظ اللہ کا ہمزہ حرفِ ندا کے داخل ہونے کے بعد نہیں گرتا۔
بات سمجھ میں آگئی؟ تو اس کے لیے بعض محققین نے پھر کہتے ہیں ضابطہ لکھا ہے، وہ فرماتے ہیں تو اللہ کا وہ نام، اللہ کا وہ اسم، جس پر ایسا الف لام آئے، جو ہمزہ کا عوض ہو۔ جو کیا ہو؟ تو وہ الف لام کا جو ہمزہ ہے، وہ حرفِ ندا کے داخل ہونے پر قطعی بن جائے گا اور گرے گا۔
کیا ضابطہ؟ کہ اللہ کے جو نام ہیں، ان پر جب الف لام داخل ہو، اور وہ الف لام ایسا ہو کہ ہمزہ کا عوض ہو، ہمزہ کے بدلے میں آیا ہو؟ کس کے بدلے میں؟ ہمزہ کے بدلے میں آیا ہو تو یہ والا جو الف لام جو ہمزہ کے بدلے میں ہے، اس پر جب حرفِ ندا داخل ہوگا تو یہ ہمزہ قطعی بن جائے گا، یہ اب گرے گا۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر سنو کیا تقریر ہوئی؟ اللہ کے جو نام ہیں، اللہ کے جو اسماء ہیں، بھئی قرآن کے شروع میں آپ دیکھتے نہیں ہیں، اللہ کے 99 اسماء عموماً لکھے ہوتے ہیں بھئی۔ تو اللہ کے جو اسماء ہیں، ان میں سے کسی پر
اگر ایسا الف لام آئے جو ہمزہ کا عوض ہو، یعنی ہمزہ کے بدلے میں آیا ہو، تو یہ جو الف لام ہے، اس کا ہمزہ ندا کے وقت قطعی بن جائے گا، وصلی نہ رہے گا۔
کیا بن جائے گا؟ قطعی بن جائے گا۔
پھر بتلاؤ، کیا ضابطہ ہوا؟
اللہ کا وہ نام جس پر کیسا الف لام آئے؟ جو ہمزہ کا عوض ہو۔
یا یوں کہو، اللہ کا نام ہو اور اس پر الف لام ہو اور وہ الف لام کس قسم کا ہو؟ ہمزہ کا عوض ہو۔ یہ جو الف لام ہے، اس پر جب حرفِ ندا داخل ہوگا تو اس کا ہمزہ کیا بن جائے گا؟ قطعی بن جائے گا، گرے گا۔
اور لفظ اللہ میں اسی طرح ہے۔
اللہ کہتے ہیں بعض علماء نے تو لکھا لفظ اللہ علم ہے، نام ہے ذاتِ باری تعالی کا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی یہ شروع سے ہی اسی طرح ہے۔
صیغے میں اعلال ہوتا ہے نا صورت بدلتی ہے یا تبدیلیاں اتنی نہیں اس میں کوئی یہ نام ہے اسی طرح۔ جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام رکھتا ہے محمد۔
یا جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام رکھتا ہے ابوبکر، یا کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام رکھتا ہے عمر۔
تو جیسے یہ نام رکھے
ابتدا سے ہی
نام رکھنے کے بعد پھر اس میں کوئی تبدیلیاں کرتے ہیں؟
جی نہیں۔ جیسا ابتدا سے رکھا اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح لفظ اللہ جو ہے یہ ذاتِ باری تعالی کے لیے علم ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اللہ اصل میں تھا الہ۔
اور الہ معبود کو کہتے ہیں، جس کی عبادت کی جائے۔
پھر اس الہ کے ہمزہ کو گرا کر اس کے عوض الف لام لے آئے۔
اس الہ کے ہمزہ کو گرا کر شروع میں کیا لے آئے؟ الف لام اور لام کا لام میں ادغام کر دیا تو کیا بن گیا؟ اللہ۔
تو یہ الف لام کس کا عوض ہے؟ ہمزہ کا۔
لہذا اس پر جب حرفِ ندا داخل ہوگا تو یہ ہمزہ کیا بن جائے گا؟ قطعی بن جائے گا اور کیسے بولیں گے؟ یا اللہ۔
تو یہ ضابطہ بیان کیا ہے کہتے ہیں بعض محققین نے۔
اور یہ ضابطہ صرف لفظ اللہ ہی پر صادق آتا ہے اور اللہ کے کسی نام پر صادق نہیں آتا، کیونکہ اللہ کے اور کسی نام میں ایسا الف لام ہے ہی نہیں جو ہمزہ کا عوض ہو۔ کس کا عوض ہو؟ ہمزہ کا۔
تو دیکھو یہاں پر بھی ایک ضابطہ بیان کیا اور ضابطہ کتنے افراد میں بند ہے؟ ایک فرد میں بند ہے، تو اس ضابطے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
بات سمجھ میں آگئی۔ اب دیکھیے بھئی ترجمہ۔
و نظیر ایں تقریرِ بعض محققین است اور اس کی نظیر، نظیر کہتے ہیں مثل۔
و نظیر ایں اور اس کی مثال جو ہے، یعنی ہمارے اس ضابطے کی مثال جو ایک فرد میں بند ہے، اس کی مثال جو ہے تقریرِ بعض محققین است قاعدہ را، کہتے ہیں وہ بعض محققین کی تقریر ہے قاعدہ را، اس قاعدے کی کہ در لفظ یا اللہ جو کس کے بارے میں ہے؟ لفظ یا اللہ کے میں ہے، کہ بھئی اس بات ہے ہمزہ با حرفِ ندا میں آید، جو کہ
با اس بات ہے ہمزہ با حرفِ ندا، حرفِ ندا کے ساتھ ہمزہ کے اسبات کے ساتھ میں آید، آتا ہے۔
بھئی لفظ اللہ کیا ہے؟
جب اس پر یا حرفِ ندا داخل ہو جائے تو بھی اس کے ہمزہ ثابت رہتا ہے، گرتا نہیں۔
تو اس بات کا معنی ثابت رکھنا، ثابت کرنا۔
پھر سنیں ترجمہ بھئی۔ کہتے ہیں و نظیر ایں اور ہماری اس تقریر کی نزی نذیر جو ہے، اس کے مثل جو ہے تقریرِ بعض محققین است، وہ بعض محققین کی تقریر ہے قاعدہ را، کس کی اس کی تقریر؟
قاعدے کی، کس کی تقریر ہے ان کی؟ ایک قاعدے کی ہے، در لفظ یا اللہ، کس کے بارے میں ہے وہ قاعدہ؟
یا اللہ، در لفظ یا اللہ، لفظ یا اللہ کے لفظ کے بارے میں ہے ان کا ضابطہ، کہ بھئی اس بات ہے ہمزہ جو کس کے ساتھ ہے؟
اس باتِ ہمزہ کے ساتھ ہے با حرفِ ندا، کس کے ساتھ؟
حرفِ ندا کے ساتھ میں آید آتا ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ یعنی ان کے، یعنی یہ کے، اب وہ ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں۔
ہر الف و لام کہ در اسم از اسماء الہی، ہر وہ الف لام اللہ کے ناموں میں سے کسی نام میں بعدِ حذف ہمزہ، ہمزہ کو حذف کرنے کے بعد بجائے اش قائم شدہ باشد، اس کی جگہ پر قائم ہوا ہو۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟
یعنی ان کے ہر الف لام، ہر وہ الف لام کہ در اسم از اسماء الہی، جو اللہ کے ناموں میں سے کسی نام میں بعدِ حذف ہمزہ بجائے اش قائم شدہ باشد، ہمزہ کو حذف کرنے کے بعد اس کی جگہ پر قائم ہو،
بوقتِ دخولِ حرفِ ندا، تو حرفِ ندا کے داخل ہونے کے وقت ہمزہ آن قطعی شدہ، تو اس کا ہمزہ جو ہے قطعی ہو کر باقی ماند، باقی رہے گا۔
باقی رہے گا، ایں کلیہ ہم منحصر در لفظ اللہ است و بس، یہ کلیہ بھی بند ہے لفظ اللہ میں و بس اور، بس یعنی اور کوئی اللہ کا نام ایسا نہیں ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟
حاصل کلام کیا ہوا؟
مصنف نے ایک ضابطہ ذکر کیا۔
ان یکن اور لم یکن، جب یہ جو یکونو پر کوئی جب جازم داخل ہو جزم دینے والا عامل، تو عرب کبھی کبھار اس کے نون کو بھی حذف کر دیتے ہیں، گرا دیتے ہیں، اور اس کو خلاف القیاس کہتے ہیں، لیکن میرے استاد محترم اس کے لیے باقاعدہ ایک ضابطہ ذکر فرماتے ہیں، اور وہ ضابطہ یہ کہ ہر وہ نون جو کسی فعل ناقص کے آخر میں آئے، اور اس فعل ناقص پر جب کوئی جازم داخل ہو جائے، تو اس نون کو گرانا جائز ہے۔
اور پھر اس پر اشکال ہوا کہ یہ تو صرف کانہ یکونو یہی ایک فعل ناقص ہے جس کے آخر میں نون آ رہا ہے اور تو کسی فعل ناقص کے آخر میں نون نہیں۔ کہتے ہیں بھئی ضابطے کا ایک فرد میں بند ہونا، یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ہاں، اگر کوئی فرد ضابطے سے باہر رہ جائے اور اس پر ضابطہ نہ لگ رہا ہو، اگرچہ ساری شرطیں اس میں پوری ہوں، تو یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
اور پھر فرمایا،
کہ میری اس ضابطے کی نظیر، میری اس ضابطے کی نظیر یا مثل مثال جو ہے، وہ بعض محققین کی تقریر ہے، قاعدہ را قاعدے کی، تو بعض محققین نے قاعدے کی تقریر کی ہے کس میں؟ در لفظ یا اللہ، لفظ یا اللہ میں، جس میں حرفِ ندا یا کے ساتھ اسبات ہمزہ آتا ہے، یا اللہ، دیکھو ہمزہ کو بھی کیا کرتے ہیں؟ ثابت رکھتے ہیں، حالانکہ ہمزہ کو کیا ہونا چاہیے؟ گرنا چاہیے۔
تو وہ اس کی تقریر کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ اللہ کے ناموں میں سے وہ نام جس کے شروع میں ایسا الف لام آ جائے، جو ہمزہ کا قائم مقام ہو، تو اس الف لام پر جب حرفِ ندا داخل ہوگا، تو اس کا ہمزہ قطعی بن جائے گا، جیسے یا اللہ۔
اور یہ ضابطہ صرف لفظ اللہ ہی میں بند ہے، کیونکہ صرف لفظ اللہ ہی میں الف لام جو ہے وہ ہمزہ کا عوض ہے، اور کسی جگہ پر بھی وہ ہمزہ کا عوض نہیں ہے۔
تو معلوم ہوا کہ کلی ضابطہ اگر ایک ہی فرد میں بند ہو تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہے بھئی۔
اب ذرا ترجمہ ایک دفعہ پھر دیکھ لیں، بھئی یہ ترجمہ ذرا کافی مشکل ہے، اس لیے میں بار بار کر رہا ہوں بھئی اچھی طرح توجہ سے اس کو سمجھیں بھئی۔
کہتے ہیں و نظیر ایں تقریرِ بعض محققین است قاعدہ را، اور میری اس قانون کی نظیر یا اس ضابطے کی نظیر یا ضابطہ بعض محققین کی تقریر ہے قاعدہ را قاعدے کی، تو بعض محققین نے قاعدے کی تقریر کی ہے کس میں؟ در لفظ یا اللہ، لفظ یا اللہ میں، کہ بھئی اس باتِ ہمزہ با حرفِ ندا میں آید، جو کہ اس باتِ ہمزہ کے ساتھ آیا ہے حرفِ ندا کے ساتھ۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا؟
یعنی ان کے، یعنی ان کی تقریر یہ ہے، یہ ضابطہ یہ ہے، ہر الف و لام کہ در اسم از اسماء الہی بعدِ حذف ہمزہ بجائے اش قائم شدہ باشد، ہر وہ الف و لام جو کہ اللہ کے ناموں میں سے کسی نام میں ہمزہ کو حذف کرنے کے بعد اس کی جگہ پر قائم ہو، بوقتِ دخولِ حرفِ ندا ہمزہ آن قطعی شدہ باقی ماند، تو حرفِ ندا کے داخل ہونے کے وقت وہ ہمزہ جو ہے قطعی ہو کر باقی ماند باقی رہے گا۔
ایں کلیہ ہم منحصر در لفظ اللہ است و بس، یہ قاعدہ کلیہ بھی
یہ کلیہ بھی، یہ کلیہ ضابطہ ہے نا؟
ذكر کیا کیا تھا؟
جس اللہ کے نام میں بھی ایسا ہو، دیکھو کلی ضابطہ ذکر کیا تھا، لیکن کسی اور نام میں ایسا ہے ہی نہیں، تو یہ کلیہ، یہ جو قاعدہ کلیہ ہے، یہ بھی بند ہے در لفظ، ایں کلیہ ہم منحصر در لفظ اللہ است و بس، یہ قاعدہ کلیہ بھی لفظ اللہ میں بند ہے و بس اور، بس یعنی اور اللہ کے کسی نام پر یہ صادق نہیں آتا۔
آگے دیکھیے بھئی افادہ،
یائے مبدل از ہمزہ چون فاعتیال باشت تا نہ مہ شود چو ای تکلف و ای تمره۔
اچھا اگلا افادہ آسان ہے بھئی۔
اخذ، اخذ یأخذ کا معنی ہے کوئی چیز پکڑنا، کوئی چیز لینا،
اور اسی سے آتا ہے اتخذ یتخذ۔
اس اتخذ یتخذ کو علماءِ صرف نے شاذ کہا ہے۔
اس اتخذ یتخذ کو علماءِ صرف نے شاذ کہا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ اس میں ضابطہ جاری ہوا ہے، آپ نے بابِ افتعال کے قوانین پڑھے تھے، ان قوانین میں ایک ضابطہ یہ ذکر ہوا تھا کہ بابِ افتعال توجہ ہے، کہ بابِ افتعال کے فا کی جگہ اگر یا یا و اصلی آ جائے، یا یوں کہو، و اور یا غیر مبدل آ جائے جو کسی سے بدلے نہ ہوں،
پھر سنو بابِ افتعال میں فا کی جگہ کیا آ جائے؟ یا آ جائے یا و آ جائے، اور یہ یا اور و کسی سے بدل کر نہ آئے ہوں،
تو اس یا اور و کو تا کر کے تا میں ادغام کرتے ہیں،
جیسے اتصرا۔
اتصرا اصل میں کیا تھا؟
اتّصلّا سارا تھا بھئی، یا آئی فا کی جگہ باب افتعال میں اور یا اصلی ہے، کسی سے بدل کر نہیں آئی تو اس یا کو بھی تا کر کے تا میں ادغام کیا گیا تو کیا بن گیا اتّصلّا۔ اسی طرح اتّقدا۔ اتّقدا اصل میں کیا تھا؟ اوتّقدا بھئی، واؤ تھا فا کی جگہ۔ باب افتعال میں فا کی جگہ واؤ آیا اور یہ واؤ اصلی ہے، کسی سے بدل کر نہیں آیا تو اس واؤ کو تا کر کے تا میں ادغام کریں گے تو کیا بن گیا اتّقدا اتّقدا۔
تو اب اس قانون کی شرط کیا ہے؟ کہ وہ واؤ اور یا جس کو تا کر کے آپ تا میں ادغام کرنا چاہتے ہیں، شرط یہ ہے وہ کسی سے بدل کر نہ آئے ہوں یعنی اصلی ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اتّخذ اس، یہ کس سے ہے؟ اخذ سے ہے، کس سے؟ اخذ سے۔ اور اخذ کا مادہ کیا؟ ہمزہ خا ذال۔ تو اتّخذ اصل میں کیا تھا؟ ائتخذ ائتخذ پھر شروع میں دو ہمزہ اکٹھے ہوئے اور دوسرا ہمزہ ساکن ہے تو قانون ہے جب دو ہمزہ اکٹھے ہو جائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اس کو پہلے ہمزہ کی حرکت کے موافق حرف علت سے بدلنا واجب۔ تو پہلے ہمزہ کے نیچے ہے کسرہ تو دوسرے کو کس سے بدل دیا؟ یا سے تو کیا بن گیا ایتخذ ایتخذ۔
اب مجھے بتائیے یہ یا اصلی ہے یا ہمزہ سے بدل کر آئی ہے؟ ہمزہ سے بدل کر آئی ہے، لہٰذا شرط پوری نہیں۔ جب شرط پوری نہیں تو قانون نہیں لگنا چاہیے لیکن اس کے باوجود قانون لگا اور اس یا کو تا سے بدل کر پھر تا میں ادغام کیا گیا اور کیا بن گیا اتّخذ اتّخذ۔ تو صرفی علماء نے اس اتّخذ کو شاذ کہا ہے بھئی، شاذ کہا ہے۔ تو مصنف فرماتے کہ میرے استاد محترم اس کی ایسی تقریر فرماتے تھے کہ اس کا شاذ ہونا ختم ہو جاتا ہے۔ میرے استاد محترم فرماتے کہ اتّخذ اس کا مادہ اخذ نہیں ہے، اس کا مادہ تخض ہے۔ کیا ہے؟ تخض ہے۔ اور اخذ کا معنی ہے لینا اور پکڑنا اور تخض کا معنی بھی ہے لینا اور پکڑنا بھئی۔ صرافی حضرات نے اس کو شاذ کیوں کہا کیونکہ وہ سمجھے کہ اس کا مادہ اخذ ہے حالانکہ اس کا مادہ تو اخذ نہیں ہے اس کا مادہ تو تخض ہے بھئی اور تخض بمعنی اخذ کے عربی میں آتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا اتّخذ اصل میں کیا تھا؟ باقی صرافی تو کیا فرماتے ہیں؟ اتّخذ اصل میں کیا تھا؟ ائتخذ یعنی یوں کو ایتخذ تھا، کیا تھا؟ ایتخذ تھا۔ کہتے ہیں نہیں، یہ اصل میں ایتخذ نہیں تھا بلکہ اس کا مادہ کیا ہے؟ تخض اب بناؤ افتعال اتّخذ ابھی ادغام نہ کرو۔ اتّخذ پھر دو حرف ایک جنس کے اکٹھے ہوئے، دو تا اکٹھی ہوئیں تو تا کا تا میں ادغام کیا تو کیا بن گیا اتّخذ۔ اب شاذ ہے؟ نہیں۔ اب تو شاذ یہ رہا ہی نہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے کتاب پر افادہ یاء مبدل از ہمزہ چوں فائے افتعال باشد یاء مبدل از ہمزہ، وہ یا جو ہمزہ سے بدلی ہے چوں فائے افتعال باشد، جب وہ افتعال کی فا ہو تا نَمَشوَد تو وہ تا نہیں ہوتی۔ ضابطہ کیا تھا؟ کہ باب افتعال میں فا کی جگہ کیا آئے؟ واؤ, یا, یا آجائے تو اس کو تا کر کے تا میں ادغام کرتے ہیں لیکن شرط کیا ہے؟ کہ وہ کسی سے بدل کر نہ آئی ہو اور یہاں پر تو یہ یا کس سے بدل کر آئی ہے؟ ہمزہ سے، یہی بیان کر رہے ہیں۔
یاء مبدل از ہمزہ، وہ یا جو ہمزہ سے بدلی ہوئی ہو چوں فائے افتعال باشد، جب وہ باب افتعال کی فا ہو۔ باب افتعال کی فا ہے، کون سی یا؟ جو ہمزہ سے بدلی ہے تا نَمَشوَد یہ تا نہیں ہوتی۔ یہ تا سے بدلتی نہیں چوں ایتکلا و ایتَمرا جیسے ایتکلا اور ایتَمرا بھئی، ان کے اندر بھی یہ یاء ہمزہ سے بدلی ہے، اسی لیے برقرار ہے اس کو تا کر کے تا میں ادغام نہیں کیا گیا بھئی۔ لہٰذا اتّخذ کے دراں یاء تا شدہ شاذ گفتہ اند۔ لہٰذا اتّخذ کو کہ جس کے اندر یاء جو ہے تا شدہ تا ہو گئی ہے شاذ گفتہ اند، اس کو صرافیوں نے شاذ کہا ہے۔
جناب استادن المرحوم، ہمارے مرحوم استاد جو ہیں برائے دفع شُجُوذِ عامِ فرمودند، وہ اس کے شُجُوذ کو دور کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ تا در اتّخذ اصلی است، کہ اتّخذ میں جو تا ہے وہ اصلی ہے۔ مجردِ آن تخض یتخض بود است، اس کا مجرد تخض یتخض ہے بھئی۔ اس کا مجرد کیا ہے؟ تخض یتخض ہے، تخض یتخض بود است، اس کا مجرد تخض یتخض ہے بھئی۔
تو یہ کتاب کے اندر تخض یتخض فعل لکھا ہوا ہے بھئی، یہ اس کی حرکات وغیرہ ٹھیک کر لیں، زیریں زبریں ٹھیک کر لیں بھئی اور بھی آگے جو لفظ آ رہے ہیں ان کو بھی اس کے مطابق کر لیجیے، جیسے جیسے میں پڑھتا جاؤں تخض یتخض نہیں ہے بلکہ اس کا فعل جو لغت کے اندر لکھا ہوا ہے وہ ہے تخض یتخض بابِ سمعہ ہے بھئی۔ تو یہ لفظ ٹھیک کر لیں اور آگے بھی جو لفظ آتے جائیں ٹھیک کرتے جائیں بھئی۔
اس کا مجرد کیا ہے؟ تخض یتخض ہے، اخذ یأخذ اس کا مجرد نہیں ہے بلکہ اس کا مجرد تخض یتخض ہے، تو کہتے ہیں مجرد، یعنی ثلاثی مجرد، اتّخذ تو کیا ہے؟ ثلاثی مزید فیہ ہے نا، تو مجردِ آن تخض یتخض بود است۔ اس کا ثلاثی مجرد جو ہے وہ تخض یتخض ہوا ہے، نہ اخذ یأخذ، نہ کہ اخذ یأخذ و بودن تخض بمعنی اخذ از بیضاوِی واضح می شود، اور تخض کا اخذ کے معنی میں ہونا یہ کس سے، تفسیر بیضاوِی سے واضح ہوتا ہے۔
فرما رہے ہیں کہ میں نے کیا کہا؟ کہ اتّخذ کا مادہ کیا ہے؟ تخض ہے۔ اور تخض اخذ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تفسیر بیضاوِی بڑی مشہور تفسیر ہے قرآن کی۔ مشکل ترین تفاسیر میں سے ہے یہ۔ قرآن کی یہ مشکل ترین تفاسیر میں سے ہے، اس کے اندر بیضاوی رحمہ اللہ جو مصنف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ تخض بمعنی اخذ کے عربی میں آتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دلیل بھی ساتھ ذکر کر دی کہ یہ میں نہیں کہہ رہا اپنی طرف سے کہ تخض بمعنی اخذ کے آتا ہے بلکہ اس کی وضاحت کس نے کی ہے؟ تفسیر بیضاوی کے مصنف نے بھی کی ہے۔
تو کہتے ہیں و بودن تخض بمعنی اخذ از بیضاوی واضح می شود اور تخض کا اخذ کے معنی میں ہونا بیضاوی سے واضح ہوتا ہے، پس اتّخذ مثلِ اتّبع است۔ پس اتّخذ جو ہے وہ اتّبع کی طرح ہے، جیسے اتّبع میں کیا ہے؟ تبعه تا اس کی اصلی ہے، اسی طرح تخض اتّخذ میں بھی تا اصلی۔ تو کہتے ہیں پس اتّخذ مثلِ اتّبع است، پس اتّخذ جو ہے وہ اتّبع کی طرح ہے کہ ماخوذ است طبع جو طبع سے ماخوذ ہے و تائے آن اصلی است اور اس کی تا اصلی ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
چلیے بس کریں بھئی۔ اور اب آئیے اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیجیے بھئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر، صرافیّین نے لکھا ہے کہ قلب اس کلمہ کے مادہ کے دوسرے مشتقات سے پہچانا جاتا ہے۔ عبارت سب کو مل گئی؟ صرافیّین نے لکھا ہے کہ قلب اس کلمہ کے مادہ کے دوسرے مشتقات سے پہچانا جاتا ہے جیسے آدرُن کہ اس کے واحد دارُن جمع دور اور تصغیر دویرتن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ آدرُن میں عَیْن فا کی جگہ چلی گئی ہے۔
اسی طرح قُصیُّن میں لفظِ قوس و تقوّس سے پتہ چل جاتا ہے کہ قُصیُّن کی اصل قُوُصُن ہے۔ اسی طرح قلب کی ایک پہچان یہ ہے کہ اگر قلب نہ مانا جائے تو منعِ صرف بغیر سبب کے لازم آجائے، جیسے اشیاءُ میں ہے۔ استاد محترم فرماتے تھے کہ اسی طرح قلب کی ایک پہچان یہ ہے کہ اگر قلب کا اعتبار نہ کریں تو شُجُوذ لازم آجائے، جیسے کل، خُذ اور مر میں۔
جس طرح بے سبب کے غیر منصرف ہونا خلافِ قیاس ہے اور قلب کے اعتبار کا مقتضیٰ ہے، اسی طرح تحققِ علت کے بغیر، تحقق کا معنی پایا جانا، ہونا، یعنی علت کا ہونا، اسی طرح تحققِ علت کے بغیر تخفیفِ ہمزہ یا اعلال بھی خلافِ قیاس ہے اور قلب کے اعتبار کا مقتضیٰ ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
افادہ: لَمْ يَكُن اور اِنْ يَكُن میں کبھی نون حذف کرکے لَمْ يَكُ اور اِنْ يَكُ کہہ دیتے ہیں، اس حذف کو خلافِ قیاس کہا گیا ہے، جنابِ استادی المغفور ہمارے مرحوم استاد جو ہیں برائے دفع شُجُوذِ عامِ فرمودند، وہ اس کے شُجُوذ کو دور کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ تا در اتّخذ اصلی است، کہ اتّخذ میں جو تا ہے وہ اصلی ہے، مجردِ آن تخض یتخض بود است، اس کا مجرد تخض یتخض ہے بھئی۔
اس کا مجرد کیا ہے؟ تخض یتخض ہے، تخض یتخض بود است، اس کا مجرد تخض یتخض ہے بھئی۔ تو یہ کتاب کے اندر تخض یتخض فعل لکھا ہوا ہے بھئی۔ یہ اس کی حرکات وغیرہ ٹھیک کر لیں، زیریں زبریں ٹھیک کر لیں بھئی اور بھی آگے جو لفظ آ رہے ہیں ان کو بھی اس کے مطابق کر لیجیے، جیسے جیسے میں پڑھتا جاؤں تخض یتخض نہیں ہے بلکہ اس کا فعل جو لغت کے اندر لکھا ہوا ہے وہ ہے تخض یتخض بابِ سمعہ ہے بھئی۔
تو یہ لفظ ٹھیک کر لیں اور آگے بھی جو لفظ آتے جائیں ٹھیک کرتے جائیں بھئی۔ اس کا مجرد کیا ہے؟ تخض یتخض ہے، اخذ یأخذ اس کا مجرد نہیں ہے بلکہ اس کا مجرد تخض یتخض ہے، تو کہتے ہیں مجرد، یعنی ثلاثی مجرد، اتّخذ تو کیا ہے؟ ثلاثی مزید فیہ ہے نا، تو مجردِ آن تخض یتخض بود است، اس کا ثلاثی مجرد جو ہے وہ تخض یتخض ہوا ہے، نہ اخذ یأخذ، نہ کہ اخذ یأخذ۔
و بودنِ تخض بمعنی اخذ از بیضاوی واضح می شود، اور تخض کا اخذ کے معنی میں ہونا بیضاوی سے واضح ہوتا ہے اور تخض کا اخذ کے معنی میں ہونا بیضاوی سے واضح ہوتا ہے، پس اتّخذ مثلِ اتّبع است، پس اتّخذ جو ہے وہ اتّبع کی طرح ہے، جیسے اتّبع میں کیا ہے؟ تبع تا اس کی اصلی ہے، اسی طرح تخض اتّخذ میں بھی تا اصلی۔ تو کہتے ہیں پس اتّخذ مثلِ اتّبع است، پس اتّخذ جو ہے وہ اتّبع کی طرح ہے کہ ماخوذ است طبع، جو طبع سے ماخوذ ہے و تائے آن اصلی است اور اس کی تا اصلی ہے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔